Monday, 6 November 2023

اپنے خالق کےحضور میں میاں جی عظمت اللہ رحمۃ اللہ علیہ

اپنے خالق کےحضور میں میاں جی عظمت اللہ رحمۃ اللہ علیہ
میں نے تقریبا 1995 اور ء1994ء کے دوران اپنے تبلیغی شعور کے آغاز میں، میاں جی کو دیکھا اور سنا،اور تب سے اب تک نہ جانے کتنی مرتبہ دیکھنے، سننے اور ملنے کا موقع ملا، ہم انہیں جب دیکھتے اللہ یاد آجاتا، جب ان کے بیانات سنتے، اللہ کی عظمت سے دل لبریز ہوجاتا اور آخرت کی یاد تازہ ہوجاتی، یہ بات مبالغہ نہیں حقیقت ہے اور اس حقیقت کا اعتراف کرنے والے سینکڑوں نہیں ہزاروں اور لاکھوں ہیں اور اس کی شہادت دینے والے عوام ہی نہیں علماء بھی ہیں_
وہ امی تھے، میرا اپنا خیال ہے کہ  قرآن کریم کے علاوہ وہ اردو زبان بھی ٹھیک سے نہیں پڑھ سکتے تھے ان کے لہجے اور تعبیرات میں میواتیت غالب ہوا کرتی تھی، ان سب کے باوجود عوام وخواص ان کے بیانات کے طالب اور متمنی ہوا کرتے، ان کے بیانات نظام الدین میں بھی ہوتے تھے اور چھوٹے، بڑے اجتماعات میں بھی، بھوپال کے عالمی اجتماع میں بھی، رائیونڈ اور ککریل میں بھی، کئی مرتبہ میں نے خالص علماء کے بڑے مجمع میں بھی ان کا بیان سنا ہے، بسا اوقات دوران بیان ان کی آنکھ سے آنسو رواں ہوجاتے اور سامعین کی آنکھیں بھی نم ہوجاتیں_
ان کا بیان ان کے نام کا پرتو ہوا کرتا، عظمت اللہ ان کا نام تھا اور عظمت الہی ہی ان کے بیان کا غالب حصہ ہوا کرتا ہے، دو، ڈھائی گھنٹے کے بیان میں وہ اللہ کی قدرت اور عظمت اس قدر سمجھاتے کہ ہر سامع اپنے دل میں ایمان کی حلاوت  اور ترقی محسوس کرتا، مولنا یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے دور کے لوگ کہتے کہ ان کا بیان مولنا کے بیان سے ماخوذ ومستفاد ہے، بیان سننے والا غیراللہ کو بے حیثیت وبے قیمت سمجھنے لگتا، صاحب قدرت رب کے سامنے خود کو ذلیل و بے بس محسوس کرتا_
غالبا 2014 کی بات ہوگی، رمضان کا مہینہ تھا، دارالعلوم دیوبند کے ایک صاحب تحقیق وتصنیف، موقر استاد، نظام الدین تشریف لائے. عصر کے بعد مسجد میں میاں جی کا بیان تھا، مجھ سے کہنے لگے چلو بیان میں شرکت کرتے ہیں، مجھے کچھ تردد ہوا کہ کہیں میاں جی کی خالص دیہاتی زبان واسلوب کسی بدگمانی کا سبب نہ بن جائے کہ یہ عالمی مرکز ہے لیکن بیان کے بعد استاد محترم کا تاثراتی جملہ تھا کہ "بھئی ایسے ہی لوگوں کے بیان سے ایمان میں تازگی پیدا ہوتی ہے." 
میاں جی کو میں جب بھی دیکھتا  کسی نہ کسی اجتماعی یا انفرادی عمل میں مشغول پاتا، وہ یاتو بیان کررہے ہوتے، یا پھر تلاوت یا  ملنے والوں کو ترغیب ونصیحت کرریے ہوتے، مجھے ان  کی عملی اور مقصدی زندگی پر ہمیشہ رشک آتا.
انہیں عمر طویل (95) عطاہوئی اور  اچھا عمل نصیب ہوا، گویا آپ اس حدیث کا مصداق  تھے، جس میں سائل نے بہترین آدمی کا سوال کیا تو زبان رسالت مآب سے جواب ملا:
من طال عمره وحسن عمله،
جس کی عمر طویل اور عمل اچھا ہو.
وہ بلاشبہ اس دور میں ایمان، توکل، سادگی، تواضع، اخلاق واخلاص کے اعلی معیار پر تھے اور  فکر، دعوت، عبادت وقربانی وعزیمت  کے باب میں دعوت و تبلیغ کے سابقین اولین کا نمونہ تھے، انہوں نے راہ خدا میں طویل مدتی ومسافتی سفر خوب کیا. کسی زمانے میں امریکہ میں سال لگایا، چار ماہ چالیس مرتبہ سے زائد لگایا. بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ چار ماہ کے خروج سے واپسی پر جماعت تشکیل کرکے مرکز لائے. امیر نہ ملنے پر دوبارہ خود ہی لے کر چلے گئے. پھر دوبارہ سہہ بارہ ایسا ہوا، اس طرح "چار ماہ" سال ڈیڑھ سال میں پورا ہوا، علماء کی جماعتیں بھی خوب چلائیں. جب تک سفر کے قابل تھے، سال لگانے والے علماء کی تمنا ہوتی تھی کہ ہمارا کچھ وقت میاں جی کے ساتھ لگ جائے. میاں جی مشورے سے انہیں لے جاتے، وقت لگانے والے علماء ان کے ساتھ گذرے ایام کو انتہائی مفید بتاتے.
میاں جی عجائب قدرت کو خوب کھول کھول کر بیان کرتے،اور بذات خود قدرت کا عجوبہ اور انا عند ظن عبدی بی کا نمونہ تھے، مشہور ہے کہ تقریبا پچیس سال قبل ایک بڑے مسلم ڈاکٹر (جنہیں میں بھی جانتا ہوں ) نے میاں جی سے کہا: ہمارے فن اور میڈیکل سائنس کے اعتبار سے آپ  چند مہینوں سے زیادہ زندہ نہیں رہیں گے. میاں جی نے برجستہ کہا: دیکھ نہ تو اپنا ایمان خراب کر ، نہ ہی میرا ایمان خراب کر، (اللہ کی) قدرت سے اب تک زندہ رہے ہیں، آئندہ بھی جب تک قدرت (الہی) چاہے گی زندہ رہیں گے، اس کے بعد ایک عرصے تک نہ صرف بقیدحیات رہے بلکہ سارے اعمال وأسفار بھی کرتے رہے، تقریبا چار سال قبل ان کے لائق وفائق فرزند  مولانا فاروق صاحب جو والد کی خدمت میں رہتے تھے ، طبیعت کی ناسازی کے بعد دہلی کے ایک اسپتال میں لے گئے. ڈاکٹروں نے ڈائلسس تجویز کیا، میاں جی نے منع کردیا اور واپس آگئے اور پھر معمول کے مطابق سارے اعمال یہاں تک کہ بیان بھی کرتے رہے. اسپتال کے مالک کو جب اس کی خبر ہوئی تو وہ بہت معتقد ہوگیا، وہ ملنے آتا اور اپنے نئے اسپتال کا افتتاح اس نے میاں جی  سے یہ کہتے ہوئے کروایا کہ "یہ ہمارے میڈیکل اصول وضوابط سے مستثنی ہیں، یقینا یہ کوئی خاص مقام رکھتے ہیں." 
میاں جی نے ہجرت بہت کی تھی اس لئے ان کی خواہش تھی کہ میرا انتقال یا تو خروج فی سبیل اللہ میں ہو یا پھر مرکز نظام الدین میں، کرونا کے زمانے میں جتنے دنوں مرکز کے باہر رہے، مرکز آانے کے لئے بے قرار رہتے، ہر دن دعاء کرتے کہ: "مولی مجھے گھر پر موت نہ آئے." بالآخر تمنا پوری ہوئی. مولی کےا س سچے عاشق نے مرکز میں قیام کے دوران جمعہ کے مبارک دن اپنی جان، اسی قدرت والے مولی کے سپرد کردی جس کی قدرت سمجھنے اور سمجھانے میں اپنی زریں عمر کا ایک ایک لمحہ خرچ کردیا، وہ درد بدر پھرتا رہا، جوانی میں بھی ، ضعیفی میں بھی ، پیدل بھی، سواری سے بھی.
جان ہی دے دی جگر نے آج پائے یار پر 
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آہی گیا
میرا اپنا حسن ظن ہے (ولا ازكي أحدا علي الله) کہ انہیں 'نفس مطمئنة'حاصل تھا. مجھے امید کہ میاں جی کو  یہ نوید جانفزا سننے کو ملے گی
يايتها النفس المطمئنة،ارجعي الي ربك راضية مرضية، فادخلي في عبادي،وادخلي جنتي. 
محمد اشرف علی محمد پوری 
23/9/2023 ( #ایس_اے_ساگر )

Sunday, 5 November 2023

ایک معلمہ کا پیغام امت مسلمہ کے مردوں کے نام

ایک معلمہ کا پیغام امت مسلمہ کے مردوں کے نام
اے میرے بھائی!
اے پیارے بیٹے!
جب تم اپنے گھر سے باہر نکلو گے تو تمہیں دو قسم کی عورتوں سے سابقہ پڑے گا
پہلی قسم:
ایسی عورت جو عزیز مصر کی بیوی والے مرض میں مبتلا ہوگی بن سنور کر خوشبوؤں میں نہا کر بے پردگی کے ساتھ بےحیا بن کر نکلی ہوگی اور زبان حال سے کہ رہی ہوگی: هيت لك 
دوسری قسم:
ایسی عورت جو با پردہ و باحجاب ہوگی لیکن حالات نے اسے حاجات و ضروریات کی انجام دہی کے لئے باہر نکلنے پر مجبور کردیا ہوگا۔ اس کی زبان حال گویا ہوگی: 
حتى يصدر الرعاء و أبونا شيخ كبير
لہذا پہلی قسم کی عورت کے ساتھ حضرت یوسف علیہ السلام والا طرزعمل اختیار کرنا، نگاہوں میں سرمۂ حیا لگا کر جھکائے رکھنا اور کہنا: معاذ الله
اور دوسری قسم کی عورت کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طرزعمل کو اپنانا، بہت ہی ادب کے ساتھ خدمت پیش کرکے اپنی راہ اپنالینا: 
فسقى لهما ثم تولى إلى الظل
اس لئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی عفت نے آپ کو حاکم مصر بنا دیا۔
اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خودداری و باوقار خدمت کے سبب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے سرو سامانی کے عالم میں ٹھکانہ اور نیک صالح بیوی عطا فرمائی. 
اللهم ارزقنا العفاف و الستر
عورت کے لباس باپ کی تربیت، بھائی کی غیرت، شوہر کی عزت نفس، ماں کی نگہداشت، اور ان سب سے قبل اس کے اللہ تعالیٰ سے تعلق کو بیان کر دیتے ہیں۔
اسی وجہ سے لوگوں نے حضرت مریم علیہا السلام سے کہا تھا: 
يا أخت هارون ما كان أبوك امرأ سوء وما كانت أمك بغيا
حضرت مریم کے ساتھ ساتھ ان کے بھائی، باپ اور ماں کو بھی ذکر کیا، کہ ان کی صلاح و دینداری میں لڑکی کی صلاح و عفت ہے۔ 
ایک خاتون کہتی ہیں: جب میں کسی لڑکی کو فیشن و نمائش میں اور بے حیا و تنگ لباسی میں دیکھتی ہوں تو اس کے والدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی وعید ذہن میں گردش کرنے لگتی ہے: 
[وقفوهم إنهم مسؤولون] 
تو میں اور زیادہ با حیا بن جاتی ہوں تا کہ میرے والدین سے مجھ سے متعلق سوال نہ ہو!!! 
دنیا کی ساری حرام چیزیں جنت میں حلال ہو جائیں گی سوائے فحاشی و عریانی کے (یعنی جنت میں بھی فحاشی اور عریانیت نہیں ہوگی) اللہ تعالیٰ نے اسے دونوں جہانوں میں حرام ہی رکھا ہے، بلکہ لباس اور ستر پوشی تو ایک بہت بڑی نعمت ہے؛ 
إن لك ألا تجوع فيها و لا تعرى 6 
(جنت میں بھوک اور بے پردگی نہیں ہوگی)





Saturday, 4 November 2023

دمہ کیوں ہوتا ہے اور متاثرہ افراد کو کن چیزوں سے بچنا چاہئے؟

دمہ کیوں ہوتا ہے اور متاثرہ افراد کو کن چیزوں سے بچنا چاہئے؟
عالمی ادارہ صحت لاور عالمی دمہ نیٹ ورک کے مطابق دنیا بھر میں 30 کروڑ افراد دمہ سے متاثر ہیں اور اس تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس مضمون میں اس مرض کی وجوہات، علامات اور اس مرض کے باوجود ایک بہتر زندگی گزارنے کے لیے مشورے دیے جا رہے ہیں۔
دمہ کیا ہوتا ہے؟
دمہ سانس کی بیماری ہے جس میں سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور متاثرہ فرد کا سینہ متاثر رہتا ہے۔ یہ بیماری سانس کی نالیوں کے ارد گرد موجود پٹھوں میں سوزش اور ان کے سکڑنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس مرض کا کوئی حتمی علاج تو نہیں ہے لیکن اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر بدر الدین کا کہنا ہے کہ سانس لینے میں مشکل کے علاوہ متاثرہ فرد کو خشک کھانسی اور چھاتی میں تناو کی کیفیت کی شکایت رہ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس بیماری کی علامات اور ان کی شدت وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں۔ عام طور پر یہ رات کے وقت زیادہ پریشان کرتی ہے یا پھر صبح سویرے۔
دمہ میں شدت کیوں آتی ہے؟
بہت سے عوامل دمہ کی علامات میں شدت لا سکتے ہیں۔ جینیاتی عوامل یا الرجی بیرونی عوامل سے مل کر اس بیماری کی شدت بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دھواں بھی سانس کی تکلیف بڑھاسکتا ہے۔ تمباکو کا دھواں خصوصا مضر ثابت ہوتا ہے کیوں کہ اس میں ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو سانس کی نالیوں میں سوزش بڑھاتی ہیں اور دمہ میں شدت لا سکتی ہیں۔ پولن، گرد اور مخصوص خوشبو بھی دمہ میں شدت کا سبب بن سکتی ہیں۔
دمہ اور ماحولیاتی تبدیلی
ایسے افراد جو دمہ سے متاثر ہوتے ہیں، موسمیاتی یا ماحولیاتی تبدیلی بھی ان پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ انسان کے پھیپھڑے بیرونی دنیا سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور کسی بھی قسم کی تبدیلی ان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دمہ بدلتے ہوئے ماحول میں شدت اختیار کرتا ہے جیسا کہ بیرونی پولن میں اضافہ یا ٹریفک کا دھواں، آلودگی، آگ، گرمی کی لہر، طوفان یا گرد۔ اس کے علاوہ ہوا میں نمی بڑھنے سے بھی دمہ شدت اختیار کرسکتا ہے۔ ڈاکٹر بدر الدین کا کہنا ہے کہ سانس کی نالیاں کافی حساس ہوتی ہیں اور کسی بھی بیرونی تبدیلی کی وجہ سے اندرونی خلیوں کی تہہ پر اثر پڑتا ہے اور یوں ردعمل میں سانس کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں یا پھر کھانسی ہوتی ہے۔
دمہ کن افراد کو ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے؟
ویسے تو یہ مرض کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے لیکن کم عمر افراد میں یہ زیادہ عام ہے۔ اس کی ایک وجہ جینیاتی عوامل ہوتے ہیں تاہم والدین سے بچوں میں اس بیماری کے منتقل ہونے کے امکانات ہمیشہ موجود نہیں ہوتے۔ اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کن افراد کو یہ مرض ہونے کے امکانات زیادہ ہیں لیکن کچھ افراد میں دمہ کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں وہ افراد شامل ہیں جو وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں، یا وہ بچے جن کو سانس کی تکالیف اور بیماریاں زیادہ ہوتی ہیں، موٹاپے کا شکار افراد، زیادہ عرصے تک آلودگی یا دھویں کا سامنا کرنے والے افراد اور الرجی سے متاثرہ افراد۔ ڈاکٹڑ بدرالدین کا کہنا ہے کہ ایسے بچے جن میں وائرل انفیکشن زیادہ ہوتا ہے، دمہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایسا نہیں جیسا بلڈ پریشر ہوتا ہے جس میں نمک اور ہائپر ٹینشن کا سبب بننے والی مصنوعات کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
دمہ کا علاج
یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ دمہ کا علاج احتیاط ہے جو مریض کو آگاہی دینے سے شروع ہوتی ہے۔ مریض کو بتانا چاہیے کہ تمباکو نوشی سے گریز کریں اور دھویں والی جگہوں پر زیادہ نہ جائیں کیوں کہ ان سے دمہ شدت اختیار کرجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسی مصنوعات کے استعمال سے پرہیز کریں جو سانس کی نالیوں کو متاثر کرتی ہیں جیسا کہ پینٹ یا صفائی والی مصنوعات۔ دمہ کے مریضوں کو کورٹیکوسٹیروئڈ دیے جاتے ہیں جو سانس کی نالیوں کی سوزش میں کمی لاتے ہیں۔ ڈاکٹر بدرالدین کا کہنا ہے کہ دمہ سانس کی نالیوں کی دائمی سوزش ہے جس کا مطلب ہے کہ بنیادی علاج اور باقاعدہ مانیٹرنگ ضروری ہے۔ سب سے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مریض کو آگاہی دیں. ماہرین کے مطابق مریض کو بیماری کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے اور ان کو بتانا چاہیے کہ مرض میں شدت کیوں اور کیسے آتی ہے۔ ڈاکٹر بدر الدین کا کہنا ہے کہ ایک لیٹنٹ دمہ ہوتا ہے جو ہر وقت ظاہر نہیں ہوتا اور وفقے وفقے سے زیادہ علامات کے بغیر رہتا ہے۔ تاہم ایسے افراد کو بھی چاہیے کہ ڈاکٹر کو باقاعدہ چیک کروائیں اور ٹیسٹ کروائیں جن سے دمہ کا علاج ضرورت کے حساب سے طے کیا جا سکے۔
کیا دمہ سے متاثرہ فرد کھیل سکتا ہے؟
اس بیماری سے متاثرہ افراد کھیل کود کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ کھیل سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور دمہ سے متاثرہ افراد میں ذہنی تناو بھی کم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر بدر الدین کا کہنا ہے کہ کھیل علاج کا ایک حصہ ہے۔ ایسے چیمپیئن ہیں جن کو دمہ ہے لیکن وہ اس کا خیال رکھتے ہیں۔ ’اس کے علاوہ دمہ کی دوایاں پرفارمنس بڑھانے والی چیزوں میں شمار نہیں ہوتیں۔‘تیراکی، سائیکلنگ اور تیز چلنا دمہ کے مریضوں کے لیے فائدہ مند سرگرمیاں ہیں۔ تاہم سردی میں دوڑنا دمہ میں شدت لا سکتا ہے۔ اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو مریض کو دوڑ سے پہلے جسم کو خوب گرما لینا چاہیے اور دس سے پندرہ منٹ قبل برونکو ڈائلیٹر کا استعمال کرنا چاہیے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دمہ کے مریضوں کو چاہیے کہ کسی بھی طرح کی جسمانی ورزش عمر اور سانس لینے کی صلاحیت کے حساب سے طے کریں اور پہلے طبی ماہرین سے مشورہ کریں۔
کیا دمہ جان لیوا ہو سکتا ہے؟
ڈاکٹر بدر الدین کا کہنا ہے کہ دمہ بے ضرر لگتا ہے لیکن کوئی شدید دورہ مریض کی موت کا سبب بن سکتا ہے۔ دمہ کے شدید دورے اچانک مریض کو ہسپتال تک لے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر بدر الدین کہتے ہیں کہ اکثر لوگ طبی ماہرین سے مشورہ کیے بنا دوا چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ ایسا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر بدر الدین کہتے ہیں کہ دمہ کی ایک قسم، جو عمر رسیدہ افراد میں ہوتی ہے، بھی جان لیوا ہو سکتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ ان کی موت دمہ سے ہوئی لیکن حقیقت میں اس کی وجہ کچھ اور ہوتی ہے جس کی علامات دمہ سے ملتی جلتی ہیں۔ واضح رہے کہ اگر دمہ کا خیال نہ رکھا جائے تو ایسی علامات سامنے آ سکتی ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے اور یہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔ کسی شدید دورے کے دوران سانس کی نالیاں اس حد تک سکڑ سکتی ہیں کہ مریض کو ری ایکشن ہو سکتا ہے اور سانس لینا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ بچوں، عمر رسیدہ افراد اور سانس کی انفیکشن سے متاثرہ افراد میں ایسا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
دمہ کے ساتھ بہتر زندگی کیسے گزاری جا سکتی ہے؟
دمہ کے ساتھ زندگی گزارنا ایک چیلنج ہے لیکن ناممکن نہیں۔ یہ ضروری ہے کہ چند قوانین کو زندگی کا حصہ بنا لیا جائے۔
ایک صحتمند زندگی جس میں باقاعدگی سے علاج جاری رکھا جائے اور ایسے عوامل سے بچا جائے جو بیماری میں شدت کی وجہ بنیں دمہ پر قابو رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔


Friday, 3 November 2023

آسان علاج کسے کہتے ہیں

"کیا
آپ نے کبھی 
آسان علاج کے بارے میں کچھ سنا ہے؟"
حضُور پُر نُور ﷺ کی سیرت پاک کا ایک پہلو آپ ﷺ کے طبی کمالات بھی ھیں،  جسے معالجوں نے وہ توجہ نہیں دی جسکی اشد ضرورت تھی. جیسے سائنس کو آج لاکھوں،  ھزاروں تجربات کر کے معلوم ھُوا کہ ذات الجنب (پلورسی) کا سبب وھی ھے جو کی تپ دق کا ھے بلکہ یہ بھی تپ دق کی ایک قسم ھی ھے جبکہ اسی ضمن میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ھیں،  کہ بنی کریم ﷺ نے ھمیں آگاہ فرمایا کہ ذات الجنب کے علاج میں درس اور زیتون کے تیل کا استعمال مفید ھے. 
(جامع ترمذی،  سنن ابن ماجہ)
ایسی مثالیں ان ذھنی غلاموں کے لئے بھی چشم کشا ھیں جو بات بات پر مغرب کی باتیں کرتے،  اور جون اور مائیکل کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے. 
اس مِیں مَیں ان بیچاروں سے ایک ھمدردی بھی کرتا ھوں وہ یہ ھے کہ انہیں پڑھایا ھی جون اور مائیکل گیا ھے. کاش انکی دنیاوی تعلیم کے ساتھ کچھ دینی تعلیم کا اھتمام کیا جاتا تو انہیں معلوم ھوتا کہ اسلامی شخصیات کا زندگی کے ھر ھر شعبے میں کتنا بلند ترین مقام ھے. 
تو جناب ھم بات کر رھے تھے معدے کی شکایات کی،  ایک بات ھمیشہ یاد رکھیں علم طب قیافہ پر مبنی ھے لیکن نبی کریم ﷺ کی طب کو اس لیے فضیلت حاصل ھے کہ ان کے ھر علاج کو وحی الہی سے تائید حاصل ھے اور اسی لئے یہ صریح و یقینی ھے. 

قبض آجکل ھر انسان کی شکایت ھے،  قبض کے سلسلے میں صحابی تراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ھیں کہ نبی رحمت ﷺ نے ھمیں حکم ارشاد فرمایا کہ 
"ھم رفع حاجت کے وقت بائیں پاوں پر بوجھ ڈالیں اور دائیں پاوں کو کھڑا کرلیں." 
جدید میڈیکل سائنس کی تحقیق نے طبی اعتبار سے اس طریقہ کار کو قبض کا بہترین علاج قرار دیا ھے،  کیونکہ فضلہ انتڑیوں میں سے ھوتا ھوا بائیں طرف کی بڑی آنت میں اکٹھا ھوتا رھتا ھے اور یہاں سے رفع حاجت کے وقت خارج ھوتا ھے. اگر بائیں پاوں اور ٹانگ کے ذریعے آنت کے اس حصے پر دباو ڈالا جائے تو فضلہ کے خارج ھونے میں مدد ملتی ھے اور قبض نہیں رھتی.  
سوڈانی ڈاکٹر عمر سلیمان محمد جدید طرز تعلیم سے آشنا ھونے کے ساتھ علم الحدیث ﷺ سے بھی بہرہ ور تھے اور انہوں نے جدید تحقیقاتی اصولوں کے ساتھ ساتھ ارشادات نبوی ﷺ سے یہ ثابت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے تقریباََ تمام بیماریوں کو کسی نہ کسی پیرائے میں نہ صرف بیان کیا بلکہ علاج بھی تجویز کیا جیسے متعدی امراض سے بچنے کا سادہ طریقہ احادیث مبارکہ میں اس شان سے موجود ھے کہ عقل دنگ رہ جاتی ھے.  
اس ضمن میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ھیں کہ نور مجسم سرکار دو عالم حضور پر نور ﷺ کا ارشاد مبارک ھے کہ تندرست افراد (بلا ضرورت) مریض کے قریب نہ جائیں. (بخاری و مسلم) 
اور کوڑھ کے مریض سے ایسے بھاگو جیسے کہ شیر سے بھاگتے ھو،  اس سے اگر بات کرنا ضروری ھو تو اپنے اور اس کے بیچ میں ایک سے دو تیر کے برابر فاصلہ رکھو. 
(متفق علیہ)
اور
کھانستے اورچھینکتے وقت منہ کے آگے ھاتھ یا کپڑا رکھا جائے (بخاری)
ایسے ھی ارشادات گرامی کی مزید تحقیق کی گئی،  تو معلوم ھوا کہ نبی کریم ﷺ کو اللہ عزوجل نے حکمت کا مکمل علم عطا فرمایا تھا جیسا کہ قرآن مجید میں ھے ارشاد باری تعالی ھے :
اور اے محبوب! اگر اللہ کا فضل و رحمت تم پر نہ ہوتا تو ان میں سے کچھ لوگ یہ چاہتے کہ تمہیں دھوکا دے دیں اور وہ اپنے ھی آپ کو بہکا رھے ھیں اور تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ھے.  
(سورۃ النساء - 113)
نبی رحمت ﷺ کے انھی مضامین پر مُشتمل ارشادات پر مزید تحقیق کر کے اور زمانے کی بدلتی ھوئی اقدار کے پیش نظر علم طب نے اب اتنی ترقی کر لی ھے کہ اب اسے مختلف شاخوں میں تقسیم کر دیا گیا ھے، بیماریوں کا علاج بعد کا مسئلہ ھے،  سب سے پہلے تو یہ کہ انسانی صحت کو ھر لحاظ سے محفوظ ماحول مہیا کیا جائے اور بیماریوں کو پیدا ھی نہ ھونے دیا جائے، یعنی "امراض کی قبل از وقت روک تھام" بذات خود ایک باقاعدہ علم کی حیثیت اختیار کر چکی ھے. جسے Prevention Science کہا جاتا ھے. اسکی بنیاد نبی کریم ﷺ کے ایسے ھی ارشادات ھیں. 
تو بات ہو رہی تھی قبض کی، عمومی طور پر اگر اجابت معمول کے مطابق نہ آئے یا آئے تو پاخانہ تھوڑا تھوڑا کئی بار آئے یا روزانہ حاجت ہونے کے بجائے دوسرے، تیسرے روز آئے۔ ان دونوں صورتوں کو قبض کہتے ہیں۔ باقاعدہ اجابت نہ ہونے سے طبیعت مضمحل رہتی ہے جسم کا تھکا تھکا رھنا،  زبان میلی اور بھوک روز بروز کم ہونے لگتی ہے۔ جب آنتوں میں پہلے سے جگہ موجود نہ ہو تو ان میں نئی غذا کا داخل کرنا ممکن نہیں رہتا اور جب غذا اندر نہ جائے تو توانائی میں کمی ایک لازمی نتیجہ ہے۔
آنتوں میں خوراک جب معمول سے زیادہ ٹھہرتی ہے تو وہاں پر سٹراند پیدا ہوکر بدبو دار ریاح پیدا ہوتی ہے۔ اگر رکاوٹ زیادہ ہو تو ان ریاح کا اخراج نہیں ہوتا۔ اس طرح پیٹ بوجھ کے ساتھ ڈھولک کی طرح تن جاتا ہے۔
پیٹ میں ریاح کی کثرت کی وجہ سے دماغ پر بوجھ، چکر، بے خوابی، لازمی نتائج ہیں۔ پیٹ میں جب بوجھ محسوس ہو رہا ہو تو آسانی سے نیند نہیں آتی۔ ڈکار مارنے کی کوشش بذات خود ایک بیماری ہے جس سے اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اطباء کا یہ قول بھی ہے کہ قبض عام بیماریوں کی ماں ہے۔
غذائی علاج:-
قبض کے علاج کے سلسلہ میں ابتدائی اہم بات غذا ہے۔ پرانی قبض میں مبتلا لوگوں کو کھانا وقت پر کھانا چاہئیے۔ کھانا جو بھی ہو، اس میں پھوک یا ریشہ کی معقول مقدار ہونی چاہئیے۔ گوشت کے ساتھ اگر سبزیاں شامل نہ ہوں تو ان کی کمی پھلوں سے دور ہو سکتی ہے لیکن پھلوں کا جوس یا عرق ہرگز اس ضرورت کو پورا نہیں کرتے۔ آٹا ان چھنا ہو۔
پانی کی مقدار زیادہ بھی قبض کشاء ہے لیکن کھانے کے ساتھ اس کی مقدار بہرحال کم ہونی چاہئیے۔ رفع حاجت کے لئے کموڈ کی نسبت پیروں پر بیٹھنا زیادہ مفید ہے۔ اس شکل میں مریض اپنے بائیں گھٹنے کو جوکہ پیٹ کے ساتھ لگا ہوتا ہے، اگر اندر کی طرف دباکر رکھیں تو یہ بڑی آنت کے آخری حصے پر دباؤ ڈال کر اس میں موجود اشیاء کو اپنے دباؤ کی مدد سے آگے کو دھکیل کر باہر نکلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
علم الغذا کے بارے میں آج سے صدیوں پہلے بڑی اہمیت کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا۔ حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا سفر پر گئیں تو وہاں سے واپسی پر ایک نئے کھانے کی ترکیب سیکھ کر آئیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اس نئے کھانے کی دعوت دی جس کا حال وہ بیان فرماتی ہیں۔
“انہوں نے چھان کر سفید آٹا گوندھا اور بتایا کہ ہمارے ملک کا یہ کھانا ہے جوکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کر رہی ہوں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باریک آٹا دیکھ کر فرمایا کہ تم نے آٹے میں جو کچھ نکالا ہے، اس کو اس میں دوبارہ شامل کرو اور پھر تیار کرو۔“ (ابن ماجہ)
یہ واقعہ حدیث کی کئی کتب میں آیا ہے۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں انہوں نے چھلنی نہ دیکھی تھی اور تنکے وغیرہ پھونک مار کر اڑا دیتے تھے۔ یہی بات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ان کے گھر میں آٹا چھان کر استعمال کرنے کا رواج نہ تھا۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹے سے چھان کر جس چیز کو بڑی محنت اور کاوش سے نکال کر پھر اس کی سفید روٹیاں پکائیں مگر ان کو ہدایت فرمائی گئی کہ وہ چھان کو پھر سے شامل کرکے روٹی پکائیں جس سے چھان کی اہمیت کو آ شکار کیا گیا۔
جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آٹے کا چھان پرانی قبض اور ذبابیطس کے مریضوں کے لئے بہترین دوائی ہے۔ اس میں ریشے کے علاوہ وٹامن ب طاقت کا باعث ہوسکتی ہے۔ وٹامن ب عضلات کے لئے مقوی ہے۔
قبض کا دوسرا اہم علاج غذا اور حاجت کے اوقات کا تعین ہے۔ جب جی چاہا بیت الخلاء چلے جائیں اور جب فرصت نہ ہو یا جی نہ چاہے، ملتوی کر دیا جائے۔ ایسے میں قبض کو صرف ادویہ کی مدد سے وقتی طور پر دور کیا جا سکتا ہے۔ باقاعدہ علاج سے نہیں۔ صُبح اٹھ کر کچھ کھانے کے بعد ایک مقررہ وقت پر بیت الخلاء جانا اہم نکتہ ہے بلکہ مقررہ وقت پر اگر حاجت نہ ہو تب بھی جانا چاہئیے۔ اس طرح وقت پر حاجت ہونے کی عادت بن جاتی ہے مگر اس کے لئے تین اہم لوازمات ہیں۔
* خالی پیٹ بیت الخلاء نہ جائیں۔ ضرور کچھ کھا کر جائیں۔ جیسا کہ نہار منہ شہد پینے کے بعد۔
* رات کو کھانا ضرور کھایا جائے کیونکہ رات کا کھانا نہ کھانے سے صُبح تک 19۔ 18 گھنٹے کا فاقہ بن جاتا ہے۔
اتنے لمبے فاقہ سے خون میں مٹھاس کی مقدار گر جاتی ہے۔ کمزوری کے علاوہ سابقہ غذا کو آگے بڑھانے والا عنصر نہ ہونے کی وجہ سے قبض ہوتی ہے۔ 
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ رات کا کھانا ہرگز ترک نہ کیا جائے، خواہ مٹھی بھر کھجور کھا لیں کیونکہ رات کا کھانا ترک کرنے سے بڑھاپا (کمزوری) طاری ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں متعدد روایات میسر ہیں جیسے کہ “رات کا کھانا امانت ہے“ اور ارشاد گرامی میں واضح فرمایا گیا ہے کہ رات کا کھانا نہ کھانے سے کمزوری ہو جائے گی۔
* رات کو کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم تین گھنٹے کا وقفہ ہونا چاہئیے اور اس وقفہ کے درمیان 500 قدم چلنے سے آنتوں کی توانائی میں اضافہ ہے اور اگلے دن اجابت اطمینان سے ہوتی ہے۔
قبض کشاء ادویات اور طب یونانی:-
جمال گوٹہ۔ جلاب۔ مسبر۔ سقمونیا۔ املتلاس وغیرہ
ان میں جمال گوٹہ اس حد تک مخزش ہے کہ اس کا تیل اگر تندرست جلد پر لگایا جائے تو وہاں پر آبلہ اور پیپ پڑ جاتے ہیں۔ اپنے مضر اثرات کی وجہ سے جمال گوٹہ علاج کے طور پر استعمال نہیں ہوتا۔ اس کے مدبر (اصلاح) کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چکنائی کی زیادہ مقدار آنتوں میں پھسلن پیدا کرکے اجابت لاتی ہے۔ اس غرض کے لئے روغن بادام، روغن بید انجیر، کسٹرائیل اور گھی شہرت رکھتے ہیں۔
عضلات میں اگر کمزوری ہو تو یہ بھی قبض کا باعث ہے۔ اس لئے وہ تمام ادویہ جو جسم کو اور بالخصوص اعصاب اور عضلات کو طاقت دیتی ہے جیسے کہ کچلا، ہلیلہ سیاہ لوگ اسی اُمید پر سنکھیا بھی دے دیتے ہیں لیکن سنکھیا معدہ اور آنتوں میں شدید قسم کی خراش ہی نہیں بلکہ سوزش پیدا کرتا ہے۔ اسی لئے دودھ اور گھی میں آمیز کرکے دیا جاتا ہے۔
سنامکی ایک قابل اعتماد اور مفید دوائی ہے۔ اس میں تھوڑی سی خرابی پیٹ میں مڑوڑ ڈالنے کی ہے۔ وہ اگر تنکے چن کر اور سوئے اور شہد ملا کر استعمال کریں تو انتہائی نفع بخش ثابت ہوتی ہے۔ سوئے پیٹ سے ہوا نکالنے میں شہد آنتوں کو سکون دیتا اور مقوی ہے۔ اس طرح قبض کا باعث اگر آنتوں کی کمزوری بھی ہو تو سنا اور سوئے سے فائدہ ہوگا۔
طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:-
قبض کے مسئلہ کو تاجدار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شاندار اور سائنسی طریقہ سے حل فرمایا ہے، طب جدید آج بھی اس سے بہتر لائحہ عمل تجویز نہیں کرسکی جس پر عمل کرتے ہوئے قبض کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
حفظ ماتقدم :۔ 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوقات خوراک متعین فرما کر اور آنتوں کے Gastro. colic reflex سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ جیسا کہ نہار منہ شہد کا استعمال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی روزمرہ کی عادت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشہ دار غذاؤں پر اصرار فرمایا۔ ان چھنے آٹے کی تاکید فرمائی۔ “اپنے دسترخوان کو سبز چیزوں سے مزین کرو۔“ یہ ایک جامع ارشاد ہے جوکہ پیٹ میں اتنا بھوک پیدا کرتا ہے کہ آنتوں میں اخراج کا عمل خیرو خوبی سے وقوع پذیر ہوتا رہے۔
علاج بالغذا :-
قبض کی ابتدائی حالتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادویہ کی بجائے کھانے پینے کی چیزوں کو دوا کے طور پر استعمال فرمایا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا روایت فرماتی ہیں۔
“جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی کو لایا جاتا کہ اس کو بھوک نہیں لگتی تو ارشاد ہوتا کہ اس کو جو کا دلیہ کھلایا جائے۔ پھر فرمایا کہ خدا کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ پیغمبری عطا کی ہے۔ یہ پیٹ کو اس طرح صاف کر دیتا ہے کہ جیسے تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کر اس سے غلاظت کو اتار دیتا ہے۔
یہ ایک بڑی خوبصورت مثال ہے کہ کیونکہ جو میں باریک ریشہ کثیر مقدار میں ہوتا ہے۔ یہ پیٹ میں جاکر پھولتا ہے اور آنتوں میں بوجھ کی کیفیت پیدا کرکے اجابت کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ جو میں لحمیات کے اجزاء بھی ہوتے ہیں جو جسم کو توانائی مہیا کرتے ہیں۔ اگر کسی کو کمزوری کی وجہ سے قبض محسوس ہو رہی ہو تو جو کھانے سے اس کا مداوا بھی ہو جائے گا۔
تاجدار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انجیر کی یہاں تک تعریف فرمائی کہ اسے جنت کا میوہ قرار دیا۔ چنانچہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ “انجیر کھایا کرو۔ اگر مجھ سے کہا جائے کہ کیا کوئی پھل جنت سے زمین پر آ سکتا ہے تو میں کہوں گا کہ ہاں یہی ہے۔ یہ بلاشبہ جنت کا پھل ہے اسے کھایا کرو کہ یہ بواسیر کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے اور گھنٹیا میں مفید ہے۔“
ہم جانتے ہیں کہ بواسیر پُرانی قبض، جگر کی خرابیاں اور پیٹ کی آخری حصہ میں خون کی نالیوں میں دوران خون سست پڑ جانے سے پیدا ہوتی ہے۔ جب یہ ان کا علاج ہے تو مطلب یہ ہوا کہ انجیر قبض کو دور کرتی ہے۔ جگر کے لئے مصلح ہے اور خون کی نالیوں میں دوران خون کو دُرست کرتی ہے۔
انجیر کی ساخت میں موجود چھوٹے چھوٹے دانے پیٹ میں جا کر پھول جاتے ہیں۔ ان کا اسبغول کی مانند پھولنا بھی قبض کو دور کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالٰی عنہا سے تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم اپنے پیٹ کو چلانے کے لئے کیا استعمال کرتی ہو۔ میں نے بتایا کہ شبرم لیتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو بہت گرم ہے۔ پھر اس کے بعد میں سناء استعمال کرنے لگی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی چیز موت سے شفاء دے سکتی ہے تو وہ سناء ہے۔ (ابن ماجہ)
سناء کی مفید قسم وہ ہے جو وادی مکہ میں پیدا ہوئی ہے۔ اس کے پتے نشتر کی شکل کے اور دونوں طرف سے چکنے ہوتے ہیں۔ ان کی پھلی گول اور پھول سبزی مائل سنہرے لگتے ہیں۔ اس کا بیج مصر میں بویا گیا مگر زمین کی وہ تائید حاصل نہ ہوسکی۔ اسی طرح بھارت اور سکھر میں پیدا ہونے والی سناء فوائد کے لحاظ سے تیسرے درجہ پر ہے کیونکہ ان اجزاء عاقل کی مقدار کم ہوتی ہے۔
اطباء نے سناء کا استعمال دسویں صدی سے شروع کیا۔ البتہ بوعلی سینا اسے مفید قرار دے چکے ہیں۔ عربوں کو دیکھ کر بھارتی وید بھی اس کے مداح ہوگئے اور اب اس کے کئی متعدد نسخے مرتب ہوئے ہیں۔
بہرحال قبض کے بارے ماہرین کی تازہ ترین رائے کے مطابق اس کا علاج ادویہ کی بجائے غذا میں ریشہ دار اشیاء کے استعمال میں اضافہ (پھل اور سبزیاں) سے کیا جائے۔ آج کے تمام مشاہدات اور ایک ہزار سال کے تجربات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبض کے علاج میں جو ارشادات فرمائے ہیں، سائنس اپنی تمام تر کاوشوں کے باوجود ان کے برابر بھی نہیں آ سکی۔ ان کے اہم نکات کا خلاصہ یہ ہے۔
* کھانا وقت پر کھایا جائے۔
* رات کے کھانے کے بعد جلد نہ سویا جائے اور پیدل چلا جائے۔
* کھانے سے پہلے تربوز یا خربوزہ پیٹ کو صاف کرتا ہے۔
* ناشتہ میں جو کا دلیا آنتوں کو صاف کرتا ہے۔
* ریشے دار غذائیں کھائی جائیں جیسا کہ سبزیاں یا پھل۔
* آٹا چھان کر نہ پکایا جائے کیونکہ اس کی بھوسی قبض اور دل کا علاج ہے۔
* خشک انجیر کے 3۔ 2 دانے ہر کھانے کے بعد کھانے سے نہ صرف قبض ختم ہو جاتی ہے بلکہ یہ بواسیر کا علاج بھی ہے۔
* ان تمام کوششوں کے باوجود اگر قبض میں بہتری نہ ہو تو سب سے پہلے زیتون یا اس کا کوئی مرکب نسخہ استعمال کیجئے۔
اگر ان تمام کوششوں کے باوجود قبض دور نہ ہو یا اس کے ساتھ درد، سوزش یا بخار ہو تو ایسے میں آنتوں میں رکاوٹ یا اپینڈکس کا شبہ کیا جا سکتا ہے جس کے لئے خود علاج کرنے کی بجائے کسی مستند معالج سے رجوع کرنا چاہئیے کہ یہ بیماری خطرناک ہو سکتی ہے۔
اب کچھ نسخہ جات پیش کرتا ھوں.  پہلا نسخہ زبدۃ الحکماء شفاء الملک قبلہ استاد مکرم محترم جناب محمود احمد بھٹہ صاحب کا ھے.  
نسخہ نمبر: 1
تیزپات
پودینہ
اجوائن دیسی
سوۓ
کرفس
سونف
سنڈھ
ھر ایک 50 گرام لے لین 
اور
سوڈا بائی کارب 10 گرام لے لین
ست پودینہ
اور
ست اجوائن
ھر ایک 2 رتی
اب تمام ادویات کو 6 کلو پانی مین بھگو دین 
12 گھنٹہ بعد دو چار ابالے آنے کے بعد پن کر صاف کرکے 5 کلو چینی مین قوام کرکے 
سوڈا بائی کارب اور ست ھر دو قسم شامل کرکے
اس میں 5 گرام سوڈیم بینزویٹ شامل کر دین تاکہ خراب نہ ھو. 
دو دو چمچ صبح دوپہر شام پلا دین فوری اور تیز اثر ھو گا،  معدہ کی گیس یعنی تبخیر دل کی گھبراھٹ بوجہ گیس خفقان قلب معدہ کا درد انتڑیون کی سوزش جگر کے امراض، قبض- بغیر السر معدہ کے آپ ھر اس معدہ کے مرض مین استعمال کر سکتے ھین جو آپ کو نظر آۓ. 
زبدۃ الحکماء شفاء الملک
محترم جناب محمود احمد بھٹہ صاحب 
نسخہ نمبر: 2
مصبر
دارچینی
مرچ سیاہ
سنڈھ
مگھاں
پوست ھلیلہ زرد
سھاگہ بریاں
ھینگ بریاں
شحم حنظل
نوشادر
نمک سیاہ وسفید
قلمی شورہ    
ھر ایک 20 گرام لے کر پاؤڈرکر لیں 
اب اس پاؤڈر کو پلاسٹک کے برتن میں ڈال کر اسپر ایک پاؤ سرکہ انگوری 
اور ایک پاؤ کوار کا گودا ڈال کر مکس کر دیں  
24 گنٹھے پڑا رھنے دیں
اسکے بعد تھوڑا کھرل کر کے گولی بقدر دانہ مٹر بنا لیں 
خشک کرکے ائر ٹائٹ ڈبے میں محفوظ کرلیں
1 تا 2 گولی صبحِ وشام  ھمراہ آب نیم گرم بعد غذا۔
معدہ کے امراض گیس  قبض بد ھضمی جلن کھٹے ڈکار  منہ سےبدبو آنا تیزابیت معدہ انتڑیوں میں درد  ان امراض کی بہترین دوا ھے. 
(حکیم شاھد محمود سیفی)
نسخہ نمبر: 3
اگر معدے کا السر ھو تو :
ﮨﻠﯿﻠﮧ ﺳﯿﺎﮦ 50 ﮔﺮﺍﻡ
ﺳﺘﺎﻭﺭ      10 ﮔﺮﺍﻡ
ﻣﺼﺒﺮ         3 ﮔﺮﺍﻡ
ﮨﻠﯿﻠﮧ ﮐﻮ ﮔﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﻥ ﮐﺮ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺧﺸﮏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﯿﺲ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺩﯾﮕﺮ ﺩﻭﺍﺋﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺲ ﮐﺮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻼ ﺩﯾﮟ ﺑﺲ ﺗﯿﺎﺭ ﮬﮯ .
ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﺒﺢ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﺷﺎﻡ ﺍﯾﮏ ﺭﺗﯽ ﯾﻌﻨﯽ ﭼﭩﮑﯽ ﺑﮭﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ
ﺻﺮﻑ ﺳﺎﺕ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺴﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ. ﺗﺎﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﻥ ﺑﮭﯽ ﯾﻮﺯ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﻔﯿﺪ ﮬﮯ. 
(ڈاکٹر زمان صابر)

صاحب فوائد مکیہ حضرت قاری مقری عبدالرحمن مکی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر حاضری

"صاحب فوائد مکیہ 
حضرت قاری مقری عبدالرحمن 
مکی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر حاضری"
(بقلم: احمد ہاشمی سہارنپوری)
لکھنؤ کے اسفار تو بہت ہوچکے ہیں اور سال میں ایک دو بار جانا ہوتا ہے. پچھلے کئی سال سے ہر سفر میں یہ نیت رہتی تھی کہ اس بار ضرور بالضرور خاتمۃ القراء فی الہند حضرت قاری مقری عبدالرحمن مکی ثم آلہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر تلاش کرکے فاتحہ پڑھنے کے لئے جاؤں گا. لیکن یہ نیت آج بحمدللہ پوری ہوئی اور اللہ کا شکر ادا کیا. لکھنؤ پہنچ کر یہی فکر کھائے جارہی تھی کہ وہاں کا راستہ کس سے معلوم کیا جائے. اس لئے کہ ایک دو حضرات جن سے امید تھی کہ یہ ضرور گئے ہوں گے اور ان کو راستے کا علم ہوگا. ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی لاعلمی ظاہر کردی. پھر میں نے عزیزم محمد عفان سلمہ ولد ڈاکٹر محمد سلمان متعلم درجہ عالیہ رابعہ ندوۃ العلماء لکھنؤ (موصوف میرے مرحوم بہنوئی مولوی غفران کے بھتیجے ہوتے ہیں) سے ذکر کیا تو انہوں نے اطمینان دلایا کہ احمد چچُو آپ بیفکر ہوجائیے. ہم آپ کو لے جائیں گے. پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے معلومات حاصل کیں اور آج فجر بعد راستہ پوچھتے پاچھتے مزار شریف کے پاس پہنچ گئے. دیکھا تو ایک چہار دیواری ہے. اس میں چند پکی قبریں بنی ہوئی ہیں. ہندی زبان میں ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے جس پر قاری صاحب اور ایک کسی بزرگ حضرت سید ابراہیم شاہ کا نام لکھا ہوا ہے خیر پڑوس میں ایک دروازہ کھٹکٹایا اور معلوم کیا کہ بھائی اس گیٹ کی چابی کس کے پاس ہے؟ اندر سے ایک صاحب نکلے. انہوں نے ہمیں اس قبرستان کے ذمہ دار کے گھر تک پہنچایا. ایکدم غریب غرباء کی بستی تھی خیر جو ذمہ دار تھے ان کا نام تو معلوم نہیں کیا ہوگا لیکن سب ان کو 'ڈاکٹر بھائی' کہتے ہیں. دیکھنے سے وہ کسی بھی زاویہ سے ڈاکٹر نہیں لگ رہے تھے. وہ نکل کر آئے. سلام دعا کے بعد ان سے درخواست کی اور بتایا کہ ہم سہارنپور سے قصدا آۓ ہیں. ان کو بھی کام پر جانا تھا. بہت جلدی میں لگ رہے تھے. انہوں نے جاکر تالا کھولا پھر اطمینان سے فاتحہ پڑھی. انہوں نے وہاں  ایک تیسری قبر کے بارے میں بتلایا کہ یہ ایک خاتون کی قبر ہے جن کو 'مستانی' کہتے تھے. یہی اس قبرستان کی دیکھ ریکھ کرتی تھیں. بیس پچیس سال قبل ان کا انتقال ہوگیا. پھر میری والدہ یہاں کی دیکھ ریکھ کرنے لگیں. ان کے انتقال کے بعد سے میں دیکھتا ہوں. ہر جمعرات کو عصر سے عشاء تک یہ کھلتا ہے قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر جو پتھر لگا ہوا ہے اس پر یہ قطعہ تاریخ لکھا ہوا ہے: 'عبدالحمن مکی قاری بیمثل بود ۱۳۴۹' نیز قبر چادر پڑی ہوئی تھی جس سے اندازہ ہوا کہ کافی وقت سے بدعتیوں کے قبضہ میں ہے. میں نے صرف قبر کے فوٹو لئے تو مجھ سے ڈاکٹر بھائی بولے کہ فوٹو لینا گناہ ہے. میں نے کہا کہ میں تو صرف قبر کی تصویر لے رہا ہوں. بطوریادگار جبکہ جاندار کا فوٹو لینا گناہ ہے. بولے کہ قبر میں جو ہیں وہ بھی تو جاندار ہی ہیں وہ قبر میں زندہ ہی ہیں پھر ہم ان کا شکریہ ادا کرکے واپس ہولئے.
قاری عبدالرحمن مکی رحمۃ اللہ علیہ کون ہیں؟
فن تجوید کی مشہور معروف کتاب فوائد مکیہ کی خصوصیت و اہمیت سے کون ذی علم اور مولوی واقف نا ہوگا خاص طور پر وہ لوگ جہنوں نے تجوید بھی پڑھی ہو یہ کتاب برصغیر ہندپاک کے تمام مدارس تجوید میں تقریبا ایک صدی سے داخل نصاب ہے اور بڑے بڑے مدارس دارالعلوم دیوبند مظاہر علوم سہارنپور ندوۃ العلماء لکھنؤ مدرسہ شاہی وغیرہ میں تو تجوید کی سند فوائد مکیہ پڑھے بغیر دی بھی نہیں جاتی. علماۓ تجوید نے حضرت قاری عبدالرحمن مکی کو 'خاتمۃ القراء فی الہند' کے لقب سے نوازا ہے. آپ کی وفات چھ جمادی الاول ۱۳۴۹ ھ مطابق ۱۹۳۰ بروز پیر لکھنؤ میں ہوئی. پھر آپ کو آپ کے ایک شاگرد کی عطاکردہ ایک قطعہ زمین جو ٹولہ مجیب گنج جس کا موجودہ نام محبوب گنج ہے میں دفن کیا گیا. رحمہ اللہ رحمۃ واسعہ. آپ نے تمام تر فنی استفادہ اپنے برادر اکبر حضرت قاری عبد اللہ مکی سے مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں حاصل کیا ہے جو کہ قاری ابراہیم سعد مصری کے نامور تلامذہ میں سے تھے. قاری عبدالرحمن کا بیعت و ارشاد کا تعلق حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی سے تھا. جب آپ اپنے فن میں کامل ہوگئے تو حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب کیرانوی نے آپ کو حکم فرمایا کہ عبداللہ تو یہاں میرے پاس رہے گا اور تمہیں (عبدالرحمن) کو حکم دیتا ہوں کہ ہندستان جاؤ اور وہاں جاکر ترویج قرآن و قراءات اور لحون عربیہ کا کام کرو ۔ یہاں پر مختلف مدارس میں خدمات ان کام دینے کے بعد مدرسہ احیاء العلوم ریلوے اسٹیشن کی مسجد الہ آباد میں اصل خدمات شروع فرمائی جہاں ایک سے بڑھ کر ایک شاگرد تیار کئے. آخر میں آپ مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ چلے گئے تھے. وہیں وفات ہوئی. 
آپ کے شاگردوں کی تعداد سیکڑوں نہیں ہزاروں میں ہے. جس میں مشہور یہ ہیں قاری عبدالمالک صدرالمدرسین مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ، قاری ضیاء الدین صاحب خلاصۃ البیان، قاری محب الدین صاحب معرفۃ الوقوف و معرفۃ الرسوم، قاری عبدالوحید اولین صدر مدرس تجوید و قرأت دارالعلوم دیوبند شیخ القراء قاری حفظ الرحمن پرتابگڑھی صدر مدرس دارالعلوم دیوبند وغیرہ 
اللہ ان تمام حضرات کو بے انتہا جزاۓ خیر عطافرماۓ جنت الفردوس میں اعلی درجات سے نوازے. آمین! ( #ایس_اے_ساگر )

Saturday, 28 October 2023

تشخیص، کا طریقہ کار اور مزاج کی پہچان



✍🏻از ۔۔۔حکیم مفتی ساجد حسین اشرف قاسمی 

تشخیص، کا طریقہ کار اور مزاج کی پہچان
، بہت ہی اہم معلومات

تشخیص
طب میں سب سے زیادہ تشخیص کا انحصار مزاج پر ہے یہ اس لئے کہ تمام اعضائے بدن کی ساختوں کا اپنا اپنا ایک مزاج ہے اور وہ تمام ساختیں اپنا اپنا حصہ خون سے الگ الگ وصول کرتی ہیں اور خون تین اخلاط کا مرکب ہے اس میں جس خلط کی زیادتی ہو گی اسی کے اثرات اس کی ساخت حتیٰ کہ عضو رئیس تک نمایاں ہوں گے یہ اخلاط چونکہ تین ہیں اس لئے تین ہی طرح کے مزاج ہوں گے
1 بلغمی
2 سوداوی
3 صفراوی
بلغمی مزاج
تمام اشیاء جن کے اندر بالکیفیت بالہئیت اور بالتاثیر رطوبت ومائیت زیادہ ہو گی انہیں بلغمی اور قانون مفرد اعضاء کی اصطلاح میں اعصابی کہا جاتا ہے کیونکہ ایسی چیزوں میں زاتی طور پر رطوبت زیادہ ہوتی ہے اور یہی خون میں تاثیر زیادہ پیدا کرتی ہیں جہاں کہیں بلغمی یا اعصابی کا لفظ آئے تو وہاں بلغمی رطوبات مراد ہیں جسم میں ان کی پیدائش کا مرکز دماغ و اعصاب ہیں جب دماغ و اعصاب کا فعل تیز ہوتا ہے تو بلغم اور رطوبت زیادہ بنتی ہے اور جب بدن کو رطوبت زیادہ ملتی ہے تو دماغ و اعصاب کا فعل تیز ہو جاتا ہے
سوداوی مزاج
وہ تمام اشیاء جو بالکیفیت بالہئیت بالتاثیر خشک ہوں انہیں سوداوی یا عضلاتی کہتے ہیں کیونکہ ایسی تمام چیزیں زاتی طور پر خشک کیفیات رکھتی ہیں اور جسم میں یہی اثرات بڑھاتی ہیں جہاں کہیں سوداوی یا عضلاتی کا لفظ آئے تو وہاں پر سردی خشکی مراد ہے جسم میں ان کی پیدائش کا مرکز قلب و عضلات ہیں جب ان کا فعل تیز ہوتا ہے تو خشکی اور سردی کا غلبہ ہو جاتا ہے یا جب جسم کو زیادہ خشک سرد اشیاء دی جائیں تو قلب و عضلات کا فعل تیز ہوجاتا ہے
صفراوی مزاج
وہ تمام اشیاء جو بالکیفیت بالہئیت یا بالتاثیر گرم ہوں انہیں صفراوی قانون مفرد اعضاء کی اصطلاح میں غدی کہا جاتا ہے ایسی چیزیں گرم کیفیات کی حامل ہوتی ہیں اور یہی اثرات خون میں پیدا کرتی ہیں جہاں کہیں صفراوی یا غدی کا لفظ آئے تو وہاں جگر میں پیدا ہونے والی رطوبت صفراء مراد ہیں یہی جگر ہی اس کی پیدائش کا مرکز ہے جب جگر کا فعل تیز ہوتا ہے تو صفراء زیادہ بنتا ہے اور جب جسم کو صفراء زیادہ مقدار میں پیدا کرنے والی اشیاء دیتے ہیں تو جگر وغدد کا فعل لازمی تیز ہوتا ہے
اب ان تینوں کی الگ الگ پہچان یہ ہے
بلغمی مزاج کی پہچان
1 عموماً سفید رنگ والے بلفمی مزاج ہوتے ہیں
2 جسم کے تمام اعضاء ڈھیلے نرم اور سرد ہوتے ہیں
3 تھوک کثرت سے آتا ہے
4 پیاس کم لگتی ہے
5 نیند زیادہ آتی ہے اور پانی والے خواب آتے ہیں
6 جسم چربی والہ فربہ ہوتا ہے
7 جسم سست اور کاہلی والا ہوتا ہے
8 طبعی عمر سے پہلے بال سفید ہو جاتے ہیں
9 جسم ڈرپوک اور خوف زیادہ محسوس ہوتا ہے
10 مردوں کو جنسی ہیجان نہی رہتا
11 عورتوں کو حیض نہی آتا
12 عورتوں کو سیلان ہو جاتا ہے
13 مردوں کو جریان ہو جاتا ہے
14 ناک سے سفید مواد آتا ہے
15 پانی جیسے اسہال آتے ہیں
16 سردی زیادہ لگتی ہے اور اعضاء ٹھٹھر جاتے ہیں
17 فشار الدم ضعیف رہتا ہے
18 منہ کھلا رہتا ہے
19 گفتگو بڑے آرام سے ڈھیلی ڈھیلی کرتے ہیں
20 غصہ دلانے سے بھی جلدی غصہ نہی آتا
21 بھوک کم لگنا اور کھاری ڈکاریں آنا
22 بلغمی کھانسی یا دمہ کا ہو جانا
23 زیابیطیس حقیقی کا ہو جانا
24 سلسل البول کا عارضہ ہو جاتا ہے
25 البول فی الفراش بستر میں پیشاب ہونا
26 عورتوں کو دودھ زیادہ آنا
27 فضلات کا اخراج زیادہ ہونا اور ان کی رنگت سفید ہونا
28 جسم پر نیلے دھبے ہونا
29 منہ سے رال بہنا
30 صبح اٹھنے کو دل نا چاہنا
تشخیص 
سوداوی مزاج کی پہچان
1 عموماً گندمی اور سیاہی مائل رنگت والے سوداوی مزاج ہوتے ہیں
2 چہرے پر سیاہیاں کیل مہاسے اور سیاہ داغ نظر آتے ہیں
3 آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ہوتے ہیں
4 جلد پر سرخ دھبے دکھائی دیتے ہیں
5 جلد پر خارش خشک اور جلدی نا پکنے والے دانے پھنسیاں پھوڑے ہوتے ہیں
6 سارا جسم دبلا اور پیٹ مشک کی طرح باہر بڑھا ہوا ہوتا ہے
7 سر پر بال کثرت سے ہونا لیکن آہستہ آہستہ درمیان سے گنج ہو جانا
8 اکثر سوچ وبچار کرتے رہنا نیند کی کمی اور ڈراؤنے خواب جن میں سیاہ چیزیں دکھائی دینا
9 قبض شدید رہنا قضائے حاجت کے وقت کافی دیر لگانا یہ بواسیر ہونے کی علامت ہے یا پھر صفائی نہ ہونے کی کا وہم لاحق ہو چکا ہوتا ہے
10 انتشار کی زیادتی اور مادہ منویہ کم ہونا
11 ترش ڈکاریں آنا
12 معدے میں جلن ہونا
13 مقعد میں درد جلن اور خون آنا
14 ظاہر جلد پر موہکے مسے اور تل کے نشان ہونا
15 پیٹ سے ہوا باآواز خارج ہونا
16 ظاہر جلد پر چنبل دھدر فنگس خارش اور کنگرین کے نشان ہونا
17 احتلام کی کثرت ہونا
18 کولیسٹرول بڑھنے کا رجہان ہونا اور سانس پھولنا
19 یورک ایسڈ بڑھنے کا رجہان اور جوڑوں میں سوجن اور شدید درد ہونا
20 گنٹھیا
21 تپ دق
22 ضیق النفس یابس
23 مالیخولیا
24 جنون
25 نمونیہ
26 منہ سے خون آنا
27 لقوہ یا رعشہ ہونا
28 پڑبال
29 سبل
30 بواسیر الانف یا بواسیر الشفت
31 دبیلہ
32 جوع الکلب
33 ہیپاٹائٹس بی وسی
34 کینسر

صفراوی مزاج کی پہچان
1 عموماً پھیکے زرد چہرے صفراوی مزاج ہوتے ہیں
2 منہ کا زائقہ چرپرایا نمکین رہنا
3 پیاس زیادہ لگنا
4 جسم میں چبھن گھبراہٹ اور چنگاریاں محسوس ہونا
5 رقت وسرعت کی شکایت ہونا
6 بات چیت صاف اور تیز تیز کرنا
7 غصہ جلدی آنا
8 عورتوں کو حیض تکلیف سے آنا
9 عورتوں کو سیلان پیلے رنگ کا آنا اور جلن ہونا
10 خفقان قلب کا عارضہ ہونا
11 طبعیت کا بوجھل رہنا
12 جلد پر چھپاکی ظاہر ہونا
13 نزلہ حار کی شکائت ہونا
14 دائمی پیچش ہونا
15 صداع حار یا درد شقیقہ ہونا
16 تپ محرکہ معویہ ہونا
17 زکاوت حس ہو جانا
18 ضیق النفس کلوی ہونا
19 آماس
20 ہاتھ پاؤں اور پیشاب میں جلن
21 آشوب چشم
22 نیند کی بے چینی غنودگی اور خواب میں آگ دیکھنا
23 اجابت بے قائدہ رہنا
24 فشارالدم قوی رہنا
25 پٹھوں کی کمزوری ہونا

اہم علامات سے تشخیص
طبی اصطلاح میں علامات تکالیف کی ان کیفیات کو کہتے ہیں جو مرض کے ساتھ جسم کے مختلف مقامات پر ظاہر ہوا کرتی ہیں یہ علامات اکثر امراض کو سمجھنے ان کے فروق اور تشخیص کے لئے دلائل بنائے جاتے ہیں اور انہی کی رہنمائی میں امراض کی ماہیت ونام اور امراض اور تقسیم امراض کیے جاتے ہیں چونکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مرض اس حالت کا نام ہے جب اعضاء کے افعال میں اعتدال نہ ہو یعنی ان میں افراط وتفریط اور ضعف پایا جاتا ہے اس لئے اعضاء کے افعال کی خرابیوں کو جاننے کے لئے ان علامات کو دیکھیں گے جو ان پر دلالت کرتی ہیں
اگر ان علامات کا تعلق مفرد اعضاء سے سمجھ لیا جائے تو وہ ایک ہی مرض کی بیشتر علامات ایک نام کے تحت آجائیں گی ورنہ صرف علامات کو امراض کا نام نہی دیا جا سکتا اور یہ علامات بنیادی ہیں جو کسی عضو میں بار بار پیدا ہوتی ہیں اور کم پڑھے لوگ انہیں الگ الگ امرض سمجھ بیٹھتے ہیں وہ اہم علامات یہ ہیں
تحریک
جب کسی عضو میں غذا دوا یا زہر کے استعمال سے تحریک پیدا ہوتی ہے تو وہاں پر سکیڑ پیدا ہو جاتا ہے وہاں کی رطوبات کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور وہاں پر آہستہ آہستہ گرمی بڑھنا شروع ہوجاتی ہے یہی تحریک جب شدت اختیار کرلیتی ہے تو اس عضو میں سوزش ہو جاتی ہے لیکن تحریک سے سوزش تک اس عضو کو ان علامات سے گزرنا پڑتا ہے
1 لذت
جب متحرک عضو کے مقام پر دوران خون بڑھتا ہے تو ابتدائی صورت میں لذت پیدا ہوتی ہے جیسے گدگدی کرنے سے لذت پیدا ہوتی ہے یہ لذت اور لطف کی اصل حقیقت ہے
2 بے چینی
جب لذت میں شہوت پیدا ہوجائے تو وہاں پر لطف کی بجائے بے چینی بڑھ جاتی ہے
3 حبس
اس حالت کو کہتے ہیں جہاں رطوبات کی پیدائش بند ہو حائے اور خشکی بڑھنا شروع ہو جائے
4 قبض
قبض اس حالت کو کہتے ہیں جہاں پر رطوبات کا اخراج رک جائے
5 خارش
جب بے چینی کے بعد حبس وقبض پیدا ہوجائے تو وہاں خارش شروع ہو جاتی ہے
6 جوش خون
خارش میں جب شدت پیدا ہوجائے تو وہاں پر جوش خون پیدا ہوتا ہے
تو اس کے دباؤ سے عضو کی وسعت میں درد پیدا ہوجاتا ہے
8 سوزش
جب یہ تمام علامات وارد ہو جائیں تب سوزش ہوتی ہے سوزش کے معنی جلن کے ہیں کیونکہ سوزش کی حالت میں اس مقام پر خون شدت سے آنا شروع ہو جاتا ہے اور جلن ہونے لگتی ہے اور کیفیاتی نفسیاتی اور مادی تحریکات سے جسم کے کسی بھی مفرد عضو میں پیدا ہو جاتی ہے ہر قسم کی سوزش میں جلن حرارت سرخی رطوبات کا ترشح اور تغیر افعال لازمی پائے جاتے ہیں جب کس زندہ ساخت پر کوئی مہیج(خراش کنندہ) اثر انداز ہو تو اس کے خلاف جسم کی ایک منظم مدافعانہ تدبیر کے نتیجے میں جو علامت ظاہر ہوتی ہے اس کو سوزش کہا جاتا ہے قوت مدبرہ کی یہ تدبیر اس لئے ہوتی ہے کہ اس مہیج کے مضر اثرات کو مقامی طور پر ہی ختم کیا جائے اور اسے پورے بدن میں پھیلنے سے روکا جائے سوزش کی شدت اس مہیج کی قوت مضرت کے مطابق ہوتی ہے کوئی زہریلا سوزشی مادہ جتنا زیادہ تیز اثر ہو گا اتنی ہی شدید سوزش ظاہر ہوتی ہے سوزش کے نتیجے میں درجہ بدرجہ پانچ علامات پائی جاتی ہیں
1 جلن
جلن تکلیف کے اس احساس کا نام ہے جو سوزش مادہ کے اثر سے کسی عضو میں پیدا ہوتا ہے
2 حرارت
جب کسی مقامات پر سوزشی مادہ اثر انداز ہوتا ہے تو اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے خون تیزی سے وہاں جمع ہوتا جاتا ہے خون کی تیزی اور اجتماع سے عضو میں گرمی پیدا ہوتی ہے اور وہ چھونے سے گرم محسوس ہوتا ہے
3 سرخی مقام سوزش پر چونکہ خون جمع ہوتا ہے جو سرخ رنگ کا ہے اس لئے اس مقام کا سرخ ہو جانا لازمی امر ہے
4 رطوبات کا ترشح
جب کس جسم یا مجرٰی میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے تو اس کو رفع کرنے کے لئے ردعمل کے طور پر وہاں پر ترشح رطوبات ہوتا ہے سوزش سے حفاظت کے لئے یہ بھی قوت مدبرہ البدن کی ایک تدبیر ہے ہر عضو کی سوزش میں جو رطوبات اخراج پاتی ہیں ان کی کیمیاوی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں اعصاب کی سوزش میں جو رطوبات اخراج پاتی ہے اس میں ہر غدد کا اپنا کیمیاوی تغیر شامل ہوتا ہے اسی طرح جو سوزش کسی عضو میں ہوتی ہے اس کی رطوبات میں لحمی اجزاء اور تیزابی مادے زیادہ ہوتے ہیں
5 تغیر افعال
اس کی بھی تین صورتیں ہیں
 تحریکA
جب جسم کے کسی عضو میں سوزش پیدا ہوتی ہے تو اس کے عضوی وکیمیائی افعال میں تغیر پیدا ہوجاتا ہے وہ تغیر اس طرح ہوتا ہے کہ مقام سوزش پر پہلے انقباض اور خشکی پیدا ہوتی ہے حرارت کی کمی اور برودت کی زیادتی ہو جاتی ہے اس طرح آکسیجن کی کمی اور کاربن کی زیادتی ہو جاتی ہے رطوبات کی کمی بلکہ بندش ہو جاتی ہے جس سے تناؤ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اس کو تحریک کہا جاتا ہے
  تسکینB
جب کسی عضو میں سوزش پیدا ہوتی ہے تو اس میں بندش رطوبت جاتی ہے لیکن اس سوزش کو رفع کرنے کے لئے ردعمل کے طور پر خون سے رطوبات کا ترشح زیادہ ہو جاتا ہے جس کو تحریک والا عضو اپنی انقباض کی وجہ سے قبول نہی کرتا تو وہ دوران خون کے مطابق اس سے بعد والے عضو میں جمع ہو جاتی ہیں وہاں پر حالت تسکین پیدا ہوجاتی ہے عضو میں اس رطوبت کے اجتماع سے کیمیاوی تبدیلی واقع ہوجاتی ہے اور وہ عضو فعلاً سست ہوجاتا ہے یہی تسکین بڑھ کر تخدیر بن جاتی ہے کثرت رطوبات سے وہ عضو پھول جاتا ہے
 تحلیلC
جب کسی عضو میں تحریک پیدا ہو جاتی ہے تو وہاں پر سردی کی کثرت ہو جاتی ہے اور عضو سکڑ جاتا ہے اور اس میں خون کا اجتماع ہوجاتا ہے اس کے نتیجے میں وہ عضو جہاں سے خون تیزی سے گذر کر متاثرہ عضو میں جمع ہو رہا ہوتا ہے گرم ہو جاتا ہے اور خون کے طبعی بہاؤ کے مطابق اپنی گرم رطوبت اسی خون کے زریعے اس عضو میں بھیجتا رہتا ہے تاکہ متاثرہ
مقام کی سردی کو گرمی پہنچا کر ختم کیا جا سکے اور وہاں پر موجود انقباض اور سکیڑ کو حرارت سے پھیلایا جاسکے اور دوران خون چلایا جاسکے لہٰذا اس سے پہلے والے عضو میں تحلیل ہو جاتی ہے

نوٹ
پہلے بلغمی سوداوی اور صفراوی یہ تینوں حالتیں مفرد زکر کی گئی ہیں اب انہیں مرکب کر کے بیان کیا جا رہا ہے کیونکہ مفرد حالتیں صرف سمجھنے کے لئے تحریر کی گئی ہیں اس لئے مزاج کی بھی چھ اقسام بنتی ہیں وہ یہ ہیں
1 اعصابی عضلاتی تر سرد
2 عضلاتی اعصابی خشک سرد
3 عضلاتی غدی خشک گرم
4 غدی عضلاتی گرم خشک
5 غدی اعصابی گرم تر
6 اعصابی غدی تر گرم ان اصطلاحات میں ہر پہلا لفط فاعل کیفیت ظاہر کرتا ہے اور دوسرا مفعول جبسے اعصابی عضلاتی میں تری زیادہ ہے اور سردی کم انسانی افعال واعمال کا دارومدار اسی کیفیت فاعلہ پر ہے جو اس کے جسم میں غالب ہو گی اسی کی صفات ظاہر ہوں گی۔
اللہ عزوجل ہم سب کو آباد رکھے دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ 
6ے6دعاؤں کا طالب
حکیم مفتی ساجد حسین اشرف قاسمی میرٹھ

خلاصے کے طور پر احباب کی آسانی کیلئے آیک آسان اصول ذہن نشیں کرلیں 
جو مزاج پہچاننے کا سب سے آسان طریقہ ھے
 اگر زبان کا ذائقہ پھیکا ھے تو اعصابی یعنی بلغمی۔سرد مزاج ھے
اگر ترش ھے تو عضلاتی یعنی خشک  مزاج ھے
اگر کڑوا ھے تو غدی یعنی گرم  مزاج ھے۔
نوٹ۔۔یاد رہے موسم۔ وغیرہ  کے اعتبار سے مزاج میں تبدیلی واقع ہوتی رہتی ھے
دعاؤں میں یاد رکھیں 
حکیم مفتی ساجد حسین اشرف قاسمی میرٹھ 
رابطہ نمبر 9259403698

Wednesday, 18 October 2023

خیالوں میں کسی کے اس طرح آیا نہیں کرتے

خیالوں میں کسی کے اس طرح آیا نہیں کرتے
کسی کو بیوفا آ آکے تڑپایا نہیں کرتے
دلوں کو روند کر دل اپنا بہلایا نہیں کرتے
جو ٹھکرائے گئے ہوں ان کو ٹھکرایا نہیں کرتے
ہنسی پھولوں کی دو دن چاندنی بھی چار دن کی ہے
ملی ہو چاند سی صورت تو اترایا نہیں کرتے 
جنھیں مٹنا ہو وہ مٹنے سے ڈر جایا نہیں کرتے
محبت کرنے والے غم سے گھبرایا نہیں کرتے 
محبت کا سبق سیکھو یہ جاکر جلنے والوں سے
کہ دل کی بات بھی لب تک کبھی لایا نہیں کرتے
(ساحر لدھیانوی) ( #ایس_اے_ساگر )
http://saagartimes.blogspot.com/2023/10/blog-post.html?m=1