Wednesday, 4 November 2020

تنبیہات سلسلہ نمبر 145: پچھلی صدی کے کتے بھی ہم سے زیادہ غیرت مند تھے

تنبیہات سلسلہ نمبر 145: پچھلی صدی کے کتے بھی ہم سے زیادہ غیرت مند تھے
● سوال:
مندرجہ ذیل واقعے کی تحقیق مطلوب ہے:
حافظ ابن حجر العسقلانی نے ایک کتے کا ذکر کیا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کو کاٹ کھایا.
ایک دن نصاریٰ کے بڑے پادریوں کی ایک جماعت منگولوں کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے روانہ ہوئی جو ایک منگول شہزادے کی نصرانیت قبول کرنے پر منعقد کی گئی تھی۔ اس تقریب میں ایک عیسائی مبلّغ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی بکی، قریب ہی ایک شکاری کتا بندھا ہوا تھا جو اس صلیبی کی طرف سے گالی بکنے پر چھلانگیں مارنے لگا اور زوردار جھٹکے سے رسی نکال کر اس بدبخت صلیبی پر ٹوٹ پڑا اور اس کو کاٹ لیا. لوگوں نے آگے بڑھ کر اس کتے کو قابو کیا اور پیچھے ہٹایا۔ تقریب میں موجود بعض لوگوں نے کہا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف تمہاری گفتگو کی وجہ سے ہوا ہے، اس صلیبی نے کہا: بالکل نہیں، بلکہ یہ خوددار کتا ہے. جب اس نے بات چیت کے دوران مجھے دیکھا کہ میں بار بار ہاتھ اٹھا رہا ہوں تو اس نے سمجھا کہ میں اس کو مارنے کے لئے ہاتھ اٹھا رہا ہوں اسلئے اس نے مجھ پر حملہ کردیا، یہ کہہ کر اس بد بخت نے ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر گالی بکی، اس بار کتے نے رسی کاٹ دی اور سیدھا اس صلیبی پر چھلانگ لگا کر اس کی منحوس گردن کو دبوچ لیا اور وہ فورا ہلاک ہوگیا، اس کو دیکھ کر چالیس ہزار (40,000) منگولوں نے اسلام قبول کیا۔ (الدرر الکامنة: 3/203)
اور امام الذھبی نے اس قصے کو صحیح اسناد کے ساتھ "معجم الشیوخ" (صفحہ: 387) میں نقل کیا ہے، اس واقعے کے عینی شاہد جمال الدین نے کہا ہے کہ: اللہ کی قسم کتے نے میری آنکھوں کے سامنے اس ملعون صلیبی کو کاٹا اور اس کی گردن کو دبوچا جس سے وہ ہلاک ہوگیا...
      کیا یہ واقعہ درست ہے؟
      ▪ الجواب باسمه تعالی
سوال میں مذکور واقعہ چھٹی ہجری میں پیش آیا ہے اور اس واقعے کو ابن حجر اور ذہبی رحمهما اللہ  نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور اس کی سند کو درست قرار دیا ہے.
ابن حجر فرماتے ہیں کہ عیسائیوں نے اپنے داعی مغل قبیلوں میں پھیلا دیئے تھے تاکہ لوگوں کو عیسائی بناسکیں، ایک مرتبہ ہلاکو خان نے اپنی عیسائی بیوی ظفر خاتون کے کہنے پر ان عیسائیوں کو دعوت کی اجازت دے رکھی تھی .... إلی آخرہ
□ قال الإمام ابن حجر العسقلاني في كتابه "الدرر الكامنة": كان النصارى ينشرون دعاتهم بين قبائل المغول طمعا في تنصيرهم وقد مهد لهم الطاغية هولاكو سبيل الدعوة بسبب زوجته الصليبية ظفر خاتون، وذات مرة توجه جماعة من كبار النصارى لحضور حفل مغولي كبير عقد بسبب تنصر أحد أمراء المغول، فأخذ واحد من دعاة النصارى في شتم النبي صلى الله عليه وسلم، وكان هناك كلب صيد مربوط، فلما بدأ هذا الصليبي الحاقد في سبّ النبي صلى الله عليه وسلم زمجر الكلب وهاج ثم وثب على الصليبي وخمشه بشدة، فخلصوه منه بعد جهد...
فقال بعض الحاضرين: هذا بكلامك في حق محمد عليه الصلاة والسلام، فقال الصليبي: كلا! بل هذا الكلب عزيز النفس رآني أشير بيدي فظن أني أريد ضربه، ثم عاد لسب النبي وأقذع في السب، عندها قطع الكلب رباطه ووثب على عنق الصليبي وقلع زوره في الحال فمات الصليبي من فوره، فعندها أسلم نحو أربعين ألفا من المغول. (الدرر الكامنة، جزء: 3، صفحة 202)
امام ذہبی نے بھی اسی واقعے کو نقل کیا ہے.
□ قال الحافظ الذهبي في
"معجم الشيوخ" (ص: 387، ط: دار الكتب العلمية):
حدثنا الزين علي بن مرزوق بحضرة شيخنا تقي الدين المنصاتي: سمعت الشيخ جمال الدين إبراهيم بن محمد الطيبي بن السواملي يقول في ملإ من الناس: حضرت عند سونجق (خزندار هولاكو وأبغا) وكان ممن تنصر من المغل، وذلك في دولة أبغا في أولها، وكنا في مخيمه وعنده جماعة من أمراء المغل وجماعة من كبراء النصارى في يوم ثلج، فقال نصراني كبير لعين: أي شيء كان محمد (يعني نبينا صلى الله عليه وسلم)؟ كان داعيا وقام في ناس عرب جياع، فبقي يعطيهم المال ويزهد فيه فيربطهم. وأخذ يبالغ في تنقص الرسول صلى الله عليه وسلم، وهناك كلب صيد عزيز على سونجق في سلسلة ذهب، فنهض الكلب وقلع السلسلة ووثب على ذاك النصراني فخمشه وأدماه، فقاموا إليه وكفوه عنه وسلسلوه، فقال بعض الحاضرين: هذا لكلامك في محمد صلى الله عليه وسلم. فقال: أتظنون أن هذا من أجل كلامي في محمد؟ لا! لكن هذا الكلب عزيز النفس؛ رآني أشير بيدي فظن أني أريد ضربه فوثب. ثم أخذ أيضا يتنقص النبي صلى الله عليه وسلم ويزيد في ذلك. فوثب إليه الكلب ثانيا وقطع السلسلة وافترسه (والله العظيم) وأنا أنظر! ثم عض على زردمته فاقتلعها فمات الملعون، وأسلم بسبب هذه الواقعة العظيمة من المغل نحو من أربعين ألفا، واشتهرت الواقعة.
                 ▪ خلاصہ کلام
سوال میں مذکور واقعہ چونکہ ان دونوں محدثین کے قریبی زمانے میں پیش آیا تھا لہذا ان دونوں حضرات کا اس واقعے کو اپنی سند سے نقل کرنا ہی اس کی صحت کی دلیل ہے. چونکہ مغل قوم سے اللہ تعالی نے اسلام کی خدمت کا کام لینا تھا تو اس طرح کے معجزات کا پیش آنا اس قوم کے اسلام میں دخول کا پیش خیمہ ثابت ہوا.
    《واللہ اعلم بالصواب》
0333-8129000
٣ نومبر ٢٠١٨ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/50.html

(تحقیقات سلسلہ نمبر 50): (ایک بادشاہ کا واقعہ اور اس کی تحقیق)

(تحقیقات سلسلہ نمبر 50): (ایک بادشاہ کا واقعہ اور اس کی تحقیق)

باسمہ تعالیٰ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

ایک وائس مسیج سوشل میڈیا پر کثرت کے ساتھ گردش کررہا ہے، جو درج ذیل ہے👇 

جیسا کہ آج کل فرانس کے صدر آمانویل میکرون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر گستاخانہ کارٹون بنانے والوں کو ایوارڈ دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ جناب عالی یہ سارے کارٹون جو ہے نبی پاک کی گستاخی میں جو بنائے گئے ہیں وہ پورے فرانس کے ہر شہر میں ہر صوبے میں ہر روڈ پر چورنگی پر ہوڈنگس پر ہوٹلس پر لگائے جائیں گے (العیاذ باللہ) یہ تو کفر ہے، تو اس کے ساتھ وہی ہونا چاہئے جو ایک بادشاہ کے ساتھ ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک بادشاہ نے گستاخی کی تھی، آپ کے خط مبارک کو پھاڑ دیا تھا، اس کو تھوکا اور پاؤں تلے مسلا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللهم سلط عليه كلبا من كلابك" یا اللہ اپنے کتوں میں سے کوئی کتا اس پر مسلط کردے، وہ بادشاہ جو ہے بڑے بڑے وحشی جانوروں کو ، درندوں کو پالنے کا شوقین تھا اور اسی میں سے ایک  دیوار پھٹی اور پیچھے سے ایک شیر باہر آیا اور ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اس ملعون کے، جیسے اس نے نبی پاک کے خط کے ساتھ گستاخی کی تھی۔           

اس کی مدلل تحقیق مطلوب ہے، آپ سے گزارش ہے کہ جواب شافی و کافی دے کر عنداللہ ماجور و ممنون ہو۔ 

فقط والسلام مع الاحترام ۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب:- 

نہیں، وہ الگ واقعہ ہے، جو الفاظ ملعون لہب بن ابو لہب کے متعلق ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیا کرتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بد دعا دی تھی، اور آپ کی بد دعا کے مطابق ایسا ہی ہوا کہ اسے شام کے راستے میں شیر نے پھاڑ کھایا اور وہ ملعون مرگیا۔ پورا واقعہ عربی الفاظ میں درج ذیل ہے 👇

روى الحاكم (3984) والبيهقي في "الدلائل" (622) أن لهب بن أبي لهب كان يسب النبي صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (اللهم سلط عليه كلبك)، فخرج في قافلة يريد الشام فنزل منزلا فقال: إني أخاف دعوة محمد صلى الله عليه وسلم، قالوا له: كلا. فحطوا متاعهم حوله وقعدوا يحرسونه، فجاء الأسد فانتزعه فذهب به.

وقال الحاكم: صحيح الإسناد، ووافقه الذهبي.

ورواه أبو نعيم في "الدلائل" (220) وسماه عتبة بن أبي لهبب، وفيه: (اللهم سلط عليه كلبا من كلابك).

والحديث حسنه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" (4 /39)، والعيني في "عمدة القاري" (16 /51)، والشوكاني في "نيل الأوطار" (5 /80)، والصنعاني في "سبل السلام" (2 /195) 

اس میں شیخ طلحہ بلال منیار کی تحریر ملاحظہ فرمائیں 👇

 لهب بن أبي لهب غيرمعروف في أولاد أبي لهب، وأظنه خطأ من الراوي

والمعروف المشهور أن أولاد أبي لهب أربعة ، ثلاثة أبناء، وهم عتبة وعُتيبة ومُعَتِّب، وابنة اسمها دُرَّة.

هكذا في كتب الأنساب

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة كَذَلِك وَقَالَ: هَكَذَا قَالَ عَبَّاس بن الْفضل (لَهب بن أبي لَهب) وعباس لَيْسَ بِالْقَوِيّ، وَأهل الْمَغَازِي يَقُولُونَهُ: عتبَة بن أبي لَهب وَمِنْهُم من يَقُول: عتيبة، انْتَهَى

وقال ابن الأثير في "أسد الغابة" ط الفكر (4/ 396):

قلت: كذا قَالَ «لهب بْن أَبِي لهب»، وهذه القصة لعتيبة بْن أَبِي لهب، ذكر ذَلِكَ ابن إِسْحَاق، وابن الكلبي، والزبير، وغيرهم. والله أعلم.

تفسير الرازي = التفسير الكبير (32/ 350)

السؤال الأول: لماذا كناه مع أنه كالكذب *إذ لم يكن له ولد اسمه لهب* ، وأيضا فالتكنية من باب التعظيم؟

والجواب: عن الأول أن التكنية قد تكون اسما، ويؤيده قراءة من قرأ (تبت يدا أبو لهب) كما يقال: علي بن أبو طالب ومعاوية بن أبو سفيان، فإن هؤلاء أسماؤهم كناهم، وأما معنى التعظيم فأجيب عنه من وجوه أحدها: أنه لما كان اسما خرج عن إفادة التعظيم.

والثاني: أنه كان اسمه عبدالعزى فعدل عنه إلى كنيته والثالث: أنه لما كان من أهل النار ومآله إلى نار ذات لهب وافقت حاله كنيته، فكان جديرا بأن يذكر بها.انتھی کلام الشیخ ۔۔۔

اور وہ واقعہ جو بالا سوال میں مذکور ہے اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعاء تھی: اللهم مزق ملکه. واقعہ درج ذیل ہے 👇

رقم الحدیث: 2939 حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى، فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ كِسْرَى حَرَّقَهُ. فَحَسِبْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ.

(صحيح البخاري | كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ  | بَابُ دَعْوَةِ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ)

وفي حديث عبدالله بن حذافة " فلما بلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اللهم مزق ملكه (فتح الباری) 

خلاصۂ کلام:-

بالا سوال میں مذکور واقعہ بادشاہ کے متعلق نہیں ہے، بلکہ لہب بن ابولہب کے متعلق ہے، جس کی صراحت اوپر گزر چکی۔ اور بادشاہ کے واقعے میں اللہم سلط علیہ الخ کے الفاظ نہیں ہیں، بلکہ اللہم مزق ملکہ کے الفاظ ہیں۔ 

فقط والسلام

واللہ اعلم بالصواب

جمعہ ورتبہ:- ابواحمد حسان بن شیخ یونس تاجپوری گجرات (الھند)

استاذ:- جامعہ تحفیظ القرآن اسلام پورا گجرات

30/اکتوبر/2020ء بروز جمعہ 

-------------------

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنا ہے تو طریقہ بھی وہی ہو. فوٹو یا تصویر سامنے رکھ کر بد دعا دینا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ سے ایک نئی بدعت دعاؤں میں گھس جائے گی، میکرون سے شروع ہوگی، پھر کسی مریض کے لئے دعا کی درخواست کی جائے گی، تو مطالبہ ہوگا کہ تصویر بھیجو، اس کو دیکھ کر دعا کریں گے اس پر دم کریں گے، پھر معاملہ بڑھتے بڑھتے نا محرموں کی تصویر جمع کرنے تک پہنچ جائے گا، بحجۃ دعائے خیر؟!

از ۔ شیخ طلحہ منیار

(نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/50.html



Monday, 2 November 2020

عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم

 عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم 

-------------------------------
--------------------------------
سوال نمبر-1: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام وعلماءعزام اس مسئلہ کےبارے میں کہ...

 ۱۔ عقیدہ حیات انبیاء کرام علیھم السلام کیا ہے..؟

۲۔ دین متین میں اس کی شرعی حثیت کیا ہے..؟

۳۔ اس عقیدہ کے منکر کا کیا حکم ہوگا...؟؟

سوال نمبر۔2: اھلسنت والجماعت کے عقائد میں سے سماع صلوة وسلام قبرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے.؟

سوال نمبر-3: روضہ رسول پہ حاضری کے وقت بارگاہ رسالت میں شفاعت کا طلب کرنا کیسا ہے ..؟

سوال نمبر۔4: روضہ رسول پہ حاضری کے متعلق سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ کی وفات پر جنازہ مبارک کا لانا اور بارگاہ رسالت سے دروازہ مبارک کا کھلنا، حضرت علامہ جامی رحمہ اللہ کے نعتیہ کلام پہ سلام کا تذکرہ، اور حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کو روضہ مبارک میں سے سلام کا آنا، کیا یہ سارے اور دیگر ان جیسے تمام واقعات اھلسنت کے عقائد کے مطابق صحیح اور درست ہیں...؟

سوال نمبر-5: حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لئے جانے والے حضرات کو یہ کہنا کہ روضہ رسول پہ حاضری کے وقت بارگاہ رسالت میں میرا نام لے کر صلوة و سلام عرض کرنا شرعا ٹھیک ہے.؟

سوال نمبر-

6: اس عقیدے کا انکار سب سے پہلے کس نےکیا تھا.؟

٧- ایسے منکرین حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مستقل طور پہ نمازیں پڑھنا اور انکو امام بنانا صحیح العقیدہ علماء کیلئے اور عوام کیلئے کیا حکم ہے۔؟

ابومحمدیاسرقریشی (پاکستان)

____________________________

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب وباللہ التوفیق: 

دنیا میں آنے والی ہر مخلوق کو یہاں سے سدھارنا اور رحلت کرنا ہے، ایک ذات واجب الوجود کے علاوہ کسی کو بھی دوام وخلود نہیں، سرور کائنات فخر موجودات  خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیاوی زندگی کی 63 بہاریں دیکھ کے یہاں سے رحلت فرماگئے، اور عالم برزخ پہنچ گئے، اپنے روضہ مبارکہ وحجرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں آپ مدفون ہوئے۔ قبر مبارک میں آپ کے جسد عنصری ودنیوی میں روح مبارکہ لوٹائی گئی، جسد عنصری اور روح مبارک کا یہ ربط وتعلق شہداء سے بھی زیادہ  مضبوط ومستحکم اعلی و ارفع ہے، جسد عنصری وروح مبارکہ کا غایت تعلق واتصال مشابہ حیات دنیوی ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم روضۂ اطہر میں زندہ ہیں، درود وسلام پیش کرنے والوں کے سلام کا جواب دیتے ہیں اور وہ تمام امور جن کی تفصیل ﷲ ہی کو معلوم ہے بجالاتے ہیں، اسی کو "عقیدہ حیات النبی" کہتے ہیں، میرے نبی سمیت  تمام انبیاء کرام کے تعلق سے امت مسلمہ کا یہی اجماعی عقیدہ ہے، جو چودہ سو سال سے جمہور سلف وخلف وائمہ اربعہ مجتہدین اور علامہ ابن تیمیہ وغیرہ کا یہی متفقہ موقف چلا آرہا ہے، یہ "عقیدۂ حیات النبی"  قرآن کریم کی متعدد آیات کے اشارے، دلالت واقتضاء سے جبکہ حدیث سے صراحۃ النص سے ثابت ہے۔

تو اس مسئلے کا ثبوت قطعیات ومسلمات میں سے ہوا، انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام خصوصا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے روضہ مقدسہ میں جسم عنصری کے ساتھ ارواح مبارکہ کا  غایت اتصال وتعلق یعنی حیات برزخی مشابہ حیات دنیوی ثابت نہ کرنا اور جسم کو روح سے بے تعلق ومردہ تصور کرنا خرق اجماع ہے، ایسا عقیدہ رکھنے والا شخص اہل سنت والجماعت سے خارج، متبع ہوی اور گمراہ ہے۔

وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ (الزخرف 45)

اور آپ ان پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھيجا ہے پوچھ لیجئے کہ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا دوسرے معبود ٹھہرادئیے تھے کہ ان کی عبادت کرو۔

کبار مفسرین نے اس آیت سے انبیاء علہیم الصلوة والسلام کی حیات پر استدلال کیا ہے: یستدل به علی حیات الانبیاء (مشکلات القرآن للکشمیری : ص 234) روح المعانی:جلد 5 ص89، جمل: جلد 4 ص88، شیخ زادہ جلد 7ص 298، حقاجی: جلد 7 ص 444، تفسیرمظہری: جلد 8 ص353، تفسیرجلالین: ص 408، تفسیر بغوی: جلد 4 ص 141]

 حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ" [مسند أبي يعلى الموصلي» بَقِيَّةُ مُسْنَدِ أَنَسٍ, رقم الحديث: 3371 (3425) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز ادا فرماتے ہیں.

حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: و صححہ البیہقی (امام بیہقی نے اس کی تصحیح کی ہے) ۔ [فتح الباری جلد 6 ص 352]

علامہ سیوطی  نے اسے حسن کہا [الجامع الصغير - الصفحة أو الرقم: 3089]

علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ابویعلی کی سند کے سب راوی ثقہ ہیں۔ [مجمع الزوائد - الصفحة أو الرقم: 8/214]

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَسُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَيْتُ، وَفِي رِوَايَةِ هَدَّابٍ: "مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ". [صحيح مسلم» كِتَاب الْفَضَائِلِ» بَابٌ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ, رقم الحديث: 4386 (2377)]  

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "معراج کی رات میرا گزر حضرت موسیٰؑ کی قبر پر ہوا، جو سرخ ٹیلے کے قریب ہے، میں نے ان کو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں.

 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ، وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا"، قَالَ: قُلْتُ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ، قَالَ: "وَبَعْدَ الْمَوْتِ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ". [سنن ابن ماجه» كِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ» بَاب ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ... رقم الحديث: 1637][الحكم: إسناده متصل، رجاله ثقات]

ترجمہ: حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کہ دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ وہ دن حاضری کا ہے۔ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ مجھ پر جو کوئی شخص دورد پڑھتا ہے اس کا ددور مجھ پر پیش کیا جاتا ہے حتی کہ وہ اس سے فارغ ہو۔ میں نے کہا فرمایا وفات کے بعد بھی پیش جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! وفات کے بعد بھی پیش کیا جائے گا۔ بے شک ﷲ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیائے کرام کے اجسام طیبہ کو کھائے۔ سو ﷲ تعالی کا نبی زندہ ہے۔ اس کو رزق ملتا ہے۔

 رجالہ ثقات، تہذیب التہذیب جلد 3 ص 398)

عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ»، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ، وَقَدْ أَرَمْتَ؟ - قَالَ: يَقُولُونَ: بَلِيتَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ» ۔[سنن ابوداود: باب فی الااستغفار، حدیث نمبر 1531؛ سنن ابن ماجۃ: باب فی فضل الجمعۃ، حدیث نمبر 1085] 

ترجمہ: حضرت اوس ابن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، لوگوں نے پوچھا کہ ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ آپ تو بوسیدہ ہو چکے ہوں گے [ شاید راوی نے ارمت کی جگہ بلیت، کہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے زمین پر نبیوں کے جسموں کو حرام کر دیا کہ وہ کھائے۔

 حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ، يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ".[مصنف ابن أبي شيبة» كتاب الصلاة» أَبْوَابُ مَسَائِلَ شَتَّى فِي الصَّلاةِ» فِي ثَوَابِ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ ..., رقم الحديث: 8506 (8789)- صحيح]

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی الله عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے فرمایا: "الله کی طرف سے کچھ فرشتے مقرر ہیں جو زمین میں چکر لگاتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں.

قال أبوالشيخ في الكتاب (الصلاة على النبي): حدثنا عبدالرحمن ابن أحمد الأعرج، حدثنا الحسن بن الصباح حدثنا أبومعاوية، حدثنا الأعمش، عن أبي الصالح، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: "مَنْ صَلَّى عَلِيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ، وَمَنْ صَلَّى عَلِيَّ نَائِيًا عَنْهُ أَبْلَغْتُهُ" .[جلاء الافہام، لابن قيم: رقم الحديث: 19؛ مشكوة: جلد 1 حديث 899، برواية الْبَیْھَقِیُّ فِیْ شُعَبِ الْاِیْمَانِ]

ترجمہ: حافظ ابوالشیخ اصبہانی فرماتے ہیں کہ ہم سے عبدالرحمن بن احمد العرج نے بیان کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم سے الحسن بن الصباح نے بیان کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم سے اعمش رحمة اللہ علیہ نے بیان کیا۔ وہ ابوصالح سے اور وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے میری قبر کے پاس دورد پڑھا تو میں اسے خود سنتا ہوں اور جس نے مجھ پر دور سے پڑھا تو وہ مجھے پہنچایا جاتا ہے۔ (جلاء الافہام، لابن قيم: رقم الحديث: 19)

"ومما هو مقرر عندالمحققين انه - صلى الله عليه وسلم - حي يرزق متمتع بجميع الملاذ والعبادات غير انه احجب عن إبصار (نوالایضاح، ح١٧٧)

القاصرين عن شريف المقامات ينبغي لمن قصد زيارة النبي صلى الله عليه وسلم ان يكثر الصلاة عليه فانه يسمعها وتبلغ اليه (مراقي الفلاح ص: 405 طبع مير محمد كراجي).

ترجمہ: علامہ شرنبلالی رحمة اللہ علیہ "نورالایضاح، ح ١٧٧ "میں فرماتے ہیں کہ "محققین کے نزدیک یہ طے شدہ ہے کہ حضور انور زندہ ہیں اور آپ کو رزق بھی ملتا ہے اور عبادت سے لذت بھی اٹھاتے ہیں. ہاں اتنی بات ہے کہ وہ  ان نگاہوں سے پردے میں ہیں جو ان مقامات تک پہنچنے سے قاصر رہتی ہیں. (نورالایضاح، ح ١٧٧) 

حنفیہ میں علامہ طحطاوي المتوفي 1233 هـ فرماتے ہیں:

(فانه يسمعها) أي إذا كانت بالقرب منه - صلى الله عليه وسلم - (وتبلغ إليه) أي يبلغها الملك إذا كان المصلي بعيدا (الطحطاوي ص: 405 طبع مير محمد كراجي). 

ترجمہ: آپ صلے الله علیہ وسلم صلاة و سلام کو اس وقت خود سنتے ہیں جب قریب سے عرض کیا جارہا ہو اور فرشتے اس وقت پہنچاتے ہے جب یہ دور سے پڑھا جارہا ہو. إمام مالك المتوفي 179 هـ فرماتے ہیں: 

نقل عن الإمام مالك انه كان يكره أن يقول رجل زرت قبر النبي - صلى الله عليه وسلم - قال ابن رشيد من اتباعه أن الكراهية لغلبة الزيارة في الموتى وهو - صلى الله عليه وسلم - أحياه الله تعالى بعد موته حياة تامة واستمرت تلك الحياة وهي مستمرة في المستقبل وليس 

هذا خاصة به صلى الله عليه وسلم بل يشاركه الأنبياء عليهم السلام فهو حي بالحياة الكاملة مع الإستغناء عن الغذاء الحسى الدنيوي (نورالإيمان بزيارة آثار حبيب الرحمن ص: 14 للشيخ عبدالحليم فرنكي محلي, وكذلك في وفاء الوفاء ج: 4 ص: 1373 مصر  

ترجمہ: ابنرشد امام مالک رحمة اللہ علیہ کے مقلدین میں سے ہیں کہ امام مالک رحمة اللہ علیہ کی ناپسندیدگی (کہ میں نے حضور کی "قبر" کی زیارت کی) وجہ یہ ہے کہ زیارتقبر کا لفظ عام طور پر موتى (مردہ) کے متعلق استمعال ہوتا ہے اور حضور وفات شریفہ کے بعد اب حیات تامہ سے زندہ ہیں اور یہ حیات آئندہ بھی اسی طرح رہے گی. یہ صرف آپ ہی کا خاصہ نہیں بلکہ تمام انبیاء اس وصف میں آپ کے ساتھ شریک ہیں. پس آپ دنیوی حسی غذا سے استغناء (بے-پروائی) کے باوجود حیات_کاملہ سے زندہ ہیں. 

شوافع میں علامة تاج الدين سبكي المتوفي 777 هـ فرماتے ہیں:

"لان عندنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - حي يحس ويعلم وتعرض عليه اعمال الأمة ويبلغ الصلاة والسلام على ما بينا" (طبقات الشافغية الكبرى ج: 3 ص: 412 طبعة دار الأحياء بقاهرة)

ترجمہ: ہم شافعیہ کے نزدیک حضور زندہ ہیں اور آپ میں احساس و شعور موجود ہے، آپ پر اعمال_امت بھی پیش ہوتے ہیں اور صلوة و سلام بھی پہچایا جاتا ہے.

حنابلہ میں علامہ ابن عقيل فرماتے ہیں:

"هو - صلى الله عليه وسلم - حي في قبره" (الروضة البهية ص: 14) 

ترجمہ: حضور صلے الله علیہ وسلم اپنی قبرمبارک میں زندہ ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں. 

إمام شمس الدين محمد السخاوي المتوفي 902 هـ:

نحن نؤمن ونصدق بأنه صلى الله عليه وسلم - حي يرزق في قبره وان جسده الشريف لا تأكله الأرض والإجماع على هذا (القول البديع ص: 172 ,طبعة دارالكتب العربي)

ترجمہ: علامہ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ہم یقین رکھتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں کہ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں، آپ کو رزق دیا جاتا ہیں اور آپ کے جسد شریف کو زمین نے نہیں کھایا اور اس پر اجماع ہے۔‘‘ (القول البدیع، علامہ سخاوی ص 335)

علامة عبدالوہاب شعراني المتوفي 973 هـ لکھتے ہیں: 

قد صحت الأحاديث انه - صلى الله عليه وسلم - حي في قبره يصلي بأذان واقامة (منح المنة ص: 92, طبعة مصر) 

شیخ عبد الله بن محمد بن عبدالوهاب النجدي المتوفي 1206 هـ لکھتے ہیں:

والذي نعتقد ان رتبة نبينا - صلى الله عليه وسلم - أعلى مراتب المخلوقين على الإطلاق و انه حي في قبره حياة مستقرة ابلغ من حياةالشهداء المنصوص عليها في التنزيل إذ هو أفضل منهم بلا ريب, وانه يسمع من يسلم عليه (اتحاف النبلاء ص: 415, طبعة كانبور).

قاضي شوكاني المتوفي 1255 هـ لکھتے ہیں:

وقد ذهب جماعة من المحققين إلى أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حي بعد وفاته وانه يسر بطاعات أمته وان الأنبياء لا يبلون مع أن مطلق الإدراك كالعلم والسماع ثابت بسائر الموتى إلى أن قال وورد النص في كتاب الله فى حق الشهداء أنهم أحياء يرزقون وان الحياة 

فيهم متعلقة بالجسد فكيف بالأنبياء والمرسلين وقد ثبت في الحديث أن الأنبياء أحياء في قبورهم رواه المنذرى وصححه البيهقي وفي صحيح مسلم عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال مررت بموسى ليلة اسري بي عند الكثيب الأحمر وهو قائم يصلي في قبره نيل الأوطار ج: 3 ص: 305 طبعة دارالفكر ببيروت الإمام ابن تيمية يثبت حياة الأنبياء والصالحين في قبورهم

شيخ الاسلام علامہ ابن تيمية مجموع الفتاوى میں لکھتے ہیں  (1/330):

"وكذلك الأنبياء والصالحون وان كانوا أحياء في قبورهم وان قدر انهم يدعون للأحياء وان وردت به آثار فليس لأحد أن يطلب منهم ذلك ولم يفعل ذلك أحد من السلف لأن ذلك ذريعة إلى الشرك بهم وعبادتهم من دون الله تعالى بخلاف الطلب من أحدهم في حياته فانه لا يفضى إلى الشرك"ا.هـ

"فهذه نصوصه الصريحة-أي النبي صلى الله عليه وسلم- توجب تحريم إتخاذ قبورهم مساجد مع أنهم مدفونون فيها وهم أحياء في قبورهم ويستحب إتيان قبورهم للسلام عليهم ومع هذا يحرم إتيانها للصلاة عندها وإتخاذها مساجد"ا.هـ (مجموع الفتاوى (27/502) 

(یہ تمام تفصیلات المہند علی المفند سے مستفاد ہیں) 

ان تمام روایات، اقوال ائمہ واسلاف سے واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت اور وفات کے بعد برزخ میں آپ کو  بہ تعلق روح مع الجسد العنصری ایک خاص واعلی قسم کی برزخی حیات حاصل ہے، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زائرین کے سلام کو سنتے ہیں اور جواب بھی مرحمت فرماتے ہیں ،آپ کی یہ زندگی شہداء سے بھی زیادہ ارفع و ابلغ ہے ، اسی خاص وممتاز  قسم کی حیات کو علماء اہل حق نے مختلف تعبیرات واسلوب میں بیان کیا ہے؛ لیکن مآل سب کا ایک ہی ہے۔ اس خاص زندگی کی کنہ اور حقیقت کا علم اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں۔ (تفصیل ماہنامہ البینات، کراچی، محرم الحرام 1427 ہجری میں دیکھی جاسکتی ہے)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روضہٴ اقدس پر جانے والوں کی باتیں سنتے ہیں اور دوسرے امتی جو آپ کے روضے سے دو رہیں، ان کے اعمال کی خبر اور درود وسلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا جاتا ہے۔ روضہ رسول پہ حاضری کے وقت دوسروں کے لئے ایذاء رسانی کا سبب بنے بغیر انتہائی پست آواز میں پورے ادب واحترام کی رعایت  کے ساتھ روضے پہ سلام پیش کرنا، آپ کے وسیلے سے دعاء کرنا اور شفاعت کی درخواست کرنا جائزومندوب ہے، ائمہ اربعہ مجتہدین کا اس کے جوازواستحباب پہ اتفاق ہے:

ويسأل الله تعالى حاجته متوسلا إلى الله بحضرة نبيه عليه الصلاة والسلام، وأعظم المسائل وأهمها سؤال حسن الخاتمة والرضوان والمغفرة". (شرح فتح القدير، لإبن الهمام، (39) ، دارالكتب العلمية، بيروت، لبنان، الطبعة الأولى، 1415ه 1995  آداب زيارة قبر النبي صلّى الله عليه وسلّم) 

 ... ثمّ يتوسل به – أي بالنبي صلّى الله عليه وسلّم - في جميع مطلوباته .ثمّ ينتقل قبالة قبر أبي بكر ويقول: "السلام عليك يا خليفة رسول الله ...ثمّ يتوسل به إلى رسول الله صلّى الله عليه وسلّم، ثمّ ينتقل قبالة قبر أمير المؤمنين عمر ويقول: "السلام عليك يا صاحب رسول الله، السلام عليك يا أمير المؤمنين عمر الفاروق ثمّ يتوسل به إلى رسول الله صلّى الله عليه وسلّم ثمّ يأتي إلى البقيع فيسلّم على أهله هكذا ويتوسل بهم إلى رسول الله فلتحفظ تلك الآداب فإنّ من فعلها مع الشوق وفراغ القلب من الأغيار بلغ كل ما يتمنى إن شاء الله تعالى (الشرح الصغير على أقرب المسالك إلى مذهب الإمام مالك، للعلامة أبي البركات أحمد بن محمد بن أحمد الدردي، وبهامشه حاشية العلامة الشيخ أحمد بن محمد الصاوي المالكي، (2 72)، طبعة دار المعارف، القاهرة، لدى ذكره آداب زيارة قبر النبي صلّى الله عليه وسلّم وصاحبيه) 

 وروي عن الإمام مالك بن أنس رضي الله عنه أنّه قال للخليفة المنصور لما حج وزار قبر النبي عليه وعلى آله الصلاة والسلام وسأل مالكا قائلا: يا أبا عبد الله أأستقبل القبلة وأدعو أم أستقبل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وأدعو؟ فقال الإمام مالك: "ولم تصرف وجهك عنه وهو وسيلتك ووسيلة أبيك آدم إلى الله تعالى؟ بل استقبل واستشفع به فيشفعه الله فيك."

(.. واعلم أنّ زيارة قبرالرسول صلى الله عليه وآله وسلم من أهم القربات وأنجح المساعي .. إلى أن قال: ويقف ناظرا إلى أسفل ما يستقبله من جدار القبر غاض الطرف في مقام الهيبة والإجلال فيقول: السلام عليك يا رسول الله ... إلى أن قال: ويتوسل به في حق نفسه ويستشفع به إلى ربه سبحانه وتعالى " .(كتاب المجموع  شرح المهذب، للنووي، (8 256 – 257  ، دارإحياء التراث العربي للطباعة والنشر والتوزيع)

وقال الامام تقي الدين أبوالحسن السبكي رحمه الله تعالى من أعلام الشافعية:

(اعلم أنه يجوز ويحسن التوسل والاستغاثة والتشفع بالنبي صلى الله عليه وآله وسلّم إلى ربه سبحانه وتعالى وجواز ذلك وحسنه من الأمور المعلومة لكل ذي دين المعروف من فعل الأنبياء والمرسلين وسيرة السلف الصالحين والعلماء المسلمين). انظ: كتاب شفاء الأسقام في زيارة خير الأنام الباب الثامن  ص 161.وقال: (وأقول: إنّ التوسل بالنبي صلى الله عليه وآله وسلم جائز في كل حال: قبل خلقه وبعد خلقه في مدة حياته في الدنيا وبعد موته في مدة البرزخ وبعد المبعث في عرصات القيامة والجنة) كتاب شفاء الأسقام في زيارة خيرالأنام الباب الثامن ص 161)

وجاء في كتاب (الإقناع، للشربيني،ج 1 ص 374) في آداب زيارة قبر النبي صلّى الله عليه وسلّم : ".... ثمّ يرجع إلى موقفه الأول قبالة وجه النبيّ صلّى الله عليه وسلّم ويتوسل به في حق نفسه ، ويستشفع به إلى ربه، وإذا أراد السفر ودّع المسجد بركعتين وأتى القبر الشريف وأعاد نحو السلام الأول." 

جاء في كتاب الإنصاف، للمرداوي، الحنبلي: "يجوز التوسل بالرجل الصالح على الصحيح من المذهب وقيل يستحب) وقال : (والتوسل بالإيمان به صلّى الله عليه وآله وسلّم وطاعته ومحبته والصلاة والسلام عليه وبدعائه وشفاعته ونحوه ممّا هو من فعله أو أفعال العباد المأمور بها في حقه مشروع إجماعا) كتاب الإنصاف (2/456).

 وقال الإمام أحمد للمروزي رحمهما الله تعالى: (ويتوسل بالنبي صلى الله عليه وآله وسلم في دعائه وجزم به في المستوعب وغيره).

 وجاء في المغني، لإبن قدامة، (ج 3 600) في آداب زيارة قبر النبي صلّى الله عليه وسلّم: "ثمّ تأتي القبر فتولّي ظهرك وتستقبل وسطه وتقول: "السلام عليك أيّها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام عليك يا نبي الله وخيرته من خلقه ... اللهمّ إنّك قلت وقولك الحق: "ولو أنّهم إذ ظلموا أنفسهم جاؤوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توّاباً رحيما"  (النساء، 64) وقد أتيتك مستغفرا من ذنوبي مستشفعاً بك إلى ربي فأسألك يا ربّ أن توجب لي المغفرة كما أوجبتها لمن أتاه في حياته، اللهمّ اجعله أول الشافعين وأنجح السائلين وأكرم الآخرين والأولين، برحمتك يا أرحم الراحمين" .

 قاضی شوکانی لکھتے ہیں: 

وقال: (ويتوسل إلى الله بأنبيائه والصالحين) أقول: ومن التوسل بالأنبياء: وذكر قصة الأعمى، وأما التوسل بالصالحين حديث استسقاء سيدنا عمر بسيدنا العباس رضي الله عنهما)   انظر: (كتاب تحفة الذاكرين ص (37)

جہاں تک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تدفین کے وقت قبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرنے اور روضے سے اجازت ملنی والی بات کا تعلق ہے تو یہ کسی صحیح، معتبر یا مستند روایت سے ثابت تو نہیں ہے؛ البتہ یہ واقعہ السيرة الحلبية، 3: 493 ، الخصائص الکبریٰ للسيوطی، 2: 492، تاريخ دمشق الکبي، ابن عساکر، 30: 436 میں درج ہے، ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اس طرح کی ایک روایت سند کے ساتھ اس طرح ذکر کی ہے: 

أنبأنا أبوعلي محمد بن محمد بن عبدالعزيز بن المهدي وأخبرنا عنه أبوطاهر إبراهيم بن الحسن بن طاهر الحموي عنه أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن أحمد العتيقي سنة سبع وثلاثين وأربع مائة نا عمر بن محمد الزيات نا عبدالله بن الصقر نا الحسن بن موسى نا محمد بن عبدالله الطحان حدثني أبو طاهر المقدسي عن عبد الجليل المزني عن حبة العرني عن علي بن أبي طالب قال لما حضرت أبا بكر الوفاة أقعدني عند رأسه وقال لي يا علي إذا أنا مت فغسلني بالكف الذي غسلت به رسول الله (صلى الله عليه وسلم) وحنطوني واذهبوا بي إلى البيت الذي فيه رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فاستأذنوا فإن رأيتم الباب قد يفتح فادخلوا بي وإلا فردوني إلى مقابر المسلمين حتى يحكم الله بين عباده قال فغسل وكفن وكنت أول من يأذن إلى الباب فقلت يا رسول الله هذا أبوبكر مستأذن فرأيت الباب قد تفتح وسمعت قائلا يقول ادخلوا الحبيب إلى حبيبه فإن الحبيب إلى الحبيب مشتاق" (تاریخ دمشق، جلد 30، صفحہ 437)

ترجمہ: جناب علی رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے اپنے سرہانے بٹھاکر مجھے فرمایا: اے علی! کہ جب میں فوت ہوجاؤں تو مجھے غسل وغیرہ دے کر روضہ رسول کے سامنے رکھ دینا اور اجازت طلب کرنا، تو اگر درازہ کھول دیا جائے، تو مجھے اندر لے جانا، بصورت دیگر مجھے عام مسلمانوں کے قبرستان لے جانا، جناب علی فرماتے ہیں کہ (وصیت کے مطابق) انہیں غسل، کفن دینے کے بعد ہم انہیں لے کر روزہ شریفہ کے پاس پہنچے اور سب سے پہلے میں عرض کی۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! یہ ابوبکر ہیں جو آپ کی اجازت کے طلب گار ہیں ،تو میں نے دیکھا کہ دروازہ کھل گیا، اور کہنے والے کا کہنا سنا کہ محب کو حبیب کے پاس پہنچا دو ، کیونکہ آقا اس محب کی (ملاقات) کے مشتاق ہیں۔"

امام ابن عساکر یہ روایت نقل کرکے فرماتے ہیں:

هذا منكر وراويه أبوالطاهر موسى بن محمد بن عطاء المقدسي وعبدالجليل مجهول

والمحفوظ أن الذي غسل أبا بكر امرأته أسماء بنت عميس"

یہ روایت منکر ہے، اور اس کے دو راوی موسی بن محمد اور عبدالجلیل مجھول ہیں،

اور ثابت بات یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر کو ان کی زوجہ محترمہ سیدہ اسماء بنت عمیس نے غسل دیا تھا (نہ کہ جناب علی نے)

تفسیر رازی میں اس واقعے کو حضرت ابوبکر رضی اللہ کی کرامت شمار کیا گیا ہے، وہاں  یہ واقعہ بلاسند کے منقول ہے: 

«أَمَّا الْآثَارُ» فَلْنَبْدَأْ بِمَا نُقِلَ أَنَّهُ ظَهَرَ عَنِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ مِنَ الْكَرَامَاتِ ثُمَّ بِمَا ظَهَرَ عَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمِنْ كَرَامَاتِهِ أَنَّهُ لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَتُهُ إِلَى بَابِ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُودِيَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ بِالْبَابِ فَإِذَا الْبَابُ قَدِ انْفَتَحَ وَإِذَا بِهَاتِفٍ يَهْتِفُ مِنَ الْقَبْرِ أَدْخِلُوا الْحَبِيبَ إِلَى الْحَبِيبِ ۔( تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (21/ 433)

حضرت عبدالرحمن ملا جامی رحمہ اللہ کے لئے روضہ رسول سے مصافحہ کے لئے  ہاتھ نکلنا اسی طرح  حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے لئے روضے سے جواب سلام آنا تو اس سلسلے میں جامعہ بنوری ٹائون نے جو  تفصیلی فتوی جاری کیا ہے وہ انتہائی چشم کشا اور مدلل ہے، اسے ہم یہاں بعینہ نقل کررہے ہیں: 

"سید الرسل و خاتم الانبیاء، سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبرِمبارک میں حیات ہیں، اور آپ درود وسلام  پڑھنے والوں کے درود و سلام کا جواب دیتے ہیں، یہ بات مسلم ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ دنیوی میں خرق عادت کے طور پر چند امور بطورِ معجزہ  ظاہر ہوئے ہیں، اور ان کا صدور مسلم عقیدہ ہے اسی طرح آپ کی حیاتِ برزخیہ دنیویہ جسدیہ میں اگر اس طرح کے کچھ واقعات صادر ہوں تو  یہ نہ عقلاً ممتنع ہے اور نہ ہی شرعاً، اس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے، نیز اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ  اولیاء کی کرامات حق ہیں، لہذا اگر اللہ کے کسی ولی کے لیے خرقِ عادت کے طور پر روضہ اقدس سے سرورِ کائنات حضرت رسولِ مقبول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک باہر آئے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس سے کسی کے سلام کا بلند آواز سے جواب دیا جائے تو یہ ممکن ہے، بلکہ اس قسم کے ایک نہیں کئی واقعات موجود ہیں، جن  کو اہلِ علم نے  اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے، سرِ دست اس سلسلے میں سید احمد رفاعی رحمہ اللہ کا مشہور واقعہ ذکر ہے جو کہ مشہور صوفی بزرگ ہیں، ان کا واقعہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے ’’الحاوی للفتاوی‘‘ میں نقل کیا ہے:

سید احمد رفاعی رحمہ اللہ جب 555 ھ میں حج سے فارغ ہوکر زیارت کے لیے حاضر ہوئے اور قبرِاطہر کے مقابل کھڑے ہوئے تو یہ دو شعر پڑھے:

فِي حَالَةِ الْبُعْدِ رُوحِي كُنْتُ أُرْسِلُهَا ... تُقَبِّلُ الْأَرْضَ عَنِّي فَهْيَ نَائِبَتِي

وَهَذِهِ نَوْبَةُ الْأَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ ... فَامْدُدْ يَمِينَكَ كَيْ تَحْظَى بِهَا شَفَتِي

ترجمہ: "دوری کی حالت میں، میں اپنی روح کو خدمتِ اقدس میں بھیجا کرتا تھا، وہ میری نائب بن کر آستانہ  مبارک چومتی تھی ، اب جسموں کی حاضری کی باری آئی ہے، اپنا دست مبارک عطا کیجیے، تاکہ میرے ہونٹ اس کو چومیں"۔

اس پر قبر شریف سے دستِ مبارک نکلا اور انہوں نے اس کو چوما۔ انتھی

’’وَفِي بَعْضِ الْمَجَامِيعِ: حَجَّ سَيِّدِي أحمد الرفاعي فَلَمَّا وَقَفَ تُجَاهَ الْحُجْرَةِ الشَّرِيفَةِ أَنْشَدَ: 

فِي حَالَةِ الْبُعْدِ رُوحِي كُنْتُ أُرْسِلُهَا ... تُقَبِّلُ الْأَرْضَ عَنِّي فَهْيَ نَائِبَتِي

وَهَذِهِ نَوْبَةُ الْأَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ ... فَامْدُدْ يَمِينَكَ كَيْ تَحْظَى بِهَا شَفَتِي

فَخَرَجَتِ الْيَدُ الشَّرِيفَةُ مِنَ الْقَبْرِ الشَّرِيفِ فَقَبَّلَهَا‘‘. (الحاوی للفتاوی، 2/ 314)

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے فضائل حج میں ’’البنیان المشید‘‘ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس وقت تقریباً  نوے ہزار کا مجمع  مسجد نبوی میں تھا، جنہوں نے اس واقعہ کو دیکھا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک کی زیارت کی، جن میں حضرت محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ  کا نام نامی بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ (فضائل حج ص 197، آداب زیارت)

اسی طرح علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ  نے سلام کے جواب آںے سے متعلق بھی واقعات نقل کیے ہیں، نمونہ کے طور پر چند کا تذکرہ ذیل میں ہے:

1) سید نورالدین ایجی شریف عفیف الدین رحمہ اللہ کے والد ماجد کے متعلق لکھا ہے کہ  جب وہ روضہ مقدسہ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا: "السلام علیک أیها النبي ورحمة الله وبرکاته"  تو سارے مجمع نے جو وہاں حاضر تھا  سناکہ قبر شریف سے "وعلیک السلام یا ولدي" کا جواب ملا۔

’’وَفِي مُعْجَمِ الشَّيْخِ برهان الدين البقاعي قَالَ: حَدَّثَنِي الْإِمَامُ أبو الفضل بن أبي الفضل النويري أَنَّ السيد نور الدين الإيجي وَالِدَ الشريف عفيف الدين لَمَّا وَرَدَ إِلَى الرَّوْضَةِ الشَّرِيفَةِ وَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، سَمِعَ مَنْ كَانَ بِحَضْرَتِهِ قَائِلًا مِنَ الْقَبْرِ يَقُولُ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَا وَلَدِي‘‘. (الحاوی للفتاوی، 2/ 314)

2) شیخ ابو نصر عبدالواحد  بن عبدالملک بن محمد بن ابی سعد الصوفی الکرخی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حج سے فراغت کے بعد زیارت کے لیے حاضر ہوا، حجرہ شریفہ کے پاس بیٹھا تھا کہ شیخ ابوبکر دیار بِکری رحمہ اللہ تشریف لائے، اور مواجہ شریفہ کے سامنے کھڑے ہوکر عرض کیا: "السلام علیک یا رسول الله" تو میں نے حجرہ شریفہ کے اندر سے یہ آواز سنی: "وعلیک السلام یا أبابکر" اور ان سب لوگوں نے جو اس وقت حاضر تھے اس کو سنا۔

’’وَقَالَ الْحَافِظُ محب الدين بن النجار فِي تَارِيخِهِ: أَخْبَرَنِي أبو أحمد داود بن علي بن هبة الله بن المسلمة أَنَا أبو الفرح المبارك بن عبد الله بن محمد بن النقور قَالَ: حَكَى شَيْخُنَا أبو نصر عبد الواحد بن عبد الملك بن محمد بن أبي سعد الصوفي الكرخي قَالَ: حَجَجْتُ وَزُرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ الْحُجْرَةِ إِذْ دَخَلَ الشَّيْخُ أبو بكر الدياربكري وَوَقَفَ بِإِزَاءِ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ دَاخِلِ الْحُجْرَةِ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أبا بكر، وَسَمِعَهُ مَنْ حَضَرَ‘‘. (الحاوی للفتاوی، 2/ 314)

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے ’’فضائل حج‘‘ اور ’’فضائل درود شریف‘‘ میں اس طرح کے کئی واقعات  کئی کتابوں سے نقل کیے ہیں، لہذا اس سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کے لیے اس قسم کے واقعات کا پیش آجانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

آپ نے جن دو واقعات کا ذکر کیا ہے ان میں سے پہلا واقعہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے ’’فضائل درود شریف‘‘  میں نقل کیا ہے:

(1)   حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ میں نے ملا جامی رحمہ اللہ  کی کتاب ’’یوسف زلیخا‘‘ اپنی دس سال کی عمر میں والد صاحب سے پڑھی، اور ان ہی سے یہ قصہ سنا کہ حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ یہ نعت (جو یوسف زلیخا نامی کتاب کے شروع میں ہے)  لکھنے کے بعد جب ایک مرتبہ حج  کے لیے تشریف لے گئے، ان کا ارادہ  یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہوکراس نظم  کو پڑھیں گے، چناچہ جب حج کے بعد  مدینہ منورہ حاضری کا ارادہ کیا تو  امیر مکہ نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا کہ  اس کو (یعنی جامی کو) مدینہ نہ آنے دیں، امیرِمکہ نےممانعت کردی، مگر ان پر جذب وشوق اس قدر غالب تھا کہ یہ چھپ کر مدینہ منورہ  کی طرف چل دیے، امیرِ مکہ نے دوبارہ خواب دیکھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ  آرہا ہے اس کو یہاں نہ آنے دو، امیرِمکہ نے آدمی دوڑائے اور ان کو راستہ سے پکڑوا کر بلایا، ان پر سختی کی اور جیل خانہ میں ڈال دیا، اس پر امیرِ  مکہ  کو تیسری  مرتبہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ کوئی مجرم نہیں ہے، بلکہ اس نے کچھ اشعار کہے ہیں، جن کو یہاں آکر میری قبر پر کھڑے ہوکر پڑھنے  کا ارادہ کررہا ہے، اگر ایسا ہوا تو قبر سے مصافحہ کے لیے ہاتھ نکلے  گا جس میں فتنہ ہوگا، اس پر ان کو جیل سے نکالا گیا اور بہت اعزار واکرام کیا گیا۔ (فضائل درود شریف ص 198)

(2)     اور دوسرا واقعہ ’’الجمعیۃ،  شیخ الاسلام نمبر‘‘ میں اس طرح مذکور ہے: مشہور عالم اور بزرگ مولانا مشتاق احمد انبیٹھوی مرحوم نے بیان فرمایا کہ ایک بار زیارتِ بیت ﷲ سے فراغت کے بعد دربارِ رسالت میں حاضری ہوئی تو مدینہ طیبہ کے دورانِ قیام مشائخِ وقت سے یہ تذکرہ سناکہ اِمسال روضہ اطہر سے عجیب کرامت کا ظہور ہوا ہے، ایک ہندی نوجوان نے جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر صلاۃ وسلام پڑھا تو دربارِرسالت سے ”وعلیکم السلام یا ولدي“ کے پیارے الفاظ سے اس کو جواب ملا۔ اس واقعہ کو سن کر قلب پر ایک خاص اثر ہوا۔ مزید خوشی کا سبب یہ بھی تھا کہ یہ سعادت ہندی نوجوان کو نصیب ہوئی ہے۔ دل تڑپ اٹھا اور اس ہندی نوجوان کی جستجو شروع کی؛ تاکہ اس محبوبِ بارگاہِ رسالت کی زیارت سے مشرف ہوسکوں اور خود اس واقعہ کی بھی تصدیق کرلوں۔ تحقیق کے بعد پتا چلا کہ وہ ہندی نوجوان سید حبیب ﷲ مہاجر مدنی رحمہ ﷲ کا فرزندِ ارجمند ہے۔ گھر پہنچا ملاقات کی، تنہائی پاکر اپنی طلب وجستجو کا راز بتایا، ابتدا میں خاموشی اختیار کی،  لیکن اصرار کے بعد کہا: ”بے شک جو آپ نے سنا وہ صحیح ہے۔“ یہ نوجوان تھے مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ‘‘۔ (الجمعیۃ  شیخ ا لاسلام نمبرص۹۴)

  نیز حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ نے درسِ ختمِ بخاری شریف جامع مسجد سورتی، رنگون، برما میں حضرت شیخ الاسلام حسین احمد مدنی صاحب رحمہ اللہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: "میں نے پڑھا ہے اور اپنے بعض بزرگوں سے سنا ہے کہ ایک مرتبہ آپ روضہٴ رسول اکرم صلی اللہ  علیہ وسلم پر حاضر ہوئے، سلام پڑھا ’’الصلاة والسلام علیک یا رسول الله‘‘۔ روضہٴ اقدس سے رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ”وعلیک السلام یاولدي․“ (ماہنامہ الفاروق ذوالقعدہ 1437ھ)

لہذا اس طرح کے واقعات کا ظہور  کوئی اَن ہونی بات ہے، نہ ہی  ناممکن ہے،  جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں بے شمار معجزات عطا فرمائے، دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی بطورِ معجزہ کسی خرقِ عادت کا ظہور اہلِ سنت والجماعت کے ہاں باعثِ تعجب یا انکار نہیں ہے، بلکہ یہ محبت اور دلی شوق کی باتیں ہیں، اللّٰهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه!  فقط واللہ اعلم" 

فتوی نمبر: 143909200177- دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) 

حجاج ومعتمرین کی معرفت روضہ رسول پہ سلام بھجوانا ظاہری علماء کو چھوڑ کے جمہور علماء کے ہاں جائز ہے، کیونکہ باتفاق جمہور  حضور اپنی قبر میں خاص زندگی رکھتے ہیں، جس طرح  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سلام بھیجنا ثابت ہے ویسا ہی بعد وفات بھی سلام بھیجنا جائز وباعث اجر ہوگا۔ مکرمی مفتی عبد الباقی اخونزادہ صاحب  نے اپنے قیمتی سلسلہ "تنبیہات " میں اسے مفصل لکھا ہے، عموم فائدہ کے لئے جواب  بلفظہ پیش ہے : 

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں (اور یہی جمہورامت کا عقیدہ ہے)،  لہذا جیسا کہ آپ کی زندگی میں آپ کی طرف سلام کا بھیجنا ثابت اور باعث اجر تھا ویسے ہی آپ کے انتقال کے بعد بھی ایسا کرنا درست ہے۔

آپ علیہ السلام کی حیات مبارکہ میں سلام بھیجنے کا ثبوت:

١. ابوعامر رضی اللہ عنہ کا سلام کہلوانا:

ایک صحابی نے دوسرے صحابی سے کہا کہ اے بھتیجے!  آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر میرا سلام پیش کردو.

ابْنَ أَخِي! انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ، وَقُلْ لَهُ: يَقُولُ لَكَ أَبُوعَامِرٍ: اسْتَغْفِرْ لِي. (صحیح مسلم: 2498، کتاب فضائل الصحابة)

٢. سعد بن الربیع رضی اللہ عنہ کا سلام کہلوانا:

فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآتِيَهُ بِخَبَرِكَ، قَالَ:  فَاذْهَبْ إِلَيْهِ،  فَاقْرَأْهُ مِنِّي السَّلَامَ. (موطا امام مالك: 1338، کتاب الجهاد)

٣. محمد بن المنکدر کا حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے ذریعہ ان کے انتقال کے وقت حضور علیہ السلام کو سلام پیش کرنے کی درخواست:

فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ: مَا شَأْنُكَ؟  فَقَالَ الرَّجُلُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآتِيَهُ بِخَبَرِكَ، قَالَ: فَاذْهَبْ إِلَيْهِ، فَاقْرَأْهُ مِنِّي السَّلَامَ. (موطا امام مالك: 1338، کتاب الجهاد) أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللهِ وَهُوَ يَمُوتُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَقْرِئْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلَامَ. (مسند احمد: 11660)

٤.  ایک اور صحابی:

إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، فَقَالَ: "وَعَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ". (ابوداود: 2934، کتاب الخراج، وکتاب الادب:5231)

آپ علیہ السلام کی قبر مبارک پر سلام بھجوانے کا سلف کا معمول:

١. حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے باقاعدہ سلام کا بھیجنا ثابت ہے.

◄ یزید المہدی کہتے ہیں کہ جب میں نے عمر بن عبدالعزیز سے اجازت چاہی تو انہوں نے فرمایا کہ میری ایک حاجت ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تم آپ علیہ السلام کی قبر پر حاضر ہو تو میرا سلام عرض کردینا۔

عن يزيد المهدي قال: لما ودّعت عمر بن عبدالعزيز قال: إن لي إليك حاجة؛ قلت ياأمير المؤمنين كيف ترى حاجتك عندي؟ قال: أنى أراك إذا أتيت المدينة سترى قبرالنبي فأقرئه منى السلام.

◄ حاتم بن وردان کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ باقاعدہ لوگوں کو سلام کیلئے شام سے مدینہ منورہ روانہ کرتے تھے.

وعن حاتم بن وردان قال: كان عمر بن عبدالعزيز يُوجّه البريد قاصدا من الشام إلى المدينة ليُقرئ عنه النبي السلام. [ذكره القاضي عياض في الشفاء في باب الزيارة (ج: 2، ص: 83)]

◄ ابوسعید کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ تم مدینہ جاؤگے اور اللہ کے نبی کی قبر دیکھوگے تو وہاں میرا سلام عرض کردینا.

وعن ابی سعید قال: قال لی عمر بن عبدالعزیز: إذا اتیت المدینة ستری قبر النبی فاقرئه منی السلام. (خلاصة الوفاء: 359)

٢. خفاجی کہتے ہیں کہ سلف کا طریقہ کار رہا ہے کہ وہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں سلام پیش کروایا کرتے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی یہی طریقہ کار رہا کہ وہ آپ علیہ السلام اور ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی خدمت میں سلام بھجوایا کرتے تھے.

وذكر الخفاجى: كان من دأب السلف أنهم يرسلون السلام إلى رسول الله وكان ابن عمر يفعله ويرسل له عليه الصلاة والسلام ولأبى بكر وعمر رضي الله عنهما

٣. خفاجی رحمه اللہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں فرشتوں کے ذریعے سلام پہنچادیا جاتا ہے لیکن اس صورت (یعنی سلام بھجوانے کی صورت) میں آپ علیہ السلام سے مخاطب ہونے کی اور آپ علیہ السلام کی طرف سے جواب کی فضیلت حاصل ہوتی ہے۔

ورسول الله صلى الله عليه وسلم وإن كان يبلغه سلام من سلم عليه وان كان بعيدا عنه لكن في هذا فضيلة خطابه عنده ورده عليه السلام بنفسه. [من نسيم الرياض للخفاجى (ج:3، ص:516) وذكرها الفيروزآبادى في الصلاة والبشر (ص:(153])

٤. اسی طرح امام نووی کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کسی کو اس بات کی وصیت/تلقین کی کہ میرا سلام پہنچادے تو اسے چاہئے کہ باقاعدہ سلام پیش کرے کہ فلاں بن فلاں آپ کو سلام عرض کررہا ہے۔

الإمام النووي قال في "المجموع شرح المهذب": وَإِنْ كَانَ قَدْ أُوصِيَ بِالسَّلَامِ عَلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْك يَارَسُولَ الله من فلان بن فُلَانٍ، وَفُلَانُ بْنُ فُلَانٍ يُسَلِّمُ عَلَيْك يَارَسُولَ اللهِ، أَوْ نَحْوَ هَذِهِ الْعِبَارَةِ.

٥. اسی طرح فقہ کی معتبر کتب میں بھی اس بات کی وضاحت ہے کہ سلام پیش کردینا چاہئے۔

جاء في”الاختيار لتعليل المختار”(1/176) وفي "الفتاوى الهندية" (1/265-266): وَيُبَلِّغُهُ سَلَامَ مَنْ أَوْصَاهُ فَيَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَارَسُولَ اللهِ مِنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، يَسْتَشْفِعُ بِكَ إِلَى رَبِّكِ فَاشْفَعْ لَهُ وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يَقِفُ عِنْدَ وَجْهِهِ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ، وَيُصَلِّي عَلَيْهِ مَا شَاءَ. ویبلغه سلام من اوصاہ فیقول: السلام علیك یارسول الله من فلان بن فلان. (الفقه علی المذاهب الاربعة)

خلاصہ کلام:

درود اور سلام کی کثرت مطلوب بھی ہے اور محبوب بھی، لہذا ہر مسلمان کو اس کی پابندی کرنی چاہئے، اور اگر کبھی ایسا موقعہ ہو کہ کوئی سفر مدینہ پر جانے والا ملے تو اس سے بھی اپنا سلام عرض کردینے کا ضرور کہنا چاہئے کہ اس میں آپ علیہ السلام سے محبت وعقیدت کے اظہار کے ساتھ ساتھ سلف صالحین کی اتباع بھی ہے. واللہ اعلم بالصواب" 

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

عقیدہ حیات النبی حیات بعد الوفات ہی کی ایک فرع ہے، تنعیم وتعذیب بعد الوفات حیات بعد الوفات پہ موقوف ہے، لہذا متواتر درجے کی روایات سے حیات بعد الوفات ثابت ہوئی، اجماع امت مسلمہ اس پہ امر مستزاد ہے، عقیدہ حیات النبی کا منکر مبتدع ، متبع ہوی خارج عن اہل سنت والجماعت ہے. اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے: 

اُن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے اور عقائد کا تعلق اگرچہ اندرون اور دل سے ہے؛ لیکن ظاہری قال الحصکفي: و یکرہ امامة العبد۔۔۔۔۔و مبتدع، أي: صاحب بدعة، و ھی اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول ۔۔۔۔لایکفر بھا ۔۔۔وان کفر بھا، فلا یصح الاقتداء بہ أصلاً ۔قال ابن عابدین: قولہ: (وہي اعتقادالخ) عزا ھذا التعریف في ھامش الخزائن الی الحافظ ابن حجر في شرح النخبة، ولا یخفی أن الاعتقاد یشمل ما کان معہ عمل أولا؛ فان من تدین بعمل لا بد أن یعتقدہ۔۔۔۔(الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۵۴۔۔۲۵۷، ط: داراحیاء التراث العربي، بیروت)

"جو شخص اس کے (عقیدہ حیات النبی کے) خلاف عقیدہ رکھتاہے وہ میرے اکابرؒ کے نزدیک گمراہ ہے اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں، اس کی تقریر سننا جائز نہیں اوراس کے ساتھ کسی قسم کا تعلق روا نہیں۔" فتاوی بینات، ج 1 ص 601، یونیکوڈ) 

واللہ اعلم بالصواب 

شکیل منصور القاسمی 

مركزالبحوث الإسلامية العالمي 

31 اکتوبر 2020، روز ہفتہ

https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/blog-post.html



Saturday, 24 October 2020

اھل بدعت کی گیارہ باتیں (سوالات ، اعتراضات) اور اُن کے جوابات

 اھل بدعت کی گیارہ باتیں (سوالات، اعتراضات) اور اُن کے جوابات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

لیجئے ہر ایک بات (سوال، اعتراض) کا جواب حاضر ہے!

✍ حافظ محمود احمد عرف عبدالباری محمود

حامداً و مصلّیاً و مسلّماً:

محترم قارئین! کسی نامعلوم شخص نے میلاد النبی ﷺ کو جشن کا دن ثابت کرنے کے لئے ایک تصویری پوسٹ شیئر کیا ہے، جس کا عنوان ہے ”گیارہ باتیں جن کا جواب کسی مفتی کے پاس نہیں!“

اس نے اپنی اس تصویری پوسٹ میں گیارہ باتیں (اعتراضات، سوالات) پیش کئے ہیں جن کا جواب مسلک اہل السنّۃ والجماعۃ احناف دیوبند کا ایک ادنیٰ خادم (جوکہ مفتی اور مولانا نہیں ہے) حافظ محمود احمد عرف عبدالباری محمود بفضلہٖ تعالیٰ بالترتیب دے رہا ہے ملاحظہ کریں۔

نوٹ: قارئینِ کرام! جواب سے قبل ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ پہلے بدعت کی تعریف نقل کردیں تاکہ بات پوری طرح واضح رہے۔

بدعت کی تعریف میں علامہ شاطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

«البدعة: طريقة في الدين مخترعة، تضاهي الشرعية، يقصد بالسلوك عليها ما يقصد بالطريقة الشرعية» (الاعتصام للشاطبي: ص 43)

”بدعت: دین میں ایک نو ایجاد طریقہ ہے جو شریعت کے مشابہ ہو، اور جو شرعی طریقہ پر چلنے کا مقصد ہوتا ہے وہی مقصد اس کا ہو۔“

فائدہ: قارئینِ محترم! علامہ شاطبی رحمہ اللہ کی اس تعریف سے واضح ہوگیا کہ شریعت میں بدعت کا اطلاق ان نو ایجاد امور پر کیا جاتا ہے جسکو شریعت کا حصہ یا دین سمجھ کر اختیار کیا جائے اس سے ثابت ہوا کہ جن محدثات کو دین یا شریعت نہ سمجھ کر اختیار کیا جائے اس پر شرعی بدعت کا اطلاق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ بدعت کی تعریف میں شامل ہیں۔ اب آئیے اس نامعلوم شخص کے پوسٹر میں درج باتوں (سوالات، اعتراضات) کی طرف جن کو یہ بزعمِ خویش سمجھتے ہیں کہ انکا جواب کوئی نہیں دے سکتا۔

پوسٹ میکر صاحب کی باتیں اور ان کا جواب

بات (سوال، اعتراض) نمبر1:

”ہر سال جشن سعودیہ منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“

جواب:

پوسٹ میکر صاحب! سعودیہ کا، یا کسی ملک کا، یا اپنے ملک کے بننے کا، یا ملک سے متعلق کسی اور معاملے کا جشن منانا بدعت کی تعریف میں داخل نہیں ہے کیونکہ یہ امور دین میں سے نہیں بلکہ دُنیاوی معاملات میں سے ہے۔‌ فرقۂ بریلویت کے بانی و مجدد اعظم احمد رضاخان صاحب تمباکو کو حلال بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”رہا اس کا بدعت ہونا یہ کچھ باعث ضرر نہیں کہ یہ بدعت کھانے پینے میں ہے نہ کہ امور دین میں، تو اس کی حرمت ثابت کرنا ایک دشوار کام ہے۔“ (احکام شریعت: حصہ سوم، مسئلہ نمبر 37)

اسی طرح جشنِ سعودیہ امور دنیا سے ہے نہ کہ امور دین سے۔ اور نہ ہی کوئی اس کو فرض، واجب سنت کا درجہ دیتا ہے۔ جب یہ امور دین سے نہیں تو شرعی بدعت کا اطلاق اس پر ہوتا نہیں، اس لیے اِسے بدعت نہیں کہا جاتا ہے‌۔

بات (سوال، اعتراض) نمبر 2:

”ہر سال غسلِ کعبہ ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“

جواب:

غسلِ کعبہ کی اصل قرآن کریم میں مذکور حضرات إِبراہیم و إِسماعیل علیہما السلام کو دیا گیا یہ حکم مبارک ہے کہ: «وَ عَهِدۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰهٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ اَنۡ طَهِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡعٰکِفِیۡنَ وَالرُّکَّعِ  السُّجُوۡدِ» (سُورۃ البقرہ: آیت 125)

”اور ہم نے إِبراہیم اور إِسماعیل کو پابند کیا کہ تم دونوں میرے گھر (کعبہ) کو پاکیزہ کرو، طواف کرنے والوں کے لیے اور قیام کرنے والوں کے لیے اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے۔“

اور صِرف حضرت إِبراہیم علیہ السلام کے ذِکر کے ساتھ یہ فرمایا کہ:

«وَّطَهِّرۡ بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡقَآئِمِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ» (سُورۃ الحج: آیت 26)

”اور میرے گھر (کعبہ) کو پاکیزہ کرو، طواف کرنے والوں کے لیے، اور قیام کرنے والوں کے لیے، اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے۔“

فائدہ: ان آیات سے کعبہ شریفہ کو حسی، اور معنوی ہر قسم کی ناپاکی، گندگی وغیرہ سے صاف کرنا، پانی کے ساتھ دھونا ثابت ہوتا ہے؛ کیونکہ پاکیزہ کرنے میں یہ سب چیزیں شامل ہیں۔

اور حدیث میں ہے:

«عن أسامة بن زيد قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فى الكعبة فرأى صُورًا فدَعَا بدَلوٍ مِن ماءٍ فأتيته به فضَربَ بهِ الصُّورِ ويقول قاتل الله قوماً يُصوِرون ما لا يَخلقُون» (سلسلة الاحادیث الصحیحة: رقم الحدیث 996)

”حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: میں (فتح مکہ کے موقع پر) کعبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویریں دیکھیں تو پانی کا برتن (بالٹی ، ڈول وغیرہ) لانے کا حکم فرمایا، میں لے کر حاضر ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو اُن تصاویر پر ڈال کر اُنہیں مٹایا، اور فرمایا: اللہ اُن لوگوں کو ھلاک کرے جو اُن چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں جو چیزیں ان لوگوں نے تخلیق (ہی) نہیں کِیں۔“

مختصر طور پر یہ واقعہ ”اخبار مکة في قديم الدهر وحديثه للفاکھی: [ج5، ص234] / ذكر الْأُمُور الَّتِي صنعها رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَة“ میں بھی مروی ہے۔

فائدہ: اس حدیث پاک سے واضح ہوا کہ کعبہ شریفہ کو حسی ، اور معنوی ہر قسم کی ناپاکی، گندگی وغیرہ سے صاف کرنا، پانی کے ساتھ دھونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

مزید گواہی کے طور پر یہ بھی ملاحظہ فرمایئے:

حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:

«ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً، فَرَقَيَ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ، فَأَذَّنَ بِالصَّلاَةِ، وَقَامَ الْمُسْلِمُونَ فَتَجَرَّدُوا فِي الأُزُرِ، وَأَخَذُوا الدِّلاَءَ، وَارْتَجَزُوا عَلَى زَمْزَمَ يَغْسِلُونَ الْكَعْبَةَ، ظَهْرَهَا وَبَطْنَهَا، فَلَمْ يَدَعُوا أَثَرًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلاَّ مَحَوْهُ، أَوْ غَسَلُوهُ» (المصنف لإبن أبي شیبة: کتاب المغازی، باب 34، رقم الحدیث 38074/ بتحقیق علامہ محمد عوامة)

”پھر (فتح مکہ کے دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دِیا (کہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر  نماز کے لیے اذان کہیں) تو حضرت بلال کعبہ کی چھت پر) چڑھے اور نماز کے لیے اذان دی، تو مُسلمانوں نے اپنے تہہ بند میں ملبوس رہ کر، پانی کے برتن لے کر زمزم پر ٹوٹ پڑے اور (زمزم لا لا کر) کعبہ کو باہر اور اندر سے دھویا، اور مشرکین کے اثرات میں کوئی ایسا اثر نہیں چھوڑا جسے مِٹا نہ دِیا، دھو نہ دِیا ہو۔“

یہ روایت مختصر سے فرق کے ساتھ ”اخبار مکة في قديم الدهر وحديثه للفاکھی: [ج5، ص221] / ذِكْرُ أذان بلال بن رباح على الكعبة، ورقية فوقها يوم الفتح للأذان“ میں بھی مذکور ہے۔

پوسٹ میکر صاحب! آپ کو یہ بات تو معلوم ہو گی ہی کہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا ہو، اور اُس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہ فرمایا ہو تو وہ کام سو فیصد جائز اور دُرُست ہوتا ہے، سُنّت شریفہ میں قُبولیت یافتہ ہوتا ہے۔ لگے ہاتھوں‌کعبہ شریفہ کو خُوشبُو لگانے کا ثبوت بھی پیش کردیتے ہیں:

«عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏  مَا أَحْسَنَ هَذَا» (سنن النسائي، كتاب المساجد، باب تخليق المساجد، رقم الحديث 728)

”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو غضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ (مبارک) سرخ ہوگیا، انصار کی ایک عورت نے اٹھ کر اسے کھرچ کر صاف کر دیا، اور اس جگہ پر خلوق خوشبو مل دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کیا ہی اچھا کیا۔“

«عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ» (سنن الترمذي : أبواب السفر، باب ما ذكر في تطييب المساجد، رقم الحديث 594. سنن أبي داود: كتاب الصلاة ، باب اتخاذ المساجد في الدور، رقم الحديث 455)

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے، انہیں صاف رکھنے اور خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔“

«عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمَرَ بِالْمَسَاجِدِ أَنْ تُبْنَى فِي الدُّورِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تُطَهَّرَ وَتُطَيَّبَ» (سنن ابن ماجه : كتاب المساجد والجماعات ، باب تطهير المساجد وتطييبها، رقم الحديث 758)

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور انہیں پاک صاف رکھا جائے، اور خوشبو لگائی جائے۔“

«عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ فِي الدُّورِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تُطَهَّرَ وَتُطَيَّبَ» (سنن ابن ماجه : كتاب المساجد والجماعات ، باب تطهير المساجد وتطييبها، رقم الحديث 759)

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور انہیں پاک صاف رکھا جائے، اور خوشبو لگائی جائے۔“

فائدہ: ان احادیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ مساجد کی صفائی اور اِن میں خوشبو کا اہتمام کیا جانا چاہیے کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کو خوشبو سے معطر کرنے کا حکم دیا ہے اور ایک انصاری خاتون نے اس پر عمل بھی کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر اس عمل کی تحسین کی، نکیر نہیں فرمائی۔ اور چونکہ مساجد میں مسجد حرام یعنی بیت اللہ شریف یعنی کعبہ شریفہ بھی شامل ہے اس لئے اس کو خوشبو لگانا بھی ثابت ہوتا ہے۔ الحمدللہ!

اور إمام محمد بن عبداللہ الازرقی رحمہُ اللہ (متوفی 250 ہجری) نے اپنی کتاب  ”اخبار مکة: باب ذِكْرُ كِسْوَةِ الْكَعْبَةِ فِي الْإِسْلَامِ وَطِيبِهَا وَخَدَمِهَا وَأَوَّلِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ“ میں کعبہ شریفہ کو خوشبودار کرنے کی کئی روایتیں نقل کی ہیں جوکہ وہ سب سنداً سخت ضعیف ہیں پر اس میں ایک روایت ایسی بھی ہے جو سخت ضعیف نہیں ہے۔ وہ روایت أمیر المؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے جسے ہم بطور تائید نقل کر رہے ہیں۔

«كَانَ مُعَاوِيَةُ أَوَّلَ مَنْ طَيِّبَ الْكَعْبَةَ بِالْخَلُوقِ وَالْمُجْمَرِ، وَأَجْرَى الزَّيْتَ لِقَنَادِيلِ الْمَسْجِدِ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ» (اخبار مکة لعبدالله الأزرقی: [ص358] / ذِكْرُ كِسْوَةِ الْكَعْبَةِ فِي الْإِسْلَامِ وَطِيبِهَا وَخَدَمِهَا وَأَوَّلِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ. إسناده ضعيف)

”أمیر المؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے خَلوق (زعفران اور دیگر خُوشبُو دار چیزوں کے مجموعے) اور (دیگر) سلگائی جانے والی خُوشبُو کے ذریعے کعبہ کو خُوشُبو دار کیا، اور مسجد (الحرام) کی قندیلوں کے لیے بیت المال میں سے تیل جاری کیا۔“

فائدہ: اس سے بھی معلوم ہواکہ کعبہ شریفہ کو خُوشبُو لگانا بھی درست ہے۔

یہ لیجیے‼

الحمد للہ، کعبہ شریفہ کو غُسل دینا، قرآن و حدیث سے بھی ثابت ہے، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے بھی ثابت ہے۔ اور کعبہ شریفہ کو غسل دینے کے علاوہ خوشبو لگانا بھی  ثابت ہے۔ اور اِس میں سال میں ایک، دو، یا دس بار کی کوئیا قید نہیں، جسے اللہ تعالیٰ یہ شرف جتنا چاہے عطاء فرمائے۔ پس جو کوئی کعبہ شریفہ کو غسل دینے کو قرآن و حدیث میں ثبوت کے بغیر کہتا ہے وہ یا تو جاھل ہے، یا پھر ایسا دروغ گو متعصب جو اپنے مذھب و مسلک کی تائید میں غلط بیانی کرتا ہے۔

بات (سوال، اعتراض) نمبر 3:

”ہر سال غلافِ کعبہ تبدیل کیا جاتاہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“

جواب:

اس بات (سوال، اعتراض) کا معاملہ بھی اس سے پہلی والی بات (سوال، اعتراض) کی طرح ہی ہے ، یعنی یہ بات (سوال، اعتراض) یا تو جہالت پر مبنی ہے یا جانتے بوجھتے ہوئے گمراہی پھیلانے اور اپنی بنائی اور پھیلائی ہوئی بدعت کو تحفظ دینے کی مذموم کوشش ہے؛ اس لئے کہ کعبہ شریفہ پر غلاف چڑھانا، کعبہ شریفہ کو کپڑوں سے ڈھانپنا، قبل از اسلام سے چلتا آرہا تھا، اور بعد از اِسلام، فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِس روایت کو برقرار رکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خُلفاءِ راشدینؓ، اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے  بھی اِس پر عمل جاری رکھا۔

کعبہ شریفہ پر غِلاف چڑھانے کی چند روایات ملاحظہ ہوں:

(1) فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:

«وَلَكِنْ هَذَا يَوْمٌ يُعَظِّمُ اللَّهُ فِيهِ الْكَعْبَةَ ، وَيَوْمٌ تُكْسَى فِيهِ الْكَعْبَةُ» (صحیح البخاری: کتاب المغازی، باب أَيْنَ رَكَزَ النَّبِىُّ صلى الله عليه وسلم الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، رقم الحديث 4280)

”یہ وہ دِن ہے جِس میں اللہ کعبہ کی  عظمت کو بڑھاتا ہے اور وہ دِن ہے جس میں کعبہ کو لباس (غلاف) پہنایا جاتا ہے۔“

(2) حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

«كَسَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فِي حَجَّتِهِ الْحُبُرَاتِ» (مسند الحارث: کتاب الحج، باب کسوۃ الکعبة، رقم الحدیث 391)

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج میں (اللہ کے) گھر (کعبہ شریفہ)  کو حُبرات کا لباس پہنایا۔“

(3) حضرت لیث بن ابی سلیم رحمہُ اللہ کا کہنا ہے کہ:

«كَانَ كِسْوَةَ الْكَعْبَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْأَقْطَاعُ وَالْمُسُوحُ» (المصنف لإبن أبي شیبة: کتاب الحج، باب فِي الْبَيْتِ مَا كَانَتْ كِسْوَتُهُ، رقم 16067/ بتحقيق محمد عوامة)

”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دَور میں کعبہ کا غِلاف أقطاع اور مسوح کا ہوا کرتا تھا۔“

فائدہ: أقطاع، اور مسوح دو مختلف کپڑوں کے نام ہیں:

(4) حضرت نافع رحمہُ اللہ مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

«كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْسُو بُدْنَهُ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ - الْقَبَاطِيَّ وَالْحِبَرَة الجيدة، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ أَلْبَسَهَا إِيَّاهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ نَزَعَهَا، ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ فَنَاطَهَا عَلَى الْكَعْبَةِ» (اخبار مکة للأزرقی: [ص356]/ ذِكْرُ كِسْوَةِ الْكَعْبَةِ فِي الْإِسْلَامِ وَطِيبِهَا وَخَدَمِهَا وَ أَوَّلِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ. ”اخبار مکة في قديم الدهر وحديثه للفاکھی: [ج5، ص232] / ذِكْرُ ما يجوز ان تكسى به الكعبة من الثياب“)

”جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما (حج کے) احرام کا اِرداہ کرتے تو اپنے قربانی کے جانور پر قباطی اور حِبرہ (نامی کپڑے) لگا دیتے، اور عرفات والے دِن وہ کپڑے اُسے پہنا دیتے، اور قربانی والے دِن وہ کپڑے اتار دیتے اور پھر شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ (جو کہ کعبہ شریفہ کے منتظمین تھے) کو وہ کپڑے بھیج دیتے تو شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ وہ کپڑے کعبہ پر لٹکا دیتے۔“

ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ» (سنن الترمذی: ابواب صفة القیامة، رقم الحدیث 2476۔ بتحقیق امام ترمذی حسن غریب) ”تم اپنے گھروں کو ایسے ڈھانکو گے جیسے کعبہ ڈھانکا جاتا ہے۔“

فائدہ: اس روایت سے معلوم ہوا کہ کسی عمارت کو یا تو زیب و زینت کی خاطر ڈھانکا جاتا ہے۔ (جیسے گھروں میں پردے لٹکانا) یا ادب و احترام کی خاطر (جیسے کعبۃ اللہ پر غلاف چڑھایا جاتا ہے)

جب گھروں کو زیب و زینت کے خیال سے ڈھانکنا بھی شرعاً پسند نہیں کیا گیا تو پھر دیگر عمارت کو کسی ادب و احترام کی خاطر ڈھانکنا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ اس سے کعبۃ اللہ کے امتیاز و تشخص کا مجروح ہونا اور اس کی خصوصیات میں دوسری عمارتوں کا شریک ہونا لازم آتا ہے۔

بفضلہ تعالیٰ یہ جواب بھی پورا ہوا، اور واضح ہوا کہ کعبہ شریفہ کو لباس پہنانا ، غِلاف چڑھانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سُنّت شریفہ میں موجود ہے، پس جو کوئی اِس کام کو سُنّت کے مُطابق نہیں جانتا، نہیں سمجھتا، تو جیسا کہ پہلے کہا، وہ شخص یا تو جاھل ہے یا پھر اپنے مذھب و مسلک کی تائید میں حق پوشی کر رہا ہے۔

بات (سوال، اعتراض) نمبر 4:

”غلافِ کعبہ پر آیات لکھی جاتی ہیں جس کا قران و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“

جواب:

اِس کام کے بارے میں عُلماء کا اختلاف ہے جِس میں سے صحیح یہ ہے کہ کعبہ شریفہ کے غِلاف پر آیاتِ مُبارکہ لکھنا جائز ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے:

«وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنۡ تَقۡوَی  الۡقُلُوۡبِ» (سُورۃ الحج: آیت 32)

”اور جو کوئی اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو ایسا کرنا یقیناً دِلوں کے تقویٰ سے ہے۔“

فائده: کعبہ شریفہ، شعائر اللہ میں سے ایک ہے، پس اُس کی تعظیم کرتے ہوئے اُس کے غِلاف پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہی کلام، یعنی قرآن کریم کی آیاتِ شریفہ لکھی جانا دُرست ہے، بشرطیکہ اُنہیں لکھنے میں کوئی اسراف، یعنی فضول خرچی نہ کی جائے، لہٰذا اسے لکھے جانے میں کوئی حرج نہیں۔

بات (سوال، اعتراض) نمبر 5:

”مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تہجد کی اذان ہوتی ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“

جواب:

یہاں غالباً فجر کی پہلی اذان کو تہجد کی اذان کہا گیا ہے، اور یہی اذان مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور سعودی عرب کے کئی دیگر شہروں میں دی جاتی ہے، اور فجر کی اِس پہلی اذان کا ثبوت احادیث میں موجود ہے۔ ملاحظہ فرمایئے:

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ  عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ - أَوْ أَحَدًا مِنْكُمْ - أَذَانُ بِلاَلٍ مِنْ سَحُورِهِ ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ يُنَادِى بِلَيْلٍ ، لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ» (صحیح البخاری: کتاب الأذان، باب الأَذَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ، رقم الحديث621)

”تم میں سے کوئی بلال کی اذان پر اپنی سحری کو نہ روکے، کیوں کہ وہ (فجر کے وقت سے پہلے) رات میں اذان دیتے ہیں، (یا فرمایا) پکار لگاتے ہیں۔ تاکہ تم لوگوں میں جو قیام (اللیل) کرنے والے ہیں (سحری) کی طرف لوٹ جائیں۔ اور جو سوئے ہوئے ہیں وہ بیدار ہوجائیں۔“

اور امی جان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ» (صحیح البخاری: کتاب الأذان، باب الأَذَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ، رقم الحدیث 623)

”بلال (فجر کے وقت سے پہلے) رات میں اذان دیتے ہیں، تو تم لوگ (سحری) کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ (عبداللہ) ابن أُم مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے دیں۔“

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: «قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ، أَوْ قَالَ: أَذَانُهُ مِنْ سَحُورِهِ ، فَإِنَّمَا يُنَادِي، أَوْ قَالَ: يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ۔۔۔» (صحیح البخاری: كتاب الطلاق ، باب الإشارة في الطلاق والأمور، رقم الحدیث 4993)

”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال کی پکار، یا آپ نے فرمایا کہ "ان کی اذان" تم میں سے کسی کو اپنی سحری کرنے سے نہ روکے، کیونکہ وہ پکارتے ہیں، یا فرمایا، اذان دیتے ہیں تاکہ تم لوگوں میں جو قیام (اللیل) کرنے والے ہیں وہ (سحری کے لئے) لوٹ جائیں۔“

ایک دوسری روایت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، أَوْ قَالَ: يُنَادِي لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ۔۔۔» (صحیح البخاری: كتاب أخبار الآحاد، باب ما جاء في إجازة خبر الواحد، رقم الحدیث 6820)

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کسی کو بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ اس لیے اذان دیتے ہیں یا نداء کرتے ہیں تاکہ تم میں جو قیام (اللیل) کرنے والے ہیں وہ (سحری کے لئے) لوٹ جائیں۔ اور جو سوئے ہوئے ہیں وہ بیدار ہو جائیں۔۔۔“

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا ہے: «اِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یُنَادِیَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ ۔ قَالَ: وَکَانَ رَجُلاً اَعْمٰی لاَ یُنَادِیْ حَتّٰی یُقَالَ لَه: اَصْبَحْتَ اَصْبَحْتَ» (صحيح البخاري : كتاب الأذان، باب أذان الأعمى إذا كان له من يخبره، رقم الحديث 592)

’’بلاشبہ رات کو بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے ہیں کہ پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہ اتنی دیر تک اذان نہ کہتے تھے جب تک کہ یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ تو نے صبح کی ہے تو نے صبح کی ہے۔‘‘

فائدہ: ان روایتوں سے پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک اذان فجر سے پہلے ہوتی تھی جو حضرت بلال رضی اللہ عنہ دیتے تھے اور دوسری اذان طلوع فجر کے ساتھ ہوتی تھی جو حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ دیتے تھے۔ دونوں اذانیں بامقصد تھیں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سحری کھانے اور نمازِ تہجد کے وقت کے لیے ایک اعلان کی حیثیت رکھتی تھی جبکہ حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان کا مقصد طلوعِ فجر کی اطلاع دینا تھا۔

لیجئے الحمد للہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مُبارک میں، اور یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے فجر کی دو اذانوں کا ثبوت مہیا ہے، اب اگر کوئی شخص اِن احادیث کا عِلم ہی نہیں رکھتا اور بلا عِلم سوال و اعتراض کرتا ہے تو اِس کا وبال اُسی پر ہے ، اور اگر اُسے اِس کا  علم ہے ، اور جانتے بوجھتے ہوئے فجر کی پہلی اذان کو تہجد کی اذان کا نام دے کربات کو بدلنے کی، حق چھپانے کی کوشش میں ہے، تو یہ لا عِلمی میں کی گئی کوشش سے بُرا اور بڑا وبال ہے۔

تنبیہ: احناف کے نزدیک یہ پہلی اذان فجر ابتداءِ اسلام میں تھی جو بعد میں منسوخ ہوگئی۔ (دیکھیں: الجامعۃ البنوریۃ العالمیۃ کا فتویٰ ’’فقہ حنفی میں تہجد کی اذان کی کیا حیثیت ہے۔۔۔؟‘‘) اگر سعودی والے کرتے ہیں تو اسے منسوخ نہیں سمجھتے اور وہاں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے فتویٰ پر عمل ہوتا ہے؛ اس لئے یہ بات (سوال یا اعتراض) فضول ہے۔

بات (سوال، اعتراض) نمبر 6:

”مدارس میں ختم بخاری شریف ہوتا ہے جس کا قران و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“

جواب:

پہلی بات، جناب والا کو ایسی بات (سوال یا اعتراض) کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے تھا کہ صحیح بخاری قرآن کریم کے نزول، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کتنے سال بعد لکھی گئی تھی؟؟؟

تو اِس کتاب کی تعلیم سے متعلق کسی معاملے، یا کسی محفل کا کوئی ثبوت قرآن و حدیث میں سے کہاں ملے گا؟

اور یہ بھی کہ اِس بات (سوال یا اعتراض) میں صحیح بخاری کا ذِکر ہی کیوں، مدرسوں اور اُن کے نظام اور ان کے تعلیمی نصاب سب ہی کچھ اِس کی زد میں آتے ہیں، بہرحال اِس مذکور بالا بات (سوال یا اعتراض) میں بات ( یا سوال یا اعتراض) کرنے والے کی ختم بخاری شریف سے کیا مُراد ہے؟ اِس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے؟؟؟

اگر اِس سے مُراد مدارس میں تدریسی نصاب میں سے صحیح بخاری کی تعلیم مکمل ہونے پر اُس تعلیم سے متعلق کوئی محفل منعقد کرنا ہے تو اُس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ وہ اسی دینی تعلیم سے متعلق ہے۔

ایک اور بات مدارس میں بخاری شریف کے اختتام پر اجتماع، اس کے علاوہ مدارس میں جو ختم بخاری شریف ہوتا ہے تو وہ علماء کے ہاں نہ تو واجب ہے اور نہ ہی فرض بلکہ لزوم کے اعتقاد کے بغیر بخاری شریف کی آخری حدیث کے موقع پر اجتماع منعقد کیا جاتا ہے جس میں علماء و طلباء کے علاوہ عوام شرکت کرتے ہیں مشائخ کے بیانات کے بعد آخر میں دعا سے اجتماع ختم ہوجاتا ہے اور اس اجتماع کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ تجربہ شاہد ہے کہ ختم بخاری پر دعائیں قبول ہوتی ہیں لہٰذا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ اس تقریب سعید میں شامل ہوجائے۔

بات (سوال، اعتراض) نمبر 7:

”سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“

جواب:

سیرت النبی صلی ﷺ کے اجتماعات کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو بیان کرنا ہے جس کے لئے کسی دن کی کوئی قید نہیں اور اس میں تو کسی مسلمان کو اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں ہاں اگر کوئی بدعتی اپنی بدعت کے جواز کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر اعتراض کرتا ہو تو اس سے بڑا گستاخ کوئی نہیں۔ فرقۂ بریلویت کے شیخ الحدیث عبدالرزاق بھترالوی صاحب لکھتے ہیں کہ: ’’آجکل مختلف عنوانات سے ربیع الاول میں جلسے ہورہے ہیں، کسی کا نام پیغمبر انقلاب کانفرنس، کسی کا نام ذکر ولادت صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس اور کسی کا نام سیرت النبی ﷺ، کسی کا نام حسن قرأت و حمد و نعت کانفرنس۔۔۔ راقم نے کبھی کسی عنوان پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ خیال یہ ہوتا ہے کہ میرے پیارے مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوتا رہے خواہ کسی نام سے بھی ہوتا رہے۔“ (میلاد‌ مصطفی ﷺ: ص4، مکتبہ امام احمد رضا) معلوم ہوا کہ ہمارے جلسوں پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں اور آپ بھی اسے درست سمجھتے ہیں تو جب ہمارے جلسے متفق علیہ ہیں اور آپ کے نزدیک بھی جائز‌ تو اس جائز کام پر کسی بدعت کو کس طرح قیاس کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک مُرَوَّجَہْ جشنِ میلاد بدعت ہے۔

دیوبندی عالم ساجد خان صاحب نقشبندی اس طرح کے اعتراض کے جواب میں لکھتے ہیں کہ: دوسری بات یہ کہ مطلق وعظ و نصیحت تعلیم و تعلم سیرت رسول ﷺ کے بیان کیلئے جلسے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتا اور متواتر چلا آرہا ہے جس کا انکار بدیہات کا انکار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی موجودگی میں کھڑے ہوکر وعظ و تذکیر کیا کرتے، دینی امور کی تعلیم دیتے، آداب و اخلاق سکھائے جاتے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینکڑوں صحابہ کرام سے سینکڑوں احادیث کا منقول ہونا اسی جلسوں کی غمازی کرتا ہے۔ پھر صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو بیان کیا اور آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر جو ضخیم کتابیں ہیں، یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ ہر دور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مجمعوں میں بیان ہوتے، حدیث کی کتابوں میں آپ کو یہ الفاظ مل جائیں گے: «سمعت عمر علی منبر النبیﷺ ۔۔۔» «سمعت عثمان بن عفان خطیبا علی منبر رسول اللّٰهِ ﷺ۔۔۔» «قام موسی النبی خطیبا فی بن اسرائیل»

خود عبدالرزاق بھترالوی صاحب کہتے ہیں کہ:

’’اس وقت جلسے دو قسم کے ہوتے تھے ایک وہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان ہوتے تھے وہ جلسہ اللہ نے منعقد فرمایا انبیاء کرام نے آپ کے اوصاف بیان کئے صحابۂ کرام نے آپ کے اوصاف کا تذکرہ کیا۔“ (میلاد مصطفی ﷺ: ص 6)

لہٰذا اتنا تو ثابت ہے کہ مطلق جلسہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے ثابت ہے. اب رہا ان کیلئے کوئی دن یا وقت طے کردینا تو دیکھیں ایک ہوتا ہے تعین شرعی اور ایک ہوتا ہے تعین عرفی شریعت سے دونوں ثابت ہیں مثلاً تعین شرعی جیسے نماز کیلئے وقت، حج کیلئے جگہ، زکوۃ کا نصاب وغیرہا۔ اور تعین عرفی بھی جائز ہے جسے کسی کام کیلئے کوئی وقت انسان کی سہولت کیلئے مقرر کردیا کہ جی فلاں کا نکاح فلاں دن وقت میں ہوگا اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے بھی ثابت ہے کہ جب ایک عورت آپ کے پاس آئیں اور گزارش کی کہ کچھ احادیث ہم سے بھی بیان ہوجائیں تو آپ نے ان کو کہا کہ فلاں وقت میں فلاں جگہ جمع ہوجانا ۔۔

«جاءت امراۃ الی رسول الله ﷺ فقالت یا رسول الله ذھب الرجال بحدیثک فاجعل لنا من نفسک یوما ناتیک فیه تعلمنا مما علمك الله تعالی فقال اجتمعن فی یوم کذا و کذا و فی مکان کذا و کذا فاجتمعن» (بخاری ج 2، ص1087)

ظاہر ہے کہ یہ مکان و جگہ کی تعین عرفی ہی تھی کہ تاکہ وہاں جمع ہونے میں آسانی ہو مسئلہ تب بنتا ہے کہ جب ان دونوں تعینات کو ان کے مقام سے ہٹا دیا جائے یعنی تعین عرفی کو شرعی قرار دے دیا جائے کہ اگر فلاں وقت میں فلاں کام نہ ہوا تو تم وہابی گستاخ ہوجاؤ گے یا تعین شرعی کو معاذاللہ عرفی قرار دے دیا جائے۔ ہمارا ان جلسوں کیلئے وقت یا جگہ مقرر کردینا تعین عرفی کے طور پر ہے کہ لوگ اس تاریخ سے پہلے جلسے میں شرکت کیلئے تیار رہیں اور جگہ تک پہنچنے میں آسانی ہو  ہم سے کسی نے آج تک ان تعینات کو شرعی درجہ قرار نہیں دیا اور اس میں رد و بدل بھی ہوتا رہتا ہے اسی طرح ہم نے ان جلسوں کو کبھی ان کے مقام سے نہیں ہٹایا ان کا مقام ابھی بھی وہی تصور کیا جاتا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یا بعد کے زمانوں میں ہوتا تھا مگر دوسری طرف جشن عید میلاد النبی ﷺ کو دین کا ایک مستقل حصہ تسلیم کرلیا گیا ہے اس کیلئے 12 ربیع الاول کے علاوہ کسی اور دن کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور کسی وجہ سے کسی وقت ان جلسوں جلوسوں کو بند کرنے کا کہہ دیا جائے تو قتل و قتال تک کی دھمکیاں دے دی جاتی ہیں خود رضاخانیوں نے اس بات اعتراف کیا ہے کہ ہمارے ہاں جمعہ کی نماز کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی اس جشن کو پھر یہ جشن جن خرافات کا آج مجموعہ بن چکا ہے وہ اس پر متضاد تو کس طرح اس کا جائز قرار دے دیا جائے؟۔ فی الحال ہماری طرف سے اتنی تفصیل کافی ہے اگرچہ ہم کچھ اور بھی کہنے کا ارادہ کرتے ہیں اگر مخالفین کی طرف سے کوئی جواب آیا تو ان شآءاللہ مزید وضاحت پیش کی جائے گی۔“ (بریلویوں کی کرسمس (میلاد) پر دلائل کے جوابات۔ از مولانا ساجد خان نقشبندی)

بات (سوال، اعتراض) نمبر 8:

”ہر سال تبلیغی اجتماع ہوتا ہے اور چلے لگائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“

جواب:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے وعظ ونصحیت کے لئے دن کا مقرر کیا جانا ثابت ہے؛ لہٰذا اس ثابت شدہ امر کو ایسے امور سے خلط کرنا کہ جو ثابت نہیں، لایعنی ہے۔

ایک حدیث میں ہے: 

«عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ، كَرَاهَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا» (صحیح البخاری: كِتَابُ العِلْمِ، باب مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَخَوَّلُهُمْ بِالْمَوْعِظَةِ وَالْعِلْمِ كَىْ لاَ يَنْفِرُوا، رقم الحدیث 68)

”حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت کرنے کےلیے کچھ دن مقرر فرما رکھے تھے تاکہ ہم اکتا نہ جائیں۔“

ایک دوسری حدیث میں ہے:

«عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ قَالَتِ النِّسَاءُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِكَ، فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُنَّ: مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلاَثَةً مِنْ وَلَدِهَا، إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَتَيْنِ؟ فَقَالَ: وَاثْنَتَيْنِ» (صحيح البخاري:‌ كِتَابُ العِلْمِ، بَابٌ هَلْ يُجْعَلُ لِلنِّسَاءِ يَوْمٌ عَلَى حِدَةٍ فِي العِلْمِ؟ رقم الحدیث 101)

”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فائدہ اٹھانے میں ) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے (وعظ کے) لیے (بھی) کوئی دن خاص فرما دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا۔ اس دن عورتوں سے آپ نے ملاقات کی اور انہیں وعظ فرمایا اور ( شریعت کے) احکام بتائے۔“

ایک اور حدیث میں ہے:

«عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ: اجْتَمِعْنَ، فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَاجْتَمَعْنَ، فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ۔۔۔» (صحیح البخاری: كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة ، باب تعليم النبي صلى الله عليه وسلم أمته من الرجال والنساء مما علمه الله ليس برأي ولا تمثيل، رقم الحدیث 7310)

”ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کی حدیث مرد لے گئے، ہمارے لیے آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہوجاؤ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے انکو سکھایا تھا۔“

اور صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے متعلق روایت میں ہے:

«عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ‏.‏ قَالَ أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، وَإِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَخَوَّلُنَا بِهَا، مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا» (صحیح البخاری: كِتَابُ العِلْمِ، باب مَنْ جَعَلَ لأَهْلِ الْعِلْمِ أَيَّامًا مَعْلُومَةً، رقم الحدیث 70)

”حضرت ابو وائل سے روایت ہے، فرمایا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لوگوں کو ہر جمعرات میں نصیحت کیا کرتے تھے۔ ایک شخص نے اُن سے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں روزانہ نصیحت کیا کریں۔ اُنھوں نے فرمایا: میں یہ اِس لیے نہیں کرتا کہ کہیں تم لوگوں کے لیے یہ بھاری نہ ہو جائے۔ میں بھی اُسی طرح ناغہ کر کے تمہیں نصیحت کرتا ہوں، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ناغہ کر کے نصیحت کیا کرتے تھے تا کہ ہم بے زار نہ ہو جائیں۔“

لہٰذا معلوم ہوا کہ وعظ ونصیحت، تعلیم وتبلیغ کے لئے انتظامی امور کی خاطر عورتوں کے لئے بھی خاص دن مقرر کیا جانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں۔

اسی طرح چلہ کی شرعی حیثیت

«عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى لِلَّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَتَانِ، ‏‏‏‏‏‏بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ (سنن الترمذي: كتاب الصلاة، باب ما جاء في فضل التكبيرة الأولى، رقم الحدیث 241 / بتحقیق علامہ البانی حسن)

”حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ اللہ کے لئے باجماعت نماز پڑھی اس کے لئے دو نجات لکھ دی جاتی ہے۔ جہنم سے نجات اور نفاق سے نجات۔“

اس سے معلوم ہوا کہ چلہ کو حالات کے بدلنے میں خاص اجر ہے۔

اسی طرح سالانہ اجتماع ہے اور اس کے لئے ہر سال کسی دن کی کوئی قید بھی نہیں اور اس میں بھی نصیحت ہوتی ہے دین پر عمل کرنے کی ترغیب اور یہ آپ کی بدعات کی طرح نہیں ہوتیں۔ لہٰذا آپ کی بات (سوال یا اعتراض) فضول ہے۔

بات (سوال، اعتراض) نمبر 9:

”صحابہ کرام علیہم الرضوان کے وصال کے ایام منائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“

جواب

جناب والا! ہم صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے ایام کو بھی خاص نہیں کرتے کہ یہی دن فرض و واجب ہے باقی دن نہیں ہے۔

اصل بات یہ ہے رافضی لوگ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کے خلاف تبرا کرتے ہیں تو ان کے مقابلے میں اگر صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے ایام اس طرح منایا جائے کہ ان کی دینی خدمات اور سیرت کو بیان کیا جائے تاکہ ان کے حالات اور معمولات لوگوں کے سامنے آئیں جس سے لوگوں میں دین کی رغبت اور شوق پیدا ہو تو یہ عمل جائز و مستحسن ہے تاکہ رافضیت اپنے مقصد میں ناکام ہوجائے۔ لیکن یہ بات یاد رکھیں ہم صرف اس دن کا التزام و اہتمام نہیں کرتے بلکہ صحابۂ کرام کا تذکرہ بھی کسی دن کے ساتھ خاص نہیں سمجھتے بلکہ ان کا تذکرہ بھی ہر وقت کرنے کو پسند کرتے ہیں۔

بات (سوال، اعتراض) نمبر 10:

”جشن دیو بند و اہلحدیث منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“

جواب

جشنِ دیوبند بدعت کی تعریف میں داخل نہیں کیونکہ یہ امور دین میں سے نہیں۔ فرقۂ بریلویت کے بانی و مجدد اعظم احمد رضاخان صاحب تمباکو کو حلال بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”رہا اس کا بدعت ہونا یہ کچھ باعث ضرر نہیں کہ یہ بدعت کھانے پینے میں ہے نہ کہ امور دین میں، تو اس کی حرمت ثابت کرنا ایک دشوار کام ہے۔“ (احکام شریعت: حصہ سوم، مسئلہ 37)

اسی طرح جشنِ دیوبند امور دنیا سے ہے نہ کہ امور دین سے۔ اور نہ ہی کوئی اس کو فرض، واجب سنت کا درجہ دیتا ہے۔ جب یہ امور دین سے نہیں تو شرعی بدعت کا اطلاق اس پر ہوتا نہیں۔

بات (سوال، اعتراض) نمبر 11:

”ذکر میلاد مصطفے ﷺ منانے کا کسی صحابی، ائمہ یا محدث نے منع کیا ہو اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔ لیکن‼ جیسے ہی میلاد النبی ﷺ منانے کی بات آ جائے تو سارے نام نہاد دِین کے ٹھیکیدار مفتے کھڑے ہو جاتے ہیں اور شرک و بدعت کا شور آلاپنا شروع کردیتے ہیں۔ آخر کیوں؟“

جواب:

کیا ہی بھونڈی، بے تکی بات ہے، ارے صاحب منع تو تب کرتے جب اُن کے زمانے میں یہ مُرَوَّجَہْ جشنِ میلاد ہوتی، یہ بات، یا سوال، یا اعتراض تو اُلٹا جشنِ میلاد منانے والوں پر حُجَّت ہے۔ اِس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللّٰہ عنہم اجمعین، تابعین، تبع تابعین، أئمہ محدثین و فقہا کرام رحمہم اللّٰہ جمعیاً کے زمانوں میں بھی یہ مُرَوَّجَہْ جشنِ میلاد نہیں ہوتی تھی، پس ہمارے نزدیک مُرَوَّجَہْ جشنِ میلاد بدعت ہے۔ ہم سیرتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کے منکر نہیں جو ہم سے اس کے منع کی دلیل صحابیؓ، ائمہؒ یا محدثؒ سے مانگی جارہی ہے۔ دلیل تو اس مُرَوَّجَہْ جشنِ میلاد منانے کے قائلین کے ذمے ہے کہ وہ اپنے اس مُرَوَّجَہْ جشنِ میلاد کے اثبات کی دلیل کسی صحابیؓ، ائمہؒ یا محدثؒ سے پیش کریں۔

تنبیہ: گیارہویں بات (سوال یا اعتراض) کے آخر میں بھی بات (سوال یا اعتراض) کرنے والے نے بالکل غلط بات کہی ہے۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منع کرنے والے مُفتے نہیں ہیں بلکہ مُفتے تو وہ ہیں جو میلاد کے نام پر لوگوں کے پیسے بٹورتے ہیں اور اپنے پیٹ ، جیبیں اور گھر بھرتے ہیں، اور اپنے نام  و القابات کی نمود کے لیے لوگوں کا مال استعمال کرتے ہیں ، اور  اپنے ساتھ ساتھ لوگوں کی آخرت تباہ کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ صحیح سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

✍ خاک پائے اکابرِ اہل السنّۃ والجماعۃ علمائے دیوبند:

حافظ محمود احمد عرف عبدالباری محمود (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

-------------------------------------------

(ان امور میں سے کسی بھی امر کو انجام دینے والے لوگ ان امور کو واجب اور فرض کا درجہ نہیں دیتے ہیں اور نہ ہی ان امور کے انجام نہ دینے والوں پر بلاوجہ نکیر اور سبّ و شتم  کرتے ہیں، ان امور کو انجام دینے والے لوگ وہ التزام نہیں کرتے،جس طرح کا التزام  اہل بدعت کا جشن عید میلاد پر ہوتا ہے، اور ساری عبادات میں افضل العبادات اسی جشن کو قرار دیا جاتا ہے، اور جو منکرات اس موقع پر انجام دئیے جاتے ہیں وہ ناقابلِ بیان ہیں، جشن نہ منانے والوں کو گستاخ رسول اور وہابی اور نہ جانے کیسے کیسے بُرے القابات کا تمغہ دے دیا جاتا ہے، اور اس کو دین کا جزو لا ینفک قرار دیا جاتا ہے، ایسی بے شمار خرابیاں جشن منانے والوں میں پائی جاتی ہیں جو لا تُعَدُّ وَلَا تُحْصٰی ہیں، اور ایک بہت افسوسناک خرابی تو  آج کل  ان جشن منانے والوں کے اندر یہ پیدا ہوگئی ہے کہ اب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے نام پر کیک بھی کاٹے جاتے ہیں، اور حضور کے نام پر 'برتھ ڈے' کا گیت  بھی گایا جاتا ہے، جو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) عبادات میں بھی  اہلِ کفر و شرک کی مشابہت برداشت نہیں کرتا، آج اس نبی کے نام لیوا اس نبی کے نام پر اہلِ کفر و شرک کی عادات و اطوار کو زندہ کررہے ہیں، یہ کون سا عشق رسول ہے؟ ذرا غور کرکے دیکھیے کہ کیا جشن منانے والوں کو زیب دیتا ہے وہ ان  امور بالا پر اعتراض کرنے کی جسارت کریں ؟؟ یہ سراسر ان کی دغا بازی اور خود فریبی ہے ، اور آخر میں  ایک بزرگ کا مقولہ نقل کرتا ہوں جو ایسے موقع پر زبردست فِٹ ہوتا ہے کہ جب حضور پیدا ہوئے تو ابولہب نے خوشیاں منائیں اور جشن منایا، لیکن جب حضور نے اپنی بعثت کا کا مقصد اور مشن بیان فرمایا تو یہی ابولہب سب سے پہلے آگے بڑھ کر حضور کو جھٹلانے والوں میں سے بنا،تو دوسری طرف ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس مشن کو اپنے سینے سے لگا کر اس مشن کو پورا کرنا اپنی زندگی کا مقصد بنایا "أينقص الدين وأنا حيٌّ" کا نعرۂ وفا بلند کیا، تو جن لوگوں کو بُولَہَبِی نسبت سے واسطہ ہوتا ہے وہ جشن منایا کرتے ہیں اور جن لوگوں کو نسبتِ صدیقی سے سے حظِّ وافر نصیب ہوتا ہے وہ جشنِ نبی نہیں بلکہ مشنِ نبی کو پورا کرنا اپنا مقصدِ حیات سمجھتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے۔۔۔ آمین) (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2020/10/blog-post_99.html