Thursday, 27 June 2019

دنیا سے محبت اور موت سے نفرت

دنیا سے محبت اور موت سے نفرت

"عن ثوبان قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوشك الأمم أن تداعى عليكم كما تداعى الأكلة إلى قصعتها فقال قائل ومن قلة نحن يومئذ قال بل أنتم يومئذ كثير ولكنكم غثاء كغثاء السيل ولينزعن الله من صدور عدوكم المهابة منكم وليقذفن الله في قلوبكم الوهن فقال قائل يا رسول الله وما الوهن قال حب الدنيا وكراهية الموت"
حدیث کا ترجمہ مطلوب ہے

الجواب وباللہ التوفیق:
حضرت ثوبان رضی اللہ تعلٰی عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عنقریب (کافر) امتیں تمہارے اوپر چڑھ دوڑنے کے لئے ایک دوسرے کو اس طرح بلائیں گی جس طرح کھانے والے ایک دوسرے کو دستر خوان کی طرف بلاتے ہیں۔" ایک آدمی نے عرض کیا: "شائید اس وقت ہم تعداد میں کم ہونگے؟ ﴿آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا﴾ نہیں! بلکہ تم کثرت میں ہوگے لیکن تمہاری حیثیت پانی کے اوپر بہنے والی جھاگ کی مانند ہوگی اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے دلوں سے تمہارا رعب ختم کردیں گے اور تمہارے دلوں میں وھن پیدا فرمادیں گے ﴿ایک آدمی نے عرض کیا﴾ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھن کا کیا مطلب ہے؟ ﴿آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا﴾ دنیا کی محبت اور موت سے نفرت"۔ (رواہ ابوداود)


Tuesday, 25 June 2019

دودھ اور ہلدی پیجئے ۔۔۔۔ اور بیشمار فائدے کیجئے حاصل

دودھ اور ہلدی پیجئے ۔۔۔۔ اور بیشمار فائدے کیجئے حاصل
ایس اے ساگر
دودھ اور ہلدی اپنی اپنی جگہ بے شمار طبی فوائد کی حامل اشیاء ہیں تاہم اب ماہرین نے انہیں ملاکر پینے کے ایسے حیران کن فوائد بتائے ہیں کہ ہر کوئی اس آمیزے کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنانے پر مستعد ہے.
ماہرین نے ان کا پہلا فائدہ یہ بتایا ہے کہ ”دودھ اور ہلدی کا آمیزہ اینٹی بیکٹیرئیل ہوتا ہے، جو بیکٹیرئیل انفیکشنز اور وائرل انفیکشنز سے نجات دلاتا ہے۔
یہ دمہ اور خوراک کی نالی کی سوزش سے بھی محفوظ رکھتا ہے اور جسم کو اتنی حدت پہنچاتا ہے کہ آدمی پھیپھڑوں کے انجماد کا بھی شکار نہیں ہوتا۔
دودھ اور ہلدی کا آمیزہ ایک قدرتی ’اسپرین‘ ہے جو سر درد، سوجن اور باقی جسم کی تکالیف کا بہترین علاج ہے۔
یہ جوڑوں کی سوزش اور ان کے دائمی درد سے بھی نجات دلاتا ہے۔ یہ آمیزہ خون صاف کرنے کا کام کرتا ہے اور نظام دوران خون کو بہتر بنا کر انسان کو دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔
یہ ہڈیوں کو سخت ہونے اور شکست و ریخت سے بچاتا ہے۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔
یہ نظام انہضام کی خرابیوں کو دور کرتا ہے۔ ہلدی میں پایا جانے والا ’لیپوپولیسیکارائیڈ‘ نامی عنصر اینٹی بیکٹیرئیل، اینٹی وائرل اور اینٹی فنگل خصوصیات کا حامل ہوتا ہے جو ہماری قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ آمیزہ ڈپریشن کا بھی علاج ہے۔
ہلدی اور دودھ مل کر قدرتی طور پر اینٹی بائیٹک بن جاتا ہے. اس کی وجہ سے مختلف بیماریوں اور انفیکشن سے تحفظ نصیب ہوجاتا ہے۔ ہلدی والا دودھ انسداد وائرل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ سردی اور کھانسی کیلئے بہترین دوا ہے۔ دودھ میں ہلدی ملاکر پینا ایک ایسا قدیم نسخہ ہے کہ جو چوٹ لگنے پر فوری آرام دیتا ہے۔ دودھ میں ہلدی ملاکر پینے سے کوئی بھی زخم جلدی بھر سکتا ہے، زیادہ تر لوگ کسی چوٹ لگنے، آپریشن یا بیماری کے بعد جلد بہتر ہونے کے لئے دودھ اور ہلدی کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ ہلدی ملا دودھ اینٹی آکسیڈنٹ کا بہترین ذریعہ ہونے کی وجہ سے مختلف درد اور تکالیف میں راحت بخشتا ہے۔ علاوہ ازیں ہلدی والا دودھ آرتھرائٹس اور سوجن کے علاج میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ ہلدی ملا دودھ قدرتی طور پر جگر سے زہر کی صفائی کرتا ہے اور خون صاف کرتا ہے جس سے جگر کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے۔ ہلدی ملا دودھ ہاضمے کیلئے بہترین ہے اور السر، ڈائیریا اور بد ہضمی سے بچاتا ہے۔ طاقت ور اینٹی سیپٹک ہونے کی وجہ سے یہ آنتوں کی صحت بہتر کرتا ہے۔ رات کو سونے سے قبل ہلدی ملا دودھ پینے سے نیند بہت بہتر آتی ہے۔ ہلدی ملا دودھ پینے سے جسم کو کافی مقدار میں کیلشیم ملتا ہے جس سے ہڈیاں صحت مند اور مضبوط ہوتی ہیں۔ نیز ہلدی ملا دودھ پینے سے ہڈیوں کی تکلیف سے بھی نجات مل جاتی ہے۔

قربانی کی کھال خیرات نہ کرکے مٹی میں دفن کرنے کا حکم

قربانی کی کھال خیرات نہ کرکے مٹی میں دفن کرنے کا حکم 

"ایک بہت ہی عمدہ اور فائدہ مند مشورہ" عنوان کے تحت زید کا کہنا ہے کہ: " ایک مہینے کے  بعد عیدالاضحیٰ (بقرعید) آرہی ہے. ہم نے قربانی کے لئے جو جانور لے رکھے ہیں. یا ابھی لینگے. اس جانور کے چمڑے کی قیمت  پہلے بازاروں میں زیادہ سے زیادہ قیمتوں میں فروخت ہوتا تھا ... اور اب اس کی قیمت گھٹ کرکے  50 سے 40  بلکہ کہیں کہیں تو 30 روپے رہ گئی ہے. پہلے بازاروں سے اچھی قیمتیں دستیاب ہوتی تھیں جس سے مدرسوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا تھا. اور اب قیمت کم ہوجانے کی وجہ سے مدرسوں اور غریبوں کا نقصان ہوتا ہے. لہذا میرا یہ مشورہ ہے کہ ہم مدارس کو یا غریبوں کو چمڑے نہیں دیں گے. بلکہ چھوٹے جانوروں کے چمڑے کے عوض (بدلے) میں مدرسے کو 200 روپے دیں. اور جن جانوروں کے اندر سات (7) حصہ ہوتا ہے ہر حصہ کے عوض (بدلے) میں 100 روپے گویا کہ 700 روپے مدرسوں میں دیں۔ اور چمڑے کو دفن کردیں۔ تو اس صورت میں یہ ہوگا کہ جب چمڑا بازاروں میں نہیں پہنچے گا۔ تو ممکن ہے کہ اس کی ڈیمانڈ (مانگ) بڑھ جائے۔ (انشاء ﷲ العزیز)  اور آپ کے مدرسوں کو چمڑے کے عوض پیسہ دینے کی صورت میں مدد مل جائے گی۔ اور مدرسوں کی آمدنی میں اضافہ ضرور ہوگا یا غریبوں اور ضرورت مندوں کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ براہ کرم اس تحریر کو اپنے دوستوں اور احباب کو بقرعید سے قبل ضرور بھیجنے کی کوشش کریں۔" بکر کا سوال یہ ہے کہ:
1. کیا چمڑے کو قیمت کم ہونے کی وجہ سے دفن کرنے کی شرعا اجازت ہے؟ نیز 
2. چرم کون دفن کرے گا؟ کیا آپ ان لوگوں سے دفن کرنے کی امید کرتے ہیں جو چرم اٹھانے والے مدارس کے طلباء کو چرم اٹھاکر سائیکل پر رکھ دینے تک کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ کیا وہ مدارس کے حق میں یہ قربانی دیں گے؟ ہزاروں لاکھوں چرم دفن کرنے کے لیے زمین بھی تو چاہئے۔ کہاں مہیا ہوگی یہ زمین؟ بڑے شہروں میں کیا یہ ممکن ہے؟ پھر کیا گارنٹی ہے کہ کوئی اسے وہاں سے نہیں نکالے گا؟ آپ سے رہنمائی کی درخواست ہے. اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے.
ایس اے ساگر 
الجواب وباللہ التوفیق: 
 یہ مشورہ قابل قبول نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ قربانی کا مقصد رضائے الہی ھے ۔۔۔۔ وہ خون بہانا ہے اور وہ حاصل ہورہا ھے۔۔۔۔ 
 ------------------------------ 
 دفن کرنے کی شرعی اجازت میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ عام حالت میں بھی چمڑے کو دفن کرسکتے ہیں..... اس کی ممانعت کہیں نہیں رہی بات یہ کہ عام مسلمان دفن کرنے وغیرہ جیسے عجیب وغریب قسم کی بقول عوام فضولیات کو کرینگے نہیں یقینا کیونکہ ان کے لئے ایک غیر ضروری اور زائد شئے ہے .... عموما مدارس وغیرہ میں بھی اتنا دل کھول کے اسی لئے دے دیتے ہیں کہ اس کا کوئی معقول مصرف انکے سامنے نہیں بلکہ ایک گندگی ہے جسے جلد از جلد دفع کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے .... خدانخواستہ اگر مدارس والوں نے نہ لیا تو یہ قوم غیروں کو یوں ہی بے قیمت دیدیگی کیونکہ گندگی کون گھر میں رکھیگا..... 
لہذا ایسے مشورے فضول ہے جب قوم اس کو کام کی چیز ہی نہیں سمجھتی تو خاک ایسے مشوروں کو اہمیت دیگی..... 
مسلمانوں کی ہمدردی رکھنے والے احباب ایک فرم قائم کرے جو چمڑوں کو صاف کرنے اور محفوظ کرنے کا کام کرتی ہو اور مدارس والوں اور دیگر ادارے والوں سے وہ چمڑے ہر سال والی معمولی قیمت پر ہی خرید لے اور مسلم مدارس اور ادارے اسی فرم کو اپنا چمڑا دے دے اور اچھی طرح محفوظ کر کے کچھ عرصہ رکھے رہیں..... سیدھی بات ہے جب مارکٹ میں لالچی قسم کے  بیوپاریوں کو کچرے کے داموں چمڑا نہیں ملیگا تو وہ انکی طرف یقینا رجوع کرینگے اس وقت وہ اچھی قیمت میں انکو فروخت کرے..... 
اگلے سال یہ ادارے مدارس و دیگر ملی تنظیموں کو پہلے کے مقابلے اچھی قیمت ادا کرے اس طرح کہ اپنا حق المحنت بھی کسی قدر بچالے
انشاء اللہ خود ہی چمڑوں کی قیمت درست ہوجائیگی 
اور اس ذریعے سے بہت سے مسلمان بے روزگاروں کے لئے ذریعہ روزگار بھی نکل آئیگا 
لہذا اگر اس نیت سے کام کیا جاۓ تو گناہ نہیں بلکہ ثواب ملیگا 
واللہ اعلم بالصواب
طالب علم
--------------------------------------------
السوال:۔ قربانی کے چمڑے نہ بیچ کر اور خیرات نہ کرکے اس کو مٹی میں دفن کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: 
قربانی میں تو نقص نہ آئے گا مگر اضاعتِ مال کا گناہ ہوگا۔ 
واللہ اعلم 
حررہ ظفراحمد عفا اللہ عنہ 
مقیم خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون 
۲۹؍صفر ۱۹۴۳؁ھ
(امداد الاحکام ج 4/ 225)
-------------------------------------
جب خیرات کرنے سے مسلمانوں کا فائدے کی بجائے نقصان ہونے لگے تو وقتی طور پر دفن کرکے ظالم تاجروں کو سبق سکھانا تاکہ آئندہ مناسب قیمت لگاۓ اس میں مستحق مسلمانوں کی خیر مضمر ہے ..... یہاں اضاعت مال قطعا نہیں ہے بلکہ مال کی مناسب قیمت پیدا کرنے کی حکمت ہے-
واللہ اعلم بالصواب
طالب علم
--------------------------------
جمع و ترتیب: ایس اے ساگر




رہنمائے تدریس وتحقیق

رہنمائے تدریس وتحقیق

          عصر حاضر میں مختلف علمی موضوعات پر تحقیقات اور تعلیمی اداروں میں تدریس وتعلیم کے اصول وضوابط ایک مستقل فن کی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور ”اصول الدارسة والتحقیق“ کے نام سے اس موضوع پر عربی اور انگلش میں بہت کچھ جب کہ اردو میں بہت کم اس موضوع پر لکھا گیا ہے۔ تدریس وتحقیق میں ان اصول وضوابط کی رعایت رکھنا نہ صرف مفید ہے؛ بلکہ تعلیمی وتحقیقی معیار کو بہتربنانے اور کوئی بھی عملی کام مستند،قابل اعتماد اور اقوام عالم سے منوانے کے لئے ان کی رعایت رکھنا ناگزیر ہے۔ اس فن نے مستقل حیثیت کب اختیار کی؟ اس بارے میں حتمی طور سے کچھ نہیں کہا جاسکتا؛ البتہ ہمارے برصغیر میں اس فن کو مستقل حیثیت سے مدون ومرتب کرنے کا اعزاز مسند الہند حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ کو حاصل ہے۔ جس طرح شاہ صاحب کو ”فن حکمت شرعیہ“ کے ضبط وتدوین کا شرف امتیاز حاصل ہے اور اس فن میں ”حجة اللہ البالغہ“ جیسی شاہکار کتاب تصنیف فرمائی ہے۔ اسی طرح فن ”اصول الدراسة والتحقیق“ کو باقاعدہ مرتب کرنے کا اعزازو شرف امتیاز بھی شاہ صاحب کو حاصل ہے۔
          اس موضوع پر ”فن دانشمندی“ کے نام سے فارسی میں ایک مختصر مگر انتہائی مفید وجامع رسالہ تصنیف کیا ہے۔ یہ رسالہ پانچ صفحات پر مشتمل ہے اور ولی اللہی علوم وافکار کے نامور محقق حضرت صوفی عبدالحمید سواتی نوّر اللہ مرقدہ نے حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلوی کی کتاب ”تکمیل الاذہان“ کے ساتھ آخر میں طبع کروایا ہے۔ اس طرح ہمارے علم کے مطابق اس”فن“ کو سب سے پہلے حضرت شاہ صاحب نے مدون کیا؛ بلکہ خود حضرت شاہ کی ابتدائی عبارت جو آگے آرہی ہے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ پہلے یہ فن دیگر فنون کے ساتھ خلط ہوچکا تھا اور خود شاہ صاحب کے دل میں یہ ارادہ ہوا کہ اسے باقاعدہ علیحدہ سے مدون کیا جائے۔ یہ مختصر رسالہ انتہائی مفید اور علم وحکمت کا خزینہ ہے۔
          ذیل میں اپنے طالب علم بھائیوں کے لئے اس کا آسان اردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔ اگرچہ بعض مقامات ترجمہ سے کماحقہ حل نہیں ہوئے؛ بلکہ ان کی توضیح وتشریح ضروری ہے مگر اہل علم اور ذی استعداد حضرات پھر بھی اس سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس لئے فی الحال محض ترجمہ ہی پیش کیا جارہا ہے؛ کیونکہ یہ ضرب المثل تو آپ نے سنی ہوگی:
          مالا یدرک کلہ لایترک کلہ
آغاز ترجمہٴ رسالہ ”فنِ دانشمندی“ (فارسی) از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
          الحمدُ للّٰہِ مُلہمِ الحِکَمِ، ومُجْزِلِ النِّعَمِ، والصلوٰةُ والسلامُ علی أفْضَلِ مَنْ اُوتِیَ الکتابَ وأفضلَ الخطابِ وعلی آلہ وأصحابِہ الذین بَلَّغُوا شَرَائِعَ الدِّینِ وَبَیَّنُوا لَنَا مَا یَحْصُلُ الیَقِیْنَ.
          امابعد: فقیر ولی اللہ بن عبدالرحیم عرض گذار ہے کہ: بندہ نے ”فن دانشمندی“ اپنے والد سے حاصل کیا ہے اور اُن کا سلسلہ سند اس طرح ہے:
          شاہ عبدالرحیم ازمیر محمد زاہد بن قاضی اسلم ہروی از ملا محمد فاضل از ملا یوسف قراباغی از میرزا جان از ملا محمود شیرازی از ملا جلال الدین دوانی از والد خود ملا اسعد بن عبدالرحیم از ملا مظہر الدین گازرونی از ملا سعدالدین تفتازانی از قاضی عضد ازملا زین الدین از قاضی بیضاوی اور قاضی بیضاوی کی سند شیخ ابوالحسن اشعری تک کتب تاریخ میں مشہور ومعروف ہے۔
          بندہ نے فن دانشمندی، علم کلام اور علم اصول تینوں فنون باہم ملے جلے اِسی سند سے حاصل کئے ہیں۔ اس سند کے تمام رجال صاحب تصنیف وتحقیق اور درس وتدریس میں مشغول رہے ہیں۔ صرف میرے والد محترم ایسے ہیں جو روحانی اَشغال میں انہماک کی وجہ سے درس وتصنیف کا شُغل اختیار نہ کرسکے۔ میرے دل میں یہ بات آئی کہ ”فن دانشمندی“ کو اصول وقواعد کے ساتھ ضبط کیا جائے اور اہل زمانہ کی خدمت میں پیش کردیا جائے۔
          تعریف: اگر آپ پوچھیں کہ ”فن دانشمندی“ سے کیا مراد ہے؟
          جواب: میرا جواب یہ ہے کہ اس کا مطلب ”کتاب فہمی“ ہے۔
          اور کتاب فہمی کے تین درجے ہیں:
          اوّل: کتاب کا بغورمطالعہ کرے اور اُس کے مطالب ومقاصد کو اچھی طرح دریافت کرلے۔
          دوم: کتاب پڑھائے اور اس کی حقیقت شاگردوں کو سمجھائے۔
          سوم: اُس کتاب کی شرح یا اُس پر حاشیہ تحریر کرے اور تفصیل سے کتاب کے مطالب ومعانی کی تشریح وتوضیح پیش کرے۔
          فائدہ: اگر آپ یہ سوال کریں کہ اس فن کو ضبط کرنے، یاد کرنے اور اِس کی تحقیق میں کیا فائدہ ہے؟
          جواب: میں کہتا ہوں اس میں دو فائدے ہیں:
          اوّل: کتاب کا مطالعہ کرنے کا طریقہ معلوم ہوگا اور (ان رہنمااصولوں کی روشنی میں کیا جانے والا) مطالعہ اکثر اوقات درست ہوگا۔ اِس کی تفصیل یوں ہے کہ جب طالبِ علم فن صرف، نحو اور علم لغت کی طرح اس فن دانشمندی کی رہنمائی میں کسی کتاب کا اولاً مطالعہ کرے گا، اُس کتاب کی شرح اپنے سامنے رکھے گا، نیزاُس کا مُشفق استاذ اپنے طریق تدریس سے ان قواعدوضوابط کو اچھی طرح ذہن نشین کروادے گا، اِس کے بعد ہر مقام میں کلام شارح کے علمی نکتہ پر مطلع ہوگا تو ان اسباب وقرائن سے فہمِ کتاب کا سلیقہ پیدا ہوجائے گا؛ کیونکہ کُلیات پر عبور حاصل کرنے کے بعد جزئیات کا احاطہ کرنا اور دیگر جزئیات کا سُراغ لگانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔
          مثلاً ”فن عَروض“ اُس شخص کے لئے جو شعراء کے دواوین کی معرفت اور ان سے لگاؤ رکھتا ہو اور خود شعر کہتا ہو۔
          دوم: جو بزرگ ”فن دانشمندی“ میں مستندومعتمد شمار ہوتے ہیں، جیسا کہ اسی سند میں بہت سے علماء مذکور ہیں، انہوں نے فن دانشمندی اور علم کلام وعلم اصول کو باہم خلط کردیا ہے، جس سے ایک طالب علم کو ان علوم کے باہمی امتیاز میں مشکل پیش آتی ہے اور وہ ان تینوں علوم کی ہیئت اجتماعیہ ہی کو علم واحد شمار کرتا ہے، جیسا کہ اس زمانے کے اکثر خام طبع لوگوں کا حال ہے (اس عدم امتیاز کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ) انتشار اطراف کی وجہ سے علم کا اچھی طرح احاطہ نہیں کرسکتا اور اس نکتے (کہ فن داشمندی، علم کلام واصول سے الگ شیٴ ہے) کی طرف ذہن منتقل نہ ہونے کی وجہ سے فن دانشمندی بھی اچھی طرح حاصل نہیں کرسکتا۔
          تتمہ: فنون دانشمندی، علم سے جدا اور ممتاز چیز ہیں۔ جب وہ اس قاعدہ کو یاد کرے گا تو اس کے ذہن میں فنون دانشمندی سے ایک جامع، محدود ومتمیز امر پیدا ہوگا اور ہر مقام میں ادنیٰ توجہ سے بھی مسائلِ علم کا جدا جدا اِدراک کرلے گا اور ہر جانب سے اُن کا احاطہ کرلے گا۔
          وَمَا أرِیْدُ الاَّ الاصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیْقِیْ الاَّ بِاللّٰہ․
          جاننا چاہئے کہ جو استاذ درایت وتحقیق سے اپنے شاگردوں کو کوئی کتاب پڑھانا چاہے اُسے پندرہ باتوں کا لحاظ کرنا چاہئے۔ اِسی طرح کسی کتاب کی شرح تحریر کرتے ہوئے بھی ان امور کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔
          ۱- : ضبطِ مُشکل، یعنی عبارت میں کوئی اسم و فعل محل اِشتباہ ہو تو اس کی حرکات (مثل زیر، زبر، پیش) اور سکنات بیان کرے۔
          تتمہ: اسی طرح الفاظ کا منقوط وغیرمنقوط ہونا بیان کرے؛ تاکہ غلط کتابت وتلفظ سے محفوظ رہے۔
          ۲-: شرحِ غریب، یعنی اگر کوئی کم استعمال ہونے والا لفظ ہو اور شاگرد اُس کا معنی نہ سمجھتے ہوں تو لغت واصطلاح کے اعتبار سے اُس لفظ کی وضاحت کردے۔
          ۳-: کشفِ مغلق، یعنی اگر عبارت میں کوئی مشکل ترکیب یا مشکل صیغہ ہو جو شاگردوں کے ذہن پر بار ہو تو ایسی ترکیب اور صیغے کو علم نحو وصرف کے مطابق حل کردے۔
          ۴-: تصویرِ مسئلہ، یعنی اگر عبارت میں کسی قاعدہ کلیہ کا بیان ہو جو شاگردوں کے ذہن نشین نہ ہورہا ہو تو اُس کو واضح عبارت سے بیان کرے اور مثالوں سے سمجھائے؛ تاکہ شاگردوں کے ذہن نشین ہوجائے۔
          ۵-: تقریبِ دلائل، یعنی اگر صاحب کتاب نے کسی مسئلہ پر کوئی دلیل قائم کی ہے تو اُس دلیل کے مقدمات مخفیہ کو اس طرح بیان کرے کہ بعض مقدمات کو بعض سے ملانے پر یا بعض مقدمات کے بعض دیگر مقدمات میں مندرج ہونے سے مدعا ثابت ہوجائے۔ اس کے بعد مقدمات بدیہیہ کی طرف رجوع کرے؛ تاکہ کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے۔
          ۶-: تحقیق تعریفات بہ بیان فوائد قیود (یعنی اصطلاحات کی تعریف میں تحقیق سے کام لے اور تعریف میں موجود قیودات کے فوائدبیان کرے)
          تتمہ: حدِّ جامع مانع اور غیر مستدرک کی تفصیلی تقسیم اور طریق انتزاع بھی اسی (تحقیق تعریفات) کے قبیل سے ہے۔
          ۷-: فوائدِ قیود کے ساتھ قواعد کلیہ بیان کرے اور تقسیم ومثال کی تفصیل اور اس میں سے قاعدے کی وجہ انتزاع اس طرح بیان کرے جو غیر مستدرک اور جامع ومانع ہو۔
          ۸-: تقسیمات میں وجہ حصر کی وضاحت کرے خوہ وہ حصراستقرائی ہو یا عقلی اور یہ وضاحت ایسی طرح ہوکہ حصر بالکل واضح ہوجائے۔ اسی طرح فصول وقواعد میں تقدیم وتاخیر کی وجہ بیان کرے۔
          ۹-: تفریق ملتبسین یعنی جو دو اَقسام بادیٴ النظر میں ایک دوسرے سے ملتبس ہورہی ہوں، یا جو دو مذہب بادیٴ النظر میں مشتبہ ہورہے ہوں، اُن کے درمیان فرق کی روشن تقریر کرے (تاکہ دونوں کا باہمی التباس واشتباہ دور ہوجائے)
          ۱۰-: تطبیق مختلفین، یعنی اگر کسی مصنف کی عبارات میں دو جگہ اختلاف ہوجائے، اس اختلاف کو دور کرے؛ خواہ دونوں عبارات کا اختلاف دلالت مطابقی کی صورت ہو یا ایک میں دلالت مطابقی ہو اور دوسری جگہ دلالت تضمنی یا التزامی ہو۔
          ۱۱-: دفع اشتبہات ظاہر الورود یعنی ظاہری طور پر وارد ہونے والے شبہات کو دور کرنا مثلاً تعریفات میں جو چیزیں ممنوع ہیں (ان میں سے کوئی چیز موجود معلوم ہورہی ہو تو اس شبہ کو دور کرنا کہ یہ ممنوع چیز جو بظاہر موجود نظر آرہی ہے حقیقت میں ایسا نہیں) جیسا کہ استدراک، تعریف الشی بالأ خفی، عدم جمع ومنع یا جو چیز دلائل میں ممنوع ہے، جیسے جزئیت کبری، یا مخالف مصنف کوئی ایسا کلام پیش کرے جو بادیٴ الرای میں شاگرداں کی نظر میں کھٹکتا ہو یا مناظرے میں قواعد مناظرہ کی رعایت محسوس نہ ہوتی ہو؛ اس قسم کا کوئی اشکال وارد ہو تو دور کرے۔
          ۱۲-: کوئی حوالہ ذکر کیا ہو تو حوالے والی اصل جگہ یا اصل مسئلہ بتانا، ”فیہ نظر“ کہا ہو تو اس ”نظر“ کی وضاحت کرنا، کسی مقدر عبارت کی طرف اشارہ ہو تو اس کی وضاحت کرے۔
          ۱۳-: اگر شاگردوں کی زبان، کتاب کی عبارت کے مخالف ہو تو شاگردوں کی زبان میں عبارت کتاب کا ترجمہ کرنا (مثلاً عربی کتاب کا اردو خواں طلبہ کے سامنے اردو میں ترجمہ کرے)
          ۱۴-: مختلف توجیہات کی تنقیح کرے اور ان میں اصوب توجیہ کی نشاندہی کرے۔
          مثلاً اگر کسی امر میں مدرسین وشراح کی آراء میں اختلاف ہو ایک جماعت ”شرح غریب“ کا طرز اپنائے، دوسری جماعت کوئی دوسرا طرز اور توجیہات میں نزاع واختلاف پیدا ہوجائے تو استاذ کا کام یہ ہے کہ وہ پہلے ان توجیہات کی تنقیح کرے پھر ان میں سب سے بہتر کی تعیین کرے یہی معاملہ مشکل الفاظ کے ضبط اور مشکل لغات و تراکیب کے حل وغیرہ میں اختیار کرنا چاہئے۔
          ۱۵-: سہولت تقریر، یعنی ان بارہ باتوں کو ایسی واضح ومختصر عبارت سے بیان کرے جو سہل الحصول اور بآسانی ذہن نشین ہونے والی ہو اور اسی کا حصہ یہ بات بھی ہے کہ استاذ اپنی تقریر کو مصنف کی عبارت کے ساتھ اس طرح جوڑدے جس سے دونوں متصل (اور ایک ہی شیٴ معلوم ہوں) جب (صاحب تدریس وتحقیق) ان پندرہ صفات کا حق ادا کرے گا تب تدریس اور تشریح کتب میں کامل ہوگا۔
          مشفق استاذ کو چاہئے کہ اپنے شاگردوں کو ان امور پر بھی مطلع کرے۔
          اوّل: ان (مذکورہ بالا امور) پر اجمالی طور سے مطلع کردے۔
          دوم: جب شروحات میں ایسے امور سامنے آئیں تو انھیں متنبہ کرتا جائے کہ اس جگہ شارح کی غرض فلاں بات تھی اور یہاں یہ نیا نکتہ ہے۔
          سوم: استاذ شاگردوں کو تاکید کرے کہ وہ مطالعہٴ کتب میں ان امور کو پیش نظر رکھیں اور انہی میدانوں کو اپنی فکر کی جولان گاہ بنائیں۔
          چہارم: شاگرد کے مطالعے کو خود سنے، اگر کہیں وہ غلطی کرے تو اس پر متنبہ کرے، جس سے اس کو اپنی غلطی سمجھ میں آجائے (تاکہ آئندہ بچ سکے) اور اس غلطی کی مثل دیگر چیزوں پر بھی احتیاطاً متنبہ کردے۔
          پنجم: کسی کتاب کا حاشیہ یا شرح لکھوائے اور اس کی علمیت کا امتحان لے تاکہ حق تربیت کمال کو پہنچے۔
          جاننا چاہئے کہ یہ”دانشمندی“ معقول ومنقول اور علوم برہانیہ وخطابیہ سب میں جاری ہے (اور مفید ہے) کتب منقول میں ”تحقیق عبارت“ اور کتب معقول میں ”تحقیق مسئلہ“ کی ضرورت کثرت سے پیش آتی ہے اور علوم برہانیہ میں ایک واسطہ یا وسائط کثیرہ سے مقدمات بدیہیہ یا طریق برہان سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور علوم خطابیہ میں طریق ظن سے کام لیا جاتا ہے۔
          یہ تقریر ہے فن دانشمندی کی، جسے میں نے اپنے اساتذہ سے حاصل کیا ہے۔
(شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے فارسی رسالہ ”فن دانشمندی“ کا اردو ترجمہ)
ترجمہ: مولانا مدثر جمال تونسوی‏، (فاضل جامعہ دارالعلوم، کراچی)
-------------------------------------


کیا بیٹی کا فرض ہے کہ اپنے ماں باپ کا خرچ برداشت کرے؟

کیا بیٹی کا فرض ہے کہ اپنے ماں باپ کا خرچ برداشت کرے؟

کیا ماں باپ کو یہ حق حاصل ہے اور بیٹی کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اخراجات خود برداشت کرے؟ اس کے علاوہ اپنی ماں کو خرچہ بھی دے. نیز اپنی شادی کے لئے بھی خود کمائے؟ میں پریشان ہوں. براہ کرم رہنمائی فرمائیں. 
الجواب وباللہ التوفیق:
والدین پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنی  لڑکیوں کی صحیح تربیت اور بعد بلوغ نکاح بھی کروائے ۔۔۔یہ ذمہ داری والدین کی ہے۔۔۔ البتہ لڑکوں کی صحیح تربیت کرے ۔۔۔ صرف ۔۔۔ بعد بلوغ نکاح کرانا والدین پر ضروری نہیں ۔۔۔۔لڑکوں کے لئے ضروری ہے کہ اگر والدین خدمت کے محتاج ہوں تو ان کی تمام ضروریات بقدرضرورت پورا کرنا ضروری ہے۔۔۔۔ اور اگر لڑکی بھی اس لائق ہوں تو وہ بھی والدین کی ضرورات کو پوری کرے.

------------------------------------
شریعت نے اصالةً عورت پر کسب معاش کی ذمہ داری نہیں ڈالی بلکہ مردوں کو کسب معاش کا ذمہ دار بنایا ہے چنانچہ شادی تک لڑکیوں کا نان و نفقہ والد کے ذمہ اور شادی کے بعد شوہر پر واجب قرار دیا ہے، یہی لوگ اس کے نان و نفقہ کے ذمہ دار ہیں۔
اس لئے کسی عورت کو اگر نفقے کی تنگی یا مخصوص حالات کے تحت معاشی بدحالی کا سامنا نہیں، تو محض معیار زندگی بلند کرنے اور زندگی میں خوشحالی پیدا کرنے کے واسطے گھر سے با ہر نکل کر ملازمت کی پیش قدمی کرنا شریعت کی نظر میں پسندیدہ عمل نہیں۔
لیکن عورت کو اگر معاشی تنگی کا سامنا ہو اور شوہر اس کی ذمہ داری سے قاصر ہو یا تساہل کرتا ہو اور گھر میں رہ کر عورت کے لئے کوئی ذریعہ معاش اختیار کرنا ممکن نہ ہوتو ایسی مجبوری اور شدید ضرورت کے وقت عورت ملازمت کے لیے گھر سے باہر چند شرائط کے ساتھ نکل سکتی ہے۔
(۱) ملازمت کا کام فی نفسہ جائز ہو یعنی ایسا کام نہ ہو جو شرعاً ناجائز یا گناہ ہو کیونکہ ممنوع اور ناجائز کام کی ملازمت بہر صورت ناجائز ہے۔
(۲) شرعی پردہ کی پوری رعایت کے ساتھ باہر نکلے یعنی لباس دبیز سادہ اور جسم کے لئے ساتر ہو، لباس بھڑک دار پرکشش نیم عریاں قسم کا نہ ہو۔
(۳) بناوٴ سنگار زیب و زینت کے ساتھ نہ نکلے۔
(۴) دوران ملازمت مردوں کے ساتھ اختلاط بالکل نہ ہو۔
(۵) ملازمت کی وجہ سے خانگی امور میں 
لاپروائی اور حق تلفی لازم نہ آئے مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ بوقت ضرورت ملازمت کرنے کی گنجائش ہے اور مذکورہ شرطوں میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی کی صورت میں گناہ اور ناجائز ہوگی۔
بوقت ضرورت شرائط کے ساتھ اگر کوئی عورت ملازمت اختیار کرلیتی ہے تو اس کی آمدنی (تنخواہ) جائز ہے اور اس کی مالک وہ خود ہی ہوگی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
----------------------------------
اولاد ایک ایسا لفظ اوراسم ہے جس میں بیٹے اوربیٹیاں سب شامل ہیں، اوروالد کویہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی اولاد کے مال میں جس طرح چاہے تصرف کرے اس کے دلائل موجود ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(تواورتیرا مال تیرے والد کا ہے)۔
سنن ابن ماجہ حدیث نمبر (2282) الزاوئد میں ان کا کہنا ہے کہ اس حديث کی سند صحیح ہے اوراس کے رجال ثقہ اور بخاری کی شرط پر ہے۔ (1)
اس لیے اگر والد اپنی اولاد کے مال میں سے کچھ لینا چاہے تویہ اس کا حق ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس سے اولاد پر کوئی ضرر نہ آۓ، اور والد کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ایک بیٹے کا مال لے کر دوسرے کو دے دے۔
اگر والدین فقیر اورمحتاج ہوجائيں اوربیٹی کے پاس اپنی ضرورت سے زائد مال ہوتو بیٹی پرلازم ہے کہ وہ اپنے والدین پرخرچ کرے لیکن اپنی ضروریات میں کمی نہ کرے۔
اور خاوند کے ذمہ بیوی کے خرچہ کے بارہ میں گزارش ہے کہ: خاوند کے ذمہ واجب ہے کہ وہ بیوی کا وجب شدہ نان ونفقہ پورا کرے، اوراگر بیوی کہیں ملازم ہے تووہ بیوی کا مال ہے اوراس کے ساتھ ہی خاص ہے۔
لیکن اگر خاوند یہ شرط رکھے کہ بیوی کی ملازمت اورگھر سے باہر جانے اوراس کے حق میں سے کچھ فوت ہونے کی صورت میں وہ تنخواہ کا کچھ حصہ وصول کرے گا۔
بیوی کوجب مال ملے تواسے اس کی حفاظت کرنی چاہيۓ تاکہ وہ اپنی یا پھر اپنی اولاد اوریا اپنے والدین کی ضروریات پوری کرسکے۔
اوراگر اس لڑکی کے اوربھی بہن بھائي ہیں اوران میں سے کوئ ایک اپنے والدین کا خرچہ برداشت کررہا ہے تواس طرح باقیوں سے وہ واجب ساقط ہوجاۓ گا، اورجوخرچہ برداشت کررہا ہے اسے اجر وثواب حاصل ہوگا۔
یا پھر ایک صورت یہ ہے کہ سب بہن بھائي آپس میں والدین کا خرچہ تقسیم کرلیں کہ ہر ایک کواتنی رقم ادا کرنی ہوگی۔
اور رہا داماد کا مسئلہ تواس پر کوئی ضروری نہيں کہ وہ اپنی بیوی کے والدین (یعنی اپنے سسرال والوں) پر خرچہ کرتا پھرے، لیکن اگروہ اپنے مال کی زکاۃ ادا کرنا چاہے تووہ انہيں دے سکتا ہے۔
لیکن بیٹی اپنے والدین کوزکاۃ کا مال نہیں دے سکتی اس لیے کہ بیٹی پر والدین کوکھلانا پلانا واجب ہے لھذا وہ زکاۃ کے مال کے علاوہ اپنے مال سے ان کا خرچہ برداشت کرے۔
----------------------------------
(1) عن جابر بن عبد الله، أن رجلا قال: يا رسول الله إن لي مالا وولدا، وإن أبي يريد أن يجتاح مالي، فقال: «أنت ومالك لأبيك» (سنن ابن ماجہ)
__________
في الزوائد إسناده صحيح ورجاله ثقات على شرط البخاري ۔۔۔و قال الشيخ الألباني: صحيح
ترجمہ: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال اور اولاد دونوں ہیں، اور میرے والد میرا مال ختم کرنا چاہتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارا مال دونوں تمہارے والد کے ہیں“۔
اور دوسری حدیث میں ارشاد ہے:
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إن أبي اجتاح مالي، فقال: «أنت ومالك لأبيك» وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن أولادكم من أطيب كسبكم، فكلوا من أموالهم»
(رواہ احمد و ابن ماجہ ‘‘ و صححه الألباني في "صحيح ابن ماجة" .
ترجمہ: عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میرے والد نے میری دولت ختم کر دی (اس کے بارے میں فرمائیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے لہٰذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ“ 
----------------------------
جمع و ترتیب: ایس اے ساگر
-----------------------------

بدن سے درد اور تکلیف دور کرنے کی دعا

بدن سے درد اور تکلیف دور کرنے کی دعا

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا اشْتَكَيْتَ فَضَعْ يَدَكَ حَيْثُ تَشْتَكِي وَقُلْ: بِسْمِ اللهِ (وَبِاللهِ) أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ مِنْ وَجَعِي هَذَا ثُمَّ ارْفَعْ يَدَكَ ثُمَّ أَعِدْ ذَلِكَ وِتْرًا. حضرت انس بن مالک‌ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص ہیں، آپ نے دس سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے ۔ انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ نے انہیں بچپن میں ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت پر مامور کر دیا تھا اور ان کی والدہ ماجدہ کے التماس کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دنیا اور آخرت کی دعائے خیر سے مشرف فرمایا جس کی وجہ سے آپ نے طویل عمر پائی اور آپ کی سو سے زائد اولاد ہوئی۔ آپ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تمہیں درد محسوس ہو تو درد والی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھو اورکہو: بِسْمِ اللهِ (وَبِاللهِ) أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ مِنْ وَجَعِي هَذَا، پھر اپنا ہاتھ اٹھالو۔ پھر طاق مرتبہ یہ کام کرو-
مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب نے جسم کے کسی بھی حصہ میں درد یا تکلیف کے لئے حدیث کی مستند کتاب ترمذی شریف میں ذکر کردہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی آسان اور مختصر دعا نقل فرمائی:
طریقہ:
درد کی جگہ ہاتھ رکھ کر تین دفعہ
بسم اللہ بسم اللہ بسم اللہ
کہے اور پھرسات دفعہ یہ دعاپڑھے
أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ
ان شاءالله درد اور تکلیف دور ہوجائے گی۔۔۔
اگر بظاہر کہیں درد نہ بھی معلوم ہوتاہو تب بھی ہر نماز بعد یا صبح شام اس دعا کا معمول بنائیں۔۔
ہمارے استاذ مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی صاحب کے حوالے سے بتلایا کہ وہ فرماتے ہیں میری عمر 82 سال ہے۔۔۔ اور 40 سال سے میرا اس دعا کا معمول ہے ۔۔۔ جس کی برکت سے موذی بیماریوں سے محفوظ ہوں ۔۔۔۔ ہمیں بھی رسول اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی اس دعا کا معمول بنانا چاہیے۔۔۔
---------------
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "جمع الجوامع " میں حدیث نقل کرتے ہیں کہ ابو شیخ کتاب ثواب میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں روایت کی ہے کہ ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ حجاج بن یوسف ثقفی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی بات پر حجاج آپ پر غضب ناک ہوگیا۔ اور اس نے کہاکہ اے انس اگر تو نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نہ کی ہوتی اور امیر المومنین عبدالملک بن مروان کا خط تمہاری سفارش میں نہ آیا ہوتا کہ اس نے تمہارے ساتھ رعایت کرنے کے بارے میں لکھا ہے تو میں تمہارے ساتھ وہ کچھ کرتا جو میرا دل چاہتا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ! نہیں اللہ کی قسم تو ہرگز میرے ساتھ کچھ نہیں کر سکتا اور میری جانب بری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔بلاشبہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے چند کلمات کو سن رکھا ہے، میں ہمیشہ ان کلمات کی پناہ میں رہتا ہوں اور ان کلمات کے طفیل میں کسی بادشاہ کے غلبہ اور شیطان کی برائی سے نہیں ڈرتا۔ حجاج یہ سن کر ہیبت زدہ ہوگیا اور ایک ساعت کے بعد سر اٹھا کر کہا اے ابو حمزہ وہ کلمات مجھے سکھا دو ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں میں ہرگز وہ کلمات تمہیں نہیں سکھاؤں گا کیوں کہ تم اس کے اہل نہیں ہو۔ جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ کے خادم حضرت ابان رضی اللہ عنہ کے استفسار پر آپ نے ان کو یہ کلمات سکھائے۔ اور کہا کہ انہیں صبح و شام پڑھاکر اللہ تعالیٰ تجھے ہر آفت سے حفاظت میں رکھے گا۔ وہ کلمات یہ ہیں:
لَا الٰه الّا الله مُحمَّدُ الرَّسُول الله - بِسْمِ الله علیٰ نفْسِی و دِینیْ - بسم الله علیٰ اَهْلی و مالِیْ و وَلَدِیْ - بسم الله علیٰ ما اَعْطَانِیَ الله - الله ُرَبِّی لا اُشْرِکُ بِهِ شَيْئاً - الله ُاکبر الله ُاکبر الله ُاکبر و اَعَزُّ و اَجَلُّ و اَعْظَمُ ممِاَّ اَخَافُ و اَحْذَرُ عَزَّ جَارُک و جَلَّ ثَنَاؤُک ولا اله غَیْرُک - اللهم اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی و مِن شَرِّ کُلِّ شَیْطَانِ مَّرِیْدِ و مِن شَرِّ کُلِّ جَبَّارِ عَنِیْدِ – 
فَاِن تَوَلَّوْا فَقُل حَسْبِی الله لا اله الا هو عَلَیهِ تَوَکَّلْتُ وهو ربُّ العَرْشِ العَظِیمْ - اِنَّ وَلِیَّ ىَ الله الَّذِی نَزَّلَ الْکِتَابَ و هو یَتَولَّ الصَّالحِین –
----------------------------------
جمع و ترتیب: ایس اے ساگر

-----------------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/06/blog-post_25.html

Monday, 24 June 2019

پریشانی میں زبان سے کفریہ کلمات کہنے کی گنجائش

پریشانی میں زبان سے کفریہ کلمات کہنے کی گنجائش

کیا اسلام میں محض زبان سے کفریہ کلمات کہنے کی گنجائش ہے جبکہ اغیار کے ہاتھوں تکلیف کو برداشت کرنا دوبھر ہوجائے یا ثابت قدمی سے جان گنوادے؟
الجواب وباللہ التوفيق:
ایسی صورت حال میں زبان سے کفریہ کلمات کہنے کی گنجائش ہے اور اگر نہ کہے بلکہ تکلیف کو برداشت کرے تو یہ بھی جائز ہے
مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (النخل ١٠٦)
وفي تفسير ابن كثير: وأما قوله: (إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان) فهو استثناء ممن كفر بلسانه ووافق المشركين بلفظه مكرها لما ناله من ضرب وأذى، وقلبه يأبى ما يقول، وهو مطمئن بالإيمان بالله ورسوله.
وقد روى العوفي عن ابن عباس: أن هذه الآية نزلت في عمار بن ياسر حين عذبه المشركون حتى يكفر بمحمد - صلى الله عليه وسلم - فوافقهم على ذلك مكرها وجاء معتذرا إلى النبي - صلى الله عليه وسلم - فأنزل الله هذه الآية . وهكذا قال الشعبي ، وأبو مالك وقتادة.
وقال ابن جرير: حدثنا ابن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن ثور، عن معمر، عن عبد الكريم الجزري، عن أبي عبيدة [بن] محمد بن عمار بن ياسر قال: أخذ المشركون عمار بن ياسر فعذبوه حتى قاربهم في بعض ما أرادوا، فشكا ذلك إلى النبي - صلى الله عليه وسلم - فقال النبي - صلى الله عليه وسلم - : "كيف تجد قلبك؟" قال: مطمئنا بالإيمان قال النبي - صلى الله عليه وسلم - : "إن عادوا فعد" .
ورواه البيهقي بأبسط من ذلك، وفيه أنه سب النبي - صلى الله عليه وسلم - وذكر آلهتهم بخير ، وأنه قال : يا رسول الله، ما تركت حتى سببتك وذكرت آلهتهم بخير . قال: "كيف تجد قلبك؟" قال: مطمئنا بالإيمان. فقال: "إن عادوا فعد" . وفي ذلك أنزل الله: (إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان).
ولهذا اتفق العلماء على أنه يجوز أن يوالي المكره على الكفر؛ إبقاء لمهجته، ويجوز له أن يستقتل، كما كان بلال - رضي الله عنه - يأبى عليهم ذلك وهم يفعلون به الأفاعيل، حتى أنهم ليضعون الصخرة العظيمة على صدره في شدة الحر، ويأمرونه أن يشرك بالله فيأبى عليهم وهو يقول: أحد، أحد. ويقول: والله لو أعلم كلمة هي أغيظ لكم منها لقلتها - رضي الله عنه وأرضاه .
واللہ تعالیٰ اعلم
----------------------
اگر مسلمان ہونے کی وجہ سے جان کا خطرہ ہو تو کیا ایسی صورت میں وقتی طور پر جھوٹ بول کر یہ کہہ دینے سے کہ میں مسلمان نہیں تو کیا ایسا شخص داٸرٸے اسلام سے نکل جاٸے گا یعنی کافر ہوجاٸے گا؟ 
والسلام
الجواب حامداو مصليا:
اصل ایمان تو تصدیق قلبی کا نام ہے اور زبان سے اقرار کرنا احکام کے لیے ضروری ہے غرض ایسی حالت میں جب کہ ایمان یعنی مسلمان ہونا کسی کی جانی نقصان کا سبب ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں 
عزیمت: اپنی جان کی پروا کیے بغیر اپنی مسلمانیت کا اقرار کرنا اس صورت میں اگرچہ اس کو جانی نقصان ہوگا لیکن اس صورت میں عنداللہ اجر عظیم بھی ہے اور اسلام کی عظمت بھی 
 رخصت: اگر جان کا خطرہ ہو تو زبانی طور پر یا ظاہری طور پر ایمان سے انکار کرنا جب کہ تصدیق دل میں ہو تو ایسا شخص اضطراری حالت میں خود کو کافر ظاہر کرسکتا ہے اور ایسا کرنے سے وہ ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔
”ثم ذکر فی فضل الاکراہ علی الکفر انہ اذا امتنع من ذلک حتی قتل لم یکن آثما وقد بینا انہ ماجور فیہ کما جاء فی الاثر ان المجبر فی نفسہ فی ظل العرش یوم القیامة ان ابی الکفر حتی قتل و حدیث خبیب ؓفیہ معروف واشار الیھالاصل الذی بینا ان اجراءکلمة الشرک فی ھذہ الحالة رخصة لہ والامتناع ھو العزیمة فان ترخص بالرخصة وسعہ وان تمسک بالعزیمة کان افضل لہ: لان فی تمسکہ بالعزیمة اعزاز الدین وغیظ المشرکین فیکون افضل“
(المبسوط: ٤٩٤٢)
”النوع الذی ھو مرخص فھو اجراءکلمة الکفرعلی اللسان مع اطمٸنان القلب بالایمان اذا کان الاکراہ تاما وھو محرم فی نفسہ مع ثبوت الرخصة فآثر الرخصة فی تغیر حکم الفعل وھو المٶاخذة لا فی تغیر وصفہ وھو الحرمة لان کلمة الکفر مما لا یحتمل الاباحة بحال فکانت الحرمة“
(بداٸع وصناٸع : فصل فی بیان حکم مایقع علیہ الاکراہ: ١٩٠٧)
و اللہ سبحانہ اعلم
قمری تاریخ: ١٥جمادی الاخرة ١٤٤٠ھ
عیسوی تاریخ:٢٢ فروری٢٠١٩ ۶
تصحیح وتصویب: مفتی انس عبد الرحیم
-------------------------
اگر کوئی مسلمان موت کےڈر کی وجہ سے اپنا ایمان چھپائے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ 
الجواب وباللہ التوفيق:
اگر ایمان ظاہر کرنے میں جان جانے کا خوف ہو تو ایمان مخفی رکھا جاسکتا ہے۔ (سورۃ النحل آیت نمبر106، سورۃ المؤمن آیت نمبر 28)
''بما زاده البخاريُّ في هذا الحديث، من حديث ابن عبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ ؛ أنّه صلى الله عليه وسلم قال للمقداد: إِذَا كَانَ مُؤْمِنٌ يُخْفِي إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ، فَقَتَلْتَهُ؟ كذلك كُنْتَ تُخْفِي إيمانَكَ بمكة!!'' 
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر: 143909201115
دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
------------------------
کیا اگر انسان کی زبان سے بلا ارادہ کوئی کفریہ جملہ نکل جائے یا یہ کہ وہ کہنا کچھ اورچاہتا تھا مگر کچھ اور نکل گیا تو کیا وہ آدمی کافر ہوجاتا ہے؟ اور اگر ایسی بات ہے تو کیا دوبارہ خود ہی کلمہ پڑھنے سے وہ دوبارہ مسلمان ہوجائے گا؟ اور کیا اگر شادی شدہ ہے تو دوبارہ نکاح کرنا ہوگا یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفيق:
بلاقصد و ارادہ غلطی سے کوئی کفریہ کلمہ زبان سے نکل جائے، تو اس کی وجہ سے آدمی کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ چنانچہ شامی میں ہے: ومن تکلم بھا مخطئًا أو مکرہًا لا یکفر عند الکل۔
واللہ تعالیٰ اعلم
--------------------------------------
میرا سوال یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ کفریہ کلمات ادا کرنے سے نکاح ٹوٹ گیا تو کیا کرنا چا ہئے؟ اگر بیوی کفریہ کلمات ادا کریں تو کیا کرنا چاہئے، اور اگر شوہر کفریہ کلمات ادا کرے تو کیا کرے ۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس سوال کا جواب جلدی دیدیں۔ شکریہ
الجواب وباللہ التوفيق:
”کفریہ کلمات“ سے کون سے کلمات مراد ہیں؟ اس کی وضاحت ضروری تھی، کسی کو دائرہ اسلام سے خارج کرنا انتہائی نازک مسئلہ ہے، بہرحال اگر کسی شادی شدہ شخص نے ایسا کلمہٴ کفر ادا کیا جس کی بنا پر معتبر مفتیان نے تحقیق واقعہ کے بعد اس شخص کے”مرتد“ ہونے کا فتوی دے دیا، تو اس کا نکاح ٹوٹ گیا اوربیوی اس سے بائنہ ہوگئی، وہ عدت گزارکر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔ اگر بیوی نے اس طرح کی حرکت کی ہے تو مفتی بہ قول کے مطابق اس کا نکاح سابق شوہر سے بدستور قائم رہے گا؛ لیکن شوہر کے لیے، عورت کی طرف سے تجدید نکاح سے پہلے اس کے ساتھ وطی یا دواعی وطی شرعاً جائز نہیں ہے، ایسی صورت میں ”بیوی“ یا تو تجدید اسلام کرکے اپنے سابق شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارے یا پھر شوہر سے طلاق حاصل کرلے۔ وارتداد أحدہما أي الزوجین فسخ فلا ینقص عدداً عاجل بلا قضاء الخ (درمختار مع الشامی: ۴/۳۶۶، ط: زکریا، والحیة الناجزة: ۲۰۸ تا ۲۱۲ جدید) 
واللہ تعالیٰ اعلم
----------------------------------
جمع و ترتیب: ایس اے ساگر
-----------------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/06/blog-post_27.html