Tuesday, 5 December 2017

یوم سیاہ کی شرعی حیثیت؟

یوم سیاہ کی شرعی حیثیت؟
رنج وغم کے اظہار کے لئے کسی خاص دن کو "یوم سیاہ " قرار دے کر عملا اس دن سیاہ کپڑے کا التزام یا سیاہ پٹی باندھنا غیر اسلامی اور غیر شرعی عمل ہے۔۔۔حکومتی فیصلے یا سماجی انارکی یا ظلم وتعدی کے خلاف احتجاج یا ناراضگی ریکارڈ کروانے کے اور بھی متعدد پر امن طریقے موجود ہیں۔۔۔رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر کئے بغیر یا کاروباری اور راہ گیروں کی آمد ورفت وغیرہ کے نظام کو ٹھپ کئے بغیر، احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کی گنجائش ہوتے ہوئے سیاہ کپڑے اور سیاہ پٹیوں کے التزام کی کوئی شرعی وجہ نہیں۔
قابل غور ہے کہ بیوی کے لئے  جب شوہر جیسے ظاہری آسرا اور سہارا کی وفات کے بعد  دوران عدت اندرون خانہ سیاہ لباس کے التزام کی شرعا اجازت نہیں ہے تو پہر مذکورہ مقصد کے لئے کھلے مہار سڑکوں پہ یوم سیاہ یا  لباس سیاہ کی اجازت شرعا کیسے ہوسکتی ہے؟
”لایجوز صبغ الثیاب اسود او اکہب تاسفاً علی المیت‘ لایجوز تسوید الثیاب فی منزل المیت“۔ (عالمگیری‘ ج:۵‘ص:۳۳۳)
ترجمہ:․․․”میت پر ماتم کرتے ہوئے کپڑے کو سیاہ رنگ میں رنگنا جائز نہیں ہے، نہ یہ جائز ہے کہ میت کے گھر کے کپڑے سیاہ رنگ میں رنگ دیئے جائیں“۔
فسطائی قوتوں کے ذریعہ چھ دسمر  1992 کو بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ تاریخ ہند کا  انتہائہ المناک اور اندوہناک  اور کافی دلخراش سانحہ ہے۔۔۔۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کا  اس سانحہ پہ تماشائی بنے رہنا، ریاستی اداروں کا بلوائیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دینا  اور اس تاریخی ورثہ کے تحفظ کے لئے خاطر خواہ انتظامات  نہ کرنا قابل مذمت اور افسوس ناک ہونے کے ساتھ  "جمہوریہ ہند" کے چہرے پہ بدنما داغ بھی ہے۔
حکمرانوں، ججس اور انصاف پسند برادران وطن کی توجہ اس جانب مبذول کروانے کے لئے آئین وقانوں کے دائرے میں رہتے ہوئے اس تاریخی مسجد کی حصولیابی کے لئے  ہر قسم کی پر امن جد وجہد  اور مظاہرے کا حق بیشک ہمارے لئے موجود ہے۔ اب ہر سال اس تاریخ میں یوم سیاہ کا اہتمام  کرنا، کاروبار زندگی بند رکھ کے  سیاہ کپڑے اور پٹیاں باندھکر سڑکوں پہ نکلنا اسلامی تعلیمات سے کسی طور ہم آہنگ نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے /بہار

خلع کے بعد حلالہ؟

کیا خلع كے بعد بھی حلالہ ضروری ہے؟
....
خلع سے طلاقِ بائن ہوجاتی ہے
س… ایک سوال کے جواب میں آپ نے طلاق اور خلع میں فرق کی یہ تشریح کی کہ خلع قبول کرنے پر مہر ساقط ہوجاتا ہے اور طلاق میں نہیں۔ خلع قبول کرنا عورت کی مرضی پر ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ خلع کے بعد عدّت بھی ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر عورت دوبارہ اسی سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو بغیر حلالہ شرعی کے نکاح ہوسکتا ہے؟ کیونکہ شوہر نے طلاق نہیں دی ہے۔
ج… خلع کا حکم ایک بائن طلاق کا ہے، اگر میاں بیوی کے درمیان ”خلوَت“ ہوچکی ہے تو خلع کے بعد عورت پر عدّت لازم ہوگی۔ اور سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، حلالہ کی ضرورت نہ ہوگی۔ البتہ اگر عورت کے خلع کے مطالبے پر شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں تو حلالہ شرعی کے بغیر دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔
خلع کی ”عدّت“ لازم ہے
س… میری شادی ادلے بدلے کی ہوئی، میرے بھائی کی بیوی نے طلاق لے لی، میرا شوہر اس طلاق کا بدلہ مجھے ذہنی اذیتوں اور ذِلتوں میں دیتا رہتا ہے۔ آٹھ سال ہوگئے مجھے اس کے سلوک سے اور بچوں سے عدم دِلچسپی سے کچھ نفرت سی ہوگئی ہے۔ اس صورتِ حال میں کیا کیا جائے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ خلع لے کر اور شادی کرلوں تو خلع کی کیا صورت ہوگی؟ کیا خلع کی بھی عدّت ہوتی ہے؟
ج… ”خلع“ کے معنی ہیں عورت کی جانب سے علیحدگی کی درخواست۔ عورت اپنے شوہر کو یہ پیشکش کرے کہ میں اپنا مہر چھوڑتی ہوں، اس کے بدلے میں مجھے ”خلع“ دے دو، اگر مرد اس کی اس پیشکش کو قبول کرلے تو طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے، جس طرح طلاق کے بعد عدّت ہوتی ہے، اسی طرح خلع کے بعد بھی لازم ہے، عدّت کے بعد آپ جہاں دِل چاہے عقد کرسکتی ہیں۔
کیا خلع کے بعد رُجوع ہوسکتا ہے؟
س… خلع کے مبہم ہونے کی صورت میں اگر ایک مفتی کہے کہ خلع ہوگیا اور دُوسرا کہے کہ نہیں ہوا، اور لڑکی نادم ہوکر نباہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہو تو کیا تجدیدِ نکاح ہوسکتا ہے؟ نیز تجدیدِ نکاح کون کرتا ہے اور کیسے ہوتا ہے؟
ج… خلع میں اگر شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں تو دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا، اور اگر صرف خلع کا لفظ یا ایک طلاق کا لفظ استعمال کیا تھا تو نکاح دوبارہ ہوسکتا ہے۔ دوبارہ نکاح کرنے کو تجدیدِ نکاح کہتے ہیں۔ جس طرح پہلا نکاح ایجاب و قبول سے ہوتا ہے، اسی طرح دوبارہ نکاح بھی ایسے ہی ہوگا۔ چونکہ خلع کا علم سب تعلق والوں کو ہوچکا تھا، اس لئے دوبارہ نکاح بھی علی الاعلان ہونا چاہئے۔
آپکے مسائل اور انکا حل
http://shaheedeislam.com/ap-kay-masail-vol-05-khula/
......
ایک اور جواب
https://akhawat.islamway.net/forum/index.php?showtopic=280484


تکافل کی شرعی حیثیت

سوال: اکثر بینکوں میں تکافل پروگرام کے تحت پیسے جمع کرتے ہیں اور پھر بینک والے کاروبار کرتے ہیں، شریعت کی روشنی میں یہ کیسا ہے؟
..........
سوال: پاکستان سمیت دنیا کے مختلف مسلم ممالک میں انشورنس کے متبادل کے طور پر تکافل کا نظام رائج ہے۔ جسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نظام علماء اکرام نے متعارف کروایا ہے اور اس کی بنیاد وقف اور تبرع پر بتائی جاتی ہے۔ اور پاکستان میں اس کی سرپرستی اور نگرانی مختلف علماء اکرام کررہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا واقعی تکافل کا یہ نظام انشورنس کا اسلامی متبادل ہے؟ اور کیا اس قسم کے نظام میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے؟ اگر آپ کے علم میں تاحال تکافل کا یہ نظام مکمل طور پر نہیں پہنچ سکا تو بھی اسکے بارے میں مکمل علم اور آگہی حاصل کرکے جواب عنایت فرمائیں۔
Published on: Jun 4, 2012
جواب # 38818
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1019-207/N=7/1433
انشورنس سود اور جوے پر مشتمل ہونے کی بنا پر ناجائز اور حرام ہے، جب کہ تکافل میں سود اور قمار کی صورت نہیں پائی جاتی بلکہ ممبران کا سرمایہ جمع کرکے اسے کاروبار میں لگایا جاتا ہے اور اس کے نفع کی ایک متعینہ مقدار امدادی فنڈ کے نام سے کردی جاتی ہے، پھر شرائط کے مطابق اسی فنڈ سے حادثات وغیرہ کے پیش آنے کی صورت میں حادثہ کے شکار شخص کی مدد کی جاتی ہے، شرعاً یہ جائز ہے اور امدادی فنڈ کے نام سے الگ کی گئی وقف ہوتی اور دینے والوں کا تبرع ہوتا ہے، اسی لئے کہا جاتا ہے اس کی بنیاد وقف اور تبرع ہوتا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
.......
سوال:
تکافل اور انشورنس میں کیا فرق ہے؟ (محمد یاسر حبیب)
جواب:
ایک معاشرے کے افراد عام طور پر ایک دوسرے سے دو قسم کے معاملات کرتے ہیں۔ کاروباری معاملات جس میں خوب دیکھ بھال کر اور بھاؤ تاؤ کرکے لین دین کیا جاتا ہے۔ ایک دعوت و اکرام کے معاملات جن میں معاوضہ مقصود نہیں ہوتا، بلکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر زیادہ پیسہ خرچ کرنے کو اعزاز سمجھتے ہیں۔
دونوں قسم کے معاملات کے احکام الگ الگ ہیں۔ انشورنس پہلی قسم اور تکافل دوسری قسم سے ہے۔
انشورنس دیگر کاروباروں کی طرح ایک کاروبار ہے جس میں کمپنی لوگوں یا اشیاء کو ممکنہ خطرات کی شرح انداز لگا کر آفر کرتی ہے کہ جو مجھے اتنا پریمئم جمع کرائے گا تو طے شدہ شرائط کے ساتھ اتنے روپے تک کے نقصان کا ازالہ کروں گی۔ پالیسی لینے والے کو یا تو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ایک خاص قسم کے خطرے کے مالی نقصان سے مطمئن ہو جاتا ہے یا بعض صورتوں میں اسے ایک مدت گزرنے پر رقم بمع سود حاصل ہو جاتی ہے۔ چونکہ یہ ایک کاروباری معاملہ ہے جس میں معاوضہ مقصود ہوتا ہے لہذا شریعت نے اس میں غرر (غیر یقینی صورتحال یا جہالت)، قمار (جوئے کی صورتیں) اور سود (اضافی یا کم ادائیگی) پائے جانے کی وجہ سے اسے ناجائز قرار دیا ہے، خواہ کمپنی والے اس کے کتنے ہی بلند مقاصد بیان کرتے ہوں۔
اس کے مقابلے میں تکافل ایک وقف فنڈ کا نام ہے۔ جس سے مخصوص شرائط کے ساتھ وقف فنڈ کے شرکاء ایک دوسرے پیش آنے والے خطرات کا ازالہ غیر کاروباری بنیادوں پر کرتے ہیں۔ تکافل کمپنی فنڈ کی بچت کی مالک نہیں ہوتی۔ ہاں! ایک منیجر کی حیثیت سے اس فنڈ کو کاروبار میں لگاتی ہے اور شریک ہونے کی بنیاد پر اپنے حصے کا نفع وصول کرتی ہے۔ اس کی غیر کاروباری حیثیت کی وجہ سے اس میں جہالت اور زیادہ ادائیگی، سود کے حکم میں نہیں۔ مزید مطالعے کے لیے ڈاکٹر مفتی عصمت اللہ صاحب کی کتاب ’’تکافل کی شرعی حیثیت‘‘ پڑھئے
http://shariahandbiz.com/index.php/shari-masail/680-insurrance-aor-takaful-me-faraq

گانا بجانا حرام ہے؟

گانا بجانا حرام ہے، اس پر صحیح حدیث مطلوب ہے

سنت نبوی میں میوزک گانے کی مذمت:
1. سنن الترمذي میں جابر رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: 
((وإنما نهيت عن صوتين أحمقين فاجرين: صوت عند نغمة لهو ولعب ومزامير شيطان، وصوت عند مصيبة: خمش وجوه وشق جيوب ورنة »
ترجمہ: مجھے دو احمق اور بدکار آوازوں سے منع کیا گیا ہے: خوشی کے وقت گانے بجانے کا شیطانی نغمہ، اور کسی مصیبت پر آہ وبکا کرنا، چہرہ نوچنا اور گریباں چاک کرنا. (اسے ترمذي اور الألباني نے حسن قرار دیا ہے. صحيح الجامع 5194).
2. مزید آپ صلى الله عليه و سلم نے فرمایا: 
« صوتان ملعونان، صوت مزمار عند نعمة، و صوت ويل عند مصيبة »
ترجمہ: دو آوازیں ملعون ہیں: خوشی کے وقت میوزک کی آواز اور مصیبت کے وقت آہ وبکا. (حسن، السلسلة الصحيحة 427)
3. رسول الله صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: 
«ليكونن في هذه الأمة خسف، وقذف، ومسخ، وذلك إذا شربوا الخمور، واتخذوا القينات، وضربوا بالمعازف»
ترجمہ: اس امت میں جب شراب نوشی، گلوکاری اور میوزک گانے بجیں گے تو زمین میں دھنسنے، پتھروں کی بارش اور شکلیں بگڑنے کے عذاب نازل ہوں گے. (صحيح بمجموع طرقه، السلسلة الصحيحة 2203).
4. نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: 
«إن الله حرم على أمتي الخمر، والميسر، والمزر، والكوبة، والقنين...»
ترجمہ: الله تعالى نے میری امت پر شراب، جوا اور ڈھول باجے جیسی چیزیں حرام کی ہیں. (صحيح، صحيح الجامع 1708).
5. امام أبوداوود نافع سے روایت کرتے ہیں کہ: 
« سمع ابن عمر مزمارا، قال: فوضع أصبعيه على أذنيه، ونأى عن الطريق، وقال لي: يا نافع هل تسمع شيئا؟ قال: فقلت: لا ! قال: فرفع أصبعيه من أذنيه، وقال: كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم، فسمع مثل هذا! فصنع مثل هذا »
ترجمہ: عبدالله بن عمر نے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور بانسری کی آواز سے دور ہو گئے. جب ان کے غلام: نافع نے بتایا کہ آواز آنا بند ہو چکی ہے تو کانوں سے انگلیاں نکالیں. اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم كو ایسے ہی کرتے دیکھا. (حديث صحيح، صحيح أبي داوود 4116).
 إمام قرطبي فرماتے ہیں: اگر صرف بانسری کی آواز پر ایسا ردعمل ہے تو گانے بجانے کیسا ہیں؟ (الجامع لأحكام القرآن للقرطبي).
 بلکہ اگر امام قرطبی کے زمانہ کے گانوں کی یہ کیفیت ہے تو آج کے دور کے نہ صرف بیہودہ گانے بلکہ اس کے ساتھ فاحشہ گلوکاروں کی شیطانی ادائیں بهی؟؟؟
 اللہ اور آخرت پر ایمان رکهنے والا مسلمان ایسی بیہودگی اور فحاشی کیسے سنتا دیکھتا ہے. بلکہ اس پر گھنٹوں جم کر بیٹهتا ہے؟؟؟
 اور پھر بھی اس نبی کریم سے محبت کے دعوے جنہیں ایک لمحہ کے لیے بهی بانسری جیسی آواز سننا بهی برداشت نہ تهی.

سوال # 11944
اسلام میں گانا بجانا حرام ہے۔ احادیث سے وضاحت کیجئے ان کا حوالہ بھی بتادیں ۔
Published on: Apr 23, 2009 
جواب # 11944
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 576=576/م
گانے بجانے کی حرمت سے متعلق احادیث ملاحظہ فرمائیے! قال علیہ السلاة والسلام: 
الغناءُ یُنبت النفاق في القلب کما یُنبت الماءُ البقل۔ 
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گانا دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتا ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے۔ (درمنثور)
عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: في ھذہ الأمة خسف ومسخ وقذف، فقال رجل من المسلمین یا رسول اللہ ومتی ذلک؟ قال: إذا ظھرت القیان والمعازف وشربت الخمور۔ 
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت میں بھی زمین میں دھنسنے، صورتیں مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش کے واقعات ہوں گے، اس پر ایک مسلمان مرد نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! یہ کب ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب گانے والی عورتیں اور باجوں کا عام رواج ہوگا اور کثرت سے شرابیں پی جائیں گی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Halal--Haram/11944
...............

گانے باجے اور آلاتِ موسیقی کی حرمت
گانے سننا حرام اور برا فعل ہے، اور یہ دلوں کے مرض اور ان کی سختی اور اللہ کے ذکر اور نماز سے دور کرنے والے اسباب میں سے ایک سبب ہے، اور اکثر اہل علم نے اللہ تعالی کے اس فرمان: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ  (سورۃ لقمان:6)  ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻛﻮ ﻣﻮﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔} کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد گانے باجے ہیں۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود - رضي الله عنه - اس بات پر قسم کھاتے تھے کہ لغو باتوں سے مراد گانا ہے۔ اور اگر گانے کے ساتھـ آلات لہو و لعب ہوں جیسے رباب، سارنگی، دو تارہ اور ڈھول تو اس کی حرمت اور زیادہ سخت ہوجائے گی۔ اور بعض علماء نے ذکر کیا ہے کہ گانا آلات لہو و لعب (موسیقی) کے ساتھـ ہو تو وہ بافاقِ علماء حرام ہے؛ لہذا اس سے بچنا چاہیے. 

اور رسول الله صلى الله عليه وسلم سے صحيح سند سے یہ ثابت ہے كہ آپ نے فرمایا: میری امت کے کچھـ اقوام زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھیں گے۔[ابوداؤد:4039]
بہت سارے دلائل سے معلوم ہوا ہے کہ گانا سننا اور اس میں مشغول ہونا خاص طور پر جب تفریحی آلات کے ساتھـ ہو جیسے سارنگی اور موسیقی وغیرہ کے ساتھـ تو یہ شیطان کے بڑے فریبوں میں سے ہے، اور اس کے ان جالوں میں سے ہے جس سے وہ جاہلوں کے دلوں کو شکار کرتا ہے، اور اس کے ذریعے سے قرآن سننے سے روکتا ہے، اور ان کے لئے فسق اور نافرمانی میں مشغول رہنا محبوب کرتا ہے، نیز گانا شیطان کا قرآن، اور اس کی بانسری، اور زنا کی منتر، اور لواطت کی اور شر اور فساد کے مختلف قسموں کو دعوت دینے والا ہے، اور یقیناً ابو بکر طرطوشى اور دیگر اہل علم نے ائمہ اسلام سے حکایت کی ہے کہ انہوں نے گانے کی مذمت کی اور تفریحی آلات کی، اور اس سے پرہیز کیا، اور حافظ علامہ ابو عمرو بن صلاح رحمہ الله نے سارے علماء سے اس گانے کی حرمت نقل کی ہے، جو سارنگی وغیرہ جیسے تفریحی آلات میں سے کسی چیز پر مشتمل ہو، یہ اس لئے کیونکہ گانے اور ساز میں دل کی بیماریاں، اور اخلاق کا فساد، اور اللہ کی ذکر اور نماز سے رکاوٹ ہوتی ہے، اور یقینا گانا اس لغو میں شامل ہے جس کی اللہ نے مذمت اور عیب جوئی کی ہے،اور اس سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے، جس طرح پانی سے دانہ اگتا ہے، خصوصی طور پر جب یہ ان گلوکار مرودوں اور عورتوں سے جو اس کے لئے مشہور ہوں، تو اس کا ضرر اور خطرناک اور دلوں کو فاسد کرنے میں زیادہ شدید ہوگا، اللہ تعالی فرماتا ہے:     
ﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻛﻮ ﻣﻮﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺑﮯﻋﻠﻤﯽ ﻛﮯ ﺳﺎتھـ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﹴللہ ﻛﯽ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﺑﮩﲀﺋﯿﮟﺍﻭﺭﺍﺳﮯ ﮨﻨﺴﯽ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺳﻮﺍﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﮯ (سورۃ لقمان:6) ﺟﺐ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﺗﻼﻭﺕ ﻛﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﻜﺒﺮ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎ ﻛﮧ ﺍﺱ ﻛﮯﺩﻭﻧﻮﮞ کاﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﭦ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺩ ﻧﺎﻙ ﻋﺬﺍﺏ ﻛﯽ ﺧﺒﺮ ﺳﻨﺎ ﺩﯾﺠﺌﮯ ۔ ، واحدی اور دیگر اکثر مفسریں نے کہا ہے، ابن مسعود رضی الله عنہ جو بڑے صحابہ اور ان کے علماء میں سے تھے، وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کی قسم کھا کر کہتے تھے کہ لغو بات سے مراد گانا ہے،اور آپ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ: گانا دل میں ایسے ہی نفاق اگاتا ہے جیسے پانی زراعت کو اگاتا ہے، اور صحابہ اور تابعین میں اسلاف سے گانے اور تفریحی آلات کی مذمت، اور اس سے پرہیز کرنے کے بارے میں بہت سارے آثار وارد ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:
میری امت سےاقوام ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھیں ۔ امام بخاری نے اسے روايت كيا ہے۔ اور الحر حرام شرمگاہ کو کہتے ہیں، اور اس سے مراد زنا ہے، اور ساز سے مراد ہر تفریحی آلہ ہے جیسے موسیقی، طبلہ، سارنگی، رباب، اور تانت وغیرہ، علامہ ابن قیم رحمہ الله "كتاب الإغاثة" میں لکھا ہے کہ: المعازف کی تفیسر ہر تفریحی آلات سے کرنے میں اہل لغت کے درمیان اختلاف نہیں ہے۔ اور ترمذی نے عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت کی ہے کہتے ہیں کہ: رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا: میری امت میں سنگ باری اور خسف ومسخ (زمین میں دھنسنے اور اشکال کی تبدیلی) کے واقعات ہوں گے، تو ایک مسلمان شخص نے کہا کہ : اے اللہ کے رسول! یہ سب کب ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا: جب لونڈی بازی اور موسیقی عام ہو جائے، اور شراب نوشی کھلے عام ہونے لگے۔[ترمذی:2212]
اور احمد نے اپنی مسند میں جيد اسناد کے ساتھـ تخريج كی ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بے شک نبی صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالی نے شراب، جوّا، طبلہ، اور ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے۔ [ابوداود:3696] اور اس حدیث کے ایک راوی سفیان نے کہا کہ: الکوبہ سے مراد طبلہ ہے، اور گانے اور لغو باتوں کی مذمت میں بہت سارے آثار وارد ہیں جو اس مقالے میں بیان کرنا ممکن نہیں ہیں، اور جو ہم نے ذکر کیا ہے حق کے طلبگار کے لئے اس میں کفایت اور قناعت ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ریڈیو اسٹیشن کو گانے اور تفریحی آلات بہم پہنچانے کے دعویدارں کی عقل میں خلل پیدا ہوا ہے یہاں تک کہ قبیح کو اچھا اور اچھے کو قبیح محسوس کرنے لگے، اور اس کی طرف بلانے لگے جو ان کے لئے اور دوسروں کے لئے نقصاندہ ہے، اور وہ اس سے پیدا ہونے والے نقصانات اور شر اور فساد کی پرواہ نہیں کرتے، اور اللہ تعالی نے کیا ہی خوب فرمایا ہے:     
ﻛﯿﺎ ﭘﺲ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﺲ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺑﺮﮮ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻣﺰﯾﻦ ﻛﺮﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ، ﭘﺲ ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ( ﻛﯿﺎ ﻭﮦ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺷﺨﺺ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ ؟ ) ، ( ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ ) ﻛﮧ ﺍللہ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺩﻛﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﺲ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻏﻢ ﻛﮭﺎ ﻛﮭﺎ ﻛﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮨﻼﻛﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ، ﯾﮧ ﺟﻮ ﻛﭽھ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﻘﯿناً اللہ تعالیٰ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﮯ۔ [فاطر:8]
 اور شاعر نے کیا ہی سچ کہا ہے:
آزمائش کے دنوں میں انسان پر گذرتی ہے.
یہاں تک کی اس کو اچھا سمجھتا ہے جو اچھا نہیں ہوتا۔


بینڈ باجے اور موسیقی کی آواز:
حَدَّثَنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثنا أَبُو عَاصِم، حَدَّثنا شَبِيب بن بشر البجلي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم: صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة: مزمار عند نعمة ورنة عند مصيبة.
[مسند البزار:14/62، مُسْنَدُ أَبِي حَمْزَةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رقم الحدیث 7513]

 حکم الحدیث: حسن۔
[الأحاديث المختارة:2200+2201، صَحِيح الْجَامِع: 3801 , الصَّحِيحَة: 427]
المحدث : المنذري | المصدر : الترغيب والترهيب: 4/268 | خلاصة حكم المحدث : رواته ثقات
المحدث : ابن القيم | المصدر : مسألة السماع: 318 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
المحدث : الهيثمي | المصدر : مجمع الزوائد: 16/3 | خلاصة حكم المحدث : رجاله ثقات
المحدث : الهيتمي المكي | المصدر : الزواجر: 1/159 | خلاصة حكم المحدث : رواته ثقات

موسیقی کے ساتھ نعت پڑھنا کیسا ہے؟
  شریعت مطہرہ نے موسیقی سے منع فرمایاہے۔ چنانچہ اس کی ممانعت کس قدر سختی سے کی گئی اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی ہوسکتا ہے ،ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر   کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں طبل کی آواز آنا شروع ہوگئی آپ  نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں تاکہ یہ آوا ز غیر اختیاری طور پربھی آپ کے کانوں میں نہ پڑے، پھر آپ وہاں سے ہٹ گئے اور تین دفعہ ایسا ہی کیا پھر فرمایا کہ نبی ﷺنے بھی اسی طرح کیاتھا۔ کیا یہ واقعہ اس بات پر دلالت کرنے کیلئے کافی نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ   کو موسیقی سے کس قدر نفرت تھی۔
    اس کے علاوہ ایک روایت میںفرمایاکہ جب میری امت پندرہ چیزوں میں مبتلا ہو جائے گی تو ان میں مصائب کا نزول شروع ہوجائے گا ان چیزوں میں سے ایک چیز آپ نے یہ بھی ذکر فرمائی کہ جب ان میں گانے والیاںاور آلات موسیقی عام ہوجائیں گے۔
اب اس کے بعد ہر صاحب بصیرت شخص یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ جس چیز سے آپ کو اس قدر نفرت تھی کہ آپ اس کی آواز سننا پسند نہیں فرماتے تھے تو اب اگر اسی کے ساتھ آپ کا ذکرمبارک کیا جائے اور اسے ثواب بھی گردانا جائے تو اس سے بڑھ کر اور حماقت کیا ہوگی ۔ یہی وجہ ہے کہ ملا علی قاری  نے اپنی کتاب شرح فقہ اکبر میں احناف کی کتب کے حوالے سے یہ جزئیہ نقل کیا ہے :
من قرأ القرآن علی ضرب الدف والقضیب یکفر  (ص ۱۶۷)
(جو شخص کلام مقدس کو دف یا بانسری پر پڑھے وہ کافر ہے) 
اس کے بعد اپنا فتوی نقل کرتے ہوئے ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں:  
 قلت !ویقرب منہ ضرب الدف والقضیب مع ذکر اللہ تعالی ونعت المصطفیﷺ،وکذا التصفیق علی الذکر۔
اسی ( کفر) کے قریب ہے دف اور بانسری بجانااللہ کے ذکر اور محمدﷺ کی نعت کے ساتھ،اور یہی حکم ذکر کے ساتھ تالی بجانے کا ہے۔  
 یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں دف وغیرہ کا ذکر ہے جس کا بعض مواقع پر جواز بھی ثابت ہے،اور رہی آجکل کی موسیقی اس کے ناجائز ہونے میں تو کسی کا اختلاف بھی نہیں،اس کے بعد بھی اتنی جرأت ؟وہ  ذات رؤف وکریم ہے ورنہ ہمارے اس فعل پر نہ معلوم ہمارے اوپر کیا کچھ نازل ہوجاتااور ہم اسی کے مستحق تھے ،کہ اللہ کے نبی ﷺ کا جب ہم نے سرعام مذاق اڑانا شروع کردیا آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ یہ مذاق ہے یا نہیں؟ کہ جس چیز سے آپ منع کریں ہم نہ صرف وہی کام کریں بلکہ اسے علی الاعلان کرتے ہوئے اس پر یہ بھی سمجھیں کہ ہمیں اس پر ثواب بھی مل رہا ہے،تعجب ہے مسلمانوں کی سوچ پر کہ نہ معلوم انہیں کیا ہوگیا ہے کہ العیاذ بااللہ اپنے نبی ﷺ کی نافرمانی کو انہوں نے فرمانبرداری سمجھ کر اس پر فخر کرنا شروع کردیا۔اللہ تعالی ہمیں دین کی حقیقی سمجھ عطا فرمائیں۔آمین
لما فی قولہ تعالی :وَمِنَ النَّاسِ مَن یَّشْتَرِیْ لَھْوَالْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ  عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ  o(لقمان:۶)
وفی جامع الترمذی (۴۴/۲): عن علی بن ابی طالب قال قال رسول اللہﷺ:اذا فعلت امتی خمس عشرۃ خصلۃ حل بھاالبلاء… واتخذت القیان والمعازف۔
وفی ابن ماجۃ (صـ۱۳۷):حدثنا محمد بن یحی …عن مجاھد قال کنت مع ابن عمر فسمع صوت طبل فادخل اصبعیہ فی اذنیہ ثم تنحی حتی فعل ذلک ثلاث مرات ثم قال ھکذا فعل رسول اللہﷺ۔
وفی بدائع الصنائع (۵۱۳/۶):…دلت المسئلۃ علی ان مجرد الغناء معصیۃ وکذا الاستماع الیہ  وکذا ضرب القصب والاستماع الیہ  الا تری ان اباحنیفۃ رضی اللہ عنہ سماہ ابتلاء۔
وفی الدرالمختار (۳۴۸/۶): وفی السراج ودلت المسئلۃ ان الملاھی کلھا حرام ویدخل علیھم بلااذنھم لانکار المنکر قال ابن مسعود صوت اللھو والغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء النبات۔

طریقت میں قوالی ،سماع مزا میر اور مجلس موسیقی وغیرہ نہیں ہے ؟؟؟
          الجواب: واضح رہے کہ احادیث اور عبارات فقہ سے مزا میر اور ملا ہی کی حرمت روز روشن کی طرح معلوم ہے ۔البتہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے کچھ شرائط سے جواز کی طرف میلان کیا ہے ۔اور وہ شرائط ان قوالوں میں معدوم اور مفقود ہیں۔لہٰذا ان کو جائز سمجھنے والوں پر کفر کا شدید خطرہ موجود ہے۔ یہ لوگ اپنی بد معاشیوں اور عیاشیوں پر ان بزرگوں کے کلام سے پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔لیکن فقہ حنفی نے ان (مستحلی الرقص والغناء) کو کافر کہا ہے۔ {۱}
۱}قال ابن عابدین (قولہ ومن یستحل الرقص قالوا بکفرہ)المرادبہ التمائل والخفض والرفع بحرکات 
موزونۃ کما یفعلہ بعض من ینتسب الی التصوف وقد نقل فی البزازیہ عن القرطبی اجماع الائمۃ علی حرمۃ ھذاالغناء وضرب القضیب والرقص قال ورأیت فتویٰ شیخ الاسلام جلال الملۃ والدین الکر مانی ان مستحل ھذا الرقص کافر وتما مہ فی شرح الوھبانیۃ ونقل فی نور العین عن التمھید انہ فاسق لا کافر ثم قال التحقیق القاطع للنزاع فی امرالرقص والسماع یستدعی تفصیلا ذکرہ فی عوارف المعارف واحیاء العلوم وخلاصتہ ما اجاب بہ العلامۃ النحریر ابن کمال باشا الخ۔(ردالمحتار ہامش الدر المختار ص۳۳۷ جلد ۳ قبیل باب البغاۃ مطلب فی مستحل الرقص )

سماع اور غنا میں فرق:
سماع کے معنیٰ سننے کے ہیں، عرف میں اس سے مراد گانا سننا ہوتا ہے، اور غناء کے معنیٰ گانے کے ہیں، پس سماع گانا سننے اور غناء گانے کو کہتے ہیں۔
قرآن، حدیث یا نعت سننے کو عرف میں سماع نہیں کہتے۔

ٹیپ ریکارڈ پر تلاوت اور موسیقی سننے کا حکم

واضح رہے کہ سوال میں دو چیزوں کا ذکر ہے ۱- تصویر کا مباح ہونا ۲- ریکارڈ شدہ موسیقی کے سننے کا جائز ہونا اور ان دونوں چیزوں کے جواز کی بنیاد ایک فاسد قیاس پر ہے اور قیاس کا مدار محض اس دعویٰ پر ہے کہ: ’’جو حکم اصل کا ہے وہ نقل اور عکس کا نہیں ہے‘‘۔
 مذکورہ شخص کا یہ کہنا کہ ’’جو حکم اصل کا ہے وہ حکم نقل اور عکس کا نہیں ہے‘‘ مسلّم نہیں ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جو اصل کا حکم ہے وہی نقل اور عکس کا ہے چنانچہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ تحریر فرماتے ہیں:
 ’’یہ صورت جس کی حکایت ہے حکم میں اسی کے تابع ہے پس اصل اگر مذموم ہے  جیسے معازف ومزامیر وصوتِ نساء وامارد ویا فحش ومعصیت‘‘ اسکی حکایت بھی ایسی ہی مذموم ہے اور اگر اصل مباح‘ (ہو تو اسکی)حکایت بھی مباح ہے اور اگر اصل محمود ہے تو فی نفسہ اسکی حکایت بھی ایسی ہی ہے‘‘۔
[امداد الفتاوی،کتاب العقائد والاحکام سوال نمبر ۵۱۰۔ :۶؍۲۱۹۔ط:دار العلوم کراچی۔۱۴۲۷ھ بمطابق ۲۰۰۶ء۔]

باقی یہ کہنا کہ نقل اصل کے حکم میں نہ ہونے کی وجہ سے ریکارڈ شدہ تلاوت سننے پر ثواب نہیں ملتا‘ درست نہیں‘ بلکہ ریکارڈ شدہ تلاوت سننے پر ثواب ضرورملتاہے‘ اس لئے کہ ریکارڈ شدہ تلاوت کے بھی وہی آداب ہیں جو اصل تلاوت سننے کے ہیں۔
 حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ ’’جدید آلات‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
 ’’یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآن کریم جب اس میں (ٹیپ ریکارڈ میں) پڑھنا جائز ہے تو اس کا سننا بھی جائز ہے‘ شرط یہ ہے کہ ایسی مجلسوں میں نہ سناجائے جہاں لوگ اپنے کاروبار یا دوسرے مشاغل میں لگے ہوں‘ یاسننے کی طرف متوجہ نہ ہوں‘ ورنہ بجائے ثواب کے گناہ ہوگا ‘‘۔ (۱)
 البتہ ریکارڈ شدہ آیت ِ سجدہ سننے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ سجدۂ تلاوت کے وجوب کیلئے تلاوتِ صحیحہ کا ہونا ضروری ہے اور تلاوت کے صحیح ہونے کیلئے تلاوت کرنے والے کا باشعور اور متمیز ہونا ضروری ہے،کیونکہ صبی غیر متمیز اور مجنون سے آیت سجدہ سننے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا، چونکہ مذکورہ آلہ (ٹیپ ریکارڈ وغیرہ) ایک لاشعور اور بے جان شئہے، اس وجہ سے اس پر آنے والی تلاوت تلاوت صحیحہ نہیں اور جب تلاوت صحیحہ نہیں تو اس کے سننے سے سجدۂ تلاوت بھی واجب نہیں۔ پھر چونکہ کیسٹ سے وہ کلام اللہ کی آواز سن رہا ہے اور اس کے دل میں کلام اللہ کی عظمت میں اضافہ ہورہاہے اور دیگر گناہ کی چیزوں سے اپنے کانوں کو محفوظ رکھے ہوئے ہے‘ اس لئے اسکو ریکارڈ شدہ تلاوت سننے پر اجر وثواب ضرور ملے گا۔جیساکہ البدائع میں ہے:

 ’’بخلاف السماع من البغاء والصدی فان ذلک لیس بتلاوۃ‘ وکذا اذا سمع من المجنون لان ذلک لیس بتلاوۃ صحیحۃ لعدم اہلیتہ لانعدام التمییز ‘‘۔
[آلات جدیدہ کے شرعی احکام از مولانا مفتی محمد شفیع ،ٹیپ ریکارڈر مشین پر تلاوت قرآن کا حکم ،ص:۲۰۷،ط: ادارۃ المعارف۔]


(۲)  بدائع الصنائع للکاسانی، کتاب الصلوۃ، سبب وجوبھا وبیان من تجب علیہ…الخ: ۱؍۴۴۰،ط: دار احیاالتراث العربی بیروت،الطبعۃ الثانیہ ۱۴۱۹ھ بمطابق ۱۹۹۸ء۔
 لہذا مذکورہ شخص کا ٹیپ ریکارڈ سے موسیقی سننے کے جواز پر استدلال کرنا اور یہ کہنا کہ: کیسٹ کیؔ موسیقی چونکہ اصل موسیقی نہیں‘ بلکہ موسیقی کی نقل ہے‘اس لئے اس کے سننے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا‘ بالکل غلط ہے‘ کیونکہ جب کیسٹ سے تلاوت سننا باعث اجر وثواب ہے‘ تو اسی طرح کیسٹ سے موسیقی سننا بھی گناہ ہے‘ اور موسیقی کی کیسٹ سننے سے جو ذہن کے اندر کدورت اور یاد الٰہی سے غفلت پیدا ہوگی‘ اس کا گناہ الگ ہے۔
 پھر اگر بالفرض والتقدیر: ہم مان بھی لیں کہ ٹیپ ریکارڈ سے تلاوت سننے پر اجرو ثواب نہیں ملتا‘ تب بھی اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ عکس اورنقل اصل کے حکم میں نہیں‘قابل تسلیم نہیں ‘کیونکہ بہت ساری ایسی اشیاء ہیں کہ جن کے عکس کا وہی حکم ہوتاہے جو اس کے اصل کا ہوتاہے‘ مثلاً:جس طرح قرآن مجید کی لکھی ہوئی کوئی سورۃ قابل احترام ہے‘ اسی طرح اس کی فوٹو کاپی بھی قابل احترام ہے‘ جس طرح اصل کی بے اکرامی ناجائز ہے‘ اسی طرح اس سورۃ کی فوٹو کاپی کی بے احترامی بھی ہرگز جائز نہیں۔
 علاوہ ازیں موسیقی کی حرمت کے دلائل پر اگر غور کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتاہے کہ جن وجوہ کی بنأ پر موسیقی سننا حرام ہے‘ وہ تمام کی تمام موسیقی کی کیسٹ میں بھی پائی جاتی ہیں‘ مثلاً: شہوت کا بیدار ہونا اور تلذذکا حاصل ہونا‘ یہ دونوں صورتوں میں پیدا ہوتے ہیں‘ یہ الگ بات ہے کہ اگرموسیقی گانے والوں سے براہ راست سنی جائے تو اس کا منفی اثر زیادہ ہوتا ہے۔ الغرض موسیقی خواہ براہ راست سنی جائے یا اسکی کیسٹ سنی جائے اس سے دل میں نفاق پیداہوتاہے جیساکہ حدیث میں ہے:
’’ الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء الزرع‘‘
[شعب الإیمان للبیھقی ،الباب الرابع والثلاثون فی حفظ اللسان ،فصل فی حفظ اللسان عن الغناء: ۴؍۲۷۹،رقم الحدیث(۵۱۰۰)ط:دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔]

  رہا تلاوت پر ثواب کا حصول! تو وہ محض تلاوت سننے پرہے‘ نہ کہ اس سے تأثر لینے پر‘  لہٰذا یہ قیاس غلط ہے کہ ثواب چونکہ اصل تلاوت پر ہے اور وہ یہاں مفقود ہے اس لئے ثواب نہیں۔
 رہا تصویر کا مسئلہ ! تو خانہ کعبہ اور بیت اللہ کی تصویر پر ثواب نہ ملنے کو بنیاد بناکر‘ نا محرم اور جاندار اشیأ کی تصویر بنانے‘ پاس رکھنے اور دیکھنے پر جواز کا استدلال کرنا غلط اور قیاس مع الفارق ہے‘ کیونکہ اس میں بے جان شئ کی تصویر پر جاندار شئی کی تصویر کو قیاس کیاگیا ہے اور یہ قیاس قیاس مع الفارق ہے۔ دوسری بات یہ کہ دلائل شرعیہ میں قیاس کا آخری درجہ ہے‘ سب سے پہلے کتاب اللہ ہے‘ پھر سنت رسول ہے‘ پھر اجماع ہے اور آخر میں قیاس ہے‘ جبکہ جاندار شئی کی تصویر کی حرمت پر بے شمار نصوص (احادیث نبویؐ) موجود ہیں‘ لہٰذا حرمت کی ان نصوص کے باجود محض ایک قیاس مع الفارق سے کیونکر جاندار شئی کی تصویر کی اباحت اور جواز کو ثابت کیا جاسکتاہے؟۔
 باقی خانہ کعبہ کی تصویر پر ثواب کا ملنا نہ ملنا تو یہ ایک امر شرعی ہے‘ کسی چیز میں ثواب یا عقاب کا ہونا نص شرعی کا محتاج ہے‘ بغیر نص شرعی کے کسی چیز میں ثواب یا عقاب کو ثابت نہیں کیا جاسکتا‘ چونکہ یہاں پر نص شرعی موجود نہیں اس لئے اس میں عقلی طور پر ثواب کا اثبات کیونکر ممکن ہے۔ جیساکہ محدث عظیم ملا علی قاریؒ ذیل کی حدیث میں تحریر فرماتے ہیں:
’’عن عابس بن ربیعۃ قال رأیت عمر یقبل الحجر ویقول انی لاعلم انک حجر ما تنفع ولاتضر ولولا انی رأیت رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم یقبل ما قبلتک‘‘۔
[مشکوۃ المصابیح ،کتاب المناسک،باب دخول مکۃ والطواف،الفصل الثالث ص:۲۲۸۔ط: قدیمی کراچی]

اس کے ذیل میں ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں:
’’وفیہ اشارۃ منہ ؓ الی ان ہذا امر تعبدی فنفعل وعن علتہ لانسأل‘‘
[مرقاۃ المفاتیح ،کتاب المناسک، باب دخول مکۃ الفصل الثالث:۵؍۴۷۹۔ط: رشیدیہ کوئٹہ۔]

  لہذا خانہ کعبہ کی تصویر کو بنیاد بناکر جاندار شئی کی تصویر کے جواز اور نامحرم عورت کی تصویر دیکھنے کے جواز پر استدلال کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ 

کیا ہے 786 کی حقیقت ؟

786 کی کیا حقیقت ہے؟
کیا اسے بسم اللہ کی لکھا جاسکتا ہے؟
Feb 28,2008
Answer: 2857
فتوی: 93/ ل= 94/ ل
786 نمبر آیت کریمہ بسم اللہ پر دال ہے، اور آیت کریمہ کا واجب الاحترام والتعظیم ہونا اور اس کو موقع اہانت و ذلت سے بچانا شرعاً واجب ہوتا ہے اورخط وغیرہ عام تحریرات عموماً ہرجگہ پڑی رہتی ہیں اگر آیت کریمہ لکھی جائے تو اس کا موقع ذلت واہانت بلکہ مواقع نجاست تک میں پڑجانا ظاہر ہے اس لیے اگر کوئی شخص اس آیت کریمہ کو موقع ذلت واہانت میں پڑنے سے بچانے کی نیت سے بجائے آیت کریمہ کے ۷۸۶ لکھ دے تو 
الأمور بمقاصدھا 
کے مطابق بلاشبہ جائز رہے گا۔ (نظام الفتاویٰ: ج۱ ص۳۹۵)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

==================
India
Question: 24016
1.براہ کرم، 786 کے معنی بتائیں۔
Jul 25,2010
Answer: 24016
فتوی(د): 1122=858-7/1431
ابجد کے قاعدہ سے حروف کے جو عدد ہوتے ہیں، بسم اللہ الرحمن الرحیم کا عدد نکالا گیا تو ۷۸۶ نکلا۔ لوگ بسم اللہ الخ کی جگہ ۷۸۶ لکھ دیتے ہیں لیکن یہ بسم اللہ کے لکھنے یا پڑھنے کے قائم مقام نہیں ہوسکتا؛ لہٰذا کسی کام کے کرنے کے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم زبان سے پڑھنا اور قلم سے لکھنا چاہیے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
=================
Question: 3665
کچھ لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بجائے 786 لکھتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟ اگر درست ہے تو براہ کرم، قرآن وحدیث کے حوالے سے اس کی وضاحت کریں۔
Apr 27,2008
Answer: 3665
فتوی: 562/ ب= 451/ ب
مسنون طریقہ یہ ہے کہ پوری بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی جائے، اسی میں اجر و ثواب اور خیر و برکت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریقہ رہا ہے، جو لوگ بسم اللہ کی جگہ اس کا نقش 786 لکھتے ہیں وہ محض قرآنی آیت کو بے ادبی سے بچانے کے لیے لکھتے ہیں ان کا یہ عمل بھی درست ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
نقلہ مرغوب الرحمٰن عفی عنہ











فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود صاحب گنگوہی رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں یوں رقمطراز ہیکہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ثواب ۷۸٦ لکھنے سے نہیں ملیگا، یہ بسم اللہ کا عدد ہے جن سے اشارہ ہوسکتا ہے 
حوالہ فتاوی محمودیہ
جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 340 کتاب العلم 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی شھید رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں یوں رقم طراز ہیکہ
۷۸۶ بسم اللہ شریف کے عدد ہے.
بزرگوں سے اسکے لکھنے کا معمول چلا آرہاہے، غالبا اسکو رواج اسلئے  دیاہوکہ خطوط عام طور پر بھاڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں - 
جس سے بسم اللہ شریف کی بےادبی ہوتی ہے ـ 
اس بےادبی سے بچانے کیلئے غالبا بزرگوں نے بسم اللہ شریف کے اعداد لکھنے شروع کئےــــ
اسکو ہندوؤں کی طرف منسوب کرنا تو غلط ہے ـــــ
البتہ اگر بےادبی کا اندیشہ نا ہوتو بسم اللہ شریف ہی کا لکھنا بہتر 
حوالہ آپکے مسائل اور انکا حل جلد نمبر  8 صفحہ نمبر 384
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی صاحب دامت برکاتھم ایک سوال کے جواب میں یوں رقم طراز ہیکہ
خطوط کی ابتداء میں 
بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا مسنون ہے ..اور یہ خود قرآن کریم سے ثابت ہے کہ اسمیں حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط بسم اللہ سے شروع ہوتاہے،
ـــــ
اور یہ بات کسی مستند کتاب میں نظر میں نہیں آئی کہ بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ عدد کب سے لکھاجانا شروع ہوا،
لیکن اسکی وجہ غالبا یہ ہیکہ بسم اللہ لکھاہوا کاغذ کسی بے حرمتی کی جگہ استعمال ہوگا تو اس لئے بےادبی ہوگی،
لہذا اگر کوئی شخص اس خیال سے زبان سے بسم اللہ پڑھ کر یہ عدد لکھ دے تو سنت اداء ہوجائیگی،
لیکن افضل یہی معلوم ہوتاہیکہ بسم اللہ صراحة لکھی جائے...
اسلئیے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط بھی کفار کے پاس گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر بادشاہوں کو جو خطوط روانہ فرمائے،،،، انمین بھی
بسم اللہ درج تھی،
ظاھر ہیکہ کفار کے پاس بے حرمتی کا احتمال مسلمانون کے مقابلے میں زیادہ تھا،
مگر اسکی وجہ سے بسم اللہ کو ترک نہیں کیا گیا 
واللہ اعلم بالصواب 
محمد تقی عثمانی غفرلہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مفسر قرآن و مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ 
صاحب معارف القرآن 
تقی صاحب کے جواب کو ملاحظہ کرنیکے بعد یوں رقم طراز ہیکہ 
(مذکورہ) جواب صحیح ہے مگر اسکی شرط یہ ہیکہ ظنِ غالب اس بات کا ہو کہ اس خط کی بےادبی نہ کی جائیگی ـــ 
جہاں یہ شرط نہ ہو جیسے عموما خطوط میں یہی حال ہے،
وہاں بسم اللہ لکھنے سے پرہیز کرنا بہتر ہے
ــــــــــــــ
صرف زبان سے کہنے پر اکتفاء کرے یا
📌 ۷۸۶  ایک علامت بسم اللہ ہونیکی حیثیت سے لکھ دےـ
مکاتیبِ نبوی اور مکتوبِ سلیمان میں یہ شرط موجود تھی کیونکہ 
📌عام دنیاء میں سلاطین اور بڑوں کے خطوط احتیاط سے محفوظ رکھے جاتے ہیں....
جن خطوط کے متعلق آج بھی یہ گمان غالب ہو انمیں بسم اللہ لکھنا چاہئے .
فقط
بندہ محمد شفیع
حوالہ فتاوی عثمانی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 144 ,145

طلاق مغلظہ سے بچنے کے لئے حیلہ

سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام
اگرکسی نے تین طلاق کو معلق کیا دخول دار پر تو کیا ایسا کوئی حیلہ ہے کہ طلاق ثلاثہ بھی نہ هو اور دخول دار بہی هوجائے؟

جواب: جی ہے؛
لمافی التاتارخانیۃ (۳۳۱/۱۰) کتاب الحیل:إذا حلف بثلاث تطلیقات أن لایکلم فلاناً، فالسبیل أن یطلقھا واحدۃً بائنۃً، ویدعھا، حتی انقضت عدتھا، ثم یکلم فلاناً، ثم یتزوجھا۔
.....
طلاق مغلظہ سے بچنے کے لئے ایک حیلہ کا ذکر
سوال… کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ:
’’اگر تو والدین کے گھر گئی تو تجھے تین طلاق.‘‘
اب زید کی بیو ی والدین کو بھی نہیں چھوڑسکتی اور اپنے شوہر کو بھی۔ برائے مہربانی اس کیلئے کوئی شرعی حل بتادیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب…
مذکورہ مسئلہ کا شرعی حل یہ ہے کہ زید اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دیدے (یعنی تجھے طلاق بائن ہو وغیرہ کے الفاظ سے اس عورت کو اپنے نکاح سے نکال دے) پھر یہ عورت عدتِ طلاق گزارکر اپنے والدین کے گھر چلی جائے۔ تو چونکہ یہ عورت اب زید کے نکاح میں نہیں رہی ہے اور عدت بھی گزارچکی ہے اس لئے تین طلاقیں (جو کہ والدین کے گھر جانے کے ساتھ معلق تھیں) اس پر واقع نہیں  ہوں گی اور شرط (دخول دار) پائے جانے کی وجہ سے یمین ختم ہوجائے گی پھر زید ان خاتون سے نئے سرے سے نکاح کرلے۔ اب زیدکی بیوی اپنے والدین کے گھر جاسکتی ہےکیونکہ یمین ختم ہوچکی ہے البتہ زید کے پاس اب اپنی بیوی کو دو طلاقیں دینے کا اختیار رہ جائے گا۔ اس کے علاوہ اگرزید کی بیوی اپنے والدین سے فقط ملنا ہی چاہتی ہے تو اس کے لئے بجائے والدین کے گھر جانے کے کسی اور جگہ والدین سے ملاقات کرلے، واضح رہے! والدین کے گھر سے مراد وہ چار دیواری ہے جس میں وہ رہائش پذیر ہیں، اس چار دیواری کے علاوہ کہیں بھی ملاقات کی جاسکتی ہے۔
لمافی التاتارخانیۃ (۳۳۱/۱۰) کتاب الحیل: إذا حلف بثلاث تطلیقات أن لایکلم فلاناً، فالسبیل أن یطلقھا واحدۃً بائنۃً، ویدعھا، حتی انقضت عدتھا، ثم یکلم فلاناً، ثم یتزوجھا۔
وفی الجوھرۃ النیرۃ (۴۷۸/۲) کتاب الأیمان: ولو حلف لایدخل دار فلان فدخل داراً یسکنھا فلان بملک، أو اجارۃ، أو عاریۃ حنث۔
از نجم الفتاوی
العبد محمد اسلامپوری

نشہ کی عادت؛ انفرادی مصیبت، سماجی لعنت

انسان کا جسم خدا تعالیٰ کی امانت ہے اور امانت میں خیانت بڑا سنگین جرم ہے، نشہ چاہے شراب کا ہو یا گانجہ، افیون، چرس کا، یا پھر نئی ایجادات٬ انجکشن اور دیگر آلات کے ذریعہ نشہ آور سیال جسم میں اتار کر ’’سرورو بیخودی‘‘ حاصل کرنے کی راہ سے، ہے بہرحال خدا تعالیٰ کی امانت میں خیانت لیکن آج کے دور کا لذت پسند انسان تھوڑی دیر کی لذت کے لئے، زندگی کے مختلف معاملات و مسائل سے راہ فرار اختیار کرنے کی غرض سے
’’یک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہئے‘‘
کے احساس کے ساتھ اپنے آپ کو نشہ آور چیزوں کے سپرد کردیتا ہے جس سے خود اس کے جسم و جان کا بھی نقصان ہوتا ہے، مال بھی دریا برد ہوتا ہے اور انسانی سماج پر بھی اس کے برے اثرات پڑتے ہیں۔
    قدیم دور سے انسان زندگی کے مسائل و مشاکل سے فرار کے لئے نشہ آور چیزوں کا سہارا لیتا ہے لیکن موجودہ دور میں منشیات کو جو فروغ حاصل ہوا ہے اور جس وسیع پیمانے پر اس لعنت کو پھیلانے ، بڑھانے اور ’’مقبول خاص و عام‘‘ بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں ، اب سے پہلے شاید اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، علم و ہنر اور تعلیم و ترقی کے اس عہد میں نشہ انسانوں پر کچھ اس طور پر حاوی ہوچکا ہے کہ قوت و صلاحیت، عزت ودولت، زروزمین، سرمایہ اور جوانی سب کچھ اس لعنت کی نذر ہورہے ہیں، جدید تحقیق کے مطابق آج کی دنیا میں موت کی دوسری سب سے بڑی وجہ’’نشہ‘‘ ہی ہے، صرف سگریٹ نوشی کے سبب ہر سال دنیا میں چھ ملین سے زائد افراد مرتے ہیں، دیگر اور نشے کی چیزوں کو اس میں شامل کرلیا جائے تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد کتنی ہوگی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے، ایک جدید تحقیق کے مطابق دس میں سے ایک بالغ شخص کی موت کا سبب تمباکو نوشی ہے۔
    منشیات ہلاکت کا سبب تو ہیں ہی، اسی کے ساتھ ساتھ مختلف جسمانی بیماریاں بھی ان کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جو انسانی جسم کو کمزور، صلاحیتوں کو کند، اور ہمت کو پست کردیتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اچھا بھلا انسان چلتی پھرتی لاش بن جاتا ہے. نشہ کے سبب پیدا ہونے والی خطرناک بیماریوں میں سرفہرست دماغی بیماریاں ہیں، اطباء نے نشہ کرنے والوں کے جسم پر ریسرچ کرکے بتایا ہے کہ نشہ کی وجہ سے دماغ کی کارکردگی اور فعالیت متاثر ہوتی ہے، جو نظام جسمانی کے سست ہوجانے کا سبب ہے، یہیں سے مرگی، مالیخولیا، نسیان اور جنون کے دروازے کھلتے ہیں اعصابی امراض، رعشہ فالج، گردوں اور بینائی کی کمزوری کا بھی بڑا سبب نشہ ہی ہے۔ امراض تنفس اور معدے کا سرطان بھی اسی کی دین ہے. یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے طبی ماہرین کی تحقیق ہے کہ شراب نوشی کے سبب کینسر جیسی خطرناک بیماری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اس لئے کہ شراب نوشی کی کثرت جسم کی قوت مدافعت کو کمزور کردیتے ہیں جس کے بعد کینسر کے جراثیم کو روکنے کی قوت جسم میں باقی نہیں رہتی۔
    جسمانی بیماریوں کے علاوہ منشیات کا استعمال روحانی بیماریوں کا بھی بڑا ذریعہ ہے، حدیث شریف میں شراب نوشی کو برائیوں اور ناپاک چیزوں کی جڑ بتایا گیا ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نشہ کے سبب برے کاموں کی عادت نشہ کرنے والے میں پیدا ہوجاتی ہے، خود کلام پاک میں بھی شراب نوشی کو بغض اور دشمنی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے. چنانچہ سورہ مائدہ آیت نمبر۹۱ میں؛
اِنَّمَا  یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ  اَنْ  یُّوْقِعَ   بَیْنَکُمُ  الْعَدَاوَۃَ  وَ الْبَغْضَآئَ  فِی  الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ
میں جہاں شراب سے رک جانے کا حکم دیا گیا وہاں یہ بات بھی ذکر کی گئی ہے کہ
"شیطان یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوا کے سلسلے میں تمہیں باہمی بغض و عناد میں مبتلا کردے اور اللہ کی یاد اور نماز سے تمہیں روک دے."
(سورہ مائد،آیت:۹۱)
ان بڑی روحانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ایک بہت بری عادت عام طور پر نشہ کرنے والوں میں دیکھی گئی ہے وہ ہے چوری اور گر ہ کٹی کی عادت، ہر آدمی کے پاس قارون کا خزانہ تو نہیں ہے وہ اطمینان سے اپنی گرہ سے مال خرچ کر کے نشہ کرتا رہے ، جب اپنی جیب خالی ہوجاتی ہے تو نشہ بازوں کی نگاہ دوسروں کے مال اور جیب پر پڑنے لگتی ہے ، پھر چوری، رہزنی اور گرہ کٹی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، نشہ کی طلب اچھے اچھوں کو اوچھی حرکت پر مجبور کردیتی ہے ، کتنے تو ایسے بھی ہیں جو نشہ کے حصول کے لئے گاڑیوں کا پٹرول، مکان کے باہر لگے ہوئے بلب ، گھر کے صحن میں رکھے ہوئے معمولی برتن تک چرا کر بیچ دیتے ہیں اور ملنے والی رقم کو افیون اور چرس کے دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں۔
     نشہ انسان کے جسمانی نظام پر اس بری طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ اس کی عقل ماؤف ہوجاتی ہے اور ذہن بے قابو، ہاتھ پیر کی حرکت بھی اس کے کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہیں ایسی حالت میں نشہ کرنے والا جو کام بھی کرتا ہے اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ سڑک حادثات کی ایک بڑی وجہ نشے کی حالت میں ڈرائیونگ بھی ہے، ’پی کر‘ گاڑی چلانے والے اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں اور دوسرے مسافروں کو بھی ہلاکت کی وادی اور موت کی گھاٹی میں پہنچا دیتے ہیں، وطن عزیز میں بحالت نشہ گاڑی چلانا قانوناً جرم ہے، لیکن قانون پر چلنے اور ضابطے کو اپنے آپ پر نافذ نہ کرنے کا مزاج بھی عام ہے، جس کی وجہ سے بحالت نشہ ڈرائیونگ کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے، اور اب تو بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک تہائی سڑک حادثے نشے کے سبب ہورہے ہیں۔
    منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ملک کا سنگین مسئلہ ہے جس پر غوروفکر اور تجویز و عمل ارباب اقتدار کی اولین ترجیح ہونی چاہئے، تاکہ اس بری لعنت پر قدغن لگے، اور اس سماجی خرابی کا سد با ب کیا جاسکے مگر یہ بھی زمینی سچائی ہے کہ اس دنیا کا سب سے بڑا نشہ، دولت کا نشہ ہے جسے نہ ترشی اتارپاتی ہے نہ یخ بستہ پانی کی دھار، یہ ایسا نشہ ہے کہ جب انسان پر سوار ہوتا ہے تو اسے دائرہ انسانیت سے نکال کر شیطنت کی راہوں پر ڈال دیتا ہے۔؂
نشہ دولت کا بد اطوار کے جس آن چڑھا
سر پہ شیطان کہ ایک اور بھی شیطان چڑھا
    اسی’’نشہ دولت‘‘ کا منشیات کے فروغ میں بنیادی رول رہا ہے اور آج بھی ہے، منشیات کے بڑھتے قدم کو نہ روکنے والے، اور اپنی تجوریوں کو دولت اور جیب و دامان کو سیم و زر سے بھرنے والے بھول جاتے ہیں کہ منشیات کی ناجائز تجارت کرنے والوں کو چھوٹ دے کر وہ لاکھوں انسانوں کی صحت و جوانی، اور دولت وعزت کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں۔
     وطن عزیز میں نشہ کے فروغ کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ آزادی کے وقت ہندوستان میں شراب کے بنانے کے ۸۳؍ کارخانے تھے ،جب کہ آج ان کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے ، شراب کے ان کارخانوں میں ہر سال چالیس ہزار ارب روپئے کی شراب بنائی جاتی ہے ، ماہرین تحقیق کا کہنا ہے کہ ستّر ملین ہندوستانی منشیات کے عادی ہیں ، جن میں سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار انجکشن کے ذریعے نشہ آور سیال اپنے جسم میں اتار رہے ہیں (واضح ہو کہ یہ ۲۰۱۲ء کی رپورٹ ہے ، گزشتہ پانچ سال میں ان اعداد و شمار میں جو اضافہ ہواہے وہ اس کے علاوہ ہے زمانے کی تیزرفتار ترقی نے نشہ کو اور بھی آسان اور سستا بنادیا ہے، اب تو میڈیکل اسٹور پر بھی ایسی دوائیں بآسانی مل جاتی ہیں جن کے استعمال سے نشہ کی سی کیفیت طاری ہوتی ہے، آسان، سستے، اور سہل الحصول نشہ کے متلاشی نوجوان بڑی تعداد میں ایسی نشیلی دوائوں کا استعمال کررہے ہیں ۔
     نشہ آور چیزیں مہنگی ہوں یا سستی، کم ہوں یا زیادہ، مہلک ہوں یا غیر مہلک اسلام نے انہیں حرام قرار دیا ہے، اور رحمت دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے ہر نشے کی چیز سے بچتے رہنے کی تعلیم دی ہے، نشہ کرنے والا اپنے آپ پر، اپنے گھر والوں پر، اپنے سماج پر ظلم و زیادتی کرتا ہے ، وہ خد ا تعالیٰ کی امانت میں خیانت کا مجرم ہے، وہ اپنا مال بیجا لٹانے والا ہے اسی لئے شریعت کی نگاہ میں وہ ناپسندیدہ کام کرنے والا ، اور خائن و خطاکار ہے، اور اس کے لئے بڑی سخت سزا ہے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کا ارشاد ہے؛
’’شراب سے بچو یہ تو تمام خبیث اور ناپاک چیزوں کی جڑ ہے، جو اس سے نہ رکا اس نے اللہ اور اس کے رسول کا حکم توڑا، اور حکم نہ ماننے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا عذاب کا مستحق بن گیا پھر آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے قرآن پاک کی آیت تلاوت کی؛
"وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا ص وَلَہٗ  عَذَاب مُّھِیْن۔"
(جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اللہ کی قائم کی ہوئی حدوں سے آگے بڑھ جائے گا ایسے شخص کو اللہ دوزخ کی آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلیل کردینے والا عذاب ہے۔(مصنف عبدالرزاق، ج۹، ص:۴۸)
    ایک دوسری حدیث شریف میں یہ بتایا گیا کہ شراب پینے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ (مشکوۃ شریف)
    ابو دائود شریف کی روایت ہے کہ
’’ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے جو کوئی شراب کا عادی ہونے کی حالت میں مرے گا آخرت والی شراب سے محروم کردیا جائے گا۔‘‘
    قرآن پاک میں شراب کو ’’رجس‘‘ (ناپاک) کہا گیا ہے۔ (سورہ مائدہ،آیت:۹۰) جو اس ناپاک چیز کو دنیا میں استعمال کرے گا آخرت میں بھی اسے ناپاک چیزہی دی جائے گی، چنانچہ ایک روایت میں ہے، جو شراب پئے گا وہ بت پرست انسان جیسا ہے اور اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہیں کی جائے گی، جو کوئی اس حالت میں مرے گا کہ اس کے پیٹ میں کچھ بھی حصہ شراب کا ہوگا اللہ کے ذمہ ہے کہ اسے’’طینۃ الخبال‘‘ سے پلائے،
پوچھا گیا طینۃ الخبال کیا ہے؟
آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا: 
"جہنمیوں کا خون اور پیپ اور زانیوں کی شرمگاہوں سے نکلنے والا مادّہ!"
    یہ چند احادیث شریفہ تو نمونے کے طور پر ذکر کی گئی ہیں ورنہ احادیث کے ذخیرے میں نشہ کے سلسلے میں ایسی سخت وعیدیں ملتی ہیں جن کو پڑھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ضرورت ہے کہ اہل ایمان نشے کی ہر چیز سے مکمل طور پر خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی بھرپور کوشش کریں یہ ہمارا دینی اخلاقی ایمانی فریضہ بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی!
تحریر: شیخ طریقت حضرت مولانامحمد عمرین محفوظ رحمانی مدظلہ
(سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ)