Monday, 11 November 2019

بھاڑ میں جاؤ تم Go To Hell

بھاڑ میں جاؤ تم
ہمارے معاشرے میں "بھاڑ" کو محاورے کے طور پر استعمال کیا جاتا ھے، جیسے:
• بھاڑ میں جاؤ تم
• بھاڑ میں جائے تمہارا کہنا
• تم اور تمہاری (کوئی بھی چیز، بات وغیرہ) بھاڑ میں جائے
• میری بلا سے بھاڑ میں گیا
لوگوں کی سوچ ھے کہ نفرت یا غصے کے اظہار میں ایسا کہا جاتا ھے، اور اس کا مطلب ھے؛ "دفع ہو جاؤ"، یا ایسے جملوں کو دوسرے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ھے
یہ ایک غلط سوچ ھے
اَصل:-
اس محاورے کو ہمارے معاشرے میں بہت مقامات پر بولا جاتا ھے۔ کبھی کوئی کسی سے ناراض ہو تو غصے میں یہ محاورا بول دیتا ھے، یا پھر حالات سے تنگ آ کر بھی اس محاورے کا استعمال کیا جاتا ھے۔ حالانکہ ان سے اگر اس محاورے کا صحیح معنی پوچھا جائے تو ان کا کہنا ہوتا ھے کہ؛ اس محاورے کا استعمال جب کسی چیز سے جان چھڑانی ہو یا بیزاری ہو جائے تو تب استعمال کیا جاتا ھے مگر لفظی معنی معلوم نہیں ھے۔ اس محاورے کی اصل ملاحظہ ہوں:
☆ بھاڑ کا لغوی معنی:
۱) چولھا یا بھٹی جس پر بھڑ بھونجے اناج کے دانے بھونتے ہیں بالعموم ڈربے نما سامنے سے کھلا ہوا جس میں چنے وغیرہ بھوننے کے لیے بالو گرم کرتے ہیں
۲) آگ کا گڑھا، جہنم، دوزخ
۳) زنا کی کمائی، زنا کی اجرت
☆ بھاڑ کا اصطلاحی معنی:
• غارت
• برباد
• تباہ
• جلنا
• جہنم/دوزخ
• دفع
☆ بھاڑ کا انگریزی اصطلاحی معنیٰ:
• جہنم میں جاؤ
• وطی کرو
◯ بھاڑ میں جاؤ تم:
لوگوں میں یہ جملہ بہت عام ھے، حالانکہ اس کے لفظی معنی اور اصطلاحی معنی میں زمین آسمان کا فرق ھے؛
☆ اِصطلاح کے مطابق:
     اصلاحی معنی سے مراد وہ معنی جو لوگوں میں مشہور ہو گیا ہو مگر اس کا اصل معنی کچھ اور ہو، اصطلاح میں "تم بھاڑ میں جاؤ" سے مراد؛ تم دفع ہو جاؤ، یا کسی سے بیزاری یا غصے کا اظہار کرنے کے لیے استعمال ہوتا ھے۔ 
جب کوئی بات مرضی کے خلاف ہو تو بغرض اکراہ بولا جاتا ھے۔
   (ملاحظہ ہو:- دہلی کے محاورے ۲۰۰۸ء - از: ضمیر حسن دہلوی)
☆ حقیقی معنی:
     لفظی معنی کو حقیقی معنی بھی کہا جاتا ھے۔ اصل میں اس محاورے کے معنی ہیں؛ تم دوزخ میں جاؤ، تم برباد ہو جاؤ، آگ لگے تمہیں، تم غارت ہوجاؤ، تمہیں جہنم نصیب ہو۔
   (ملاحظہ ہو:- اردو محاورے ۱۹۷۲ء - از: فخرالدین صدیقی اثر)
اِضافی:-
اگرچہ ان کے نزدیک یہ عام بات ھے مگر اگر کوئی آپ کو ایسا کہے کہ:
"تم دوزخ میں جاؤ"
تو آپ کا ردعمل اس پر یہی ہو گا کہ آپ اس شخص سے بھڑ جائیں گے کہ مجھے تم نے اتنی بڑی بد دعا کیسے دی۔ مگر وہی شخص اگر کہے کہ:
"تم بھاڑ میں جاؤ"
تو ہمارا ردعمل کچھ نہیں ہوتا بلکہ الٹا ہم بھی کہہ دیتے ہیں کہ، تم بھی بھاڑ میں جاؤ اور تمہاری سوچ بھی ۔ ۔ ۔ وغیرہ، کیونکہ ہم بھاڑ کے مطلب سے ہی آشنا نہیں ہیں۔ اسی لیے ہم اسے بددعا ہی نہیں سمجھتے۔
     افسوس یہ ھے کہ ہمارے معاشرے کی ماؤں کو بھی یہ محاورا غصے میں اپنے بچوں پر استعمال کرتے ہوئے سنا ھے۔ دوستوں کو آپس میں اور بڑے بزرگوں کا تو تکیہ کلام بن چکا ھے۔ جس بات پر ناگواری ہو تو جھٹ سے کہہ دینا، "سب بھاڑ میں جائیں"۔
حاصلِ کلام:-
          یقینا اس لفظ کے اصل معنی جاننے کے بعد ایک سمجھدار مسلمان اس محاورے کو آئندہ اپنی زبان پر نہ لانے کی احتیاط کرے گا۔ کیونکہ اس کے معنی بہت برے اور اخلاق سے گرے ہوئے ہیں۔ جہنم وہ مقام ھے جس سے تمام انبیاء کرام پناہ مانگتے رہے، اور ہم لوگ ہر وقت اس محاورے کا استعمال کر کے ایک دوسرے کو بد دعائیں دیتے پھرتے ہیں۔ کیا کسی کو دوزخ میں جلنے کی بد دعا دینا ایک مسلمان کو زیب دیتا ھے؟ ۔ ۔ ۔کیا کسی کو زنا کی کمائی کا الزام دینا، ایک شرمناک بات نہیں ھے؟ ۔ ۔ ۔سوچیں، غور کریں کہ ہم اپنی نسلوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔ ہماری اولادیں ہم سے سن کر اسی محاورے کا استعمال بغیر کچھ سوچے سمجھے کرتی ہیں، حالانکہ ہمیں معاشرے کی اصلاح کرنی چاہیے، ایک باوقار اور باتہذیب معاشرا بنانا چاہیے۔ بلاوجہ کی بد دعائیں دینا گناہ کا سبب بھی ھے۔ پس اس محاورے کا استعمال بالکل درست نہیں ھے، غصے میں ہو یا عام گفتگو میں، ہر صورت میں اس کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔ اللّٰه ﷻ ہمیں اس جیسے فضول محاوروں کے استعمال سے بچائیں۔ ۔ ۔آمین
[کتـاب: ایک غلط سوچ]   
[تالیف: سیف خان بابُر]   
https://saagartimes.blogspot.com/2019/11/go-to-hell.html

Saturday, 9 November 2019

روزانہ تلاوت کی تحقیق

روزانہ تلاوت کی تحقیق
مفتی صاحب
منسلکہ پوسٹ "روزانہ تلاوت"
کی تحقیق مطلوب ہے عنایت فرمائیں

الجواب وباللہ التوفیق:
موضوع ہے: رواه ابن شاهين في الترغيب (192) وابن ابي داود في المصاحف (لم أقف عليه فيه) و الديلمي من طريق خلف ابن يحيى ، ثنا إسماعيل بن عياش، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان ، عن أبي الدرداء ، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ((من قرأ مائتي آية في كل يوم نظرا ؛ شفع في سبعة قبور حول قبره ، وخفف الله عن والديه وإن كانا مشركين))
قلت: هذا حديث [باطل]
خلف بن يحيى [يضع الحديث] وخالد لم يسمع من ابي الدرداء قال الامام أحمد: ((لم يسمع من أبي الدرداء)) [التهذيب لابن حجر 103/3]
وروى نحوه ابن حبان في المجروحين (311/2) ومن طريقه رواه ابن الجوزي في الموضوعات (245/1) من طريق محمد بن المهاجر عن أبي معاوية عن عبيد الله بن عمر العُمَرِي عن نافع عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (( من حفظ القرآن نظراً, خفف الله العذاب عن والديه, وإن كانا كافرين))
قلت: هذا [موضوع]
محمد بن المهاجر [يضع الحديث], قال ابن طاهر المقدسي في المعرفة (210/1): ((فيه محمد بن المهاجر يضع الحديث)), وقال شيخنا الحافظ سليمان بن ناصر العلوان (ثبته الله) في شرحه لكتاب الموقظة: ((هذا خبر مكذوب على رسول الله صلى الله عليه وسلم, قد حكم عليه بالوضع أبوحاتم, وابن الجوزي, وجماعة. إسناده إلى أبي معاوية كالشمس: ابن عمر صحابي, ونافع من رجال الستة, وعبيد الله بن عمر العُمَرِي من رجال الستة, وأبو معاوية من رجال الستة, والآفة من محمد بن المهاجر)).
و الله أعلم .

حائضہ و جنبی کے لئے تلاوت و کتابت قرآن پاک کا حکم

نفاس میں منزل پڑھنا جس میں سورہ فاتحہ بھی ہے کیسا ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
سورہٴ فاتحہ یا وہ آیاتِ مبارکہ کہ جن میں دعاء کا مضمون ہے اُن کو دعاء کی نیت سے پڑھ لے تو جائز ہے، تلاوت کا قصد ان کے پڑھنے میں نہ کرے اور جن آیاتِ شریفہ اور سورتوں میں دعا کا مفہوم نہیں ہے ان کے پڑھنے میں غیرِ قرآن کا قصد کرنا موٴثر نہیں پس اُن کو نفاس وحیض کی حالت میں پڑھنا بھی جائز نہیں: وقراء ة قرآن بقصدہ اھ درمختار وفي شرحہ الفتاوی رد المحتار (قولہ بقصدہ) فلو قرأت الفاتحة علی وجہ الدعاء أو شیئًا من الآیات التي فیہا معنی الدعاء ولم ترد القرأة لا بأس بہ کما قدمناہ عن العیون لأبي اللیث وإن مفہومہ إن ما لیس فیہ معنی الدعاء کسورة أبي لہب لا یوٴثر فیہ قصد غیر القرآنیة اھ ج ۱ص ۱۹۵ (باب الحیض)
------------------------------------------------
ناپاکی کی حالت میں قرآن پڑھنے کا حکم
سوال: کیا عورت ناپاکی کی حالت میں قرآن کی کوئی آیت جیسے آیۃ الکرسی معوذتیں وغیرہ بطور وظیفہ کے پڑھ سکتی ہے؟
فتویٰ نمبر:103
الجواب حامداً و مصلیاً:
حیض ونفاس اور جنابت کی حالت میں قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا جائز نہیں ۔ البتہ جو آیات دعا کے مضمون پر مشتمل ہوں یا حمد و ثنا ء کے مضمون پر مشتمل ہوں انہیں دعا  وظيفہ یا حمد وثناء کی نیت سے پڑھنا جائز ہے. تلاوت کی نیت سے پڑھنا ان آیات کو بھی جائز نہیں۔ اور اگر کسی کیلئے کو حمد و ثناء اور دعا پر مشتمل آیات اور دوسری آیات میں فرق کرنا دشوار ہو تو وہ حیض ونفاس یا جنابت کی حالت میں قرآنی آیات پڑھنے سے ہی احتراز کرے ۔
لہذا حیض کی حالت میں آیت الکرسی، سورۃ فاتحہ، سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃالناس حمد وثناء، وظیفہ اور دعا کی نیت سے پڑھنا جائز ہے، کیونکہ ان سورتوں کے مضامین حمد وثناء اور دعا کے ہیں۔ لیکن سورۃ الکافرون کا مضمون چونکہ حمد وثناء یا دعاء پر مشتمل نہیں ہے اس لئے سورۂ کافرون کو حیض کی حالت میں کسی بھی نیت سے پڑھنا جائز نہیں۔ تنبیہ: حضراتِ فقہاءِ کرام رحمہم اللہ کی عبارات کی روشنی میں حیض کی حالت میں معوذتین، سورۂ اخلاص، سورۂ فاتحہ اور آیۃ الکرسی پڑھنے کا اصولی حکم وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا ہے ۔ اس حکم کا مدار آیات کے مضمون اور نیت پر ہے کہ اگر آیات کا مضمون دعا وثناء والا ہو اور پڑھنے والے کی نیت بھی دعا و ثناء کی ہو توپڑھنا جائز ہے ورنہ نہیں ۔ اس فرق کو مدِ نظر رکھنا اور اس کے مطابق اپنی نیت کا استحضار کرنا اہلِ عرب کے لئے آسان ہے۔ لیکن عجمی خواتین کے لئے آیات کے مضامین کا فرق کرنا اور اس کے مطابق اپنی نیت کا استحضار کرنا مشکل ہے، کیونکہ عجمی خواتین ایک سے زائد آیات عام طور پر تلاوت ہی کی نیت سے پڑھتی ہیں اس لئے عجم کی جو خواتین اس تفصیل کو ملحوظ نہ رکھ سکیں ان کو حیض ونفاس کی حالت میں مذکورہ سورتیں اور آیۃ الکرسی پڑھنے سے بچنا چاہئے اسی میں احتیاط ہے۔ ہاں جو خواتین آیات کے مضامین سے پوری طرح واقف ہوں اور پڑھتے ہوئے بآسانی دعاء وثناء کی نیت کا استحضار بھی کرسکیں ان کے لئے حمد و ثناء اور دعا کی نیت سے مذکورہ سوتیں پڑھنے کی گنجائش ہوگی۔
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار – (1 / 29)
(و) يحرم به (تلاوة قرآن) ولو دون آية المختار (بقصده) فلو قصد الدعاء أو الثناء أو افتتاح أمر أو التعليم ولقن كلمة كلمة حل في الاصح،حتى لو قصد بالفاتحة الثناء في الجنازة لم يكره إلا إذا قرأ المصلي قاصدا الثناء فإنها تجزيه لانها في محلها، فلا يتغير حكمها بقصده
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (1 / 172)
(قوله: فلو قصد الدعاء) قال في العيون لأبي الليث: قرأ الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم يرد القراءة لا بأس به. وفي الغاية: أنه المختار واختاره الحلواني، لكن قال الهندواني: لا أفتي به وإن روي عن الإمام واستظهره في البحر تبعا للحلية في نحو الفاتحة؛ لأنه لم يزل قرآنا لفظا ومعنى معجزا متحدى به، بخلاف نحو – الحمد لله – ونازعه في النهر بأن كونه قرآنا في الأصل لا يمنع من إخراجه عن القرآنية بالقصد، نعم ظاهر التقييد بالآيات التي فيها معنى الدعاء يفهم أن ما ليس كذلك كسورة أبي لهب لا يؤثر فيها قصد غير القرآنية، لكن لم أر التصريح به في كلامهم. اهـ. مطلب يطلق الدعاء على ما يشمل الثناء أقول: وقد صرحوا بأن مفاهيم الكتب حجة، والظاهر أن المراد بالدعاء ما يشمل الثناء؛ لأن الفاتحة نصفها ثناء ونصفها الآخر دعاء، فقول الشارح أو الثناء من عطف الخاص على العام.
(قوله: أو افتتاح أمر) كقوله بسم الله لافتتاح العمل تبركا بدائع.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
صُفَّہ اسلامک ریسرچ سنٹر
-------------------
حائضہ وجنبی کے لئے تلاوت وکتابت قرآن پاک کا حکم
(تدوین: ایس اے ساگر)


تھوڑے وقت میں بہت کچھ اعمال کیسے کرلیتے ہیں؟

تھوڑے وقت میں بہت کچھ اعمال کیسے کرلیتے ہیں؟
السوال:- ایک صاحب نے قرآن پڑھنے پے اتنا زور دیا کہ کہا کہ پہلے کے لوگ کھانے پینے کی بالکل پروا نہیں کرتے تھے۔ بلکہ رات دن قرآن قرآن ہی پڑھا کرتے تھے اور ایک اکابر کا نام لیا کہ وہ دن رات میں 8 قرآن کریم ختم کرتے ہیں۔ یہ بات ذرا سمجھ میں نہیں آتی کہ چلو گھر بار کی فکر نہ ہو تب بھی پیشاب پانی کا وقت نکالتے بھی کس طرح آٹھ قرآن پورے دن میں ختم کرتے ہوں گے؟ 
آپ اس پر  کچھ روشنی ڈالیں اور سمجھائیں۔

الجواب وباللہ التوفیق:
جن کے وقتوں میں اپنے نیک اعمال کی بنا پر برکت ہوتی ہے. اس کو موجودہ زمانہ کے مجھ جیسے لوگوں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا. اس کو 'طی الوقت' کہتے ہیں. 'طی الوقت' کبھی کرامت کے طور پر ولی کے ہاتھ پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔
5936 -[69] وَعَن عَمْرو بن أخطَب الْأنْصَارِيّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الْفجْر وَصعد الْمِنْبَرِ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّى ثمَّ صعِد الْمِنْبَر فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخْبَرَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَأَعْلَمُنَا أحفظنا. رَوَاهُ مُسلم
روایت ہے حضرت عمرو ابن اخطب انصاری سے فرماتے ہیں ۱؎ کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز فجر پڑھائی اور منبر پر چڑھے ہم کو خطبہ دیا حتی کہ ظہر کا وقت آگیا پھر اترے پھر نماز پڑھی پھر منبر پر چڑھے تو ہم کو خطبہ دیا حتی کہ عصر کا وقت آگیا پھر اترے پھر نماز پڑھی پھر منبر پر چڑھے حتی کہ سورج ڈوب گیا ۲؎ تو ہم کو تمام ان چیزوں کی خبر دی جو قیامت کے دن تک ہونے والا ہے۳؎ فرمایا کہ ہم میں زیادہ جاننے والا وہ تھا جو ہم میں زیادہ حافظ تھا ۴؎ (مسلم)
۱؎ آپ ابوزید اعرج کے نام سے مشہور ہیں، آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیرہ غزوات کیے ہیں، حضور نے ان کے سر پر ہاتھ شریف پھیرا اور ان کے لیے دعائے خیر کی، آپ کی عمر شریف سو سال ہوئی مگر سر شریف میں صرف چند بال سفید ہوئے تھے۔ (اشعہ، مرقات)
۲؎ یعنی حضور نے تھوڑے وقفہ کے بعد سارا دن وعظ وخطبہ ارشاد فرمایا، یہ خطبہ احکام کا نہ تھا بلکہ غیبی خبریں دینے کا تھا۔
۳؎  یعنی تاقیامت قطرہ قطرہ ذرہ بتادیا جو پرندہ تاقیامت پر ہلائے گا وہ سب کچھ تفصیل وار بتادیا۔ یہ ہے حضور کا علم غیب کلی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ ہے کہ سارے واقعات صرف ایک دن میں بتادیئے جیسے حضرت داؤد علیہ السلام گھوڑا کستے کستے پوری زبور شریف پڑھ لیتے تھے۔ اس معجزہ کا نام ہے طی الوقت یہ بھی طی الارض کی طرح ایک معجزہ ہے، کبھی کرامت کے طور پر ولی کے ہاتھ پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔
۴؎  معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کو یہ سارے واقعات یاد نہ رہے کسی کو زیادہ یاد رہے کسی کو کم لہذا ان میں سے کسی کا علم حضور انور کے علم کے برابر نہیں ہوگیا۔ خیال رہے کہ تعلیم یعنی سکھانا اور چیز ہے اور خبر دینا یعنی اعلام یا انباء کچھ اور چیز اللہ تعالٰی نے حضور کو ہر چیز سکھادی "وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ" اور حضور نے یہ تمام باتیں لوگوں کو سنادیں بتادیں سکھائیں نہیں "وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا"، "فَلَمَّاۤ اَنۡۢبَاَہُمْ" میں یہ ہی فرق ہے۔
BOOK NAME:MIRAAT-UL-MANAJEEH SHARAH MISHKAAT-UL-MASABEEH JILD 8
------------------
عوام کو 'وقت میں برکت' کا لفظ کس طرح سمجھائے۔ آپ ذرا ایک دو مثالیں بتادو تو عوام کو سمجھانا آسان ہوگا. انشآءاللہ چیزوں میں برکت کی مثال سے سمجھایا جائے. کوئی کھانے کی چیز چلتی رہی ـ ختم ہی نہیں ہوتی. اسی طرح تھوڑے وقت میں بہت کچھ اعمال کرلیتے ہیں. ان کا وقت ختم ہی نہیں ہوتا. اس کے لئے 'ملفوظات فقیہ الامت جلد 1' مطالعہ کرلیں اس میں اس قسم کے کچھ واقعات ہیں. مثالا حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ عصر سے مغرب تک گنگا کنارے بیٹھ کر ایک قرآن ختم کرلیا کرتے تھے.
واللہ تعالیٰ اعلم
(تدوین: ایس اے ساگر)






Friday, 8 November 2019

سالگرہ سے متعلق ایک اشکال کی وضاحت

ایک اشکال کی وضاحت!
سالگرہ سے متعلق ایک اشکال کی وضاحت!

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام کہ درج ذیل دو مسئلوں میں کونسا مسئلہ درست ہے؟ 
۱: …’’سوال: سالگرہ بچوں کی اور اس کی خوشی میں اطعام الطعام کرنا جائز ہے یا نہیں؟ 
جواب: سالگرہ یادداشت ِعمر اطفال کے واسطے کچھ حرج معلوم نہیں ہوتا اور بعد سال کھانا لوجہ اللہ تعالیٰ کھلانا بھی درست ہے۔‘‘ 
(فتاویٰ رشیدیہ، ج:۱، ص:۲۵۶، حضرت مولانا مفتی رشید احمد گنگوہی صاحب رحمة اللہ علیہ، ادارہ صدائے دیوبند)
 
(فتاویٰ رشیدیہ، ج:۱، ص:۲۵۶، حضرت مولانا مفتی رشید احمد گنگوہی صاحب رحمة اللہ علیہ، ادارہ صدائے دیوبند)

  
۲:…’’مسئلہ: رسم سالگرہ یہ خالص غیر اقوام کا طریقہ ہے اور انہی کی رسم ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مذکور طریقہ (بچہ کی تاریخ پیدائش پر کیک کاٹنا اور جتنے سال کا بچہ ہے اتنی ہی موم بتیاں جلاکر بجھوانا وغیرہ) سے اجتناب کریں، ورنہ اس کی نحوست سے ایمان خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہے‘‘۔                                           
(فتاویٰ رحیمیہ، ج :۷، ص: ۷۷) 
بحوالہ:      
مسائل شرک وبدعت، ج:۱۴، ص: ۱۱۰، مولانا محمد رفعت صاحب قاسمی، مکتبہ سید احمد شہید۔      
آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج:۸، ص: ۱۲۶، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمة اللہ علیہ۔      
فتاویٰ محمودیہ، ج: ۳، ص: ۱۷۹، فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی نور اللہ مرقدہٗ۔     
احسن الفتاویٰ، ج: ۸، ص:۱۵۴، فقیہ العصر مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمة اللہ علیہ، ایچ ایم سعید کمپنی۔     
اصلاحی خطبات، ج:۴، ص:۲۱۰، حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ، میمن اسلامک پبلشرز۔      
تسہیل بہشتی زیور، ج:۱، ص: ۵۴، 
نظرثانی: مفتی ابولبابہ شاہ منصور، الحجاز کراچی۔      
آپ کے مسائل کا حل، ج:۱، ص:۱۸۴، مفتی محمد مدظلہ، دار الافتاء والارشاد ناظم آباد کراچی۔                                                                           
مستفتی: محمد اسلم، کراچی 
الجواب باسمہٖ تعالٰی     
سوالنامہ میں ذکر کردہ دونوں مسئلے درست ہیں اور ان میں کوئی تعارض نہیں۔     
حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب گنگوہی رحمت اللہ علیہ کے ذکرکردہ مسئلہ کا مصداق وہ صورت ہے جو سالگرہ پر ہونے والی مروجہ نمود ونمائش، رسومات، فضولیات اور اسراف سے پاک ہو اور محض اپنی خوشی اور تشکر کے جذبات کے اظہار کے لئے ہو۔     
جب کہ دیگر اکابرین کی عبارات کا مصداق وہ صورت ہے جہاں کیک کے التزام، موم بتیوں، نمود ونمائش اور اسراف جیسی خرابیاں پائی جاتی ہوں اور تشکر کی بجائے رسماً اس کا انعقاد کیا جاتا ہو۔ فتاویٰ رحیمیہ کے درجِ ذیل اقتباس سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے: ’’سالگرہ منانے کا جو طریقہ رائج ہے (مثلاً کیک کاٹتے ہیں) یہ ضروری نہیں، بلکہ قابل ترک عمل ہے، غیروں کے ساتھ تشبہ لازم آتا ہے، البتہ اظہارِ خوشی اور خدا کا شکر ادا کرنا منع نہیں ہے‘‘۔        
(فتاویٰ رحیمیہ، ج: ۱۰، ص:۲۲۶، ط: دارالاشاعت)                    
فقط واللہ اعلم      
الجواب صحیح             
الجواب صحیح                            
کتبہ    
ابوبکرسعید الرحمن        
محمد شفیق عارف                         
عبد الحمید                                              
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن
---------------------------------------------------------------
سالگرہ ---- اسلامی نقطۂ نظر 
سوال:-{2248} اکثر چھوٹے بچوں کی سالگرہ بڑے دھوم دھام سے کی جاتی ہے، کیک، موم بتی سجاکر رکھتے ہیں اور بچوں کو موم بتی بجھانے اور کیک کاٹنے کو کہتے ہیں، اردو اخبارات بھی اس رسم کو عام کرنے میں تعاون کررہے ہیں، کیا اس طرح سالگرہ منانا درست ہے؟ 
(خان مقصود حسین خان، نظام آباد)
جواب:- پیدائش کی سالگرہ منانا غیرشرعی عمل ہے، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی
--------------------------------------------------
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، حضرات صحابہٴ کرام وتابعین سے ائمہ اربعہ سے، بزرگان دین سے جنم دن یا سالگرہ منانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، یہ غیرقوموں کا طریقہ ہے۔ ہم مسلمانوں کو غیروں کا طریقہ اپنانا جائزنہیں، نہ ہی اس موقع پر مبارکباد دینا درست ہے۔ ہمیں اسلامی طریقہ پر زندگی گذارنا چاہیے، غیروں کے طریقوں کو اختیار نہ کرنا چاہیے۔ وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہ (القرآن)
https://saagartimes.blogspot.com/2019/11/blog-post_8.html
[حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم  لاجپوری، فتاوی رحیمیہ جلد 1، جلد 1 ص 193]

Thursday, 7 November 2019

میں نکاح کرتا ہوں کے الفاظ سے نکاح کا حکم

میں نکاح کرتا ہوں کے الفا ظ سے نکاح کا حکم 
کیا نکاح حال کے صیغہ سے قبول  کرے تو منعقد نہیں ہوتا؟؟؟؟؟ جیسا کہ یہ کہے کہ میں قبول کرتا ہوں تو نہیں ہوگا کیا؟؟؟
یہ قدوری ہے

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ’’میں نکاح کرتا ہوں‘‘ ان الفا ظ سے نکاح ہوجائیگا یا ماضی کا لفظ ’’میں نے نکا ح کیا‘‘ یہ بولنا ضروری ہے؟ یا یہ جو کہا جاتا ہے کہ ’’میں قبول کرتا ہوں‘‘ اس پر بھی روشنی ڈال دیں؟
الجواب بعون الملک الوھاب
جاننا چاہئے کہ دو قسم کے الفا ظ (صیغوں) سے نکاح منعقد ہوتا ہے:
(۱) لفظ ماضی: متعاقدین میں سے ہر ایک ایجاب وقبول لفظ ماضی کے سا تھ کرے جیسا کہ آدمی کہے ’’میں نے تجھ سے نکاح کیا ‘‘اور عو رت جواب میں کہے ’’میں نے قبو ل کیا‘‘۔
(۲) لفظ حال یا مستقبل (امر): متعا قدین میں سے ایک لفظ حال یا مستقبل (امر) سے ایجا ب کرلے اور دوسرا لفظ ما ضی استعمال کرکے قبول کرے جیسا کہ کوئی شخص کہے ’’میں تجھ سے نکاح کرتا ہوں‘‘ یا ’’مجھ سے نکاح کرلو‘‘ اور عورت قبول کرتے ہوئے کہے کہ ’’ میں نے قبول کرلیا ‘‘ تو اس سے نکاح منعقد ہوجاتا ہےاور اگر قبول کرنے میں، وعدہ یا استقبال کا مطلب لئے بغیر یہ الفاظ استعمال کرلئے جائیں ’’میں قبول کرتا ہوں‘‘ تو حال کا معنی مراد لیتے ہوئے اس سے بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے البتہ اگر وعدہ یا استقبال مراد ہو تو نکاح منعقد نہ ہوگا۔
نکاح کے انعقاد کے لئے صرف لفظ ماضی کے ذریعے ایجاب وقبول کرنا ضروری نہیں بلکہ مندرجہ بالا الفاظ میں سے جس سے بھی ایجاب وقبول کیا جائے، نکاح منعقد ہوجا ئے گا نیز استقبالِ محض (یعنی میں تجھ سے نکاح کروں گا وغیرہ) کا صیغہ اگر ایجاب یا قبول میں استعمال ہوتو نکاح منعقد نہ ہوگا۔
لما فی الدر المختار(۹/۳): (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق ( كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك ( و) يقول الآخر (تزوجت و) ينعقد أيضا (بما) أي بلفظين (وضع أحدهما له) للمضي (والآخر للاستقبال) أو للحال فالأول الأمر (كزوجني) أو زوجيني نفسك أو كوني امرأتي فإنه ليس بإيجاب بل هو توكيل ضمنی (فإذا قال) في المجلس (زوجت) أو قبلت أو بالسمع والطاعة، بزازية قام مقام الطرفين وقيل هو إيجاب ورجحه في البحر والثاني المضارع المبدوء بهمزة أو نون أو تاء كتزوجيني نفسك إذا لم ينو الاستقبال۔
 فقط واللہ اعلم
(تدوین: ایس اے ساگر)

[حضرت مولانا خیر محمد جالندھری ، خیر الفتاوی جلد 4، جلد 1 ص 310]

Wednesday, 6 November 2019

تو ميرے پر حرام ہے یہ جملہ تین مرتبہ کہا تو اس سے کیا واقع ہوگا؟

تو ميرے پر حرام ہے یہ جملہ تین مرتبہ کہا تو اس سے کیا واقع ہوگا؟

شوہر 
نے اپنی بیوی سے کہا کہ: 
"تو ميرے پر حرام ہے" اور یہ جملہ 
تین مرتبہ کہا تو اس سے کیا واقع ہوگا؟ براہ مہربانی رہنمائی فرمائے 
الجواب وباللہ التوفیق:
اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے اپنی بیوی سے کہا کہ ’تم مجھ پر حرام ہو‘ یا علیحدگی کی بات ہو رہی تھی اور شوہر نے یہ جملہ کہا تو اس سے طلاق بائن واقع ہوگئی ہے، رجوع کے لیے تجدیدِ نکاح (نیا نکاح) کرنا ضروری ہے۔
اگر شوہر نے اس جملے سے ایلاء کی نیت کی تھی یعنی بیوی سے قربت کو اپنے اوپر حرام کیا تو ازدواجی تعلق بحال کرنے کے لئے قسم کا کفارہ ادا کرے گا۔ قسم کا کفارہ ادا کردے۔ جو دس مسکینوں/ فقیروں کو متوسط درجہ کا کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے دینا، غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا جبکہ یہ سہولت آج کل موجود نہیں ہے۔ اگر پہلی تینوں چیزیں دستیاب نہ ہوں تو مسلسل تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ ایلاء کی صورت میں اگر شوہر چار ماہ تک بیوی سے صحبت یا صلح ورجوع نہیں‌ کرتا تو طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور رجوع کے لئے تجدیدِ نکاح‌ ضروری ہوگا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌo وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌo
اور ان لوگوں کے لئے جو اپنی بیویوں کے قریب نہ جانے کی قسم کھالیں چار ماہ کی مہلت ہے پس اگر وہ (اس مدت میں) رجوع کرلیں تو بے شک اللہ  بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اگر انہوں نے طلاق کا پختہ ارادہ کرلیا ہو تو بے شک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔
البقرة، 2: 226، 227
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
https://saagartimes.blogspot.com/2019/11/blog-post_69.html