Saturday, 26 November 2016

وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَةَ

ایس اے ساگر
پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹوں کی یکلخت منسوخی اور نئے نوٹوں کی عدم دستیابی نے عوام کو بے حال کرکے رکھ دیا ہے.  سب سے برا حال ان لوگوں کا ہے جنھیں اس صورتحال کی جڑ کا علم نہیں ہے. گذشتہ روز سے سماجی روابط کی سائٹس پر ایک ویڈیو کلپ گردش کررہی ہے. اس ویڈیو کے تعارف بعض جگہ تحریر ہے کہ
'جنتا جاگ گئی'
آسننسول میں بی جے پی کے ایم پی بابل سپریمو کی دھنائی
یو ٹیوب پر کہیں اس پٹنے والے کا نام ہرش وردھنے بتایا گیا ہے تو کہیں محض رکن پارلیمان بتایا گیا ہے. جبکہ یو ٹیوب کے دونوں لنک سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ کسی بینک کے باہر پیش آیا ہے. رکن پارلیمان کو پیٹنے والے جم غفیر کو یہ کون سمجھائے کہ یہ انہی کے ووٹوں کی سیڑھی پر چڑھ کر پارلیمان تک پہنچا ہے.  جبکہ اہل علم حضرات کے نزدیک ووٹ کی شرعی حیثیت کم ازکم شہادت کی ہے، اس کو محض سیاسی ہارجیت کا ذریعہ قرار دینا سخت نادانی ہے، قرآن وسنت کی رو سے واضح ہے کہ نااہل، ظالم، فاسق اورغلط آدمی کو ووٹ دینا گناہِ عظیم ہے، اسی طرح ایک اچھے نیک اور قابل آدمی کو ووٹ دینا ثواب بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے، قرآن کریم میں جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے اسی طرح سچی شہادت کو واجب اور لازم فرمایا ہے، ارشاد باری ہے کُونُوا قَوَّامِینَ لِلَّہِ شُہَدَاء َ بِالْقِسْطِ اور دوسری جگہ ہے کُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاء َ لِلَّہِ ان دونوں آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کے لیے ادائیگی شہادت کے لیے کھڑے ہوجائیں، تیسری جگہ سورہٴ طلاق میں ارشاد ہے وَأَقِیمُوا الشَّہَادَةَ لِلَّہِ یعنی اللہ کے لیے سچی شہادت قائم کرو، ایک آیت میں ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے، ارشاد ہے:
وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَةَ وَمَنْ یَکْتُمْہَا فَإِنَّہُ آَثِمٌ قَلْبُہُ یعنی شہادت کو نہ چھپاوٴ اور جو چھپائے گا اسکا دل گنہ گار ہے۔ حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو ووٹ ضرور ڈالنا چاہیے، البتہ ووٹ ڈالنے جس امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال رہا ہے اس کے حق میں گویا یہ خود ہی گواہی دے رہا ہے کہ یہ امیدوار میرے علم کے مطابق سب سے زیادہ مستحق اور دیانت دار ہے، اس لیے چند امور اس کو ملحوظ رکھنے چاہئیں:
(۱) ووٹ ڈالنے میں احتیاط سے کام لے، غلط جگہ مہر وغیرہ نہ لگے، اس کا خیال رکھے ورنہ اس کا ووٹ ضائع ہوجائے گا جو کہ بڑا نقصان ہے۔
۲) باہم مشورے سے خوب سوچ سمجھ کر ووٹ دے، محض اپنے تعلقات یا غیرشرعی دباوٴ سے متأثر ہوکر ہرگز ووٹ نہ دے۔
۳) جو امیدوار اس کے علم کے مطابق ووٹ کا زیادہ مستحق ہے دیانةً اسی کو اپنا ووٹ دے۔
۴) جس امیدوار سے نقصان پہنچنے کا غالب اندیشہ ہو اس کو ہرگز ووٹ نہ دے۔
۵) اگر تمام امیدواروں کے حالات یکساں ہوں تو پھر جس سے زیادہ فائدہ کی امید اور کم نقصان کا اندیشہ ہو اس کو ووٹ دے۔
۶) روپیہ یا کوئی مال لے کر کسی کو ووٹ نہ دے یہ بدترین رشوت اور حرام فعل ہے۔
۷) ووٹ کی حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں:

मुहम्मद बिन तुग़लक़ मध्यकालीन भारत का सबसे पढ़ा लिखा शासक है, वो हाफ़िज़ ए क़ुरान था, दीनी इल्म का जानकार था, अरबी फ़ारसी जानता था, दीनी किताबें पढता था और उसे इतिहासकारों ने विलेन बना दिया आख़िर क्यों ??
इसलिए नहीं की उसने सांकेतिक मुद्रा शुरू की क्योंकि ऐसा करना उसके दूरदर्शी होने को बतलाता है |
इसलिए भी नहीं की उसने अपनी राजधानी बदल दी क्योंकि बहुत से शासकों ने राजधानी बदली है |
उसे विलेन इसलिए भी नहीं बनाया गया की उसने मध्य एशिया पर चढ़ाई का सपना देखा क्योंकि अशोक तो मध्य एशिया तक भी पहुँच चुका था |
इतिहासकार उसे विलेन सिर्फ इसलिए दिखाते हैं क्योंकि उसने इस्लामी समानता को लागू करने की कोशिश की और जातिवाद पर प्रहार किया और उसकी इस समानता के सिद्धान्त को लागू करने के कारण यहाँ के लोगों ने बड़ी तादाद में इस्लाम क़बूल किया |
इतिहासकारों ने मुहम्मद बिन तुग़लक़ को विलेन के रूप में इसलिए दिखाया है क्योंकि तुग़लक़ ने तेलंगाना के राजा रूद्र देव के एक नौकर जिसने निजामुद्दीन औलिया के हाथ पर इस्लाम क़बूल किया था उसे मुल्तान और बदायूं का गवर्नर बना दिया |
फिर एक गवय्ये को गुजरात, मुल्तान और बदायूं का हाकिम बना दिया |
एक माली को सिंध का वज़ीर बना दिया, एक ग़ुलाम को गुजरात का वज़ीर बना दिया, एक कलाल को मालवा का सरदार बना दिया |
हजाम, नानबाई और जुलाहे को अपना सलाहकार बना लिया और वज़ारत दी |
और उन सभी जातियों के लोगों को ऊँचा ऊँचा ओहदा दिया उसके इस बर्ताव से प्रभावित होकर बहुत से लोगों ने इस्लाम क़बूल किया |
यही वो वजह है जिस कारण भारत के नस्लवादी इतिहासकार मुहम्मद बिन तुग़लक़ को विलेन बनाकर पेश करते हैं क्योंकि वो एक न्यायप्रिय राजा था |
......
जनता जाग गयी
आसन सोल में बीजेपी के MP बाबुल सुप्रियो की धुनाई।
.........
https://youtu.be/3iE5gX83IxU
......
https://youtu.be/Ypws2c9r2zg
.....
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1861861750715082&id=1715704431997482
.....
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1200127383378186&id=120477478009854

’اَیْنَ اللّٰہُ ؟‘

ایس اے ساگر 
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے غلام نافع کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے کسی کنارے کی طرف نکلے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آپ کے چند ساتھی بھی تھے ۔ ساتھیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے کھانے کے لیے دسترخوان بچھایا ۔ اسی دوران وہاں سے ایک چرواہے کا گذر ہوا ۔ حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ نے اس سے کہا:
”چرواہے آؤ آؤ ! اس دسترخوان سے تم بھی کچھ کھا پی لو “ 
چرواہا بولا:”میں روزے سے ہوں“
عبداللہ بن عمررضي الله عنهما نے کہا:
”اس طرح کے سخت گرم دن میں تم روزے کی مشقت برداشت کررہے ہو جبکہ لُو نہایت تیز ہے اور تم ان پہاڑوں میں بکریاں بھی چرا رہے ہو ۔“
چرواہے نے جواب دیا : جی ہاں! میں ان خالی ایام کی تیاری کررہاہوں جن میں عمل کرنے کا موقع نہیں ملے گا ،اسی لیے دنیوی زندگی میں عمل بجا لا رہاہوں ۔ 
عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے چرواہے کے تقوی اور خوف الٰہی کا امتحان لینے کے ارادے سے اس سے کہا : 
کیا تم اس ریوڑمیں سے ایک بکری بیچ سکتے ہو ، ہم تمہیں اس کی نقد قیمت دیں گے ، مزید تمہارے افطار کے لیے گوشت بھی دیں گے ؟ 
چرواہے نے جواب دیا :
”یہ بکریاں کوئی میری نہیں ہیں جو بیچ دوں بلکہ میر ے آقا کی ہیں ، اس لیے میں تصرف نہیں کرسکتا “۔
عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا آقا اگر کوئی بکری کم پائے گا اور تم اس سے کہہ دوگے وہ بکری گم ہوگئی ہے تو وہ کچھ نہیں کہے گا ، کیوں کہ ریوڑ سے ایک دو بکریاں پہاڑوں میں گم ہوتی ہی رہتی ہیں ۔ 
یہ سننا تھا کہ چرواہا حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کے پاس سے چل دیا ، وہ اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھاکر یہ جملہ کہے جا رہا تھا :
أینَ اللّٰہُ 
”پھر اللہ کہا ں ہے ۔ اللہ کہاں ہے؟ “
جب چرواہا چلا گیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضي الله عنهما اس کا یہ جملہ بار بار دہرانے لگے : 
أینَ اللّٰہُ ”پھر اللہ کہا ںہے ۔ اللہ کہاں ہے ؟“
جب حضرت عبداللہ بن عمررضي الله عنهما مدینہ آئے توچرواہے کے آقا کے پاس انہوں نے اپنے آدمی بھیجے اور اس سے بکریاں اور اس چرواہے کو خرید کر اسے آزاد کر دیا اور وہ بکریاں اسے ہبہ کردیں ۔
( شعب الایمان ، للبیھقی (5291) ، اسد الغابة (3082) اس کی سند حسن ہے )
(ماخوذ سنہرے اوراق )
علم فقہ کی روِشنی میں:
اگر کوئی شخص سوال کرے 
’اَیْنَ اللّٰہُ ؟‘
( اللہ کہاں ہے ؟) تو اس کا جواب یہ دینا چاہئے: 
’’ھُوَ مَوْجُوْدٌ بِلَا مَکَانٍ‘‘
کہ اللہ تعالیٰ بغیر مکان کے موجود ہیں۔ یہ اہل السنت والجماعت کا موقف و نظریہ ہے جس پر دلائل ِ عقلیہ و نقلیہ موجود ہیں:
فائدہ:  ’ھُوَ مَوْجُوْدٌ بِلَا مَکَانٍ‘
یہ تعبیراہل علم حضرات کی ہے، اسی لیے طلبہ کو سمجھانے کے لئے
’اللہ تعالی بلا مکان موجو دہے.‘
کہہ دیا جاتا ہے۔ عوام الناس چونکہ ان اصطلاحات سے واقف نہیں ہوتے اس لیے اس عقیدہ کو عوامی ذہن کے پیش نظر ’’اللہ تعالیٰ حاضر ناظر ہے‘‘ یا’’اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے‘‘ سے تعبیر کر دیا جاتا ہے۔
آیاتِ قرآنیہ:
1: وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْافَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ (سورہ بقرہ؛ 115)
ترجمہ :   مشرق و مغرب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے ،جس طرف پھر جاؤ ادھر اللہ تعالی کا رخ ہے ۔
2: وَاِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ (سورہ بقرہ؛ 186)
ترجمہ :  جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دو کہ ) میں تو تمہارے پاس ہی ہوں۔
فائدہ : عرش بعید ہے کیونکہ ہمارے اوپر سات آسمان ہیں، ان پر کرسی ہے جو سمندر پر ہے اور اوپر عرش ہے۔
(کتاب الاسماء والصفات للامام البیہقی ج 2ص 145)
٭اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰاتٍ۔٭ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ۔٭ وَ کَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَآئِ۔
3: یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ وَھُوَ مَعَھُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ۔(النساء:108)
ترجمہ: وہ شرماتے ہیں لوگوں سے اور نہیں شرماتے اللہ سے اوروہ ان کے ساتھ ہے جب کہ مشورہ کرتے ہیں رات کو اس بات کا جس سے اللہ راضی نہیں۔
4: اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ(ہود:61)
ترجمہ: بے شک میرا رب قریب ہے قبول کرنے والاہے۔
5: وَاِنِ اھْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحٰی اِلَیَّ رَبِّیْ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ (سبا:50)
ترجمہ: اور اگر میں راہ پر ہوں تو یہ بدولت اس قرآن کے ہے جس کو میرا رب میرے پاس بھیج رہاہے وہ سب کچھ سنتا ہے ،بہت قریب ہے۔
6: وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (سورہ ق؛16)
ترجمہ :  ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔
حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی عجیب توجیہ:
حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اس کی بڑی عجیب توجیہ فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ اللہ بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ اللہ تو ’’لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَئیٌ‘‘ ذات ہے، لیکن میں صرف سمجھانے کے لیے مثال دیتاہوں کہ دو کاغذوں کو جب گوند کے ذریعے جوڑا جاتا ہے تو کاغذاول کاغذ ثانی کے قریب ہوجاتاہے لیکن ان کو جوڑنے والی گوند کاغذ اول کی بنسبت کاغذ ثانی سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔انسان کی شہ رگ انسان کے قریب ہے تو اللہ فرما رہے کہ میں انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوں۔ دو جڑے ہوئے کاغذوں میں سے ایک کاغذ دوسرے کے قریب ہے لیکن گوند دوسرے کاغذ کے زیادہ قریب ہے ،اسی طرح شہ رگ انسان کے قریب ہے لیکن اللہ اس سے زیادہ قریب ہے۔
7: وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ وَلٰکِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ (سورہ واقعہ؛85)
ترجمہ :  تم سے زیادہ ہم اس کے قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھتے نہیں۔
8: وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (سورہ حدید؛4)
ترجمہ :   تم جہاں کہیں ہو، وہ (اللہ ) تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے ۔
فائدہ: جب ہم وہ آیات پیش کرتے ہیں جن میں معیت کا ذکر ہے تو غیرمقلدین کہتے ہیں کہ اس سے’معیت علمیہ‘ مراد ہے مثلاً 
"وَہُوَ مَعَکُمْ ای عِلْمُہُ مَعَکُمْ"
وغیرہ۔
جواب: اولاً ۔۔۔۔معیت علمیہ لازم ہے معیت ذاتیہ کو،جہاں ذات وہاں علم ،رہا غیرمقلدین کا’’اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآئِ وَ  الْاَرْضِ الآیۃ (الحج:70)‘‘ وغیرہ کی بناء پر یہ کہناکہ اس سے علم مراد ہے، تو ہم پوچھتے ہیں کہ اس میں ذات کی نفی کہاں ہے؟بلکہ اثباتِ علم سے تو معیت ِذاتیہ ثابت ہوگی بوجہ تلازم کے۔
ثانیاً۔۔۔غیرمقلدین سے ہم پوچھتے ہیں کہ جب ’’اِسْتَوَیٰ عَلَی الْعَرْشِ‘‘یا ’’یَدُاللّٰہِ‘‘ جیسی آیات کو تم ظاہر پر رکھتے ہو،تاویل نہیں کرتے تو یہاں’’وَہُوَ مَعَکُمْ‘‘  [جس میں’’ہو‘‘ ضمیر برائے ذات ہے]جیسی ٓیات میں تاویل کیوں کرتے ہو؟
9: مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوَیٰ ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ھُوَرَابِعُھُمْ (سورہ مجادلہ؛7)
ترجمہ :   جو مشورہ تین آدمیوں میں ہوتا ہے تو اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے ۔
10: اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ ( سورہ ملک :16)
ترجمہ :  کیا تم کو اس (اللہ تعالی )کا جو آسمان میں ہے، خوف نہیں رہا۔
احادیث مبارکہ :
1: عَنِ ابْنِ عُمَرَ  رضی اللہ عنہ  اَنَّہٗ قَالَ رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم نُخَا مَۃً فِیْ قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ وَھُوَیُصَلِّیْ بَیْنَ یَدَیِ النَّاسِ فَحَتَّھَا ثُمَّ قَالَ حِیْنَ انْصَرَفَ :اِنَّ اِحَدَکُمْ اِذَا کَانَ فِی الصَّلٰوۃِ فَاِنَّ اللّٰہَ قِبَلَ وَجْھِہٖ فَلَا یَتَخَمَّنْ اَحَدٌ قِبَلَ وَجْھِہٖ فِی الصَّلٰوۃِ۔
(صحیح البخاری ج1ص104باب ھل یلتفت لامر ینزل بہ الخ، صحیح مسلم ج1ص207باب النہی عن البصاق فی المسجد الخ)
ترجمہ: حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ(کی جانب) میں کچھ تھوک دیکھا اس وقت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے آگے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے اس کو چھیل ڈالا ۔اس کے بعد جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: 
جب کوئی شخص نماز میں ہوتو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے‘  لہذا کوئی شخص نماز میں اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے۔
2: عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیْ  رضی اللہ عنہ  یَقُوْلُ: بَعَثَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ الْیَمَنِ بِذُھَیْبَۃٍ فِیْ اَدِیْمٍ مَقْرُوْطٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِھَا قَالَ فَقَسَمَھَا بَیْنَ اَرْبَعَۃِ نَفَرٍ بَیْنَ عُیَیْنَۃَ بْنِ بَدْرٍ وَاَقْرَعَ بْنِ حَابِسٍ وَزَیْدٍ الْخَیْلِ وَالرَّابِعِ اِمَّا عَلْقَمَۃَ وَاِمَّا عَامِرِ بْنِ الطُّفُیْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِہٖ کُنَّا نَحْنُ اَحَقُّ بِھٰذَا مِنْ ھٰؤُلَائِ قَالَ فَبَلَغَ ذٰلکَ النبِِّیَّ  صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ :اَلَا تَاْمَنُوْنِیْ وَاَنَا اَمِیْنُ مَنْ فِی السَّمَائِ یَاْتِیْنِیْ خَبَرُ السَّمَائِ صَبَا حًا وَمَسَاء ً الحدیث
(صحیح بخاری ج2ص624باب بعث علی بن ابی طالب الخ ، صحیح مسلم ج1ص341باب اعطاء المؤلفۃ و من یخاف الخ)
ترجمہ:  حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے یمن سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رنگے ہوئے چمڑے کے تھیلے میں تھوڑا سا سونا بھیجا‘ جس کی مٹی اس سونے سے جدا نہیں کی گئی تھی (کہ تازہ کان سے نکلاتھا)آپ  صلی اللہ علیہ وسلمنے اسے چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کردیا، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے کہا کہ ہم اس سونے کے ان لوگوں سے زیادہ مستحق ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا:کیا تمہیں مجھ پر اطمینان نہیں ہے؟ حالانکہ میں اس ذات کا امین ہوں جو آسمان میں ہے۔ میرے پاس صبح وشام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔
فائدہ: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا آسمان میں ہونا بتلایا گیاہے غیرمقلدین کا عقیدہ کہ اللہ عرش پر ہے اس سے باطل ہوگیا۔
3: عَنِ ابْنِ عُمَر رضی اللہ عنہ  اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ اِذَا اسْتَوَیٰ عَلٰی بَعِیْرِہٖ خَارِجًا اِلٰی سَفَرٍ کَبَّرَ ثَلَاثًا قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلیٰ رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ‘ اَللّٰھُمَّ نَسْئَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ہٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَیٰ وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی ‘ اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَاہٰذَا وَاطْوِعَنَّا بَعْدَہٗ ‘اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَہْلِ الحدیث
(صحیح مسلم ج۱ص۴۳۴ باب استجاب الذکر اذارکب دابۃ)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم جب کہیں سفر پرجانے کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے پھر یہ دعا پڑھتے :پاک ہے وہ پروردگار جس نے اس جانور(سواری ) کو ہمارے تابع کردیا اور ہم اس کو دبا نہ سکتے تھے اور ہم اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جانے والے ہیں۔ یااللہ!  ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی‘ پرہیز گاری اور ایسے کام جسے تو پسند کرے، کا سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ !  اس سفر کو ہم پر آسان کردے اور اس کی لمبان کو ہم پر تھوڑا کردے۔ یا اللہ! تو رفیق ہے سفر میںاور خلیفہ ہے گھرمیں۔
4: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘لوگ زور کی آواز سے تکبیریں کہنے لگے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اِرْبَعُوْاعَلٰی اَنْفُسِکُمْ‘اِنَّکُمْ لَیْسَ تَدْعُوْنَ اَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، اِنَّکُمْ تَدْعُوْنَہٗ سَمِیْعاً قَرِیْباً وَھُوَ مَعَکُمْ۔‘‘
(صحیح مسلم؛ ج2ص 346باب استحباب خفض الصوت بالذکر )
ترجمہ: ’’اپنی جانوں پر نرمی کرو! تم بہرے و غائب کو نہیں پکار رہے ، تم جسے پکار رہے ہو وہ سننے والا، قریب اور تمہارے ساتھ ہے‘‘ ۔
5: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے
’’ارْحَمُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَنْ فِی السَّمَائِ۔‘‘                                                                  
(جامع الترمذی ج 2 ص 14 باب ما جاء فی رحمۃ  الناس )
ترجمہ: ’’تم زمین والوں پر رحم کرو، جو آسمان میں ہے وہ تم پر رحم کرے گا۔ ‘‘
فائدہ:  اس حدیث میں اللہ تعالی کا آسمان میں ہونابتلایا گیا ہے ، غیر مقلدین کا عقیدہ کہ اللہ عرش پر ہے ،اس سے باطل ہوگیا۔
6۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:
’’لَوْاَنَّکُمْ دَلَّیْتُمْ بِحَبْلٍ اِلَی الْاَرْضِ السُّفْلیٰ لَھَبَطَ عَلَی اللّٰہِ۔‘‘                                               
(جامع الترمذی ج 2 ص 165تفسیر سورۃ حدید )
ترجمہ: اگر تم ایک رسی زمین کے نیچے ڈالو تو وہ اللہ تعالی پر اترے گی ۔
فائدہ :  رسی کا زمین کے نیچے اللہ تعالی پر اترنا دلیل ہے کہ ذات باری تعالی صرف عرش پر نہیں جیسا کہ غیر مقلدین کا عقیدہ ہے بلکہ ہر کسی کے ساتھ موجود ہے ۔
7: عَنْ اَبِی الدَّرْدَائ رضی اللہ عنہ  قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ: مَنِ اشْتَکٰی مِنْکُمْ شَیْئًا اَوِ اشْتَکَاہُ اَخٌ لَّہٗ فَلْیَقُلْ :رَبُّنَا اللہّٰ ُ اَّلذِیْ فیْ السَّمَائِ، تَقَدَّسَ اسْمُکَ ‘اَمْرُکَ فِی السَّمَائِ وَالْاَرْضِ کَمَارَحْمَتُکَ فِی السَّمَائِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَکَ فِی الْاَرْضِ‘ اِغْفِرْلَنَا حُوْبَنَا وَخَطَایَا نَا‘اَنْتَ رَبُّ الطَّیِّبِیْنَ ‘اَنْزِلْ رَحْمَۃً مِّنْ رَحْمَتِکَ وَ شِفَائً مِنْ شِفَائِکَ عَٰلی ہٰذَا الْوَجْعِ فَیَبْرَاُ۔
(سنن ابی داؤد ج2ص187باب کیف الرقی)
ترجمہ: حضرت ابوالدرداء  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : تم میں سے جو شخص بیمار ہویا کوئی دوسرابھائی اس سے اپنی بیماری بیان کرے تو یہ کہے کہ رب ہمارا وہ اللہ ہے جو آسمان میں ہے ۔اے اللہ! تیرا نام پاک ہے اورتیرا اختیار زمین وآسمان میں ہے‘ جیسے تیری رحمت آسمان میں ہے ویسے ہی زمین میں رحمت کر۔ ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے۔ تو پاک لوگوں کا رب ہے ۔اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاؤں میں سے ایک شفاء اس درد کے لیے نازل فرما کہ یہ درد جاتارہے۔
8: حضرت عبداللہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ   فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاگیا:
’’فَمَا تَزْکِیَۃُ الْمَرْئِ نَفْسَہٗ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!‘‘ قَالَ: اَنْ یَعْلَمَ اَنَّ اللّٰہَ مَعَہٗ حَیْثُمَا کَانَ۔
(السنن الکبری للبیھقی ج4ص95،96 باب لایاخذالساعی‘شعب الایمان للبیھقی ج3ص187باب فی الزکوۃ)
ترجمہ: آدمی کے اپنے نفس کا’’تزکیہ‘‘ کرنے سے کیا مرادہے ؟ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ انسان یہ نظریہ بنا لے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو اللہ اس کے ساتھ ہے۔
9: عَنْ عُبَادَ ۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم :اِنَّ اَفْضَلَ الْاِیْمَانِ اَنْ تَعْلَمَ اَنَّ اللّٰہَ مَعَکَ حَیْثُمَا کُنْتَ۔
(المعجم الاوسط للطبرانی ج6ص287رقم الحدیث8796)
ترجمہ: حضرت عبادہ بن صامت  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل ایمان یہ ہے کہ تو یہ نظریہ بنا لے کہ اللہ تیرے ساتھ ہے تو جہاں کہیں بھی ہو۔
10: عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ   رضی اللہ عنہ  قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم :اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ :یَاابْنَ آدَمَ !مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِیْ ‘قَالَ یَارَبِّ کَیْفَ اَعُوْدُکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ؟ قَالَ :اَمَاعَلِمْتَ اَنَّ عَبْدِیْ فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْہٗ؟ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّکَ لَوْعُدْتَّہٗ لَوَجَدْتَّنِیْ عِنْدَہٗ؟
(صحیح مسلم ج 2ص318باب فضل عیادۃ المریض،صحیح ابن حبان ص189،رقم الحدیث269)
ترجمہ:  حضرت ابوہریرۃ  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل ارشاد فرمائیں گے :اے ابن آدم! میں بیمار تھا تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی۔ بندہ کہے گا میں آپ کی بیمار پرسی عیادت کیسے کرتا؟ آپ تو رب العالمین ہیں۔ تو اللہ فرمائیں گے کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا‘ تو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی۔ تجھے پتا ہے کہ اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے وہاں پاتا۔
عقلی دلائل :
1: اللہ تعالیٰ خالق ہے اور عرش مخلوق ہے ، خالق ازل سے ہے ۔اگر اللہ تعالی کو عرش پر مانا جائے تو سوال پیدا ہوگا کہ جب عرش نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ کہاں تھے ؟
2: حقیقتاً مستوی علی العرش ہونے کی تین صورتیں ہیں:
الف: اللہ تعالیٰ عرش کے محاذات میں ہوں گے ۔
ب: عرش سے متجاوز ہوں گے ۔
ج: عرش سے کم ہوں گے ۔
اگر عرش کے محاذات میں مانیں تو عرش چونکہ محدود ہے لہذا اللہ تعالیٰ کا محدود ہونا لازم آئے گا ‘اور متجاوز مانیں تو اللہ تعالیٰ کی تجزی لازم آئے گی اور اگر عرش سے کم مانیں تو عرش  یعنی مخلوق کا اللہ تعالیٰ یعنی خالق سے بڑا ہونا لازم آئے گا ‘جبکہ یہ تینوں صورتیں محال اور ناممکن ہیں۔
3: اللہ تعالیٰ خالق ہیں جوکہ غیر محدود ہیں ، عرش مخلوق ہے جو کہ محدود ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو عرش پر مانا جائے تو سوال پیدا ہوگا ’’ کیا غیر محدود ، محدود میں سما سکتا ہے ؟‘‘
4: اگر اللہ تعالیٰ کو عرش پر حقیقتاً مانیں تو حقیقی وجود کے ساتھ کسی چیز پر ہونا یہ خاصیت جسم کی ہے اور اللہ تعالی جسم سے پاک ہیں کیونکہ ہر جسم مرکب ہوتا ہے اور ہر مرکب حادث ہوتا ہے‘ جبکہ اللہ تعالیٰ قدیم ہیں ۔
5: اگر اللہ تعالی کو عرش پر مانیں تو عرش اللہ تعالیٰ کے لئے مکان ہوگا اور اللہ تعالیٰ مکین ہوں گے اور ضابطہ ہے کہ مکان مکین سے بڑا ہوتا ہے ، اس عقیدہ سے ’’ اللہ اکبر‘‘ والا  عقیدہ ٹوٹ جائے گا۔
6: اگر اللہ تعالیٰ کا فوق العرش ہونا مانیں تو جہتِ فوق لازم آئے گی اور جہت کو حد بندی لازم ہے اور حد بندی کو جسم لازم ہے جبکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے ۔
7: اگر اللہ تعالیٰ کو فوق العرش مانیں تو عرش اس کے لئے مکان ہوگا اور مکان مکین کو محیط ہوتا ہے‘ جبکہ قرآن کریم میں ہے :’’وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْطًا۔‘‘کہ اللہ تعالیٰ  ہر چیز کو محیط ہے۔
چند شبہات اور ان کا ازالہ:
شبہ :1اگر اللہ تعالیٰ کو ہر جگہ مانا جائے تو کیا اللہ تعالیٰ بیت الخلاء میں بھی موجود ہے ؟ اگر کہیں کہ ’’ نہیں‘‘ تو ہر جگہ ہونے کا دعویٰ ٹوٹ گیا اور اگر کہیں ’’ ہے‘‘  تو اللہ تعالیٰ کی بے ادبی ہے ۔
جواب:
1: بعض چیزوں کو اجمالاً بیان کریں تو مناسب اور ادب ہے،اگر تفصیلات بیان کریں تو خلافِ ادب ہے۔ مثلاً سسر اپنے داماد کو کہے: ’’میری بیٹی کے حقوق کا خیال رکھنا ‘‘،تو اجمالاً قول ہونے کی وجہ سے یہ ادب ہے لیکن اگر وہ تمام حقوق ایک ایک کرکے گنوانا شروع کردے تو یہ خلافِ ادب ہے۔’’سر سے لے کر پاؤں تک تمام جسم کا خالق اللہ ہے‘‘ یہ کہنا ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک عضو کا نام لے کر یہی بات کہی جائے تو یہ خلافِ ادب ہے۔’’اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے‘‘یہ اجمالاً کہنا تو مذکورہ قاعدہ کی رو سے درست اور ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک جگہ کا جس میں ناپسندیدہ جگہیں بھی شامل ہوں، نام لے کر کہا جائے تو یہ بے ادبی ہونے کی وجہ سے غلط ہوگا۔لہذا ایسا سوال کرنا ہی غلط، نامناسب اور ناجائز ہے۔
2: یہ اعتراض تب پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کو وجود بمعنی ’’جسم‘‘ کے ساتھ مانیں جیسے قرآن کریم کو بیت الخلاء میں لے کر جانا قرآن کی توہین اور بے ادبی ہے حالانکہ ہر حافظ جب بیت الخلاء جاتا ہے تو قرآن اس کے سینے میں موجود ہوتا ہے لیکن بے ادبی نہیں ، کیونکہ قرآن جسم سے پاک ہے ایسے ہی ہم اللہ تعالیٰ کا جسم ہی ثابت نہیں کرتے تو بے ادبی لازم نہیں آتی ۔
3: رمضان المبارک کا مہینہ ہر جگہ مبارک ہے ۔اگر کوئی شخص پوچھے کہ بیت الخلاء میں رمضان ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو ہر جگہ رمضان نہیں، اگر ہے تو بیت الخلاء میں بابرکت کیسے ؟ تو اس کا یہ سوال لغو ہوگا کیونکہ جب رمضان کا جسم نہیں ہے تو ہر جگہ ماننے میں کوئی بے ادبی نہ ہو گی اور یہ ہر جگہ با برکت ہوگا۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کا جسم ہی نہیں تو ہر جگہ ماننے میں بے ادبی بھی نہیں۔
شبہ :2 اگر اللہ تعالیٰ کو ہر جگہ مانیں تو اس سے حلول اور اتحاد لازم آئے گا ۔
جواب : حلول اور اتحاد تب لازم آئے گا جب اللہ تعالی کے لئے جسم مانا جائے‘ جبکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہیں۔
فائدہ : دو چیزوں کا اس طرح ایک ہونا کہ ہر ایک کا وجود باقی رہے’’ اتحاد‘‘ کہلاتا ہے جیسے آملیٹ اور دو چیزوں کااس طرح ایک ہونا کہ ایک چیز کا وجود ختم ہو جائے’’ حلول‘‘ کہلاتا ہے  جیسے شربت۔
شبہ:3  جب اللہ تعالیٰ عرش پر نہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم کلام ہونے کے لئے عرش پر کیوں بلایا؟
جواب:   ہم کلام ہونے کے لئے عرش پر بلانا اگر عرش پر ہونے کی دلیل ہے تو یہودی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کوہ طور پر ہیں‘ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وہاں بلایا  تھا۔ کلامِ الہیٰ تجلی ٔالہی کا نام ہے ‘چاہے اس کے ظہور کے لئے انتخاب عرش کا ہو یا کوہ طور کا ہو یا منصور حلاج ؒکی زبان کا ہو۔
شبہ: 4 اگر اللہ تعالیٰ عرش پر نہیں تو بوقت دعا ہاتھ اوپر کیوں اٹھائے جاتے ہیں ؟
جواب:  اللہ تعالیٰ جہت سے پاک ہیں، لیکن بندے کے قلبی استحضار کے لئے بعض اعمال کے لئے بعض جہات کا تعین فرما دیتے ہیں۔ جیسے نماز کے لئے جہتِ کعبہ کو قبلہ قرار دیا ، دعا کے لئے جہتِ فوق کو قبلہ قرار دیا اور نہایت اعلیٰ درجہ کے قرب ِالہی کے حصول کے لئے جہتِ ارض کو قبلہ قرار دیا اور قرآن مجید میں حکم دیا:
’’وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ‘‘
(اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہو جاؤ)
فائدہ: ہمارا نظریہ ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر سے لگنے والی مٹی کے ذرات کعبہ سے بھی اعلیٰ ہیں۔اس پر غیر مقلد یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر یہ  ذرات کعبہ سے بھی اعلیٰ ہیں تو سجدہ کعبہ کی طرف نہ کرو بلکہ روضہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منہ کر کے کرو۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ افضل ہی کو قبلہ بنایا جائے۔ اگر آپ کا یہی اصول ہے تو آپ کے ہاں عرش کعبۃ اللہ سے افضل ہے تو آپ نماز میں اپنا منہ عرش کی طرف کیوں نہیں کر لیتے؟؟
فائدہ:  کعبہ مرکزِ عبادت ہے  اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم مرکزِعقیدت ہے۔
شبہ5:  اگر اللہ تعالیٰ اوپر عرش پر نہیں تو عموماً اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنے کے لئے اوپر کی طرف اشارہ کیوں کیا جاتا ہے ؟
جواب :  اللہ تعالیٰ جہاتِ ستہ سے اگرچہ پاک ہیں‘ لیکن تمام جہات کو محیط بھی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شّیْئٍ مُّحِیْطًا (سورہ نساء ؛126) اللہ تعالیٰ ہر چیز کو محیط ہے‘ اور جہاتِ ستہ میں سے جہت ِعلو کو باقی جہات پر عقلاً فوقیت حاصل ہے ۔ اس لئے علوِ مرتبہ اور تعظیم کا خیال کرتے ہوئے اشارہ اوپر کیا جاتا ہے۔ جیسے استاد کی آواز دورانِ سبق تمام جہات کی طرف منتقل ہوتی ہے لیکن استاد کے سامنے بیٹھ کر آواز کو سننا ادب ہے اور پیچھے بیٹھ کر سننا بے ادبی ہے ۔ اللہ کریم دین کا صحیح فہم عطا فرمائے۔

Wednesday, 23 November 2016

فرضی اور جعلی احادیث

ایس اے ساگر

یہ رواج عام ہو گیا ہے کہ ہر بات کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کر کے ایس ایم ایس، فیس بک، واٹس ایپ اور دوسرے ذرائع کی مدد سے نشر کرنا شروع کر دی جاتی ہے جبکہ وہ نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف جھوٹی ہوتی ہے۔ مسلم شریف کے حوالہ سے حدیث پیش کی جارہی ہے کہ جس گھر کے دروازے رشتہ داروں بند رہیں، جس گھر میں اذان کے وقت خاموشی نہ ہو، جس گھر یا جگہ پر مکڑی کے جالے لگے ہوں‘جس گھر میں صبح کی نماز نہ پڑھی جاتی ہو، وہاں رزق کی تنگی اور بے برکتی کو کوئی نہیں روک سکتا،
جعلی روایت کی ایک اور مثال ﺣﺪﯾﺚ ﻧﺒﻮﯼ ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ لئے ﺑﻨﺪ ﺭﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺟﺎﮔﻨﮯ ﺍﻭﺭﺻﺒﺢ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﻭﺍﺝ ﮨﻮ ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﺯﻕ ﮐﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺑﺮﮐﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﺘﺎ. 
(ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ6574)
جبکہ یہ روایت صحیح مسلم میں قطعا نہیں ہے نہ ہی حدیث کی کسی اور کتاب میں بسند صحیح یہ روایت موجود ہے۔ بلکہ بہت تلاش کے باوجود یہ روایت ابھی تک علماء اسلام کی لکھی گئی کسی کتاب میں نہیں ملی، نہ ہی یہ روایت مسلم شریف میں ہے بلکہ کسی بھی حدیث کی کتاب میں نہیں‌ ہے، البتہ مضمون سے ملتی جلتی درج ذیل حدیث ثابت ہے
1۔۔
15224 حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الكَلَاعِيُّ عَنْ أَبِي الشَّمَّاخِ الْأَزْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ أَمْرًا مِنْ أَمْرِ النَّاسِ ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ الْمِسْكِينِ وَالْمَظْلُومِ أَوْ ذِي الْحَاجَةِ أَغْلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دُونَهُ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ حَاجَتِهِ وَفَقْرِهِ أَفْقَرُ مَا يَكُونُ إِلَيْهَا
مسند المكيين۔

2۔۔۔ -  من وَلِي من أمرِ المسلمين ثمَّ أغلق بابَه دون المسكينِ والمظلومِ وذوي الحاجةِ أغلق اللهُ تبارك وتعالَى أبوابَ رحمتِه دون حاجتِه وفقرُه أفقرُ ما يكونُ إليها

الراوي:
ابن عم أبي السمح الأزدي
المحدث: 
المنذري        -   المصدر:  الترغيب والترهيب  -   الصفحة أو الرقم:  3/192خلاصة حكم المحدث:  إسناد أحمد حسن۔

اگر چہ بات اچھی ہی کیوں نہ لیکن اگر نبی صلی اللہ علیہ نے وہ نہیں کہی اور اس کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب کیا جائے تو یہ اپنی آخرت تباہ کرنے کے مترادف ہے جیسا کی نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
«مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» (جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جھنم میں بنا لے) (یہ روایت متواتر ہے اور کئی صحابہ مثلا ابوھریرۃ ، علی بن ابی طالب ، مغیرۃ بن شعبۃ ، سمرۃ بن جندب ،عبداللہ بن عمرو ، انس بن مالک زبير بن العوام نے بیان کی ہے صحیح بخاری : 106-107-1291-3461 صحیح مسلم : 1-2-3-4-5-6 ملاحظہ کریں)
اگرچہ مندرجہ بالا ذرائع کے ذریعے سے دین کی تبلیغ ہو رہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ دشمنان اسلام مختلف قسم کی عبارات کو لکھ کر اس کا انتساب قرآن یا حدیث کی طرف کر دیتے ہیں جبکہ وہ بلکل جھوٹ ہوتی ہے ، اس لئے ہر بات جو کسی بھی طرف سے آئے اس کو آگے ارسال کرنے سے پہلے خود دیکھ لیں یا کسی علم والے سے دریافت لر لیں کہ کیا یہ بات درست ہے یا نہیں ، اور ایک مسلمان کا یہ طریقہ نہیں کہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے پھنچا دے ،اور خاص طور پر جب معاملہ قرآن و حدیث کا ہو جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا،
«كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ» (آدمی کے جھوٹے ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کرے) (صحیح مسلم 7عن حفص بن عاصم)
امام ابن حبان یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں (اس حدیث میں توبیخ ہے ہر شخص کے لئے اس بات پر کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کر دے اس کی صحت کا یقینی علم حاصل کرنے سے پہلے) کتاب المجروھین ؛ ۱۷
اس لئے کسی بھی بات کو جس کی نسبت قرآن یا حدیث کی طرف ہو تو اس کو آگے ارسال کرنے سے پہلے یقین کر لیں کہ یہ صحیح ہے.

Monday, 21 November 2016

یہ انیمیا کیا ہوتا ہے؟

ایس اے ساگر
اگر اطباء آپ کو انیمیا میں مبتلا بتاتے ہیں تو اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے،  کیونکہ ماہرین کے نزدیک یہ عارض ھیموگلوبن یا خون میں سرخ ذرات کی کمی کی وجہ سے پیدا ھوتا ھے ھیمو گلوبن خون کے ذرات میں آئرن والی پروٹین سے بھرا مادہ ھوتا ھے جو کہ آکسیجن کو جسم کے خلیوں تک پہچانے میں مدد دیتا ھے. جب کسی انسان کے خون میں ھیموگلوبن کم ھو جاتے ھیں تو اسے انیمیا ھو جاتا ھے اس کا مطلب ھے کہ جسم میں آکسیجن کی مقدار کم ھو گئی ھے۔ اس سے رنگ پیلا پڑ جاتا ھےاور بہت زیادہ کمزوری اور تکان محسوس ھوتی ھے۔
انیمیا چھوٹے یا بڑے عرصے کے لئے بھی ھو سکتا ھے۔ معمولی بیماری میں غذا کے ردوبدل سے قابو پایا جا سکتا ھے۔ زیادہ بیماری کی صورت میں ڈاکٹری علاج کی ضرورت ھوتی ھے
نشانات اورعلامات:
علامات انیمیا کی شدت پر منحصر ھیں کہ کتنی تیزی سے اس میں کمی واقئع ھوتی ھے اور اس کی وجوع کیا ھیں۔ یہ اس بات پر بھی منحصر ھے کہ بچے کا جسم کتنے کم ھیموگلوبن کو برداشت کر سکتا ھے۔ علامات ذیل پر مشتعمل ھیں
جلد کا پیلا ھونا: کیونکہ ھیموگلوبن سے ھی خون کا رنگ سرخ ھوتا ھے
قوت کی کمی: آکسیجن کی کمی کی وجہ سے طاقت کم ھو جاتی ھے
ورزش یا کھیل کے بعد سانس لینے میں مسلہ پیدا ھو جاتا ھے کیو نکہ آکسیجن کی کمی واقع ھو جاتی ھے
وجوہا ت اور اقسام:
انیمیا کی بہت سی اقسام ہیں جنہیں وجوہات کی بنیاد پر پہچانا جاتا ہے
غذائی انیمیا
آئرن کی کمی سے ھونے والا انیمیا پہت عام ھے ۔ آئرن ھی ھیموگلوبن بناتا ھے ۔ایسے نومولود جو چھاتی کا دودھ، فامولہ دودھ یا پھر گائے کا بغیر ملاوٹ کا دودھ پیتے ھیں ان میں 6 مہینے کے بعد فولاد کی کمی کے امکانات بڑھ جاتے ھیں۔ فارمولہ میں آئرن کا ھونا ضروری ھے اگر بچہ ٹھوس غذا کھانا شروع نہ کرے۔
ایسی مائیں جو کہ پورے وقت پر بچے کی پیدائش کرتی ھیں تو ان بچوں میں 6 مہینے تک آئرن کا کافی ذخیرہ ھوتا ھے جب تک کہ بچے ٹھوس غذا لینا شروع نہ کر دیں۔مًاں کے دودھ میں کافی آئرن ھوتا ھے۔ 6 مہینے سے دو سال کے عرصہ تک ٹھوس غذا کے ساتھ ماں کا دودھ بھی تجویز کیا جاتا ھے
وٹامن کی کمی کا انیمیا: یہ فولک ایسڈ، وٹامن بی 12 یا وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے ھوتا ھے۔ جسم کو ھیموگلوبن بنانے کے لئے ان غٍذائی اجزاء کی ضرورت ھوتی ھے۔
کسی بیماری کی وجھ سے:
بیمار خلیوں کا انیمیا : یہ مورثی ھوتا ھے اور یہ آر بی سیز کی شکل بگاڑ دیتا ھے، یہ خلئے جسم کی طرف سفر نھیں کرتے اور نہ ھی نارمل آر بی سی بناتے ھیں۔ جسکی وجہ سے آکسیجن کی رسد جسم میں نہیں جاتی
دائمی بیماری سے جو انیمییا ھوتا ھے گردوں کے فیل ھونے، کینسر یا کروھن کی بیماری کا خطرہ ھوتا ھے۔ انیمیا سے آٹو ایمیون کی بیماری جیسے لیوپس بھی ھو جاتی ھے۔ غیر تکوینی خون کی کمی والا انیمیا ایک خطرناک بیماری ھے۔ اس میں جسم میں نئے بلڈ سیل نہیں بنتے۔ آیک بچہ اس انیمیا کے ساتھ ھی پیدا ھو سکتا ھے یا کسی جرثومی انفیکشن یا دوائی رد عمل سے پیدا ھو سکتا ھے۔ بعض اوقات یہ لوقیمیا کی ابتدائی شکل بھی ھو سکتی ھے۔
ھیمولیٹک انیمیا عام طور پر جنیٹک بیماری کی وجہ سے ھوتا ھے اور ار بی سی کی غیر طبعی توڑ پھوڑ کا سبب بنتی ھے
دوسری وجوہات:
بہت پرانے اور شدید خون کے اخراج سے بھی انیمیا ھو جاتا ھے۔ انیمیا جو بہت کامن ھے اسی وجہ معدے کی نالی میں خون کا اخراج ھونا ھے۔ یہ عمومی طور پر گائے کے دودھ میں پروٹین کی الیرجی کی وجہ سے ھوتا ھے۔
تھائی رائڈ ھارمون میں کمی ٹیسٹوسٹیران کے لیول میں کمی
کچھ ادویات کے ذیلی اثرات
خطرات 
اورمحرکات:
بچوں کے کچھ گروپ ایسے ھیں جن میں انیمیا ھونے کے خطرات زیادہ ھوتے ھیں۔ اسے محرکات جن سے خطر ہ ہڑھ جاتا ھے وہ یہ ھیں
وقت سے پہلے پیدائش اور وزن میں کمی
کم ترقی یافتھ دنیا سے نقل مکانی کرکے آنے والے
غربت
موٹاپا یا غلط خوراک کا استعمال
انیمیا کے دیر پا اثرات
آگر انیمیا کا علاج نہ کرایا جائے تو وہ بچے کی نشونما پر برا اثر پڑتا ھے۔ انیمیا دماغی ترقی میں بھی رکاوٹ بن سکتا ھے۔ یہ توجہ کے مسائل، پڑھنے کی صلاحیت، اور سکول کی خراب کارکردگی کا بھی باعث بنتی ھے
آپکے بچے کا ڈاکٹر انیمیا کے متعلق کیا اقدام کرے گا
آپکے بچے کی ڈاکٹر سادہ خون کا نمونہ لے گی جس سے بچے کے خون میں ھیموگلوبن کی مقدار کا پتہ چلے گا۔ ار بی سی کا نمبر، سائز اور شکل سے انیمیا کی قسم کا پتہ چلے گا۔ ھیموگلوبن خون کے کچھ قطروں کو لیکر بھی ٹیسٹ کیا جا سکتا ھے۔ پورے خون میں جتنے آر بی سی ھیں ان کو بھی ماپا جاتا ھے۔ اس ٹیسٹ کو ھیموٹکرٹ کہتے ھیں
بچے کا ڈاکٹر جسمانی معائنہ بھی کرے گا اور آپ سے بچے کی قوت، عمومی صحت اود خاندانی ھسٹری کے متعلق سوالات کرے گا
انیمیا کا علاج:
علاج اس بات پر منحصر ھے کہ انیمیا کی وجوھات کیا تھیں اور اس کی شدت کتنی ھے۔ عام علاج ان مندرجہ زیل پر مشتعمل ھے
فولاد والی ادویات اور اضافی دوائیاں
نو مولود بچوں کا آئرں سے بھرپور فارمولہ
غذائی تبدیلی۔ جیسا کہ دودھ کی خوراک کم اور فولاد کی بڑھا دی جائے۔ ایسی خوراک جس میں گوشت اور سبز رنگ کی سبزیوں کی مقدار زیادہ ھو، ایسے بچے جو گوشت پسند نہیں کرتے انہیں بہت زیادہ سبز رنگ کی سبزیاں کھانی چاھیں جیسے کہ پالک،کیل، بند گوبھی، آرٹیچوک یا فرشوف
فولک ایسڈ اور وتامن بی 12 کی اضافی ادویات
ایسا انیمیا جو کہ کسی شدید بیماری کے رد عمل میں پیدا ھوا ھو، اس میں ذیل کے اقدامات کرنے کی ضرورت ھے. انیمیا کی بعض اقسام میں خون کا بدلاؤ ضروری ھو جاتا ھے۔ اس میں جو بیماریاں ھیں ان میں ھائپو پلاسٹک انیمیا، تھیلاسیمیا، ھیموگلوبن اوپاتھیز شامل ھیں یکے بعد دیگرے خون کے بدلاؤ سے جسم میں آئرن کی مقدار زیادہ ھو جاتی ھے جس سے زھریلے اثرات پیدا ھو جاتے ھیں۔ ھو سکتا ھے خون کی تبدیلی کے ساتھ آپکے بچے کو فولاد کی اضافی مقدار نکالنے کے لئے مختلف ادویات دی جائیں
انفیکشن کا علاج کرنے کے لئے دواؤں کا استعمال
ایسا علاج جس میں بون میرو مزید خون کے خلئے بناتا ھے
تلی کو نکال دینا:
بعض حالتوں میں جس میں پیدائشی یرقان یا پیدائشی خون کی کمی شامل ھیں ، تلی کو خراب کر دیتے ھیں جو سرخ خون کے خلئے تباہ کرنے کا باعث بنتی ھے
سیکل سیل انیمیا، تھیلاسمیا اور اپلاسٹک انیمیا کے شدید حالت میں بون میرو ٹرانسپلانٹ یعنی تبدیلی سے علاج کیا جاتا ھے
طبی مدد لینا کب ضروری ھو جاتا ھے
اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کیجئے اگر۔۔۔
اگر بچے کا رنگ پیلا ھے، تھکارٹ محسوس کرتا ھے یا پھر سانس لینے میں دشواری ھوتی ھے
آپ کو شک ھونا چاھئے کہ بچہ انیمیا کا شکار ھے
کلیدی نکات
عام طور پر انیمیا خون میں آئرن کی کمی کی وجہ سے ھوتا ھے
اگر آپ کا بچہ تھکا ھوا، کمزور اور ذرد ھے تو ڈاکٹر سے انیمیا کے متعلق دریافت کریں
نو مولود کا فارمولہ فولاد سے بھرپور ھونا ضروری ھے اگر آپکا بچہ ابھی ٹھوس غذا لینے کے قابل نہیں ھے
اپنے بجے کو فولاد سے بھرپور غذا جن میں گوشت اور ھری سبزیاں شامل ھیں کھلانا نہ بھولئے.
دیسی علاج :
پودینہ کے پتوں کی ایک شاخ کو پانی میں اُبال کر ایک پیالی جوس بنائیں۔ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ نسخہ ۲۱ دن تک استعمال کریں.

Sunday, 20 November 2016

اقتصادی طوائف الملوکی

ایس اے ساگر

ہندوستان کی تاریخ میں نس بندی کے بعد نوٹ بندی نے وہ مقام حاصل کرلیا ہے جس نے سلاخوں کے پیچھے اپنے ناکردە گناہوں کے سبب بندی بنائے گئے بے قصوروں کو بھی پیچھے چھوڑدیا... ایک طرف سرکردہ اداروں نے اسے معاشی پسماندگی کا نہ صرف سبب قرار دیا ہے بلکہ یہاں تک کہا ہے کہ ملکی اقتصادیات کو اس صدمہ سے نکلنے میں 3 سال کا جانفزا طویل عرصہ درکار ہوگا. دریں اثنا بی بی سی اردود کے تجزیہ کار شکیل اختر نے اسے سستی شہرت سے تعبیر کیا ہے. شکیل صاحب رقمطراز ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی نے آٹھ نومبر کی شب اچانک پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں پر پابندی عائد کر دی۔ اس وقت تقریباً 15لاکھ کروڑ روپے مالیت کے پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ بھارت میں جاری تھے جو تمام نوٹوں کا 85 فی صد تسلیم کیا جاتا ہے۔ مودی نے ایک حکم سے 85 فیصد روپے ردی میں بدل دیے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد کالے دھن یا بلیک منی کو ختم کرنا ہے۔ کیا اس قدم سے واقعی کالا دھن پر قابو پایا جا سکے گا؟ کالا دھن عمومآ جائز آمدنی سے حاصل ہونے والی رقم پر ٹیکس نہ ادا کرنے سے بنتا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ نقدی کی شکل میں ہوتا ہے لیکن اب لوگ مختلف وجوہات سے نقدی رکھنا پسند نہیں کرتے اور وہ ان رقوم کو کاروبار اور جائیداد میں لگا دیتے ہیں۔ اس طرح یہ کالا دھن معیشت میں متحرک رہتا ہے۔ ایک جائزے کے مطابق 15 لاکھ کروڑ روپے میں تقریباً تین لاکھ کروڑ روپے کالے دھن کے زمرے میں آتے ہیں۔ لیکن بیشتر اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ نقدی کی شکل میں کالے دھن کی مقدار اس سے بہت کم ہے۔ گذشتہ دس دن سے کروڑوں لوگ نئے نوٹ حاصل کرنے اور پرانے نوٹ جمع کرنے کے لئے بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور اپنی باری کا گھنٹوں تک انتظار کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔ حکومت نے اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کی یومیہ حد دو ہزار مقرر کی ہے، جس سے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھتی جا رہی ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کے قدم کو اقتصادی نہیں سیاسی قرار دے رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کالے دھن پر قابو پانا نہیں ہے۔ لیکن مودی حکومت اسے ماسٹر اسٹروک کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مودی حکومت نے یہ اندازہ لگايا تھا کہ چند ہی دن کے اندر پورے ملک میں نئے نوٹ لوگوں تک پہنچ جائیں گے اور ماحول نارمل ہوتے ہی حکومت یہ دعویٰ کر سکے گی کہ ملک میں کالے دھن اور جعلی نوٹوں کا چلن ختم کر دیا گیا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ بڑے نوٹوں پر پابندی کے دس دن گزر جانے کے بعد بھی بینکوں کے باہر لوگوں کی قطاریں کم ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہیں۔ مختلف تجزیوں اور رپورٹوں کے مطابق بھارت کے سیاست دانوں، سرمایہ کاروں، تاجروں اور بڑے بڑے لوگوں نے 50 سے 80 لاکھ کروڑ روپے غیر ملکی بینکوں میں جمع کر رکھے ہیں۔ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں غیر ممالک سے کالا دھن ملک واپس لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن بظاہر ابھی تک اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کا ٹیکس نظام انتہائی فرسودہ اور غیر موثر ہے۔ اس میں اصلاح اور شفافیت کے ذریعے اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ گذشتہ مالی برس میں صرف پانچ کروڑ لوگوں نے ٹیکس ریٹرن بھرے تھے جو پوری آبادی کا محض چار فی صد بنتا ہے۔ ٹیکس کے نظام میں بہتری اور اسے سہل بنا کر بہت کم وقت میں ٹیکس ریٹرن بھرنے والوں کی تعداد چار فی صد سے بڑھا کر 25 سے 30 فی صد تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ سرکاری اہلکاروں کے اختیارات محض انتظامی پہلوؤں تک محدو کر کے سرکاری محکموں میں رشوت خوری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انتخابی اخراجات کی ذمہ داری حکومت کو دینے کی سفارشیں بھی کی جا رہی ہیں۔ مودی حکومت نے بڑے نوٹوں پر پابندی ایک ایسے وقت میں لگائی ہے جب اتر پردیش اور پنجاب میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ مودی کی حریف جماعتیں ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی اور مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی نے اپنی انتخابی مہم حال ہی میں شروع کی ہے۔ ان انتخابات میں کروڑوں روپے جائز اور ناجائز طریقے سے صرف ہوتے ہیں۔ نوٹوں پر بابندی کا مقصد ان دونوں حریف جماعتوں کو سیاسی چوٹ پہنچانا بھی ہو سکتا ہے۔ اتر پردیش کے انتخابات بھی جے پی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ماضی میں دنیا کے کئی اور ملکوں میں بھی بعض حکمرانوں نے مروجہ کرنسی کی جگہ اچانک نئی کرنسی چلانے کا قدم اٹھایا تھا۔ لیکن یہ سبھی تجربات ناکام ثابت ہوئے تھے۔
مودی نے ملک کے عوام سے دسمبر تک کا وقت مانگا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بڑے نوٹوں پر پابندی سے اس مدت میں ملک میں معیشت سے کالا دھن ختم ہو جائے گا۔ حکمران جماعت کے وزرا اس قدم کی کامیابی کا پہلے سے ہی اعلان کرنے لگے ہیں۔ وزیر اعظم کو ملک کی تاریخ کا سب سے اہل اور سب سے ایمان دار رہنما قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن عوام انھیں کس طرح دیکھ رہے ہیں، یہ جاننے میں ابھی ذرا وقت لگے گا۔

http://www.bbc.com/urdu/regional-38036884
....
*Another view on De Monetization*

*Dr. K.C. Chakrabarty, Deputy Governor of the Reserve Bank of India from 2009 to 2014*, is not anti-Modi, anti-BJP person.

He is explaining in simple, coherent language the social and economic impacts of Demonetization.
Following are the excerpts:

1. The economic *benefit is less* and the *cost is more*.

2. I think (the Prime Minister) has not been properly briefed on the subject.

3. Currency *notes are not black money*, all currency notes are white money.

4. When it (the currency) reaches a *person who is not paying tax* it becomes black money.

5. When the currency reaches a *person who is paying tax it becomes white money.*

6. The process and the person are the culprit, but you are destroying the notes.

7. If the *process and people are not changed,* a person can use currency, gold, *other assets for black money generation.*

8. Government’s understanding is that [black] money is with the rich, whereas on the contrary more cash money is lying with the poor.

9. 90% of the poor’s *liquidity is in cash*, so (now) they have no cash.

10. All your trade and commerce is likely to be affected.

11. The total cost of replacing the notes will be Rs 10,000 or 15,000 crore. That is a *direct loss.*

12. Banks will be doing only this job for the next two months: exchanging the note, managing the cash, managing the crowds.

People will be more busy with these things. All this will have an adverse effect on the economy.

13. There will be a *liquidity crunch,* volume of transactions will go down, sometimes it may totally collapse, depending on the situation.

14. *Inflation* will come down because *people have no money.* If you withdraw the money from the people all *prices will collapse*, but people will not be able to eat vegetables also. Prices are collapsing because medium of exchange is not there.

15. If the economic growth comes down, the government’s tax collection also comes down….

If a person goes with black money and spends it in the malls, restaurants or cinema hall then government gets a part of the tax.

16. Demonetisation is a very *blunt instrument* and it has to be used very judiciously and in a very very critical situation.

Generally, in a normal situation it doesn’t give any results.
.....
India pushed back to 3 years in economy...! Indian media is on sale this is what international media claims.....!

1. The New York Times:

Chaos as Millions in India Crowd Banks to Exchange Currency
http://www.nytimes.com/aponline/2016/11/12/world/asia/ap-as-india-currency-chaos.html?_r=0

2. BBC:

How India's currency ban is hurting the poor
http://www.bbc.com/news/world-asia-india-37947029

India rupees: Chaos at banks after 'black money' ban
http://www.bbc.com/news/world-asia-india-37933233

India rupee ban: Currency move is 'bad economics'
http://www.bbc.com/news/world-asia-india-37970965

3. The Guardian:

Why the corrupt rich will welcome Modi’s ‘surgical strike on corruption’
https://www.theguardian.com/commentisfree/2016/nov/15/corrupt-rich-india-modi-500-1000-rupee-note

4. Huffington Post:

Demonetisation Death Toll Rises To 25 And It's Only Been 6 Days
http://www.huffingtonpost.in/2016/11/15/demonetisation-death-toll-rises-to-25-and-its-only-been-6-days/

10 Reasons Why BJP's Demonetization Move Is An Unmitigated — And Politically Motivated — Disaster
http://m.huffingtonpost.in/apoorva-pathak/10-reasons-why-bjps-demonetization-move-is-an-unmitigated-and/

5. Al-Jazeera:

Anger intensifies over India's demonetisation move
http://www.aljazeera.com/news/2016/11/anger-intensifies-india-demonetisation-move-161112161157110.html

India demonetisation: Chaos as ATMs run dry
http://www.aljazeera.com/news/2016/11/india-demonetisation-chaos-atms-run-dry-161109061403011.html

6. Washington Post:

Panic, anger and a scramble to stash cash amid India’s ‘black money’ squeeze
https://www.washingtonpost.com/world/panic-anger-and-scramble-to-stash-cash-amid-indias-black-money-squeeze/2016/11/10/32cb222a-565a-4c6f-8d40-59257c042109_story.html

India struggles as millions throng banks to swap currency
https://www.washingtonpost.com/business/india-struggles-as-millions-throng-banks-to-swap-currency/2016/11/15/4979c20c-ab08-11e6-8f19-21a1c65d2043_story.html

7. The Independent:

Indians scramble to deposit cash as government voids high-value bank notes in ‘black money’ crackdown
http://www.independent.co.uk/news/world/asia/india-cash-money-black-money-bank-notes-a7409811.html

8. Dailymail:

'Modi boasts of his 56-inch chest, but what kind of son lets his mother go through that?' PM's 96-year-old mother queues up to change notes
http://www.dailymail.co.uk/indiahome/indianews/article-3939414/Modi-boasts-56-inch-chest-kind-son-lets-mother-PM-s-96-year-old-mother-queues-change-notes.html

9. Financial Times:

India cash crunch update: Still chaotic
https://ftalphaville.ft.com/2016/11/15/2179657/india-cash-crunch-update-still-chaotic/

10. International Business Times:

India's economic growth to take a hit over demonetisation drive: India Ratings
http://www.ibtimes.co.in/indias-economic-growth-take-hit-due-de-monetisation-india-ratings-703576

11. NDTV:

PM Modi 'Masterstroke' On Notes Backfires, says foreign media
http://www.ndtv.com/opinion/pm-modi-masterstroke-on-notes-backfires-says-foreign-media-1626092

12. The Economic Times:

India's new strike against black money backfires
http://m.economictimes.com/news/economy/policy/view-indias-new-strike-against-black-money-backfires/articleshow/55452196.cms
....

*I quit Gujarat judiciary because govt. wanted me to act against minority:* Former judge
04 Aug 2015
Ahmedabad, 04 Aug 2015: *Amidst alleged threats to judge Ms Jyotsna Yagnik who had convicted Maya Kodnani, Babu Bajrangi and others for their involvement in the Gujarat 2002 riots, a former judge has now come forward and claimed that he and other judges were tried to be pressurized by the state government (then ruled by Narendra Modi as chief minister) to act against the minority community following the riots.*

*Himanshu Trivedi, now settled and practicing in New Zealand, was a district cadre judge in Ahmedabad City Civil and Sessions Court in 2002 when the riots took place in different parts of the state following the Godhra train carnage.*

*In a Facebook post three days ago, Trivedi, a former colleague of Justice Yagnik, wrote that the Gujarat government wanted the judges and judiciary to act against the minority community and he resigned because he was sworn to the Constitution of India.*

*While appreciating the work of rights activist Teesta Setalvad, who has been fighting for justice for the victims of Gujarat riots since 2002, Trivedi wrote on his Facebook page on 1st Aug 2015:*
*"Teesta Setalvad. Hats off. I have always admired you and your courage and outspokenness on these issues. I also take this opportunity to state that I am indeed pained (and I am the one who had QUIT Gujarat's Judiciary (I was a district cadre judge in Ahmedabad City Civil and Sessions Court - once a colleague of the bravest judge Ms Jyotsna Yagnik) ... because they (the State of Gujarat) wanted us (the judges and the judiciary) of Gujarat to be acting against minority community (albeit with no written orders but DEFINITELY communicated loud and clear messages to us). I could not be part of it as I was sworn to Constitution of India and not to the butchers..."
* Ibn e bhatkali
.....

نام محمد مقبول ترین کیوں؟

ایس اے ساگر

کیا آپ کو علم ہے کہ برطانیہ میں پیدا ہونے والے بچوں کے ناموں کے اندراج کے حوالے سے سرکاری ادارے کی رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ 2015 میں پیدا ہونے والے بچوں میں سے سب سے زیادہ بچوں کا نام ’محمد‘ رکھا گیا، یہ الگ بات ہے کہ ان کی انگلش میں اسپیلنگ یعنی ہجے مختلف تھی تاہم ان تمام ہجوں کے ناموں کو اکٹھا کیا جائے تو ’محمد‘ مقبول ترین نام ثابت ہوا ہے۔ برطانوی سرکاری محکمہ شاہد ہے کہ ’محمد‘ نام 100 ناموں کی فہرست میں  سب سے پہلے 1924 میں دیکھنے میں آیا جبکہ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا گیا. یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ 2014 کے دوران بھی بھی برطانیہ میں ’محمد‘ مقبول ترین نام درج کیا گیا تھا، اس کے علاوہ گذشتہ برس پیدا ہونے والے بچوں کے سب سے زیادہ مقبول ناموں کی فہرست میں عمر، علی اور ابراہیم بھی شامل تھے تاہم 2014 کے دوران بچیوں کے ناموں میں ’نور‘ بہت زیادہ مقبول تھا. امسال یہ 29واں مقبول ترین نام رہا جب کہ ’’مریم‘‘ لڑکیوں کا 35واں مقبول ترین نام تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی کوئی حدیث ہے کہ بروز قیامت اللہ ایسے دو بندوں کو بلائیں گے جنکا نام محمد اور احمد ہوگا اور ان کو صرف اس بنیاد پر کہ انکا نام  میرے حبیب کے ہم نام ہے لہٰذا ان کو جنت میں داخل کردو؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام؟

اس کے جواب میں مفتی شکیل احمد قاسمی صاحب فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق بیشمار مشہور روایات ہیں ۔سب سے معروف روایت یہ ہے
1۔۔۔
-  أتاني جبريلُ عليه السلامُ فقال يا محمدُ إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ يقرأُ عليك السلامَ ويقولُ وعزَّتي وجلالي لا أُعذِّبُ أحدًا يُسمى باسْمِك يا محمدُ بالنارِ

الراوي:
نبيط بن شريط الأشجعي
المحدث: 
الذهبي       -   المصدر:  نسخة نبيط  -   الصفحة أو الرقم:  23خلاصة حكم المحدث:  [فيه] أحمد بن إسحاق بن إبراهيم بن نبيط بن شريط روى عن أبيه عن جده بنسخة فيها بلايا لا يحل الاحتجاج به فهو كذاب۔
2۔۔۔

-  يا محمدُ ، لا أُعذِّبُ بالنارِ من سُمِّيَ باسمكَ

الراوي:
إبراهيم بن نبيط بن شريط
المحدث: 
الذهبي       -   المصدر:  ميزان الاعتدال  -   الصفحة أو الرقم:  1/82خلاصة حكم المحدث:  [من رواية أحمد بن إسحاق وفيها بلايا]

فنی اعتبار سے  سندحدیث میں اگرچہ کلام ہے لیکن محدثین اور مورخین کے یہ روایتیں ملتی ہیں
سیرت حلبیہ میں بھی یہ روایت آئی ہے۔
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی
....
94 وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ
صحيح مسلم
.....
[ص: 417] [ص: 416] بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ وَمَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَقِيلَ لِوَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَلَيْسَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لَيْسَ مِفْتَاحٌ إِلَّا لَهُ أَسْنَانٌ فَإِنْ جِئْتَ بِمِفْتَاحٍ لَهُ أَسْنَانٌ فُتِحَ لَكَ وَإِلَّا لَمْ يُفْتَحْ لَكَ

1180 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَأَخْبَرَنِي أَوْ قَالَ بَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ
صحيح البخارى

اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گری!!

اس سلسلہ میں مولانا محمد کلیم اللہ حنفی رقمطراز ہیں کہ شمائل الرسول میں یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمہ اللہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام "محمد" تخلیق کائنات سے دو ہزار سال پہلے رکھا گیا۔
امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ کی ایک روایت نقل کی ہے جو مدارج النبوۃمیں بھی موجود ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت شیث علیہ السلام کو جہاں دیگر نصیحتیں  فرمائیں وہاں پر یہ بھی فرمایا کہ میرے بیٹے ! ایک بات بطور خاص پیش نظر رہے کہ تم اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ورد زباں رکھنا۔ کیونکہ میں نے اس مبارک نام کو عرش الہٰی کے پائے پر لکھا ہوا دیکھا ہے…… میں نے یہ نام آسمانوں کی سیر کے دوراں بھی ہر جگہ دیکھا ، میں نے جنت کے ہر محل میں ، حوروں کی پیشانیوں پر ، طوبیٰ کی چٹکتی کلیوں اور پتوں پر ، سدرۃ المنتہی کے ہر پتے پر……اطراف حجابات اور فرشتوں کی آنکھوں پر یہ مبارک نام لکھا ہوا دیکھا ہے۔
امام حاکم نے مستدرک علی الصحیحین باب استغفاراٰدم میں روایت نقل کی ہے : جب حضرت آدم علیہ السلام سے خطا صادر ہو گئی (یعنی وہ امر صادر ہو گیا جسے اس حدیث میں خطاء سے تعبیر کیا گیا ہے) توآپ نے عرض کی:اے رب! میں تجھ سے حق محمد ی کے وسیلہ سے اپنی بخشش مانگتا ہوں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم نے محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم ) کو کیسے پہچانا؟ جب کہ میں نے انہیں ابھی پیدا ہی نہیں کیا۔ عرض کیا: اے رب! یہ اس لئے کہ جب تو نے مجھے اپنے دست ِ قدرت سے پیدا فرمایا اور اپنی جانب سے روح مبارک کو مجھ میں ڈالا، میں نے اپنے سر کو اٹھایا تو میں نے عرش کے ستونوں پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا دیکھا، تب میں نے جان لیا کہ تو اپنے پاک نام کے ساتھ کسی کے نام کا اضافہ نہیں فرماتا مگر اس ذاتِ گرامی کے نام نامی کا اضافہ فرماتا ہے جو مخلوقات میں سے تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم نے سچ کہا،بے شک وہ مخلوقات میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اسی کے وسیلہ سے مجھ سے دعا کیجیے۔ میں نیتجھے بخش دیا ہے اور اگر محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا ہی نہ کرتا۔
علامہ علی بن برہان الدین حلبی نے سیرت حلبیہ میں سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ کی گفتگوسیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ہوئی وہ یوں نقل فرمائی ہے کہ اے امیر المومنین!میں نے تورات میں پڑھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک پتھر ملا جس پریہ درج تھا : میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے رسول ہیں جو ان پر ایمان لے آیا اور ان کی اطاعت کی اس کے لیے خوشخبری ہے۔ ام السیر سیرت حلبیہ میں ہے :
علامہ زہری کہتے ہیں کہ میں ایک دن ہشام بن عبدالملک کے پاس جا رہا تھا ، جب میں بلقاء شہر کے قریب پہنچا تو مجھے ایک پتھر ملا جس پر عبرانی زبانی میں کچھ درج تھا ، میں وہ پتھر لے کر عبرانی دان ایک بزرگ کے پاس پہنچا وہ اسے پڑھ کر مسکرائے اور کہا کہ اس پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے اور نیچے لکھنے والے کا نام موسیٰ بن عمران ہے۔ یہی اللہ کے جلیل القدر رسول  حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام ہے۔امام بیہقی رحمہ اللہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ واقعہ موسیٰ و خضر ( جوقرآن کریم میں سورۃ الکہف میں تفصیلاً موجود ہے ) وہاں پر ایک دیوار کا تذکرہ ہے کہ اس کے نیچے یتیم بچوں کا مال مدفون تھا حضرت موسیٰ اور خضر علیہما السلام نے اس دیوار کو درست کر دیا اس مدفون مال میں سونے کی ایک تختی تھی جس پر لکھا ہوا تھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ جبکہ ایک روایت میں الفاظ یوں ہیں لا الہ الا انا، محمد عبدی و رسولی۔
محمد بن عبداللہ رحمہ اللہ  نے مختصر سیرۃ الرسول میں نقل فرمایا ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام کے مزامیر میں ُان کی یہ بات درج ہے کہ ہمارا معبود بے عیب ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زمین میں خوشی بھر دی ہے۔
امام طبرانی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی کے نگینے پر یہ درج تھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔
محمد بن عبداللہ رحمہ اللہ نے مختصر سیرۃ الرسول میں نقل فرمایا ہے کہ حضرت اشعیا علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے آپ کا معاملہ قابل تعریف پایا ، اے رب کے پاکباز بندے تیرا نام ہمیشہ سے موجود رہا۔ اسی کتاب میں حضرت دانیال علیہ السلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے فرمان منقول ہے۔
انجیل برنباس جس کا عربی ترجمہ مشہور عیسائی پادری سیل نے کیا ہے، اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان موجود ہے کہ ہرشخص یہ سوچنے لگے گا کہ مجھے سولی دے دی گئی ، یہ غلط اہانت انگیز بات اس وقت تک رہے گی جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لاتے، جب وہ تشریف لائیں گے تو لوگوں کو اس غلطی سے دور کر دیں گے۔
مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ نے سیرۃ المصطفیٰ میں یمن کے بادشاہ تبع حمیری کے اشعار نقل کیے ہیں :
القیٰ الی نصیحۃ کی ازدجر…. عن قریۃ محجورۃ بمحمد
شہدت علی احمد انہ …رسول من اللہ بارء النسم
وہ(فلاں شخص) مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں اس آبادی (پثرب۔۔۔ موجودہ نام مدینہ ) سے دور چلا جائوں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے محفوظ رکھی گئی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ احمد (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم )اس اللہ کے رسول ہیں جن پر جان لٹائی جاتی ہے۔
علامہ علی بن برہان الدین حلبی سیرت حلبیہ میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا خواجہ عبدالمطلب کو ایک خواب آیا کہ ان کی کمر سے روشنی نکل رہی ہے اس کا ایک سرا زمین میں جبکہ دوسرا آسمان میں ، اسی طرح ایک سرا مشرق اور دوسرا مغرب میں ہے۔ پھر اس روشنی نے ایک درخت کی شکل اختیار کر لی جس کے ہر پتے سے روشنی چمک رہی ہے اور مشرق و مغرب کے لوگ اس درخت سے لگے ہوئے ہیں۔ اس خواب کی تعبیر دینے والوں نے کہا کہ خواجہ عبدالمطلب کی نسل میں ایک بچہ پیدا ہوگا جس کی مشرق و مغرب کے لوگ پیروی کریں گے اور آسمان و زمین والے اس کی تعریف کریں گے ، اس وجہ سے خواجہ عبدالمطلب نے آپ کانامــ ’ محمد‘ رکھا۔ امام ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل فرمایا ہے کہ جب میں امید سے تھی تو مجھے ایک فرشتے نے کہا کہ جب  آپ کا بچہ پیدا ہو جائے تو اس کا نام ’محمد ‘ رکھنا۔
ان تاریخی حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے قبل آپ کے نام کا ڈنکا بجا ہوا تھا ، مختلف ادوار میں آپ کے بارے  پیشن گوئیاں بھی ہوتی رہیں جو بالکل سچی نکلیں۔تاریخ انسانی میں صرف  ہمارے پیارے نبی ہی وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں جن کا تذکرہ تخلیق کائنات سے پہلے بھی ، تخلیق کائنات کے وقت سے لے کر اب تک ہے اورروز قیامت تک رہے گا بلکہ روز قیامت سے لامتناہی نہ ختم ہونے والے وقت میں بھی ہمیشہ گونجتا رہے گا۔ یہی وہ نام ہے جس کی جلوہ گری سے کائنات روشن ہے۔