Monday, 8 February 2016

موبائل فون، نئے خطرات!

ایس اے ساگر

انفارمیشن ٹکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے سیکیورٹی پر متعدد سوالیہ نشانات قائم کردیئے ہیں ۔اپنی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے متعلقہ شعبہ میں تکنیک کا استعمال کرنا تو کسی حد تک درست بھی ہے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ اسمارٹ فون کا زیادہ اورمسلسل استعمال انسانی دماغ کی صلاحیتوں کوتباہ کر رہا ہے۔ جیسے جیسے اسمارٹ فون کا استعمال بڑھ رہا ہے اس کے منفی اثرات بھی تیزی سے سامنے آرہے ہیں. ایک طرف انسانی اخلاقیات اور جسمانی صحت داو پر لگ چکی ہے جبکہ دوسری جانب فرد کی ذاتیات عام ہوکر رہ گئی ہے ۔

دماغ کیلئے مصیبت :

ایک نئی تحقیق میں خبردارکیا گیا ہے کہ اسمارٹ فون کا زیادہ اورمسلسل استعمال انسانی دماغ  کی صلاحیتوں کوتباہ کر رہا ہے۔ اسمارٹ فون استعمال کرنے والا ہر تیسرا شخص دن میں 25 بار اس کا استعمال کرتا ہے جبکہ ہر 10 میں سے ایک شخص سو کراٹھنے کے فوری بعد سب سے پہلے اسمارٹ فون کا استعمال کرتا ہے. یہ معمول ذہنوں کو تباہ کر رہا ہے اور توجہ اور گہرائی سے سوچنے کی صلاحیتوں کو ختم کر رہا ہے۔

تنبیہ کی گئی جاری :

انٹرنیٹ پر تحقیق ’’انٹرنیٹ کس طرح ہمارے دماغ کوتبدیل کر رہا ہے‘‘ کے بانی نکولیس نے متنبہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ ڈیوائسز مستقبل میں ہمارے ذہنوں میں بننے والی سوچوں کے پیٹرن کو تبدیل کر کے اس کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ سائنس دان اور ماہرین نفسیات خبردار کرچکے ہیں کہ سوچ کے پیٹرن کا تبدیل ہونا ہمارے سوچ کے زاویے تبدیل کردیتا ہے اور کسی چیز پر کچھ دیر تک توجہ اور گہرائی سے سوچنے کے عمل کو بالکل ہی کم کردیتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب دن بھر اتنا کچھ مواد آرہا ہو تو پھر سوچ ایک چیز پر مستقل نہیں رہتی اور توجہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

مستقبل کیلئے خطرہ :

انھوں نے انٹر نیٹ کے دماغ پر ہونے والے مزید منفی اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ  انٹرنیٹ کیساتھ مستقل وابستہ رہنے کے منفی اثرات اس سے کہیں زیادہ ہیں جتنا لوگ سوچتے ہیں اور وقت کیساتھ یہ مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر آپ مستقل انٹرنیٹ سے جڑے رہیں اور نئی معلومات حاصل کرتے رہیں تو ابتدائی طور پر آپ ان معلومات کو اپنے دماغ اور شعور میں ڈالتے جاتے ہیں لیکن اسے دماغ اس طرح ہینڈل نہیں کرپاتا جس طرح ایک نارمل طریقے سے کرنا چاہئے جبکہ اگر یہ ٹرینڈ یوں ہی چلتا رہا تو وہ وقت آنے والا ہے کہ جب لوگ دن میں 200 بار اسمارٹ فون کا استعمال کریں گے۔

ذاتیات پر حملہ :

مسئلہ یہیں تک محدود رہتا تو غنیمت تھا لیکن آج ہندوستان کے وزرا، صنعت کار ، فلمی شخصیات اور یہاں تک کہ خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدہ داران تک کہ نمبر ذاتی نہیں رہے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اینڈرائڈ ایپس کیسا غضب ڈھا رہے ہیں. ایک ایسا ایپ لانچ ہوچکا ہے جو بتا دیتا ہے کہ آنے والا نمبر کس شخص کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ ماہرین کے مطابق ہندوستان میں موبائل فونس کی پبلک ڈائرکٹری سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور ایسا کرنا سرکاری قوانین کیخلاف بھی ہے۔

کیا ہے ٹرو کالر؟

یہ ایہ گوگل پلے پر " ٹرو کالر " کے نام سے میسر ہے. اس ایپ کو ڈاونلوڈ کرکے فون میں انسٹال کردیں تو یہ آپ کو نمبر کیساتھ نام بھی بتا دے گا۔ انسٹال کرنے کے بعد جب اس کا استعمال کیا جائے او ر متفرق دوستوں کے نمبر تلاش کئے جائیں تو ان دوستوں کے نام نظر آنے لگیں گے جو فون میں محفوظ ہیں ۔ True Caller کی ویب سائٹ پر پہنچیں تو تھوڑی دیر بعد یہ پتہ چل جائے گا کہ یہ ایپ آپ کے فون بک سے تمام نمبر لے لیتا ہے ۔یہ نمبر نام اور ٹیلی کام سرکل کے ایڈریس کیساتھ اس ایپ کے سرور پر محفوظ کر دئے جاتے ہیں اور جب بھی کوئی نمبر اس سے تلاش کریں تو اس کی معلومات ٹرو کالر کے سرور سے فوراً آپ کے موبائل فون پر دستیاب ہو جاتی ہیں ۔

وطن عزیز میں مقبول :

کچھ اور سرچ کرنے کے بعد پتہ چلے گا کہ اس سویڈش کمپنی کے ایپ کی سب سے بڑی مارکیٹ وطن عزیز ہے اور اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اس ایپ کی ابھی تک گوگل پلے میں 85،787 ریٹنگس کی گئی ہے۔ اور اس کے انسٹال کرنے والے یوزرس کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اس ایپ کو انسٹال کرنے کے بعد اگر یوزر " Enhanced Search " متبادل منتخب کرتاہو تو یوزر کی فون بک کے تمام نمبر ٹرو کالر کے سرور پر درج ہو جاتے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ ایک فون بک میں اوسطا 150 نمبر محفوظ ہوتے ہیں ،اگر ایک کروڑ صارفین نے اپنے فون بک کے نمبر اس ایپ کیساتھ شیئر کئے ہیں تو اس ایپ کے سرور پر کتنے لوگوں کے نام ان کے موبائل نمبر اور ایڈریس کیساتھ جمع ہو گئے ہوں گے؟ سیل  فون بک کی ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ صارف اپنے متعلقین کی تفصیلات یاد رکھنے کیلئے نام کیساتھ دوستوں کے کام کے تعلق سے بھی کوئی نوٹ ،نک نیم یا کوئی خاص شناخت درج کر دئے جاتے  ہیں، تاکہ سرچ کرنے اور ڈھونڈنے میں آسانی ہو ۔مثال کے طور پر " پرویز ڈاکٹر " ، " عارف بلڈر " ، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح اس کمپنی کے پاس صرف نام اور نمبر نہیں بلکہ کام کی تفصیلات بھی جمع ہوتی جاتی ہیں جبکہ یہ ایک پریشان کن امر ہے۔

ایپ کا مزید خطرناک پہلو :

فی الحال یہ کمپنی مفت میں نمبر کے ذریعے نام تلاش کرنے کی اجازت دیتی ہے لیکن اگر آپ اس کے کریڈت خرید تے ہیں تو یہ آپ کو نام کے ذریعے بھی نمبر تلاش کرنے کی اجازت دیتی ہے اور یہ اس ایپ کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر فون ڈائرکٹری سے اپنا نمبر خارج کرنے کے لیے unlist کا متبادل بھی رکھا ہے ۔لیکن کسی شخص کی اجازت کے بغیر اس کے نمبر کو عام کر دینا یہ کسی بھی صورت میں قابل قبول بات نہیں ہے۔

نجانے کون کب بن جائے نشانہ !

یہاں پر یہ بات بھی واضح کر دینے کی ہے کہ اس سلسلہ کی یہ محض ایک ایپ نہیں ہے بلکہ انٹرنیٹ کی دنیا میں ایسے سیکڑوں ایپ اور ویب سائٹ موجود ہیں جو ایسی معلومات فراہم کر رہی ہیں جس کے بارے میں عام افراد کو تو خیر خواص کو بھی کچھ معلوم نہیں ہے اور وہ ڈھکے چھپے انداز میں فرد کی پرسنل انفارمیشن جمع کر رہی ہیں۔ نیٹ کالنگ کے لیے مشہور ایپلی کیشن وائبر سے متعلق بھی اس طرح کے بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اس پر کاروائی کرنا اشد ضروری ہے کہ یہ معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ رازوں کو چرانے کا ایک خوبصورت اور موثر طریقہ ہے ،جس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا یا جا سکتاہے ۔یہ حکومتوں اور دفاعی اداروں کے لئے بھی کم خطرناک نہیں ہے کہ نا جانے اس کے ذریعہ کون سی معلومات کب اچک لی جائے ،اور کب کس کو کو ٹارگیٹ بنا لیں ۔اسلئے اس بابت حکومتوں اور اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فورا ًاس کیخلاف کاروائی کریں ۔اور عام لوگوں کے علاوہ ملک کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں ۔

How to Remove Your Number From Truecaller

NEW SIM LENE PAR PURANE USERS KA NAME HI SHOW HOTA HAI TRUECALLER ME AGAR AAP ISSE DELETE KARNA CHAHTE HO TO IS LINK PAR PURI STORY READ KARE.

http://www.sknews.co.in/how-to-remove-your-number-from-truecaller/

ⓕⓐⓒⓔⓑⓞⓞⓚ ⓛⓘⓝⓚ
https://m.facebook.com/sknews.co.in

ⓣⓦⓘⓣⓣⓔⓡ ⓗⓐⓝⓓⓛⓔ
https://twitter.com/sknewsmumbai

www.sknews.co.in

Saturday, 6 February 2016

کیا ہے کرکٹ ٹورنامنٹ کی شرعی حیثیت؟

ایس اے ساگر

کیا آپ نے کبھی کرکٹ ٹورنامنٹ کی شرعی حیثیت جاننے کی طرف توجہ دی ہے؟

سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں!

آج کل نوجوان کرکٹ میچ میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں اور جیتنے والی ٹیم کو انعام کے طور پر کچھ نقدی یا ٹرافی وغیرہ دی جاتی ہے ۔

مسئلہ کی نوعیت کچھ یوں ہے !

مثلاً ٹیم کے کپتان زید پوری ٹیم سے یا چند کھلا ڑیوں سے کچھ چندہ، پیسے جمع کرتا ہے ، جس کا مجموعہ پانچ سو روپے بنتے ہیں یا پھر زید اپنے ہی جیب سے پانچ سو روپے دیتے ہیں۔

اب زید نے دوسری ٹیم کیساتھ میچ مقابلہ رکھا اور یہ مقابلہ جو بھی ٹیم جیتیگی وہ انعام کے پانچ سو روپے کے مستحق ہو گی، اب فرض کریں زید نے یہ مقابلہ جیتا ہے اور جیتنے کے بعد وہ پانچ سو روپے جوانہوں نے اپنے ساتھیوں سے جمع کئے تھے وہ ان ساتھیوں کو واپس کرتا ہے اور باقی جو پانچ سو روپے انعام میں ملے ہیں ٹیم کے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔

پوچھنا یہ ہے کہ مقابلہ میں انعام کی شرعی حیثیت اور جیتے ہوئے پانچ سو روپے جو زید کے پاس ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

دوسری صورت مقابلہ کی یہ ہے کہ جس کو کرکٹ کی اصطلاح میں ٹورنامنٹ کہتے ہیں اور یہ ٹورنا منٹ بکر چلا رہے ہیں او راس ٹورنا منٹ میں ٹوٹل چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور فی ٹیم پانچ سو روپے فیس جمع کرتے ہیں، پھر کچھ مرحلوں سے گزرنے کے بعد دو ٹیمیں فائنل میں پہنچ جاتی ہیں ، پھر اس میں جو ٹیم جیتے گی اس کو بارہ سو روپے اور ہارنے والی ٹیم کو آٹھ سو روپے انعام کے طور پر دیے جاتے ہیں اور باقی جو رقم بچ جاتی ہے بکر اس کو کچھ ٹورنامنٹ کے دوران اخراجات پر خرچ کر لیتے ہیں او رباقی رقم اپنی جیب میں رکھ دیتے ہیں۔

پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی ٹیم کا شرعی حکم اور پھر جیتنے اور ہارنے والی ٹیموں کو جو انعام، نقدی یا ٹرافی وغیرہ کی صورت میں دی جاتی ہے اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

اور بکر جو اس ٹورنامنٹ کو چلا رہے ہیں اور باقی رقم اپنی جیب میں رکھ دیتے ہیں اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

اگر مندرجہ بالاصورتیں ناجائز ہیں تو ایساکوئی طریقہ اور بدل بتائیں کہ امت مسلمہ اس گناہ سے بچ سکے۔ بینوا توجروا․

جواب… سوال میں مذکورہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں، اس لئے کہ دونوں صورتوں میں جوا اور قمار پایا جاتا ہے ، قمار ہر اس معاملے کو کہتے ہیں جس میں کچھ زائد ملنے کی امید کے ساتھ ساتھ اپنا مال جانے کا خطرہ بھی ہو ، مذکورہ دونوں صورتوں میں بھی ہر ٹیم کو جیتنے کی صورت میں اپنی جمع کرائی ہوئی رقم سے زائد ملتا ہے اور ہار جانے کی صورت میں اپنی جمع کروائی ہوئی رقم بھی ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور اسی کو جوا اور قمار کہتے ہیں، جو کہ ناجائز اور حرام ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے :
إنما الخمر والمیسر والأنصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون
( المائدہ:90)

اور جہاں تک اس کے جائز متبادل کی بات ہے تو پہلے مسئلے میں جہاں دو ٹیمیں آپس میں مد مقابل ہوتی ہیں جواز کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ:

یا تو شرط کسی ایک جانب سے لگائی جائے یعنی ایک ٹیم ، دوسری ٹیم سے کہے : اگر تم جیت گئے تو ہم ، تم کو اتنے روپے دیں گے اور اگر ہم جیت گئے تو ہم کچھ نہ لیں گے۔

اور یا پھر کوئی ثالث ( تیسرا فریق) جیتنے والی ٹیم کو بطور انعام اپنی طرف سے تبرع او راحسان کے طور پر دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور ٹورنامنٹ کی صورت میں چوں کہ کئی ٹیمیں آپس میں مد مقابل ہوتی ہیں ، لہٰذا اس میں جواز کی صرف ایک ہی صورت ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ کوئی تیسرا فریق اپنی طرف سے جیتنے والی ٹیم کو بطور انعام کچھ رقم دے دے۔

واضح رہے کہ آج کل جس طرح سے یہود ونصاری نے مسلمانوں کے ذہنوں پر باطل کی محنت کرکے انہیں کھیل کود ، لہو ولعب اور سیرو تفریح جیسے ضیاع وقت کے اسباب میں مشغول کرکے اپنے مقصدِ اصلی سے ہٹا دیا ہے اور اس مختصر سی زندگی کے قیمتی لمحات وہ جس طرح سے لایعنی میں ضائع کرتے ہیں کہ انہیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا، اسلام قطعاً ایسی چیزوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔

بلکہ ہمارا فرضِ اولین یہ ہے کہ ہم زندگی کے ہر ہر موڑ پر شریعت کے حکم کو معلوم کرکے اپنی تمام تر اغراض، خواہشات اورمفادات کو پس پشت ڈال کر ، حکم خداوندی کی تعمیل کریں، یقینا اسی میں ہمار ی ابدی کامیابی اور دنیا وآخرت کی سرخروئی ہے۔

نہ یہ کہ ہم ہر مسئلے میں دین اور شریعت کو اپنی خواہشات کے تابع سمجھیں اور اگر خواہشات پوری نہ ہوں تو اس حکم شرعی کو غیر فطری سمجھتے ہوئے یا ” تکلیف مالا یطاق“ گردانتے ہوئے پس پشت ڈال دیں۔

یقینا جس مرد مؤمن کو اللہ تعالیٰ کی خوش نودی مطلوب ہو اس کیلئے اللہ تعالیٰ کے ایک حکم کے سامنے اپنی ہزاروں خواہشات کو قربان کرنا آسان ہوتا ہے نہ کہ حکم خداوندی کو پامال کرنا۔

لہٰذا کرکٹ یا کوئی بھی کھیل اگر اس کو کھیل ہی کی حد تک محدود رکھا جائے او راس میں کسی حرام کا ارتکاب نہ ہو رہا ہو تو اسے کھیلنے میں حرج نہیں اوراگر خداناخواستہ ایسا نہ ہو تو اسے ترک کر دینا لازم ہے۔

جامعہ فاروقیہ

کیا دور آگیا ہے ...

کیا دور آ گیا ہے اذان کی آواز سن کر مردے پانی سے باہر آ رہے ہیں،

اور زندہ لوگ گھروں، ہوٹلوں ، محفلوں ،
کاروباری اداروں سے باہر نہیں آ پا رہے ہیں ... 😓

क्या दौर आ गया है अज़ान की आवाज़ सुन कर मुर्दे पानी से बाहर आ रहे है,

और ज़िन्दा लोग घरो, होटलो, महफ़िलो,
कारोबारों से बाहर नहीं आ पा रहे है... 😓

http://www.india.com/news/cities/murud-tragedy-miraculous-recovery-of-students-corpse-after-delivering-azaan-916744/

Friday, 5 February 2016

زلزلوں کی رات

ایس اے ساگر
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم  پر ناپ تول میں کمی کی وجہ سے جب عذاب اور زلزلہ آسکتا ہے تو آج حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کمی بیشی کی وجہ سے زلزلہ آگیا تو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ سورہ اعراف میں اللہ جل شانہ کا پاک ارشاد وارد ہے کہ
فَأَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُواْ فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْن
کون جانے رات کو بستر پر جانے والے کو صبح کا سورج دیکھنا نصیب ہو یا نہیں! گذشتہ شب نیپال، ہندوستان اور تائیوان زلزلے کے جھٹکوں سے لرز اٹھے. نیپال میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ۔ یہ جھٹکے رات 10 بجے کے بعد محسوس کئے گئے۔ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.2 بتائی گئی۔ نیپال کے علاوہ ہندوستان میں بہار کے دربھنگہ، موتیہاری، شیوہر، سیتامڑھی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ۔ واضح رہے کہ اپریل کے آخری ہفتے میں نیپال میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں جہاں ہزاروں لوگوں کی جانیں تلف ہوگئی تھیں ، وہیں اربوں روپے کی جائیداد بھی برباد ہو ئی تھی۔ اس سانحہ کے محض نو ماہ بعد گذشتہ رات تقریبا 10 بجے ایک بار پھر کھٹمنڈو اور اس کے ارد گرد زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔ جھٹکے اتنے تیز تھے کہ لوگ دہشت کے مارے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ بعد میں ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کے 5.2 ہونے کی تصدیق کی گئی۔ زلزلے کے یہ جھٹکے صرف نیپال ہی نہیں ،بلکہ بہار کے بھی کئی اضلاع میں محسوس کئے گئے۔ دربھنگہ، موتیہاری، شیوہر، سیتامڑھی، پورنیہ میں یہ جھٹکے محسوس کئے گئے۔ زلزلے سے تادم تحریر کسی طرح کے جانی یا مالی نقصان کی خبر نہیں ہے ، لیکن گزشتہ سال آنے والے تباہ کن زلزلے کی یاد اس نے ضرور تازہ کر دی ، جس کی وجہ سے لوگوں میں زیادہ خوف و ہراس پھیل گیا۔
متعدد عمارتیں منہدم:
لیکن تائیوان کے جنوبی حصے میں شدید زلزلے سے تائینان شہر میں متعدد عمارت منہدم ہوگئیں جبکہ امدادی عملہ ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ فوری طور پر کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ہفتہ کی علی الصبح درپیش اس زلزلے کی شدت 6.4 تھی۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم چار عمارتیں منہدم ہوگئیں جن میں ایک بلند رہائشی عمارت بھی شامل ہے۔ تقریباً 20 لاکھ کی آبادی والے شہر تائینان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر کی انتظامیہ نے ہنگامی ٹیم قائم کر دی ہے۔ جبکہ امریکی ارضیارتی مرکز کا کہنا ہے زلزلے کا مرکز زیادہ گہرائی میں نہیں تھا جس کے باعث اس کے اثرات زیادہ ہوتے ۔ تائیوان کے اخبار لبرٹی ٹائمز کے مطابق منہدم ہونے والی ایک عمارت رہائشی کمپلیکس تھی اور اس میں لوگ سو رہے تھے۔ ٹی وی پر دکھائی جانے والی تائنان کی تصاویر میں امدادی کارکنوں کو منہدم ہونے والی عمارتوں میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے 300 کلومیٹر فاصلے پر واقع دارالحکومت تائی پی میں بھی محسوس کئے گئے اور اس وقت سے اب تک کئی آفٹرشاکس بھی آچکے ہیں۔جبکہ تائیوان ایسے خطہ میں واقع ہے جہاں دو ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں اور وہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ تائیوان میں 1999 کے دوران 7.6 کی شدت کے زلزلے سے 2300 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام؟
یہاں دارالعلوم حیررآباد کے استاذ محمد تبریز عالم قاسمی کا پر مغز مقالہ خاطر خواہ رہنمائی کرتا ہے کہ سنن ترمذی کی ایک حدیث  سے زلزلہ کی وجہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ :
(جب مندرجہ ذیل باتیں دنیا میں پائی جانے لگیں) تو اس زمانہ میں سرخ آندھیوں اور زلزلوں کا انتظار کرو، زمین میں دھنس جانے اور صورتیں مسخ ہوجانے اور آسمان سے پتھر برسنے کے بھی منتظر رہو اور ان عذابوں کیساتھ دوسری ان نشانیوں کا بھی انتظار کرو جو پے در پے اس طرح ظاہر ہوں گی، جیسے کسی لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور لگاتار اس کے دانے گرنے لگیں (وہ باتیں یہ ہیں )
1- جب مالِ غنیمت کو گھر کی دولت سمجھا جانے لگے۔
2-                امانت دبالی جائے۔
3-                 زکاة کو تاوان اور بوجھ سمجھا جانے لگے۔
4-                 علم دین دنیا کے لیے حاصل کیا جائے۔
5-                 انسان اپنی بیوی کی اطاعت کرے اور ماں کی نافرمانی کرے۔
6-                 دوست کو قریب کرے اور اپنے باپ کو دور کرے۔
7-                مسجدوں میں شور وغل ہونے لگے۔
8-                 قوم کی قیادت، فاسق وفاجر کرنے لگیں۔
9-                انسان کی عزت اِس لیے کی جائے؛ تاکہ وہ شرارت نہ کرے۔
10-               گانے بجانے کے سامان کی کثرت ہوجائے۔
11-                شباب وشراب کی مستیاں لوٹی جانے لگیں۔
12-               بعد میں پیدا ہونے والے،امت کے پچھلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں۔
(سنن الترمذی، رقم: ۲۱۱، ما جاء فی علامة حلول المسخ)
اہل علم کا مبارک وجود :
موجودہ ماحول کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے مذکورہ ساری پیشین گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں، دھوکہ، بے ایمانی، بد عنوانی ، سرکاری وعوامی چیزوں میں ناجائز تصرفات عام ہیں، مسلمانوں کے مالیہ کا نظام بد سے بدتر ہے، عصری تعلیم اس قدر غالب ہے کہ دینی درس گاہوں کے طلبہٴ کرام، مدرسے کی چہار دیواری میں رہتے ہوئے دینی تعلیم سے بے فکر ہو کر، عصری علوم کے حصول کیلئے کوشاں ہیں. جبکہ ممبئی کے قریبی علاقہ میں 14 طلبا پکنک مناتے ہوئے سمندر میں غرقاب ہوچکے ہیں.  بھلا ہو ان علمائے کرام کا جن کی اذان کی بدولت لاشیں دیکھنی نصیب ہوگئیں، بصورت دیگر سرکاری عملہ تو مایوس ہوچکا تھا.
معاشرتی نظام کا زوال :
معاشرتی اقدار میں اس قدر زوال آچکا ہے کہ والدین کی نافرمانی کے واقعات اجنبی نہیں رہے ہیں، بیوی کی اندھی محبت نے کتنے بنے بنائے گھر اجاڑ دیے، مساجد کا پرسکون اور قدسی ماحول پراگندہ ہوچکا ہے، عہدے اور مناصب اور قیادت وسیادت نا اہل کے ہاتھوں تاراج ہوچکے ہیں ...مزید یہ کہ گانا، موسیقی ، سینما بینی اور اِسی قبیل کی لغویات کا بازار اتنا گرم ہے کہ الامان والحفیظ، اِس حوالے سے کچھ کسر باقی رہ گئی تھی تو اسے موبائل اور انٹر نیٹ کے منفی استعمال نے پورا کردیا ہے ، ام الخبائث کا شوق جہاں غیروں کو ہے، وہیں اپنے بھی اب پیچھے نہیں رہے، اور مرحوم علماء، صلحاء، اتقیا اور نیک لوگوں پر کیچڑ اچھالنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے، اور یہ ساری باتیں آج سے نہیں بہت پہلے سے ہیں، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے ہی متنبہ کردیا تھا ، جہا ں یہ ارشاد ایک طرف اسلام کی حقانیت کی واضح دلیل ہے، وہیں دوسری طرف زلزلوں کی آمد کی وجوہات سمجھنے میں معین ومدد گاربھی ہے. کیا یہ وہی ماحول نہیں ہے جس کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا تھا:
جب لوگ زنا کو حلال کرلیں، شراب پینے لگیں اور گانے بجانے کا مشغلہ اپنا لیں تو اللہ کی غیرت جوش میں آتی ہے اور زمین کو حکم ہوتا ہے کہ وہ زلزلہ برپا کردے۔
کیا کہتی ہے تاریخ؟
گذشتہ شب نیپال، ہندوستان اور تائیوان  کے واقعات نئے نہیں ہیں بلکہ جب بھی ایسا ماحول ہوا، قدرت نے انسانوں کو سنبھلنے کیلئے متنبہ کیا ہے، انھیں آگاہ  کیا ہے کہ ”ہے وقت ابھی جاگو اے مومنو، غفلت سے“
۲۰ھ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی زلزلہ آیا، انھوں نے زمین پر ایڑی ماری اور فرمایا:
اے زمین تو کیوں ہلتی ہے، کیا عمر نے تیرے اوپر عدل قائم نہیں کیا؟ اور زمین کا زلزلہ رک گیا۔
59ھ میں ایک زلزلہ آیا جو 60 دن تک رہا، کئی شہر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔
223ھ کے دوران شہر غرناطہ میں زلزلہ آیا اور پورا شہر تباہ وبرباد ہوگیا۔
۲۴۱ھ میں وامغان میں زلزلہ آیا، جس میں تقریبا پچیس ہزار لوگ جاں بحق ہوگئے۔
کسی کو شک ہو تو زلزلہ مشاہدات وواقعات،ص:۱۰ سے رجوع کر سکتا ہے.
کیوں نہیں سنبھلتے؟
اسی طرح 8 اکتوبر 2005 کو پاکستان میں آنے والا زلزلہ، دنیا کا چوتھا بڑا زلزلہ تھا، جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کل ہلاکتیں ۷۴۶۹۸ تھیں،اُس سے قبل ۲۰۰۴ء میں انڈونیشیا کے زیر سمندر زلزلے کے باعث اٹھنے والی سونامی لہر کے نتیجے میں لاکھوں ہلاکتیں ہوئی تھیں، ایران کے شہر بام میں ۲۰۰۳ء میں زلزلے سے ۳۰ ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے، جنوری ۲۰۰۱ء میں ہندوستان کے صوبہٴ گجرات میں ۲۰ ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کی شہادت ویکی پیڈیاآزاد دائرة المعارف سے ملتی ہے.
کیا ہے اسلام اور سائنس کا موقف ؟
نیپال کے گذشتہ شدید زلزلے کے بعد سوالات گردش کرنے لگے تھے کہ آخر زلزلے کیوں آتے ہیں؟ لوگوں میں عجیب وغریب آرا پائی جاتی ہیں، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مافوق الفطرت قوتوں کے مالک دیو ہیکل درندے جو زمین کے اندر رہتے ہیں وہ زلزلے پیدا کرتے ہیں، برادران وطن کا عقیدہ ہے کہ زمین ایک گائے کے سینگوں پر ٹکی ہوئی ہے، جب و ہ سینگ تبدیل کرتی ہے تو زلزلے آتے ہیں، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زمین ایک بڑے کچھوے کی پیٹھ پر ہے، وہ جب حرکت کرتا ہے تو زلزلے آتے ہیں، یہ سب غیر اسلامی نظریات ہیں، سائنس داں حضرات کے نظریات میں اختلاف ہے ، کچھ کا کہنا ہے کہ زمین کے اندر گرم ہوا باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے تو زلزلے پیدا ہوتے ہیں، اور کچھ کہتے ہیں کہ زمین ٹھنڈی ہورہی ہے اور اِس عمل کے نتیجے میں اس کا غلاف کہیں کہیں چٹخ جاتا ہے جس سے زلزلے آتے ہیں، کچھ سائنس داں حضرات کا دعوی ہے کہ زمین کے اندرونی حصے میں آگ کا جہنم دہک رہا ہے اور اس بے پناہ حرارت کی وجہ سے زمین غبارے کی طرح پھولتی ہے؛ لیکن اِس وقت سب سے مقبول نظریہ پلیٹ ٹیکٹوٹس کا ہے، جس کی معقولیت کو تمام غیر مسلم ماہرین نے تسلم کرلیا ہے. اس کے مطابق جب زمین کی پلیٹ جو تہہ در تہہ مٹی، پتھر اور چٹانوں پر مشتمل ہوتی ہے، کسی ارضیاتی دباوٴ کا شکار ہور کر ٹوٹتی یا اپنی جگہ چھوڑتی ہے تو سطح زمین پر زلزلے کی لہریں پیدا ہوتی ہیں، یہ لہریں نظر تو نہیں آتیں؛ لیکن اِن کی وجہ سے سطح زمین پر موجود ہرچیز لرزنے لگتی ہے۔ اِسلامی نقطہٴ نظر سے زلزلے کا بنیادی سبب انسان کی بد اعمالیوں پر مداومت ہے ، اور اِس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے زبردست آزمائش ہے، ہمیں یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ تمھارا رب تم سے ناراض ہے، تم نیکیوں کی جانب متوجہ ہوجاوٴ،اور مامورات کا امتثال اور منہیات سے اجتناب اپنا شیوہ بنالو۔
اسلام اور سائنس میں کیا ہے فرق؟
سائنس نے یہ تو بتادیا کہ زمین کی پلیٹیں ہلتی ہیں تو زلزلہ آتا ہے؛ لیکن ایسے مواقع پر کیا کرنا چاہئے،  نہیں بتایا؛جبکہ اِسلام نے نہ صرف زلزلے کے اسباب بتائے ہیں بلک اُس کا معقول حل بھی بتایا ہے. دنیا کی تاریخ، بالخصوص تباہی کی شکار اقوام کی تاریخ شاہد ہے کہ اسلام نے جو کچھ بتایا ہے اُس سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا، اسلامی نقطہٴ نظر سے دیکھا جائے تو یہ زلزلے ہمیں یہ سبق سکھاتے ہیں کہ تم نے کتنی بھی ترقی کرلی، کیسی بھی مشین ایجاد کرلی، کتنی ہی مضبوط عمارتیں بنالیں، اڑنے کے سامان بنالئے، کمپیوٹر ایجاد کرلئے، چاند اور مریخ پرکمندیں ڈال دیں ، مسافت سمیٹ کر دنیا کو ایک آنگن بنادیا، سردی میں مصنوعی گرمی اور گرمی میں مصنوعی سردی کے اسباب مہیا کرلئے اور ترقی کے سارے رکارڈتوڑ ڈالے؛ لیکن تم اپنی اوقات یاد رکھو، اپنی تخلیق کا مقصد یاد رکھو، اپنے مالک وخالق سے لا تعلق مت ہوجاوٴ، اس کی مرضیات ونا مرضیات کو پہچانو، دنیا وآخرت کا فرق سمجھو، حیات وما بعد الحیات کا راز جانو، اور یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رکھو کہ تم سے بڑھ کر بھی کوئی ذات ہے، جس کی قدرت وعظمت اور قہاریت وجباریت کا تم اندازہ بھی نہیں لگاسکتے؛ چنانچہ ابن ابی شیبہ کے مطابق  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ کے اندر زلزلہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تمہارا رب چاہتا ہے کہ تم اپنی خطاوٴں کی معافی مانگو۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم:۸۳۳۴ فی الصلاة فی الزلزلہ)
اسلام نے دنیاکو یہ حقیقت بھی سمجھائی کہ یہ دنیا چند روزہ ہے اور ایک وقت ایسا آئے گا، جب یہ دنیا ختم ہوجائے گی اورسب سے بڑے دربار میں، سب کو اپنی زندگی کا حساب وکتاب دینا ہے، اسلامی زبان میں اسے قیامت کہتے ہیں،یہ زلزلے انسان کواُسی قیامت کی یاد دلاتے ہیں کہ ابھی تو تھوڑی سی زمین ہلادی گئی ہے تو یہ حال ہے، جب قیامت کا زلزلہ آئے گا تو تمہارا کیا حال ہوگا؟ لہٰذا وقت سے پہلے اپنی ذات کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال درست کرلو؛چناں چہ بخاری کی روایت میں ہے: سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ علم اٹھالیا جائے اور زلزلوں کی کثرت ہوجائے۔(بخاری، رقم:۱۰۳۶) کیا ایک کامل ایمان شخص اِس سے انکار کرسکتا ہے کہ یہ زلزلے علاماتِ قیامت میں سے نہیں ہیں؟
لہٰذا اِس موقع پر ہمیں وہی کام کرنا چاہئے جو اِس موقع پر اسلام ہم سے چاہتا ہے؛ چناں چہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
جہاں زلزلہ آتا ہے اگر وہاں کے لوگ توبہ کرلیں اور بد اعمالیوں سے باز آجائیں تو ان کے حق میں بہتر ہے، ورنہ ان کیلئے ہلاکت ہے۔
(الجواب الکافی لابن القیم،ص:۴۷)
ابن قیم نے اپنی کتاب میں حضرت عمر بن عبد العزیز رحم اللہ کا ایک خط نقل کیا ہے، جو زلزلے کے موقع سے انھوں نے حکومت کے لوگوں کو لکھا تھا کہ اگر زلزلہ پیش آئے تو جان لو یہ زلزلے کے جھٹکے سزا کے طور پر آتے ہیں؛ لہٰذا تم صدقہ وخیرات کرتے رہا کرو۔ (الجواف الکافی،ص:۴۷)
اِس موقع پر نماز بھی پڑھ سکتے ہیں
علامہ کاسانی رحمہ اللہ نے یہ اصول قائم کیا ہے کہ ہر گھبراہٹ کے موقع پر نماز پڑھنی چاہئے، زلزلہ بھی ان مواقع میں سے ہے؛ لہٰذا تنہا تنہا مسلمانوں کو نماز ادا کرنی چاہئے اور تضرع کیساتھ دعائیں کرنی چاہئیں  اور یہ نماز دو رکعت عام نمازوں کی طرح ہوگی؛ البتہ مکروہ وقت میں نہ پڑھی جائے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انھوں نے بصرہ میں زلزلہ کی بنا پر نماز پڑھی ہے۔
(بدائع الصنائع ۱/۲۸۲)
دعاوں کا اہتمام :
زلزلے کے موقع پر مذکورہ دعاوٴں کا ورد رکھنا چاہئے، حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اِس موقع پر لوگوں کو تین دعاوٴں کے اہتمام کی تاکید کی تھی، یہ تینوں دعائیں، قرآنی دعائیں ہیں؛ اِس لئے اِن کی اہمیت اور تاثیر کا انکار نہیں کیا جاسکتا:
۱- حضرت آدم علیہ السلام کی دعا
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْن
(الاعراف:۲۳)
۲- حضرت نوح علیہ السلام کی دعا
وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِیْ وَتَرْحَمْنِیْ أَکُن مِّنَ الْخَاسِرِیْنَ
(ہود:۴۷)
۳- حضرت یونس علیہ السلام کی دعا
لَّا إِلَہَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَکَ إِنِّیْ کُنتُ مِنَ الظَّالِمِیْن
(انبیاء:۸۷)
                                                                                     (الجواب الکافی،ص:۴۷)
الغرض زلزلوں کے تعلق سے اسلام میں مکمل رہنمائی موجود ہے اور مشترکہ طور سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ زلزلے صرف زیر زمین پلیٹوں کے ملنے یا چٹانوں کے کھسکنے کی وجہ سے نہیں آتے؛ بلکہ یہ انسانوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے آتے ہیں اور یہ زلزلے انھیں بد اعمالیوں سے باز آنے کے لیے الارم اور وارننگ ہیں؛ لہٰذا یہ بندوں کے حق میں رحمت ہیں کہ اُن کو اِسی دنیا میں اپنی اصلاح کے لیے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں؛ لیکن موجودہ سائنس کایہ مانناہے اور میڈیا چلا چلا کر اُس کے نظریات کی تشہیر کررہا ہے کہ مصائب، آفات اور زلزلوں کا ظہور کسی عبرت اور نصیحت کے لیے نہیں؛ بلکہ اِس کا تعلق تو طبعیات سے ہے اور الحاد ودہریت کے بڑھتے ہوئے دور میں انسان کی قساوتِ قلبی اِس انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے کہ غیروں کے ساتھ ساتھ اپنے کچھ مسلمان بھائی بھی اِسے صرف سائنس کا کرشمہ ہی سمجھتے ہیں اوراِن حالات میں جانی ومالی حفاظت کا ہی تذکرہ کرتے ہیں، توبہ واستغفار اور انابتِ الی اللہ کو ضروری نہیں سمجھتے۔
کیا ہے مسلمان کا شیوہ؟
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
اگر ایک شخص صاحبِ ایمان ہے تو اُس کیلئے اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ کہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اِس واقعہ کے پیچھے کیا مصلحتیں کام کررہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ کیا بھلائیاں پیدا کرے گا اور کائنات کے مجموعی نظام کے اعتبار سے اِس کے اندر کیا خیر کا پہلو ہے؟ میں نہیں جانتا؛ لیکن اتنا جانتا ہوں کہ اِس کائنات کا کوئی ذرہ، کوئی پتہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہلتا اور کوئی حرکت اِس کائنات میں اللہ کی حکمت کے بغیر نہیں ہوتی؛ لہٰذا سرِ تسلیم خم ہے، جو کچھ ہوا، وہ اُن کی حکمت کے عین مطابق ہوا، چاہے ہماری سمجھ میں وہ حکمت آئے یا نہ آئے، ہم اِس پر کوئی رائے زنی نہیں کرتے۔(اصلاحی خطبات۱۶/۱۳۸)
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
ہم جزم اور وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ (زلزلہ) عذاب تھا یا نہیں، اِس بحث میں پڑنے کی بجائے ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم سے متاثرین کی جتنی مدد ہوسکتی ہے ہم وہ مدد کریں، جو لوگ دنیا سے چلے گئے اُن کیلئے دعاءِ مغفرت کریں، جو موجود ہیں اُن کیلئے دعائے صحت کریں اور ساتھ ساتھ توبہ واستغفار کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رجوع کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مزید مصائب اور تکلیفوں سے محفوظ فرمادے(یادرہے ہر تخریب، ایک تعمیر کا پیش خیمہ ہوتی ہے)
(اصلاحی خطبات۱۶/۱۴۱)
سائنس کی ناکامی :
مولانا پیر فقیرذوالفقار صاحب نقشبندی لکھتے ہیں:
سائنس زلزلے کا مرکز، زلزلے کی شدت اور گہرائی تو بتاسکتی ہے؛ لیکن کب آئے گا؟ اور کہاں کہاں کتنی تباہی پھیلائے کا، اِس بارے میں باوجود اتنی ریسرچ کے سائنس گنگ ہوجاتی ہے
قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّہِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْن
(الملک:۲۶)
کہہ دو کہ اِس کا علم تو فقط اللہ ہی کے پاس ہے میں تو صرف ڈرانے والا ہوں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زمین کے کس حصے میں پلیٹیں ہلتی ہیں؟ اور کب ہلتی ہیں؟ یہ پلیٹیں روز روز کیوں نہیں ہلتیں، کیا اندھا قانون ہے جو اِنکو ہلاتا ہے؟ اِن سوالوں کا جواب ہمیں شریعت دیتی ہے شریعت یہ کہتی ہے کہ طبعی اسباب اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ہیں، اللہ تعالیٰ بندوں سے خوش ہوں تو اسباب بندے کے موافق ہوجاتے ہیں، بسا اوقات کسی جگہ کے لوگوں کے اعمال خراب ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کو وہ ناراض کرلیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کی تنبیہ کے لیے زمین کو حکم دیتے ہیں کہ تھوڑا ان کو جھٹکا دے تو زمین جھٹکا دیتی ہے، یا سائنس کی زبان میں یوں کہنا چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں سے خوش ہوتے ہیں تو جغرافیائی اور ماحولیاتی پیرامیٹرز کو بندوں کے موافق بنادیتے ہیں اور جب ناراض ہوتے ہیں تو پیرا میٹرز میں ایسی تبدیلی آتی ہے کہ لوگ آفات میں جکڑے جاتے ہیں........
وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُہْلِکَ الْقُرَی بِظُلْمٍ وَأَہْلُہَا مُصْلِحُون
(ھود: ۱۱۷)
اور آپ کا رب ایسا نہیں ہے کہ ہلاک کردے کسی بستی کو اور بستی والے نیک کام کرنے والے ہوں۔ (زلزلہ․․مشاہدات وواقعات،ص:۱۵)
شہید اسلام مولانا محمدیوسف صاحب لدھیانوی  لکھتے ہیں:
زلزلہ کے کچھ اسباب بھی ہیں، جن کو طبقات ارض کے ماہرین بیان کرتے ہیں؛ مگر ان اسباب کو مہیاکرنے والا ارادہٴ خداوندی ہے اور بعض دفعہ طبعی اسباب کے بغیر بھی زلزلہ آتا ہے، بہر حال ان زلزلوں سے ا یک مسلمان کو عبرت حاصل کرنی چاہیے اور دعا واستغفار، صدقہ وخیرات اور ترکِ معاصی کا اہتمام کرنا چاہئے۔
(آپ کے مسائل، ۱/۳۸۶)
اِس وقت جبکہ پوری دنیا زلزلے کے ا ثرات کو محسوس کررہی ہے، امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ سب سے پہلے اپنے ناواقف اور دین سے برگشتہ مسلم نوجوان کا ذہن صاف کرے ،شکوک وشبہات مٹائیں، اِس کیساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات وہدایات اور قرآنی ارشادات وفرمودات پُر زور انداز میں پیش کریں اور اسلام وسائنس کا تقابلی جائزہ پیش کرکے معیارِ حق کو ثابت کرنے کی کوشش کریں، کیا پتہ کچھ بے راہ رو، راہِ راست پر آجائیں، ہر شر میں خیر کا پہلو بھی ہوتا ہے،اور ہر تخریب، تعمیر کا پیش خیمہ ہوتی ہے، کھلے سمندر میں جائے حادثہ پر اذان کے ذریعہ  14 طلبا کی لاشوں کی برآمدگی نے ثابت کردیا ہے کہ اللہ آج بھی دل مضطر کی سنتا ہے! 

تائیوان میں شدید زلزلہ

متعدد عمارتیں منہدم
 تائیوان کے جنوبی حصے میں شدید زلزلے سے تائینان شہر میں متعدد عمارت منہدم ہوگئی ہیں جبکہ امدادی عملہ ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ فوری طور پر کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ سنیچر کی علی الصبح آنے والے اس زلزلے کی شدت 6.4 تھی۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم چار عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جن میں ایک بلند رہائشی عمارت بھی شامل ہے۔
تقریباً 20 لاکھ کی آبادی والے شہر تائینان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر کی انتظامیہ نے ہنگامی ٹیم قائم کر دی ہے۔ امریکی ارضیارتی مرکز کا کہنا ہے زلزلے کا مرکز زیادہ گہرائی میں نہیں تھا جس کے باعث اس کے اثرات زیادہ ہوسکتے ہیں۔ تائیوان کے اخبار لبرٹی ٹائمز کے مطابق منہدم ہونے والی ایک عمارت رہائشی کمپلیکس تھی اور اس میں لوگ سو رہے تھے۔ ٹی وی پر دکھائی جانے والی تائنان کی تصاویر میں امدادی کارکنوں کو منہدم ہونے والی عمارتوں میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے 300 کلومیٹر فاصلے پر واقع دارالحکومت تائی پی میں بھی محسوس کیے گئے اور اس وقت سے اب تک کئی آفٹرشاکس بھی آچکے ہیں۔ خیال رہے کہ تائیوان ایسے خطے میں واقع ہے جہاں دو ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں اور وہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ تائیوان میں 1999 میں7.6 کی شدت کے زلزلے سے 2300 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔


http://www.bbc.com/…/…/02/160205_taiwan_earthquake_tainan_sh

اے پتھر، میرے کپڑے ...

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر شرم و حیا کا بہت غلبہ تھا۔ حتیٰ کہ وہ اپنے برہنہ بدن کے کسی حصہ پر بھی نگاہ نہیں پڑنے دیتے تھے۔ اس کے برعکس بنی اسرائیل مجمع عام میں برہنہ ہو کر غسل کرنے کے عادی تھے۔ اس لئے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تنگ کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ کبھی کہتے کہ ان کے خاص حصہ جسم پر برص کے داغ ہیں، کبھی کہتے کہ ان کو ادرۃ (فوطوں کا متورم ہو کر بڑھ جانا) کا مرض ہے، یا کوئی اور اسی قسم کا مرض ہے تب ہی تو چھپ کر علیحدہ نہاتے ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام سنتے اور خاموش رہتے۔ آخر اللہ تعالیٰ کی یہ مرضی ہوئی کہ ان کو اس تہمت سے پاک اور بری کرے۔ چنانچہ ایک روز وہ علیحدہ آڑ میں نہانے کی تیاری کر رہے تھے، کپڑے اتار کر پتھر پر رکھ دیے۔ پتھر اللہ کے حکم سے اپنی جگہ سے سرکا اور جہاں مجمع میں بنی اسرائیل برہنہ نہا رہے تھے وہاں چل کر پہنچ گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام گھبراہٹ اور غصہ میں اس کے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑے،
ثوبی حجر، ثوبی حجر
’’اے پتھر میرے کپڑے، اے پتھر میرے کپڑے‘‘۔
پتھر جب مجمع کے سامنے ٹھہر گیا تو سب نے دیکھ لیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بیان کردہ ہر قسم کے عیب سے پاک و صاف ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اس اچانک واقعہ کا ایسا اثر پڑا کہ غصہ میں جھنجھلا کر پتھر پر لاٹھی کے چند وار کر دیے جس سے اس پر نشان پڑ گئے۔

قصص القرآن (حصہ اول، دوم)
صفحہ: 354قلم نگار: مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، ناشر: مکتبہ اسلامیہ، اردو بازار، لاہور، تاریخ اشاعت: اگست 2005ء

Thursday, 4 February 2016

جمعہ کی فضیلت

ایس اے ساگر
قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَO
الجمعة، 62 : 9
’’اے ایمان والو جب اذان ہو نماز کی جمعہ کے دن تو دوڑو اللہ کی یاد کو اور چھوڑ دو خرید و فروخت یہ بہتر ہے تمھارے حق میں بہتر ہے اگر تم کو سمجھ ہے o‘‘
آیتِ مبارکہ کے علاوہ درج ذیل احادیث مبارکہ میں بھی نمازِ جمعہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ، 
"ہر اذان کا یہ حکم نہیں ، کیونکہ جماعت پھر بھی ملے گی .اور جمعہ ایک ہی جگہ ہوتا تھا پھر کہاں ملے گا. " 
اور اللہ کی یاد سے مراد خطبہ ہے اور نماز بھی اس کے عموم میں داخل ہے یعنی ایسے وقت میں جائے کہ خطبہ سنے. اس وقت خرید و فروخت حرام ہے.اور'دوڑنے' سے مراد پورے اہتمام اور مستعدی کیساتھ جانا ہے. بھاگنا مراد نہیں.
تنبیہہ :نودی' سے مراد قرآن میں وہ اذان ہے جو نزول آیت کے وقت تھی یعنی جو امام صاحب کے سامنے ہوتی ہے. کیونکہ اس سے پہلی اذان بعد کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماع سے مقرر ہوئی. لیکن حرمت بیع میں اس اذان کا حکم بھی مثل اذان قدیم کے ہے کیونکہ اشتراک علت سے حکم میں اشتراک ہوتا ہے. البتہ اذان قدیم میں یہ حکم منصوص و قطعی ہوگا اور اذان حادث میں یہ حکم مجتہد فیہ اور ظنی رہے گا. اس تقریر سے تمام علمی اشکالات مرتفع ہوگئے نیز واضح رہے کہ 'یا ایھاالذین آمنو ' یہاں 'عام مخصوص منہ البعض' ہے، کیونکہ بالاجماع بعض مسلمانوں  (مثلا مسافر و مریض وغیرہ ) پر جمعہ فرض نہیں. 
1۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث مبارکہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’جس شخص نے وضو کیا اور اچھی طرح سے وضو کیا، پھر جمعہ پڑھنے آیا اور خاموشی سے خطبہ سنا تو اس شخص کے اس جمعہ سے لے کر گزشتہ جمعہ تک اور تین دن زائد کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔‘‘
مسلم، الصحيح، کتاب الجمعة، باب فضل من استمع وأنصت فی الخطبة، 2 : 587، رقم : 857
2۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازہ پر فرشتے آنے والے کو لکھتے رہتے ہیں۔ جو پہلے آئے اس کو پہلے لکھتے ہیں اور جب امام (خطبہ کیلئے) بیٹھ جاتا ہے تو وہ اعمال ناموں کو لپیٹ لیتے ہیں اور آکر خطبہ سنتے ہیں۔ جلدی آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک اونٹ صدقہ کرتا ہے، اس کے بعد آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو ایک گائے صدقہ کرتا ہے۔ اس کے بعد والا اس شخص کی مثل ہے جو مینڈھا صدقہ کرے پھر اس کی مثل ہے جو مرغی صدقہ کرے پھر اس کی مثل ہے جو انڈا صدقہ کرے۔‘‘
مسلم، الصحيح، کتاب الجمعة، باب فضل يوم الجمعة، 2 : 587، رقم : 856

اول وقت میں آنے والے کی فضیلت

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم نے فرمایا،
جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازہ پر فرشتے لکھتے ہیں کہ فلاں سب سے پہلے آیا، اس کے بعد وہ آیا، اس کے بعد وہ آیا، پھر جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو سب فرشتے اعمال نامے لپیٹ دیتے ہیں اور آ کر خطبہ سننے لگتے ہیں۔
اور جو اول وقت آیا اس کے ثواب کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ایک اونٹ کی قربانی کرے۔
اس کے بعد جو آیا وہ ایسا ہے جیسے کوئی ایک گائے قربان کرے۔
اس کے بعد جو آئے وہ ایسے ہے جیسے مینڈھا قربان کرے۔
اس کے بعد جو آئے وہ ایسا ہے جیسے کوئی مرغی قربان کرے۔
اس کے بعد جو آئے وہ ایسا ہے جیسے کوئی ایک انڈہ اللّٰه کی راہ میں قربان کرے۔
(صحيح مسلم اردو),٠٧۔ جمعہ کے مسائل,٠٠٧۔ جمعہ کے دن اول وقت میں آنے والے کی فضیلت۔حدیث نمبر: 406

3۔ حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور جلدی (مسجد) میں حاضر ہوا اور امام کے قریب ہو کر خاموشی کیساتھ غور سے خطبہ سنا تو اس کیلئے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ہے۔‘‘
ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الجمعة، باب ما جاء فی فضل الغسل يوم الجمعة، 1 : 505، رقم : 496
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

ایک خاص گھڑی (وقت)

4۔حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ،
جمعہ میں ایک ساعت ایسی ہے کہ جو مسلمان اس وقت کھڑا نماز پڑھتا ہو اور اللّٰه سے کوئی بھلائی کی چیز مانگے تو بیشک اللّٰه تعالیٰ اس کو عطا کرے گا۔
اور (راوی نے) کہا کہ آپ صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ بہت تھوڑی ہے اور اس کی رغبت دلاتے تھے۔
حدیث نمبر: 401
حضرت ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللّٰه عنہ نے کہا کہ مجھ سے حضرت عبداللّٰه بن عمر رضی اللّٰه عنہما نے کہا کہ،
تم نے اپنے والد سے جمعہ کی ساعت کے بارے میں کچھ سنا ہے جو وہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم سے بیان کرتے ہوں؟
میں نے کہا کہ ہاں میں نے ان سے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم سے سنا، آپ صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم فرماتے تھے کہ وہ گھڑی امام کے خطبہ کیلئے بیٹھنے سے نماز پڑھی جانے تک ہے۔
(صحيح مسلم اردو)٠٧۔ جمعہ کے مسائل,٠٠٣۔ جمعہ کے دن ایک خاص گھڑی (وقت) کا بیان۔حدیث نمبر: 402

جمعہ کے دن غسل

5۔حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللّٰه عنہ ایک دن لوگوں کو جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰه عنہ آئے اور حضرت عمر رضی اللّٰه عنہ نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ،
کیا حال ہو گا ان لوگوں کا جو اذان کے بعد دیر لگاتے ہیں؟
تو حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہ نے کہا کہ،
اے امیرالمؤمنین، جب میں نے اذان سنی تو اور کچھ نہیں کیا سوا وضو کے، کہ وضو کیا اور آیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰه عنہ نے کہا کہ صرف وضو ہی کیا؟
کیا لوگوں نے نہیں سنا کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم فرماتے تھے کہ جب کوئی جمعہ کو آئے تو ضرور نہائے۔
(صحيح مسلم اردو),٠٧۔ جمعہ کے مسائل,٠٠٥۔ جمعہ کے دن غسل کے بارے میں۔حدیث نمبر: 404
جمعہ کے دن خوشبو اور مسواک کا بیان
حضرت ابو سعید خدری رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن نہانا اور مسواک کرنا ہر بالغ پر واجب ہے۔ اور خوشبو میسر ہو تو وہ بھی لگانی چاہئے۔
(صحيح مسلم اردو),٠٧۔ جمعہ کے مسائل,٠٠٦۔ جمعہ کے دن خوشبو اور مسواک کا بیان۔حدیث نمبر: 405

خطبہ کیلئے دوسروں کو چپ کروانا

6۔حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم نے فرمایا،
جب تو جمعہ کے دن اپنے ساتھی کو کہے کہ ”چپ رہ“۔ اور (اس وقت) امام خطبہ پڑھ رہا ہو، تو تو نے لغو بات کی۔
(صحيح مسلم اردو),٠٧۔ جمعہ کے مسائل,٠٢٢۔ خطبہ کے لئے دوسروں کو چپ کروانا۔حدیث نمبر: 421
کان لگا کر خاموشی سے خطبہ سننے کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰه عنہ نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ،
جس نے غسل کیا اور جمعہ میں آیا اور
جتنی مقدر میں تھی نماز پڑھی،
پھر خطبہ سے فارغ ہونے تک خاموش رہا،
پھر امام کیساتھ نماز پڑھی
تو اس کے اس جمعہ سے گذشتہ جمعہ تک اور تین دن کے اور زیادہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
(صحيح مسلم اردو),٠٧۔ جمعہ کے مسائل,٠٢٣۔ کان لگا کر خاموشی سے خطبہ سننے کی فضیلت۔حدیث نمبر: 422

جمعہ چھوڑنے پر سخت وعید

7۔حکم بن میناء سے روایت ہے کہ حضرت عبداللّٰه بن عمر اور حضرت  ابوہریرہ رضی اللّٰه عنہما نے ان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم سے سنا،
آپ صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم اپنے منبر کی لکڑیوں پر فرما رہے تھے کہ ”لوگ جمعہ چھوڑ دینے سے باز آئیں نہیں تو اللّٰه تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے اور وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔
(صحيح مسلم اردو),٠٧۔ جمعہ کے مسائل,٠٢٧۔ جمعہ چھوڑنے پر سخت وعید۔حدیث نمبر: 426