Saturday, 10 November 2018

پوری زندگی کبھی نماز نہ پڑھنے والے کا فدیہ

پوری زندگی کبھی نماز نہ پڑھنے والے کا فدیہ
سوال ]۲۸۵۷[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ زید نے اپنی پوری زندگی میں ایک وقت کی بھی نماز نہیں پڑھی، اسی حال میں اس کا انتقال ہوگیا اور زید نے کسی کو وصیت بھی نہیں کی فائتہ نمازوں کے فدیہ کے بارے میں اور زید کے ورثاء اس کی تمام نمازوں کا فدیہ دینا چاہتے ہیں، تو اب یہ فدیہ کس مقدار سے اور کن کن لوگوں کو دیا جائے گا، اس کا بہترین مصرف کون ہوگا اگر وہ طالب علم کو دینا چاہیں تو دے سکتے ہے یا نہیں؟ اگر دے سکتے ہیں تو کس اعتبار سے دیں گے؟ اس مسئلہ کی صاف وضاحت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
المستفتی: عطاء الرحمن ندیاوی، متعلم مدرسہ امدادیہ مرادآباد
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر میت مذکور نے وصیت نہیں کی ہے تو ورثاء اپنے طور پر تبرعاً فدیہ ادا کر سکتے ہیں۔
إذا مات الرجل وعلیہ صلوات فائتہ (إلی قولہ) و إن لم یوص لورثتہ وتبرع بعض الورثۃ یجوز الخ (فتاوی عالمگیري، کتاب الصلاۃ، الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت، زکریا۱/۱۲۵، جدید زکریا دیوبند ۱/۱۸۴، ہکذا في مراقي الفلاح، کتاب الصلاۃ، فصل في اسقاط الصوم والصلاۃ، جدید دارالکتاب دیوبند ۴۳۸، قدیم۲۳۸)
ہر نمازکے فدیہ کی مقدار ایک صدقۂ فطر یا اس کی قیمت ہے اور قیمت دینا زیادہ افضل ہے اور نماز پانچ فرض اور ایک وتر ہے، کل ملاکر روزانہ چھ نمازیں ہوتی ہیں۔
وکذا یخرج لصلوۃ کل وقت من فرض من الیوم واللیلۃ حتی الوتر؛ لأنہ فرض عملي عند الإمام-إلی قولہ- والصحیح أنہ کل صلوۃ فدتہ ہينصف صاع من بر (إلی قولہ) أو قیمتہ وہي أفضل لتنوع حاجات الفقیر الخ (مراقي الفلاح، کتاب الصلاۃ، فصل في اسقاط الصلوۃ والصوم، جدید دارالکتاب دیوبند ۴۳۸، قدیم۲۳۸، ہکذا في عالمگیري، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، زکریا۱/۱۲۵، جدید زکریا دیوبند۱/۱۸۴)
فقراء ومساکین اس کے مستحق ومصرف ہیں۔ (مستفاد: کفایت المفتی قدیم ۴؍۱۷۴، جدید زکریا دیوبند ۴؍۱۸۳، جدید زکریا مطوف۶؍۸۱)
اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْعَامِلِیْنَ عَلَیْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِیْ الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاِبْنِ السَّبِیْلِ فَرِیْضَۃً مِنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ [سورۃ التوبہ:۶۰]
مصرف الزکوۃ والعشر ہو فقیر، ومسکین، وتحتہ في الشامي وہو مصرف أیضا لصدقۃ الفطر والکفارۃ، والنذر وغیر ذالک من الصدقات الواجبۃ۔(در مختار مع الشامي، کتاب الوکاۃ، باب المصرف، کراچي ۲/۳۳۹، زکریا ۳/۲۸۳)

طلبہ کو دینا بھی جائز اور افضل ہے ؛ البتہ ذیل کے طلبہ کو دینا ممنوع ہے۔
(۱) سید ہوں (۲) مستطیع صاحب نصاب ہوں (۳) وہ نابالغ طلبہ جن کے والدین مالک نصاب ہوں۔ (مستفاد: فتاوی رحیمیہ قدیم ۲؍۱۰، جدید زکریا ۷؍۱۷۲)
لاتدفع إلی غني (قولہ) ولاإلی ولد غني إذاکان صغیرا (وقولہ) ولایدفع إلی بني ہاشم الخ (جوہرۃ، کتاب الزکوۃ، باب من یجوز دفع الصدقۃ إلیہ جدید، دارالکتاب دیوبند ۱/۱۵۷ قدیم ۱/۱۵۹)
اگر تمام نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو تو تخمینہ لگا کر ادا کیا جائے۔ (مستفاد: کفایت المفتی قدیم ۴؍۱۶۸، جدید زکریا ۴؍۱۷۸، جدید زکریا مطول۶؍۳۸۳-۳۸۴)
من لایدري کمیۃ الفوائت یعمل بأکبر رأیہ، فإن لم یکن رأی یقضحتی یتیقن أنہ لم یبق علیہ شیئ۔ (حاشیۃ الطحطاوي علی المراقي، قبیل باب إدراک الفریضۃ، دارالکتاب دیوبند ۴۴۷، حاشیۃ چلپي علی التبیین، باب قضاء الفوائت قدیم ۱/۱۹۰، جدید زکریا ۱/۴۶۸)
اگر اتنی گنجائش نہ ہو تو اس کی ادائے گی کی ایک صورت یہ ہے کہ جتنی گنجائش ہے کسی فقیر کو اس کا مالک بنادیا جائے، پھر فقیر وارث کو ہبہ کردے، پھر وارث فقیر کو مالک بنادے پھر فقیر مالک کو ہبہ کردے اور وارث اس کو قبضہ کر کے پھر فقیر کو مالک بنادے، اس طرح کرتے جائیں، یہاں تک کہ تعدا د پوری ہوجائے، امید ہے کہ میت کی نمازیں اس سے معاف ہوجائیں گی۔ (مستفاد: کفایت المفتی قدیم ۴؍۱۴۳، جدید زکریا ۴؍۱۵۶، جدید مطول ۶؍۱۱۶)
وإن لم یترک مالاً یستقرض ورثتہ نصف صاع ویدفع إلی مسکین ثم یتصدق المسکین علی بعض ورثتہ، ثم یتصدق ثم وثم حتی یتم لکل صلوۃ الخ ( فتاوی عالمگیري، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، زکریا ۱/۱۲۵، جدید زکریا دیوبند ۱/۱۸۴، نور الإیضاح، کتاب الصلاۃ، باب صلوۃ المریض، فصل في اسقاط الصلوۃ والصوم،امدادیۃ دیوبند ۱۰۶) 
فقط والله سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۱۳؍ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ
(الف فتویٰ نمبر:۲۳ ؍۶۲۳)
ناقل نورالحسن پرتاپ گڑھی
.......
سوال # 47308
میرے والد اور والدہ بیمار ہیں اور وہ روزہ نہیں رکھ سکتے تو اب مجھے اس روزے کے بدلے میں جو رقم نکالنی ہوتی ہے وہ کیا کہلاتی ہے اور اسے للہ نکالی جاتی ہے اور کیا حساب ہے اس کا ؟براہ کرم، جلد جواب دیں۔
Published on: Sep 18, 2013
جواب # 47308
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1231-828/L=11/1434-U
اگر آدمی اس عمر کو پہنچ جائے کہ وہ سال کے چھوٹے دنوں میں بھی روزہ نہیں رکھ سکتا تو روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے جو رقم نکالی جاتی ہے وہ فدیہ کی رقم کہلاتی ہے اور فدیہ کی مقدار نصف صاع (تقریباً پونے دو کلو) گندم یا اس کی قیمت ہے، واضح رہے کہ فدیہ کا حکم اسی صورت میں ہے جب کہ آدمی پر روزہ کی قضا ممکن نہ ہو یعنی وہ اتنا معذور ہو کہ سال کے چھوٹے دنوں میں بھی روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو۔ اگر آپ کے والدین اس حالت میں ہیں کہ وہ سال کے چھوٹے دنوں میں روزہ کی قضا کرسکتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ روزہ کی قضا کریں ان کے لیے فدیہ دینے کا حکم نہیں ہے۔ اور اگر اتنے معذور وبیمار ہوچکے ہیں کہ وہ سال کے چھوٹے دنوں میں بھی روزہ نہیں رکھ سکتے تو ان کے لیے فدیہ دینے کی اجازت ہوگی، فدیہ دینے کے بعد بھی اگر روزہ رکھنے کی طاقت ہوجاتی ہے تو فدیہ دینا لغو ہوجائے گا اور روزہ کی قضا لازم ہوجائے گی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

=============
سوال # 148023
قضا نمازوں کے حوالے سے سعودی مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کا فتوٰی ملاحظہ کیجیے :علماء کے صحیح ترین قول کے مطابق جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے پر اس کی قضا واجب نہیں ہے ۔ کیونکہ جان بوجھ کر نماز چھوڑنا کفر ہے جو آدمی کو اسلام سے نکال کر زمرہ کفار میں داخل کر دیتا ہے ۔ اور کافر پر حالت کفر میں چھوڑے ہوئے کاموں کی قضا نہیں ہوتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے :آدمی اور کفر و شرک کے درمیان نماز کو چھوڑ دینے (کا فرق) ہے ۔(صحیح مسلم الإیمان (82),سنن الترمذی الإیمان (2620),سنن أبو داود السنة (467\n,سنن ابن ماجہ إقامة الصلاة والسنة فیہا (107,مسند أحمد بن حنبل (3/370),سنن الدارمی الصلاة (1233)نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام قبول کرنے والوں سے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ وہ سابقہ نمازیں دہرائیں جو ان پر حالتِ کفر میں فرض تھیں نہ ان کے بعد صحابہ نے ان لوگوں سے یہ مطالبہ کیا جو مرتد ہونے کے بعد دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے ۔بھول جانے ،سوئے رہنے کی وجہ سے اور بے ہوشی کی وجہ سے رہ جانے والی نمازوں کو قضا کیا جائے گا۔بہت سے لوگ سابقہ نمازوں کی قضا کے خوف سے نماز کی باقاعدہ ادائیگی شروع نہیں کرتے ۔دین آسان ہے ، اسے اسی طرح رہنا چاہیے جیسے اللہ کے نبی ﷺ نے پیش کیا تھا۔ ادھر تو یہ حال ہے کہ کوئی مسجد میں چلا جائے تو آسانی پیدا کرنے کی بجائے اسے کہا جاتا ہے کہ میاں پچھلے بیس تیس برس کدھر تھے ، سابقہ نمازوں کی گنتی پوری کرو، پھر آگے چلنا۔ یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے کہ توبہ کرنے والے انسان کو حوصلہ دینے کی بجائے الٹا پچاس سال کی نمازوں کی قضا کا مژدہ سنا دیا جائے ۔فرمان رسول ﷺ ہے :\"بَشِّرُوا، وَلاَ تُنَفِّرُوا خوشخبری سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ\"یَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوالوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو مشکلات نہ بناؤصحیح بخاری:قضا نمازوں کی ادائیگی یا عدم ادائیگی کا مسئلہ کفر اسلام کا مسئلہ نہیں ہے ۔ صحیح قول یہی ہے کہ ان کی ادائیگی ضروری نہیں۔\nاللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِکَ یُبَدِّل اللَّہ سَیِّئَاتہمْ حَسَنَات (الفرقان:70) الا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد) توبہ کرے اور ایمان لا کر عملِ صالح کرنے لگے ، ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکی سے بدل دے گا۔اور فرمایا:وَإنّی لَغَفَّار لمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَملَ صَالحًا ثُمَّ اہْتَدَی (طہ:82)، جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، پھر سیدھا چلتا رہے ، اُس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں اگر کسی شخص نے شرعی عذر کی بنا پر نماز ترک کی مثلا نیند یا بھول کر تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اسے یاد آئے اور سویا ہوا بیدار ہو تو اسی وقت نماز ادا کر لے ، اس کے علاوہ کوئی اور کفارہ نہیں۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :\" جو کوئی بھی نماز بھول جائے یا اس سے سویا رہے تو جب اسے یاد آئے وہ نماز ادا کر لے ، اس کا کفارہ یہی ہے \"صحیح بخاری حدیث نمبر :572 صحیح مسلم:1564،کوئی فدیہ چھوڑی ہوئی نماز کے لیے نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ یہ بات دین میں ثابت نہیں ہے ۔جس نے ایک یا زیادہ فرض نمازیں بغیر کسی عذر کے ترک کردیں اسے اللہ تعالی کے ہاں سچی توبہ کرنی چاہیے ، اور اس کے ذمہ کوئی قضاء اور کفارہ نہیں، کیونکہ فرضی نماز جان بوجھ کر ترک کرنا کفر ہے ۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :\" ہمارے اور ان کے مابین عہد نماز ہے ، جس نے بھی نماز ترک کی اس نے کفر کیا \"مسند احمد حدیث نمبر ( 22428 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 2621 ) سنن نسائی حدیث نمبر ( 462 )۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "آدمی اور شرک اور کفر کے مابین نماز کا ترک کرنا ہے \"صحیح مسلم حدیث نمبر ( 242 )۔ اور اس میں سچی اور پکی توبہ کے علاوہ کوئی کفارہ نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
Published on: Apr 9, 2017 
جواب # 148023
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 734-700/sn=7/1438
استفتاء میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی طرف منسوب جو فتوی نقل کیا گیا ہے، ہمارے نزدیک وہ صحیح نہیں ہے، جس شخص کی کوئی فرض یا واجب نماز چھوٹ جائے یا قصدا سستی وتکاسل کی وجہ سے چھوڑدے اس پر اس کی قضاء شرعاً واجب ہے، چنانچہ البحر الرائق میں ہے: فالأصل فیہ أن کل صلاة فاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبہا فیہ فإنہ یلزم قضاوٴہا، سواء ترکہا عمداً أو سہواً أو بسبب نوم وسواء کانت الفوائت قلیلةً أو کثیرةً الخ (البحر الرائق: ۲/ ۱۴۰، ط: زکریا)
یہ صرف امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نہیں؛ بلکہ امام شافعی رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی قضاء کے نفسِ وجوب میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، یعنی ان تمام حضرات کے نزدیک عمداً کی صورت میں بھی قضا واجب ہے؛ ہاں تفصیلات میں ان حضرات ائمہ کے درمیان قدرے اختلاف ہے۔ (دیکھیں: المدونة الکبری: ۱/ ۴۴۳، باب شروط الصلاة، بیروت، فقہی مقالات: ۴/۱۳، ط: نعیمیہ) یہاں تک کہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی عمد کی صورت میں وجوبِ قضا کے سلسلے میں جمہور کے ساتھ ہیں چنانچہ فتاوی ابن تیمیہ میں ہے: ومن علیہ فائتة فعلیہ أن یبادر إلی قضائہا علی الفور سواء فاتتہ عمداً أو سہواً عند جمہور العلماء کمالک وأحمد وأبي حنیفة وغیرہم وکذلک الراجح في مذہب الشافعي أنّہا إذا فاتت عمدًا کان قضاوٴہا واجبًا علی الفور (فتاوی ابن تیمیہ: ۲۳/ ۲۵۹، ط: مجمع الملک، سعودی عربیہ)
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ شاملِ استفتاء فتوے میں جو یہ دعوی کیا گیا ہے کہ علماء کے صحیح ترین قول کے مطابق جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے پر اس کی قضا واجب نہیں ہے، یہ دعویٰ خلافِ حقیقت ہے اور عدمِ وجوب کا قول صحیح ہو بھی کیسے سکتا ہے جب کہ یہ بات طے ہے کہ جو چیز دلیل قطعی سے ثابت ہو، اس کے اسقاط کے لیے بھی کم ازکم اس درجے کی دلیل ضروری ہے اور زیر بحث مسئلے میں اسقاط کے لیے قطعی نص تو کجا کوئی کمزور نص بھی نہیں ہے۔ مذکور فی الاستفتاء فتوے میں سب سے بڑی دلیل یہ پیش کی گئی ہے کہ عمداً ترکِ صلات کفر ہے اورکافر پر حالتِ کفر میں چھوڑے ہوئے کاموں کی قضا نہیں ہوتی، اس سلسے میں عرض ہے کہ اکر کوئی شخص سستی وکاہلی کی وجہ سے عمداً نماز ترک کردے جمہور علماء کے نزدیک وہ فاسق ہے کافر نہیں ہے، صرف امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی ایک روایت اور معدودے چند لوگوں کا یہ قول ہے کہ وہ کافر ہوجاتا ہے، ظاہر ہے کہ جمہور کے بالمقابل یہ قول شاذ اور مرجوح قرار پائے گا؛ لہٰذا یہ استدلال مرجوح اور نادرست ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں: شرح مہذب: ۳/ ۱۶، فروع فی مذاہب العلماء، ط: دار الکفر، المغني: ۲/ ۲۹۸، ط: بیروت) عمداً ترک صلات کفر ہے، اس پر دلیل کے طور پر جن نصوص کا ذکر کیا گیا ہے، یہ استدلال انتہائی کمزور ہے؛ کیوں کہ شراح حدیث کے مطابق جمہور علماء کے نزدیک اس طرح کے نصوص اس صورت پر محمول ہیں جب کہ نماز ترک کرے اس بنا پر کہ وہ نماز کو فرض نہیں سمجھتا یا فرض تو سمجھتا ہے لیکن اس کے ساتھ استہزاء کرتا ہے یا پھر ان نصوص کے معنی یہ ہیں کہ جس شخص نے نماز عمداً ترک کیا اس نے کافروں والا عمل کیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیں: فتح الباری: ۲/ ۳۲،ط: دار المعرفة، مرقاة: ۲/ ۵۱۲،ط: دار الفکر) وغیرہ۔ اور فتوے میں یسر اور عسر کی جو بحث کی گئی ہے وہ بھی بے جوڑ اور نادرست ہے، کیوں کہ تمام نماز میں علی الفور قضاء کرنا واجب ہو ایسا نہیں؛ بلکہ آدمی حسب سہولت ادا کرے گا، اگر اخیر عمر تک نہ کرسکے تو فدیہ کی وصیت کرجائے اور یہ استدلال بھی صحیح نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام قبول کرنے والوں سے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ وہ سابقہ نمازیں دہرائیں الخ یہ استدلال اس لیے صحیح نہیں کہ کفار حالت کفر میں فروع کے مخاطب ہی نہیں ہوتے؛ لہٰذا ان پر نماز فرض نہیں تھی تو مطالبہ کی بات بے محل ہے، الغرض اگر کوئی شخص عمداً یا سہواً نماز ترک کردے تو اس پر اس کی قضاء بہرحال واجب ہے؛ البتہ اگر کسی شخص نے بہت سی نماز یں عمداً یا سہواً چھوڑی ہے تو وہ اپنی معاشی تگ ودو کے ساتھ حسب سہولت تھوڑی تھوڑی قضا کرتا رہے، اگر بالفرض اخیر عمر تک ادا نہ کرسکے تو فدیہ کی وصیت کرجائے۔

چھوٹ جانے والی نمازوں کا فدیہ: https://www.onlinefatawa.com/fatawa/view_scn/21287


Friday, 9 November 2018

اللہ کہاں ہے؟

اللہ کہاں ہے؟

حدیث کی تحقیق مطلوب ہے
-----------------

الجواب وباللہ التوفيق:
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، ‏‏‏‏‏‏اخبرنا الوليد بن ابي ثور، ‏‏‏‏‏‏عن سماك، ‏‏‏‏‏‏عن عبد الله بن عميرة، ‏‏‏‏‏‏عن الاحنف بن قيس، ‏‏‏‏‏‏عن العباس بن عبد المطلب، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ "كنت في البطحاء في عصابة فيهم رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏فمرت بهم سحابة، ‏‏‏‏‏‏فنظر إليها، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ ما تسمون هذه؟،‏‏‏‏ قالوا:‏‏‏‏ السحاب، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ والمزن،‏‏‏‏ قالوا:‏‏‏‏ والمزن، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ والعنان، ‏‏‏‏‏‏قالوا:‏‏‏‏ والعنان،‏‏‏‏ قال ابو داود:‏‏‏‏ لم اتقن العنان جيدا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ هل تدرون ما بعد ما بين السماء والارض؟ قالوا:‏‏‏‏ لا ندري، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ إن بعد ما بينهما:‏‏‏‏ إما واحدة، ‏‏‏‏‏‏او اثنتان، ‏‏‏‏‏‏او ثلاث وسبعون سنة، ‏‏‏‏‏‏ثم السماء فوقها كذلك حتى عد سبع سماوات، ‏‏‏‏‏‏ثم فوق السابعة بحر بين اسفله واعلاه مثل ما بين سماء إلى سماء، ‏‏‏‏‏‏ثم فوق ذلك ثمانية اوعال بين اظلافهم وركبهم مثل ما بين سماء إلى سماء، ‏‏‏‏‏‏ثم على ظهورهم العرش ما بين اسفله واعلاه مثل ما بين سماء إلى سماء، ‏‏‏‏‏‏ثم الله تبارك وتعالى فوق ذلك".
سنن ابي داود :حدیث نمبر: 4723
باب في الجهمية

عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا ان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا: 
”تم اسے کیا نام دیتے ہو؟“ 
لوگوں نے عرض کیا: «سحاب» (بادل)، 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور «مزن» بھی“ 
لوگوں نے کہا: ہاں «مزن» بھی، 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور «عنان» بھی“ 
لوگوں نے عرض کیا: اور «عنان» بھی، 
(ابوداؤد کہتے ہیں: «عنان» کو میں اچھی طرح ضبط نہ کرسکا) 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے؟“ 
لوگوں نے عرض کیا: ہمیں نہیں معلوم، 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے، پھر اسی طرح اس کے اوپر آسمان ہے“ 
یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنائے: ”پھر ساتویں کے اوپر ایک سمندر ہے جس کی سطح اور تہہ میں اتنی دوری ہے جتنی کہ ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ جنگلی بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی لمبائی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی دوری ہے، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے، جس کے نچلے حصہ اور اوپری حصہ کے درمیان کی مسافت اتنی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے“۔
سنن الترمذی/تفسیر الحاقة ۶۷ (۳۳۲۰)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ۱۳ (۱۹۳)، (تحفة الأشراف: ۵۱۲۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۰۶، ۲۰۷) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن عمیرہ لین الحدیث ہیں)
والحديث صالح للاحتجاج

والله اعلم
شكيل منصور القاسمي

میری اجازت کے بغیر کہیں گئی تو تجھے تین طلاق

“میری اجازت کے بغیر کہیں گئی تو تجھے تین طلاق“
کے ابطال کی صورت
-----------------
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
امید کرتا ہوں کہ مزاج بخیر ہوگا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں: 
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم میری اجازت کے بغیر کہیں جاؤگی تو تم کو تین طلاق. 
اس کے تقریبا دومہینے کے بعد وہ شوہر سے اجازت لیکر باہر گئی. اس کے ایک دن کے  بعد وہ بغیر اجازت کے باہر چلی گئی. 
تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی. 
محمود عالم

-----------------

الجواب وباللہ التوفيق: 
شوہر کا قول “اگر تم میری اجازت کے بغیر کہیں جائوگی تو تم کو تین طلاق“ عمومی تعلیق ہے 
جب بھی بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر کہیں جائے گی اسے طلاق مغلظہ پڑجائے گی 
شوہر کی اجازت سے صرف ایک بار کی خصوصی اجازت سے باہر چلی جانے کے بعد یہ عمومی تعلیق باطل نہ ہوگی 
بلکہ اپنے حال پہ باقی رہے گی 
وقوع طلاق سے بچنے کی ایک ہی شکل ہے کہ “شوہر تعلیق کے بعد بیوی سے یہ کہدے بشرطیکہ بیوی ابھی اس کی اجازت کے بغیر کہیں نہ گئی ہو کہ تم جب بھی میری اجازت کے بغیر کہیں جانا چاہو تو جاسکتی ہو“
یہ کہ دینے سے تعلیق ثلاثہ باطل ہوجائے گی 
وگرنہ وہ باقی رہے گی 
اور بیوی جب بھی بلا اذن شوہر کہیں جائے گی مطلقہ بائنہ کبری ہوجائے گی 
فتاوی ہندیہ میں ہے:
إذا قال لامرأته أنت طالق إن خرجت من هذه الدار إلا بإذني أو قال إلا برضائي أو قال إلا بعلمي أو قال لها أنت طالق إن خرجت من هذه الدار بغير إذني فهما سواء لأن كلمة إلا وغير للاستثناء فالجواب فيهما أن بالإذن مرة لا تنتهي اليمين حتى لو أذن لها بالخروج مرة وخرجت ثم خرجت بعد ذلك بغير إذنه طلقت ۔۔۔ والحيلة في عدم الحنث أن يقول أذنت لك بالخروج في كل مرة أو يقول أذنت لك كلما خرجت فحينئذ لا يحنث وكذا إذا قال كلما شئت الخروج فقد أذنت لك أو أذنت لك بالخروج أبدا أو أذنت لك الدهر كله فإن نهاها بعد ذلك نهيا عاما فعند محمد رحمه الله تعالى يصح نهيه كذا في السراج الوهاج۔
وفی الشامیۃ (۷۵۹/۳): مطلب لا تخرجي إلا بإذني ۔۔۔ وإنما شرط تكراره لأن المستثنى خروج مقرون بالإذن فما وراءه داخل في المنع العام لأن المعنى لا تخرجي خروجا إلا خروجا ملصقا بإذني۔
الھندیۃ (۴۳۹/۱) کتاب الطلاق، الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃإن وإذا وغیرھما
واللہ اعلم بالصواب 
شکیل منصور القاسمی
<https://www.onlinefatawa.com/fatawa/view_scn/12241> 

طلاق معلق کی ایک صورت کا حکم


ایمان واسلام کے مابین فرق، سند حدیث میں نسیان وخطاء کے صدور پہ مواخذہ نہیں

ایمان واسلام کے مابین فرق، 
سند حدیث میں نسیان وخطاء کے صدور پہ مواخذہ نہیں!
حضور دو تحقیقی مسائل میں رہنمائی جلد درکار ہے۔۔۔ امید ہے ہمیشہ کی طرح حوالہ جات کے ساتھ مکمل رہنمائی فرمائیں گے:
1: مشہور حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ "احفظ اللہ یحفظک احفظ اللہ تجدہ تجاھک الخ" میں حضرت ابن عباس کی عمر کیا تھی؟ 
اگر کسی نے اس میں صحابی کی عمر غلط بیان کر دی جبکہ حدیث ٹھیک بیان کی تو کیا اس کا یہ عمل "من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار" والی حدیث میں داخل ہوگا؟
2: اگر ایمان اور اسلام میں فرق بیان کیا جائے تو قرآن پاک کی آیات "یا ایھا الذین آمنو امنو باللہ ورسولہ الآیتہ" اور "قالت الاعراب امنا قل لم تومنو ولکن قولو اسلمنا الآیتہ " کو بیان کردیا جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟ نیز قرآن و حدیث سے ایمان اور اسلام کا صحیح مفہوم بھی واضح فرما دیں کیونکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث جبرائیل سے تو ایمان اور اسلام بظاہر ایک ہی نظر آتے ہیں جبکہ قرآن پاک کی مندرجہ بالا آیات بظاہر اس سے متعارض ہیں۔ حوالہ جات کے ساتھ مکمل تفصیل فراہم فرمادیں۔ اللہ پاک آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے.

الجواب وباللہ التوفیق: 
اللہ تعالی کی شفقت و مہربانی ہے کہ اس نے ہم لوگوں سے بھول چوک میں کئے گئے اعمال پہ مواخذہ سے در گزر فرمادیا ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَال: (إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ)[268] حديث حسن ،رواه ابن ماجه والبيهقي وغيرهما.
جان بوجھ کر اور قصد وارادہ کے ساتھ کئے گئے اعمال پہ جزاء وسزا کا ترتب ہوتا ہے 
جھوٹ بولنا ویسے بھی حرام ہے، لیکن جان بوجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا گناہ کبیرہ اور حرام ہونے کے ساتھ موجب دخول جہنم بھی ہے:
عن المغيرة رضي اللہ عنه، قال: سمعت النبي صلى اللہ عليه وسلم يقول: «إن كذبا علي ليس ككذب على أحد، من كذب علي متعمدا، فليتبوأ مقعده من النار.(صحیح البخاري:۱؍۱۷۲، رقم الحدیث:۱۲۹۱،کتاب الجنائز، باب مایکرہ النیاحۃ علی المیت، ط:البدر - دیوبند)

وعن أسامة بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: "من تقول علي مالم أقل فليتبوأ مقعده من النار" . وذلك أنه بعث رجلا فكذب عليه فدعا عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجد ميتا وقد انشق بطنه ولم تقبله الأرض . رواهما البيهقي في دلائل النبوة
ترجمہ:
اور حضرت اسامہ ابن زید رضی اللہ عنہ ہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص (قصداً) میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے جس کو میں نے نہ کہا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تیار سمجھے اور اس ارشاد گرامی کا بس منظریہ ہے کہ (ایک مرتبہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو (کچھ لوگوں کی طرف یا کسی شخص کے پاس) بھیجا تھا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی جھوٹی بات بنا کر کہی، (جب) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم (پر یہ منکشف ہوا یا کسی ذریعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر ہوئی تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے حق میں بددعا فرمائی، چنانچہ وہ شخص (ایک دن) اس حال میں مردہ پایا گیا کہ اس کا پیٹ پھٹ گیا تھا اور (جب اس کو دفن کیا گیا تو) زمین نے اس کو قبول نہیں کیا۔ دونوں روایتوں کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس سے حدیث مروی ہے:
((يَا غُلَامُ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ))
[رواه الترمذي  7957 (صحيح الجامع) وقال: حديث حسن صحيح]

جواب 2
لغوی اعتبار سے ایمان واسلام کے مفہوم میں فرق ہے 
اسی فرق کے پیش نظر حدیث جبریل میں دونوں کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے،
اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات وصفات کے موافق اور اس کے انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام کو اور اللہ اور اس کے پاس سے آنے والی تمام خبروں کو رضاء ورغبت کے ساتھ دل سے مان لینے اور زبان سے اقرار کرلینے کانام ایمان ہے،
شرح الفقہ الاکبر میں ہے: والإیمان فی الشرع ہو الإقرار باللسان والتصدیق بالجنان بأن اللہ تعالیٰ واحد لاشریک لہ موصوف بصفاتہ الذاتیۃ والفعلیۃ (إلی قولہ) لأن من قال آمنت باللہ وبماجاء من عند اللہ وآمنت برسول اللہ وبماجاء من عند رسول اللہ فقد آمن بجمیع ما یجب الإیمان بہ فہو مؤمن‘‘ (ص:۱۴۸) 
بغیر چوں وچرا احکام خدا وندی پر راضی ہوجانے اور فرائض ومحرمات کو بلا طعن واعتراض قبول کرلینے کا نام اسلام ہے 
شرح الفقہ الاکبر میں ہے:
فمعنی الإسلام ہو الرضی بحکم اللہ تعالی بکون بعض الأشیاء فرضا وبکون بعض الأشیا حلالاً وبکون بعض الأشیاء حراماً بلا اعتراض واستقباح‘‘۔( ص:۱۵۱)
لیکن اس جزوی فرق کے علی الرغم اسلام وایمان باہم لازم ملزوم ہیں۔
یعنی شرعاً ایمان بغیر اسلام کے اور اسلام بغیرایمان کے معتبر نہیں، یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محض دل میں تصدیق کرلینا شرعاً اس وقت تک معتبرنہیں ہے جب تک کہ زبان سے اس تصدیق کا اظہاراور اطاعت وفرمانبرداری کا اقرارنہ کرے، اسی طرح زبان سے تصدیق کا اظہار یا فرمانبرداری کا اقرار اس وقت تک معتبر نہیں ہے جب تک کہ دل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق نہ ہو۔
حضرت علامہ انور شاہ صاحب کشمیری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایمان اور اسلام کی مسافت ایک ہے، فرق صرف ابتداء اور انتہاء کا ہے، یعنی ایمان قلب سے شروع ہوتاہے اور ظاہرپر پہنچ کر مکمل ہوتا ہے اور اسلام ظاہر عمل سے شروع ہوتا ہے اور قلب پر پہنچکر مکمل سمجھا جاتا ہے دونوں ایک دوسرے کے بغیر معتبر نہیں ہیں (ماخوذ از معارف القرآن)
مولانا عبد الماجد دریابادی رحمہ اللہ، آیت:
قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
الحجرات: 14
ترجمہ:
(یہ بعض) گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ کہہ دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے ہو، یہ کہو کہ ہم مطیع ہوگئے ہیں، اور ایمان تو ابھی تمہارے دلوں میں داخل ہوا نہیں ہے اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مان لو تو وہ تمہارے اعمال میں سے ذرا بھی کم نہ کرے گا بیشک اللہ بڑا مغفرت والا ہے، بڑا رحم والا ہے،۔
کے ذیل میں لکھتے ہیں:
"محققین اہل سنت نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ اسلام عام ہے اور ایمان اس سے خاص تر ہے۔ وقد استفید من ھذہ الایۃ الکریمۃ ان الایمان اخص من الاسلام کما ھو مذھب اھل السنۃ والجماعۃ (ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ) ابراہیم نخعی اور قتادہ اور ابن جریر نے بخلاف امام بخاری کے آیت سے یہی استدلال کیا ہے کہ جن لوگوں کا یہاں ذکر ہے۔ وہ منافق نہ تھے، تھے مسلمان ہی، اگرچہ ان کا ایمان کمزور تھا۔ دل ھذا علی ان ھؤلاء الاعراب المذکورین فی ھذہ الایۃ لیسوا بمنافقین وانما ھم مسلمون لم یستحکم الایمان فی قلوبھم فادعوا لانفسھم مقامااعلی مماوصلوا الیہ فادبوا فی ذلک وھذا معنی قول ابن عبا سرضی اللہ عنہ وابرھیم النخعی وقتادۃ واختارہ ابن جریر وانما قلنا ھذا لان البخاری (رح) ذھب الی ان ھؤلاء کانوا منافقین یظھرون الایمان ولیسوا کذلک (ابن کثیر) کوئی شخص اسلام کا دعوی کررہا ہو تو جزم کے ساتھ اس کی تکذیب (جیسی کہ یہاں وارد ہوئی ہے) کا حق صرف حق تعالیٰ عالم الغیب ہی کو پہنچتا ہے۔ ورنہ بندوں کا کام تو عام طور پر اس مدعی کے بیان کو تسلیم ہی کرلینا ہے۔ اشارۃ ان عمل القلب غیر معلوم واجتناب الظن واجب وانما یحکم بالظاھر فلایقال لمن یفعل فعلا ھو مراثی ولا لمن اسلم ھو منافق ولکن اللہ خبیر بما فی الصدور اذا قال فلان لیس بمومن فحصل الجزم (کبیر) آیت سے ظاہر ہوگیا کہ اسلام اور ایمان کے دو الگ الگ مفہوم ہیں۔ اسلام صرف ایک ضابطہ کی چیز ہے۔ جس کا تعلق قول اور ظاہر سے ہے۔ ایمان اس کے برعکس ایک باطنی حقیقت ہے جس کا تعلق قلب کی تصدیق سے ہے۔ فاخبران حقیقۃ الایمان التصدیق بالقلب وان الاقرار باللسان واظھار مرافعہ بالابدان لایکون ایمانا دون التصدیق بالقلب والاخلاص (معالم)"
(تفسیر ماجدی ،سورہ الحجرات ،آیت نمبر 14)
واللہ اعلم بالصواب 
شکیل منصور القاسمی

Tuesday, 6 November 2018

کیا دیوالی کے موقع پر غیر مسلم لوگ کو مبارک بادی دینا درست ہے؟

کیا دیوالی کے موقع پر غیر مسلم لوگ کو مبارک بادی دینا درست ہے؟
سوال # 146186
جزاکم اللہ حضرت جوابات دینے کے لئے،
(۱) کیا دیوالی کے موقع پر غیر مسلم لوگ کو مبارک بادی دینا درست ہے؟
وہ لوگ عید کی مبارک بادی دیتے ہیں۔ 
(۲) کیا دیوالی کی مٹھائی وغیرہ لینا اور کھانا جائز ہے؟
(۳) کیا پٹاخے کا کاروبار کرنا اور بیچنا جائز ہے؟
مجھے ان سوال کے جوابات با حوالہ مطلوب ہیں۔
نوازش و احسان ہوگا جزاکم اللہ 
Published on: Nov 20, 2016
جواب # 146186
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 178-157/M=2/1438
(۱) اسلامی تہوار خوشی منانے کا پاکیزہ طریقہ ہے وہ اس لائق ہے کہ اس کی مبارکبادی دی جائے، اگر غیر مسلم لوگ عید کی مبارکباد دیتے ہیں تو دینے دیں، مسلمانوں کو غیر مسلم کے تہواروں پر مبارکباد دینے سے احتراز کرنا چاہئے۔
(۲) اگر یقین و اطمینان ہوکہ مٹھائی وغیرہ دیوی دیوتاؤں کے نام چڑھائی ہوئی نہیں ہوتی ہے اور حرام و ناپاک چیز کی آمیزش بھی نہیں ہوتی ہے تو استعمال ناجائز نہیں تاہم احتیاط اولیٰ ہے۔
(۳) نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
سوال # 146218
محترم مفتی صاحب۔ کیا غیر مسلم پہچان والوں کو اُن کے تہواروں کے موقع پر یا دوسرے مواقع پر ایسا کہنا یا مسیج کرنا کے
\"میری نیک تمنّائیں تمہارے ساتھ ہیں\"
اور نیت یہ ہو کہ
\" اللہ تعالیٰ تم کو ایمان نصیب فرمائے \" درست ہے؟
یہ لوگ ہماری عید کے مواقع پر بڑے اہتمام سے مبارک بادیاں دیتے ہیں۔
Published on: Nov 28, 2016
جواب # 146218
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 131-116/N=2/1438
ہندوؤں کے یہاں چوں کہ وحدتِ ادیان کا نظریہ پایا جاتا ہے؛ اس لیے وہ لوگ اسلامی تہواروں کے موقع پر مسلمانوں کو خوب دل کھول کر مبارک بادی دیتے ہیں، لیکن مذہبِ اسلام میں صرف اسلام ہی حق اور صحیح مذہب ہے، باقی سب مذاہب باطل ہیں؛ اس لیے مسلمان کے لیے کوئی ایسا کام جائز نہیں، جس سے غیروں کی کسی مذہبی چیز کی تعظیم وتکریم یا اس کی تعریف وغیرہ لازم آتی ہو؛ بلکہ اس طرح کی چیزوں میں کفر کا اندیشہ ہوتا ہے؛ اس لیے مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ہولی یا دیوالی کے موقع پر غیر مسلموں کو مبارک بادی دیں، اس میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے؛ البتہ اگر سخت مجبوری کی صورت ہو مثلاً کوئی ایسا کاروباری ساتھی یا ما تحت ملازم یا کمپنی کا مالک ہے کہ اگر اس موقعہ پر اس سے مسرت کا اظہار نہ کیا جائے تو اس کی جانب سے ضرر کا اندیشہ ہے یا ملک میں مذہب کی بنیاد پر منافرت پھیلانے والوں کو مزید منافرت پھیلانے کا موقع ملے گا تو ایسی مجبوری میں مجمل الفاظ کہنے کی گنجائش ہوگی، مثلاً یوں کہہ دے کہ میری نیک تمنائیں تمھارے ساتھ ہیں اور نیت یہ ہو کہ اللہ تعالی تم کو ایمان نصیب فرمائیں، تہوار وغیرہ کی تعظیم یا تعریف وغیرہ ہرگز مقصود نہ ہو توشرعاً ان شاء اللہ اس کی گنجائش ہوگی۔
اجتمع المجوس یوم النیروز فقال مسلم: خوب سیرت نہاوند یکفر(الفتاوی البزازیة علی ھامش الھندیة، ۶: ۳۳۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وما یھدی المجوس یوم النیروز من أطعمتھم إلی الأشراف ومن کان لھم معرفة لا یحل أخذ ذلک علی وجہ الموافقة معھم وإن أخذہ لا علی ذلک الوجہ لا بأس بہ والاحتراز عنہ أسلم (المصدر السابق)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
--------
سوال و جواب
(مسئلہ نمبر 224)
ہولی، دیوالی کی  مٹھائی کھانے اور اس موقع پر مبارکبادی دینے کا شرعی حکم
سوال: غیرمسلموں کے تہواروں (دیوالی) وغیرہ میں ان کی طرف سے ملنے والی مٹھائیاں کھانا کیسا ہے؟ کیا ہم غیروں کو ان کے تہواروں میں مٹھائیاں دے سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم ان کے تہواروں میں مبارکبادی دے سکتے ہیں یا نہیں؟
(سید ابراہیم بھٹکل کرناٹک)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و بااللہ التوفيق:
صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے غیر مسلموں کی بھی دعوت قبول کی ہے اور ان کے ہدیہ و تحائف بھی قبول کئے ہیں؛
اور ان کی دعوت بھی کی ہے اور ہدیہ و تحائف بھی دیئے ہیں(۱)
چنانچہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت مین ہدیہ پیش کرنا اور آپ کا بصد خوشی قبول فرمانا اور ابولہب و ابوجہل جیسے کفار مکہ کو دعوت طعام دینا کتب حدیث و سیرت کا مشہور واقعہ ہے۔
اس لئے عام دنوں میں اور عام حالات میں غیر مسلموں کی دعوتیں اور ہدایا و تحائف قبول کرنے اور انکی دعوت کرنے اور ہدیہ دینے میں چنداں مضائقہ نہیں(۲)۔
لیکن تہوار وں کے موقع سے یہ ہدیہ و تحائف اگر مٹھائی وغیرہ کی شکل میں ہوں اور مندر پر یا بت وغیرہ پر چڑھائی گئی ہوں تو پھر اسے قبول کرنا اور کھانا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ قرآن مجید میں چڑھاوے کی چیزوں کی حرمت موجود ہے(۳)
البتہ اگر بت وغیرہ پر نہ چڑھائی ہو تو اسے قبول کر سکتے ہیں لیکن پھر بھی تہوار وغیرہ کے مواقع پر نہ لینا ہی افضل ہے؛ تاکہ کفر و شرک کی حوصلہ افزائی کا شبہ پیدا نہ ہو(۴)۔
غیر مسلموں کے تہوار چونکہ بت پرستی پوجا پاٹ اور کفر و شرک پر مبنی ہوتے ہیں اس لئے ان کے تہوار پر خوشی کا اظہار کرنا ان میں شریک ہونا اور غیر مسلموں کو مبارکباد دینا جائز نہیں ہے(۵)
اس لئے کہ اس میں کافروں سے مشابہت اور ان کے کفر و شرک سے رضامندی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ واقعی وہ اچھا کام کر رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسے مشرکانہ معاملات میں ان کی حوصلہ افزائی کرنا کیونکر جائز اور درست ہوسکتا ہے؟
اس لئے غیر مسلموں کے مذہبی تہوار پر انہیں مبارکباد دینے سے بچنا واجب ہے۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب۔
والدلیل على ما قلنا
(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا فَجِيءَ بِهَا فَقِيلَ أَلاَ نَقْتُلُهَا. قَالَ: ((لاَ)). فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (صحيح البخاري حديث نمبر 2617)
》وَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ إِنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (صحيح البخاري حديث نمبر 2616)
(۲) ولابأس بطعام المجوس کلہ إلا الذبیحۃ۔(ہندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الرابع عشرفی أہل الذمۃ، زکریا قدیم۵/۳۴۷، جدید۵/۴۰۱) _
》لو أهدى لمسلم و لم يرد تعظيم اليوم بل جرى على عادة الناس لا يكفر وينبغي أن يفعله قبله أو بعده نفيا للشبهة (الدر المختار مع رد المحتار 486/10 زكريا)
(۳) حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (المائدة 3)
(۴) والأولی للمسلمین أن لا یوافقہم علی مثل هذہ الأحوال لإظہار الفرح والسرور۔ (شامي، کراچي ۶/۷۵۵، زکریا ۱۰/۴۸۶)
(۵) اجتمع المجوس يوم النيروز فقال مسلم خوب سيرت نہاوند يكفر (الفتاوى الخانية 185/3 كتاب أحكام المرتدين الفصل السادس)
》اجتمع المجوس يوم النيروز فقال مسلم خوب رسمے نہادہ اند  أو قال نیک آئین نہادہ اند يخاف عليه الكفر (الفتاوى التاتارخانية 515/5 كتاب أحكام المرتدين كراتشي)
》ويحرم تهنئتهم وتعزيتهم وعيادتهم ( ; لأنه تعظيم لهم أشبه السلام .) وعنه تجوز العيادة ( أي : عيادة الذمي ) إن رجي إسلامه فيعرضه عليه واختاره الشي (كشف القناع عن متن الإقناع للعلامة البهوتي 3/131)
》قال الإمام ابن الق
يم: وأما التهنئة بشعائر الكفر المختصة به فحرام بالاتفاق، مثل أن يهنئهم بأعيادهم وصومهم، فيقول: "عيدمبارك عليك"، أو تهنأ بهذا العيد ونحوه، فهذا إن سلم قائله من الكفر فهو من المحرمات، وهو بمنزلة أن يهنئه بسجوده للصليب، بل ذلك أعظم إثماً عند الله، وأشد مقتاً من التهنئة بشرب الخمر وقتل النفس وارتكاب الفرج الحرام ونحوه.وكثير ممن لا قدر للدين عنده يقع فيذلك، ولا يدري قبح ما فعل، فمن هنأ عبداً بمعصية أو بدعة أو كفر فقد تعرض لمقت الله وسخطه... (أحكام أهل الذمة 1/161 فصل في تهنئة أهل الذمة)
العبد الفقير محمد زبیر الندوی
مركز البحث والإفتاء جامعة اسلامية اشرف العلوم نالا سوپاره ممبئی انڈیا
مؤرخہ 18/10/2017
رابطہ 9029189288
دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے
-------
سوال # 49528
دیوالی کے موقع پر ہندو مسلمانوں کے یہاں جو مٹھائی بھیجتے ہیں اس کا کھانا کیسا ہے؟
Published on: Nov 30, 2013
جواب # 49528
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 20-22/N=1/1435-U
اگر وہ پوجاپاٹ کی مٹھائی نہ ہو تو اس کا لینا اور کھانا درست ہے، البتہ بدلہ کی طرح معاملہ نہ رکھے کہ عید وغیرہ کے موقعہ پر ان کے یہاں بھی مٹھائی وغیرہ بھیجے کیونکہ کافروں سے دلی محبت کا تعلق جائز نہیں،*
قال اللہ تعالیٰ: لَا تَتَّخِذُوْا الْکَافِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ (سورہٴ آل عمران آیت: ۲۸)،
باقیاتِ فتاوی رشیدیہ (ص: ۴۴۱-۴۴۳) میں اس سلسلہ میں متعدد فتاوی ہیں، ان سب کا خلاصہ یہی ہے کہ دلی محبت اور دلی دوستی کی بناپر ان سے مٹھائی وغیرہ کا لین دین درست نہیں اور اگر ظاہری رواداری کی بنا پر یا محکوم ملازم یا رعایا وغیرہ ہونے کی وجہ سے اپنے تہوار کے موقعہ پر کچھ دیں تو لینے کی اجازت ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
---------
سوال # 145649
میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں کچھ مسلم نوجوان اپنے ہندو دوستوں کو واٹس ایپ کے ذریعہ
Durga Pujaان کے تہوار درگا پوجا یا دیوالی کے موقع پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
Happy Durga Puja, Happy Diwali
جیسے الفاظ کے ساتھ،کیا اس طرح مبارکباد پیش کرنے سے وہ من رای منکرا...... ومن لم یستطع فبقلبہ وذالک....کی وجہ سے ایمان سے خارج ہوگا؟ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اگر اس میں گناہ ہے تو کس درجے کا؟ برائے مہربانی مفصل و مدلل جواب دیں۔
Published on: Nov 17, 2016
جواب # 145649
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 103-121/L=2/1438
غیر مسلم حضرات کے تہوار وغیرہ ان کے مشرکانہ اعتقاد پر مبنی ہوتے ہیں؛ اس لیے ہمارے لیے مشرک سے برأت اور بے تعلقی کا اظہار ضروری ہے، اور چونکہ مبارکبادی دینے میں ان کے فکر و عقیدے کی توثیق و تائید ہوتی ہے؛ اس لیے اس سے احتراز ضروری ہے بسا اوقات یہ سلبِ ایمان کا بھی باعث ہوسکتا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

Saturday, 3 November 2018

خبر لیجئے زباں بگڑی؛ کام کا دائرہ کار

خبر لیجئے زباں بگڑی؛ کام کا دائرہ کار
کہتے ہیں کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است، لیکن اب ہم خود بزرگ ہوگئے ہیں اس لئے کوئی ہرج نہیں۔ یہ ہرج بھی عجیب لفظ ہے اور عموماً ’ہرج‘ اور ’حرج‘ میں گڑبڑ ہوجاتی ہے۔ ہرْج (را ساکن) عربی کا لفظ ہے اور مطلب ہے شورش، ہنگامہ، دنگا، فتنہ، نقصان، خسارہ، خلل، وقفہ، ڈھیل، دیرٍ۔ اردو میں بفتح ’ر‘ یعنی ہَرج مستعمل ہے اور عموماً نقصان کے معنیٰ میں آتا ہے، جیسے آپ کی وجہ سے میرا بڑا ہرج ہوا، یا فلاں کام کرنے میں ہرج ہی کیا ہے! عدالتی معاملات میں یہ کہا جاتا ہے کہ ’’ہرجہ، خرچہ ادا کرنا ہوگا‘‘۔ یہ اس صورت میں جب مقدمہ جھوٹا ہو اور دعوے دار ہار جائے۔ ’ہرجانہ‘ ہرج سے اردو میں آیا ہے یعنی ہرج کرنے کا معاوضہ، تاوان وغیرہ۔ اردو میں ایک لفظ ’ہرجانا‘ ہے، یعنی بازی ہار جانا، تھک جانا۔ یہ ’ہر‘ غالباً ہار کا مخفف ہے۔ سنسکرت میں ’ہر‘ بھگوان، وشنو، کرشن، مہادیو وغیرہ کو کہتے ہیں۔ ہربھجن کا مطلب ہے وشنو کی عبادت یا ثنا۔ ہندوؤں میں ہربھجن سنگھ نام ہوتا ہے۔ ایک محاورہ ہے ’’ہر کو بھجے سو ہرکا ہوئے، ذات پات نہ پوچھے کوئے۔ یعنی جو خدا کی بندگی کرے وہی اس کا پیارا، وہ کسی کی ذات پات نہیں پوچھتا۔ اس کے باوجود ذات پات کی تقسیم اور امتیاز بڑھتا جارہا ہے۔ ہریجنوں کو مندر میں نہیں جانے دیا جاتا۔ اچھوتوں کو ہریجن کا نام موہن داس کرم چند گاندھی نے دیا تھا، یعنی ’’ہری کی اولاد‘‘۔ مگر یہ چال ناکام رہی اور اچھوت اب تک اچھوت ہیں، یعنی انہیں چھونے سے دھرم بھرشٹ ہوجاتا ہے۔ یاد رہے کہ ہندی میں کسی لفظ کی نفی بنانے کے لیے اس سے پہلے الف بڑھا دیا جاتا ہے۔ جیت سے اجیت، پوتر سے اپوتر، ہنسا سے اہنسا، چوک اور اچوک۔ فارسی میں بھی نفی بنانے کے لیے شروع میں میم بڑھا دیتے ہیں جیسے کشا سے مکشا، شو سے مشو، باش سے مباش۔ ایک محاورہ ہے ’’سگ باش برادر خرد مباش‘‘۔
حَرج (ح، ر بالفتح) بھی عربی کا لفظ ہے اور مطلب ہے تنگی، سختی، نقصان، ضرر، تضیع اوقات، دیر، کمی وغیرہ۔ اسی سے حارج ہے یعنی روکنے والا، مزاحمت کرنے والا۔ جمع حارجین۔ ہرج اور حرج دونوں عربی ہی کے الفاظ ہیں۔ ایک جملہ دیکھیے ’’آپ کے حارج ہونے سے میرا بڑا ہرج ہوا‘‘۔ یہ وضاحت اپنے اُن صحافی بھائیوں کے لیے ہے جو ’حامی‘ اور ’ہامی‘ کی طرح ان الفاظ میں بھی ادل بدل کردیتے ہیں۔
ایک غلطی جو بہت عام ہوتی جارہی ہے وہ ہے: آئیں تھیں، گئیں تھیں، سنائیں تھیں وغیرہ۔ یعنی دو جمع ایک ساتھ۔ جب ایسی غلطیاں بچوں کی کہانیوں اور ان کے لیے مخصوص صفحات پر ہوں تو ان کی سنگینی بڑھ جاتی ہے کہ دوسرے بچے بھی یہی سیکھیں گے۔ یہ تو ہم بار بار سمجھا چکے ہیں کہ جب کسی کو پکارا جائے تو نون غنہ نہیں آئے گا، مثلاً لوگو، انسانو، بچیو وغیرہ۔ سنڈے میگزین میں پھولوں کی دنیا کا مالی جانے کون ہے لیکن پھولوں کی نگہداشت میں لاپروائی نظر آتی ہے۔ تازہ شمارے 28 اکتوبر تا 3 نومبر میں ایک کہانی کا آغاز ہی ’’پیاری بچیوں‘‘ سے ہورہا ہے۔ یہاں ’بچیو‘ ہونا چاہیے۔ اسی طرح ’’آئیں تھیں‘‘ کی جگہ ’آئی تھیں‘ ہونا چاہئے۔ یہ پہلے بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ پتّا درخت کا ہو یا کسی کے گھر کا پتا اور جسم کا ایک عضو پِتّا، ان سب کے آخر میں الف آتا ہے۔ بچوں کے لیے شائع ہونے والی تحریروں، کہانیوں پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اور ہاں! یہ بچوں کو مما، پپا نہ سکھائیں، یہ ہمارے نہیں ہیں۔ ان 
کی بجائے امی، ابو کتنے پیارے الفاظ ہیں، اور اب تو ’موم، ڈیڈ‘ ہوگئے۔
آج کل جو اردو لکھی جارہی ہے اس میں ’دوران‘ کے بعد ’میں‘ غائب ہوگیا ہے۔ پروفیسر آسی ضیائی نے اپنی کتاب ’’درست اردو‘‘ میں لکھا ہے کہ 1955ء سے پہلے اس عجیب و غریب رجحان سے اہلِ قلم بالکل ناواقف تھے، مگر یہ جان لینا چاہیے کہ ’’دوران‘‘ کے ساتھ ’’میں‘‘ لانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا ’’اثنا‘‘ کے ساتھ۔ مثلاً ’’اسی اثنا میں ایک غیر معمولی واقعہ ظہور پذیر ہوا‘‘۔ اس جملے کو اس طرح کوئی نہیں لکھتا کہ ’’اسی اثنا ایک غیر معمولی واقعہ …‘‘
تقرری، تنزلی بہت عام ہوگئے ہیں جب کہ دونوں غلط ہیں۔ صحیح لفظ ’تقرر‘ اور ’تنزل‘ ہے۔ جسارت کے ایک اداریے میں بھی ’’تنزلی کا راستہ‘‘ شائع ہوا ہے۔ ایک اصول یہ ہے کہ دو ہندی الفاظ کو فارسی ترکیب کے ساتھ ملانا غلط ہے۔ مثلاً چیخ و پکار، سوچ اور بچار۔ یہ ہندی کے الفاظ ہیں۔ ان کے درمیان فارسی واؤ لانا درست نہیں۔ ان کی جگہ چیخ پکار اور سوچ بچار درست ہیں۔ اور یہی اردو کا روزمرہ ہے۔ برائے مہربانی کا صحیح املا ’’براہ مہربانی‘‘ ہوگا۔ گالیاں نکالنا غالباً پنجابی سے آیا ہے۔ اردو کا محاورہ ’گالیاں دینا‘، ’گالیاں بکنا‘ ہے۔ کسی استاد کا مصرع ہے: 
’’کہ اس نے دی مجھے گالی، سلام میں نے کیا‘‘۔ 
اب ’’نئی جدت‘‘ بھی عام ہوتا جارہا ہے۔ جدت کے معنی نئی چیز یا بات کے ہیں، لہٰذا جدت کے ساتھ ’نئی‘ لانا بالکل زاید اور غلط ہے۔ اسی طرح ’تا ہنوز‘ بھی غلط ہے۔ فارسی میں ہنوز کے معنی ’ابھی تک‘ ہیں، چنانچہ ’تا‘ لگانے کی ضرورت نہیں۔
ایک اور دلچسپ اصطلاح اخبارات میں نظر آرہی ہے ’’کام کا دائرۂ کار‘‘۔ ارے بھئی ’کام‘ اور ’کار‘ کا تو ایک ہی مطلب ہے۔ صرف کام کا دائرہ لکھنا کافی ہے، لیکن تسلی نہیں ہوتی، جیسے ’’گول دائرہ‘‘ لکھے بغیر مزا نہیں آتا، جیسے دائرہ چوکور یا مستطیل بھی ہوتا ہو۔
چھٹی جماعت کے اردو نصاب کی کتاب میں ایک جملہ ہے ’’کڑکی اٹھالی‘‘۔ ہم تو اب تک یہی سمجھتے رہے کہ کڑکی کا مطلب خالی جیب یا غربت ہے۔ لیکن اسے سہا تو جاسکتا ہے، اٹھایا کیسے جائے گا؟ معلوم ہوا کہ کڑکی کا مطلب وہ چیز جس سے لڑکے چھوٹے چھوٹے پرندے پکڑتے ہیں۔ چوہے دان کو بھی کہتے ہیں۔ شاید آلہ کڑک کی آواز کے ساتھ بند ہوجاتا ہو۔ عوام میں تو کڑکی کا مطلب یہی ہے کہ جیب خالی ہے یا گھر میں کچھ نہیں ہے۔ کڑک بجلی کی آواز، سخت اور مہیب آواز کو بھی کہتے ہیں، جیسے یہ شعر ہے:
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی
زمیں جس نے سارے عرب کی ہلادی
کڑک کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز کو بھی کہتے ہیں اور کڑکو بدمزاج عورت کو کہتے ہیں۔ لیکن کڑکی کا مذکورہ مطلب ہمارے لیے نیا ہے اور لغت کے مطابق اردو کا لفظ ہے۔ لڑکپن میں ایک ٹوکری کے نیچے لکڑی کھڑی کرکے اور اس میں رسّی باندھ کر دور بیٹھ جاتے تھے اور ٹوکری کے اندر دانا بکھیر دیتے تھے۔ جب کوئی پرندہ، کبوتر وغیرہ اندر جاتا تو رسّی کھینچ لی جاتی۔ شاید اس کو بھی کڑکی کہتے ہوں۔
غزالی اکیڈمی میرپورخاص سے بہت ہی محترم جناب امیر الدین مہر نے مشورہ دیا ہے کہ صلوٰۃ، زکوٰۃ وغیرہ جیسے عربی الفاظ کو صلات، زکات یا زکوات لکھا جائے۔ عربی جرائد اور کتب میں ایسے ہی لکھا جاتا ہے، اس سے سندھی لکھے پڑھے لوگوں کو آسانی ہوگی اور ان کا تلفظ درست ہوجائے گا۔ ہم جب جدہ کے اخبار ’اردو نیوز‘ میں کام کرتے تھے تو عرب چیف ایڈیٹر نے ان الفاظ پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تو قرآنی املا ہے۔ عرب جرائد میں یہ قرآنی املا رائج نہیں ہے لیکن اردو میں رائج ہے اور یہی ہونا چاہیے۔ اس سے قرآنی اصطلاحات سے وابستگی بھی رہتی ہے۔ سندھی لکھے پڑھے لوگوں کا تلفظ اساتذہ صحیح کرواسکتے ہیں۔ یوں بھی عام اردو الفاظ کا تلفظ کون سا صحیح ہے کہ اردو بولنے والے بھی غلط تلفظ ادا کررہے ہیں جیسے ہم نے ولی عُہد کا ذکر کیا ہے۔
تحریر: اطہر ہاشمی

عدت کیا ہوتی ہے؟

عدت کیا ہوتی ہے؟
سوال:۔ جس عورت کو خدانخواستہ طلاق ہوجائے یا کسی عورت کا شوہر وفات پاجائے اور وہ عورت بیوہ بن جائے تو ان دونوں عورتوں کو عدت گذارنی ہوتی ہے اس بارے میں بہت زیادہ ناواقفیت ہے۔ اس لئے ہمارا سوال ہے عدت کیا ہوتی ہے؟ اور اس کی مدت کتنی ہوتی؟ عدت کے ان ایام میں عورت کے لئے کیا کیا حکم ہے کہ کون سے کام کرنا جائز ہے؟ کس کس کام کے لئے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہے؟ نیز میکے اور دوسرے رشتہ داروں کے یہاں کس کس صورت میں جانے کی گنجائش ہے؟ ان تمام ضروری سوالات کے جوابات سے تمام قارئین کو مستفید فرمائیں.
شمس الدین، شوکت احمد، محمد عارف
سرینگر
عدت کی اقسام اور مسائل
جواب:۔ عدت کے معنیٰ شمار کرنا۔ تعداد مکمل کرنا۔ مقررہ مدت پوری کرنا۔ شریعت میں عدت کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ عورت جس کو طلاق ہوجائے یا اُس کا شوہر وفات پائے تو وہ دوسرا نکاح کرنے سے پہلے اس مدت تک انتظار کرے، جو شریعت اسلامیہ نے اس کے لئے مقرر کی ہے۔ یہ وقفہ انتظار کی حالت میں گذارنا عدت کہلاتا ہے۔ اب اس عدت کی دو قسمیں ہیں۔
عدت وفات
اور
عدت طلاق۔
جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اس عورت کو عدت وفات گذارنی لازم ہے اور جس عورت کو یہ عدت وفات گذارنی ہو وہ اگر حالتِ حمل میں ہے تو اس کی عدت صرف وضع حمل تک ہے، چاہئے یہ وضع حمل ایک دن ایک ماہ یا نو ماہ میں ہو ۔بہر حال حاملہ بیوہ کی عدت وضع حمل ہے۔ (القران سورہ الطلاق) اور اگر وہ عورت حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت وفات چار ماہ دس دن ہیں۔ یہ بھی قرآن کریم میں سورہ البقرہ میں ارشا د ہوا ہے۔
عدت کی دوسری قسم طلاق ہے۔ اگر کسی عورت کو اس کے شوہر نے طلاق دی ہو تو یہ مطلقہ خاتون نکاح ثانی سے پہلے عدت طلاق پورا کرے گی۔اس کی تین صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ حالت حمل میں ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ چاہئے یہ وضع حمل چند دن میں ہو جائے یا چندہ ماہ میں۔ پورا زمانہ حمل عدت قرار پائے گا۔
اگر عورت حمل میں نہیں ہے تو پھر وہ یا تو عمر کے اس مرحلہ میں پہنچ گئی ہے کہ اس کے حیض آنے کا سلسلہ ختم ہوچکا ہو۔ ایسی عورت کے لئے پورے تین ماہ کی مدت اس کی عدت ہوگی اور اگر مطلقہ ابھی ماہواری آنے کے دور سے گذر رہی ہے تو ایسی عورت کی عدت تین حیض ہیں چاہئے۔ یہ پورے تین ماہ میں آئیں یا اُس سے کم یا زیادہ دنوں میں۔ بہر حال عدت کی مقدار تین حیض ہیں۔ یہ سارا بیان عدت کے ایام کی مقدار کے متعلق تھا۔ اب کچھ ضروری احکام ملاحظہ ہوں۔ عدت کرنا چاہئے شوہر کے وفات کی بنا پر ہویا طلاق کی بنا پر ان میں کچھ احکام تو یکساں ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ عدت پورا ہونے سے پہلے دوسرا نکاح کرنا حرام ہے۔ اگر ایسی کسی عورت نے نکاح کرلیا تو وہ نکاح درست نہ ہوگا۔ اس طرح ا س عرصہ میں گھر سے باہر نکلنا سخت منع ہے۔ اگر بلا ضرورت باہر نکلے گی تو گنہگار ہوگی۔ اسی طرح ہر عدت گذارنے والی عورت کو بناؤ سنگھار کرنا، چمک دار رنگین کپڑے پہننا منع ہے۔ سادہ کپڑے پہننا ضروری اور کریم پاؤڈر، خوشبو کے استعمال اور پرکشش لباس پہننے سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر ایام عدت میں عورت نے بناؤ سنگھار کرلیا، رنگین اور پر کشش لباس پہنے تو وہ گنہگار ہوگی۔ ایام عدت میں شادیوں میں جانا، بازاروں میں پھرنا، مبارک بادی یا تعزیت کے لئےجانا۔ بیمار کی عیادت کے لئے جانا بھی منع ہے۔ حتیٰ کہ ایام عدت میں حج و عمرے کے لئے جانا بھی منع ہے۔
علاج و معالجہ کے لئے معالج کے پاس یا اسپتال جائے بغیر اگر چارہ نہ ہو تو صرف دن میں جاکر واپس آنا ضروری ہے۔ اپنے گھر کاسودا سلف لانے والی کوئی نہ ہو تو سودا لانے کے لئے باہر جانے کی اجازت ہے مگر ضرورت پورا کرکے واپس آنا ضروری ہے۔ گھر کے ہر کمرے بلکہ صحن میں جانے کی بھی اجازت ہے۔ اگر اس گھر میں جان، عزت، عصمت کو خطرہ ہو تو میکے میں سے کسی کو ساتھ رکھنے کی اجازت ہے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر یہ بیوہ میکے میں عدت گذار سکتی ہے۔ عدت کے دوران کوئی ضروری چیز لانے کےلئے کسی گھر یا میکے یا دکان پر جانا پڑے تو اگر دوسرا کوئی مرد یا عورت یہ چیز لانے والا نہ ہو اور اس چیز کی شدید ضرورت ہو تو عدت والی خاتون وہ چیز لانے کےلئے گھر سے باہر جاسکتی ہے مگر جلد سے جلد واپس آنا لازم ہے۔ محض غم ختم کرنے دل بہلانے اور صرف ملاقاتیں کرنے کے لئے عدت کے دوران گھر سے نکلنا جائز نہیں۔ اگر عورت عدت وفات گذار رہی ہے تو اس کو شوہر کے ترکہ میراث سے وارث لینے کا حق ہے اور اگر مہر باقی ہو تو وہ مہر لینے کا بھی حق ہے ۔عدت وفات میں اس کا نفقہ شوہر کی میراث سے لینا درست نہیں۔ اس لئے کہ شوہر کی وفات پر اس کی وراثت متوفی کے وارثوں کا حق ہے۔ ان وارثوں میں خود وہ عورت اور اس کی اولاد بھی شامل ہے اس عورت کا نفقہ اس کی ا ولاد یا اس کے والد یا بھائیوں پر لازم ہے۔ اگر عورت عدت طلاق گذار رہی ہے تو طلاق دینے والے شوہر سے مکمل قطع تعلق اور سلام کلام منقطع کرنا لازم ہے۔ بلکہ اس سے پردہ بھی لازم ہے، ہاں عدت کے ایام کا خرچہ اس کے طلاق دینے والے شوہر پر ہی لازم ہے۔ اگر طلاق کی بناپر عورت نے عدت اپنے طالق شوہر کے گھر کی بجائے اپنے میکے میں گذارنے کا ارادہ کیا اور وہ گھر سے نکل گئی تو اسکا نفقہ شوہر پر لازم نہیں رہے گا۔ ہاں اگر طلاق دینے والے کے ساتھ یہ طے کیا گیا کہ وہ مطلقہ عدت میکے میں گذارے گی اور نفقہ وہاں ہی دینا ہوگا  اور شوہر نے یہ قبول کر لیاتو ایسی صورت میں یہ مطلقہ میکے میں نفقہ کی حقدار ہوگی۔ کشمیر کے ماحول میں عدت گذارنے والی خواتین عموماً گھروں سے باہر نکلتی ہیں پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی تقریبات شرکت کرتی ہیں حالانکہ یہ سخت منع ہے۔ اس پر عمل کرنے اور خواتین کے درمیان اس مسئلہ پر عمل کرنے کی ترغیب دینا بہت ضروری ہے۔
سوال: تیمم کب کرسکتے ہیں اور تیمم کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا سخت سردی کی وجہ سے تیمم کرنے کی اجازت ہے۔ کشمیر کی خطرناک سردی میں صرف سردی کی شدت کی وجہ سے تیمم کی اجازت ہوگی۔
نیاز مند مشتاق احمد میر
اسلام آباد کشمیر
تیمم....... ضرورت اور رخصت
جواب: تیمم شریعت اسلامیہ کی طرف سے ملنے والی ایک خصوصی سہولت ہے۔ چنانچہ حضرت رسول کریم علیہ اسلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے چھ چیزوں میں دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام  پر مجھے فضلیت دی ہے۔ اُن میں سے ایک یہ مٹی کو میرے لئے ذریعہ طہارت بنایا۔ (بخاری)
تیمم دو صورتوں میں کرنے کی اجازت ہے ایک تو یہ کہ پانی دستیاب ہی نہ ہو۔ یا پانی دستیاب تو ہے مگر پانی کا استعمال جسم کے لئے سخت ضرور رساں ہو۔ ضرر رساں ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ پانی استعمال کرنے پر بیمار ہونے کا گمان غالب یا یقین ہو، یا مرض بڑھ جانے کا ظن غالب ہو۔ ان دو صورتوں کے علاوہ اگر محض ٹھنڈک سے بچنے کے لئے انسان تیمم کرنا طے کرے تو ایسی صورت میں تیمم درست نہیں ہوگا۔ مثلاً اگر کسی شخص پر غسل کرنا فرض ہوگیا اور پانی ٹھنڈا ہو، اور پانی کے گرم کرنے کا انتظام بھی نہ ہو تو اس کو یقین ہو کہ اگروہ ٹھنڈے پانی سے غسل کرے تو بیمار ہونے کا خدشہ بلکہ یقین ہو تو شرعاً اس کو تیمم کرنے کی اجازت ہوگی۔ لیکن اگر پانی گرم کرنے کا کا انتظام ہو یا وہ ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کا عادی ہو تو ایسا شخص تیمم نہیں کرسکتا ۔ اگر ایسے شخص نے تیمم کر لیا تو وہ پاک نہیں ہوگا۔
کشمیر کی سخت ترین سردی میں یہاں کے باشندے عام طور پر اس سردی کو برداشت کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ ٹھنڈے پانی میں مچھلیا ں پکڑتے ہیں۔ ندی نالوں پر کپڑے دھوتے ہیں۔ بازاروں میں لگے ہوئے نلکوں کا پانی استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے صرف سردی اور ٹھنڈک برداشت کرنا کا مجاہدہ کرنا پڑتا ہے اور اس پر بہت اجر بھی ملتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے حضرت نبی کریم 
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو ایسا عمل بتائوں جس سے تمہاری ساری خطائیں معاف ہونگی ۔صحابہ ؓنے عرض کیا کہ ضرور فرمائیں۔ ارشاد ہوا کہ جب وضو کرنا سخت مشکل اور طبعیت کو ناگوار گذرے اُس وقت اچھی طرح سے وضو کرنا۔ یہ حدیث ترمذی شریف میں ہے۔۔۔۔۔۔ ٹھنڈے پانی سے وضو کی اس فضلیت کو ذہن میں رکھیں تو پھر ٹھنڈک برداشت کرنے کے لئے دل آمادہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود شریعت نے ایک سہولت دی کہ اگر کسی کےبیمار ہو جانے یا اُس کا مرض بڑھ جانے کا یقین ہو تو تیمم جائز ہوگا۔ مگر جو شخص تیمم کرنے کا ارادہ کرے وہ اچھی طرح سے سوچ لے کہ اگر وہ اس طبقہ میں شامل ہوکہ جن کو تیمم کی اجازت نہ ہو مگر پھر بھی اس نے تیمم کرلیا تو وہ پاک نہ ہوگا اور  اس کی نماز بھی درست نہ ہوگی۔ حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین کو ایک اہم ترین سفر پر بھیجا گیا وہاں امیر جماعت حضر ت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ کو غسل فرض ہوگیا۔ سمندر کے کنارے سخت ٹھنڈ کی وجہ سے انہوں نے غسل نہیں بلکہ تیمم کیا۔ بعد میں واپسی پر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےصورت حال عرض کی کہ اگر میں غسل کرتا تو ہلاکت کا خوف تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری بات سنی اور کوئی نکیر نہیں فرمائی یہ واقعہ بخاری کتاب المغازی میں ہے۔
سوال: میاں بیوی میں سخت نزاعات کے بعد طلاق ہوگئی۔ دونوں کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو دودھ چھڑانے کے قریب ہے۔ باپ بچے کو آج ہی لینا چاہتا ہے مگر ماں بچہ چھوڑنا نہیں چاہتی۔ عدالت میں مقدمہ بھی شروع ہوگیا۔ برادری کے ذمہ داران فیصلہ کرنا چاہتے ہیں مگر ان کو شرعی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اس لئے بذریعہ اخبار سے شرعی رہنمائی فرمائیں۔ اس بچے کی پرورش کا حق کس کو ہے اور خرچہ کس کے ذمہ ہے؟
صدر انتظامیہ کمیٹی بمنہ سرینگر
طلاق کے بعد بچے کی پرورش
جواب:۔ جب زوجین میں رشتہ منقطع ہوجائے اور گود میں اولاد ہو تو پرورش کا حق ماں کو ہے۔ باپ کے لئے جائز نہیں کہ وہ بچے کو ماں سے لے کر خود پرورش کرے۔ حدیث میں ہے کہ ایک عورت دربار نبوت ﷺ میں حاضر ہوئی اور عرض کیا۔ یہ میری گود میں میرا بچہ ہے، میری گود اس کے لئے آرام گاہ، میری چھاتی اس کے لئے شکم سیر ہونے کی پناہ گاہ اور میرے ہاتھ اور بازو اس کے لئے کھیل گاہ ہیں۔ اس بچے کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور وہ بچہ مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے۔ یہ سن کر حضرت رسول رحمت 
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بچہ کی پرورش کا حق صرف تیرا ہے جب تک تو دوسرا نکاح نہ کرے۔ اس لئے اسلامی قانون یہ ہے کہ حق حفانت ماں کو حاصل ہے۔
لہٰذا کسی باپ کو حق نہیں کہ وہ اپنی مطلقہ سے بچہ لینے کا ارادہ کرے اور نہ ہی برادری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ماں کو حق پرورش سے محروم کرنے کا فیصلہ کرے۔ عدالت کے لئے بھی مسلم پرسنل لا کے مطابق فیصلہ کرنے کا پورا اختیار ہے کہ حق پرور ش ماں کو دینے کا فیصلہ کرے۔ یہ حق پرورش لڑکا ہو تو سات سال تک اور لڑکی ہو تو نو سال بالغ ہونے تک رہتا ہے۔ اس کے بعد باپ کو حق ہے کہ وہ بچہ لے کر تعلیم اور تربیت کا سلسلہ شروع کرے۔ جو عرصہ بچہ ماں کے پاس بطور حق پرورش گزاے گا اس عرصہ کے دوران بچہ پر جو خرچہ آئے گا وہ تمام خرچہ باپ پر لازم ہوگا۔ اس میں کوتاہی کرنا بدترین کمینہ پن ہے نیز باپ اپنے معصوم کے لئے اپنا مال خرچ کرنے میں لیت و لعل کرے یہ غیرت کے بھی خلاف ہے۔
کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل
2 نومبر 2018 (00 : 01 AM)  
(صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ)
مفتی نذیر احمد قاسمی
Kashmir Uzma
Friday, 22 Safar 1440 AH -1