تمام اقامتی اور غیراقامتی مدارس، مکاتب، اسکول اور تعلیمی اداروں کے لئے حکومت کی لازمی گائڈلائن -(مدارس اسلامیہ کے تعلق سے پوکسو ایکٹ کے لازمی قوانین)
-بھارت میں اسکولوں، مدرسوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے لیے پوکسو ایکٹ (POCSO Act) اور سپریم کورٹ کی گائیڈلائنز کے تحت بچوں کی حفاظت کے سخت قوانین مقرر کئے گئے ہیں، ادارہ کی انتظامیہ، اساتذہ اور دیگر عملے پر درج ذیل قانونی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
1۔ عملے کی پولیس ویریفکیشن: ادارہ میں کام کرنے والے تمام ملازمین (اساتذہ، پرنسپل، سیکیورٹی گارڈز، صفائی کرنے والا عملہ اور بس ڈرائیورز) کی پولیس ویریفکیشن (سابقہ ریکارڈ کی جانچ) کروانا لازمی ہے۔
2. کیمپس کی نگرانی (CCTV and Infrastructure): تعلیمی ادرے کے تمام اہم حصوں (جیسے کوریڈور، کھیل کے میدان، داخلے اور خارج ہونے کے راستے) میں سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے لگانا لازمی ہے۔
3۔ لازمی رپورٹنگ اور پرنسپل کی ذمہ داری (Mandatory Reporting): اگر کسی استاد یا عملے کو شک بھی ہو کہ کسی بچے کے ساتھ ادارے کے اندر یا باہر کوئی غلط حرکت ہوئی ہے، تو اس کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دینا لازمی ہے۔اگر ادارہ کا پرنسپل/مہتمم یا انتظامیہ معاملے کو دبانے یا ادارہ کی بدنامی کے ڈر سے پولیس کو نہیں بتاتی، تو قانون کے تحت انہیں 1 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔
4۔ اسکول ٹرانسپورٹ کے اصول (School Bus Safety)سپریم کورٹ کی گائیڈلائنز کے مطابق ہر اسکول بس میں ایک خاتون اٹینڈنٹ (خاتون ملازم) کا ہونا لازمی ہے۔ بس ڈرائیور کا کم از کم 5 سال کا تجربہ ہونا چاہئے اور تیز رفتاری یا شراب پی کر گاڑی چلانے والے ڈرائیور کو نہیں رکھا جا سکتا۔
5۔ پوکسو کمیٹی اور آگاہی (POCSO Committee & Awareness) ہر اسکول/تعلیمی ادارے میں ایک چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی (پوکسو کمیٹی) بنانا لازمی ہے، جو بچوں کی شکایات سن سکے۔ بچوں کو اسکول میں "محفوظ اور غیر محفوظ لمس" (Good Touch and Bad Touch) کے بارے میں آسان زبان میں سکھلانا اسکول کی ذمہ داری ہے۔ اسکول کی دیواروں اور نوٹس بورڈز پر چائلڈ ہیلپ لائن نمبر 1098 واضح طور پر لکھا ہونا چاہئے۔
6۔ اکیلے میں ملنے پر پابندی (No Solitary Meetings) کسی بھی کم عمر طالبہ کو کسی بھی مرد عملے کے ساتھ اکیلے کمرے میں بند نہیں چھوڑا جاسکتا۔ بچوں کو کسی بھی قسم کی سزا کے طور پر اندھیرے یا اکیلے کمرے میں بند کرنا قانونی جرم ہے۔
پوکسو ایکٹ کے قوانین مدارس، مساجد، خانقاہوں اور تمام مذہبی تعلیمی اداروں پر بھی مکمل طور پر نافذ ہوتے ہیں۔ قانون کے مطابق بچوں کا تحفظ ہر جگہ یکساں ہے اور اس معاملے میں کسی بھی ادارے کو کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔
پوکسو ایکٹ کے سیکشن 5(f) اور سیکشن 9(f) میں خاص طور پر تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ "مذہبی اداروں" (Religious Institutions) کا الگ سے ذکر کیا گیا ہے۔ اگر مدرسے، آشرم یا کسی بھی مذہبی ادارے کی انتظامیہ یا عملے کا کوئی شخص (جیسے ناظم، استاد یا قاری) کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی یا حملہ کرے، تو اسے کم از کم 10 سے 20 سال قید یا عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
اگر مدرسے کے مہتمم، ناظم یا کسی دوسرے استاد کو معلوم ہو کہ ادارے میں کسی بچے کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے، تو ان پر پولیس کو فوراً مطلع کرنا قانونی طور پر فرض ہے۔
حفاظتی اقدامات کی پابندی:
قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (NCPCR) اور مختلف عدالتی احکامات کے مطابق، اقلیتی اور مذہبی تعلیمی اداروں کے لیے بھی بچوں کے حوالے سے درج ذیل گائیڈلائنز پر عمل کرنا ضروری ہے:
مدارس میں بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ یا دیکھ بھال کرنے والے عملے کا بیک گراؤنڈ اور پولیس ویریفکیشن چیک ہونا چاہئے۔
بچوں کی آگاہی کے لئے چائلڈ ہیلپ لائن نمبر 1098 کو نمایاں جگہ پر لکھنا ضروری ہے۔
قانون کے تحت سبق یاد نہ ہونے یا کسی بھی وجہ سے بچوں پر شدید جسمانی تشدد یا مارپیٹ کرنا بھی سخت جرم ہے۔
ایسے مدارس جہاں بچے رات کو قیام کرتے ہیں (رہائشی مدارس)، وہاں بچوں کے سونے کے کمروں کی حفاظت کا خاص انتظام ہونا چاہئے۔ بڑی عمر کے طلبہ اور چھوٹے بچوں کے رہنے اور سونے کے انتظامات الگ الگ ہونے چاہئیں تاکہ چھوٹے بچے محفوظ رہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں مدرسے کے مہتمم (Principal/Manager) کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
مدرسے میں ایک ایسی جگہ شکایت بکس لگانا لازمی ہے جہاں بچے یا ان کے والدین اپنی شکایت نام لکھے بغیر ڈال سکیں۔
مدرسے کے اساتذہ اور قاری صاحبان کو پوکسو ایکٹ کے قوانین کے بارے میں باقاعدہ تربیت دینا ضروری ہے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ بچوں کے حقوق کیا ہیں۔
کلاس رومز، برآمدوں اور مشترکہ حصوں میں کیمروں کی تنصیب کو یقینی بنانا چاہیے، سوائے ان جگہوں کے جہاں پرائیویسی (جیسے واش رومز یا چینجنگ رومز) متاثر ہوتی ہو۔ (منقول) ( #ایس_اے_ساگر )
No comments:
Post a Comment