Monday, 8 October 2018

دوسری شادی

دوسری شادی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قال اللہ تعالی: فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ وثلٰث وربٰع (القرآن)
(پس تم نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں دو دو، تین تین اور چار چا ر)
17 فروری بروز جمعرات لاہور میں جامعہ منظور الاسلامیہ کے استاذ حدیث اورحضرت مولانا صوفی محمد سرور صاحب زید مجدھم کے خلیفہ مجاز صوفی محمد اکرم صاحب زید لطفہ کے ہاں مقیم تھا کہ صبح ناشتے کے موقع پر دوسری شادی کے موضوع پر بات چھڑ گئی۔ اس مجلس میں مولانا محمد اکرم صاحب کے علاوہ حضرت مولانا صوفی محمد سرور مجدھم کے بڑے صاحبزادے مولانا عتیق الرحمن صاحب، سعودی عرب میں بیس سال گزار کر پاکستان آئے ہوئے قاری عطاء الرحمن صاحب اور حافظ جی (صوفی محمد اکرم صاحب کے سسر) کے علاوہ چند دوسرے ساتھی بھی موجود تھے، دوسری شادی کے موضوع پر سب سے زیادہ پر جوش اور مخلص قاری عطاء الرحمن صاحب تھے جن کے اخلاص کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے طے کر رکھا ہے کہ میں اپنی بیٹیاں صرف ان حضرات کے نکاح میں دوں گا جو دوسری شادی کرنا چاہتے ہوں گے انہیں اس بات پر حیرت تھی کہ لوگ چور اچکوں، رشوت خوروں، بے نمازوں اور گمراہوں کو اپنی بیٹیاں دے دیتے ہیں مگر انہیں نہیں دیتے جو دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔
حافظ صاحب کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ماحول کچھ ایسا بن گیا ہے کہ دوسری شادی گناہ صغیرہ نہیں گناہ کبیرہ شمار ہوتی ہے اس حوالے سے انہوں نے اپنا تجربہ سناتے ہوئے بتایا کہ کئی سال پہلے میں نے اپنی اہلیہ کی علالت کی وجہ سے دوسری شادی کا ارادہ کیا تو اس کے مثبت اور منفی دو نتیجے نکلے ۔مثبت نتیجہ تو یہ نکلا کہ اہلیہ بھلی چنگی ہوکر کھڑی ہوگئی کہ مجھے تو کچھ بھی نہیں اور منفی نتیجہ یہ نکلا کہ رشتہ داروں نے طعنے دے دے کر جینا دو بھر کر دیا ۔ میں جب اپنے گائوں میں گیا تو ان میں سے بعض پوری سنجیدگی سے کہتے تھے: ’’حافظ جی! اساں تے تہانوں شریف آدمی سمجھدے ساں‘‘ (ہم تو آپ کو شریف آدمی سمجھتے تھے)
شور کوٹ میں ایک مدرسے کے شیخ الحدیث جو کہ مجاز بیعت بھی ہیں انہوں نے دوسری شادی کرلی تو کئی مریدوں نے بیعت توڑدی۔ ایک مریدنی نے خط لکھا کہ پہلے میں تہجد میں آپ کے لئے دعا کیا کرتی تھی اب بد دعا کرتی ہوں ایک سلجھا ہوا اور صاحب ثروت ڈاکٹر ان کے گھر میں راشن دیا کرتا تھا، اس نے راشن بند کر دیا ۔کئی دوسرے دوستوں نے قطع تعلقی کر لی ۔
یہ ایک واقعہ نہیں اس جیسے بے شمار واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض لوگ جہالت اور دجالی پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ایک سے زائد شادی کو گناہ سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن کے نصوص ، حدیث کی تصریحات ، انبیاء کے حالات ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت، قدیم اور جدید مشاہدات و تجربات اور عقلی و نقلی دلائل سے نہ صرف تعدد ازواج کا ثبوت ملتا ہے بلکہ اس مٹی ہوئی سنت کو زندہ کرنے کے فوائد اور اس سے اعراض کے نقصانات سامنے آتے ہیں۔ مانا کہ ہمارے ہاں اس کا رواج نہیں رہا مانا کہ ایسا کرنے سے لوگوں کی زبانیں کھلتی اور انگلیاں اٹھتی ہیں مانا کہ دوسری ، تیسری اور چوتھی شادی کرنے والے کو عیاش اور شہوت پرست سمجھا جاتا ہے، مگر کیا محض رسم و رواج اور طعن و تشنیع کے ڈر سے اللہ اور رسول کے حکموں کو نظر انداز کر دیا جائے گا ؟ خواہ اس کے نتیجے میں لاکھوں بیٹیاں بے نکاحی بیٹھی رہیں، بدکاری عام ہوتی رہے؟
کون نہیں جانتا کہ فطرتاً مرد تعدد پسند ہے ۔ اس کے اس فطری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے کچھ لوگ متعہ کو جائز قرار دیتے ہیں بعض عرب ممالک میں ’’نکاح یسیر‘‘ کے جواز کی بات چل رہی ہے۔ اہل مغرب نے مردوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ ہر رات نئی عورت کے ساتھ گزار سکتے ہیں. اس میں شک نہیں کہ اکثر مرد ایک ہی بیوی کے ساتھ پوری زندگی گزاردیتے ہیں اور اس پر مطمئن رہتے ہیں مگر ہر مرد ایسا نہیں ہوتا۔ بے شمار ایسے بھی ہیں جو تعدد چاہتے ہیں شریعت انہیں اجازت بھی دیتی ہے مگر وہ پہلی بیوی یا اپنے خاندان اور معاشرے کے عام افراد کے طعنوں کے ڈر سے دوسری شادی نہیں کرتے پھر یا تو دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں یا پھر ناجائز تعلقات کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ اسلام فطری اور جائز راستہ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے یعنی اپنے حالات کے مطابق دو دو، تین تین اور چار چار شادیاں کرلو۔
قاری عطاء الرحمن صاحب کا کہنا یہ تھا کہ اس صورت حال کی کچھ ذمہ داری علماء پر بھی عائد ہوتی ہے جن میں سے بعض تعدد کا جواز تو بیان کر دیتے ہیں مگر نہ تو خود دوسری شادی کرتے ہیں نہ دوسری کی خواہش رکھنے والوں کو رشتہ دیتے ہیں حالانکہ بسا اوقات نا تجربہ کار نوجوانوں کے مقابلے میں پختہ عمر والے زیادہ با وفا اور سنجیدہ ہوتے ہیں ۔
قاری صاحب کی درد بھری اور معقول گفتگو سے متاثر ہوکر مولانا عتیق الرحمن صاحب نے تجویز پیش کی کہ ایسی جماعت تشکیل دی جائے جو نہ صرف تعدد ازواج جیسی مٹی ہوئی سنت کو زندہ کرنے کی تحریک چلائے بلکہ شریعت کے حکم کے مطابق وراثت کی تقسیم پر بھی مسلمانوں کو آمادہ کرے اس سلسلے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس تحریک کے علمبرداروں کو سب سے پہلے خود عملی نمونہ بن کر دکھانا چاہئے ۔ چنانچہ قاری صاحب نے مجھے ترغیب دی کہ سب سے پہلے آپ دوسری شادی کریں بلکہ اسی مجلس میں اعلان کر دیں۔ رشتے کی ذمہ داری میرے اوپر ہے ایک اچھی شکل و صورت والی حافظہ عالمہ آپ کے لئے موجود ہے۔ آپ بس رضامندی ظاہر کر دیں مگر میں نے اپنی اہلیہ سے مشورہ کیے بغیر رشتہ قبول کرنے سے معذرت کرلی۔
اللہ کی قسم ! یہ بھی محض قرآن کی نسبت اور خدمت کی برکت ہے کہ ایک معذور اور صاحب اولاد انسان کو اچھے اچھے رشتوں کی پیش کش ہو رہی ہے اور وہ بھی بغیر کسی تگ و دو اور سلسلہ جنبانی کے ۔
الحمد للہ ! میں شروع ہی سے تعدد ازواج کا قائل رہا ہوں اور اس موضوع پر لکھنے والوں کی نہ صرف میں نے حوصلہ افزائی کی بلکہ ان میں سے بعض کی کتابوں پر تقریظ لکھنے کی سعادت بھی مجھے حاصل ہوئی ۔ منبر و محراب سے بھی میں نے وقتاً فوقتاً آواز اٹھائی کیونکہ میں پوری دیانت داری سے فحاشی کا راستہ روکنے اور بے نکاحی خواتین کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے اور اپنوں اور غیروں کے طعنے سننے سے بچانے کے لیے ہر اس شخص کے لیے ایک سے زائد شادیاں مناسب سمجھتا ہوں۔
٭ جس کے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔
٭ وہ سب کے حقوق ادا کرسکتا ہو۔
٭ عدل کرسکتا ہو۔
٭ کثرت اولاد کے ذریعے امت میں اضافہ کرنا چاہتا ہو اور جس کا خیال یہ ہو کہ تعدد کی وجہ سے میرے گھر کا سکون تباہ نہیں ہوگا اور گھر کے سکون کو تباہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلی بیوی کی ذہن سازی کی جائے ، اسے یقین دلایا جائے کہ اس کی حق تلفی نہیں ہوگی اور اس کی تھوڑی سی قربانی سے ایک بے نکاحی کا گھر بس جائے گا۔ جب ہم قربانی کی بات کرتے ہیں تو لوگوں کی نظر صرف اس قربانی کی طرف جاتی ہے جو پہلی بیوی دیتی ہے یا جو دوسری بیوی بننا قبول کرتی ہے حالانکہ قربانی صرف عورت کی نہیں ہوتی مرد کی بھی ہوتی ہے وہ مرد قابل تعریف ہے جو حلال روزی کما کر دو گھروں کو آباد کرتا ہے اور کسی ایک کے ساتھ بھی ظلم اور زیادتی کا ارتکاب نہیں کرتا ۔ عام طور پر اسے مرد کی عیاشی سے تعبیر کر دیا جاتا ہے حالانکہ عیاشی تو تب ہوتی جب وہ نکاح کے بغیر ادھر ادھر منہ مارتا اور اپنے اوپر کوئی ذمہ داری نہ لیتا ۔
نکاح کی صورت میں بیوی اور پھر اس سے پیدا ہونے والے بچوں کی تربیت اور پرورش کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانے والے کو ہم کیسے عیاش کہہ سکتے ہیں؟ اور اگر عیاشی کا طعنہ دیے بغیر کسی کو سکون نہیں ملتا تو ہم عرض کریں گے کہ اگر یہ عیاشی ہے تو شریعت کے دائرے میں ہے اور اس کی اجازت خود اللہ اور اس کے رسول نے دی ہے مگر سخت اندیشہ ہے کہ کل کلاں پہلی شادی کو بھی عیاشی یا کچھ اور قرار دے کر قابل نفرت عمل نہ بنا دیا جائے ۔ دجالیت کے علمبرداروں کی یہی کوشش ہے کہ وہ نکاح جیسا مبارک عمل ختم کرکے حرام کاری کو فروغ دینا چاہتے ہیں ۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم نکاح کو آسان اور زنا کو مشکل تر بنا دیں ۔
تعدد ازواج بھی اس سلسلے میں اہم کر دار ادا کر سکتا ہے نہ صرف یہ کہ مردوں میں ’کثیر الازواجی‘ عرف کو فروغ دیا جائے بلکہ ایسا ماحول بنا دیا جائے کہ کوئی بھی خاتون خواہ وہ کنواری ہو یا مطلقہ اور بیوہ، بغیر شوہر کے نہ رہے، شرط یہ ہے کہ وہ نکاح کرنا چاہتی ہو۔ میں سمجھتا ہوں اگر اپنے بچوں کا مستقبل بنانے اور سر چھپانے کا ٹھکانہ حاصل کرنے کے لیے مطلقہ اور بیوہ کو اپنے بعض حقوق سے دستبردار بھی ہونا پڑے تو ہوجانا چاہئے ورنہ ممکن ہے اسے زندگی بھر اپنوں اور غیروں کے طعنے سننا پڑیں اور زکوۃ خیرات پر گزر بسر کرنی پڑے کیونکہ عوام کے ذہنوں میں یہ بات تقریباً راسخ ہو چکی ہے کہ جو بیوہ ہوتی ہے وہ زکوۃ کی مستحق ہوتی ہے ۔
میں نے جب کبھی تعدد ازواج کی حمایت میں آواز اٹھائی مجھے اس اعتراض کا سامنا کرنا پڑا کہ جب یہ اتنا اچھا بلکہ آج کے حالات میں اہم عمل ہے تو آپ خود اس کی ہمت کیوں نہیں کرتے؟ اس اعتراض کے جواب میں ہمیشہ یہ عرض کرتا ہوں کہ الحمد للہ! میری ازدواجی زندگی بہت اچھی گزررہی ہے اور میں دوسری بیوی کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور یہ ہے بھی حقیقت۔ اللہ تعالی نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھے جو بیوی عطا کی ہے وہ وفا دار اور حیا، صورت اور سیرت میں ممتاز ترین ہے ۔ اگر میں اسے لاکھوں میں ایک کہوں تو بالکل غلط نہیں ہوگا۔ ہمارے درمیان مثالی محبت ہے مگر گزشتہ چند سالوں سے اسے کبھی کبھی سر اور جوڑوں میں ایسا شدید درد اٹھتا ہے کہ چلنا پھرنامحال ہو جاتا ہے کئی کئی راتیں نیند نہیں آتی اور بھوک بھی ختم ہو جاتی ہے اس وجہ سے ہمارے درمیان کئی بار دوسری شادی کے حوالے سے بات ہوئی تاکہ آنے والی ہم دونوں کی مشترکہ خدمت کرے ۔
لاہور سے واپس آنے کے بعد میں نے ’’مسجد توابین‘‘ میں مذکورہ موضوع پر چند بیانات کئے جن کا خلاصہ یہ تھا کہ اگرچہ دوسری شادی فرض اور واجب کا درجہ نہیں رکھتی مگر ہ مارے ہاں جس طرح دو تین یا چار شادیاں کرنے والے کو اچھوت بنا دیا جاتا ہے اور اسے گندی نظروں سے دیکھا جاتا ہے یہ بھی ہرگز مناسب نہیں ہے۔ میں نے خواتین کو بھی سمجھایا کہ وہ اپنے شوہروں کو بخوشی دوسری شادی کی اجازت دیں اور مردوںسے بھی گزارش کی کہ وہ اسے نہ تو عار سمجھیں اور نہ ہی گناہ۔ البتہ اقدام سے پہلے اپنے اہل و عیال کی ذہن سازی ضروری کرلیں، کیونکہ اخلاقی طور پر پہلی بیوی کے جذبات نظر انداز کردینا ہرگز مناسب نہیں، خصوصاً ایسی خاتون جس نے زندگی کے مشکل دنوں میں ساتھ دیا ہو، اور ایسے انسان کو تو میں انتہائی گھٹیا سمجھتا ہوں جو گھر میں دوسری بیوی آنے کے بعد پہلی بیوی کے حقوق پامال کرے یا اسے تذلیل و تحقیر کا نشانہ بنائے ۔ جو جوشیلے دوست پہلی بیوی کی ذہن سازی کیے بغیر سوکن گھر میں لا بٹھاتے ہیں ان میں سے اکثر بعد میں پریشان ہوتے ہیں۔ ایسی خواتین انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں جو سوکن کو بخوشی قبول کرنے پر آمادہ ہو جائیں ہمارے ہاں سوکن کا لفظ دشمنی، نفرت، زیادتی اور حسد کا استعارہ بن چکا ہے ۔
آج کے نفرت زدہ ماحول میں شاید کسی کو یقین نہ آئے مگر حقیقت یہی ہے کہ میرے بیان سے سب سے پہلے میری اہلیہ ہی متاثر ہوئیں اور انہوں نے نہ صرف مجھے دوسری شادی کی اجازت دے دی بلکہ میرے لیے رشتے کا انتخاب بھی از خود کیا۔ دوسرا بظاہر ناقابل یقین واقعہ یہ پیش آیا کہ جس لڑکی کو میری اہلیہ نے پسند کیا خود اسے اور اس کے سگے بھائی کو ایسے خواب دکھائی دیے جو میرے ساتھ رشتے کے حق میں تھے اور انہوں نے خود ہی رشتے کی پیش کش کر دی ۔ خوب استخارہ کے بعد میں نے نکاح ثانی کا ارادہ کر لیا ہے ، جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ ہمارے ہاں اسے سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور ایسا کرنے والے کو گالیاں تک دی جاتی ہیں، اس لئے میں نے اس تحریر کے ذریعے سارے معاملے کی وضاحت ضروری سمجھی ہے ۔ امید ہے میرا اور میری اہلیہ کا یہ عمل بہت سوں کے لیے قابل تقلید مثال ثابت ہوگا۔ جہاں تک ہمارے رشتہ داروں، محبت کرنے والے خواتین و حضرات اور ناقدین کا تعلق ہے ، میں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرتے ہوئے زیر نظر مسئلہ کی تائید میں چند ٹھوس دلائل پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ یہ دلائل چند نکات کی صورت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ اس موضوع پر سیر حاصل مطالعہ کے لئے آخرمیں چند کتابوں کے نام دیے جائیں گے وہ بھی دیکھ لی جائیں۔
٭ سورہ نساء میں ہے:
’’پس نکاح کرو ان عورتوں سے جو تم کو پسند ہوں، دودو سے اور تین تین سے اور چار چار سے، پس اگر تمہیں خوف ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی سے کرو۔ یا پھر ان باندیوں پر اکتفا کرو جن کے تم مالک ہو۔‘‘
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے گنتی کو ایک سے نہیں بلکہ دودو، تین تین اور چار چار شادیوں سے شروع کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل حکم ایک سے زیادہ نکاح کرنے کا ہے ، البتہ اگر کوئی عدل نہ کرسکتا ہو تو وہ ایک پر ہی اکتفا کرے۔
(روح المعانی 194/4)
٭ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’نکاح کرو اس لئے کہ اس امت میں بہتر وہ ہے جس کی بیویاں زیادہ ہیں۔
(بخاری ، 4782)
انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی ازدواجی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو تاریخ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تین، حضرت یعقوب علیہ السلام کی چار، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی چار، حضرت دائود علیہ السلام کی نو اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی سات سو بیویوں اور تین سو حرموں کا ذکر ملتا ہے۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گیارہ بیویاں تھیں۔
خلفائے راشدین اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت بھی تعدد کی تائید کرتی ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے چار، حضرت عمر فاروق نے آٹھ نکاح کئے.
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں بسا اوقات کسی عورت سے نکاح کرتا ہوں حالانکہ مجھے نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی اور زوجہ سے ہم بستری کرتا ہوں حالانکہ مجھے جماع کی خواہش نہیں ہوتی، کیونکہ میں یہ بات پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالی میرے ذریعے اتنی اولاد پیدا کرے جس کی کثرت کی وجہ سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے پیغمبروں پر فخر کرسکیں ۔‘‘
(تفسیر قرطبی 328/9)
٭ دوسری شادی زندگی کے کسی بھی دور میں کی جا سکتی ہے ہمارے ہاں صورت یہ ہے کہ کوئی بڑی عمر میں دوسری شادی کرے تو کہا جاتا ہے کتنی بے شرمی ہے کہ بچوں کی شادی کی بجائے اپنی شادی کی جا رہی ہے ۔ اگر کوئی جوانی میں کرے تو چھوٹے چھوٹے بچوں کا طعنہ دیا جاتا ہے ۔ حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر زمانہ قریب کے بزرگان دین تک عمر کے کسی بھی حصہ میں شادی کرتے رہے ہیں۔ محدث العصر حضرت بنوری رحمہ اللہ نے غالباً 75 سال کی عمر میں نوجوان خاتون سے شادی کی تھی ۔ فقیہ العصر مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کے والد نے سو سال کی عمر میں شادی کی اور اس سے بچے بھی پیدا ہوئے ۔ حضرت مولانا فضل رحمن رحمہ اللہ کی عمر سو سال سے بھی زائد تھی جب انہوں نے دوسری شادی کی تھی۔
٭ یہ ضروری نہیں کہ دوسری شا دی صرف اس صورت میں کی جاسکتی ہے جب پہلی بیوی سے تعلقات خراب ہوجائیں یا وہ بدصورت، لاولد یا بیمار ہو۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے بے پناہ محبت تھی۔ ان کی صورت و سیرت اور ذکاوت و ذہانت بھی مثالی تھی ۔ اس کے باوجود آپ نے ان سے نکاح کے بعد سات مزید عورتوں سے نکاح فرمایا۔
٭ یہ بھی ضروری نہیں کہ دوسری شادی مطلقہ یا بیوہ ہی سے کی جائے اس لئے کہ ہمارے سینے میں دل اور دل میں جذبات رکھنے والے اللہ نے ’’ما طاب لکم‘‘ فرما کر اپنی پسندیدہ عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا ہے ۔ باوجودیکہ خود ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کے سوا مطلقہ اور بیوہ عورتوں سے نکاح فرمائے مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کنواری اور جوان عورتوں سے نکاح کرنے کا مشورہ دیا۔
٭ اس حقیقت سے تو خیر کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا کہ اسلام نے نہ صرف تعدد کی اجازت دی ہے بلکہ اس میں بہت سارے منافع بھی پوشیدہ ہیں البتہ اکثر خواتین کو یہ اندیشہ پریشان کرتا ہے کہ گھر میں دوسری اور نئی نویلی بیوی آجانے کی صورت میں مجھے نظر انداز کردیا جائے گا اور یہ اندیشہ اتنا بے بنیاد بھی نہیں ہوتا کیونکہ بعض شوہر واقعتاً ایسا ہی کرتے ہیں وہ پہلی بیوی کو نظر انداز ہی نہیں کرتے بسا اوقات دوسری کی خوش رکھنے کے لئے پہلی پر ہاتھ بھی چلانے لگتے ہیں بالخصوص وہ شوہر جو کسی بے حجاب اور بے حیا عورت کے محض حسن سے متاثر ہوکر اسے اپنے عقد میں لے آتے ہیں ان کی طرف سے ایسے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں بلکہ ایسی عورتیں خود انہیں ظلم اور زیادتی پر اکساتی ہیں۔ ایسے ظالم شوہروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نے تعدد کی اجازت صرف انہیں دی ہے جو عدل کر سکتے ہوں ۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں اور اس نے ان کے ساتھ عدل کا معاملہ نہ کیا تو قیامت کے دن وہ شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ مفلوج ہوگا۔‘‘ (ترمذی، مشکوۃ)  دوسری شادی کی ترغیب کا مقصد صرف یہ نہیں کہ شریعت کے مطابق حقوق ادا کرنے کی سکت رکھنے والے حضرات اس مٹتی ہوئی سنت کو زندہ کرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں بلکہ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ جن کی بیٹیاں اور بہنیں بے نکاحی گھر میں بیٹھی ہوئی ہیں وہ ایسے شریف اور سنجیدہ مردوں کو رشتہ دینے کے لئے تیار ہوجائیں جو دوسری شادی کرنا چاہتے ہوں۔
٭ یہ بات خاص طور پر ملحوظ رکھنی چاہئے کہ عقلی اور نقلی دلائل کی کثرت کے باوجود چونکہ ہمارے ہاں دوسری شادی کا ماحول نہیں ہے ، اس لئے اس وادی پر خار میں سوچ سمجھ کر قدم رکھنا چاہئے ۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ جب تک پہلی بیوی اور بچوں (بالخصوص جبکہ بڑے ہوں) کی ذہن سازی نہ کرلی جائے ، تب تک دوسری شادی نہیں کرنی چاہیے ، ورنہ ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا کہ گھر کا امن اور سکون تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ ٭ آخر میں اس موضوع پر لکھی گئی چند کتابوں کے نام دیے جا رہے ہیں، امید ہے کہ ان کے مطالعہ سے بہت سارے اشکالات رفع ہو جائیں گے اور اطمینانِ مزید نصیب ہوگا۔
-1 ایک سے زائد شادیوں کی ضرورت کیوں؟ تالیف مولانا طارق مسعود صاحب۔ (اس کتاب پر بندہ نے بھی تقریظ لکھی ہے۔)
-2 اسلامی نظریہ تعدد ازواج: تالیف محمد سلیم الدین آغا رحمہ اللہ (اس کتاب پر مفتی ابو لبابہ شاہ منصور زید مجدہم کی تصدیق ثبت ہے اس کتاب کے مولف کتاب شائع ہونے سے قبل محض 28 سال کی عمر میں انتقال فرماگئے)
-3 فضل تعدد زوجات (شیخ خالد الجریس، ریاض)
-3 فضل تعدد زوجات (شیخ خالد الجریس، ریاض)
-4 عائلی قوانین شریعت کی روشنی میں۔
-5 اسلامی شادی ۔
-6 اسلام کا نظام عفت و عصمت۔ -
7 شادی سے شادیوں تک۔ (یہ دو امریکی خواتین، ام عبد الرحمن ہرش فیلڈ اور ام یاسمین رحمن کے قلم سے اپنی نوعیت کی بہترین تصنیف ہے)
-8 اسلام اور جنسیات۔
نوٹ: یہ عاجز تحریر اور تقریر کے ذریعے نوجوان اولاد کے رشتے جلد کروانے، عقد نکاح سادگی سے کرنے، رشتے میں سیرت اور دین داری کو معیار بنانے، ہندوانہ اور ظالمانہ رسموں سے بچنے، بوقت ضرورت دوسری شادی کو گناہ نہ سمجھنے کی ترغیب تو دے سکتا ہے مگر بہت سارے اعذار اور مصروفیات کی بنا پر رشتے نہیں کرواسکتا۔ لہذا نکاح اول یا ثانی کی خواہش رکھنے والے حضرات و خواتین یا والدین اس مقصد کے لئے اس کی طرف ہرگز رجوع نہ کریں۔
تحریر: داعی قرآن مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید


بیوی پر خاوند کے حقوق

بیوی پر خاوند کے حقوق
السلام عليكم ورحمۃ اللہ
ایک حدیث کی تحقیق مطلوب ھے براە کرم مدلل اور مستند بحوالہ عنایت فرمائیں بیوی کے حقوق میں یہ بات بھی ھے کیا کہ اگرعورت اپنے شوہر کے زخم چاٹ بھی لے تو وہ اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ کیا کوئی حدیث اس ضمن میں ھے تو براہ کرم ارسال فرمائیں.
جزاکم اللہ احسن الجزاء
الجواب: -  أتَى رجلٌ بابنتِه إلى رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم فقال إنَّ ابنتي هذه أبت أن تتزوَّجَ فقال لها رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم أطيعي أباك فقالت والَّذي بعثك بالحقِّ لا أتزوَّجُ حتَّى تخبرَني ما حقُّ الزَّوجِ على زوجتِه قال حقُّ الزَّوجِ على زوجتِه لو كانت به قرُحةٌ فلحَستها أو انتثر مِنخراه صديدًا أو دمًا ثمَّ ابتلعته ما أدَّت حقَّه قالت والَّذي بعثك بالحقِّ لا أتزوَّجُ أبدًا فقال النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم لا تُنكِحوهنَّ إلَّا بإذنِهنَّ.
    الراوي: أبو سعيد الخدري
    المحدث: المنذري
    المصدر:  الترغيب والترهيب
    الصفحة أو الرقم:  3/98
    خلاصة حكم المحدث:  إسناده جيد رواته ثقات مشهورون
اس روايت كا متن حضرت ابوهريرة رضي اللہ عنہ والى سند سے كم وبيش اس طرح آيا ہے:
جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : يا رسول الله إني فلانة بنت فلان، قال: قد عرفتك ما حاجتك ؟ قالت : حاجتي أن فلانا ابن عمي العابد ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : قد عرفته فمه ؟ قالت : يخطبني وأنا أكره الرجال ، فأخبرني ما حق الزوج على الزوجة فإن كان شيئا أطيقه تزوجت وإن لم أطق لم أتزوج ، قال : من حق الزوج على الزوجة أن لو سال منخراه دما وقيحا وصديدا فلحسته بلسانها حتى توعبه ما أدت حقه ، ولو كان ينبغي لبشر أن يسجد لبشر لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها إذا دخل عليها لما فضله الله عليها ، قالت : والذي بعثك بالحق لا أتزوج شيئا ما بقيت في الدنيا
اس ميں سليمان بن داود نامى راوى ہے جو شديد ضعيف ہے۔
حافظ منذرى نے ترغيب وترهيب ميں اس كو يوں ذكر كيا، آخرى الفاظ اس كى نكارت كى دليل ہیں: 
جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه وسلم قالت أنا بنت فلانة بنت فلان قال قد عرفت حاجدنك قالت حاجتي إلى ابن عمي فلان العابد قال قد عرفته قالت يخطبني فأخبرني ما حق الزوج على الزوجة فإن كان شيئا أطيقه تزوجته قال من حقه لو سال منخراه دما وقيحا فلحسته بلسانها ما أدت حقه لو كان ينبغي لبشر أن يسجد لبشر لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها إذا دخل عليها لما فضله الله عليها قالت والذي بعثك بالحق لا أتزوج ما بقيت الدنيا 
اور كہا: سليمان بن داود اليمامي واه عن القاسم بن الحكم۔
حضرت ابو سعيد الخدري رضى اللہ عنہ والى روايت كا متن يوں ہے: 
جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم بابنة له فقال: يا رسول الله ، هذه ابنتي قد أبت أن تزوج . فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم : أطيعي أباك . فقالت : والذي بعثك بالحق لا أتزوج حتى تخبرني ما حق الزوج على زوجته ؟ قال : حق الزوج على زوجته أن لو كانت له قرحة فلحستها ما أدت حقه 
امام ذھبي رحمہ اللہ نے اس كو منكر قرار ديا ہے۔


اگر عورت اپنے شوہر کے زخم چاٹ بھی لے تو وہ اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ یہ ساری باتیں تشبیہ اور استعارے کے طور پر بیان ہوئی ہیں نہ کہ لفظی معنی کے طور پر۔
جس طرح مرد کے بیوی پر حقوق ہیں اسی طرح بیوی کے خاوند پر حقوق ہیں، اسلام نے ان حقوق کی بھی بڑی اہمیت بتائی ہے ۔
صحيح البخاري
باب الوصاة بالنساء:
باب: عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں وصیت نبوی کا بیان
حدیث نمبر: 5186 
واستوصوا بالنساء خيرا فإنهن خلقن من ضلع وإن اعوج شيء في الضلع اعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل اعوج فاستوصوا بالنساء خيرا".
عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اس کے اوپر کا حصہ ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی باقی رہ جائے گی اس لیے میں تمہیں عورتوں کے بارے میں اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔

Sunday, 7 October 2018

جادو کرنے کا حکم

جادو کرنے کا حکم
سوال:
(۱) کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص نقصان کیلئے کسی پر کالا علم کرے یا کروائے اس کی سزا کا کیا حکم ہے اور اسی طرح اس شخص کا کیا حکم ہے ؟
(۲) جو جادو کے زور پر نہ چاہتے  ہوئے بھی وہ کام کررہا ہو جو خلافِ شریعت ہے آیا وہ بھی انہی میں سے ہوگا یا مظلوم ہے
الجواب حامداًومصلیاً
(۱) واضح رہے کہ اگر کوئی شخص جادو یا سفلی عمل جائز سمجھ کر کرتا ہے تو کافر ہے ۔ اور اگر گناہ سمجھ کر کرتا ہے تو کافر تو نہیں لیکن بہت بڑے گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس گندے عمل سے بچائے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (4 / 240)
(قَوْلُهُ وَالْكَافِرُ بِسَبَبِ اعْتِقَادِ السِّحْرِ) فِي الْفَتْحِ: السِّحْرُ حَرَامٌ بِلَا خِلَافٍ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَاعْتِقَادُ إبَاحَتِهِ كُفْرٌ. وَعَنْ أَصْحَابِنَا وَمَالِكٍ وَأَحْمَدَ يَكْفُرُ السَّاحِرُ بِتَعَلُّمِهِ وَفِعْلِهِ سَوَاءٌ اعْتَقَدَ الْحُرْمَةَ أَوْ لَا وَيُقْتَلُ وَفِيهِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ «حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ» يَعْنِي الْقَتْل
شرح النووي على مسلم – (14 / 176)
فعمل السحر حرام وهو من الكبائر بالاجماع وقد سبق فى كتاب الايمان أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عده من السبع الموبقات وسبق هناك شرحه ومختصر ذلك أنه قد يكون كفرا وقد لايكون كفرا بل معصيته كبيرة۔
اور ایسا شخص اگر توبہ نہ کرے تو اس کو سزائے موت ہوسکتی ہے لیکن یہ سزا جاری کرنا شرعی حکومت کاکام ہے ۔ اب چونکہ کوئی شرعی قانون رائج نہیں ہے اور جادو گروں نے جگہ جگہ بورڈ لگا رکھے ہیں تو ان کو سزا اگر دنیا میں نہیں بھی ملتی تو مرنے کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے سزا ملے گی ۔البتہ اگر کوئی جادو گر اپنے جادو کرنے اور اس کے ذریعہ سے کسی کو جان سے مارنے یا نقصان پہونچانے کا خود ہی اعتراف کرلے تو جائز اور صحیح العقیدہ عملیات کے ذریعہ اس کا تدارک کرنا اور بدلہ میں اس کو نقصان پہنچانے کی اجازت ہوگی۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (4 / 240)
قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: السَّاحِرُ إذَا أَقَرَّ بِسِحْرِهِ أَوْ ثَبَتَ بِالْبَيِّنَةِ يُقْتَلُ وَلَا يُسْتَتَابُ مِنْهُ، وَالْمُسْلِمُ وَالذِّمِّيُّ وَالْحُرُّ وَالْعَبْدُ فِيهِ سَوَاءٌ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (1 / 44)
وَفِي ذَخِيرَةِ النَّاظِرِ تَعَلُّمُهُ فَرْضٌ لِرَدِّ سَاحِرِ أَهْلِ الْحَرْبِ، وَحَرَامٌ لِيُفَرَّقَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا، وَجَائِزٌ لِيُوَفِّقَ بَيْنَهُمَا. اهـ.
(۲) چونکہ جادو کا اثر ہونا شرعاً محال نہیں بلکہ ممکن ہے اس لئے جادو سے متاثر شخص جادو کے زور پر اپنے ارادے اور اختیار کے بغیر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کام کرے جو شریعت کے خلاف ہو تو وہ عنداللہ معذور اور مظلوم ہوگا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (1 / 44
----------------------
کیا جادو توڑنا اور اسے زائل کرنا کا عمل سیکھنا جائز ہے؟
الحمدللہ
اگر تو یہ عمل شرعی دم اور دعاؤں اور ان کے ساتھ ہو جو کہ جائز ہیں تو پھر اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
لیکن اگر جادو کو اس لئے سیکھا جائے کہ اس سے جادو کا توڑ کیا جاسکے یا کسی اور مقصد کے لئے تو یہ جائز نہیں بلکہ یہ نواقض اسلام میں سے ہے (یعنی جس سے مسلمان اسلام سے نکل جاتا ہے) کیونکہ یہ اس وقت تک سیکھا ہی نہیں جاسکتا جب تک شرک نہ کیا جائے اور اس طرح کہ شیطان کی عبادت کی جائے اور اس کے لئے ذبح اور نذر وغیرہ مانی جائے جو کہ عبادت کی اقسام میں سے ہو اور ان کا تقرب حاصل کرنے کے لۓ اور ان کے پسندیدہ کام کۓ جائیں تاکہ وہ بھی اسکی پسندیدہ خدمت کریں۔
اور یہی وہ نفع ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے اس فرمان میں کیا ہے۔
"اور جس روز اللہ تعالی تمام مخلوق کو جمع کرے گا (اور کہے گا) اے جنات کی جماعت تم نے انسانوں میں سے بہت سے اپنا لئے جو انسان انکے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم میں سے ایک نے دوسرے سے فائدہ حاصل کیا تھا اور ہم اپنی اس معین میعاد تک آپہنچے جو تو نے ہمارے لئے معین فرمائی اللہ تعالی فرماۓ گا کہ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں ہمیشہ رہو گے ہاں اگر اللہ ہی کو منظور ہو تو دوسری بات ہے بے شک آپ کا رب بڑی حکمت والا بڑے علم والا ہے۔" الانعام 128 .

Tuesday, 2 October 2018

سود کی رقم کے مصارف

سود کی رقم کے مصارف
مسئلہ (۱۵۹): حضرات فقہاء کرام نے مالِ حرام مثلاً بینک کے سود کے دو مصرف بتائے ہیں: ایک یہ کہ مالِ حرام جہاں سے آیا ہے وہیں واپس کردیا جائے، لیکن اس اصول کو اختیار کرنے کی صورت میں ہماری سودی رقم کو اَغیار، اسلام دشمنی کے کاموں میں لگادیتے ہیں، اس لیے دوسرے مصرف میں یہ رقم صرف کی جائے، یعنی مالِ حرام کے وبال سے بچنے کے لیے بلانیتِ ثواب بہت زیادہ غریب ومحتاج ، پریشان حال مقروض ، یا لُٹے پِٹے لوگوں پر صدقہ کردی جائے(۱)، خود اپنے یا مسجد کے بیت الخلاء کی تعمیر میں، اسی طرح اپنے یا مسجد وعیدگاہ کے مقدمہ میں، یاپھر رفاہِ عام کے کاموں میں خرچ کرنا جائز نہیں، راجح قول یہی ہے، کیوں کہ مالِ حرام کا غریبوں پر تصدُّق واجب ہے، اور تصدُّق میں کسی غریب کو دے کر اسے مالک بنانا ضروری ہوتا ہے، رفاہِ عام کے کاموں میں خرچ کرنے کی صورت میں مالک بنانے کی صورت نہیں پائی جاتی۔(۲)
------------------------------
= تفریغ الذمۃ منہ بردہ إلی أربابہ إن علموا ، وإلا إلی الفقراء ۔ (۳۹/۴۰۷ ، المیسر)
ما في ’’الدر المختار مع الشامیۃ‘‘: والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیہم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل لہ، ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ ۔
(۷/۳۰۱ ، کتاب البیوع ، مطلب فیمن ورث مالا حراما)
ما في ’’بذل المجہود‘‘: صرح الفقہاء بأن من اکتسب مالاً بغیر حق ، فأما إذا کان عند رجل مال خبیث، فأما إن ملکہ بعقد فاسد ، أو حصل لہ بغیر عقد ولا یمکنہ أن یردہ إلی مالکہ ، ویرید أن یدفع مظلمۃ عن نفسہ ، فلیس لہ حیلۃ إلا أن یدفعہ إلی الفقراء ۔ (۱/۳۵۹ ، کتاب الطہارۃ) (فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۸۰۳۸)=
(۱) ما في ’’بذل المجہود‘‘: صرّح الفقہاء بأن من اکتسب مالا بغیر حق ۔۔۔۔۔۔۔ إن أخذہ من غیر عقد ولم یملکہ یجب علیہ أن یردہ علی مالکہ إن وجد المالک ، وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل تلک الأموال علی الفقراء ۔۔۔۔۔۔ وأما إذا کان عند رجل مال خبیث فاما إن ملکہ بعقد فاسد أو حصل لہ بغیر عقد ولا یمکنہ أن یردہ إلی مالکہ ، ویرید أن یدفع مظلمتہ عن نفسہ فلیس لہ حیلۃ إلا أن یدفعہ إلی الفقراء ۔ (۱/۳۵۹ ، کتاب الطہارۃ ، باب فرض الوضوء ، تحت رقم :۵۹ ، رد المحتار :۹/۴۷۰ ، کتاب الحظر والإباحۃ ، فصل في البیع)
(۲) ما في ’’ التنویر وشرحہ مع الشامیۃ ‘‘ : ویشترط أن یکون تملیکا لا یصرف إلی بناء مسجد وکفن میت وقضاء دینہ ۔ تنویر۔ وفي الشامیۃ : قال الشامي رحمہ اللہ تعالی : قولہ : (نحو مسجد) کبناء القناطیر والسقایات واصلاح الطرقات وکری الأنہار والحج والجہاد وکل ما لا تملیک فیہ ۔ زیلعي ۔
(۳/۲۹۱ ، کتاب الزکاۃ ، باب المصرف ، الفتاوی الہندیۃ :۱/۱۸۸، کتاب الزکاۃ ، الباب السابع۔ ۔

=======================
سوال # 39376
میرے اوپر میرے بھائی کی طرف سے عدالت میں ایک غیر ضروری اور غیر شرعی مقدمہ دائر کیا گیا ہے تفصیل کے لئے وصیت اور وارثت کی فتویٰ رقم ۳۹۰۸۶ پڑھ لیں حالات تفصیل سے واضح ہوجائیں گے۔ علماے دین سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا بھائی کی طرف سے میرے اوپر مسلط کئے مقدمہ کیغیر ضروری اخراجات سود کی رقم سے خرچ کئے جاسکتے ہیں؟ سود سے متعلق نیز یہ بھی فرما دیں کہ کیا سود کی رقم سے بلا ثواب کی غرض سے حاجت مند اپنے عزیز اور کسی مسلمان کی مدد کی جا سکتی ہے؟ براہ کرم، شرعی حکم سے ہماری رہنمائی فرمائیں۔

Published on: May 27, 2012
جواب # 39376
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1243-1016/B=7/1433
سود کی رقم مقدمہ کے ضروری اخراجات میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے، ہاں ثواب کی نیت کے بغیر بہت غریب اور پریشان حال مقروض مسلمان خواہ وہ وعزیز ہی ہو ان کی مدد کرسکتے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند۔
___________
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق
حضرات فقہاء کرام نے مالِ حرام مثلاً بینک کے سود کے دو مصرف بتائے ہیں:
(۱) ایک یہ کہ مالِ حرام جہاں سے آیا ہے وہیں واپس کردیا جائے، لیکن اس اصول کو اختیار کرنے کی صورت میں ہماری سودی رقم کو اَغیار، اسلام دشمنی کے کاموں میں لگادیتے ہیں،
(۲) اس لیے دوسرے مصرف میں یہ رقم صرف کی جائے، یعنی مالِ حرام کے وبال سے بچنے کے لیے بلانیتِ ثواب مثلا بہت زیادہ غریب ومحتاج، پریشان حال مقروض، یا لُٹے پِٹے لوگوں پر صدقہ کردی جائے،
اور صورت مسئولہ میں سود کی رقم بطور رشوت کے استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ ”سود“ کی رقم یا تو مالک (بینک یا حکومت وغیرہ) کو لوٹانا ضروری ہے (جیسا کہ پہلی صورت میں مذکور ہوا)  یا پھر غریبوں مسکینوں کو بلا نیت ثواب دے دینا ضروری ہے، (جیسا کہ دوسری صورت میں مذکور ہوا)
اور چونکہ رشوت میں جو رقم دی جاتی ہے وہ حکومت کے کھاتے یعنی مالک کے قبضہ میں نہیں جاتی؛ بلکہ افسران کے جیب میں جاتی ہے، اس لئے یہ جائز نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واللہ اعلم باصواب و علمہ اتم ,
        والدلیل علی ما قلنا
ما في ’’الدر المختار مع الشامیۃ‘‘ : والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیہم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل لہ ، ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ ۔
(۷/۳۰۱ ، کتاب البیوع ، مطلب فیمن ورث مالا حراما)
ما في ’’بذل المجہود‘‘ : صرح الفقہاء بأن من اکتسب مالاً بغیر حق ، فأما إذا کان عند رجل مال خبیث ، فأما إن ملکہ بعقد فاسد ، أو حصل لہ بغیر عقد ولا یمکنہ أن یردہ إلی مالکہ ، ویرید أن یدفع مظلمۃ عن نفسہ ، فلیس لہ حیلۃ إلا أن یدفعہ إلی الفقراء ۔
(۱/۳۵۹ ، کتاب الطہارۃ)
(فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۸۰۳۸)=
ما في ’’بذل المجہود‘‘ : صرّح الفقہاء بأن من اکتسب مالا بغیر حق ۔۔۔۔۔۔۔ إن أخذہ من غیر عقد ولم یملکہ یجب علیہ أن یردہ علی مالکہ إن وجد المالک ، وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل تلک الأموال علی الفقراء ۔۔۔۔۔۔ وأما إذا کان عند رجل مال خبیث فاما إن ملکہ بعقد فاسد أو حصل لہ بغیر عقد ولا یمکنہ أن یردہ إلی مالکہ ، ویرید أن یدفع مظلمتہ عن نفسہ فلیس لہ حیلۃ إلا أن یدفعہ إلی الفقراء ۔
(۱/۳۵۹ ، کتاب الطہارۃ ، باب فرض الوضوء ، تحت رقم :۵۹، رد المحتار :۹/۴۷۰ ، کتاب الحظر والإباحۃ)

_________________
سودی رقم کا مصرف؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
مفتی شکیل منصور صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں
سوال:بینک کے سود کے پیسوں کا مصرف کیا هے؟
کیا اس پیسوں سے اپنے گھر کا بیت الخلا بناسکتے هے؟
کیا اس پیسوں سے ذاتی زمین کی باؤنڈری بناسکتے هے؟
کیا اس پیسوں سے مدرسہ کے بیت الخلا بنا سکتے ہیں؟
کیا اس پیسوں سے اسکول کے بیت الخلا بنا سکتے ہیں؟ جبکہ وہ اسکول عیسائی کی ہوں اور فیس لے کے نفع بناتی ہو؟
کیا رفاہی کاموں میں استعمال کرسکتے ہیں؟کون کون سےرفاہی کام مراد ہیں؟
تفصیل سے وضاحت کرنےکی درخواست گے.جزاکم اللہ
سائل: محمد واصف پٹیل
مقیم حال: کینیا ،ایسٹ ،افریقہ

12/3/2017
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
بنک سے ملنے والی سودی رقم حرام مال ہے اور مال حرام کو اس کے مالک کو لوٹانا ضروری ہے
لہذا اس سودی رقم کو کسی ایسے ٹیکس کی ادائی وغیرہ کی شکل میں حکومت کو لوٹادے جس کا ادا کرنا واجب نہ ہو ۔
اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مال حرام کا تصدق علی الفقراء بلا نیت ثواب علی اصح الاقاویل ضروری ہے یعنی صدقات واجبہ کی طرح اس میں بھی تملیک  فقراء واجب ہے ۔مفتی شفیع صاحب نے جواہر الفقہ میں مختلف دلائل سے اس کے وجوب کو ثابت کیا ہے
جبکہ مفتی کفایت اللہ دہلوی اور مفتی عبد الرحیم لاجپوری جیسے مفتیان کی رائے یہ ہے کہ تصدق علی الفقراء کے علاوہ دوسرے رفاہی کاموں میں بھی اسے صرف کیا جاسکتا ہے ان حضرات کی آراء کی روشنی میں مفاد عامہ کے لئے بیت الخلاء وغیرہ کی تعمیر کی بھی گنجائش ہے۔ ذاتی بیت الخلاء کی تعمیر میں ان کے یہاں بھی اجازت نہیں۔
عاجز کا رجحان یہ ہے کہ بنک وغیرہ کے سود کو کسی رفاہی تعمیراتی کاموں میں صرف نہ کیاجائے ۔کیونکہ اسے دیکھ کر سود کی قباحت لوگوں کی نظروں میں کم ہوجائے گی۔ محتاجوں اور ضرورت مندوں کو روپے دیدیئے جائیں۔ وہ اپنی ضرورتوں میں صرف کریں۔
اگر حکومت کا غیر واجبی ٹیکس قابل ادا ہو تو اس کی ادائی تصدق علی الفقراء سے بھی مقدم ہے۔
إن سبیل التوبۃ مما بیدہ من الأموال الحرام إن کانت من ربا، فلیردہا علی من أربی علیہ، ویطلبہ إن لم یکن حاضرًا، فإن أیس من وجودہ فلیتصدق بذٰلک عنہ۔ (الجامع لأحکام القرآن الکریم للقرطبي ۳؍۲۴۸، سورۃ البقرۃ: ۳۷۹ دار إحیاء التراث العربي بیروت)
إن من شرط التوبۃ: أن تردّ الظلامۃ إلی أصحابہا، فإن کان ذٰلک في المال، وجب أدائہ عینًا أو دینًا ما دام مقدورًا علیہ۔ (القواعد للزرکشي ۲؍۲۴۵ بیروت)
ویردّونہا علی أربابہا إن عرفوہم، وإلا تصدقوا بہا؛ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔ (شامي، کتاب الحظر والإباحۃ / باب الاستبراء، فصل في البیع ۶؍۳۶۵ کراچی، ۹؍۵۵۳ زکریا)
لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔ (شامي، کتاب الحظر والإباحۃ / باب الاستبراء، فصل في البیع ۶؍۳۶۵ کراچی، ۹؍۵۵۳ زکریا)
ویجوز للمحتاج الاستقراض بالربح۔ (الأشباہ والنظائر / القاعدۃ الخامسۃ ۱۴۹ مکتبہ دار العلوم دیوبند، کذا في البحر الرائق / باب الربا ۶؍۱۲۶ کراچی)
ویردونہا علی أربابہا إن عرفوہم وإلا تصدقوا بہا؛ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔ (شامي، کتاب الحظر والإباحۃ / باب الاستبراء، فصل في البیع ۶؍۳۶۵ کراچی، ۹؍۵۵۳ زکریا)
یجب علیہ أن یردہ إن وجد المالک وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل ملک الأموال علی الفقراء۔ (بذل المجہود، کتاب الطہارۃ / باب فرض الوضوء ۱؍۳۷ سہارنفور، ۱؍۳۵۹ مرکز الشیخ أبي الحسن الندوي)
من ملک بملک خبیث ولم یمکنہ الرد إلی المالک فسبیلہ التصدق علی الفقراء الخ۔ (معارف السنن ۲؍۳۴ أشرفیۃ دیوبند)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

بچہ فوت ہونے پر صبر كرنے كا اجر وثواب؟

بچہ فوت ہونے پر صبر كرنے كا اجر وثواب؟
دل کے ٹکڑے کو لے لیا؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
جب کسی کا بچہ فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے کہ:
تم نے میرے بندے کے بچے کی روح نکال لی (حالانکہ وہ اللہ تو سب جانتا ہے)،
فرشتے عرض کرتے ہیں کہ نکال لی،
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تم نے اس (والدین) کے دل کے ٹکڑے (پھل) کو لے لیا،
فرشتے عرض کرتے ہیں؛ لے لیا،
ارشاد ہوتا ہے کہ: پھر میرے بندے نے اس پر کیا کہا؟
فرشتے کہتے ہیں: اِس نے آپ کی حمد کی اور (إنا لله وإنا إليه راجعون) پڑھا،
اللہ فرماتا ہے کہ: اس کے بدلے میرے بندے کے لئے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس کا نام بیت الحمد (تعریف کا گھر) رکھو.
--------------------------------------------------
(سنن الترمذي : 1021 (حسن) ،
الترغيب والترهيب : 4/257 ، ، 3/123 ،
تخريج مشكاة المصابيح : 2/230 ، ، 1677 ،
صحيح الجامع : 795 ،
صحيح الترغيب: 2012 ، ، 3491 (حسن لغيره)،
السلسلة الصحيحة : 1408 ، ،
صحيح ابن حبان : 2948)​

.............
ماں کو جنت لے جائے گا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو بچہ اپنی والدہ کے پیٹ میں (روح پھونکے جانے سے پہلے) ہی ساقط (ختم، ضائع) ہوگیا، اور اگر اُس کی والدہ صبر کرتے ہوئے اپنے اِس بچے پر ثواب کی امید رکھے تو وہ بچہ بھی اپنی والدہ کو نال (ناف سے ملا ہوا، ایک حصہ) سے پکڑ کر جنت میں لے جائے گا.
(مفہوم فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)​
--------------------------------------------------------
(سنن ابن ماجه : 1609 ، ، الترغيب والترهيب : 3/122 ، ،
صحيح الترغيب : 2008 (صحيح لغيره) ، ، المتجر الرابح : 99 ، ،
صحيح الجامع : 7064 (حسن))​

_________________
ہاں، یہ سب کے لئے ہے
قرة بن إياس المزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص اپنے بیٹے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، (ایک مرتبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم اپنے بیٹے سے محبت کرتے ہو؟
اس نے عرض کی جی ہاں اور (دعا بھی دی) کہ اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت فرمائے کہ جس طرح میں اس سے محبت کرتا ہوں (پھر کچھ عرصہ تک) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان (دونوں) کو (حاضر) نہ دیکھا، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا کہ فلاں شخص کے بیٹے کا کیا بنا؟
عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اس کی تو وفات ہوگئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والد سے (ملنے پر) ارشاد فرمایا کہ کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم (بروز قیامت) جنت کے دروازے پر جاؤ اور اپنے بیٹے کو اپنا انتظار کرتے ہوئے پاؤ؟ (یہ سن کر) ایک شخص نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا یہ خوشخبری صرف اِسی (والد) کے لئے خاص ہے یا ہم سب (مسلمانوں) کے لئے ہے؟
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ (خوشخبری) سب (مسلمانوں) کے لئے ہے
----------------------------------------------------
(الترغيب والترهيب: 3/122، المتجر الرابح: 98،
تخريج مشكاة المصابيح للألباني: 1697 (إسناده صحيح))​


اگر نومولود بچہ فوت ہوجائے اور والدين اس پر صبر شكر كريں تو انہيں كيا اجروثواب حاصل ہوتا ہے؟
الحمد للہ:
كتاب وسنت ميں بہت سي نصوص ملتی ہيں جو صبر كرنے والوں کی فضيلت اور ان كے لئے اجرعظيم پر دلالت كرتى ہيں، اور اللہ تعالى انہيں بغير حساب كے اجروثواب عطا كرےگا، يہ اجروثواب ہر اس شخص كے لئے ہے جو كسی بھی مصيبت پر صبر كرے، اس ميں كوئی شک نہيں كہ بيٹے كا فوت ہونا والدين كے لئے بہت بڑی مصيبت اور آزمائش ہے، لہذا جو بھی اس پر صبر كرے اور اللہ تعالٰی كي رضا اور تقدير پر راضی ہو اسے اللہ تعالٰی كے فضل و كرم سے يہ اجرعظيم حاصل ہوگا، ذيل ميں ہم اس کی چند ایک نصوص پيش كرتے ہيں تاكہ آپ كو اس مصيبت اور آزمائش سے تسلی اور حوصلہ مل سكے:
اللہ سبحانہ تعالى كا فرمان ہے:
{اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور كرينگے، دشمن كے ڈر سے، بھوک وپياس سے، مال وجان اور پھلوں کی كمی سے، اور ان صبر كرنے والوں كو خوشخبری دے ديجئے، جنہيں جب کبھی كوئی مصيبت آتی ہے تو وہ كہہ ديا كرتے ہيں كہ ہم تو خود اللہ تعالى کی ملكيت ہيں اور ہم اسي کی طرف لوٹنے والے ہيں، ان پر ان كے رب کی نوازشيں اور رحمتيں ہيں اور يہی لوگ ہدايت يافتہ ہيں} البقرۃ (155- 157) .
اور ایک مقام پر اللہ تعالى نےارشاد فرمايا:
{اور اللہ تعالى صبر كرنے والوں سے محبت كرتا ہے} آل عمران (146)
اور ایک مقام پر اللہ جل شانہ نے فرمايا:
{اللہ تعالٰی يقينا صبر كرنے والوں كو بغير حساب كے اجروثواب دے گا} الزمر (10).
اس معنى کی آيات بہت زيادہ ہيں، ليكن اسی پر اكتفا كرتے ہيں.
اور احاديث بھی بہت وارد ہيں جن ميں سے چند ایک ذكر کی جاتی ہيں:
امام مسلم رحمہ اللہ تعالٰی نےصہيب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:
" مومن كا معاملہ عجيب ہے كہ اس كے ہر معاملہ ميں خير ہی خير ہے، يہ مومن كے علاوہ کسی اور كو حاصل نہيں، اگر مومن كو كوئی آسانی اور خوشي حاصل ہوتي ہے اور وہ اس پر اللہ كا شكر كرتا ہے تويہ اس كے لئےبہتر اور خير ہے، اور اگر اسے كوئی تكليف اور مصيبت پہنچتی ہے تو وہ اس پر صبر كرتا ہے يہ اس كے لئے بہتر اور خير ہے." صحيح مسلم (5318) .
يہ حديث تو عام صبر كے متعلق ہے، اور بچے كے فوت ہونے پر صبر كرنے ميں بھی خاص كر احاديث آئيں ہيں جن ميں سےچند ایک ذيل ميں ذكر كرتے ہيں:
امام ترمذی رحمہ اللہ تعالٰی نے ابوسنان رحمہ اللہ تعالٰی سے بيان كيا ہے وہ كہتے ہيں ميں نے اپنے بيٹے سنان كو دفنايا اور قبر كے كنارے ابو طلحہ خولانی رحمہ اللہ تعالٰی بيٹھے ہوئے تھے جب ميں نے نكلنا چاہا تو انہوں نےميرا ہاتھ پكڑا اور كہنے لگے ابوسنان كيا ميں تمہيں خوشخبری نہ دوں؟ ميں نےجواب ديا كيوں نہيں، تو انہوں نے كہا:
مجھے ضحاک بن عبدالرحمن بن عرزب رحمہ اللہ نے ابو موسى اشعرى رضی اللہ تعالى عنہ سے حديث بيان کی كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جب کسی بندے كا بيٹا فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالى اپنے فرشتوں سے كہتا ہے تم نے ميرے بندے كے بيٹے كي روح قبض کرلی تو وہ كہتے ہيں جي ہاں تو اللہ تعالى كہتا ہے تم نے اس كےدل كا پھل اور ٹكڑا قبض كرليا تو وہ كہتے ہيں جي ہاں، تواللہ تعالى كہتا ہے ميرے بندے نے كيا كہا؟ تو فرشتے جواب ديتے ہيں اس نے تيری حمد و تعريف اور انا للہ وانا اليہ راجعون پڑھا، تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ميرے بندے كے لئے جنت ميں ایک گھر تيار كردو اور اس كا نام بيت الحمد ركھو." جامع الترمذي حديث نمبر (942). علامہ البانن رحمہ اللہ تعالٰی نےاس حديث كو السلسلۃ الصحيحۃ (1408) ميں حسن قرار ديا ہے.
اور بخاری ومسلم ميں کسی شخص كے ایک سے زيادہ بچے فوت ہونے اور اس پر صبر كرنے اور اللہ تعالٰی سے اجروثواب کی نيت كرنے کی فضيلت پر خاص حديث مذكور ہے:
ابو سعيد رضی اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ عورتوں نے نبی كريم صلى اللہ عليہ وسلم سےعرض کی اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہميں نصيحت اور تبليغ كرنے كے لئے كوئی دن خاص كرديں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں وعظ ونصيحت کی اور فرمايا:
"جس عورت كے بھی تين بچے فوت ہوں تو وہ آگ سے پردہ ہونگے، ايک عورت كہنے لگی اور اگر دو ہوں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا اور دو بھی" صحيح بخاری (99) صحيح مسلم ( 4786 ) .
اور بخاری کی ايک روايت ميں ہے كہ:
انس بن مالک رضی اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
"جس مسلمان شخص كے بھی بلوغت سے قبل تين بچے فوت ہوجائيں اللہ تعالٰی ان کی وجہ سے اسے اپنی رحمت اور فضل سے جنت ميں داخل كرے گا." صحيح بخاری حديث نمبر (1292).
ان احاديث ميں يہ بيان ہوا ہے كہ جس كے بھی دو يا اس سے زيادہ بچے فوت ہوجائيں اور وہ اس پر صبر كرے تو اس كے ساتھ جنت ميں داخل اور جہنم سے نجات كا وعدہ كيا گيا ہے.
اور مصيبت كے وقت ہميں نبی صلى اللہ عليہ وسلم نےايک دعا سكھائی ہے جس ميں بہت فضيلت اور اجرعظيم ہے .
امام مسلم رحمہ اللہ تعالٰی عنہ نے ام المومنين ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے بيان كيا ہے وہ كہتى ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:
"جس مسلمان شخص كو بھی كوئی مصيبت پہنچے اور وہ وہی كہے جو اسےاللہ تعالى نےحكم ديا ہے (انا للہ وانا اليہ راجعون) اور يہ دعا پڑھے:
(اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا) اے اللہ ميری مصيبت ميں مجھے اجر دے اور اس كا نعم البدل عطا فرما."
ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کہتی ہيں كہ جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فوت ہوئے تو ميں كہنے لگی ابو سلمہ سے كون سا مسلمان بہتر ہے سب سے پہلا گھر جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم کی طرف ہجرت كركے آيا پھر ميں نے يہ دعا پڑھ لی تو اللہ تعالى نے مجھے اس كے بدلے ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم دئے. صحيح مسلم حديث نمبر (1525).
ہم اللہ تعالى سےدعا گو ہيں كہ وہ آپ كو آپ کو مصيبت ميں صبر دے اور اس كے بدلے ميں بہتر اور اچھا بدلا عطا فرمائے.

Monday, 1 October 2018

امام ابو حنیفہ وغیرہم کی تصانیف

امام ابو حنیفہ وغیرہم کی تصانیف

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور دیگر علماء اسلاف کی تصانیف کثرت سے نہ ہونے کی وجہ باوجودیکہ ان کا علم کتب کثیرۃ کو محیط ہے.
بعض اھل تحقیق نے بیان کیا ہے کہ اس زمانے میں مستقل تصنیف کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی کیونکہ ان کے تلامذہ کثرت سے تھے جن کے پاس ان کی لکھی ہوئی کاپیاں موجود تھیں
جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے زمانے میں تصنیف کی ضرورت محسوس نہ کی گئی  اور بعض اھل علم نے کہا کہ تصنیف تو ان کی تھیں مگر تاریخ شاہد ہے کہ جب فتنۂ تاتاری برپا ہوا تو ظالم تاتاریوں نے ساری دینی کتابوں  اور ان اھل علم حضرات کی تصانیف کو دریا میں غرق کردیا.
تاتاری لوگ فتنۂ یاجوج ماجوج سے کم نہ تھے
ان ظالم لوگوں نے بہت مسلمانوں کو قتل کیا اور اسلام کو نقصان پہنچانے کی خاطر علماء کرام کی بیش بہا بے شمار کتابوں کو دریاء میں بہادیا
ورنہ بعض اھل تاریخ نے لکھا ہے کہ ہمارے علماء کرام کی اتنی تصانیف تھیں کہ اگر دریا میں پل بنایا جاتا تو پل بن جاتا بظاہر یہ مبالغہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ کتابیں کثرت سے تھیں
اور دریا دجلہ وفرات اس پر شاہد عدل ہے کہ جب ان ظالم تاتاریوں نے علماء کرام کے ذخیرۂ کتب کو دریا میں غرق کیا تو دجلہ وفرات کا پانی روشنائی کی وجہ سے سیاہی مائل ہوگیا تھا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی کتابیں رہی ہوں گی ہمارے علماء کرام کی
اب اس زمانے میں چھپائی پریس تو ہوتے نہیں تھے کہ کئی نسخے ہوں جو بروقت دستیاب ہوجائیں قلمی نسخے ہوتے تھے جو کمیاب تھے
فقط واللہ اعلم بحقیقۃ الحال
محمد اسعد المظاھری الٰہ آبادی عفی عنہ
.......
مزید تلاش کے بعد امام ابو یوسف رحمہ اللہ علیہ کی 14 کتابوں کا نام ملا ہے اس میں سے ان کی ایک جو فقہ حنفی کی مستند ومشہور کتاب ہے وہ ہے،
کتاب الخراج:
اس کے علاوہ ان کی مزید کتابیں معلوم ہوئی ہیں
1/کتاب الآثار
2/کتاب النوادر
3/اختلاف الامصار
،4/ادب القاضی
المالی فی الفقہ
5/الرد علی مالک بن انس
7/الفرائض
8/الوصایا
9/الوکالۃ
10/ البیوع
11/الصید والذبائح
12/ الغضب والاستبراء
13/ کتاب الجوامع

دنیا امتحان کی جگہ ہے

دنیا امتحان کی جگہ ہے
سورہ الکہف آیت نمبر 7
اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَی الۡاَرۡضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبۡلُوَہُمۡ اَیُّہُمۡ   اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾
ترجمہ:
یقین جانو کہ روئے زمین پر جتنی چیزیں ہیں ہم نے انہیں زمین کی سجاوٹ کا ذریعہ اس لیے بنایا ہے تاکہ لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون زیادہ اچھا عمل کرتا ہے۔ (١)
تفسیر:
1: آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشرکین کے کفر اور معاندانہ طرز عمل سے سخت صدمہ ہوتا تھا، ان آیات میں آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ دنیا تو لوگوں کے امتحان کے لیے بنائی گئی ہے، تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون ہے جو دنیا کی سجاوٹ میں محو ہو کر اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے، اور کون ہے جو اس کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق استعمال کر کے اپنے لیے آخرت کا ذخیرہ بناتا ہے۔ اور جب یہ امتحان گاہ ہے تو اس میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو امتحان میں کامیاب ہوں گے اور وہ بھی جو ناکام ہوں گے۔ لہذا اگر یہ لوگ کفر و شرک کا ارتکاب کر کے امتحان میں ناکام ہورہے ہیں تو اس میں نہ کوئی تعجب کی بات ہے اور نہ اس پر آپ کو اتنا افسوس کرنا چاہیے کہ آپ اپنی جان کو گھلا بیٹھیں۔
آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی