Thursday, 13 June 2019

بیٹوں کی کامیاب اور بابرکت زندگی کے رہنما اصول

بیٹوں کی کامیاب اور بابرکت زندگی کے رہنما اصول
بیٹوں کی تربیت ایک مشکل اور تھکادینے والا کام ہے۔ اکثر والدین اولاد کی سرکشی کی وجہ سے شدید دکھ اور تکلیف میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔
اس سلسلے میں ابن القیم الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بے شک گناہوں میں سے کچھ گناہ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا کفارہ انسان کو اولاد کی طرف سے ملنے والے غم کے سوا کچھ نہیں ہوتا! تو خوشخبری ہے اس کے لئے جو اپنے بیٹوں کی تربیت کا اہتمام اس طریقے پر کرتا ہے جو اللہ سبحانہ و تعالی کی پسند اور رضا کا ہے. اور خوشخبری ہے اس کے لئے جس کے لیے اولاد کی تربیت میں تکلیف اٹھانا اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ لہذا اگر تم اپنے بیٹوں میں کوئی ایسی بات دیکھو جو تمہیں ان کی تربیت کے معاملہ میں تھکادیتی ہو تو اپنے رب سے اپنے گناہوں بخشش طلب کرو۔"
مقاتل بن سلیمان رحمہ اللہ، منصور عباسی خلیفہ کے پاس آئے. جس دن ان کی خلافت پر بیعت کی گئی تو منصور نے ان سے کہا:
"اے مقاتل! مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔"
تو مقاتل کہنے لگے:
"کیا میں تمہیں (اس میں سے) نصیحت کروں جو میں نے دیکھا یا (اس میں سے) جو میں نے سنا؟"
تو منصور نے کہا:
"اس میں سے جو آپ نے دیکھا ہے۔"
تو مقاتل نے کہا:
"سنو اے امیر المومنین! عمر بن عبد العزیز (رحمہ اللہ) کے گیارہ بیٹے تھے اور وہ صرف اٹھارہ دینار چھوڑکر فوت ہوئے جن میں سے پانچ دینار کا وہ کفن دیے گئے اور چار دینار سے ان کے لیے قبر خریدی گئی اور باقی دینار ان کے بیٹوں میں تقسیم کردئے گئے۔ اور ھشام بن عبد الملک کے ہاں بھی گیارہ لڑکے تھے جب اس کا انتقال ہوا تو اس نے ترکہ میں ہر لڑکے کے حصے میں دس لاکھ دینار چھوڑے۔ اللہ کی قسم! اے امیر المومنین میں نے ایک ہی دن عمر بن عبدالعزیز کے ایک بیٹے کو دیکھا وہ اللہ کی راہ میں سو گھوڑے صدقہ کررہا تھا اور ھشام کے بیٹے کو دیکھا وہ بازاروں میں بھیک مانگ رہا تھا!!!"
جب عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ بستر مرگ پر تھے تو لوگوں نے ان سے پوچھا:
"اے عمر! تم اپنے بیٹوں کے لیے کیا چھوڑے جارہے ہو؟
انہوں نے فرمایا:
"میں نے ان کے لئے اللہ سبحانہ و تعالی کا تقوی چھوڑا ہے. پس اگر وہ نیکوکار ہوئے تو اللہ سبحانہ و تعالی نیکوکاروں کا دوست ہے اور اگر وہ اس کے علاوہ کچھ اور ہوئے تو میں ان کے لیے وہ مال ہر گز نہ چھوڑوں گا جو وہ اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں ان کا مددگار بنے۔"
یہ بہت قابل غور بات ہے کہ عموما لوگ مال جمع کرنے کے لئے سخت محنت اور مشقت کرتے ہیں اور اپنی اولاد کا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی موت کے بعد ان کی اولاد کے پاس مال ہوگا تو ہی وہ خوشحال رہیں گے اور امن میں ہوں گے. جبکہ وہ اس سے زیادہ بڑے امان، جو کہ اللہ کا تقوی ہے، اس سے غافل رہتے ہیں اور اپنی اولاد کو تقوی کا توشہ نہیں دیتے.
ایک آدمی جب اپنے کسی بیٹے میں اخلاقی زوال دیکھتا تو صدقہ کرتا اور لوگوں کو کھانا کھلاتا اور اس آیت کی تلاوت کرتا تھا:
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا.
"ان سے ان کے مالوں میں سے صدقہ لے کر ان کو پاک کیجئے اور اس سے ان کا تزکیہ کیجئے۔"
اور دعا کرتا کہ
"اے اللہ! میرا یہ صدقہ کرنا اس لیے ہے کہ میرے بیٹے کا اخلاقی تزکیہ ہو جائے کیونکہ اس کا یہ بگاڑ مجھ پر اس کی جسمانی بیماری سے زیادہ بھاری ہے۔"
اسی طرح ایک اور شخص کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ غربت کی زندگی گزارنے کی وجہ سے جب وہ صدقہ کرنے کے لئے کچھ نہ پاتا اور اس کا بیٹا اس کو ستاتا تو وہ رات کو قیام اللیل میں سورة البقرة پڑھ کر دعا کرتا اور یوں کہتا کہ:
"اے اللہ! یہ میرا صدقہ ہے، تو مجھ سے قبول کر لے اور اس کی وجہ سے میرے بیٹے کی اصلاح فرمادے۔"
اپنے بیٹوں کی اصلاح کی نیت سے اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف عبادت کے ذریعے رجوع کریں۔ اگر انہوں نے تمہاری کوششوں کو مغلوب کر بھی لیا تو وہ تمہاری نیتوں کو ہرگز مغلوب کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا.
"اے پروردگار! ہمیں ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقین کا امام بنا۔"
آمین
اپنا یہ معمول بنالیں کہ ہر فرض نماز کی آخری رکعت میں درود اور دعا کے ساتھ اس دعا کا بھی اضافہ کرلیں۔ ان شاء اللہ انتہائی مجرب پائیں گی۔ اللہ تعالی ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں امت کا سرمایہ اور ہمارے لئے صدقہ جاریہ بنادے۔ آمین یا رب العالمین


مسجد سے گمشدہ چپل کے بدلے دوسرے کی چپل لے جانا؟

مسجد سے گمشدہ چپل کے بدلے دوسرے کی چپل لے جانا؟
مسجد میں عید کی نماز کے وقت چپل بدل گئے. آٹھ نمبر کی جگہ کوئی نو نمبر کے لے گیا تو کیا اس کے ہوبہو آٹھ نمبر والے چپل یہ آدمی لے سکتا ہے کمپنی ایک ہی ہے اور اب تک وہ چپل اس نے اسی انتظار میں وہیں رکھ چھوڑے ہیں کہ شاید وہ بدلنے آوے لیکن اب تک تو نہیں آیا تو کیا وہ لے سکتا ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
نیز اگر کسی کی چپل مسجد میں چوری ہوجائے تو اس شخص کے لئے یہ جواز نہیں ہے کہ وہ دوسرے کے جوتے چپل کے ساتھ اسی حرکت کا ارتکاب کرے اور وہ خود چوری کا مرتکب ہوجائے ؛ اس لئے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: 
’’لا ضرر ولا ضرار‘‘ (سنن ابن ماجۃ ،کتاب الأحکام، باب من بنی في حقہ ما یضر بجارہ ، حدیث نمبر : ۲۳۳۲) یعنی نہ ابتداءً کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ رد عمل میں 
(مولانا خالد سیف اللہ رحمانی)
........
نیز احسن الفتاوی میں بھی شاید عدم جواز ہی لکھا ہے.
...........
جن جوتوں کے بارے میں خیال ہوکہ مالک ان کو تلاش کرے گا ان کا پہننا جائز نہیں۔ اورجن کو اس خیال سے چھوڑدیا گیا کہ خواہ کوئی لے، ان کا پہننا جائز ہے۔ ولو من الحرم․․․ فینتفع الرافع بہا أي إلی أن یغلب علی ظنہ أن صاحبہا لا یطلبہا (الدر مع الرد ۴/۲۷۹ کتاب اللقطة ط: سعید) 

------------
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم حضرت مفتی صاحب ایک مسئلہ کی وضاحت فرمائیں عرض ھیکہ میں مسجد گیا وہاں میرا چپل غائب ہوگیا تو میں نے دیکھا جو سب سے آخر میں جو چپل بچا میں اسے پہن کر گھر آگیا پھر اسے واپس لے کر مسجد نہی لے گیا حالانکہ میرا بھی چپل نہی ملا تو میں یہ سمجھ کر نہی لے کر گیا شائد یہ اس کا ہوگا جو میرا لے کر گیا ہے تو اور ایک جگہ غائب ہوا تھا تو میں نے وہاں پر بھی اس طرح ہی کیا لیکن دوسری جگہ میرا مل گیا تھا اس کے بعد بھی میں اس کا کسی وجہ سے نہی واپس کر پایا حضرت بس میری رہنمائی فرمائیں میں نے کہاں تک صحیح اور کہاں تک غلط کیا میرے دونوں مسئلے کو الگ الگ سمجھائیں اس کے بدلے میں میں کیا کرو فقط والسلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ا گر کسی کی چپل مسجد میں چوری ہوجائے تو اس شخص کے لئے شرعا یہ جائزنہیں ہے کہ وہ دوسرے کے جوتے چپل کے ساتھ اسی حرکت کا ارتکاب کرے اور وہ خود چوری کا مرتکب ہوجائے؛ چوری پہ اسلام میں سزا متعین ہے۔ پھر مسجد جیسے مقدس جگہوں میں اس کی شناعت اور بڑھ جائے گی۔
اس لئے اس سے اجتناب کرنا لازما کرنا چاہئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’لا ضرر ولا ضرار‘‘ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الأحکام، باب من بنی في حقہ ما یضر بجارہ، حدیث نمبر: ۲۳۳۲) یعنی نہ ابتداءً کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ رد عمل میں۔
آپ نے جو کچھ کیا وہ آپ کے لئے مناسب نہیں تھا۔ آپ کا یہ عمل سرقہ میں داخل ہے۔ 
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
----------------------------------
جمع و ترتیب: ایس اے ساگر

-----------------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/06/blog-post_47.html

6 علامات واضحة إذا وجدت فى العبد تدل على رضا الله عليه

 6 علامات واضحة إذا وجدت فى العبد تدل على رضا الله عليه .. 
فما هى تلك العلامات ، رضا الله هى غايتنا ومبتغانا جميعاً فى كل أعمالنا الجهرية والسرية، وإيضاً فى صلاتنا ومعاملاتنا اليومية مع الأخرين تكون دائماً إبتغاء مرضات الله ورضاه علينا، حيث رضا الله عز وجل ومحبته هى غاية سهلة المنال ولكن صعبة التنفيذ بالنسبة للعبد، لأنها تتطلب رقابة داخلية وضمير واعى وعقل مدرك للصواب والخطاً.
ورضا الله هى غايتنا جميعاً وهدفنا النى نسعى إليها، والسؤال هنا الذى يتبادر إلى الأذهان دوماً وبعد كل عمل نعمله أو ننتهى منه، هل الله سبحانه وتعالى راضى عنا؟، وهل هناك علامات نستطيع أن نعرف بها أن الله راضىً عنا؟ 
علامات رضا الله عن العبدعلامات رضا الله عن العبد
اول هذه العلامات هو ”الابتلاء“
فإذا أحب الله عبداً ابتلاه، فالابتلاء علامة من علامات رضا الله عن العبد، فلا تجزع ولا تضعف إذا ابتلاك الله عز وجل بل احمده واشكره واصبر وادعوه واحتسب أجرك على الله .
ثانى هذه العلامات هى ”محبة الناس“
فحب الناس من علامات حب الله للعبد ، فأحمد الله عز وجل على محبة الناس لك .
ثالث هذه العلامات هى ”التوفيق للطاعة “
إذا وفق الله سبحانه وتعالى العبد لطاعته ، ومن عليه واستعمله فى الطاعة والعبادة ، فهى علامة من علامات رضا الله عنه .
رابع هذه العلامات هى ”حسن الخاتمة “
إذا أحب الله عبداً وفقه إلى عمل صالح فى آخر إيام حياته ، حتى يلاقى الله عليه .
خامس هذه العلامات هى ”الأنس بذكر الله“
سبحان الله من أجمل هذه العلامات هى الأنس بذكر الله ، فهى من علامات رضا الله عز وجل عن العبد.
سادس هذه العلامات هى ”قبول النصح“
إذا كنت من الذين يقبلون النصح من الغير، فأعلم أنها علامة من علامات رضا الله عز وجل عنك.
https://saagartimes.blogspot.com/2019/06/6.html




مسجد میں عورتوں کا اعتکاف؟

مسجد میں عورتوں کا اعتکاف؟ 

 "اعتکاف" لغوی اعتبار سے ’’رکنے‘‘ اور "کسی چیز سے چمٹے رہنے‘‘ کو کہتے ہیں، جبکہ اصطلاح شرع میں: "ایسی مسجد میں اللہ کے لیے، عبادت کی نیت سے رکنے کو "اعتکاف" کہتے ہیں جہاں پنج وقتہ نماز ہوتی ہو۔ (وهو في اللغة الإقامة على الشيء، ولزومه، وحبس النفس عليه، ومنه قوله تعالى {ما هذه التماثيل التي أنتم لها عاكفون} [الأنبياء:۵۲] وقوله تعالى {يعكفون على أصنام لهم} [الأعراف:۱۳۸] وفي الشريعة: هو الإقامة في المسجد واللبث فيه، مع الصوم والنية، قال اللہ تعالى {أن طهرا بيتي للطائفين والعاكفين} [البقرة:۱۲۵] والمعنى اللغوي فيه موجود مع زيادة وصف .(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق- عثمان بن علي بن محجن البارعي، فخر الدين الزيلعي الحنفي (م:۷۴۳ هـ):۱؍۳۴۷، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ط: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة٭مراقي الفلاح، ص: ۲۶۴، باب الاعتکاف،ط: المکتبۃ العصریۃ٭درر الحكام شرح غرر الأحكام- محمد بن فرامرز بن علي الشهير بملا - أو منلا أو المولى - خسرو (م:۸۸۵هـ):۱؍۲۱۲، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ط: دار إحياء الكتب العربية٭رد المحتار علی الدر المختار:۲؍۴۴۰، کتاب الصوم، باب الاعتکاف،ط: دار الفکر) 
اعتکاف اہم ترین عبادت، انابت الی اللہ  اورتقرب الہی کا بہترین ذریعہ ہے۔
ہمارے دین و مذہب میں مرد وعورت، دونوں ' دینداری،  تقوی، پرہیزگاری اور رجوع الی اللہ کے یکساں محتاج ہیں، اس لئے "اعتکاف" دونوں صنفوں کے لئے برابر کار ثواب اور "سنت" ہے۔
اعتکاف صرف مردوں یا سن رسیدہ خواتین کے حق میں رجسٹرڈ عبادت  نہیں، بلکہ دونوں صنفوں کے  ہر عمر کے حضرات وخواتین کے لئے یہ یکساں سنت ہے- 
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تاحیات  خود رمضان کے آخر عشرے کا اعتکاف فرمایا اور آپ کی ازواج مطہرات نے بھی آپ کے ہمراہ مسجد نبوی میں اور آپ کے بعد  اپنے اپنے گھروں میں (مرقات المفاتیح حدیث نمبر 2097) بھی اس سنت پہ عمل کیا اور اس طریقے کو باقی رکھا ۔بخاری شریف میں ہے: 
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ .
صحيح البخاري. كتاب الاعتكاف
رقم الحديث:  1922
اس حدیث سے واضح ہے کہ اعتکاف مسنون مردوں کی خصوصیت نہیں بلکہ یہ مرد وعورت دونوں کے لئے یکساں سنت ہے۔
جمہور علماء امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مردوں کے اعتکاف مسنون کے لئے "مسجد" ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کی سورہ بقرہ کی آیت 187 میں اسے مسجد کی قید کے ساتھ مقید کیا گیا ہے۔
تاہم اس کے لئے کسی مخصوص شہر کی کوئی مخصوص مسجد لازم وضروری نہیں۔ 
ہاں اتنا ضرور ہے کہ سب سے افضل اعتکاف مسجد حرام میں، پھر مسجد نبوی میں، پھر مسجد اقصی میں، پھر جامع مسجد اور پھر زیادہ نمازیوں والی مسجد میں ہے:
(وأما أفضل الاعتکاف ففي المسجد الحرام، ثم في مسجدہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ثم في المسجد الأقصی ، ثم في الجامع، قیل: إذا کان یصلی فیہ بجماعۃ فإن لم یکن ففي مسجدہ أفضل لئلا یحتاج إلی الخروج ، ثم ما کان أہلہ أکثر ۔’’ رد المحتار(۳/۳۸۱، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، النہر الفائق: ۲/۴۴، خلاصۃ الفتاوی: ۱/۲۶۷)
جہاں تک عورتوں کے اعتکاف کی جگہ کی بات ہے تو اس بابت  جمہور علماء اور شافعیہ کے قول جدید کے مطابق عورتوں کے اعتکاف مسنون کے لئے بھی "مسجد جماعت" ضروری ہے، عورت اگر گھر میں اعتکاف کرلے تو اعتکاف مسنون ان حضرات کے یہاں صحیح نہ ہوگا۔
جبکہ ابراہیم نخعی، سفیان ثوری، ابن علیہ، شافعیہ کا قول قدیم اور حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ پردہ کے اہتمام، آداب وحقوق مسجد کی رعایت، مردوں کے ساتھ بالکلیہ عدم اختلاط،  بغیر زیب زینت اور بغیر آرائش وزیبائش اور فتنوں سے مکمل تحفظ کے تیقن کے ساتھ عورتین مسجد جماعت میں اعتکاف کرسکتی ہیں! 
تاہم ان کے لئے افضل یہ ہے کہ اپنے گھروں میں اعتکاف کریں۔ 
یعنی شرائط مذکورہ کی رعایت کے ساتھ مسجد میں عورت کا اعتکاف بھی اگرچہ حنفیہ کے یہاں جائز ہے، لیکن خلاف افضل یعنی مکروہ تنزیہی ہے۔
(عینی شرح بخاری، جلد 11، صفحہ 141 (287)
عورتوں کے اعتکاف کی صحت کے لئے مسجد  کو لازم قرار دینے والے علماء کے پیش نظر یہ دلائل ہیں:
1۔۔۔ آیت کریمہ "وانتم عاكفون في المساجد " البقرة : 187- اور تم مسجدوں میں اعتکاف کیا کرو)
2۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل کہ آپ نے ہمیشہ مسجد ہی میں اعتکاف فرمایا 
3۔۔۔ابن عباس کا فرمان جس میں انہوں نے گھر میں اعتکاف کی نذر ماننے والی خاتون کے عمل کو بدعت اور بدعت کو اللہ کی نظر میں سب سے ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے۔
جبکہ مسجد کی بہ نسبت گھر میں عورت کے اعتکاف کو افضل قرار دینے والے حضرات علماء کے پیش نظر یہ دلائل ہیں: 
 1۔۔۔۔۔۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ فَأَذِنَ لَهَا وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا فَفَعَلَتْ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ أَمَرَتْ بِبِنَاءٍ فَبُنِيَ لَهَا قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ إِلَى بِنَائِهِ فَبَصُرَ بِالْأَبْنِيَةِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا بِنَاءُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَزَيْنَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْبِرَّ أَرَدْنَ بِهَذَا مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ فَرَجَعَ فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ 
صحيح البخاري رقم الحدیث 1940۔ بَاب مَنْ أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَخْرُجَ 
(حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےایک مرتبہ فرمایا کہ میں رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کروں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی (کہ وہ بھی اعتکاف کریں گی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا مجھے بھی اجازت دلا دو، انہوں نے اجازت دلا دی۔ جب حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی (خدام کو خیمہ لگانے کا) حکم دے دیا۔ چنانچہ ان کا بھی خیمہ لگادیا گیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر اپنے خیمے کی طرف تشریف لے گئے تو بہت سارے خیموں کو دیکھ کر فرمانے لگے: یہ خیمے کیسے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ حضرت عائشہ، حضرت حفصہ اور حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن نے لگائے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا انہوں نے اس سے نیکی کا ارادہ کیا ہے؟ "فامر بخبائہ فقوض" پهر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیمے اکھاڑنے کا حکم دیا.
(صحیح البخاری: ج 1 ص 274 باب من أراد أن يعتكف ثم بدا لہ أن يخرج)
یہی روایت صحیح مسلم میں بهی موجود ہے.
2۔۔۔۔ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُوَرِّقٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا۔سنن ابی داود 570 
ترجمہ: ابن مثنی، عمرو بن عاصم، ہمام، قتادہ، مورق، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت کا کمرہ میں نماز پڑھنا گھر (آنگن) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور (اندرونی) کوٹھڑی میں نماز پڑھنا کمرہ میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے یعنی عورت جس قدر بھی پردہ اختیار کرے گی اسی قدر بہتر ہے صحن میں نماز پڑھنے کے مقابلہ میں کمرہ میں نماز پڑھنا افضل ہے اور کمرہ میں نماز پڑھنے کے مقابلہ میں کمرہ کے اندر بنی ہوئی کوٹھری میں نماز پڑھنا افضل ہے۔
غور کیجئے! جب نماز کے لئے عورت کے گھر کو ثواب وفضیلت میں مسجد کا حکم دیدیا گیا اور مسجد جماعت کی بہ نسبت یہاں نماز پڑھنے کو افضل قرار دیا گیا تو یقینا اعتکاف کے لئے بھی یہی حکم ہوگا، کیونکہ نماز اور اعتکاف دونوں مسجد کے ساتھ مخصوص اعمال ہیں۔
واذاکان لہ حکم المسجدفی حقھا فی حق الصٖٖٖٖٖٖلاۃ فذلک فی حق الاعتکاف لان کل واحد منھما فی اختصاصہ بالمسجد سواء (بدائع ص ۲۸۲ج۲)
3۔۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ. (سورۃ البقرہ:187)
ترجمہ: اور تم مسجدوں میں اعتکاف کیا کرو۔
اس آیت کی تفسیر میں امام ابوبکر الجصاص م 370ھ فرماتے ہیں:
وأما شرط اللبث في المسجد فإنه للرجال خاصة دون النساء۔ (احکام القرآن للجصاص: ج 1 ص 333)
ترجمہ: مسجد میں ٹھہرنے کی شرط (اعتکاف کے لیے)صرف مردوں کے لیے نہ کہ عورتوں کے لیے۔
 قابل غور پہلو:
اگر مسجد میں عورت کا اعتکاف پسندیدہ یا افضل عمل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کے خیمے لگ جانے کے بعد مسجد سے اکھاڑ پھینکنے کا حکم صادر  نہ فرماتے!  
اسی لئے حنفیہ اور علامہ ابن بطال کی نقل (عینی ج11 ص 141 ) کے مطابق شافعیہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مرد کے لئے اپنے محلہ کی مسجد میں اور عورت کے لئے اپنے گھر کے مخصوص جگہ میں اعتکاف کرنا افضل ہے۔
والمرأۃ تعتکف فی مسجد بیتہا، إذا اعتکفت فی مسجد بیتہا فتلک البقعۃ فی حقہا کمسجد الجماعۃ فی حق الرجل لا تخرج منہ إلا لحاجۃ الإنسان۔ (عالمگیری ۱؍۲۱۱، ومثلہ فی الخانیۃ ۱؍۲۲۱، مراقی الفلاح ۳۸۳، تبیین الحقائق ۲؍۲۲۵۔الھدایہ ج1 ص 209 )
لیکن اگر کسی مسجد میں اس طرح مکمل نظم وضبط ہو کہ شرعی حدود کا مکمل لحاظ ہو،پردہ کی مکمل رعایت ہو، زیب وزینت، آرائش وزیبائش سے مکمل اجتناب اور مردوں سے مکمل عدم اختلاط کا ماحول اور وقوع فتنہ سے تحفظ کی یقینی صورت حال ہو تو عورت کو  ان شرطوں کی رعایت کے ساتھ ایسی مسجد میں اعتکاف یا نماز پڑھ لینے کی حنفیہ کے یہاں بھی گنجائش ہے۔
لیکن اگر عورت خود کو اس طرح شرعی حدود وقیود کی پابند نہیں کرسکتی تو ایسی خاتون کے لئے بہتر وافضل ہے کہ اپنے گھر کے کونہ میں اعتکاف کرے۔
ابن نجیم لکھتے ہیں:
ان إعتکافها فی مسجد الجماعة جائز.
’’بے شک عورت کا جماعت والی مسجد میں اعتکاف جائز ہے۔‘‘
علامہ کاسانی کی بدائع الصنائع کے حوالہ سے آپ مزید لکھتے ہیں:
ان اعتکافها فی مسجد الجماعة صحيح بلا خلاف بين اصحابنا.
 ابن نجيم، البحر الرائق، 2 : 324
’’عورت کا مسجدِ جماعت میں اعتکاف میں  بیٹھنا درست ہے۔ اس میں ہمارے ائمہ احناف کے مابین کوئی اختلاف نہیں۔‘‘
علامہ ابن عابدین شامی ردالمحتار میں عورت کا مسجد میں اعتکاف بیٹھنا مکروہ تنزیہی قرار دیتے ہیں ساتھ ہی بدائع الصنائع کے حوالہ سے لکھتے ہیں:
صرح فی البدائع بأنہ خلاف الأفضل۔
ابن عابدين شامی، رد المحتار، 2: 441
’’بدائع  الصنائع میں علامہ کاسانی نے تصریح فرمائی ہے کہ مسجد میں عورت کا اعتکاف بیٹھنا خلافِ افضل ہے۔‘‘
حدود شرعیہ کے لحاظ کے ساتھ مردوں سے الگ رہتے ہوئے مسجد میں پہنچ کر مسجد کے کسی الگ حصہ میں مردوں سے الگ رہ کر الگ کھڑی ہوکر نماز پڑھنے سے عورتوں کو روکنے سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَابْنُ إِدْرِيسَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ 
صحيح مسلم 442 
علامہ نووی کے بقول:
عدم اختلاط، عدم تزین، عدم تطیب، عدم خوف فتنہ کے ساتھ عورتیں مسجد جاسکتی ہیں۔
لیکن گھر کی چہار دیواری ان کے لئے بہر حال اولی وبہتر ہے۔ ام المومنین  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نصیحت بھی یہی ہے۔
﴿قال العلامۃ اِبن الہمام فی شرح الہدایۃ۔ وروی اِبن خزیمۃ عنہ ’’اِنّ أحبّ صلاۃ المرأۃ الی اﷲ فی أشد مکان فی بیتہا ظلمۃ ‘‘ وفی حدیث لہ ولابن حبّان ’’وأقرب ما تکون من وجہ ربّہا وہی فی قعر بیتہا‘‘ ومعلوم أن المخدع لا یسع الجماعۃ، وکذا قعر بیتہا وأشد ظلمۃ، شرح فتح القدیر ص ۳۵۴ ج۱۔ دارالفکر بیروت﴾
﴿وعن عائشۃ رضی اﷲ عنہا قالت لَو أدرک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ما أحدث النساء لمنعہن المسجد کما مُنِعَتْ نساء اسرائیل، صحیح بخاری ص ۲۹۶ ج ۱۔ حدیث رقم ۸۳۱ ۔ وقال الدکتور مصطفیٰ دیب البُغا فی حاشیتِہٖ (ما أحدث النساء) من اِظہار الزینۃ ورائحۃ الطیب، وحسن الثیاب ونحو ذلک ۔ وقال النو وی ؒ فی شرح مسلم،لا تمنع المسجد لکن بشروط ذکرہا العلماء ماخوذۃ من الأحادیث وہو أن لا تکون متطیبۃ ولا متزينة ولا ذات خلالل يسمع صوتہا ولا ثیاب فاخرۃ ولا مختلطۃ بالرجال ولا شابّۃ ونحوہا ممّن یفتتن بہا وأن لا یکون فی الطریق ما یخاف بہ مفسدۃ ونحوہا ص ۱۸۳ج۱﴾
 خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسجد کی نسبت عورت کا گھر میں اعتکاف میں  بیٹھنا افضل ہے۔ مسجد میں نماز یا اعتکاف کے لئے جانے کی ممانعت "سد ذریعہ" کے طور پر ہے ۔ اس طرح دیکھا جائے تو جمہور ائمہ اور حنفیہ وشافعیہ کا اختلاف، لفظی ہوا حقیقی نہیں۔ 
واللہ اعلم بالصواب 
شکیل منصور القاسمی۔ بیگوسرائیوی

Tuesday, 11 June 2019

انسانی بالوں کی خرید وفروخت اور ان سے بنے وگوں کا استعمال؟

انسانی بالوں کی خرید وفروخت اور ان سے بنے  وگوں کا استعمال؟

پوری کائنات میں سب سے افضل واشرف مخلوق انسان ہے۔
خواہ زندہ ہو یا مردہ، مسلم ہو یا کافر بحیثیت انسان اس کی تکریم واحترام کو اسلام میں واجب قرار دیا گیا ہے، اس کی یا اس کے کسی عضو جسمانی کی توہین اسلام میں جائز نہیں ہے۔
اس کے کسی بھی جزء سے انتفاع و استفادہ کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ اسی لئے مدت رضاعت سے زائد مدت دودھ پلانا بھی ممنوع ہے۔
ہر اس عمل سے اسلام نے روکا ہے جو انسان کی اشرفیت وافضلیت کے منافی ہو۔ اگر اسلام انسان کی تکریم واحترام کی اتنی موکد تعلیم نہیں دیتا تو انسان قابل تکریم اور اشرف المخلوقات کی بجائے متاع بازار بن کے رہ جاتا اور لوگ اس کے گوشت پوست سے سربازار بھوک مٹاتے نظر آتے!
پھر انسان اپنے جسم کا خود مالک بھی نہیں ہے بلکہ وہ صرف امین ہے۔ جسم کا مالک اللہ ہے۔ جب جسم انسان کا مملوک نہیں تو پھر غیر مملوک شئے میں کسی بھی قسم کا تصرف کیسے درست ہوسکتا ہے؟ ۔۔ اس لئے خواہ زندگی میں یا مرنے کے بعد اپنے جسم کے کسی حصہ (بال بھی جسم انسانی کا ایک حصہ ہے) کی بیع یا ہبہ وعطیہ ملک غیر میں تصرف کے باعث ناجائز ہے۔
قال العلامۃ کمال الدین ابن الہمام ؒ: والانتفاع بہ لان الآدمی مکرم غیر مبتذل فلایجوز ان یکون شی من اجزائہ مھانا ومبتذلا وفی بیعہ اھانۃ لہٗ وکذا فی امتھانہ باالانتفاع۔ (فتح القدیر:ج؍۶، ص؍۶۳، باب البیع الفاسد)
قال العلامۃالکاسانیؒ: والاآدمی بجمیع اجزائہ محترم مکرم ولیس من الکرامۃ والاحترام ابتذالہ بالبیع والشراء۔ (البدائع والصنائع:ج؍۵، ص؍۱۴۵، کتاب، البیوع، فصل واماالذی یرجع الی المقصود۔۔۔۔۔الخ
ومثلہ فی ردالمحتار: ج؍۶،ص؍۳۷۲، فصل فی النظر والمس۔کتاب الخطر والاباحۃ۔
والآدمي مکرم شرعًا، والمراد تکریم صورتہ وخلقتہ، وکذا لم یجز کسر عظام میت۔ (شامي ۷؍۲۴۵ زکریا، البحر الرائق ۶؍۸۱)
الانتفاع بأجزاء الآدمي لم یجز۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات ۵؍۳۵۴)
الاٰدمي مکرمٌ شرعًا وإن کان کافرًا، فإیراد العقد علیہ وإبتذالہ بہ، وإلحاقہ بالجمادات إذلالٌ لہ أي وہو غیر جائز، … وصرح في فتح القدیر ببطلانہ۔ (رد المحتار، کتاب البیوع / باب البیع الفاسد، مطلب: الآدمي مکرم شرعًا ولو کافرًا ۵؍۵۸ دار الفکر بیروت، ۷؍۲۴۵ زکریا، فتح القدیر، کتاب البیوع / باب البیع الفاسد ۶؍۳۹۰ زکریا، ۶؍۴۲۵ مصطفیٰ البابي الحلبي مصر، البحر الرائق ۶؍۸۱، الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات ۵؍۳۵۴ زکریا)
الانتفاع بأجزاء الآدمي لم یجز۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات ۵؍۳۵۴)
مضطر لم یجد میتۃ وخاف الہلاک، فقال لہ رجل: إقطع یدي وکلہا، أو قال: اقطع مني قطعۃ وکلہا لا یسعہ أن یفعل ذٰلک، ولا یصح أمرہ بہ کما لا یسع للمضطر أن یقطع قطعۃ من نفسہ فیأکل۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الحادي عشر في الکراہۃ في الأکل الخ ۵؍۳۳۸، الفتاویٰ البزازیۃ مع الہندیۃ ۳؍۴۰۴)۔
اس لئے اعضاء انسانی کی خرید وفروخت یا ہبہ وعطیہ اسلام کے  بنیادی تصور کے خلاف ہے اور ناجائز ہے۔
ہمارا ملک ہندوستان گرچہ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کا مجموعہ ہے، تاہم یہاں ہندوئوں کی اکثریت ہے، ہندو مذہب میں منتوں اور مرادوں کو پورا ہونے کے بعد قسمت کی دیوی کی توجہ اہنی جانب مبذول کروانے کے لئے بالوں کا عطیہ (مونڈن) دیا جاتا ہے، اور عقیدت مند عورتیں دیوتائوں کے سامنے اپنے اور اپنے بچوں کے بالوں کی قربانی دیتی ہیں، اس مونڈن کی بڑی مذہبی اہمیت ہے، اس مقصد کے لیے دور دراز سے سفر کرکے بعض مندروں اور مقامات کا رخ کیا جاتا ہے، مندروں اور مذہبی مقامات پہ سینکڑوں ٹن بالوں کا ذخیرہ جمع ہوجاتا ہے، مندروں سے ٹنوں کے حساب سے بال ہول سیلرز کو فروخت کیے جاتے ہیں۔
پھر یہ بال دیگر ملکوں کو برآمد کردیے جاتے ہیں۔ اس وقت ہندوستان بالوں کی برآمد میں دنیا میں سرفہرست ملک بن گیا ہے۔
فیشن کی دلدادہ مغربی خواتین خصوصا افریقی ممالک کی خواتین میں مصنوعی طریقے سے اپنے بال لمبے کروانے کے رجحان میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس کاروبار سے منسلک کمپنیوں کے مطابق ہندوستان سے بالوں کی تجارت کا سالانہ حجم قریباً 9 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
ایک کلو بالوں کی قیمت امریکی ملکوں میں کم وبیش 300 ڈالر ہے۔ ان بالوں کا کافی بڑا حصہ مختلف تطہیری مراحل سے گزارنے کے بعد وگ بنانے کے کام  میں استعمال ہوتا ہے، ان بالوں سے تیار ہونے والی وگوں کو امریکہ، افریقہ اور یوروپ کے مختلف ممالک میں فروخت کے لیے اچھی قیمتوں پر باہر بھیجا جاتا ہے۔
پھر یہ وگ عورتیں اپنے بالوں کو لمبا ظاہر کرنے کے مقصد سے تزئین و آرائش کے لئے استعمال کرتی ہیں۔
اس ترقی و فروغ پذیر منافع بخش تجارت سے غیروں کے دیکھا دیکھی کچھ مسلمان بھی منسلک ہورہے ہیں۔ اور مجھے اس حوالے سے دستیاب اطلاع کے مطابق بڑے بڑے مسلمان  تجار اس میں ملینوں کا انویسٹ مینٹ کرچکے ہیں، ان کی آمدنی اس پیشہ سے وابستہ ہوچکی ہے 
اس لئے ضروری ہے کہ شرعی اصولوں کی روشنی میں اس کاروبار کا حکم جانا جائے۔ 
چاروں فقہی مذاہب کے علماء کا اتفاق ہے کہ انسان کا بال خواہ سر میں لگا ہوا ہو یا اس سے جدا کیا ہوا، مسلمان کا ہو یا کافر کا، خود انسان کی طرح وہ بھی قابل اکرام ہے، اس کی خرید وفروخت یا ہبہ و عطیہ کرنا یا اسے کسی بھی طرح استعمال میں لانا جزو انسان کی توہین ہونے کے سبب ناجائز وحرام ہے۔
صاحب ہدایہ امام مرغيناني الحنفي فرماتے ہیں:
انسانی بالوں کی فروخت جائز نہیں ہے؛ کیونکہ انسان قابل احترام ہے، اس کے کسی جزء کی تو ہین (خرید وفروخت) جائز نہیں:
"الهداية" (6/ 425-426، ط. دار الفكر): [(ولا يجوز بيع شعور الإنسان..) لأن الآدميَّ مكرمٌ لا مبتذلٌ فلا يجوز أن يكون شيءٌ مِن أجزائه مُهانًا ومُبتذلًا] اهـ.[(ولنا: أن عدم الانتفاع به والبيع لكرامته) ش: أي لأجل كرامته؛ لأن الآدميَّ مكرمٌ بالنص، والضميرُ في (به) يرجع إلى الشعر، وفي (كرامته) يجوز أن يرجع إلى الشعر أيضًا، ولكونه مكرمًا بكرامة صاحبه] (الإمام بدر الدين العيني الحنفي في "البناية شرح الهداية" (1/ 429، ط. دار الكتب العلمية)
(قوله: ولا يجوز بيع شعر الإنسان) مع قولنا بطهارته (..لأن الآدمي مكرمٌ غير مبتذلٍ؛ فلا يجوز أن يكون شيءٌ من أجزائه مهانًا ومبتذلًا) وفي بيعه إهانة] (كمال بن الهمام الحنفي في "فتح القدير" (6/ 425-426، ط. دار الفكر)۔
مالکیہ کی کتاب “مختصر خلیل“ کے حاشیہ میں امام مالک سے بالوں کی فروخت کے سلسلے میں کراہت کا قول منقول ہے:
(تنبيه): سُئِلَ مالكٌ عن بيع الشعر الذي يُحلَقُ من رءوس الناس؟ فكرهه] (أبو الحسن العدوي المالكي [ت: 1189هـ] في "حاشيۃ أبی الحسن العدوي المالكي [ت: 1189هـ] على شرح مختصر خليل للخرشي" (1/ 83، ط. دار الفكر): و "الكافي" (ص: 328، ط. دار الكتب العلمية، بيروت)
شافعیہ کی کتاب "مغني المحتاج" للخطيب الشربيني الشافعي (1/ 406، ط. دار الكتب العلمية) میں انسان کے کسی بھی عضو سے انتفاع کو یکسر حرام قرار دیا گیا ہے: [والآدمي يحرم الانتفاع به وبسائر أجزائه لكرامته] اهـ
حنابلہ کی کتاب "كشاف القناع" للإمام البهوتي الحنبلي (1/ 57، ط. دار الكتب العلمية) میں بھی اس کی فروخت کو ناجائز کہا گیا ہے:
[(ولا يجوز استعمال شعر الآدمي) مع الحكم بطهارته (لحرمته) أي احترامه]
"الموسوعة الفقهية" (26 / 102) میں ہے:
واتّفق الفقهاء على عدم جواز الانتفاع بشَعْر الآدميّ بيعاً واستعمالاً؛ لأنّ الآدميّ مكرّم، لقوله سبحانه وتعالى: (وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ) .
فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهاناً مبتذلاً" انتهى۔
چاروں فقہی مسالک میں سے کسی میں بھی انسانی بالوں کی و گوں کا برائے زینت استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، لہذا یہ مسئلہ اتفاقی ہوا کہ خوبصورتی اور زیب و زینت کے لئے وگ تیار کرنے والے ادارے یا شخصیات کے ہاتھ انسانی بالوں کو فروخت کرنا یا عطیہ دینا از روئے شرع جائز نہیں ہے۔
ہاں بعض رفاہی عالمی ادارے ایسے بھی ہیں جو صرف کینسرزدہ یا جلے ہوئے لوگوں کے لئے بالوں کی وگ تیار کرتے ہیں 
اور مصیبت وآفت زدگان کو یہ وگ فراہم کرتے ہیں (جیسے 'راج ہیئر انٹرنیشنل' نامی کمپنی کینسر کے مریضوں کو وگ بطور عطیہ فراہم کرتی ہے۔ یہ کمپنی تقریبا 56 ممالک میں وگوں کو برآمد بھی کرتی ہے۔)
خواتین اور بچوں کے سر منڈوانے سے حاصل ہونے والے بالوں کا کافی بڑا حصہ وگ بنانے کے کام آتا ہے۔
تو ایسے وگ تیار کرنے والے خیراتی اداروں کے لئے اپنے بال مفت عطیہ کرنے کی اجازت بعض عرب علماء (شیخ عثیمین وغیرہ) دیتے ہیں بشرطیکہ وہ با اعتماد ہوں۔ 
جبکہ ناقابل اعتبار اور خوبصورتی کے لئے وگ تیار کرنے والے اداروں کے لئے بال عطیہ کرنے کی گنجائش ان کے یہاں بھی نہیں ہے
ہمارے ملک میں بالوں کو جمع کرنے والے رفاہی ادارے خال خال جبکہ مہنگے داموں میں اس کی خرید وفروخت کا دھندا روز افزوں ترقی پذیر ہے،
اس طرح یہ کارو بار شرعا باطل اور ناجائز ہے، اس کے ذریعہ حاصل شدہ آمدن بھی شرعا جائز نہیں، مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس ناجائز تجارت سے کنارہ کش ہوکے حلال اور پاک وطیب ذریعہ معاش ڈھونڈیں۔
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی 
٧ شوال ١٤٤٠هجري
https://saagartimes.blogspot.com/2019/06/blog-post_84.html


کیا یہ دعا کرنا جائز ہے کہ: یا اللہ مجھے اپنے اولیاء میں سے بنا دے

کیا یہ دعا کرنا جائز ہے کہ: "یا اللہ مجھے اپنے اولیاء میں سے بنا دے"

سوال: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان - آپکے ہر فرمان کو ہم سب سے مقدم جانتے ہیں- (جب بھی اللہ سے مانگو تو فردوس اعلی کا سوال کرو) اور اس قول کے درمیان تطبیق کیسے دیں: احمد سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے ابو سلیمان درانی سے کہا: کوئی آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ:یا اللہ مجھے اپنا دوست بنا لے؟ ابو سلیمان نے کہا: اگر اپنے اندر ان کی صفات پاتا ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ دعا مانگتے ہوئے زیادتی سے کام نہ لے۔ 
میں بہت گناہگار، نافرمان، اور غافل خاتون ہوں، اللہ ہی جانتا ہے کہ مجھ میں کتنے عیب ہیں، میری تمنا ہے کہ اللہ تعالی اپنی رحمت سے میری حالت بدل دے، میں تمنا کرتی ہوں کہ میں اللہ کے اولیاء میں شامل ہوجاؤں، تو کیااگر میں نے یہ دعا کی: "یا اللہ!مجھے اپنے اولیاء میں شامل کرلے" تو کیا یہ میری طرف سے دعا میں زیادتی شمار ہوگی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اول: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (تم جب بھی اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو، فردوس ہی جنت کا درمیانی، اور بلند ترین درجہ ہے، اور اسکے اوپر رحمن کا عرش ہے، اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں)بخاری: (7432) اور اس حدیث میں امت کیلئے بلند ہمت، اور بلند مقام مانگنے کی ترغیب دی گئی ، جیسے کہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے "تحفۃ الاحوذی" (7/201) میں ذکر کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ خطاب تمام امت کیلئے ہے، کوئی بھی اس سے مستثنی نہیں ہے۔ اس پر یہ بھی اشکال وارد نہیں ہونا چاہئے کہ گناہگار، اور نافرمان مسلمانوں کو انکے اعمال جنت کے اس بلند درجہ تک پہنچنے کے قابل نہیں بنا پائیں گے؛ کیونکہ جنت میں ہر کسی کا داخلہ اللہ کے فضل سے ہی ہوگا، اور اللہ کے فضل کو کوئی بھی چیز روک نہیں سکتی۔ 
دوم: کسی بھی مسلمان پر اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالی سے اسکے نیک اولیاء، مخلص صدّیقین، یا متقی و ابرار افراد میں شمولیت کی دعا کرے۔ جو کوئی کتاب وسنت میں وارد دعائیہ الفاظ پر غور کرے تو بہت سے ایسے الفاظ اسے ملیں گے جو اللہ تعالی سے دین کا بلند مرتبہ و منزل مانگنے پر مشتمل ہیں۔ اور اللہ تعالی نے اپنے ایسے بندوں کی مدح سرائی کی ہے جو اللہ تعالی سے پیشوائی کا سوال کرتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ترجمہ: اور جو دعا کرتے ہیں کہ: ہمارے پروردگار! ہمیں اپنی بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔ [الفرقان : 74] "اور دین میں امامت کا درجہ صدّیقین کے مراتب میں سب سے بلند درجہ ہے" "مفتاح دار السعادة" از: ابن قيم (1/81) شیخ سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: 
"[اس آیت کا مطلب ہے کہ:] اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بلند مرتبہ پر فائز فرما، جو کہ صدّیقین، اور اللہ تعالی کے نیک و کامل بندوں کا درجہ ہے، اور وہ ہے دین میں امامت، اور ہمیں متقی لوگوں کیلئے اقوال و افعال میں نمونہ بنا دے "انتہی" تيسير الكريم الرحمن " صفحہ: 578 اور سنت نبوی سے ثابت دعاؤں میں سے چند یہ ہیں: (... رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا ، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مِطْوَاعًا، لَكَ مُخْبِتًا ، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا ..) ترجمہ:"یا اللہ! اپنا بہت زیادہ شکر گزاربنا، تیرا ہی ذکر کرنے والا بنا، تجھ سے ڈرنے والابنا، تیری ہی اطاعت کرنے والا بنا، تیرے ہی سامنے بجھنے والا بنا، اور تیری ہی طرف رجوع کرنے والا بنا" اسے ترمذی (3551)نے روایت کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن اور صحیح ہے، اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اسی طرح سنن نسائی (1305) میں ہے کہ : (... اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ) ترجمہ: "۔۔۔ یا اللہ ہمیں ایمان کی دولت سے مزین فرما، اور ہمیں ہدایت یافتہ راہنما بنا" اسے البانی نے صحیح قرار دیا ہے اور صحیح ابن حبان (5/303) میں ہے کہ: (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لاَ يَرْتَدُّ ، وَنَعِيمًا لاَ يَنْفَدُ ، وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ) ترجمہ: یا اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوالی ہو جو منہ مت موڑے، ایسی نعمت کا سوالی ہوں جو کبھی ختم نہ ، اور بلند وبالا جنتوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت چاہتا ہوں۔ اس قسم کی دعائیں ہر مسلمانک کو کرنی چاہئیں، حتی کہ گناہگار کو بھی، کیونکہ اللہ تعالی ایک لمحے میں حالت بدل کر کسی اور حالت میں تبدیل سکتا ہے، بندوں کے دل رحمن کی انگلیوں میں ہیں، جیسے چاہتا ہے انہیں تبدیل کردیتا ہے۔ اللہ کے کتنے ہی نیک بندے ہیں جو کہ گناہگار، اور نافرمان تھے، اللہ تعالی نے انکی توبہ قبول کی اور وہ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اللہ کے اولیاء اور متقین میں شامل ہوگئے۔ مزید وضاحت کیلئے سوال نمبر: (117186) کا بھی مطالعہ کریں۔ 
سوم: ابو نعیم نے حلية الأولياء (9/265) میں روایت کیا ہے کہ احمد بن ابو الحواری کہتے ہیں کہ میں نے ابو سلیمان دارانی کو کہا: کیا ایک آدمی کیلئے جائز ہےکہ وہ کہے؟ یا اللہ! مجھے صدّیق بنادے۔ تو انہوں نے کہا:اگر اپنے اندر ان جیسی صفات دیکھے تو جائز ہے ورنہ زیادتی نہ کرے، کیونکہ دعا میں بھی زیادتی ہوتی ہے۔ یہ اثر ابو سلیمان دارانی (متوفی: 205)سے منقول ہے جو کہ ائمہ سلف میں شمار ہوتے ہیں، انکے اس قول کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا ، کیونکہ حجت وہی ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔ ائمہ میں سے ہمیں کسی کے بارے میں ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے ابو سلیمان دارانی کی موافقت کی ہو، چنانچہ اللہ تعالی سے ولایت طلب کرنا ہر مسلمان کا مقصود ہے، اور اس میں دعا میں ہونے والی زیادتی بھی نہیں ہے۔ اور دعامیں زیادتی کے ضوابط جاننے کیلئے سوال نمبر: (128084) کا مطالعہ کریں۔ ابو سلیمان دارانی کے قول کو صحیح معنی پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے، وہ یہ ہے کہ : درجۂ صداقت مانگنے والے کو صدّیقین کے اخلاق سے مزین ہونا چاہئے، چنانچہ دعا کیساتھ عمل بھی کرے۔ اللہ تعالی سے صدّیقین کا درجہ مانگنے میں ضمنی طور پر ایسے اعمال کرنے کی توفیق کا سوال بھی شامل ہے جن کے ذریعے انسان اس بلند درجے تک پہنچتا ہے۔ شیخ عبد الرحمن سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "عباد الرحمن کا اپنے پروردگار سے یہ مانگنا کہ انہیں متقی لوگوں کا امام بنا دے، اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ اللہ تعالی سے دین کی امامت کیلئے عظیم علوم و معارف، اعمال صالحہ، اور اعلی اخلاق جیسے ضروری امور کا بھی سوال کریں؛ کیونکہ انسان کی اللہ تعالی سے کسی بھی چیز کی دعا اس چیز کا موجب بننے والے اسباب کو بھی شامل ہوتی ہے، چنانچہ اگر کوئی جنت کا اللہ سے سوال کرے اور جہنم سے اللہ کی پناہ چاہے تو وہ بندہ ہر اس چیز کا سوال کرتا ہے جو اسے جنت کے قریب کردے، اور جہنم سے دو ر کردے "انتہی" القواعد الحسان في تفسير القرآن" صفحہ: 24 

Monday, 10 June 2019

جو شخص اس دنیا سے رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان بچاکر لیجائے گا

جو شخص اس دنیا سے رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان بچاکر لیجائے گا
میں ایک ضروری مسئلہ دریافت کرنا چاھتا ھوں۔ میں نے کئی مرتبہ تبلیغی حضرات کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ "حدیث میں آتا ھے کہ جو شخص اس دنیا سے رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان بچاکر لیجائے گا اللہ تعالی اسے اس دنیا سے دس گنا بڑی جنت عطا فرمائیں گے."
ایک مرتبہ میں بھی جماعت میں تھا تو ھمارے ایک ساتھی نے بھی یہ حدیث بیان کردی۔ جس ایک صاحب کہنے لگے کہ یہ حدیث نہیں ھے۔ یہ تو تبلیغ والے ایک دوسرے کی سنا سنی بیان کرنے لگے۔
اب براہ کرم مسٴلہ حل فرما ئیں کہ کیا واقعی یہ حدیث نہیں ھے؟ یا حدیث تو ھے پر "دس گنا" کی قید نہیں؟ یا یہ کسی صحابی وغیرہ کی تحقیق (قول) ھے؟
یا واقعی حدیث ھے؟ اگر حدیث ھے تو براے ٴکرم کتاب کا حوالہ دیں۔ اور ساتھ ہی راوی کا نام بھی بتادیں۔
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم
اس ترتیب کے ساتھ مضمون کہ جس کے دل میں ر ائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا، اللہ تعالی اُس کو اس دنیا سے دس گنا بڑی جنت عطا فرمائیں گے، احادیث میں تلاش بسیار کے بعد بھی نہیں مل سکا؛ البتہ دو مضمون کی حدیثیں الگ الگ ثابت ہیں:
(۱) بخاری شریف کی حدیث ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی وجہ سے اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن جنت میں داخل فرمائیں گے۔ عن أنس رضي اللّٰہ عنہ قال سمعتُ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا کان یوم القیامة، شفعت، فقلتُ: یا ربّ! ادخل الجنة من کا في قلبہ خردلة، فیدخلون۔ وفي روایة: فأقول: یا رب أمتي یا رب أمتي، فیقول: انطَلِق، فأخرج منہا من کان في قلبہ مثقال ذرة أو خردلة من ایمان، فأخرجہ، فأنطلقُ، فأفعلُ۔۔۔ (صحیح البخاري: کتاب التوحید، باب کلام الرب عز و جل یوم القیامة مع الأنبیاء و غیرہم، رقم: ۷۵۰۹، ۷۵۱۰)۔
(۲) مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جو شخص سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا، اُس کو اللہ تعالی اس دنیا سے دس گنا بڑی جنت عطا فرمائیں گے۔ عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: اني لأعلم آخر أہل النار خروجا منہا، و آخر أہل الجنة دخولاً الجنة۔۔۔۔۔ وفیہ: فیقول اللّٰہ تعالی لہ: اذہب، فادخل الجنة، فان لک مثل الدنیا و عشرة أمثالہا، أو ان لک عشرة أمثال الدنیا۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب آخر أہل النار خروجاً، رقم: ۳۰۸)