Tuesday, 27 August 2019

كیا حافظہ لڑكی تراویح میں صرف عورتوں كی امامت كرسكتی ہے؟

كیا حافظہ لڑكی تراویح میں صرف عورتوں كی امامت كرسكتی ہے؟

سوال: کیا ایک حافظہ لڑکی اگر قرآن کریم کی حفاظت کے لئے نماز تراویح میں مکمل قران سنانا چاہے تو کیا گھر میں عورتوں کی جماعت بناکر تراویح پڑھاسکتی ہے؟ قرآن و حدیث کے روشنی میں اس کی وضاحت کردیں۔
جواب:
بسم الله الرحمن الرحيم
تنہا عورتوں کی جماعت کہ جس میں امام بھی عورت ہی ہو ناجائز ہے، خواہ یہ جماعت تراویح کی ہی ہو تب بھی مکروہ تحریمی ہے، فتاوی شامی وغیرہ میں صراحت ہے۔ رہا حفاظت کا معاملہ تو وہ تراویح میں امامت پر ہی منحصر نہیں بلکہ سال بھر تلاوت کا اہتمام کرنا، گھر میں والد بھائی بہن والدہ کو سنانا بچیوں کو پڑھاتے رہنا، نوافل وافرائض میں طویل طویل قرأت کرتے رہنا وغیرہ امور کو اختیار کرنے سے ان شاء اللہ پوری طرح محفوظ رہے گا، اور بے شمار برکات کا موجب ہوگا۔
الجواب صحیح وجید  
حوالہ: ''عن عائشة أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: لاخیر في جماعة النساء إلا في المسجد أو في جنازة قتیل''۔ (رواه أحمد والطبراني في الأوسط) إلا أنه قال: لا خیر في جماعة النساء إلا في مسجد جماعة''۔ (مجمع الزوائد ۲؍۳۳ بیروت)
'' فعلم أن جماعتهن وحدهن مکروهة''۔ (إعلاء السنن ۴؍۲۲۶)
''عن علی بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة. قلت: رجاله کلهم ثقات''۔ (إعلاء السنن ۴؍۲۲۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
''ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح - إلی قوله - فإن فعلن تقف الإمام وسطهن، فلو قدمت أثمت، قال الشامي: أفاد أن الصلاة صحیحة وأنها إذا توسطت لا تزول الکراهة، وإنما أرشد والی التوسط لأنه أقل کراهة التقدم''۔ (شامي  ۲؍۳۰۵ )
والله أعلم بالصواب 
محمد اشتیاق احمد قاسمی 
جمشید پوری  جھارکھنڈ 
خادم التدریس جامعہ اشاعت العلوم 
ہلدر پور، شکرپاڑہ، کٹک، اڈیشا
رابطہ نمبر: 7906859774
-----------------------------------------
سوال: یہاں پر محلے میں نماز تراویح کے لیے ایک حافظہ لڑکی کو بلایا جارہا ہے ، کیا وہ امامت کرسکتی ہے؟ اگر ویسا نہیں تو کیا وہ لائن میں سب کے برابر کھڑی ہوکر پڑھاسکتی ہے؟ اگر خواتین چار رکعت خود پڑھ لے اور پھر قرآن کی تلاوت سنے توکیا یہ صحیح ہوگا؟
جواب:
بسم الله الرحمن الرحيم
(۱) باہر سے حافظہ لڑکی کو نماز پڑھانے کے لیے بلانا جائز نہیں ہے۔
(۲) اگر مقتدی صرف مرد ہوں یا مرد وعورت دونوں ہوں تو لڑکی کا امامت کرنا جائز نہیں ہے اوراس صورت میں نماز درست نہ ہوگی، اور اگر مقتدی صرف عورتیں ہی ہیں تو بھی لڑکی کا امامت کرنا مکروہ تحریمی ہے، چنانچہ درمختار میں ہے ”ویکرہ تحریما جماعة النسا، ولو في التراویح (الدر المختار ج۱ ص۸۳ دار الکتاب دیوبند) اگر بالفرض عورتیں کبھی اتفاق سے کراہت تحریمی کا ارتکاب کرتے ہوئے جماعت کریں تو حکم یہ ہے کہ عورت امام بالکل لائن میں سب کے برابر بیچ میں کھڑی ہو۔ 
(۳) اگر خواتین چار رکعت پڑھ لیں پھر قرآن کی تلاوت سنیں، اس کا مطلب واضح نہیں ہے، چار رکعت سے مراد کونسی نماز ہے واضح کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
----------------------------------------------------
سوال: میں ۳۴/ سال کی ایک عورت ہوں۔ جب میں ۱۲/ سال کی تھی تب میں نے قرآن پاک حفظ کیا تھا۔ الحمد للہ ابھی تک میں روزانہ پڑھتی ہوں اور کوشش کرتی ہوں کہ اپنے شوہر کو روزانہ آدھا پارہ سنالوں، لیکن میرا آپ سے ایک سوال تھا۔ 
مجھے بچپن سے اتنا اچھا قرآن مجید یاد نہیں ہے جیسے بہت بڑے عالموں کو یاد ہوتا ہے، اگر مجھ سے کوئی بولے کہ اس آیت سے پہلے کون سی آیت آتی ہے تو مجھے نہیں پتا ہوگا۔ اور اگر بولے یہ آیت کون سی سورة کی ہے تو بھی مجھے نہیں پتا ہوگا۔ کوئی بولے یہ والی سورت شروع کرو تو کافی دیر سوچنے کے بعد شاید میں پڑھ سکوں، لیکن جب بھی میں اپنے یا کسی کو ایک پارہ یا اس سے زیادہ سناتی ہوں تو غلطیاں نہیں آتی، اور میں بہت اچھا سنا دیتی ہوں۔ ہاں! سنانے سے پہلے میں ضرور تین مرتبہ پارہ پڑھ لیتی ہوں۔ 
سوال یہ ہے کہ اب اس حالت میں خود کو حافظ قرآن بول سکتی ہوں؟ ۲۰/ سال ہو گئے ہیں اور جتنا پہلے یاد تھا اتنا ابھی تک یاد ہے، لیکن ایسے نہیں یاد کہ میں ایک مرتبہ ۳۰/ پارہ زبانی سنادوں بغیر کسی غلطی کے۔ جب میں چھوٹی تھی اور ابھی قرآن حفظ نہیں کیا تھا تب میں نے والد صاحب کو بولا تھا کہ میرا دماغ اتنا نہیں ہے کہ بہت اچھی حافظہ بن سکوں۔ مہربانی کرکے مجھے حافظہ مت بنائیے کیونکہ یہ نہ ہو کہ بعد میں بھول جاوٴں۔ والد صاحب کی ضد میں آکر میں نے خفظ مکمل کرلیا، لیکن مجھے کبھی ۱۰۰/ فیصد پکانہیں ہوا۔ اب گناہ کس پر جائے گا؟ لیکن مجھے بالکل بھی قرآن بھولا نہیں ہے، لیکن کبھی بھی بہت پکا یاد نہیں ہوا۔ ویسے میں دس منٹ میں ایک پارہ پڑھ لیتی ہوں، اتنی تیزی سے اتنا پکا ہے مجھے۔
اب آپ مجھے بتائیں کہ میں حافظ قرآن ہوں؟ اور کوئی دعا بتائیں کہ کبھی نہ بھولے۔ میں بہت ڈرتی ہوں کہ جب میری عمر ۶۰/ سال کو پہنچ جائے گی تو بڑھاپے کی وجہ سے کہیں بھول نہ جائے۔ 
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم
ماشاء اللہ آپ حافظہ قرآن ہیں اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اظہار کے طور پر یا لوگوں کو بتلانے کے لیے اپنے کو حافظہ کہہ سکتی ہیں، آپ نے قرآن سنانے اور پڑھنے کی جو تفصیل اور کیفیت لکھی ہے قابل ستائش ہے، مثلاً روزانہ تلاوت کرنا، شوہر کو روزانہ آدھ پارہ سنانا۔ دو تین مرتبہ پڑھ کر ایک پارہ دس منٹ میں سنادینا، اور ایک پارہ سنانے میں غلطیاں نہ آنا وغیرہ۔ باقی مشق اور امتحان کے لیے جو حافظ لڑکوں سے کہا جاتا ہے کہ اس لفظ سے پہلے کیا ہے۔ یا آیت کا ایک ٹکڑا بتلاکر آگے پڑھنے کے لیے کہہ دیا یا کہا کہ فلاں پارہ کا دسواں رکوع پڑھو تو یہ طریقے لڑکوں کی مشق کے لیے کیے جاتے ہیں اس میں بھی کچھ ہی کامیاب ہوتے ہیں لہٰذا آپ اس کے بارے میں اپنے لیے مت سوچیں، آپ پابندی سے جس قدر ہوسکے قرآن دیکھ کر یا زبانی تلاوت کرلیا کریں۔ ایک مرتبہ میں پورا قرآن سنانا تو ہزار میں دو ایک کرسکتے ہیں وہ بھی جن کی خوب مشق ہوتی ہے رات دن اسی کا پڑھنا پڑھانا رہتا ہے۔ آپ کے ذمہ گھریلو کام بھی ہیں دوسری ذمہ داریاں ہیں لہٰذا اس کے بارے میں نہ سوچیں آپ قرآن بھول نہیں رہیں یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے، بڑھاپے میں اگر آدمی کوئی عمل نہ کرسکے کمزوری اور ضعف کی وجہ سے تو اس کا گناہ نہیں ہے، لہٰذا اگر بڑھاپے میں حافظہ کمزور ہوگیا تو آپ پر گناہ نہ ہوگا آپ معمول کے مطابق پڑھنے اور تلاوت کرنے کا عمل جاری رکھیں، ہرنماز کے بعد بایاں ہاتھ سر پر رکھ کر گیارہ مرتبہ یا قَوِیُّ پڑھ لیا کریں۔

درد یا تکلیف کی وجہ سے رونے کی آواز نکل جائے تو کیا نماز فاسد ہوجائے گی؟

درد یا تکلیف کی وجہ سے رونے کی آواز نکل جائے تو کیا نماز فاسد ہوجائے گی؟

الجواب وباللّٰہ التوفیق:
اگر نماز میں درد یا تکلیف کی وجہ سے رونے کی آواز قصداً نکالی جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؛ لیکن اگر سخت تکلیف کی وجہ سے بے اختیار آواز نکل گئی یا جنت و جہنم کے ذکر سے بے اختیار رونا آجائے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
عن مطرف عن أبیہ قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یصلي، وفي صدرہ أزیز کأزیز الرحی من البکاء۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۱۳۰ رقم: ۹۰۴، سنن النسائي ۱؍۱۳۵ رقم: ۱۲۱۰، الأحادیث المنتخبۃ ۱۲۷ رقم: ۴۲۹)
والبکاء بصوت یحصل بہ حروف لوجع أو مصیبۃ قید للأربعۃ إلا لمریض لا یملک نفسہ عن إنین وتأوّہ … لا لذکر جنۃ ونار۔ (درمختار مع الشامي ۲؍۳۷۷-۲۷۸ زکریا)
و لو أن في صلا تہ أو تأوّہ أو بکی فارتفع بکائہ، وفي الخانیۃ: فحصل لہ حروف فإن کان من ذکر الجنۃ أو النار فصلا تہ تامۃ، وإن کان من وجع أو مصیبۃ فسدت صلا تہ عند أبي حنیفۃ ومحمد رحمہما اللّٰہ، وعند أبي یوسف: إذا کان یمکنہ الامتناع یقطع الصلاۃ وإذا کان لا یمکنہ لا یقطع الصلاۃ۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۲۲۴ رقم: ۳۳۳۲ حاشیۃ الطحطاوي ۱۷۸، باقیات فتاویٰ رشیدیۃ ۱۷۵) 
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۰؍۱؍۱۴۳۴ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفااﷲ عنہ ۔۔۔۔۔✍️ ✍️#نقلہ_العبد_✍️✍️
 
#_محمد_جنید_امینی_پالنپوری_
#منتظم_امت_کے_مسائل_اور_انکا_حل_ #گروپ
-----------------------------------------
http://saagartimes.blogspot.com/2019/08/blog-post_63.html


انگوٹھی کا محل استعمال

انگوٹھی کا محل استعمال 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نهاني رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أن أتختَّم في إصبعي هذه أو هذه . قال: فأومأ إلى الوُسطى والتي تليها . .
عن علي بن أبي طالب صحيح مسلم: 2095

(حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ رسول کریم 
صلی اللہ علیہ وسلم
نے مجھے اس سے منع فرمایا کہ میں اپنی اس انگلی میں یا اس انگلی میں انگوٹھی پہنوں ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے (یہ کہہ کر) درمیانی انگلی اور اس قریب والی انگلی یعنی شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ کیا ۔")  (مسلم)
درمیانی اور شہادت کی انگلی کے بارے میں تو اس حدیث سے واضح ہوا اور انگوٹھے نیز چھوٹی انگلی کے قریب والی انگلی میں انگوٹھی پہننا نہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے ثابت ہے اور نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین رحمہم اللہ ہی سے منقول ہے اس سے معلوم ہوا کہ انگوٹھی کو چھوٹی انگلی ہی میں پہننا مستحب ہے۔ چنانچہ شوافع اور حنیفہ کا رجحان اسی طرف ہے تاہم یہ بات مردوں کے حق میں ہے، جہاں تک عورتوں کا تعلق ہے تو ان کے قریب کے لئے سب انگلیوں میں پہننا جائز ہے۔ امام نووی نے کہا ہے کہ مردوں کو درمیانی اور شہادت کی انگلی میں انگوٹھی پہننا مکروہ تنزیہی ہے۔
امام بخاری اور ترمذی کے یہاں اصح مافی الباب دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا ہے
شوافع کا مختار بھی یہی ہے
حنفیہ میں ملا علی قاری کا قول بھی یہی ہے ۔۔۔۔۔
مالکیہ اور احناف کے یہاں بائیں ہاتھ میں افضل ہے۔۔۔۔
حنفیہ میں فقیہ ابو اللیث اور علامہ شامی دائیں اور بائیں دنوں کو مساوی قرار دیتے ہیں
حافظ کی تطبیق یہ ہے کہ مہر لگانے کی ضرورت کے وقت بائیں ہاتھ میں پہنے۔
لیکن زینت کے خاطر دائیں ہاتھ میں پہنے۔ کیونکہ استنجاء وغیرہ کے تلوث سے اس میں حفاظت ہے۔علامہ مناوی شارح جامع الصغیر کی ترجیح بھی یہی ہے۔ تفصیلات کے لئے ملاحظہ فرمائیں عمدة القاری 37/22۔ فتح الباری 237/10
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
---------------------
سوال: انگوٹھی پہننا کون سی سنت ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی میں کون سا پتھر تھا؟
کیا ہیرے کی انگوٹھی پہننا صحیح ہے؟
دو یا تین یا زیادہ انگوٹھیاں پہن سکتے ہیں؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق:
(1)  انگوٹھی پہننا جائز ہے، سنت یا مستحب نہیں، بلکہ نہ پہننا افضل ہے۔ قال في الدر المختار: وترکُ التختم لغیر سلطان والقاضي أفضل قال الشامي ... قول المصنف أفضل کالہدایة وغیرہا یفید الجواز (الشامي ط زکریا: 9/520)
(2)  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی میں ایک قیمتی پتھر تھا جو حبش سے لایا گیا تھا۔ عن أنس بن مالک قال کان خاتم النّبي صلی اللّہ علیہ وسلم من ورق وکان فصّہ حبشیًا (أي حجرًا منسوبًا إلی الحبش لأنہ معدنہ) والحدیث رواہ الشیخان ایضًا عنہ. بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آپ کی انگوٹھی میں عقیق کا نگینہ تھا، بعض لوگوں نے کہا کہ مہرہ تھا، جس میں سفیدی اور سیاہی تھی، لیکن یہ دونوں اقوال ضعیف ہیں۔ (ملخصاً جمع الوسائل لملا علی القاری : 169)
(3)  انگوٹھی کا حلقہ تو صرف چاندی ہی کا ہونا چاہیے، چاندی کے علاوہ سے درست نہیں، البتہ نگینے میں چاندی کے علاوہ کوئی بھی قیمتی پتھر عقیق یاقوت اور ہیرے وغیرہ کا لگانا درست ہے قال في الدر المختار: والعبرة بالحلقة من الفضة لا بالفص فیجوز من حجر و عقیق و یاقوت وغیرہا . (الدر المختار مع الشامي، ط زکریا: ج9 ص519)
(4)  سونے اور چاندی کا استعمال اصلاً مردوں کے لیے ناجائز ہے، صرف انگوٹھی کی حد تک اجازت ہے، وہ بھی ضروری ہے کہ چاندی کی ہو اور ایک مثقال (چار گرام 374 ملی گرام) سے کم وزن کی ہو ولا یتختم إلا بالفضة . ولا تتمہ مثقالاً (الحدیث) (الشامي: ج9 ص520) لہٰذا اصل ممانعتِ شرعیہ کو دیکھتے ہوئے ایک سے زائد انگوٹھی کے استعمال کی شرعاً اجازت معلوم نہیں ہوتی۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
------------------------------------------------------
حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی

بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرِقٍ ، وَكَانَ فَصُّهُ حَبَشِيًّا.
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشی تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُحَمَّدٌ سَطْرٌ ، وَرَسُولٌ سَطْرٌ، وَاَللَّهُ سَطْرٌ.
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک کا نقش مبارک اس طرح تھا کہ ایک سطر میں ”محمد“، دوسری سطر میں ”رسول“ ،اورتیسری سطر میں لفظِ ”اللہ“ تھا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ أَبُو عَمْرٍو قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَالنَّجَاشِيِّ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهُمْ لاَ يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ فَصَاغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا حَلْقَتُهُ فِضَّةٌ ، وَنُقِشَ فِيهِ : مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ.
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہ کسریٰ، قیصر اور نجاشی کے پاس تبلیغی خطوط لکھنے کا ارادہ فرمایاتو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: وہ لوگ مہر کے بغیر خطوط قبول نہیں کرتے۔ چنانچہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی جس کاحلقہ چاندی کا تھا اور اس میں ”محمدرسول اللہ“ کے الفاظ منقش تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ نَزَعَ خَاتَمَهُ.
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاءمیں داخل ہوتےتواپنی انگوٹھی مبارک اتار دیتے۔
زبدۃ:
1: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک زندگی میں سونے کی انگوٹھی بھی استعمال فرمائی ہے مگر جب مردوں کے لیے سونے کے زیورکی حرمت نازل ہوئی تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پھینک دیا۔ اس کے بعد حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی مگر بعدمیں اس کو بھی اتار دیا۔ البتہ روایات سے اتارنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔
پھر سنہ چھ ہجری میں معاہدہ حدیبیہ کے بعد آپ نے مختلف سر براہانِ مملکت کے نام تبلیغی دعوت نامے بھیجنےکا ارادہ فرمایاتو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیاکہ حضرت یہ لوگ بغیر مہر کے خطوط قبول نہیں کرتے تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایسی انگوٹھی بنانے کاحکم دیاجو مہر لگانے کے کام بھی آسکے۔ چنانچہ یہ کام یعلیٰ بن امیہ کے ذمہ لگایا گیاتو انہوں نے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی بھی بنائی، اس میں نگینہ بھی لگایااور حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس میں ”محمد رسول اللہ“کے الفاظ بھی کندہ کیے۔
2: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نگینہ ایک روایت کے مطابق حبشی اور دوسری کے مطابق چاندی کا تھا۔ اس میں کوئی اختلاف والی بات نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ ہو تو چاندی کامگر اس کو بنانے والا حبشی ہو یا اس کو حبشی طریقہ پر بنایا گیا ہو۔ زیادہ بہتر صورت یہ معلوم ہوتی ہے کہ مختلف اوقات میں مختلف انگوٹھیاں پہننا ثابت ہے۔ اس لیے ہر کسی نےاپنے مشاہدے کے مطابق نقل کردیا۔
3: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک وصال کے بعد خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رہی۔ ان کے وصال کے بعدخلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہی۔ ان کے وصال کے بعد خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس چھ سال تک رہی۔ پھر ایک دن بئراریس(یہ ایک کنویں کا نام ہے) پہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ تشریف فرماتھے۔ آپ دونوں میں سے کوئی ایک انگوٹھی مبارک دوسرے کو پکڑا رہا تھا کہ انگوٹھی کنویں میں گرگئی۔ پھر باوجود بہت زیادہ تلاش کے نہ مل سکی۔ کہتے ہیں کہ اس انگوٹھی مبارک کے گم ہونے کے ساتھ خیر وبرکات میں بہت فرق آگیا اور اس امت میں نہ ختم ہونے والے فتنوں کا آغاز ہوگیا حتیٰ کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خود بھی شہید ہوگئے۔
4: مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی تو مطلقاً حرام ہے، البتہ چاندی کی انگوٹھی اس شرط کے ساتھ جائز ہےکہ وہ چارماشہ سے زائدنہ ہو، البتہ نگینہ کی اجازت ہے کہ وہ کسی بھی دھات یا پتھر کا ہو اگرچہ کتنا ہی قیمتی کیوں نہ ہو۔ اس میں بھی قاضی ،مفتی وغیرہ کے لیے جن کو مہر وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہےان کے لیے سنت ہے، البتہ زینت کی نیت سے پہننا مناسب نہیں اور غیر اولیٰ ہے۔ عورت کے لیے سونے اور چاندی کی انگوٹھی تو جائز ہے، اس کے علاوہ پیتل، لوہا وغیرہ کسی دوسری دھات کی جائز نہیں جبکہ انگوٹھی کے علاوہ کے زیور کسی بھی دھات کے عورت کے لیے جائز ہیں۔
5: انگوٹھی دونوں ہاتھوں میں پہننا جائز ہے، کسی ایک ہاتھ کی تخصیص نہیں کیونکہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ کی چھنگلی اور کبھی بائیں ہاتھ کی چھنگلی (چھوٹی انگلی) میں پہنتےتھے۔
6: ہر ایسی انگوٹھی جس پر اللہ جلّ جلالُہ یا کوئی اور متبرک نام یا لفظ درج ہو تو ادب کا تقاضا یہ ہے کہ بیت الخلاء جاتے وقت اس کو اتاردینا چاہیےجیسا کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مبارک تھا۔
7: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک کے نقش مبارک کے بارے میں علماء نے لکھا ہےکہ اس کی صورت یہ تھی :
اللہ
رسول
محمد
یعنی اللہ پاک کا نام اوپر تھا اور مہر گول تھی اور نیچے سے پڑھی جاتی تھی۔ مگر محققین کی رائے یہ ہے کہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ ظاہر الفاظ سے
محمد
رسول
اللہ
معلوم ہوتا ہے یعنی اللہ پاک کا نام نیچے تھا اور اوپر سے نیچے پڑھی جاتی تھی۔
7: اب آخر میں حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تین مبارک والے نامے ذکر کیے جاتے ہیں جو کہ آپ نے مختلف اوقات میں مختلف سر براہانِ مملکت کے نام بھیجے تھے ۔
(۱): کسری شاہِ فارس کے نام حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ والا نامہ بھیجا۔ کسریٰ بدبخت نے والا نامہ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیاتو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعافرمائی کہ حق تعالیٰ شانہ اس کے ملک کے ٹکڑے ٹکڑےکردے! چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس کے بیٹے شیرویہ نے اسے بری طرح قتل کیا۔اس کسری کا نام پرویز تھا اوریہ نوشیروان کا پوتا تھا۔ ”کسریٰ“ فارس کے ہر بادشاہ کا لقب ہوتا تھا۔ والا نامہ یہ ہے:
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلٰى كِسْرٰى عَظِيْمِ فَارِسَ سَلاَمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَآمَنَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَشَهِدَ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَدْعُوكَ بِدُعَاءِ اللّهِ فَإِنِّي أَنَا رَسُولُ اللّهِ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً لِأُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِيْنَ فَإِنْ تُسْلِمْ تَسْلَمْ وَإِنْ أَبَيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْمَجُوسِ.
ترجمہ : بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اللہ کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کی طرف سے کسریٰ کے نام جو فارس کاسردار ہے۔ سلامتی اس شخص کے لیے ہے جو ہدایت اختیار کرےاور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور اس بات کا اقرار کرے کہ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ میں تجھ کو اللہ کے کلمہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ اس لیے کہ میں اللہ کا وہ رسول ہوں جو تمام جہان کی طرف اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ ان لوگوں کو ڈراؤں جن کے دل زندہ ہیں (یعنی ان میں کچھ عقل ہے) تاکہ اللہ کی حجت کافروں پر پوری ہوجائے (اور قیامت کے دن ان کو یہ عذر نہ ہو کہ ہم کو علم نہ تھا) تو اسلام قبول کر لے تاکہ تو خود بھی سلامت رہے ورنہ تیرے متبعین مجوسیوں (آگ پرستوں) کا وبال بھی تجھ پر ہوگا (کیونکہ وہ تیرے اقتدارمیں گمراہ ہورہے ہیں)
(۲): قیصر بادشاہِ روم کے نام حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بھیجا۔ قیصر کا نام ہرقل تھا۔یہ شخص اسلام تو نہیں لایا مگر اس نے نامہ مبارک کی بڑی عزت و توقیر کی۔ جب حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ کسریٰ نے تو ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرلیے مگر قیصر نے اپنے ملک کی حفاظت کرلی۔ والا نامہ یہ ہے:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهٖ إِلٰى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلٰى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدٰى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ {وَيَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ}
ترجمہ: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، ہرقل کی طرف جو کہ روم کا سردار ہے۔ سلامتی اس شخص کے لیے جوہدایت اختیار کرے۔ حمدوصلوٰۃ کے بعدمیں تجھ کو اسلام کےکلمہ (توحید) کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ تو اسلام لے آ تاکہ توسلامتی سے رہے اور حق تعالیٰ شانہ تجھ کودہرااجر عطا فرمائیں اور اگر تو اعراض کرے گا تو تیرے ماتحت زراعت پیشہ لوگوں کا وبال بھی تیری گردن پر ہوگا۔
”اے اہل کتاب! آؤ ایسے کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو رب کادرجہ نہ دے۔ اگر اس کے بعد اہلِ کتاب روگردانی کریں تو مسلمانو! تم ان سے کہہ دو کہ تم اس بات کے گواہ رہو کہ ہم تو مسلمان ہیں۔“
(۳): نجاشی بادشاہِ حبشہ کے نام حضرت عمرو بن امیہ ضمری کے ہاتھ بھیجا۔ شاہِ حبشہ کا نام ”اصحمہ“ تھا۔ یہ مسلمان ہوگیاتھااور حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں فوت ہوا تھا۔ اس کا جنازہ بھی آپ نے ہی پڑھایا تھا۔ اس کے نام جو والا نامہ بھیجا تھا وہ یہ ہے:
بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول اللہ إلى النجاشى ملك الحبشة: سلام عليك إنى أحمد إليك الله، الله الذي لا إله إلا هو الملك القدوس السلام المؤمن المهيمن، وأشهد أن عيسى بن مريم روح الله وكلمته ألقاها إلى مريم البتول الطيبة الحصينة، فحملت بعيسى فخلقه الله من روحه كما خلق آدم بيده، وإنى أدعوك وجنودك إلى الله عز وجل، وقد بلغت ونصحت فاقبلوا نصحى، والسلام على من اتبع الهدى․
ترجمہ: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کےنام۔ تم پر سلامتی ہو، میں اللہ کی تعریف تمہارے پاس پہنچاتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ (ایسا) بادشاہ (ہے جو) عیوب سے پاک ہے، ہر قسم کے نقص سے محفوظ ہے، امن دینے والا ہے، نگہبان ہے اور میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی روح اور اس کے کلمہ تھے جسے اللہ تعالیٰ نے پاک صاف کنواری حضرت مریم کے پاس بھیجا، پس وہ حاملہ ہوگئیں، حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص روح سے پیدا کیا اور اس میں جان ڈال دی۔ میں تمہیں اسی وحدہ لاشریک کی بندگی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اس کی اطاعت پر تعاون کی طرف بلاتا ہوں او راس بات کی طرف بلاتا ہوں کہ تم میرا اتباع کرو اور جو شریعت میں لایا ہوں اس پر ایمان لاؤ، بلا شبہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اللہ کی طرف تم کو اور تمہارے لشکر کو بلاتا ہوں، میں نے حق بات تم تک پہنچا دی ہے اور تمہیں نصیحت بھی کردی ہے، تم میری نصیحت قبول کرو اور سلامتی اسی شخص پر ہے جو ہدایت کا اتباع کرے۔
8: بعض مشہور مسلمان شخصیات کی انگوٹھیوں پر بعض الفاظ کندہ ہونا بھی تاریخی کتب میں مذکور ہے مگر روایات اس قدر پختہ اور صحیح نہیں کہ ان پر احادیث صحیحہ کی طرح یقین کیا جاسکے مگر انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام کی انگوٹھی پر ”لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ“ حضرت موسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی انگوٹھی پر ”لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ“ حضرت سلیمان علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی انگوٹھی پر ”اَنَا اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدِیْ وَ رَسُوْلِیْ“ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر ”کَفیٰ بِالْمَوْتِ وَاعِظًا“ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر ”لِلہِ الْمُلْکُ“ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر ”اَلْحَمْدُ لِلہِ“ حضرت مسروق تابعی علیہ الرحمۃ کی انگوٹھی پر ”بِسْمِ اللہِ“ حضرت امام نخعی علیہ الرحمۃ کی انگوٹھی پر ”اَلثِّقَۃُ لِلہِ“ اور حضرت امام باقر علیہ الرحمۃ کی انگوٹھی پر ”اَلْعِزَّۃُ لِلہِ“ کے الفاظ کندہ تھے۔
(امتاع الاسماع بما للنبی من الاحوال: فصل فی خاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جزء7 ص41)

http://saagartimes.blogspot.com/2019/08/blog-post_40.html

مردے کے کفن پر خوشبو لگانا کیسا ہے؟؟

مردے
کے کفن پر
خوشبو لگانا کیسا ہے؟؟

سوال:
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
حضرات مفتی صاحب سے اس مسئلے کی وضاحت مطلوب ہے کہ مردے کی کفن پے عطر یا کوئی خوشبو لگانا کیسا ہے؟ ازراه كرم دلیل کے ساتھ وضاحت فرمادیں

الجواب وباللہ التوفيق:
مردے کے کفن پہ بغیر بھرکدار مثلا زعفرانی رنگ وغیرہ خوشبو لگانا مستحب اور پسندیدہ ہے۔ بھڑکدار خوشبو لگانا ممنوع ہے۔
یبسط الثوب الأول علی بساط ثم یذر علیہ الطیب، ثم یبسط علیہ الثوب الثاني، ویجعل علیہ الطیب، ثم الثالث کذلک وکلہن یبسط علی الطول، ثم یجعل علی الآخر الذریرۃ، وہو نوع من الطیب للرجال، وجعلہا في الکفن جہل۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۲۸ رقم: ۳۶۵۲ زکریا)
وصفۃ تکفین الرجل أن یبخر الکفن أولاً بالبخور الطیبۃ ویرش علیہ الحنوط إن وجد، ویبسط اللفافۃ ثم الإزار وہو من القرن إلی القدم، ثم یجعل علیہ الحنوط إن وجد ویطلی بالکافور مساجد۔ (رسائل الأرکان / بیان السنۃ تکفین للرجل ۱۵۴، بحوالہ: فتاویٰ محمودیہ ۱۳؍۷۸ میرٹھ)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
https://saagartimes.blogspot.com/2019/08/blog-post_27.html?m=1

Monday, 26 August 2019

کافر کے انتقال پر فی نار جھنم پڑھنا کیسا ہے؟

کافر کے انتقال پر فی نار جھنم پڑھنا کیسا ہے؟

سوال: کسی کافر کے مرنے کی خبر سنے یا لاش جاتے دیکھے تو (فی نار جہنم خالدین فیہا ابدا) پڑھنا چاہئے؟؟
الجواب وبہ التوفیق:
میں نے فقہ کی کسی کتاب میں نہیں دیکھا کافر کی موت کی خبر سننے پر الحمدللہ پڑھنا چاہئے۔
(فتاوی محمودیہ جلد 8 ص 485)
قال اللہ تعالی۔ فاذا استویت انت ومن معک علی الفلک فقل الحمدللہ الذی نجانا من القوم الظالمین (المؤمنون پارہ18 آیت 28)
وقال اللہ تعالی۔ فقطع دابرالقوم الذین ظلموا. والحمد للہ رب العالمین (الانعام پارہ 7 آیت 45)
والعلم عنداللہ وعلمہ اتم
مرغوب الرحمٰن القاسمی
----------------------------------------
غیرمسلم میت کی خبر سننے پر کیا پڑھے؟؟
سوال: غیرمسلم میت کی خبرسنے تو کیا پڑھے؟؟
الجواب وبہ التوفیق:
کسی بھی میت کی خبرملے یا کوئی بھی میت سامنے ملے مسلم ہو یا غیر مسلم ہو اسکو دیکھ کر اپنی موت کو یاد کرنا چاہئے جس کے بہتر الفاظ یہ ہے (انا للہ واناالیہ راجعون. یا الحمدللہ پڑھنا چاہئے)
قال اللہ تعالی. فاذا الستویت انت ومن معک علی الفلک فقل الحمد للہ الذی نجٰنا من القوم الظالمین (سورہ مؤمنون. پارہ 18 آیت 28)
فان الحمد علی الانجاء منہم متضمنٌ للحمد علی اھلاکھم وانما قیل:ماذکر.ولم یقل.فقل الحمد للہ الذی اھلک القوم الظالمین.لانہ نعمتہ الانجاء أتم..........وانت تعلم ان الحمد ھنا ردیف الشکر. فاذا خص بالنعمتہ الواصلتہ الی الشاکر.لایصح ان یتعلق بالمصیبتہ من حیث انھا مصیبتہ. وھو ظاہر .وفی امرہ علیہ السلام بالحمد علی نجات اتباعہ اشارتہ الی انہ نعمتہ علیہ ایضاً(روح المعانی.18/27.28)
قال اللہ تعالی. فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العالمین. (سورہ انعام پارہ 7آیت 45)
علی ما جری علیہم من النکال والاھلاک فان اھلاک الکفار والعصاتہ من حیث انہ تخلیص.
من اھل الارض من شؤم عقائدہم الفاسدتہ واعمال الخبیثتہ نعمتہٌ جلیلتہٌ یحق ان یحمد علیھا فھذا منہ تعالی تعلیم العباد ان یحمدوہ علی مثل ذالک. واختار الطبرسی انہ حمدٌمنہ عزاسمہ لنفسہ علی ذالک الفعل. (روح المعانی7/152 .دار احیاء التراث العربی۔ بیروت)
(فتاوی محمودیہ جلد 8 ص 485)
واللہ اعلم بالصواب
-------------------------------------------------------------------
سوال: کیا کسی کافر کی موت کی خبر سن کر "انا للہ وانا إلیہ راجعون" کہنا چاہیے۔ اگر نہیں تو پھر کیا کرنا چاہیے؟ اگر کسی کافر کے ساتھ تعزیت کرنی ہو تو کیسے کریں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
اسلم صورت یہ ہے کہ کچھ نہ پڑھے، خاموشی اختیار کرے اور اپنی آخرت کو یاد کرے، غیرمسلم کی تعزیت ان الفاظ میں کی جاسکتی ہے کہ "اللہ تمھیں اس سے بہتر عطا فرمائے اور تمھیں خیر کی توفیق دے."
جاء یہودي أو مجوسي مات ابن لہ أو قریب ینبغي أن یعزیہ ویقول: أخلفک اللہ علیک خیرًا منہ وأصلحک وکان معناہ أصلحکم اللہ بالإسلام یعنی رزقک الإسلام ورزقک ولدًا مسلمًا․ کفایة" (شامي)
واللہ تعالیٰ اعلم
----------------------------------
ہمارے پڑوس میں غیر مسلم لوگ بھی رہتے ہیں۔ آپس میں پڑوسی ہونے کی وجہ سے تعلقات بھی ہیں۔ جب ان کا کوئی آدمی فوت ہوجائے تو کیا ہم ان کی میت کو کندھا دے سکتے ہیں؟ اور جہاں وہ اپنی میت کو آگ سے جلاتے ہیں وہاں ان کے ساتھ جانا جائز ہے ؟ کیا ہم ان کے پاس تعزیت کیلئے جاسکتے ہیں؟ تعزیت میں ہم ان کو کیا کہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
غیر مسلم پڑوسی کی عیادت یا تعزیت کے لیے جانا درست ہے او رتعزیت میں یہ الفاظ کہنا چاہئے کہ ”اللہ تعالی اس کا نعم البدل عطا فرمائے؛ “ البتہ میت کو کندھا دینا اورمرگھٹ تک جانا اور ان کے مذہبی امور میں شرکت جائز نہیں، اس سے بچنا چاہئے۔ 
واللہ تعالیٰ اعلم
-------------------------------------
(۱) میرا یہ سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان کافر سے دوستی کر سکتا ہے یا نہیں؟
(۲) کیا اسکا جھوٹا کھا اور پی سکتا ہے؟ 
(۳) کیا اسکے کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھا سکتا ہے،
(۴) اس سے دل لگا سکتا ہے؟ براہ کرم، مجھے بتادیجئے، کہ کیوں کہ مجھے بہت سے کافر دوست ہیں۔ اگر اسلام میں یہ منع ہے تو میں ان سے دوستی چھوڈ دوں گا۔
الجواب وباللہ التوفیق:
(۱) ظاہری خوش خلقی، ہمدردی، خیرخواہی، نفع رسانی اور باہمی لین دین کی حد تک کافروں اور غیرمسلموں سے تعلقات رکھنا جائز اور درست ہے، لیکن دلی دوستی اور قلبی محبت وتعلق ایمان والے کے علاوہ کسی سے بھی جائز نہیں، ناجائز وحرام ہے حرام ہے، قال تعالی: ”لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکَافِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ“ (سورہٴ آل عمران، آیت: ۲۸)، وقال تعالیٰ: ”یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّْیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّةِ“ (سورہٴ ممتحنہ، آیت: ۱)۔ (تفصیل کے لیے معارف القرآن، ۲/۴۹-۳۵ دیکھیں) 
(۲) تا (۴) مسلمان کی طرح کافر کا جھوٹا بھی بلا کسی کراہت حلال وپاک ہے بشرطیکہ اس کا منھ ناپاک نہ ہو قال في الدر (مع الرد کتاب الطہارة، باب المیاہ: ۱/ ۳۸۱-۳۸۲، ط: زکریا دیوبند): ویعتبر سوٴر بمسئر․․․ فسوٴر آدمي مطلقاً ولو جنبا أو کافرًا․․․ طاہر الفم․․․ طاہر طہور بلاکراہة إھ اس لیے مسلمان کے لیے کافر کا جھوٹا کھانا پینا اور نیز اسکے ساتھ اس کے برتن میں کھانا جائز ودرست ہے، لیکن کسی کافر کے ساتھ دل لگانا اور اس سے دلی محبت کرنا جائز نہیں۔ اور کسی کے ساتھ بہت زیادہ گھل مل کر رہنے اور مستقل یا بکثرت اس کے ساتھ کھانے پینے سے بھی آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے اس لیے اگر آپ کے کافر وغیرمسلم ساتھیوں کے اسلام قبول کرنے کی امید وتوقع نہ ہو تو ان کے ساتھ مستقل یا بکثرت کھانے پینے اور بہت زیادہ گھل مل کر رہنے سے آپ کو پرہیز کرنا چاہیے۔ 
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
------------------------------------------------------


یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد؟

یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد؟
آج کا سوال نمبر۱۸۳۲ 
 یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں کیا کیا ہوگا؟
جواب
حامدا و مصلیا و مسلما
 یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد پھر زمین میں خیر و برکت ظاہر ہوگی یہاں تک کے ایک انار کو ایک گھر کے آدمی پیٹ بھر کے کھائیگے اور ایک بکری کہ دودھ سے ایک گھر کے لوگوں کا پیٹ بھر جائیگا، ایک گائے کا دودھ ایک قبیلہ والوں کو اور ایک اونٹنی کا دودھ ایک جماعت بھر کو کافی ہوگا۔
عمدۃ الفقہ ۱/۴۴ بحوالہ مسلم شریف
 ظہور مہدی کب؟ کہاں؟ کس طرح؟
 و اللہ اعلم بالصواب۔
مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی 
استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند 
۲۲۔۔۔۔۔۔۔ذی الحجہ 🌴١٤٤۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری
----------------------
سوال
میرا سوال یاجوج ماجوج کے متعلق ہے مجھے اس کا علم ہے کہ ان کی تعداد بہت زیادہ اور وہ لوٹ مار کریں اور جہنم میں جائیں گے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ آیا وہ ابھی تک زندہ ہیں ؟ 
اور کیا وہ اس دیوار کے اندر محبوس ہیں جسے ذوالقرنین نے تعمیر کیا تھا ؟ 
اور کیا یہ دیوار واقعی (لوہے کی بنی ہوئی ہے) یا کہ خیالی چیز ہے؟
جواب:
اس میں کوئی شک نہیں کہ یاجوج ماجوج بنی آدم میں سے دو بڑی قومیں ہیں ، سورۃ الکھف میں ذوالقرنین کے قصہ پر نظر دوڑانے والے کو اس بات کا قطعی علم ہو گا کہ یہ دونوں قومیں موجود ہیں اور جو دیوار بنائی گئي ہے وہ کوئی خیالی اور معنوی نہیں بلکہ حقیقی اور حسی ہے جو کہ لوہے اور پگھلے ہوئےتانبے سے بنائی گئی ہے۔
تو اصل یہی ہے کہ ان قرآنی نصوص کو اپنی اصلی حالت اور ظاہر ہی میں لیا جائے اور ان میں کسی قسم کی تاویل اور تحریف کی جائے جو کہ اسے معنی اور مقصد کو ختم کر دے 
اور پھر قرآن کریم نے اس کے بنانے کی تفصیل بلکہ اس کے بنانے میں کیا کچھ استعمال ہوا ہے اس کی بھی تفصیل ذکر کی ہے تو اس تفصیل کے بعد یہ کہنا کہ آیا یہ بند اور دیوار معنوی ہے یہ وہمی ہے؟
اللہ تعالی نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئےفرمایا:
(حتی کہ جب وہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو ان دونوں کی دوسری طرف ایسی قوم پائی جو کہ بات کو سمجھنے کے قریب بھی نہ تھے انہوں نے کہا اے ذوالقرنین یاجوج ماجوج اس ملک میں بہت بڑ ے فسادی ہیں تو کیا ہم آپ کے لۓ کچھ خرچ کا انتظام کر دیں ؟ (اس شرط پر کہ) آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں اس نے جواب دیا کہ میرے اختیار میں میرے رب نے جودے رکھا ہے وہی بہتر ہے تم صرف قوت اور طاقت سے میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط روک اور دیوار بنا دیتا ہوں مجھے لوہے کی چادریں لا دو یہاں تک کہ جب ان دونوں پہاڑوں کے درمیان دیوار برابر کر دی تو حکم دیا کہ تیز آگ جلاؤ جب لوہے کی چادریں آگ ہو گئیں تو فرمایا پگھلا ہوا تانبا لاؤ تا کہ میں اس کے اوپر ڈال دوں تو ان میں نہ تو اس دیوار پر چڑھنے کی طاقت تھی اور نہ ہی وہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے (ذوالقرنین ) کہنے لگے یہ میرے رب کی مہربانی ہے ہاں جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو اسے زمین بوس کر دے گا بیشک میرے رب کا وعدہ سچا اور حق ہے) الکھف / 93- 98
اور اس بات کی دلیل ابن ماجہ کی مندرجہ ذیل صحیح حدیث ہے کہ یہ امت اب بھی موجود ہے بلکہ وہ روزانہ اس کوشش میں لگی رہتی ہے کہ وہ یہاں سے لوگوں پر نکل جائیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(بیشک یاجوج ماجوج اسے روزانہ کھودتے ہیں حتی کہ جب وہ اس سورخ سے سورج کی شعائیں دیکھتے ہیں تو ان کا سردار کہتا ہے کہ واپس چلو باقی کل کھودیں گے تو اللہ تعالی اسے پہلی حالت سے بھی سخت کر دیتا ہے حتی کہ جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللہ تعالی چاہے گا کہ انہیں لوگوں پر بھیج دے تو وہ اسے سوراخ کریں گے حتی کہ جب وہ اس سوراخ سے سورج کی شعائیں دیکھیں گے تو ان کا سردار کہے گا کہ واپس چلو تم باقی ان شاء اللہ تعالی کل کھودو گے تو جب وہ واپس آئیں گے تو اسی حالت میں ہو گی جہاں وہ چھوڑ کر گۓ تھے تو وہ اس میں سوراخ کرکے لوگوں پر نکل آئیں گے تو وہ سارے پانی کو جذب اور خشک کر جائیں گے اور لوگ ان سے بچنے کے لۓ اپنے قلعوں میں قلع بند ہو جائیں گے تو وہ اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گۓ تو وہ تیر خون آلود ہو کر ان پر واپس آئے گا جو مجھے یاد ہے (یعنی ان کے تیر خون آلود ہوں گے اور یہ ان کے لۓ فتنہ ہوگا) تو وہ یہ کہنا شروع کریں گے کہ ہم زمین والوں پر غالب آگۓ اور آسمان والوں پر بھی غلبہ کر لیا تو اللہ تعالی ان کی گدی میں ایک کیڑا پیدا فرمآئے گا تو اس سے انہیں قتل کرے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بیشک زمین کے جانور موٹے اور ان کے جسم بھر جائیں گے (یعنی چربی سے بھر جائیں گے) اور گوشت سے بھر جائیں گے)
صحیح ابن ماجہ حدیث نمبر 3298
اور ایسے ہی ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا جو کہ زینت جحش سے بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گھبراہٹ کی حالت میں داخل ہوئےاور کہنے لگے لا الہ الا اللہ عرب کو اس شر سے ہلاکت ہو جوکہ قریب آگیا ہے آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہوگیا ہے اور آپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کی ساتھ والی انگلی کا حلقہ بنایا زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہمیں ہلاک کردیا جائے گا حالانکہ ہم میں صالح لوگ ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب برائی زیادہ ہو جائے گی۔
واللہ اعلم.

------------------------
याजूज माजूज की हलाकत के बाद
आज का सवाल नंबर १८३२
याजूज माजूज की हलाकत के बाद हज़रात इसा अलैहिस सलाम के ज़माने में क्या होगा? 
जवाब
حامدا و مصلیا مسلما 
याजूज माजूज की हलाकत के बाद फिर ज़मीन में खैरो बरक़त ज़ाहिर होगी।
यहाँ तक के एक अनार को एक घर के आदमी पेट भर के खाएँगे और एक बकरी के दूध से एक घर के लोग का पेट भर जाएगा, एक गाय का दूध एक क़बिले वाले को और एक ऊँटनी का दूध एक जमाअत भर को काफी होगा। 
उम्दतुल फ़िक़ह १/४४ बा हवाला मुस्लिम शरीफ
ज़हूरे महदी कब, कहाँ किस तरह ? 
و الله اعلم بالصواب
२३ज़िल हिज्जह१४४०~हिज़री
मुफ़्ती इमरान इस्माइल मेमन.
-----------------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/08/blog-post_75.html



كیا اہل عرب سے محبت کرنا ایمانی تقاضا ہے؟

كیا اہل عرب سے محبت کرنا ایمانی تقاضا ہے؟

سوال: آپ کے فتوی نمبر 66818 میں پڑھا ہے کہ اہل عرب سے محبت کرنا ایمانی تقاضا ہے اور حدیث میں عرب سے محبت کرنے کی ترغیب آئی ہے ۔ مجھے ذکر کردہ احادیث مع اردو ترجمہ بتائیں جن میں ایسی ترغیب آئی ہے۔
الجواب وباللّٰہ التوفیق:
عرب سے محبت کے متعلق کچھ احادیث ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ- رضي اللہ عنہما- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ: لِأَنِّی عَرَبِیٌّ، وَالْقُرْآنُ عَرَبِیٌّ، وَلِسَانُ أَہْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِیٌّ۔ (رواہ الطبراني فيا لکبیر: ۱۱/۱۴۸، رقم الحدیث: ۱۱۴۴۱، ط: دار إحیاء التراث العربي بیروت۔
ترجمہ: تم عربوں سے تین وجہ سے محبت کرو: 
(۱) میں عربی ہوں۔ 
(۲) قرآن عربی ہے۔ 
(۳) اہل جنت کا کلام عربی ہے۔
قال الہیثمي: فیہ العلاء بن عمرو الحنفي، وہو مجمع علی ضعفہ (مجمع الزوائد: ۱۰/ ۵۱، ط: دار الفکر، بیروت)
(۲) عَنْ أَنَسٍ -رضي اللہ عنہ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: حُبُّ قُرَیْشٍ إِیمَانٌ، وَبُغْضُہُمْ کُفْرٌ، وَحُبُّ الْعَرَبِ إِیمَانٌ، وَبُغْضُہُمْ کُفْرٌ، فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَقَدْ أَحَبَّنِی، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَقَدْ أَبْغَضَنِی․
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش سے محبت کرنا ایمان کی علامت ہے، اور ان سے بغض رکھنا کفر کی علامت ہے، عرب سے محبت کرنا ایمان کی علامت ہے، اور ان سے بغض رکھنا کفر کی علامت ہے، جس شخص نے عرب سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
-----------------------
سوال
کیا تمام سعودی اہل حدیث ہیں؟ یا صرف ان کی اکثریت ہے؟
براہ کرم، سعودی عرب کے لوگوں کے عقائد کی وضاحت کریں۔ میں سعودی عرب سے محبت کرتاہوں، وہ ہمارے بھائی ہیں، اور یہ وہ زمین ہے جہاں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے تھے۔
الجواب وباللّٰہ التوفیق:
سعودی عرب میں حنبلی مسلک رائج ہے اور بالعموم اہل عرب حنبلی المسلک ہیں وہ غیر مقلد (نام نہاد اہل حدیث) نہیں ہیں، عربوں سے محبت کرنا ایمانی تقاضہ ہے خود حدیث میں عرب سے محبت کرنے کی ترغیب آئی ہے؛ اس لیے آپ کا اہل عرب سے محبت کرنا ایک اچھی بات ہے۔
------------------------------------------------------
ابن حجر ھیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے "مبلغ الارب فی فخر العرب" کے نام سے رسالہ تصنیف کیا ہے جس میں ایسی احادیث کو جمع کیا ہے جو عربوں کے چنیدہ ہونے اور ان سے بغض کی ممانعت کا بیان ہے۔
حوالہ
روى الحاكم والبيهقي عن ابن عمر - رضي الله تعالى عنهما - قال: قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وصحبه وسلم: لما خلق الله الخلق اختار العرب، ثم اختار من العرب قريشا، ثم اختار من قريش بني هاشم، ثم اختارني من بني هاشم، فأنا خيرة من خيرة . سكت عنه الذهبي
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ رب العزت نے مخلوقات کو پیدا فرمایا تو عربوں کو منتخب فرمایا، پھر عربوں سے قریش کو پھر قریش سے بنو ہاشم کو پھر بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا لہذا مجھے بہتر لوگوں میں سے منتخب کیا گیا ہے۔
وأخرج الحاكم في المستدرك والطبراني في المعجم الكبير والأوسط عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : وخلق الخلق فاختار من الخلق بني آدم، واختار من بني آدم العرب، واختار من العرب مضر، واختار من مضر قريشا، واختار من قريش بني هاشم، واختارني من بني هاشم، فأنا خيار إلى خيار، فمن أحب العرب فبحبي أحبهم، ومن أبغض العرب فببغضي أبغضهم .
قال الهيثمي: وفيه حماد بن واقد وهو ضعيف يعتبر به، وبقية رجاله وثقوا
وقال الهيتمي في مبلغ الأرب: حديث سنده لا بأس به، وإن تكلم الجمهور في غير واحد من روات۔ه.
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا فرمایا تو ان میں سے بنو آدم کو منتخب فرمایا، بنو آدم سے عرب کو، عرب سے مضر کو، مضر سے قریش کو، قریش سے بنوہاشم کو اور مجھے بنو ہاشم میں سے منتخب فرمایا لہذا میں اچھی لوگوں میں منتخب کیا گیا ہوں، لہذا جس نے عربوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے عربوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔
وأخرج الطبراني في المعجم الأوسط عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله حين خلق الخلق بعث جبريل، فقسم الناس قسمين، فقسم العرب قسما، وقسم العجم قسما، وكانت خيرة الله في العرب، ثم قسم العرب قسمين، فقسم اليمن قسما، وقسم مضر قسما، وقسم قريشا قسما، وكانت خيرة الله في قريش، ثم أخرجني من خير ما أنا منه . قال الهيتمي في مبلغ الأرب : سنده حسن
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب مخلوقات کو پیدا فرمایا تو جبریل علیہ السلام کو بھیج کر لوگوں کو دو قسموں میں تقسیم فرمادیا ایک قسم عربوں کی اور ایک قسم عجمیوں کی بنادی اور اللہ تعالیٰ کا انتخاب عربوں کا تھا پھر عربوں کو دو قسموں میں تقسیم کرکے ایک قسم یمنیوں کی ایک قسم مضر کی اور ان میں سے ایک قسم قریش کی بنادی، پھر اللہ تعالیٰ کا انتخاب قریش کے بارے میں تھا پھر مجھے ان بہترین لوگوں میں بھیج دیا جن میں میں ہوں۔
وروى مسلم وغيره عن واثلة بن الأسقع يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الله اصطفى كنانة من ولد إسماعيل، واصطفى قريشا من كنانة، واصطفى من قريش بني هاشم، واصطفاني من بني هاشم
واثلہ بن الاسقع کہتے ہیں میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے اولاد اسماعیل میں سے کنانہ کو اور ان میں سے قریش کو اور ان میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ہے۔
وأخرج الترمذي والحاكم وغيرهما عن سلمان قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا سلمان؛ لا تبغضني فتفارق دينك. قلت: يا رسول الله كيف أبغضك وبك هدانا الله! قال: تبغض العرب فتبغضني قال: هذا حديث حسن غريب وقال الحاكم: هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه وقال الذهبي في التلخيص: قابوس بن أبي ظبيان تكلم فيه
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سلمان مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ دین سے ہاتھ دھو بیٹھوگے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتا ہوں حالانکہ آپ کے ذریعے سے اللہ نے مجھے ہدایت عطا فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم عربوں سے بغض رکھوگے تو مجھ سے بغض رکھوگے۔
-------------------------------------
میرا ایک سوال ہے کہ:
عرب سے کون لوگ مراد ہیں؟ وہ سب جو عربی زبان بولتے ہیں یا وہ جو جزیرۃ العرب میں رہتے ہیں؟ شق اول میں افریقہ کے بعض ممالک بھی شامل ہوجائیں گے اور وہ افراد بھی جن کی نسلیں ہند یا دیگر ممالک میں بس چکی ہے اور شق ثانی میں ہمارے یا دیگر ممالک سے وہاں جانے والے افراد بھی شامل ہوں گے۔ لہذا اس کا مطلب متعین کرنے کی ضرورت ہے۔  اس لیے گذارش ہے کہ اس کا صحیح مطلب معتبر کتب کے حوالے سے بھیجنے کی زحمت گوارا فرمائیں۔
نیز کیا عربوں سے صرف اس وجہ سے کہ وہ عربی ہیں باوجود کھلم کھلا فسق وفجور کے بھی ان کی تعظیم کی جائے گی؟

نیز ان سب سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ احبوا العرب لثلاث الخ والی حدیث کا درجہ کیا ہے؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق:
تاریخ اسلام اوت سیرت کی کتا بوں کے شروع ہی میں عربوں کے احوال لکھے ہیں جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عربی قبیلے سے جو تعلق رکھتا ہو وہی عربی کہلائے گا. 

قدیم عربی قبیلوں میں عرب بائدہ اور اس طرح کچھ قبائل کا تذکرہ ملتا ہے
تخريج حديث: أحبوا العرب لثلاث
الحديث 42,713 زيارة
حديث: "أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي، والقرءان عربي، وكلام أهل الجنة عربي".
رواه العقيلي في الضعفاء والطبراني في الكبير والحاكم في المستدرك والبيهقي في شعب الإيمان عن ابن عباس.
خلاصة القولِ فيهِ أنه إمّا حسنٌ لغيره باعتبار مجموع الطرق وإما ضعيف ضعفًا خفيفا تجوز روايتُه في الترغيب والترهيب.
أما معناه فهو حسن المعنى صحيح، لكن الكلام في إسنادِه، وأما تفصيلا فقد استقصاه الحافظ شمس الدين السخاوي في المقاصد الحسنة وقال ما نصه:
رواه الطبراني في معجميه الكبير والأوسط والحاكم في مستدركه والبيهقي في الشعب وتمام في فوائده وآخرون كلهم من حديث العلاء بن عمرو الحنفي حدثنا يحيى بن يزيد الأشعري عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس رضي الله عنهما رفعه بهذا وابن يزيد والراوي عنه ضعيفان وقد تفردا به كما قاله الطبراني والبيهقي ومتابعة محمد بن الفضل التي أخرجها الحاكم أيضا من جهته عن ابن جريج لا يعتد بها فابن الفضل لا يصلح للمتابعة ولا يعتبر بحديثه للاتفاق على ضعفه واتهامه بالكذب. ولكن لحديث ابن عباس شاهد رواه الطبراني أيضا في معجمه الأوسط من رواية شبل بن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن جده عن أبي هريرة مرفوعا (أنا عربي والقرءان عربي وكلام أهل الجنة عربي ) وهو مع ضعفه أيضا أصح من حديث ابن عباس، وأخرج أبو الشيخ في الثواب بسند ضعيف عن عطاء بن أبي ميمونة عن أبي هريرة مرفوعا (أحبوا العرب وبقاءهم فإن بقاءهم نور في الإسلام وإن فناءهم ظلمة في الإسلام) وفي حب العرب أحاديث كثيرة أفردها بالتأليف العراقي منها ما في الأفراد للدراقطني عن ابن عمر رفعه (حب العرب إيمان وبغضهم نفاق) وعن أنس مثله بزيادة أخرجه الديلمي وعن البراء أخرجه البيهقي في الشعب ولكنه قال إن المحفوظ من حديث البراء معناه في الأنصار قال وإنما يعرف هذا المتن من حديث الهيثم بن جماز عن ثابت عن أنس يعني كما أخرجه الديلمي ، ومنها ما للبيهقي أيضا من حديث زيد بن جبير عن داود بن الحصين عن أبي رافع عن أبيه عن علي مرفوعا (من لم يعرف حق عترتي والأنصار فهو لأحد ثلاث إما منافق وإما لزنية وإما لغير طهور) يعني حملته أمه على غير طهور وقال زيد غير قوي في الرواية.انتهى
قال السيوطي في الجامع الصغير، المجلد الأول ،باب: حرف الألف: "صحيح" اهـ

قال العجلوني في كشف الخفاء، حرف الهمزة، الهمزة مع الحاء المهملة: "أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي، والقرءان عربي، وكلام أهل الجنة عربي". وفي لفظ "وكلام أهل الجنة في الجنة عربي"، قال في الأصل رواه الطبراني والحاكم والبيهقي وآخرون عن ابن عباس مرفوعا بسند فيه ضعيف جدا، ورواه الطبراني أيضا عن أبي هريرة مرفوعا بلفظ: أنا عربي والقرءان عربي وكلام أهل الجنة عربي، وهو مع ضعفه أقوى من حديث ابن عباس، وأخرجه أبو الشيخ بسند ضعيف أيضا عن أبي هريرة مرفوعا بلفظ: أحبوا العرب وبقاءهم، فإن بقاءهم نور في الإسلام، وإن فناءهم ظلمة في الإسلام، ورواه الدارقطني عن ابن عمر بلفظ: حب العرب إيمان وبغضهم نفاق، ورواه الدارقطني أيضا عن علي صفحة  بلفظ: من لم يعرف حق عترتي والأنصار والعرب فهو لأحد ثلاث، إما منافق، وإما لريبة، وإما لغير طهور يعني حملت به أمه في الحيض أو هو ولد زنا، وقد وردت أخبار كثيرة في حب العرب يصير الحديث بمجموعها حسنا، وقد أفردها بالتأليف جماعة منهم الحافظ العراقي ومنهم صديقنا الكامل السيد مصطفى البكري، لا زالت علينا عوائد الأفضال تجري، فإنه 
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
https://saagartimes.blogspot.com/2019/08/blog-post_26.html