وقال علیہ السلام: من قرأ القرآن یتأکل بہ الناس جاء یوم القیامۃ وجہہ عظم لیس علیہ لحم (رواہ البیہقي في شعب الإیمان ۲؍۵۳ رقم: ۲۶۲۵)
وقال علیہ الصلاۃ والسلام: من قرأ القرآن فلیسأل اللّٰہ بہ فإنہ سیجئ أقوام یقرؤون القرآن یسألون بہ الناس۔ (سنن الترمذي ۲؍۱۱۹)
وقال عبد اللّٰہ ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ إنہ سیجئ زمان یسئل فیہ بالقرآن فإذا سألوکم فلا تعطوہم۔ (رواہ البیہقي ۲؍۵۳۴ رقم: ۲۶۳۱)
عن عبد اللّٰہ ابن معقل رضي اللّٰہ عنہ أنہ صلی بالناس في شہر رمضان فلما کان یوم الفطر بعث إلیہ عبید اللّٰہ ابن زیاد بحلۃ وبخمس مأۃ درہم فردہا، وقال إنا لا نأخذ علی القرآن أجراً۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۲؍۴۰۰ رقم: ۷۸۲۱)۔
5405 حَدَّثَنِي سِيدَانُ بْنُ مُضَارِبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ صَدُوقٌ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْبَرَّاءُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ أَبُو مَالِكٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَقَالَ هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ إِنَّ فِي الْمَاءِ رَجُلًا لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلَى أَصْحَابِهِ فَكَرِهُوا ذَلِكَ وَقَالُوا أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ" ۔۔صحيح البخاري
ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی جواز کی دلیل ہے:
میں نے کہا، ہاں لیکن میں اس صورت میں دم کروں گا کہ تم ہمیں بکریاں دو۔
انھوں نے کہا، ہم تمھیں تیس بکریاں دیں گے۔ ہم نے قبول کرلیا اور پھر میں نے سات مرتبہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا اور ہم نے بکریاں لے لیں پھر ہمارے دل میں خیال آیا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم جلدی نہ کریں۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھ لیں۔
جب ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پہنچے تو میں نے پورا قصہ سنایا۔
فرمایا، تمھیں کیسے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ سے دم کیا جاتا ہے۔ بکریاں رکھ لو اور میرا حصہ بھی دو۔
یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ابونضرہ کا نام منذر بن مالک بن قطعہ ہے۔ امام شافعی اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے قرآن کی تعلیم دینے پر اجرت لینے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسے مقرر کرنا بھی جائز ہے۔ شعبہ ابوعوانہ اور کئی راوی یہ حدیث ابومتوکل سے اور وہ ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل کرتے ہیں۔
علامہ شامی نے درمختار کی شرح میں اور اپنے رسالہ شفاء العلیل میں بڑی تفصیل اور قوی دلائل کے ساتھ یہ بات واضح کردی ہے کہ تعلیم قرآن وغیرہ پر اجرت لینے کو جن متاخرین فقہاء نے جائز قرار دیا ہے اس کی علت ایک ایسی دینی ضرورت ہے جس میں خلل آنے سے دین کا پورا نظام مختل ہوجاتا ہے، اس لئے اس کو ایسی ہی ضرورت کے مواقع میں محدود رکھنا ضروری ہے، اس لئے مردوں کو ایصال ثواب کیلئے ختم قرآن کرانا یا کوئی دوسرا وظیفہ پڑھوانا اجرت کے ساتھ حرام ہے کیونکہ اس پر کسی عام دینی ضرورت کا مدار نہیں اور اجرت لے کر پڑھناحرام ہوا تو اس طرح پڑھنے والا اور پڑھوانے والا دونوں گناہگار ہوئے اور جب پڑھنے والے ہی کو کوئی ثواب نہ ملا تو میت کو وہ کیا پہنچائے گا. علامہ شامی نے اس بات پر فقہاء کی بہت سی تصریحات تاج الشریعۃ، عینی شرح ہدایہ، حاشیہ خیر الدین بر بحر الرائق وغیرہ سے نقل کی ہیں اور خیر الدین رملی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ ایصال ثواب کے لئے قبر پر قرآن پڑھوانا یا اجرت دے کر ختم قرآن کروانا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین اور اسلاف امت رحمہم اللہ سے کہیں منقول نہیں اس لئے بدعت ہے (شامی ص ٤٧، ج ١
إن ما أجازہ المتأخرون إنما أجازوہ للضرورۃ ولا ضرورۃ فی الإستئجار علی التلاوۃ فلا یجو۔ (رسائل ابن عابدین ۱؍۱۶۸)
سنن الترمذي ۔رقم الحدیث 2907۔
محمود بن غیلان، ابوداؤد، شعبہ، علقمہ بن مرثد، سعد بن عبیدہ، ابوعبدالرحمن، حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ اس حدیث کے روای ابوعبدالرحمن کہتے ہیں کہ اسی حدیث نے مجھے اس جگہ بٹھایا، چنانچہ انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے سے لے کر حجاج بن یوسف کے زمانے تک قرآن کی تعلیم دی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
إن ما أجازہ المتأخرون إنما أجازوہ للضرورۃ ولا ضرورۃ فی الإستئجار علی التلاوۃ فلا یجوز۔ (رسائل ابن عابدین ۱؍۱۶۸)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
سیدپور، بیگوسرائے ۔بہار


