Tuesday, 3 December 2019

ایک نفسیاتی حربہ

ایک نفسیاتی حربہ
چند سال سے تعلیم کے نام پر سفید جھوٹ پر مبنی پروگرام چلائے جارہے ہیں اور یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جب یوروپ میں یونیورسٹیاں کھل رہی تھیں تو مسلم بادشاہ تاج محل اور شالامار باغ بنارہے تھے. 
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم دور کی شاندار عمارات جس عظیم تخلیقی صلاحیت سے تعمیر کی گئیں وہ دو چیزوں کے بغیر ممکن نہیں تھیں. پہلی فن تعمیر کی تفصیلی مہارت، جس میں جیومیٹری، فزکس، کیمسٹری اور ڈھانچے کے خدوخال وضع کرنے تک کے علوم شامل ہوتے ہیں. دوسری کسی ملک کی مضبوط معاشی اور اقتصادی حالت، اس قدر مضبوط کے وہاں کے حکمران شاندار عمارات تعمیر کرنے کا خرچ برداشت کر سکیں. معاشی حوالے سے ہندوستان بالعموم مسلم ادوار اور بالخصوص مغلیہ دور (اکبر - عالگیر) میں دنیا کے کل شرح نمو میں اوسطاً 25% فیصد حصہ رکھتا تھا. درآمدات انتہائی کم اور برآمدات انتہائی زیادہ تھیں اور آج ماہر معاشیات جانتے ہیں کہ کامیاب ملک وہ ہے جس کی برآمدات زیادہ اور درآمدات کم ہوں. سترویں صدی میں فرانسیسی سیاح فرانکیوس برنئیر ہندوستان آیا اور کہتا ہے کہ ہندوستان کے ہر کونے میں سونے اور چاندی کے ڈھیر ہیں. اسی لئے سلطنت مغلیہ ہند کو سونے کی چڑیا کہتے تھے.
اب تعمیرات والے اعتراض کی طرف آتے ہیں. فن تعمیر کی جو تفصیلات تاج محل، شیش محل، شالامار باغ، مقبرہ ہمایوں، دیوان خاص وغیرہ وغیرہ میں نظر آتی ہے، اس سے لگتا ہے کہ انکے معمار جیومیٹری کے علم کی انتہاؤں کو پہنچے ہوئے تھے. تاج محل کے چاروں مینار صرف آدھا انچ باہر کی جانب جھکائے گئے تاکہ زلزلے کی صورت میں گرے تو گنبد تباہ نہ ہوں. مستری کے اینٹیں لگانے سے یہ سب ممکن نہیں، اس میں حساب کی باریکیاں شامل ہیں. پورا تاج محل 90 فٹ گہری بنیادوں پر کھڑا ہے. اس کے نیچے 30 فٹ ریت ڈالی گئی کہ اگر زلزلہ آئے تو پوری عمارت ریت میں گھوم جائے اور محفوظ رہے. لیکن اس سے بھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا شاہکار دریا کے کنارے تعمیر کیا گیا ہے اور دریا کنارے اتنی بڑی تعمیر اپنے آپ میں ایک چیلنج تھی، جس کے لئے پہلی بار ویل فاونڈیشن متعارف کروائی گئی یعنی دریا سے بھی نیچے بنیادیں کھود کر انکو پتھروں اور مصالحہ سے بھر دیا گیا، اور یہ بنیادیں سینکڑوں کی تعداد میں بنائی گئی گویا تاج محل کے نیچے پتھروں کا پہاڑ اور گہری بنیادوں کا وسیع جال ہے، اسطرح تاج محل کو دریا کے نقصانات سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا گیا. عمارت کے اندر داخل ہوتے ہوئے اسکا نظارہ فریب نظر یا اوپٹیکل ایلوژن سے بھرپور ہے. یہ عمارت بیک وقت اسلامی، فارسی، عثمانی، ترکی اور ہندی فن تعمیر کا نمونہ ہے. یہ فیصلہ کرنے کے لئے حساب اور جیومیٹری کی باریک تفصیل درکار ہے. پروفیسر ایبا کوچ (یونیورسٹی آف وینیا) نے حال میں ہی تاج محل کے اسلامی اعتبار سے روحانی پہلو واضح (decode) کئے ہیں.اور بھی کئی راز مستقبل میں سامنے آ سکتے ہیں. انگریز نے تعمیرات میں (well foundation) کا آغاز انیسویں صدی اور (optical illusions) کا آغاز بیسویں صدی میں کیا. جب کے تاج محل ان طریقہ تعمیر کو استعمال کر کے سترھویں صدی کے وسط میں مکمل ہو گیا تھا. آج تاج محل کو جدید مشین اور جدید سائنس کو استعمال کرتے ہوئے بنایا جائے تو 1000 ملین ڈالر لگنے کے باوجود ویسا بننا تقریباً ناممکن ہے. 'ٹائل موزیک' فن ہے ، جس میں چھوٹی چھوٹی رنگین ٹائلوں سے دیوار پر تصویریں بنائی جاتی اور دیوار کو منقش کیا جاتا ہے. یہ فن لاہور کے شاہی قلعے کی ایک کلومیٹر لمبی منقش دیوار اور مسجد وزیرخان میں نظر آتا ہے. ان میں جو رنگ استعمال ہوئے، انکو بنانے کے لئے آپ کو موجودہ دور میں پڑھائی جانے والی کیمسٹری کا وسیع علم ہونا چاہئیے. یہی حال فریسکو پینٹنگ کا ہے، جن کے رنگ چار سو سال گزرنے کے باوجود آجتک مدہم نہیں ہوئے . تمام مغل ادوار میں تعمیر شدہ عمارتوں میں ٹیرا کوٹا (مٹی کو پکانے کا فن) سے بنے زیر زمین پائپ ملتے ہیں. ان سے سیوریج اور پانی کی ترسیل کا کام لیا جاتا تھا. کئی صدیاں گزرنے کے باوجود یہ اپنی اصل حالت میں موجود ہیں. مسلم فن تعمیر کا مکمل علم حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور موجودہ دور کے سائنسی پیمانوں پر ایک نصاب کی صورت تشکیل دیا جائے تو صرف ایک فن تعمیر کو مکمل طور پر سیکھنے کے لیے پی ایچ ڈی (phd) کی کئی ڈگریاں درکار ہوں گی. کیا یہ سب کچھ اس ہندوستان میں ہو سکتا تھا، جس میں جہالت کا دور دورہ ہو اور جس کے حکمرانوں کو علم سے نفرت ہو؟؟ یہ مسلم نظام تعلیم ہی تھا جو سب کے لئے یکساں تھا، جہاں سے بیک وقت عالم، صوفی، معیشت دان، طبیب، فلسفی، حکمران اور انجینئر نکلتے تھے. شیخ احمد سرہندی رح ہوں یا جھانگیر ہو یا استاد احمد لاہوری ہو، یہ سب مختلف گھرانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک ہی تعلیمی نظام میں پروان چڑھے، اسی لئے ان سب کی سوچ انسانی مفاد کی تھی.
مزید بھی میں مغربی مصنفین کی گواہی پیش کروں گا، اسلئے کہ میرے ان "عظیم" صاحبان علم کو کسی مسلمان یا لوکل مصنف کی گواہی سے بھی بو آتی ہے. ول ڈیورانٹ مغربی دنیا کس مشہور ترین مورخ اور فلاسفر ہے. وہ اپنی کتاب story of civilization میں مغل ہندوستان کے بارے میں لکھتا ہے: "ہر گاوں میں ایک سکول ماسٹر ہوتا تھا، جسے حکومت تنخواہ دیتی تھی. انگریزوں کی آمد سے پہلے صرف بنگال میں 80 ہزار سکول تھے. ہر 400 افراد پر ایک سکول ہوتا تھا. ان سکولوں میں 6 مضامین پڑھائے جاتے تھے. گرائمر، آرٹس اینڈ کرافٹس، طب، فلسفہ، منطق اور متعلقہ مذہبی تعلیمات. " اس نے اپنی ایک اور کتاب A Case For India میں لکھا کہ مغلوں کے زمانے میں صرف مدراس کے علاقے میں ایک لاکھ 25 ہزار ایسے ادارے تھے، جہاں طبی علم پڑھایا جاتا اور طبی سہولیات میسر تھیں. میجر ایم ڈی باسو نے برطانوی راج اور اس سے قبل کے ہندوستان پر بہت سی کتب لکھیں. وہ میکس مولر کے حوالے سے لکھتا ہے "بنگال میں انگریزوں کے آنے سے قبل وہاں 80 ہزار مدرسے تھے". اورنگزیب عالمگیر رح کے زمانے میں ایک سیاح ہندوستان آیا' جس کا نام الیگزینڈر ہملٹن تھا، اس نے لکھا کہ صرف ٹھٹھہ شہر میں علوم و فنون سیکھانے کے 400 کالج تھے. میجر باسو نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ہندوستان کے عام آدمی کی تعلیم یعنی فلسفہ، منطق اور سائنس کا علم انگلستان کے رئیسوں حتیٰ کہ بادشاہ اور ملکہ سے بھی زیادہ ہوتا تھا. جیمز گرانٹ کی رپورٹ یاد رکھے جانے کے قابل ہے. اس نے لکھا " تعلیمی اداروں کے نام جائیدادیں وقف کرنے کا رواج دنیا بھر میں سب سے پہلے مسلمانوں نے شروع کیا. 1857ء میں جب انگریز ہندوستان پر مکمل قابض ہوئے تو اس وقت صرف روحیل کھنڈ کے چھوٹے سے ضلع میں، 5000 اساتذہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں لیتے تھے." مذکورہ تمام علاقے دہلی یا آگرہ جیسے بڑے شہروں سے دور مضافات میں واقع تھے. انگریز اور ہندو مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم کا عروج عالمگیر رح کے زمانے میں اپنی انتہا کو پہنچا. عالمگیر رح نے ہی پہلی دفعہ تمام مذاہب کے مقدس مذہبی مقامات کے ساتھ جائیدادیں وقف کیں. سرکار کی جانب سے وہاں کام کرنے والوں کے لئے وظیفے مقرر کئے. اس دور کے 3 ہندو مورخین سجان رائے کھتری، بھیم سین اور ایشور داس بہت معروف ہیں. سجان رائے کھتری نے "خلاصہ التواریخ"، بھیم سین نے "نسخہ دلکشا" اور ایشور داس نے "فتوحات عالمگیری" لکھی. یہ تینوں ہندو مصنفین متفق تھے کہ عالمگیر نے پہلی دفعہ ہندوستان میں طب کی تعلیم پر ایک مکمل نصاب بنوایا اور طب اکبر، مفرح القلوب، تعریف الامراض، مجربات اکبری اور طب نبوی جیسی کتابیں ترتیب دے کر کالجوں میں لگوائیں تاکہ اعلیٰ سطح پر صحت کی تعلیم دی جا سکے. یہ تمام کتب آج کے دور کے MBBS نصاب کے ہم پلہ ہیں. اورنگزیب سے کئی سو سال پہلے فیروز شاہ نے دلی میں ہسپتال قائم کیا، جسے دارالشفاء کہا جاتا تھا. عالمگیر نے ہی کالجوں میں پڑھانے کے لیے نصابی کتب طب فیروزشاہی مرتب کرائی. اس کے دور میں صرف دلی میں سو سے زیادہ ہسپتال تھے.
تاریخ سے ایسی ہزاروں گواہیاں پیش کی جا سکتی ہیں. ہو سکے تو لاہور کے انارکلی مقبرہ میں موجود ہر ضلع کی مردم شماری رپورٹ ملاحظہ فرمالیں. آپکو ہر ضلع میں شرح خواندگی 80% سے زیادہ ملے گی جو اپنے وقت میں بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ تھی، لیکن انگریز جب یہ ملک چھوڑ کر گیا تو صرف 10% تھی. بنگال 1757ء میں فتح کیا اور اگلے 34 برسوں میں سبھی سکول و کالج کھنڈر بنا دیئے گئے. ایڈمنڈ بروک نے یہ بات واضح کہی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے مسلسل دولت لوٹی جس وجہ سے ہندوستان بدقسمتی کی گہرائی میں جاگرا. پھر اس ملک کو تباہ کرنے کے لئے لارڈ کارنیوالس نے 1781ء میں پہلا دینی مدرسہ کھولا. اس سے پہلے دینی اور دنیاوی تعلیم کی کوئی تقسیم نہ تھی. ایک ہی مدرسہ میں قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا، فلسفہ بھی اور سائنس بھی. یہ تاریخ کی گواہیاں ہیں. لیکن اشتہار و پروگرام بنانے والے جھوٹ کا کاروبار کرنا چاہے تو انہیں یہ باطل اور مرعوب نظام نہیں روکتا.
مجھے دہلی جانے کا اتفاق ہوا ہے اور ان تعمیرات کا مشاہدہ کیا ہے، آپ یقین کیجئے کہ ان عمارات کے سحر سے نکلنا ایک مشکل کام ہوتا تھا اور فخر اور حیرانی ہوتی تھی کہ ان ادوار میں مشین کا وجود نا ہونے کے باوجود ایسے شاہکار تعمیر کرنا ناممکن لگتا ہے. لاہور میں مغلیہ فن تعمیر پر کبھی نظر دوڑائیے، آپ انجینئرنگ کے کارناموں پر محو حیرت رہے ہوں گے کیونکہ جب یوروپ یونیورسٹیاں بنارہا تھا تو یہاں وہ تعلیمات عام ہو چکی تھیں. لیکن یہ موجودہ ظالم نظام جہاں ہمیں اپنی اعانت کے لئے اپنا کلرک بناتا ہے وہاں ہماری عظیم تاریخ کو بھی مبہم بناتا ہے.
تحریر کا اختتام کرنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن ایک سنہری قول سے اختتام کروں گا.
آج مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہیں غیرمصدقہ ذرائع ابلاغ کا پروپیگنڈا بہاکر لے گیا.
(ایس اے ساگر)

اسلام ———اور حیاء باختہ و آوارہ گَردْ اردو مشاعرے

اسلام ———اور حیاء باختہ و آوارہ گَردْ اردو مشاعرے!

قلبی احساسات، تخیلات، تصورات وجذبات کو طے شدہ وزن اور بحر میں ظاہر کرنے کو 'شعر' (نظم) کہتے ہیں۔
رجز، حدی، قصیدہ، ہجو، مرثیہ، تشبیب، غزل، حمد، نعت، گیت وغیرہ اس کے مشہور اقسام ہیں۔ 
جبکہ خیالات وجذبات کو کسی موزوں صنعت (ربط و وزن) کے التزام وپابندی کے بغیر سیدھے سادے، آسان، آزاد، بے تکلف اور قدرتی تعبیر پیرائے میں بیان کرنے کو 'نثر' کہتے ہیں۔
نثر کے مشہور اقسام میں: داستان، ناول، ڈرامہ، افسانہ، مضمون، مقالہ، تذکرہ وسوانح عمری، آپ بیتی، خاکہ، سفرنامہ، طنز ومزاح اور صحافت شامل ہیں۔
اصنافِ سخن اور اظہارِ بیان کے ذرائع میں شروع سے ہی 'شعر' سب سے مؤثر اور طاقتور ذریعۂِ اظہار رہا ہے۔ مختصر لفظوں میں شعر کے ذریعہ انسان اپنے مخاطب وسامع کو جتنا متاثر وگرویدہ کرسکتا ہے وہ نثر سے ممکن نہیں ہے؛ اسی لئے شروع سے ہی شعر کی اثر انگیزی، تفوق و برتری کو تسلیم کیا جاتا رہا ہے ۔
طرز زندگی، تمدن اور جغرافیائی آب وہوا کی وجہ سے عربوں کو شعر وشاعری کا ذوق فطری طور پر ملا تھا، عربوں کا رشتہ عربی شاعری سے "چولی دامن" کا رہا ہے۔
مذہب اسلام سے پہلے عربوں کا یہی 'سرمایۂِ فکر ونظر' اور پیمانۂِ 'فخر ومباہاۃ' تھا۔ 
عکاظ کے بازار میں جاہلی  شعراء جمع ہوتے اور 'نابغہ ذبیانی' کی زیرصدارت اپنا  اپنا کلام پیش کرتے، یوں وہاں شعر وشاعری کی محفلیں آراستہ ہوتیں، صدر مجلس کے فیصلے کے بعد سب سے عمدہ اور اوّل آنے والے قصیدے کو پذیرائی واعتراف کے بطور سونے کے پانی سے لکھ کر خانہ کعبہ میں آویزاں 'معلق' کرتے، ان لٹکائے گئے اشعار کو 'مُعَلَّقَہ' کہا جاتا تھا۔
امرؤ القیس، النابغہ الذبیانی، زہیر بن ابی سلمیٰ، عنترہ بن شداد العبسی، الأ عشیٰ قیس، طرفۂ بن العبد، عمرو بن کلثوم لبید بن ربیعہ جیسے نامور جاہلی شعراء کے کلام  خانہ کعبہ میں لٹکائے گئے تھے۔ ان شعراء کو 'اصحاب معلقات' کہتے ہیں ۔
ان جاہلی اشعار میں قبائل کی خوبیوں، شجاعت و بہادری، اونٹ، گھوڑے، ہرن، جنگ  وجدال، محبوبہ، ماں، بیوی، باندی، شراب وکباب اور مورتیوں کی خوبیاں بیان کی جاتیں اور ہیجان انگیز عشقیہ اشعار کہے جاتے تھے۔
اسلام نے اپنے آنے کے بعد شعر وسخن میں مناسب حال تعدیل وتطہیر کی، شرک وبت پرستی ،شراب وکباب اور فحاشی وعریانیت، شہوت انگیز بد گوئی اور فضولیات پہ مشتمل اشعار کو ناجائز وحرام قرار دیا گیا۔ اعتقادات واخلاقیات کو خراب وفاسد کردینے والی حیاء باختہ و گمراہ کُن منفی  شاعری پہ بندش لگائی گئی، اسے وسیلۂِ تخریب قرار دیتے ہوئے شیطانی عمل سے تعبیر کیا،
جبکہ اچھی، معیاری، مثبت، تعمیری، بامقصد  شاعری، اورعلم، حکمت اور دانائی پہ مشتمل کلام کی پذیرائی کی گئی اور ہر مسلمان مرد وعورت، بوڑھے اور جوان کے لیے ایسی شاعری کو مباح قرار دیا گیا۔ (إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَةً) ۔۔۔۔ بے شک کچھ اشعار حکمت سے پُر ہوتے ہیں۔
(بخاري، رقم: 5793)۔
 ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شاعری کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
هُوَ کَلَامٌ فَحَسَنُهٗ حَسَنٌ وَقَبِیْحُهُ قَبِیْحٌ. ۔۔۔۔ یہ کلام ہے چنانچہ اچھا شعر، اچھا کلام اور برا شعر، برا کلام ہے۔۔۔ مسند أبو یعلی: رقم: 4760، سنن دار قطني، 4: 155، رقم: 1، بیروت: دارالمعرفۃ)۔
نبیوں اور رسولوں کی باتیں چونکہ  وحی خداوندی والہامات ربانی  پہ مبنی ہوتی ہیں؛ جبکہ شعراء کی باتیں شعور وآگہی، تخیل، پروازیِ فکر اور بسا اوقات حددرجہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہیں؛ اس لیے شعر وشاعری نبیوں اور رسولوں کے مقام نبوت کی شایان شان قرار تو نہیں دی گئی، لیکن رسولوں سے مطلقاً اس کی نفی نہیں کی گئی، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگرچہ شعر کہنا تو ثابت نہیں ہے؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی ترانے (رجز) خود بھی پڑھے ہیں، اپنی سریلی آواز کے ذریعہ اونٹ کو مست کردینے اور اسے تیز رفتار کردینے والے نوجوان صحابی "انجشہ" کی حدی خوانی کی آپ نے تعریف کی ہے (رُوَیْدَکَ یَا اَنْجَشَۃْ سَوْقَکَ بِالْقَوَارِیْر) اے انجشۃ! آہستہ پڑھ، ذرا ٹھہر ٹھہر کے پڑھ، تم آبگینے لے کر سفر کر رہے ہو۔ یعنی اونٹ زیادہ تیز دوڑے گا تو یہ شیشے جیسی عورتیں جو اونٹ پر سوار ہیں ٹوٹ جائیں گی۔ (بخاری 6149)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اشعار پڑھے جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم داد وتحسین سے نوازتے تھے۔ غزوہ احزاب کے بعد جب کفار ومشرکین ہر جنگی محاذ پہ  ہزیمت کے شکار ہوگئے اور انہیں مسلمانوں سے جنگی محاذ آرائی اور تلوار سے لڑائی کی طاقت نہ بچی تو انہوں نے  اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعہ زبانی جنگ کی ٹھانی، اور نبی اسلام کے خلاف ہجو وبدگوئی شروع کردی۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعر وشاعری کی اس جنگ میں اپنے تین نامور انصاری شعراء اصحاب: حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ اور اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہم کو اس دفاعی مہم کے لئے منتخب فرمایا، حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں مدحیہ اشعار کہتے، اور کفار ومشرکین کی ہجو بیان کرتے، حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ جنگی اسٹائل کے اشعار(رجزیہ ورمزیہ) اشعار کہتے، جبکہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اللہ کی خوبیوں اور محاسن اسلام پہ اشعار سناتے تھے۔
یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید، ودعاء واستحسان سے اچھے اور بامقصد تعمیری اشعار دفاعی ہتھیار کے طور پہ کام آئے۔ اسی سے تعمیری ومثبت اشعار کے حوالے سے اسلامی وشرعی موقف بھی جانا جاسکتا ہے۔
ہندوستان میں اگرچہ پہلے سے سنسکرت میں شعر وشاعری کے رواج کا سراغ ملتا ہے، لیکن  بعض محققین کے مطابق  گیارہویں بارہویں صدی عیسوی  میں جب یہاں مسلم حکمراں ایران افغانستان سے آئے، تو ہندوستانی تہذیب میں بھی  فارسی تہذیب کی گہری چھاپ پڑی اور ہندوستان میں بھی اب فارسی زبان میں ہی شعر وشاعری کے مقابلے ہونے لگے، سولہویں صدی عیسوی میں یہاں مشاعرے منعقد ہونے لگے، شعر سنے اور سنائے جانے لگے، بادشاہ وقت اپنی نجی محفلوں میں شعراء کو دعوت دیتے، اشعار اور قصیدہ خوانی میں شعراء کے مابین مقابلہ آرائی ہوتی، حکمراں فرصت کے لمحات میں تفریح طبع کے لئے  اپنے محلات اور حویلیوں میں شعر وشاعری کی محفلیں آراستہ کرتے، شعر وشاعری سے لطف اندوز ہوتے، داد وتحسین کے ساتھ شعراء کو انعام واکرام سے بھی نوازتے، مغل بادشاہ محمد شاہ کے زمانے میں جب اردو زبان عام ہوئی تو اب شعراء فارسی کے ساتھ اردو زبان میں بھی کلام پیش کرنے لگے، یہیں سے اردو شاعری کی داغ بیل پڑتی ہے۔
ولی، میر، درد، غالب، ذوق سب اشعار سناکر داد وصولنے کے متمنی رہتے، اس وقت کے فارسی یا اردو مشاعروں میں مسلمانوں کی تہذیبی روایت کو لازمی ملحوظ رکھا جاتا، یوں مشاعرہ تہذیب وشائستگی آداب واقدار کا  امین اور ہماری ادبی وثقافتی تاریخ کا حصہ قرار پایا، بہادر شاہ ظفر کے دربار میں  غالب اور ذوق کے مابین مقابلہ آرائی کی وجہ سے اردو مشاعرہ کی روایت اپنے عروج پہ پہنچی، لوگ پوری پوری رات ذوق وشوق سے مشاعرہ سنتے تھے۔
 احمد شاہ ابدالی کے دلی کو برباد کردینے کے بعد شعر وشاعری کی محافل بھی یہاں سے منتقل ہوگئیں، بڑے بڑے شعراء یہاں سے رخصت ہوگئے، اب لکھنو مرکز اردو شاعری بنا، اودھ کے نوابوں کی سرپرستی میں لکھنو میں محفل سخن آراستہ ہونے لگی۔ نوابوں کے شیعہ ہونے کی وجہ سے عزاء حسین اور مرثیہ خوانی کا غلبہ رہا۔
  ۱۸۵۷ء کے غدر کے بعد لکھنو بھی بربادی سے نہ بچ سکا۔ یہاں سے  اب مشاعرہ نوابوں کی حویلیوں سے نکل عوامی جگہوں پہ ہونے لگا، مشاعروں کے مراکز پورے ملک میں پھیل گئے، بنارس، رامپور، حیدرآباد، کلکتہ، بھوپال، عظیم آباد پٹنہ، ملیح آباد ودیگر بڑے شہروں میں تاریخی مشاعرے ہونے لگے، تغیر حالات کے ساتھ مشاعرے کی روایت میں بھی قدرے تبدیلی آئی، پہلے کی طرح مشاعرے اب طرحی نہیں موضوعاتی ہونے لگے یعنی مشقِ سخن کے لئے مصرع طرح کی بجائے موضوع کا انتخاب ہونے لگا، شمع محفل سامنے لاکر اشعار پڑھنے کی بجائے لاوڈ اسپیکر پہ اشعار پڑھے جانے لگے، جونیئر اور سینئر کے لحاظ سے شاعروں کی فہرست بننے لگی۔ لیکن ان تمام روایتی تبدیلیوں کے باوجود اردو مشاعرے کے تہذیبی اقدار اب بھی بحال تھے، ہمارے  مشاعرے پھر بھی اخلاقی اقدار اور اسلامی آداب ووضع کے آئینہ دار ہوتے۔
ہندوستان کے مشاعروں نے  قومی یکجہتی میں بڑا رول ادا کیا ہے، ملک کی آزادی کی تحریک میں قومی جذبے اور حرارت کو کوٹ کوٹ کر بھردیئے، ہمارے ملک میں مشاعرے ابتداءا خالص اصولی، ادبی اور تہذیبی شان کے حامل وامین  اور تہذیبی اقدار وتقدس کے محافظ رہے۔ ادب وشائستگی، حیاء ووقار ان مشاعروں کا خاص امتیاز رہا ہے۔
شومی قسمت کہ ادھر قریب ایک دہائی سے ہمارے ملک کے اردو مشاعرے ہماری تاریخی ثقافت، ادبی معنویت اور تہذیبی روایات کھو بیٹھے، مشاعرے کی تہذیبی فضاء بری طرح مجروح ہوئی، ادبی معیار گھٹ کر بازاری بن گیا، اسلام نے جس جاہلی شاعری کی تطہیر کی تھی، فحاشی وعریانیت، شہوت انگیز بد گوئی اور فضولیات پہ مشتمل اشعار کو ناجائز وحرام قرار دیا تھا۔ اعتقادات واخلاقیات کو خراب وفاسد کردینے والی حیاء باختہ وگمراہ کُن منفی شاعری پہ بندش لگائی  تھی،  ہمارے مشاعرے پہر اسی جاہلی شاعری کی ڈگر پہ رواں ہوگئے، دبے پائوں ان میں پہر وہی ساری خرابیاں در آئیں، ادب کے ذوق وشوق وثقافت کے فروغ کے لئے قائم کردہ مشاعروں میں عشق بازی اور اباحیت پسندی فروغ پانے لگی،  چند مستثنیات کو چھوڑ شعری محاسن سے نابلد بلکہ اردو کی ابجد سے بھی ناواقف  خوب رو، روشن ومہ جبین، توبہ شکن، گلے باز، بازاری رقاصائیں، مائلات ممیلات ایسی شاعرات پسند کی جانے لگیں، جو تہذیبی رکھ رکھائو اور تخلیقی عمل سے کوسوں دور رومن خط میں لکھے لکھوائے دوسروں کے اشعار پڑھ کر نوجوانوں کے اعصاب پہ سوار ہوجاتی ہیں۔ 
 جہاں تک عورتوں کی آواز کے ستر وپردہ کی بات ہے تو اس بابت مذاہب ائمہ مختلف ہیں، حنفیہ کے یہاں صحیح اور راجح قول کے مطابق عورت کی آواز پردہ (ستر) میں داخل نہیں ہے
 عوارض مثلا خوف فتنہ کی وجہ سے اس پہ روک لگائی گئی ہے۔ جہاں یہ علت نہ ہوگی، وہاں عورت کی آواز کا پردہ بھی نہ ہوگا۔ ابن ہمام نے نوازل کی روایت کی بناء پر عورت کی آواز کو ستر میں داخل قرار دیا ہے۔ اسی لئے حنفیہ کے نزدیک عورت کی اذان مکروہ ہے، راجح اور صحیح بات یہ  ہے کہ جس موقع اور جس محل میں عورت کی آواز سے فتنہ پیدا ہونے کا خطرہ ہو وہاں اس کی آواز سننا ممنوع ہوگا جہاں یہ نہ ہو وہاں  جائز ہوگا۔
بوقت ضرورت اجنبیہ عورت سے بات کی جاسکتی ہے۔ بشرطیکہ لذت بخش اور نغمگی آواز کے ذریعہ نہ ہو اور خوف فتنہ بھی نہ ہو۔ ۔۔۔۔۔ اللہ نے قرآن کریم میں امہات المومنین کو جو سلیقہ گفتگو سکھایا وہ اس جانب بھی مشیر ہے: 
يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ۔۔۔۔ (033:032)
"فلا تخضعن بالقول" کہ کسی اجنبی آدمی سے دب کر بات نہ کرو بلکہ کلام میں درشتگی اختیار کرو۔ کیونکہ نرم لہجے میں بات کرنے سے "فیطمع الذی فی قلبہ مرض" دل کا روگی آدمی لالچ کرے گا۔ دل کے روگ سے مراد نفاق، خواہشات نفسانی اور شہوانی میلان ہے۔ اس لئے حکم دیا کہ اگر کسی اجنبی آدمی سے بات کرنی پڑے تو روکھا پن ظاہر کرو، تاکہ کسی بد باطن آدمی کے دل میں کوئی خیال نہ آسکے۔
آج کل اردو مشاعروں میں جو نوخیز متشاعرات لچک کر اور تھرک کر شہوت انگیز ترنم کے ساتھ  عشقیہ گیت اور گانے گاتی ہیں اس سے نفسانی خواہشات میں یکایک ہیجان وتلاطم بپا ہوتا ہے، گناہ کی رغبت پیدا ہوتی ہے، سننے والا دل ربا ناز وانداز اور ساز وسُر  پہ ہوش وحواس گم کر بیٹھتا ہے، گناہ کی رغبت پیدا ہوتی ہے، اس لئے اس طرح کا کلام سننا بالکل ناجائز اور حرام ہے۔
اسلام نے حکمت و دانائی پہ مشتمل اشعار کہنے اور سننے کی مشروط اجازت دی ہے، 
'حیاء باختہ' طریقوں اور 'انسانیت سوز' و'آوارہ گرد' محفل ونشست اور مرد وزن کے بے مہابا اختلاط کی اجازت ہر گز نہیں دی  ہے، مرد وزن کی مخلوط نشست گاہوں ونظام تعلیم  نے نسل نو کی جو اخلاقی مٹی پلید کردی ہے وہ جہاں میں کسی سے مخفی نہیں۔
تعلیمی اداروں اور 'بے ادب' ادبی محفلوں میں آزادانہ اختلاط نے اخلاقی بگاڑ، جنسی انارکی، اباحیت پسندی اور ہوس پرستی کو فروغ دے کر ایسی نسل تیار کی ہے جو رنگ وخون کے اعتبار سے چاہے کچھ بھی ہو لیکن ذہن وفکر کے اعتبار اسلام بیزار اور عیسائیوں کے غلام ضرور ہوں گے!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عن قریب میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم ،شراب اور باجوں کو حلا ل سمجھیں گے۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں عن قریب میری امت کے کچھ لوگ شراب پییں گے اور اس کا نام بد ل دیں گے۔ ان کے سروں پر ناچ گا نے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بعض کو خنزیر اور بندر بنادے گا۔ (سنن ابن ماجه (2/ 1333)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا: گا نا باجا سننا معصیت ہے، اس کے لیے بیٹھنا فسق ہے اور اس سے لطف اندوزی کفر ہے۔ (نیل الأوطار شرح منتقی الأخبار، باب ماجاء في آلة اللهو، ۸؍۱۰۴۔ط: مصطفیٰ البابي الحلبي الطبعة الثالثة)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گانے باجے سننے سے بچو، اس لیے کہ یہ دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتے ہیں جس طرح پانی کھیتی اگاتا ہے۔ (کنز العمال في سنن الأقوال، کتاب اللهو واللعب والتغني،۱۵؍۲۲۰، رقم الحدیث: ۴۰۶۶۷،ط: مؤسسة الرسالة، بیروت)
حضرت فضیل بن عیاض رحمة اللہ علیہ کا قول ہے:
"اَلْغَنَاء رُقْیَة الزِّنَا". (إغاثة اللهفان لابن القیم۱؍۲۴۵)
ترجمہ: گانا زنا کا منتر (دعوت) ہے۔
مشہور عالم یزید بن ولید کا ارشاد ہے:
"اِیَّاکُمْ وَالْغَنَاء فَاِنَّه یَنْقُصُ الْحَیَاء، وَیَزِیْدُ فِي الشَّهوَة، وَإنَّه لَیَنُوْبُ عَنِ الْخَمْرِ، وَیَفْعَلُ مَا یَفْعَلُ السُّکْرُ، وَجَنِّبُوْه النِّسَاء؛ فَاِنَّ الْغَنَاء دَاعِیَة الزِّنَا". (إغاثة اللهفان لابن القیم ۱؍۲۴۵)
اردو مشاعروں کے نام پر آج کل حیاء باختہ اور آوارہ گرد متشاعرات و رقاصائوں  کے ذریعہ جو ہیجان وشہوت انگیز مجرے کئے جارہے ہیں وہ ہماری تہذیبی واخلاقی اقدار کے لئے ناسور ہیں، سراسر غیرشرعی ناجائز اور حرام ہیں، جنسی زیادتی اور اجتماعی عصمت دری کے آئے دن پیش آمدہ واقعات کا محرک ایسے ہی مشاعرے ہیں، اس نوع کے مشاعروں کا بائیکاٹ ہر غیور مسلم مرد وعورت کا فرض منصبی ہے، اصحاب قلم کی ذمہ داری ہے ان کے مفاسد کو عوام الناس میں اجاگر کریں اور لوگوں میں  بیداری لانے کا اپنا فریضہ ادا کریں۔
إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
✍: مفتی شکیل منصور القاسمی( بیگوسرائے) 
muftishakeelahmad@gmail.com

Sunday, 1 December 2019

قبرستان وغیرہ کی تعمیر یا مردوں کی تدفین کے نام پر سرکاری فنڈ استعمال کرنا کیسا ہے؟

قبرستان وغیرہ کی تعمیر یا مردوں کی تدفین کے نام پر سرکاری فنڈ استعمال کرنا کیسا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:
سرکاری خزانے میں ملک کے ہر شہری کا حق ہے 
سرکار اپنے شہریوں کے لئے رفاہ عام کی نیت سے قبرستان وغیرہ کی تعمیر یا مردوں کی تدفین کے نام پہ اگر کوئی فنڈ جاری کرے اور بعد میں اس سے کسی قسم کے فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو ایسے سرکاری فنڈز سے مسلمانوں کو استفادہ کرنا اور تدفین میت میں ان رقوم کا صرف کرنا جائز ہوگا۔
سرکاری خزانے میں حلال وطیب اور سودی ومشکوک ہر طرح کا مال جمع ہوتا ہے۔ 
اور حلال کا حرام کے ساتھ خلط بحکم استہلاک ہے، اور استہلاک موجب ملک ہے، اس لئے اس سرکاری امداد کے لینے میں کوئی شرعی حرج نہیں ہے: 
عن حبیب قال: رأیت ابن عمر وابن عباس رضي اللّٰہ عنہما تأتیہما ہدایا المختار فیقبلانہا۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ، کتاب البیوع والأقضیۃ / من رخص في جوائز الأمراء والعمال ۱۰؍۵۶۵ رقم:۲۰۷۰۳)
عن إبراہیم قال: لو أتیت عاملاً فأجازني لقبلت منہ، إنما ہو بمنزلۃ بیت المال یدخلہ الخبیث والطیب، وقال: إذا أتاک البرید في أمر معصیۃ فلا خیر في جائزتہ، وإذا أتاک بأمر لیس بہ بأس فلا بأس بجائزتہ۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ، کتاب البیوع / من رخص في جوائز الأمراء والعمال ۱۰؍۵۶۸ رقم: ۲۰۷۲۰)
عن أبي مجلز قال: قال علي رضي اللّٰہ عنہ: لا بأس بجائزۃ العمال، إن لہ معونۃ ورزقًا، وإن ما أعطاک من طیب مالہ۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ، کتاب البیوع والأقضیۃ / من رخص في جوائز الأمراء والعمال ۱۰؍۵۶۸ رقم: ۲۰۷۱۹)
وہدیۃ أہل الحرب، وما أخذ منہم بغیر قتال الخ۔ (شامي، کتاب الزکاۃ / باب العشر، قبیل باب المصرف ۳؍۲۸۲ زکریا)
واللہ اعلم بالصواب 
شکیل منصور القاسمی 

دو بیویوں کیساتھ دوسری کی موجودگی میں ہمبستری کا حکمدو بیویوں کے ساتھ

دو بیویوں کیساتھ دوسری کی موجودگی میں ہمبستری کا حکم

دو بیویوں کے ساتھ دوسری کی موجودگی میں ہم بستر ہونا یا میاں بیوی جیسی بے تکلفی برتنا یعنی بوس وکنار کرنا کیسا ہے؟ براہ مہربانی راہنمائی فرمائیں
الجواب وباللہ التوفیق:
دو بیویوں کے ساتھ دوسری کی موجودگی میں ہم بستر ہونا یا میاں بیوی جیسی بے تکلفی برتنا یعنی بوس وکنار کرنا شرعا ناجائز، حد درجہ گھٹیا اور شرافت انسانی سے گری ہوئی حیاء سوز حرکت ہے 
اپنی موطوءہ سے ماسوا عضو مخصوص کے شوہر کا اگر چہ پردہ نہیں ہے 
لیکن ایک بیوی کا دوسری بیوی سے وہی پردہ ہے جو اجنبی کے سامنے ہے 
صورت مذکورہ میں اس واجبی ستر کی پردہ دری ہورہی ہے 
وتنظر المرأة المسلمة من المرأة کالرجل من الرجل وقیل کالرجل لمحرمہ والأول أصح۔ (الدر المختار مع الشامي: 9/533 ط زکریا دیوبند)
اس لئے یہ صورت ناجائز ہے 
کرہ وطئ زوجتہ بحضرة ضرّتہا․ (الفتاوی الہندیة: ج ۵ ص۳۸۰ مکتبہ اتحاد) 
واللہ اعلم 

دو سگی بہنوں کا ایک خاوند کے نکاح میں ہونا

دو سگی بہنوں کا ایک خاوند کے نکاح میں ہونا

سوال: دو سگی بہنوں کا ایک خاوند کے نکاح میں ہونا ایک کی وفات کے بعد دوسری بہن سے نکاح کی اجازت کی وضاحت مطلوب ہے جبکہ پہلی کی حیات میں اس سے نکاح ممنوع تھا وجہِ حرمت کیا ہے، کس حکمت کے پیشِ نظر ممانعت ہے جمع بین الاختین؟
الجواب وباللہ التوفیق:
بعض عورتوں سے نکاح کی حرمت مؤبدہ ہے جبکہ بعض کے ساتھ نکاح کی حرمت وقتی ہے بہن کے نکاح میں رہتے ہوئے اس کی بہن سے نکاح کی حرمت اجتماع اختین (وان تجمعوا بین الاختین) کی وجہ سے ہے بیوی کے انتقال یا طلاق کے بعد بیوی کی بہن (سالی)، اس کی خالہ، اس کی بھانجی، اسکی پھوپھی یا اسکی بھتیجی سے نکاح کیا جاسکتا ہے۔
بھائی، ماموں یا چچا کے انتقال یا ان کے طلاق دینے کے بعد بھابھی، ممانی اور چاچی کے ساتھ بھی نکاح کیا جاسکتا ہے۔
ان خواتین سے نکاح کی حرمت مؤبدہ نہیں؛ بلکہ مؤقتہ تھی۔ 
اب رہا یہ سوال کہ وجہِ حرمت کیا ہے، کس حکمت کے پیشِ نظر ممانعت ہے جمع بین الاختین کیوں ہے؟؟؟
کیوں کہ اس میں سوکن پنے کا حسد منتج بالعداوت (دشمنی کا سبب) ہوگا، جس سے قطع رحم ہوگا اور یہ امر خدا تعالیٰ کو منظور نہیں ہے کہ اہلِ قرابت میں قطع رحم ہو۔
واللہ اعلم 

مصالحتی کوشش پہ اجرت لینا؟

مصالحتی کوشش پہ اجرت لینا؟
دو مسلمانوں کے آپسی اختلافات ختم کروانے کے لئے جد وجہد کرنا (اصلاح ذات البین) نبیوں کی سنت رہی ہے۔
مصالحتی کوشش نفلی روزہ، صدقہ اور نماز سے بھی افضل و بہتر ہے:
ألا أخبركم بأفضل من درجة الصيام والصلاة والصدقة؟" قالوا: بلى، قال: "إصلاح ذات البين، وفساد ذات البين الحالقة". (رواه أبو داود وصححه ابن حبان)
مسلمانوں کو اللہ نے اصلاح ذات البین کا حکم دیا ہے۔
یہ ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے ۔
رضاء الہی کے لیے اس کام کی انجام دہی پہ اجر عظیم کی بشارت سنائی گئی ہے 
{‏فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ‏}‏ 
{‏لا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا۔سورة النساء الآية 114‏}‏
{إِنَّمَا المُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ} (الحجرات:10) {فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ} (النساء:128)
مصالحتی کوششوں کے لیے جھوٹ جیسی شرعی "قبیح عمل" کو  بھی عارضی طور پر گوارہ کیا گیا  ہے:
"ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس فَيَنْمِي خيرا أو يقول خيرا". (متفق عليه)
اس لیے صلح صفائی کرنے والے شخص کو رضاء الہی کے لئے اور آخرت میں اجر عظیم کی امید پہ "لِلّٰہ فی اللہ" خلوص نیت کے ساتھ یہ کام انجام دینا چاہئے 
اگر صلح صفائی کامیاب ہوجائے اور فریقین اپنی رضا ورغبت سے اس کی محنت وسعی کو دیکھتے ہوئے کچھ پیش کردیں تو اسے لینے میں حرج تو نہیں ؛ لیکن پہلے سے شرط لگاکر بدل صلح وصول کرنا انتہائی گھٹیا عمل ہے۔ 
جس کام  کی انجام دہی انسان پہ شرعا ضروری نہ ہو (یعنی مباحات) اس کے کرنے پہ اجرت وصولنا شرعا جائز ہے 
لیکن مختلف آیات قرآنی میں اصلاح ذات البین کا حکم دیا گیا ہے، یہ فرض عین نہ سہی! لیکن معاشرتی ذمہ داری وفرض منصبی تو ہے ہی! 
ایک معاشرتی ذمہ داری کی ادائی پہ معاشرہ کے کسی فرد کا بدل و قیمت وصول کرنا کس قدر افسوسناک عمل ہوسکتا ہے؟
واللہ اعلم 

فرض نماز کی دو رکعتوں کے بیچ ایک چھوٹی سورہ چھوڑنا مکروہ کیوں ہے؟

فرض نماز کی دو رکعتوں کے بیچ ایک چھوٹی سورہ چھوڑنا مکروہ کیوں ہے؟
چھوٹی سورتوں کی ترتیب یہ بتائی جاتی ہے کہ درمیان میں ایک سورت چھوڑنا مکروہ ہے اس کی علت کیا ہے؟ کیا یہ حدیث سے ثابت ہے یا اجماع سے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
علت کراہت راست نصوص سے ثابت ہے 
قرآن کی بعض آیات بعض سے ثواب کے لحاظ سے اعظم بھی ہوسکتی ہیں ؛ اور ایک دوسرے سے افضل بھی 
لیکن افضل و مفضول ٹھہرانے کا پیمانہ صرف شرع کے پاس ہے۔
مخلوق کے لئے جائز نہیں ہے کہ اپنی طرف سے قولا یا عملاً یہ طے کرنے بیٹھ جائے کہ فلاں آیت دوسری سے افضل اور دوسری پہلی سے مفضول ہے!
فرائض میں دو رکعتوں کے درمیان سورہ بینہ سے سورہ ناس تک عمداً صرف ایک سورہ چھوڑ دینے سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ پڑھنے والے نے متروکہ سورہ کو مقروءہ کے مقابلے افضل سمجھا ہے 
نیز اس عمل سے 'ہجر قرآن' کا شائبہ بھی پیدا ہوتا ہے جو بتصریح قرآن کریم (وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا) سورة الفرقان
ممنوع وناجائز ہے 
اس لئے جمہور فقہاء حنفیہ نے اسے مکروہ کہا ہے 
سہوا ایسا ہوجائے تو یہ مکروہ نہیں 
واللہ اعلم بالصواب 
شکیل منصور القاسمی
https://saagartimes.blogspot.com/2019/12/blog-post.html