Wednesday, 30 August 2017

نعل نبوی کا نقش

یہ مروج نقش تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین مبارکین ہی کا ہے۔ لیکن یہ نعل نبوی کی صورت محضہ ہے۔اس لئے اس سے تبرک حاصل کرنا یا گھروں میں آویزاں کرنا درست نہیں۔ حصول تبرک کے لئے مس نبوی ضروری ہے جو ثابت نہیں ہے۔

بَاب مَا جَاءَ فِي نَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

1772 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ [ص: 213] قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَيْفَ كَانَ نَعْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمَا قِبَالَانِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
سنن الترمذي

اسحاق بن منصور، حبان بن ہلال ہمام، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نعلین مبارک کے دو تسمے تھے. یہ حدیث حسن صحیح ہے. اس باب میں حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی احادیث منقول ہیں۔

2940 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ قَالَ أَخْرَجَ إِلَيْنَا أَنَسٌ نَعْلَيْنِ جَرْدَاوَيْنِ لَهُمَا قِبَالَانِ فَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ بَعْدُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُمَا نَعْلَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
صحيح البخاري

مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی رحمہ اللہ نے حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے حوالہ سے نعل نبوی کا یہی نقش نقل کیا ہے۔ لیکن صورت محضہ ہونے کی وجہ سے حصول تبرک درست نہیں ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

نمازی جیب میں ناپاک کپڑا بھول جائے تو؟

نمازی جیب میں ناپاک کپڑا بھول جائے تو؟؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ عبداللہ نامی شخص سفر کررہا تھا. دوران سفر استنجاء کے بعد ٹپکنے کے ڈر سے کوئی کپڑا اپنے آلہ تناسل پر باندھا، پھر کپڑا ہٹاکر طہارت کرکے وضو کیا، وہ کپڑا جس میں پیشاب کے قطرے لگے تھے، اپنی بغل کی جیب میں رکھ لیا. پھر نماز پڑھ لیا. نماز کے بعد دوران سفر ہی اسے یاد آیا پھر دوسری نماز کے وقت وہ جیب سے کپڑے الگ کرکے نماز پڑھا تو پہلے والی نماز کا اعادہ کرنا ہوگا حالانکہ لا علمی میں ایسا ہوا اور وہ بھی بغل کی جیب میں تھا.     
قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرما کر رہنمائی فرمائیں ہم آپ کے ممنون ومشکور ہیں
المستفتی رشید احمد قاسمی
----------------------------------------
الجواب وباللہ التوفيق :
جس کپڑے میں پیشاب خشک کیا تھا اگر اس میں موجود نجاست کی مقدار بقدر درہم یعنی 3 گرام یا اس سے زائد ہو اور اسے بھول کے جیب میں رکھ کے نماز پڑھ لی ہو تو وہ نماز فاسد ہے۔ اس کا اعادہ ضروری ہے
وفرعوا علی ذلک مالو علم قلیل نجاسۃ علیہ وہو في الصلاۃ ففي الدرہم یجب قطع الصلاۃ، وغسلہا، ولو خاف فوت الجماعۃ، لأنہا سنۃ وغسل النجاسۃ واجب وہو مقدم۔ (حاشیۃ الطحطاوي، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس والطہارۃ عنہا، دارالکتاب دیوبند جدید ۱۵۶، الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ۳۸/۲۲۰)
وفي الدر: وطہارۃ بدنہ وثوبہ وکذا ما یتحرک بحرکتہ، أویعد حاملالہ کصبي علیہ نجس، إن لم یستمسک بنفسہ منع وتحتہ في الشامیۃ: أي شیئ متصل بہ یتحرک بحرکتہ کمندیل طرفہ علی عنقہ وفي الآخر نجاسۃ مانعۃ إن تحرک موضع النجاسۃ بحرکات الصلاۃ منع وإلا لا۔ (در مختار مع الشامي، کتاب الصلاۃ، شروط الصلاۃ، زکریا ۲/۷۳، ۷۴، کراچی ۱/۴۰۲)
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی

جمعہ اور عید ایک ہی دن جمع ہوجائیں تو؟

اجْتِمَاعُ الْعِيدِ وَالْجُمُعَةِ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذَهَبَ الْحَنَفِيَّةُ وَالْمَالِكِيَّةُ إِلَى أَنَّهُ إِذَا وَافَقَ الْعِيدُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلاَ يُبَاحُ لِمَنْ شَهِدَ الْعِيدَ التَّخَلُّفُ عَنِ الْجُمُعَةِ. قَال الدُّسُوقِيُّ: وَسَوَاءٌ مَنْ شَهِدَ الْعِيدَ بِمَنْزِلِهِ فِي الْبَلَدِ، أَوْ خَارِجَهَا. وَذَهَبَ الْحَنَابِلَةُ إِلَى أَنَّهُ إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَصَلَّوْا الْعِيدَ وَالظُّهْرَ جَازَ وَسَقَطَتِ الْجُمُعَةُ عَمَّنْ حَضَرَ الْعِيدَ؛ لأَِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعِيدَ، وَقَال: مَنْ شَاءَ أَنْ يُجَمِّعَ فَلْيُجَمِّعْ (أخرجه أحمد (4 / 372 - ط. الميمنية) من حديث زيد بن أرقم ونقل ابن حجر في التلخيص (2 / 88 - ط. شركة الطباعة الفنية) عن ابن المنذر أنه أعله بجهالة راويه عن زيد بن أرقم، ثم ذكر شواهد له منها الحديث الآتي ذكره.  )
وَصَرَّحُوا بِأَنَّ إِسْقَاطَ الْجُمُعَةِ حِينَئِذٍ إِسْقَاطُ حُضُورٍ لاَ إِسْقَاطُ وُجُوبٍ، فَيَكُونُ حُكْمُهُ كَمَرِيضٍ وَنَحْوِهِ مِمَّنْ لَهُ عُذْرٌ أَوْ شُغْلٌ يُبِيحُ تَرْكَ الْجُمُعَةِ، وَلاَ يَسْقُطُ عَنْهُ وُجُوبُهَا فَتَنْعَقِدُ بِهِ الْجُمُعَةُ وَيَصِحُّ أَنْ يَؤُمَّ فِيهَا. وَالأَْفْضَل لَهُ حُضُورُهَا خُرُوجًا مِنَ الْخِلاَفِ. وَيُسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ الإِْمَامُ فَلاَ يَسْقُطُ عَنْهُ حُضُورُ الْجُمُعَةِ، لِحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ (أخرجه أبو داود (1 / 647 تحقيق عزت عبيد دعاس) وصحح الدارقطني إرساله، كذا في التلخيص لابن حجر (2 / 88) ولكنه ذكر شواهد تقويه.) .
وَلأَِنَّهُ لَوْ تَرَكَهَا لاَمْتَنَعَ فِعْلُهَا فِي حَقِّ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ، وَمَنْ يُرِيدُهَا مِمَّنْ سَقَطَتْ عَنْهُ، وَقَالُوا: إِنْ قَدَّمَ الْجُمُعَةَ فَصَلاَّهَا فِي وَقْتِ الْعِيدِ، فَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَحْمَدَ قَال: تُجْزِئُ الأُْولَى مِنْهُمَا. فَعَلَى هَذَا: تُجْزِيهِ عَنِ الْعِيدِ وَالظُّهْرِ، وَلاَ يَلْزَمُهُ شَيْءٌ إِلَى الْعَصْرِ عِنْدَ مَنْ جَوَّزَ الْجُمُعَةَ فِي وَقْتِ الْعِيدِ.
وَأَجَازَ الشَّافِعِيَّةُ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُوَافِقُ فِيهِ الْعِيدُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لأَِهْل الْقَرْيَةِ الَّذِينَ يَبْلُغُهُمُ النِّدَاءُ لِصَلاَةِ الْعِيدِ: الرُّجُوعُ وَتَرْكُ الْجُمُعَةِ، وَذَلِكَ فِيمَا لَوْ حَضَرُوا لِصَلاَةِ الْعِيدِ وَلَوْ رَجَعُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ فَاتَتْهُمُ الْجُمُعَةُ؛ فَيُرَخَّصُ لَهُمْ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِ تَخْفِيفًا عَلَيْهِمْ. وَمِنْ ثَمَّ لَوْ تَرَكُوا الْمَجِيءَ لِلْعِيدِ وَجَبَ عَلَيْهِمُ الْحُضُورُ لِلْجُمُعَةِ، وَيُشْتَرَطُ - أَيْضًا - لِتَرْكِ الْجُمُعَةِ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْل دُخُول وَقْتِ الْجُمُعَةِ (تبيين الحقائق 2 / 224، حاشية الدسوقي 1 / 391، البجيرمي على الخطيب (2 / 167 ط. مصطفى الحلبي 1951 م) ، كشاف القناع 2 / 40، والمغني 2 / 358 - 359) .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمعہ اور عید ایک ہی دن جمع ہوجائیں تو کیا جمعہ بھی ضروری ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہی دن جمعہ اور عید (عید الفطر یا عید الاضحیٰ) آجائے تو کیا جمعہ لازم ہوتا ہے یا ظہر پڑھی جائے گی، اِس میں اختلاف ہے:
احناف و مالکیہ: جمعہ اور عید دونوں ضروری ہیں، جمعہ کو ترک کرنا جائز نہیں ۔
حنابلہ: جمعہ ترک کرکے ظہر پڑھنا جائز ہے ، لیکن جمعہ پڑھنا افضل ہے ۔
اِمام شافعی: شہر کے لوگوں پر جمعہ لازم ہے ،گاؤں اور شہر کے مضافات کے علاقوں سے جامع مسجد آنے والوں کیلئے جمعہ کی نماز میں دوبارہ حاضر ہونا ضروری نہیں ، کیونکہ اِس طرح اُن کو جمعہ کیلئے دوبارہ آنا ضروری ہوگا ، جس میں حرج لازم آئے گا۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:27/209 ،210)
امداد الاحکام میں بالکل فیصلہ کن بات تحریر ہے :
سوال: عید اور جمعہ دونوں ایک دن میں ہوجائیں تو کیا دونوں فرض ہیں یا دونوں واجب یا دونوں سنت، یا ان میں تفصیل ہے، یعنی بعض فرض اور بعض واجب یا سنت، مدلل تحریر فرمائیں، اور دلیل اگرحدیث ہو تو بہتر ہے.
الجواب: قال فی الدر ولواجتمعا ای العید والجمعۃ لم یلزم الاحدھما کذا فی القھستانی عن التمرتاشی قلت وقدراجعت التمرتاشی فرأیتہ حکاہ عن مذھب الغیروبصیغۃ التمریض فتنبہ اھ قال فی ردالمحتار امامذھبنا فلزوم کل منھما قال فی الھدایۃ ناقلا عن الجامع الصغیرعیدان اجتمعافی یوم واحد فالاول سنتہ والثانی فریضۃ ولایترک واحدمنھما قال فی المعراج قال عبدالبرسقوط الجمعۃ بالعید مھجور وعن علی ان ذلک فی اھل البادیۃ ومن لاتجب علیھم الجمعۃ اھ وسماھافی الجامع الصغیرسنتہ لان وجوبھاثبت بالسنۃ حلیہ قال فی البحر والظاھر انہ لاخلاف فی الحقیقہ لان المراد من السنۃ المؤکدۃ بدلیل قولہ لایترک واحدمنھما وکماصرح بہ فی المبسوطوقدذکرنامراراً انھا بمنزلۃ الواجب عندنااھ (ص۶۸۵ ج۱)
اس سے معلوم ہوا کہ عید اور جمعہ مجتمع ہوجائیں تو پہلی نماز واجب ہے یعنی عید کی، اور دوسری یعنی جمعہ کی نمازفرض ہے، اور شہروالوں کو کسی کا ترک بھی جائز نہیں، ہاں دیہات والوں کو جن پرجمعہ وعید واجب نہیں، گنجائش ہے کہ عید پڑھ کر اپنے گاؤں کو واپس ہوجائیں، اور جمعہ نہ پڑھیں، کیونکہ دیہاتی اگر شہرمیں آجائے تو جب تک زوال  کے وقت تک شہر میں نہ رہے اس پرجمعہ فرض نہیں ہوتا، زوال سے پہلے اس کو واپس ہوجانا جائز ہے،
کما فی الدروالشامی(ص۸۶۱ج۱)مع ذکرالاختلاف فیہ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (امداد الاحکام 850/1)
شکیل منصور القاسمی
muftishakeelahmad@gmail.com

Tuesday, 29 August 2017

حج کی حقیقت

کوئی شخص حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ کے پاس آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا:
"تم کہاں سے آئے ہو؟"

اس نے کہا: "میں حج پر گیا ہوا تھا۔"

آپؒ نے فرمایا: "تو نے حج کیا؟"

اس نے کہا: "ہاں!"

آپ نے پوچھا: شروع میں جو تو اپنے گھر سے باہر نکلا اور وطن کو چھوڑا تو کیا سب گناہوں کو بھی چھوڑا؟"

اس نے جواب دیا: "نہیں"

آپؒ نے فرمایا: "تو تُو نے وطن سے سفر نہیں کیا۔" پھر آپؒ نے پوچھا کہ: "جب تو گھر سے نکلا اور ہر منزل پر رات کے وقت مقام کیا تو کیا تُو نے اس مقام میں طریقِ حق میں سے بھی کچھ قطع کیا؟"

اس نے کہا: "نہیں۔"

تب آپؒ نے فرمایا کہ "تو نے منزلیں طے نہیں کیں۔" پھر آپؒ نے پوچھا کہ "جب میقات پر احرام باندھا گیا تو کیا تو اپنی صفات بشری سے بھی ایسا ہی جدا ہوا، جیسا کہ اپنے کپڑوں اور عادتوں سے؟"

اس نے کہا: "نہیں۔"

تو آپؒ نے فرمایا: "تو نے احرام نہیں باندھا۔" پھر پوچھا کہ: "جب تو عرفات کے میدان میں کھڑا ہوا تو کیا کشف و مشاہدہ حق میں بھی تجھے کھڑا ہونا حاصل ہوا؟"

اس نے کہا: "نہیں۔"

تو آپؒ نے فرمایا: "تو عرفات میں بھی کھڑا نہیں ہوا۔" پھر پوچھا کہ: "جب تو مزدلفہ گیا اور تیری مراد حاصل ہو گئی تو کیا تو نے سب نفسانی مرادوں کو ترک کر دیا؟"

اس نے کہا: "نہیں۔"

تو آپؒ نے فرمایا کہ: "تو مزدلفہ بھی نہیں گیا۔" پھر پوچھا "جب تو نے بیت اللہ کا طواف کیا تو کیا تو نے باطن کی آنکھ سے تنزیہ (اللہ تعالٰی کے ہر عیب سے پاک ہونا) کے مقام میں حضرت حق سبحانہ کے جمال کے لطائف کو بھی دیکھا؟"

اس نے کہا: "نہیں۔"

تو آپؒ نے فرمایا کہ "تو نے طواف بھی نہیں کیا۔" پھر فرمایا: " جب تو نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تو کیا تو نے صفا (پاکیزگی) اور مروت (نیکی ) کا درجہ معلوم کیا؟"

اس نے کہا: "نہیں۔"

تو آپؒ نے فرمایا کہ: "تو نے ابھی سعی بھی نہیں کی۔" پھر پوچھا کہ: "جب منٰی میں آیا تو کیا تیری منی (آرزوئیں) تجھ سے ساقط ہو گئیں؟"

اس نے کہا: "نہیں۔"

تو آپؒ نے فرمایا کہ: "تو ابھی منٰی بھی نہیں گیا۔" پھر پوچھا کہ "جب تو قربان گاہ میں آیا اور قربانی کی تو کیا تو نے اپنی نفسانی خواہشات کی قربانی کی؟"

اس نے کہا: "نہیں"

تو آپؒ نے فرمایا کہ "تو نے قربانی بھی نہیں کی۔" پھر پوچھا کہ "جب تو نے کنکریاں پھینکیں تو کیا جو کچھ تیرے ساتھ نفسانی امور تھے، ان سب کو تو نے پھینک دیا؟"

اس نے کہا: نہیں:

تو آپؒ نے فرمایا کہ "تو نے ابھی کنکریاں بھی نہیں پھینکیں اور حج بھی نہیں کیا، واپس لوٹ جا اور اس طرح حج کر (جیسا میں نے تعلیم کی ہے) تا کہ تو بھی مقامِ ابراہیم پر پہنچ جائے۔"

کشف المحجوب از سیدنا علی بن عثمان ہجویری رح ۔ صفحہ، 301 —

Tuesday, 22 August 2017

آب زم زم کیسے پئیں؟

آب زم زم پینے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
زم زم کا پینا مسنون اور مستحب ہے، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الودع کے موقع پر خصوصی اہتمام سے نوش فرمایا ہے ایک روایت میں ہے کہ آب زم زم جس مقصد سے پیا جائے وہ مقصد حاصل ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب زم زم نوش فرمایا اس وقت سر مبارک کھلا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کھڑے تھے اس لئے بعض حضرات نے زم زم پیتے وقت اس کیفیت کو مسنون قرار دیا ہے جبکہ محققین کا خیال ہے کہ سر کا کھلا ہونا احرام کی وجہ سے تھا اور کھڑا ہونا کیچڑ کی وجہ سے اس لئے یہ ایک طبعی فعل تھا اس کا اہتمام کرنا سنت نہیں بلکہ بیٹھ کرعام پانی کی طرح استعمال کرنا سنت ہے. حجتہ الودع کے واقع کی تفصیل سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے اس لئے زم زم پیتے وقت کبھی کبھار اس کی رعایت وہی کھڑے ہوکر پینے کی بھی جائز ہے.
ابن ماجہ نے محمد بن عبدالرحمن بن ابوبکر سے زم زم پینے کے آداب کی بابت نقل کیا ہے کہ میں حضرت عبداللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا،
کہاں سے آئے ہو؟
عرض کیا زم زم سے دریافت فرمایا جس طرح زم زم پینا چاہئے اس طرح پیا؟ نووارد نے پوچھا کس طرح؟
فرمایا، جب زم زم پیو تو
1. قبلہ رخ ہوجاﺅ
2. اللہ کا نام بسم اللہ پڑھو
3. تین سانس میں پیو اور
4. خوب سیر ہوکر پیو
5. جب فارغ ہو تو اللہ کی حمد کرو الحمد اللہ پڑھو
(ابن ماجہ 189/2طحطاوی 43 المغنی 299/3)
......
کیا کھڑے ہوکر آب ِزم زم پیا جاسکتا ہے؟ – شیخ محمد ناصرالدین البانی
Can we drink ZamZam water while standing? – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee
کیا کھڑے ہوکر آب ِزم زم پیا جاسکتا ہے؟  
فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ
(محدث دیارِ شام)
ترجمہ: طارق علی بروہی
مصدر: أشرطة متفرقة للشيخ » الشريط رقم : 005، ما حكم شرب ماء زمزم قائما؟
پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سوال: آب زم زم کھڑے ہوکر پینے کے تعلق سے یہ سوال ہے کہ: 
کیا یہ جائز ہے؟

جواب: دیکھیں آب زم زم کے بارے میں یہ آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوکر پی رہے تھے ([1])، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی نے کھڑے ہوکر پینے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں اور ہم نے بھی ابھی ذکر کیا تھا۔ تو اسے سنت لازمہ بنادیا کہ کھڑے ہوکر آب زم زم پیا جائے۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو یہ کھڑے ہوکر پیا تھا اس کی وجہ لوگوں کا رش اور بِھیڑ تھی۔  جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمومی سیرت پڑھے گا پھر خصوصی طور پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ چلتے تھے تو اس پر یہ بات مکمل روشن وواضح ہوجائے گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی طور پر اپنے آپ کو اپنے ساتھیوں سے ممتاز بالکل نہيں رکھتے تھے، پس آپ آخری دور کے امراء کی طرح نہیں تھے کہ ان کے لیے راستے خالی کروادیے جاتے ہیں بلکہ کبھی تو ان کے لیے پوری مسجد الحرام تک خالی کروادی جاتی ہے کعبۃ اللہ تو دور کی بات رہی اور آخر تک جو کچھ ہوتا ہے۔ چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق وصفات میں سے یہ نہ تھا۔ بلکہ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی سیدنا عبداللہ بن قدامہ العامری رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت بیان فرمائی کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر چلے جارہے تھے اور:
’’وَلَا طَرْدٌ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ‘‘([2])
(نہ لوگوں کو دھکیلا جارہا تھا،  نہ راستے سے ایک طرف ہوجانے کو کہا جارہا تھا)۔
یعنی ان سب کے ساتھ ہی چلے جارہے تھے کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے راستے صاف کرو، بالکل نہیں۔
پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے اور آب زم زم میں سے پینا چاہا تو کیا طلب کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے؟ اگر ہم اپنے آپ پر انہیں قیاس کریں کہ آب زم زم پینے کے لیے طلب کررہے ہوں،  تو یہ طلب کریں گے کہ ان کے لیے تازہ پانی کا ڈول نکالا جائے، لیکن نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہیں سے دے دو جہاں سے دیگر مسلمان پی رہے ہیں یعنی اسی مشکیزے سے۔ لہذا اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت بیٹھ کر پینا چاہتے تو رش کی شدت کے باعث بِھیڑ تلے کچلے جانے تک کا خطرہ تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق میں سے نا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ (کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو تعینات فرمائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں چمٹ کر لوگوں کو کہتے رہیں راستہ دو راستہ دو۔ بالکل نہيں، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہوکر پیا۔
اسی طرح بعض دوسری احادیث میں جو سنن الترمذی میں ہیں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مشکیزے کے پاس آئے جو لٹکا ہوا تھا آپ نے اس کا بند کھولا اور کھڑے ہوکر ہی اس میں سے پیا، کیونکہ وہ اوپر لٹکا ہوا تھا، اور یہاں کھڑے ہوکر پینا اصل مقصود نہ تھا، بلکہ آپ تو مجبور تھے۔ چناچہ ہمارے لئے جائز نہیں کہ اس قسم کے جزئی واقعات وحادثات کا ہم قواعدِ کلیہ سے ٹکراؤ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہوکر پینے سے منع فرمایا، بلکہ زجر بھی فرمایا (ڈانٹا بھی) اور قے تک کردینے کا حکم فرمایا([3])۔
اسی طرح سے ہونا چاہیے اس شخص کو جو رب العالمین کی طرف سے بھیجے گئے دین میں تفقہ چاہتا ہے (یعنی وہ دلائل کو جمع کرتا اور اصول پر چلتا ہے)۔
[1] صحیح بخاری 1637 میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ‘‘ (میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آب زم زم  پلایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھڑے ہونے کی حالت میں پیا)۔ اور صحیح مسلم میں ’’بَاب فِي الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا‘‘  (باب: آب  زم زم میں سے کھڑے ہوکر پینےکے بارے میں) کے تحت چار روایات لائے ہیں۔
[2] اسے امام الترمذی نے 903 میں روایت فرمایا، اور شیخ البانی نے صحیح الترمذی میں صحیح قرار دیا ہے۔
[3] دیکھیں صحیح مسلم میں ’’بَاب كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا‘‘ (باب : کھڑے ہوکر پینے کی کراہیت کے بارے میں)، جبکہ جو علماء جواز کے قائل ہیں اس کے لیے پڑھیں صحیح بخاری ’’باب الشُّرْبِ قَائِمًا‘‘ (کھڑے ہوکر پینے سے متعلق باب) جس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بھی روایت ہے کہ کھڑے ہوکر پیا اور فرمایا لوگ اسے مکروہ وناپسندیدہ سمجھتے ہيں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کھڑے ہوکر پیتے دیکھا۔ اللہ اعلم (توحید خالص ڈاٹ کام)
May 24, 2016 | الشيخ محمد ناصر الدين ألباني, فقہ وعبادات, مقالات |

http://tawheedekhaalis.com/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92-%DB%81%D9%88%DA%A9%D8%B1-%D8%A2%D8%A8-%D9%90%D8%B2%D9%85-%D8%B2%D9%85-%D9%BE%DB%8C%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92%D8%9F-%D8%B4/

......
سوال: زمزم کا پانی کیسے پیا جائے؟
کھڑے ہو یا بیٹھ کر؟
اگر کھڑے ہوکر تو کیوں؟
تین سانس میں یا ایک سانس میں پینا چاہئے؟
براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
Published on: Feb 19, 2011
جواب # 30419
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م):377=377-3/1432
آب زمزم بیٹھ کر پینا بلاکراہت درست ہے، البتہ کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زمزم کھڑے ہوکر پینا ثابت ہے:
عن ابن عباس أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم شَرِبَ من زمزم وہو قائم (ترمذی شریف) اور تین سانس میں پینا چاہئے،
أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم کان یتنفس في الإناء ثلاثا إلخ (ترمذی)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
...........
سوال # 34987
آب زم زم پینے کا کوئی خاص طریقہ یا حکم ہے؟ سنا ہے کہ آب زم زم کو کھڑے ہوکر اور ایک سانس میں اور قبلہ رخ ہوکر پینے کا حکم ہے؟ مہربانی فرماکر مستحب یا مسنون طریقہ بتائیں۔
جواب # 34987
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(د): 1840=1089-11/1432
کھڑے ہوکر قبلہ رخ پینا مستحب ہے، اگر زیادہ مقدار ہو تو تین سانس میں پئیں۔
واللہ تعالی اعلم
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Hajj--Umrah/34987

......
زمزم پینے کا حکم
سوال: آب زمزم بیٹھ کر پینا سنت ہے یا کھڑے ہوکر؟
جواب: آب زم زم  بیٹھ کر پینا سنت ہے کھڑے ہوکر پینا مکروہ نہیں جائز ہے۔
(شامی: 1/92 طبع رشیدیہ)
http://www.suffahpk.com/aabe-zam-zam-piny-ka-hukum/

أسماء ساعات اليوم في اللغة العربية

قد يظن البعض أن تقسيم اليوم إلى أربع وعشرين ساعة هو اختراع غربي والحقيقة أنَّ العرب هم الذين قسموا اليوم والليلة إلى أربع وعشرين وقتًا سمَّوا كل وقت منها ساعة لها مقدارٌ مخصوصٌ معلوم
وجعلوا للنهار اثنتي عشرة ساعة وللَّيل اثنتي عشرة ساعة أيضًا ويسمى تقويم العرب بالتقويم الغروبي ويبدأ يومهم من غروب الشمس فالليل يسبق النهار .
وهي على الترتيب كالآتي:
يقول الإمام الثَّعالبي ساعات النهار:
الساعة      اسمها عند العرب
_________________
1.               الشُّروق
2.                 بُكور
3.               الغدوة
4.               الضُّحى
5.              الهَاجرة
6.              الظَّهيرة
7.               الرَّواح
8.               العصر
9.               القصر
10.            الأصيل
11.            العشيُّ
12.            الغروب
فهذه اثنتا عشرة ساعة .
أما ساعات الليل فهي :
الساعة        اسمها عند العرب
___________________
1.                       الشَّفق
2.                       الغَسَق
3.                      العَتَمَة
4.                     السُّدفة
5.                     الفَحمة
6.                      الزُّلة
7.                     الزُّلفة
8.                      البُهرة
9.                     السَّحر
10.                   الفجر
11.                   الصبح
12.                   الصباح
فهذه كذلك اثنتا عشرة ساعة
يؤذن المغرب 12 والفجر 12
وهذه صورة توضح ساعات الليل والنهار
‏https://d.top4top.net/p_576hxhsd0.jpg
سبحان الله ما أجمل اللغة العربية !
وما أشرفها وما أرقها وما أروعها !
فهي كما قال الشاعر على لسانها:
أنا البحر في أحشائه الدرُّ كامنٌ
    فهل سألوا الغواص عن صدفاتي .

Monday, 21 August 2017

کنکری کے ذریعہ رکعات گننا؟

کنکری کے ذریعہ رکعات گننا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔
میری یادداشت بیحد خراب ہے.
مجھے بالکل بھی ایک نماز میں بھی یاد نہیں رہتا. یہاں مفتی صاحب نے کہا تھا کہ آپ 4 دانے رکھا کریں، وہ ایک رکعت کے بعد شمار کریں تو جب 4 پوری ہوں، آپ کی 4 رکعت ہوجائیں گی، تو کیا وہ میں کرسکتی ہوں؟

عائشہ خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
نماز خواہ فرض ہو یا نفل،  اس میں انگلیوں پہ آیت یا تسبیحات گننا باعث کراہت ہے۔ کیونکہ یہ نماز میں خشوع کے منافی عمل یے۔امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہی ہے ۔كُرِهَ تَنْزِيهًا عَدُّ الْآيِ وَالسُّوَرِ وَالتَّسْبِيحِ بِالْيَدِ فِي الصَّلَاةِ مُطْلَقًا الدرالمختار 1\649
أما في صلاة التسبيح فلا ضرورة أيضا إلى العد باليد لأنه يحصل بغمز رءوس الأصابع ..مجمع الانهار في شرح ملتقي البحر 1\187)
لیکن حنفیہ میں صاحبین رحمہما اللہ کے یہاں اس کی گنجائش ملتی ہے۔ فخر الاسلام
الجامع الصغیر کی شرح میں مجبور لوگوں کے لئے صاحبین کے قول پہ عمل کی اجازت نقل فرمائے ہیں۔ لکھتے ہیں :
ويعمل بقولهما في المظطر 2/29.30 )
هكذا في الطحطاوي على المراقي صفحة 360 ط مكتبة شيخ الهند. ديوبند .
اعلاء السنن 139/5۔رقم الحدیث 1526 )
جب انگلی پہ گننا ناپسندیدہ قرار پایا ہے تو کنکریوں پہ تو اس عمل کی کراہت مزید سخت ہوجائے گی! تاہم سوال میں جس مجبوری کا تذکرہ ہے، اس کے پیش نظر حکم میں تخفیف ہوسکتی ہے۔ بالخصوص جبکہ اس مسئلہ میں ائمہ حنفیہ کا اختلاف بھی ہے۔ جیساکہ اوپر مذکور ہوا۔ بنابریں صورت مسئولہ میں اس درجہ ضعیف الحافظہ خاتوں کے لئے کنکری وغیرہ کے ذریعہ رکعات شمار کرلینے میں مضائقہ نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی