Wednesday, 4 September 2019

پرویز، یزید اور ان کے ساتھ ہمارا رویہ

پرویز، یزید اور ان کے ساتھ ہمارا رویہ

پرویز اور یزید دو مشہور شخصیات ہیں اور دونوں کا دور آس پاس۔ پرویز ایران کا بادشاہ تھا، جس کا مقامی لقب فارسی میں خسرو اور عربی میں کِسریٰ تھا۔ یہ ہُرمز کا بیٹا اور نوشیرواں عادل کا پوتا تھا۔ نہایت متکبر اور حد درجہ سرکش۔ یہ وہی بندہ ہے جس کی ملکہ کا نام شیریں تھا۔ ہاں وہی شیریں، جس پر فرہاد فدا ہوگیا تھا۔ سنہ 6 ہجری میں جب آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط لکھے تو ایک خط اس کے نام بھی لکھا، جس کا متن تھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم، من محمد رسول اللہ الیٰ کسریٰ عظیم فارس، سلام علیٰ من اتبع الھدیٰ و آمن باللہ و رسولہ و شھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و ان محمداً عبدہ و رسولہ، ادعوک بدعایۃ اللہ، فانی انا رسول اللہ الی الناس کافۃ لینذر من کان حیاً و یحق القول علی الکافرین، اسلم تسلم، فان ابیت فعلیک اثم المجوس
فقہ السیرۃ، 358
یہ خط حضرت عبداللہ ابن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ بحرین کے بادشاہ کے پاس لے کر گئے، تاکہ عظیمِ بحرین اسے خسرو تک کسی طرح بھجوادیں۔ مکتوبِ گرامی جب خسرو پرویز کے پاس پہنچا اور اس نے پڑھا تو طاقت اور حکومت کے نشے میں وہ ایمان تو کیا لاتا، الٹا سخت غضبناک ہوا۔ کہنے لگا کہ: محمد کی یہ جرات کہ میرے نام سے پہلے اپنا نام لکھ دے!! خط پڑھا اور اسی وقت اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ مشکل الآثار میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ: فلما قراہ خرقہ یعنی خط پڑھتے ہی پھاڑدیا۔ مشہور تابعی ابن مسیب رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں کہ: 
فدعا علیہم رسول اللہ ﷺ ان یمزقوا کل ممزق، 
یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تک جب اس شرمناک حرکت کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرویز کو یوں بد دعا دی کہ اللہ اس کے ملک کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ چناں چہ یہی ہوا۔ اس کے بیٹے شیرویہ نے ہی اسے مار ڈالا اور خود تخت نشیں ہوگیا۔ جب وہ بھی مرگیا تو اس کی بیٹی بوران وہاں کی حاکمِ اعلیٰ بنی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو فرمایا: 
لن یفلح قوم ولوا امرھم الی امراۃ 
وہ قوم کبھی کامیاب نہ ہوگی جس نے حکومتی معاملات ایک عورت کے سپرد کردیے۔
یزید کو تو تقریباً ہر پڑھا لکھا بندہ جانتا ہے اور اس پر ملامت بھی برساتا ہے۔ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا فرزند اور خسرِ رسولؑ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا پوتا تھا۔ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کے ظلم و ستم کی داستان سے کتبِ تاریخ بھری پڑی ہیں۔ یزید کے خلاف اتنا کچھ لکھا گیا کہ اس کا نام آتے ہی ظلم و عدوان کی تصویر ابھرنے لگتی ہے۔ مولانا منظور نعمانی رحمة اللہ علیہ نے واقعۂ کربلا میں اپنے مقدمے میں لکھا ہے کہ یزید کے خلاف نفرت میرے دل میں بچپن سے تھی، مگر جب قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہوئے 
ولا یزید الظالمین
میری نظر سے گزرا تو میں نے سمجھا کہ اللہ تعالی بھی یزید کو ظالم کہہ رہے ہیں، اس کے بعد سے بغضِ یزید اور پختہ ہوگیا۔ یہ تو بہت بعد میں کھلا کہ یہاں یزید فعل ہے، نہ کہ اسم۔
شیعی روایات کے مطابق حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کی ذریت کا خون اسی یزید کی گردن پر ہے۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ دین نام کی کوئی چیز اس بندے میں نہیں تھی۔ وہ شرابی، کبابی اور بدترین فاسق و فاجر تھا۔ لائق باپ کا گیا گزرا بیٹا۔ مگر سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے محمد بن حنفیہؒ کی بات بھی سن لیجیے۔ ابنِ کثیر روایت کرتے ہیں کہ: عبداللہ ابنِ مطیع جو کہ عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے داعی تھے، وہ اور ان کے اصحاب مدینہ سے محمد ابن حنفیہ کے پاس گئے، انہوں نے ابنِ حنفیہ کو یزید سے جدا کرنا چاہا تو انہوں نے انکار کردیا۔ ابنِ مطیع نے کہا: یزید تو شراب پیتا ہے، نماز چھوڑتا ہے، کتاب اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ محمد ابن حنفیہ نے کہا: میں نے ان کے اندر وہ باتیں نہیں دیکھیں جو تم لوگ کہہ رہے ہو۔ میں ان کے پاس گیا۔ ان کے پاس قیام کیا۔ میں نے انہیں نماز کی پابندی کرتے دیکھا۔ بھلائی کے کاموں میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا۔ فقہ کے بارے میں دریافت کرتے اور سنت کا التزام کرتے ہوئے دیکھا۔ ان لوگوں نے کہا کہ یزید کے یہ اعمال آپ کو محض دکھانے کے لیے تھے۔ اس پر ابنِ حنفیہ نے کہا: اسے مجھ سے کس بات کا ڈر؟؟ ۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: البدایہ و النہایہ۔
یزید ہی وہ بندہ ہے، جس نے قسطنطنیہ پر حملہ کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی پر عمل کیا اور اپنا نام تاریخ کے سنہرے اوراق میں لکھوایا۔ بخاری شریف میں امِ حرام رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
اول جیش من امتی یغزون مدینۃ قیصر مغفور لہم، فقلت انا فیہم یا رسول اللہ! قال لا۔
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ سب سے پہلے ملکِ قیصر، یعنی قسطنطنیہ پر جہادی حملہ کریں گے، ان کا گناہ معاف کر دیا جائے گا۔ آج کا استنبول اور کل کا قسطنطنیہ رومیوں کا دارالحکومت تھا۔ اس پر سب سے پہلا جہادی حملہ یزید کی سرکردگی میں ہوا تھا، جس میں مشہور صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی شریک ہوئے تھے اور وہیں ان کی قبر بنی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہؓ بھی نے بھی شرکت فرمائی۔ یہ غزوہ سنہ 52 ہجری میں ہوا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یزید مغفور ہے۔
اسی حدیث کے پیشِ نظر اہلِ حق علما یزید پر لعنت کے حق میں نہیں۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ فرماتے تھے کہ اس پر خاموشی اختیار کی جائے اور معاملہ اللہ کے حوالے کیا جائے۔
ان دو شخصیات کا مختصر تذکرہ آپ کے سامنے آیا۔ ان میں پہلی شخصیت یقینی کافر تھی اور دوسری شخصیت یقینی مسلمان۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ جس سے ہمیں سخت نفرت کرنا چاہیے تھا، اس کے نام پر ہم اپنے بچوں کے نام دھڑلے سے رکھ رہے ہیں، اور جس کے بارے میں محمد ابن حنفیہ خیر کی گواہی دے رہے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم مغفرت کی بشارت سناتے ہیں آج ہمارے دیار میں اس سے اتنی نفرت کہ یزید نام رکھنا گویا فرعون اور ہامان رکھنا ہے۔ یہ انتہائی خراب ذہنیت اور جہالت سے عبارت طریقہ ہے۔ میری معلومات کے مطابق صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کیا، بعد کی نمایاں شخصیات بھی اس نام کی پائی گئی ہیں۔ علامہ ذہبی نے 18 ایسے محدثین کا تذکرہ کیا ہے، جن کا نام یزید ہے۔ یزید ابن ہارون، یزید ابن مہران، یزید ابن قبیس، یزید ابن محمد اور یزید ابن عبد ربہ کو کون نہیں جانتا! یہ سب یزید کی موت کے بعد پیدا ہوئے۔ یزید کی وفات 64 ہجری میں ہے۔
اس کے برعکس پرویز نامی کوئی محدث یا صحابی میری نظر سے ابھی تک نہیں گزرا۔ اسی لیے میرا مزاج ہے کہ میں پرویز نامی طلبہ کا نام فوراً بدل دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اپنی سرکاری دستاویزات کو اس گھٹیا نام سے پاک کرو۔ نام کا اثر ذات پر ضرور پڑتا ہے۔
✏ فضیل احمد ناصری
https://ur.wikipedia.org/wiki/یزید_بن_معاویہ

صحابہ کرام کو علامتوں سے پہچانئے

صحابہ کرام کو علامتوں سے پہچانئے

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو علامتوں سے پہچانئے
ذیل میں 13 تصویریں ہیں جو کسی نہ کسی صحابی کی کنیت یا نشانی یا ان کا لقب ہے آپ اگر ان میں سے دو کو پہچان گئے تو آپ کو کچھ معلومات ہیں. اگر پانچ کو پہچان گئے تو آپ مطالعہ کرتے ہو۔ اگر آپ آٹھ کو پہچان گئے تو آپ واقعی طالبعلم ہو اور اگر سب کو پہچان گئے تو آپ ایک استاذ ہو۔
الجواب وباللہ التوفیق:
١) صاحب الغار سيدنا أبو بكر الصديق رضي الله عنه
٢) الفاروق بين الحق و الباطل سيدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه
٣) ذو النورین سيدنا عثمان بن عفان رضي الله عنه
٤) مؤذن الرسول سيدنا بلال بن رباح رضي الله عنه
٥) أبو تراب سيدنا علي بن أبي طالب رضي الله عنه
٦) أعلم هذه الامة سيدنا معاذ بن جبل رضي الله عنه
٧) رامي السهام سيدنا سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه
٨) ترجمان القرآن سيدنا عبد الله بن عباس رضي الله عنه
٩) سيف الله المسلول سيدنا خالد بن ولید رضي الله عنه
١٠)حمامة المسجد سيدنا عبدالله بن الزبير رضي الله عنه
١١) امين هذه الأمة سيدنا عبيدة بن جراح رضي الله عنه
١٢) أبو هريرة سيدنا عبد الرحمن بن صخر رضي الله عنه
١٣) أسد الله و أسد رسوله سيدنا حمزة رضي الله عنه

(1) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غار میں
(2) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا عدل
(3) حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ
(4) حضرت بلال رضی اللہ عنہ
(5) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کنیت
(6) جامع القرآن  حضرت  عثمان غنی رضی اللہ عنہ
(7) حضرت سلمہ ابن اقوع یا حضرت طلحہ
(8) کاتبِین وحی
(9) حضرت خالد بن ولید سیف اللہ رضی اللہ عنہ
(10) حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ
(11) حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ
(12) حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ
(13) حضرت حمزہ اسداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

مدرسہ کے مہتمم و ناظم کی حیثیت کیا ہے؟

مدرسہ کے مہتمم و ناظم کی حیثیت کیا ہے؟
🌹🌹فقہی سمینار 🌹🌹
آج کا سوال نمبر 213
5 محرم الحرام ھ1439
مطابق
26 ستمبر ؁2017ع بروز سہ شنبہ

مدرسہ کے مہتمم و ناظم کی حیثیت کیا ہے؟
کیا وہ اموالِ زکوۃ جہاں چاہے صرف کر سکتے ہیں؟
تملیک یا بلا تملیک؟

کیا کسی مدرس کو جب چاہے نکال سکتے ہیں؟
کیا وہ مدرسین و ملازمین کے ساتھ ڈاٹ ڈپٹ غصہ کر سکتے ہیں؟
کیا وہ مدرسہ کی رقوم سے گاڑی خرید کر مدرسہ کے کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے کاموں میں بھی استعمال کر سکتے ہیں؟
کیا وہ مدرسہ میں آئے ہوئے اناج وغلہ پر کلی اختیار رکھتے ہیں کہ جتنا چاہے وہ خود استعمال کریں اور جن کی چاہے دعوت کریں؟
بحوالہ مدلل سیر حاصل بحث فرمائیں
الجواب وباللہ التوفيق:
حامدا ومصلیا ومسلما:
۱۔۔ مدرسہ کے مہتمم کی حیثیت:
مدرسے کے مہتمم و ناظم کی حیثیت میں دو پہلو ہیں،
اول زکات وصول کرنے کے تعلق سے تو اس میں وہ طلبہ کے وکیل ہیں اور انکے لینے سے زکات ادا ہوجائےگی، اور من وجہ مالدار معطین کے بھی وکیل ہیں کہ جس مصرف کے لیے دیا اسی میں خرچ کرسکتےہیں،

چنانچہ حضرت مفتی سعید صاحب پالن پوری دامت برکاتہم فتاویٰ دار العلوم دیوبند کے حاشیے میں یہی تحریر فرماتےہیں اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ اور حضرت تھانوی قدس سرہ کی تائید سے مزین فرمایا ہے
ملاحظہ ہو!
مدارس کے مہتمم کی شرعی حیثیت
مدارس کے مہتمم ایک طرف تو چندہ دہندہ کے وکیل ہوتے ہیں، اس طرح کہ چندہ دینے والے اگر مصرف متعین کرکے دیں تو مہتمم صاحب اسی مصرف میں خرچ کرنے کے پابند ہیں، مثال کے طور پر چندہ (غیرزکوٰة) دینے والے نے مدرسہ کی عمارت میں خرچ کرنے کی قید لگائی تو مہتمم صاحب اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے مصرف میں خرچ نہیں کرسکتے۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ۱۴/۱۲۵ تلخیص)
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ”ظاہراً مہتمم وکیل مُعطِی کا ہے.“ (امداد الفتاویٰ ۳/۳۱۶)
مدارس کے مہتمم دوسری طرف طلبہ کے قَیِّم اور نائب ہوتے ہیں؛ اس لیے ان کا قبضہ طلبہ کا قبضہ کہلائے گا، چندہ دیتے ہی چندہ دہندگان کی ملکیت سے چندہ خارج ہوجاتا ہے، اوراس پر طلبہ کی ملکیت ہوجاتی ہے، مدارس بیت المال کی طرح ہیں اور مہتمم صاحب نگراں کی طرح؛ اس میں طلبہ کا معلوم و متعین ہونا بھی ضروری نہیں ہے جس طرح بیت المال کے مستحقین معلوم ومتعین نہیں ہوتے (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ۱۴/۱۲۵ تلخیص)

نیز دوسرے فتاویٰ میں بھی یہی مذکور ہے
مدرسہ کا مہتمم کس کا وکیل ہے؟
اصل میں مدرسہ کا مہتمم چندہ دہندگان کا وکیل ہے کہ وہ اس چندہ کی رقم کو مصارف میں خرچ کرے؛ لیکن بعض اکابر نے اسے بعض خاص مسائل میں من وجہ طلبہ مدرسہ کا بھی وکیل مانا ہے، اسی بنا پر مہتمم کے قبضہ میں آتے ہی معطیان کی زکوٰۃ کی ادائیگی کا قول کیا جاتا ہے۔ (مستفاد: تذکرۃ الرشید ۱۶۴-۱۶۵، امداد الفتاویٰ ۳؍۳۱۶، فتاویٰ محمودیہ میرٹھ ۱۴؍۲۷۵-۲۷۶، ڈابھیل ۹؍۵۱۱) مستفاد: بخلاف ما إذا ضاعت فی ید الساعی لان یدہ کید الفقراء۔ (درمختار کراچی ۲؍۲۷۰)
۔۔۔۔۔۔۔
مہتمم کی حیثیت میں دوسرا پہلو ان رقوم کے خرچ کرنے کے سلسلے میں ہے تو اس میں وہ امین ہے اور امانت داری سے خرچ کرنا ضروری ہے، اور جس نے جس مصرف کی تعیین کی ہے اسکے خلاف میں صرف کرنا جائز نہیں ہے،
اسی طرح ذاتی استعمال میں لانا قطعی جائز نہیں ہے۔۔
اور جو ایسا کرتا ہو وہ خائن اور مجرم ہے اسے اس جگہ اور عہدے سے معزول کرنا لوگوں پر ضروری ہے، اگر ذمہ دار جاننے اور قدرت کے باوجود ایسے خائن کو نہ ہٹائیں تو وہ بھی مجرم ہے،
اس لیے کہ وقف کی تولیت کے لیے صالح ہونا امین ہونا ضروری ہے۔
ذیل میں فتاویٰ ملاحظہ ہو۔۔:
خیانت کرنے والے ناظم کے ساتھ عوام کیا سلوک کرے؟
سوال (۴۹۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عوام الناس کی عام میٹنگ سے ۲؍مرتبہ مہلت دی گئی، وقت معہود پر سکریٹری نے مدرسہ کی رقم جمع نہیں کی، اَب از روئے شرع عوام الناس کو اُس کے ساتھ کیا سلوک وبرتاؤ کرنا چاہئے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو ناظم خیانت کا مرتکب ہو، اُسے اِس ذمہ داری سے معزول کردینا چاہئے۔
عن الخصاف: أن لہ عزلہ أو إدخال غیرہ معہ ومقتضاہ إثم القاضي
بترکہ، والإثم بتولیۃ الخائن ولا شک فیہ۔ (شامي، کتاب الوقف / مطلب یأثم بتولیۃ الخائن ۶؍۵۷۸ زکریا) 

فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۷؍۱۱؍۱۴۱۶ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ

۔۔
صحیح حساب نہ دینے والے منتظم کو مدرسہ سے نکالنا؟
سوال (۴۹۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید مدرسہ میں صحیح حساب نہیں دیتا ہے، اور مدرسہ کے ذمہ داران اُس کو ہٹانا چاہتے ہیں، اور یہ شخص مدرسہ سے ہٹنا نہیں چاہتا، شرعاً اُس کا کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مدرسہ قوم کی اَمانت ہے، اُس کا حساب زید کو دینا چاہئے؛ البتہ اگر بلا کسی وجہ شرعی کے لوگ اُس سے ناراض ہوں، تو اُس پر مدرسہ چھوڑنا لازم نہیں ہے۔
عن أبي أمامۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: یطبع المؤمن علی الخلال کلہا، إلا الخیانۃ والکذب۔ (مشکاۃ المصابیح / باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم، الفصل الثالث ۲؍۴۱۴) 

فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۶؍۲؍۱۴۱۳ھ
رسیدیں غصب کرنے والے کو مدرسہ کا ذمہ دار بنانا کیسا ہے؟
سوال (۴۹۵):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جس مدرس یا سفیر نے مدرسہ کی رسیدیں غصب کردی ہوں، پھر اُس کو مدرسہ میں رکھنا کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ

الجواب وباللّٰہ التوفیق: 

خائن شخص کو مدرسہ کی ذمہ داری دینے سے مہتمم گنہگار ہوگا۔ 
ولا یولی إلا أمین قادر بنفسہ أو بنائبہ؛ لأن الولایۃ مقیدۃ بشرط النظر، ولیس من النظر تولیۃ الخائن؛ لأنہ یخل بالمقصود۔ (شامي، کتاب الوقف / مطلب في شروط المتولي ۶؍۵۷۸ زکریا، ۳؍۳۸۰ کراچی، البحر الرائق ۵؍۳۷۸ زکریا) 
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱؍۱۱؍۱۴۱۶ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
۔۔۔۔
فتاوی قاسمیہ جلد 19
تعاون نہ کرو، جس کی کئی شہادتیں موجود ہیں۔ اور اب بھی اسی کوشش میں لگے ہیں کہ کسی طریقہ سے یہ پرانا مدرسہ بند ہوجائے، پرانے مدرسہ کی عمارت پختہ عمارت ہے، رقبہ ستر ستر فٹ ہے؛ لہٰذا مہتمم صاحب کی کارستانیوں کو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان فرمائیں؛ کیوں کہ اس کا علاقہ والوں پر بہت برا اثر پڑا ہے، رضا خانی حضرات خوب مذاق اڑاتے ہیں اور جو لوگ رضاخانیت سے توبہ کرکے اس طرف آئے تھے وہ لوگ بہت برا اثر لے رہے ہیں، اس میں پورے مسلک کی بدنامی ہورہی ہے۔
المستفتی: محمد خان سراوستی
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: 

مہتمم صاحب کے لئے مدرسہ کی رقم، رسیدات، روداد اور رجسٹر وغیرہ دیگر سامان روکنا اور لے جانا اور سابقہ مدرسہ کے نام پر دوسرے مدرسہ کا نام رکھنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے؛ بلکہ تمام چیزوں کی واپسی لازم ہے؛ کیوں کہ ایک مدرسہ کی رقم یا دیگر اشیاء دوسرے مدرسہ میں صرف کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ (مستفاد: احسن الفتاوی ۶/ ۴۰۷، فتاوی محمودیہ قدیم ۱۰/ ۲۱۱، جدید ڈابھیل ۱۵/ ۴۷۲-۴۷۳)
ومن اختلاف الجہۃ ما إذا کان الوقف منزلین أحدہما للسکنی والآخر للاستغلال، فلا یصرف أحدہما للآخر، وہي واقعۃ الفتوی۔ (شامي، الوقف، مطلب في نقل القاضي المسجد ونحوہ، زکریا ۶/ ۵۵۱، کراچی ۴/ ۳۶۱) 

فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۵؍ جمادی الثانیہ ۱۴۱۹ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۳/ ۵۸۰۵)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۵؍ جمادی الثانیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۔۔ کیا اموال زکات بلا تملیک صرف کرسکتے ہیں
اس بارے میں حضرت مفتی سعید صاحب فرماتےہیں:
کہ حضرت گنگوہی رح کے فتوے میں اسکی وضاحت نہیں تھی اور مسئلہ اس طرح چلتا رہا کہ تملیک ضروری ہے حالانکہ اس میں بہت پریشانی ہے اس لیے دار العلوم نے یہ طے کیا کہ داخلہ کے وقت طالب سے ہی وکالت و اجازت لے لی جائے اس صورت میں بلا تملیک ضروریات میں خرچ کرنا درست ہوگا، اور وکیل مان لینے کی صورت میں تو بلا کسی حیلہ، تملیک کے ضروریات طلبہ میں خرچ کرسکتاہے،
لیکن اس میں ایک تفصیل ہے جو حضرت مفتی سعید صاحب نے تحریر فرمایاہے کہ جن چیزوں کا فائدہ براہ راست ان تک پہنچتا ہے جیسے کھانا یا کپڑا وغیرہ اس میں بلا تملیک خرچ کرسکتےہیں،
اور جن چیزوں میں بالواسطہ طلبہ پر خرچ ہوتاہے جیسے مدرسے کے بل، اساتذہ کی تنخواہیں یا جو چیزیں طلبہ لو مستعار دی جاتی ہیں جیسے کتابیں، پلنگ وغیرہ اس میں تملیک ضروری ہے۔۔
{حاشیہ فتاویٰ دار العلوم ۱۴/۱۲۵}
لہذاٰ طلبہ کے وکیل ہونے کی بناپر ان کی ضرورتوں میں خرچ کیا جا سکتاہے البتہ ضرورت سے زیادہ نہ ہو اور بلا ضرورت کا خرچ نہ ہو اسکی ذمہ داری مہتمم کے اوپر ہے۔
۳۔۔ جب چاہے نکال سکتےہیں،
مہتمم مدرسہ کہ طلبہ اور اساتذہ کا نگران ہے اور اساتذہ سے کوئی معین وقت تک کا معاہدہ نہیں ہوتا اس لیے بلا شرعی عذر کے ان کو نکالنے کا حق نہیں ۔ہاں شرعی وجہ ہو جیسے ان کی خیانت ہو یا صحیح سے تعلیم نہ دیتے ہوں تو نکال سکتاہے
مستفاد فتاویٰ محمودیہ ۱۵/۴۴۹
اور اگر معین وقت تک کا معاہدہ ہوا ہے تو وقت ختم ہونے پر منع کرسکتاہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۴۔۔ غصہ کرنا،
ملازمین، مدرسین سے نرمی شفقت سے پیش آنا چاہئے، اور اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا اسوہ پیش نظر ہونا چاہئے کہ دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی ہر وقت خدمت کرنے والے کو بھی کبھی نہ آپ نے ڈانٹا نہ مارا تو دوسروں کو کیا ڈانٹتے! اور ڈانٹ سے عموما اصلاح نہیں ہوتی بلکہ مزید قلب میں نفرت ہوتی ہے جو مضر ہے 
۵۔۔ذاتی کام میں استعمال
بالکل جائز نہیں، عنداللہ پوچھ ہوگی
اوپر مدلل آچکاہے
۶۔۔ اناج پر کلی اختیار
بالکل نہیں، وہ اس معاملہ میں امین ہے اور امین کا کام ہے جو چیز جس مصرف کے لیے ہے اس میں خرچ کرنا
پس اناج بھی اسی طرح خرچ کرنا ہوگا، ۔اور اگر سب اساتذہ کو اس میں سے دیا جارہاہے تو اس میں سے اپنے لیے بھی اتنی مقدار لینا درست ہے ورنہ جائز نہیں ہوگا،
اسی طرح مدرسہ کے مال میں سے دعوت کسی ایسے کو دی جارہی ہے جس سے طلبہ مدرسہ منتفع ہورہاہے دینی طور پر تو یہ طلبہ ہی کے لیے ہونے کی بناپر جائز ہے
ورنہ اپنے ذاتی تعلقات والے کی مدرسے کی رقم سے دعوت جائز نہیں

واللہ سبحانہ اعلم
ابراہیم علیانی
۲۲/ محرم ۱۴۳۹ھ

---------------------------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/09/blog-post_4.html


Monday, 2 September 2019

پانی کے عجائبات

پانی کے عجائبات

پانی کا اپنا نہ کوئی رنگ ہے نہ بو اور نہ ہی کوئی ٹھوس ماہیت. بلکہ پانی ہر چیز کے اثرات کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے اور جس چیز میں ڈالو وہی ماہیت اختیار کرلیتا ہے.
ایک جاپانی سائنس دان Dr. Masaru Emoto نے پانی پر مختلف تجربے کیے جس کا احوال ان کی کتاب The hidden message in water میں بیان کیا گیا ہے، جس کا اردو ترجمہ محمد علی سید نے اپنی کتاب ’پانی کے عجائبات‘ میں بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے، جسے پڑھ کر ہمیں شکر اور ناشکری کے الفاظ کے حیران کن اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس جاپانی سائنس دان نے پانی کو اپنی لیبارٹری میں برف کے ذرات یعنی کرسٹلز کی شکل میں جمانے کا کام شروع کیا۔ اس مقصد کے لئے اس نے ڈسٹلڈ واٹر، نلکے کے پانی اور دریا اور جھیل کے پانیوں کے نمونے لیے اور انھیں برف کے ذرات یعنی Crystals کی شکل میں جمایا۔
اس تجربے سے اسے معلوم ہوا کہ پانی، اگر بالکل خالص ہو تو اس کے کرسٹل بہت خوبصورت بنتے ہیں لیکن اگر خالص نہ ہو تو کرسٹل سرے سے بنتے ہی نہیں یا بہت بدشکل بنتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو انجکشن میں استعمال ہوتا ہے) خوبصورت کرسٹل بنے، صاف پانی والی جھیل کے پانی سے بھی کرسٹل بنے لیکن نلکے کے پانی سے کرسٹل بالکل ہی نہیں بنے کیوں کہ اس میں کلورین اور دوسرے جراثیم کش اجزا شامل تھے۔
اس نے ایک اور تجربہ یہ کیا کہ ایک ہی پانی کو مختلف بوتلوں میں جمع کیا اور ہر بوتل کے سامنے مختلف قسم کی موسیقی بجائی. موسیقی کی ہر قسم سے کرسٹلز کی ایک نئی شکل بنتی گئی. مطلب پانی ہر موسیقی کا مختلف اثر لیتا گیا.
اس کے بعد اس نے ایک اور تجربہ کیا جس کے نتائج حیران کردینے والے تھے۔ اس نے شیشے کی سفید بوتلوں میں مختلف اقسام کے پانیوں کے نمونے جمع کئے۔
ڈسٹلڈ واٹر والی بوتل پر اس نے لکھا You Fool اور نلکے کے پانی والی بوتل پر لکھا Thank You یعنی خالص پانی کو حقارت آمیز جملے سے مخاطب کیا اور نلکے کے پانی کو شکر گزاری کے الفاظ سے اور ان دو بوتلوں کو لیبارٹری میں مختلف مقامات پر رکھ دیا۔ لیبارٹری کے تمام ملازمین سے کہا گیا جب اس بوتل کے پاس سے گزرو تو You Fool والی بوتل کے پانی کو دیکھ کر کہو You Fool اور Thank You والی بوتل کے پاس ٹھہرکر سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک جاؤ اور بڑی شکر گزاری کے ساتھ اس سے کہو Thank You۔
یہ عمل 25 دن جاری رہا۔ 25 ویں دن دونوں بوتلوں کے پانیوں کو برف بنانے کے عمل سے گزارا گیا۔ نتائج حیران کن تھے۔ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو خالص پانی تھا اور اس سے پہلے اسی پانی سے بہت خوبصورت کرسٹل بنے تھے) کرسٹل تو بن گئے لیکن انتہائی بدشکل۔ ڈاکٹر اموٹو کے کہنے کے مطابق یہ کرسٹل اس پانی کے کرسٹل سے ملتے جلتے تھے جن پر ایک مرتبہ انھوں نے SATAN یعنی شیطان لکھ کر رکھ دیا تھا۔
نلکے والا پانی جس سے پہلے کرسٹل نہیں بنے تھے، اس مرتبہ اس پر ’’تھینک یو‘‘ لکھا ہوا تھا اور کئی لوگ 25 دن تک اس پانی کو دیکھ کر ’’تھینک یو‘‘ کہتے رہے تھے، اس پانی سے بہترین اور خوب صورت کرسٹل بن گئے تھے۔
اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ پانی باتوں کا بھی اثر لیتا ہے اور ویسی ہی ماہیت اپنا لیتا ہے. اچھی باتوں سے اچھی ماہیت اور بری باتوں سے بری.
Thank you اور you fool والا تجربہ کھانے کی چیزوں کے ساتھ بھی کیا گیا. ایک کیک کے دو پیس کاٹے گئے اور ایک کو Thank you کہا گیا اور دوسرے کو You fool. ایک بار پھر نتیجہ یہ نکلا کہ برے الفاظ والا کیک پیس اپنے نارمل وقت سے بھی بہت پہلے خراب ہوگیا جبکہ اچھے الفاظ والا کیک پیس اپنے نارمل وقت سے کافی زیادہ وقت تک تازہ اور زائقہ دار رہا.
مطلب کھانے پینے کی ہر چیز الفاظ اور سوچ کا اثر لیتی ہے. ان تجربات سے ہمیں یہ بات سمجھ آئ کہ
جب ہم پانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں تو اس میں کس طرح برکت پیدا ہوتی ہے
کھانے پینے کی چیزوں پر سورہ فاتحہ یا کوی بھی کلام پاک پڑھتے ہیں تو پانی کی ماہیت کس طرح تبدیل ہوکر پینے والے  شفا دیتی ہے.
جب ہم روٹی کے ہر لقمے پر اللہ کا نام یا 'واجد' پڑھ کر کھاتے ہیں تو وہ کس طرح ہمارے اندر نور پیدا کرتا ہے. سبحان اللہ
لیکن یہاں ایک اور تجزیہ بھی سامنے آتا ہے کہ ہم کھانے پینے کی اشیاء سامنے رکھ کر جو جو بولتے ہیں اور جو جو سوچتے ہیں ہمارے کھانے اس کا بھی اثر لیتے ہیں. منفی سوچ اور منفی باتوں کا برا اثر اور اچھی باتوں کا اچھا اثر. کھانے کے دوران لوگوں کی غیبت کریں گے تو کھانا برا اثر لے کر ہمارے پیٹ میں جاۓ گا. اگر ٹی وی ڈرامے یا فلمیں دیکھتے ہوئے کھانا کھائیں گے تو وہ کھانا ہمارے پیٹ میں جاکر بھی ویسا ہی اثر دکھاۓ گا..


Sunday, 1 September 2019

واقعہ کربلا: منظر پس منظر

واقعہ کربلا: منظر پس منظر

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آغاز ہی سے مسلمانوں  میں جو خانہ جنگی پیدا ہوگئی، اس کا خاتمہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جانشین حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ہوا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہردلعزیز نواسہ کے بارے میں یہ بشارت سنائی تھی:
ان ابني هذا سید ولعل الله ان یصلح به بین فئتین عظیمتین من المسلمین (بخاری:۲۵۰۵)
’’میرا یہ بیٹا سردار ہے امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروائے.‘‘
چناں چہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد جب خلافت کے مسئلہ میں اختلاف ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کرکے خود کو اس نزاع سے دست بردار کرلیا، تاریخ اسلامی کا یہی وہ سال ہے جسے ’عام الجماعۃ‘ (اجتماعیت واپس آجانے کا سال) کہا گیا۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اختلاف ختم کرنے کے لئے گرچہ خود کو دستبردار کرکے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت کی ذمہ داری سونپ دی، لیکن حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بھائی حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس فیصلے سے راضی نہ تھے، پھر بھی اپنے بھائی کے اس فیصلے کا احترام کرتے رہے اور پھر رفتہ رفتہ حضرت معاویہ سے تعلقات بھی خوشگوار ہوگئے، اور کیوں نہ ہوتے کہ تعلقات کی خوشگواری میں جو چیزیں اصل محرک ثابت ہوتی ہیں وہ حضرت امیر معاویہ اور حضرت حسن وحضرت حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اچھی طرح موجود تھیں، مصالحت اور خوشگواری کی یہ فضا مسلسل چلتی رہی اور ہر طرف فتوحات کا جو سلسلہ خلافت عمری اور خلافت عثمانی میں شاندار طریقہ پر چل رہا تھا، درمیان میں اختلافات کی وجہ سے کچھ ماند پڑجانے کے بعد پھرسے اپنی پرانی شان پر شروع ہوگیا اور اسلامی سلطنت کا دائرہ سرداری کی اعلی ترین خصوصیات کے حامل امیر المؤمنین کی حکمت وتدبیر کے نتیجے میں مزید وسیع ہوتا چلاگیا، اورمسلمان اپنے اس حلم وبردباری کے پیکرامیر کے ساتھ آرام وسکون، انصاف اور عفوودرگذر کی فضا میں زندگی گذارتے رہے۔ (البدایہ والنہایۃ: ۸؍۱۲۹)
   لیکن اختلاف پھر اس وقت پیدا ہوگیا جبکہ سن ۵۶ ہجری میں حضرت امیر معاویہ نے اپنی پیرانہ سالی اور ضعیف العمری کی وجہ سے کسی کو اپنا جانشین بنانا چاہا اور اس کے لئے اپنے بیٹے یزید کو موزوں قرادیا، چناں چہ یزید کی جانشینی پر بہت سے لوگوں نے اختلاف کیا، جن میں حضرت حسین، حضرت ابوبکر صدیق کے فرزند حضرت عبد الرحمن، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین سرفہرست ہیں۔
ان حضرات کا اختلاف عہدہ طلبی یا کسی دنیوی مصلحت کے پیش نظر نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے یہ نیک خیال کار فرما تھا کہ باپ کا اپنے بعد اپنے بیٹے کو عہدۂ خلافت پر فائز کرنا اسلامی خلافت کا دستور نہیں ہے بلکہ شاہی طرز حکومت کا دستور ہے، جس میں رعایا کو کوئی اختیار نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک خاندان کے ماتحت رہنے پر مجبور ہوتے ہیں اور ہر طرح کے ظلم وشدت کو برداشت کرنا ہی ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ نیز ان حضرات کے پیش نظر یہ بات تھی کے ابھی جبکہ جلیل القد ر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین موجود ہیں تو ان کی موجودگی میں ان ہی میں سے کوئی منصب خلافت کے لئے موزوں ہوسکتا ہے، ان کی موجودگی میں ایک نوعمر اور جواں سال انسان جو کہ صحابی بھی نہیں کیسے خلیفہ بن سکتا ہے؟ گویا یہ اختلاف ایک اصولی اور اخلاص پر مبنی اختلاف تھا، جس کا مقصد حق کی ترجیح اور عہدۂ خلافت کی عظمت واہمیت کا تحفظ تھا۔
ادھر حضرت امیر معاویہؓ کی جانب سے یزید کے انتخاب میں بھی کوئی فاسد نیت نہیں تھی، چونکہ حضرت امیر معاویہ یزید کو حکومت وسلطنت کے مسائل اور جنگ و نظم مملکت کے اصول وضوابط سے اچھی طرح واقف سمجھتے تھے، اس لئے انہوں نے یزید کا انتخاب مناسب سمجھا، تاکہ ادارۂ خلافت مضبوط رہے اور افراتفری پیدا نہ ہونے پائے، کیونکہ خلافت کے سلسلہ میں سب سے زیادہ قابل لحاظ چیز مضبوط انتظامی اہلیت اور گرفت ہے ،جوکہ حضرت امیر معاویہ یزید میں محسو س کررہے تھے، اس لئے بجا طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ’محبت پدری‘ اور’جذبہ فرزندنوازی‘ کی بجائے یہاں بھی عہدۂ خلافت کی پاسداری، وقت وحالات کے موافق خلیفہ کے انتخاب کا جذبہ اور اجتماعی مصلحت کا شعور اصل محرک اوربنیاد تھا، جیساکہ حضرت معاویہؓ  کی اس دعا سے اس کا بخوبی اندازہ لگتا ہے، فرمایا:
اللهم ان کنت تعلم انی ولیته لانه فیما اراه اهل لذلک فاتمم له وان کنت ولیته لانی احبه فلا تتمم له ما ولیته (البدایہ والنہایۃ: ۸؍۸۷)
’’اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے اس کو اس کی اہلیت کی بناپر ولی عہد بنایا ہے تو اس کی ولایت کو تو تکمیل تک پہنچادے اور اگرمیرا یہ کام اس لئے ہے کہ مجھے اس سے محبت ہے تو پھر اسے تو پورا نہ ہونے دے-‘‘
امیر معاویہؓ  کی اسی نیک نیتی کو علامہ ابن خلدون بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’امیر معاویہ کے پیش نظر اس کے علاوہ کچھ اور نہ تھا کہ امت میں اتحاد واتفاق قائم رہے اور اس کے لئے ضروری تھا کہ ارباب حل وعقد میں اتفاق ہو،اور ارباب حل وعقد صرف یزید ہی کو ولی عہد بنانے پر متفق ہوسکتے تھے، کیونکہ وہ عموما بنوامیہ میں سے تھے اور بنو امیہ اس وقت اپنے علاوہ کسی اور کی خلافت پر راضی نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ وہ قریش بلکہ پوری ملت کا سب سے بڑا با اثر اور طاقتور گروہ تھا، ان نزاکتوں کی وجہ سے معاویہؓ نے یزید کو ولی عہدی کے لئے ان حضرات پر ترجیح دی جو اس کے زیادہ مستحق سمجھے جاتے تھے اور افضل کو چھوڑکر غیر افضل کو اختیار کیا، تاکہ امت میں جمعیت اور اتفاق باقی رہے، جس کی شریعت میں بڑی اہمیت ہے.‘‘ (مقدمہ ابن خلدون: ۱۷۵)
بہر حال چند بزرگوں کی جانب سے اختلاف کے باجود عمومی اتفاق کے ساتھ  ۵۶ھ میں حضرت امیر معاویہؓ نے یزید کو ولی عہد اور جانشیں مقر کردیا، جن لوگوں کو اس کی جانشینی سے اختلاف تھا وہ اپنے اختلاف اور اس کی ولی عہدی کو قبول کرنے سے انکار پر قائم رہے، بالآخر رجب ۶۰ھ میں حضرت امیر معاویہ کی وفات ہوگئی۔ 
یہی وہ اختلاف تھا جس سے واقعہ کربلا کی داغ بیل پڑی اور جو اس المناک حادثہ کا سبب بنا، اس میں کوفہ کے لوگوں نے بھی اپنی تلون مزاجی کا ثبوت خوب پیش کیا اور قابل حل مسئلہ کو میدان جنگ تک لانے میں کافی اہم رول ادا کیا، کوفہ چونکہ حضرت علیؓ کا دارالخلافۃ تھا، اس لئے حضرت حسینؓ سے قریبی تعلق رکھنے والے لوگ کوفہ میں موجود تھے، اسی طرح حضرت امیر معاویہؓ کی طویل عرصہ حکومت کی وجہ سے وہاں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ان کے خلاف محاذ آرائی کے لئے ہمہ وقت کوشاں تھے، مزید برآں عبد اللہ ابن سبا یہودی کی منافقانہ ریشہ دوانیوں سے ایسے عناصر بھی پیدا ہوگئے تھے جنہیں مرکز خلافت کے خلاف محاذ آرائی ہی اسلام کی خدمت نظر آتی تھی، چناں چہ یہ متعدد عوامل اور محرکات ہیں جنہوں نے اس مسئلہ میں خوب رول ادا کیا اور اسے ایک ناقابل فراموش اور المناک جنگ میں تبدیل کردیا۔
یزید نے اپنے والد بزرگوار کی وفات کے بعد زمام خلافت ہاتھ میں لے کر حاکم مدینہ کو خط لکھا کہ مدینہ کے اہم لوگوں بالخصوص حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیعت لی جائے اور ان سے یزید کی خلافت تسلیم کروائی جائے، مدینہ کے حاکم نے اپنے احباب مشاورت سے مشورہ کرکے یہ طے کیا کہ عبد اللہ بن عمرؓ کے بارے میں جلدی نہ کی جائے کیونکہ ان سے کسی ضرر کا اندیشہ نہیں، البتہ بقیہ دونوں حضرات سے جلد ازجلد اس مسئلہ کو حل کرلینا ضروری ہے، چناں چہ جب یہ بات ان حضرات کے سامنے آئی تو ان حضرات نے بیعت سے انکار کیا اور اپنی حکمت عملی سے مدینہ سے مکہ پہنچ گئے اورراستہ میں پیچھا کرنے کی بھی کوشش کی گئی جو ناکام ثابت ہوئی۔
حضرت حسین ؓ  ۴؍شعبان ۶۰ھ  کو اپنے پورے کنبہ کے ساتھ مکہ پہنچے، مکہ پہنچنے والے اس کنبہ میں صرف محمد بن حنفیہ نہیں تھے جو کہ حضرت حسین ؓ کے علاتی بھائی تھے، حضرت حسینؓ اپنے پورے کنبہ کے ساتھ ۸؍ ذی الحجہ تک مکہ میں ہی مقیم رہے، اس دوران اہل کوفہ کے متعدد وفود اور خطوط حضرت حسین کے پاس آئے جن میں حضرت حسین کو کوفہ آنے اور وہاں کے انتظام اور خلافت کو سنبھالنے کی دعوت اور درخواست تھی اور یہ یقین دلایا گیا تھا کہ سارا کوفہ آپ کے ساتھ ہے اور آپ کے آتے ہی اہل کوفہ یزید کی خلافت سے منہ موڑ کر آپ کی خلافت پر بیعت کرلیں گے، یہ دعوتی خطوط ایک دو نہیں بلکہ کم از کم ڈیڑھ سو اہل کوفہ نے حضرت حسن کے پاس مختلف وفود کے ذریعہ بھیجے، اور ان کے ذریعہ یہ ثابت کرنا چاہا کہ آپ کے جانثاران چشم براہ ہیں، طبری کی روایت کے مطابق ایک خط کا مضمون اس طرح تھا:
’’سلیما ن بن صرد، مسیب بن نجبہ، رفاعہ بن شداد، حبیب بن مظاہر اور جملہ شیعان کوفہ کی طرف سے حسین بن علی کے نام ۔بعد ازسلام ! خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے آپ کے دشمن ِجابر کا قصہ پاک کیا جس نے ناحق حکومت پر قبضہ کررکھا تھا، اب اس وقت ہمارا کوئی امام نہیں ہے، آپ تشریف لے آئیے کہ شاید اللہ آپ کے ذریعہ ہم لوگوں کو حق پر جمع کردے، یہاں جو اموی گورنر نعمان بن بشیر ہیں ہم ان کے پیچھے جمعہ اور عید تک نہیں پڑھتے اور اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ آپ ادھر کے لئے روانہ ہوگئے ہیں تو ہم انشاء اللہ ان کا بستر باندھ کر انہیں شام بھیج دیں گے-‘‘ (طبری:۶؍۱۹۷)
ایک طرف یہ دعوتی خطوط تھے تو دوسری جانب کوفہ اور اہل کوفہ کے حالات اور تلون مزاجی کے پیش نظر مخلصین کا مشورہ یہ تھا کہ ان خطوط پر اعتماد نہ کیا جائے اور کوفہ کی روانگی کا پروگرام نہ بنایا جائے، مثلا خاندان کے بزرگ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایاکہ: ’’خدا کے واسطے عراق کا ارادہ نہ کرو اور اپنی جان کھونے کیلئے وہاں نہ جاؤ اور اگر جانا ہی ہے تو کم از کم اتنی بات مانو کہ موسم حج گذر جانے دو، حج میں آنے والے لوگوں سے مل کر وہاں کے حالات کا اندازہ کرلواور پھر جو کچھ طے کرنا ہے کرو‘‘ (البدایہ والنہایۃ: ۸؍۱۶۴)
حضرت محمد بن حنفیہ کی ملاقات حضرت حسینؓ سے مکہ میں ہوئی تو انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ اس وقت کوفہ روانہ ہونا بالکل مناسب نہیں (البدایہ والنہایۃ:۸؍۱۶۵)
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مطیع  ؓ نے جوکہ ان دنوں مکہ ہی میں تھے، حضرت حسینؓ سے بصد ادب اور بڑی عاجزی سے کہا کہ ہر گز کوفہ کا رخ نہ کیجئے اور ان لوگوں کا کردار مت بھولئے. (طبری:۶؍۱۹۶)
ان کے علاوہ حضر ت ابو سعید خدری، حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت واثلہ بن واقد اللیثی اور حضرت مسور بن مخرمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی نہ جانے کا مشورہ دیا۔
لیکن دعوتی خطوط کے اصرار اور عہد وپیمان نے نیز حق کی اشاعت اور عہدۂ خلافت کے تحفظ کے ’جذبۂ بے پناہ‘ نے ان حضرات کے مشوروں، خواہشوں اور منتوں کو بے اثر کردیا اور حضرت حسین ؓنے کوفہ روانگی کا فیصلہ کرلیا البتہ آپ نے اپنے سفر سے پہلے اپنا ایک آدمی کوفہ بھیج کر حالات معلوم کرنا ضروری سمجھا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ وہ لوگ اپنے وعدوں اور اپنے خطوط میں لکھے ہوئے عہد وپیمان میں کس حد تک سچے ہیں، چناں چہ آپ نے اس کے لئے حضرت مسلم بن عقیل کو منتخب کرکے کوفہ روانہ کیا، اور ان کے ساتھ اہل کوفہ کے نام ایک خط بھی روانہ کیا جس کا مضمون یہ تھا:
’’میں اپنے چچیرے بھائی مسلم بن عقیل کو آپ لوگوں کے پاس بھیج رہا ہوں کہ یہ میرے قائم مقام بن کر حالات کو دیکھیں اور مجھے اطلاع دیں،اگر انہوں نے اطمینان ظاہر کیا اور لکھا کہ آپ لوگ جو کچھ مجھے لکھ رہے ہیں اس پر آپٖ کے تمام معززین، اہل رسوخ اور اہل رائے کا اتفا ق ہے تو میں بلاتاخیر چلا آؤںگا، اس لئے کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، امام تو وہی ہے جو کتاب اللہ پر عامل، انصاف کا خوگر، حق کا تابع اور خود کو حق سے وابستہ رکھنے والا ہو۔ والسلام‘‘ (طبری: ۶؍۱۹۸)
مسلم بن عقیل نے وہاں پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور حالات کو موافق محسوس کیا اور کیوں نہ کرتے کہ ان کے پہنچتے ہی کوفیوں نے جوش عقیدت کا اظہار کیا اور گروہ در گروہ تقریبا اٹھارہ ہزار آدمیوں نے حضرت مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر حضرت حسینؓ کی خلافت وامامت کی بیعت کرلی، ان حالات اور جوش عقیدت کو دیکھ کر مسلم بن عقیل نے حالات کے موافق ہونے کی اطلاع حضرت حسین کو دی (تاریخ اسلام)
لیکن افسوس کہ یہ جوش عقیدت پائیدار ثابت نہ ہوسکا، اور حالات کے بدلنے میں بھی کوئی زیادہ وقت نہ لگا، اور ساتھ ہی کوفہ کے بااعتماد لوگوں کے اعتماد نے بھی بہت ہی جلد اپنی حقیقت اور اپنی بے بسی کو ظاہر کردیا، چناں چہ ادھر جبکہ اہل کوفہ کی تائید میں حضرت مسلم بن عقیل کا خط روانہ ہوا، کوفہ کے حالات حضرت مسلم بن عقیل کے لئے ناموافق ہوگئے اور جن لوگوں کے اعتماد پر یہاں آئے تھے ان کے وعدوں اور ان کی باتوں کا ان حالات نے کھوکھلا پن بھی ظاہر کردیا،تاریخ کربلا کا یہ انتہائی تعجب خیزموڑ ہے کہ کوفہ کے وہ لوگ جو پہلے بہت جوش وخروش کا مظاہرہ کررہے تھے، اب جبکہ کوفی ارباب اقتدار کی جانب سے انتباہ اور وارننگ سنائی گئی تو مسلم بن عقیل جو اصرار اور فرمائش کے بعد آئے تھے ایک بے کس اور اجنبی کی طرح اپنی جائے پناہ کی تلاش پر مجبور ہوگئے اور اپنے میزبان مختار بن ابی عبید کے گھرسے بے یار ومدد گارہانی بن عروہ کے مکان منتقل ہوگئے، ہانی بن عروہ جو کہ پہلے خاندان علی ؓ سے بہت قریب تھے ،اب حالات کی ناموافقت نے ان سے بھی احساس قربت کو چھین لیا،اور انہوں نے مسلم بن عقیل کا والہانہ استقبال کرنے کی بجائے انہیں ایک آفت ومصیبت سمجھ کر ان کا استقبال کیا، ابن جریر طبری، ابن اثیر اور ابن خلدون اس واقعہ اس انداز میں ذکر کیا ہے:
’’مسلم کے کان تک جب ابن زیاد کی تقریر پہنچی تو وہ مختار کے مکان سے نکل کر ہانی ابن عروہ کے مکان پہنچے، ہانی نکل کر آئے اور مسلم کو دروازے پر دیکھا تو بہت برا منہ بنایا، مسلم نے کہا کہ میرے بھائی میں تمہارے پاس پناہ کے لئے آیا ہوں، تمہارا مہمان ہونا چاہتا ہوں، ہانی نے جواب دیا: ’’تم نے مجھے بڑی مصیبت میں ڈال دیا، اگر تم میرے احاطہ میں نہ آئے ہوتے تو میں کہتا کہ مجھے معاف کردو، لیکن اب کچھ نہیں کہہ سکتا، آجاؤ‘‘ (طبری :۶؍۲۰۳)
مسلم بن عقیل کی اس بے بسی سے کوفیوں کی ناوفاداری کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ان حالات سے مطلع کرکے سفر سے روکا جاسکتا تھا، لیکن قضاء الہی میں کچھ اور ہی لکھا تھا، اس لئے ان حالات کی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کواطلاع نہ ہوسکی اورحضرت مسلم بن عقیل نے دشمنوں کی گرفت میں آکر جام شہادت نوش کرلیا، ادھر حضرت حسین نے شہید حق حضرت مسلم کی تائید ی تحریر کو پاکراپنے پورے کنبہ کے ساتھ سوئے کوفہ رخت سفر باندھ لیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ سفر کا آغاز اور حضرت مسلم کی گرفتاری کا واقعہ ایک ہی دن یعنی ۸؍ ذی الحجہ کو پیش آیا اور دوسرے دن حضرت مسلم کی زندگی کا چراغ گل کردیا گیا۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اس کا پتہ راستہ کی کافی منزلیں طے کرنے کے بعد چلا، اس پر آپ نے واپسی کا ارادہ فرمایا، مگر برادران مسلم کے جذبات انتقام آڑے آگئے، جو یہ چاہتے تھے کہ یا توبدلہ لیں یا مرجائیں، چناں چہ آپ سفر جاری رکھنے پر مجبو رہوگئے اور پھر دوسری بار جب آپ نے یہی ارادہ کوفہ سے کچھ قریب پہنچ کر اس وقت کیا جب آپ کو اس بات کی مزید شہادت ملی کہ کوفہ پوری طرح حاکم کوفہ عبد اللہ بن زیاد کی گرفت میں ہے اور آپ صرف گرفتار ہوکر ہی اندر جاسکتے ہیں، تب واپسی کے لئے کوئی گنجائش اور کوئی راہ باقی نہیں رہی تھی، آپ کی گرفتاری کے لئے فوجی دستے حرکت میں آچکے تھے، آپ نے اس وقت فوری طور پرایک غیر معمولی فیصلہ کیا، یعنی اپنا رخ یزید کے دار الخلافۃ دمشق کی طرف موڑدیا، مگر ان فوجی دستوں نے پیچھا کرکے آپ کو جلد ہی رک جانے پر مجبورکردیا، جو ابن زیاد کے حکم کی تابعداری میں یہ چاہتے تھے کہ آپ کوفہ چلیں، یہی ’کربلا‘ کے نام سے موسوم وہ جگہ ہے جہاں آپ کو قدم روک لینے پڑے اور جو آپ کی جائے شہادت بنی۔
کربلا میں بے بس مسافروں کے قافلہ کوابن زیاد کے فوجی دستوں نے گھیر رکھا تھا، دونوں جماعتوں کے مابین صلح ومصالحت کی باتیں ہوتی رہیں، فوجی دستوں کے سردار عمر بن سعد رضی اللہ عنہ بن ابی وقاص جن کے بارے میں روایتیں یہ تاثر دیتی ہیں کہ ان کے دل میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے لئے نہایت نرم گوشہ تھا، انہوں نے اندھا دھند کوئی کارروائی کرنے کی بجائے معاملے کو پرامن طریقے سے سلجھانے کی کوشش میں حضرت حسینؓ سے رابطہ قائم کیا اور آپ کی طرف سے یہ خواہش سامنے آنے پر کہ آپ کی تین باتوں میں سے کوئی ایک قبول کرلی جائے
(۱) اپنے وطن واپس ہونے دیا جائے
(۲) یزید کے پاس چلا جانے دیا جائے یا لے چلا جائے 
(۳) کسی مملکت کی سرد پر بھیجدیا جائے جہاں آپ مقیم ہو جائیں اور جہادی مہمات میں حصہ لے کر عمر گذاریں۔
عمر بن سعد نے ابن زیاد (حاکم کوفہ) کو اس کی اطلاع اس طور سے بھیجی کہ جیسے یہ ایک نہایت عمدہ اور قابل قبول بات ہو،روایتوں کے مطابق ابن زیاد کو بھی اس صورت حال سے خوشی ہوئی، مگر شمر جیسے مشیران نے اس کی رائے پلٹ دی ،بلکہ عمرو بن سعد سے بھی اس کو کچھ بدگمان کردیا جس کے نتیجے میں شمر ہی کو بھیجا گیا کہ وہ عمر سے اصل حکم کی تعمیل کرائے۔ یعنی مفاہمت سے یاطاقت سے، جس طرح بھی ممکن ہو حسینؓ اور ان کے ہمراہیوں کو زندہ یا مردہ گرفتار کرکے کوفہ لایا جائے اور یہی چیز اس قتل و قتال کا موجب بن گئی۔ ابن زیاد نے حضرت حسین ؓ کی ان تین مصالحتی نکات کا یہ جواب دیا کہ اس طرح بات نہیں بنے گی، پہلے انہیں میرے ہاتھ میں ہاتھ رکھنا ہوگا اور بیعت کرنی ہوگی، جب حضرت حسینؓ کے پاس یہ بات پہنچی تو حضرت حسین ؓ نے فرمایا:
لا والله لا یکون هذا ابدا ’’بخدا ایسا کبھی نہیں ہوسکتا‘‘ (طبری:۶؍۲۲۰)
اب سوائے جنگ کے کوئی اور راستہ نہ تھا، اس موقع پر جب کہ صورت حال مزید سنگین ہوتا جارہا تھا اور حضرت حسینؓ کی اس پیش کو مکمل رد کیا جاچکا تھا اور حضرت حسین ؓ کو ہرچند یقین نہ تھا کہ کوئی کوشش کارگر ہوگی، تاہم آپ نے اتمام حجت کے لئے کوفیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے لوگو اذرا ٹھہرو، میری بات سنو، میں اپنی ذمہ داری پوری کردوں، اگر تم نے میری بات سن کر میرے ساتھ انصاف کیا تو تم سے زیادہ کوئی خوش نصیب نہیں، لیکن اگر تم اس کے لئے تیار نہ ہوئے تو تمہاری مرضی، معاملہ کا ہر پہلو تمہارے سامنے ہے اور تمہیں اختیار ہے کہ جو چاہو کرواور میرے ساتھ کوئی کسر نہ اٹھارکھو اللہ میرا مددگار ہے‘‘(خلافت بنوامیہ:۷۳)
آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی اس تقریر میں اپنا مقام ومرتبہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے اپنی قربت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ سے محبت کا بھی تذکرہ کیا اور جنگ بندی کا ماحول پیدا کرنے کے لئے آپ نے ان سرداران کوفہ سے جنہوں نے آپ کو خطوط بھیجے تھے، مخاطب ہو کر کہاکہ کیا تم لوگوں نے مجھے نہیں بلایا ہے؟ تم نے مجھے ضرور بلایا ہے لیکن اگر اب تمہیں میری آمد ناپسند ہے تو مجھے اپنی پناہ کی جگہ واپس جانے دو،آپ کی اس تقریر سے اتنا تو ضرور ہوا کہ ابن زیاد کے فوجی دستہ میں شامل حر بن یزید حنظلی نے مداخل کرتے ہوئے فوجیوں کی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا:
والله لو سألکم هذا الترک والدیلم ماحل لکم ان ترده (طبری:۶؍۲۲۲)
 ’’بخدا یہ بات اگر تم سے ترک اور دیلم (کے غیر مسلم) بھی مانگتے تو ان کا سوال رد کرنا تمہارے لئے روانہ ہوتا.‘‘
او ر یہ کہہ کر وہ فوجی دستہ سے نکل کر قافلہ حسینی میں شامل ہوگئے اورانہوں نے حضرت حسینؓ کے پاس آکر اپنی معافی کی درخواست کرتے ہوئے کہا:
’’اے فرزند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی وہ شخص ہوں جس نے سب سے پہلے آپ کو روکا ،مگر مجھے خبر نہ تھی کہ میری قوم بدبختی کی اس حد تک پہنچ جائے گی ،اور جنگ کے سوا کوئی مناسب تجویز کو قبول نہ کرے گی، اب میں آٖ پ کے قدموں میں حاضر ہوں اور جب تک جسم کا جان سے تعلق ہے آپ کا حق رفاقت ادا کروں گا-‘‘ (تاریخ بنو امیہ)
بالآخر جنگ جو ہونی تھی ہوکررہی اور حضرت حسین ؓ اور ان کے قافلہ میں شامل افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ اس جنگ کے واقعہ میں بے بنیاد باتیں اتنی زیادہ اضافہ کردی گئی ہیں کہ میدان جنگ کے واقعات میں سے صحیح اور غیر صحیح کا امتیاز مشکل بن گیا ہے اور ان تمام واقعات کو ماننے میں یہ رکاوٹ پیش آتی ہے کہ ایک واقعہ دوسرے واقعہ سے ٹکڑاتا ہوانظر آتا ہے، اس لئے بس یہ کہہ لیا جائے کہ ابتدائی مصالحتی کوششوں کی ناکامی نے جنگ کا ماحول پیدا کردیا اور۱۰؍ محرم ۶۱ھ، جمعہ کو جنگ ہوئی اور قافلہ حسین ؓ کے مجاہدین حق نے ایک ایک کرکے اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواسہ رسول اور ترجمان حق کے دفاع کے لئے خود کو پیش کرکے جام شہادت نوش کیا اور بالآخر نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی دشمنوں نے حملہ کرکے شہید کردیا اور آپ کی گردن کو آپ کے تن مبارک سے جدا کرکے یزید کے دربار میں پیش کیا اور اس قافلہ کی خواتین ِپردہ شعار کودربار خلافت میں پہنچادیا ۔
شہاد ت عظمی کے اس واقعہ اور حادثہ کبری کے دوسرے دن غاضریہ کے لوگوں نے نماز جنازہ ادا کرکے شہداء کی لاشوں کو اسی میدان میں سپرد لحد کیا اور حضرت حسین ؓ اور بعض دیگر شہداء کے سر مبارک چونکہ وہاں موجود نہ تھے بلکہ دشمن اپنے ساتھ لے گئے تھے اس لئے ان حضرات کے جسم کو بغیر سر کے سپر د لحد کیا گیا، رحمہم اللہ ورضی عنہم۔
جو لوگ حضرت حسین ؓ کی اس شہادت پر ماتم کرتے ہیں کاش کہ وہ ماتم کرنے کی بجائے اس اسوۂ حسینی پر عمل کرتے کہ حق کی اشاعت اور تحفظ شریعت کی راہ میں اگر اپنی جان بھی چلی جائے تو گوارہ ،لیکن باطل کی تائید کو ہرگز گوارہ نہیں کیا جاسکتا ہے، غور کیجئے کہ اگر حضر ت حسین ابن زیاد کی بات کو مان کر اس سے بیعت لے لیتے تو یہ جنگ پیش ہی نہ آتی لیکن حضرت حسین ؓنے جنگ کو گوارہ کرکے اس کے ہاتھ میںہاتھ نہ ڈالا،درحقیقت حضرت حسین ؓنے اس کے ذریعہ اپنے بعد والوں کوایک سبق دیا کہ باطل کی تائید نہ کرنا ہی اسوۂ حسینی ہے ،ماتم کرکے اس اسوہ کو زندہ نہیں کیا جاسکتا ہے، بلکہ باطل کی مخالفت کرکے اسے زندہ کیا جاسکتا ہے ،اگر کسی کے مرنے پر ماتم کرنے سے ہی اس کا حق ادا ہوتا ہے تو پھر سال کا کوئی دن ایسا نہیں بچے گا جس دن اس روئے زمین پر کسی بڑی قابل قدر شخصیت کی وفات نہ ہوئی ہو، کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات قابل افسوس نہیں؟ کیا ازواج مطہرات، صحابہ کرام، عشرہ مبشرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی بیٹیوں نیز تمام پیکر للہیت صحابیات کی وفات ہمارے لئے افسوس کا باعث نہیں؟ بلاشبہ ان تما م کی وفات ہمارے لئے باعث افسوس ہے، لیکن ہم ان تمام کی وفات پر اس لئے ماتم نہیں کرتے کہ یہ دین محمدی دین ماتم نہیں بلکہ دین تعلیم وعمل ہے، کسی کی اچھی تعلیم کو اپنی زندگی میں نقوش راہ بنا ناہی درحقیقت اس کی تعظیم ہے اور اسی سے اس کے بعداس کی یاد زندہ رہتی ہے۔
مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
https://saagartimes.blogspot.com/2019/09/blog-post_50.html


اہل بیت میں کون شامل ہیں؟

اہل بیت میں کون شامل ہیں؟
سوال: 
(۱) اہل بیت سے کیا مراد ہے 
اور اہل بیت میں کون سے افراد شامل ہیں؟
(۲) اہل بیت کے بارے میں معلومتی یا تاریخی کتابوں کے نام بتادیں جن کا مطالعہ کیا جاسکے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
(۱) سورة الاحزاب کے چوتھے رکوع کی آیتِ مبارکہ (إِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیرًا) آیت: ۳۳، پ:۲۲ میں اہل بیت سے مراد حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ہیں کہ جو تمام موٴمنین وموٴمنات مسلمین ومسلمات کی مائیں ہیں قال اللہ تبارک وتعالیٰ: وأزواجہ أمہاتہم (سورة الاحزاب رکوع ۱، پ:۲۱) 
(۲) تفسیر آیت تطہیر (مطبوعہ دار المبلغین لکھنوٴ) اور اہل حق اہلِ سنت والجماعت اکابر علماء ومفسرین کی کی تفاسیر کا مطالعہ کریں۔ 
============
نیز معارف القرآن بھی دیکھ لیں، اس میں اہل البیت میں ازواج مطہرات کے علاوہ اولاد کو بھی داخل کیا گیا ہے۔ (ن)
-------------------------------------------------------------------------------------
سوال: اہل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟
حدیث ثقلین میں ہے کہ فاطمہ، علی، حسن، حسین رضي اللہ تعالی عنہم ہی اہل بیت ہیں۔
الجواب وباللہ التوفیق:
علماء کرام نے اہل بیت کی تحدید میں کئ ایک اقوال ذکر کيۓ ہیں:
بعض کا کہنا ہے کہ اہل بیت سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ، ان کی اولاد اوربنوھشم اور بنو مطلب اوران کے موالی ہیں ۔
اورکچھ کا کہنا ہے کہ:
ازواج مطہرات اہل بیت میں شامل نہیں۔
اورایک قول یہ بھی ہے کہ:
اہل بیت قريش ہیں۔
بعض علماء کا کہنا ہے:
امت محمدیہ میں سے متقی لوگ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہيں ۔
اورکچھ نے کہا ہے کہ:
ساری کی ساری امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
ازواج مطہرات کے بارہ میں راجح قول یہ ہے کہ وہ اہل بیت میں داخل ہيں اس لیے کہ اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کوپردہ کا حکم دینے کے بعد فرما یا ہے کہ:
اللہ تعالی یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے وہ (ہرقسم کی) گندگی کودورکردے اور تمہیں خوب پاک کرے  الاحزاب (33) ۔
اورابراھیم علیہ السلام کی زوجہ سارہ رضی اللہ تعالی عنہا کوبھی اہل بیت کہنا جیسا کہ اس فرمان ہے:
فرشتوں نے کہا کیا تم اللہ تعالی کی قدرت سے تعجب کررہی ہو؟ اے گھروالوں تم پر اللہ تعالی کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں  ھود (73)۔
اوراس لیے بھی کہ اللہ تعالی نے لوط علیہ السلام کی بیوی کوآل لوط سے خارج کرتے ہوۓ فرمایا:
سواۓ لوط علیہ السلام کی آل کے ہم ان سب کوتو ہم ضرور بچا لیں گے مگر اس کی بیوی ۔۔۔  الحجر (59 – 60) ۔
تویہ سب آیات اس پردلالت کرتی ہیں کہ زوجہ اہل بیت اورآل میں داخل ہے۔
اورآل مطلب کے بارہ میں امام احمد سے روایت ہے کہ وہ اہل بیت میں سےہیں اورامام شافعی رحمہ اللہ تعالی نے بھی یہی کہا ہے ۔
امام ابوحنیفہ اورامام مالک رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ آل مطلب آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل نہيں اورامام احمد رحمہ اللہ تعالی سے یہ قول بھی مروی ہے ۔
اس مسئلہ میں راجح قول یہی ہے کہ بنو عبدالمطلب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں شامل ہیں اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے:
جبیربن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اورعثمان بن عفان رضي اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گۓ اورہم نے کہا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے بنومطلب کودیا اورہیں محروم رکھا ہے حالانکہ ہمارا اوران کا مرتبہ آپ کے ہاں ایک ہی ہے۔
تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: بلاشبہ بنومطلب اوربنوھاشم ایک ہی چیز ہیں۔ صحیح بخاری حدیث نمبر (2907) سنن نسائ حدیث نمبر (4067) وغیرہ نے بھی روایت کی ہے۔
اہل بیت میں بنوھاشم بن عبدمناف جو کہ آل علی، آل عباس، آل جعفر، آل عقیل، اورآل حارث بن عبدالمطلب شامل ہیں اس کا ذکر اس حدیث میں موجود ہے جسے امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے زيد بن ارقم رضي اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے ۔
زیدبن ارقم رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اورمدینہ کےدرمیان ماءخما کے مقام پر ہمیں خطبہ ارشادفرمایا اللہ تعالی کی حمدوثنا بیان کی اوروعظ ونصیحت فرمائ پھر فرمانے لگے:
اما بعد: اے لوگو بلاشبہ میں ایک بشر اورانسان ہوں قریب ہے کہ میرے پاس میرے رب کا بھیجا ہوا آجاۓ تومیں اس کی دعوت پرلبیک کہوں ( موت کی طرف اشارہ ہے ) اوریقینا میں تم میں دواشیاء چھوڑ کر جارہا ہوں ان میں سے پہلی اللہ عزوجل کی کتاب جس میں نورو ھدایت ہے، اللہ تعالی کی کتاب کوتھام لو اوراس پرمضبوطی اختیار کرو، توانہوں نے کتاب اللہ پرعمل کرنے کی ابھارا اوراس میں رغبت دلائ ۔
اورفرمایا: میرے اہل بیت، میں تمہیں اہل بیت کے بارہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اہل بیت کے بارہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اہل بیت کے بارہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، حصین نے کہا کہ اے زيد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا ان ازواج مطہرات اہل بیت نہیں، توانہوں نے کہ ازواج مطہرات اہل بیت میں شامل ہیں، لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے، انہوں نے کہا وہ کون ہیں؟ وہ کہنے لگے:
وہ آل علی اور آل عقیل، اورآل جعفر، اور آل عباس رضي اللہ تعالی عنہم ہیں، انہوں نے پوچھا کیاان سب پر صدقہ حرام ہے؟ زید نے جواب دیا جی ہاں۔ مسند احمد حدیث نمبر (18464)۔
اورموالی کے متعلق حدیث میں کچھ طرح ذکر ہے:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مولی (غلام) مھران بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بلاشبہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پرصدقہ حلال نہیں اورقوم کے مولی انہیں میں سے ہوتے ہیں۔ مسند احمد حديث نمبر (15152)۔
تواس طرح نبی صلی اللہ علیہ کی آل اوراہل بیت میں ان کی ازواج مطہرات، ان کی اولاد، اوربنو ھاشم، اوربنو عبدالمطلب، اوران کے موالی شامل ہوۓ۔
واللہ تعالی اعلم
-----------------------------------------------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/09/blog-post_90.html



عورت سجدہ کس طرح کرے؟

عورت سجدہ کس طرح کرے؟
حضرت سجدہ کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُکُمْ ذِرَاعَيْهِ کَالْکَلْبِ وَإِذَا بَزَقَ فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ وَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ لَا يَتْفِلُ قُدَّامَهُ أَوْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَکِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ وَقَالَ شُعْبَةُ لَا يَبْزُقُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَکِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ وَقَالَ حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبْزُقْ فِي الْقِبْلَةِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَکِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ
بخاری شریف ابو داود شریف مسند احمد
علامہ طیبی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ "سجدہ میں اعتدال سے مراد یہ ہے کہ پشت کو ہموار رکھا جائے۔ دونوں ہاتھ زمین پر رکھے جائیں، کہنیاں زمین سے اوپر اٹھی رہیں اور پیٹ زانوں سے الگ رہے۔
از شرح مشکوۃ
الجواب وباللہ التوفیق:
عورت کے لیے سجدے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ سجدے میں پیٹ کو رانوں سے اور بازوٴوں کو پہلوٴوں سے اچھی طرح ملادے اور خوب دب کر اور سمٹ کر سجدہ کرے (نور الایضاح مع حاشیة الطحطاوی علی المراقی ص ۲۶۸، مطبوعہ: دار الکتب العلمیہ بیروت، درمختار وشامی ۲۱۱۲، مطبوعہ مکتبہ زکریا دیوبند)، لیکن عذر کی حالت اس سے مستثنیٰ ہے؛ اس لیے صورت مسئولہ میں اگر عورت سات ماہ کے حمل کی وجہ سے مسنون طریقہ پر سجدہ نہیں کرسکتی تو جس طرح بآسانی وسہولت اس کی ناک اور پیشانی زمین پر پہنچ سکتی اور ٹک سکتی ہو، اس طرح سجدہ کرلے، صورت مسئولہ میں عذر کی وجہ سے اس طرح اس کا سجدہ بلا کسی کراہت ادا ہوجائے گا۔
---------------------------------------------------------------------------------------------
سوال: میں چند سالوں سے سعودی عرب میں مقیم ہوں، یہاں خواتین نماز میں مردوں کی طرح سجدہ کرتی ہیں، وضاحت فرمائیں کہ خواتین کے لیے کس طرح سجدہ کرنے کا حکم ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
مردوں اور خواتین کی نماز میں سجدہ سمیت اور بھی متعدد مواقع میں فرق ہے، اور یہ فرق احادیث سے ثابت ہے، خود نبی کریمﷺ نے مردو عورت کی نماز میں فرق بیان کیا ہے ، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اِس فرق کا لحاظ رکھا کرتےاور بیان کیا کرتے تھے اور یہی تابعین ، تبعِ تابعین ، اَسلاف اور اُمت کے ائمہ مجتہدین کا مسلک تھا جیسا کہآگےآنے والی احادیث سے یہ واضح ہوجائے گا۔
مرد و عورت کی نماز میں عمومی فرق پر مشتمل احادیث:
’’عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْأَوَّلُ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الصَّفُّ الْآخِرُ، وَكَانَ يَأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ يَتَجَافَوْا فِي سُجُودِهِمْ، وَيَأْمُرُ النِّسَاءَ يَنْخَفِضْنَ فِي سُجُودِهِنَّ، وَكَانَ يَأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ يَفْرِشُوا الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُوا الْيُمْنَى فِي التَّشَهُّدِ، وَيَأْمُرُ النِّسَاءَ أَنْ يَتَرَبَّعْنَ وَقَالَ:يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! لَا تَرْفَعْنَ أَبْصَارَكُنَّ فِي صَلَاتِكُنَّ تَنْظُرْنَ إِلَى عَوْرَاتِ الرِّجَالِ‘‘. (سنن کبریٰ بیہقی:3198)
ترجمہ: صحابیِ رسول حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مَروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا: مردوں کی سب سے بہترین صف پہلی اور عورتوں کی سب سے بہترین آخری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کوکھل کر سجدہ کرنے کا حکم دیتے تھے اور عورتوں کو اس بات کا حکم دیا کرتے تھے کہ وہ سمٹ کر سجدہ کریں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو اِس بات کا حکم دیاکرتے تھےکہ وہ تشہد کی حالت میں اپنے بائیں پاؤں کو بچھاکر دایاں پاؤں کھڑا کریں، اور عورتوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ سمٹ کر(یعنی تورّک کےساتھ زمین پر سرین رکھ کر) بیٹھیں، اور فرماتے: اے عورتوں کی جماعت! تم لوگ نماز میں اپنی آنکھوں کو مت اٹھایا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری نگاہ مردوں کے ستر پر پڑجائے۔
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْمَرْأَةِ؟ فَقَالَ: «تَجْتَمِعُ وَتَحْتَفِرُ»‘‘. (مصنّف ابن ابی شیبہ:2778)
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ عورت کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تَجْتَمِعُ وَتَحْتَفِرُ“ خوب اچھی طرح اکٹھے ہوکر اور سمٹ کر نما زپڑھے۔
’’عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: تَجْتَمِعُ الْمَرْأَةُ إِذَا رَكَعَتْ تَرْفَعُ يَدَيْهَا إِلَى بَطْنِهَا، وَتَجْتَمِعُ مَا اسْتَطَاعَتْ، فَإِذَا سَجَدَتْ فَلْتَضُمَّ يَدَيْهَا إِلَيْهَا، وَتَضُمَّ بَطْنَهَا وَصَدْرَهَا إِلَى فَخِذَيْهَا، وَتَجْتَمِعُ مَا اسْتَطَاعَتْ‘‘. (عبد الرزاق:5069)
ترجمہ:حضرت ابن جریج حضرت عطاء سے نقل کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اِرشاد فرمایا: عورت رکوع کرتے ہوئے سمٹ کر رکوع کرے گی؛ چناں چہ اپنے ہاتھوں کواُٹھاکر اپنے پیٹ کے ساتھ ملالے گی، اور جتنا ہوسکے سمٹ کررکوع کرے گی، پھر جب سجدہ کرے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے (جسم کے) ساتھ ملالے گی، اور اپنے پیٹ اور سینہ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملالے گی اور اور جتنا ہوسکے سمٹ کر سجدہ کرے گی۔
اِس حدیث سے عورت کی نماز کا اصول یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی پوری نماز میں شروع سے آخر تک اِس بات کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ وہ نماز میں زیادہ سے زیادہ سمٹ کر ارکان کی ادائیگی کرے، چناں چہ حدیثِ مذکور میں بار بار ” وَتَجْتَمِعُ مَا اسْتَطَاعَتْ “ کے الفاظ اِسی ضابطہ کو بیان کررہے ہیں ۔خلاصہ یہ ہوا کہ مرد اور عورت کی نماز کا طریقہ ایک جیسا نہیں ہے، بلکہ کئی جگہوں میں فرق ہے جن میں سے ایک سجدہ بھی ہے، چناں چہ مرد کے لیے سجدہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ:
۱- تمام اعضا جداجداہوں، ہاتھ بغلوں سے اوررانیں پیٹ سے الگ ہوں۔
۲- سرین کا حصہ اوپرکی طرف ہو۔
۳- ہاتھ زمین پرنہ بچھائے؛ بل کہ اٹھائے رکھے۔
۴- پیروں کے پنجے کھڑے کرکے ان کی انگلیاں قبلہ کی طرف کردے۔
اورعورت ان تمام امورمیں مرد سے مختلف ہے؛ چناں چہ اس کو چاہیے کہ وہ سجدہ اس طرح کرے کہ:
۱- اس کے تمام اعضا ملے ہوئے ہوں، ہاتھ بغلوں سے ،رانیں پیٹ سے ملی ہوئی ہوں۔
اس کی وجہ علامہ حصکفی رحمہ اللہ نے درمختارمیں یہ لکھی ہے کہ اس میں عورت کے لیے زیادہ پردہ ہے۔
۲- سرین کے حصے کواوپرکی طرف نہ اٹھائے؛ بل کہ اپنے جسم کوحتی الامکان زمین سے ملاکر پست رکھے ۔
۳- اپنے ہاتھوں کوزمین پر بچھاکر رکھے، مردکی طرح اٹھاکرنہ رکھے۔
۴- اپنے دونوں پیرایک طرف(دا ہنی طرف کو) نکال دے اوراپنے پیروں کوکھڑا نہ کرے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 504):
’’(والمرأة تنخفض) فلا تبدي عضديها (وتلصق بطنها بفخذيها)؛ لأنه أستر، وحررنا في الخزائن: أنها تخالف الرجل في خمسة وعشرين.‘‘.
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن