Monday, 7 November 2016

The White Minbar of Masjid al Haram مسجد حرام کا سفید منبر

ایس اے ساگر 
ان دنوں مسجد حرام کے سفید منبر کی تصاویر نیٹ پر گردش کر رہی ہیں. دریں اثنا سعودی عرب میں شاہ عبدالعزیزز مرکز کی جانب سے خانہ کعبہ اور مسجد حرام کی قریبا 130 سال پرانی تصاویر جاری کی ہیں جن میں کعبہ شریف اور مسجد حرام کے اندرونی مناظر کا برسوں پرانا نظارہ کروایا گیا ہے۔ خانہ کعبہ اور مسجد حرام کی یہ تصاویر 1303ھ بہ مطابق 1885ء کو سید عبدالغفار بغدادی نےنماز کے دوران لی تھیں۔ان تصاویر میں مسجد حرام کا پورا اندرونی احاطہ دکھائی دے رہا ہے۔ جس میں مسجد کا منبر، صحن طواف کی سفید عمارت کا اندرونی منظر اور خانہ کعبہ قریب سے دکھائے گئے ہیں۔ ان تصاویر میں خانہ کعبہ کے گردو پیش کی عمارات کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو زیادہ بلند نہیں۔ حتیٰ کہ مسجد حرام کے مینار بھی زیادہ اونچے نہیں ہیں۔ مسجد حرام کے گردو پیش کی عمارتیں بھی درمیانے درجے کی ہیں جو بہت زیادہ بلند نہیں ہیں۔ شاہ عبدالعزیز مرکز کی جانب سے حائل کے مقام پر قصر برزان کی تصاویر بھی شائع کی ہیں جو مارچ 1914ء میں لی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ القطیف کے بازار کی 1952ء کو لی گئی تصاویر،مروہ کے قریب چھاتے کہ 1947ء میں لی گئی اور مدینہ منورہ کی ابراہیم رفعت کی 1908ء میں بنائی گئی تصویر بھی شائع کی گئی ہے۔حرم شریف کے منبر کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ یہ لکڑی سے خوبصورت شکل میں بنا ہوا ہے۔ 3منزلہ ہے ۔پہلی سیڑھی 30سینٹی میٹر چوڑی اور 20سینٹی میٹر اونچی ہے۔ دوسری سیڑھی کا عرض 30سینٹی میٹر اور اونچائی 20سینٹی میٹر ہے۔ تیسری سیڑھی کا عرض 30سینٹی میٹر اور اونچائی 40سینٹی میٹر ہے۔ نشست کا عرض 48سینٹی میٹر ہے۔ منبر کی زمین سے اوپر تک بلندی 2.95میٹر اور عرض 1.47میٹر ہے۔ بہت عمدہ لکڑی سے تیار کروایا گیا ہے۔
ابو الولید محمد بن عبد الازرقی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف اخبار مکہ میں حرم شریف کے پہلے منبر کا تعارف یہ تحریر کرکے کرایا ہے کہ ”حرم شریف میں پہلی مرتبہ منبر پر خطبہ امیر المومنین معاویہ بن ابی سفیان نے دیا تھا۔ پہلا منبر تین سیڑھیوں والا تھا۔ امیر معاویہ حج کے لئے آئے تو شام سے منبرلیکر پہنچے تھے۔ یہ مکہ مکرمہ لایا جانے والا پہلا منبر ہے۔ اس سے قبل خلفاءاور والیان مکہ جمعہ کا خطبہ خانہ کعبہ کے سامنے زمین پرکھڑے ہوکر دیا کرتے تھے۔
امیر معاویہ بن ابی سفیان کے منبر کے بعد حرم شریف بہت سارے منبر لائے گئے۔ ان کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
٭ امیر الم ؤمنین ہارون الرشید ایک منبر لائے۔
٭ امیر المؤمنین الواثق باللہ العباس منبر لائے۔
٭ المنتصر المتوکل العباسی اپنے والد کے عہد خلافت میں منبر لائے تھے۔
٭ وزیر المقتدر باللہ العباسی نے شاندار منبربنوایا تھا۔ ایک ہزار دینار خرچ ہوئے تھے۔
٭ ایک منبر ملک اشرف کے زمانے میں 766ھ میں بنایا گیا تھا۔
٭ ملک ظاہر برقوق 797ھ میں ایک منبر لائے تھے۔
٭ ایک منبر والی ¿ مصر شیخو نے815ھ میں بھیجا تھا۔
٭ غازی نے اپنی تاریخ میں تحریر کیا ہے کہ 830ھ سے قبل مسجد الحرام میں ایک منبر تھا اس میں پہیے بھی ہوا کرتے تھے۔ اسے مقام ابراہیم کے پاس رکھا جاتا تھا۔
٭ ملک ناصر خوش نے 866ھ میں ایک منبر بنوا کر بھیجا تھا۔
٭ ملک اشرف قائیتبائی نے 877ھ میں منبربھیجا تھا۔
٭ 879ھ میں ایک منبر باب السلام کی طرف نصب کیا گیا تھا۔
٭ سلطان سلیمان خان ابن السلطان سلیم خان نے 966ھ میں سفید سنگ مر مر کا منبر بھیجا تھا۔ بڑا دیدہ زیب تھا ۔ یہ دروازے سے خطیب کی نشست تک 14سیڑھیوں پر مشتمل تھا۔ 580 سینٹی میٹر لمبا اور 186سینٹی میٹر چوڑا تھا۔ تقریباً 12میٹر اونچا تھا۔ اس کی خوبی یہ تھی کہ خطیب کی جگہ دھوپ کبھی نہیں آتی تھی۔ 1960ءتک یہ مقام ابراہیم ؑ کے پاس رہا۔ 1400ھ تک جمعہ اور عیدین کے خطبات میں استعمال ہوتارہا۔ اب یہ میوزیم میں محفوظ ہے۔
The white Minbar of Masjid Al Haram is back for Friday Sermon. According to reports,  21 October 2016 - Imam Al Sudais giving Friday Sermon in the white Minbar. A minbar (Arabic: منبر‎, also spelt mimbar or mimber) is a pulpit in the mosque where the imam (leader of prayer) stands to deliver sermons (khutbah خطبة ) where the speaker sits and lectures the congregation. The word is a derivative of the Arabic root m-b-r 'to raise, elevate'; the Arabic plural is manābir (Arabic: منابر‎). SL-RASCH : Makkah / KSA Minbar is a mobile pulpit, which is used for the rendition of the weekly Friday sermon in the Holy Mosque of Makkah. The Minbar, measures more than five meters in height, is mechanized so that it can be easily removed from the Ka’aba courtyard and made from marble. The body, made of white marble and partially reinforced by glass-fiber laminate, is carried on a stainless steel frame by a battery-driven steerable chassis. 
SL-RASCH : Until 1978 a traditional Minbar built from white marble, originating from the Ottoman period, was placed near the eastern corner of the Kaaba. As it was too big an obstacle for the increasing number of pilgrims, it had to be removed like other constructions from the courtyard of the Masjid al-Haram. Subsequently a smaller, wooden Minbar was used as a mobile pulpit for the rendition of the weekly Friday sermon. In 2001 SL Rasch was assigned a contract for the design and manufacturing of a new Minbar. The challenge was to build it from marble, more than five meters high, but nevertheless mobile and to complete this complex structure in less than one year to be used in Ramadan 1423. The body, made of white marble and partially reinforced by glass-fiber laminate, is carried on a stainless steel frame by a battery-driven steerable chassis. The side panels and railings, richly decorated with floral ornaments and turquoise stones in gilded bezels, were carved by traditional masters in Rajasthan, India, on the basis of drawings provided by SL Rasch. To save weight, some structural elements of the cladding such as the dome and its base profile are made of Corian®. The space below the landing houses an airconditioning system which provides cold air for the imam at his elevated seating. An adjustable support holds microphones for the transmission of the sermon, and a screen, allowing the reading of a stored text.
Dimensions: 3,2 x 1,8 m, height 5,9 m
Weight: 5,5 t
Materials: Stainless steel frame; marble cladding with inlaid turquoise stones;
glass-fiber reinforced epoxylaminate for inner dome;
Corian® for the dome base and exterior.
Completion: 2002
BONNER DESIGN : The ornamental design for the Masjid al Haram minbar was produced by Jay Bonner in the same pan-Islamic style that he originally developed for the Sliding Domes at the Prophet’s Mosque in Medina. This white marble for this minbar is from Macedonia, and was hand carved by the finest Muslim stone workers in Ajmer, India. The floral panels are of two types: high relief, and pierced. The high relief panels include inlaid Persian turquoise stones set in gold plated bezels. The floral elements in the pierced panels are designed so that they have optimum contact with one another; thus providing greater structural integrity to each pierced panel.
The Masjid al Haram minbar is mechanized and mobile on wheels with a remote control so that it can be easily removed from the Haram courtyard; thereby avoiding potential accidents among the throng of circumambulating pilgrims. Completed in 2002.

SARAY DESIGN : For this revered mosque in Mecca Sharif, Saray Design was given the honour of ornamenting a movable minbar in pure white marble set with turquoise leaves and Qur’anic calligraphy, which combined 21st century German technology, developed by the gifted engineers of Sl-Rasch based in Stuttgart, with 17th century Mughal craftsmanship done by Saray master inlay artisans.
The result was the creation of a magnificent, movable and air-conditioned minbar – the first of its kind.
 – 
 – 

بدھ کے دن کام شروع کرنے کی حدیث کی تحقیق

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 
مفتیاں حضرات،
ایک سوال ہے ہمارے اساتذہ بدھ کو کتابیں شروع کر دیتے ہیں، اس کے بارے میں کوئی حوالہ چاہئے.
ما من امر يبدأ في الْيَوْمَ الأربعاء الا تم
اس حدیث سے استدلال کر کے بدھ کو پڑھائی شروع کرتے ہیں جو کہ جائز ہے بس، سنت تو نہیں ہے اور نہ مستحب، بزرگوں کا عمل ہے بس.
بدھ کے دن کام شروع کرنے کی حدیث کی تحقیق:
سوال:بدھ کے دن کسی کام شروع کرنے کی حدیث کی فنی حیثیت کیا ہے؟
جواب:المقاصد الحسنۃ میں ہے:
ما بدء بشیء یوم اربعاء الّا تم ،لم أقف لہ علی اصل و لکن ذکر برھان الاسلام فی کتابہ تعلیم المتعلم من شیخہ المرغینانی صاحب الھدایۃ فی فقہ الحنفیۃ انہ کان یوقف بدایۃ السبق علی یوم الاربعاء و کان یروی بذلک بحفظہ و یقول قال رسول اﷲا ما من شیء بدء یوم الاربعاء الا و قد تم،قال و ھکذایفعل ابی فیروی ھذا الحدیث باسنادہ عن القوام احمد بن عبد الرشید انتھی،و یعارضہ حدیث جابرؓ مرفوعاً!یوم الاربعاء یوم نحس مستمر اخرجہ الطبرانی فی الاوسط،و نحوہ ما یروی عن ابن عباس ؓ انہ لا اخذ فیہ و لا عطاء و کلھا ضعیفۃ و بلغنی عن بعض الصالحین ممن لقیناہ انہ
قال شکت الاربعاء الی اﷲ سبحانہ تشاؤم الناس بھا فمنحھا انہ ما ابتدیٔ بشیء فیھا الا تمّ۔(المقاصد الحسنۃ ۳۶۴ /۹۴۳،وکذا فی الاسرار المرفوعۃ ص۲۹۴/۴۰۱،وھکذا فی کشف الخفاء ۲/۱۸۱/۲۱۹۱ و فی الموضوعات الکبیر ص۱۰۳،حرف المیم)
نیز الاسرار المرفوعۃ میں ہے:
لکن یروی عن عائشۃ ؓقالت:ان احب الایام الیّ یخرج فیہ مسافری و انکح فیہ و اختن فیہ صبییّ یوم الاربعاء۔(الاسرار المرفوعۃ ص۳۷۹)
الفوائد البھیۃ میں صاحبِ ہدایہ سے نقل کردہ روایت کے بارے میں مذکور ہے:
قال الجامع:الحدیث الذی رواہ صاحب الھدایۃ قد تکلم فیہ المحدثون حتی قال بعضھم انہ موضوع۔(الفوائد البھیۃ۲۴)
ظفر المحصلین میں ہے:
مولاناعبد الحی ؒفرماتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کے لئے ایک اصل تلاش کی ہے وہ یہ کہ امام بخاری ؒ نے ’’ الادب المفرد ‘‘ میں ،امام احمد ؒو بزار ؒ نے حضرت جابرؓسے روایت کی ہے کہ آنحضرت انے مسجد ِ فتح میں پیر،منگل اور بدھ تین دن دعا کی اور بدھ کے روز ظہر او ر عصر کے درمیان دعاء مقبول ہوئی ۔حضرت جابر ص فرماتے ہیں کہ مجھے جب بھی کوئی امرِمہم در پیش ہوا تو میں نے بدھ کے دن ظہر اور عصر کے ما بین دعاء کی اور وہ مقبول ہوئی۔
....
‏قال ابن القيم رحمه الله :
‏الرِّضا بالقضاء من أسباب السّعادة والتّسخُّط ُعلى القضاءِ من أسباب الشّقاوة .
*‏[مدارج السالكين (2/201)*
قضا و قدر پر راضی ہونا سعادت (خوشی ) کے اسباب میں سے ہے جبکہ اس سے ناراض ہونا  پریشانیوں کے اسباب میں سے ہے۔۔۔
.....
ملاحظہ ہومجمع الزوائد میں ہے:
عن جابرصیعنی ابن عبد اﷲ أن النبیادعا فی مسجد الفتح ثلاثا یوم الاثنین و یوم الثلثاء و یوم الأربعاء فاستجیب لہ یوم الأربعاء بین الصلاتین فعرف البشر فی وجھہ قال جابرص فلم ینزل بی أمر مھم غلیظ الا توخیت تلک الساعۃ فأدعو فیھا فأعرف الاجابۃ۔رواہ أحمد و البزار و رجال أحمد ثقات۔ (مجمع الزوائد۴/۱۲باب فی مسجد الفتح)
ظفر المحصلین میں استحباب ِ دعا کے لئے بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان کا وقت لکھا ہے ۔
اور تفسیر منیر لوھب زحیلی میں ہے:و مواقیت الدعاء وقت الاسحار و الفطر و ما بین الأذان والاقامۃ وما بین الظھر والعصرفی یوم الأربعاء۔ (تفسیر منیر۱/۱۵۵)
علامہ سیوطی نے’’ سھام الاصابۃ فی الدعوات المستجابۃ ‘‘ میں تحریرکیا ہے کہ اس کی اسناد جید ہیں ۔نور الدین علی بن احمد سمہودی نے’’ وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی ‘‘ میں اس حدیث کو مسند احمد کی طرف منسوب کر کے لکھا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں پس اس حدیث سے یہ نکلا کہ بدھ کے روز میں ایک مستجاب ساعت ہے اسی لئے علماء نے بدھ کے روز اسباق کی ابتداء کو بہتر خیال کیا ہے۔علاوہ ازیں صحیح روایت سے ثابت ہے کہ حق تعالیٰ نے بدھ کے روز نور کی تخلیق کی ہے اور ظاہر ہے کہ علم سراسر نور ہے۔فیقاس لتمامہ ببدایتہ اذ یأبی اﷲ الا ان یتم نورہ۔(ظفر المحصلین ۱۹۳)واللہ اعلم
فتاوی دارالعلوم زکریا
نقلہ العبد محمد عفی عنہ

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

بعض حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مہینہ یا تھانہ جیسے الفاظ کے آخر میں ہ نہیں بلکہ الف آنا چاہیے کیونکہ یہ ہندی میں الف سے لکھے جاتے ہیں۔ یہ اصول کس حد تک حق بجانب ہے؟ بی بی سی کے ظفر سید کی معلوماتی تحریر۔

درست املا دوپٹا ہے یا دوپٹہ؟ پیسہ یا پیسا؟ تھانا یا تھانہ؟ مہینا یا مہینہ؟ اسی طرح چھاپا، دھماکہ، جھروکہ، تولیہ، ڈاکیہ، بھروسہ، امریکہ، پانسہ، ٹھیکہ الف سے لکھے جائیں یا ہ سے؟

اردو میں اس قبیل کے الفاظ صدیوں سے ہ سے لکھے جاتے رہے ہیں (اس ہ کا تکنیکی نام ’ہائے مختفی‘ ہے، اس کی تفصیل آگے آئے گی)، لیکن لسانی مجتہدین فتویٰ جاری کرتے ہیں کہ یہ چونکہ اصل میں یہ الفاظ ہندی کے ہیں، اور ہندی میں انھیں ’الف‘ سے لکھا جاتا ہے، اس لیے اردو میں بھی انھیں الف سے لکھا جائے۔

اس کی ایک دلچسپ مثال مولانا عرشی کے ہاں ملتی ہے جو غالب کے خطوط مرتب کرتے وقت رونا روتے ہیں کہ جن لفظوں کے آخر میں الف آنا چاہیے، غالب وہاں ہ لکھتے ہیں، اور پھر ارشاد فرماتے ہیں کہ ’جن لفظوں کی اصل فارسی یا عربی نہیں ان میں مخفی ہ نہیں آ سکتی، الف ہونا چاہیے۔‘

یہ اعتراض نیا نہیں ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کے دور میں بھی لوگوں نے ایسی ہی شکایت کی تھی کہ لوگ بنگالہ جیسے الفاظ کو ہ سے لکھتے ہیں جو غلط ہے، اور جہانگیر نے اس بارے میں ایک فرمان بھی جاری کیا تھا، لیکن ظاہر ہے کہ اس پر کسی نے کان نہیں دھرا اور وہ الفاظ صدی ہا صدی سے بدستور ہائے مختفی سے لکھے جاتے رہے۔

حال ہی میں الیکٹرانک میڈیا نے بھی یکایک اس ’اصول‘ کی پیروی شروع کر دی ہے، لیکن پرانی عادتیں مشکل سے جاتی ہیں، اس لیے وہ خلط مبحث پیدا ہو گیا ہے اللہ دے اور بندہ لے۔ اب جس کا جو دل چاہتا ہے، ویسے ہی لکھ دیتا ہے جس سے زبان کا حلیہ بگڑ کر رہ گیا ہے۔

الف اور ہ کا اصول وضع کرنے والے ایک بنیادی اصول بھول گئے کہ دنیا کی ہر زندہ زبان روایت، چلن اور رواج پر چلا کرتی ہے، نہ کہ چند افراد کے ایک کمرے میں بیٹھ کر احکامات صادر کرنے سے۔

سوال یہ ہے کہ جو لفظ اردو میں صدیوں سے استعمال ہوتا چلا آیا ہے، اسے ہم اب تک اچھوت اور غیر کیوں سمجھتے ہیں؟ ہم یہ کیوں نہیں کہتے کہ یہ لفظ اب اردو کا حصہ بن گیا ہے اس لیے ہم اسے ایسے ہی لکھیں اور بولیں گے جیسے ہمارے ہاں مستعمل ہے؟

دوسری زبانیں اس ضمن میں کیسے کام کرتی ہیں، اس کی ایک مثال دیکھیے: عربی کا لفظ ہے ’امیرالبحر۔‘ اسے انگریزوں نے اپنایا تو سہی، لیکن اپنے انداز میں، اور اسے ایڈمرل بولنے لگے۔ اب ہم کسی انگریز سے جا کر کہیں کہ ’بھائی صاحب، یہ لفظ اصل میں امیرالبحر ہے اور آپ اسے غلط بول رہے ہیں،‘ تو وہ کیا کہے گا؟ یہی نا کہ ’بھئی بھلے یہ لفظ جہاں سے بھی آیا ہو، اب یہ ہماری زبان کا حصہ بن گیا ہے اور یہ فیصلہ صرف ہمی کریں گے کہ اسے کیسے بولا یا لکھا جائے، آپ کون ہوتے ہیں دخل در معقولات کرنے والے؟‘

اسی طرح شیمپو/چمپی (shampoo)، بینگلو/بنگلہ  (banglow)، ایواٹار/اوتار  (avatar)، کاکی/خاکی (khaki) اور دوسرے کئی الفاظ کی مثال دی جا سکتی ہے جو اردو سے انگریزی میں گئے اور انگریزوں نے انھیں اپنے طریقے اور اپنی شرائط پر اپنا لیا۔

اب آ جاتے ہیں ہندی کی طرف۔ مضمون کی ابتدا میں گنوائے گئے الفاظ ہندی میں واقعی الف کے قائم مقام حرف سے لکھے جاتے ہیں، نہ کہ ہ کے قائم مقام حرف سے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہندی میں صرف ایک ہ ہے، جب کہ اردو میں دو مختلف قسموں کی ہ پائی جاتی ہیں۔

ہائے ملفوظی

وہ ہ جو بولنے میں ہ کی آواز دیتی ہے، جیسے راہ، شبیہ، گواہ، پناہ، بادشاہ وغیرہ کے آخر میں۔ یہ لفظ کے شروع (ہزار، ہولناک) یا درمیان (الہام، کہانی) میں بھی آ سکتی ہے۔

ہائے مختفی

اس کے مقابلے پر ہائے مختفی مختلف چیز ہے جس میں ہ کی آواز نہیں بلکہ آدھے الف یا زبر کی آواز نکلتی ہے۔ یہ صرف لفظ کے آخر میں آ سکتی ہے۔ یہی ہ جامہ، فاختہ، آئینہ، پیمانہ جیسے فارسی الفاظ میں آتی ہے، اور یہی حرف پیسہ، تھانہ، مہینہ اور پتہ جیسے الفاظ کے آخر میں لکھا جاتا رہا ہے۔ اسے ہائے ملفوظی سے خلط ملط کرنا ناواقفی کی دلیل ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہمیں اردو لکھنے کے لیے اپنی روایت کو نظرانداز کر کے دوسری زبانوں کی لغات چھاننا پڑیں گی کہ انھیں وہاں کیسے لکھا جاتا ہے؟ اگر اسی اصول پر اصرار ہے تو پھر:

ہندی کے الفاظ پتی (بمعنی شوہر)، ستی، شکتی، مکتی، بھکتی وغیرہ کے بارے میں کیا ارشاد ہے کہ یہ الفاظ ہندی میں ی کے قائم مقام حرف پر نہیں بلکہ ’زیر‘ پر ختم ہوتے ہیں؟ ہندی کے اصولوں کی پیروی کرنے کے فارمولے پر عمل کر کے ہمیں ان الفاظ کو علی الترتیب ستِ، شکتِ، مکتِ، بھکتِ لکھنا پڑے گا۔
اردو میں سادھو، پربھو، مدھو (مدھوبالا) وغیرہ کیسے لکھے جائیں گے کیوں کہ یہ ہندی میں و پر نہیں بلکہ پیش پر ختم ہوتے ہیں؟ تو کیا انھیں سادھُ، پربھُ، مدھُ لکھا جائے؟
پاؤں، گاؤں، چھاؤں کے بارے میں کیا ارشاد ہے، ہندی والے تو انھیں علی الترتیب پانو، گانو، چھانو لکھتے ہیں؟
عربی میں مولیٰ، ہیولیٰ، مصفیٰ الف مقصورہ سے لکھے جاتے ہیں، لیکن اردو والوں نے اپنی آسانی کی خاطر انھیں مولا، ہیولا، مصفا کر دیا ہے۔ کیا یہ بھی غلط ہیں؟  پھر ’علیحدہ‘ کے بارے میں کیا ارشاد ہے کیونکہ عربی میں تو علیٰ حِدہ ہے؟ اور پھر ’علیحدگی‘ کیسے درست ہو سکتا ہے، عربی میں تو گ ہے ہی نہیں؟
اصلاحِ املا کے داعی کہتے ہیں کہ جگہوں کے نام بدستور ہائے مختفی سے لکھے جاتے رہیں، مثلاً کلکتہ، آگرہ، کوئٹہ، پٹنہ، مانسہرہ، وغیرہ۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ الفاظ ویسے ہی رواج پا گئے ہیں۔ اگر یہی اصول ہے تو پھر پیسہ، روپیہ، پسینہ وغیرہ جیسے الفاظ بھی تو صدیوں سے ایسے ہی مروج ہیں، انھیں بدہیت بنانے کی کیا تک بنتی ہے؟
پشتو زبان میں ہائے مختفی مستعمل ہے اور اسے  راوڑہ، کوٹہ، خواگہ جیسے غیرفارسی/عربی الفاظ لکھنے کے لیے صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وہاں کسی نے اعتراض نہیں کیا کہ یہ غلط ہے۔
اگر اصل زبان کی پیروی کرنا ہی لازمی ٹھہرا تو پھر الفاظ کے معانی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ عربی میں تفصیل کا مطلب ٹکڑے کرنا، تحمل کا مطلب بوجھ اٹھانا، غریب کا مطلب پردیسی، احتجاج کا مطلب دلیل پیش کرنا، حریف کا مطلب ہم پیشہ، رقعہ کا مطلب پیوند ہے۔ تو کیا اردو میں ان الفاظ کے معانی بھی بدل دیے جائیں؟
آپ نے دیکھا کہ اپنی زبان کے اصول وضع کرنے کے لیے دوسری زبانوں سے رجوع کیا تو بات بہت دور تک چلی جائے گی اور اس کا نتیجہ خود اپنی زبان کا حلیہ خراب کرنے کے علاوہ کچھ نہیں نکلے گا۔

ایک اور نکتہ یہ بھی ہے کہ پڑھتے وقت آنکھیں حروف کے ہجے نہیں کرتیں بلکہ پورا لفظ اکٹھا دیکھتی ہیں۔ اس لیے آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ لفظ ’غصّہ‘  پڑھتے وقت ذہن کے پردے پر غصے کی تصویر بن جاتی ہے۔ اسی طرح لذیذ، بھیانک، خطرناک، جیسے الفاظ پوری تصویر بناتے ہیں۔ یہی صورت دوسرے الفاظ کی ہے۔

ایسے میں اگر کوئی مہم جو افریقا، ٹھیکا، یا تھانا لکھتا ہے تو عجیب سی جھنجھلاہٹ (لفظ کی تصویر کی ایک مثال!) کا احساس ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے کھانا کھاتے وقت یکلخت دانتوں تلے کنکر آ جائے۔

میرے خیال سے ہمیں اردو کو ایک خودمختار، باوقار اور مستقل بالذات زبان تسلیم کر لینا چاہیے اور جو لفظ دوسری زبانوں سے آ کر اس کا حصہ بن گئے ہیں انھیں اردو کا لفظ ہی مان لینا چاہیے۔

بالکل ایسے ہی جیسے دنیا کی دوسری بڑی زبانیں کرتی ہیں۔ ورنہ ہمارے ساتھ وہ معاملہ ہو گا کہ

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنھیں تصویر بنا آتی ہے

Wednesday, 2 November 2016

دعا حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ

مندرجہ ذیل دعا بہت مجرب ہے، ہمارے ایک جاننے والے آدمی کو قتل کے جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا گیا اور پولیس نے اصل قاتل پر پردہ ڈال دیا۔ عدالت میں مقدمہ چلا، پہلی ہی پیشی پر بے گناہ ملزم نے درج ذیل دعا کو گڑگڑا کر پڑھا اور جج صاحب کے سامنے پولیس نے پیش کیا۔ جج بہت سخت آدمی تھا اس نے اس بے گناہ ملزم کی طرف دیکھا اور کیس کی فائل پولیس والوں کے منہ پر دے ماری اور کہا کہ تمھیں یہ شخص قاتل نظر آیا ہے؟ اصل قاتل جو تم نے چھپایا ہوا ہے اسے تین دنوں کے اندر پیش کرو اور اسے باعزت بری کردیا۔
دعاحضرت انس رضی اللہ عنہٗ: حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم سے عرض کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے خادم ہیں، ان کیلئے دعا فرمائیں تو آپ ﷺ نے ہر خیروبرکت کی دعا فرمائی۔
دوسری روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہٗ سے نقل کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کیلئے دعا کی: اے اللہ ان کی عمر زیادہ کر اور ان کے مال میں کثرت دے اور انہیں بخش دے۔
روایت نمبر 3: حضرت ابوالعالیہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:
حضرت انس رضی اللہ عنہٗ کا باغ تھا جو سال میں دو مرتبہ پھل دیتا تھا. اس باغ میں ایک خاص قسم کی مہک تھی جس سے مشک کی خوشبو مہکتی تھی۔
روایت نمبر4: حضرت انس رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے دعا دی کہ اے اللہ ان کے مال میں برکت دے اور ان کی عمر میں زیادتی کر اور انہیں بخش دے تو میں نے 102 اپنی نسبی اولاد کو دفن کیا ہے اور میرے پھل سال میں دو مرتبہ آیا کرتے تھے اور اب میں اس دنیا سے جینے سے تنگ آگیا ہوں، اب میں چوتھی دعاء مغفرت کا امیدوار ہوں (یعنی جنت میں داخل ہونے کا)۔ 

روایت نمبر 5: حضرت انس رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضور انور ﷺ نے میرے لیے اور میری اولاد کیلئے دعا فرمائی اسے میں خوب پہچانتا ہوں۔

(صحیح مسلم ج۲،جامع ترمذی ج۲، خصائص کبریٰ ج۲، مجمع الزوائد)
وہ دعا یہ ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بِسْمِ اللہِ عَلٰی نَفْسِیْ وَدِیْنِی۔ بِسْمِ اللہِ عَلٰی اَھْلِیْ وَ مَالِیْ وَوَلَدِیْ۔  بِسْمِ اللہِ  عَلٰی مَااَعْطَانِیَ اللہُ۔ اَللہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا۔ اَللہُ اَکْبَرْ، اَللہُ اَکْبَرْ، اَللہُ اَکْبَرْ، وَاَعَزُّ وَاَجَلُّ وَاَعْظَمُ مِمَّااَخَافُ وَاَحْذَرُ عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَائُکَ وَلَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّکُلِّ شَّیْطَانٍ مَّرِیْدٍ۔ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللہُ لَآ اِلٰہَ  اِلَّاہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔ اِنَّ وَلِیَّ اللہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَ۔ آج بھی اگر کوئی شخص اس دعا کو پڑھے تو کوئی ظالم و جا بر اس کو دینی و دنیاوی نقصان نہیں پہنچا سکتا‘ نیز حادثات اور مشکلات سے محفوظ رہے گا۔
پڑھنے کا طریقہ اور اوقات: صبح اور عشاء کی نماز کے بعد اول وآخر تین مرتبہ درود شریف پڑھ کر یہ دعا پڑھے‘ انشاء اللہ وہی اثرات ہوں گے جو آج سے 1400ء سال پہلے تھے۔

.
سألتكم الأسبوع الماضي عن حكم صحة الحديث، وما شفت الجواب أرجو إرساله على الإيميل، وذاك الحديث هو: (دعاء النجاة) قال أنس بن مالك: علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم دعاء قال: من دعا به في كل صباح لم يكن لأحد عليه سبيل وقد دعوت به في صباح أراد الحجاج قتلي فخلى سبيلي" بسم الله الرحمن الرحيم: بسم الله خير الأسماء، بسم الله الذي لا يضر مع اسمه أذى، بسم الله الكافي، بسم الله المعافي، بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم، بسم الله على نفسي وديني، بسم الله على أهلي ومالي، بسم الله على كل شيء أعطانيه ربي الله أكبر، الله أكبر، أعوذ بالله مما أخاف وأحذر، الله ربي لا أشرك به شيئاً، عز جارك وجل ثناؤك وتقدست أسماؤك ولا إله غيرك، اللهم إني أعوذ بك من شر كل جبار عنيد وشيطان مريد ومن شر قضاء السوء، ومن شر كل دابة أنت آخذ بناصيتها إن ربي على صراط مستقيم"؟

الإجابــة
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه، أما بعـد:

فلم نقف على الحديث باللفظ الذي ذكرت ولكنه ورد في عمل اليوم والليلة لابن السني عن أنس بن مالك رضي الله عنه بلفظ آخر قال أنس: كتب عبد الملك إلى الحجاج بن يوسف أن انظر إلى أنس بن مالك خادم رسول الله صلى الله عليه وسلم فادن مجلسه وأحسن جائزته وأكرمه، قال: فأتيته فقال لي ذات يوم: يا أبا حمزة إني أريد أن أعرض عليك خيلي فتعلمني أين هي من الخيل التي كانت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فعرضها فقلت: شتان ما بينهما فإنها كانت تلك أرواثها وأبوالها وأعلافها أجرا، فقال الحجاج: لولا كتاب أمير المؤمنين فيك لضربت الذي فيه عيناك، فقلت: ما تقدر على ذلك، قال: ولم؟ قلت: لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم علمني دعاء أقوله لا أخاف معه من شيطان ولا سلطان ولا سبع، قال: يا أبا حمزة علمه ابن أخيك محمد بن الحجاج فأبيت عليه، فقال لابنه: إيت عمك أنسا فسله أن يعلمك ذلك قال: أبان فلما حضرته الوفاة دعاني فقال: يا أحمر إن لك إلي انقطاعا وقد وجبت حرمتك وإني معلمك الدعاء الذي علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا تعلمه من لا يخاف الله عز وجل أو نحو ذلك: قال: تقول (الله أكبر الله أكبر الله أكبر بسم الله على نفسي وديني، بسم الله على كل شيء أعطانيه ربي، بسم الله خير الأسماء، بسم الله الذي لا يضر مع إسمه شيء في الأرض ولا في السماء، بسم الله افتتحت وعلى الله توكلت، الله الله ربي لا أشرك به أحدا أسألك اللهم بخيرك من خيرك الذي لا يعطيه أحد غيرك عز جارك وجل ثناؤك ولا إله غيرك، اجعلني في عياذك من شر كل سلطان ومن الشيطان الرجيم، اللهم إني أحترس بك من شر جميع كل ذي شر خلقته وأحترز بك منهم وأقدم بين يدي، بسم الله الرحمن الرحيم قل هو الله أحد* الله الصمد* لم يلد ولم يولد* ولم يكن له كفوا أحد، ومن خلفي مثل ذلك وعن يميني مثل ذلك وعن يساري مثل ذلك ومن فوقي مثل ذلك)، ولم نقف على حكم الأئمة عليه بضعف ولا صحة وفي إسناده عند بعض من رواه رجل متروك.

والله أعلم.

Tuesday, 1 November 2016

کیا صفر کا مہینہ منحوس ہوتا ہے؟

ایس اے ساگر 
اسلامی کلینڈر کے دوسرے مہینے صفر المظفر کی آمد ہوچکی ہے اور اس بابرکت مہینے نے اپنی رحمتیں بکھیرنی شروع کر دی ہیں۔ لیکن اس کا کیا کیجئے کہ ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اپنی عدم ناواقفیت اور غلط عقیدہ کے سبب اس مہینے کو نہ صرف منحوس گردانتے ہیں بلکہ اس کے اختتام پر آپس میں اس طرح خوش خبریاں سناتے پھرتے ہیں گویا کوئی بہت بڑی مصیبت ٹل گئی ہو، خوشی کی انتہا میں پھولے نہیں سماتے۔ ان حضرات کا حال یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس ماہ میں سخت مصائب کا سامنا ہوتا ہے، پریشانیوں اور دکھوں کا نزول اور آزمائش و آفات کا وقوع ہوتا ہے، اسی طرح کی اور بھی بہت سی بے بنیاد باتیں ہیں جبکہ یہ سراسر باطل عقیدہ ہے اور جاہلیت کی باقیات میں سے ہے، حق سبحانہ و تقدس کی ذات عالی نے اس قسم کی ہر لغو سوچ و فکر کی قید سے نعمت ِاسلام و دولتِ ایمان سے نواز کر آزاد فرمادیا ہے۔ 
کام کی ابتدا سے اجتناب:
اس کے باجوجود بہت سے حضرات سمجھتے ہیں کہ اس ماہ میں کسی کام کی ابتدا نہ کی جائے ۔ وہ ڈرتے ہیں کہ یہ مہینہ مبارک نہیں ہے، وہ اس ماہ میں سفر کرنے سے بھی پرہیز کرتے ہیں کہ اگر ہم نے سفر کیا تو دشمنوں سے سامنا ہو جائے گا، اسی طرح نکاح و دیگر خوشی کی تقریبات کا انعقاد بھی اس ماہ میں کرنے سے کتراتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اس ماہ میں کوئی خرید و فروخت کی۔ مثلا کار ،گھر ،کارخانے ،زمین وغیرہ تو وہ تجارت نفع بخش نہیں ہوگی،
جنات کے اتر نے کا عقیدہ:
بعض شہروں میں مشہور ہے کہ اندھے اور لنگڑے جنات کی ایک جماعت اس ماہ میں آسمان سے اترتی ہے، لہذا ہمارے نادان حضرات زمین پر بڑی احتیاط سے قدم رکھتے ہیں اوربہت چوکس اور محتاط ہوکر چلتے پھرتے ہیں کہ کہیں ہماری وجہ سے کسی جنات کو تکلیف نہ پہنچ جائے اور ہمیں کسی بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑے، پھر مہینے کے آخرمیں گھر کے درودیوار، الماریاں، صندوق اور دیگر سامان کو ڈنڈوں سے کوٹتے ہیں تاکہ جو کوئی بھی جن چھپا بیٹھا ہو وہ واپس بھاگ جائے... یہ بھی سراسر باطل ہے، اسلامی شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔ 
ختم شریف کا اہتمام:
بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ اس ماہ کے اول تیرہ13دن سب سے زیادہ دشوار ہوتے ہیں، ان ایام کو ’تیرہ تیزی ‘یا ’تیز تیرہ‘ کے نام سے جاناجاتا ہے، ان میں وہ لوگ مخصوص کھانے، مثلاًابلے ہوئے چنے یا ا ±بلی ہوئی گندم اور چوری وغیرہ بنا کر تقسیم کرتے ہیں، تاکہ بلائیں ٹل جائیں، اسی طرح بعض گھرانوں میں مصائب کو ٹالنے کی غرض سے اجتماعی قرآن خوانی اور ختم شریف کی مجالس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔انھیں کون سمجھائے کہ یہ سب بدعات ہیں، قرآن و حدیث میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ان افعال کا باطل ہونا عقل والوں کے لئے روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ 
آخری بدھ منانا :
ماہ صفر کا آخر ی بدھ بدعات کا ارتکاب کرنے والے اور منکرات پر یقین رکھنے والے نادان مسلمان ماہ صفر کے آخری بدھ کے حوالے سے بھی مختلف عقائد رکھتے ہیں اور مختلف افعال اختیار کرتے ہیں، جو درج ذیل ہیں۔بعض حضرات اس بدھ کو عید مناتے ہیں، بعض اس دن چھٹی کرنے کو اجر و ثواب سمجھتے ہیں اور دوسرے بعض اس بدھ کو سال کا سب سے بھاری دن تصور کرتے ہیں ،اس دن مٹی کے تمام برتن توڑ دیتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ مزید یہ کہ اس دن یہ لوگ چاشت کے وقت چار رکعت نماز ایک سلام سے پڑھتے ہیں، ہر رکعت میں ایک سورت کو کئی مرتبہ مکر ر پڑھا جاتا ہے، پھر نماز کے بعد’دعائے معین‘ پڑھتے ہیں اور فقرا میں روٹی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔یو پی کے امروہہ میںتو ’روٹی بوٹی‘ کے عنوان پر کھانا تقسیم ہوتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے نازل شدہ بلائیں دفع ہو جاتی ہیں نیز بعض علاقوں میں لوگ آیت سلام:
سَلَام عَلَی نوحٍ فِی العَالَمِینَ
(الصافات، آیت:79)
کو برتن میں لکھ کر تبرّکاً اس میں پانی پیتے ہیں، ان کے اعتماد کے مطابق ایسا کرنا شروفساد کو دور کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دن میں روزے کا اہتمام اور شام میں پر تکلف حلوے بھی قابلِ ذکر ہیں،بعض حضرات تو ان دنوں شہر کے مضافات کی طرف چلے جاتے ہیں، تاکہ شروفتنہ سے بچ جائیں۔ جبکہ اہل علم کے نزدیک یہ سب بلا مبالغہ باطل اور من گھڑت ہے، اس کی کوئی دلیل نہیں ملی اور نہ کسی نبی، صحابی، تابعی یا کسی ولی اللہ کو ایسا عمل کرتے ہوئے یا ایسا عقیدہ رکھتے ہوئے پایا ہے، یہ اعتقاد و افعال صرف اسلام سے پہلے دورِجہالت میں پائے جاتے تھے، جبکہ اسلام کے علاوہ کسی چیز میں خیر نہیں۔انطیں کون سمجھائے کہ زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگوں کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ ماہِ صفر کی آمد پر برا شگون لیتے تھے اور اسے آفات اور مصائب کے وقوع کے اعتبار سے خاص قرار دیتے تھے، جبکہ اسلام نے آکر اس جہالت پر حق کی کاری ضرب لگائی اور اس کا سدِ باب کیا ہے۔
کسے کہتے ہیں نحوست؟
انھیں کون سمجھائے کہ تمام مہینے اللہ نے پیدا کئے ہیں اور انسان ان مہینوں میں افعال و اعمال کرتا ہے،لہذا ہر وہ زمانہ مبارک ہے جس میں اللہ کی اطاعت کی جائے اور ہر وہ زمانہ انسان پر منحوس ہے جس میں وہ اللہ کی نافرمانی کرے۔ اللہ کی معصیت اور گناہوں کی کثرت اللہ کو ناراض کرنے کاسبب ہے ، اسی طرح گنا ہ گار فی نفسہ منحوس ہوتا ہے، سو وہ اللہ کی امان سے نکل جاتا ہے اور مصائب و مشاکل سے مامون و محفوظ نہیں رہتا۔ضعیف الاعتقادی کے شکار یہ وہمی لوگ مسلمانوں کی تاریخ کی طرف نظر نہیں دوڑاتے کہ بڑی بڑی فتوحات اور عظیم مقاصد اسی ماہ میں حاصل ہوئیں ،نیز سلف صالحین اور امت کے بہترین لوگوں کی ازدواجی زندگی کا آغاز اکثر اس ماہ سے ہوا، دراصل یہ فساد عموماً دین کی دعوت سے دوری کی وجہ سے وجود میں آیااور یقین میںکمزوری آتی چلی گئی۔ اس سلسلہ میں جامعہ فاروقیہ کے استاذ و رفیق دارالافتا مفتی عطاءالرحمن رقمطراز ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
’لا عدوی ولاصفر ولا غول“
کہ”مرض کے متعدی ہونے، صفر اور غول کی کوئی حقیقت نہیں۔“
(الصحیح لمسلم ،باب:لا عدوی ولا طیرة الخ) 
حدیث قدسی میں ’لاصفر‘کا لفظ واقع ہوا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ صفر کا مہینہ بھی دوسرے مہینوں کی طرح ہے، یعنی وقوع شر کے ساتھ یہ مختص نہیں ہے ایک اور مقام پر حدیث میں وارد ہوا کہ:”قال رسول اللہ صلی اللہ علیھ وسلم :لاطیرة،وخیرھا الفل قالوا:وماالفل؟قال:الکلمة الصالحة یسمعھا احدکم“
یعنی ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،بد شگونی کچھ نہیں ہے، اس سے بہتر فال نیک ہے ،
صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )، فال کیا ہے؟
فرمایا”اچھی بات جو تم میں سے کوئی سنے“۔
(صحیح البخاری)
:ضعیف العقیدہ لوگوں کا استد لال اور اس کا رد
بعض لوگ ماہِ صفر کے منحوس ہونے کو قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور درج ذیل آیت پیش کرتے ہیں:
﴿إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمْ رِیْحاً صَرْصَراً فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرّ ﴾. (القمر، آیت :19)
ترجمہ:”ہم نے ایک مسلسل نحوست کے دن میں اُن پر تیز آندھی والی ہوا چھوڑ دی تھی۔“
اسی طرح کی چند اور آیات پیش کرتے ہیں۔
سو اس کے جواب میں علمائے کرام یہ فرماتے ہیں کہ کسی بھی دن کو جب نیک بختی یا بد بختی کے ساتھ متصف کیا جائے تو اس کی نسبت لوگوں کی طرف کی جاتی ہے اور یوں کہا جاتا ہے کہ فلاں دن فلاں شخص کے لیے بڑا نیک بخت ثابت ہوا ،وہ شخص اس دن خوش اور سود مند رہا اور کہا جاتا ہے کہ فلاں دن فلاں آدمی پر بڑا بھاری اور منحوس تھا ،وہ آدمی اس دن بڑی مصیبت میں رہا ،اس دن اسے سزا دی گئی۔اس سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ کوئی بھی دن اپنے اوقات کی وجہ سے منحوس نہیں ہوتا، بلکہ انسان کے اپنے کرتوت اور گناہوں کی سزا کی وجہ سے اس پر نحوست پڑتی ہے۔وگرنہ قرآن کی ایک اور آیت سے توہفتہ کے پورے سات دنوں کی نحوست ثابت ہوتی ہے،سورة فصلت کی آیت16 میں اللہ فرماتے ہیں کہ :
﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمْ رِیْحاً صَرْصَراً فِیْ أَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِیْ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَخْزَی وَہُمْ لَا یُنصَرُون﴾․
(فصلت، آیت:16)
ترجمہ:” چناں چہ ہم نے کچھ منحوس دنوں میں اُن پر آندھی کی شکل میں ہوا بھیجی، تاکہ انہیں دنیوی زندگی میں رسوائی کا مزہ چھکائیں اور آخرت کا عذاب اس سے بھی رسوا کن ہے اور ان کو کوئی مدد میسر نہیں آئے گی۔“
عذاب کے یہ ایام سات راتیں اور آٹھ دن تھے، اس طرح سے تو قیامت تک ہر ایک دن نحوست والا ٹھہرے گا، پھر یہ حضرات حدیث سے تمسک واستدلال کی کوشش کرتے ہیں، اس سلسلے میں حدیث پیش کرتے ہیں کہ:” جس نے مجھے صفر کے گزر جانے کی خبری دی میں اسے جنت کی بشارت دیتا ہوں۔“
اسی طرح ایک اورروایت بدھ کے دن کی نحوست پر پیش کرتے ہیں کہ : ” بدھ کا دن مستقل نحوست کا دن ہے ۔“
یہ دونوں روایتیں من گھڑت اور موضوع ہیں ملا علی قاری رحمہ الله نے موضاعات کبری ( ص:275,225) میں اور علامہ ابن جوزی رحمہ الله نے اپنی کتاب موضوعات (376/1) میں ا س کی وضاحت کی ہے۔
مکروہ اشیاء کو دیکھتے وقت دعا پڑھ لیں
آپ میں سے جب کوئی شخص کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ جس سے بد فالی کی جاتی ہے تووہ اپنی حاجت او رکام سے نہ رکے، بلکہ اپنا کام کرتا رہے (عموماً لوگ کا لی بلی کے راستہ کاٹ لینیپر واپس گھر کو لوٹ آتے ہیں اور جس کام کے لیے جارہے ہوتے ہیں اس سے رک جاتے ہیں ) ابوداؤد میں عروة بن عامر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ” میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں ” طیرة“ کا ذکر کیا ، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
پس جب تم میں سے کوئی ایسی کسی شے کو دیکھے تو یہ کہے: ”اللھم لا یأتی باالحسنات إلا أنت، ولا یدفع السیئات إلا أنت، ولاحول ولا قوة إلا بک“․
( باب فی الطیرة)
ترجمہ ” اے الله! بھلائی صرف آپ کی طرف سے ہی آتی ہے اور برائی کو صرف آپ ہی دورفرماتے ہیں ، نیک کام کرنے کی طاقت اور گناہوں سے بچنے کی قوت صرف آپ کی طرف سے ہے ۔“ اگر ایسے موقع پر انسان اپنی حاجت سے رک جائے تو وہ گناہ کا مرتکب کہلائے گا، حضورصلى الله عليه وسلم نے فرمایا” جو پرندے کی وجہ سے حاجت سے رک گیا اس نے شر ک کیا۔“ الله کی تقدیر وتاثیر میں زمانے کو کوئی دخل نہیں ، لہٰذا صفر کا مہینہ بھی دیگر مہینوں کی طرح ہے ۔اسی سلسلے میں ایک جگہ ایک لطیفہ نظر سے گزرا جب آپ راستہ پر اپنے کسی کام سے جارہے ہوں او رکالی بلی آپ کا راستہ کاٹ لے تو سمجھ لیں کہ وہ بھی آپ ہی کی طرح اپنے کسی کام سے راستہ سے گزر رہی ہو گی۔“ پس ہمیں اسلامی عقائد اور اسلامی اصول سیکھ کر اس کے مطابق زندگی گزارنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے اور جو بات دین میں نہ ہو اسے دین کی طرف منسوب نہ کیا جائے، نیز نفع ونقصان کے اختیار کا سو فی صد یقین الله کی ذات سے ہونا چاہیے کہ جب وہ خیر پہنچانا چاہے تو کوئی شر نہیں پہنچا سکتا اور اگر وہ کوئی مصیبت نازل کر دے تو کوئی اس سے رہائی نہیں دے سکتا۔
﴿وَإِن یَمْسَسْکَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یُرِدْکَ بِخَیْْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِہِ یُصِیْبُ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیْم﴾․
(سورة یونس:107)
ترجمہ:” اور اگر خدا تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تم سے بھلائی کرنا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔“

یہ مجھے کن کے حوالے کر گئی میری ماں!

ایس اے ساگر

موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں
تب کہیں جاکر رضا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں​

موت کی آغوش میں بھی کب سکوں پاتی ہے ماں
جب پریشانی میں ہوں بچے تڑپ جاتی ہے ماں​

جاتے جاتے پھر گلے بچے سے ملنے کے لئے
توڑ کر بند کفن باہوں کو پھیلاتی ہے ماں​

روح کے رشتوں کی یہ گھرائیاں تو دیکھئے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں​

بھوکا سونے ہی نہیں دیتی یتیموں کو کبھی
جانے کس کس سے کہاں سے مانگ کر لاتی ہے ماں​

ہڈیوں کا رس پلاکر اپنے دل کے چین کو
کتنی ہی راتوں کو خالی پیٹ سوجاتی ہے ماں​

جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول
آنسووں کے ساز پر بچے کو بھلاتی ہے ماں​

ماردیتی ہے طمانچہ گر کبھی جذبات میں
چومتی ہے لب کبھی رخسار سہلاتی ہے ماں​

کب ضرورت ہو مِری بچے کو اتنا سوچ کر
جاگتی رہتی ہے ممتا اور سوجاتی ہے ماں​

گھر سے جب پردیس کو جاتا ہے گودی کا پلا
ہاتھ میں قرآں لئے آگن میں آجاتی ہے ماں​

دیکے بچے کو ضمانت میں رضائے پاک کی
سامنا جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں​

لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم
ڈال کر باہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں​

ایسا لگتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں
کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں​

دیر ہوجاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں
ریت پہ مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں​

مرتے دم بچہ نہ آئے گھر اگر پردیس سے
اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پہ رکھ جاتی ہے ماں​

حال دل جاکر سنا دیتا ہے معصومہ کو وہ
جب کسی بچے کو اپنی قم میں یاد آتی ہے ماں​

تھام کر روضے کی جالی جب تڑپتاہے کوئی
ایسا لگتاہے کہ جیسے سر کو سھلاتی ہے ماں​

گمرہی کی گرد جم جائے نہ میرے چاند پر
بارش ایمان میں یوں ہرروز نھلاتی ہے ماں​

اپنے پہلو میں لٹاکر روز طوطے کی طرح
ایک بارہ پانچ چودہ ہم کو رٹواتی ہے ماں​

عمر بھر غافل نہ ہونا ماتم شبیر سے
رات دن اپنے عمل سے ہم کو سجمھاتی ہے ماں​

دوڑ کر بچے لپٹ جاتے ہیں اس رومال سے
لےکے مجلس سے تبرک گھر میں جب آتی ہے ماں​

یاد آتا ہے شب عاشور کا کڑیل جواں
جب کبھی الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھاتی ہے ماں​

اللہ اللہ اتحاد صبر لیلا اور حسین
باپ نے کھینچی سناں سینے کو سہلاتی ہے ماں​

سامنے آنکھوں کے نکلے گر جواں بیٹے کا دم
زندگی بھر سر کو دیواروں سےٹکراتی ہے ماں​

سب سے پہلے جان دینا فاطمہ کے لال پر
رات بھر عون ومحمد سے یہ فرماتی ہے ماں​

یہ بتا سکتی ہے بس ہم کو رباب خستہ تن
کس طرح بن دودھ کے بچے کو بھلاتی ہے ماں​

شمر کے خنجر سے یا سوکھے گلے سے پوچھئے
ماں ادھر منھ سے نکلتاہے ادہر آتی ہے ماں​

اپنے غم کو بھول کر روتے ہیں جو شبیر کو
ان کے اشکوں کے لئے جنت سے آجاتی ہے ماں​

باپ سے بچے بچھڑجائیں اگر پردیس میں
کربلا سے ڈھونڈنے کوفے میں خود آتی ہے ماں​

جب تلک یہ ہاتھ ہیں ہمشیر بے پردہ نہ ہو
ایک بہادر باوفا بیٹے سے فرماتی ہے ماں​

جب رسن بستہ گزرتی ہے کسی بازار سے
ایک آوارہ وطن بیٹی کو یاد آتی ہے ماں​

شکریہ ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا
مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں​

جناب رضا سرسوی​