Wednesday, 22 May 2019

علماء سے بغض رکھنے پر چار قسم کے عذاب؟

علماء سے بغض رکھنے پر چار قسم کے عذاب؟
کیا یہ درست ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا علماء سے بغض رکھنے پر چار قسم کے عذاب؟ 1. قحط سالی ہوجائے گی 2. بادشاہوں کی طرف سے مظالم ہونے لگیں گے 3. حکام خیانت کرنے لگیں گے 4. دشمنوں کے پے در پے حملے ہونگے
کیا یہ صحیح ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
یہ روایت مستدرکم حاکم میں بایں الفاظ موجود ہے۔ 
إذا أبغضَ المسلِمونَ علماء َہُم، وأظہَروا عمارۃَ أسواقِہِم، وتناکَحوا علَی جمعِ الدَّراہمِ، رماہمُ اﷲُ عزَّ وجلَّ بأربعِ خصالٍ: بالقَحطِ منَ الزَّمانِ والجَورِ منَ السُّلطانِ والخیانَۃِ مِن ولاۃِ الأحکامِ، والصَّولۃِ من العدوِّ (مستدرک حاکم : 7923)
اسے شیخ البانی نے منکر کہا ہے۔ (السلسلۃ الضعیفۃ: 1528)
"علماء سے بغض رکھنے پر چار قسم کے عذاب" حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جب میری امت اپنے علماء سے بغض رکھنے لگے گی اور بازاروں کی عمارتوں کو بلند اور غالب کرنے لگے گی تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان پر چار قسم کے عذاب مسلط فرمادیں گے۔
① قحط سالی ہوگی
② حاکم وقت کی طرف سے مظالم ہوں گے
③ حکام خیانت کرنے لگیں گے
④ دشمنوں کے پے درپے حملے ہوں گے۔ (فتاوی رحیمیہ 2/82-83، کتاب الایمان، معاصی اور توبہ کا بیان)
----------------------------------------------
علماءِ دین کو برا بھلا کہنے والوں کا حکم کچھ احمق علماء کے خلاف باتیں کرتے ہیں، ان کے بارے کیا رائے ہے؟ الجواب وباللہ التوفیق: علم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اللہ اپنی اس صفت سے اپنے پسندیدہ بندوں کو ہی نوازتے ہیں، تاکہ وہ نائبِ رسول بن کر لوگوں کو راہِ شریعت بتلائے، اور کسی سبب یا عداوت کے بغیر کسی عالمِ دین یا حافظِ قرآن کی اہا نت درحقیقت علمِ دین کی اہانت ہے، اور علمِ دین کی اہانت کو کفر قرار دیا گیا ہے، اور اگر کوئی شخص کسی دنیاوی دشمنی یا بغض کی وجہ سے عالمِ دین کو برا بھلا کہتا ہے تو یہ گناہ گار ہے۔ حاصل یہ ہے کہ عالمِ دین کی اہانت سے سلبِ ایمان کا اندیشہ ہے؛ لہذا اس سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔ لسان الحكام (ص: 415): "وفي النصاب: من أبغض عالماً بغير سبب ظاهر خيف عليه الكفر. وفي نسخة الخسرواني: رجل يجلس على مكان مرتفع ويسألون منه مسائل بطريق الاستهزاء، وهم يضربونه بالوسائد ويضحكون يكفرون جميعاً". البحر الرائق شرح كنز الدقائق (5/ 134): "ومن أبغض عالماً من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر، ولو صغر الفقيه أو العلوي قاصداً الاستخفاف بالدين كفر، لا إن لم يقصده". مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 695): "وفي البزازية: فالاستخفاف بالعلماء؛ لكونهم علماء استخفاف بالعلم، والعلم صفة الله تعالى منحه فضلاً على خيار عباده ليدلوا خلقه على شريعته نيابةً عن رسله، فاستخفافه بهذا يعلم أنه إلى من يعود، فإن افتخر سلطان عادل بأنه ظل الله تعالى على خلقه يقول العلماء بلطف الله اتصفنا بصفته بنفس العلم، فكيف إذا اقترن به العمل الملك عليك لولا عدلك، فأين المتصف بصفته من الذين إذا عدلوا لم يعدلوا عن ظله! والاستخفاف بالأشراف والعلماء كفر. ومن قال للعالم: عويلم أو لعلوي عليوي قاصداً به الاستخفاف كفر. ومن أهان الشريعة أو المسائل التي لا بد منها كفر، ومن بغض عالماً من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر، ولو شتم فم عالم فقيه أو علوي يكفر وتطلق امرأته ثلاثاً إجماعاً". فقط واللہ اعلم فتوی نمبر: 143909200566 دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
---------------------------------------------------------------------------------
سوال: ایک شخص علماء دین کو لوطی کہتا ہے، اور کہتا ہے کہ دین فروشی ان کا پیشہ ہے اور علم دین پڑھا کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں، علمائے دین بدمعاش ہیں، مدارس عربیہ گمراہی کے اڈے ہیں اور مسجدوں کو اصطبل خانہ قرار دے اور مزید لغویات و بیہودہ باتوں کا کہنا اس وقت مذکورہ شخص کا پیشہ بن گیا ہے اور موصوف عاقل، بالغ و ذی فہم آدمی ہے۔ اب شرعا اس شخص کا کیا حکم ہے؟ جواب: مذکورہ کلمات سخت گستاخانہ ہیں اور تحقیق کے بغیر علماء کی پوری جماعت کو اس قسم کے قبیح و شنیع کلمات کہنا نہ صرف بدتریں فسق اور گمراہی ہے بلکہ ان کلمات کے کفریہ ہونے کا اندیشہ ہے (۱)۔ مذکورہ شخص پر واجب ہے کہ فورا ان کلمات سے صدق دل کے ساتھ علانیہ توبہ کرے بلکہ اسے احتیاطاً تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کر لینی چاہئے اور جب تک وہ اپنے اس عمل سے توبہ نہ کرلے اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات نہ رکھیں (۲)۔ واللہ اعلم احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ ۲۳-۳-۱۴۰۰ھ (۱) وفی خلاصۃ الفتاوی ج۴ ص۳۸۸ (مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) (الفاظ الکفر) من ابغض عالما بغیر سبب ظاھر خیف علیہ الکفر، وراجع ایضاً شرح الفقہ الاکبر لملا علی القاری ص۴۷۰ (طبع دار الاشاعت الاسلامیہ بیروت)۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------------
علماء کرام کی توہین سوء خاتمہ کا سبب ہے
دین اسلام ابدی اورلازوال دین ہے جو قیامت تک باقی رہنے والاہے، اس دین کو باقی رکھنے کے لئے اللہ نے جہاں کتاب کو نازل کیا وہیں کتاب کی تفہیم وتشریح کےلئے افراد و اشخاص کو بھی پیدا کیا ہے، جو کتاب اور اس کے احکام کی مکمل حفاظت کرتے ہیں اور اس کے مسائل سے انسانوں کو واقف کرواتے ہیں، زمانے کے حالات کے تناظر میں اس میں غور فکر کرکے مسائل مستنبط کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد دین وایمان کی یہ ذمہ داری ایسے افراد کے ہاتھ آئی جنہیں حدیث میں روشنی میں ''علماء'' کہا جاتا ہے، یہ وہ پاک طینت افراد ہیں جنہوں نے جہد مسلسل اور عمل پیہم کے ذریعہ دین کی حفاظت کا بیڑہ اٹھایا، دین اسلام پر وارد ہونے والے ہر اعتراض کا قرآن و حدیث کی روشنی میں دفاع کیا، اس کے لئے ہر طرح کی قربانی انہوں نے پیش کی اور کبھی بھی دین کی حفاظت و اشاعت سے غفلت و سستی نہیں برتی، یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں علماء کرام کی خوب ستائش کی گئی اور ان کے مقام ومرتبہ کو بتلایا گیا، اور انہیں عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھا گیا، اور ان کی اہمیت وفضیلت کو اجاگر کیا گیا، چنانچہ قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا:
''قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ''
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ (ان سے پوچھئے کہ) کیا عالم وجاہل دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (الزمر :۹)
اسی طرح ایک مقام پر فرمایا کہ:
''يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ''
اللہ تعالی (دنیا وآخرت میں) بلند درجات عطا فرمائےگا ان مؤمنین کو جو اطاعت گذار ہیں اور اہل علم یعنی علماء کو (المجادلۃ ۱۱)
بندوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے علماء ہی کو بتلایا گیا (الفاطر۱۶) کسی چیز کی جانکاری کے لئے انہیں کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا (النحل ۴۳)
احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح انداز میں علماء کی فضیلت کو بیان کیا ہے، اور ان کی ناقدری کرنے والوں ، ان کی توہین کرنےوالوں اور ان سے بغض رکھنے والوں کے بارے میں بڑی سخت وعیدیں ذکر کی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے میری فضیلت تم میں کے ادنی پر، پھر فرمایا: اللہ تعالی اس کے فرشتے، آسمان و زمین والے حتی کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں عالم کے لئے خیر اور بھلائی کی دعاکرتی ہیں (ترمذی حدیث نمبر۲۶۸۵) ایک حدیث میں فرمایا عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے، اس لیے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا، اس نے (علم نبوی) پورا پورا حصہ لیا (ابو داؤد، باب الحث علی طلب العلم، حدیث نمبر۳۶۴۱) صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے: جس شخص کے ساتھ اﷲ تعالیٰ خیر اور بھلائی کا معاملہ فرمانا چاہتے ہیں اس کو دین کی سمجھ اور علم عطا فرماتے ہیں. ان تمام روایات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم علماء کا کس قدر خیال رکھ رہے ہیں، اور ان کی قدر دانی کرنے کی کتنی تاکید فرمارہے ہیں ۔
موجودہ معاشرہ میں علماء کی تعظیم و تو قیر، عزت و احترام میں بہت حد تک کمی پائی جاتی ہے، اورمنظم سازش کے ذریعہ علمائے امت پر سے اعتماد ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے. دشمنانِ اسلام طویل تجربہ کے بعد اس نتیجہ کو پہنچے ہیں کہ مسلمانوں میں فکری الحاد پھیلانا ہو اور ان کو اپنے لحاظ سے مفلوج اور ناکارہ کرنا ہوتو ان کا رشتہ علماء سے توڑنا ضروری ہے، کیونکہ جب تک ان کا رشتہ علماء سے جڑا رہے گا اس وقت تک ان کے اندر دینی حمیت اور ایمانی جوش منتقل ہوتا رہے گا، اس لیے اب ان کی پوری توجہ اس بات پر ہے کہ عام مسلمان علما سے بدظن ہوجائیں اور ان سے اپنا ناطہ توڑلیں، اس کے لئے علماء کو بدنام کرنے کے لئے منصوبے بنائے جارہے ہیں اور ان کی حیثیت کو کم کرنے کے لئے سازشیں رچی جارہی ہیں، اور عام مسلمانوں کو ان سے بدظن کیا جارہا ہے، جس کا اثر یہ ہوا کہ لوگوں میں علماء کی عزت وتوقیر کا فقدان ہے، چند دینی معلومات کی بنیاد پر علماء سے بحثیں کرنا روز کا معمول بن چکا ہے ، ان کی شان میں توہین آمیز کلمات کہنا بعض کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے، علماء کی توہین کرنے اور انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھنے اور اذیت و تکلیف پہنچانے والوں کے بارے میں رسول اللہ علیہ وسلم نے بڑی سخت وعیدیں ذکر کی ہے ،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے اور ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے علماء کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں یعنی ہمارا اور اس کاکوئی تعلق ہی نہیں ہے (مستدرک حاکم حدیث نمبر۴۲۱) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تین شخص ایسے ہیں جن کو منافق ہی تکلیف دے سکتا ہے:
(۱) وہ شخص جو اسلام کی حالت میں بوڑھا ہوگیا،
(۲) عالم دین
(۳) عادل بادشاہ (الترغیب و الترہیب ۱؍۱۱۵)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی فقیہ (عالم) کو تکلیف پہنچائی اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی اس نے اللہ تعالی کو تکلیف پہنچائی (بخاری ، حدیث نمبر۶۰۴۴) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
''تم عالم بنو، یا طالب علم بنو، یا علم سننے والے بنو، یا ان سے محبت رکھنے والے بنو، پانچویں قسم میں ہرگز داخل نہ ہو ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اور پانچویں قسم یہ ہے کہ تو علم اور علماء سے بغض رکھے (مجمع الزوائد حدیث نمبر۴۹۵)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب میری امت اپنے علماء سے بغض رکھنے لگے گی تو اللہ تعالی ان پر چار قسم کے عذابات مسلط کرتے ہیں،
(۱) قحط سالی
(۲) بادشاہ کی جانب سے مظالم
(۳) حکام کی خیانت
(۴) دشمنوں کے مسلسل حملے (مستدر حاکم ۴؍۳۶۱)
نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے فرمایاعالم زمین پر اللہ کی حجت ہے ، پس جس نے عالم کی عیب جوئی کی وہ ہلاک ہو گیا (کنزالعمال۱۰؍۵۹)
ان روایات کی روشنی میں آج کے معاشرہ کا جائزہ لیں کہ آج لوگوں نے کس جرأت کے ساتھ علماء کی توہین اور ان پر بے جا تنقید کرنے کو اپنے شیوہ بنالیا ہے جب کہ انہیں خود اپنے اعمال وکردار کی فکرنہیں ۔
فقہاء نے لکھا ہےکہ جو شخص علماء کی توہین کرتا ہے یا انہیں تکلیف دیتا ہے اس پر کفر یا سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے، چنانچہ علامہ ابن نجیم مصری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
''الِاسْتِهْزَاءُ بِالْعِلْمِ وَالْعُلَمَاءِ كُفْرٌ''
علم اور علماء کی توہین کفر ہے (الاشباہ والنظائر، باب الردۃ ۱۶۰ )
علامہ شعرانی رحمة اللہ علیہ 'طبقات کبری' میں لکھتے ہیں کہ امام ابو تراب بخشی رحمة اللہ علیہ جو مشائخ صوفیہ میں ہیں فرماتے ہیں کہ "جو شخص اللہ تعالی سے نامانوس ہوجاتا ہے تو وہ اہل اللہ پر اعتراض کرنے کا خوگر (عادی) ہوجاتا ہے(طبقات کبری) نیز ملک کی مایہ ناز باوقار قدیم دینی درسگاہ ازہرالہند دارالعلوم دیوبند نے ایک فتوی کے جواب میں لکھا ہےکہ شریعت میں علماء کا مقام نہایت بلند وبرتر ہے عوام پر ان کی تعظیم ضروری ہے، علماء کو برا بھلا کہنا ان کو گالیاں دینا، ان کی توہین کرنا جائز نہیں بلکہ بسا اوقات اس سے سلب ایمان کا بھی خطرہ ہے، علماء نے صراحت کی ہے اگر عالم کی اہانت بمقابلہ امر دین وحکم شرع کے ہوتو اس سے آدمی کافر ہو جاتا ہے،ایسے شخص کو چاہئے کہ صدق دل سے توبہ واستغفار کرے اور تجدید ایمان کرلے (فتاوی دارالعلوم) نیز فتاوی عالمگیری میں ہے: جو شخص کسی عالم سے بغیر کسی ظاہری سبب کے بغض رکھے اس پر کفر کا اندیشہ ہے (فتاوی عالمگیری) اس لئے بزرگوں نے کہا ہےکہ مسلمانوں پر اپنے علماء کا احترام فرض ہے، کیونکہ یہ انبیاء کے وارث ہیں، ان کی تضحیک ان کے منصب کی تضحیک ہے اور ان کے عہدے کی تضحیک اس وراثت اور علم کی تضحیک ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہیں ملا ہے، ان کے عہدے، منصب، علم اور ان پر اسلام اور امت کی بہتری کی ذمہ داری کی وجہ سے مسلمانوں پر ان کا احترام فرض ہے۔ علماء نے لکھا ہےکہ گمراہ ہونے کی وجوہات میں سے ایک علماء کی توہین کرنا ہے، مولانا عبد الحی رحمة اللہ علیہ اپنے فتوی میں لکھتے ہیں: اگر گالیاں دینے والے کا مقصود علم اور علماء کی تحقیر کی وجہ سے ہے تو فقہاء اس کے کفر کا فتوی دیتے ہیں ورنہ اگر کسی اور وجہ سے ہے تو تب اس شخص کے فاسق فاجر ہونے میں اللہ کے غصہ اور دنیا اور آخرت کے عذاب کے مستحق ہونے میں شبہ نہیں، بریلوی مسلک کے سرخیل حضرت مولانا احمد رضاخان صاحب فاضل ِبریلوی (رحمة اللہ علیہ) اپنی کتاب فتاویٰ رضویہ میں لکھتے ہیں کہ علمائے دین کی توہین کرنا سخت حرام، سخت گناہ، اشد کبیرہ، عالم دین سُنّی صحیح العقیدہ کہ لوگوں کو حق کی طرف بلائے اور حق بات بتائےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہے، اس کی تحقیروتوہین معاذ اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گستاخی موجب ِ لعنت ِ الٰہی وعذابِ الیم ہے (فتاوی رضویہ ج ۲۳ ص ۶۴۹) نیز جو لوگ اپنے بڑوں اور بزرگوں کی جائز باتوں اور مبنی برحکمت اقوال و افعال پر تنقید برائے تنقید کرتے ہیں، ان کو دنیا میں نقد یہ سزا دی جائے گی کہ ان کی اولاد بے دین اور ملحد پیدا ہوگی (ماہنامہ بینات اکتوبر ۲۰۰۹) حضرات علماء اور محققین نے فرمایا ہے کہ جس طرح حضر ات انبیاء ا کرام علیہم السلام کی توہین وتنقیص یا ان پر بے جا تنقید پر یہ وعید ہے، ٹھیک اسی طرح وہ لوگ جو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے سچے وارث اور صحیح جانشین ہیں، ان کی توہین وتنقیص یا ان کی گستاخی اور بے ادبی کا بھی یہی حکم ہے، چنانچہ حدیث قدسی میں ہے: "من عادیٰ لی ولیاً فقد آذنتہ بالحرب" جس نے میرے کسی ولی کی مخالفت اور عداوت کی، میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے (مشکوٰة، ص: ۱۹۷) آج کل علماء کرام کی جو ناقدری، ان کے ساتھ بے ادبی وگستاخی اور انہیں برا بھلا کہنے کا جو رواج بنتا جارہا ہے اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے، غیر تو غیر اپنوں نے بھی علماء کو تنقید کا نشانہ بنالیا ہے، جس کسی مجلس میں بیٹھیں گے جب تک کسی عالم کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نہ نکالیں گے انہیں چین و سکون میسر نہیں آتا، جبکہ اسلام نے اختلاف رائے رکھنے کے بارے میں اصول و ضوابط بتائے ہیں حدود قیود متعین کئے ہیں، شائستگی اور سنجیدگی سے اختلاف کرنےکا طریقہ سکھلایا ہے، بے ادبی، سطحیت، تذلیل، حقارت اور توہین کو کسی صورت جائزقرار نہیں دیا ہے، کسی بھی ناگہانی بات پر گفت وشنید کا موقع فراہم کیا ہے، احسن طریقہ پر بحث ومباحثہ کی حکم دیا ہے، اس کی بجائے توہین آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے تحقیر وتذلیل کرنا انتہائی بداخلاقی ہے، ان باتوں سے اہل علم کی شان میں کوئی کمی نہیں آئے گی البتہ اپنا ہی خسارہ اور نقصان ہے۔ علماء پر بہتان لگانا اور سنی سنائی باتوں کو ان کی طرف منسوب کرنا اور ہر محفل میں زبان درازی کر کے اپنی علمی شان اور رفعت ِ مکانی ظاہر کرنا جہالت کے سوا کچھ نہیں، ایسے لوگ پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور علماء پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے بارے میں سوچنا چاہئے کہ ہمارے پاس کیا اعمال ہیں ، جنہیں دربارِ الہی میں پیش کرسکیں گے۔
مولانا محمد غیاث الدین حسامی
(تدوین: ایس اے ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2019/05/blog-post_22.html


Monday, 20 May 2019

انزال کے بغیرجماع کرنے کے بعد غسل کرنے کی ضرورت

انزال کے بغیرجماع کرنے کے بعد غسل کرنے کی ضرورت
سوال: بخاری شریف میں دو احادیث ہیں کہ انزال کے بغیرجماع کرنے کے بعد غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور صرف وضو کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں جب کہ فقہ میں ہے کہ صرف دخول ہونے سے غسل ضرورہے۔ براہ کرم، میری رہ نمائیں فرمائیں کہ اس صورت میں کیا کروں؟
جواب:
بسم الله الرحمن الرحيم
فقہ میں جو لکھا ہے کہ محض جماع سے غسل واجب ہوجاتا ہے انزال ہو یا نہ ہو۔ یہی صحیح ہے اور حدیث: ”إنما الماء من الماء“ یعنی غسل انزال سے واجب ہوگا باجماع امت منسوخ ہے۔ لما في الصحیحین من حدیث أبي ھریرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”إذا جلس بین شعبھا الأربع ثم جھدھا فقد وجب الغسل أنزل أو لم ینزل وأما قولہ علیہ الصّلاة والسلام إنما الماء من الماء فمنسوخ بالإجماع وفي حاشیة مسلم: ۱۱/۲۹۶ (۸/۸۱/۳۴۳) وقد عقب الإمام مسلم علی ھذا الحدیث فروی بإسنادہ عن ابن الشخیر قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینسخ حدیثہ بعضہ بعضاً کما ینسخ القرآن بعضہ بعضاً (شامي: ج۱ ص۲۹۹،ط. زکریادیوبند، کتاب الطھارة) اور امام نووی لکھتے ہیں اعلم أنالأمة مجتمعة الآن علی وجوب الغسل بالجماع وإن لم یکن معہ إنزال (مسلم شریف: ج۱ ص۱۵۵)

گھروں میں مرد حافظ کے پیچھے خواتین کا تراویح پڑھنا؟

گھروں میں مرد حافظ کے پیچھے خواتین کا تراویح پڑھنا؟

سوال:- کیا فرماتے ہیں مفتیان دین وشرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: موجودہ زمانے میں حفاظ کرام کی تعداد میں بحمد اللہ اضافہ ہوتا جارہا ہے اور مسجدیں کم پڑتی جارہی ہیں، تو کیا حافظ صاحب مسجد میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے اور قرآن پاک کو یاد رکھنے کے سبب مستورات کو تراویح کی نماز پڑھا سکتا ہے، جبکہ اس کے پیچھے صرف غیر محرم عمر رسیدہ خواتین رہتی ہیں؟ واضح رہے کہ جس جگہ تراویح ہوتی ہے وہاں پردہ مکمل نظم ہے۔
المستفتی: اسعداللہ بیگوسرائیوی۔ بروز اتوار۱۳/ رمضان المبارک ۱۴۴۰ھ مطابق 19 مئی 2019.

الجواب وبالله التوفيق: 
حافظ اپنے گھر میں اپنی محرم مستورات کے ساتھ اگر تراویح پڑھے ، تداعی کے بغیر دیگر خواتین بھی مکمل پردہ کی رعایت کے ساتھ شریک جماعت ہوجائیں تو مضائقہ نہیں، لیکن اگر اپنی محرم نہ ہوں، صرف دوسری خواتین ہی پردہ کے پیچھے شریک جماعت ہوں تو یہ پسندیدہ شکل نہیں؛ یعنی کہ مکروہ ہے۔
اگر مسجدیں کم پڑ رہی ہیں تو اس کا متبادل طریقہ موجود ہے کہ حافظ قرآن اپنے گھر پہ اپنی محرم مستورات کے ساتھ تراویح شروع کردے، اجنبیات کے یہاں مرد حفاظ کے تراویح پڑھانے کے سلسلے کی ترویج غیر ضروری اور ناپسندیدہ ہے:
 کما تکرہ إمامۃ رجل لہن في بیت لیس معہن رجل غیرہ ولا محرم منہ کأختہ أو زوجتہ أو أمتہ أما إذا کان معہن واحد ممن ذکر أو أمہن في المسجد لا یکرہ۔ (الدر المختار مع الشامي ۲؍۳۰۷ زکریا)
والفتوی الیوم علی الکراہۃ فی کل الصلوات لظہور الفساد۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۱؍۱۵۷، فتاوی عثمانی ۵۱۶، أحسن الفتاوی ۳؍۲۸۳، فتاوی رحیمیہ ۱؍۱۷۱، ۱؍۲۳۳، ۷؍۲۶۱، کتاب النوازل ۵/۵۴،۸۸/۵)
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی
١٣رمضان المبارك ١٤٤٠هجري
<https://saagartimes.blogspot.com/2019/05/blog-post_20.html>

Wednesday, 15 May 2019

حوض کے پانی کا حکم؟

حوض کے پانی کا حکم؟

شاہجہانی جامع مسجد دہلی اور شاہی مسجد فتحپوری دہلی کے حوض میں نہانے اور اس کے پانی سے وضو کرنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:
اگر پانی دس بائے دس شرعی گز(10x10)  ہے تو اسے ماء کثیر وجاری (بہتا ہوا پانی) کہتے ہیں، اس سے کم ہو تو ماء قلیل وراکد (ٹھہرا ہوا پانی) ۔ 
جس کا کل رقبہ یعنی لمبائی اور چوڑائی دونوں کا حاصل ضرب 100 ذراع ہونا ضروری ہے،
اسکویر (square) فٹ کے اعتبار سے مجموعی پیمائش 225 فٹ
اور میٹر کے اعتبار سے مجموعی پیمائش 20.90  میٹر ہوتی ہے۔
گہرائی کم از کم اتنا ہونا ضروری ہےکہ چلو سے پانی لیا جائے تو زمین نظر نہ آئے
                 (فتاوی رحیمیہ ج.۴ ص.۳۸)
            وإذا کان الحوض عشراً في عشر فهو کبیر لا یتنجس بوقوع النجاسة ... إذا لم یرلها أثر". (حلبي کبیر ، فصل في أحکام الحياض، ص: ۹۸، ط سهیل أکادمي، لاهور)

 "الحوض إذا کان عشراً فی عشرٍ أي طوله عشرة أذرع وعرضه کذلک، فیکون وجه الماء مائة ذراع". (حلبي کبیر، فصل في أحکام الحیاض، ص ۹۷: ط سهیل أکادمي، لاهور)

اگر پانی اس مقدار میں ہو اور اس میں نجاست گرجائے تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔ ہاں اگر اس میں نجاست کا رنگ یا بو یا مزہ آجائے تو جس جگہ نجاست  کا اثر آیا ہو اس جگہ کا پانی ناپاک ہے۔
أما الحوض إذا كان عشراً في عشر كبير لا يتنجس بوقوع النجاسة إذا لم يرلها إثر إذا كانت النجاسة غير مرئية وليس لرجل أن يتوضأ أو يغتسل في الحوض الكبير بناحية الجيفة والأصل فيه انها إذا كانت مرئية لا يجوز أن يتوضأ الا بعيداً عنها و إذا لم تكن مرئية جاز مطلقا 
(منيه:٣٥/١٢)
حوض کی صفائی ستھرائی کا خاص نظم رکھنا بیحد ضروری ہے، اس  میں نہانا بہت برا ہے 
انتظامیہ کو اس پہ کڑی نظر رکھنی چاہئے 
واللہ اعلم 
شکیل منصور القاسمی


Wednesday, 24 April 2019

خواتین کی باجماعت نماز تراویح کا اہتمام

خواتین کی باجماعت نماز تراویح کا اہتمام

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مسجد کے علاوہ گھر پر نماز تراویح کا دس روزہ اہتمام ہونا ہے. مرد و خواتین ترتیب دو طرح سے سوچی گئی ہے.
1. نیچے ہال میں مرد حضرات رہینگے
اوپری منزل پر مستورات.
2. دوسری ترتیب یہ ہے
ایک ہی منزل میں باہر کے ہال میں مرد حضرات ہوں اندر کے کمروں میں مستورات ہوں.
کیا یہ مناسب ہے؟ اس طرح نماز تراویح اداء کی جاسکتی ہے؟ مرد حضرات فرض نماز مسجد میں ہی اداء کریں گے.
مزید کیا شرائط و کوائف ہیں براہ کرم مفصل جواب عنایت فرمائیں

الجواب وباللہ التوفیق:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے لئے اسی کو پسند فرمایا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہتے ہوئے عبادت کریں، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’عورت کا اپنے چھوٹے کمرہ میں نماز پڑھنا دالان میں نماز پڑھنے سے اور دالان میں نماز پڑھنا گھر کے احاطہ میں نماز ادا کرنے سے اور گھر کے احاطہ میں نماز ادا کرنا محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے،
حضرت ام حمید ساعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی خواہش ظاہر کی، ظاہر ہے کہ یہ نماز مسجد اور مسجد نبوی جیسی عالی مرتبت مسجد میں ادا ہوتی اور وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تلقین فرمائی کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھیں، یہ زیادہ بہتر ہے.‘‘
اسی لئے عام طور پر فقہاء رحمہم اللہ نے لکھا کہ عورتوں کا مسجدوں میں آنا بہتر نہیں، یہ رائے صرف حنفیہ کی نہیں ، بلکہ دوسرے فقہاء کی بھی ہے، فقہاء شوافع میں مشہور محدث اور فقیہ امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مہذب  میں اور فقہاء حنابلہ میں ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب ’’المغنی‘‘ میں بھی یہی لکھا ہے، اس لئے محلہ کی مساجد ہوں یا محلہ کا کوئی مکان، تراویح پڑھانے والا مرد ہو یا عورت، یہ اجتماع نماز پڑھنے کے لئے ہو یا محض قرآن سننے کے لئے، موجودہ حالات میں کراہت سے خالی نہیں کہ اس میں فتنہ کا اندیشہ ہے۔
مسجدوں کو بازار اور دوسرے مواقع پر قیاس نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ اگر ان مقامات پر کوئی ناشائستہ بات پیش آتی ہے تو یہ برائی دنیا کی طرف منسوب ہوتی ہے، اس سے بازار بدنام ہوں گے، لیکن وہی بات بلکہ اس سے کمتر درجہ کی بات بھی کسی دینی مرکز پر یا مسجد میں پیش آئے تو اب یہ برائی دین کی طرف منسوب ہوگی، دینی مراکز بدنام ہوں گے اور دین کے وقار و اعتبار کو نقصان پہنچے گا، اس لئے صحیح طریقہ یہی ہے کہ خواتین اپنے گھروں میں نماز پڑھیں اور جب نماز کے لئے باہر نکلنا مناسب نہیں جب کہ نماز میں جماعت مطلوب ہے تو محض قرآن مجید سننے کے لئے باہر نکلنے کے کیا معنی؟
اصل خوشنودی اور رضا حاصل کرنا ہے نہ کہ اپنے جذبات کی تکمیل اور خواہشات کی تسکین، پس جب شریعت نے خواتین کے لئے یہ رعایت رکھی ہے کہ گھر میں نماز ادا کرنے میں زیادہ اجر وثواب ہے تو مسجدوں میں اور دوسرے مقامات پر جاکر نماز ادا کرنے میں کیا فائدہ ہے؟ گھر میں نماز ادا کرنے میں زیادہ اجر و ثواب کا حاصل ہونا یقینی ہے
جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے اور باہر جاکر نماز پڑھنے میں گناہ کا اندیشہ ہے، تو یقینی اجر و ثواب کو چھوڑ کر اندیشۂ گناہ مول لینا کیا عقلمندی کی بات ہوسکتی ہے؟

از کتاب الفتاوی
العبد محمد اسلامپوری

https://saagartimes.blogspot.com/2019/04/blog-post_7.html?m=1

کرب و مشکلات کے وقت کيا کريں؟

کرب و مشکلات کے وقت کيا کريں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“
یہ وہ کلمہ ہے جو ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے اس وقت کہا تھا جب انہيں آگ میں ڈالا جارہا تھا۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت کہا جب ان سے کہا گیا کہ:
اَلَّذِیۡنَ  قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَکُمۡ فَاخۡشَوۡہُمۡ فَزَادَہُمۡ اِیۡمَانًا ٭ۖ وَّ قَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰہُ وَ نِعۡمَ الۡوَکِیۡلُ ﴿۱۷۳﴾
ترجمہ: 
وہ لوگ جن سے کہنے والوں نے کہا تھا: یہ (مکہ کے کافر) لوگ تمہارے (مقابلے) کے لیے (پھر سے) جمع ہوگئے ہیں، لہذا ان سے ڈرتے رہنا، تو اس (خبر) نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بول اٹھے کہ: ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ (٥٩) سورہ آل عمران آیت نمبر 173

اللہ تعالی تعالی نے ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی اس کلمے کی برکت سے مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا کہ: 

قُلۡنَا یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۙ۶۹﴾
ترجمہ: (چنانچہ انہوں نے ابراہیم کو آگ میں ڈال دیا اور) ہم نے کہا: اے آگ! ٹھندی ہوجا، اور ابراہیم کے لیے سلامتی بن جا۔ (٢٨) سورہ الانبیآء آیت نمبر 69
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت فرمائی اور اس عظیم کلمے کی برکت سے فرمایا: تو وہ اللہ کی طرف سے بڑی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے، انہیں کسی برائی نے چھوا تک نہيں (آل عمران: 174)۔
اس اثر سے ہمیں یہ استفادہ حاصل ہوا:
1- اس کلمے کی فضیلت، اور چاہئے کہ اسے کرب و مشکلات کے وقت پڑھا جائے۔
2- بے شک اللہ پر توکل دنیا و آخرت میں خیر کو پانے اور شر کو دور کرنے کے عظیم ترین اسباب میں سے ہے۔
3- بلاشبہ ایمان میں کمی زیادتی ہوتی ہے۔
4-  بہت سی چیزیں جنہيں انسان بظاہر ناپسند کررہا ہوتا ہے ہوسکتا ہے کہ اس کے لئے بہتر ہوں۔
-----------
صحیح بخاری 4563۔
--------------
تفسیر: 59: جب کفار مکہ احد کی جنگ سے واپس چلے گئے تو راستے میں انہیں پچھتاوا ہوا کہ ہم جنگ میں غالب آجانے کے باوجود خواہ مخواہ واپس آگئے، اگر ہم کچھ اور زور لگاتے تو تمام مسلمانوں کا خاتمہ ہوسکتا تھا۔ اس خیال کی وجہ سے انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا۔ دوسری طرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شاید ان کے ارادے سے باخبر ہو کر یا احد کے نقصان کی تلافی کے لیے جنگ احد کے اگلے دن سویرے صحابہ میں یہ اعلان فرمایا کہ ہم دشمن کے تعاقب میں جائیں گے، اور جو لوگ جنگ احد میں شریک تھے صرف وہ ہمارے ساتھ چلیں۔ صحابہ کرام اگرچہ احد کے واقعات سے زخم خوردہ تھے، اور تھکے ہوئے بھی تھے، مگر انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس دعوت پر لبیک کہا جس کی تعریف اس آیت میں کی گئی ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکل کر حمراء الاسد کے مقام پر پہنچے تو وہاں قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص معبد آپ سے ملا جو کافر ہونے کے باوجود آپ سے ہمدردی رکھتا تھا، اس نے مسلمانوں کے حوصلے کا خود مشاہدہ کیا اور جب وہاں سے نکلا تو اس کی ملاقات کفار مکہ کے سردار ابو سفیان سے ہوگئی، اس نے ابو سفیان کو مسلمانوں کے لشکر اور اس کے حوصلوں کے بارے میں بتایا اور مشورہ دیا کہ وہ لوٹ کر حملہ کرنے کا ارادہ ترک کر کے واپس چلا جائے۔ اس سے کفار پر رعب طاری ہوا اور وہ واپس تو چلے گئے لیکن عبدالقیس کے ایک قافلے سے جو مدینہ منورہ جا رہا تھا یہ کہہ گئے کہ جب راستے میں ان کی ملاقات آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہو تو ان سے یہ کہیں کہ ابو سفیان بہت بڑا لشکر جمع کرچکا ہے اور مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ان پر حملہ آور ہونے والا ہے مقصد یہ تھا کہ اس خبر سے مسلمانوں پر رعب پڑے۔ چنانچہ یہ لوگ جب حمراء الاسد پہنچ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے تو یہی بات کہی، لیکن صحابہ کرام نے اس سے مرعوب ہونے کے بجائے وہ جملہ کہا جو اس آیت میں تعریف کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔
----------------
تفسیر: 28: اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ معجزہ دکھایا کہ آگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی کا سبب بن گئی۔ جو لوگ معجزات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، ان کا موقف در حقیقت اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر شک کرنے کے مرادف ہے۔ حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ آگ میں جلانے کی خاصیت اسی نے پیدا فرمائی ہے، اگر وہ اپنے ایک جلیل القدر پیغمبر کو دشمنوں کے ظلم سے بچانے کے لیے اس کی یہ خاصیت ختم کردے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟
 آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی

https://saagartimes.blogspot.com/2019/04/blog-post_24.html



Tuesday, 23 April 2019

آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے

آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ھے پس تمھارا ہر آدمی یہ ضرور دیکھے کہ وہ کس کے ساتھ دوستی کررہا ھے؟ (ابو داؤد ترمزی بسند صحیح اور امام ترمذی نے اس کی سند کو حسن کہا ہے) ...... اچھے ساتھی اپنے ساتھیوں، دوستوں، اور ہم محفل و ہم مجلس لوگوں کو نیکی اور اچھائی کی طرف ہی بلاتے ہیں اور ہر ایسے کام سے اچھے طریقے سے روکتے ہیں جو کام دینی، دُنیاوی اور بالخصوص اُخروی طور پر کسی نُقصان والا ہو، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھے ساتھی، اور بُرے ساتھی کی مثال اِس طرح ہے جیسے کہ خُوشبو بیچنے والا، اور بھٹی جھونکنے والا، کہ خُوشبُو بیچنے والا یا تو تُمہیں خُوشبُو دے گا، یا تُم اُس سے خُوشبُو خریدوگے (اور خود کو معطر کروگے) اور یا اُس سے خُوشبُو (میں سے کچھ نہ کچھ) پالوگے، اور بھٹی جھونکنے والا یا تو تُمہارے کپڑے جلائے گا، یا تُم اُس سے بُری بُو پالوگے.
صحیح البخاری/ حدیث 5534/ کتاب الذبائح/ باب30، صحیح مُسلم/ حدیث6860/ کتاب البر و الصلۃ و الادب/ باب45،
اس حدیث شریف میں یہ تعلیم فرمائی گئی کہ اگر اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح چاہئے، اپنے نفس کی خیر میں مددگاری چاہئے تو نیکو کار لوگوں کو اپنے ساتھی بناؤ، برے لوگوں کا ساتھ برائی کا ہی سبب بنے گا، حتیٰ کہ اپنے دِین تک سے بھی ہاتھ دھو بیھٹتا ہے اور اپنے ساتھیوں، دوستوں، ہم مجلس لوگوں کے دِین پر ہوجاتا ہے، اور اس عظیم حقیقت کا اظہار بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبان مُبارک سے کروایا کہ

الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ:::
اِنسان اپنے دوست کے دِین پر ہی ہوجاتا ہے لہذا تُم میں سے ہر کوئی دیکھ لے کہ وہ کس کے ساتھ دوستی رکھتا ہے

سُنن ابو داؤد / حدیث4835/ کتاب الأدب/ باب19، سُنن الترمذی /حدیث 2552/ کتاب الزُھد/ باب45، اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے "حَسن" قرار دِیا،
یقین جانئے کہ ایسے نیک اور درست عقل رکھنے والے ساتھی ہم سب کے دِین، دُنیا اور آخرت کی کامیابی کا ایک بڑا سبب ہیں، خاص طور پر ایسے لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مُسلمانوں، اور انسانوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ہے.
جب اللہ کسی حاکم کے ساتھ خیر کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس کے لئے نیکو کار سچا نیکی پر مدد کرنے والا وزیر مہیا کردیتا ہے، کہ اگر حاکم (خیر کا) کوئی کام یا بات بُھول جائے تو وزیر اُسے یاد کروادے، اور اگر حاکم کو یاد ہو تو وزیروہ کام کرنے میں اُس کی مدد کرے، اور اگر اللہ حاکم کے ساتھ اِس کے عِلاوہ معاملے کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس کے لئے بُرا وزیر مہیا کردیتا ہے جو حاکم کو (خیر کا) کوئی کام یا بات بُھولنے کی صُورت میں یاد نہیں کرواتا، اور اگر حاکم کو یاد ہو تو وہ کام کرنے میں اُس کی مدد نہیں کرتا.
سُنن ابو داؤد/ حدیث2934 / کتاب الخراج/ باب4، اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے "صحیح" قرار دِیا، صحیح ابن حبان / حدیث4494،
‎(صحيح البخاري ومسلم)
------------------
اچھی اور بری صحبت کے أثرات
اچھا دوست:
وہ ہے جو اللہ کا مطیع وفرمانبردار ہو، اس کے اوامر کی پابندی کرنیوالا، منہیات سے دور رہنے والا، فرائض کو ادا کرنے والا، سنن کی پابندی کرنے والا، حدود اللہ کا لحاظ رکھنے والا، اچھے اور اعلی اخلاق سے پیش آنے والا، برے اخلاق سے بچنے والا، صلہ رحمی کرنے والا، والدین سے حسن سلوک کرنیوالا، ہمسائے سے احسان کرنے والا، بردبار عاجز، لوگوں کے کام آنے والا اور لوگوں کو اذیت دینے سے دور رہنے والا ہو۔
برا دوست: 
وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کا باغی ہو، فرائض میں کوتاہی کرنے والا، منہیات میں جرأت کرنے والا، حدود اللہ کو پامال کرنے والا، برے اخلاق سے پیش آنے والا، قطع رحمی کرنے والا، والدین کا نافرمان، ہمسائے سے برائی کرنے والا، جلد اور بہت زیادہ غصہ کرنے والا، متکبراور لوگوں کو اذیت دینے والا ہو۔ گویا کہ عقیدہ عمل اور سلوک کرنے میں دین سے منحرف ہو۔
اچھی صحبت کے اثرات:
بے شک انسانی زندگی پر اچھی صحبت کے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ اچھا دوست آپ کو خیر اور بھلائی کی جانب راہنمائی کرے گا۔ اور آپ کو دین ودنیا کی بہتری کا مشورہ دے گا۔ اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری پر راغب کرے گا جبکہ آپ کے عیوب کی بھی نشاندہی کرتا رہے گا۔ برے اخلاق چھوڑکر اچھے اخلاق اپنانے کی دعوت دے گا۔ یا کم از کم آپ اس کی نیکی کو دیکھ کر خود نیکی کرنے کی کوشش کریں گے۔ آپ کی موجوگی یا عدم موجودگی میں آپ کی خیر خواہی کرے گا اور آپ کی زندگی یا موت کے بعد آپ کے لئے دعا مغفرت کرے گا۔
بری صحبت کے اثرات: 
جس طرح اچھی صحبت سے انسانی زندگی پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اسی طرح بری صحبت اختیار کرنے سے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کیونکہ برے دوست کے تمام احوال ونقائص میں آپ اس کے برابر کے شریک ہیں۔ اور سب سے برا اثر جو انسان پر مرتب ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یا تو برا دوست آپ کو بھی برائی میں شرکت کی دعوت دے گا جو آپ کے دین و دنیا دونوں کے لئے مضر ہے یا پھر برائی پر آپ کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ اور آپ کو والدین کی نافرمانی اور قطع رحمی پر ابھارے گا۔ آپ کے رازوں کو مخفی رکھے گا تاکہ آپ اپنے گناہوں کو جاری رکھیں۔ نیز آپ کی عدم موجودگی میں آپ کے رازوں کو افشاء کردینا آپ کے لئے ذلت ورسوائی کا سبب ہوگا۔ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے اور اپنے دوستوں کے دین پر ہوتا ہے جیسا کہ کسی شاعر کا کلام ہے:
عن المرء لا تسئل وسل عن قرینہ فکل قرین بالمقارن یقتدی
کسی بھی آدمی کے بارے میں مت پوچھ! بلکہ اس کے دوست کے متعلق پوچھ۔ کیونکہ دوست اپنے دوستوں کے پیروکار ہوتے ہیں۔
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے دوست اور برے دوست کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا:
((مثل الجلیس الصالح والجلیس السوء کحامل المسک ونافخ الکیر ،فحامل المسک اما أن یحذیک ،واما أن تبتاع منہ،واما أن تجد منہ ریحا طیبۃ،ونافخ الکیر اما أن یحرق ثیابک،واما أن تجد منہ ریحاخبیثۃ)) [متفق علیہ]
’’اچھے دوست اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی مانند ہے، مشک اٹھانے والا یا تو آپ کو ہدیہ میں دے دیگا یا آپ اس سے خرید لیں گے یا کم از کم اچھی خوشبو تو پائیں گے، جبکہ بھٹی جھونکنے والا آپ کے کپڑوں کو جلادے گا یا کم از کم آپ اس سے بدبو پائیں گے۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مثال کے ذریعہ معقول کو محسوس کے قریب کردیا ہے۔ جس سے صحبت کے اثرات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ کہ جس طرح مشک والے کے پاس بیٹھنے سے فائدہ ہی فائدہ ہے اسی طرح اچھی صحبت اختیار کرنے سے انسان خیر اور بھلائی میں رہتا ہے جبکہ بھٹی جھونکنے والے پاس بیٹھنے سے نقصان ہی نقصان ہے اسی بری صحبت اختیار کرنے سے انسان خسارہ میں ہی رہتا ہے۔
نیک لوگوں کے ساتھ محبت اور ان کی صحبت اختیار کرنے کے فوائد:
نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے ان کے ساتھ بیٹھنے اور ان سے محبت کرنے کی فضیلت میں کتاب وسنت میں بہت ساری نصوص وارد ہیں۔جیسا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لاتصاحب الا مؤمناولا یأکل طعامک الا تقی)) [ابوداؤد، ترمذی]
’’صرف مومن شخص کی صحبت اختیار کر، اور تیرا کھانا صرف متقی شخص کھائے۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((الرجل علی دین خلیلہ فلینظر أحدکم من یخالل)) [ابوداؤد، ترمذی]
’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، پس چاہئے کہ تم میں سے ہر شخص اپنے دوست کو دیکھے۔‘‘ 
حضرت ابوموسی أشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((المرء مع من أحب))
’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے۔‘‘
ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ جو شخص کسی قوم کے ساتھ محبت کرتا ہے اسے اس قوم کے ساتھ ملحق کیوں کر دیا جاتا ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((المرء مع من أحب)) ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے۔‘‘
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دین دار عورت سے شادی کی جائے تاکہ وہ تمہارے دین میں تمہاری مدد گار ثابت ہوسکے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((تنکح المرأۃ لأربع لمالھا ولحسبھا ولجمالھا ولدینھا فاظفر بذات الدین تربت یداک)) [متفق علیہ]
’’چار وجوہ سے عورت کے ساتھ نکاح کیا جاتا ہے۔ اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب ونسب کی وجہ سے، اس کے جمال کی وجہ سے، اور اس کے دین کی وجہ سے۔ دین والی کو ترجیح دو تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ان سات افراد کا تذکرہ ہے جن کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائیں گے جن میں سے دو افراد وہ بھی ہیں:
((رجلان تحابا فی اللہ اجتمعا علیہ وتفرقا علیہ))
’’جو فقط اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں اسی محبت پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر ہی علیحدہ ہوتے ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک اور اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے اور ان کی صحبت پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ ان کو دھتکارنے سے منع کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
((وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ)) [الکھف:۲۸]
’’اور اپنے آپ کو انہی کے ساتھ رکھاکر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے (رضامندی چاہتے) ہیں، خبردار! تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنے پائیں۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ جو صبح وشام اللہ کو یاد کرتے ہیں، تسبیح وتحمید بیان کرتے ہیں، تہلیل وتکبیرکرتے ہیں، اورصرف ایک اللہ سے مانگتے ہیں خواہ غریب ہیں یا امیر، کمزور ہیں یا قوی۔
نیکو کاروں کی صحبت اختیار کرنے میں بے شمار فوائد ہیں۔ ان کے پاس بیٹھنے سے علمی اور اخلاقی فوائد ملتے ہیں۔ اور یہ نیک لوگوں کی دوستی کل قیامت کو بھی قائم رہے گی جبکہ باقی سب دوستیاں ختم ہوجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
((اَلْأَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلاَّ الْمُتَّقِیْنَ))[الزخرف:۶۷]
’’اس دن گہرے دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیز گاروں کے۔‘‘
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
((وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلاً٭یٰوَیْلَتٰی لَیْتَنِیْ لَمْ أَتَّخِذْ فُلَاناً خَلِیْلاً٭لَقَدْ أَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذْ جَآئَ نِیْ وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلاً)) [الفرقان:۲۷-۲۹]
’’اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چباکر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ اختیار کی ہوتی۔ ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کردیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے۔‘‘ ظالم شخص غم اور افسوس سے اپنی انگلیوں کو کاٹے گا کہ اس نے غلط اور شریر شخص کو اپنا دوست بنالیا جس نے اسے ہدایت اور صراط مستقیم سے ہٹاکر ضلالت و گمراہی اور بد بختی کے رستے پر لگادیا لیکن اس وقت یہ افسوس کسی کام نہیں آئیگا کیونکہ ہاتھ سے نکلا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔
اسی طرح جہنمی جہنم میں ندامت کا اظہار کریں گے کہ کاش ہم اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت نہ کرتے جنہوں نے ہمیں گمراہ کردیا اور صراط مستقیم سے ہٹادیا، کاش کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھام لیتے اور آج اس ذلت آمیز عذاب سے بچ جاتے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
((یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْھُھُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَا أَطَعْنَا اللّٰہَ وَأَطَعْنَا الرَّسُوْلَا٭وَقَالُوْا رَبَّنَا اِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآئَ نَافَأَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا))[الأحزاب:۶۶،۶۷]
’’اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ (حسرت وافسوس سے) کہیں گے کہ کاش ہم اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے۔ اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں راہ راست سے بھٹکادیا۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ برے لوگوں کی صحبت نہ صرف علمی واخلاقی فوائد سے محروم کردیتی ہے بلکہ انسان کو اسفل سافلین تک جاپہنچاتی ہے۔
https://saagartimes.blogspot.com/2019/04/blog-post_61.html