Thursday, 25 June 2020

صدقہ کا جانور ذبح کرنے کا وکیل اگر کچھ رقم بچالے؟


صدقہ کا جانور ذبح کرنے کا وکیل اگر کچھ رقم بچالے؟
-------------------------------
--------------------------------
سوال: زید نے عمر سے کہا مجھے ایک بکرا صدقہ کروانا ہے کتنے روپے میں ہوگا. عمر نے بتایا ٨٠٠٠ میں پھر عمر نے کوشش کرکے ٧٠٠٠ میں بکرا خریدا اور ذبح کروا دیا. اب ١٠٠٠ روپے جو بچے ہیں. کیا بطور محنت عمر ١٠٠٠ روپے استعمال کرسکتا ہے؟ اور اسی طرح قربانی کرواسکتا ہے؟ جواب سے نوازیں.
الجواب وباللہ التوفق:
عمر کی حیثیت وکیل کی ہے. فاضل رقم اس کے پاس امانت ہے، زید کو لوٹائے 
ہاں خرچے کے نام پہ زید سے کوئی بات پہلے طے ہوچکی ہو یا زید ازخود اسقاط کردے تب تو کوئی مضائقہ نہیں. ورنہ ایک ہزار فاضل رقم واجب الرد ہوگی:
الإذن والاجازة توكيل. شرح المجلة للشيخ خالد الاناسي. كتاب الوكالة .45/4. رقم المادة 1452. وفي ’’السنن الکبری للبیہقي‘‘: ’’لایحل مال امرئ مسلم إلا بطیب نفس منہ‘‘ 166/6. کتاب الغصب، مشکوۃ المصابیح :ص/۲۵۵، السنن الدارقطني :۳/۲۲، کتاب البیوع، رقم الحدیث:2862. وفي ’’الدرالمختار مع الشامیۃ‘‘: لا یجوز التصرف في مال غیرہ بلا إذنه ۔ (۹/۲۹۱، کتاب الغصب ، مطلب فیما یجوز من التصرف بمال الغیر)
و في ’’درر الحکام شرح مجلۃ الأحکام‘‘: لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک الغیر بلا إذنه (196/1) والواقف لوعين إنسانا للصرف تعين. حتى لوصرف الناظر لغيره كان ضامنا. البحر الرائق. كتاب الوقف 381/5 رشيدية. المغني 1 : 660 ، الشرح الكبير 1 : 498 ، المحرر في الفقه 1: 43، العدة شرح العمدة: 66، المجموع 3 : 180.
والله أعلم بالصواب 

Wednesday, 24 June 2020

کیا گاہک کو چیز کی اصل قیمت بتانا ضروری ہے؟

کیا 
گاہک کو چیز کی 
اصل قیمت بتانا ضروری ہے؟

تجارت میں خریدنے والا شخص شے کی اصلی قیمت پوچھتا ہے تو فروخت کرنے والے کو اپنی شے کی اصل قیمت کو بتانا ضروری ہے یا نہیں؟
براہ کرم اس کا جواب دیجئے 
الحواب وباللہ التوفیق:
ہر گاہک کو اصل قیمت بتانا ضروری نہیں ہے، قیمتِ خرید بتائے بغیر بائع (فروخت کرنے والا) جتنا بھی مناسب نفع رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے، اس لئے کہ  شریعتِ مطہرہ میں عمومی احوال میں (یعنی غلہ وغیرہ کی قلت وغذا کا بحران نہ ہو تو طعام کے علاوہ دیگر اشیاء کے) منافع کی کوئی حد  مقرر نہیں ہے، باہمی رضامندی سے جس قیمت پر سودا ہوجائے وہ جائز ہے، تاہم مسلمان کی خیر خواہی کا جذبہ ملحوظ رہنا چاہئے، اس لیے کسی سادہ لوح گاہک کو اتنی قیمت لگاکر فروخت کرنا جس میں دھوکے کا پہلو آتا ہو درست نہیں ہے۔ 
اور اگر کوئی گاہک قیمتِ خرید بتانے پر اصرار  کرے (جیساکہ بیعِ مرابحہ میں خریدار اسی اعتماد پر سودا کرتا ہے) تو اسے بجائے یوں کہنے کے  ’’میں نے اتنے میں خریدا ہے.‘‘ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ’’مجھے اتنے میں پڑا ہے‘‘، اور اس صورت اصل قیمتِ خرید کے ساتھ ان اشیاء کے لانے کا کرایہ، دکان کا کرایہ وغیرہ دیگر اخراجات شامل کرکے جو اس کی قیمت بن رہی ہو وہ بیان کی جاسکتی ہے۔
الدرالمختار وحاشية ابن عابدين (ردالمحتار) (5/ 135):
"(ويضم) البائع (إلى رأس المال) (أجر القصار والصبغ) ... (ويقول: قام علي بكذا، ولايقول: اشتريته)؛ لأنه كذب، وكذا إذا قوم الموروث ونحوه أو باع برقمه لو صادقا في الرقم فتح".
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 124):
"(المادة 153) الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقاً للقيمة الحقيقية أو ناقصاً عنها أو زائداً عليها".
فقط واللہ اعلم
http://saagartimes.blogspot.com/2020/06/blog-post_96.html?m=1

اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے ایسی قوم لاتا جو گناہ کرتی

اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے ایسی قوم لاتا جو گناہ کرتی

ایک عالمِ دین نے مجھے یہ حدیث: كتاب التوبة (2) باب سُقُوطِ الذُّنُوبِ بِالاِسْتِغْفَارِ تَوْبَةً: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيُّ - حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ: "‏لَوْ أَنَّكُمْ لَمْ تَكُنْ لَكُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا اللَّهُ لَكُمْ لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ لَهُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا لَهُمْ"‏‏ بھیج کر "اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ تم کو لے جاتا اور تمہارے بدلے میں ایک ایسی قوم لاتا جو گناہ کرتی اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماتے."  کی وضاحت چاہی ہے.

الجواب وباللہ التوفق:
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ حدیث گناہوں کی کثرت کی وجہ سے بخشش سے مایوس لوگوں کی مایوسی کو زائل کرکے انہیں توبہ کی طرف راغب کرنے کے مقصد سے ہے. اللہ تعالی اپنی مخلوق پر بہت مہربان ہے. وہ شفیق باپ کی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر اپنی مخلوق کو طرح طرح کے پیرایہِ بیان اور اسلوب سے سمجھاتا ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرکے نیک بندوں میں شامل ہوجائے. جب بندہ کثرت سے گناہ کرتا ہے تو پہاڑ جیسے اپنے گناہوں کی طرف نظر کرکے سمجھ بیٹھتا ہے کہ اب تو وہ معافی کے قابل نہیں رہا اور سخت مایوس پھرتا رہتا ہے اور اس مایوسی کی وجہ سے مزید گناہوں کے دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے. ایسے مایوس گنہگاروں کے لیے اللہ تعالی کے ذریعے اختیار کردہ ایسا پیرایہِ بیان اور اسلوب ان کے لیے مژدہِ جانفزا اور سخت گرمی میں ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے کی مانند ہے اور نتیجۃً وہ مایوسی کو جھاڑ کر توبے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے.
حدیث کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ قصداً گناہ کئے جائیں یا اللہ تعالی کے نزدیک گناہ پسندیدہ چیز ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں نصوص گناہ کی مذمت میں بھرے پڑے ہیں اور گناہوں سے روکنے کے لیے ہی انبیاء کی بعثت ہوتی رہی ہے. حدیث کا یہ مضمون اصولی اور قانونی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ مایوس بندوں کی مردہ رگوں میں جان ڈالنے اور توبہ کے لیے ان کی ہمت بندھانے کے لیے ہے. قانونی اور اصولی نوعیت کے مضامین جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں جن میں گناہوں سے بچنے کی سخت تلقین کی گئی ہے اور ارتکاب کرنے پر عذابِ نار کی وعیدیں سنائی گئی ہیں.
یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآنِ کریم میں جگہ جگہ گناہوں کی سزا سنائی گئی ہے اور سخت مؤاخذہ بتایا گیا ہے مگر بعض جگہوں پر وعیدوں کا ذکر نہ کرکے گنہگاروں کو صرف توبہ کی طرف راغب کیا گیا ہے اور بعض جگہوں پر اہم شرطوں کا ذکر نہ کرکے مجملاً خوشخبری سنادی گئی ہے تاکہ بندہ اسے حاصل کرنے کی شروعات کردے.


سجدۂ مناجاۃ کا حکم

سجدۂ مناجاۃ کا حکم
-------------------------------
--------------------------------
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام؟ کہ زید جب دعا مانگتا ہے تو سجدہ میں چلا جاتا ہے اورہتھیلی کی پشت زمین سے لگا کر دعا کرتا ہے. کیا یہ طریقہ سنت سے ثابت ہے؟ نیز دعا مانگنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟
الجواب وباللہ التوفق:
فرائض کے بعد دونوں ہاتھ سینہ کے برابر لاکر ہتھیلی آسمان کی طرف اٹھا کر دونوں ہتھیلیوں کے مابین قدرے کشادگی کے ساتھ خشوع وخضوع کے ساتھ دعا کرنا دعا کا بہتر طریقہ ہے. سجدے میں بندہ رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے. سجدے میں دعائیں قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہیں:
"عن أبي هریرة رضي الله عنه أن رسول الله صلی الله علیه و سلم قال:"أقرب ما یکون العبد من ربه و هو ساجد؛ فأکثروا الدعاء". (صحیح مسلم، کتاب الصلاة باب ما یقال فی الرکوع والسجود: ١١١١)
(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "بندہ اپنے رب کے قریب ترین اس وقت ہوتا ہے جس وقت وہ سجدے  کی حالت میں ہو؛ لہذا سجدے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرو"۔)
اگر سجدے میں دعا کرنا چاہے تو نماز کے بعد صرف دعا کے لیے سجدہ کرنا اصلاً تو مباح ہے لیکن اس کی عادت بنا لینے سے دیکھنے والے ناواقف لوگ اسے سنت وواجب سمجھنے لگیں گے اس لئے سد ذریعہ کے بطور اسے مکروہ قرار دیا گیا ہے:
لكنها تكره بعد الصلاة لأن الجهلة يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه فمكروه 
( قوله لكنها تكره بعد الصلاة) الضمير للسجدة مطلقا . قال في شرح المنية آخر الكتاب عن شرح القدوري للزاهدي: أما بغير سبب فليس بقربة ولا مكروه، وما يفعل عقيب الصلاة فمكروه لأن الجهال يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه فمكروه انتهى . 
وحاصله أن ما ليس لها سبب لا تكره ما لم يؤد فعلها إلى اعتقاد الجهلة سنيتها كالتي يفعلها بعض الناس بعد الصلاة ورأيت من يواظب عليها بعد صلاة الوتر ويذكر أن لها أصلا وسندا فذكرت له ما هنا فتركها ثم قال في شرح المنية : وأما ما ذكر في المضمرات أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لفاطمة رضي الله تعالى عنها: "{ما من مؤمن ولا مؤمنة يسجد سجدتين} إلى آخر ما ذكر" . فحديث موضوع باطل لا أصل له. (الدرالمختار مع ردالمحتار 120/2)
اس کے لئے نفل نماز پڑھے. اور نفل نماز کے سجدوں میں عربی زبان میں دعائیں کرے اور ماثور دعائیں کرنا ہی بہتر ہے. صرف دعائوں کے لئے نماز کے باہر علیحدہ سجدہ کرنا مکروہ ہے۔ اور اس سجدے میں ہتھیلی کی پشت زمین سے لگانا بالکل نو ایجاد چیز اور بدعت ہے. اگر کبھی کبھار جذبہ دعاء سے مغلوب ہوکر گھر میں یا انفرادی مقامات پر سجدہ دعاء کرنا پڑے تو ہتھیلی کا رخ زمین کی طرف ہو جیسے نماز میں ہتھیلی کا رخ زمین کی طرف ہوتا ہے. تاہم اس کی عادت بنالینا اور فرائض کے بعد متصلا اسی مقام پر اسی ہیئت کے ساتھ کوئی بھی علیحدہ سجدہ ادا کرنا (خواہ سجدہ تلاوت ہی کیوں نہ ہو) مکروہ تحریمی و ناجائز ہے. عادت بنائے بغیر اور سنت ومستحب سمجھے بغیر انفرادی مقامات پہ کبھی کبھار سجدہ مناجاۃ میں مضائقہ نہیں. لیکن نفل نماز کے سجدوں میں دعائیں کرے تو اور بہتر ہے 
واللہ اعلم 

قرآنی آیات سے گفتگو کرنے یا نئے مسائل پہ ان سے استدلال کرنے کا شرعی حکم



قرآنی آیات سے گفتگو کرنے یا نئے مسائل پہ ان سے استدلال کرنے کا شرعی حکم
-------------------------------
--------------------------------
کیا قرآنی آیت سے اس کو تشبیہ دینا درست ہے؟؟        
علماء کرام رہنمائی فرمائیں
الجواب وباللہ التوفق:
موقع محل کے اعتبار سے قرآنی آیات کے ذریعہ بات کرنا یا کسی دنیوی امر سے متعلق کسی کو قرآنی آیت سے ہی جواب دینا علماء کے درمیان مختلف فیہ رہا ہے 
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اسے ناپسند کرتے تھے 
امام نووی لکھتے ہیں:
ذكر ابن أبي داود في هذا اختلافاً، وروى عن إبراهيم النخعي أنه كان يكره أن يقال القرآن بشيء يعرض من أمر الدنيا۔ (التبيان صفحة 103 فصل: في قراءة القرآن يراد بها الكلام)
لیکن شان نزول سے قطع نظر نئے پیش آمدہ امور پہ قرآنی آیات سے استدلال واستنباط اکثر علماء کے نزدیک جائز ہے 
ان کا معروف ومشہور اصول ہے: "العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب"
اس اصول پہ بیشتر فقہی مسائل بھی مستنبط و متفرع کئے گئے ہیں 
بناء بریں صورت مسئولہ میں حکم مذکور پہ مذکورہ آیت سے استشہاد کی گنجائش ہے 
واللہ اعلم بالصواب

جواب دے رہا ہوں سے وقوع طلاق؟

جواب دے رہا ہوں سے وقوع طلاق؟
-------------------------------
--------------------------------
جواب دے رہا ہوں سے وقوع طلاق ہوگیا؟
الجواب وباللہ التوفق:
ہم لوگوں کے عرف (بیگوسرائے سمستی پور واطراف) میں "جواب دیا " طلاق کے معنی میں ہی مستعمل ہے 
اس لئے یہ لفظ بمنزلہ صریح طلاق ہوگیا 
شوہر کا پہلا جملہ 'جواب دے رہا ہوں' مضارع کا صیغہ ہے 
جس میں حال اور مستقبل دونوں کا احتمال رہتا ہے 
زمانہ حال، غلبۂ استعمال، دلالت حال یا نیت سے متعین ہوگا 
اگر شوہر نے اس لفظ سے فوری طلاق کی نیت نہ کی ہو یا وہاں اس تعبیر سے ایقاع طلاق کثیرالاستعمال نہ ہو تو اب استقبال پہ محمول ہوگا اور صرف طلاق کی دھمکی متصور ہوگی انشاء طلاق نہ ہوگا، اور اس لفظ سے کوئی طلاق نہ پڑے گی، صرف دوسرے لفظ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی 
ہاں اگر وہ اس سے فی الحال طلاق کی نیت کرلی ہو تب اس سے بھی طلاق رجعی (ہم لوگوں کے عرف میں) واقع ہوگی:
ولوقال: أطلقك لم یقع؛ إلا إذا غلب استعماله  في الحال۔ (الدرالمنتقي شرح ملتقي الأبحر، کتاب الطلاق، باب إیقاع الطلاق، دارالکتب العلمیۃ 14/2)
ولو قال: أطلقك  إن نویٰ به الطلاق یقع وإلافلا۔ (تاتارخانیة، 40/4،)
لوقال بالعربية: أطلق لایكون طلاقاً إلا إذا غلب استعماله للحال، فیکون طلاقاً۔ (هندیۃ، ٣٨٤/١ کتاب الطلاق الفصل السابع فی الطلاق بالألفاظ الفارسیۃ)
جواب میں مذکور پہلے لفظ مضارع "جواب دے رہا ہوں" سے مطلق وقوع طلاق کی بات درست نہیں ہے 
واللہ اعلم



سالی سے نکاح یا زنا منکوحہ کی صحت نکاح میں مؤثر نہیں ۔۔۔ مزنیہ پہ وجوب استبراء کا مسئلہ؟

سالی سے نکاح یا زنا منکوحہ کی صحت نکاح میں مؤثر نہیں ۔۔۔ مزنیہ پہ وجوب استبراء کا مسئلہ؟
-------------------------------
--------------------------------
کیا فرماتے ہیں علما۶ کرام مسلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص اپنی بیوی کے سگی بہن کو لیکر فرار ہوگیا اور نکاح کرلیا یا بغیر نکاح کیے رکھے ہوا ہے. کیا جمع بین الاختین حرام ہے معلوم کرنا ہے کون حلال ہے اورکون حرام ہے یا دونوں حرام ہے. مہربانی فرماکر تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں. 
الجواب وباللہ التوفق:
بیوی کے نکاح میں رہتے ہوئے اس کی بہن سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے، بیوی کی وفات یا طلاق کے بعد بعدعدت شوہر سالی سے نکاح کرسکتا ہے۔ بیوی کی موجودگی میں سالی محرمات موقتہ میں سے ہے. اس سے نکاح کرلے تو وہ نکاح فاسد ہے، پہلا نکاح صحیح ودرست ہے. زنا کاری یا جنسی تعلقات اجنبیہ کی طرح سالی سے بھی گناہ کبیرہ اور موجب توبہ واستغفار ہے. اگر اس طرح کا ناجائز جنسی تعلق سالی سے قائم ہوگیا ہو تو فوری علیحدگی ضروری اور صدق دل سے توبہ واستغفار لازم ہے 
یہ گناہ کبیرہ ہے، اسلامی ملک ہو اور شرعی گواہوں سے یہ جرم ثابت ہوجائے تو حد زنا بھی اس پہ لگے گی لیکن اس ناجائز تعلق کی وجہ سے بیوی کا نکاح نہیں ٹوٹتا ہے: 
لايحرم الحرام الحلال (سنن ابن ماجه كتاب النكاح، باب لا يحرم الحرام الحلال (2015)
یعنی حرام کام کسی حلال کو حرام نہیں کرتا. ہاں اگر سالی سے بوجہ زنا ہمبستری کرچکا ہو تو اسے ایک ماہ واری آنے تک زانی کو اپنی بیوی سے صحبت کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے یا اگر وہ حاملہ من الزنا ہوگئی ہو تو وضع حمل تک شوہر کو بیوی سے صحبت کرنے کی  شرعاً گنجائش نہیں ہے. موطوءہ من الزنا پہ ایک حیض کے ذریعہ استبراء رحم کے حکم کے بارے میں مشائخ حنفیہ کے اقوال مختلف ہیں 
بعض مشائخ اسے مستحب، بعض استبراء کے منکر جبکہ دیگر بعض ایک حیض کے ذریعہ استبراء کو واجب قرار دیتے ہیں. باب فروج میں حرمت کی اصلیت کے پیش نظر بر بنائے احتیاط ایک حیض سے استبراء رحم کے وجوب کے قول کو اختیار کرنا بہتر معلوم ہوتا ہے، یعنی جب تک مزنیہ ایک حیض سے پاک نہ ہوجائے زانی کو اپنی منکوحہ بیوی کی صحبت سے رکے رہنا واجب وضروری ہے، ہمارے فقہاء و مشائخ نے عموماً فتوی کے لئے اسی قول کو اختیار کیا ہے:
وفي الدرایة: عن الکامل ولوزنیٰ باحدیٰ الأختین لایقرب الأخریٰ حتی تحیض الأخریٰ حیضةً (شامي، کتاب النکاح، فصل في المحرمات، 34/3. کراچی)
لو زنی بأحد الاختین لایقرب الأخری حتی تحیض الأخری حیضة (مجمع الأنہر ٤٧٩/١ ط دار الکتب العلمیہ بیروت) 
إذا وطأ ذات محرم من إمرأته  ممن لایحرم علیه بزنا فإنه لایطأ إمرأته  حتی یستبرئ الموطوءۃ بحیضة (کذا فی النتف فی الفتاوی کتاب النکاح ١٨٩)
قال قتادۃ: لایحرمها ذٰلك علیه  غیر أنه لایغشی امرأته حتی تنقضي عدۃ التي زنی بها۔ (المصنف لابن أبي شیيبة :16348)
وفي الخلاصة: وطئ أخت امرأته  لاتحرم علیه امرأته، وتحته  في الشامي: قوله: ولا تحرم أي لا تثبت حرمة المصاهرۃ، فالمعنی: لاتحرم حرمة مؤبدۃ، وإلا فتحرم إلی انقضاء عدۃ الموطوءۃ لو بشبهة، قال في البحر: لو وطئ أخت امرأته بشبهة تحرم امرأته مالم تنقض عدۃ ذات الشبهة۔ (الدرالمختار مع الشامي / فصل في المحرمات 34/3 کراچی) 
شامی میں ہے:
في فتح القدیر حمل قول محمد "لا أحب" علی أنه  یجب لتعلیله باحتمال الشغل بماء المولی فإنه  یدل علی الوجوب وقال فإن المتقدمین کثیرا ما یطلقون "أکره ھذا" فی التحریم أو کراھة التحریم وأحب فی مقابله. (ردالمحتار ١٤٣/٤ النکاح)
فتاوی رحیمیہ جلد ۸ صفحہ ۱۹۲، یونیکوڈ، حاشیہ فتاوی عثمانی جلد ۲ صفحہ ٣٢٦، یونیکوڈ)
واللہ اعلم بالصواب