Tuesday, 29 September 2015

فتاوی لنکس

فتاوی لنکس
>
>
> فتاوی عثمانی     از   مولانا تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2013/09/28/fatawa-usmani/]
>
> فتاوی محمودیہ   از  مولانا مفتی محمود صاحب گنگوہی رحمہ اللہ
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2013/10/01/fatawa-mahmoodiyah/]
>
> آپ کے مسائل اور انکا حل   از حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2013/09/22/aap-ke-masail-aor-unka-hal/]
>
> جامع الفتاوی   از  مولانا مفتی مہربان علی صاحب رحمہ اللہ
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2014/06/15/jame-ul-fatawa/]
>
> فتاوی حقانیہ  از مولانا عبد الحق صاحب رحمہ اللہ
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2013/10/11/fatawa-haqqania-by-maulana-abdul-haq-haqqani-%D9%81%D8%AA%D8%A7%D9%88%DB%8C-%D8%AD%D9%82%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81/]
>
> کتاب الفتاوی    از  مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2013/10/02/kitab-ul-fatawa/]
>
> عمدۃ الفقہ    از  حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ رحمہ اللہ
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2013/09/25/umdat-ul-fiqh/]
>
> فتاویٰ رحیمیہ از مولانا مفتی عبد الرحیم صاحب لاجپوری رحمہ اللہ
> (Click Here یہاں کلک کریں ) [https://besturdubooks.wordpress.com/2013/09/16/fatawa-rahimiyah/]
>
> احسن الفتاوی   از   مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2013/10/13/ahsan-ul-fatawa/]
>
> فتاوی دارالعلوم دیوبند  از مولانا مفتی عزیز الرحمان صاحب رحمہ اللہ  
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2013/10/11/fatawa-dar-ul-uloom-deoband/]
>
> جواھر الفقہ  از  مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2014/06/19/jawahir-ul-fiqh/]
>
> سوال و جواب  از مولانا عبد الباسط صاحب
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2014/05/15/sawal-o-jawab/]
>
> مسائل رفعت قاسمی  از مولانا رفعت صاحب قاسمی
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2013/09/26/masail-e-rifat-qasmi/]
>
> چند اہم عصری مسائل از   مفتی زین الاسلام صاحب
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2014/05/16/chand-ahm-asri-masail/]
>
> زکوۃ کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا    از  مفتی محمد انعام الحق صاحب
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2014/07/08/zakat-kay-masail-ka-encyclopedia/]
>
> قربانی کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا    از  مفتی محمد انعام الحق صاحب
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2013/09/18/qurbani-ke-masaail-ka-encyclopedia/]
>
> روزہ کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا    از  مفتی محمد انعام الحق صاحب
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2014/05/21/rozy-kay-masail-ka-encyclopedia/]
>
> نماز کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا   از مفتی محمد انعام الحق صاحب
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2013/09/20/namaz-ke-masail-ka-encyclopedia/]
>
> قاموس الفقہ   از مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2014/01/09/qamoos-ul-fiqh/]
>
> نجم الفتاوی   از مولانا سید نجم الحسن صاحب امروہوی
> (Click Here یہاں کلک کریں) [https://besturdubooks.wordpress.com/2014/02/27/najm-ul-fatawa/]
>
> فتاوی فریدیہ   از  مولانا مفتی محمد فرید صاحب
> (Click Here یہاں کلک کریں) [http://www.ahlehaq.org/index.php?option=com_jdownloads&Itemid=183&view=viewcategory&catid=150]
>
> خیر الفتاوی    از مولانا خیر محمد جالندھری
> (Click Here یہاں کلک کریں) [http://www.ahlehaq.org/index.php?option=com_jdownloads&Itemid=183&view=viewcategory&catid=149]
>
>
> جدید فقہی مسائل    از مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
> (Click Here یہاں کلک کریں) [http://www.ahlehaq.org/index.php?option=com_jdownloads&Itemid=183&view=viewcategory&catid=157]
>
> کفایت المفتی   از مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب دھلوی رحمہ اللہ
>      (Click Here یہاں کلک کریں) [http://www.ahlehaq.org/index.php?option=com_jdownloads&Itemid=183&view=viewcategory&catid=148]
>
> امداد الفتاوی   از حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ
> (Click Here یہاں کلک کریں) [http://www.ahlehaq.org/index.php?option=com_jdownloads&Itemid=183&view=viewcategory&catid=152]
>
> فتاوی بینات
>   (Click Here یہاں کلک کریں) [http://www.ahlehaq.org/index.php?option=com_jdownloads&Itemid=183&view=viewcategory&catid=137]
>
> فتاوی  عزیزی   ( کامل )  از شاہ عبد العزیز محدث دہلوی  رحمہ اللہ
>    (Click Here یہاں کلک کریں) [http://www.ahlehaq.org/index.php?option=com_jdownloads&Itemid=183&view=viewdownload&catid=79&cid=2222]
> فتاوی رشیدیہ    از مولانا مفتی رشید احمد صاحب گنگوہی رحمہ اللہ
>    (Click Here یہاں کلک کریں) [http://www.ahlehaq.org/index.php?option=com_jdownloads&Itemid=183&view=viewdownload&catid=79&cid=1844]
>
> فتاوی دارالعلوم زکریہ   از مولانا مفتی رضاء الحق صاحب
>     (Click Here یہاں کلک کریں) [http://www.ahlehaq.org/index.php?option=com_jdownloads&Itemid=183&view=viewcategory&catid=15]
>
> باقیات فتاویٰ رشیدیہ از مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی صاحب
> (Click Here یہاں کلک کریں ) [http://nbrnhq.blogspot.in/2014/10/baqiyat-e-fatawa-rashidiyah.html?m]
>
> علم الفقہ کامل از حضرت مولانا عبدالشکور صاحب فاروقی لکھنوی رحمہ اللہ
> (Click Here یہاں کلک کریں ) [https://islamicbookslibrary.wordpress.com/2013/08/26/ilm-ul-fiqh-by-shaykh-abdush-shakoor-farooqi-lakhnavi-r-a/]
>
> فتاویٰ تاتارخانیہ مکمل از شیخ فریدالدین الدھلوی تحقیق شیخ شبیر احمد القاسمی
> (Click Here یہاں کلک کریں ) [https://urdubookdownload.wordpress.com/2014/04/23/fatawa-tatar-khaniah/]
>
> فتاویٰ رضویہ از مولانا احمد رضا خان بریلوی  ( تاکہ بوقت ضرورت کام آئے )
>   (Click Here یہاں کلک کریں) [https://m.facebook.com/onlinesunnibooks/posts/487825671237703]
>
>
>
>
>
> خصوصی شکریہ کے ساتھ :
> محترم مولانا احمد سعید پالنپوری صاحب
> (http://raddegm.blogspot.in/p/httpsbesturdubooks_2.html) [http://raddegm.blogspot.in/p/httpsbesturdubooks_2.html]

کون ہے وہ برگزیدہ خاتون ؟

ایک سوال جو کافی دنوں سے نظر سے گذر رہا ہے:

وہ کون سی عورت ہے

جو ایک نبی علیہ السلام کی بیٹی

دوسرے نبی علیہ السلام  کی بہن

تیسرے نبی علیہ السلام کی بیوی

اور چوتھے نبی علیہ السلام کی والدہ ہیں؟

اس کا جواب عرض ہے کہ...

وہ

حضرت لِیَا بنت یعقوب علیہ السلام
جو
حضرت یعقوب علیہ السلام کی  بیٹی
حضرت یوسف علیہ السلام کی بہن
حضرت ایوب علیہ السلام  کی بیوی
حضرت ذوالکفل علیہ  السلام کی والدہ

بحوالہ

قصص الانبیاء لأبن کثیر
مطبوعہ دارابن کثیر2006علیہ کے
صفحہ 287  اور  294

علمائے کرام اور ان کی ذمہ داریاں

ایس اے ساگر
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ امت مسلمہ کی قیادت کا فریضہ ہمیشہ علماء کرام نے انجام دیا ہے او رہر دور میں اللہ تعالی نے ایسے علماء پیدافرمائے ہیں جنہوں نے امت کو خطرات سےنکالا ہے اوراس کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو پار لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔مسئلہ مسجد میں امامت کا ہو یا اذان دہنے کا...مکاتب میں درس و تدریس کا یا راہ خدا میں دیر اور دور کیلئے نکلنے کا... اسلامی تاریخ ایسے افراد سے روشن ہے جنہوں نے نہ صرف حالات کو سمجھا بلکہ اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کے لیے اور ان کو صحیح رخ پر لانے کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دیں جو اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے ۔کسی کو شک ہو تو وہ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ علیہ کی کتاب دعوت و عزیمت کا مطالعہ کرسکتا ہے. مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ علیہ کی شخصیت بھی ان ہی علمائے ربانیین او ر مجددین ومصلحین کے طلائی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے پورے عالم اسلام میں مسلمانوں کے ہر طبقہ کو راہنما خطوط دیئے ہیں اورپیش آنے والے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔ مولانا ابو الحسن ندوی  نے 'علما اور ان کی ذمہ داریاں' کتاب میں بھی حالات کی روشنی میں  علماء کےلیے ان کے کام کی نوعیت واضح فرمائی اور ان کی زندگی کا مقصد او ران کا مرکز عمل بتایا ہے او ردعوت الی اللہ اور اشاعت ِعلمِ دین کی طرف ان کو خاص طور پر متوجہ کیا ہے ۔قریب 4 حصوں پر مشتمل کتب میں اسی موضوع پر مولاناکے مختلف مضامین اورتقریریں ہیں جوعلماء کے مقام اور ان کی ذمہ داریوں کے متعلق ہے جس میں مولانا نے اہم موضوعات پر مفصل گفتگو کی ہے . مختصر یہ کہ تفصیل طلب موضوع ہے جسے معتبر حوالہ کے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا. ہر کس و ناکس کو لب کشائی کا موقع دینا مناسب نہیں معلوم ہوتا.
اکابر علماء کی شرکت
جب حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت تڑپ اور دلسوز انداز سے تبلیغی دعوت کا سلسلہ شروع فرمایا. تو بڑے بڑے علماء دین اور بزرگان دین اور مفتیان کرام نے ان کے ساتھ شریک ہو کر تبلیغی اجتماعات میں عامۃ المسلمین کے سامنے حضرت مولانا الیاس صاحب اور ان کے کام کا تعارف کرایا. خلوت میں. جلوت میں. ہر طرح سے اس کام کے خیرو برکات سے امت کو روشناس فرمایا
حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد صاحب مدنی علیہ الرحمہ نے دیوبند سے سفر کرکے حضرت مولانا الیاس صاحب کے ساتھ میوات کے علاقے میں اجتماعات میں شرکت فرمائی
اور حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب مفتئ اعظم ہند دہلی سے بار بار حضرت مولانا الیاس صاحب کے ساتھ دہلی واطراف دہلی اور میوات کے علاقوں میں اجتماعات میں شرکت فرماتے رہے
اسی طرح علامہ سید سلیمان ندوی رح.. اور حضرت مولانا منظور احمد نعمانی رح.. اور حضرت مولانا عبدالحق صاحب مدنی رح..  اور حضرت امام اہل سنت مولانا عبد الشکور صاحب لکھنوی رح.. اور حضرت مولانا قطب میاں صاحب فرنگی محلی رح.. ان حضرات نے لکھنؤ کے اجتماعات میں حضرت مولانا الیاس صاحب رح کے ساتھ شرکت فرمائی
اسی طرح دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم حضرت مولانا حافظ عمران صاحب. . اور حضرت مولانا جان صاحب مجددی.. اور حضرت مولانا ڈاکٹر سید عبدالعلی صاحب رح.. اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رح.. اور مولانا محمد شفیع صاحب رح.. مہتمم مدرسہ عبدالرب دہلی. اور مولانا عبداللطیف صاحب ناظم اعلی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور.. حضرت شیخ الادب مولانا اعجاز علی صاحب استاد دارالعلوم دیوبند.. اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رح.. اور حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوری رح.. اور حضرت مولانا ظفر احمد صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہم نے اپنے اپنے علاقوں سفر کرکے حضرت مولانا الیاس صاحب کے ساتھ دہلی کے اجتماعات میں شرکت فرما کر تقریریں بھی کیں....... عامۃ المسلمین کو اس کام کی اہمیت سے روشناس فرمایا
نیز حضرت مولانا عبیدا للہ صاحب نور اللہ مرقدہ کو جب پہلی مرتبہ افغانستان روانہ فرمایا تو حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمۃاللہ علیہ نے افغانستان میں اپنے تلامذہ کے پاس خطوط روانہ فرمائے کہ مولانا عبیداللہ صاحب کو میں بھیج رہا ہوں. آپ لوگ افغانستان کی عوام کو اس کام سے واقف کار کرنے میں مولانا عبیداللہ صاحب کی بھر پور اعانت کریں
چنانچہ وہاں کے بڑے بڑے علماء نے مولانا عبیداللہ کے ساتھ ہوکر افغانستان کے مختلف علاقوں میں عوام کو اس کام سے روشناس کرایا..
نیز حضرت مولانا الیاس صاحب رح کے ہر وقت ساتھ رہنے والے ہونہار نوجوان علماء تھے. حضرت مولانا احتشام الحسن صاحب کاندہلوی جنہوں نے تبلیغی چھ نمبر کی ترتیب دی تھی
حضرت جی مولانا یوسف صاحب رح.. حضرت مولانا منظور احمد نعمانی رح.. حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رح.. حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب رح... حضرت مولانا حسن شاہ صاحب رح.. حضرت مولانا عبیداللہ صاحب رح.. حافظ مقبول احمد صاحب رح.. یہ سب حضرات علماء کرام ہر وقت حضرت مولانا الیاس صاحب کے ساتھ ان کے ہاتھ پیر بنے ہوئے تھے.
اور انہیں حضرات نے کھبی مولانا الیاس صاحب کے ساتھ اور کبھی الگ الگ. عرب دنیا میں جاکر عربوں کو اس کام سے روشناس کرایا
حضرت مولانا احتشام الحسن صاحب رح کاندہلوی بہت بڑے عالم بھی تھے اور عربی زبان کے ماہر بھی تھے. شاہزادوں سے ملاقات کرکے اس کام کی اہمیت ان کے دلوں میں ڈالی.
پھر عرب دنیا میں یہ کام کر نا آسان ہو گیا. شاہ خالد کے آخری دور میں آزادانہ کام کرنے پر پابندیاں شروع ہو گئیں. اور اب تو غیر مقلدین اور سلفی جو اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں. ان کا سخت ترین غلبہ ہے. ان کے غلبہ کی وجہ سے حجاز مقدس میں اس کام پر اور زیادہ پابندی آگئی ہے. اور حنفی مسلک کے علماء کو نہایت غلط نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
اور تبلیغی جماعت کے اکابر علماء اور حنفی مسلک کے مفتیان کرام کیلئے حجاز مقدس کی سر زمین کو تنگ کر دیا گیا ہے. اللہ رب العزت کی ذات سے امید ہے کہ حجاز مقدس کی سرزمین میں دوبارہ حنفی مسلک کے علماء اور رہنماؤں کے لئے آزادانہ علمی میدان فراہم فرمادیں
اور تبلیغی جماعت اور تبلیغی دعوت کو آزادانہ طور پر حجاز مقدس میں عام کرنے کا میدان فراہم فرمادیں. آمین یا رب العالمین.
ماخوذ انوار ہدایت

محبت...

ﻣﺤﺒﺖ ﺣﺮﻑِ ﺍﻭﻝ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺣﺮﻑِ ﺁﺧﺮ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﮨﮯ ﺍﮎ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺬﺑﮧ ﺟﻮ
ﻇﮩﻮﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮨﺮ ﮨﮯ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﺑﮭﯽ
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﺎﻧﭧ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﻮ
ﻣﺤﺒﺖ ﭼﮭﺎﻧﭧ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﺎﻭﻓﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺩﻝ ﺭﺑﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ
ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﮔﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮔﻠﮯ ﻭﮦ ﺳﺐ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﯿﮟ
ﻟﮕﻦ ﭼﺎﮨﺖ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭﯼ
ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﮈﮬﺐ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﯿﮟ
ﻣﺤﺒﺖ ﺁﻥ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺎﻥ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﭘﮭﻮﻝ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺎﻥ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺎﻥ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺳﺮﻓﺮﻭﺷﯽ ﮐﻮ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﮎ ﺗﺒﺴّﻢ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺘﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻤﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺭﮦ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﮯ
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﻣﺎﻧﯽ ﮐﻮ
ﻣﺤﺒﺖ ﺳﻮﭺ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﺎﻧﯽ ﮐﮯ
ﻏﻤﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﻮﭺ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﮎ ﻧﮕﯿﻨﮧ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﻗﺮﯾﻨﮧ ﮨﮯ
ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﭘﺎﺗﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﻭﮦ ﺳﻔﯿﻨﮧ ﮨﮯ
ﺟﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﻣﯿﮟ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺗﻘﺪّﺱ ﮨﮯ
ﯾﮩﯽ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻋﻄﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻣﻘﺪﺱ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺟﺬﺑﮧ ﺍﺏ
ﺑﮍﺍ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺟﺎﺋﮯ
ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺣﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻞ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﭘﺮ
ﻣﺤﺒﺖ ﺁﺝ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﮯ

Blood Groups

ब्लड ग्रुप की तुलना 

आपका ब्लड कौनसा है और उसकी उपलब्धता कितनी है?

O+       1 in 3        37.4%
(प्रचुरता में उपलब्ध)

A+        1 in 3        35.7%

B+        1 in 12       8.5%

AB+     1 in 29        3.4%

O-        1 in 15        6.6%

A-        1 in 16        6.3%

B-        1 in 67        1.5%

AB-     1 in 167        .6%
(दुर्लभ)

Compatible Blood Types

O-    ले सकता है      O-

O+   ले सकता है      O+, O-

A-    ले सकता है       A-, O-

A+ले सकता है A+, A-,O+,O-

B- ले सकता है  B-, O-

B+ ले सकता है B+,B-,O+,O-

AB-ले सकता है AB-,B-,A-,O-

AB+ ले सकता है  AB+, AB-, B+, B-, A+,  A-,  O+,  O-

واٹس ایپ کے 9 فیچرس

ﺫﯾﻞ ﻣﯿﮟ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﮯ 9 ﺍﯾﺴﮯ ﻓﯿﭽﺮﺯ ﺩﺋﯿﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﻮ ﺗﻤﺎﻡ
ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﺍﻥ ﻓﯿﭽﺮﺯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ
ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﺭﺁﻣﺪ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔
1 ۔ﺁﭘﮑﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺘﻨﮯ ﭘﯿﻐﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﮨﻮﺍ؟
ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﭘﯿﻐﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ
ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﮐﯿﺎ، ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﭩﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﮐﺎﺅﻧﭩﺲ ﺍﻭﺭ
ﭘﮭﺮ Network Usage ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻤﺒﺮ
ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﯾﮧ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻐﺎﻣﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮨﮯ ، ﺟﻦ ﮐﺎ ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﺁﭖ
ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﻠﮏ ﮐﺮﻧﮯﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ
ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﺲ ﮐﻮ ﮐﺘﻨﮯ ﭘﯿﻐﺎﻣﺎﺕ ﺑﮭﯿﺠﮯ۔
2 ۔ﮔﺮﻭﭖ ﭼﯿﭧ ﮐﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ‏( Mute ‏) ﮐﺮﯾﮟ
ﮔﺮﻭﭖ ﻧﻮﭨﯿﻔﯿﮑﯿﺸﻦ، ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﮔﺮﻭﭖ ﮐﮯ
ﻧﻮﭨﯿﻔﯿﮑﯿﺸﻨﺰ ﮐﯽ ﺑﮭﺮﻣﺎﺭ ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻠﮉ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﺿﺎﻓﮧ
ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ﮔﺮﻭﭖ ﭼﯿﭧ ﮐﮯ ﻧﻮﭨﯿﻔﯿﮑﯿﺸﻦ ﮐﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺲ ﮔﺮﻭﭖ ﮐﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔
ﮔﺮﻭﭖ ﮐﮯﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﭨﯿﭗ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ Mute ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ۔ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﻧﻮﭨﯿﻔﯿﮑﯿﺸﻦ ﮐﻮ 8 ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ، 1 ﮨﻔﺘﮯ ﯾﺎ 1 ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ Mute ﮐﯿﺎ
ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
3 ۔ﺁﺧﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﮐﻮ ﻏﯿﺮ ﻓﻌﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ
Last Seen ﮐﺎ ﻓﯿﭽﺮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻏﯿﺮ ﻓﻌﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺁﭖ
ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﭘﺮ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﭨﺎﺋﻢ ﮐﻮ
ﻧﮧ ﺟﺎ ﺳﮑﯿﮟ۔ﺍﺱ ﻓﯿﭽﺮ ﮐﻮ ﻏﯿﺮ ﻓﻌﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﯿﭩﻨﮓ ﻣﯿﮟ
ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﺍﮐﺎﺅﻧﭧ، ﭘﮭﺮ ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ Last Seen ۔ﯾﮩﺎﮞ ﺁﭖ
ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﻥ ﺁﭖ ﮐﯽ Last Seen ﺟﺎﻥ ﺳﮑﮯ۔ ﺍﺱ
ﻓﯿﭽﺮ ﮐﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﺳﮯﮨﯽ ﻏﯿﺮ ﻓﻌﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮨﮯ ،
ﻓﯿﭽﺮ ﮐﻮ ﻏﯿﺮ ﻓﻌﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ Last
Seen ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ۔
4 ۔ﻓﻮﻥ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﺎ ﻧﻤﺒﺮ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﯾﮟ
ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﻤﺒﺮ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﻧﻤﺒﺮ ﺑﮭﯽ
ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺳﯿﭩﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ
ﺍﮐﺎﺅﻧﭩﺲ ﭘﮭﺮ Change Number ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﯾﮟ۔
5 ۔ﭘﺴﻨﺪ ﮐﮯ ﮔﺮﻭﭖ ﭼﯿﭧ ﻧﻮﭨﯿﻔﯿﮑﯿﺸﻦ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ
ﮔﺮﻭﭖ ﭼﯿﭧ ﮐﻮ Mute ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﮐﻮ ﻧﻮﭨﯿﻔﯿﮑﯿﺸﻦ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﻠﺘﮯ ﺟﺒﮑﮧ Custom Notification ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﮨﺮ ﮔﺮﻭﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
ﺍﻟﮓ ﻧﻮﭨﯿﻔﯿﮑﯿﺸﻦ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ Mute ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﮔﺮﻭﭖ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﭨﯿﭗ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ Custom Notifications ﮐﺎ
ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﮯ ﻧﻮﭨﯿﻔﯿﮑﯿﺸﻦ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮔﺮﻭﭘﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﮓ
ﺍﻟﮓ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔
6 ۔ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﮐﻮ ﮐﯿﻤﺮﮦ ﺭﻭﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﯿﮟ
ﮐﻢ ﺳﭩﻮﺭﯾﺞ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﻓﻮﻧﺰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﭩﻮﺭﯾﺞ ﮐﺎﻓﯽ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﯽ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺍﺱ ﺳﭩﻮﺭﯾﺞ ﭘﺮ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﻮ ﺳﭩﻮﺭﯾﺞ ﭘﺮ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺍﯾﭙﻞ ﮐﯽ
ﺳﯿﭩﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻓﻮﭨﻮﺯ ﭘﺮ ۔ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﻠﯿﮑﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔ﺍﺏ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﯿﻤﺮﮦ ﺭﻭﻝ
ﻣﯿﮟ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﮈﺍﺅﻥ
ﻟﻮﮈ ﮨﻮ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﯽ۔
7 ۔ﺁﭖ ﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﺐ ﭘﮍﮬﺎ ﮔﯿﺎ؟
ﯾﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮈﺭﯾﮓ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯿﺠﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺟﺎ ﻧﮯ
ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﮔﺮﻭﭖ ﭼﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ
ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﻧﮯ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺎ۔
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮨﮯ، ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﯿﭩﻨﮓ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﻮ ﭨﺎﺋﻢ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧ ﺳﮑﮯ ﺗﻮ
ﺍﺱ ﺳﯿﭩﻨﮓ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ
ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﮐﺐ ﺁﭖ ﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮍﮬﺎ۔
8 ۔ Read Receipts ﺑﻨﺪ ﮐﺮﯾﮟ
ﺁﺝ ﮐﻞ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﻐﺎﻣﺎﺕ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ ، ﺁﭖ
ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﺑﺮﮮ ﺗﺎﺛﺮ ﮐﻮ ﺟﻨﻢ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ﺗﺎﮨﻢ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﯿﭽﺮ
ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﯾﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ
ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﺳﮑﮯ ﻟﯿﮯ Read Receipts ﮐﻮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﯿﭩﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﮐﺎﺅﻧﭩﺲ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ
ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﺴﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ Read Receipts ﮐﻮ ﺳﻮﺋﭻ ﺁﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔ ﺍﺱ
ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﻧﮩﯿﮟ
ﻧﻈﺮﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔
9 ۔ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ، ﻭﯾﺐ ﭘﺮ
ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﻮ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭧ web.whatsapp.com ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ
ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ﯾﮧ ﻓﯿﭽﺮ ﺗﻤﺎ ﻡ ﺑﮍﮮ ﺑﺮﺍﺅﺯﺭﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ۔ﺍﺱ
ﻓﯿﭽﺮ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭧ ﭘﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﺐ
ﺳﺎﺋﭧ ﭘﺮ QR ﮐﻮﮈ ﮐﻮ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺳﮑﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ، ﺟﺲ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﻭﯾﺐ ﭘﺮ ﻻﮒ ﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻧﺌﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﯿﭽﺮﺯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ
ﮨﯿﮟ، ﺟﻮ ﺍﯾﭙﻠﯽ ﮐﯿﺸﻦ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

نظریاتی قیادت کی ضرورت

دہلی میں قرول باغ میں دین دیال انسٹیٹیوٹ ہے، یہ آر ایس ایس کا قائم کردہ ادارہ ہے ، اس ادارہ کا مقصد اسلام کا تنقیدی مطالعہ ہے، اسلامی موضوعات پر قدیم و جدید کتابیں اس ادارہ کی لائبریری میں مل جاتی ہیں، یہاں ریسرچ اسکالر اسلامی موضوعات پر ریسرچ کرتے ہیں ، اسی طرح سے عیسائیوں کا مقدس مقام اٹلی میں ویٹیکن سٹی ہے، یہاں عیسائیت کی تعلیم و تبلیغ کی قدیم درسگاہ قائم ہے، یہاں عیسائیت کے مبلغ تیار کئے جاتے ہیں، اس ادارہ میں بھی اسلامیات کا شعبہ موجود ہے، تاکہ اسلام پر نظریاتی تنقید کے لئے مطالعہ کیا جاسکے، اس ادارہ میں بہت سی دوسری زبانوں کے ساتھ اردو زبان کی بھی تعلیم کا انتظام ہے، عیسائیت کی تعلیم کے لئے بہت سے ادارے قائم ہیں ، لیکن ان میں ایک بہت اہم کیتھولک یونیورسٹی ہے اور یہاں بھی اسلام کے مطالعہ کا شعبہ موجود ہے، دوسرے مذاہب کے لوگوں نے اسلام پر علمی اور فکری تنقید کے لئے مراکز قائم کر رکھے ہیں ،لیکن مسلمانوں کے مذہبی اداروں اور مدرسوں میں اس کا تصور نہیں ہے کہ خالص دعوتی نقطۂ نظر سے مذاہب کے مطالعہ کا شعبہ قائم کیا جائے اور ان مذاہب پر علمی زبان میں اور ان مذاہب کے ماننے والوں کی زبان میں تنقید کی جاسکے، اس سے شعور و ادراک کے اس فرق کا اندازہ ہوسکتا ہے جو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں اور مسلمانوں کے درمیان ہے، وہاں اسلام کے مقابلہ کی تیاری اور ہمارے یہاں بے شعوری اور بے خبری ہے، بقول شاعر ؂ 
جو بات میکدہ میں ہے اِک اِک زبان پر
افسوس مدرسہ میں ہے اب تک نہاں ہنوز
ہندوستان میں جب مغلیہ سلطنت کا آفتاب غروب ہوگیا تھا اور انگریزی سلطنت کا آفتاب طلوع ہورہا تھاتو اس وقت عیسائیت کی تبلیغ کی مہم زور و شور سے شروع ہوگئی تھی، مغربی تہذیب اور مذہب کے پیشرفت سے مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کی عمارت کھنڈر میں تبدیل ہونے والی تھی، اس وقت علماء نے گہرے شعور اور دور بینی کا ثبوت دیا تھا، اس وقت دینی مدارس سے ایسے لوگ اٹھے جنہوں نے عیسائیت کے خطرے کا مقابلہ کیا، اس وقت مولانا رحمت اللہ کیرانوی، ڈاکٹر وزیر خاں، مولانا سید آلِ حسن، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا محمد علی مونگیری اور مولانا سید عبد الباری اور کئی دوسرے علماء عیسائیت کے طوفان کو روکنے کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ یہ واضح رہے کہ گرچہ عیسائیوں کا اقتدار مستحکم ہورہا تھا، لیکن یہ طبقہ ایک چھوٹی سی اقلیت پر مشتمل تھا۔ ہندوستان میں اب جب کہ تاریخ کا نیا ورق الٹا گیا ہے وہ طبقہ حکمراں بن گیا ہے جس کے پاس صرف اقتدار کی طاقت نہیں ہے بلکہ وہ غالب اکثریت میں بھی ہے اور وہ ہندوستان کو مسلمانوں کے لئے اسپین بنانا چاہتا ہے ، اس کے مخصوص زعفرانی نظریات ہیں اور اس کا ارادہ بتدریج ملک کو ہندو اسٹیٹ سے بدلنے کا ہے، لیکن اب ہمارے مدارس کے علماء کو یہ خیال نہیں آرہا ہے کہ جس طرح ۱۸۵۷ء کے بعد عیسائیت کے طوفان کا مقابلہ کیا گیا تھا اسی طرز اور اسی انداز سے نئے طوفان کا مقابلہ کیا جانا چاہئے ، مدارس سے پڑھ کر نئے علماء کی جو کھیپ نکل رہی ہے وہ شعور و ادراک سے محروم ہے اب شدید ضرورت ایسے علماء کی ہے جو ہندو مذہب کا تحقیقی اور تنقیدی مطالعہ کرچکے ہوں اور جو ہندو پنڈتوں سے ڈائلاگ بھی کرسکتے ہوں اور جو ہندی اور سنسکرت سے بھی واقف ہوں۔
ہر سال کئی ہزار طلبہ مدرسوں سے فارغ ہوکر نکلتے ہیں، ان میں کچھ طلبہ باصلاحیت بھی ہوتے ہیں ، یہی باصلاحیت افراد کا گروہ ہے جو تمام دینی جماعتو ں کو قیادت فراہم کرتا ہے، تبلیغی جماعت، جماعتِ اسلامی، جمعیۃ العلماء، جماعتِ اہلِ حدیث، امارتِ شرعیہ اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قائدین اور دینی مدارس کے مدرسین اور دارالافتاء کے مفتی ان ہی مدارس سے ملتے ہیں، اسلامی علوم سے متعلق تصنیف وتالیف کا کام بھی یہی انجام دیتے ہیں ، لیکن مدارس سے فارغ ہونے والوں کی غالب ترین اکثریت بے شعوری کے اندھیروں کی اسیر ہوتی ہے، وہ عصری تقاضوں سے ناواقف ہوتی ہے، اس کے پاس غیر مسلموں سے گفتگو اور ان کے درمیان دعوت کی صلاحیت کا فقدان ہوتا ہے، ان کی اردو تحریروں میں نہ شگفتگی ہوتی ہے نہ سلاست ،مسجد میں امامت و خطابت ان کے آرزو کا سدرۃ المنتہی بن جاتی ہے ، مدارس دینیہ کے ذمہ داروں کو اندازہ نہیں ہے کہ ہندوتو کا سیلاب خطرہ کے نشان کو پار کرچکا ہے اور ملک کے اندر صولتِ بزم کافری اور رقصِ بتانِ آزری کا منظر اسٹیج کیا جانے والا ہے ۔
اس خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمان علماء کو اس طرح سامنے آنا ہوگا جس طرح پہلے وہ عیسائیت کے خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے سامنے آئے تھے ، اس وقت شدیدضرورت اس بات کی ہے کہ طلبہ کو باشعور اور صاحبِ ادراک بنایا جائے ، تاکہ ان کو حالات کی سنگینی کا ادراک ہوسکے۔ ایک معروف دارالعلوم میں(جس کے ذمہ دار عصری تعلیم یافتہ اور فکر ارجمند کے حامل ہیں) طلبہ کے ذہنی افق کو وسیع کرنے اور بہتر صلاحیت پیدا کرنے کے لئے خارجی مطالعہ کا ایک کورس مرتب کیاگیا تھا ، یہ ایک نویدِ صبح تھی اور یہ ایک حسنِ آغاز تھا جس کی پیروی دوسرے مدارس کو بھی کرنی چاہئے تھی، اس کورس میں مستند علماء کی منتخب کتابیں داخل نصاب کی گئی تھیں، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا تقی عثمانی، مولانا مناظر احسن گیلانی، علامہ شبلی نعمانی ، مولاناآزاد،مولانا ابو الحسن علی ندوی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا عبد الماجد دریابادی جیسے چوٹی کے علماء کی کتابیں طلبہ کے خارجی مطالعہ کے لئے رکھی گئی تھیں ،اس کورس میں مولانا ابو الأعلی مودودی کی بھی دو تین کتابیں تھیں اور یہ وہ کتابیں تھیں جن سے طبقۂ علماء کو اختلاف بھی نہیں اور خود مولانا علی میاں طلبہ کو ان کتابوں کے مطالعہ کی تلقین کرتے تھے ، لیکن شہر کے بقیۃ السلف قسم کے روایتی علماء جو مودودی صاحب کا نام بھی سننا گوارہ نہیں کرتے چیں بہ جبیں ہوگئے ، ان کی پیشانیوں پر بَل پڑگیا، حالاں کہ کورس میں ’’عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح‘‘ کے نام کی ایک کتاب بھی تھی جو مولانا مودودی کی فکر کی تنقید میں لکھی گئی ہے ، لیکن ہمارے بے خبر علماء کو کتاب کے نام سے اس کا اندازہ بھی نہیں ہوسکا ہوگا کہ یہ کتاب مولانا مودودی کے نظریات پر تنقید میں علمی اور سلجھے ہوئے انداز میں لکھی گئی ہے ۔ یہ پروپگینڈہ کیا گیا کہ خارجی مطالعہ کے کورس کے مرتب در اصل جماعتِ اسلامی کے خاص آدمی ہیں ، حالاں کہ خوکتابچہ کے مرتب کی بعض تحریریں بھی جماعتِ اسلامی پر تنقید کے سلسلہ میں موجود ہیں۔کتابچہ اوراس کے مرتب کے خلاف شور وغوغا ہوا ،اسی سے ہمارے مدرسوں کے مزاج کا اندازہوسکتا ہے۔علمی اختلاف توکسی بھی شخصیت اور اس کی تحریروں سے کیا جاسکتا ہے، لیکن جب اختلاف مخالفت میں بدل جائے اور انسان خصومت پر آمادہ ہوجائے تو قرآن کی زبان میں یہ وہ ’’ غِلّ ‘‘ ہے جس سے بچنے کی قرآن میں دعا سکھا ئی گئی ہے ’’ ربنا لا تجعل فی قلوبنا غلّا للذین آمنوا ‘‘۔ غِل ایک نامحمود صفت ہے جو عوام میں کم اور علماء کے طبقہ میں زیادہ پائی جاتی ہے ،اور عوام میں بھی یہ مذموم صفت علماء کے ذریعہ آئی ہے، اسی لئے علامہ اقبال نے کہا تھا ’’دین ملّا فی سبیل اللہ فساد‘‘۔جماعتوں اور شخصیات کے سلسلہ میں مخالفانہ مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز عالم دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ اس کی اصل وجہ نہ پڑھنے اور نہ جاننے کا مرض ہے ، یہ حضرات سرے سے پڑھتے ہی نہیں ، اس لئے ان حضرات کے خیالات اور تبصرے ہمیشہ غیر متوازن ہوتے ہیں۔
طلبہ کے لئے خارجی مطالعہ کا کورس کیوں ضروری ہے ؟ اس کو سمجھنے کے لئے ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ایک استاد دینی مدارس کے فضلاء کی ایک جماعت کو جس نے تخصص فی الأدب میں داخلہ لیا تھا ، ایک کتاب پڑھا رہے تھے ، کتاب میں مستشرقین کا لفظ آیا، استاد نے پوچھا مستشرق کسے کہتے ہیں؟ ایک طالب علم کی طرف سے جواب ملا : ہو نہار اور ذہین طلباء کو مستشرقین کہتے ہیں، استاد نے سمجھایا کہ ناواقفیت کی اصل وجہ کتابوں سے ناواقف ہونا اور ان کا مطالعہ نہ کرنا ہے ، دار المصنفین سے مستشرقین پر کئی جلدوں میں کتاب شائع ہوچکی ہے ، اگر کتب خانوں میں جانے اور کتابوں پر نظر ڈالنے کی عادت ہوتی تو یہ ناواقفیت جوایک عالم کے لئے بہت تکلیف دہ اور شرمناک ہے ختم ہوجاتی۔ پھر استاد نے طالب علم سے پوچھا کہ دار المصنفین کہاں ہے؟ تو جواب ملا کہ دیوبند میں ہے۔ استاد کے لئے طلبہ کی لاعلمی کا یہ معیار حیرت انگیز تھا، استاد نے اس طالب علم کے پاس بیٹھے ہوئے دوسرے طالب علم سے جو ایک مدرسہ سے دورۂ حدیث مکمل کرچکے تھے اور حیدرآباد میں تعلیم حاصل کررہے تھے یہ سوال کیا کہ دائرۃ المعارف کہاں ہے ؟ جواب ملا کہ مصر میں ہے ۔ استاد پر سکتہ طاری ہوگیا، اس نے ایک اور طالب علم سے جو ایک دوسرے مدرسہ سے فاضل کی سند رکھتا تھا یہ سوال کیا کہ جامع ازہر کہاں ہے ؟ اس پر جواب آیا کہ دہلی میں ہے ۔
دینی مدارس کے عام فضلاء کی معلومات اسی طرح کی بے حد سطحی بلکہ تازیانہ عبرت ہوتی ہے ، کیوں کہ طالب علمی کے زمانہ میں انہوں نے خارجی مطالعہ کی عادت نہیں ڈالی اور نہ اس جانب ان کی رہنمائی کی گئی۔ راقم السطور کی دانست میں دارالعلوم نے ایک خوشگواراور امید افزا طرح ڈالی ہے اور خارجی مطالعہ کا ایک کورس تیار کیا ہے ، جسے ہُدیٰ پبلیشرز حیدرآباد نے خوبصورت انداز میں شائع کیاہے ۔ندوۃ العلماء لکھنوء میں بھی طلبہ کے خارجی مطالعہ کے لئے ایک کورس ہے ، لیکن وہ اس طرح باضابطہ اور خوشنما انداز میں شائع نہیں ہوا ہے ، جیساکہ دارالعلوم نے شائع کیا ہے ،تمام دینی مدارس کو یہ کتابچہ حاصل کرکے اس سے استفادہ کرنا چاہئے ہر مدرسہ کو کتابوں میں ترمیم کا حق ہے۔
دینی مدارس میں جو ایک دوسری برائی ہے وہ مسلکی تصلّب اور تشدّد ہے ۔ شیخ الہندمولانا محمود الحسن نے کہا تھا کہ ملت کی بیماریوں کا علاج ایک تو اتحاد بین المسلمین ہے اور دوسرا ان کے اندر قرآن فہمی کا ذوق پیدا کرنا ہے ، لیکن مدارس سے جو علماء پڑھ کر نکلتے ہیں وہ اتحاد کی کوششوں کے بجائے مسلکی اختلافات اورنزاع باہمی کے شکار ہوجاتے ہیں اور ان کے اندر قرآن فہمی کا ذوق پیدا نہیں ہوتا، انہیں قرآن کے نظامِ سیاست و تمدن اور نظامِ مالیات و معاشیات کی کوئی خبر نہیں ہوتی، قرآن کے اسرارو عجائبات پر غور کرنے کے بجائے فروعی اختلافات اور فقہی جزئیات میں ان کی دلچسپی زیادہ ہوتی ہے ، مدارس کو اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے ، لیکن اس قلعہ میں شگاف مدارس کے علماء ڈا لتے ہیں۔ طالبِ علمی کے زمانے میں ان کی قلبِ ماہیت کردی جاتی ہے ، تنگ نظری اور بے بصری کا ان کو مریض بنا دیا جاتا ہے ۔ دنیا میں کہیں اگر کفر اور الحادغالب اور سربلند او رشعلہ زن ہو اور دین و شریعت خاک بسر اور خاکستر ہو اور کہیں اہل دین پر ظلم ڈھایا جارہا ہو تو ان کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی ہے ، ان کے دل میں کوئی اضطراب پیدا نہیں ہوتا ہے ، لیکن حیف کہ اپنے خاص مسلک سے ہٹ کر دوسرے مسلک کا وجود انہیں برداشت نہیں ہوتا ہے اور ان کی بیخ کنی کی فکر انہیں سب سے زیادہ لاحق ہوتی ہے ، ایک مدرسۂ فکر کے علماء کی زبان دوسرے مکتبۂ فکر کے لوگوں کو بدعتی کہنے سے نہیں تھکتی ہے اور مخالف مدرسۂ فکر کی زبان بدعتی کہنے والوں کو وہابی کہنے سے نہیں رکتی ہے ،یہ تنابز بالألقاب جو گنا ہ ہے مدرسی ماحول میں بہت عام ہے ۔ خیر القرون اور اس کے بعد کے زمانہ میں ایک چور کے ہاتھ کوتو کاٹا جاتا تھا ، لیکن معاشرہ میں اسے رسوا کرنے کے لئے چور کہہ کر پکارنے کی اجازت نہیں تھی، اس لئے ایک مثالی مسلم معاشرہ میں اس پر تو علمی بحث ہوگی کہ یہ کام اور یہ طریقہ سنت ہے یا بدعت ہے ، لیکن رسوا کرنے کی نیت سے دوسرے گروہ کو بدعتی یا وہابی کہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ تبلیغی جماعت اور جماعتِ اسلامی دونوں کے حلقوں اورماحول میں یہ الفاظ استعمال نہیں کئے جاتے ہیں ، لیکن مدارس کے ماحول میں اس طرح کے توہین آمیز اور فتنہ خیز الفاظ کا چلن بہت عام ہے ۔
ہمارے مدارس میں تدریس کا اندازہ اور طریقہ بھی فرسودہ ہے ، اساتذہ جدید وسائل تدریس سے واقف نہیں، تحقیق اور مطالعہ کا شوق نا پید ،لائبریری انتہائی غیر منظم ، اور مطالعہ کرنے والوں سے خالی، وہ کارڈ سسٹم جو آج ہر لائبریری میں نظر آتا ہے یہاں مفقود ، رجسٹر کا طریقہ جو غیر سائنٹیفک ہے موجود،کتابوں کی کمپیوٹرائزیشن سے لوگ ناواقف ، ایسا لگتا ہے کہ اہل مدرسہ سائنس اور ٹکنولوجی کی عہد میں داخل ہی نہیں ہوئے ، حالانکہ اب دنیا بھر کی اطلاعات اور سارے علوم انگلیوں کی خفیف سی جنبش سے کمپیوٹر کے اسکرین پر ہم پڑھ سکتے ہیں اور ڈاون لوڈ کرسکتے ہیں ، ہمارے چاروں طرف انفارمیشن کا جو دریا بہ رہا ہے اس کو علمی اور دعوتی مقصدکے لئے استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور دینی مدارس کے طلبہ کو اس کی ٹرینینگ دی جانی چاہئے ، مشکل یہ ہے کہ مدارس کے ارباب انتظام میں ’’وِزن ‘‘ نہیں پایا جاتا ہے ، وسا ئل کی کمی کا عذر صحیح نہیں ، وسائل کی کمی ہے تو عالیشان عمارتیں کیسے وجود میں آجاتی ہیں ،
ہمارے مدارس کی ایک اور کمزوری یہ ہے کہ وہاں عصری علوم ابتدائی شکل میں بھی بالکل نہیں پڑھائے جاتے ہیں اور ان مضامین کو پڑھانے پر ان کو اصرار ہوتا ہے جنہیں زمانے کا رولر روند کر کے آگے بڑھ چکا ہوتاہے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانا سجاد نعمانی اور مولانا فضل رحیم مجددی ، مولانا سلمان حسینی مولانا ولی رحمانی جیسے علماء بہت کم ہیں جو بہت باشعور ہیں جنہوں نے دینی علوم اور عصری علوم کو بہم کرنے کی کوشش کی ہے ، دار العلوم حیدرآبادکو بھی یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہاں انگریزی اور کمپیوٹر سائنس کو داخل نصاب کیا گیا ہے ، لیکن یہ روشن خیالی اور زمانہ کے تقاضوں کا احساس بہت کم مدارس میں پایا جاتا ہے ، عام طور پر دینی مدارس میں زمانہ اور وقت کی کوئی رعایت نہیں ہوتی ہے ، وہاں مذاہب کے مطالعہ کا کوئی شعبہ نہیں ملے گا ، نہ وہاں ورزشی کھیلوں اور فٹبال وغیرہ کا نظم ہوتاہے ، بلکہ اسے معیوب سمجھا جاتا ہے ، مشکل یہ ہے کہ علماء کا ذہن اس قدر بے لچک ہوگیا ہے کہ نصیحت کی کوئی بات ان کے دل میں جگہ نہیں بناتی ہے، دینی تعلیمی اداروں کا مقصد دین کا فہم پیدا کرنا اور مسائل کو حل کرنا ہے ، کاروان حیات کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مسائل بھی بڑھتے جاتے ہیں ، دنیا میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے اور دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے وقت کے علوم سے اور مختلف زبانوں سے واقف ہونا ضروری ہے ، صرف ماضی کے سرمایہ ہی پر اکتفا کرنا کافی نہیں ہے ۔
اب آخر میں ایک بات محرمِ رازِ درونِ میخوانہ کے قلم سے ۔ مدرسہ میں طلبہ کی روحانی اور اخلاقی تربیت کا نظام بھی ناقص ہوتا ہے اگر مدرسہ کے اساتذہ اور کارندے مسجد میں نماز باجماعت سے بے پرواہ ہوں گے توطلبہ بھی نماز کی عادی نہیں ہوں گے ۔ مدرسہ صرف کتاب خوانی کی جگہ نہیں ہے یہ مقام پرورش آہ ونالہ بھی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بہتر نمونے فراہم کئے جائیں ۔ طالب علم ہمیشہ کسی کو اپنا آیڈیل بناتا ہے اور اسی کے مطابق وہ اپنی شخصیت کو ڈھالتاہے اگرمدرسہ میں ایک تعداد شب بیداری آہ سحرگاہی اور فغان نیم شبی اور ذکر وعبادت کا ذوق رکہنے والوں کی موجود ہوگی تو طلبہ بھی ان خصوصیات کو اپنے اندر جذب کریں گے ۔ رذائل اخلاق اور ضعف یقین کا علاج دل بے تاب، چشم پرآب اور نفس گرم رکھنے والی شخصیت کے ذریعہ ہوتا ہے ہر مدرسہ میں چند اساتذہ اس سیرت اور کردار کے ضروری ہیں اور جب پورے مدرسہ میں ایک بھی صاحب اخلاص اور صاحب د ل شخصیت باقی نہیں رہتی ہے تورپھر حفاظت کا شامیانہ اٹھالیا جاتا ہے ، انتشار پیدا ہوتا ہے اور مدرسہ کے ٹکڑے ہوجاتے ہیں اور پھر لوگ ایک دوسرے پر الزام عائد کرتے ہیں ۔ ایک ولی اور ایک صاحب اخلاص رہبر کا وجود مدرسہ کیلئے ضروری ہے ۔ اس بات کو اقبال نے بڑے اچھوتے انداز میں کہا ہے 
اگر کوئی شعیب آئے میسر 
شبانی سے کلیمی دو قدم ہےٍ
اکثر یہ بات محسوس کی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے تمام کام روایتی انداز میں انجام دئے جاتے ہیں اور وقت و زمانہ کی رعایت ان کے یہاں بہت کم پائی جاتی ہے ، ہر سال دینی تعلیم کے روایتی انداز کے مدرسوں کا اضافہ ہوتا رہتا ہے، لیکن جدید علوم کے طلبہ کی ذہنی تربیت کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں آتا ہے، حالاں کہ پچانوے فیصد سے زیادہ طلبہ جدید علوم حاصل کرنے کے لئے عصری تعلیم گاہوں میں داخلہ لیتے ہیں ، ہندوستان کے تمام بڑے بڑے شہروں میں مسلم نوجوان عصری تعلیم کے اداروں میں داخلہ لینے کے لئے باہر سے آتے ہیں ، وہ سائنس کے مختلف شعبوں میں یا میڈیکل کالج میں داخلہ لیتے ہیں ، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، بینکنگ، انفارمیشن ٹکنالوجی کا کورس کرنے کے لئے وہ کئی سال قیام کرتے ہیں ، بہت سے نوجوان اسٹاف سلیکشن کمیشن اور پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کی تیاری کے لئے طویل عرصہ تک شہروں میں قیام کرتے ہیں، ان کا شہرمیں نہ کوئی اتالیق ہوتا ہے ، نہ کوئی نگراں ہوتا ہے اور نہ رہبر۔ ان کے لئے ضرورت ہے کہ شہروں میں اسلامک ہوسٹل قائم کئے جائیں جہاں ان کی ذہن سازی اور کردار سازی کی جائے ، اس طرح یہ نوجوان ملت کا بہت بڑا اثاثہ بن سکتے ہیں ، یہ اہم ملی منصوبہ ہے جس پر کسی کی توجہ نہیں ہے ، اگر مسلمانوں کے مستقبل کو روشن بنانا ہے اور اگر مسلم معاشرہ کو بہتر مفید تر اور قوی تر بنانا ہے تو اسلامک ہوسٹل کے منصوبے کو بروئے کار لانے کی سخت ضرورت ہے ۔
ابھی حال میں امریکہ سے ایک نو مسلم دینی علوم کی تحصیل کے لئے حیدرآباد آئے تھے ، ہندوستان کے طول و عرض میں انہیں دینی تعلیم کے انگریزی زبان کے ذریعہ حصول کا کوئی ادارہ نہیں مل سکا ، وہ بہت مایوس ہوئے اور انہیں اس سرزمین میں وہ آبِ حیات نہ مل سکا جس کے لئے انہوں نے رخت سفر باندھا تھا ، اس لئے اس بات کی بھی سخت ضرورت ہے کہ انگریزی زبان کے ذریعہ دینی تعلیم کا ایک ادارہ قائم کیا جائے ، جہاں عا لمیت کا مختصر کورس ہو اور طلبہ کو عربی بھی سکھائی جائے ، اگر ایسا کوئی ادارہ قائم ہوسکا تو نہ صرف باہر کے لوگ اس میں داخلہ لیں گے ، بلکہ ملک کے بہت سے گریجویٹ اس میں کشش محسوس کریں گے ۔ اس وقت اس بات کی ضرورت ہے کہ انگریزی زبان کے ذریعہ اسلا م کا تعارف پیش کرنے والے باصلاحیت نوجوان بڑی تعداد میں سامنے آئیں جو اس مجوزہ ادارہ کے ذریع سامنے آسکتے ہیں۔ حیاتِ شبلی میں علامہ سید سلیمان ندوی نے لکھا ہے کہ ندوہ کے قیام کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی تھا ، لیکن شبلی کا یہ خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ۔
صرف روایتی انداز سے کام کرنے سے ملت کا سفینہ ساحل نجات تک نہیں پہنچ پائے گا ، قوم کی ترقی اور سربلندی کے لئے ایک نئی علمی اور فکری قیادت کی ضرورت ہے اور زمانہ کو انتظار ہے ؂
مردے از غیب بروں آید وکارے بکند