Thursday, 14 October 2021

حضرت ‏لقمان ‏علیہ ‏السلام ‏کون ‏تھے؟

حضرت لقمان علیہ السلام کون تھے؟
قرآن مجید نے حضرت لقمان علیہ السلام کے پیغمبر ہونے پر بحث کو ضروری نہیں سمجھا لیکن بعض حضرات انہیں پیغمبر تسلیم کرتے ہوئے حضرت الیاس علیہ السلام کا نام دیتے ہیں لیکن یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر امت کے نزدیک  اتفاق رائے موجود نہیں. اکثر کا قول ہے کہ وہ حبشی تھے اور داؤد علیہ السلام کے دور میں تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے مقنول  ہے: ”کہ لقمان علیہ السلام حبشی تھے تجارت ان کا پیشہ تھا.“ حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں: ”حضرت لقمان پست قد، موٹے ہونٹ والے نوبیا قبیلے سے تھے.“ سعد بن مسیب فرماتے ہیں: ”آپ علیہ السلام مصر کے رہنے والے حبشی تھے.“
تعارف: اکثر علماء کرام کی رائے ہے کہ: حضرت لقمان علیہ السلام نبی نہیں تھے اور نہ ہی کسی نبی کے پیروکار تھے۔ 1100 ق م میں وہ نوبیا میں تشریف لائے۔ یہ حبشی النسل تھے اور بڑھئی تھے. مگر اللہ تعالیٰ جس کو چاہے ذہانت عطا فرمادے، وہ ایک پاکباز متقی انسان تھے، جن کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ درجے کی عقل وفہم، حکمت، دانائی  عطاء فرمائی۔ انہوں نے عقل کی راہ سے وہ باتیں کھولیں جو پیغمبروں کے احکام وہدایت کے موافق تھیں۔ رب العزت نے ایک حصہ قرآن میں نقل فرماکر ان کا مرتبہ اور زیادہ بڑھادیا ہے۔ اور بتایا کہ دیکھو یہ حکیم لقمان جو اپنی سلامتی طبع  وفکر کے ذریعے یہاں تک پہنچا وہ وہی اصول ہیں جن کی طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دعوت دے رہے ہیں.
قرآن کریم اور حکمت لقمان علیہ السلام:
قرآن میں اللہ تعالیٰ حضرت لقمان علیہ السلام کو حکمت ودانائی عطاء کرنے کا ذکر یوں فرماتے ہیں:
"وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّـهِ ۚ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ﴿١٢﴾"
حضرت لقمان علیہ السلام کی حکمت ودانائی:َ
حضرت لقمان علیہ السلام کی بنیادی شہرت ان کی دانائی اور خاص اپنے بیٹے کو وہ دانشمندانہ نصیحت ہے جس کو اپناتے ہوئے انسان ایک خوشحال اور پاکیزہ زندگی کے راستے پر چل سکتا ہے۔ لقمان علیہ السلام کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ علیہ السلام ستاروں، جانوروں اور اپنے اردگرد پائی جانے والی دیگر چیزوں کو دیکھتے ہوئے ان پر غور وفکر فرمایا کرتے.
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب روایت منقول ہے: ”ایک دن جب آپ علیہ السلام درخت کے نیچے سورہے تھے تو ایک فرشتہ آیا اور کہا: اللہ رب العزت آپ کو حکمت ونبوت میں سے ایک چیز عطاء کرنا چاہتے ہیں. انتخاب آپ کو کرنا  ہے، آپ علیہ السلام نے حکمت ودانائی کو چن لیا۔ راتوں رات ان پر حکمت برسائی گئی۔ آپ علیہ السلام خود کو فطرت سےز یادہ قریب پانے لگے۔ صبح کو ان  کی سب باتیں اور عادتیں حکیمانہ ہوگئیں۔ آپ علیہ السلام سے سوال ہوا۔ آپ علیہ السلام نے نبوت کے مقابلے میں حکمت  کیسے اختیار کی؟ تو جواب دیا: اگر  اللہ مجھے نبی بنادیتا۔ ممکن ہے کہ میں منصب نبوت کو نبھا جاتا۔ جب مجھے اختیار دیا گیا تو مجھے ڈر لگا کہیں ایسا نہ ہو میں نبوت کا بوجھ نہ اٹھاسکوں. اس لئے میں نے حکمت کو پسند کیا۔“ (اخذ: تفسیر ابن کثیر)
حضرت خالد ربعی کا قول ہے: ”حضرت لقمان علیہ السلام جو حبشی غلام بڑھئی بھی تھے ان سے ایک روز ان کے مالک نے کہا: بکری ذبح کرو اور اس کے جسم کا بہترین حصہ میرے پاس لاؤ۔ آپ دل وزبان  لے کر آگئے. اب کچھ دنوں بعد مالک نے پھر کہا: بکری  ذبح کرو اور اس کے جسم کا بدترین حصہ میرے پاس لاؤ۔ آپ علیہ السلام پھر دل وزبان مالک کے پاس لے آئے. وہ حیران ہوا اور پوچھا ایک ہی وقت میں یہ دونوں چیزیں  بدترین اور بہترین  کیسے ہوسکتی ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: جب یہ اچھے رہے تو ان سے بہترین جسم کا کوئی حصہ نہیں اور جب یہ برے بن جائے تو پھر  سب سے بدتر بھی یہی  ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر)
آپ علیہ السلام کا غلام ہونا:
بعض روایتوں میں آپ علیہ السلام کا غلام ہونا بیان کیا گیا ہے جو اس بات کا  ثبوت ہے کہ  آپ علیہ السلام نبی نہ تھے۔ کیونکہ غلامی نبوت  کے منافی ہے۔ انبیاء کرام عالی نسب اور عالی خاندان ہوا کرتے ہیں. حضرت لقمان علیہ السلام  کسی بڑے گھرانے وکنبے سے نہ تھے، ان میں بہت سی بھلی عادتیں  تھیں، وہ خوش اخلاق، خاموش، غوروفکر  کرنے والے، دن کو نہ سوتے، غسل کرتے، لغو باتوں سے دور رہتے، ہنستے نہ تھے جو کلام کرتے حکمت سے خالی نہ ہوتا، اپنی اولاد کی وفات پر بالکل نہ روئے، و ہ بادشاہوں، امیروں کے پاس اس لئے جاتے کہ غور وفکر، عبرت ونصیحت  حاصل کریں۔ اسی وجہ سے انہیں بزرگی ملی۔ اور دانائی کا تقاضہ ہے کہ جو اصل  ہے اس کو پہچان  لیا جائے لہذا للہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اس پر تو میری شکر گزاری کر، شکر گزار مجھ پر کچھ احسان  نہیں کرتا وہ اپنا  ہی بھلا کرتا ہے،
حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو نصیحت ووصیت:۔
یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے "ثاران" ہے، انہوں نے جو  بہترین نصیحت اپنے بیٹے کو کیں دوسرے لوگ بھی ان سے مستفید ہوئے اور اچھائی کی راہ اختیار  کی۔  
اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی۔ انسان  اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ لہذآ  مشہور ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنے انتقال سے قبل وصیت کے طور پر اپنے بیٹے کو بہترین نصیحت کیں وہ یہ ہیں:
پہلی نصیحت: (شرک نہ کرنا)
سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو  شریک نہ ٹھہرانا. یاد رکھو اس سے بڑے بے حیائی اور زیادہ برا کام  کوئی نہیں۔
"وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّـهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ﴿١٣﴾" (سورۃ لقمان)
حضرت لقمان علیہ السلام نے شرک کو "ظلم عظیم" فرمایا ہے۔ ایک روایت ہے کہ کہ جب سورہ الانعام کی یہ آیت نازل ہوئی:
"الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَـٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ ﴿٨٢﴾"
تو صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بہت شاق  گزری۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا تو کوئی  شخص نہ ہوگا جس نے اللہ تعالیٰ کے احکام  کے خلاف کچھ ظلم نہ کیا ہو”،
تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ وہ ظلم ہے جو حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا. مطلب یہ کہ ظلم سے مراد شرک ہے.“
دوسری نصیحت:    
"يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ﴿١٦﴾" (سورۃ لقمان)
اے میرے بیٹے اگر اچھائی یا برائی رائی کے دانے کے برابر   بھی ہو یا فرض کرو پتھر کی کسی سخت چٹان کے اندر یا آسمانوں کی بلندیوں میں اللہ  تعالیٰ سے کوئی بات چھپی  نہیں ہوتی، اس ذات پاک کا اپنے بندوں سے وعدہ ہے کہ وہ نیکی  وبدی کو ظاہر کردے گا۔
تیسری نصیحت: "يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ" (سورۃ القمان 17)
اے میرے بیٹے  نماز پڑھو. اللہ کے لئے اور نیکی کا حکم کرو  یعنی خود اللہ کی توحید  پر قائم  ہوکر دوسروں کو بھی نصیحت کرو کہ اچھی بات سیکھیں اور برائی سے بچے رہیں.
چوتھی نصیحت: "وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ" 
اے میرے بیٹے! دنیا میں جو سختیاں پیش آئیں انہیں تحمل سے برداشت کرو، سختیوں سے  گھبراکر ہمت ہار دینا حوصلہ مند بہادروں کا کام نہیں،
پانچویں  نصیحت: "وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ"
اے میرے بیٹے! غرور سے مت دیکھنا لوگوں کو اور حقیر نہ سمجھنا۔ متکبروں کی طرح بات  نہ کرنا بلکہ خندہ پیشانی سے ملنا۔
چھٹی نصیحت: "إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ" (18) سورہ لقمان 
اے میرے  بیٹے! اترانے اور شیخیاں مارنے والے کی کچھ عزت نہیں ہوتی بلکہ وہ ذلیل وحقیر ہوتا ہے۔ سامنے نہیں تو پیچھے لوگ اسے برا کہتے ہیں۔
ساتویں نصیحت: "وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ ﴿١٩﴾"
اے  میرے بیٹے! تواضع ومتانت  اور میانہ روی اختیار کرنا، بلاضرورت مت بولنا، کلام کرتے وقت چلاکر بات نہ کرنا، اگر اونچی آواز سے بولنا کمال ہوتا تو گدھے کی آواز پر خیال کرو، زور سے بولنے  سے آدمی کی آواز بے سری ہوجاتی ہے.
حضرت  لقمان علیہ السلام نے اپنے  بیٹے کو جو نصیحتیں کیں ہیں ان میں حسن خلقی  اور تواضع کی ترغیب، شرک، شیخی  اور بداخلاقی کی مذمت کی گئی ہے، حضرت لقمان علیہ السلام نےان باتوں کو خصوصیت کے ساتھ اس لئے انتخاب فرمایا کہ کائنات میں جس قدر بھلائی وبرائی پیش آتی ہے۔ ان سب کی بنیادی جڑ یہی امور ہیں. چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بلاشبہ میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ حسن اخلاق کو  درجہ  کمال تک پہنچاؤں."
حضرت حکیم لقمان علیہ السلام کے حکیمانہ قول:َ
عرب میں حکمت لقمان کا کافی چرچ تھا. اکثر مجالس میں ان کے حکیمانہ اقوال کو نقل کیا جاتا۔ چنانچہ تابعین، صحابہ رضوان اللہ اجمعین  بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس سلسلے میں  بعض  اقوال منقول ہیں۔
1۔ حکمت ودانائی  مفلس کو بادشاہ بنادیتی ہے.
2۔  اللہ تعالیٰ جب کسی کو امانت دار بنائے تو امین کا فرض ہے کہ اس امانت کی حفاظت  کرے۔
3۔  اے بیٹے خدا تعالیٰ سے ڈر اور ریاکاری سے خدا کے ڈر کا مظاہرہ نہ کر لوگ اس وجہ سے تیری عزت کریں اور تیرا دل حقیقتاً گنہگار ہو۔
4۔ اے بیٹے خاموشی میں کبھی ندامت اٹھانی نہیں پڑتی. اگر کلام چاندی ہے سکوت سونا ہے۔
5۔ جو بوؤگے وہی کاٹوگے ۔
6۔  نرم گوئی دانائی کی جڑ ہے.
کسی نے لقمان علیہ السلام سے دریافت کیا سب سے زیادہ صابر کون شخص ہے؟ انہوں نے کہا: جس کے صبر کے پیچھے ایذاء نہ ہو۔ دسترخوان پر ہمیشہ نیک لوگوں کا اجتماع رہے تو بہتر ہے اور مشورہ صرف علماء حق ہی سے  لینا چاہئے۔ حضرت لقمان علیہ السلام سے پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دانائی کا راز کیا ہے؟ تو فرمایا: "سچ بولنا، وعدے کو پورا کرنا اور ان چیزوں سے گریز کرنا جن کا براہ راست مجھ سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق: "جس کو دانائی عطاء کی گئی اسے بہت  بڑی خیر سے نوازا گیا." اور یہ دانائی کی تاریخی کتب وقرآن  مجید کی روشنی میں حضرت لقمان علیہ السلام کی وراثت  ہے۔ مولانا حاؔلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
حکمت  کو ایک گمشدہ لال سمجھو
جہاں پاؤ اپنا اسے مال سمجھو
حضرت لقمان علیہ السلام کی حکیمانہ صلاحیتوں اور طب  کی ادویات سے لوگ آج تک  فائدہ حاصل کررہے ہیں اور رہتی دنیا تک کرتے رہیں گے. بقلم: بنت احمد (الصفہ اسلامک ریسرچ  سینٹر) (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post_12.html



طائف کا مظلوم مبلغ (صلی اللہ علیہ وسلم)

طائف 

کا مظلوم مبلغ 

(صلی اللہ علیہ وسلم)

بقلم: مولانا محمد غیاث الدین حسامی

دعوتِ دین اور اشاعتِ اسلام ایک اہم فریضہ ہے، اُمتِ محمدیہ کی فلاح و کامیابی اسی میں مضمر اور پوشیدہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک اُمتِ مرحومہ نے اس فریضہ کو بحسن و خوبی ادا کیا، کامیابی و کامرانی ان کی حلیف رہی، عروج و اقبال مندی ان کے ہم آغوش رہی، اور جب بھی اُمتِ مرحومہ نے اس فریضہ کی ادائیگی میں سستی اور سہل انگاری کا مظاہرہ کیا، ذلت و ناکامی کی عمیق کھائیوں میں جاگری، شکستہ مائی اور زبوں طالعی اس کا مقدر ہوئی۔

دین کی دعوت اور اسلام کی نشرو اشاعت کے لیے مسلسل جدو جہد اور پیہم قربانیوں کی ضرورت پڑتی ہے، جب تک اس مہتم بالشان عمل کے لئے قربانی نہیں دی جائے گی، یہ عمل مطلوبہ حد تک نتیجہ خیز اور بارآور ثابت نہیں ہوسکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اُمت کے لیے مشعلِ راہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک اہم پہلو بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بنیادی مقصد دین کی دعوت اور پیامِ حق کو پوری انسانیت تک پہنچانا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کے لئے کتنی قربانیاں دی ہیں؟ اور اس راہ میں کتنی مشقتیں اور مصیبتیں جھیلی ہیں، اس کے لئے طائف کا دعوتی سفر ہمارے لئے انمول اور قابلِ تقلید ہے۔

نبوت کا دسواں سال جس کو 'عام الحزن' یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے، اسی سال ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشفق چچا ابوطالب اور وفا شعار رفیقۂ حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تھا، چچا ابوطالب کے انتقال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ مغموم ہوئے، کیونکہ ابوطالب کفارِمکہ کے مقابلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کررہے تھے، ایک تو ظاہری اسباب کے دائرہ میں چچا ابوطالب کی حمایت و مدد اُن کے انتقال کے وجہ سے ختم ہوچکی تھی ، دوسرے چچا ابوطالب کا انتقال کفر پر ہوا، اس کا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت قلق تھا، پھر تھوڑے ہی دنوں بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا جو نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں، بلکہ حق کی آواز، سب سے پہلے لبیک کہنے والی اور گلشنِ اسلام کی پہلی کلی تھیں، جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کفار و مشرکین کی ایذا رسانی سے ملولِ خاطر ہوتے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غمگسار ہوتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتیں۔ ان دونوں شخصیات کی وفات کے ساتھ ہی کفارمکہ کے ظلم و ستم کا بادل آپصلی اللہ علیہ وسلم پر پیہم برسنے لگا، طاغوتی طاقتوں نے مکرو فریب کے ترکش خالی کرنا شروع کردیئے، قریش کا یہ غیرانسانی اور بہیمانہ سلوک نہ صرف پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، بلکہ وہ تمام مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک روا رکھتے تھے، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب اور اس کی بیوی ام جمیل، حکم ابن ابی العاص، عقبہ ابن ابی معیط اور اس کے ساتھیوں نے دوسروں کے مقابلے بہت زیادہ ایذاء و تکلیف پہنچائی۔

ابولہب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چچا تھا، مگر حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن تھا۔ ہر لمحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو تکلیف دینے کے در پے رہتا، موسم حج ہویا مکہ کا بازار جہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو دین کی تبلیغ کرتے ہوئے پاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے آواز لگاتا اور کہتا کہ: لوگو! یہ شخص بددین اور جھوٹا ہے، اس کی باتوں میں مت آؤ، اور دوسروں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکاتا، چنانچہ قریش آوارہ لڑکوں اور اپنے اوباش غلاموں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر بٹھادیتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس راستے سے گزرتے تو سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگ جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اُڑاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعنے کستے، انہی حالات کی وجہ سے مکہ کی سرزمین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تنگ ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا کہ نبوت کا بادل پیہم برس رہا ہے، لیکن مکہ کی سرزمین بنجر اور غیر صالح ثابت ہورہی ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا رخ کیا جو آبادی اور خوشحالی کے اعتبار سے مکہ کے بعد دوسرے نمبر پر تھا، جیسے مکہ ہبل کی عبادت کا مرکز تھا تو طائف میں لات کی پوجا پاٹ ہوتی تھی۔

خاندانِ بنوہاشم کی طائف میں رشتہ داریاں تھیں، چند قبیلوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموؤں کا خاندان کہا جاتا ہے، مکہ کے اہلِ ثروت تجارت اور گرمیاں گزارنے طائف آیا کرتے تھے۔ زرخیز زمین، خوبصورت موسم اور باغات کی کثرت کی وجہ سے یہاں کے باشندے کافی خوش حال تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سفر نہ وہاں کے باشندوں کی خوش حالی اور زرخیزی سے متاثر ہوکر کیا تھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ننھیالی رشتہ داروں سے ملنے اور خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہونے آئے تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سفرپیدل چلتے ہوئے خالص توحید کے پیام کو عام کرنے اور انسانیت کو کفروشرک کے ظلمات سے نکال کر ایمان و یقین کے روشنی سے منور کرنے کے لیے کیا تھا اور اس اُمید سے آئے تھے کہ یہاں کے لوگ پیامِ توحید قبول کرلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ ٹھکانہ دے دیں، مگر طائف والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کی اہلِ مکہ کو بھی جرأت نہیں ہوئی تھی۔

طائف کا دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا سخت ترین دن تھا، چنانچہ صحیحین میں ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت عائشہرضی اللہ عنہا نے سوال کیا: "یا رسول اللہ! آپ کی زندگی میں اُحد سے بھی زیادہ سخت ترین دن کوئی گزرا ہے؟ 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں عائشہ! طائف کا دن بڑا سخت ترین دن تھا جب میں نے اپنے آپ کو وہاں کے سرداروں کے سامنے پیش کیا تھا۔

طائف مکہ مکرمہ سے ۱۲۰؍ کلومیٹر کے فاصلے پر مشرقی جانب اور سطح سمندر سے تقریباً ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے، اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ رکھا۔ اسلام کی تبلیغ کے لیے جب وہاں کے سرداروں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاقات کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیالی رشتہ دار بھی تھے، ان دنوں طائف میں عمرو بن عمیر بن عوف کے تین لڑکے عبدیالیل، مسعود اور حبیب بنو ثقیف کے سردار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے مذکورہ بالا تینوں سرداروں سے ملاقات کی اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور اپنی مدد کی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل دس دن وہاں قیام کرکے ان کو سمجھانے کی پوری کوشش کی، کفر و شرک چھوڑ کر ایمان کی طرف آنے کی دعوت دی، لیکن ان تینوں نے نہایت گستاخانہ جواب دیا۔

ایک نے کہا: تمہارے سوا اللہ کو اور کوئی نہ ملا جسے نبی بناتا؟ دوسرے نے کہا: کعبۃ اللہ کی اس سے بڑی اور کیا توہین ہوگی کہ تم سا شخص پیغمبر ہو؟ تیسرا بولا: میں تم سے ہر گز بات نہ کروں گا، اگر تم سچے ہو تو تم سے گفتگو خلافِ ادب ہے اور اگر جھوٹے ہو تو گفتگو کے قابل نہیں۔ مذکورہ سرداروں نے نہ صرف ہدایت کو قبول نہیں کیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو یہ حکم بھی دیا کہ بہت جلد آپ یہ بستی چھوڑدیں۔ ان بدبختوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، طائف کے بدمعاشوں اور اوباشوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگادیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اُڑائیں، چنانچہ انہوں نے راستہ سے گزرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر مارنے شروع کردیئے۔

حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ ان پتھروں کے لیے سپر بن جاتے، یہاں تک  انکا سر پھٹ گیا، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا جسم لہو لہان ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تیاں خون سے بھر گئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخموں سے چور ہوکر بیٹھ جاتے تو بازو تھام کر کھڑا کردیتے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب چلنے لگتے تو پتھر برساتے، ساتھ ساتھ گالیاں دیتے اور تالیاں بجاتے، پتھروں کے برسانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلمکوبہت چوٹیں آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلمزخموں سے بے ہوش ہوکر گرپڑے۔

حضرت زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو اپنی پیٹھ پر اُٹھاکر آبادی سے باہر عتبہ اور شیبہ کے باغ میں لے آئے، عتبہ اور شیبہ باوجود کفر پر قائم ہونے کے شریف الطبع اور نیک نفس تھے، اس باغ میں بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے دعا فرمائی جو دعائے مستضعفین کے نام سے مشہور ہے، اس دعا کا ایک ایک فقرہ معلوم ہوتا ہے کہ عبدیت اور تواضع و انکساری کے سانچے میں ڈھلا ہوا اور سوزو گداز اور درد و کرب کے عطر میں بسا ہوا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طائف کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بدسلوکی کی اور بدتمیزی کی اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر مغموم اور رنجیدہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((اللّٰہم إلیک أشکو ضعف قوتی وقلۃ حیلتی وہوانی علی الناس یا أرحم الراحمین أنت رب المستضعفین وأنت ربی ٗ إلی من تکلنی؟ إلی بعید یتجہمني ؟ أم إلی عدو ملکتہ أمری۔ إن لم یکن بک علی غضب فلا أبالی ٗ ولکن عافیتک ہی أوسع لی ٗ أعوذبنور وجہک الذی أشرقت لہ الظلمات وصلح علیہ أمر الدنیا والآخرۃ من ان تنزل بی غضبک أو یحل علی سخطک ٗ لک العتبی حتی ترضی ٗ ولا حول ولا قوۃ إلا بک ۔))

"بارالٰہا! میں تجھ ہی سے اپنی کمزوری و بے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ کرتاہوں، یا ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا رب ہے، تو مجھے کس کے حوالہ کررہا ہے؟ کیا کسی بے گانہ کے جو میرے ساتھ تندی سے پیش آئے یا کسی دشمن کے جس کو تو نے میرے معاملہ کا مالک بنا دیا ہے؟ اگر مجھ پر تیرا غضب نہیں ہے تو مجھے کوئی پروا نہیں، لیکن تیری عافیت میرے لئے زیادہ کشادہ ہے، میں تیرے چہرہ کے اس نور کی پناہ چاہتاہوں جس سے تاریکیاں روشن ہوگئیں اور جس پر دنیا و آخرت کے معاملات درست ہوئے کہ تو مجھ پر اپنا غضب نازل کرے یا تیرا عتاب مجھ پر وارد ہو، تیری رضا مطلوب ہے، یہاں تک کہ تو خوش ہوجائے اور تیرے بغیر کوئی زور اور طاقت نہیں۔"

عتبہ اور شیبہ کے اسی باغ میں عداس نامی ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلمکے دستِ حق پرست پر اسلام قبول کیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ انگور لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیئے، آپصلی اللہ علیہ وسلم 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' کہہ کر انگور کھانے لگے تو عداس حیرت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلمکی صور ت دیکھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کہاں کے ہو اور تمہارا دین کیا ہے؟ اس نے کہا کہ: وہ عیسائی ہے اور نینویٰ کا رہنے والا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس صالح انسان کی بستی کے ہوجن کا نام یونس بن متی علیہ السلام تھا؟ عداس نے پوچھا کہ آپ کس طرح انہیں جانتے ہیں؟ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ: وہ میرے بھائی ہیں، وہ بھی نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں، عداس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’محمد‘‘ تب عداس نے کہا کہ: میں نے توریت میں آپ کا اسمِ مبارک دیکھا ہے اور آپ کے اوصاف بھی پڑھے ہیں، اس کے بعد اس نے کہا کہ: میں ایک عرصہ سے یہاں آپ کے انتظار میں ہوں، مجھے اسلام کی تعلیم دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلام پیش فرمانے پر وہ فوری مسلمان ہوگیا اور جھک کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر، ہاتھ اور پاؤں چومنے لگا۔

طائف کے اس سفر میں بہت سی باتیں قابلِ توجہ اورلائق تقلید ہیں، پہلی یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ہدایت کے لئے بہت فکر مند اور بے چین رہا کرتے تھے، مکہ کے مشرکین نے جب دینِ اسلام کو قبول کرنے سے انکار کردیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے لوگوں کو سمجھانے کے لئے وہاں کا سفر کیا، یہ دلیل ہے اس بات کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کے ہر فردِ بشر کو اسلام کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی درد اور جذبہ کو قرآن کریم میں ان الفاظ میں بیان کیا: ’’شاید اے محمد! آپ تو اہل مکہ کے ایمان نہ لانے کے غم میں اپنی جان کھودیں گے۔‘‘ (الشعراء: ۳)

سفرِطائف سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ دشمنوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا برتاؤ بہت بہتر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق بہت اعلیٰ تھے، اور اسی اعلیٰ اخلاق کے ساتھ آپصلی اللہ علیہ وسلم طائف کے سرداروں اور لوگوں سے ملے اور ان کے نازیبا سلوک کے باوجود اپنے عالی اخلاق کو پیش کیا، اور اُمت کو بھی یہ تعلیم دی کہ دعوت و تبلیغ کے لئے داعی کے اندر عمدہ اخلاق اور صبر و تحمل کا ہونا ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انہی اخلاق کو قرآن مجید میں اخلاقِ عظیمہ کہا گیا اور اسی کی تکمیل کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔

اس سفر میں ایک نصیحت یہ بھی ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ کی طرف متوجہ رہے، خوشی ہو یا غم، راحت ہو یا مصیبت، ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنا کامیاب انسان کی دلیل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے سفر میں یہی کام کیا، جب طائف والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ترین تکلیفیں دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا جسم لہولہان ہوگیا، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اللہ ہی سے مدد کے طلب گار ہوئے۔

واقعۂ طائف میں ایک بات جو سب سے زیادہ اہم اور قابلِ توجہ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عفو و درگزر ہے، بے انتہا تکلیف دینے والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کردیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کا فرشتہ بھی بھیج دیا تھا اور آپصلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کی ضرورت تھی؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ: اے جبرئیل! ان کو عذاب میں مبتلا مت کرو، ہوسکتا ہے کہ ان کی اولاد میں ایسے لوگ پیدا ہوجائیں جو میرے دین کو ماننے والے ہوں گے، اسی عفو و درگزر اور صبر و تحمل کا نتیجہ تھا کہ چند ہی سالوں میں طائف کے لوگ ایمان سے مشرف ہوئے۔

اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام تر مصائب و تکالیف کے باوجود تبلیغ کا اہم فریضہ انجام دیتے رہے، جس بستی سے گزر تے، وہاں کے باشندوں کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے رہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عتبہ اور شیبہ کے باغ میں کام کرنے والے شخص عداس نے ایمان قبول کیا۔ علماء نے لکھا کہ عداس رضی اللہ عنہ کا ایمان قبول کرنا اس سفر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post_14.html




Sunday, 10 October 2021

پروپیگنڈوں کی تلوار سے سچائی کا قتل

پروپیگنڈوں 
کی تلوار سے سچائی کا قتل
بقلم: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندو سماج میں ایک عرصہ سے مذہب کی تبدیلی کا سلسلہ جاری ہے، ہندو مذہب میں بنیادی طور پر کوئی ایسا ٹھوس عقیدہ نہیں پایا جاتا، جس کو ہندو عقیدہ اور آئیڈیالوجی کا نام دیا جاسکے، جو لوگ ’’رام‘‘ کو بھگوان اور خدا مانتے ہوں، وہ بھی ہندو ہیں، اور جوگ ’’راون‘‘ کو خدا قرار دیتے ہیں اور رام کو بُرا بھلا کہتے ہیں، وہ بھی ہندو مذہب ہی کے علمبردار ہیں، اور نہرو وغیرہ جیسے دانشور جو مورتی پوجا اور دیوی دیوتاؤں کے وجود کو توہم پرستی قرار دیتے ہیں، وہ بھی ہندو ہیں، توہم پرستی ہی کے نتیجے میں طبقاتی تقسیم ہندو عقیدہ کا اٹوٹ جزء ہے اوراسی لئے ہندستان میں ہزاروں سال سے دبے کچلے ہوئے لوگوں کا احساس ہے کہ ہندو مذہب دراصل مذہبی قالب میں ’’برہمن واد‘‘ کی حفاظت سے عبارت ہے، اس نظام نے صدیوں سے دلت اور پست طبقات کو اپنے طاقتور پنجہ میں دبا رکھا ہے، جب بھی انھوں نے انگڑائی لینے کی کوشش کی، نہایت ذہانت کے ساتھ ان پر اپنی گرفت اور مضبوط کردی گئی۔ 
حالانکہ ہمارا موجودہ جمہوری ڈھانچہ ذات پات کے تصور کی نفی کرتا ہے؛ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی برہمنوں کی تعداد تو چار، پانچ فیصد سے زیادہ نہیں؛ مگر حکومت کے کلیدی عہدوں پر ان کی تعداد ۶۴ فیصد ہے، سیاسی تبدیلیوں سے چہرے بدلتے ہیں؛ لیکن اس حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، آج تک پست اقوام میں کوئی شنکر اچاریہ اور مٹھ کا سربراہ نہیں بن سکا، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہندو قوم میں یہ مسئلہ محض ایک سماجی مسئلہ نہیں ہے؛ بلکہ اس کی جڑیں عقیدہ کی گہرائیوں میں پیوست ہیں، ان حالات نے دبے کچلے لوگوں کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ ہندو ازم کے اس قید خانے سے اپنے آپ کو باہر نکالیں اور باعزت انسان کی طرح سماج میں زندہ رہیں، اس کے لئے مشہور رہنما امبیڈکر نے بودھ ازم کو قبول کیا؛ لیکن جلد ہی سمجھ دار اور باشعور لوگوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ یہ شراب کو آب سمجھنے کے مترادف ہے، بدھسٹ سماج کو ہندو سماج نے اس طرح اپنے اندر جذب کرلیا ہے کہ گویا یہ قید خانہ کی ایک کوٹھری سے نکل کر دوسری کوٹھری میں داخل ہونا ہے، وہی سماج، وہی تہذیب، وہی رسوم و رواج، بس خداؤں میں ایک خدا کا اضافہ یا کچھ دیوتاؤں کی تبدیلی، یہاں تک کہ دستورِ ہند کے مطابق بھی اس تبدیلی ٔمذہب کے باوجود وہ ہندو ہی شمار کیا جاتا ہے، لوگ یہ بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ جن مذاہب کی پیدائش اور نشوو نما ہندوستان کی سر زمین میں ہوئی ہے، برہمنوں نے اپنی ذہانت سے ان کا ایسا ’’ہندو کرن‘‘ کردیا ہے، کہ اب کسی کے لئے ان مذاہب میں سے کسی کو اختیار کرنے کے باوجود ہندو سماج کے مظالم سے نجات پانا اور انصاف حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
اس لئے بے چین اور بے قرار ذہن و فکر رکھنے والوں کے لئے دو ہی راستے رہ گئے ہیں: عیسائیت یا اسلام، اس سے کسی حقیقت پسند غیرمسلم کو بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ اسلام کے عقائد واُصول جتنے صاف و شفاف، عقل و فطرت سے ہم آہنگ، متوازن اور انسانی ضروریات کے لئے موزوں اور مناسب ہیں، کسی اور مذہب میں اس کی مثال نہیں ملتی، جس کا خلاصہ ہے: اللہ کی وحدت اورانسانوں کی وحدت، یہ اسلام کا انقلابی تصور ہے اور دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں، اگر خدا ایک ہے، اس کا کوئی خاندان و کنبہ نہیں، اور کسی انسانی طبقہ سے اس کی قرابت مندی اور رشتہ داری نہیں تو اس سے خود بخود انسانی وحدت اور مساوات کا تصور اُبھرتا ہے، پھر اسلام میں کوئی عقیدہ ’’پہیلی‘‘ کی طرح نہیں ہے کہ اس کا سمجھنا مشکل اور سمجھانا مشکل تر ہو، جیساکہ ہمارے عیسائی بھائیوں کے یہاں ایک میں تین اور تین میں ایک کا تصور (Concept of the Trinity) ہے، یا ’’عقیدۂ کفارہ‘‘ (The Atanement) ہے کہ غلطی کوئی کرے اور سزا حضرت مسیح علیہ السلام کو جھیلنی پڑے، اسی لئے مسلمان حالانکہ اس ملک میں بہت تھوڑی تعداد میں آئے؛ لیکن اس ملک کے باشندوں نے جو طبقاتی تقسیم کی وجہ سے ظلم وجور سے دو چار تھے اور برہمنوں کو نذرانہ دیتے دیتے عاجز آچکے تھے، انھوں نے اسلام کی دعوت پر لبیک کہا، افغانستان سے لے کر بنگلہ دیش اور برما تک جو مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے وہ اسلام کی اسی کشش کا نتیجہ ہے! 
بعض لوگ غلط فہمی پیدا کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے اس ملک میں جبرا تبدیلی ٔ مذہب کروایا ہے؛ لیکن یہ ایسا جھوٹ ہے کہ خود عقل عام اس کو جھٹلا تی ہے، ہندوستان کے جنوبی اورساحلی علاقوں میں تو اسلام حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے عہد میں آچکا تھا اور نہ صرف پَرْجَا بلکہ بعض راجاؤں نے بھی اسلام قبول کیا تھا، اس وقت یقینا درۂ خیبر سے کوئی فوجی قافلہ ہندوستان نہیں پہنچا تھا، اس وقت جبر و دباؤ کی کیا گنجائش ہوسکتی تھی؟ پھر غور کیجئے کہ مسلمانوں نے اس ملک کے مختلف حصوں پر کم و بیش آٹھ سو سال تک حکومت کی ہے، آج جب حکومت کے بغیر ہندو سماج میں تبدیلی ٔ مذہب کا طوفان اُٹھا ہوا ہے اور کئی ریاستوں میں آبادی کا توازن بدل چکا ہے، تو اگر اتنا طویل عرصہ جبر و دباؤ سے کام لیا جاتا تو کیا یہ ملک مسلم اکثریت نہیں بن گیا ہوتا؟ حقیقت یہ ہے کہ جبرو دباؤ تو الگ چیز ہے، مسلمان حکمرانوں نے تو عام طور پر اسلام کی تبلیغ ودعوت کی طرف بھی توجہ نہیں کی اور انتہائی تغافل برتا، ورنہ اگر اس سلسلہ میں تھوڑی بھی کوشش کی جاتی تو اسلام کی کشش ہی لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لئے کافی ہوتی.
اسلام کے بعد اس ملک کے لوگوں کے لئے زیادہ قابل توجہ مذہب عیسائیت ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ پچھلے سو سال میں ہندؤوں کی بہت بڑی تعداد نے عیسائیت کو قبول کیا ہے، کئی ریاستوں میں تو عیسائیت اکثریتی مذہب بن گیا ہے، میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ دو ہے: ایک تو مادی وسائل کا استعمال، اسپتال، درسگاہیں اور معاشی فلاح کے مراکز کے قیام و انتظام نے عیسائیت کو اس بات کا موقع فراہم کیا کہ مقامی آبادی میں اثر ونفوذ حاصل کرے اور ان میں داخل ہوسکے، دوسرے اگرچہ عیسائیت کو ایک عالمی مذہب اور ترقی یافتہ قوم کا مذہب ہونے کی وجہ سے ہندو ازم کے ساتھ مکمل طور پر جذب نہیں کیا جاسکتا ؛ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ عیسائیت کا کوئی سماجی تشخص، نہیں ہے، شادی، بیاہ، سماجی رسم و رواج وغیرہ میں وہ ہندو سماج ہی کا ایک حصہ بن گئے ہیں، ان کے پاس حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا کوئی مکمل نظامِ حیات نہیں ہے، جو ان پر قیود و حدود عائد کرتا ہو اور اپنے پہلے معمولات سے روکتا ہو، اکثر اوقات تو نام بھی تبدیل نہیں کئے جاتے، بس کچھ تہواروں کا فرق ہوتا ہے، شرک پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے، مورتی کی پرستش پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے، اس لئے جب کوئی ہندو عیسائی مذہب قبول کرتا ہے تو اسے بہت ہی معمولی تبدیلیوں سے گذرنا پڑتا ہے، اس کی عملی زندگی میں تو کوئی انقلاب آتا ہی نہیں ہے، اور اسے فکر و عقیدہ کے اعتبار سے بھی کسی غیرمعمولی تبدیلی سے گذرنا نہیں پڑتا ۔
اسلام مذہب کے معاملہ میں ایسی دو رنگی اور دو عملی کوروا نہیں رکھتا، اسلام قبول کرنے کا مطلب خداؤں میں ایک خدا کا اضافہ نہیں؛ بلکہ اللہ سے رشتہ جوڑ کر تمام توہمات سے رشتہ توڑنا ہے، اس کی عبادتیں الگ ہیں، اس کے تہوار الگ ہیں، وہ غیر مسلم خاندانوں سے شادی بیاہ کا تعلق قائم نہیں رکھ سکتا، وہ ایمان لانے کے بعد اپنے والدین کے ترکہ سے حصہ نہیں پاسکتا، اس کو کھانے، پینے، خریدنے، بیچنے، کمانے غرض زندگی کے ہر شعبہ میں حلال و حرام کی حدیں قائم کرنی پڑتی ہیں اور حرام سے بچنا پڑتا ہے، دین یقینا آسان ہے؛ لیکن جو نفس کی ہر خواہش پر لبیک کہنے کا عادی بن چکا ہو، اس کے لئے حق پر گامزن ہونا لوہے کا چنے چبانے کے مترادف ہے، گویا مسلمان ہونے کے بعد انسان ایک سماج سے دوسرے سماج کی طرف ہجرت کرتا ہے، اس لئے یہ پھولوں کی سیج نہیں؛ بلکہ کانٹوں کا فرش ہے، اسی بناء پر جو لوگ خدا سے ڈرکر سچائی اورحقیقت کی تلاش کے جذبے سے معمور ہوکر اور عزم و ارادہ کی قوت سے مسلح ہوکر قدم اُٹھانا چاہیں، وہی اس راہ پر آسکتے ہیں ، کسی بھی شخص کو حقیر، معمولی اور مادی مقاصد کے تحت اس راہ میں آبلہ پائی کا حوصلہ نہیں ہوسکتا؛ چنانچہ ایک تو ان مشکلات اور دوسری طرف دعوتِ اسلام کے کاموں سے غفلت کی بناء پر آزاد ہندوستان میں عیسائیت کی طرف ہندو سماج کا رجوع زیادہ ہوا ہے۔ 
ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے، جو ہر شخص کو اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے؛ چنانچہ دستورِ ہند کے بنیادی حقوق کی دفعہ: ۲۵ میں تمام شہریوں کے لئے آزادیٔ ضمیر، آزادی سے مذہب پر عمل کرنے کا اور اس کی تبلیغ کرنے کا مساوی حق شامل ہے، اس لئے سنگھ پریوار کا ’’دھرم پری ورتن‘‘ پر چیں بہ جبیں ہونا یقینا ہندوستان کے دستور سے بغاوت کرنے کے مترادف ہے، اپنی بیماری کو دور کرنے کی بجائے ان لوگوں کو بُرا کہنا جو بیماری کو بیماری سمجھتے ہیں، بے وقوفی ہی کہی جاسکتی ہے۔ 
اسلام نے بھی ضمیر و اعتقاد کی آزادی کو تسلیم کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے صاف ارشاد فرمایا کہ ہدایت گمراہی کے مقابلہ واضح ہوچکی ہے ؛ لہٰذا دین کے معاملہ میں کوئی جبر و دباؤ نہیں ہے: 
لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ (البقرۃ: ۲۵۶) 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صاف ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کا کام صرف نصیحت کرنا ہے، آپ داروغہ نہیں ہیں کہ ان کو اپنی بات ماننے پر مجبور کردیں: 
اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍ (الغاشیہ: ۲۱-۲۲) 
ایک موقع پر ارشاد ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسان ہی مومن ہوجاتے، پھر کیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کردیں گے؟: فَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُوْمِنِیْنَ (یونس: ۹۹) 
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی گئی کہ اگر وہ آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے، آپ پر تو محض یہ ہے کہ پیغامِ ہدایت کو صاف صاف اور کھلے طور پر پہنچا دیں اور بس: 
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (النحل: ۸۲) 
آپ سے فرمایا گیا کہ جو لوگ کفر پر بہ ضد ہیں، ان سے کہہ دو کہ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین: 
لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَ لِیَ دِیْنْ (الکافرون: ۶) 
ایک اور موقع پر آپ کی زبان سے کہلا گیا  کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال: 
لَنَا اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ (الشوریٰ: ۱۵)، 
غرض عقیدہ و ضمیر کی آزادی کا قائل اسلام بھی ہے، وہ کسی شخص کو مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کرتا۔ اس وقت دعوت اسلام کا کام کرنے والی بعض شخصیتوں کو گرفتار کیا جارہا ہے، دعوت کے کام کو جبر ودباؤ یا مالی تحریص کے ذریعہ دھرم پریورتن کا نام دینا سفید جھوٹ اور کھلی ہوئی زیادتی ہے، ہندوستان اور بالخصوص ریاست اترپردیش میں کیا اس بات کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے کہ کوئی مسلمان یا عیسائی زور زبردستی سے کسی ہندو کا مذہب تبدیل کرا دے اور مسلمان جو بنیادی ضروریات کے لئے محتاج ہیں، کیا وہ پیسوں کے بَل پر برادران وطن کا مذہب تبدیل کرواسکتے ہیں؟ یہ صرف ایک پروپیگنڈہ اور سچائی کا قتل ہے، جو میڈیا اور سرکاری ادارے کررہے ہیں، اور اس کا مقصد نفرت پھیلانا اور ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ سے لڑانا ہے، جو سازشیں سنگھ پریوار کے لوگ اقلیتوں کے خلاف کررہے ہیں، اگر وہ اس کی بجائے ہندو سماج کی اصلاح کی طرف دیتے تو یہ ان کے لئے زیادہ مفید ہوتا۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post_10.html

Saturday, 9 October 2021

من گھڑت اور غیرمعتبر روایات کا حکم کیا ہے؟ نیز بنیادی عوامل اور ان کے سدِّباب کی راہیں کیا ہیں؟

من گھڑت
اور غیرمعتبر روایات کا حکم کیا ہے؟ 
نیز بنیادی عوامل اور ان کے سدِّباب کی راہیں کیا ہیں؟
 
بقلم: مفتی طارق امیر خان. جامعہ فاروقیہ کراچی
 
اسلام میں اَحادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مصدر ثانی کی اساسی حیثیت حاصل ہے،جس میں نقب زنی سے حفاظت کا انتظام عہدرسالت کی ابتداء ہی سے کر دیا گیا تھا،اور یہ صیانت و حفاظت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا نتیجہ تھی:
”مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہ مِنَ النَّارِ“․(۱)
ترجمہ: ”جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے“۔
جاں نثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلّی الله علیہ وسلّم کے اس ارشاد سے ہر دَم خوفزدہ رہتے تھے اور آپ صلّی الله علیہ وسلّم کا یہ دستور، ہمہ وقت اُن کی نگاہوں کے سامنے رہتا تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اسی کیفیت کو علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اِن لفظوں میں بیان کیا ہے:
”سیدالکونین صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان، محافل صحابہ میں اتنی شہرت اختیار کرگیا تھا کہ آج بھی کتبِ حدیث میں سو سے زائد ایسے صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام محفوظ ہیں، جن سے یہ روایت منقول ہے“۔(۲)
اگر اِن تمام طُرق اور روایات کو بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہمہ گیری میں اپنی نظیر نہیں رکھتا، کیونکہ جہاں اِبتدائے نبوت کی خفیہ مجالس میں اِس حدیث کی سرگوشیاں تھی،وہاں اِکمال نبوت یعنی خطبہ حجة الوداع کے عظیم اجتماع میں بھی اسی اعلان کی گونج تھی،جہاں عشرہ مبشّرہ اس روایت کو نقل کررہے ہیں، وہاں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے عام وخاص بھی اس کو دُہرا رہے تھے،صحابہ رضی اللہ عنہم میں جس طرح یہ ارشاد زبان زَد خاص و عام تھا، صحابیات رضی اللہ عنہن کی مجالس بھی اس فرمان سے مزیّن تھیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی ارشاد کا اثر تھا کہ جب ذخیرہٴ اَحادیث میں من گھڑت اور ساقط الاعتبار روایات کے ذریعے رَخنہ اندازی کی مذموم کوششیں شروع ہوگئیں، تو محدثینِ کرام نے احادیث کے صحت و سُقَم کے مابین ”اِسناد“ کی ایسی خلیج قائم کردی، جس کی مثال اُممِ سابقہ میں ملنا مُحال ہے، محدثینِ کرام نے احادیث کو خس وخاشاک سے صاف کرنے کے لئے یہی ”میزانِ اِسناد“ قائم کی، جس کے نتیجے میں اصولِ حدیث کے مبارک علوم وجود میں آتے رہے، ضعیف اور کذّاب راویوں پر مستقل تصانیف کی گئیں، انہی متقدمین علماء نے کتب العِلَل میں ساقط الاعتبار (غیرمعتبر) احادیث کو واضح کیا، علماء متأخرین نے بھی باقاعدہ مُشتَہَرات (زبان زَد عام روایات پر مشتمل کتابیں)، ساقط الاعتبار اور من گھڑت روایات پر کتابیں لکھیں؛چنانچہ ہر زمانے میں احادیث کا ذخیرہ محفوظ شاہراہ پر گامزن رہا، غرضے کہ روئے زمین پر جہاں کہیں اسلام کا سورج طلوع ہوا ہے، وہ حدیث کے محافظین خود ساتھ لایا ہے۔
ہند-پاک میں ساقط الاعتبار اور من گھڑت روایات اور اُن کا سدّباب:
اگر ہم اپنے خطّے برّصغیرہند-پاک کا جائزہ لیں، تو موضوعات کی روک تھام میں سرفہرست علامہ ابو الفضل الحسن بن محمد صاغانی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کا نام نظر آتا ہے، آپ ۵۷۷ ھ لاہور (پاکستان) میں پیدا ہوئے، اور حدیث و لغت کی دیگر خدمات کے ساتھ، خودساختہ روایات پر دو گراں قدر کتابیں لکھی:
۱- الدُرَرُ المُلْتَقَط في تَبْیَینِ الغَلَط
۲- موضوعات الصَّغَانِي
من گھڑت اور غیرمعتبر روایات کے بنیادی عوامل:
ہند-پاک میں َمن گھڑت اور باطل روایات کا مطالعہ بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے، جن میں یہ نکتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ برّصغیر ہندوپاک میں وہ کونسے قدیم بنیادی طبقات ہیں، جو یہاں خود ساختہ روایات کی ترویج میں راہ ہموار کرتے رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں سب سے قدیم تحریر علامہ صاغانی رحمۃ اللہ علیہ ہی کی ملتی ہے، جس سے ہمیں بڑی حد تک اس مسئلے کے جواب میں رہنمائی ملتی ہے، چنانچہ علامہ صاغانی رحمۃ اللہ علیہ ”الدُّررُالمُلْتقَط“ (۳) میں اپنی تصنیف کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”وقد کَثُرَتْ في زَمَانِنا الأحادیث الموضوعةُ، یروِیھا القصاصُ علی رُوٴوس المَنَابِر والمجالسِ، ویَذْکُرُ الفُقَرَاءُ والفُقَھَاءُ في الخَوَانِقِ والمَدَارِسِ، وتَدَاوَلَتْ في المَحَافِل، واشْتُھِرَتْ في القَبَائِل، لِقِلَّة مَعْرِفَةِ النَّاس بعِلْمِ السُنَنِ، وانْحِرَافِھم عن السُّنَنِ“․
اس عبارت میں امام صاغانی رحمۃ اللہ علیہ نے موضوعات اور غیرمعتبر روایات کی اِشاعت میں مُلوَّث چند عوامل کا ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو:
$  قصہ گَو برسرِ منبر اورعام مجالس میں من گھڑت روایتیں بیان کرتے تھے، ایسے ہی جاہل صوفیاء اور جاہل فقہاء کی مجالس بھی ان باطل مرویّات سے پُر تھیں۔
$  اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ یہ خودساختہ عبارتیں ملّت اسلامیہ کے ہر طبقے اور قبیلے میں رواج پاتی رہیں، اور یہی کلام، مجالس کی زینت بنتا رہا، بالآخر موضوعات کی یہ گرم بازاری پورے معاشرے میں سرایت کر گئی۔
$  اس شرعی اِنحطاط کا باعث صرف معرفتِ حدیث سے دوری تھی۔
وضّاعین کی اقسام اور ان کے مذموم مقاصد:
علامہ صاغانی رحمۃ اللہ علیہ کا گزشتہ اِقتباس ہماری قدیم خستہ حالی کی جیتی جاگتی تصویر ہے، جس میں مذکور طبقات ہمارے سابقہ سوال کا اجمالی جواب ہیں، مزید وضاحت کے لیے ہم علامہ عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ کے اس مقدمے (۴) کو بہت ہی معاون پاتے ہیں،جس میں انھوں نے حدیث گھڑنے والوں کی اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے، انھیں کئی اقسام پر تقسیم کیا، اِن اقسام سے ہم بخوبی یہ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ برصغیر ہند-پاک میں وہ کونسے حلقے، اَفراد اور گروہ ہیں، جن کے ہاں موضوع روایات کا ایک بڑا ذخیرہ جنم لیتا رہا ہے، بالفاظ دیگر یہ روایات انھیں کے راستے سے مشہور ہوئیں۔
۱- زَنادِقہ
زَنادِقَہ، ان کا مقصد اُمت میں رطب ویابس پھیلا کر شریعت کو مسخ کرنا ہے، علامہ عبدا لحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس عنوان کے تحت ہند-پاک کے ”فرقہٴ نیچریہ“ اور اُن کے گمراہ کُن عقائد کا ذکر کیا ہے، آپ نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ یہ فرقہ نصوصِ شرعیہ میں تحریف (تبدیلی) لفظی ومعنوی کا مرتکب رہا ہے۔
۲- موٴیدینِ مذاہب:
دوسری قسم اُن افراد کی ہے، جنہوں نے اپنے مذہب اور موقف کی تائید میں روایتیں گھڑیں، اِس عنوان کے تحت علامہ عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث میں خوارج کے طریقہٴ واردات کو بیان کیا ہے، تاریخ شاہد ہے کہ بعض خوارج نے خود اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ہم نے اپنے موقف اور رائے کو ثابت کرنے کے لئے بہت سی احادیث گھڑی ہیں.
یہاں برّصغیر ہند-پاک میں موجود اہل سوء اور بدعتیوں کا ذکر بھی برمحل ہے،جنہوں نے اس خطّے میں بہت سی مُحدَثَات (دین میں نئی باتیں) اور بدعات کو سند جواز فراہم کیا، اور اپنی اِختراعات کے ثبوت میں، من گھڑت اور ساقط الاعتبار روایتوں کا سہارا لیا۔
۳- اصلاح پسند اَفراد:
تیسرا طبقہ اُن افراد کا ہے، جنہوں نے لوگوں کی اصلاح کے خیال سے ترغیب وترہیب کی احادیث گھڑیں۔اس میں علامہ عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دلچسپ مثال بیان کی ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ہند-پاک کے بعض اصلاح پسند لوگوں نے تمباکو نوشی سے زَجرووَعِید پر مشتمل احادیث وضع کی ہیں، پھر موصوف نے اس مضمون پر مشتمل وضّاعین کی آٹھ ایسی روایتیں لکھی ہیں، جو سب کی سب جعلی ہیں۔
۴- طبقہٴ جہلاء:
چوتھی قسم اُن لوگوں کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب ہر اَمرِخیر،اقوال زَرِیں وغیرہ کا انتساب، جائز سمجھتے ہیں؛حالانکہ معتبر سند کے بغیر اس طرح انتساب کرنا ہرگز جائز نہیں۔
۵- اہل غلو:
ایک قسم اُن لوگوں کی ہے،جو عقیدت ومحبت میں اِفراط وغُلُوّ کا شکار ہوجاتے ہیں، اور اہل بیت، خلفائے راشدین، ائمہ کرام اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے باطل، بے اصل مضامین مشہور کردیتے ہیں۔
۶- واعظین:
چھٹا طبقہ ان قصہ گَو واعظین کا ہے جو جعلی غرائبِ زمانہ سُنا کر عوام سے دادِ تحسین وُصول کرتے ہیں۔
خلاصہ کلام:
خلاصہ کلام یہ کہ یہی طبقات اور اَفراد، خطہٴ ہند-پاک میں حدیث کی جعل سازی کا بیڑا اٹھائے رہے ہیں؛ بلکہ اس تفصیل کے بعد ہم بصیرت سے یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ہمارے گرد و پیش ایسی بہت سی ہم معنی باطل احادیث پھیلی ہوئی ہیں، جو بلا تردّد انھیں خاص طبقات کی مذموم کوششوں کانتیحہ ہے۔
ہند-پاک میں تکاسلِ حدیث اور اس کے اسباب:
اگرچہ برصغیر ہند-پاک میں زبان زَدْ عام رِوایات کی تنقیح بجا طور پر ہوتی رہی ہے، لیکن پھر بھی یہ سوال، جواب کا مستحق ہے کہ افرادِاُمت عام طور پر احادیث میں صرف سطحی ذہن رکھنے والے ہیں، اور اکثر احادیث کی چھان بین کو خاطر میں نہیں لایا جاتا، آخر، حدیث کے عنوان سے مزاجوں میں حسّاسیت اتنی مَدھم کیوں رہی ہے؟
تلاشِ بسیار کے بعد علامہ عبدالغزیز فرہاروی رحمۃ اللہ علیہ (۱۲۳۹ ھ) کی عبارت میں اس مُعِمّہ کا حل مل گیا۔علامہ عبدالعزیز فرہاروی رحمۃ اللہ علیہ نے ”کوثر النَّبِیّ وزُلَالُ حَوْضِہ الرَّوِي“(۵) میں ایک مقام پر بعض ایسی کتبِ تفسیر، کتب ِزہد، کتب ِ اَورَاد وغیرہ کا تذکرہ کیا، جن میں غیرمُعتبر احادیث بھی ہیں، پھر اِن کتابوں میں موجود ساقط الاعتبار احادیث کے اسباب ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”والسَّبَبُ أنّہ قَلَّ اشْتِغَالُھم بِصنَاعَةِ الحَدِیث، وأنّھم اعْتَمَدُ وا علی المشہورفي الألْسِنَة مِنْ تَحْسِیْنِ الظَّنّ بالمُسْلِم وأنَّھم انْخَدَعُوا بالکُتُب الغَیرِ المُنَقَّحَةِ الحَاوِیَةِ لِلرَّطْبِ والیَابِسِ،وأنَّہ لم یَبْلُغْھُم وَعِیدُ التَّھَاوُنِ في روایةِ الحَدِیثِ، وأیضاً منھم مَنْ یَعْتَمِدُ علی کُلِّ ما أسْنِدَ مِنْ غَیرِ قَدْحٍ وتَعْدِیلٍ في الرُّوَاة“․
”(اِن کتب میں رطب ویابِس احادیث کی) وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں کے مصنّفین فنِ حدیث سے کم اِشتغال رکھتے ہیں، اور مسلمان سے حسن ظن رکھتے ہوئے، زبان زَد عام روایتوں پر بھروسہ کر لیتے ہیں (حا لانکہ ایسا اعتماد صرف ماہرِ فن پر ہی کیا جاسکتا ہے، نہ کہ حدیث میں کم اشتغال رکھنے والے پر) اور یہ مصنّفین رطب ویابس پر مشتمل، غیر منقّح کتابوں سے دھوکے میں پڑجاتے ہیں، اور (ان کے بارے میں یہی حسنِ ظن ہے کہ) ان مصنّفین کو حدیث نقل کرنے میں تہاون (حقیر سمجھنا) کی وعید نہیں پہنچی ہوگی، اور بعض مصنّفین سند کے راویوں کی جرح وقدح دیکھے بغیر، ہر سند والی روایت پر اعتمادکرلیتے ہیں“۔
اسبابِ تکاسل کا جائزہ:
دراصل علامہ عبدالعزیز فرہاروی رحمۃ اللہ علیہ نے جن کتبِ حدیث و تفسیر وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے،یہ کتب برصغیر میں مُتَدَاول اور مُرَوّج ہیں اور ان کتابوں کے موٴلفین کی جلالت اور علوّشان بلا شبہ مُسَلَّم ہے؛ لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اِن موٴلفین کافنِ حدیث میں اشتغال ناقص رہا ہے؛ چنانچہ صاحبِ کتاب کی یہ کمزوری عوام میں بھی سرایت کرتی رہی اور احادیثِ موضوعہ معاشرے میں پھیلتی رہیں، بہرحال ذَیل میں ہم مولانا عبدالعزیز فرہاروی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ نِکات اور ان سے ماخوذ نتائج کا جائزہ لیتے ہیں۔
فنّ حدیث میں اشتغال کی کمی:
ان مصنّفین کی تالیفات میں رَطب و یابس روایات کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان موٴلفین نے علومِ حدیث سے ایسا اشتغال نہیں رکھا، جس سے ان میں اُصولِ حدیث کے مطابق، حدیث کے ردّو قبول کا مَلَکَہ اور اسے پرکھنے کی قابلیت پیدا ہو جاتی،حتی کہ ہمارے زمانے میں بھی مُعتَد بہ تالیفات اس بات کی مقتضی ہیں کہ ان کے موٴلفین احادیث کے معاملے میں محض تحویل (حوالہ دینا) پر اکتفا نہ کریں؛ بلکہ حسبِ ضرورت اس بات کا پورا اطمینان حاصل کریں کہ یہ حدیث، معتبر سند سے ثابت ہے۔
محض حسنِ ظن کی بناء پر، روایات پر اعتماد:
ان کتابوں میں باطل اور بے اصل روایتوں کے شُیوع کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ مصنّفین ہر مسلم کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے تھے،اور زبان زَد عام روایتوں کو حسنِ ظن کی بناء پر بلاتحقیق قبول کرلیتے تھے۔
واضح رہے کہ اس مقام پر مولانا عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے حدیث میں اعتماد کا مدار صرف ماہرینِ فن ہیں؛چنانچہ اگر کوئی شخص صناعتِ حدیث میں مہارت نہیں رکھتا ہو، توایسے شخص پر بلا تحقیق حسنِ ظن سے اعتماد نہیں کیا جاسکتا (۶)۔
تہاونِ حدیث پر وعید سے نا آشنائی:
ان کتب میں قابلِ رَدّ مواد کی تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات تہاونِ حدیث (یعنی رِوایتِ حدیث میں پوری احتیاط سے کام نہ لینا) کی وعیدوں سے واقف نہیں ہوں گے، بلاشبہ ان حضرات کی عُلوّ شان اسی حسنِ ظن کی مقتضی ہے؛البتہ اس تہاون سے اجتناب کی اہمیت اپنی جگہ ہے، خاص طور پر عوامی حلقوں میں اس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے کہ ملّت اسلامیہ کا ہر فرد یہ محسوس کر رہاہو کہ میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات ہرگز منسوب نہ کروں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو؛ تاکہ مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً․․․․․․ کا مصداق بننے سے بچ جاوٴں،ورنہ یہی تہاون نہ صرف غیر مستند روایات کو پھیلانے میں کام آتا ہے؛ بلکہ اِن روایتوں کو تحفّظ بھی فراہم کرتا ہے۔
تحقیق کا فقدان:
ان تالیفات میں جو احادیث مُسنَد (سند والی روایات) تھیں، ان میں اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ فن جرح و تعدیل کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا جائے؛ تاکہ قابلِ احتراز روایتیں ظاہر ہوجاتیں۔
ایک اہم فائدہ:
اگر ہم بھی اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ علم الروایہ (علمِ حدیث) میں ہمارا منتہیٰ صرف سندِ حدیث پانا ہے، اس کے بعد ہم کسی چیز کی ضرورت محسوس نہیں کرتے؛ حالانکہ صاحبِ کتاب سند بیان کرکے ایک حد تک اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجاتا ہے، اب اگلا مرحلہ ہم سے متعلق ہے کہ ہم حسبِ ضرورت، متقدمین اصحاب ِتخریج اور ائمہٴ علل کی جانب رجوع کریں، اور روایات کے قابل تحمّل (روایت لینا) ہونے کا پورا اطمینان حاصل کریں۔
حاصل کلام:
سابقہ اسبابِ تکاسل خطہٴ ہند-پاک میں موضوعات کی اشاعت اور ان کی ترویج میں انتہائی موٴثر رہے ہیں؛ بلکہ اگر ان اسباب کے سدّ باب کے لئے اکابر کے طرز پر عملی اِقدامات جاری رکھے جائیں تو کافی حد تک اس ساقط الاعتبار ذخیرے کی روک تھام ہوسکتی ہے۔
من گھڑت اور ساقط الاعتبار روایات کے سدِّ باب میں علماء ہندوپاک کی خدمات:
سابقہ اقتباسات سے ہمیں من گھڑت روایات کی اِشاعت میں ملوث بہت سے گروہوں اور طبقات کا بخوبی علم ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ ان کی اغراض، اَفکار، اورطریقہٴ کار بھی وضاحت سے سامنے آگئے،لیکن واضح رہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہوا کہ عمائدینِ اُمت نے اس فتنے کے سدّباب کے لیے اپنی خدمات پیش نہ کی ہو؛ بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ برّ صغیرپر ایسے شب وروز بھی آئے ہیں، جن میں صیانتِ حدیث کا تاج، علماء برّصغیرکے سر رہا ہے؛ چنانچہ علامہ زاہدالکوثری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”دسویں صدی ہجری کے نصف آخر میں جب کہ علمِ حدیث کی سر گر میاں ماند پڑ گئی تھیں،برّصغیر میں یہ سر گر میاں عروج پر تھیں“ (۷)۔
گویا کہ یوں کہنا چاہیے کہ اس وقت عالمِ اسلام کی سربراہی کی سعادت برِصغیر کو حاصل رہی ہے، بہر حال یہاں ہم اُن چند مشہور مشایخ کا مختصر تذکرہ کریں گے، جنہوں نے زبان زَد عوام و خواص، روایات کی حقیقت واضح کی، اور ذخیرہٴ احادیث میں تنقیح کی خدمات انجام دیں۔
۱- امام رضی الدین ابوالفضائل الحسن بن محمد رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۵۷۷ھ)
آپ کی تالیف ”الدُّ رَرُ المُلْتَقَط“ اور ”رسالة موضوعات الصَّغَانِی“ کا شمار فن ہذا کے اوّلین مصادر میں ہوتا ہے۔مشتہرات پر مشتمل شاید ہی کوئی کتاب موصوف اقوال سے خالی ہو۔
۲- ملک المحدّثین علامہ محمد طاہر صدیقی پٹنی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۹۸۶ھ)
آپ نے اس فن میں ”تذکِرةُ الموضوعات“ اور ”قانون الموضوعات“ لکھیں، بلاشبہ مشتہرات کا یہ مجموعہ ایک انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے۔
۳-امام علامہ سید محمد بن محمد حسینی زَبِیدی الشہیر بمرتضی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۱۲۰۵ھ)
آپ نے ”إتَّحاف السَّادَة المُتَّقِین“ میں ”إحیاء علوم الدین للغزالي“ کی احادیث پر، تخریج و تشریح میں محدثانہ شان کا مظاہرہ کیا ہے، اہل علم کا طبقہ اس سے مستغنی نہیں رہ سکتا۔
۴- امام عبدالعزیز بن احمد فرہاروی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۱۲۳۹ ھ):
آپ نے تقریباً ۲ ہزار موضوع اور زبان زَد عام روایتوں پر مشتمل مجموعہ تیار کیا ہے، فی الحال یہ مخطوطہ ہے۔ آپ کے بارے میں مولانا موسیٰ خان روحانی بازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر میں اس بات پر قسم کھاوٴں کہ اللہ تعالیٰ نے سرزمینِ پنجاب کو جب سے وجود بخشا ہے، ان جیسی کسی دوسرے شخصیت نے یہاں جنم نہیں لیا، تو میں حانث نہیں ہوں گا(۸)۔
۵- علامہ ابوالحسنات محمد عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۱۳۰۴ ھ):
آپ کی شخصیت اور حدیثی خدمات، محتاج تعریف نہیں ہے، اس فن میں آپ نے ”الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة“ کے نام سے یادگار چھوڑی ہے۔
۶- حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی۱۲۸۰ھ/۱۳۶۲ ھ)
آپ امراضِ امت کی پہچان اور اس کے علاج میں وَہْبی بصیرت رکھتے تھے، آپ نے مُتَدَاوَل من گھڑت، بے اصل روایتوں کا سدّباب عملاً بھی کیا اور عوام کو بھی اس سے اجتناب کی طرف توجہ دلائی؛ چنانچہ بہشتی زیور، حصہ دہم میں یہ عنوان قائم کیا ہے: ”بعضی کتابوں کے نام جن کے دیکھنے سے نقصان ہوتا ہے.“ اس عنوان کے تحت ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
”دعا گنج العرش، عہد نامہ یہ دونوں کتابیں اور بہت سی کتابیں ایسی ہیں کہ ان کی دعائیں تو اچھی ہیں؛ مگر ان میں جو سندیں لکھی ہیں، اور ان میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے لمبے چوڑے ثواب لکھے ہیں، وہ بالکل گھڑی ہوئی باتیں ہیں“ (۹)۔
اسی طرح حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اس بات سے بھی بخوبی واقف تھے کہ سلوک و تصوّف کی مجالس میں ایک معتد بہ تعداد بے اصل روایتوں کی ہیں؛ چنانچہ آپ نے ”التَشَرَّفُ بِمَعْرِفَة أحَادِیثِ التَّصَوُّف“ میں ایسی بہت سی روایات پر روایتی اور درایتی پہلوٴوں سے بحث کی ہے جو درجہٴ اعتبار سے ساقط ہیں۔
ایک اہم التماس:
یہ مختصر اور محدود مقالہ اس کی مزید گنجائش رکھنے سے قاصر ہے کہ ہم اکابرینِ ہند-پاک کی متعلقہ موضوع میں تاریخی خدمات سے تفصیلی بحث کریں؛ البتہ اگر کوئی فرد علامہ عبدالحی الحَسَنی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف”نزہة الخواطر وبہجة المسامع والنّواظر“ کو سامنے رکھ کر ان محدثینِ کرام کی خدمات کو جمع کرے، جنہوں نے باطل اور من گھڑت روایتوں کا تعاقب کیا ہے، تو یہ کام نہ صرف ہمارے اسلاف کے منہج کی جانب رہنمائی کرے گا بلکہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے اُن مخطوطات کی جانب بھی رہنمائی کرے گا جو آج دِیمک اور گرد وغبار سے تحلیل ہوتے جارہے ہیں، بلاشبہ نت نئی تحقیقات، شروحات، تسہیلات وغیرہ ناگزیر تالیفات ہیں؛ لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ آج جن مخطوطات کو ہم محفوظ کرسکتے ہیں، کل ان کا نام ”حَسَراتِ زمانہ“ کی فہرست میں شامل کردیا جائے.
--------
حوالہ جات اور مآخذ:
(۱) الجامع الصحیح للبخاري: باب إثم من کذب علی النبيﷺ ۱/۳۳، رقم الحدیث: ۱۰۷،ت: محمد زھیر بن الناصر، دار طوق النجاة․ بیروت، الطبعة الأولی۱۴۲۲ھ․
(۲) اللآلي المصنوعة:ص:۳۵، ت: محمد عبدالمنعم رابح، دارالکتب العلمیة․ بیروت،الطبعة الثانیة ۱۴۲۸ھ․
(۳) الدُرَرُ الملتقظ: بحوالہ مجلّہ ”فکر ونظر“، ص:۷۶، خصوصی اشاعت، ربیع الأول شعبان ۱۴۲۶ھ، ادارہ تحقیقات اسلامی بین الأقوامی، اِسلامي یونیورسٹی، اسلام آباد، پاکستان․
(۴) الآثار المرفوعة: ص: ۱۲، دارالکتب العلمیة بیروت․
(۵) کوثر النَّبِیّ وزُلَالُ حَوْضِہ الرَّوِي (فن معرفة الموضوعات): ص: ۱۰۸، المخطوط، نَسَخَہ العلامة عبدالله الوَلْہَارِي (۱۲۸۳ھ)․
(۶) الآثار المرفوعة: ص: ۱۹، دارالکتب العلمیة بیروت․
( ۷) مقالات الکوثري:ص:۶۷، دارالسلام مصر، الطبعة الثانیة ۱۴۲۸ھ․
(۸) بغیة الکامل السامي في شرح المحصول والحاصل للجامي: ص: ۲۲۷، مکتبة مدینة بلاہور باکستان، الطبعة الخامسة ۱۴۱۴ھ․
(۹) بہشتی زیور: ص: ۷۰۴، حصہ دہم، دارالإشاعت، ایم اے جناح روڈ، اردو بازار کراچی․ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post_11.html

مناجاتِ انبیاء: قرآن کریم میں مذکور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مقبول دعائیں کیا ہیں؟

 مناجاتِ انبیاء: قرآن کریم میں مذکور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مقبول دعائیں کیا ہیں؟؟؟

مولانا محمد عمر انور بدخشانی

حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے مقرب، برگزیدہ اور مستجاب الدعوات بندے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں سنتے اور قبول کرتے ہیں۔ لوگوں میںسب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر آتی ہیں۔ آزمائش کی گھڑیوں میں ان کا طرزِعمل کیا ہوتا ہے؟ وہ اللہ کی طرف کیسی عاجزی کے ساتھ رجوع کرتے ہیں؟ ان کے دل سے کیا دعاء نکلتی ہے؟ ان کا عزم اور یقین کس قدر مضبوط ہوتا ہے؟ سخت سے سخت امتحانات میں بھی ان کی تمام تر امیدیں اللہ تبارک وتعالیٰ سے کس طرح وابستہ رہتی ہیں؟ وہ اپنی نگاہ اور توجہ ظاہری اسباب کی بجائے خالق اسباب کی طرف ہمیشہ کیسے مرکوز رکھتے ہیں؟ یہ سب کچھ ہمیں قرآن کریم بتاتا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’إِنَّہُمْ کَانُوْا یُسَارِعُوْنَ فِیْ الْخَیْرَاتِ وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّرَھَبًا وَکَانُوْا لَنَا خَاشِعِیْنَ۔‘‘ (الانبیاء: ۹۰) 

ترجمہ:’’یقینا یہ لوگ (انبیاء) بھلائی کے کاموں میں تیزی دکھاتے تھے، اور ہمیں شوق اور رغبت کے عالم میں پکارا کرتے تھے، اور ان کے دل ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔‘‘     

عموماً لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ تو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام تھے، اللہ تعالیٰ کے مقرب اور برگزیدہ بندے تھے، ان کی دعا تو لازمی سنی جائے گی اور قبول بھی ہوگی، جبکہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے عام بندے ہیں اور گناہ گار بھی ہیں، ہماری دعائیں کہاں اور کیسے قبول ہوں گی؟ اس طرح کی سوچ رکھنا درحقیقت یہ وسوسہ اور مایوسی ہے جو شیطان کی طرف سے ہے، اللہ تعالیٰ نے واضح اور صاف الفاظ میں اس وسوسہ اور مایوسی کو ختم کیا اور ارشاد فرمایا: 

’’وَ إِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَإِنِّیْ قَرِیْبٌ أُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ۔‘' (البقرۃ: ۱۸۶) 

ترجمہ :’’اور (اے پیغمبر!) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (آپ ان سے کہہ دیجیے کہ) میں اتنا قریب ہوں کہ جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں، لہٰذا وہ بھی میری بات دل سے قبول کریں، اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ راہِ راست پر آجائیں۔‘‘     

انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اس سے مانگا جائے تو اس پر گراں گزرتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ سے اگر نہ مانگا جائے تو وہ ناراض ہوتا ہے، گویا عطائے خداوندی خود سائلوں کی تلاش میں رہتی ہے، اور گویا اس شعر کا مصداق ہوتی ہے کہ:  ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں. اللہ تعالیٰ تو بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں، البتہ دعا مانگنے کا طریقہ آنا چاہئے اور مذکورہ آیت کریمہ میں اس کی دو شرطیں بیان کی گئی ہیں:   

۱- مانگنے والا میرا حکم ماننے والا ہو۔         

۲- اس کا ایمان اور یقین کامل ہو۔     

ظاہر ہے کہ جب ہم کسی سے سوال کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر اس کی بڑائی، طاقت اور قدرت ضرور ہوتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہوئے اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعا کو سن رہا ہے اور وہ اس کو قبول بھی ضرور کرے گا۔ ایک حدیث میں آتا ہے: 

’’اللہ تعالیٰ اس درجہ باحیا اور کریم ہے کہ وہ کسی دعا کرنے والے کو خالی ہاتھ واپس نہیں کرتا۔‘‘ اس لئے ہمیشہ یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ اگر ہماری مانگی گئی دعا فوراً قبول نہیں ہوئی تو یقیناً اس میں انسان کی بہتری ہوگی، کیونکہ انسان خود اپنی بھلائی کو جانچ نہیں سکتا۔ قرآن‘ خالق کا بندے سے ہم کلام ہونے کا نام ہے تو دعا بندے کا اپنے خالق سے ہم کلام ہونے کا نام ہے۔ اور یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رہنی چاہیے کہ یہ بھی کوئی ضروری نہیں کہ ہم جو دعا مانگیں وہ ہر حال میں قبول ہو، بلکہ احادیث طیبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کی شرائط وآداب کو بجالاتے ہوئے مانگی ہوئی کوئی دعا کبھی رائیگاں نہیں جاسکتی، بلکہ اللہ تعالیٰ وہ دعا کسی اور شکل میں ضرور قبول فرمالیتے ہیں، کیونکہ دعا کی قبولیت کی مختلف صورتیں ہیں:     ۱- دعا کا فوراً قبول ہوجانا۔     

۲- مطلوبہ دعا کا عرصہ بعد قبول ہونا۔     

۳- مطلوبہ دعا کی بجائے اس سے بہتر صورت میں قبول ہوجانا۔     

۴- آنے والی مصیبت کو دور کردیا جانا۔     

۵- دعا کو آخرت کے لئے ذخیرہ کردیا جانا۔     

ایک حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بندے کی دعا ہمیشہ شرفِ قبولیت سے نوازی جاتی ہے، بشرطیکہ وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے، اور جلدی نہ کرے ۔ عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! جلدی کرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یہ کہ وہ کہے میں نے تو بہت دعا کی ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوگی، پھر وہ مایوس ہو کر دعا ترک ہی کردے۔‘‘ (صحیح مسلم)     

ذرا سوچئے! اللہ تعالیٰ کا کلام ہو اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دعا ہو تو بھلا وہ کیونکر قبول نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میںاپنے محبوب بندوں - انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام - کی مقبول دعائیں ذکر کرکے گویا ہمیں خود مانگنے کے گُر سکھائے ہیں، یقینا یہ تو عطا کرنے کے بہانے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اللہ کی رحمت کیا ہوگی کہ ہمیں یہ بھی سکھادیا کہ کس طرح محبت بھرے عاجزانہ الفاظ و کیفیات میں اپنے رب کے سامنے دستِ سوال دراز کرو، یہ سب یقینا اس لئے ہے کہ وہ اپنے بندوں کو نوازنا چاہتا ہے۔ جس وقت ہم دعا کرتے ہیں تو اپنے آپ کو ایک ایسی لامتناہی قوت اور طاقت ور ذات سے جوڑلیتے ہیں، جس نے اپنی قدرت سے فطرتاً ساری کائنات کی اشیا کو ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔ حضراتِ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے الفاظ کی نقل میں در اصل وہ گوہر حاصل کرنا ہوتا ہے جو اِن برگزیدہ ہستیوں کے الفاظ میں پنہاں ہوتا ہے۔ اسی گوہر کے باعث وہی الفاظ دہرانے والے کی دعا شرفِ قبولیت حاصل کر لیتی ہے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے کس طرح مشکلات میں اللہ تعالیٰ کو پکارا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی فریاد اور پکار کو سن کر کس طرح انہیں مشکلات سے نجات دی۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دعائیں درحقیقت انسانوں کو سیدھا راستہ دکھانے اور مالک حقیقی کے ساتھ صحیح ربط قائم کرنے کے طریقہ کی تعلیم ہے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سیرت کو اپناتے ہوئے ہمیں بھی ان دعاؤں کو حفظ کرکے روزمرہ کی زندگی میں تلاوت اور پڑھتے رہنا چاہئے۔ اس مضمون میں کوشش کی گئی ہے کہ قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ ہسے منقول دعاؤں پر ایک نظر ڈالی جائے اوران کی مختصر تشریح پیش کی جائے۔ حضرت آدم وحوا علیہم الصلوۃ والسلام کی طلب مغفرت ورحمت کی دعاء 

’’رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَـنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۔‘‘ (الاعراف: ۲۳) 

’’اے ہمارے پروردگار! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں، اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم نامراد لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔‘‘     

تشریح: حضرت آدم اور حوّا علیہم الصلوۃ والسلام نے- جب ان سے ایک لغزش ہوگئی تھی تو- معافی چاہنے کے لیے یہ دعا مانگی تھی، جو درحقیقت اللہ تعالیٰ نے ہی سکھائی تھی، اور ان کلمات کی وجہ سے وہ دعا جلدی سے قبول بھی ہوگئی۔ 

اعترافِ قصور:     

حضرت آدم وحوا علیہم الصلوۃ والسلام کوجیسے ہی تنبہ ہوا تو بے ساختہ ان پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو غلطی کے شدید احساس کے بعد طاری ہوتی ہے اورفوراً اپنے رب کو پکارتے ہوئے کہا کہ: اے ہمارے رب! ہم کوئی عذر پیش نہیں کرتے کہ ہم سے یہ غلطی کیوں سرزد ہوئی، ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے یہ حرکت کرکے آپ کی شان میں کوئی کمی نہیں کی، بلکہ اپنے نفس کا نقصان کیا۔ ہم نے غلطی کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا، اب ہم اپنی اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے آپ ہی سے دست بستہ پوری عاجزی کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ آپ ہماری اس غلطی کو معاف فرما دیں۔ ہم اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ آپ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں، آپ ہم پر رحم فرمائیں اور ہمارے گناہ کو معاف فرمادیں، اس لیے کہ آپ نے اگر ہمیں معاف نہ فرمایا تو پھر ہماری نامرادی اور خسارے میں کوئی کسر باقی نہیں رہ جائے گی۔ 

حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کے رویے میں امتیازی فرق:     

اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ گناہ شیطان سے بھی ہوا، جب اس نے سجدہ کرنے سے انکارکیا، لیکن اس نے بجائے عجز و اعتراف کے انکار و بغاوت کا راستہ اختیار کیا اور ہمیشہ کے لئے راندۂ درگاہ ہوگیا۔ اور لغزش حضرت آدم و حوا علیہم السلام سے بھی ہوئی، لیکن وہ فوراً اللہ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ جھک گئے۔ حضرت آدم و حوا علیہما السلام کا طرزوانداز ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہم اپنے اندر کبھی بغاوت وسرکشی کی جرأت پیدا نہ ہونے دیں، یہ ابلیس کا رویہ ہے۔ خدانخواستہ اگر کبھی کوئی غلطی ہوجائے یا معصیت کے راستے پر چل پڑیں تو تنبہ ہوجانے کے بعد فوراً توبہ کا راستہ اختیار کریں۔     

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کرنے کے لئے یہ الفاظ نہایت مناسب ہیں اور ان کے ذریعے توبہ قبول ہونے کی زیادہ امید ہے، کیونکہ یہ الفاظ خود اللہ تعالیٰ ہی کے سکھائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اگر ایک طرف شیطان کو مہلت دے کر اسے انسان کو بہکانے کی صلاحیت دی ہے جو اپنے اثر کے اعتبار سے انسان کے لیے زہر جیسی تھی تو دوسری طرف علاج کے طور پر انسان کو توبہ اور استغفار کا تریاق بھی عطا فرمادیا کہ اگر شیطان کے بہکاوے میں آکر وہ کبھی کوئی گناہ کر گزرے تو اُسے فوراً توبہ کرنی چاہئے. جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہو، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے، اس طرح شیطان کا چڑھایا ہوا زہر اترجائے گا۔ (آسان ترجمہ قرآن)     

جو شخص بھی اس آیت کو ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ پڑھ کر مغفرت کی دعا مانگے تو ان شاء اللہ تعالیٰ! اس کے گناہ معاف کردیے جائیںگے، کیونکہ یہ دعا حضرت آدم علیہ السلام کی ہے اور مقبول بھی ہوچکی ہے۔ (حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ) حضرت نوح علیہ السلام کی دُعائیں سواری پر سوار ہوتے وقت کی دعا: 

’’بِسْمِ اللّٰہِ مَجْــرٖیہَا وَمُرْسٰیہَا إِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔‘‘ (ھود: ۴۱) 

ترجمہ: ’’اس کا چلنا بھی اللہ کے نام سے ہے اور لنگر ڈالنا بھی۔‘‘ 

تشریح: طوفان کے وقت حضرت نوح علیہ السلام نے ایمان والوں کو اپنے ساتھ کشتی میں سوار ہونے کا حکم دیا اور سوار ہوتے ہوئے یہ دعا پڑھی، چنانچہ آپ کی کشتی جودی پہاڑ کی چوٹی پر لنگر انداز ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ یہ دعا میری امت کے لیے غرق ہونے سے اَمان کا موجب ہے۔ (تفسیر قرطبی) معنی یہ ہیں کہ اس کشتی اور سواری کا چلنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور اس کے نام سے ہے اور رُکنا اور ٹھہرنا بھی اسی کی قدرت کے تابع ہے،اگر انسان ذرا بھی عقل سے کام لے تو اس کو سائنس کی اعجوبہ کاری اور عروج کے اس زمانہ میں بھی اپنی بے بسی اور عاجزی ہی کا مشاہدہ ہوگا، اور اس اقرار کے بغیر نہ رہ سکے گا کہ ہر سواری کا چلنا اور رُکنا سب خالق کائنات حق تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے۔ دیکھنے میں تو یہ ایک دو لفظی فقرہ ہے، مگر غور کیجئے تو یہ کلید اور کنجی ہے‘ ایک ایسے دروازہ کی جہاں سے انسان اس مادی دنیا میں رہتے ہوئے روحانی عالم کا باشندہ بن جاتا ہے، اور کائنات کے ذرہ ذرہ میں جمالِ حق تعالیٰ کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے،یہیں سے مومن کی دنیا اور کافر کی دنیا میں فرق نمایاں ہوجاتا ہے، سواری پر دونوں سوار ہوتے ہیں، لیکن مومن کا قدم جو سواری پر آتا ہے وہ اس کو صرف زمین کی مسافت قطع نہیں کرواتا، بلکہ عالم بالا سے بھی روشناس کردیتا ہے۔ (معارف القرآن) لا علمی کی حالت میں سوال سے بچنے کی دعائے مغفرت ورحمت ’’رَبِّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ أَنْ أَسْئَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَتَرْحَمْنِیْ أَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ۔‘‘ (ہود: ۴۷)

 ’’میرے پروردگار!میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ آپ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائی اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا جو برباد ہوگئے ہیں۔‘‘ 

تشریح: حضرت نوح علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے کفر کا پورا حال معلوم نہ تھا، اس کے نفاق کی وجہ سے وہ اس کو مسلمان ہی جانتے تھے، اسی لیے اس کو اپنے اہل کا ایک فرد سمجھ کر طوفان سے بچانے کی دعا کر بیٹھے، ورنہ اگر ان کو حقیقت حال معلوم ہوتی تو ایسی دعا نہ کرتے۔ اصل حقیقت معلوم ہوجانے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے سوال پر اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ انداز میں استغفار اورطلب رحمت کی درخواست کی۔ سلسلۂ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول کی گئی، اللہ نے اس دعا کے نتیجے میں بطور قبولیت نزولِ برکت اور سلامتی کی بشارت دی، تاکہ ان کو تسلی ہوجائے۔ اس سے ایک مسئلہ یہ بھی معلوم ہوا کہ دعا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرلے کہ جس کام کی دعا کر رہا ہے، وہ جائز و حلال ہے یا نہیں؟ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ تفسیر روح المعانی میں بحوالہ قاضی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ نقل کیا ہے کہ جب اس آیت سے مشتبہ الحال کے لئے دعا کرنے کی ممانعت معلوم ہوئی تو جس معاملہ کا ناجائز و حرام ہونا معلوم ہو، اس کے لیے دعا کا ناجائز ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوگیا۔ اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسان سے اگر کوئی خطا سرزد ہوجائے تو آئندہ اس سے بچنے کے لیے تنہا اپنے عزم و ارادہ پر بھروسہ نہ کرے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے پناہ اور یہ دعا مانگے کہ یا اللہ! آپ ہی مجھے خطاؤں اور گناہوں سے بچا سکتے ہیں۔ آج کل کے مشائخ میں جو یہ عام رواج ہوگیا ہے کہ جو شخص کسی دعا کے لیے آیا اس کے واسطے ہاتھ اٹھا دیئے اور دعا کردی ،حالانکہ اکثر اُن کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس مقدمہ کے لئے یہ دعا کروارہا ہے اس میں یہ خود ناحق پر ہے یا ظالم ہے، یا کسی ایسے مقصد کے لیے دعا کرا رہا ہے جو اس کے لئے حلال نہیں، کوئی ایسی ملازمت اور منصب ہے جس میں یہ حرام میں مبتلا ہوگا ، یا کسی کی حق تلفی کر کے اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکے گا، ایسی دعائیں حالت معلوم ہونے کی صورت میں تو حرام و ناجائز ہیں ہی، اگر اشتباہ کی حالت بھی ہو تو حقیقتِ حال اور معاملہ کے جائز ہونے کا علم حاصل کیے بغیر دعا کے لیے اقدام کرنا بھی مناسب نہیں۔ (معارف القرآن) حقیقت بیانی پرجھٹلائے جانے کی صورت میں نصرتِ الٰہی کی دعا 

’’رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا کَذَّبُوْنِ۔‘‘ (المومنون:۲۶) 

ترجمہ: ’’یا رب!ان لوگوں نے مجھے جس طرح جھوٹا بنایا ہے، اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ 

تشریح: حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے آپ کی نبوت ورسالت کو تسلیم کرنے کے بجائے آپ کو اور آپ کی دعوتِ توحید کو جھٹلایا تواس وقت حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ سے مدداور نصرت کی دعا مانگی،حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں کشتی بنانے کا حکم دیا اور اس کے ذریعہ طوفان سے نجات عطا فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی سچا ہو اور لوگ اُسے جھٹلا رہے ہوں یا جھوٹا سمجھ رہے ہوں تو اُسے یہ دعاء کثرت سے مانگنی چاہئے ۔ فتح ، فیصلہ طلبی اور دشمنوں سے نجات کی دعا: 

’’رَبِّ إِنَّ قَوْمِیْ کَذَّبُوْنِ فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔‘‘ (الشعراء: ۱۱۷، ۱۱۸) 

ترجمہ: ’’میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے، اب آپ میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردیجیے، اور مجھے اور میرے مومن ساتھیوں کو بچالیجیے۔‘‘ 

تشریح: حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کے لوگوں کو حق کی طرف بلاتے رہے، مگر انہوں نے آپ کی بات نہ مانی،آپ کو جھٹلاتے رہے، حتیٰ کہ قوم والوں نے فیصلہ کیا کہ سب لوگ مل کر نوح کو پتھر ماریں، یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجائیں، ساڑھے نو سو برس سختیاں جھیل کر بھی قوم والے راہ راست پر نہ آئے توحضرت نوح  علیہ السلام نے خدا سے فریاد کی کہ اب ان بدبختوں کے مقابلہ میں میری مدد فرمایئے، کیونکہ بظاہر یہ لوگ میری تکذیب سے باز آنے والے نہیں ،چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے قوم کو طوفان سے ہلاک کرنے کا فیصلہ فرمایا اور مومنوں کے بچاؤ کی تدبیر ارشاد فرمائی ۔ حضرت نوح علیہ السلام کی مذکورہ دونوں دعاؤں سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو حق پر ہونے کے باوجود جب جھٹلایا گیا تو وہ مایوس نہیں ہوئے، بلکہ تکذیب کے باوجود اللہ کے حضور مدد اور نصرت کی دعائیں مانگتے رہے، نیز جب انسان سچا ہو اور صراطِ مستقیم پر ہو اور لوگ اُسے جھٹلارہے ہوں، تو اُسے گھبرانا نہیں چاہئے. انجام کار اللہ کی مدد اور نصرت ان شآءاللہ! شاملِ حال ہوگی۔ سفر، سواری اور نئے شہر میں حفاظت وبرکت کے لئے دعا 

’’رَبِّ أَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکًا وَّأَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ۔‘‘ (المومنون: ۲۹)

 ترجمہ: ’’رب !مجھے ایسا اترنا نصیب کر جو برکت والا ہو، اور تو بہترین اُتارنے والا ہے۔‘‘ 

تشریح: حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ جب کشتی میں سوار ہوجائیں تو پہلے ظالموں سے نجات ملنے پر اللہ کاشکر ان الفاظ سے ادا کریں: 

’’الْـحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰانَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔‘‘ (المومنون: ۲۸) 

’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی۔‘‘ پھر حضرت نوح علیہ السلام کو حکم ہوا یہ دعا پڑھیں:

 ’’رَبِّ أَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکًا وَّأَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ۔‘‘ (المومنون: ۲۹)

 یعنی کشتی میں اچھی آرام کی جگہ دے اور کشتی سے جہاں اتارے جائیں، وہاں بھی کوئی تکلیف نہ ہو، ہر طرح اور ہر جگہ تیری رحمت و برکت شامل حال رہے۔ (تفسیر عثمانی) حضرت علی رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ (تفسیر قرطبی) اس کو پڑھنے سے سواری تمام آفات سے محفوظ رہتی ہے اور نیز گھر میں پڑھنے سے چور، دشمن اور جن وغیرہ سے حفاظت رہتی ہے، جب کسی شہر میں داخل ہونے لگے تو اس آیت کو پڑھ لے، ان شاء اللہ تعالیٰ! وہاں خیر خوبی سے بسر ہوگی۔ (حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ) غلبہ ونصرت کے حصول کی دعا: 

’’فَدَعَا رَبَّہٗ أَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ۔‘‘ (القمر:۱۰)

 ترجمہ: ’’اس پر انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ میں بے بس ہوچکا ہوں، اب آپ ہی بدلہ لیجئے۔‘‘ 

تشریح: حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے جب ان کی تکذیب میں حد کردی اور جھوٹا اور مجنون کہا تو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے رب سے یہ دعا کی کہ:

’’أَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ‘‘ (القمر:۱۰)

’’میں بے بس ہوچکا ہوں، اب آپ ہی بدلہ لیجیے۔‘‘ چنانچہ اس دعا کی برکت سے حضرت نوح علیہ السلام اور ایمان والوں کو ان پر غلبہ نصیب ہوا،اور وہ لوگ طوفان میں غرق ہوکر تباہ وبرباد ہوئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی ایسے سنگین حالات سے گزرنا پڑا ہے کہ وہ خود کو مغلوب محسوس کرتے رہے ہیں، لیکن اس سے نہ ان کی استقامت میں کوئی فرق آیا اور نہ ان کے حوصلے پست ہوئے، بلکہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس سے نصرت کی دعا کی، اس دعامیں ان مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا سامان ہے جوحق پر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مغلوب پا رہے ہوں، بہرحال مغلوب ہونے کی حالت میں اس دعا کو کثرت سے مانگنا چاہیے۔ اپنی اور اپنے والدین نیز تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت کی دعا 

’’رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُوْمِنِیْنَ وَالْمُوْمِنٰتِ۔‘‘ (نوح: ۲۸) 

’’میرے پروردگار! میری بھی بخشش فرمادیجیے، میرے والدین کی بھی، اور ہر اس شخص کی بھی جو میرے گھر میں ایمان کی حالت میں داخل ہوا ہے اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی۔‘‘ 

تشریح: یہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا ہے، جو انہوں نے اپنے، اپنے والدین اور تمام مومنین ومومنات کے لیے مانگی تھی، سب سے پہلے اپنے لیے دعا کی، تاکہ یہ ظاہر ہو کہ انسان سب سے زیادہ خود اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا محتاج ہے، پھر اپنے والدین کے لیے دعا کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بعد انسان پر سب سے زیادہ احسان اس کے والدین کا ہے، والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا، ان کے ساتھ احسان کرنا ہے، اسلام کی یہی تعلیم ہے، اس کے بعد تمام مومنین کے لئے دعا کی، حضرت نوح علیہ السلام نے اس صراحت کے ساتھ دعا کی کہ جو شخص بھی میرے گھر میں مومن بن کر داخل ہوا اُس کی مغفرت فرما، ساتھ ہی انہوں نے عمومیت کے ساتھ تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی دعائے مغفرت کی۔ گویا دعا مانگنے کا طریقہ بھی سکھا دیا کہ مغفرت کی دعا کن الفاظ سے مانگی جائے، اور یہ بھی بتادیا کہ دعا میں خود غرضی یعنی صرف اپنی ذات کے لیے دعا نہ ہو، بلکہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے والدین اور پوری امت کے لیے بھی اللہ سے دعا کی جائے۔    (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post_59.html



وہ ‏کلمات ‏کیا ‏ہیں ‏جن ‏کے ‏ذریعے ‏دعا ‏قبول ‏ہوتی ‏ہے؟

وہ 
کلمات کیا ہیں
جن کے ذریعے دعا قبول ہوتی ہے؟؟؟

ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی دعائیں قبولیت کا درجہ پائیں. احادیث مبارکہ میں کچھ ایسے کلمات کا ذکر ہے جن کے ساتھ اللہ رب العزت دعاؤں کو شرف قبولیت بخشتا ہے. اسم اعظم کے وسیلے سے کی گئی دعا قبول ہوتی ہے.
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِاَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا اَحَدْ.
اے اللہ میں تجھ سے اس لئے مانگتا ہوں کہ تو اللہ ہے تیرے سوا کوئی الہ نہیں تو اکیلا ہے ے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ کسی سے جنا گیا اور اس کی برابری کرنے والا کوئی نہیں.
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِأَنَّ لَکَ الْحَمْدُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِیْکَ لَکَ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَام.
یا اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ ہر طرح کی حمد تیرے ہی لیے سزاوار ہے تیرے سوا کوئی الہ نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں تو احسان فرمانے والا ہے زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اے بزرگی اور بخشش کے مالک.
قبولیت دعا کے دیگر کلمات:
لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْن.
تیرے سوا کوئی الہ نہیں تو ہر خطا سے پاک ہے میں ظالموں میں سے ہوں.
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَحْدَہٌ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر. وَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ الَِّا بِاللّٰہِ رَبِّ اغْفِرْلِیْ.
جو شخص رات میں جاگے اور کہے:
اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں وہ ایک ہےاس کا کوئی شریک نہیں بادشاہی اس کے لیے ہے حمد کے لائق وہ ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے. اللہ پاک ہے حمد اللہ ہی کے لئے ہےاللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اللہ سب سے بڑا ہے نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کی طاقت اللہ کی توفیق سے ہی ملتی ہے. یقیناً یہ دعائیں ہمارے روزمرہ کے اذکار و ادعیاء میں شامل ہونی چاہیے- ان دعائوں کو یاد کر لیجیے یا اپنے پاس لکھ لیجیے تاکہ محفوظ ہوجائیں اور آپ باقاعدہ پڑھ سکیں. (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post_9.html

Friday, 8 October 2021

سیاسی حکمت عملی کی ضرورت

سیاسی 
حکمت عملی کی ضرورت
بقلم: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو مجموعہ اضداد بنایا ہے، یہاں روشنی بھی ہے اور تاریکی بھی، حرارت بھی ہے اور خنکی بھی، اس دنیا کو آگ کی بھی ضرورت ہے اور پانی کی بھی، مٹھاس کی بھی اور کڑواہٹ کی بھی، کائنات کی فطرت کے مطابق اللہ تعالی نے انسان کی زندگی اور اس کے احوال میں متضاد کیفیت رکھی ہے، انسان خوش بھی ہوتا ہے، اور غم سے بھی دوچار ہوتا ہے، یہی کیفیت اس کے دائرہ تعلقات میں بھی ہے،اس کے دوست بھی ہوتے ہیں اور دشمن بھی، اگر محبت کرنے والے اسے گلے لگاتے ہیں تو کچھ نفرت کرنے والے اس کے جیب وگریباں سے کھیلنے پر تُلے رہتے ہیں، اگر اس کو ان لوگوں سے سابقہ پیش آتا ہے جو عدل وانصاف کرنے والے ہیں تو وہ ایسے لوگوں سے بھی دوچار ہوتا ہے جو اس پر ظلم وزیادتی کو روارکھتے ہیں، انسان کو ان کے درمیان انتخاب سے کام لینا پڑتا ہے، وہ بلیوں کی تو اپنے گھر میں پرورش کرسکتا ہے سانپوں کی نہیں؛ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ بلیاں اس کے گھر سے چند لقمے ہی کھاسکتی ہیں؛ لیکن وہ سانپ کی طرح ڈسیں گی نہیں؛ اس لئے یہ بات انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے کہ اگر خیروشر میں ٹکراؤ ہو تو وہ خیر کی طرف لپکے اور شر سے اپنے آپ کو بچائے، اس کے برخلاف عمل وہی شخص کرسکتا ہے جو یا تو عقل سے محروم ہو یا حد درجہ کم عقل ہو۔
انسان کی عقل کا امتحان اس وقت ہوتا ہے، جب دو مضرت رساں اور نقصان دہ چیزیں اس کے سامنے ہوں اور اس کے لئے کوئی تیسرا راستہ نہ ہو، اسے گڑھے ہی کو منتخب کرنا ہو، چاہے وہ ایک چھوٹے گڑھے کو منتخب کرے، جس میں پھسل جانے کا اندیشہ ہو یا وہ ایک ایسی کھائی کا انتخاب کرے، جس کا انجام بظاہر ہلاکت کے سوا کچھ اور نہ ہو، اگر وہ آگ سے بچ نہیں سکتا، چاہے ایک چنگاری پر سے گزرے یا آگ کے شعلہ سے گزرکر جانا پڑے، تو وہ چنگاری کو گوارا کرلیتا ہے، ایسی صورت حال میں انسان کی عقل اور اس کی ترجیحی صلاحیت کا امتحان ہوتا ہے، اور ان حالات میں بہتر انتخاب ہی اصل میں حکمت ودانائی ہے۔ عربی زبان کے ماہرین نے لکھا ہے کہ حکمت کا لفظ ’’حکم‘‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی معاملہ کو درست رکھنے کے لئے کسی عمل کو روکنے کے آتے ہیں 
’’المنع للإصلاح‘‘ (مفردات القرآن: ۱۲۶) 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت سے نواز دیا ہو، اسے خیر کثیر عطاکیا گیا: 
وَمَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا (البقرۃ: ۲۶۹)
اللہ تعالیٰ نے (حضرت) لقمان (علیہ السلام) کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ان کو حکمت سے نوازا تھا: 
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ  (لقمان: ۱۲) 
دعوت دین کا کام بڑا اہم بھی ہے؛ نازک بھی ہے اور مصلحت کے ساتھ کرنے کا بھی؛ اس لئے خاص طور پر فرمایا گیا کہ اللہ کے دین کی طرف حکمت کے ساتھ بلایا کرو:  
اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (النحل: ۱۲۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو چمٹالیا اور دعاء دیتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! اسے حکمت سے نواز دیجئے: 
اللہم علمہ الحکمۃ (ترمذی: حدیث نمبر ۳۸۲۴) 
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ہی آدمی اصل میں رشک کے لائق ہیں، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالی نے حکمت سے نوازا ہو، وہ اس کے ذریعہ فیصلے کرتا ہو اور تعلیم وتربیت کی خدمت انجام دیتا ہو: 
آتاہ اللہ الحکمۃ فہو یقضی بہا ویعلمہا (بخاری: حدیث نمبر: ۷۱۴۱)
اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ جب کوئی فرد یا گروہ اللہ کی طرف سے حکمت ودانائی سے سرفراز ہوتا ہے تو وہ صحیح فیصلے کرپاتا ہے۔ اچھے اور برے حالات سے افراد بھی دوچار ہوتے ہیں، اور قومیں بھی دوچار ہوتی ہیں، کم درجہ کے دشمنوں اور بڑے دشمنوں سے افراد کو بھی سابقہ پیش آتا ہے اور ملتوں کو بھی، انفرادی زندگی میں تو عموما انسان کا رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ کم تر نقصان کو گوارا کرلے اور بڑے نقصان سے اپنے آپ کو بچائے رکھے؛ لیکن اجتماعی زندگی میں بسا اوقات ایسے فیصلہ میں قو می جذبات حارج ہوجاتے ہیں، اور بعض تکلیف دہ واقعات انسان کو اس درجہ متاثر کردیتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے میں حکمت ومصلحت کے پہلو کی رعایت نہیں کرپاتا، پھر اس کے نقصانات اتنے دوررس ہوجاتے ہیں کہ ان کی تلافی دشوار ہوجاتی ہے، تاریخ میں تو اس کی بہت سی مثالیں ہے؛لیکن خود ہندوستان کی حالیہ تاریخ میں بھی اس کی کئی مثالیں مل سکتی ہیں، جیسے ہندوستان کی تقسیم کا مسئلہ، اس وقت برصغیر میں علماء کی بڑی تعداد کا خیال تھا کہ متحدہ ہند وستان ہی مسلمانوں کے مفاد میں ہے، ملک کی تقسیم ملک کو بھی نقصان پہنچائے گی اور مسلمانوں کو خاص طور پر اس سے نقصان پہنچے گا، مگر لوگ جذبات کی رو میں بہہ گئے، انہوں نے علماء پر لعن طعن شروع کردیا، اور انہیں اکثریتی فرقہ کا ایجینٹ ٹھہرایا گیا، اکثریت میں جو فرقہ پرست اور چالاک لوگ تھے، انہوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ مسلمانوں کو چھوٹا سا ہوم لینڈ دینے میں ہندو اکثریت کی بھلائی ہے؛ کیونکہ وہ طویل عرصہ سے محکومانہ زندگی گزارتے رہے ہیں، اب انہیں ایک بڑا خطہ حاصل ہوجائے اور وہ پوری مطلق العنانی کے ساتھ حکومت کرسکیں گے، بہرحال ملک تقسیم ہوا اور ہزاروں لوگوں کی جانیں گئیں، ان میں مسلمان بھی تھے اور ہندو بھی، اور ظاہر ہے کہ کسی بھی بے قصور مارے والے انسان کی ہلاکت قابل افسوس ہے؛ لیکن بہرحال ایسے مظلوموں میں غالب اکثریت مسلمانوں کی تھی، اس تقسیم کی سزا آج تک ہند وستان کے مسلمان بھگت رہے ہیں، اس کے نتیجہ میں جو ملک حاصل ہوا، وہ ایسا کہ پچیس ہی سال میں دو ٹکڑے ہوگیا اور جو کچھ بچاکچا حصہ موجود ہے، وہ خود اندر سے ٹوٹ رہا ہے، اور پوری دنیا میں بدنامی اور رسوائی کا عنوان بنا ہوا ہے۔
ہندوستان کی بعض مسلم ریاستیں ۱۹۴۸ تک موجود تھیں، قومی سطح کے بعض مسلم قائدین نے حکومت ہند کو اس بات پر آمادہ کرلیا تھا کہ وہ چند چیزوں میں اشتراک کے ساتھ اس مسلم ریاست کو باقی رہنے دے، ریاست کے حکمراں بھی اس کے حق میں تھے؛ کیونکہ مستقبل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ ایک ایسا ملک جس کے پاس تربیت یافتہ فوج نہ ہو، ہتھیار کا ذخیر ہ نہ ہو، دوست ملک سے رابطہ نہ ہو، اور فضائیہ اور بحریہ نہ ہو، وہ بڑی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا؛ اس لئے انہوں نے صلح کا راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دی؛ تاکہ خوں ریزی سے بچا جاسکے اور پُرامن طریقہ پر مسئلہ حل ہوجائے؛ لیکن کچھ جذباتی لوگوں نے قوم کو ورغلایا اور ایسے دعوے کرنے لگے جوان کی طاقت سے باہر تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ ملک بھی ختم ہوا اور بے شمار مسلمان، مرد و عورت، بوڑھے بچے تہ تیغ کردئیے گئے، ممکن ہے کہ اس طرح کے فیصلے پورے جذبۂ خلوص کے ساتھ کئے گئے ہوں؛ لیکن یقیناً یہ حکمت ومصلحت اور تدبر کے تقاضوں کے خلاف تھے اور ان کا جو نقصان ہونا تھا، وہ ہوا۔ اب اس وقت ہندوستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے اور وطن عزیز میں اس وقت مقابلہ خیر وشر اور نیکی وبدی کا نہیں؛ بلکہ دو برائیوں کاہے اور ان دو میں سے کم تر برائی کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے، ان حالات میں مسلمانوں کو گہرے تجزیہ کے ساتھ کام کرنے اور فہم وفراست کے ساتھ قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، مسلمانوں کو ایسی علاقائی اور قومی سیاسی جماعتوں سے معاہدہ کی بنیاد پر معاملات طے کرنے چاہئیں، جن کو کم سے کم سیکولر ہونے کا دعوی تو ہو، ایک واضح ایجنڈے کے ساتھ ان سے گفت وشنید ہونی چاہئے، یہ گفتگو خفیہ بھی ہوسکتی ہے. اگر ذرائع ابلاغ میں ایسی خبر وں کا آنا نقصان دہ ہو، اور اندیشہ ہوکہ فرقہ پرست طاقتیں اس کو بہانہ بناکر برادران وطن کو اکسائیں گی، اور اپنے ووٹ بینک کو بڑھانے کے لئے اِس کا استعمال کریں گی، حکمت کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ فرقہ پرست طاقتو ں کو تقویت پہنچانے کے دو طریقے ہوسکتے ہیں، ایک علانیہ طور پر ان کی تائید ہے اور بدقسمتی سے بعض مسلمان قائدین مودی کی حمایت میں بیانات بھی دے رہے ہیں، جس کو بے ضمیر ی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے؟ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جہاں ایک فرقہ پرست پارٹی کا مقابلہ براہ راست کسی سیکولر پارٹی سے ہو، وہاں سیکولر پارٹی کی مخالفت میں مہم چلائی جائے، اس سے غیرمحسوس طریقہ پر فرقہ پرستوں کو تقویت حاصل ہوگی اور ان کا خواب شرمندہ تعمیر ہوجائے گا۔ ہمارے ملک میں کثیر جماعتی جمہوریت کا نظام رکھا گیا ہے، یہ طریقہ عوام کے حق میں بہتر ہوتا ہے؛ کیونکہ ان کو دو سے زیادہ اختیار حاصل ہوتا ہے؛ لیکن بدقسمتی سے اس وقت عملا ہمارا ملک دو جماعتی طرزحکمرانی کی طرف جارہا ہے، کمیونسٹ پارٹیوں کے زوال کی وجہ سے تیسرا محاذ نہایت کمزور ہے اور مستقبل قریب میں اٹھ کھڑے ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا، ان حالات میں مسلمانوں کو نہایت حکمت اور تدبر سے کام لیتے ہوئے قدم اٹھانا چاہئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ علم وحکمت کی بات یہ نہیں ہے کہ آدمی شر کے مقابلہ میں خیر کو اختیار کرلے؛ بلکہ دانائی یہ ہے کہ جہاں دو برائیوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے پر انسان مجبور ہو، وہاں کمتر برائی کا انتخاب کرکے بڑے نقصان سے اپنے آپ کو بچالے، ایسی حالت میں جبکہ ہندوستان کے سیاسی افق پر فرقہ پرستی کی سیاہ گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں، اگر ہم نے فراست ایمانی اور نوربصیرت سے کام نہیں لیا اور جذبات، ردعمل اور نعروں میں بہہ گئے تو اس سے دوررس نقصانات کا اندیشہ ہے، ضرورت ہے کہ مسلمان قائدین ورہنما پارٹیوں کی وفاداریوں سے نیز حقیر اور وقتی سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر ملت کے مفاد میں اتحاد واجتماعیت کے ساتھ کام کریں اورسفینۂ ملت کو بھنور سے نکالنے کی مخلصانہ کوشش کریں۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
http://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post.html?m=1