Saturday, 4 July 2020

سچے اور متقی لوگ کون ہیں؟

سچے اور متقی لوگ کون ہیں؟
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم 
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ  قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ  وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ  ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ  اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ  وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾  سورہ البقرۃ آیت نمبر 177
ترجمہ: نیکی بس یہی تو نہیں ہے کہ اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف کرلو، (١٠٨) بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر اور اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لائیں، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کروانے میں خرچ کریں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جب کوئی عہد کرلیں تو اپنے عہد کو پورا کرنے کے عادی ہوں، اور تنگی اور تکلیف میں نیز جنگ کے وقت صبر و استقلال کے خوگر ہوں۔ ایسے لوگ ہیں جو سچے (کہلانے کے مستحق) ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں۔
تفسیر: 108: روئے سخن ان اہل کتاب کی طرف ہے جنہوں نے قبلے کے مسئلے پر بحث و مباحثہ اس انداز سے شروع کر رکھا تھا جیسے دین میں اس سے زیادہ اہم کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ قبلے کے مسئلے کی جتنی وضاحت ضروری تھی وہ ہوچکی ہے، اب آپ کو دین کے دوسرے اہم مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے اور اہل کتاب سے بھی یہ کہنا چاہئے کہ قبلے کے مسئلے پر بحث سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ اپنا ایمان درست کرو اور وہ صفات پیدا کرو جو ایمان کو مطلوب ہیں، اس سلسلے میں آگے قرآن کریم نے نیکی کے مختلف شعبے بیان فرمائے ہیں اور اسلامی قانون کے محتلف احکام کی وضاحت کی ہے جو ایک ایک کرکے آگے آرہے ہیں۔ آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی
----------------------
لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ  قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ
نیکی بس یہی تو نہیں ہے کہ اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف کرلو، (١٠٨) بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ
مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ 
اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر اور اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لائیں،
وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ  وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ  ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ 
اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کروانے میں خرچ کریں،
وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ  اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ  وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ
اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جب کوئی عہد کرلیں تو اپنے عہد کو پورا کرنے کے عادی ہوں، اور تنگی اور تکلیف میں نیز جنگ کے وقت صبر و استقلال کے خوگر ہوں۔
 اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾  سورہ البقرۃ آیت نمبر 177
 ایسے لوگ ہیں جو سچے (کہلانے کے مستحق) ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں۔
(ایس اے ساگر)
-----------------------------------------------------------------
http://saagartimes.blogspot.com/2020/07/blog-post_4.html?m=1


Thursday, 2 July 2020

'دل سے فتوی لو' سے کیا مراد ہے؟

'دل 
سے فتوی لو' 
سے کیا مراد ہے؟ 

حدیث پاک میں کہا گیا ہے کہ نیکی اور برائی، خیر اور شر اور معروف اور منکر کے درمیان تمیز کرنے کے لئے تم اپنے نفس اور اپنے دل سے فتاوی طلب کرو تو تم خود ہی راہ حق تک رسائی کرلوگے، کیونکہ جس نے ایسا کیا وہ تلاش حق کی راہ میں درجہ کمال کو پہنچ گیا، اور وصال کی آنکھ سے وصول کو اپنے قلب تک طلب کرلیا، اس لئے کے انسان  خیر کی راہ پر چلنا باطنی طاقت کی وجہ سے ہوتا ہے گرچہ ظاہر سے اسے تقویت ملتی ہے، اور ایسا اس لئے ہے کہ ظاہری جسمانی بناوٹ کا نفس اور قلب کی نیکی اور بھلائی کی طرف چڑھنے اور قلبی طاقت کے ظاہر کی طرف آنے کے درمیان ایک خاص تعلق ہے، حکیم الامت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "حدیث شریف میں ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”الا ان التقویٰ ھھنا، وأشار الی صدرہ“․ یاد رکھو! تقویٰ اس جگہ ہے اور اپنے قلب کی طرف اشارہ فرمایا۔ یعنی تقویٰ (اللہ تعالیٰ سے ڈرنا) افعال قلوب سے ہے۔ (التقویٰ ص:18) #
        کسی سے میں یہ کیوں پوچھوں تصوف کس کو کہتے ہیں
        خود اپنے دل کو دیکھا اور کہا کہ اس کو کہتے ہیں
حدیث شریف میں ہے ”استفت قلبک ولو افتاک المفتون“ (اپنے دل سے فتویٰ لو، اگرچہ مفتی بھی فتویٰ دے دیں) یعنی باطنی مفتی کے خلاف ظاہری مفتی کا قول نہ لیا جائے، بلکہ فتوے کے ساتھ اپنے دل کو دیکھو کہ وہ کیا کہتا ہے؟ ہاں! جہاں قلب شہادت دے دے وہاں بخوشی اجازت ہے ۔ (ارضاء الحق، ج: 2، ص: 42) حضرت! جب دل کو لگتی ہے اس وقت جواز کے سارے فتوے رکھے رہ جاتے ہیں اور اس وقت تک چین نہیں ملتا جب تک کھٹک کی بات کو دور نہ کیا جائے۔ مولانا محمد منیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نانوتہ میں ایک بزرگ تھے، ایک دفعہ ان کے ہاتھ سے مدرسہ دیوبند کی ایک امانت ضائع ہوگئی، سفر میں کسی نے چرالی اور رقم زیادہ تھی، انہوں نے فوراً مدرسہ میں اطلاع کردی کہ وہ امانت میرے پاس سے چوری ہوگئی، لیکن میں ضمان ادا کروں گا۔ مدرسہ والوں نے چاہا کہ مولوی صاحب سے ضمان نہ لیں، کیوں کہ ان کی دیانت پر پورا اعتماد تھا کہ انہوں نے قصداً حفاظت میں کوتاہی نہیں کی اور ایسی حالت میں شرعاً ان پر ضمان نہیں، چناں چہ ان سے کہا گیا تو انہوں نے اس کو منظور نہ کیا اور کہا مجھے بغیر ضمان ادا کئے چین نہ آئے گا۔ مدرسہ والوں نے مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ مولوی منیر صاحب رحمہ اللہ نہیں مانتے۔ مدرسہ کا ضمان ادا کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ فتویٰ لکھ دیں تو شاید مان جائیں، کیوں کہ مولانا گنگوہی رحمت اللہ علیہ کو ساری جماعت بڑا مانتی تھی اور مولانا کے فتوے پر ہر شخص کو پورا اعتماد تھا۔ حضرت رحمہ اللہ نے فتوی لکھ دیا کہ جب امین نے حفاظت میں کوتاہی نہ کی تو اس پر شرعاً ضمان نہیں۔ مدرسہ والوں نے یہ فتوی مولوی منیر صاحب رحمہ اللہ کو لاکر دکھایا۔ حالاں کہ مولوی منیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا ادب کرتے تھے، مگر اس وقت یہ فتوی دیکھ کر ان کو بڑا جوش آیا اور ہم عمری کے سبب ناز کے لہجے میں کہا بس میاں رشید احمد نے سارا فقہ میرے ہی واسطے پڑھا تھا اور اپنے کلیجہ پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں، اگر ان کے ہاتھ سے مدرسہ کی امانت ضائع ہوجاتی تو کیا وہ خود بھی اس فتوے پر عمل کرتے یا بغیر ادا کئے چین نہ ملتا۔ لے جاؤ، میں کسی کا فتوی دیکھنا نہیں چاہتا۔ حضرت! انہوں نے نہیں مانا اور زمین بیچ کر، نامعلوم کس طرح مدرسہ کی رقم ادا کی، جب چین پڑا۔ (ارضاء الحق ج: 2 ص: 40 معارف گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت یہ کھٹک بھی ایک فرشتہ غیبی ہے جو حق تعالیٰ کی طرف سے آپ کو متنبہ کرتا ہے، جب بار بار تم اس کو دباؤگے تو وہ خاموش ہوجائے گا اور سخت بات ہے، بعض لوگ ممکن ہے یوں کہیں کہ جب ہم نے قواعد شرع کے بموجب ایک کام کیا ہے تو پھر کھٹک پر توجہ کرنے کی کیا ضرورت ہے اور ان سے میں کہتا ہوں کہ شریعت کا ایک یہ بھی قاعدہ ہے ”الاثم ماحاک فی صدرک“ کہ گناہ وہ ہے جس میں تمہارے دل میں کھٹک پیدا ہو، پھر تم نے اس قاعدہ پر عمل کیوں نہ کیا اور جب کسی عمل کے متعلق دل میں کھٹک پیدا ہوتی تھی، اس کو کیوں نہ چھوڑ دیا ۔ (ارضاء الحق ج 2، ص: 30)
قلب کا یہ قاعدہ ہے کہ اول وہلہ (پہلی بار میں اس کو جس قدر کراہت ونفرت ہوتی ہے دوسری مرتبہ میں ویسی نفرت نہیں ہوتی اور اس میں جو کھٹک اول وہلہ میں پیدا ہوتی ہے اگر اس پر عمل نہ کیا گیا بلکہ اس کو دبا دیا گیا تو پھر یہ کھٹک کمزور ہوجاتی ہے۔ (انفاس عیسی، ج 1 ص: 284) اس لئے قلب کی اول ہی کھٹک پر عمل کرناچاہئے۔
معصیت سے قلبی اور روحانی صحت برباد:
جس طرح طب اکبر پر عمل نہ کرنے سے صحت جسمانی میں خرابی آتی ہے، اسی طرح احکام الہٰی پر عمل نہ کرنے سے قلبی اور روحانی صحت برباد ہوجاتی ہے ﴿فان الجنة ھی الماویٰ﴾ قلب کا یہ قاعدہ ہے کہ ناجائز فعل سے اول وہلہ میں اس کو جس قدر کراہت ونفرت ہوتی ہے دوسری مرتبہ ویسی نفرت نہیں ہوتی اور اس میں جو کھٹک اول وہلہ میں پیدا ہوتی ہے اگر اس پر عمل نہ کیا گیا بلکہ اس کو دبا دیا گیا تو پھر یہ کھٹک کمزور ہوجاتی ہے اور بار بار کے دبانے سے بالکل نکل جاتی ہے، جو قلب کے سیاہ (بے حس اور مردہ) ہوجانے کی دلیل ہے کہ اب قلب کو گناہ سے الفت ہوگئی ہے، اس لئے کھٹک نہیں مگر یہ شخص سمجھتا ہے کہ مجھ پر حق واضح ہوگیا اور شرح صدر ہوگیا، اس لئے کھٹک موقوف ہوگئی، یاد رکھو! یہ حالت سخت خطرناک ہے۔ (ارضاء الحق، ج 2، ص: 28)
قلب کا زنا:
حدیث میں ہے ”والقلب یزنی، وزناہ ان یتشھی“ یعنی قلب بھی زنا کرتا ہے اور اس کا زنا خواہش کرنا ہے (رفع الموانع ص: 51) چناں چہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرتے ہوئے اجنبیہ کا تصور کرے تو اسے زنا کا گناہ ہوگا۔ (مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: اشرف الاحکام جلد چہارم)
اعمال باطنہ کا محاسبہ:
حدیث میں ہے کہ الله تعالیٰ قیامت کے روز فرمائے گا یہ وہ دن ہے جس میں پوشیدہ چیزوں کا جائزہ لیا جائے گا اور دلوں کے پوشیدہ راز کھولے جائیں گے اور یہ کہ میرے کاتب اعمال فرشتے نے تو تمہارے صرف وہ اعمال لکھے ہیں جو ظاہر تھے اور میں ان چیزوں کو جانتا ہوں جن پر فرشتوں کو اطلاع نہیں، ورنہ انہوں نے وہ چیزیں تمہارے نامہ اعمال میں لکھی ہیں اور وہ سب تمہیں بتلاتا ہوں اور ان پر محاسبہ کرتا ہوں، پھر جس کو چاہوں گا بخش دوں گا اور جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا پھر مؤمنین کو معاف کردیا جائے اور کفار کو عذاب دیا جائے گا۔ (قرطبی) ارشاد باری تعالیٰ ہے ﴿وان تبدوا ما فی أنفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ الله﴾․ (سورہ البقرة آیت: 284)
ترجمہ: جو باتیں تمہارے نفسوں میں ہیں اگر تم (زبان وغیرہ سے) ظاہر کروگے یا کہ (دل میں) پوشیدہ رکھوگے اللہ تعالیٰ تم سے حساب لیں گے۔ آیت مذکورہ میں جس محاسبہ کا ذکر ہے اس سے مراد وہ ارادے اور منتیں ہوں جو انسان اپنے قصد اور اختیار سے اپنے دل میں جماتا ہے اور اس کے عمل میں لانے کی کوشش بھی کرتا ہے، پھر اتفاق سے کچھ موانع پیش آجانے کی بنا پر ان پر عمل نہیں کرسکتا۔ قیامت کے دن ان کا محاسبہ ہوگا، پھر حق تعالیٰ جس کو چاہیں اپنے فضل وکرم سے بخش دیں اور جس کو چاہیں عذاب دیں۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ انسان پر جو اعمال اللہ تعالیٰ کی طر ف سے فرض کئے گئے ہیں یا حرام کئے گئے ہیں وہ کچھ تو اعضاء ظاہری وجوارح سے متعلق ہیں نماز، روزہ، زکوٰة، حج اور تمام معاملات اسی قسم میں داخل ہیں اور کچھ اعمال واحکام وہ بھی ہیں جو ان کے قلب اور باطن سے تعلق رکھتے ہیں، ایمان واعتقاد کے تمام مسائل تو اسی میں داخل ہیں اور کفروشرک، جو سب سے زیادہ حرام وناجائز ہیں ان کا تعلق بھی انسان کے قلب سے ہے، اخلاق صالحہ، تواضع، صبر، قناعت، سخاوت وغیرہ، اسی طرح اخلاق رذیلہ، کبر، حسد، بغض، حب دنیا حرص وغیرہ یہ سب چیزیں ایک درجہ حرام قطعی ہیں، ان سب کا تعلق بھی انسان کے اعضا و جوارح سے نہیں، بلکہ دل اور باطن سے ہے، اس آیت میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جس طرح اعمال ظاہرہ کا حساب قیامت میں لیا جائے گا اسی طرح اعمال باطنہ کا بھی حساب ہوگا اور خطا پر بھی مؤاخذہ ہوگا، باقی وساوس اور غیراختیاری خیالات جو انسان کے دل میں بغیر قصد اور ارادہ کے آجاتے ہیں بلکہ ان کے خلاف ارادہ کرنے پر بھی آتے رہتے ہیں ایسے غیراختیاری خیالات اور وساوس کو اس امت کے لئے حق تعالیٰ نے معاف کردیا ہے ، چناں چہ حدیث میں ہے ”ان الله تجاوز عن امتی عما حدثت انفسھا مالم یتکلموا او یعملوا بہ“۔ (قرطبی) یعنی اللہ تعالیٰ نے میری امت کو معاف کردیا ہے وہ جوان کے دل میں خیال آیا، جب اس کو زبان سے نہ کہا یا عمل نہ کیا ہو ۔ (تفسیر معارف القرآن، ج 1، ص: 291290)
اصل رونا دل کا ہے:
میرے پاس بعض ذاکرین کے خطوط آتے ہیں کہ ہم کو رونا نہیں آتا، اس کا افسوس ہے۔ میں لکھ دیتا ہوں کہ تمہارا دل تو روتا ہے اور کیا چاہتے ہو؟ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ تم کو نہ رونے پر افسوس ہے (فناء النفوس) ایک صاحب نے لکھا مجھے وعظ سن کر نہ رونا آتا ہے نہ ذکر وغیرہ میں خوف خدا ہوتا ہے، یہ سنگ دلی تو نہیں؟ اس پر جواباً تحریر فرمایا: ”رونا دل کا مقصود ہے، آنکھ کا نہیں، وہ حاصل ہے، دلیل اس کی یہ تاسف ہے۔“ (انفاس عیسی، ج 1، ص: 106)
ایک بزرگ کا ارشاد ہے کہ اگر رونا ہی ولایت ہے تو رونا کیا مشکل ہے لاؤ ایک لاٹھی، مارنا شروع کروں ایک طرف سے، سب رونے لگیں گے۔ خوب کہا ہے #
        عرفی اگر بگریہ میسر شدے وصال
        صد سال مے تواں بہ تمنا گریستن
حدیث میں ہے ”ابکوا فان لم تبکوا فتباکوا“ یعنی رؤو اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی صورت بناؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بکاء مقصود نہیں کیوں کہ ہر حال میں امر غیراختیاری ہے اور ایسا غیراختیاری مقصود نہیں ہوتا، بس جس کو رونا نہ آتا ہو وہ رونے کی صورت ہی بنالے، یہ کافی ہے۔ (فناء النفوس)
ایک صاحب نے لکھا کہ قلب میں قوت انفعالیہ کا نام ونشان نہیں، صحبت مجلس سے بھی حالت میں کوئی تغیر نہیں ہوتا، اس لئے سخت خطرہ ہے کہ کہیں قائلین قلوبنا غلف یا ارشاد ولا یجاوز ضاجرھم (الحدیث) کا مصداق تو نہیں ہوگیا؟ فرمایا کہ جو لوگ اس کے مصداق ہوتے ہیں ان کو اس کے مصداق ہونے کا احتمال تک نہیں، بلکہ التفات تک نہیں ہوتا، یہی دلیل ہے اس کے مصداق نہ ہونے۔ (کمالات اشرفیہ ص: 84)
دل اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنی یاد کے لئے بنایا ہے
        دل گزر گاہ جلیل اکبر ست
اس کے معنی تو یہ ہیں کہ دل تجلی گاہ ہے حق تعالیٰ کا۔ لہٰذا اس کو غیر کی آلودگی سے بچاؤ، اپنے گھر میں دوسرے کے آنے کو کون پسند کرتا ہے؟ (الظاہر ص: 50)
        دل بدست آور کہ حج اکبر است
        از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر ست
مگر جب دل میں غیراللہ کی یاد بس جائے تو اس کی یہ حالت ہوتی ہے #
        دل جو دیکھا تو صنم خانہ سے بدتر نکلا
        لوگ کہتے ہیں کہ اس گھر میں خدا رہتا ہے
ارشاد فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دلوں کو بھی (کبھی) زنگ لگ جاتا ہے۔ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! اور وہ کون سی چیز ہے جس سے دلوں کی صفائی ہوجائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا موت کا زیادہ دھیان رکھنا اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔ (رواہ البیھقی فی شعب الایمان)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان آدمی کے قلب پر چمٹا ہوا بیٹھا رہتا ہے، جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ ہٹ جاتا ہے اور جب وہ (یاد سے) غافل ہوتا ہے وسوسہ ڈالنے لگتا ہے۔ (بخاری شریف)
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ذکراللہ کے سوا بہت کلام مت کیا کرو ،کیوں کہ اللہ کے سوا بہت کلام کرنا قلب میں سختی پیدا کرتا ہے اور سب سے زیادہ اللہ سے دور وہ قلب ہے جس میں سختی ہو۔ (ترمذی)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شے کی ایک قلعی ہے اور دلوں کی قلعی اللہ کا ذکر ہے۔ (بیہقی) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دلوں کی صفائی او رتزکیہ کے لئے ذکراللہ کی کثرت کرنا چاہئے۔ بقول حضرت مجذوب #
        میرے دل سیاہ کو انوار ذکر نے
        خورشید پُر ضیا کا مماثل بنا دیا
جمعیت قلب کون سی مطلوب ہے؟
سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے ہر معاملہ سے یہ بات معلوم ہوتی تھی کہ حضرت یہ چاہتے ہیں کہ جو غیرضروری بات جمعیت قلب کے خلاف ہو اس کو ترک کردو اور ایسی چیزوں سے اکثر منع فرماتے تھے۔ (الافاضات الیومیہ ج 3، ص: 56)
جمعیت قلب جیساکہ زیادہ کھانے سے فوت ہوتی ہے، کم کھانے سے فوت ہوتی ہے، زیادہ کھانے سے خطرات کا ہجوم ہوتا ہے، کیوں کہ معدہ کی تبخیر دماغ کی طرف عود کرتی ہے تو دماغ پریشان ہوجاتا ہے اور کم کھانے سے ہر وقت روٹیوں کی طرف دھیان رہتا ہے۔ (فناء النفوس)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ دنیا کی بے رغبتی (جس کا حکم ہے) نہ حلال کو حرام (کرنے) سے ہے اور نہ مال کے ضائع کرنے سے۔ ( ترمذی وابن ماجہ) 
ف:۔ اس میں صاف برائی ہے مال کے برباد کرنے کی، کیوں کہ اس سے جمعیت جاتی رہتی ہے۔ (حیٰوة المسلمین، روح دہم)
جمیعت قلب وہ مطلوب ہے جس میں اپنی طرف سے اسباب مشوشہ کو اختیار نہ کیا جائے، پھر اگر جمعیت حاصل نہ ہو تو یہ معذور ہے، میں اس پر قسم کھاسکتا ہوں کہ جو تشویش قلب اختیار سے ہو وہی مضر ہے اور اگر بلاقصد واختیار تشویش ہو وہ کچھ مضر نہیں، مثلاً ایک شخص صاحب عیال ہے، اس وجہ سے دنیا میں مشغول ہے اور اس کو کسی وقت یکسوئی نہیں ہوتی، نماز وذکر میں بلاقصد واختیار وساوس مشوشہ آتے ہوں تو کچھ مضر نہیں اور یہ قاعدہ کچھ حدیث النفس کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ حدیث اللسان یعنی کلام لسانی میں بھی یہی قاعدہ ہے کہ بلاضرورت ایک کلمہ بھی نکالنا قلب کا ستیاناس کردیتا ہے، مگر قلب پر، چوں کہ طبیعت محیط ہے، اس لئے محسوس نہیں ہوتا، بخلاف اس کے اگر بضرورت تکثیر ہو تو کچھ بھی مضر نہیں، مثلاً ایک شخص پہرہ دینے پر نوکر ہے، وہ رات بھر ”جاگو جاگو“ کرتا ہے، اس سے نورقلب میں کچھ بھی کمی نہ آئے گی، اسی طرح تحریر میں جب تک ضرورت کا مضمون لکھا جائے گا ضرر نہ ہوگا اور اگر بے ضرورت ایک جملہ بھی لکھا گیا تو قلب کا ناس ہوجائے گا، کیوں کہ تحریر بھی ایک نوع کا کلام ہی ہے۔
بہرحال کلام کی تین قسمیں ہیں: کلام نفسی کلام لفظی  کلام تحریری:
کلام تحریری میں تحریر کا مطالعہ بھی داخل ہے اس لئے ہر کتاب کا مطالعہ بھی جائز نہیں، غرض یہ کہ ہر ایک میں ضرورت کا درجہ مضر نہیں اور بلاضرورت ایک جملہ کا تلفظ یا کسی بات کا سوچنا یا لکھنا مضر ہے، چناں چہ بعض کلام کو خوشنما بنانے میں سجع وغیرہ کا تکلف کرتے ہیں، چوں کہ یہ بلاضرورت ہے، اس لئے گویا اس میں تنبیہ ہے ہم کو عدم تکلف پر کہ دیکھو! جب ہم باوجود قدرت، سجع کی رعایت نہیں کرتے حالاں کہ ہم کو تکلف نہیں کرنا پڑتا، تم کو بھی سجع کی رعایت نہ کرنا چاہئے، کیوں کہ تم کو تکلف کرنا پڑے گا اور بے ضرورت چیز کے لیے تم کو تکلف کرنا ہے۔ (انفاس عیسیٰ ج 1، ص: 249,248)
حصول فراغ قلب کا طریقہ:
قلب کو ہر وقت ماسوا اللہ سے فارغ رکھنا چاہئے (یعنی دل کسی اور چیز میں لگا ہوا نہ رہے)، یہ نہایت نافع ہے۔ اس کے تحصیل کا طریقہ یہ ہے کہ جو بات اور جو کام ضروری ہو اس کو دیکھو نہ سنو، خواہ وہ چیزیں ماضی کے متعلق ہوں یا مستقبل کے ۔ (انفاس عیسیٰ ج 1، ص: 261)
اصلاح قلب کا آسان نسخہ:
کسی شیخ کامل کی صحبت اختیار کرے۔ اس سے اصلاحی تعلق قائم کرکے اس کے ارشادات پر عمل کرے۔ ان شآءاللہ اس کی صحبت سے جلد قلب کی حالت میں تغیر محسوس ہوگا اور دل کی دنیا بدلنا شروع ہوگی۔ فی الحلال یہ دشوار ہو تو حضرت حکیم الامت تھانوی رحمت اللہ علیہ کے مواعظ حسنہ کا باقاعدگی سے مطالعہ کرے۔ بہت نفع محسوس ہوگا ۔ مناجات مقبول سے چند دعائیں نقل کرتا ہوں اپنی دعاؤں میں ان کو بھی پڑھا کریں۔
اللھم مصرف القلوب، صرف قلوبنا علی طاعتک․ (مسلم، نسائی)
”اے اللہ، دلوں کے پھیرنے والے! ہمارے دل اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے“۔
اللھم ان تجعل القرآن العظیم ربیع قلبی، ونور بصری، وجلاء حزنی، وذھاب ھمی“․ (ابن احبان حاکم طبرانی)
”یا اللہ قرآن عظیم کو میرے دل کی بہار اور میری آنکھوں کا نور اور میرے غم کی کشائش اور میرے فکر کا دفعیہ فرمادے۔“
اللھم انا نسالک قلوبا اوّاھة مخبتة فی سبیلک ”اے الله ہم تجھ سے مانگتے ہیں ایسے دل جو متاثر ہوں اور عاجزی کرنے والے ہوں اور رجوع کرنے والے ہوں تیری راہ میں۔“
اللھم ارزقنی عینین بذروف الدمع من خشیتک قبل ان تکون الدموع دما والاضراس جمرا․
”یا اللہ! مجھے آنکھیں برسنے والی نصیب فرما، جو سیراب کریں دل کو، بہتے ہوئے آنسوؤں سے، تیرے خوف سے قبل، اس وقت کے کہ آنسوں خون اور ڈاڑھیں انگارے ہوجائیں۔“ قلب کی اول کھٹک پر عمل کرنا چاہئے
(ایس اے ساگر)
http://saagartimes.blogspot.com/2020/07/blog-post_16.html?m=1

جانور کی ہڈیوں سے بنے زیورات کے استعمال کا حکم


جانور کی ہڈیوں سے بنے زیورات کے استعمال کا حکم
-------------------------------
--------------------------------
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ہڈی یا سینگ کے بنے ہوئے زیورات استعمال کرنا کیسا ہے؟
جواب مرحمت فرمائیں
جانوروں کی خشک ہڈیاں خواہ مردار کی ہی کیوں نہ ہوں احناف کے یہاں پاک ہیں 
(مذبوح کی تر ہڈی بھی پاک ہے جبکہ مردار کی خشک ہڈیاں پاک ہیں، تر نہیں)
ابن تیمیہ کا بھی یہی مذہب ہے ("عَظْمُ الْمَيْتَةِ، وَقَرْنُهَا وَظُفُرُهَا، وَمَا هُوَ مِنْ جِنْسِ ذَلِكَ: كَالْحَافِرِ، وَنَحْوِهِ، وَشَعْرُهَا، وَرِيشُهَا وَوَبَرُهَا... الْجَمِيعَ : طَاهِرٌ ؛ كَقَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ، وَهُوَ قَوْلٌ فِي مَذْهَبِ مَالِكٍ، وَأَحْمَدَ. وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ الصَّوَابُ؛ لِأَنَّ الْأَصْلَ فِيهَا الطَّهَارَةُ، وَلَا دَلِيلَ عَلَى النَّجَاسَةِ. "الفتاوى الكبرى" (1/266-271)
جبکہ ائمہ ثلاثہ کے یہاں مردار کی ہڈیاں ناپاک ہیں. ہمارے یہاں جب خشک ہڈیاں پاک ہیں تو ان کی بیع وشراء اور ان سے انتفاع بھی جائز ہے. انگوٹھی کے علاوہ عورتوں کے لئے تمام دھاتوں اور سامان زینت سے تزین وتجمل کی اجازت ہے (انگوٹھی عورتوں کے لئے بھی سونے چاندی کی ہی ہونی چاہیے: ''(ولا يتختم) إلا بالفضة؛ لحصول الاستغناء بها، فيحرم (بغيرها، كحجر)، وصحح السرخسي جواز اليشب والعقيق، وعمّم منلا خسرو، (وذهب وحديد وصفر) ورصاص وزجاج وغيرها؛ لما مر". الدرالمختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 359) 
اس لئے خواتین کے لئے خشک ہڈیوں یا سینگوں سے بنے انگوٹھی کے علاوہ دیگر آرٹیفیشل زیورات استعمال کرنے کی بھی اجازت ہوگی. انسان اور خنزیر کی ہڈیاں بہر صورت ناقابل انتفاع ہیں، انسان اپنے تمام اجزاء سمیت واجب التکریم ہے ، جبکہ خنزیر اپنے تمام اجزاء سمیت نجس العین ہے:
صحیحین کی حدیث میں صراحت ہے کہ مردار کا صرف گوشت حرام ہے، یعنی اس کی سینگ اور ہڈیوں سے خشک کرنے کے بعد اور جلد سے دباغت کے بعد انتفاع جائز ہے:
وَجَدَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ شَاةً مَيِّتَةً، أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقالَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ: هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بجِلْدِهَا؟ قالوا: إنَّهَا مَيْتَةٌ: قالَ: إنَّما حَرُمَ أكْلُهَا./عبدالله بن عباس.صحيح البخاري: 1492.
قال الإمام البغوي في "شرح السنة" (2/ 101، ط. المكتب الإسلامي): [فِي قَوْلِهِ: «إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا» مُسْتَدَلٌّ لِمَنْ ذَهَبَ إِلَى أَنَّ مَا عَدَا الْمَأْكُولَ مِنْ أَجْزَاءِ الْمَيْتَةِ غَيْرُ مُحَرَّمٍ الانْتِفَاعُ بِهِ، كَالشَّعَرِ وَالسِّنِّ وَالْقَرْنِ وَنَحْوِهَا، وَاخْتَلَفَ فِيهَا أَهْلُ الْعِلْمِ، فَذَهَبَ قَوْمٌ إِلَى أَنَّ هَذِهِ الأَشْيَاءَ فِيهَا حَيَاةٌ فتنجس بِمَوْتِ الْحَيَوَانِ؛ كَالْجِلْدِ، وَإِذَا دُبِغَ جِلْدُ الْمَيْتَةِ وَعَلَيْهِ شَعَرٌ، فَالشَّعَرُ لَا يَطْهُرُ بِالدِّبَاغِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ. وَذَهَبَ قَوْمٌ إِلَى أَنَّهُ لَا حَيَاةَ فِي الشَّعَرِ وَالرِّيشِ، وَلا يَنْجُسُ بِمَوْتِ الْحَيَوَانِ، وَجَوَّزُوا الصَّلاةَ فِيهَا، وَهُوَ قَوْلُ حَمَّادٍ، وَمَالِكٍ، وَأَصْحَابِ الرَّأْيِ ... وَالْعَظْمُ عِنْدَ بَعْضِهِمْ فِيهِ حَيَاةٌ يَمُوتُ بِمَوْتِ الْحَيَوَانِ، وَيَنْجسُ بِنَجَاسَةِ الأَصْلِ. فَأَمَّا الْحُوتُ فَمَيِّتُهُ حَلالٌ، فَعَظْمُهُ يَكُونُ طَاهِرًا بَعْدَ الْمَوْتِ. وَذَهَبَ جَمَاعَةٌ إِلَى أَنَّهُ لَا حَيَاةَ فِي الْعَظْمِ، وَلا يحله الْمَوْتُ، وَهُوَ قَوْلُ أَصْحَابِ الرَّأْيِ، وَجَوَّزُوا اسْتِعْمَالَ عِظَامِ الْفِيَلَةِ. قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي عِظَامِ الْمَوْتَى: "أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ سَلَفِ الْعُلَمَاءِ يَمْتَشِطُونَ بِهَا، وَيَدَّهِنُونَ فِيهَا، لَا يَرَوْنَ بَأْسًا". قَالَ ابْنُ سِيرِينَ، وَإِبْرَاهِيمُ: "لَا بَأْسَ بِتِجَارَةِ الْعَاجِ". وَاحْتَجُّوا بِمَا رُوِيَ عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ سِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ»، وَالْمُرَادُ مِنْهُ عِنْدَ الآخَرِينَ: الذَّبْلُ، وَهُوَ عَظْمُ سُلْحِفَاةِ الْبَحْرِ، لَا عِظَامُ الْفِيَلَةِ] اهـ.
ہدایہ میں ہے: 
ولابأس ببیع عظام المیتة، وعصبها، وصوفها، وشعرها، وقرنها، ووبرها والانتفاع بذلك کله (ہدایۃ، باب البیع الفاسد اشرفی دیوبند 55/3) "ولا بأس ببيع عظام الميتة وعصبها وصوفها وقرنها وشعرها ووبرها والانتفاع بذلك كله؛ لأنها طاهرة لا يحلها الموت؛ لعدم الحياة" [العناية شرح الهداية 6 /427]
محیط برہانی میں ہے: 
'فالحاصل: أن عظم ما سوى الخنزير والآدمي من الحيوانات، إذا كان الحيوان ذكاة إنه طاهر سواء كان العظم رطباً أو يابساً، وأما إذا كان الحيوان ميتاً، فإن كان عظمه رطباً فهو نجس، وإن كان يابساً فهو طاهر؛ لأن اليبس في العظم بمنزلة الدباغ من حيث إنه يقع الأمن في العظم باليبس عن الفساد كما يقع الأمن في الجلد بالدباغ، فكذا العظم باليبس، وأما عظم الخنزير فنجس وفي عظم الآدمي اختلفوا، بعض مشايخنا قالوا: إنه نجس، وبعضهم قالوا: إنه طاهر، واتفقوا (أنه) لنقص بكرامته؛ لأن الآدمي مكلف بجميع أجزائه، وفي الانتفاع بأجزائه نوع إهانة به (المحیط البرہانی: 2/209)
"لا بأس ببيع عظام الفيل وغيره من الميتة؛ لأن الموت لا يحل العظام ولا دم فيه، فلا يتنجس، فيجوز بيعه إلا عظم الأدمي والخنزير، فإنَّ بيعها لا يجوز، وهذا إذا لم يكن على عظم الفيل وأشباهه دسومة، فأما إذا كان فهو نجس، فلا يجوز بيعه"
[المحيط البرهاني 6/ 349]
"لا بیع جلود المیتة قبل الدباغ، ویجوز بعده وینتفع به، ویباع عظمها وینتفع به، وکذا عصبها، وقرنها، وصوفها، وشعرها، ووبرها، وکذا عظم الفیل خلافاً لمحمد، وتحته في مجمع الأنهر: المختار قولهما". (ملتقی الأبحر مع مجمع الأنهر، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، جدید85/3)
واللہ اعلم بالصواب


موقوفہ عیدگاہ میں بازار لگانا

موقوفہ عیدگاہ میں بازار لگانا
-------------------------------
--------------------------------
السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاتہ 
زید کے گاؤں میں ایک تالاب ہے جس میں مچھلیاں ہیں اور وہ مسجد کے لئے وقف ہے، اس کی آمدنی سے گاؤں کے لوگوں نے ایک جگہ کچھ زمین عیدگاہ کے لئے خرید لی اور اس میں عید کی نماز ہو رہی ہے، چند دنوں سے گاؤں والے مشورہ کرکے اس میں ہفتے میں دو دن متعین کرکے  بازار لگانے لگے، علماء کے سمجھانے سے وہ نہیں سمجھ رہے ہیں کہ رہے ہیں کہ شراب وغیرہ نہیں بیچیں گے باقی سبزی کپڑے وغیرہ یعنی پاک چیزیں بیچنے میں کیا حرج ہے، کیا گاؤں والوں کا کہنا صحیح ہے؟ اور کیا اس زمین پر ہاٹ بازار لگانا درست ہے؟
مفتیان عظام سے درخوست ہے کہ اس مسئلہ کو دلائل کے ساتھ  واضح فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
محمد زید
الجواب وباللہ التوفق:
عیدگاہ کی حیثیت عبادت گاہ کی ہے تفریح یا تماشہ گاہ کی نہیں!
جس طرح مسجد پنج وقتہ نمازوں کی جگہ ہے ویسے ہی عیدگاہ عیدین  کی نماز کے لئے عبادت گاہ ہے، تقدس واحترام میں عیدگاہ پنج وقتہ مسجد کے حکم میں ہے، حدیث میں دنیا کی سب سے بدتر جگہ بازار کو قرار دیا گیا ہے، میلہ ٹھیلہ بازار ومارکیٹنگ کا جھمیلا عیدگاہ میں لگانا جائز نہیں ہے، اس سے اس کا احترام وتقدس پامال ہوگا:
ویجنب هذا المکان کما یجنب المسجد احتیاطاً (البحرالرائق، الوقف، فصل في احکام المسجد، 248/5)
واللہ اعلم


فلاں سے بیٹی کا رشتہ کروں تو میری بیوی کو طلاق کہنے کے بعد اس سے رشتہ کرنے کا حکم

فلاں سے بیٹی کا رشتہ کروں تو میری بیوی کو طلاق کہنے کے بعد اس سے رشتہ کرنے کا حکم
-------------------------------
--------------------------------
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
 ایک مسٸلے کی وضاحت درکار ہے 
ایک شحص نے یہ کہا ہے کہ اگر میں فلاں جگہ اپنی بیٹی کا رشتہ دوں تو میری بیوی کو طلاق ہے اب وہ شخص اپنی بیٹی کا رشتہ خود نہیں دیتا لیکن اس کی اجازت سے اس کا بھاٸی اسی جگہ رشتہ دے تو کیا طلاق واقع ہوجاۓ گی نیز کون سی طلاق واقع ہوگی؟
الجواب وباللہ التوفق:
وہ خود یا اس کی اجازت سے کوئی بھی اس کی بیٹی کا رشتہ شخص مذکور سے طے کردے تو اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی 
دوسرا کوئی ولی اس کے اذن کے بغیر اس سے رشتہ کردے تو اس کی بیوی پہ طلاق واقع نہ ہوگی: 
وإذا أضافه إلی شرط وقع عقیب الشرط مثل أن یقول لإمرأته  إن دخلت الدار فأنت طالق (ھدایہ باب الأیمان فی الطلاق ج ٢ ص ٣٦٤)
واللہ اعلم بالصواب

شاہ ولی اللہ دہلوی سے منسوب صلوۃ الحاجہ کا حکم

شاہ ولی اللہ دہلوی سے منسوب صلوۃ الحاجہ کا حکم
-------------------------------
--------------------------------
مولانا مکی صاحب کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں انہوں نے شاہ ولی اللہ صاحب کے حوالہ سے قبولیت کے قریب بلکہ مقبول ایک نماز چار رکعات صلوة الحاجت والی جس میں پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سو مرتبہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین دوسری رکعت سورہ فاتحہ کے بعد سو مرتبہ ربی انی مسنی الضر وانت ارحم الراحمین تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سو مرتبہ وافوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سو مرتبہ حسبنا اللہ و نعم الوکیل (بغیر ضم سورة کے) پڑھنی ہے. پھر نماز کے بعد سجدہ میں سو مرتبہ ربی انی مغلوب فانتصر پڑھنا ہے نماز کے اول آخر میں ایک ایک تسبیح دورود شریف کی پڑھنا ہے بتلائی ہے 
اس کی کیا حیثیت ہے؟
الجواب وباللہ التوفق:
صلوۃ الحاجہ اصل میں دعاء وتضرع ہے. اس کی مشروعیت واستحباب پہ ائمہ متبوعین کا اتفاق ہے 
اس نماز کی کیفیت اور طریقوں کے بارے میں متعدد و متعارض روایات وارد ہوئی ہیں. اسی لئے اس کی رکعتوں کی تعداد و ادائی کے طریقوں کے بارے میں ائمہ کے اقوال مختلف ہیں.
ائمہ ثلاثہ کے یہاں دو رکعت پڑھنا مستحب ہے، احناف کا ایک قول بھی یہی ہے، شرح منیہ میں اسے نقل کیا ہے. جبکہ ہمارے یہاں مشہور وظاہر مذہب چار رکعتیں ہیں 
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے بارہ رکعتوں کا قول اختیار کیا ہے. 
شامی نے تجنیس کے حوالے سے بعد عشاء چار رکعتیں نقل کی ہیں:
صلوة الحاجة أربع ركعات بعد العشاء . (ردالمحتار ج٢ ص ٤٧٣)
اس باب میں اختلاف روایات کے باعث کیفیت و تعداد رکعات میں بھی اختلاف ہوا ہے. 
اس نماز میں نہ کوئی قرأت مخصوص ہے نہ ہی دعاء 
چونکہ اس نماز کی اصلیت دعاء اور طلب ضرورت ہے 
جس کو جس طریقے اور کیفیت میں ضرورتیں پوری ہوئیں انہوں نے اسی طریقے پہ عمل کیا اور دوسروں کو ترغیب بھی دی 
یعنی کہ اس کا مدار تجربے، افادیت اور نافعیت پر ہے، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ کے حوالے سے یا شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے ملفوظات کے حوالے سے صلوۃ الحاجت کی جو چار رکعت مخصوص نماز  نقل کی جاتی ہے وہ ان اکابر کے دیرینہ تجربات سے تعلق رکھتی  ہے. 
انہوں نے اس ہیئت و کیفیت کے ساتھ نماز کی ادائی کو حل مشکلات ومہمات کے لئے انتہائی مجرب قرار دیا ہے 
اس کیفیت کو انہوں نے منصوص شرعی کی حیثیت سے پیش نہیں کیا ہے 
لہذا بزرگوں اور اکابر کی ان تجرباتی ہدایات پر  عمل کرنا فائدے سے خالی نہیں، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے، ہاں! اس ہیئت و کیفیت کو منصوص شرعی نہ سمجھا جائے. 
واللہ اعلم 

کمیشن ایجنٹ کا دونوں فریق سے اجرت لینے کا حکم

کمیشن ایجنٹ کا دونوں فریق سے اجرت لینے کا حکم
-------------------------------
--------------------------------
ایک ہوتا ہے مالک ایک کمیشن ایجینٹ ایک خریدنے والا کمیشن ایجینٹ اور مالک کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ ایک کسٹمر لے آو گے اور وہ چیز فروخت ہونے پر اس میں سے کچھ پیسے آپکو دیا جاۓ گا کیا یہ رقم شریعت کی نظر میں حلال ہے؟  کمیشن ایجینٹ اگر دونوں سے مانگ کر لے مالک سے بھی اور خریدنے والے سے بھی تو کیا حکم ہے؟ اور اگر چیز خریدنے والا خوشی سے کمیشن ایجینٹ کو کچھ دے دے تو کیا حکم ہے؟
الجواب وباللہ التوفق:
دونوں سے اپنے معتدبہ کام، سعی اور دوڑ دھوپ پہ طے شدہ اجرت لے سکتا ہے 
اگر کسی کی طرف سے خود سودا کرررہا ہے تو اس کا وکیل ہوگا صرف اسی سے طے شدہ کمیشن یا اجرت لے سکتا ہے دوسرے فریق سے نہیں 
أما الدلال فإن باع العین بنفسه بإذن ربھا فأجرته علی البائع وإن سعی بینھما وباع المالك بنفسه یعتبر العرف (شامی صفحہ 46/4)
بائع و مشتری کے درمیان واسطہ کار ، مڈل اور ثالث کے عمل اور اس کی کمیشن کے جواز کے لئے ضروری ہے کہ وہ کام شرعا مباح ہو 
اجرت پہلے طے کرلی جائے 
عاقدین سے سودے یا قیمت کے حوالے سے کسی بھی قسم کا کوئی جھوٹ نہ بولا جائے 
واللہ اعلم