Tuesday, 9 July 2019

مطالعے کی عادت کیسے ڈالیں؟ چودہ معاون طریقے

مطالعے کی عادت کیسے ڈالیں؟ چودہ معاون طریقے

”مطالعے کی عادت بنانا اپنے لیے زندگی کی تمام مشکلات اور غم وفکر سے دور ایک محفوظ پناہ گاہ تعمیر کرنا ہے“۔ (سمرسٹ ماہم)
معمول کی زندگی میں بہت سے لوگ آئے دن اپنے لئے کوئی نہ کوئی ہدف مقرر کرتے رہتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اس ہدف کے تئیں کتنے سنجیدہ ہوتے اور اگر سنجیدہ ہوتے ہیں، تو وہاں تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔ دیگر اہداف کی طرح بہت سے لوگ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنے کا بھی ہدف بناتے ہیں اور یہ ایک سچائی ہے کہ ایک بہترین کتاب بڑی حد تک اطمینان بخش ہوسکتی ہے، وہ آپ کو آپ کی روزمرہ پہنچ سے بہت دور کی باتیں اور چیزیں سکھاسکتی ہے، آپ کے سامنے ماضی قریب یا بعید کی ایسی شخصیات کو لاکھڑا کرسکتی ہے، جنھیں آپ اپنے پاس، اپنے قریب محسوس کریں گے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ اگرآپ کے پاس کوئی اچھی کتاب (جو آپ کو بھی اچھی لگتی ہو) دستیاب ہے، تو اسے پڑھنے کا عمل نہایت ہی لطف انگیز اور مزے دار ہوتا ہے؛ لیکن اگر آپ کوئی بیکار سی، بورنگ یا بہت مشکل کتاب لے کر بیٹھے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بس ایک معمول پورا کررہے ہیں۔ اگر لگاتار کئی دن تک آپ کو اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا رہتا ہے، تو بہتر یہ ہے کہ آپ کتاب بینی کا چکر چھوڑیں اور کسی ایسے کام میں لگیں، جو آپ واقعی کرنا چاہتے ہیں اور آپ کو اس کام سے محبت ہے۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہے، تو پھر آپ اپنے اندر مطالعے کی عادت کو راسخ اور پختہ کرنے کے لئے درجِ ذیل طریقوں پر عمل کریں:
1- وقت متعین کریں:
آپ کے پاس روزانہ مختلف اوقات میں کم سے کم ایسے پانچ یا دس منٹ ہونے چاہئیں،جن میں آپ مطالعہ کرسکیں۔ آپ کو اس متعینہ وقت میں روزانہ ہرحال میں مطالعہ کرنا ہے۔ مثال کے طور پر آپ اگر اکیلے کھانا کھارہے ہوں، تو ناشتے، دن کے کھانے یا رات کے کھانے کے دوران مطالعے کا معمول بنالیں، اسی طرح اگر آپ سفر کے دوران یا سونے سے پہلے بھی  پڑھنے کا معمول بنالیں، تو اس طرح آپ کے پاس مطالعے کے لئے دن بھر میں چالیس یا پچاس منٹ ہوں گے۔ اس طرح ایک بہترین شروعات ہوسکتی ہے، پھر روز بروز خود ہی اس میں تیزی بھی آتی جائے گی، مگر آپ اس سے بھی زیادہ کرسکتے ہیں۔
2- ہمیشہ اپنے ساتھ ایک کتاب رکھیں:
آپ جہاں بھی جائیں، اپنے ساتھ ایک کتاب ضرور رکھیں۔ میں جب بھی گھر سے نکلتا ہوں، تو یہ اچھی طرح چیک کرتا ہوں کہ میرے پاس میرا ڈرائیونگ لائسنس، چابی اور کم سے کم ایک کتاب ہے یا نہیں۔ کارمیں بھی کتاب میرے ساتھ رہتی ہے، آفس میں بھی، کسی سے ملنے جاؤں تو بھی؛ بلکہ جہاں بھی جاتا ہوں تو کتاب ضرور ساتھ لے جاتا ہوں، الا یہ کہ ایسی جگہ جاؤں، جہاں کتاب پڑھنا قطعی مشکل ہوتا ہے۔ اگر آپ کہیں گئے اور وہاں کسی کا انتظار کرنا پڑرہا ہے، تو آپ کے پاس وقت ہے، اتنے وقت میں آپ کتاب نکالیں اور پڑھنا شروع کردیں، یہ انتظار کے لمحات گزارنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔
3- کتابوں کی ایک فہرست بنالیں:
آپ جن کتابوں کو پڑھنا چاہتے ہیں، ان کی ایک فہرست بنالیں۔ اس فہرست کو آپ کسی میگزین، ڈائری، موبائل، ٹیبلیٹ یا لیپ ٹاپ وغیرہ کے ہوم پیج پر رکھ سکتے ہیں۔ پھر جب بھی آپ کو کسی اچھی کتاب کے بارے میں پتا لگے، تو اس کانام بھی اپنی فہرست میں شامل کرلیجئے، فہرست رکنی نہیں چاہئے، جب اس میں سے کوئی کتاب پڑھ لیں، تو اسے نشان زد کردیں۔
4- ٹکنالوجی کا استعمال:
اپنی کتابوں کی فہرست کے لئے جی میل کا استعمال کریں اور جب بھی کسی اچھی کتاب کے بارے میں سنیں، تو اس کا ایڈریس میل کردیں۔ اب آپ کا ای میل ہی آپ کی ریڈنگ لسٹ ہوگا۔ جب آپ ان میں سے کوئی کتاب پڑھ لیں، تو اسے Done کردیں، اگر آپ چاہیں تو متعلقہ کتاب کے تعلق سے اپنا تبصرہ بھی اسی میسج کو رپلائے کرسکتے ہیں، اس طرح آپ کا جی میل اکاؤنٹ آپ کا مطالعہ رجسٹر بھی ہوجائے گا۔
5- پرسکون جگہ تلاش کریں:
گھر میں کوئی ایسی جگہ تلاش کریں، جہاں آپ اطمینان کے ساتھ کرسی پر بیٹھ کر بغیر کسی کی دخل اندازی کے کتاب کا مطالعہ کرسکیں۔ عام حالات میں لیٹ کر نہیں پڑھنا چاہئے، الایہ کہ آپ سونے جارہے ہوں۔ آپ کے آس پاس ٹی وی یا کمپیوٹر نہ ہوکہ آپ کی توجہ بٹ جائے، گانے کی آواز، گھر کے لوگوں یارفقاے کمرہ کا شوروشغب بھی نہ ہو۔ اگر آپ کو ایسی جگہ میسر نہ ہو، تو پڑھنے کے لئے ایسی جگہ بنانے کی تدبیر کیجئے۔
6- ٹی وی /انٹرنیٹ کا استعمال کم کریں:
اگر آپ واقعی زیادہ مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، تو ٹی وی اور انٹرنیٹ کا استعمال کم کردیجئے، یہ بہت سے لوگوں کے لئے مشکل ہوسکتا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر وہ منٹ جو آپ ٹی وی یا انٹر نیٹ سے بچائیں گے، وہ پڑھنے میں استعمال ہوسکتا اور اس طرح آپ کے مطالعے کا مجموعی دورانیہ کئی گھنٹے بڑھ سکتا ہے۔
7- بچے کے سامنے پڑھیں:
اگر آپ صاحبِ اولاد ہیں، تو آپ کو ضرور بالضرور ان کے سامنے پڑھنا چاہئے۔ اگر آپ بچوں میں ابھی سے پڑھنے کی عادت ڈالیں گے، تو یقینی طورپر وہ بڑے ہوکر پڑھنے والے بنیں گے اور یہ عادت ان کی کامیاب زندگی کا سبب بنے گی۔ بچوں سے متعلق کچھ اچھی کتابیں منتخب کریں اور انھیں پڑھ کر سنائیں۔ اس طرح آپ خود اپنی مطالعے کی عادت کو بھی بہتر بنائیں گے اور اپنے بچوں کے ساتھ کچھ بہتر وقت بھی گزار سکیں گے۔
8- ایک رجسٹر رکھیں:
کتابوں کی فہرست کی طرح آپ کے پاس ایک رجسٹر بھی ہونا چاہئے، جس میں صرف کتاب اور مصنف کا نام نہ ہو؛ بلکہ آپ نے کب مطالعہ شروع کیا اور کب ختم کیا، وہ تاریخ بھی اس رجسٹر میں درج کرنے کی کوشش کریں۔ بہتر یہ بھی ہے کہ ہر کتاب کو پڑھنے کے بعد اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے، وہ بھی اس رجسٹر میں لکھیں۔ اگر ایسا کرتے ہیں، تو چند ماہ بعد جب آپ اس رجسٹر کو دیکھیں گے اور اس میں مذکور مطالعہ کردہ کتابوں، مصنفوں کے نام اور ان کتابوں سے متعلق اپنے تاثرات دیکھیں گے، تو ذہنی و قلبی طور پر آپ کو ایک مخصوص قسم کی خوشی و مسرت حاصل ہوگی۔
9- مستعمل کتابوں کی دکان پر جائیں:
میری سب سے پسندیدہ وہ جگہ ہے، جہاں رعایت کے ساتھ کتابیں ملتی ہیں، میں اپنی پرانی کتابیں وہاں چھوڑ دیتا ہوں اور وہاں سے بہت ہی کم قیمت پر بہت سی کتابیں حاصل کرلیتا ہوں۔ میں ایک درجن یا اس سے زیادہ کتابوں پر عموماً صرف ایک ڈالر خرچ کرتا ہوں، اس طرح کم خرچ میں زیادہ کتابیں پڑھ لیتا ہوں۔ وہاں بعض دفعہ خیرات کی ہوئی نئی کتابیں بھی مل جاتی ہیں، پھر مزا آجاتا ہے؛ لہذا آپ کو مستعمل کتابوں کے اسٹور کا چکر پابندی سے لگانا چاہئے۔
10- ہفتے میں کم سے کم ایک دن لائبریری جائیں:
مستعمل کتابوں کی دکان پر جانے سے بھی سستا سودا یہ ہے کہ آپ ہفتے میں ایک دن لائبریری کا چکر لگالیں۔
11- مطالعے کو پرلطف بنائیں:
پڑھنے کے لئے آپ دن بھر کا اپنا سب سے پسندیدہ وقت مختص کریں، مطالعے کے دوران چائے یا کافی یا کوئی اور ہلکی پھلکی کھانے پینے کی چیز ساتھ رکھیں۔ اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر پڑھیں۔ طلوعِ آفتاب یا غروبِ آفتاب کے وقت یا ساحل سمندر پربیٹھ کر پڑھنے کا الگ ہی مزا ہے۔
12- بلاگ لکھیں:
آج کل کسی بھی کام کی عادت بنانے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے اپنے بلاگ پر درج کریں۔ اگر آپ کے پاس بلاگ نہیں ہے، تو بنائیں، مفت میں بن جاتا ہے۔ آپ کے جاننے والے یا فیملی میں کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ بھی اسے دیکھیں گے اور آپ کو کتابوں کے سلسلے میں اچھا مشورہ بھی دے سکتے ہیں۔ اس طرح آپ کے اندر اپنے مقصد کے تئیں احساسِ ذمے داری پیدا ہوجائے گا۔
13- ایک اعلیٰ  ہدف بنائیں:
اپنے دل میں سوچ لیں کہ سال بھر میں اتنی (مثلاً پچاس یا سو) کتابیں پڑھنی ہیں، پھر اس ٹارگیٹ تک پہنچنے کی تدبیر کریں۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ پڑھنے میں آپ کو ذہنی سکون مل رہا ہو اور مزا آرہا ہو، بوجھ یا روٹین سمجھ کر مطالعہ کرنا لاحاصل ہے۔
14- ایک دن یا ایک گھنٹہ برائے مطالعہ مختص کریں:
اگر آپ شام کے وقت ٹی وی یا انٹرنیٹ کو آف کردیں، تو آپ کے پاس کم سے کم ایک گھنٹہ ایسا ضرور ہوگا، جس میں آپ؛ بلکہ آپ کے تمام گھر والے ہر رات مطالعہ کرسکتے ہیں۔ آپ ہفتے میں کسی ایک دن کو بھی عملی طور پر صرف پڑھنے کے لئے خاص کرسکتے ہیں، یہ نہایت ہی مزے دار عمل ہوگا۔
تحریر: Leo Babauta
(مضمون نگارانگریزی کے معروف بلاگراورZen Habits کے بانی ہیں)
ترجمہ: نایاب حسن قاسمی


14 Ways to Cultivate a Lifetime Reading Habit

Founder of Zen Habits and expert in habits building and goals achieving. 

“To acquire the habit of reading is to construct for yourself a refuge from almost all the miseries of life.” — W. Somerset Maugham
Somewhere after “lose weight”, “stop procrastinating”, and “fall in love”, “read more” is one of the top goals that many people set for themselves. And rightly so: A good book can be hugely satisfying, can teach you about things beyond your daily horizons, and can create characters so vivid you feel as if you really know them.

If reading is a habit you’d like to get into, there are a number of ways to cultivate it.

Oh and before I continue with the article, I don't want you to miss this FREE guide, which can help you overcome any challenges you're facing now:

This guide will help you break your limits and overcome any challenges you have in order to live your best life.

First, realize that reading is highly enjoyable, if you have a good book. If you have a lousy book (or an extremely difficult one) and you are forcing yourself through it, it will seem like a chore. If this happens for several days in a row, consider abandoning the book and finding one that you’ll really love.

Other than that, try these tips to cultivate a lifetime reading habit:

Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. These are times that you will read no matter what — triggers that happen each day. For example, make it a habit to read during breakfast and lunch (and even dinner if you eat alone). And if you also read every time you’re sitting on the can, and when you go to bed, you now have four times a day when you read for 10 minutes each — or 40 minutes a day. That’s a great start, and by itself would be an excellent daily reading habit. But there’s more you can do.
Always carry a book. Wherever you go, take a book with you. When I leave the house, I always make sure to have my drivers license, my keys and my book, at a minimum. The book stays with me in the car, and I take it into the office and to appointments and pretty much everywhere I go, unless I know I definitely won’t be reading (like at a movie). If there is a time when you have to wait (like at a doctor’s office or at the DMV), whip out your book and read. Great way to pass the time.
Make a list. Keep a list of all the great books you want to read. You can keep this in your journal, in a pocket notebook, on your personal home page, on your personal wiki, wherever. Be sure to add to it whenever you hear about a good book, online or in person. Keep a running list, and cross out the ones you read. Tech trick: create a Gmail account for your book list, and email the address every time you hear about a good book. Now your inbox will be your reading list. When you’ve read a book, file it under “Done”. If you want, you can even reply to the message (to the same address) with notes about the book, and those will be in the same conversation thread, so now your Gmail account is your reading log too.
Find a quiet place. Find a place in your home where you can sit in a comfortable chair (don’t lay down unless you’re going to sleep) and curl up with a good book without interruptions. There should be no television or computer near the chair to minimize distractions, and no music or noisy family members/roommates. If you don’t have a place like this, create one.
Reduce television/Internet. If you really want to read more, try cutting back on TV or Internet consumption. This may be difficult for many people. Still, every minute you reduce of Internet/TV, you could use for reading. This could create hours of book reading time.
Read to your kid. If you have children, you must, must read to them. Creating the reading habit in your kids is the best way to ensure they’ll be readers when they grow up … and it will help them to be successful in life as well. Find some great children’s books, and read to them. At the same time, you’re developing the reading habit in yourself … and spending some quality time with your child as well.
Keep a log. Similar to the reading list, this log should have not only the title and author of the books you read, but the dates you start and finish them if possible. Even better, put a note next to each with your thoughts about the book. It is extremely satisfying to go back over the log after a couple of months to see all the great books you’ve read.
Go to used book shops. My favorite place to go is a discount book store where I drop off all my old books (I usually take a couple of boxes of books) and get a big discount on used books I find in the store. I typically spend only a couple of dollars for a dozen or more books, so although I read a lot, books aren’t a major expense. And it is very fun to browse through the new books people have donated. Make your trip to a used book store a regular thing.
Have a library day. Even cheaper than a used book shop is a library, of course. Make it a weekly trip.
Read fun and compelling books. Find books that really grip you and keep you going. Even if they aren’t literary masterpieces, they make you want to read — and that’s the goal here. After you have cultivated the reading habit, you can move on to more difficult stuff, but for now, go for the fun, gripping stuff. Stephen King, John Grisham, Tom Clancy, Robert Ludlum, Nora Roberts, Sue Grafton, Dan Brown … all those popular authors are popular for a reason — they tell great stories. Other stuff you might like: Vonnegut, William Gibson, Douglas Adams, Nick Hornby, Trevanian, Ann Patchett, Terry Pratchett, Terry McMillan, F. Scott Fitzgerald. All excellent storytellers.
Make it pleasurable. Make your reading time your favorite time of day. Have some good tea or coffee while you read, or another kind of treat. Get into a comfortable chair with a good blanket. Read during sunrise or sunset, or at the beach.
Blog it. One of the best ways to form a habit is to put it on your blog. If you don’t have one, create one. It’s free. Have your family go there and give you book suggestions and comment on the ones you’re reading. It keeps you accountable for your goals.
Set a high goal. Tell yourself that you want to read 50 books this year (or some other number like that). Then set about trying to accomplish it. Just be sure you’re still enjoying the reading though — don’t make it a rushed chore.
Have a reading hour or reading day. If you turn off the TV or Internet in the evening, you could have a set hour (perhaps just after dinner) when you and maybe all the members of your family read each night. Or you could do a reading day, when you (and again, your other family members if you can get them to join you) read for practically the whole day. It’s super fun.

Leo Babauta
--------------------------------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/07/blog-post_67.html


سپر پاور کون؟ اراکین یا شیاطین؟

سپر پاور کون؟ اراکین یا شیاطین؟

ایک بار شیطان کی مدرسے کے ایک ٹرسٹی سے ملاقات ہوگئی،
بات چیت کے دوران دونوں اس بات پر لڑ پڑے کہ سپر پاور کون؟
شیاطین یا اراکین،
شیطان نے کہا:
 میں نے ابو البشر آدم (علیہ السلام) کو دھوکہ دے کر جنت سے نکلوادیا یہ ہے میری طاقت،
ٹرسٹی نے کہا:
 ہم بھی نائبین رسول (علماء) کو پروپیگنڈا کرکے مدرسہ سے نکال دیتے ہیں، اس میں کون سی بڑی بات ہے،
شیطان نے کہا:
میں انسانوں کو پریشان کرتا ہوں ورغلاتا ہوں، بہکاتا ہوں.
ٹرسٹی نے کہا:
میں علماء کو پریشان کرتا ہوں، کبھی تنخواہ کاٹ کر، کھبی کاہلی کا الزام لگاکر،
اور سب سے بڑی بات میں اتنی تنخواہ ہی نہیں دیتا ہوں وہ کسی لمحہ خوش رہیں،
ٹرسٹی نے کہا: ابے شیطان تُو، تو سلادیتا ہے کبھی کبھار آرام سے،
ہم تو سکون سے سونے بھی نہیں دیتے.
شیطان نے کہا:
ایک مولوی کے پیچھے ہم ستر شیطان لگے رہتے ہیں.
ٹرسٹی: پکڑی گئی نہ تمہاری کمزوری تم ستر شیطان ایک مولوی کے پیچھے ارے کمزورو ڈوب مرو،
ارے ہم میں کا ایک ٹرسٹی ستر مولویوں کو پریشان کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے.
شیطان:
خاموش ہو گیا اس کے سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دے.
ٹرسٹی:
پاجامہ اٹھاکر ہنستے ہوئے خوشی سے ناچنے لگا، اس کے ادارے کے مولوی صاحب نے اسے دیکھ کر ناچنے سے منع فرمایا،
ٹرسٹی نے کہا تم لوگ مجھے منع کروگے ارے میں تم سے زیادہ جانکار ہوں، میں نے شیطان کو مات دی ہے.
اور سنو! آج سے ہمارے ادارے کو تمہاری ضرورت نہیں تمہیں بڑے لوگوں (اراکین) سے بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے ابھی اپنا سامان اٹھاؤ اور ادارے سے باہر نکل جاؤ 
بیچارے مولوی صاحب  اپنا سامان لےکر گیٹ سے باہر نکلتے وقت یہ ارادہ کرلئے کہ اب میرے ہونے والے بچہ کو مولوی نہیں بناؤں گا تاکہ اسے یہ غیر معقول تنخواہ کے ساتھ ایسی ذلت نہ اٹھانی پڑھے
ادھر شیطان یہ سب دیکھ رہا وہ ٹرسٹی کے سامنے گرگیا اور کہنے لگا 
مان گئے بوس آپ کو یقینا آپ ہی ہم سے اعلی ہو
ہم تو بچہ کے پیدا ہونے کے بعد اسے دینی تعلیم سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں مگر آپ نے تو کمال ہی کردیا. پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کی سیٹنگ کردی؟ واہ مان گئے بوس مان گئے
(یہ تحریر ظالم وجابر، جاہل، فتین، نکمے، اراکین کے لیے ہے)
 جو لوگ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دینی کام کرتے ہیں انہیں میرا سلام۔
------------------------------------------------
علماء کا مقام امت میں نائبین انبیاء کا ہے۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں یہ وراثت علمی ہے۔ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا طبقہ علماء کی شان میں گستاخی کرنا اپنا مقصد سمجھتا ہے۔ کچھ طبقات جان بوجھ کر اور سمجھ رکھتے ہوئے یہ لعن و طعن کرتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ انجانے میں اور ناسمجھی کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ علماء اور صلحاء کی شان میں گستاخی کرنا، ان کی اہانت کرنا، ان کا مذاق اڑانا اور تحقیر کرنا یہ سب انتہائی نقصان کا باعث ہے ان باتوں سے ایمان جانے کا خطرہ ہے۔ غیر سیاسی علماء کے تو اکثر لوگ معتقد ہوتے ہیں ان کی تعریفیں کرتے ہیں لیکن سیاسی علماء جو سیاست میں حصہ لیتے ہیں ان کے بارے میں بیباک لہجہ اپنانا ہمارا شیوہ بن چکا ہے کیونکہ ان کی رائے ہماری رائے سے مختلف ہوتی ہے یا کچھ جماعتوں کی یہ خصلت و جبلت ہے کہ ان جماعتوں میں کام کرنے والوں کا ذہن ہی بغض علماء پر بنایا جاتا ہے ان کی مجلسوں اور محفلوں میں سوائے علماء کی غیبت کے باقی کچھ نہیں ملتا۔
ایک مسلمان کے لیے یہ باتیں تعجب خیز ہیں اور ہلاکت کا سبب ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ وبا عام ہے اپنے سوچ اور نظریہ سے متصادم اگر کوئی عالم ہو تو عوام اس کی عزت افزائی اس انداز میں کرتی ہے کہ سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ بلکہ بعض تو اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ سنت رسول ( داڑھی) کا مذاق اڑانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ علماء کی توہین اور بدنامی کے لیے مختلف بے دین دانشوروں کے اقوال اور شاعروں کے اشعاربڑے فخر سے پیش کیے جاتے ہیں۔
ان سب باتوں کو مد نظر اور لوگوں کی رہنمائی کے لیے اس مضمون میں چند احادیث جمع کی ہیں۔ جن کی روشنی میں ہم اپنی اصلاح کرسکتے ہیں۔ بھٹکے ہووں کو راستہ مل سکتا ہے، پھسلے ہوئے سنبھل سکتے ہیں، راہ سے ہٹے ہوئے راہ پاسکتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے قرآن و احادیث سے بڑی رہنمائی کسی اور کتاب میں نہیں۔ لہذا ہمیں ان احادیث کی روشنی میں اپنی سمت بدلنی چاہیے اور گزشتہ گناہوں پر توبہ کرکے آئیندہ احتیاط سے چلنا چاہیے۔ اختلاف ضرور رکھیں لیکن تحقیر نہ کریں، کم نظر سے نہ دیکھیں، اور علماء سے محبت کرنے والے بن جائیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تو یا عالم بن یا طالب علم یا علم کا سننے والا یا (علم اور علماء) سے محبت رکھنے والا۔ پانچویں قسم میں داخل نہ ہونا ورنہ ہلاک ہو جائے گا۔ 
حافظ ابن عبد البر فرماتےہیں کی پانچویں قسم سے مراد علماء کی دشمنی اور ان سے بغض رکھنا“۔ (مقاصد حسنہ جامع) اب ذرا غور کریں کہ ہم ان پانچ اقسام میں سے کس قسم میں داخل ہیں۔
ایک حدیث میں وارد ہے کہ ”حاملین قرآن (علماء) اللہ کے ولی ہیں۔ جو شخص ان سے دشمنی کرتا ہے وہ اللہ سے دشمنی کرتا ہے اور جو ان سے دوستی کرتا ہے وہ اللہ سے دوستی کرتا ہے“۔ 
اب سوچیں: علماء سے دشمنی کرنے والا اللہ سے دشمنی کررہا ہے تو اللہ سے دشمنی والا ہلاک ہی ہوگا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تو عالم بن یا طالب علم اور اگر دونوں نہ بن سکے تو علماء سے محبت رکھنا ان سے بغض نہ رکھنا۔ (مجمع) 
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی فقیہ (عالم) کو اذیت پہنچائے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچائی اور جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اذیت پہنچائے اسں نے اللہ جل جلالہ کو اذیت پہنچائی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ وہ شخص میری امت میں سے نہیں ہے جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے عالم کی قدر نہ کرے۔ 
(ترغیب)
اس ارشاد نبوی کے بعد علماء کو علی العموم گالیاں دینے والے برا بھلا کہنے والے اپنے کو امت محمدیہ میں شمار کرتے رہیں لیکن صاحب امت ان ک اپنی امت میں شمار کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے من اللہ جل جلالہ ارشاد فرماتے ہیں: ”جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے، میری طرف سے اس کو اعلان جنگ ہے“۔ (مشکوتہ و بخاری)
ایک حدیث میں آیا ہے، جو میرے کسی ولی کی اہانت کرتا ہے وہ میرے ساتھ مقابلہ کے لیے سامنے آتا یے۔ (فتح الباری) بعض روایتوں میں وارد ہے جس شخص نے میرے کسی ولی کو ستایا، وہ میرے ساتھ لڑائی تک اتر آیا۔ (فتح الباری)۔
ائمہ نے کہا ہے کہ گناہوں میں کوئی گناہ بھی ایسا نہیں ہے جس کے کرنے والے کو اللہ جل شانہ نے اپنے ساتھ لڑائی سے تعبیر فرمایا ہے بجز اس گناہ (اہانت علماء) کے اور سود کھانے کے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ان دونوں کا گناہ بہت ہی زیادہ بڑھا ہوا ہے اور ان لوگوں کے سوئہ خاتمہ (برا خاتمہ) کا سخت اندیشہ ہے۔ 
(مرقات شرح مرقات)۔ صاحب مظاہر حق نے بھی لکھا ہے کہ اللہ سے بندہ کخ لڑائی دلالت کرتی ہے خاتمہ بد ہونے پر۔ یہاں اللہ کے ولی سے مراد علماء ہی ہیں۔ خطیب بغدادی نے حضرت امام ابو حنیفہ اور امام شافعی سے نقل کیا ہے کہ اگر فقہاء (علماء) اللہ کے ولی نہیں ہیں تو پھر اللہ کا کوئی ولی ہے ہی نہیں۔
اللہ ہم سب کو علماء اکرام کی محبت قربت عطاء فرمائے اور دین کی سمجھ عطا فرمائے- جزاکم اللہ خیرا
-----------------------------
فقہ حنفی میں اوصاف امامت 
امام وہ بنے جو اچھے خلق والا پھر وہ جو خوبصورت ہو پھر وہ جو بڑے حسب نسب والا ہو پھر وہ جو اچھی آواز والا ہو پھر وہ جو خوبصورت بیوی والا ہو پھر وہ جو زیادہ مال دار ہو پھر وہ جو بڑے مرتبے والا ہو پھر وہ جو نظیف کپڑوں والا ہو پھر وہ جو بڑے سر والا اور چھوٹے عضو والا ہو۔
ثم الاحسن خلقا ثم الاحسن وجہا ثم الاشرف نسبا، ثم الاحسن صوتا، ثم الاحسن زوجۃ، ثم الاکثر مالا، ثم الاکثر جاہا، ثم الانطف ثوبا، ثم الاکبر رأسا والاصغر عضوا
رد المحتار: 1/375)
یہ چیزیں اوصاف احقیت امامت ہیں، انہیں شرائط امامت کا عنوان دینا (جیساکہ شرپسندوں کا وطیرہ ہے ) دجل وفریب اور علمی خیانت ہے ۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:
ان سرکم ان تقبل صلاتکم فلیؤمکم خیارکم فانہم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم
طبرانی کبیر ج20 ص328، دار قطنی، مستدرک حاکم، مرقاۃ ج3 ص196
اگر تمہیں اچھا لگتا ہے کہ تمہاری نماز قبول ہو تو چاہیے کہ تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں سے بہتر ہوں کیونکہ امام تمہارے نمائندے ہوتے ہیں تمہارے اور خدا کے درمیان۔
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعا لی عنہما حضرت محمد علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کرتے ہیں: اجعلوا ائمتکم خیارکم فانہم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم
سنن الکبریٰ ج3 ص90
اپنے امام اپنے سے بہترین لوگوں کو بناؤ کیونکہ امام تمہارے نمائندے ہوتے ہیں تمہارے اور تمہارے خدا کے درمیان۔
قارئین کرام! اس بات سے ہمیں انکار نہیں کہ حضرات محدثین کرام نے ان دونوں روایتوں کی صحت میں کچھ کلام کیا ہے لیکن یہ بات بھی قابل انکار نہیں کہ محدثین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ضعیف حدیث فضائل میں قابل حجت ہے۔
شرح النقایہ ج1 ص9، مستدرک ج1 ص490، فتح المغیث ص120، فتاویٰ لابن تیمیہ ج1 ص39، فتاویٰ نذیریہ ج1 ص265
ان احادیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام اسے بنایا جائے جو سب سے بہتر ہو اب بہترین لوگ کون سے ہیں ملاحظہ فرمائیں۔
احقیت امامت کے لیے پہلی صفت
حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:
خیارکم خیارکم لنسائہم
مشکوٰۃ ج2 ص289
تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے حق میں بہتر ہو۔
شریعت مطہرہ میں تو کالے گورے خوبصورت اور بدصورت کا تو کوئی امتیار نہیں ہے لیکن دل غیر اختیاری طور پر خوبصورت بیوی کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور یہ بھی تجربہ شدہ بات ہے کہ جس کی بیوی خوبصورت ہو عام طور پر وہ اپنی بیوی کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں کہ مومن بندہ اﷲ تعالیٰ کے تقویٰ کے بعد جو سب سے بہتر چیز اپنے لیے پسند کرتا ہے وہ نیک بخت بیوی ہے۔
ان امرہا اطاعۃ وان نظر الیہا سرۃ
مشکوٰۃ ج2 ص268
اگر اس کو کوئی حکم دیتا ہے تو وہ اس کی تعمیل کرتی ہے جب وہ شوہر) اس کی طرف دیکھتا ہے تو وہ اس کا دل خوش کرتی ہے۔ ملا علی قاری اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں
”ای جعلتہ مسرورا بحسن صورتھا و سیرتھا
مرقاۃ ج2 ص274
یعنی اگر شوہر اس عورت کو دیکھے تو یہ عورت اپنے صورت و سیرت کے حسن سے اسے خوش کرتی ہے۔ اسی طرح جس آدمی کی بیوی خوبصورت ہو وہ عموماً بد نظری، بے حیائی اور فحش کاموں سے محفوظ رہتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے بیوی کو شوہر کے لیے لباس ٹھہرایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نکاح کرنا نظر کو بہت چھپاتا ہے اور شرم گاہ کو بہت محفوظ رکھتا ہے۔
بخاری و مسلم و مشکوٰۃ ج2 ص267
یعنی جو شادی شدہ ہو تو اس کی اجنبی عورت کی طرف نظر مائل نہیں ہوتی اور حرام کاری سے بچتا ہے مشفق انسانیت پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے بے حیائی اور حرام کاری سے روکنے کا ذریعہ نکاح ٹھہرایا ہے اب آپ خود سوچیے کہ جس کی بیوی خوبصورت ہو تو کیا وہ بطریق اولیٰ حرام کاری سے نہیں رکے گا؟ فقہاء کی ان ساری باتوں پر نظر تھی اس لیے کہا کہ اگر کسی کی بیوی خوبصورت ہو تو اسے امام بنایا جائے گا۔ اور یہ بات کہ امام کی بیوی کیسے معلوم کی جائے تو ہمسایہ اور رشتہ دار لوگوں کو اپنی عورتوں کے ذریعے معلوم ہو جاتا ہے جیسا کہ کوئی آدمی نکاح کرتا ہے تو لڑکی کی حالت اپنی عورتوں سے معلوم کرتا ہے۔
احقیت امامت کے لیے دوسری صفت
رہی یہ بات کہ امام اسے بنایا جائے جس کا سر بڑا ہو دوسرے اعضا چھوٹے ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ سر کا بڑا ہوتا دوسرے اعضاء کا مناسب ہونا کمال عقل کی دلیل ہے اور یہ بات بھی تجربہ سے ثابت ہے کہ جس کا سر بڑا ہو دوسرے اعضاء چھوٹے ہوں تو وہ نہایت سمجھ دار ہوتا ہے اور چھوٹے سر والا کم عقل والا ہوتا ہے اور اس بات سے بھی کسی کو انکار نہیں کہ عقل مند کم عقل والے سے بہتر ہوتا ہے اور حدیث میں بھی بہتر شخص کو امام بنانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ قارئین کرام غور فرمائیے کہ فقہ حنفی کا یہ مسئلہ حدیث کے مخالف ہے یا موافق؟
پہر ”عضو“ سے آلہ تناسل مراد لینا  بہتان عظیم  ہے:
چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی حنفی نے خود اس بات کی تردید کی ہے کہ عضو سے مراد آلہ تناسل ہے۔
چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
وفی حاشیۃ ابن السعود ونقل عن بعضہم فی ہذا المقام مالا یلیق ان یذکر فضلا عن ان یکتب وکانہ یشیر الی ما قیل ان المراد بالعضو الذکر
رد المحتار ج1 ص412
ابو السعود کے حاشیہ میں اس مقام میں بعض سے ایسی بات منقول ہے جو اس قابل نہیں کہ اسے ذکر کیا جائے چہ جائے کہ لکھا جائے گویا اس طرف اشارہ ہے جو کہا گیا ہے کہ مراد عضو سے آلہ تناسل ہے۔
اور منحۃ الخالق ج1 ص348 پر بھی اس بات کی تردید کی ہے کہ عضو سے مراد آلہ تناسل ہے۔
غور فرما لیجیے کہ فقہائے احناف یہ کہہ رہے ہیں کہ عضو سے آلہ تناسل مراد نہیں بلکہ بدن کے اندام مراد ہیں لیکن ہمارا مہربان اس بات پر ڈٹ کر کھڑا ہے کہ مراد عضو سے آلہ تناسل ہے۔ من چہ گویم و طب نور من چہ گوید والی بات ہے۔ دانش مندوں کا مقولہ ہے
کل اناء یترشح بما فیہ
ثانیاً بدن میں واحد عضو ناک بھی ہے شیر سرحد کو صرف آلہ تناسل کیوں نظر آیا؟ مشہور ہے کسی بھوکے سے کسی نے پوچھا کہ دو اور دو کتنے ہوگئے؟ کہا چار روٹیاں۔
عبارت بالا میں  عضو کو صیغہ مفرد کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے جسم میں جو ایک سے زائد اعضاء ہیں کبھی کبھار بطور جنس واحد کا صیغہ بھی ان پر بولا جاتا ہے لیکن مراد واحد نہ ہو۔
جیسا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے
من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ
یہاں پر واحد کا صیغہ ہے لیکن مراد صرف ایک نہیں بلکہ دونوں ہاتھ مراد ہیں بقول نورستانی لفظ ید واحد کا صیغہ ہے تو دونوں ہاتھوں سے برائی کا روکنا حدیث کا خلاف ہو گا۔
اسی طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:
المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ
یعنی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں یہاں بھی لفظ واحد ہے لیکن نورستانی کے نزدیک یہ معنی بنتا ہے کہ جس کے ایک ہاتھ سے مسلمان محفوظ نہ ہوں تو وہ مسلمان نہیں ہے لیکن اگر دونوں ہاتھ کے ضرر سے محفوظ نہ ہوں تو مسلمان ہے۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے:
جعلت قرۃ عینی فی الصلاۃ
میری آنکھ ٹھنڈک نماز میں ہے۔
اب جناب کے نزدیک یہ مطلب ہو گا کہ نماز میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی صرف ایک آنکھ کی ٹھنڈک ہو گی دونوں کی نہیں یہی مطلب جناب نے ”اصغر عضوا“ سے لیا ہے کہ لفظ عضو واحد کا صیغہ ہے اور بدن میں واحد آلہ تناسل ہے تف ہو ایسی اہل حدیثیت پر لیکن یہ بات یا جان بوجھ کر کہہ رہا ہے یا ان میں جہالت بطریق اکمل پائی جاتی ہے۔
رابعاغیر مقلدین کے مایہ ناز عالم علامہ وحید الزمان کا احناف مذہب بیان کر کے لکھتے ہیں۔
وقال الاحناف… ثم الاکبر راسا والاصغر قدما
نزل الابرار ج2 ص96
احناف کہتے ہیں… پھر امام اسے بنایا جائے جس کا سر بڑا ہو قدم چھوٹے ہوں۔
یعنی عضو سے وہ مراد نہیں جو ان حضرات نے سمجھا ہے بلکہ قدم وغیرہ مراد ہیں۔
خامساً عضو بدن کے ایسے اندام کو کہتے ہیں جس میں ہڈی ہو اور آلہ تناسل میں تو ہڈی نہیں ہوتی۔ چنانچہ صاحب قاموس لکھتے ہیں:
1۔ والعضو بالضم والکسر کل لحم وافر بعظمہ
القاموس ج1 ص1720
عضو ضمہ اور کسرہ کے ساتھ ہر وہ گوشت جو ہڈی سے ملا ہوا ہو۔
2۔ وقیل ہو کل عظم وافر لحمہ وجمعہا اعضاء
لسان العرب ج5 ص68
کہا گیا ہے کہ عضو) ہر اس ہڈی کو کہتے ہیں جس سے گوشت ملا ہوا ہو اس کا جمع اعضاء ہے۔
3۔ کل عظم وافر من الجسم بلحمہ
المنجد عربی 512
جسم کی ہر وہ ہڈی جس سے گوشت ملا ہوا ہو۔
4۔ ولا یسمی القلب والکبد عضوا الا لنحو تغلیب ذکرہ ابن حجر فی شرح العباب۔
ھامش قاموس ج1 ص1720
دل اور جگر کو عضو نہیں کہا جاتا (کیونکہ اس میں ہڈی نہیں ہوتی) مگر تغلیبًا حافظ ابن حجر نے اسے شرح عباب میں ذکر کیا ہے۔
5۔ ہر گوشت جو ہڈی میں جڑا ہوا ہو۔
مفتاح القرآن 536
معلوم ہوا کہ ان حضرات کا عضو سے آلہ تناسل مراد لینا فقہائے احناف پر عظیم بہتا ن ہے اور یہ
توجیہ القول بما لا یرضی بہ قائلہ
اور مدعی سست گواہ چست والی بات ہے۔
ماخوذ تلاش حق ص31، 36، ترمیم و اضافہ کے ساتھ
جواب نمبر2:
صاحب در مختار نے امامت کا حق دار سب سے پہلے احکام نماز کو زیادہ جاننے والے کو اور اگر احکام صلاۃ کے علم میں سب برابر ہوں تو پھر نمبر دو اچھی تلاوت والے کو، پھر نمبر تین شبہات سے زیادہ بچنے والے کو اگر اس میں بھی برابر ہوں تو پھر معمر کو، پھر اچھے اخلاق والے کو، پھر زیادہ تہجد پڑھنے والے کو، پھر خاندانی خوبیوں والے کو، پھر نسبی شرافت رکھنے والے کو، پھر اچھی آواز والے کو، اگر ان تمام خصلتوں میں برابر ہوں تو پھر اسے جس کی بیوی خوبصورت ہے۔
کیونکہ خوبصورت بیوی کی وجہ سے یہ شخص اجنبی عورتوں سے تعلق نہیں رکھے گا اور زیادہ پاک دامن ہو گا اور علامہ شامی نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ بات ساتھیوں یا رشتہ داروں یا پڑوسیوں کے ذریعے معلوم ہو سکتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہر گز نہیں کہ ہر آدمی اپنی بیوی کی صفات بیان کرے تاکہ اس کی بیوی کا خوبصورت ہونا معلوم ہو۔ غیر مقلدوں کو اگر اس پر اعتراض ہے تو اپنی خوبصورت بیویوں کو طلاق دے دیں اور یہ بات نزل الابرار میں وحید الزماں نے ثم الاحسن زوجۃ کے الفاظ سے صفحہ96 میں ذکر کی ہے۔
تو ہم یہ اعتراض عطائے تو بلقائے تو کہہ کر غیر مقلدین کو واپس کرتے ہیں اس کے بعد زیادہ مال دار، پھر زیادہ مرتبہ والے، پھر زیادہ صاف کپڑے والے کو امامت کا زیادہ حق دار قرار دیا ہے۔ اگر ان تمام صفات میں برابر ہوں تو پھر نزل الابرار کے قول کے مطابق بڑے سر اور چھوٹے قدموں والا زیادہ حق دار ہے جس کی بنا اس مشہور پنجابی مثل پر ہے۔
”سر وڈے سرداراں دے، پیر وڈے گنواراں دے“
یعنی سر کا بڑا ہونا سرداری کی علامت اور پاؤں کا بڑا ہونا گنوار پن کی علامت ہے۔ لیکن در مختار میں قدما کی جگہ الاصغر عضوا کے لفظ ہیں۔ عضو کا معنی جوڑ ہے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اعضاء متناسب ہوں، اس کے لیے سر کا بڑا ہونا اور دوسرے اعضاء کا چھوٹا ہونا یہ اس کے ترکیب مزاج کے خلل کی دلیل ہے جس کو عدم اعتدال عقل لازم ہے۔ تو خلاصہ یہ نکلا کہ امام معتدل عقل والا ہونا چاہیے۔
غیر مقلدین کو اگر یہ چیز اچھی نہیں لگتی تو ان کو پاگل امام مبارک ہوں۔ داؤد ارشد نے در مختار کی شرح کے جس صفحہ کا حوالہ دے کر یہ لکھا ہے کہ شارح فرماتے ہیں کہ مراد اس سے ذکر ہے یہ علامہ شامی پر جھوٹ ہے۔ علامہ شامی نے حاشیہ ابو سعود سے اس کی تردید نقل کی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
حاشیہ ابو سعود میں ہے کہ بعض لوگوں سے اس مقام میں وہ بات نقل کی گئی ہے جو ذکر کے لائق نہیں چہ جائے کہ اس کو کتاب میں لکھا جائے۔ علامہ فرماتے ہیں کہ گویا ابوسعود اس بات کی طرف اشارہ کر رہےہیں جو بیان کی جاتی ہے کہ عضو سے مراد ذکر ہے۔
شامی ص558
تو شارح در مختار تو اس بات کی تردید کر رہے ہیں لیکن غیر مقلد نے اس تردید کی ہوئی بات کو شارح شامی کی طرف بحوالہ صفحہ منسوب کر دیا۔
بے حیاء باش !  ہر چہ خواہی کن!
تفصیل کے لئے دیکھیں: اعتراض نمبر21: شرائط امامت کا مسئلہ
--------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/07/blog-post_36.html


وجوب عدت کی حکمت ومصلحت بیوہ اور طلاق کے اسلامی حقوق

وجوب عدت کی حکمت ومصلحت بیوہ اور طلاق کے اسلامی حقوق

اسلام دین فطرت ہے۔ اس میں فطرت انسانی کے جائز تقاضوں کو کچلا جاتا ہے اور نہ ہی شتر بے مہار کی طرح ہر جگہ منہ مارنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ افراط وتفریط سے یکسر پاک انسان کے تمام تمدنی ومعاشرتی حقوق کی ضمانت شریعت اسلامیہ میں موجود ہے۔مذہب اسلام کا یہ "روشن باب" ہے کہ اس نے "بیوہ" اور "طلاقن" عورتوں کو معاشرہ میں جینے کا ہی نہیں؛ بلکہ "سہاگن" بن کے مکمل جینے کا حق دیا ہے۔ جبکہ دیگر مذاہب، تہذیبوں اورثقافتوں میں ان کے حقوق کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ ہندو ازم نے تو "ستی" کے ذریعہ یا تو بیوہ کو شوہر کی وفات کے ساتھ زندہ جل جانے کی تعلیم دی ہے۔ یا پہر ایسا نہ کرسکنے کی صورت میں انہیں نکاح ثانی کی قطعا اجازت نہیں۔ وہ ساری عمر یوں ہی بیٹھی رہیں گی۔ جبکہ یہودیت میں عدت کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔طلاق یا بیوگی کے فورا بعد وہاں دوسرے شوہر سے نکاح کرلینے کی اجازت یے۔مذاہب عالم میں بطور خاص صرف اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ بیوگی یا طلاق کے موقع سے اس نے ایسے احکام جاری کئے ہیں کہ ان کی رعایت سے نہ انسان کا نسب خراب ہوگا ، نہ اخلاق میں بگاڑ پیدا ہوگا اور نہ ہی حیاء کے خلاف کوئی چیز انجام پائے گی۔ جاہلیت کے زمانہ میں "بیوہ" سال بھر تک سوگ مناتی تھی، بیوہ عورت عام لوگوں کے ساتھ مکان میں نہیں رہ سکتی تھی بلکہ اسے کسی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں ڈال دیا جاتا تھا۔ نہ وہ غسل کرسکتی تھی اور نہ کپڑے تبدیل کرنے کی مجاز تھی۔ اس کو منحوس خیال کیا جاتا تھا۔ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا بھی نہیں کھاسکتی تھی۔ ایک سال گزرنے کے بعد اسے کوٹھڑی سے نکالا جاتا اور گدھے یا اونٹ پر سوار کیا جاتا۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ مرغ یا کوئی دوسرا جانور ایسی عورت کو لاکر دیا جاتا، جسے وہ اپنے اعضائے تناسلیہ کے ساتھ ملتی۔ اکثر اوقات وہ جانور تعفن اور زہریلے جراثیم پیدا ہوجانے کی وجہ سے مرجاتے۔ نہ استنجا، نہ طہارت، پھر اس عورت کے ہاتھ میں اونٹ یا بکری کی مینگنیاں پکڑواتے، وہ اپنے ہاتھ سے مینگنیاں پھینکتی، تو اس کے لواحقین کہتے کہ اب اس کی عدت پوری ہوگئی ہے۔ اب یہ نہا دھوکر صاف لباس پہن سکتی ہے۔ خوشبو استعمال کرسکتی ہے۔ گویا جاہلیت کے زمانہ میں اس قسم کا بُرا دستور تھا۔ 
1488 وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَكُونُ فِي شَرِّ بَيْتِهَا فِي أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا حَوْلًا فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ فَخَرَجَتْ أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا [ص:1126] وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِيحَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ بِالْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي الْكُحْلِ وَحَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُخْرَى مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ تُسَمِّهَا زَيْنَبَ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ صحيح مسلم. 
اسلام کی نظر میں عورت کے حق میں "نکاح" ایک نعمت ہے۔ اس کی عفت وعصمت کا یہ ایک "محافظتی قلعہ" ہے۔ شوہر کی وفات سے عورت کو سخت صدمہ اور نقصان پہنچتا ہے۔ عام حالات میں وفات کے موقع سے تین دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت اسلام میں نہیں ہے۔ لیکن وفات شوہر کی صورت میں ازدواجی تعلقات کے انقطاع سے عورت کو پہنچنے والے اس عظیم ترین صدمہ پہ اظہار تاسف و حسرت کے طور پر عورت پر ایک خاص مدت تک زیب وزینت اور نکاح ودواعی نکاح سے روکا گیا ہے۔ جسے قرآن کی زبان میں "تربص" اور اصطلاحی زبان میں "عدت" کہتے ہیں۔ اگر بیوہ حاملہ ہو تو وضع حمل تک بطور سوگ وحسرت رکی رہیں گی۔ مدت ولادت خواہ کم ہو یا زیادہ۔
وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا۔4/65) اگر بیوہ حاملہ نہ ہو تو ان کے لئے چار ماہ دس دن یا کل ایک سو تیس 130 دن رکے رہنا (عدت) واجب ہے۔ واجب اور فرض میں عملا کوئی فرق نہیں۔ دونوں کا کرنا ضروری ہے۔ صرف ذریعہ ثبوت کا فرق ہوتا ہے۔ عدت وفات کے زمانہ میں بیوہ کے لئے بنائو سنگار سب ناجائز ہے۔ انتظار کی اس مدت کی تجویز میں بنیادی حکمت یہ ہے کہ ایسا کرنے سے اس بات کا یقین ہوجائے گا کہ بیوہ کا رحم وفات یافتہ شوہر کے نطفہ سے مشغول نہیں ہے۔ تاکہ بعد عدت نکاح کرنے کی صورت میں نسل انسانی خلط ملط ہونے سے محفوظ رہ سکے۔ لیکن رشتہ ازدواجی کے انقطاع پہ اظہار حسرت، عدت وفات کے وجوب کی بطور خاص مصلحت ہے۔ کیونکہ وفات کی یہ عدت صغیرہ، آئسہ، مدخولہ اور غیرمخلوبہا سب پر واجب ہے۔حالانکہ صغیرہ ناقابل وطی، اور کبیرہ غیر مدخولہ وغیرہ پہ استبراء رحم کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ لیکن مفارقت زوج پہ حسرت وافسوس ان سب کے حق میں یکساں ہے ۔اس لئے عدت طلاق کی بنسبت، عدت وفات ان سب پر واجب ہے۔ تاکہ مہتم بالشان علاقہ زوجیت کے فقدان پہ سوگ کرسکیں۔ 
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: 234]
(اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تویہ بیویاں اپنی جانوں کو روکے رکھیں چار مہینے دس دن۔)
1222 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ بِهِ ثُمَّ قَالَتْ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا صحيح البخاري
(حضرت زینب سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کسی عورت پر جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن تک سوگ کرے گی۔) حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی عدت وفات کے وجوب کی حکمت و مصلحت بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: 
وإنما عین الشارع فی عدتہا أربعۃ أشہر و عشرا، لأن أربعۃ أشہر ہی ثلاث أربعینات وہی مدۃ تنفخ فیہا الروح فی الجنین (إلی قولہ) وإنما شرع عدۃ المطلقۃ قروء اً وعدۃ المتوفی عنہا زوجہا أربعۃ اشہر و عشرا، لأن ہنالک صاحب الحق قائم بأمرہ ینظر إلی مصلحۃ النسب و یعرف بالمخائل والقرائن فجاز أن تؤمر بما تختص بہ وتؤمن علیہ ولا یمکن للناس أن یعلموا منہا إلا من جہۃ خبرہا و ہٰہنا لیس صاحب الحق موجوداً وغیرہ لا یعرف باطن أمرہا ولایعرف مکائدہا کما یعرف ہو فوجب أن یجعل عدتہا أمرا ظاہرا۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ۲/۱۴۲)
بیوہ عورت کو اگر شوہر نے مہر دین زندگی میں نہ دیا ہو تو بعد وفات وہ شوہر کے ترکہ سے مہر دین وصول کرے گی۔ کیونکہ یہ شوہر کے ذمہ واجبی قرضہ تھا۔ اور واجبی قرضہ کی ادائی اور اجرائے وصیت کے بعد ہی مرنے والے کا ترکہ اس کے ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے۔ مہر دین کے علاوہ رہنے کا گھر اور گزر بسر کے اخراجات کی مد میں شوہر کی متروکہ جائیداد سے عورت کچھ نہیں لے سکتی۔ شوہر جس مکان میں وفات پایا ہے عورت اسی مکان میں عدت گزارے گی۔ وفات کے بعد شوہر کی جائیداد پہ ورثاء کی ملکیت ثابت ہوگئی۔ عورت کا نان نفقہ اس میں واجب نہیں۔ کیونکہ عدت میں بیٹھنا "حق شوہر" کی وجہ سے نہیں، بلکہ "حق شرع" کی وجہ سے ہے۔ ہاں درج ذیل شرعی اور وراثتی اصول کے مطابق وہ جائیداد میں حصہ پائے گی: 
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍتُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ 004:012
ترجمہ:اور تمہارے لیے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کے کوئی اولاد نہ ہو، اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لیے بیویوں کے ترکہ کی چوتھائی ہے۔ وصیت (نکالنے) کے بعد جس کی وہ وصیت کرجائیں یا ادائے قرض کے بعد،۔ اور ان (بیویوں) کے لئے تمہارے ترکہ کی چوتھائی ہے، بشرطیکہ تمہارے کوئی اولاد نہ ہو لیکن اگر تمہارے کچھ اولاد ہو تو ان (بیویوں) کو تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصے ملے گا، بعد وصیت (نکالنے) کے جس کی تم وصیت کرجاؤ یا ادائے قرض کے بعد، اور اگر کوئی مورث مرد ہو یا عورت ایسا ہو جس کے نہ اصول ہوں نہ فروع اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کے لیے ایک چھٹا حصہ ہے اور اگر یہ لوگ اس سے زائد ہوں تو وہ ایک تہائی میں شریک ہوں گے، ف بعد وصیت (نکالنے) کے جس کی وصیت کردی جائے یا ادائے قرض کے بعد بغیر کسی کے نقصان پہنچائے، یہ حکم اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ بڑا علم والا ہے، بڑا بردبار ہے، آیت کریمہ سے پتہ چلتا ہے کہ زوجین میں تقسیم وراثت کے لیے دو صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ میاں بیوی میں سے کسی ایک کی وفات کے وقت یا تو مرنے والے کے زوج کے علاوہ اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی یا اولاد بھی ہوگی۔ دونوں صورتوں میں ایک دوسرے کے حصے کی مقدار مختلف ہوگی ارشاد ہے: ولکم نصف ماترک ازوجکم ان لم یکن لھن ولد۔ اگر تمہاری بیوی کی وفات کے وقت اس کی اولاد نہیں ہے تو اس نے جو کچھ چھوڑا ہے اس میں سے تمہارا نصف حصہ ہے۔ "فان کان لھن ولد" اور اگر بیوی اولاد بھی چھوڑگئی ہے۔ یہ اولاد خواہ موجودہ خاوند سے ہو یا کسی دوسرے خاوند سے اسے وراثت میں حصہ ملے گا۔ لہٰذا "فلکم الربع مماترکن" تمہارا حصہ نصف کی بجائے چوتھا ہوگا ہر اس چیز سے جو انہوں نے چھوڑی اور یہ حصے کب تقسیم ہوں؟ تو فرمایا: "بعد وصیۃ یوصین بھا اودین" اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد جو میت نے کی یا اس قرضہ کی ادائیگی کے بعد جو مت کے ذمہ واجب الادا ہے کفن دفن کے اخراجات، قرضہ کی ادائیگی اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد جو کچھ بچے گا، اس میں سے تمہارے لیے نصف یا چوتھا حصہ ہے۔ باقی جائیداد دوسرے قریبی رشتہ داروں کو ملے گی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اگر خاوند فوت ہوجائے: "ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد" اگر بوقت وفات پس ماندگان میں صرف تمہاری بیویاں ہیں۔ اولاد نہیں ہے تو انہیں تمہاری جائیداد میں سے چوتھا حصہ ملے گا۔ اگر ایک بیوی ہے تو چوتھے حصے کی واحد مالکہ ہوگی اور اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہیں تو کل جائیداد کا چوتھا حصہ سب میں برابر برابر تقسیم ہوجائے گا۔ ہاں! فان کان لکم ولد اگر تم اپنے پیچھے بیوی یا بیویوں کے علاوہ اولاد بھی چھوڑگئے ہیں تو تمہاری جائیداد میں ان کا بھی حق ہے ایسی صورت میں "فلھن الثمن مما ترکتم" بیویوں کا حصہ چوتھے سے کم ہوکر آٹھواں رہ جائے گا۔ اگر ایک ہی بیوی ہے تو آٹھویں حصے کی واحد مالکہ ہوگی اور زیادہ بیویاں ہونے کی صورت میں یہ آٹھواں حصہ سب میں برابر برابر تقسیم ہوجائے گا۔ "من بعد وصیۃ توصون بھا اودین" بنیادی اصول وہی رے گا کہ کل جائیداد میں سے پہلے قرض ادا کیا جائے اگر کوئی ہے اور وصیت پوری کی جائے گی اگر مرنے والے نے کی ہے اور اس کے بعد باقی مال حصہ رسدی تقسیم ہوگا ہر حصہ کے تقرر کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ باربار تاکید فرمائی ہے کہ میت کا قرضہ لازماً ادا کیا جائے اور اس کی وصیت بھی پوری کی جائے۔ ان دونوں چہروں کو تقسیم وراثت پر اولیت حاصل ہے۔ (تفسیر معالم العرفان ملخصا) لیکن نان نفقہ کی مد میں وہ کچھ نہیں لے سکتی۔اگر عورت غریب ہو۔ گزر بسر کا نظم نہ ہو تو اس کے رشتہ دار اس کی مدد کریں ۔یہ بھی نہ ہوسکے تو دن ہی دن معاشی ضروریات اور کام وغیرہ کے لئے باہر نکل سکتی ہے ۔پہر رات میں گھر واپس آنا ضروری ہے۔ شرعی عذر کے بغیر بیوہ کا گھر سے نکلنا شرعی قانون کی خلاف ورزی ہوگی اور وہ سخت گنہگار ہوگی۔ گزران کی صورت نہ ہونا بھی باہر رات گزارنے کے جواز کو ثابت نہیں کرسکتا ۔ہدایہ میں ہے: 
لا نفقۃ لمتوفی عنہا زوجہا لان احتبا سہا لیس لحق الزوج بل لحق الشرع (الہدایۃ' کتاب الطلاق' باب النفقۃ ۲/۴۴۳ ط مکتبہ شرکہ علمیہ ملتان) فی ''بدائع الصنائع'': إن کانت معتدۃ عن وفاۃ فلا سکنیٰ لہا ولا نفقۃ فی مال الزوج ، سواء کانت حائلاً أو حاملاً، فإن النفقۃ فی باب النکاح لا تجب بعقد النکاح دفعۃ واحدۃ کالمہر، وإنما تجب شیئاً فشیئاً علی حسب مرور الزمان، فإذا مات الزوج انتقل ملک أموالہ إلی الورثۃ ، فلا یجوز أن تجب النفقۃ والسکنیٰ فی مال ا لورثۃ ۔ (۴/۴۷۹، کتاب الطلاق ، فصل فی أحکام العدۃ)وفی ''الہدایۃ'' : ولا نفقۃ للمتوفی عنہا زوجہا، لأن احتباسہا لیس لحق الزوج بل لحق الشرع فإن التربص عبارۃ منہا ، ألا تری أن معنی عن براء ۃ الرحم لیس بمراعی فیہ حتی لا یشترط فیہ الحیض فلا تجب نفقتہا علیہ ، ولأن النفقۃ تجب شیئاً فشیئاً ولا ملک لہ بعد الموت، فلا یمکن إیجابہا فی ملک الورثۃ ۔ (۲/۴۴۳؍۴۴۴، کتاب الطلاق ، باب النفقۃ)
درمختار میں ہے: 
ومعتدۃ موت تخرج فی الجدیدین و تبیت أکثر اللیل فی منزلہا لأن نفقتہا علیہا فتحتاج للخروج۔ (شامی، کتاب الطلاق، باب العدۃ زکریا ۵/۲۲۴، کراچی ۳/۵۳۶)والمتوفی عنہا زوجہا تخرج نہارا وبعض اللیل۔ (ہندیہ زکریا قدیم ۱/۵۳۴، جدید ۱/۵۸۶، ہدایہ اشرفی ۲/۴۲۸)وأما المتوفی عنہا زوجہا فلانہ لا نفقۃ لہا فتحتاج إلی الخروج نہارا لطلب المعاش و قد یمتد إلی أن یہجم اللیل۔ (شامی، کتاب الطلاق، باب العدۃ زکریا دیوبند ۵/۲۲۴، کراچی ۳/۵۳۶)ومعتدۃ الموت تخرج یوما و بعض اللیل لتکتسب لأجل قیام المعیشۃ۔ (البحر الرائق کوئٹہ ۴/۱۵۳، زکریا ۴/۲۵۸)
فقط وﷲ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی 24 جنوری 2018 


علماء ومصلحین امت اور ان کے فتنے

علماء ومصلحین امت اور ان کے فتنے
سب سے بڑا صدمہ اس کا ہے کہ مصلحین کی جماعتوں میں جو فتنے آج کل رونما ہورہے ہیں‘ نہایت خطرناک ہیں‘ تفصیل کا موقعہ نہیں‘ لیکن فہرست کے درجہ میں چند باتوں کا ذکر ناگزیر ہے: 
1- مصلحت اندیشی کا فتنہ
 یہ فتنہ آج کل خوب برگ وبار لارہاہے‘ کوئی دینی یا علمی خدمت کی جائے‘ اس میں پیش نظر دنیاوی مصالح رہتے ہیں‘ اس فتنہ کی بنیاد نفاق ہے‘ یہی وجہ ہے کہ بہت سی دینی وعلمی خدمات برکت سے خالی ہیں۔
2- ہر دلعزیزی کا فتنہ 
جوبات کہی جاتی ہے‘ اس میں یہ خیال رہتا ہے کہ کوئی بھی ناراض نہ ہو‘ سب خوش رہیں‘ اس فتنہ کی اساس حب جاہ ہے۔
3- اپنی رائے پر جمود واصرار
 اپنی بات کو صحیح وصواب اور قطعی ویقینی سمجھنا‘ دوسروں کی بات کو درخور اعتناء اور لائق التفات نہ سمجھنا‘ بس یہی یقین کرنا کہ میرا موقف سو فیصد حق اور درست ہے اور دوسرے کی رائے سو فیصد غلط اور باطل- یہ اعجاب بالرائے کا فتنہ ہے اور آج کل سیاسی جماعتیں اس مرض کا شکار ہیں- کوئی جماعت دوسرے کی بات سننا گوارا نہیں کرتی‘ نہ حق دیتی ہے کہ ممکن ہے کہ مخالف کی رائے کسی درجہ میں صحیح ہو یا یہ کہ شاید وہ بھی یہی چاہتے ہوں جو ہم چاہتے ہیں‘ صرف تعبیر اور عنوان کا فرق یا الا ہم فالا ہم کی تعیین کا اختلاف ہو۔ 
4- سوء ظن کا فتنہ
ہرشخص یا ہر جماعت کا خیال یہ ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد مخلص ہے اور ان کی نیت بخیر ہے اور باقی تمام جماعتیں جو ہماری جماعت سے اتفاق نہیں رکھتیں‘ وہ سب خود غرض ہیں‘ ان کی نیت صحیح نہیں‘ بلکہ اغراض پر مبنی ہیں‘ اس کا منشاء بھی عجب وکبر ہے۔ 
5- سوء فہم کا فتنہ
 کوئی شخص کسی مخالف کی بات جب سن لیتا ہے تو فوراً اسے اپنا مخالف سمجھ کر اس سے نہ صرف نفرت کا اظہار کرتا ہے‘ بلکہ مکروہ انداز میں اس کی تردید فرض سمجھی جاتی ہے۔ مخالف کی ایک ایسی بات میں جس کے کئی محمل اور مختلف توجیہات ہوسکتی ہیں‘ وہی توجیہ اختیار کریں گے جس میں اس کی تحقیر وتذلیل ہو‘ کیا ”ان بعض الظن اثم“ ( یقیناً بعض گمان گناہ ہیں) اور ”ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث“ ( بدگمانی سے بچاکرو‘ کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے اور بڑے بڑے جھوٹ اسی سے پیدا ہوتے ہیں) کی نصوص مرفوع العمل ہوچکی ہیں؟․ 
6- بہتان طرازی کا فتنہ 
مخالفین کی تذلیل وتحقیر کرنا‘ بلاسند ان کی طرف گھناؤنی باتیں منسوب کرنا۔ اگر کسی مخالف کی بات ذرا بھی کسی نے نقل کردی‘ بلاتحقیق اس پر یقین کرلینا اور مزے لے لے کر محافل ومجالس کی زینت بنانا‘ بالفرض اگر خود بہتان طرازی نہ بھی کریں‘ دوسروں کی سنی سنائی باتوں کو بلاتحقیق صحیح سمجھنا‘ کیا یہ نص قرآنی ”ان جاء کم فاسق بنباء فتبینوا“ الآیة (اگر آئے تمہارے پاس کوئی گناہ گار خبر لے کر تو تحقیق کرلو) کے خلاف نہیں؟ 
7- جذبہٴ انتقام کا فتنہ 
کسی شخص کو کسی شخص سے عداوت ونفرت یا بدگمانی ہے‘ لیکن خاموش رہتاہے لیکن جب ذرا اقتدار مل جاتاہے ‘ طاقت آجاتی ہے تو پھر خاموشی کا سوال پیدا نہیں ہوتا‘ گویا یہ خاموشی معافی اور درگذر کی وجہ سے نہیں تھی‘ بلکہ بیچارگی وناتوانی اور کمزوری کی وجہ سے تھی‘ جب طاقت آگئی تو انتقام لینا شروع کیا‘ رحم وکرم اور عفو درگذر سب ختم۔ 
8- حب شہرت کا فتنہ 
کوئی دینی یا علمی یا سیاسی کام کیا جائے‘ آرزو یہی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ داد ملے اور تحسین وآفرین کے نعرے بلند ہوں‘ درحقیقت اخلاص کی کمی یا فقدان سے اور خود نمائی ورباکاری کی خواہش سے یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے‘ صحیح کام کرنے والوں میں یہ مرض پیدا ہوگیا اور درحقیقت یہ شرکِ خفی ہے‘ حق تعالیٰ کے دربار میں کسی دینی یا علمی خدمت کا وزن اخلاص سے ہی بڑھتا ہے اور یہی تمام اعمال میں قبول عند اللہ کا معیار ہے‘ اخبارات‘ جلسے‘ جلوس‘ دورے زیادہ تر اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔
9- خطابت یا تقریر کا فتنہ 
یہ فتنہ عام ہوتا جارہا ہے کہ لن ترانیاں انتہا درجہ میں ہوں‘ عملی کام صفر کے درجہ میں ہوں‘ قوالی کا شوق دامن گیر ہے‘ عمل وکردار سے زیادہ واسطہ نہیں۔ ”لم تقولون ما لاتفعلون کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا مالاتفعلون“ ۔ ترجمہ:۔ کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے‘ بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو “۔ (ترجمہ شیخ الہند) خطیب اس انداز سے تقریر کرتا ہے گویا تمام جہاں کا درد اس کے دل میں ہے‘ لیکن جب عملی زندگی سے نسبت کی جائے تو درجہ صفر ہوتا ہے۔ 
10- پروپیگنڈہ کا فتنہ 
جو جماعتیں وجود میں آئی ہیں‘ خصوصاً سیاسی جماعتیں ان میں غلط پروپیگنڈہ اور واقعات کے خلاف جوڑ توڑ کی وبا اتنی پھیل گئی ہے جس میں نہ دین ہے اور نہ اخلاق‘ نہ عقل ہے نہ انصاف‘ محض یورپ کی دین باختہ تہذیب کی نقالی ہے‘ اخبارات‘ اشتہارات ریڈیو‘ ٹیلی ویژن‘ تمام اس کے مظاہر ہیں۔ 
11- مجلس سازی کا فتنہ 
چند اشخاص کسی بات پر متفق ہوگئے یا کسی جماعت سے اختلاف رائے ہوگیا‘ فوراً اخبار نکالا جاتا ہے بیانات چھپتے ہیں کہ اسلام اور ملک ‘ بس ہماری جماعت کے دم قدم سے باقی رہ سکتا ہے۔ نہایت دل کش عنوانات اور جاذبِ نظر الفاظ وکلمات سے قرار دادیں اور تجویزیں چھپنے لگتی ہیں‘ امت میں تفرق وانتشار اور گروہ بندی کی آفت اسی راستے سے آئی ہے۔ 
12- عصبیت جاہلیت کا فتنہ 
اپنی پارٹی کی ہربات خواہ وہ کیسی ہی غلط ہو‘ اس کی حمایت وتائید کی جاتی ہے اور مخالف کی ہربات پر تنقید کرنا سب سے اہم فرض سمجھا جاتا ہے‘ مدعئی اسلام جماعتوں کے اخبار ورسائل‘ تصویریں‘ کا رٹون‘ سینما کے اشتہار‘ سود اور قمار کے اشتہار اور گندے مضامین شائع کرتے ہیں‘ مگر چونکہ ”اپنی جماعت “ کے حامی ہیں‘ اس لئے جاہلی تعصب کی بنا پر ان سب کو بنظر استحسان دیکھا جاتاہے‘ الغرض جو اپنا حامی ہو وہ تمام بدکرداریوں کے باوجود پکا مسلمان ہے اور جو اپنا مخالف ہو‘ اس کا نماز روزہ کا بھی مذاق اڑایاجاتاہے۔ 
13- حب مال کا فتنہ 
حدیث میں تو آیاہے کہ ”حب الدنیا رأس کل خطیئہ“ دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے‘ حقیقت میں تمام فتنوں کا قدر مشترک حب جاہ یا حب مال ہے‘ بہت سے حضرات ”ربنا آتنا فی الدنیا حسنة“ کو دنیا کی جستجو اور محبت کے لئے دلیل بناتے ہیں‘ حالانکہ بات واضح ہے کہ ایک ہے دنیا سے تعلق اور ضروریات کا حصول- اس سے انکار نہیں‘ نیز ایک ہے طبعی محبت ‘ جو مال اور آسائش سے ہوتی ہے‘ اس سے بھی انکار نہیں‘ مقصد تو یہ ہے کہ حب دنیا یا حب مال کا اتنا غلبہ نہ ہو کہ شریعت محمدیہ اور دین اسلام کے تمام تقاضے ختم یا مغلوب ہوجائیں‘ اقتصاد واعتدال کی ضرورت ہے‘ عوام سے شکایت کیا کی جائے‘ آج کل عوام سے یہ فتنہ گذر کر خواص کے قلوب میں بھی آرہاہے‘ الا ماشاء اللہ! اس فتنے کی تفصیلات کے لئے ایک طویل مقالے کی ضرورت ہے‘ حق تعالیٰ توفیق عطا فرمائے‘ ہم ان مختصر اشاروں کو حضرت رسول اللہ کی محبت کی ایک دعا پر ختم کرتے ہیں:
 ”اللہم! رزقنی حبک وحب من یحبک وحب عمل یقربنی الیک‘ اللہم ما رزقتنی مما احب فا جعلہ قوة فیما یحب وما زویت عنی مما احب فاجعلہ فراغاً لی فیما تحب‘ اللہم اجعل حبک احب الاشیاء الیّ من نفسی واہلی ومن الماء البارد“
از قلم : محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ  
------------------------------------------------------------------------------
فتنوں سے حفاظت کے دو طریقے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں فتنوں سے حفاظت اور پناہ کی دعا مانگتے تھے، وہیں یہ دعا بھی مانگتے تھے کہ یااللہ! جب تو کسی قوم کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنہ میں ڈالے بغیر اٹھالینا۔ گویا فتنوں سے حفاظت کے دو طریقے ہیں:
۱-  اللہ تبارک وتعالیٰ فتنے کے زمانہ سے پہلے اٹھالے۔
۲- فتنوں کے زمانے میں ہونے کے باوجود اللہ کریم اپنی رحمت سے فتنوں سے محفوظ فرمادے۔ ہم لوگ فتنوں کے زمانے میں موجود ہیں؛ اس لیے پہلی صورت تو ممکن نہیں؛ البتہ دوسری صورت ممکن ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور وہ اپنی رحمت کاملہ سے ہمیں فتنوں سے محفوظ فرمالے۔
خارجی وداخلی فتنوں، آپس کے خلفشار اور باہمی تنازعات سے حفاظت کے لیے ہمیں جواقدامات کرنے چاہئیں وہ یہ ہیں:
۱-  اکابر پر مضبوط اعتماد۔
۲- علماء، فقہاء اور اہلِ دین سے حسنِ ظن۔
 ۳-کسی صاحبِ نسبت سے گہرا تعلق۔
 ۴- رجوع الی اللہ کا اہتمام۔
۵- اہل خیر وصلاح سے مشورہ۔
۶- اعتدال پسندی۔
۷- بلاتحقیق بات قبول کرنے یا پھیلانے سے احتراز۔
 ۸- اکرام واحترام مسلم۔
۹- باہمی اختلاف وانتشار یا اس کے اسباب سے کلی پرہیز۔
علماء ومصلحین کے لیے ایمان وتقویٰ، اخلاص وعمل، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، امت کی اصلاح کے لیے تڑپ، گروہ بندی اور افتراق سے پرہیز ․․․․ اورعلمی فتنوں کی سرکوبی کے لیے ٹھوس علمِ دین، جدید علمِ کلام، جدید سائنس، معلوماتِ عامہ، حسنِ تحریر، شگفتہ بیانی، سنجیدہ متوازن دماغ، پیہم کوشش اور صالح وموٴثر لٹریچر کا حصول نہایت ضروری ہے۔ 
-----------------------------------------------------------

اللہ کے رسول ﷺ بحیثیت داماد

اللہ کے رسول ﷺ بحیثیت داماد
    
اللہ تعالیٰ نے حق وصول کرنے کے بجائے حق ادا کرنے کی تاکید کی ہے ،حقوق کو وصول کرنے کی بجائے حق کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے
بخا ری: باب الطیب للجمع، صحیح ابن حبان میں ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غار ثور میں جب نظر اٹھاکر دیکھا تو آپؓ کو پتہ چلا کہ قدموں کے نشانات کی تتبع کرتے ہوئے مشرکین مکہ یہاں تک پہنچ چکے ہیں۔ گھبرا کر حضرت ابوبکرؓ نے کہا: اے اللہ کے سول ﷺ! ہم لوگ غار میں ہیں، اگر اُن میں سے کسی نے اپنے قدم کے نیچے کی طرف دیکھ لیا تو ہم پکڑے جائینگے، اللہ کے رسول ﷺ نے بڑے ہی اطمینان کے ساتھ فرمایا: ’’اے ابوبکر! تمہارا کیا خیا ل ہے اُن 2 آدمیوں کے بارے میں جس کا تیسرا اللہ رب العالمین ہے۔‘‘ اور قرآنِ مقدس نے خود کہا: لا تحزن ان اللہ معنا ’’غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘ (التوبہ40)۔
نبی کریم ﷺ کا قول حضرت ابوبکر ؓکے تسلّی و تشفّی کے لئے تھا اور جب آپ ﷺ نے ہجر ت کا سفر شروع کیا تو آپ کی سالیٔ محترمہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓکے سلسلہ میں ابن سعد نے ذکر کیا ہے: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کھانا تیار کرکے لے جایا کرتی تھیں، اور جب توشہ دان کا منھ باندھنا ہوا تو اپنی کمر کا پٹہ (کپڑا) پھاڑ کر 2 حصہ کردیے اور اس سے توشہ دان باندھ دیا، اور اس وجہ سے سیدہ اسماء کو ذات النطاقین کا لقب بھی ملا (الطبقات ابن سعد: ذکر الغار ولہجرہ الی المدینہ)۔
جلال الدین قاسمی فرماتے ہیںکہ عمرہ پر گیا تھا توجبل ثوربھی گیا۔ جب میں نے نگاہ اوپر اٹھائی تو میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے یہ سوچکر کہ ایک صنف نازک آپ ﷺ کی سالی سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کس طرح چھپ چھپا کر مکہ سے چل کر، وہ بھی پیدل ودشوار گزار راستوں کو عبور کرتے ہوئے، اس پہاڑ کے اوپر کیسے چڑھیں اور ٹفن کیسے پہنچادیا ... تو ہجرت کی راہ میں قربانیاں آپ ﷺکے سسرال والوں نے دیں۔ ایک طرف سسر ہے تو دوسری طرف سالی ہے۔ اور ایسا ہی حال حضرت مو سیٰ علیہ السلام کا بھی تھا کیونکہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور نبی ﷺ کی زندگی بہت حد تک ایک دوسرے کے امتیوں سے مشابہ ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی بے یار ومددگار مصر سے نکلنے پر مجبور ہوئے تھے۔ ہمارے نبی ﷺ بھی جب مکہ سے نکلے تو چاروں طرف خطرہ ہی خطرہ تھا۔ پکڑے جانے کا خطرہ ہے۔ تلواروں کے سایہ میں آپﷺ نے راستہ نکالا۔ اسی طریقہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھی حال تھا۔
جیساکہ اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا: ’’اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہنے لگے: مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ لے چلے گا۔‘‘ (القصص 22 )۔ یہی حال نبی کریم ﷺ کا بھی تھا۔ خوف کے عالم میں آپ ﷺنے ہجرت کا سفر شروع کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی خوف کی حالت میں مصر سے روانگی کی اور بے یار ومددگار جب شہر مدین میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت شعیب علیہ السلام کے گھر پہنچادیا۔ حضرت شعیب ؑ نے اپنی بیٹی سے انکا نکاح فرمایا۔ وہاں ان کو لڑکی بھی مل گئی، یعنی بیوی مل گئی اور دوسرے پیٹ بھرنے کا ذریعہ بھی اللہ رب العالمین نے دے دیا، تو جب حضرت موسیٰ ؑ بے یارومددگار تھے تو اس وقت ان کے سسرال کے لوگوں نے ان کا ساتھ دیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے داماد ہیں۔ انہوں نے اللہ کے راستے میں کتنا مال خرچ کیا وہ ہم سے مخفی ہے۔
اس کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن مقدس میں جہاں بھی حقوق وفرائض کی آیت ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے حق کو وصول کرنے کے بجائے حق کو اداکرنے کی زیادہ تاکید کی ہے تاکہ کسی کے اوپر تمہارا حق ہو تو اس کو وصول کرلو، طریقہ کچھ بھی ہو،بلکہ حقوق کو وصول کرنے بجائے حق کو اداکرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ رب العالمین کا ارشاد مبارک ہے: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں تاکید ی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچادو، اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل و انصاف سے فیصلہ کرو۔‘‘ (النساء58)۔ اللہ رب العالمین نے یہ نہیں کہا کہ اگر تمہارا حق کسی پر ہوتو جبراً وہ حق تم وصول کرلو۔طریقہ کچھ بھی ہو بلکہ حقوق کو اصول کرنے کی بجائے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ فرمایا: ’’اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو انکی امانتیں ادا کردو، قرابت داروں کو ان کا حق دیدو ۔‘‘ کہیں یہ نہیں کہا کہ اگر تمہارا حق کسی کے اوپر ہو تو جبرا ًوہ حق تم وصول کرلو، تو جب حقوق کی ادائیگی کی تاکید کی گئی ہے تو ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم نسبی رشتوں کی بھی حفاظت کریں اور جو لوگ نسبی رشتوں سے ہم سے جڑے ہوئے ہیں ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔ ان کے بھی حقوق کا ہم پاس ولحاظ کریں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سلسلہ میں آپ کو معلوم ہوگا کہ رسولﷺ کی یکے بعد دیگرے 2 بیٹیاں انکے عقد میں تھیں، یعنی سیدہ ام کلثوم اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہما۔ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’اگر میرے پاس 10 بیٹیا ں ہوتیں تو یکے بعد دیگرے (حضرت) عثمان کی نکاح میں دیدیتا۔‘‘
آپ ﷺ کی اس بات سے کیا پتہ چلا ؟ پتہ یہ چلا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی بیویوں کے تعلق سے بہت ہی عظیم ہستی تھے۔ آپ سیرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پڑھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہی وہ داماد ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی دونوں بیٹیوں کے سلسلہ میں کبھی کوئی شکایت محمد ﷺ کے یہاں لے کر نہیں آئے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ داماد کو سسر کی بیٹی یعنی اپنی بیوی کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنا چاہئے۔ حتی الامکان وہ یہ کوسش کرے کہ اسکی ذات سے بیوی کے واسطہ سے سسر یا ساس کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ایک داما د کو اسی طرح سے ہونا چاہئے۔ ایک بارسیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا جو ایک یہودی حیی بنت اخطب کی بیٹی ہیں اور آپ ﷺ کی بیوی بھی ہیں، جنگ خیبر کے موقع پر آپ ﷺ نے ان سے شادی فرمائی۔ ان کے کمرے میں آپ ﷺ تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ زار وقطار رورہی ہیں۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ صفیہ کیوں رورہی ہو؟ کہا کہ زینب جو آپ کی بیوی ہیں وہ کہہ رہی تھیں کہ ہمارا تعلق نبی کریم ﷺ سے نسبی ہے، لہذا فضیلت میں ہم تم سے بڑھ کر ہیں۔ تم فضیلت میں ہمارے برابر نہیں ہوسکتیں اور ہم سے بڑھ نہیں سکتیں۔ فورا ًنبی کریم ﷺ نے ان سے یہ کہا کہ: ارے !تم نے یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ تم مجھ سے فضیلت میں کیسے بڑھ کر ہوسکتی ہو جبکہ میرا باپ ہارون اور میرے چچا موسیٰ اور میرے شوہر حضرت محمد ﷺ ہیں۔ اس واقعہ پر ذرا غور فرمائیے! تو ہم کو ایک معاشرتی زندگی کا عجیب وغریب نکتہ اور سبق ملتا ہے۔ وہ نکتہ اور سبق یہ ہے کہ ایک طرف تو رسول اللہ ﷺ اپنی بیوی کے جذبات کا احترام کر رہے ہیں،تو دوسری طرف ان کے خاندان کے لوگوں کی تکریم فرمارہے ہیں تاکہ بیوی کو یہ احساس ہو کہ اس گھر میں شوہر کی نظر میں میری بڑی عزت ہے، بڑی تکریم ہے اور اس گھر کے اندر میرے والدین اور میرے گھر والوں کی بھی بڑی عزت ہے۔ یہ اس لئے کہ انتہائی قلبی مسرت اور انتہائی قلبی راحت کا باعث ہے۔ آپﷺ نے خود سیدہ صفیہ کی تکریم فرمائی کہ تم فضیلت میں ان سے بڑھ کر کیسے ہوسکتی ہو، اور دوسرے آپکے خاندان والوں کی آپ ﷺنے اس طرح تکریم فرمائی کہ تمہارا باپ ہارون ؑ اور تمہارے چچا موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم میں سسرالی رشتے سے جو منسلک ہیں ان کا ادب واحترام کریں۔ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا جو نبی کریم ﷺ کی ایک زوجۂ محترمہ ہیں، ایک بار انہوں نے ایک لونڈی آزاد کی۔
مسلم شریف کی روایت ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم نے لونڈی آزاد کردی، تم نے اپنے ماموں کو دے دیا ہوتا،لیکن بخاری شریف کی روایت میں" اختک" کا لفظ ہے، کہ اگر تم نے اس لونڈی کو آزاد کرنے کی بجائے اپنی بہن کو دیدیتیں اور تمہاری بہن اس سے فائد ہ اٹھاتیں تو تمہار ااجر بڑھ جا تا۔ قارئین کرام آپ دیکھ رہے ہیں ! اپنی سالی کو وہ لونڈی دینے کی بات محمد ﷺ کر رہے ہیں۔ اگر اس لونڈی کو آزاد کرنے کی بجائے میری سالی یعنی تم اپنی بہن کو دیدیتیں تو تمہارا اجر بڑھ جاتا۔ اس سے یہ پتہ چلا کہ نبی کریم ﷺ سسرالی رشتہ کا کس قدر خیال رکھتے تھے۔ حضرت جویریہ بنت حارث ،یہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں۔ غزوہ بنی مصطلق میںجب بنو مصطلق والو ں کو شکست ہوئی تو خود وہ کتابت لے کر آئیں، نبی ﷺ نے ان سے شادی فرمائی،او ر جیسے ہی آپﷺ نے ان سے شادی فرمائی آپﷺ نے اعلان کردیاکہ غزوہ بنی مصطلق کے جتنے لوگ جویریہ کے خاندان و قبیلہ کے ہیں، تمام قیدی آزاد کردیئے جائیں۔ آپ ﷺ نے ان کے قبیلہ کے تمام قیدیوں کو آزاد کردیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ میں نے جویریہ سے بہتر اپنی قوم کے لئے اس سے زیادہ بابرکت ہستی نہیں دیکھی کہ ان کی وجہ سے ان کے قبیلے کے لوگوں کو اللہ کے رسول ﷺ نے آزادی دیدی۔
یہ تو تھا شوہر کا معاملہ۔ داماد کا معاملہ کہ داماد اپنے سسرال والوں کے ساتھ کیا سلوک کرے۔ سسرال والوں کا کیا فریضہ بنتا ہے کہ داماد کے تعلق سے اس سلسلہ میں بھی نبی کریم ﷺ کی سیرت اٹھا کر دیکھئے۔ اسلام میں اس رشتے کی بنیاد انتہائی پائیدار ہے۔ اس کے لئے مرد وعورت دونوں پرذمہ داریاں اور ایک دوسرے پر دونوں کے جائز حقوق متعین کئے گئے ہیں جن سے خاندان کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور معاشرہ میں امن وسکون کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ گھر میں بیوی اور اولادایک امانت ہے۔ اسلامی خطوط پر ان کی تربیت کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ کل قیامت کے دن آپ کو اپنے ماتحتوں کے متعلق جواب دینا ہے اس لئے اپنے آپ کو ایک ذمہ دار اوردیندارشوہر بنائیں، اپنی بیوی کو پاکباز اور تقویٰ شعار بیوی بنائیں، اپنے بچوں کوایک نیک اورفرمانبردار اولاد بنائیں اوراپنے گھرکو ایک مثالی گھر بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق بخشے۔ آمین یارب العالمین۔
محمد عباس انصاری۔ نئی دہلی 
----------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/07/2-40-2.html


داماد اور سسرال؛ عزت و احترام کی حفاظت

داماد اور سسرال؛ عزت و احترام کی حفاظت
اسلام ہمیں  باہمی تعلقات و رشتہ داریوں کو نبھانے اور ان کا پاس و لحاظ رکھنے کی تعلیم دیتا ہے، رشتوں میں سے سسرالی رشتے کی بڑی اہمیت ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
(هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًاؕ)
اسلام کے معاشرتی نظام میں خاندان کواساسی حیثیت حاصل ہے۔ خاندان کا استحکام ہی تمدن کےاستحکام کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام کے نصابِ حیات قرآن وحدیث میں خاندان کی تشکیل وتعمیر کے لیے واضح احکام وہدایات ملتی ہیں۔ قرآنِ پاک میں سورۃ النساء اسی موضوع کی نمائندگی کرتی ہے۔ نکاح وہ تقریب ِ باوقار ہے جس سےخاندان کےاساسی ارکان مرد وعورت کےسسرال کا 
رشتہ ظہور میں آتا ہے۔ اسلام انسانی رشتوں میں باہمی محبت، احترام، وفا، خلوص، ہمدردی، ایثار، عدل، احسان، اور باہمی تعاون کا درس دیتا ہے میکے ہوں یا سسرال دونوں اپنی جگہ محترم ہیں دونوں اانسان کی بنیادی ضرورت نکاح کےاظہار کا نام ہیں ۔دونوں ہر گھر کی تنظیمی عمارت کا بنیادی ستون ہیں۔مرد وعورت پر سسرال کے حقوق کی ادائیگی اسی طرح یکساں فرض ہے جس طرح ان دونوں کی اپنی ذات کے حقوق ایک دوسرے پر یکساں فرض ہیں اگر دونوں میں سے کوئی ایک چاہتا ہے کہ اس کا شریکِ زندگی اس کے اقربا سے اچھا سلوک کرے تو اپنے زوج کے اقرباء سےاچھا سلوک کرنا اس کا اپنا بھی فرض ہے۔
 سسرال میں عزت بنانا:
داماد اور سسرال والوں کے تعلق پر میرا اپنا ایک الگ نظریہ ہے۔ میں محض اپنا نظریہ آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کررہا ہوں، میری تمام باتوں سے آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں کیوں کہ ان باتوں کا اسلامی احکامات سے کوئی تعلق نہیں سواۓ ایک یا دو باتوں کے، ایسا نا ہو کہ کوئی سسرال سے جلا ہوا داماد اٹھ کھڑا ہو کہ جمیل صاحب دلیل دیں۔
میرا ایسا ماننا ہے کہ سسرال میں عزت بنانا خود داماد کے ہاتھ میں ہوتا یے، ایک داماد جب سسرال میں جاتا یے تو اس کی نقل و حرکت کا سسرال والوں پر گہرا اثر ہوتا ہے۔
اگر ایک داماد اپنی بیوی کو لیکر میکے جاتا ہے تو ہر بار اسے سسرال میں کھانا کھانے سے گریز کرنا چاہئے، چاۓ یا کولڈ ڈرنک پر گذارا کرے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر شوہر سال میں چار مرتبہ بیوی کو لیکر سسرال گیا ہے تو اسے چار میں سے تین بار، یا تین میں سے دو بار چاۓ یا کولڈ ڈرنک پر گذارا کرنا چاہئے اور ایک بار کھانا کھانے پر اکتفا کرنا چاہئے۔
داماد جب سسرال جاۓ تو ضرورت کے تحت یہاں سے وہاں حرکت کرے، ایسا نا ہو کہ پانچ منٹ اِس کمرے میں تو پانچ منٹ اُس کمرے میں، ایک آنکھ یہاں تو دوسری آنکھ وہاں، جہاں بیٹھے آخر وقت تک وہیں بیٹھا رہے، بلا ضرورت یہاں وہاں آنے جانے سے اچھے تاثرات مرتب نہیں ہوتے۔ سسرال جانے کے بعد صرف ساس اور سسر اور بیوی کے بھایئوں کے ساتھ مصروفِ گفتگو رہے، بیوی کی بہنوں سے مکمل پردہ کرے، بیوی کی بہنوں سے پردہ شرعی حکم ہے،
بیوی کی بہن کو صرف سلام کا جواب دے دیا جاۓ۔ لمبی کچہری، گپے لڑانا، ہنسی مذاق شرعی اعتبار سے اور دنیاوی اعتبار سے نقصاندہ ثابت ہوگا۔ ایک داماد کو سسرال میں رات نہیں گذارنی چاہئے، کبھی بہت زیادہ مجبوری پیش آجاۓ تو الگ بات ہے لیکن بلاوجہ، بلا عذر ایک داماد کو سسرال میں رات نہیں گذارنی چاہئے، خواہ بیوی کے بھائی کی شادی ہو، بیوی کی بہن کی شادی ہو یا کوئی بھی بڑی تقریب منعقد ہو داماد کو سسرال میں رات نہیں گذارنی چاہئے، اگر بہت زیادہ مجبوری میں رات رکنا پڑجاۓ تو کوئی مضائقہ نہیں۔
ساس سسر کے ساتھ نہایت ادب و آداب سے گفتگو کی جاۓ اور بیوی کے بھایئوں کو آپ کہ کر پکارا جاۓ۔
سسرال میں بلا ضرورت نا لیٹیں، اگر کمرے میں کوئی نہیں تو تھوڑی دیر کمر سیدھی کرنے کے لئے لیٹ جانے میں کوئی حرج نہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ گھر آکر کمر سیدھی کی جاۓ۔
سسرال جاتے وقت سسرال والوں کے لئے مٹھائی، کیک یا فروٹ وغیرہ ضرور لیتے جائیں۔
بیوی میکے میں ہے تو بے وقت بیوی کو فون نا کیا جاۓ، میکے میں بیوی کو بے وقت فون کرنے اور لمبی گفتگو سے انسان سسرال والوں کی نظر میں اپنا معیار گرادیتا ہے، ہاں اگر ضروری کام یا ضروری بات کرنی ہو تو کسی بھی وقت بیوی سے رابطہ کیا جاسکتا یے۔
کوشش کی جاۓ کہ بیوی کو زیادہ دن میکے میں نا چھوڑا جاۓ، بیوی زیادہ دن میکے میں اچھی نہیں لگتی۔
بیوی کو میکے چھوڑتے وقت اسے تمام ضروریات وغیرہ کا مکمل خرچہ دیا جاۓ، شادی کے بعد بیوی کا میکے والوں سے پیسوں کے لئے سوال غیر مناسب یے۔
ہر بار بیوی کی میکے جانے والی درخواست قبول نا کی جاۓ کہ جب بیوی کا دل کیا اور شوہر نے میکے بھیج دیا، ہاں اگر بیوی لمبے عرصے بعد جاتی ہے تو پھر میکے بھیجنے میں دیر نا کی جائے۔ یہ چند باتیں تھیں جو اپ کے سامنے پیش کیں، ان تمام باتوں پر اپنے والد صاحب کو عمل کرتے ہوۓ دیکھا تو میرے دل میں یہ باتیں اترتی گئیں۔
سسرالی رشتے کا ادب و احترام: 
سسرالی رشتے کا ادب و احترام خود سرکارِ دوعالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک فرمان سے ملتا ہے چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: تم مصر فتح کرو گے، جب تم اسے فتح کرو تو وہاں کے لوگوں سے بھلائی کرنا کیونکہ ان (اہلِ مصر) کا احترام ہے اور قرابت داری ہے یا فرمایا کہ سسرالی رشتہ ہے۔ (مسلم، ص1056، حدیث:6494)
یعنی اگرچہ مصر والے معامَلات میں سَخْت ہیں ان کے مِزاج بھی سَخْت ہیں طبیعت بھی تیز ہے مگر تم ان کی سختی برداشت کرنا ان سے برتاؤ اچھا کرنا ان کی سختی کا بدلہ نَرْمی سے کرنا، (کیونکہ ) ہم کو مصر والوں سے دو طرح تعلّق ہے ایک یہ کہ (حضرتِ سیّدتنا) ماریہ قِبْطِیہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) مصر سے آئی تھیں جن کے بَطْن شریف سے (حضرت سیّدنا) ابراہیم ابنِ رسول اﷲ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) پیدا ہوئے، دوسرا تعلق یہ ہے کہ حضرتِ ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مصر ہی سے تھیں، وہ ہماری دادی کا وطن ہے لہذا ان لوگوں سے ہماری قرابت داری بھی ہے۔ مسلمان کو چاہئے کہ اپنے نسبی رشتہ کی طرح سسرالی رشتہ کا بھی احترام کرے، ساس سسر کو اپنا ماں باپ سمجھے،ان کے قرابت داروں کو اپنا عزیز  جانے بلکہ ان کی بستی کا، وہاں کے باشندوں کا احترام کرے کہ وہ ساس و سسر کے ہم وطن ہیں۔ چنانچہ جب حضرت سیّدنا عَمْروبِن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سپہ سالاری میں صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے مصر کا محاصرہ کیا  تو  حملہ کرنے سے پہلے اعلان کیا: ”ہمیں رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے قِبْطِیوں (اہلِ مصر) کے ساتھ بھلائی کا حکم دیا ہے  کیونکہ ان  کا احتِرام ہے اور قرابت داری ہے “۔یہ سن کر ان کے راہِبوں نے کہا: ”اس قدر دُور کی قرابت داری کا لحاظ تو انبیا اور انبیا کے پیروکار ہی کرتے ہیں“۔ (تاریخ طبری، ج 4، ص 107)
اسی طرح سُسْرالی رشتے کی عزّت و توقیر کا ایک مُظاہِرہ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے غزوۂ مُرَیْسِیْع کے موقع پر بھی کیا، چنانچہ جب غزوۂ مریسیع کے موقع پر قبیلہ بنی مُصْطَلِقْ کے لوگ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان  کے قیدی تھے اور رسولِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس قبیلے کے سردار کی بیٹی  حضرت سیدتنا جویریہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نکاح فرماکر انہیں امّہاتُ الْمؤمنین میں شامل فرمایا تو صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے ”اَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (یعنی یہ ہمارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سسرالی رشتے دار ہیں)“ کہتے ہوئے سب قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ (ابوداؤد، ج 4، ص 30، حدیث: 3931 ماخوذاً)
ایک داماد کو سسرال کے حق میں کیسا ہونا چاہئے؟ 
(1) داماد کو نیک  سیرت،بااخلاق،خوش مزاج اور خیرخواہ ہونا چاہئے۔
(2) بعض داماد سسرال جاتے ہیں تو ایسی ٹھاٹھ باٹھ سے جاتے ہیں جیسے یہ بادشاہ سلامت ہیں اور سسرال والے ان کی رعایا، پھر وہاں جاکر ایک کے بعد دوسرا حکم ان کی زبان پر جاری ہوجاتا ہے اور جہاں ذرا بھی حکم عدولی ہوئی مابدولت کے ماتھے پر سِلْوٹیں آگئیں اور ایسے ناراض ہوتے ہیں کہ بات چیت تک ختْم کرکے بیوی کو میکے جانے سے روک دیتے ہیں، ایسا  کرنا شَرْعی و اخلاقی اعتبار سے انتہائی نامناسب ہے۔
(3) داماد کو چاہئے کہ ساس اور سسر کو اپنے ماں باپ کی طرح سمجھے اور عزّت کرے۔ یاد رکھو کہ دنیا میں انسان کے چار باپ ہوتے ہیں: ایک تو حقیقی باپ، دوسرے اپنا سسر، تیسرے اپنا استاد، چوتھے اپنا استاذ۔ اگر تم نے اپنے سسر کو بُرا کہا تو سمجھ لو کہ اپنے باپ کو برا کہا۔ (اسلامی زندگی، ص68) 
(4) سسرال میں کوئی بیمار ہو بِالخصوص ساس یا سسر اور انہیں اپنی بیٹی کی خدمت کی حاجت ہو تو داماد کو چاہئے کہ بیوی کو ان کے پاس جانے دے۔ 
(5) انہیں کسی کام میں  اس (یعنی داماد) کی ضَرورت ہوتو اچّھے مشورے دے اور ممکن ہو تو آگے بڑھ کر کام کروائے۔ 
(6) ان کی خوشی و غمی میں حتّی الْامکان شرکت کرے۔ 
(7) سسرال والے مالی مشکلات کا شکار ہوں اور داماد استطاعت رکھتا ہو تو ان کی مدد کرے۔ 
(8) ان کے ساتھ (شَرْعی اجازت کے ساتھ) کچھ نہ کچھ تحفوں کا تبادلہ کرتا رہے تاکہ آپس میں محبت قائم رہے۔ 
(9) سسرال اور والدین کی آپس میں کوئی ناچاقی ہوجائے تو جانبداری سے کام نہ لے بلکہ دونوں طرف مُثبت انداز اختیِار کرے اور باہمی صُلْح اور خوشگوار تعلّقات کی کوشش کرے۔ 
(10) سسرال والے اگر امیر ہوں تو ان کے مال پر نظر نہ رکھے اور اپنے اندر خود داری پیدا کرے۔ 
(11) سسرال کی حمایت میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی یا  اِن کی حمایت میں سسرال کی مخالفت ہرگزنہ کرے، اپنا پرایا خاندان نہ دیکھے بلکہ یہ دیکھے کہ دونوں طرف مسلمان ہیں۔ 
(12) ہمیشہ سسرال ہی میں نہ پڑا رہے بلکہ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور رشتے داروں پر بھی توجہ رکھے، اسی طرح ہر دوسرے دن بلاوجہ آنا جانا بھی قدر کھو دیتا ہے اس کا بھی خیال رکھے، نہ تو ہر روز سسرال چلا  رہے اور نہ ہی برسوں کی دوری رکھے۔ 
(13) سسرال سے ہمدردی و حسن سلوک کے ساتھ ساتھ شریعت کی پاسداری بھی ضَروری ہے لہٰذا سسرال کے نامحرم رشتہ داروں سے ضَرور پردہ کرے۔ 
(14) ماں باپ اپنی بیٹی کو جہیز میں جو چاہیں دیں، لیکن داماد کا خود کسی چیز کا مطالبہ کرنا انتہائی نامناسب ہے بلکہ اکثر صورتوں میں رشوت ہے، ایسے داماد کبھی بھی سسرال کی نظر میں مُعزّز نہیں ہوسکتے،  کئی دفعہ تو ایسے مطالبات کی بنیاد پر رشتے مکمل ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔



Monday, 8 July 2019

لمحاتِ زندگی کو قیمتی بنانے کا مجرب نسخہ

لمحاتِ زندگی کو قیمتی بنانے کا مجرب نسخہ


ایک اور بات تجربہ کی بتاتا ہوں، وہ یہ کہ فجر کی نماز پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو کہ:
یا اللہ! یہ دن طلوع ہورہا ہے، اور اب کارزارِ زندگی میں داخل ہونے والا ہوں، اے اللہ ! اپنے فضل وکرم سے اس دن کے لمحات کو صحیح مصرف پر خرچ کرنے کی توفیق عطا فرما، کہ کہیں وقت ضائع نہ ہوجائے، کسی نہ کسی خیر کے کام میں صرف ہوجائے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے کہ:

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَقَالَنَا یَوْمَنَا ہٰذَا وَلَمْ یُہْلِکْنَا بِذُنُوْبِنَا۔ 
یعنی اس اللہ کا شکر ہے جس نے یہ دن ہمیں دوبارہ عطا فرما دیا، اور ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں ہلاک نہیں کیا ۔ ہر روز سورج نکلتے وقت یہ کلمات حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تو اس کے مستحق تھے کہ یہ دن ہمیں نہ ملتا، اور اس دن سے پہلے ہی ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردئے جاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں ہلاک نہیں کیا اور یہ دن دوبارہ عطا فرمایا ۔
لہٰذا پہلے یہ احساس دل میں لائیں کہ یہ دن جو ہمیں ملا ہے، یہ ایک نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے ہمیں عطا فرمادی ہے ،اس دعا کے ذریعہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمارہے ہیں کہ ہر دن کی قدراس طرح کرو جیسے ہم سب رات کے وقت ہلاک ہونے والے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے زندگی دیدی ، اب یہ جو نئی زندگی ملی ہے، وہ کسی صحیح مصرف میں استعمال ہوجائے ۔ 
🌹... صبح کی مسنون دعائوں کا معمول بنالیں 
حدیث شریف میں وہ دعائیں منقول ہیں جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ صبح کو فجر کے بعد پڑھا کرتے تھے ، ہم سب بھی نماز فجر کے بعد اس کے پڑھنے کا معمول بنالیں، وہ دعائیں یہ ہیں : 

1⃣... اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَ ہٰذَا الْیَوْمِ وَخَیْرَ مَابَعْدَہٗ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّہٰذَا الْیَوْمِ (ترمذی)
اے اللہ ! میں آپ سے آج کے دن کی خیر طلب کرتا ہوں ، اور اس کے بعد کی خیر طلب کرتا ہوں ، اور اس دن کے شر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ 

اور یہ دعا پڑھتے تھے: 
2⃣... اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ خَیْرَ ہٰذَا الْیَوْمِ وَفَتْحَہٗ وَنَصْرَہٗ وَنُوْرَہٗ وَبَرَکَتَہٗ وَعَافِیَتَہٗ وَہُدٰاہٗ (ابوداؤد)
اے اللہ ! میں آپ سے آج کے دن کی خیر طلب کرتا ہوں ، اور اس دن کی کامیابی ، نصرت نور، برکت، عافیت اور ہدایت طلب کرتا ہوں ۔ 

اور یہ پڑھا کرتے تھے۔ 
3⃣... اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ اَوَّلَ ہٰذَا النَّہَارِ صَلَاحًا ، وَاَوْسَطَہٗ فَلَاحًا، وَآخِرَہٗ نَجَاحًا
اے اللہ ! آج کے دن کے ابتدائی حصہ کو میرے لئے صلاح بنادیجئے، اور اس کے درمیانی حصہ کو فلاح، اور آخری حصہ کو کامیابی بنادیجئے ۔ 

یہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری دعائیں ہیں، ان کو یاد کرلیں، اور روزانہ صبح کے وقت ان کو پڑھا کریں، اور اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگیں کہ: اے اللہ! اس دن کے ایک ایک لمحے کو اپنی رضا کے مطابق صرف کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بہرحال! پہلے نظم الاوقات بناؤ، اور پھر اس بات کا عزم کرو کہ میں اس کی پابندی کروں گا، پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، اور توفیق مانگو، اس کے بعد کار زارِ زندگی میں داخل ہوجاؤ۔ 
🌹... رات کو سوتے وقت دن کا جائزہ
پھر رات کو سوتے وقت اپنا دن بھر کا جائزہ لے لو کہ آج صبح میں نے جو ارادہ کیا تھا، اس پر کس حد تک قائم رہا، اور کہاں کہاں بھٹک گیا، جہاں بھٹک گئے تھے، اس کی طرف سے اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرکے دوبارہ اپنے عزم کو تازہ کرلو، اور جس حد تک قائم رہے، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو، ساری عمر یہی کام کرتے رہو تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ بیڑہ پار کردیں گے۔ 
✔...کتاب: اصلاحی خطبات، جلد16، صفحہ 67
✔...مجموعۂ بیانات: حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب