Wednesday, 3 February 2016

کیا کہتا ہے بلھے شاہ ؟

ایس اے ساگر
دہشت گردی کے حوالہ سے ایک انگریزی روزنامہ نے نام نہاد وہابی اور صوفی ازم کی ایسی بحث چھیڑ دی ہے جس سے مسلم صفوں میں اتحاد کو مزید نقصان پہنچا ہے. اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا جب ایک نجی مجلس میں کسی صاحب نے مدرسہ کاشف العلوم کے شیخ الحدیث مولانا الیاس بارہ بنکوی سے کہا کہ صوفی ازم نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ہے. اس پر مولانا نے فرمایا کہ صوفی ازم نے اسلام کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ شریعت سے عاری صوفی ازم نے نقصان پہنچایا ہے.تقسیم وطن سے قبل پنجاب میں ایک ایسا ہی نام بلھے شاہ کا ہے. تاریخ کے اوراق الٹیں تو پتہ چلتا ہے کہ بلھے شاہ کا اصل نام عبداللہ اور والد کا نام سخی محمد درویش تھا اس کے آباواجداد ملکوال کے رہنے والے تھے جہاں سے ترک وطن کر کے قصور کے نزدیک ایک گاؤں پانڈوکی میں آبسے بلھے شاہ کی پیدائش اچ گیلانیاں 1680 میں ہوئی. اسے بدقسمتی کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے کہ  وہ بچپن میں واجبی سی ابتدائی تعلیم کے علاوہ مزید نہ پڑھ سکے جبکہ جوان ہوکر علم باطن کے چکروں میں الجھے اور یوں دینی تعلیم سے محروم ہوگئے۔ اور ایک صوفی شاہ عنایت کے مرید ہوگے۔ پریم سنگھ بیدی نے 1896 کے دوران شائع ہونے والی کتاب “ کافی ہائے بلھے شاہ“ میں بلھے شاہ کو ان پڑھ قرار دیا ہے .عجیب بات یہ ہے کہ بلھے شاہ اپنے سید ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں جیسا کہ اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں،
بلھنے نوں سمجھاون آئیاں بھیناں تے بھرجائیاں
آل نبی، اولاد علی، بلھیاں توں کیہ لیکاں لائیاں
بلھے شاہ کے مشاغل میں سب سے دل پسند مشغلہ ناچنا اور رقص کرنا تھا اور یوں وہ طریقیت کی چھتری تلے رقص کرکے اپنے ناتمام عشق کی بھڑاس نکالتے تھے ناچنے، گانے اور رقص وسرود کی بناء پر ان کی دوستی ناچنے گانے والے لوگوں سے خوب تھی. اس دور میں ایک طبلہ نواز فقیر بخش جو بابا دھنا کے نام سے مشہور تھا، بلھے شاہ کا ہمنوا تھا. جب بلھے شاہ گھنگرو باندھنے کے بعد چھن چھن رقص معرفت فرماتے تو یہ بابا دھنا خوب طبلہ بجاتا. یوں دونوں اپنی اپنی جدوجہد میں مصروف رہتے اور طریقیت کی سیڑھیاں چڑھتے جاتے منزلیں طے کرنے کا ذریعہ تھے یہی وجہ ہے کہ ان کاموں نے فلمی طبقہ کو ان کا عقیدت مند بنادیا ہے جس کی بناء پر ہرسال ان کے عرس (شادی) پر آکر وہ خوب بابا کے چلن یعنی “رقص ناچ گانے“ پر عمل کرتے ہیں. بابا کے عرس کہ جس کے معنی ہی شادی ہے، کے سلسلہ میں اہم بات یہ ہے کہ بلھے شاہ کی تو ساری زندگی شادی ہی نہ ہوسکی اور نہ انہوں نے شادی کی کیوں؟ کیا وجوہات تھیں؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن اہل طریقیت کے ہاں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے برعکس شادی نہ کرنا بھی ولایت کی ا یک بہت بڑی نشانی ہے. بہرحال، بابا بلھے شاہ کی شادی کی تو حقیقی شادی سے وہ مرتے دم تک محروم رہے جبکہ مرنے کے بعد اب ہر سال فلمی ادکارائیں اور اداکار ان کا عرس یعنی شادی کرتے ہیں. ایک بات یہ بھی ہے کہ بابا بلھا کی اگرچہ شادی تو نہ ہوسکی لیکن وہ عورتوں میں عشق مجازی اور حُسن کے ہمیشہ متلاشی رہے اس لئے ان کے کلام میں عورت بن کر شعر کہنا اپنے آپ کو عورت کے روپ میں ظاہر کرنا، جوان لڑکیوں کو مخاطب کرنا۔۔۔۔۔ عام طور پر پایا جاتا ہے جس کو عشق کا نام دیا جاتا ہے. بلھے شاہ کے کلام سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ شاید عشق مجازی کے ذریعہ عشق حقیقی تک رسائی کیلئے کسی دوشیزہ میں دلچسپی رکھتے تھے جو ان کے قریب وجوار میں موجود تھی اور چرخہ کاتا کرتی تھی. ان کے کلام میں اس کے متعلق کافی اشعار پائے جاتے ہیں ایک جگہ اس کو مخاطب کرکے یوں کہتے ہیں،
کر مان حسن جوانی دا
پردیس نہ رہن سیلانی دا
سانوں آمل یار پیاریا!۔
بلھے شاہ کا دور وہ تھا جب انگریز برصغیر میں اپنی مکروہ چالوں اور سازشوں کے ذریعہ قبضہ کرتا ہوا آندھی کی طرح بڑھتا چلا آرہا تھا، مسلمان تھے کہ اپنی آزادی کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے، مجاہدین سر پر کفن باندھے ہوئے تھے، لوگ علمائے کرام ، فقہاء، مشائخ صوفیا او گدی نشیں حضرات کی طرف کان لگائے ہوئے تھے کہ وہ جہاد کا حکم دیں تو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں. خون مسلم سے گلیاں بازار اور شہر لہو لہان تھے. اس وقت جب انگریز کی لگائی ہوئی آگ پنجاب تک آپہنچی، بچہ بچہ مضطرب وپریشان تھا۔۔۔۔۔۔۔ بلھنے شاہ۔۔۔۔ چونکہ حُسن وعشق اور محبوب پسند طبعیت کے مالک تھے اس لئے اس وقت وہ اپنے محبوب کی تعریف میں مگن تھے اور دنیا ومافیان سے بےخبر اس کو یوں پکارہے تھے۔
سانوں آمل یار پیار یا
درد کھلا حشر عذاب دا
برا حال ہو یا پنجاب دا
وچ ہاد یے دو زخ ساڑیا
سانوں آمل یار پیار یا
بلھے شاہ کے عقائد اور افکار کہ جو شریعت مطہرہ کے سراسر خلاف ہی نہ تھے بلکہ وہ ان کا مذاق بھی اڑاتے تھے جس کی تفصیل روح فرسا ہے. یہ عقائد ونظریات جب بلھے شاہ کے دور کے لوگوں کے علم میں آئے تو وہ بلھے شاہ سے سخت نفرت کرنے لگے۔ حتٰی کے جب ١٧٥٨ء میں بلھے شاہ نے وفات پائی تو علماء نے ان کا جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا اور عوام نے ان کا جنازہ نہ پڑھا حتٰی کہ ان کی میت تین روز تک قصور کے اس قبرستان میں جہاں آج دربار واقع ہے، بےیارومددگار نمونہ عبرت بنی پڑی رہی. تیسرے دن بلھے شاہ کے ایک ہم پیالہ وہم نوالہ پیرشاہ ہمدانی نے جو کسی کام کے سلسلہ میں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے، واپس آنے پر بلھے شاہ کا جنازہ پڑھوا کر ان کو اسی قبرستان میں دفن کردیا جہاں آج بلھے شاہ کا مزار واقع ہے .شروع میں یہ مزار سادہ قبر کی صورت میں تھا لیکن  1926 کے دوران یہاں کی ایک خاتون مراد بی بی نے اس کا پکا بنوا دیا ،یہ مراد بی بی کون تھی؟
یہ بعد میں پتہ چلا کہ وہ کوٹ مراد خان کی معروف طوائف اور رقاصہ تھی! کیسی بدقسمتی ہے کہ زندگی میں جو یاریاں تھی تو وہ ناچنے گانے والوں سے تھی پھر مزار بنا تو وہ بھی رقاصہ کے ہاتھوں سے اور آج وہاں میلہ لگتا ہے تو اس میلے میں بھی رقاصائیں اور ادکارائیں ہی زینت بخشتی ہیں۔
اب ذرا بلھے شاہ کے دربار کو دیکھئے ، ان کا کلام سنئے، پھر آپ خود فیصلہ کیجئے کے حق کیا ہے اور کہاں سے ملتا ہے؟ رہی بات بھانبڑ مچنے کی تو وہ تو اس وقت بھی مچایا گیا تھا جب اللہ کے خلیل امام الموحدین سیدنا ابراھیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے بزرگوں کی پتھر کی مورتیوں کو توڑ کر ان کی بےبسی کو ثابت کیا تھا اور سب لوگوں پر حق واضح کردیا تھا یہ بھانبڑ آج بھی بجتا ہے جب حق بات کہی جاتی ہے۔
شام تھیا تھیا! شام تھیا تھیا فلمی دنیا کی وہ مکروہ آواز ہے کہ جسے صنعت فحاشی کی ایک عورت نے گایا ہے اور فحاشی پھیلانے والی دوسری عورت پر اُسے فلمایا گیا ہے بسوں، ویگنوں اور بازاروں میں گونجتی ہے۔
تیرے عشق نچایا کرکے تھیا تھیا۔
تم کیا فلم کی طرح وہاں بھی ناچ ہوگا؟ گانا ہوگا؟ ڈآنس ہوگا؟ اور تھیا تھیا ہوگا؟۔۔۔۔۔۔ جی ہاں، مشہور بھجن نواز چنچل نے راج کپور کی فلم بابی میں لہک کر مدح سرائی کی ہے ...
بیشک مندر مسجد توڑو
بلھے شاہ یہ کہتا
پر پیار بھرا دل نہ توڑو
اس دل میں دلبر رہتا ...
کھلی ہوئی فحاشی کی تعلیم کا ہی نتیجہ تھا کہ یہ فلمی صنعت اور شائقین  نے بابا بلھے شاہ کے کلام سے خوب رہنمائی حاصل کی. “بلھے شاہ کہندے نین“ نامی کتاب یعنی بلھے شاہ کا کلام کا ایک بند کچھ اس طرح سے ہے،
چھپ گیا وے سورج، باہر رہ گئی آ لالی
وے میں صدقے ہواں، دیویں مڑجے دکھالی
پیرا! میں بھل گئیاں بیرے نال نہ گئیا
تیرے عشق بچایا کرکے تھیا تھیا۔
تھیا تھیا! رقص کا ایک انداز ہے کہ جس میں ایڑی زمین پر ماری جاتی ہے یہ انداز آج عرس کے موقع پر قصور میں پیش کیا جاتا ہے. قصور کی بلدیہ کا گراؤنڈ کچھا کھچ بھرا ہوا ...وہاں کی دیوار اور مکانوں پر جم غفیر ہوتا ہے. یہ سب تھیا تھیا دیکھنے جاتے ہیں۔
راتیں جاگن کُتے!
راتیں جاگیں، کریں عبادت
راتیں جاگن کتے، تیتھوں اتے
بھونکن توں بند، مول نہ ہندے
جا روڑی تے ستے تیتھوں اتے
اس شعری مجموعے کو پڑھنے کے بعد واضح ہوجائے گا کہ لوگ کیوں کہتے ہیں کہ میں تو فلاں دربار کا کُتا ہوں، کوئی کہتا ہے میں سگ (کتا) میراں ہوں اور کہتا ہے کہ میں مدینے کا کتا ہوں، بہرحال کتا مدینے کا ہو، ہے تو وہ کتا ہی.... وہ مدینے ہی کے ایک کتے کا بچہ تھا اسے حضرت حسن یا حسین رضی اللہ عنہ گھر میں لے آئے. اب حضرت جبریل علیہ السلام وعدے کے باوجود نہ آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوئے بعد میں پتا چلا کہ گھر میں تو کتے کا بچہ تھا ،چنانچہ صحیح بخاری ومسلم میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو۔
اب ایسے ناپاک اور نجس جانور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کا چلن اہل دربار میں کیوں معروف ہے، یہ تو اصحاب طریقیت ہی بتلا سکتے ہیں ہم کہیں گے اگر مزید لب کشائی کی گئی تو پھر شکایت ہوگی اور شاید کوئی فتوٰی لگادیا جائے کہ جی یہ تو گستاخ ہیں ،معرفت واسرار کی باتوں کو یہ کیا جانیں؟
لیکن اس کا کیا کیجئے کہ مذکورہ بالا اشعار ایک مومن کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں کہ جن میں انتہائی بے باکی سے کتے کو ان لوگوں سے برتر بنا دیا گیا ہے کہ جو اللہ کے بندے اپنی راتیں اللہ کی محبت اور یاد میں نفل ونوافل میں رو رو کر گزارتے ہیں۔
بلھے شاہ کا کلام پڑھیں تو اندازہ ہوگا کہ وہ یار کو منانے کیلئے ناچا کرتے تھے. کم از کم ان کے کلام سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے،
بلھا! شوہ نے آندا مینو عنایت دے بوہے
جس نے مینوں پوائے چولے ساوے تے سو ہے
جاں میں ماری ہے اڈی مل پیا ہے دھیا
تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا
جبکہ بلھے شاہ کا پیر یعنی بابا عنایت شاہ کا دربار فاطمہ جناح روڈ لاہور میں. بدقسمتی سے یہ دربار مسجد اور محراب کے سامنے چھت کے بالکل وسط میں بنایا گیا ہے. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہوئے ایمان والوں کی اماں جان حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں۔
اُم سلمہ رضی اللہ عنھا نے حبشہ میں عیسائیوں کا گرجا دیکھا جس میں تصاویر بھی آویزاں تھیں تو اس کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،
ان میں جب کوئی نیک آدمی مرجاتا ہے تو یہ لوگ اس کی قبر کے پاس عبادت گاہ تعمیر کردیتے پھر اس میں اس شخص کی تصاویر لٹکا دیتے، آٌپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ لوگ اللہ کے ہاں بدترین مخلوق ہیں
(رواہ بخاری ومسلم)۔
چٹی چادر لاسٹ کڑئیے!۔
اگر کبھی کسی نے عابدہ پروین جو اپنی گلوکار ماں زاہد پروین کی گلوکارہ بیٹی ہیں، بلھے شاہ کا کلام سنا ہو جو انہوں نے گایا تھا، کچھ یوں ہے۔
رانجھا رانجھا کردی ہن میں آپے رانجھا ہوئی
سدو مینو دھیدورانجھا ہیر نہ آکھو کوئی
چٹی چادر لا سٹ کڑیئے
پہن فقیراں لوئی
چٹی چادر داغ نہ کوئی
غور فرمایائیے، سفید چادر تو شریعت ہے کلام میں خلاف شرع کام کیا تو فورا داغ لگے گا، مگر لوئی جو صوفیت کا نشان ہے اس پہ جو مرضی لگتا رہے اس داغ کا پتہ نہیں چلتا، لہذا تصوف میں جو بھی کیا جائے اس کے بارے میں کہہ دیا جائے گا کہ جی یہ معرفت کی باتیں ہیں ظاہر کچھ نظر آتا ہے مگر باطن میں اس کا مطلب کچھ اور ہے لہذا اس پر مت بولو، ولی صاحب کی توہین ہوگی .چنانچہ “رانجھا رانجھا کردی“ بولے گئے اللہ کی پناہ۔۔۔۔
بابا بلھے شاہ کا مزید کلام!
رانجھا میں وچ، میں رانجھے وچ
غیر خیال نہ کرو کوئی
میں نہیں اوہ آپ ہے، اپنی آپ کرے دلجوئی
رانجھا رانجھا کردی ہن میں آپے رانجھا ہوئی
بلھے شاہ کے دربار پر!
درباری چادر فضیلت کے جسے بلھے شاہ نے لوئی کہا ہے ،اس کے تقدس میں لپٹی ہوئی محفل پر غور کیجئے، حضرت رانجھا اور محترمہ مائی ہیر صاحبہ کے مقدس تذکرے کا سماع بھی ملاحظہ فرمائیے، دربار کی داستان بھی سنئے،
ٹھگوں کا ٹھگ کون ہے؟
جی ہاں بلھے شاہ کے دربار پر۔۔۔۔۔
یہ ہے وہ قوال۔۔۔۔
اور یہ ہیں قوالیاں اور یہ ہیں سماع اور سماع محفل کے جس کا اور درباروں کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور طریقیت کا یہ مضمون تب تک مکمل نہیں ہوپاتا تاوقتیکہ کہ شراب شباب کی حمایت میں شریعت کے ساتھ مذاق کا عنوان نہ بندھے اس لئے بلھے شاہ کہہ رہا ہے۔
بلھیا پی شراب تے کھا کباب
پر بال ہڈاں دی اگ
چوری کر، تے بھن گھر رب دا
ایس ٹھگاں دے ٹھگ نوں ٹھگ
اللہ کی پناہ۔۔۔۔۔ کہ شراب اور کباب کھانے کے بعد چوری اور پھر صاحب عرش عظیم کو اس قدر گالی کہ مولا کریم کو “ٹھگوں کو ٹھگ“ کہے۔۔۔۔۔۔ اور یار لوگ ایسے شخص کو ولی مانیں اور جب ہم ان گستاخیوں پر تنبیہ کریں تو ہمیں گستاخ کہیں؟
واللہ اعلم،
اب آپ خود فیصلہ کیجئے کہ امت کہاں کھڑی ہے!
(بشکریہ صراط الہدی )

کیا زمین ساکن ہے؟

سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو دوبارہ زیر بحث ہے اس ویڈیو میں سعودی عالم نے زمین کی گردش پر اعتراض اٹھایا ہے اس کے پیش نظر سوچا گیا کہ دوبارہ اس اعتراض کا جواب دیا جائے۔  عام طور پر لوگوں میں اشکال پایا جاتا ہے کہ اگر زمین مغرب سے مشرق کی جانب گردش کر رہی ہے تو اگر ایک پرندہ مغرب سے مشرق کی جانب اڑے گا تو چونکہ زمین بھی مغربی جانب جارہی ہے تو وہ پرندہ ایک مقام پر رہے گا کیوں زمین بھی اس کے ساتھ ساتھ حرکت کر رہی ہے ۔ یہی مثال ہوائی جہاز کی لے لیں کہ جس طرف جہاز جارہا ہے زمین بھی اسی جانب جارہی ہے لہذا اگر زمین واقعی گردش کر رہی ہوتی تو جہاز ایک ہی مقام پر رہتا ۔   ان سب سوالات کا آسان سا جواب ہے کہ زمین کی گردش میں پورا کرۂ ہوا یعنی فضا ، پرندے اور ہوائی جہاز سب شریک ہیں زمین اپنی فضا کے ساتھ اپنے محور پر گھوم رہی ہے پرندے اور ہوائی جہاز کی انفرادی حرکت اس کے علاوہ ہے ۔اسی انفرادی حرکت کی وجہ سے وہ بلا روک ٹوک مغربی یا مشرقی منزل پر سفر کرتے ہیں۔
اسی بات کو آپ دو اور مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں ایک یہ کہ اگر آپ تیز رفتار ٹرین پر سفر کر رہے ہوں اور آپ ٹرین کے اندر ہی ایک گیند کو ہوا میں اچھالیں تو کیا وہ گیند آپ کے ہاتھوں میں آئے گی یا ٹرین کی رفتار کی وجہ سے پیچھے چلی جائے گی؟
آپ اس کا تجربہ کرلیجئے گا گیند آپ کے ہاتھوں میں ہی آئے گی کیوں کہ ٹرین کی رفتار  میں آپ اور آپ کی گیند بھی شریک ہے گیند اوپر جانے کے ساتھ ساتھ ٹرین کی رفتار سے آگے بھی جارہی ہے اسی وجہ سے آپ کے ہاتھوں میں ہی آئے گی.
اسی طرح اگر آپ ایک تیز رفتار ٹرک کے پچھلی جانب کھڑے ہوں اور ٹرک کی اوپر کی چھت نہ ہو تو اگر آپ اونچی چھلانگ لگائیں تو ایس نہیں ہوگا کہ ٹرک تیز رفتاری کی وجہ سے نیچے سے ہٹ جائے گا اور آپ روڈ پر گر جائیں گے بلکہ آپ ٹرک پر ہی گریں گے.
اس بات کو آپ فزکس (طبعیات) کے ایک قانون (جسے نیوٹن کا پہلا قانون حرکت یا انرشیا Inertia بھی کہا جاتا ہے) سے سمجھ سکتے ہیں اس قانون کے مطابق کوئی بھی ساکن جسم حالت سکون میں رہے گا اور کوئی بھی متحرک جسم حالت حرکت میں رہے گا جب تک کوئی بیرونی قوت اس پر اثر انداز نہ ہو.
سعودی عالم نے اپنے اس بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ زمین کا گردش کرنا قرآن کے خلاف ہے حالانکہ قرآن مجید میں ایسی کوئی واضح آیت نہیں جس میں اس بات کا ذکر ہوکہ زمین اپنے محور کے گرد گردش نہیں کر رہی اور ساکن ہے۔   انہوں نے دو عالم دین کا بھی حوالہ دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ زمین ساکن ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں ایسے علما گزرے ہیں جن کو فلکیات کے فن میں مہارت تھی ان سب نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ زمین ساکن نہیں بالکہ اپنے محور پر گردش کررہی ہے اور انہوں نے اسی اعتراض کے مدلل جواب بھی دئے ہیں۔  زمانہ قریب میں ایک جید عالم دین گزرے ہیں جن کو دینی اور دنیاوی علوم پر دسترس حاصل تھی جو فلکیات قدیمہ اور جدیدہ دونوں کے ماہر تھے ان کو دنیا مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ کے نام سے جانتی ہے انہوں نے اپنی کتاب "فلکیات جدیدہ" میں زمین کی محوری گردش پر کافی بحث کی ہے اور معترضین کو مدلل جواب بھی دئے ہیں ۔  ہوسکتا ہے کہ جن علما کا سعودی مفتی نے حوالہ دیا ہے انہوں نے اس زمانے کے علما کا قول نقل کیا ہو جس زمانے میں سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی اور اس قسم کے اہم سائنسی مسائل بھی اس وقت تک حل نہیں ہوئے تھے ۔ اب تو سائنس نے اتنی ترقی کی ہے کہ ہر چیز کھل کر سامنے آگئی ہے ۔ زمین کا اپنے محور کے گرد گھومنا مسلمات اور یقینی حقاٗئق میں سے ہے لہذا آج کل کے ترقی یافتہ دور میں کسی کا یہ کہنا کہ زمین ساکن ہے ایک فضول اور بےکار بات ہے اور زمینی حقائق سے نا آشنہ ہونے کی دلیل ہے ۔ یہ ایک حل شدہ مسئلہ ہے لہذا علما کرام کو ان حل شدہ شدہ قدیم مسائل کو چھیڑنا نہیں چاہئے اس سے عالم اسلام کی جگ ہنسائی ہوتی ہے ۔

اذان کی برکت

ایس اے ساگر 

اس میں کیا شک ہے کہ اگر انسان سچے دل سے اللہ کو پکارے تو وہ ضرور سنتاہے ۔ ممبئی کے ملنڈ علاقے میں حالیہ سانحہ نے اسے ایک بار پھر ایمان کو جلا بخشی ہے. ایک کالج کے طلبا سمندر میں پکنک منانے  گئے ہوئے تھے جہاں ان کی ناؤ پلٹ گئی .تقریبا سبھی سوار غرقاب ہوگئے ۔رسکیو آپریشن کیا گیا مگر کوئی لاش نہ مل سکی.  آرمی اور پولس اپنی جستجو میں ناکام ہوگئے.دریں اثنا وہاں کے مقامی علماء کرام پہنچے اور انہوں نے پولس والوں سے کہا کہ اگر ہم آپ کے کام میں مدد کریں تو آپ منع تو نہیں کریں گے؟ لیکن پولس والوں نے صاف انکار کردیا کہ نہیں آپ لوگوں کو سمندر میں جانے کی اجازت نہیں ہے. آخر چار گھنٹہ مسلسل کوشش کے باوجود پولس والے کامیاب نہ ہوسکے اور عوام کے دباؤ کے بعد انہوں نے ان مولانا لوگوں کو اجازت دے دی. یہ علمائے کرام ایک چھوٹی سی ناؤ میں سوار ہوکر اس جگہ پہنچے جہاں ان طلبا کی ناؤ ڈوبی ہوئی تھی۔ انہوں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر بآواز بلند اذان دینی شروع کردی. تین مرتبہ اذان دینے کے بعد اللہ تعالی نے اپنی قدرت کا وہ کرشمہ دکھایا جس سے تمام لوگوں کی آنکھیں پھٹی کی پٹھی رہ گیئں ۔غرقاب لاش اپنے آپ اوپر آگئی ۔ نعرہ تکبر اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی ۔وہاں موجود غیر مسلم یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ مسلمانوں کے رب بہت بڑی قدرت والے ہیں۔ اور ہمیشہ ان کیساتھ رہتے ہیں۔ ذرا ذرا سے بہانوں کی آڑ لیکر اسلام پر کیچڑ اچھالنے والے بین الاقوامی اور قومی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا ہے تاہم  ممبئی کے تمام مراٹھی اخباروں نے اسے نمایاں جگہ دی ہے۔ کسی کو شک ہو تو وہ ذیل میں شائع اخبارات کے تراشے ملاحظہ کرسکتا ہے. 

Aap sabhi hazraat ko pataa hai k MURUD me ek Saanehaa hua hai, jisme Takreeban 14 JAWAANO ki maut hui hai...
Isme ek Khaas baat ye batani hai k bohot koshish karne k baad bhi 1 Laash nahi Mil rahi thi,
Gotaakhor pareshan ho gaye the,
To waha k local Musalmano ne Gotaakhor aur police walo se kaha k Aap Ijaazat de to ham log waha jaa kar AZAAN de, jaha Laash dubi hui hai,
Wo log bhi dhoon dhoon k pareshan ho gaye the, to unho ne Ijaazat de di,
To 2 Musalman chhoti Boat me aage badhe aur jaha Laash dubi hui thi waha pohach kar AZAAN dena shuru kar diya,
Jab 3 AZAAN mukammal hui, to ALLAH TA'ALA k Fazl-o-karam se Laash khud ba khud upar aa gayi,
Waha par maojud tamaam hazraat ne ALLAH TA'ALA ki QUDRAT aur MADAD ko Apni Aankho se dekha,
Aur Har ek ne  AZAAN ki TAAKAT ko Apni Aankho se dekha,
Hamare Watani bhai bhi kehne par majboor ho gaye k MUSALMANO K SAATH ALLAH TA'ALA KI MADAD HAI...
Kabhi kabhi ALLAH ta'ala Apni QUDRAT ko khol khol kar dikha deta hai, taake har INSAAN Ibrat haasil kare aur sahi RAAH par aa jaye...
ALLAH TA'ALA se dua hai k Allah ta'ala Marhumeen ki magfirat farma aur unke ghar walo ko Sabr-e-jameel Ata farma... Ameen

Monday, 1 February 2016

Sass Ki Khidmat

SAAS KI KHIDMAT KARNA BEHTAR HAI.

AAJ KA SAWALNO.591.

Saas ki khidmat shar'an zaruri nahin lekeen shauhar maaldaar na ho ke khadim rakhe aur khud karobar me mashgul rehta ho to bivi ko kiya karna chahiye ?

🔵JAWAB🔵

Mazkoorah surat me bhi na to shauhar bivi ko khidmat par majboor kar sakta hai na to  saas zabardasti khidmat le sakti hai, lekin jab mavqah aesa ho to shari'at akhlaq ki bhi taleem deti hai.
shauhar maaldaar ho aur khadim rakh bhi sakta ho fir bhi bivi bila kahe  khidmat karegi to shauhar saas aur tamaam gharwalon ke dilon me us ki muhabbat, qadar aur martabaa badhega aur sab ke dil aapas me judenge aur bivi allah ke qurb aur ajro sawab ki mustahiq hogi khususan saas sasur muhtaj ho to khidmat karna behtar hai ek din ye miya bivi bhi saas aur sasur banenge yeh khidmat karenge to in ki aanewali awlad bahu bhi khidmat karegi khulasa ye hai is bare me na to saas khidmat ko apna haq samjhe na to bahu fatwe ko lekar apne akhlaqi fareezah se gaflat aur be rukhi barte balke saas bahu ki khidmat ko bahu ka aehsaan samjhe us khidmat me kuchh kotahi ya kami ho to gussa karne aur baras ne ke bajaaye dar  guzar aur chashm poshi (let go) se kaam le aur us ki khidmat par taareef kare duaayen den aur us ka hadiye ki surat me kuchh badla bhi de aur Saas bahu ko apni beti aur bahu saas ko apni maa samjhe aur khidmat ke mavqe ko ganimat samjhe aur un ki duaa le aur us par kuchh zayadati ho to sabr se kaam le aur us par allah ki khushnudi aur apne darje ki buland hone ki allah se ummeed rakhe.

📘MISAALEE DULHAN SAFA  307 se 311 KA KHULASAH

📝 IMRAN ISMAAIL MEMON
DAARUL ULOOM RAAMPURA SURAT
Roman Urdu me masaail dekhne ke liye zarur dekhiye

www.aajkasawal.page.tl
Hamre Sabhi Sawal jawab Aur Bhi baht kuch Message pane Ke liyA Islamic GrouP Application download Kre.. 👇🏿

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.islam.group

Fazail-E-Aamal Par Ilzamat Kiyo?

Fazail-E-Aamal Par ilzamat K Jawabat

👉1⃣ Kya Karaamaat Ke Zikr Se Shirk Phail Raha Hai?👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/02/07/kya-karaamaat-ke-zikr-se-shirk-phail-raha-hai/

👉2⃣ Fazaile Aamal me kuch waqiyat aise he jo namumkin hai…!👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/25/fazaile-aamal-me-kuch-waqiyat-aise-he-jo-namumkin-hai/

👉3⃣ Fazaile Aamal me Auliya Allah ke liye aisi Cheezon ko sabit kiya gaya hai Jo Anbiya (alaihim assalaam) aur Sahaba-e-Kiraam (raziallahu anhum) ke liye bhi Zaahir Na Hui.👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/25/fazaile-aamal-me-auliya-allah-ke-liye-aisi-cheezon-ko-sabit-kiya-gaya-hai-jo-anbiya-alaihim-assalaam-aur-sahaba-e-kiraam-raziallahu-anhum-ke-liye-bhi-zaahir-na-hui/

👉4⃣ Faza’il-e-A’maal Me Maujood Ahadees Ki Takhreej👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/24/fazail-e-amaal-me-maujood-ahadees-ki-takhreej/

👉5⃣ Ulama e Deoband (Hazrat Maulana Zakariyya Rh.) Par Aiteraaz (ke (Nauzbillah) Fazail e Amaal Likhte Waqt Aap Pagal The.) Ka Jawaab.👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/23/ulama-e-deoband-hazrat-maulana-zakariyya-rh-par-aiteraaz-ke-nauzbillah-fazail-e-amaal-likhte-waqt-aap-pagal-the-ka-jawaab/

👉6⃣ IMAM AHMAD BIN HAMBAL [RAH] KA KHWAB ME ALLAH TAÁLA KI ZIYARAT KARNA👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/12/imam-ahmad-bin-hambal-rah-ka-khwab-me-allah-taala-ki-ziyarat-karna/

👉7⃣ Fazail E Namaz Safa No:10 ALLAH Taala Ne Malikul Maut Ko Bhejne Ke Baad Wapas Bula Liya👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/04/fazail-e-namaz-safa-no10-allah-taala-ne-malikul-maut-ko-bhejne-ke-baad-wapas-bula-liyaatraz-ka-jawab/

👉8⃣ EK WAQIA [SAHABA KO CHALLENGE KARNE KA SHUBAH]

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/04/ek-waqia-sahaba-ko-challenge-karne-ka-shubahatraz-ka-jawab/

👉9⃣ Vitar Ki Ek Rakaat Me Tamaam Quraan Majeed Khatam…Kya Yeh Mumkin Hai?

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/04/vitar-ki-ek-rakaat-me-tamaam-quraan-majeed-khatam-kya-yeh-mumkin-hai-atraz-ka-jawab/

👉1⃣0⃣ Fazail E Darud Safa No:109Gair Mehram Aurat Ke Pait Par Nabi Sallallaho Alehi Wasallam Ne Haath Phera (Astagfirullah)👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/03/fazail-e-darud-safa-no109gair-mehram-aurat-ke-pait-par-nabi-sallallaho-alehi-wasallam-ne-haath-phera-astagfirullahatraz-ka-jawab/

👉1⃣1⃣ “Walaqad Yassarnal Qur’aana Lizzlkri Fahal Mim Muddakkir” Ke Tarjume Me Tahreef (Changes) Ki Gayi Hai👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/03/walaqad-yassarnal-quraana-lizzlkri-fahal-mim-muddakkir-ke-tarjume-me-tahreef-changes-ki-gayi-haiatraz-ka-jawab/

👉1⃣2⃣ Fazail-E-Namaz Mein Imam Abu Hanifa [Rha] Ek Raat Me 1000 Rakaat Padhte Thay..

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/02/fazail-e-namaz-mein-imam-abu-hanifa-rha-ek-raat-me-1000-rakaat-padhte-thay-atraz-ka-jawab/

👉1⃣3⃣ 40 Baras Tak Isha K WazooSe Fajr Ki Namaz Padhne

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/02/40-baras-tak-isha-k-wazoose-fajr-ki-namaz-padhne-ka-jawab/

👉1⃣4⃣ Girte Paani Se Jhadte Gunha Imaam Abu Hanifa(Rha) Dekh Lete The

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/01/12fazail-e-aamal-par-atrazgirte-paani-se-jhadte-gunha-imaam-abu-hanifarha-dekh-lete-the-fazail-e-aamal-ka-dawaka-jawab/

👉1⃣5⃣ Fazael e Aamaal me Shirkiya Ibarat Aetraz ka Jawab

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/01/11fazail-e-aamaal-par-atrazulama-e-deoband-mufti-rasheed-ahmedgangohi-rha-aur-shaikh-ul-hadees-rha-aur-fazaile-amaal-key-andar-shirkiya-baatein-maujoodhoney-ka-saboot-jo-main-hoon/

👉1⃣6⃣ Fazail-e-Aamal Aur Fazail-e-SadaqaatMein Kuch Waaqiat Aise Hai Un SeShirk Wa Bid’at Ka Darwaaza KhultaHai Ka Jawab👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/01/10fazail-e-aamal-par-atrazfazail-e-aamal-aur-fazail-e-sadaqaat-meinkuch-waaqiaat-aise-hai-jo-na-mumkinaat-mese-hai-aur-un-se-shirk-wa-bidat-ka-darwaazakhultahaika-jawab/

👉1⃣7⃣ Aitraaz KeKa’bah Ulema-e-Deoband Ki ZiyaratKarne Aata Hai Aur Asal Haqeeqat 👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/01/9fazail-e-aamal-par-aitraaz-ke-kabah-ulema-e-deoband-ki-ziyarat-karne-aata-hai-aur-asal-haqeeqatka-jawab/

👉1⃣8⃣ EkWaqeah Manqool Hai..Jis Se DuniyaMe Zaat-E-Baari Ta”la Ki Ziyarat KaTahaqquq Sabit Hota Hai 👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2014/01/01/8fazail-e-aamal-par-atrazhazratmaulana-zakariyah-rha-ne-ekwaqeah-manqool-hai-jis-se-duniya-me-zaat-e-baari-tala-ki-ziyarat-ka-tahaqquq-sabit-hotahai-ka-jawab/

👉1⃣9⃣ HazratShaikh Ne Baaz Sahaba [R.a] KTaraf Nabi Pak [SAWS] KeKhoon Peene Ki Nisbad Ki Hai AurKhoon Na-Pak Hai

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2013/12/31/7fazail-e-aamal-par-atrazhazrat-shaikh-ne-baaz-sahaba-r-a-k-taraf-nabi-kareem-saws-ke-khoon-peene-ki-nisbad-ki-hai-aur-khoon-na-pak-hai-ka-jawab/

👉2⃣0⃣ HazartShaikh [Rha] Ne Aisa Waaqiya NaqlKiya Hai Jisme Aal-E-Rasool KiTanqees Laazim Aati Hai Ka Jawab👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2013/12/30/6fazail-e-aamal-par-atrazhazart-shaikh-rha-ne-aisa-waaqiya-naql-kiya-hai-jisme-aal-e-rasool-ki-tanqees-laazim-aati-haika-jawab/

👉2⃣1⃣ Hazrat Aadam [A.S] Ne Huzur S.A.W K Waseele Se Dua Mange Atraz Ka Jawab👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2013/12/30/5fazail-e-aamal-par-atrazathazrat-aadama-s-ne-huzur-s-a-w-k-waseele-se-dua-mangees-hadees-par-atraz-ka-jawab/

👉2⃣2⃣ Fazail E Aamal Aur Fazail E Sadqaad Me Kuch Hadees Zaeef Bhi Hai Ka Jawab

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2013/12/30/4fazail-e-aamal-par-atrazatfazail-e-aamal-aur-fazail-esadqaad-me-kuch-hadees-zaeef-bhihai-ka-jawab/

👉2⃣3⃣ Hazrat Shaikh (Rha) Ne Hazrat Hanzalah (R.A) Ke Waaqiaat Me Tazaad Bayaan Kiya Hai

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2013/12/30/3fazail-e-aamal-par-atrazat-hazrat-shaikh-rha-nehazrat-hanzalah-r-a-ke-waaqiaatme-tazaad-bayaan-kiya-hai-ek-waaqieme-hazrat-hanzalah-r-a-ke-beewibachchon-ka-zikr-hai-aur-doosrewaaqie-m/

👉2⃣4⃣ Kuch Hadeeso Ka Hazrat Shaikh [Rha] Ne Hawala pesh Nahi Kiya👇

👉 http://tahaffuzeahlesunnatpune.wordpress.com/2013/12/30/2fazail-e-aamal-par-atrazat-fazail-e-aamal-aur-fazail-esadqaad-me-kuch-hadeeso-ka-hazratshaikh-rha-ne-hawala-pesh-nahikiya-ka-jawab/

شب معراج منانے کا کیا ہے حکم؟

رجب كى ستائيسويں رات كو اسراء و معراج كا جشن منانے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اسراءاور معراج كى شب اللہ عزوجل كى ان عظيم الشان نشانيوں ميں سے ہے جونبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم كى صداقت اوراللہ کے نزديک آپ کے عظيم مقام ومرتبہ پر دلالت کرتي ہے، نيز اس سے اللہ عزوجل كى حيرت کن قدرت اور اس کے اپني تمام مخلوقات پر عالى وبلند ہونے کاثبوت ملتا ہے.

اللہ تعالى نے فرمايا:

{سبحان الذي أسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى الذي بارکنا حوله لنريه من آياتنا إنه هوالسميع البصير }الاسراء (1).

پاک ہے وہ اللہ تعالى جواپنے بندے کو رات ہي ميں مسجد حرام سے مسجد اقصى تک لے گيا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھي ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپني قدرت کے بعض نمونے دکھائيں، يقينا اللہ تعالى ہي خوب سننے والا اور ديکھنے والا ہے.

رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم کو آسمان پر لے جاياگيا، آپ صلى اللہ عليہ وسلم كى خاطر آسمانوں کے دروازے کھولے گئے يہاں تک کہ ساتويں آسمان سے آگے گزر گئے، وہاں پر آپ کے رب نے اپنے ارادہ کے مطابق آپ سے گفتگو فرمائي اور پانچ وقت كى نمازيں فرض کيں، اللہ عزوجل نے پہلے پچاس وقت كى نمازيں فرض کيں تھيں،پھر ہمارے نبي محمد صلى اللہ عليہ وسلم بار بار اللہ کے پاس جاتے اور تخفيف کا سوال کرتے رہے يہاں تک کہ اللہ تعالى نے اسے باعتبار فرضيت پانچ وقت كى کرديا اوراجر وثواب پچاس نمازوں ہي کا باقي رکھا، کيونکہ ہر نيكى دس گنا بڑھائي جاتي ہے لہذا اللہ تعالى ہي تمام تر نعمتوں پر حمد وشکر کا سزا وار ہے.

يہ رات جس ميں اسرا ومعراج کا واقعہ پيش آيا اس كى تعيين کے بارہ ميں کوئي صحيح حديث وارد نہيں ہے، بلکہ اس كى تعيين ميں جو روايتيں بھي آئي ہيں محدثين کے نزديک نبي صلي اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں ہيں، اور اس شب کو لوگوں کے ذہنوں سے بھلا دينے ميں اللہ تعالى كى کوئي بڑي حکمت ضرور پوشيدہ ہے، اور اگر اس كى تعيين ثابت بھي ہو جائے تو مسلمانوں کے لئے اس ميں كسى طرح کا جشن منانا يا اسےكسىعبادت کے لئے خاص کرنا جائز نہيں ہے، کيونکہ نبي صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ کرام نےنہ تو اس ميں كسى طرح کا کوئي جشن منايا اور نہ ہي اسے كسى عبادت کے لئے خاص کيا، اور اگر اس شب ميں جشن منانا اور اجتماع کرنا شرعا ثابت ہوتا تو نبي صلي اللہ عليہ وسلم اپنے قول يا فعل سے اسے امت کے لئے ضرور واضح کرتے، اور اگر عہد نبوي يا عہد صحابہ ميں ايسي کوئي چيز ہوتي تو وہ بلا شبہ معروف ومشہور ہوتي اور صحابہ کرام اسے نقل کرکے ہم تک ضرور پہنچاتے کيونکہ انہوں نے نبي صلى اللہ عليہ وسلم سے نقل کرکے امت کو ہر وہ بات پہنچائي جس كى امت کو ضرورت تھي، اوردين کے كسى بھي معاملہ ميں کوئي کوتاہي نہ كى بلکہ وہ نيكى کے ہرکام ميں بڑھ چڑھ کر حصہ لينے والے تھےچنانچہ اگر اس شب ميں جشن منانے اور محفل معراج منعقد کرنے كى کوئي شرعي حيثيت ہوتي تو وہ سب سے پہلے اس پر عمل کرتے.

نبي صلى اللہ عليہ وسلم امت کے سب سےزيادہ خيرخواہ تھے، آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے پيغام الہي کو پورے طور پر پہنچا کرامانت كى ادائيگي فرمادي، لہذا اگر اس شب كى تعظيم اور اس ميں جشن منانا دين اسلام سے ہوتا تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم قطعا اسے نہ چھوڑتے اور نہ ہي اسے چھپاتے، ليکن جب عہد نبوي اور عہد صحابہ ميں يہ سب کچھ نہيں ہوا تو يہ بات واضح ہوگئى کہ شب معراج كى تعظيم اور اس کے اجتماع کا دين اسلام سے کوئي واسطہ نہيں ہے، اللہ تبارک وتعالى نے اس امت کے لئے اپنے دين كى تکميل فرما دي ہے، اور ان پر اپني نعمت کا اتمام کرديا ہے، اور ہراس شخص پرعيب لگايا ہے جو مرضي الہي کے خلاف بدعات ايجاد کرے.

اللہ سبحانہ وتعالى نے اپني کتاب مبين قرآن کريم ميں سورۃ المائدہ کے اندر فرمايا:

{ اليوم أکملت لکم دينکم وأتممت عليکم نعمتي ورضيت لکم الإسلام دينا }المائدۃ ( 5 / 3 ).

آج ميں نےتمہارےلئےدين کوکامل کرديا، اور تم پر اپنا انعام پورا کرديا اور تمہارے لئے اسلام کے دين ہونےپر رضامند ہوگيا.

اور اللہ عزوجل نے سورۃ الشورى ميں فرمايا:

{ أم لهم شرکاء شرعوا لهم من الدين مالم يأذن به الله ولولا کلمة الفصل القضي بينهم وإن الظالمين لهم عذاب أليم }الشورى ( 42 / 21 ).

کيا ان لوگوں نے ايسے ( اللہ کے ) شريک ( مقرر کر رکھے ہيں جنہوں نے ايسے احکام دين مقرر کردئے ہيں جواللہ تعالى کے فرمائے ہوئے نہيں ہيں، اگر فيصلہ کے دن کا وعدہ نہ ہوتا تو ( ابھي ہي ) ان ميں فيصلہ کر ديا جاتا، يقينا ( ان ) ظالموں کے لئے ہي درد ناک عذاب ہے.

رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح احاديث ميں بدعات سے بچنے كى تاکيد اور اس کے گمراہي ہونے كى صراحت ثابت ہے، تاکہ امت کے افراد ان کے بھيانک خطرات سے آگاہ ہو کر ان کے ارتکاب سے پرہيزواجتناب کريں.

چنانچہ صحيح بخاري ومسلم ميں حضرت عائشہ رضي اللہ عنہا سے مروي ہے کہ رسول صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

" من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد "

جس نے ہمارے اس دين ميں کوئي نيا کام نکالا جو ( دراصل ) اس ميں سے نہيں ہے وہ ناقابل قبول ہے.

اور صحيح مسلم كى ايک روايت ميں يہ الفاظ ہيں کہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد "

جس نے کوئي ايسا عمل کيا جو ہمارے اسلام ميں نہيں تو وہ ناقابل قبول ہے.

اور صحيح مسلم ميں حضرت جابربن عبداللہ رضي اللہ عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم جمعہ کے دن اپنےخطبہ ميں فرمايا کرتےتھے:

" أما بعد فإن خير الحديث کتاب الله وخير الهدي هدي محمد صلى الله عليه وسلم وشر الأمور محدثاتها وکل بدعة ضلالة "

حمدوصلاۃ کے بعد: بيشک بہترين بات اللہ كى کتاب اور سب سے بہتر طريقہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم کا طريقہ ہے، اور بدترين کام نئي ايجاد کردہ بدعتيں ہيں اورو ہر بدعت گمراہي ہے.

اور سنن ميں حضرت عرباض بن ساريہ رضي اللہ تعالى عنہ سے روايت ہے وہ کہتے ہيں کہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں انتہائي جامع نصيحت فرمائي جس سے دلوں ميں لرزہ طاري ہوگيا اور آنکھيں اشکبار ہوگئيں، تو ہم نے کہا اے اللہ کےرسول صلى اللہ عليہ وسلم يہ الوداعي پيغام معلوم ہوتا ہے لہذا آپ ہميں وصيت فرمائيے آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" أوصيکم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن تأمرعليکم عبد فإنه من يعش منکم بعدي فسيرى اختلافا کثيرا فعليکم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين من بعدي تمسکوا بها وعضوا عليها بالنواجذ وإياکم ومحدثات الأمور فإن کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة "

ميں تمہيں اللہ سے ڈرتے رہنے، حاکم وقت كى بات سننے اور ماننے كى وصيت کرتا ہوں اگرچہ تم پر حبشي غلام ہي حاکم بن جائے، اور ميرے بعد جوشخص زندہ رہےگا وہ بہت سے اختلافات ديکھے گا، اس وقت تم ميري سنت اور ہدايت يافتہ خلفاء راشدين كى سنت کو لازم پکڑو اسے دانتوں سے مضبوط پکڑلو اوردين ميں نئي نئي باتوں سے بچو کيونکہ ہر نئي چيز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہي ہے.

رسول اکرم صلى اللہ عليہ وسلم کے صحابہ اور سلف صالحين بھي بدعتوں سے ڈراتے اور ان سے بچنے كى تاکيد کرتے رہےکيونکہ بدعات دين ميں زيادتي اور مرضي الہي کے خلاف شريعت سازي ہيں بلکہ يہ اللہ کے دشمن يہود ونصاري كى مشابہت ہے، جس طرح انہوں نے اپنے اپنے دين ( يہوديت، عيسائيت ) ميں نئي چيزوں کا اضافہ کرليا اور مرضي الہي کے خلاف بہت سي چيزيں ايجاد کرليں نيز بدعات ايجاد کرنے کا لازمي نتيجہ دين اسلام کونقص اور عدم کمال سے متہم کرنا ہے.

اور يہ تو واضح ہي ہے کہ بدعات کے ايجاد کرنے ميں بہت بڑي خرابي اور شريعت كى انتہائي خلاف ورزي ہے، نيز اللہ عزوجل کے اس فرمان

{ اليوم اکملت لکم دينکم }

آج ميں نے تمہارے لئے تمہارا دين مکمل کرديا ہے، سے ٹکراؤ اور بدعات سے ڈرانے اور نفرت دلانے والي احاديث رسول كى صريح مخالفت بھي ہے.

مجھےاميد ہے کہ اس مسئلہ ميں ہماري طرف سے پيش کردہ دليليں حق کے طلبگار کے لئے بدعت شب معراج کے انکار اور اس سے ڈرانے کے لئے کافي اور تسلي بخش ہوں گي، اور ان سے يہ بھي واضح ہوگيا ہو گا کہ شب معراج کےجشن اور اجتماع کا اسلام سے کوئي تعلق نہيں ہے.

چونکہ اللہ نے مسلمان بھائيوں کے ساتھ خيرخواہي اور ان تک شريعت كى تبليغ واشاعت کو واجب اور علم کے چھپانے کوحرام قرار ديا ہے، توميں نےمناسب سمجھا کہ مسلمان بھائيوں کو اس بدعت سے باخبر کردوں جو بيشتر ملکوں ميں پھيلى ہوئي ہے يہاں تک کہ بعض لوگوں نے اسے دين کا ايک حصہ سمجھ ليا ہے.

اللہ تعالى سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کے احوال كىاصلاح فرمادے انہيں دين كىسمجھ عطا فرما دے اور ہميں اور ان کو حق پر کاربند اور ثابت قدم رہنے اور خلاف حق امور سے گريز کرنے كىتوفيق عطا فرمائے، وہ اللہ اس کا کارساز اوراس پر قادر ہے.

اور اللہ اپنے بندے اور رسول ہمارے نبي محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اور آپ کے اہل وعيال اور ساتھيوں پر رحمت وسلامتي اور برکت نازل فرمائے.

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب نہ کر

ایس اے ساگر
فروری کی آمد کیساتھ ہی گلاب کے پھولوں کی طلب میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے. مخلوط معاشرے نے زناکاری کی ایسی راہ ہموار کی ہے کہ امت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو بھی بھلا بیٹھی ہے. حدیث کی معتبر کتاب مسند احمد میں وارد ہے کہ حضرت عامر بن امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک جوان شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا،
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، مجھے زنا کی اجازت دیں۔ وہاں موجود لوگ اس کے قریب آئے اور اسے ڈانٹتے ہوئے کہنے لگے،
رک جا۔۔۔ رک جا۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے قریب بلا کر بٹھا لیا اور فرمایا،
کیا تو پسند کرتا ہے کہ ایسا تیری ماں کیساتھ کیا جائے؟
اس نے جواب دیا۔
اللہ کی قسم ہرگز نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا،
لوگ بھی اپنی ماؤں کیلئے یہ پسند نہیں کرتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا،
کیا تو ایسا اپنی بیٹی کیلئے پسند کرتا ہے؟
اس نے جواب دیا، اللہ کی قسم نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
لوگ بھی اپنی بیٹیوں اسے پسند نہیں کرتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
کیا تو اپنی بہن کیلئے ایسا پسند کرتا ہے،
اس نے کہا، اللہ کی قسم ہرگز نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
لوگ بھی اپنی بہنوں کیلئے پسند نہیں کرتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
کیا تو ایسا اپنی پھوپھی کیلئے پسند کرتا ہے؟
اس نے کہا، ہرگز نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
اپنی خالہ کیلئے؟
اس نے جواب دیا،
اللہ کی قسم ہرگز نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کیلئے پسند نہیں کرتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینہ پر ہاتھ رکھا اور فرمایا،
اے اللہ اس کے گناہ بخش دے، اس کا دل پاک کر دے اوراس کی شرمگاہ کو محفوظ کر دے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرما تے ہیں کہ پس اس کے بعد اس شخص کو کبھی بھی ادھر ادھر نظر اٹھاتے تک نہیں دیکھا گیا۔
اس حدیث کے باوجود آج جبکہ 14 فروری سر پر آرہا ہے تو مسلم معاشرے پر ویلنٹائن ڈے المعروف عاشقوں کا دن کا خوف مسلط ہے۔
کیا ہوتا اس دن؟
اس روز آپس میں پیار و محبت کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے اظہار عشق کرتے ہوئے سرخ گلاب پیش کرتے ہیں۔ بڑے شہروں میں تو باقاعدہ تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ افسوس کہ ہمارا میڈیا بھی اس میں پورا حصہ ڈالتا ہے اور بے نوجوان نا محرم لڑکے لڑکیوں کو ایک دوسرے سے بے باکی سے بغلگیر ہوتے پھول پیش کرتے یوں دکھایا جاتاہے کہ جیسے یہ سب مسلم تہذیب کا حصہ ہو۔۔۔ اب اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ یہ تہوار منانے والوں نے کبھی سوچا کہ اظہار عشق میں جو پھول وہ کسی کی بہن کو بھیجتے ہیں ، اگر ایسے ہی پھول کوئی ان کی اپنی سگی بہن کو پیش کرے یا ان کے گھر بھیج دے تو وہ اسے کتنابرداشت کر لیں گے۔۔۔؟ اگر کوئی اپنی بہن کیلئے پسند نہیں کرتا تو یہ کسی دوسرے کی بہن کیلئے کیوں پسند کرتا ہے.
برادران وطن سے سیکھیں سبق :
وطن عزیز کے بیشمار مندر وں کی ہزاروں سال پرانی عمارتیں بھی دیکھ لیں، ان میں آپ کوہندو دیویوں اور دیوتاؤں کی حالت زنا میں اس قدر فحش و غلیظ، الف ننگے بت اور مورتیاں دکھائی دیں گی، انسانی شرمگاہ کی پوجا کو بہت تقدس حاصل ہے اور مندر میں اس کی بڑی سی پتھر سے بنی شبیہ موجود ہوتی ہے، جہاں اولاد کی طلب گار عورتیں خصوصی پوجا کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود برادران وطن نے ویلنٹائن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ہر سال ملک بھر میں ویلنٹائن منانے والوں پر سخت گیر مذہبی ہندو تنظیمیں نہ صرف حملے کرتی بلکہ پھول و تحائف بیچنے والوں کی دکانیں توڑ پھوڑ  بھی دیتی ہیں۔ ہندوؤں کا ماننا ہے کہ ویلنٹائن سامان بے حیائی اور ان کی تہذیب و ثقافت کے انتہائی خلاف ہے۔ لہٰذا اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
کیا ہوگیا مسلم معاشرے کو؟
یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں ویلنٹائن ڈے انتہائی خوف و دہشت کے سائے میں منایا جاتا ہے لیکن بے باک اور جدیدیت کے شکار مسلم معاشرے  میں ویلنٹائن کو باقاعدہ سماج کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور یوں ڈھٹائی سے ہر جگہ، ہردکان، ہر گلی، سڑک، محلے ہی نہیں سارے میڈیا میں اس کا غلغلہ مچتا ہے.
ویلنٹائن کی کہانی کچھ یوں ہے کہ جب موجودہ عیسائیت کے مرکز روم میں پہلی بار عیسائیت منظر عام پر آئی تو عیسائیوں نے اس حوالے سے جشن منانے کی کوشش کی اور پھر 14 فروری کا انتخاب کیا گیا۔ یہ وہ دن تھا جب رومیوں نے عیسائی پادری ویلنٹائن کو پھانسی دی تھی۔ اسے پھانسی دینے کا قصہ بھی عجیب ہے۔ اس زمانے میں روم پر ایک بادشاہ جس کا نام کلاڈیئس دوئم تھا کی حکومت تھی۔ جنگوں کے دوران قتل و غارت گری اس قدر ہوئی کہ اس کی فوج میں سپاہی کم ہو گئے اور پھر ملک کے نوجوان موت کے ڈر سے بیویوں کو چھوڑ کر جنگ میں جانا پسند نہیں کرتے تھے۔
غیروں کی ہے یہ نقالی :
بادشاہ نے مسئلہ حل کرنے کیلئے شادیوں پر ہی پابندی عائد کر دی تاکہ نوجوان شادیوں کے چکر سے نکل کر فوج میں بھرتی ہوں۔ یہیں رہنے والے عیسائی پادری ویلنٹائن نے عیسائیت کی تبلیغ کیلئے خفیہ شادیوں کا پروگرام بنایا۔ عقدہ کھلا تو بادشاہ کلاڈیئس دوئم نے اسے گرفتار کر کے جیل ڈال دیا۔ کمال یہ ہوا کہ وہاں پادری ویلنٹائن کا معاشقہ جیل کے انچارج آسٹیریئس کی بیٹی سے ہو گیا اور وہ یوں اسے روزانہ ملنے آنے لگی۔ عیسائی مذہب میں پادریوں کی شادیوں پر تو ویسے ہی پابندی تھی اور شادی تو ممکن نہ تھی۔ پھر یہ بات کھل گئی تو بادشاہ نے ویلنٹائن کو پیشکش کی کہ وہ عیسائیت چھوڑ کر رومی دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرے تو اسے مکمل معاف کر دیا جائے گا، بادشاہ اسے اپنی قربت دے گا اور اپنی سگی بیٹی بھی اس سے بیاہ دے گا، لیکن ویلنٹائن نے اس سب سے انکار کر دیا۔ یوں رومی جشن سے ایک روز پہلے یعنی 14 فروری 270 عیسوی میں اسے سزائے موت دے دی گئی۔ مرنے سے پہلے اس نے جیل انچارج کی بیٹی کو جو آخری خط لکھا اس کے الفاظ تھے،
’’تمہارے ویلنٹائن کی جانب سے‘‘۔
پھر چل نکلی رسم :
پھر یوں یہ رسم چلی اور چلتی گئی۔ عیسائیوں نے اسے اپنایا کیونکہ مبلغ پادری ہونے کی وجہ سے ویلنٹائن ان کیلئے مقدس تھا لیکن آج صدیاں گزرنے کے بعد خصوصاً گزشتہ چند برسوں سے جب ہمارے ہاں ابلاغیات کا طوفان آیا ہے تو نام نہاد مسلمانوں نے بھی اسے کھلم کھلا منانا شروع کر دیا۔ اس کی مذہبی حیثیت کو دیکھا، نہ اس میں خرافات کی جانب نظر و توجہ کی۔ بس ایک اندھی چال چلی گئی اور ہمارے لوگوں کو تو کھیل تماشہ چاہئے، چاہے اس میں عزت برباد ہو یا گھر بار اور سب کچھ۔۔۔
کون سمجھائے امت کو؟
صحیح بخاری شریف شاہد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے بارے میں:
ابو سعید حذری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے سے پہلی قوموں کے طریقوں پر بالشت بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ لازماً پیروی کرو گے حتیٰ کہ ان میں سے کوئی گوہ کی بل میں گھسا ہو گا تو تم اس کی بھی پیروی کرو گے۔
ہم نے پوچھا (وہ قومیں) یہودی اور عیسائی ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
تو پھر اور کون ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ
’’جو جس قوم کی مشابہت کو اختیار کرے گا، وہ انہی میں سے ہو گا.‘‘
اور علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے تو یوں کہا تھا۔۔۔
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ
گزشتہ سال کی بات ہے کہ جب 14 فروری قریب آیا تو عین اس وقت کشمیر میں بھی ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ وہاں کی چند لڑکیوں نے مل کر پہلی بار راک بینڈ تشکیل دیا جسے پراگاش کا نام دیا گیا لیکن مفتی بشیر الدین نے اس کے ناجائز ہونے کا فتویٰ صادر فرما دیا تو ان لڑکیوں نے بلا چوں چراں بینڈ کو بند کر کے اس کام کو ’’فٹے منہ‘‘ کہہ دیا اور کہا کہ انہیں دین اور فتویٰ عزیز ہے، اپنی موسیقی اور گانا بجانا نہیں۔۔۔صاف واضح ہے کہ امت کو رہنمائی کی شدید ضرورت ہے.