دہشت گردی کے حوالہ سے ایک انگریزی روزنامہ نے نام نہاد وہابی اور صوفی ازم کی ایسی بحث چھیڑ دی ہے جس سے مسلم صفوں میں اتحاد کو مزید نقصان پہنچا ہے. اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا جب ایک نجی مجلس میں کسی صاحب نے مدرسہ کاشف العلوم کے شیخ الحدیث مولانا الیاس بارہ بنکوی سے کہا کہ صوفی ازم نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ہے. اس پر مولانا نے فرمایا کہ صوفی ازم نے اسلام کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ شریعت سے عاری صوفی ازم نے نقصان پہنچایا ہے.تقسیم وطن سے قبل پنجاب میں ایک ایسا ہی نام بلھے شاہ کا ہے. تاریخ کے اوراق الٹیں تو پتہ چلتا ہے کہ بلھے شاہ کا اصل نام عبداللہ اور والد کا نام سخی محمد درویش تھا اس کے آباواجداد ملکوال کے رہنے والے تھے جہاں سے ترک وطن کر کے قصور کے نزدیک ایک گاؤں پانڈوکی میں آبسے بلھے شاہ کی پیدائش اچ گیلانیاں 1680 میں ہوئی. اسے بدقسمتی کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ بچپن میں واجبی سی ابتدائی تعلیم کے علاوہ مزید نہ پڑھ سکے جبکہ جوان ہوکر علم باطن کے چکروں میں الجھے اور یوں دینی تعلیم سے محروم ہوگئے۔ اور ایک صوفی شاہ عنایت کے مرید ہوگے۔ پریم سنگھ بیدی نے 1896 کے دوران شائع ہونے والی کتاب “ کافی ہائے بلھے شاہ“ میں بلھے شاہ کو ان پڑھ قرار دیا ہے .عجیب بات یہ ہے کہ بلھے شاہ اپنے سید ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں جیسا کہ اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں،
آل نبی، اولاد علی، بلھیاں توں کیہ لیکاں لائیاں
پردیس نہ رہن سیلانی دا
بلھے شاہ کا دور وہ تھا جب انگریز برصغیر میں اپنی مکروہ چالوں اور سازشوں کے ذریعہ قبضہ کرتا ہوا آندھی کی طرح بڑھتا چلا آرہا تھا، مسلمان تھے کہ اپنی آزادی کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے، مجاہدین سر پر کفن باندھے ہوئے تھے، لوگ علمائے کرام ، فقہاء، مشائخ صوفیا او گدی نشیں حضرات کی طرف کان لگائے ہوئے تھے کہ وہ جہاد کا حکم دیں تو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں. خون مسلم سے گلیاں بازار اور شہر لہو لہان تھے. اس وقت جب انگریز کی لگائی ہوئی آگ پنجاب تک آپہنچی، بچہ بچہ مضطرب وپریشان تھا۔۔۔۔۔۔۔ بلھنے شاہ۔۔۔۔ چونکہ حُسن وعشق اور محبوب پسند طبعیت کے مالک تھے اس لئے اس وقت وہ اپنے محبوب کی تعریف میں مگن تھے اور دنیا ومافیان سے بےخبر اس کو یوں پکارہے تھے۔
درد کھلا حشر عذاب دا
برا حال ہو یا پنجاب دا
وچ ہاد یے دو زخ ساڑیا
سانوں آمل یار پیار یا
بیشک مندر مسجد توڑو
بلھے شاہ یہ کہتا
پر پیار بھرا دل نہ توڑو
اس دل میں دلبر رہتا ...
کھلی ہوئی فحاشی کی تعلیم کا ہی نتیجہ تھا کہ یہ فلمی صنعت اور شائقین نے بابا بلھے شاہ کے کلام سے خوب رہنمائی حاصل کی. “بلھے شاہ کہندے نین“ نامی کتاب یعنی بلھے شاہ کا کلام کا ایک بند کچھ اس طرح سے ہے،
وے میں صدقے ہواں، دیویں مڑجے دکھالی
پیرا! میں بھل گئیاں بیرے نال نہ گئیا
تیرے عشق بچایا کرکے تھیا تھیا۔
راتیں جاگیں، کریں عبادت
راتیں جاگن کتے، تیتھوں اتے
بھونکن توں بند، مول نہ ہندے
جا روڑی تے ستے تیتھوں اتے
جس نے مینوں پوائے چولے ساوے تے سو ہے
جاں میں ماری ہے اڈی مل پیا ہے دھیا
تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا
اُم سلمہ رضی اللہ عنھا نے حبشہ میں عیسائیوں کا گرجا دیکھا جس میں تصاویر بھی آویزاں تھیں تو اس کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،
(رواہ بخاری ومسلم)۔
اگر کبھی کسی نے عابدہ پروین جو اپنی گلوکار ماں زاہد پروین کی گلوکارہ بیٹی ہیں، بلھے شاہ کا کلام سنا ہو جو انہوں نے گایا تھا، کچھ یوں ہے۔
سدو مینو دھیدورانجھا ہیر نہ آکھو کوئی
چٹی چادر لا سٹ کڑیئے
پہن فقیراں لوئی
چٹی چادر داغ نہ کوئی
رانجھا میں وچ، میں رانجھے وچ
غیر خیال نہ کرو کوئی
میں نہیں اوہ آپ ہے، اپنی آپ کرے دلجوئی
رانجھا رانجھا کردی ہن میں آپے رانجھا ہوئی
درباری چادر فضیلت کے جسے بلھے شاہ نے لوئی کہا ہے ،اس کے تقدس میں لپٹی ہوئی محفل پر غور کیجئے، حضرت رانجھا اور محترمہ مائی ہیر صاحبہ کے مقدس تذکرے کا سماع بھی ملاحظہ فرمائیے، دربار کی داستان بھی سنئے،
جی ہاں بلھے شاہ کے دربار پر۔۔۔۔۔
یہ ہے وہ قوال۔۔۔۔
اور یہ ہیں قوالیاں اور یہ ہیں سماع اور سماع محفل کے جس کا اور درباروں کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور طریقیت کا یہ مضمون تب تک مکمل نہیں ہوپاتا تاوقتیکہ کہ شراب شباب کی حمایت میں شریعت کے ساتھ مذاق کا عنوان نہ بندھے اس لئے بلھے شاہ کہہ رہا ہے۔
پر بال ہڈاں دی اگ
چوری کر، تے بھن گھر رب دا
ایس ٹھگاں دے ٹھگ نوں ٹھگ
واللہ اعلم،
اب آپ خود فیصلہ کیجئے کہ امت کہاں کھڑی ہے!


