Monday, 4 September 2017

تعلیم قرآن کی اجرت

تعلیم قرآن کی اجرت; احادیث شریفہ کی روشنی میں
ائمہ مجتہدین کے مابین یہ مسئلہ قابل غور وبحث رہا ہے کہ تعلیم قرآن پر اجرت ومعاوضہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ فقہا امت کا اس میں اختلاف ہے. امام مالک شافعی اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ جائز قرار دیتے ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ اور بعض دوسرے ائمہ کرام رحمہم اللہ منع فرماتے ہیں کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کو  کسب معاش کا  ذریعہ بنانے سے منع فرمایا ہے:
قال علیہ السلام: اقرؤوا لقرآن ولا تأکلوا بہ ولا تستکثروا بہ ولا تجفوا عنہ ولا تغلوا فیہ۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۲؍۴۰۱ رقم: ۷۸۲۵)
وقال علیہ السلام: من قرأ القرآن یتأکل بہ الناس جاء یوم القیامۃ وجہہ عظم لیس علیہ لحم (رواہ البیہقي في شعب الإیمان ۲؍۵۳ رقم: ۲۶۲۵)
وقال علیہ الصلاۃ والسلام: من قرأ القرآن فلیسأل اللّٰہ بہ فإنہ سیجئ أقوام یقرؤون القرآن یسألون بہ الناس۔ (سنن الترمذي ۲؍۱۱۹)
وقال عبد اللّٰہ ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ إنہ سیجئ زمان یسئل فیہ بالقرآن فإذا سألوکم فلا تعطوہم۔ (رواہ البیہقي ۲؍۵۳۴ رقم: ۲۶۳۱)
عن عبد اللّٰہ ابن معقل رضي اللّٰہ عنہ أنہ صلی بالناس في شہر رمضان فلما کان یوم الفطر بعث إلیہ عبید اللّٰہ ابن زیاد بحلۃ وبخمس مأۃ درہم فردہا، وقال إنا لا نأخذ علی القرآن أجراً۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۲؍۴۰۰ رقم: ۷۸۲۱)۔
جواز کے قائلین ائمہ ثلاثہ کے پیش نظر بخاری شریف کی یہ حدیث ہے۔ جو تعلیم قرآن کی اجرت کے جواز پہ بالکل ہی واضح، صریح اور دو ٹوک ہے:
بَاب الشَّرْطِ فِي الرُّقْيَةِ بِقَطِيعٍ مِنْ الْغَنَمِ
5405 حَدَّثَنِي سِيدَانُ بْنُ مُضَارِبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ صَدُوقٌ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْبَرَّاءُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ أَبُو مَالِكٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَقَالَ هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ إِنَّ فِي الْمَاءِ رَجُلًا لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلَى أَصْحَابِهِ فَكَرِهُوا ذَلِكَ وَقَالُوا أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ" ۔۔صحيح البخاري
حدیث کا آخری بین القوسین والا جزو محل استشہاد ہے۔
ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی جواز کی دلیل ہے:
[ص: 348] بَاب مَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْأَجْرِ عَلَى التَّعْوِيذِ
2063 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ فَسَأَلْنَاهُمْ الْقِرَى فَلَمْ يَقْرُونَا فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا هَلْ فِيكُمْ مَنْ يَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ قُلْتُ نَعَمْ أَنَا وَلَكِنْ لَا أَرْقِيهِ حَتَّى تُعْطُونَا غَنَمًا قَالَ فَأَنَا أُعْطِيكُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً فَقَبِلْنَا فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَبَرَأَ وَقَبَضْنَا الْغَنَمَ قَالَ فَعَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا شَيْءٌ فَقُلْنَا لَا تَعْجَلُوا حَتَّى تَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَيْهِ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي صَنَعْتُ قَالَ وَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْبِضُوا الْغَنَمَ وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَأَبُو نَضْرَةَ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ قُطَعَةَ وَرَخَّصَ الشَّافِعِيُّ لِلْمُعَلِّمِ أَنْ يَأْخُذَ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ أَجْرًا وَيَرَى لَهُ أَنْ يَشْتَرِطَ عَلَى ذَلِكَ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَجَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ هُوَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ وَهُوَ أَبُو بِشْرٍ وَرَوَى شُعْبَةُ وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ۔     سن الترمذی
ہناد، ابومعاویہ، اعمش، جعفر بن ایاس، ابونضرہ، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا تو ہم ایک قوم کے پاس ٹھہرے اور ان سے ضیافت طلب کی لیکن انھوں نے ہماری میزبانی کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر ان کے سردار کو بچھونے ڈنک مار دیا۔ وہ لوگ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کہ کیا تم میں سے کوئی بچھو کے کاٹے پر دم کرتا ہے؟
میں نے کہا، ہاں لیکن میں اس صورت میں دم کروں گا کہ تم ہمیں بکریاں دو۔
انھوں نے کہا، ہم تمھیں تیس بکریاں دیں گے۔ ہم نے قبول کرلیا اور پھر میں نے سات مرتبہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا اور ہم نے بکریاں لے لیں پھر ہمارے دل میں خیال آیا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم جلدی نہ کریں۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھ لیں۔
جب ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پہنچے تو میں نے پورا قصہ سنایا۔
فرمایا، تمھیں کیسے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ سے دم کیا جاتا ہے۔ بکریاں رکھ لو اور میرا حصہ بھی دو۔
یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ابونضرہ کا نام منذر بن مالک بن قطعہ ہے۔ امام شافعی اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے قرآن کی تعلیم دینے پر اجرت لینے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسے مقرر کرنا بھی جائز ہے۔ شعبہ ابوعوانہ اور کئی راوی یہ حدیث ابومتوکل سے اور وہ ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل کرتے ہیں۔
متاخرین حنفیہ نے بھی جب ان حالات کا مشاہدہ کیا کہ قرآن مجید کے معلمین کو اسلامی بیت المال سے گذارہ ملا کرتا تھا، اب ہر جگہ اسلامی نظام میں فتور کے سبب یہ معلمین محنت مزدوری یا تجارت وغیرہ میں لگ جائیں تو بچوں کو تعلیم قرآن کا سلسلہ یکسر بند ہوجائے گا کیونکہ وہ دن بھر کا مشغلہ چاہتا ہے، اس لئے تعلیم قرآن پر تنخواہ لینے کو بضرورت جائز قرار دیا جیسا کہ صاحب ہدایہ نے فرمایا ہے کہ آج کل اسی پر فتویٰ دینا چاہئے کہ تعلیم قرآن پر اجرت وتنخواہ لینا جائز ہے صاحب ھدایہ کے بعد آنے والے دوسرے فقہا نے بعض ایسے ہی دوسرے وظائف جن پر تعلیم قرآن کی طرح دین کی بقاء موقوف ہے مثلاً امامت واذان اور تعلیم حدیث وفقہ وغیرہ کو تعلیم قرآن کے ساتھ ملحق کرکے ان کی بھی اجازت دی ہے۔ (درمختار، شامی)
قوله: (وبعض مشايخنا استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لأنه ظهر التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن، وعليه الفتوى).
ایصال ثواب کے لئے ختم قرآن پر اجرت لینا باتفاق جائز نہیں۔
علامہ شامی نے درمختار کی شرح میں اور اپنے رسالہ شفاء العلیل میں بڑی تفصیل اور قوی دلائل کے ساتھ یہ بات واضح کردی ہے کہ تعلیم قرآن وغیرہ پر اجرت لینے کو جن متاخرین فقہاء نے جائز قرار دیا ہے اس کی علت ایک ایسی دینی ضرورت ہے جس میں خلل آنے سے دین کا پورا نظام مختل ہوجاتا ہے، اس لئے اس کو ایسی ہی ضرورت کے مواقع میں محدود رکھنا ضروری ہے، اس لئے مردوں کو ایصال ثواب کیلئے ختم قرآن کرانا یا کوئی دوسرا وظیفہ پڑھوانا اجرت کے ساتھ حرام ہے کیونکہ اس پر کسی عام دینی ضرورت کا مدار نہیں اور اجرت لے کر پڑھناحرام ہوا تو اس طرح پڑھنے والا اور پڑھوانے والا دونوں گناہگار ہوئے اور جب پڑھنے والے ہی کو کوئی ثواب نہ ملا تو میت کو وہ کیا پہنچائے گا. علامہ شامی نے اس بات پر فقہاء کی بہت سی تصریحات تاج الشریعۃ، عینی شرح ہدایہ، حاشیہ خیر الدین بر بحر الرائق وغیرہ سے نقل کی ہیں اور خیر الدین رملی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ ایصال ثواب کے لئے قبر پر قرآن پڑھوانا یا اجرت دے کر ختم قرآن کروانا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین اور اسلاف امت رحمہم اللہ سے کہیں منقول نہیں اس لئے بدعت ہے (شامی ص ٤٧، ج ١
الآخذ والمعطی أثمان … فالحاصل أن ماشاء فی زماننا من قراء تہ الأجزاء بالأجرۃ لا یجوز لأن فیہ الأمر بالقراء ۃ و إعطاء الثواب للآمر، والقرأۃ لأجل المال فإذا لم یکن ثواب للقاری لعدم النیۃ الصحیحۃ فأین یصل الثواب إلی المستأجر؟ ولولا الأجرۃ ما قرأ أحد لأحد فی ہذاا لزمان بل جعلوا القرآن العظیم مکسبا و وسیلۃ إلی جمع الدنیا إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔ (شامي ۹؍۷۷ زکریا، رسائل ابن عابدین ۱؍۱۷۱، البحر الرائق ۸؍۱۹، الفتاویٰ الہندیۃ ۶؍۳۹۰)
إن ما أجازہ المتأخرون إنما أجازوہ للضرورۃ ولا ضرورۃ فی الإستئجار علی التلاوۃ فلا یجو۔ (رسائل ابن عابدین ۱؍۱۶۸)
تعلیم قرآن پہ اجرت لینا بتصریح حدیث بخاری وترمذی و اتفاق ائمہ ثلاثہ ومتاخرین حنفیہ جائز اور درست ہے۔ لہذا اس کی تعلیم وتعلم سے وابستہ افراد سب سے افضل عمل میں وابستہ شمار ہونگے اور اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش یقینا نہیں کہ یہ عمل صدقہ جاریہ ہے ۔۔ جہت عبادت کا انکار خطرناک امر ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ قَال سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَاکَ الَّذِي أَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا وَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ حَتَّی بَلَغَ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
سنن الترمذي ۔رقم الحدیث 2907۔
محمود بن غیلان، ابوداؤد، شعبہ، علقمہ بن مرثد، سعد بن عبیدہ، ابوعبدالرحمن، حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ اس حدیث کے روای ابوعبدالرحمن کہتے ہیں کہ اسی حدیث نے مجھے اس جگہ بٹھایا، چنانچہ انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے سے لے کر حجاج بن یوسف کے زمانے تک قرآن کی تعلیم دی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ہاں جن جگہوں پہ کوئی ضرورت نہیں، جہاں دین ونظام دین کے ضیاع کا کوئی خطرہ باقی نہ ہو جیسے مردوں کے ایصال ثواب کے لئے قرات قرآن پہ اجرت ۔۔تو ایسی جگہوں پہ اجرت قرآن والی ممانعت اپنی اصلی شکل میں باقی رہے گی اور اجرت دینے اور لینے والے دونوں گنہگار اور ثواب صدقہ سے محروم ہونگے۔
الآخذ والمعطی أثمان … فالحاصل أن ماشاء فی زماننا من قراء تہ الأجزاء بالأجرۃ لا یجوز لأن فیہ الأمر بالقراء ۃ و إعطاء الثواب للآمر، والقرأۃ لأجل المال فإذا لم یکن ثواب للقاری لعدم النیۃ الصحیحۃ فأین یصل الثواب إلی المستأجر؟ ولولا الأجرۃ ما قرأ أحد لأحد فی ہذاا لزمان بل جعلوا القرآن العظیم مکسبا و وسیلۃ إلی جمع الدنیا إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔ (شامي ۹؍۷۷ زکریا، رسائل ابن عابدین ۱؍۱۷۱، البحر الرائق ۸؍۱۹، الفتاویٰ الہندیۃ ۶؍۳۹۰)
إن ما أجازہ المتأخرون إنما أجازوہ للضرورۃ ولا ضرورۃ فی الإستئجار علی التلاوۃ فلا یجوز۔ (رسائل ابن عابدین ۱؍۱۶۸)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
سیدپور، بیگوسرائے ۔بہار

قرآن کی سب سے آخری آیت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب قرآن مجید کی آخری سورۃ کونسی ہے
سورہ توبہ یا سورہ النصر؟ ؟؟
بندہ خدا (مخفی)

الجواب وباللہ التوفیق:
قرآن کی سب سے آخری آیت کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور علماء کرام کی آراء مختلف ہیں۔ اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آخری آیت ہونے کی کوئی صراحت کسی حدیث میں نہیں ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اپنے اپنے قیاسات، اجتہادات اور اندازے ہیں۔ اس مسئلہ پہ دین و شریعت کا انحصار ہے اور نہ ہی امت کا کچھ فائدہ اس سے وابستہ ہے۔ اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی صراحت نہ فرمائی۔
حضرت براء بن عازب النساء کی آیت نمبر 176 ۔۔۔ حضرت عمر البقرہ کی آیت نمبر 278۔۔۔ ابن عباس البقرہ کی آیت 281۔۔۔دوسری روایت میں النساء کی آیت نمبر 93۔۔۔ ابی بن کعب التوبہ کی آخری آیت ۔۔۔معاویہ الکہف کی آیت نمبر 110۔۔۔انس التوبہ کی آیت نمبر 5۔۔۔ ام سلمہ آل عمران کی آیت نمبر 195۔۔۔۔ امام الحرمین الانعام کی آیت نمبر 145 کو قرآن کی آخری آیت کہتے تھے ۔
لیکن اکثر علماء کے یہاں المائدہ کی آیت نمبر 3 الیوم اکملت لکم ۔۔۔۔۔۔ قرآن کی آخری آیت ہے۔ آیت پاک کا مفہوم بھی اسی کی تائید کرتا ہے۔
بَاب (يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إِنْ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ) وَالْكَلَالَةُ مَنْ لَمْ يَرِثْهُ أَبٌ أَوْ ابْنٌ وَهُوَ مَصْدَرٌ مِنْ تَكَلَّلَهُ النَّسَبُ
4329 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ [ص: 1682] اللَّهُ عَنْهُ قَالَ آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ بَرَاءَةَ وَآخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ (يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ)
صحيح البخاري
بَاب قَوْلِهِ (بَرَاءَةٌ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنْ الْمُشْرِكِينَ) (أَذَانٌ) إِعْلَامٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ (أُذُنٌ) يُصَدِّقُ (تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ [ص: 1709] بِهَا) وَنَحْوُهَا كَثِيرٌ وَالزَّكَاةُ الطَّاعَةُ وَالْإِخْلَاصُ (لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ) لَا يَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (يُضَاهُونَ) يُشَبِّهُونَ
4377 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ ( يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي
الْكَلَالَةِ ) وَآخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ بَرَاءَةٌ
صحيح البخاري
3024 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ تَعْلَمُ وَقَالَ هَارُونُ تَدْرِي آخِرَ سُورَةٍ نَزَلَتْ مِنْ الْقُرْآنِ نَزَلَتْ جَمِيعًا قُلْتُ نَعَمْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَالَ صَدَقْتَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ تَعْلَمُ أَيُّ سُورَةٍ وَلَمْ يَقُلْ آخِرَ [ص: 2319] وَحَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ آخِرَ سُورَةٍ وَقَالَ عَبْدِ الْمَجِيدِ وَلَمْ يَقُلْ ابْنِ سُهَيْلٍ
صحيح مسلم۔
3063 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ حُيَيٍّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ الْمَائِدَةُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرُوِي عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ بَعْدَ الْمَائِدَةِ
سنن الترمذي۔
تحفة الأحوذي
قوله : (عن حيي) بضم الحاء المهملة وياءين من تحت ، الأولى مفتوحة هو ابن عبد الله بن شريح المعافري المصري ، صدوق يهم من السادسة .
قوله: (آخر سورة أنزلت سورة المائدة والفتح) قال السيوطي في الإتقان يعني إذا جاء نصر الله ويدل على ذلك قول ابن عباس الآتي : آخر سورة أنزلت إذا جاء نصر الله والفتح .
فإن قلت: ما وجه التوفيق بين حديث عبد الله بن عمرو هذا وبين ما رواه الشيخان عن البراء بن عازب قال: آخر آية نزلت يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة ، وآخر سورة نزلت براءة .
قلت: قال البيهقي: يجمع بين هذه الاختلافات بأن كل واحد أجاب بما عنده .
وقال القاضي أبو بكر في الانت صار: هذه الأقوال ليس فيها شيء مرفوع إلى النبي ـ صلى الله عليه وسلم ـ وكل قاله بضرب من الاجتهاد وغلبة الظن .
[ ص: 347 ] قوله: (هذا حديث حسن صحيح) وأخرجه الحاكم (وقد روي عن ابن عباس أنه قال إلخ) وصله مسلم.
مزید تفصیلات کے لئے الاتقان للسیوطی 77۔۔۔81/ جلد اول
اور دلائل النبوہ للبیہقی ملاحظہ  فرمائیں۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

Sunday, 3 September 2017

آخر روہنگیا مسلمانوں کا قصور کیا ہے؟

ایس اے ساگر
سماجی روابط کی ویب سائٹس پر برما کے  اراکان میں مسلمانوں کے خلاف مظالم پر حساس لوگ تڑپ کر پوچھ رہے ہیں کہ،
کہاں ہے وہ بے غیرت میڈیا جو طالبان کے نام پر بننے والی بربریت والی وڈیوز دکھاتا تھا مگر اب اس ظلم پر اندھا پن کیوں؟
کہاں ہیں بے غیرت سیاستدان جو اپنی جھوٹی اناوں کے نام پر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے نہیں تھکتے مگر اس ظلم پر انکی زبان بندی کیوں؟
کہاں ہے وہ بے غیرت موم بتی مافیا جو ایک کتے پر ہونے والے ظلم پر تو موم بتیاں جلاتا ہے مگر اس ظلم پر اندھے کیوں ہوگئے؟
کہاں ہیں روشن خیال تنظیمیں جو عورت کے پردہ کرنے کو تو استحصال کہتے ہیں مگر اس طرح کے ظلم پر اندھیر پن کیوں؟
کہاں ہیں حکمران جو بدعنوانی کے الزامات پر تو روز پریس کانفرنس کرتے ہیں مگر اس ظلم پر خاموش ہیں؟
کہاں ہیں سیاسی اپوزیشن جن کو حکمرانوں کے زمین کے اندر چھپے خزانے تو نظر آجاتے ہیں مگر اس ظلم پر ان کی آنکھوں نے دیکھنا چھوڑ دیا ہے؟
الفاظ یقینا سخت ہیں مگر اس ظلم پر بھی اگر زبان بندی رہے تو یہ موت کے مترادف ہوگا۔
لیکن اس کا کیا کیجئے کہ لوگوں کو تو عام طور پر یہ علم بھی نہیں ہے کہ روہنگیا مسلمان کون ہیں اور برما کے صوبہ اراکان کی تاریخ کیا ہے؟ برما یا میانمار کے علاقہ اراکان اور بنگلہ دیش کے علاقہ چاٹگام یاچٹاگانگ میں بسنے والے مسلمان روہنگیا کہلاتے ہیں. یہاں کے مسلمانوں نے ایسا کیا قصور کیا ہے کہ انھیں تشدد اور قتل عام کا نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے، اور اس مسئلہ کا کیا حل ہے جاننے سے قبل یہ سمجھ لیجئے کی مظالم اس طبقہ کے ہاتھوں ڈھائے جارہے ہیں جو مہاتما بدھ کے پیروکار ہے. عجیب بات تو یہ ہے کہ بودھ کو دنیا میں امن کا سب سے بڑا پیامبر اور عدم تشدد فلسفے کا داعی سمجھا جاتا ہے اور آپ کی فکر ہے کہ جس نے کسی جانور کو بھی قتل کیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے کسی انسان کو قتل کیا۔ دنیا بھر میں آپ کے پیروکاروں کی تعداد قریباً 35 کروڑ ہے جو زیادہ تر ایشائی ممالک میں آباد ہیں۔ ان ممالک میں جاپان، جنوبی کوریا، لائوس، منگولیا، سنگاپور، تائیوان، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، بھوٹان اور میانمار شامل ہیں۔ جنوب مشرقی ایشائی ملک میانمار، جسے برما کے پرانے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1937ء تک برصغیر کا ہی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ پھر برطانیہ نے 1937ء میں اسے برصغیر سے الگ کرکے ایک علاحدہ کالونی کا درجہ دے دیا اور 1948ء تک یہ علاقہ بھی برطانوی تسلط کے زیر اثر رہا۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بھی میانمار (برما) میں ہی جلاوطنی کے دن گزارنے پر مجبور کیا گیا اور آج بھی رنگون میں آپ کی قبر مغل سلطنت کے زوال اور برطانوی سفاکیت کے نوحے سناتی نظر آتی ہے۔ میانمار کی قریباً 5 کروڑ 60 لاکھ کی آبادی میں 89 فیصد بودھ، 4 فیصد مسلمان (تقریباً ساڑھے 22 لاکھ)، 4 فیصد عیسائی، 1 فیصد ہندو اور 2 فیصد دوسری قومیں آباد ہیں۔ یہاں پر اسلام کی آمد کے آثار 1050ء سے ملتے ہیں جب اسلام کے ابتدائی برسوں میں ہی عرب مسلمان تجارت کی غرض سے برما آئے اور پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ سات صوبوں کے اس ملک میں مسلمانوں کی اکثریت راکھین (رخائن) میں آباد ہے اور یہاں تقریباً 6 لاکھ کے قریب مسلمان بستے ہیں جنھیں روہنگیا کہا جاتا ہے۔
وفاق المدارس کے ناظم اعلی حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری رقمطراز ہیں کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے برما کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم کی داستانیں وقتاً فوقتاً میڈیا پر شائع ہوتی رہتی ہیں، جب سے سوشل میڈیا عام ہوا ہے، ان مظالم کے دلخراش مناظر اس پر بھی آنے لگے ہیں اور اقوام متحدہ نے اپنی ایک قرارداد میں یہ  بات بالکل بجا لکھی ہے کہ ’’روئے زمین کی سب سب سے مظلوم اقلیت اراکان برما کے مسلمان ہیں.‘‘ اراکان در حقیقت ایک آزاد مسلم ریاست تھا جو روہنگیا مسلمانوں کا آبائی وطن ہے۔ 1784 تک یہ ایک مستقل آزاد ریاست کی حیثیت سے دنیا کے نقشہ میں موجود رہا، اس کے بعد برما نے اس پر قبضہ کرکے ایک صوبے کے طور پر اسے اپنے ساتھ ضم کرلیا، ایک صدی بعد 1884 کے دوران برطانیہ نے برما پر قبضہ کیا تو اراکان بھی برطانیہ کے قبضے میں چلا گیا، برطانیہ سے آزادی کی تحریکیں جب برصغیر میں چلیں تو ہند، پاک کی طرح برما بھی آزاد ہوا، برما 1884 میں آزاد ہوا ہے، آزاد ہونے کے بعد برما نے اراکان کو اپنے ایک صوبے کے طور پر بھی اپنے ساتھ ضم رکھا اور اسے ایک آزاد مسلم ریاست کی حیثیت سے دوبارہ ابھرنے نہیں دیا۔ برما کی حکومت نے اراکان پر قبضہ کرکے جب سے اپنے ساتھ ضم کیا ہے، اسی وقت سے اس نے یہ پالیسی اپنا رکھی ہے کہ اس صوبے سے مسلمانوں کا خاتمہ کیا جائے، چونکہ یہ ایک آزاد مسلم ریاست تھی اور وہاں مسلمانوں ہی کی اکثریت تھی، اس لئے اس نے مسلمانوں کے خلاف وحشت ناک آپریشن کئے اور وقفے وقفے سے مسلمانوں کے خاتمے کے لئے برما حکومت فسادات کی آگ بھڑکاتی رہی ہے۔
٭… 1942 میں بودھوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک منظم تحریک شروع کی،
مارچ 1942 سے جون 1942 تک تین ماہ میں ڈیڑھ لاکھ مسلمان شہید اور پانچ لاکھ مسلمان بے گھر ہوئے۔
٭…1950 میں دوبارہ مسلمانوں کے خلاف تحریک اٹھی، تشدد کا آغاز ہوا، ہزاروں مسلمان شہید اور بے گھر کئے گئے۔
٭…1962 میں برما کے اندر فوجی حکومت کا قبضہ ہوا، برما کی ملٹری حکومت نے اراکان کے مسلمانوں کے خلاف تشد د کا سلسلہ شروع کیا جو وقفہ وقفہ سے 1982 تک جاری رہا، اس عرصہ میں بیس لاکھ سے زیادہ مسلمان ہجرت پر مجبور ہوئے اور لاکھوں شہید ہوئے۔
٭… 1991 اور 1997 میں بھی مسلمانوں پر بڑے منظم حملے ہوئے اور ہزاروں مسلمان شہید کئے گئے۔
٭…جون 2012 سے ایک بار پھر مسلمانوں پر حملوں کا آغاز کیا گیا، یہ حملے اکتوبر 2016 تک جاری رہے، رپورٹ کے مطابق صرف ابتدائی پندرہ دن میں بیس ہزار سے زاید مسلمان شہید کئے گئے۔
٭… اور اب 25 اگست 2017 کو ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا اور اطلاعات کے مطابق رواں ہفتہ کے اندر پندرہ بیس ہزار مسلمان جوان بوڑھے، بچے اور خواتین کو شہید کردیا گیا ہے … اراکان کے ان مظلوم مسلمانوں کے ساتھ بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کو ہجرت کرنے کے لئے نہ محفوظ راستہ ملتا ہے، نہ پڑوسی ملک انھیں قبول کرنے کے لئے تیار ہیں، ان کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے، بنگلہ دیش نے ان کے لئے اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں، تھائی لینڈ سے بھی ان کی سرحد ملتی ہے لیکن وہ بھی انھیں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں، 28 مارچ 2008 کو تھائی وزیر اعظم سماک سندارواج نے کہا کہ "تھائی بحیریہ کوئی ویران جزیرہ ڈھونڈ رہی ہے تاکہ روہینگیا مسلمانوں کو وہاں رکھا جا سکے۔ دریں اثنا ہزاروں خاندان کشتیوں میں ساحلوں کے چکر کاٹ رہے ہیں اور موت کی بھیانک تصویر کے سوا ان کی دادرسی کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اراکان کے مسلمانوں کے لیے ہلکی پھلکی آوازیں اٹھتی رہی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ نے برما حکومت سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے، 2012 میں ان عالمی اداروں کی کوششوں سے ایک کمیشن بھی تشکیل دیا گیا مگر عین وقت پر برما حکومت نے اقوام متحدہ کی زیر قیادت کمیشن کو قبول کرنے سے انکا ر کردیا، نومبر 2016میں یو این او کے اعلیٰ سطحی وفد نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور ان مظالم کی رپورٹ مرتب کی لیکن ظلم و جبر کے تسلسل میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ہم عید الاضحی کے اس موقع پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، رفاہی اداروں اور پورے عالم اسلام سے اپیل کرتے ہیں کہ انسانی مظالم کے اس کربناک المیہ کا مداوا کرنے کے لئے آگے بڑھیں ۔۔۔۔۔ ، جہاں بے یارومددگار انسانوں کی لاشیں جلتی ہیں ۔۔۔۔، خواتین کی عصمت دری کرکے ان کی ننگی لاشوں کو درختوں کے ساتھ لٹکا دیا جاتا ہے، بچوں کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بکھیر دیا جاتا ہے ،۔۔۔۔۔ جوانوں، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو ایک خندق میں جمع کرکے، اوپر سے بلڈوزر چلاکر انھیں زندہ دفن کردیا جاتا ہے، انھیں زندہ جلادیا جاتا ہے … یہ تما م مناظر، تصاویر اور ویڈیو کی شکل میں ساری دنیا دیکھ رہی ہے، ۔۔۔۔۔۔ عالم اسلام دیکھ رہا ہے، ۔۔۔۔۔ مسلمان دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔، انسانی حقوق کی تنظیمیں دیکھ رہی ہیں … لیکن نہ کوئی مؤثر آواز بلند ہوتی ہے، نہ ضمیر جاگتے ہیں … اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، ۔۔۔۔۔ عالم اسلام کی ذمہ داری ہے ۔۔۔۔۔، میڈیا اورمنبر و محراب سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، اہل قلم، دانشوروں اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے لئے آواز بلند کریں اور مؤثر طور پر بلند کریں ۔۔۔۔۔ جب تک ظالموں کے در ودیوار ہل نہ جائیں ۔۔۔۔ جب تک وہ ظلم سے باز نہ آجائیں … جب تک ان بے بسوں کے  زخموں کا مداوا نہ ہوجائے … اللہ ان بے یار و مددگار مسلمانوں پر کرم فرمائے ،۔۔۔۔۔ ان کی مدد فرمائے ۔۔۔۔۔، ہماری بے حسی اور غفلت کو دور فرمائے، ۔۔۔۔۔۔ ایک درد دل رکھنے والا مسلمان یہی کہہ سکتا ہے کہ  …
میں بلبل نالاں ہوں، اک اجڑے گلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو داتا دے
سوال یہ پیدا ہوتا پے کہ آخر ان روہنگیا مسلمانوں کا قصور کیا ہے؟ اس کا جواب پروفیسر اسمعیل بدایونی کی دردناک تحریر سے لگایا جاسکتا ہے؛ 
"بستی میں خوف و ہراس پھیل چکا تھا، خوف کے سبب کلیجے منہ کو آگئے ۔۔۔۔ چاروں طرف سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے ۔
مائیں اپنے بیٹوں کو دیکھ رہی تھی جو کچھ ہی دیر بعد بے رحمی سے ذبح کر دئیے جائیں گے ۔۔۔۔۔۔ خوف زدہ نگاہوں نے بیٹیوں کے وجود کا طواف کیا ہزار ضبط کے باجود ماؤں کی چیخیں نکل گئیں ۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں سفاک درندے بستی میں پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔ مکروہ چہروں سے چھلکتی سفاکی بے بس نوجوانوں کو ذبح کرنے کے بعد مسلم دوشیزاؤں کے جسم کو اپنی درندگی کا شکار بنانے کو تیار تھی ۔۔۔۔۔۔
نومولود بچوں کو جلتی ہوئی آگ میں پھینکا جا رہا تھا ۔۔۔۔
تم کیوں میر ی جان لینا چاہتے ہو ؟ بے بس مسلمان بہن جس نے ابھی ابھی اپنی نگاہوں کے سامنے اپنے باپ اور بھائی کو ان درندوں کے ہاتھوں ذبح ہوتے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔برما کی مظلوم مسلمان بیٹی ،ان ظالموں سے پوچھ رہی تھی۔
تم محمد (ﷺ) کا کلمہ پڑھتی ہو ۔۔۔۔ تم مسلمان ہو ۔۔۔ تم یہ کلمہ پڑھنا چھوڑ دو ہم تمھیں چھوڑ دیں گے ۔۔۔۔۔۔
یہ دین تو مجھے جان سے بھی زیادہ پیار ا ہے اس کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں ہم نے تمھیں تو کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔ تمھارے مذہب پر انگلی بھی نہیں اٹھائی، پھر تم کیوں ہمیں زندہ رہنے کا حق نہیں دیتے؟ ۔۔۔۔۔کیوں ہم مظلوموں کو مارتے ہو ؟ ۔۔۔۔۔ کیا بگاڑا ہے ہم نے تمھارا؟
اتنی حق گوئی ۔۔۔۔ اتنی جرأت وہ بھی بدھ مت کے سفاک پیروکارو ں کے سامنے؟
اس عورت کی عزت کو تار تار نہیں کیا گیا بلکہ اس کی وڈیو بھی بنائی گئی ۔۔۔۔۔۔ اس نے روتی ہوئی آ نکھوں، درد و الم سے چور چور وجود کے ساتھ کہا: 
تم نے میرے باپ بھائی اور ماں کو میرے سامنے قتل کیا لیکن تمھاری درندگی کی آگ نہیں بجھی، پھر تم نے میری عفت و عصمت کو تار تار کر دیا اب کم از کم اس کی ویڈیو تو مت بناؤ ۔۔۔۔۔۔
درندوں کے قہقہوں سے بستی گونج اٹھی ارے او بنتِ اسلام! اس وڈیو کو سوشیل میڈیا پر ڈالیں گے پھر ساری دنیا میں موجود تیرے مسلمان بھائی اس کو دیکھ کر تڑپیں گے اس لذت کا اپنا مزہ ہے ۔۔۔۔ مسلمانوں کی تڑپتی لاشوں کو دیکھنے میں جو مزہ ہے وہ رقصِ طوائف اور سرورِ شراب میں بھی نہیں ۔۔
اب محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی جیسی غیرت کسی مسلمان میں نہیں رہی، یہ کہہ کر ان درندوں نے تیز دھار برچھی اس لڑکی شرمگاہ میں ڈال دی اور بنت ِ اسلام کی فلک شگاف چیخوں پر قہقہے لگانے لگے۔ عالمی سطح پر ان مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کی جائے اور مسلمانوں کے لیے اندھی بہری اقوام متحدہ کو جھنجھوڑا جائے یا پھر عام مسلمانوں کو جہاد کی عام اجازت دی جائے کیونکہ قرآن کا یہ ہی حکم ہے۔
وَ مَا لَکُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الۡوِلۡدَانِ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ الظَّالِمِ اَہۡلُہَا ۚ وَ اجۡعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۚ ۙ وَّ اجۡعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ نَصِیۡرًا 75:04
اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے،

مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ علیہ کا برما کے رنگون میں تاریخی خطاب
ﺑﺮﻣﺎ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ 1960 ﻋﯿﺴﻮی ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺳﯿﺪ ﺍﺑﻮﺍﻟﺤﺴﻦ ﻋﻠﯽ ﻧﺪﻭﯼ ﺭﺣﻤۃُ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺑﺮﻣﺎ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺐ ﺁﭖ ﺭﺣﻤۃُ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮ! ﻣﯿﮟ ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮯ 300 ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺮﺻﮧ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﮨﮯ ‏(ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺮﻣﺎ) ﻣﯿﮟ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﺑﻦ ﺟﺎﺅﮔﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﻭ ﺟﺎﺑﺮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻣﺴﻠﻂ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻋﻼﺝ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ 
1. ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ 
2. ﻣﯿﻞ ﺟﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﻦ ﺳﻠﻮﮎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ 
3. ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﺳﺘﮧ ﮐﺮﻭ۔ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﺟﺎﺅ، ﻣﮕﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﻮ ﺁﺝ ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﮯ!
‏
https://youtu.be/ii0fxKANuD0
آج جو حالات برما میں ہیں، وہ دن دور نہیں کہ وطن عزیز میں بھی پیش آجائیں، ایسے میں
اب سوال یہ پیدا پوتا یے کہ آخر اس مسئلہ  کا حل کیا ہے؟ 
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے ہی اپنی ایک تقریر میں اس کی وضاحت بھی کی ہے  جو انھوں نے ۱۹۸۲ کے دوران حیدر آباد کے اندر ایسی نششت میں کی تھی جس کے اندر علمائے کرام، فضلائے مدارس، دینی اداروں اور 
تنظیموں کے سربراہ تھے؛
اقتباس ملاحظہ فرمائیے؛ 
حضرات!
علماء کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو زندگی کے حقائق، ملک کے حالات، ماحول کے تغیرات اور تقاضوں سے باخبر اور روشناس رکھیں، انکی کوشش رہنی چاہئے کہ مسلم معاشرے کا رابطہ زندگی اور ماحول سے کٹنے نہ پائے اس لئے کہ اگر دین اور مسلمانوں کا رابطہ زندگی سے کٹ گیا اور وہ خیالی دنیا میں زندگی گزارنے لگے تو پھر دین کی آواز بے اثر ہوگی اور وہ دعوت و اصلاح کا فرض انجام نہیں دے سکیں گے اور اتنا ہی نہیں ہوگا بلکہ اس دین کے حاملین کو اس ملک میں رہنا مشکل ہوجائے گا، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جہاں علماء نے سب کچھ کیا لیکن زندگی کے حقائق سے امت کو روشناس نہیں کیا اس ماحول میں اپنے فرائض کے انجام دینے کی انھوں نے تلقین نہیں کی ایک اچھا شہری ایک مفید عنصر بننے اور اس ملک کی قیادت حاصل کرنے کی اہلیت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی وہاں اس ملک نے ان کو اس طرح اگل دیا جیسے لقمہ اگلا جاتا ہے اور ان کو اگل کر باہر پھینک دیا، اس لئے کہ انھوں نے اپنی جگہ نہیں بنائی تھی،

آج ہندوستان کے مسلمان ایک دانشمندانہ اور حقیقت پسندانہ دینی قیادت کے محتاج ہیں آپ اگر مسلمانوں کو سو فیصدی تہجد گزار بنا دیں سب کو متقی و پرہیزگار بنادیں لیکن ان کا ماحول سے کوئی تعلق نہ ہو وہ یہ نہ جانتے ہوں کہ ملک کدھر جا رہا ہے، ملک ڈوب رہا ہے، ملک میں بداخلاقی وبا اور طوفان کی طرح پھیل رہی ہے ملک میں مسلمانوں سے نفرت پیدا ہو رہی ہے تو تاریخ کی شہادت ہے پھر تہجد تو تہجد پانچ وقتوں کی نمازوں کا پڑھنا بھی مشکل ہو جائے گا، اگر آپ نے دینداروں کے لیے اس ماحول میں جگہ نہیں بنائی اور ان کو ملک کا بے لوث مخلص اور شائستہ شہری ثابت نہیں کیا جو ملک کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور ایک بلند کردار پیش کرتا ہے، تو آپ یاد رکھیئے کہ عبادات و نوافل اور دین کی علامتیں اور شعائر تو الگ رہے وہ وقت بھی آ سکتا ہیکہ مسجدوں کا باقی رہنا بھی مشکل ہو جائے اگر آپ نے مسلمانوں کو اجنبی بنا کر اور ماحول سے کاٹ کر رکھا، زندگی کے حقائق سے ان کی آنکھیں بند رہیں اور ملک میں ہونے والے انقلابات، نئے بننے والے قوانین، عوام کے دلوں دماغ پر حکومت کرنے والے رجحانات سے وہ بے خبر رہے تو پھر قیادت  تو الگ رہی (جو خیر امۃ کا فرض منصبی ہے ) اپنے وجود کی حفاظت بھی مشکل ہو جائے گی؛ کاروان زندگی ج ۲، ص ۳۷۳ ـ


आख़िर कौन हैं रोहिंग्या मुसलमान?
ये कहा जाता है कि दुनिया में रोहिंग्या मुसलमान ऐसा अल्पसंख्यक समुदाय है जिस पर सबसे ज़्यादा ज़ुल्म हो रहा है.
आख़िर रोहिंग्या कौन हैं? इनसे म्यांमार को क्या दिक्क़त है? ये भागकर बांग्लादेश क्यों जा रहे हैं? इन्हें अब तक नागरिकता क्यों नहीं मिली? आंग सान सू ची दुनिया भर में मानवाधिकारों की चैंपियन के रूप में जानी जाती हैं और उनके रहते यह ज़ुल्म क्यों हो रहा है? जानें सबकुछ-
रोहिंग्या कौन हैं?
म्यांमार की बहुसंख्यक आबादी बौद्ध है. म्यांमार में एक अनुमान के मुताबिक़ 10 लाख रोहिंग्या मुसलमान हैं. इन मुसलमानों के बारे में कहा जाता है कि वे मुख्य रूप से अवैध बांग्लादेशी प्रवासी हैं. सरकार ने इन्हें नागरिकता देने से इनकार कर दिया है. हालांकि ये म्यामांर में पीढ़ियों से रह रहे हैं. रखाइन स्टेट में 2012 से सांप्रदायिक हिंसा जारी है. इस हिंसा में बड़ी संख्या में लोगों की जानें गई हैं और एक लाख से ज्यादा लोग विस्थापित हुए हैं.
बड़ी संख्या में रोहिंग्या मुसलमान आज भी जर्जर कैंपो में रह रहे हैं. रोहिंग्या मुसलमानों को व्यापक पैमाने पर भेदभाव और दुर्व्यवहार का सामना करना पड़ता है. लाखों की संख्या में बिना दस्तावेज़ वाले रोहिंग्या बांग्लादेश में रह रहे हैं. इन्होंने दशकों पहले म्यांमार छोड़ दिया था.
आख़िर रखाइन राज्य में हो क्या रहा है?
म्यांमार में मौंगडोव सीमा पर 9 पुलिस अधिकारियों के मारे जाने के बाद पिछले महीने रखाइन स्टेट में सुरक्षा बलों ने बड़े पैमाने पर ऑपरेशन शुरू किया था. सरकार के कुछ अधिकारियों का दावा है कि ये हमला रोहिंग्या समुदाय के लोगों ने किया था. इसके बाद सुरक्षाबलों ने मौंगडोव ज़िला की सीमा को पूरी तरह से बंद कर दिया और एक व्यापक ऑपरेशन शुरू किया.
रोहिंग्या कार्यकर्ताओं का कहना है कि 100 से ज्यादा लोग मारे जा चुके हैं और सैकड़ों लोगों को गिरफ़्तार किया गया है. म्यामांर के सैनिकों पर मानवाधिकारों के उल्लंघन के संगीन आरोप लग रहे हैं. सैनिकों पर प्रताड़ना, बलात्कार और हत्या के आरोप लग रहे हैं. हालांकि सरकार ने इसे सिरे से खारिज कर दिया है. कहा जा रहा है कि सैनिक रोहिंग्या मुसलमानों पर हमले में हेलिकॉप्टर का भी इस्तेमाल कर रहे हैं.
क्या म्यांमार सरकार इसके लिए दोषी है?
म्यांमार में 25 वर्ष बाद पिछले साल चुनाव हुआ था. इस चुनाव में नोबेल विजेता आंग सान सू ची की पार्टी नेशनल लीग फोर डेमोक्रेसी को भारी जीत मिली थी. हालांकि संवैधानिक नियमों के कारण वह चुनाव जीतने के बाद भी राष्ट्रपति नहीं बन पाई थीं. सू ची स्टेट काउंसलर की भूमिका में हैं. हालांकि कहा जाता है कि वास्तविक कमान सू ची के हाथों में ही है. अंतरराष्ट्रीय स्तर पर सू ची निशाने पर हैं. आरोप है कि मानवाधिकारों की चैंपियन होने के बावजूद वे खामोश हैं. सरकार से सवाल पूछा जा रहा है कि आख़िर रखाइन में पत्रकारों को क्यों नहीं जाने दिया जा रहा है. राष्ट्रपति के प्रवक्ता ज़ाव हती ने कहा है कि अंतरराष्ट्रीय स्तर पर इसकी ग़लत रिपोर्टिंग हो रही है.
क्या कर रही हैं आंग सान सू ची?
आंग सान सू ची अभी अपने मुल्क की वास्तविक नेता हैं. हालांकि देश की सुरक्षा आर्म्ड फोर्सेज के हाथों में है. यदि सू ची अंतराष्ट्रीय दवाब में झुकती हैं और रखाइन स्टेट को लेकर कोई विश्वसनीय जांच कराती हैं तो उन्हें आर्मी से टकराव का जोखिम उठाना पड़ सकता है. उनकी सरकार ख़तरे में आ सकती है.
पिछले 6 हफ्तों से आंग सान सू ची पूरी तरह से चुप हैं. वह इस मामले में पत्रकारों से बात भी नहीं कर रही हैं. जब इस मामले में उन पर दबाव पड़ा तो उन्होंने कहा था कि रखाइन स्टेट में जो भी हो रहा है वह 'रूल ऑफ लॉ' के तहत है. इस मामले में अंतरराष्ट्रीय स्तर पर काफी आवाज़ उठ रही है. म्यांमार में रोहिंग्या के प्रति सहानुभूति न के बराबर है. रोहिंग्या के ख़िलाफ़ आर्मी के इस क़दम का म्यांमार में लोग जमकर समर्थन कर रहे हैं.
बांग्लादेश की आपत्ति
बांग्लादेश के विदेश मंत्रालय ने बुधवार को म्यांमार के राजदूत से इस मामले पर गहरी चिंता जताई है. बांग्लादेश ने कहा कि परेशान लोग सीमा पार कर सुरक्षित ठिकाने की तलाश में यहां आ रहे हैं.
बांग्लादेश ने कहा कि सीमा पर अनुशासन का पालन होना चाहिए. बांग्लादेश अथॉरिटी की तरफ से सीमा पार करने वालों को फिर से म्यांमार वापस भेजा जा रहा है. एमनेस्टी इंटरनेशनल ने इसकी कड़ी निंदा की है और कहा है कि यह अंतरराष्ट्रीय नियमों का उल्लंघन है.
बांग्लादेश रोहिंग्या मुसलमानों को शरणार्थी के रूप में स्वीकार नहीं कर रहा है. रोहिंग्या और शरण चाहने वाले लोग 1970 के दशक से ही म्यांमार से बांग्लादेश आ रहे हैं. इस हफ्ते की शुरुआत में ह्यूमन राइट्स वॉच ने एक सैटलाइट तस्वीर जारी की थी. इसमें बताया गया था कि पिछले 6 हफ्तों में रोहिंग्या मुसलमानों के 1,200 घरों को तोड़ दिया गया.
http://www.bbc.com/hindi/international-38101136

اللہ فرماتا ہے یا فرماتے ہیں؟


سوال: السلام علیکم
مفتیان کرام متوجہ ہوں
ایک شخص نے سوال کیا ہے
کہ مقررین کہتے ہیں
( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے)
(یا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں)
ان دونوں جملوں میں کون سا بہتر ہے
براہ کرم جواب مرحمت فرمائیں
مع حوالہ عنایت فرمائیں.
جواب: اگر مقام؛ " مقامِ توحید" ہے تو "فرماتا ہے." مناسب ہے. 
اور
اگر "مقامِ عظمت" ہے تو "فرماتے ہیں" مناسب ہے.
نوٹ: جب وحدانیت کا لحاظ کرکے "فرماتا ہے" کہیں تو اس وقت صیغۂ  تعظیم "تعالی" نہ لگاویں تو بہتر. 
ھذا ماعندی 
واللہ اعلم بالصواب


اللہ رب العزت کے لئے واحد اور جمع دونوں صیغوں کا استعمال کرنا جائز ہے

سوال ]۱۲[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ خدا کے لئے واحد کا صیغہ استعمال کریں یا جمع کا؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی: محمد شاہجہاں خان جامع مسجد نجیب آباد
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جمع کا صیغہ بطور تعظیم استعمال کرنا جائز ہے، خود قرآن کریم میں بہت سی جگہ موجود ہے: 
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ۔ [سورۃ الحجر، رقم الآیۃ: ۹]
وَلَقَدْ نَادَیْنَا نُوْحًا … المُجِیْبُوْن۔ [سورۃ الصافات، رقم الآیۃ: ۷۵]
وَمَا نَحْنُ بِمُعَذّبیْنَ۔ [سورۃ الأنعام، رقم الآیۃ: ۲۹] 
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ۔ [سورۃ یوسف، رقم الآیۃ: ۳] 
لیکن اردو کے محاورہ کے لحاظ سے واحد کا صیغہ استعمال کرنا اولی اور بہتر ہے۔ (مستفاد: کفایت المفتی قدیم ۱/ ۶۲، جدید ۱/ ۱۴۲، زکریا مطول ) فقط واللہتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
۴؍ محرم الحرام ۱۴۰۸ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۲۳/ ۴۳۰)
فتاوی قاسمیہ

Friday, 1 September 2017

عید قرباں؛ چند گزارشات

سب سے پہلے آپ میری طرف سے عیدِ قرباں کی مبارک باد قبول فرمائیں، عید کے یہ ایام آپ کے مستقبل کی مسرتوں کے لیے مضبوط بنیاد ثابت ہوں، میں بہت خوش ہوں، آپ بھی بہت مسرور ہیں، خدا کرے کہ شادمانی کی یہ بادِ بہاری ہم سب کی یوں ہی قدم بوس رہے۔۔۔

یہ بقرعید بھی ہے اور عید الاضحیٰ بھی:

آگے بڑھنے سے پہلے عوام کی غلط فہمی کے ازالے کے لئے یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ عید قرباں کے کئی نام ہیں، یہ نام دراصل وجہِ تسمیہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں، احادیث میں اسے عیدالاضحیٰ کہا گیا ہے، اسی کا ترجمہ "عیدِ قرباں" ہے، کسی دور میں ہندوستان میں اس عید کے موقع پر "گائے" کی قربانی ہی بیش تر ہوتی، اسی لئے اس کو "بقرعید" بھی کہا گیا، بقر کے معنیٰ گائے، بیل کے ہیں، یعنی گائے بیل کی قربانی والی عید ۔۔۔ بعض لوگ اسے بگاڑ کر "بکرا عید" کہتے ہیں، عرفاٗ یہ غلط ہے، اگرچہ اس اصطلاح کے تلفظ میں شرعاً کوئی خرابی نہیں، مگر دیکھا جائے تو یہ بقرعید کی ہی بگڑی ہوئی شکل ہے، اس لئے "بکراعید" کا املا بظاہر نادرست ہے ۔۔۔

عیدِ قرباں کی اہمیت:

عیدِ قرباں کی فضیلت و اہمیت عام اور آشکار ہے، پہلی بات تو یہ کہ یہ ہمارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، معلوم ہے کہ ہمارا مذہب "ملتِ ابراہیمی" بھی کہلاتا ہے، پیغمبر صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کو اس عید سے بھی بڑی محبت تھی اور نماز کے بعد بڑے اہتمام سے قربانیاں فرماتے، قربان شدہ جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی کا وعدہ خود زبانِ رسالت نے سنائی ہے، یہ جانور پل صراط پر سواری کا بھی کام دیں گے، قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ اللہ کو کوئی عمل اتنا پسند نہیں، یہ ایک ایسی عبادت ہے کہ آم کے آم بھی ہیں اور گٹھلیوں کے دام بھی، اسی کو کہتے ہیں: "ہم خرما و ہم ثواب"، عوامی زبان میں اسی کو "دونوں ہاتھوں میں لڈو" سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، مسلمان گوشت بھی کھاتے ہیں اور ثواب بھی پاتے ہیں، ان دنوں کی خاص بات یہ بھی ہے کہ مسلمان اللہ کا مہمان ہوتا ہے، ان دنوں میں مسلمانوں کو قبولیت کی معراج مل جاتی ہے۔۔۔

قربانی کا گوشت مہینوں کیلئے ذخیرہ نہ کریں:

آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کو قربانی جیسی عظیم عبادت ادا کرنے کی توفیق ملی، آپ اس پر اللہ کا جتنا شکر ادا کریں، کم ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ عرض بھی ہے کہ آپ قربانی کا گوشت شریعت کے مطابق استعمال کریں، غریبوں کو کھلائیں، دوست احباب کو ہدیہ کریں اور خود بھی کھائیں، جدید دور میں ایک بڑی خرابی ذخیرہ اندوزی کی آگئی ہے، لوگ بڑے بڑے فریج میں گوشت کا ذخیرہ کرلیتے ہیں اور مہینوں چلاتے ہیں، اس عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گوشت کی تقسیم اچھی طرح نہیں ہوئی، دوسری بات یہ ہے کہ اس طرح کھانے سے صحت پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے، تیسری بات یہ کہ بسا اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ گوشت درازئ زمانہ کی وجہ سے سڑ گیا، جس کے نتیجے میں اسے پھینک دیا گیا، ہماری بہاری زبان میں اسی کو کہتے ہیں: نہ تو کو، نہ موکو، چولھے میں جھونکو۔۔ یعنی کسی کے کام نہ آسکا، لہذا گوشت کا ذخیرہ اتنا ہی کیا جائے جسے زیادہ سے زیادہ دو تین ہفتوں تک چلایا جاسکے، واقعہ یہ ہے کہ جب سے فریج آیا ہے مستحقین تک گوشت پہونچنا مشکل ہو گیا ہے۔۔۔

مووی نہ بنائیں،تصویر نہ کھینچیں:

عبادت کوئی بھی ہو، اخلاص چاہتی ہے، اخلاص کے بغیر بڑے سے بڑا عمل جھاگ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو قربانی کی سکت دی ہے تو پورے اخلاص و للہیت کے ساتھ خون بہائیں، اس کی تصویریں نہ بنائیں، اس کا ویڈیو تیار نہ کریں، یہ ویسے بھی حرام ہے، عبادات کی تصویر کشی اخلاص نہ ہونے کو بتاتی ہے، اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قربانی کرنے والے نے یہ عبادت بغرضِ نمائش کی ہے، یہ ریاکاری جیسے خطرناک اور مہلک مرض کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے، آپ یہ عبادت بصد شوق انجام دیں، مگر تصویر کشی سے باز رہیں، یہ میری آپ سے مخلصانہ گزارش ہے۔۔۔

سوشل میڈیا پر قربانی کی تشہیر نہ کریں:

بعض احباب بہرحال تصویریں بنا ڈالتے ہیں، یہ ان کا عمل ہے، وہ جانیں، مگر ان سے اتنی گزارش ہے کہ ویڈیو اور تصویریں سوشل میڈیا پر ہر گز نہ ڈالیں، معلوم ہے کہ حالات خراب ہیں، اسلام دشمن طاقتیں معمولی معمولی باتوں کا بہانہ لے کر اسلام میں مداخلت کرنے لگی ہیں، طلاق کا مسئلہ بالکل تازہ قصہ ہے، گاے بیل پر پابندی بھی کوئی پرانی بات نہیں ہوئی، اگر آپ قربان شدہ 'جانوروں' کی تصویریں عام کریں گے تو فساد بھڑک اٹھنے کا خطرہ ہے، پھر "جس کی لاٹھی، اس کی بھینس" کا معاملہ پیش آسکتا ہے، ہم مسلمان "آ بیل مجھے مار! " کا فارمولہ نہیں اپناتے، فتنوں سے حتی الامکان دور بھاگتے ہیں۔۔۔

دوسرے اسلامی ممالک سے بھی درخواست:

اس کے ساتھ ہی دوسرے اسلامی ممالک کے باشندگان سے بھی درخواست ہے کہ وہ بھی اپنے ذبیحے کی متحرک اور جامد تصویریں سوشل میڈیا پر ہرگز نہ ڈالیں، کام آپ کریں گے اور یہاں پریشانی ہمیں ہوگی، ہر مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی کا خیال رکھنا چاہیے، ہم اپنے عمل سے دنیا کو یہ دکھادیں کہ ہمارے یہاں دل شکنی نہیں، دل جوئی ہے، ہم عبادت کرتے ہیں، کسی کو اذیت نہیں پہونچاتے۔۔۔

چرمِ قربانی سے مدارسِ اسلامیہ کی امداد فرمائیں

ایک گزارش اور آخری گزارش یہ بھی ہے کہ قربانی کی کھالیں مستحق مدارسِ اسلامیہ کو عطا فرمائیں، رمضان کے بعد مدارس کے استحکام کا دوسرا موقع عیدالاضحیٰ بھی ہے، آپ ان پر توجہ دیں، ان کے اساتذہ اور طلبہ آپ تک پہونچیں تو ان کی مدد فرمائیں، مدارس کی خدمت دین ہی کی خدمت ہے، آپ حتی الامکان ان کے دست و بازو بنیں، آپ کو عید قرباں کی ایک بار پھر مبارکباد ۔۔۔

علامہ فضیل احمد ناصری

ایام تشریق کی وضاحت

روزوں کے لئے ممنوع ایام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"التشريق" گوشت خشک کرنے کے کام کو کہتے ہیں۔
ایام التشریق: عید الاضحی (یوم النحر ) کے بعد تین دن  یعنی 11۔12۔13 ذی الحجہ جن میں گوشت دھوپ میں  خشک کیا جاتا ہے ۔۔۔کو کہتے ہیں۔
یہ ایام تشریق کے حقیقی معنی ہوئے۔
مجازا نویں ذی الحجہ سے تیرھویں تک کے پانچ ایام جن میں تکبیر تشریق پڑھی جاتی ہے ۔۔ کو بھی ایام تشریق کہدیتے ہیں۔ (ہدایہ 420/4 )
لیکن یہ اطلاق مجازی ہے، حقیقی نہیں۔
صحاح اور سنن کی مخلتف روایات میں ایام تشریق میں روزے کی ممانعت آئی ہے۔
تو اب یہاں ایام تشریق کے معنی حقیقی ہی مراد ہونگے ۔
اگر تکبیر تشریق والے ایام بھی مراد لیں تو پھر روزہ کے ممنوع ایام پانچ نہیں، بلکہ چھ ہوجائیں گے جو خلاف شریعت ہے،
مسلم شریف کی حدیث میں ہے: 

1141 وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ نُبَيْشَةَ قَالَ خَالِدٌ فَلَقِيتُ أَبَا الْمَلِيحِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ فَذَكَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَزَادَ فِيهِ وَذِكْرٍ لِلَّهِ
صحیح مسلم ۔

اس کی شرح میں علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتےہیں :

قوله صلى الله عليه وسلم: ( أيام التشريق أيام أكل وشرب )، وفي رواية : ( وذكر لله عز وجل ) ، وفي رواية : ( أيام منى ) ، وفيه دليل لمن قال : لا يصح صومها بحال ، وهو أظهر القولين في مذهب الشافعي ، وبه قال أبو [ ص: 209 ] حنيفة وابن المنذر وغيرهما ، وقال جماعة من العلماء : يجوز صيامها لكل أحد تطوعا وغيره ، حكاه ابن المنذر عن الزبير بن العوام وابن عمر وابن سيرين ، وقال مالك والأوزاعي وإسحاق والشافعي في أحد قوليه : يجوز صومها للتمتع إذا لم يجد الهدي ، ولا يجوز لغيره ، واحتج هؤلاء بحديث البخاري في صحيحه عن ابن عمر وعائشة قالا : لم يرخص في أيام التشريق أن يصمن إلا لمن لم يجد الهدي . وأيام التشريق ثلاثة بعد يوم النحر ، سميت بذلك لتشريق الناس لحوم الأضاحي فيها ، وهو تقديدها ونشرها في الشمس ، وفي الحديث استحباب الإكثار من الذكر في هذه الأيام من التكبير وغيره .

قوله : ( عن نبيشة الهذلي ) هو بضم النون وفتح الباء الموحدة وبالشين المعجمة ، وهو نبيشة بن عمرو بن عوف بن سلمة .

اردو ترجمہ:

وعن نبيشة الهذلي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " أيام التشريق أيام أكل وشرب وذكر الله " . رواه مسلم
ترجمہ:
حضرت نبیشہ ہزلی رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں۔ (مسلم)

ایام تشریق تین دن ہیں ذی الحجہ کی گیارہویں بارہویں اور تیرہویں تاریخ، یہاں ایام تشریق کا لفظ تغلیباً ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یوم نحر بقر عید کا دن بھی کھانے پینے کا دن ہے بلکہ اصل تو وہی دن ہے اور تین دن اس کے بعد تابع ہیں لہٰذا ان چار دنوں میں روزے رکھنے حرام ہیں۔
حضرت ابن ہمام فرماتے ہیں کہ نو روز اور مہر جان کو روزہ رکھنا مکروہ ہے کیونکہ ان دنوں میں روزہ رکھنے سے ان ایام کی تعظیم لازم آئے گی جو شریعت اسلامی میں ممنوع ہے ہاں اگر کوئی شخص اپنے معمول کے مطابق پہلے سے روزہ رکھتا چلا آرہا ہو اور اتفاق سے یہ ایام بھی اس کے معمول کے درمیان آجائیں تو پھر ان دنوں کے روزے ممنوع نہیں ہوں گے۔
وذکر اللہ اس جملہ سے یہ انتباہ مقصود ہے کہ یہ ایام اگرچہ خوشی و مسرت اور کھانے پینے کے دن ہیں مگر ان امور میں مشغولیت کے باوجود اللہ کی یاد اور عبادت سے غافل نہ ہونا چاہئے گویا اس آیت کی طرف اشارہ ہے کہ۔ آیت (وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْ اَ يَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ) 2۔ البقرۃ : 203)۔ اور یاد کرو اللہ تعالیٰ کو گنتی کے چند دنوں میں۔ اور ذکر اللہ سے مراد ایام تشریق میں نمازوں کے بعد پڑھی جانے والی تکبیرات، قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت تکبیرات اور حج کرنے والوں کے لئے رمی جمار وغیرہ ہیں۔

سنن ترمذی میں ہے:

بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الصَّوْمِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ 

773 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّعَنْ أَبِيهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَسَعْدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَنُبَيْشَةَ وَبِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ وَأَنَسٍ وَحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَعَائِشَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [ص: 144] قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ الصِّيَامَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ إِلَّا أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ رَخَّصُوا لِلْمُتَمَتِّعِ إِذَا لَمْ يَجِدْ هَدْيًا وَلَمْ يَصُمْ فِي الْعَشْرِ أَنْ يَصُومَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَهْلُ الْعِرَاقِ يَقُولُونَ مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ وَأَهْلُ مِصْرَ يَقُولُونَ مُوسَى بْنُ عُلِيٍّ وَقَالَ سَمِعْت قُتَيْبَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍيَقُولُ قَالَ مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ لَا أَجْعَلُ أَحَدًا فِي حِلٍّ صَغَّرَ اسْمَ أَبِي 
سنن الترمذی

ہناد، وکیع، موسیٰ بن علی، حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عرفہ کا دن اور عیدالاضحی کا دن اور ایام تشریق (یعنی ذی الحجہ کی گیارہویں، تیرہویں تاریخ) ہم مسلمانوں کے عید اور کھانے پینے کے دن ہیں۔ اس باب میں حضرت علی ؓ سعد، ابوہریرہ ؓ جابر نبیشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، بشر بن سحیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، انس ؓ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عائشہ عمرو بن عاص ؓ اور عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عقبہ بن عا مر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ ایام تشریق میں روزے رکھنا مکروہ ہے لیکن صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت اور بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم متمتع کے لئے اگر اس کے پاس قربانی کے لئے جانور نہ ہو تو روزہ رکھنے کی اجازت دیتے ہیں بشرطیکہ اس نے پہلے دس دنوں میں روزے نہ رکھے ہوں۔ امام شافعی رحمہ اللہ ، مالک رحمہ اللہ، احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ اہل عراق موسیٰ بن علی بن رباح اور اہل مصر موسی بن علی کہتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ میں نے قتیبہ کو لیث بن سعد کے حوالے سے کہتے ہوئے سنا ہے کہ موسیٰ بن علی کہا کرتے تھے کہ میں اپنے باپ کے نام کی تصغیر کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔
ان تمام احادیث شریفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ

ایام تشریق ، تکبیر تشریق والے ایام یعنی 9 تا 13 کو نہیں کہتے !
بلکہ ایام تشریق 11۔12۔13
ذی الحجہ کے تین ایام کو کہتے ہیں۔ یہی اس کے معنی حقیقی ہیں۔
ایام تشریق ان تین ایام کو اس لئے کہتے ہیں کہ شروع میں انہی تین ایام میں گوشت سکھاتے تھے۔تشریق کے معنی سکھانے کے آتے ہیں ۔
اس اعتبار سے ایام تشریق کے تینوں ایام کے روزوں  اور یوم النحر اور عید الفطر (کل پانچ ایام پورے سال میں) کے روزوں کی ممانعت صحاح اور سنن کی روایات میں موجود ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
سیدپور بیگوسرائے ۔بہار