اس کے بعد آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیت ِمبارکہ تلاوت فرمائی:
وَکَانَ حَقًّا عَلَیۡنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیۡنَ
اورہمارے ذمۂ کرم پرہے مسلمانوں کی مدد فرمانا۔
حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:
"میں ان خواتین میں سے ایک ہوں جنھیں چند لمحوں بعد بدکاری و زیادتی کا نشانہ بنایا جاۓ گا کیوںکہ اب ہمارے اور ان درنندوں کے بیچ (جنھیں ملک کی فوج کہا جاتا ہے) کوئی ہتھیار یا مرد نہیں رہے،
مجھے آپ لوگوں سے کچھ بھی نہیں چاہئے، حتی کہ میں آپ سے دعا بھی نہیں چاہتی کیوںکہ میں ابھی اس قابل ہوں کہ بول سکوں اور میرے خیال میں میری دعا ۔۔۔ آپ کے الفاظ سے زیادہ سچی ہے۔
میں خودکشی کرنے جا رہی ہوں اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تم مجھے جہنمی کہو
میں خود کشی کر رہی ہوں کیوں کہ میں اپنے مرحوم باپ کے گھر میں ثانت قدم نہ رہ سکی، جو لوگ حلب چھوڑ گئے ان سب کو دیکھ کر میرے باپ کا دل جل گیا تھا، میں بغیر کسی وجہ کے خود کشی نہیں کر رہی ہوں، بلکہ اس لئے اپنی جان دے رہی ہوں کہ بشاری فوج کے درندے میری عصمت سے کھلواڑ نہ کر سکیں، جبکہ کل ہی کی تو بات ہے کہ وہ حلب کا نام لیتے ہوۓ ڈرتے تھے، میں خود کشی کر رہی ہوں کہ یومِ حساب، یومِ قیامت حلب میں برپا ہو چکا ہے اور میرا نہیں خیال کہ جہنم کی آگ اس سے بڑھ کر ہو گی... میں خود کشی کر رہی ہوں، اور میں جانتی ہوں کہ آپ سب میرے جہنم میں داخلہ بارے متفق ہوں گے اور یہ وہ واحد چیز ہو گی جس پر آپ سب متفق ہوں گے۔۔۔ ایک عورت کی خودکشی پر ۔۔۔ وہ عورت جو آپ کی ماں، بہن یا بیٹی نہیں بلکہ ایک ایسی عورت جس سے آپ کا کوئی رشتہ ناطہ نہیں، میں اس بات پر اختتام کروں گی کہ آپ کے فتاوی میرے لیے لا یعنی ہیں، لہذا انھیں اپنے لیے اور اپنے خاندانوں کیلیے سنبھال کر رکھیے
میں خود کشی کر رہی ہوں ... اور جب آپ یہ سب پڑھ رہے ہوں گے، میں پاکدامنی کیساتھ مر چکی ہوں گی."
امت کے علماء و سرکردہ افراد کے نام حلب کی ایک بہن کا خط،
یہ سوال جذباتی نہیں ہے بلکہ سنجیدگی کے ساتھ پوچھا گیا ہے....
ایسے حالات میں کیا کرنا چاہئے، مفتیان حضرات توجہ دیں... یعنی کہ کیا اپنے اہل خانہ کو قتل کردے ........ کیا مذکورہ بالا مواقع پر خواتین خودکشی کر سکتی ہیں؟
اہل علم کے نزدیک؛
اگر ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ عورت اپنی عزت بچانے کی کوشش کرے مگر اس میں کامیاب نہ ہونے کا اس کو یقین ہو جائے تو کیا ایسی صورت میں خودکشی کرنا اس کے لیے جائز ہو جائے گا جیسا کے تقسیم ہند کے وقت مسلمان خواتین نے اپنی عزتیں بچانے کی خاطر اپنی جانیں دیدی تھیں یا خودکشی ہر صورت حرام ہے ؟
Feb 16,2012
Answer: 37051
فتوی(م): 504=504-3/1433
خود کشی بہرصورت حرام ہے، اکرعورت اپنی عزت بچانے میں ناکام ہو تب بھی یہی حکم ہے۔ سمعتْ من زوجہا أنہ طلّقہا ولا تقدر علی منعہ من نفسہا إلا بقتلہ، لہا قتلہ بدواء خوف القصاص إلخ وفي الشامي: قال في المحیط وینبغي لہا أن تفتدي بمالہا أو تہرب منہ وإن لم تقدر، قتلتْ متے علمت أنہ یقربہا ولکن ینبغي أن تقتلہ بالدواء ولیس لہا أن تقتل نفْسہا․ (شامي زکریا: ۵/۵۵) تقسیم ہند کے وقت جن خواتین نے عزت بچانے کی خاطر جانیں دیدی تھیں ان کی نیتوں کا حال اللہ کو بہتر معلوم ہے اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
......
خود کشی کرنا حرام ہے۔
Oct 30,2010
Answer: 20414
ایسی صورت میں خودکشی کرنے کا حکم نہیں، البتہ عورت کو چاہئے کہ اپنی عزت بچانے کی ہرممکن کوشش کرے، اگر اس میں وہ ہلاک کردی جاتی ہے تو وہ شہید کہلائے گی،
ذکر الزیلعي في آخر کتاب الإکراہ لو قال لہ: لتلقین نفسک في النار أو من الجبل أو لأقتلنک وکان الإلقاء بحیث لا ینجو منہ ولکن فیہ نوع خفة فلہ الخیار إن شاء فعل ذلک وإن شاء لم یفعل وصبر حتی یقتل عند أبي حنیفة لأنہ ابتلی ببلیتین فیختار ما ہو الأہون في زعمہ وعندہما یصبر ولا یفعل ذلک لأن مباشرة الفعل سعي في إہلاک نفسہ فیصبر تحامیًا عنہ (الأشباہ والنظائر: ۱/۲۶۳)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
......
غالبا حضرت تهانوی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اگر عورت ٹرین سے اس لئے کود جاتی ہے کہ ٹرین میں رہے گی تو اس کی عزت پر آبنے گی تو تو وہ ٹرین سے کود جائے اور اگر اس دوران وہ مر جائے تو وہ خود کشی نہیں کہلائے گی،
اس کو سامنے رکھ کر کوئی عورت تدبیر اختیار کرتی ہے اور وہ مر جائے تو ان شاءاللہ خود کشی کا گناہ نہ ہوگا،
بشرطیکہ وہ خود کشی کی نیت سے نہ کرے اور اس حیلہ میں موت یقینی نہ ہو بلکہ بچنے کے امکانات ہوں، چاہے بچنے کے امکانات کم ہی ہوں
جیسا کہ ٹرین سے کودنے میں،
لیکن اس کی تحقیق ہونی چاہئے ہذا ما عندی والصواب عند اللہ فان وافقہ والا فالرجوع
اور البحر الرائق شامی وغیرہ میں لکھا ہے کہ اگر زنا کے لئے اکراہ کیا جائے اور مکرہ عورت ہو تو عورت گناہ گار نہیں ہوگی اور اگر مکرہ مرد ہو تو اس کو کسی صورت زنا کی اجازت نہیں اگرچہ جان چلی جائے.
.....
جلی ہوئی عورت جومرچکی ہے، اس کو غسل کیسے دیا جائے گا؟ جواب مرحمت فرمایئں،
غسل کیسےدیاجائے گا، کیوں کہ چمڑیاں بالکل جل گئی ہیں.
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
......
اس کی وضاحت کے لئے پہلے احادیث رسول ﷺ دیکھیں۔
(1) ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
ما تَعُدُّونَ الشَّہِیدَ فِیکُمْ؟
تُم لوگ اپنے (مرنے والوں) میں سے کِسے شہید سمجھتے ہو ؟
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
یا رَسُولَ اللَّہِ من قُتِلَ فی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ شَہِیدٌ۔
اے اللہ کے رسول جو اللہ کی راہ میں قتل کِیا جاتا ہے (ہم اُسے شہید سمجھتے ہیں)،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
انَّ شُہَدَاء َ اُمَّتِی اذًا لَقَلِیلٌ۔
اگر ایسا ہو تو پھر تو میری اُمت کے شہید بہت کم ہوں گے ۔
صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کِیا:
فَمَنْ ہُمْ یا رَسُولَ اللَّہِ؟
اے اللہ کے رسول تو پھر شہید (اور) کون ہیں؟
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
مَن قُتِلَ فی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ مَاتَ فی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ مَاتَ فی الطَّاعُونِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ مَاتَ فی الْبَطْنِ فَہُوَ شَہِیدٌ۔
"جو اللہ کی راہ میں قتل کِیا گیا وہ شہید ہے، اورجو اللہ کی راہ میں نکلا (اور کسی معرکہِ جِہاد میں شامل ہوئے بغیر مر گیا، یا جو اللہ کے دِین کی کِسی بھی خِدمت کے لئے نکلا اور اُس دوران ) مر گیا وہ بھی شہید ہے، اور اور جو طاعون (کی بیماری) سے مر گیا وہ بھی شہید ہے، اورجو پیٹ (کی بیماری) سے مر گیا، وہ بھی شہید ہے۔
قال بن مِقْسَمٍ اَشْہَدُ علی اَبِیکَ فی ہذا الحدیث اَنَّہُ قال ۔
عبید اللہ ابن مقسم نے یہ سُن کر سہیل کو جو اپنے والد سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُ کے ذریعے روایت کر رہے تھے، کہا، میں اِس حدیث کی روایت میں تمھارے والد کی (اِس بات کی درستگی) پرگواہ ہوں اور اِس حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
"وَالْغَرِیق ُشَہِیدٌ "
ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے۔
(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ سے دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
الشُّہَدَاء ُ خَمْسَۃٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِق ُ وَصَاحِبُ الْہَدْمِ وَالشَّہِیدُ فی سَبِیلِ اللَّہِ عز وجل۔
شہید پانچ ہیں
(1) مطعون، اور
(2)پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، اور
(3) ڈوب کر مرنے والا، اور
(4) ملبے میں دب کر مرنے والا، اور
(5) اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔
(صحیح مُسلم /کتاب الامارۃ)
::::: ایک وضاحت اور شرح :::::
امام ابن حَجر العسقلانی رحمہ اللہ نے ، فتح الباری / کتاب الطب / با ب مایذکر فی الطاعون ، میں''' المطعون '''کے بہت سے معنی مختلف عُلماء کی شرح کے حوالے سے ذِکر کیے ہیں جِس کا خلاصہ یہ ہے کہ '' المطعون'' طاعون کے مریض کو بھی کہا جا سکتا ہے، کِسی تیز دھار آلے سے زخمی ہونے والے کو بھی اور جِنّات کے حملے سے اندرونی طور پر زخمی ہونے والے کو بھی کہا جا سکتا ہے ، اس لیے ترجمے میں "مطعون" ہی لکھا گیا ہے۔
(3) حضرت جابر بن عُتیک رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الشَّہَادَۃُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فی سَبِیلِ اللَّہِ الْمَطْعُونُ شَہِیدٌ وَالْغَرِق ُ شَہِیدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِیدٌ وَالْمَبْطُونُ شَہِیدٌ وَصَاحِبُ الْحَرِیقِ شَہِیدٌ وَالَّذِی یَمُوتُ تَحْتَ الْہَدْمِ شَہِیدٌ وَالْمَرْاَۃُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شہیدۃٌ۔
اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے عِلاوہ سات شہید ہیں
(1) مطعون شہید ہے
(2) اور ڈوبنے والا شہید ہے
(3) ذات الجنب کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے اور
(4) اور پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، اور
(5) جل کر مرنے والا شہید ہے، اور
(6) ملبے کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے ، اور
(7) حمل کی حالت میں مرنے والی عورت شہیدہ ہے.
(سُنن ابو داؤد حدیث 3111/ کتاب الخراج و الامارۃ و الفي ,مؤطا مالک /کتاب الجنائز /باب 12)
اِمام الالبانی رحمہ اللہ نے کہا حدیث صحیح ہے.
(4) راشد بن حبیش رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عُبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ُ کی عیادت (بیمار پُرسی) کے لئے تشریف لائے تو اِرشاد فرمایا:
أَتَعلَمُونَ مَن الشَّھِیدُ مِن اُمتِی ۔
کیا تُم لوگ جانتے ہو کہ میری اُمت کے شہید کون کون ہیں؟
عُبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے عرض کیا،
"اے اللہ کے رسول (اللہ کی راہ میں مصیبت پر ) صبر کرنے اور اجر و ثواب کا یقین رکھنے والا "
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
انَّ شُہَدَاء َ امتی اذاً لَقَلِیلٌ الْقَتْلُ فی سَبِیلِ اللَّہِ عز وجل شَہَادَۃٌ وَالطَّاعُونُ شَہَادَۃٌ وَالْغَرَقُ شَہَادَۃٌ وَالْبَطْنُ شَہَادَۃٌ وَالنُّفَسَاء ُ یَجُرُّہَا وَلَدُہَا بِسُرَرِہِ إلی الْجَنَّۃِ والحَرق ُ و السِّلُّ ۔
اِس طرح تو میری اُمت کے شہید بہت کم ہوں گے
(1) اللہ عز وجل کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے اور
(2) طاعون (کی موت) اورشہادت ہے اور
(3) ڈوبنا (یعنی پانی میں ڈوبنے سے موت واقع ہونا ) شہادت ہے اور
(4) پیٹ (کی بیماری) شہادت ہے اور
(5) ولادت کے بعد نفاس کی حالت میں مرنے والی کو اُس کی وہ اولاد (جِس کی ولادت ہوئی اور اِس ولادت کی وجہ سے وہ مرگئی) اپنی کٹی ہوئی ناف سے جنّت میں کھینچ لے جاتی ہے ، اور
(6) جلنا (یعنی جلنے کی وجہ سے موت ہونا)اور
(7) سل (یعنی سل کی بیماری کی وجہ سے موت ہونا) شہادت ہے۔
(مُسند احمد / حدیث راشد بن حبیش رضی اللہ عنہ ُ ، مُسند الطیالیسی، حدیث 586) ،
اِمام الالبانی رحمہ اللہ نے کہا حدیث صحیح ہے۔
''سل'' کی بھی مختلف شرح ملتی ہیں، جن کا حاصل یہ ہے کہ '''سل'' پھیپھڑوں کی بیماری ہے ۔
(5) عبداللہ ابن عَمرورضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
مَن قُتِلَ دُونَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیدٌ ۔
(صحیح البخاری حدیث 2348 و صحیح مُسلم حدیث 141)
جِسے اُس کے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا وہ شہید ہے۔
(6) حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
مَن قُتِلَ دُونَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ اَھلِہِ او دُونَ دَمِہِ او دُونَ دِینِہِ فَہُوَ شَہِیدٌ۔
(1) جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا وہ شہید ہے اور
(2) جو اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا وہ شہید ہے اور
(3) جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا وہ شہید ہے اور
(4) اپنے دِین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا گیا ہو شہید ہے۔
(سنن النسائی،حدیث 4106،سنن ابو داؤد حدیث4772)
اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دِیا ہے ۔
مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں شہید کی مندرجہ ذیل اقسام سامنے آتی ہیں۔
(1) اللہ کی راہ میں قتل کیا جانے والا ، یعنی شہیدِ معرکہ اور مسلمانوں کے یقینی اجماع کے مطابق یہ افضل ترین شہادت ہے۔
(2) اللہ کی راہ میں مرنے والا، یعنی جو اللہ کی راہ میں نکلا اور موت واقع ہو گئی مثلاً غازی ، مہاجر، وغیرہ ، سورت النساء
(4)/ آیت 100۔
(3) مطعون ، طاعون کی بیماری سے مرنے والا ۔
(4) پیٹ کی بیماری سے مرنے والا۔
(5) ڈوب کر مرنے والا۔
(6) ملبے میں دب کر مرنے والا،۔
(7) ذات الجنب سے مرنے والا، (ذات الجنب وہ بیماری جِس میں عموماً پیٹ کے پُھلاؤ، اپھراؤ کی وجہ سے، یا کبھی کسی اور سبب سے پسلیوں کی اندرونی اطراف میں ورم (سوجن) ہو جاتی ہے جو موت کا سبب بنتی ہے)۔
(8) آگ سے جل کر مرنے والا ۔
(9) حمل کی وجہ سے مرنے والی ایسی عورت جس کے پیٹ میں بچہ بن چکا ہو۔
(10) ولادت کے بعد ولادت کی تکلیف سے مرنے والی عورت۔
(11) پھیپھڑوں کی بیماری (سل) کی وجہ سے مرنے والا ۔
(12) جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا ۔
(13) جو اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا ۔
(14) جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا۔
(15) جواپنے دِین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا گیا۔
اِن کے عِلاوہ کِسی بھی اور طرح سے مرنے والے کے لئے اللہ اوراُس کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے کوئی ایسی خبر نہیں ملتی کہ اُسے شہید سمجھا جائے۔
ان اہلِ علم شخصیات کا قتلِ عام بھی علاماتِ قیامت میں سے ہے ،جیسا کہ سرکار دو عالم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”إن اللہ لا یقبض العلم انتزاعاً ینتزعہ من العباد ولکن یقبض العلم بقبض العلماء، حتیٰ إذا لم یبق عالما اتخذ الناس رء وساً جھالاً،فسُئلوا، فأفتوا بغیر علمٍ، فضلوا وأضلوا“․ (رواہ الإمام البخاري في صحیحہ،عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص، کتاب العلم، باب کیف یقبض العلم، رقم الحدیث:100، 1/32، دار طوق النجاة)
ترجمہ: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان سے علم کو اس طرح ختم نہیں فرمائیں گے کہ اسے دفعةً اٹھا لیں بلکہ علماء ِ دین کے اٹھانے کی صورت میں علم کو اٹھا لیں گے، یہاں تک کہ جب کوئی بھی عالم(ِ حقیقی) باقی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، ان جہلاء سے سوال کیے جائیں گے تو یہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے“۔
ان حالات میں کہ جب مسلمانوں پر کوئی بڑا حادثہ پیش آجائے، مثلاً:
(ولا یقنت لغیرہ إلا) لنازلة، فیقنت الإمام في الجھریة․ وفي حاشیة ابن عابدین تحت قولہ:”إلا لنازلة“ قال في الصحاح: النازلة: الشدیدة من شدائد الدھر، ولا شک أن الطاعون من أشد النوازل…قال أبو جعفر الطحاوي:إنما لا یقنت عندنا في صلاة الفجر من غیر بلیة، فإن وقعت فتنة أو بلیة فلا بأس بہ، فعلہ رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم․ (حاشیة ابن عابدین، کتاب الصلاة ، مطلب:في القنوت للنازلة: 2/542، دار المعرفة، بیروت)
چناں چہ! خیال ہوا کہ قنوتِ نازلہ سے متعلقہ مسائل ، طریقہ کار اور اس میں پڑھی جانے والی دعا منظرِ عام پر لائی جائے ، تاکہ ائمہ مساجد کے لیے سہولت و آسانی ہو جائے، ذیل میں وہ مسائل ذکر کیے جاتے ہیں اور اہلِ علم حضرات کے اطمینانِ قلب کے لیے حوالہ جات بھی ذکر کر دئیے گئے ہیں:
(فیقنت الإمام في الجھریة)․ وفي حاشیة ابن عابدین تحت قولہ:”فیقنت الإمام في الجھریة“و ظاھر تقییدھم بالإمام أنہ لا یقنت المنفرد․(حوالہ بالا)
(وأما القنوت في الصلوٰت کلھا للنوازل فلم یقل بہ إلا الشافعي، وکأنھم حملوا ما روي عنہ علیہ الصلاة والسلام أنہ قنت في الظھر والعشاء کما في مسلم، وأنہ قنت في المغرب أیضاً کما في البخاري علی النسخ لعدم ورود المواظبة والتکرار الواردین في الفجر عنہ علیہ الصلاہ والسلام، وھو الصریح في أن قنوت النازلة عندنا مختص بصلاة الفجر دون غیرھا من الصلوات الجھریة․(حاشیة ابن عابدین، کتاب الصلاة ، مطلب:في القنوت للنازلة: 2/542، دار المعرفة، بیروت)
قنوتِ نازلہ پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ نمازِ فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد ”سَمِعَ اللّٰہ ُ لِمَنْ حَمِدَہ“ کہہ کر امام کھڑا ہو جائے، اور قیام کی حالت میں دعائے قنوت (جو آگے آ رہی ہے) پڑھے اور مقتدی اس کی دعا پرآہستہ آواز سے آمین کہتے رہیں،پھر دعا سے فارغ ہو کر ”اللہ اکبر“کہتے ہوئے سجدے میں چلے جائیں اور بقیہ نماز امام کی اقتداء میں اپنے معمول کے مطابق ادا کریں۔
وأنہ یقنت بعد الرکوع لا قبلہ، بدلیل أن ما استدل بہ الشافعي علی قنوت الفجر، وفیہ تصریح بالقنوت بعد الرکوع، حملہ علماوٴنا علی القنوت للنازلة، ثم رأیت الشرنبلالي في مراقي الفلاح صرح بأنہ بعدہ؛ واستظھر الحموي أنہ قبلہ، والأظھر ما قلناہ، واللّٰہ أعلم․ (حاشیة ابن عابدین، کتاب الصلاة ، مطلب:في القنوت للنازلة: 2/542، دار المعرفة، بیروت)
وھل المقتدي مثلہ أم لا؟ و ھل القنوت ھنا قبل الرکوع أم بعدہ ؟ لم أرہ․ والذي یظھر لي أن المقتدي یتابع إمامہ، إلا إذا جھر، فیوٴمن․ (حاشیة ابن عابدین، کتاب الصلاة ، مطلب:في القنوت للنازلة: 2/542، دار المعرفة، بیروت)
”مسئلہ مجتہد فیہ ہے، دلائل سے دونوں طرف (یعنی: پہلی دو صورتوں کی طرف)گنجائش ہے اور ممکن ہے کہ ترجیح قواعد سے وضع(ہاتھ باندھنے) کو ہو۔کما ھو مقتضیٰ مذہب الشیخین، لیکن عارضِ التباس و تشویشِ عوام کی وجہ سے اِرسال کو ترجیح دی جاسکتی ہے،کماھومذھب محمد“۔(بوادر النوادر، نوے واں نادرہ، تحقیق اِرسال یا وضع یدین در قنوتِ نازلہ:6/122،123، ادارہ اسلامیات)
دعائے قنوتِ نازلہ بہت سی روایات میں قدرے مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے ، ان سب کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ حالات کے مطابق علماء ِعصر نے ایک جامع دعا نقل کی ہے:
ترجمہ:یا اللہ ! ہمیں راہ دکھلا اُن لوگوں میں جن کو آپ نے راہ دکھلائی، اور عافیت دے اُن لوگوں میں جن کو آپ نے عافیت عطا فرمائی، اور کارسازی فرمائیے ہماری ان لوگوں میں جن کے آپ کارسازہیں، اور ہمیں ان چیزوں میں برکت عطا فرمائیے جو آپ نے ہمیں عطا فرمائی، اور ہماری ان چیزوں کے شر سے حفاظت فرمائیے جن کا آپ نے فیصلہ فرمایا، کیوں کہ آپ ہی فیصلہ کرنے والے ہیں، اور آپ کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، بے شک آپ جس کی مدد فرمائیں وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اور عزت نہیں پا سکتا وہ شخص جو آپ سے دشمنی کرے، اے ہمارے رب آپ بابرکت ہیں اور بلند و بالا ہیں۔ہم تجھ ہی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اورآپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرمائیے اس نبی پر جو بڑے کریم ہیں، اے اللہ! ہمارے اور موٴمن مردوں اور عورتوں کے اور مسلمان مَردوں اور عورتوں کے گناہ معاف فرما دے، اور ان کے دلوں میں باہم الفت پیدا فرمادیجیے، اور ان کے باہمی تعلقات کو درست فرمادیجیے، اور ان کے دلوں میں ایمان و حکمت کو قائم فرما دیجیے، اور ان کو اپنے رسول کے دین پر ثابت قدم رکھ، اور توفیق دے انہیں کہ شکر کریں آپ کی اس نعمت کا جو آپ نے انہیں دی ہے اور یہ کہ وہ پورا کریں آپ کے اس عہد کو جوآپ نے ان سے لیا ہے،اور ان کی اپنے اور ان کے دشمنوں کے خلاف مدد فرما، اے اللہ! ان کافروں اور مشرکوں پر لعنت فرما،خصوصاً روافض پر اور ان گروہوں پر جو ان کے نقشِ قدم پرچلتے ہیں اور منافقین پر جو آپ کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں، اور آپ کے اولیاء کو قتل کرتے ہیں،بالخصوص علماء، طلبہ اور عامة المسلمین کو، اے اللہ ! خود انہیں کے اندر آپس میں اختلاف پیدا فرما، اور ان کی جماعت کو متفرق کردے، اور ان کی طاقت پارہ پارہ کر دے، اور ان کے قدموں کو اُکھاڑ دے،اور ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دے ، اور ان کو ایسے عذاب میں پکڑ لے جس میں قوت و قدرت والا پکڑا کرتا ہے اور اُن پر اپنا ایسا عذاب نازل فرما جو آپ مجرم قوموں سے دور نہیں کرتے۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے جواہر الفقہ میں لکھا ہے کہ پانچوں نمازوں کے بعد امام اور مقتدی یہ دعا بھی مانگیں ، وہ دعاموجودہ حالات کے پیشِ نظر قدرے تغیرو تبدل کے ساتھ نقل کی جاتی ہے،
ترجمہ:اے اللہ! اے کتاب نازل کرنے والے! جلد حساب لینے والے! یا للہ! ان طاقتوں کو شکست دیدے، یا اللہ! اسلام ، مسلمان اور ان مجاہدین کی مدد فرما،جو تیرے راستے میں زمین کے مشرق و مغرب میں جہاد کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتے، یااللہ! ہماری حفاظت فرما، خاص طور پر طلبہ اور علماء کی اور عام طور پر عام مسلمانوں کی اور مدارس و تمام مراکز دینیہ کی حفاظت فرما۔ یا للہ! ہماری کمزوریوں پر پردہ دال دے اور خوف کی چیزوں سے ہم کو امن عطا فرما۔اور ہمیں اپنی اس طاقت کی پناہ میں لے جس کا کسی دشمن کی طرف سے بھی ارادہ نہیں کیا جاسکتا، اور ہماری مدد فرما اور ہمارے مقابل کی مدد نہ فرما اور ہم کو فتح دے، ہمارے مقابل کو فتح نہ دے، اور ہمارے مخالف کی مدد نہ فرما، اور ہم کو ہدایت عطا فرما، اور ہمارے لیے ہدایت کو آسان فرما، یا اللہ! ہم آپ ہی کے سامنے اپنی کمزوری ، بے سامانی اور لوگوں کی نظروں میں بے وقعتی کی شکایت پیش کرتے ہیں، کیوں کہ آپ کے عذاب سے نجات و پناہ بجز آپ کے کوئی نہیں دے سکتا۔
