Sunday, 1 September 2019

شرعی اوزان کی تفصیل

شرعی اوزان کی تفصیل

دنیا کے مختلف خطوں میں وزن کے لئے مختلف پیمانے استعمال کئے جاتے ہیں یہی پیمانے زیورات کے وزن کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں سب مقبول اور جدید اعشاری نظام گرام کا ہے اس کے علاوہ یوروپ میں اونس والے پیمانے کا استعمال بھی ہوتا ہے۔ انڈیا پاک اور میں ابھی تک گرام کے ساتھ ساتھ پرانا نظام جو کہ تولہ والا  نظام کہلاتا ہے رائج ہے اگرچہ اب اسے سرکاری حثیت حاصل نہیں رہی پھر بھی یہ نظام عام ہے۔
جس طرح گرام کی اکائی ملی گرام سے شروع ہوتی ہے اسی طرح تولہ کی اکائی رتی سے شروع ہوتی ہے۔ایک تولہ میں بارہ ماشے ہوتے ہیں اور ایک ماشہ میں آٹھ رتیاں ہوتی ہیں یوں ایک تولہ چھیانوے رتیوں پہ مشتمل ہوتا ہے۔ تولے کی اکائی آغاز سے ہی رتی رہی ہے البتہ تولہ کی تقسیم کے لئے ماشہ علاوہ آنہ کا نظام بھی ماضی میں برصغیر میں رائج راہ چکا ہے جس کے مطابق ایک تولہ میں سولہ آنے ہوتے ہیں اور ایک آنے میں چھ رتیاں ہوتی ہیں اس طرح بھی مجموعی طور پہ ایک تولہ کی چھیانوے رتیاں ہی بنتی ہیں یہ نظام بھی ابھی تک پاکستان کے کچھ علاقوں میں معروف ہے۔
وزن کے پیمانے اور ان کی اکائی
تولہ، ماشہ، رتی
ایک ماشہ میں کل آٹھ رتیاں ہوتی ہیں۔
ایک تولہ میں کل بارہ ماشے ہوتے ہیں۔
ایک تولہ میں کل چھیانوے رتیاں ہوتی ہیں۔
تولہ، آنہ، رتی
ایک آنہ میں کل چھ رتیاں ہوتی ہیں۔
ایک تولہ میں کل سولہ آنے ہوتے ہیں۔
ایک تولہ میں کل چھیانوے رتیاں ہوتی ہیں۔
ملی گرام، گرام
ایک گرام ایک ہزار ملی گرام پہ مشتمل ہوتا ہے۔
وزن کا تبادلہ
تولہ، ماشہ، رتی کا گرام سے تبادلہ
ایک تولہ برابر ہے گیارہ گرام اور چھ سو چونسٹھ ملی گرام (11.664) کے۔ 
ایک ماشہ برابر ہے نوسو بہتر ملی گرام (0.972) کے۔
ایک رتی برابر ہے ایک سو اکیس ملی گرام (0.121) کے۔
تولہ، ماشہ، رتی اورگرام کا اونس سے تبادلہ
ایک اونس  31.1035 گرام کے برابر ہوتا ہے۔
ایک تولہ 0.375 اونس کے برابر ہوتا ہے۔
ایک ماشہ 0.03125 اونس کے برابر ہوتا ہے۔
ایک رتی 0.00390 اونس کے برابر ہوتی ہے۔ 
-------------------------------------------------------
شرعی گز کی مقدار 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شرعی گز ڈیڑھ فٹ یا اٹھارہ انچ کا ہوتا ہے اور یہ انگریزی گز کا نصف ہے (جواہر الفقہ لمفتی محمد شفیع ۱/۴۳۸)
سعایہ وغیرہ میں مسطور ہے کہ شرعی گز ڈیڑھ فٹ ہے، وہو مختار صاحب الہدایہ والاکثرین، البتہ قاضی خان وغیرہ نے ساڑھے تین فٹ مقدار والا گز معتبر کیا ہے،
فی منہاج السنن: واختلفوا فی تحدید الذراع علی ثلٰثۃ اقوال، الاول ان المعتبر ذراع الماسحۃ وہو سبع قبضات فوق کل قبضۃ اصبع ای الابہام قائمۃ (ساڑھے تین فٹ بیالیس انچ) افتیٰ بہ قاضی خان وغیرہ، والثانی ان المعتبر ذراع الکرباس وہو ست قبضات من دون قیام الاصبع (اٹھارہ انچ ڈیڑھ فٹ) واختارہ صاب الہدایہ والاکثرون القول الثالث ان المعتبر ذراع کل زمان ومکان واختارہ صاحب البزازیہ۔
(منہاج السنن شرح جامع السنن ص۱۶۰ جلد۱ باب ماجاء ان الماء لا ینجسہ شیٔ)

واللہ اعلم بالصواب 
شکیل منصور القاسمی

----------------------------------------------------------------------------

شرعی حوض کی پیمائش

دہ در دہ (دس بائے دس) حوض کی پیمائش مربع فٹ و میٹر کے اعتبار سے کتنی ہے؟
گول حوض یا کنواں اس کی پیمائش کتنی ہے؟
اسی طرح سہ کونی حوض کی پیمائش کتنی ہے؟ ؟
اور گہرائی کی کوئی حد و مقدار ہے؟ ؟
بحوالہ مدلل سیر حاصل بحث فرمائیں....
باسمہ سبحانہ تعالی
باعتبار کمّیت پانی کی دو قسمیں ہیں..
1⃣کثیر..2⃣قلیل...
🌹➖فقہاء کی اصطلاح میں کثیر وہ پانی ہے کہ استعمال کے وقت ایک طرف کا پانی دوسری طرف تک  نہ جائے..
➖اور قلیل وہ پانی ہے جو دوسری طرف تک پہنچ جائے..
🌹➖عام متأخرین فقہاء نے لوگوں کی آسانی کے لئے علامہ ابو سلیمان جوزجانی علیہ الرحمہ کا قول اختیار کیا ہے..
وہ فرماتےہیں کہ...
         "اگر پانی دس بائے دس شرعی گز(10✘10)  ہے تو ہلنے سے دوسری طرف نہیں پہنچتا
➖لہذا اگر 10✘10 شرعی گز ہے تو کثیر ورنہ قلیل➖
کذا فی عمدۃ الفقہ کتاب الطھارۃ(۱۹۳)
🌹➖دہ در دہ 10✘10 کی تعریف➖🌹
حوض دہ در دہ کی تعریف یہ ہے کہ اسکا کل رقبہ یعنی لمبائی اور چوڑائی دونوں کا حاصل ضرب 100 ذراع ہو
                        (امداد الاوزان)
                              (ص.۲۳ )   
بالفاظ دیگر حوض کے کسی بھی دو جانب کو آپس میں ضرب (Multiply)دیا جائے تو اسکا جواب 100 آئے...
چنانچہ....
🌹➖اگر وہ حوض .....
مربع ....👈🏻◼👉🏻یعنی وہ چوکور شکل جسکے چاروں راویے قائم ہوں (Square)
➖تو اس کے لئے مجموعی پیمائش 40 ذراع معتبر ہے ایک سمت 10 ذراع کی لہذا
حساب ہوگا 👈🏻100=10✘10
➖اور اسکویر فٹ کے اعتبار سے مجموعی پیمائش225 فٹ
حساب ہوگا👈🏻225 =4✘56.25
➖اور میٹر کے اعتبار سے مجموعی پیمائش20.90  میٹر
حساب ہوگا👈🏻20.90=4✘5.22
🌹➖اور اگر وہ حوض..
مستطیل👈🏻📼👉🏻یعنی وہ چار ضلعوں کی شکل جسکے چاروں زاوئے قائم ہوں اور مقابل کے دو دو ضلعے برابر ہوں.....(Rectangle)
➖تو اسکے لئے بھی وہی حکم جو مربع کا ہے..100 ذراع
البتہ حساب لگانے میں مد مقابل زاویے کے بجائے ایک سمت کا اس سے متصل سمت میں ضرب دیا جائے..
مثلا..👈🏻ایک سمت بیس ذراع اور اس سے متصل پانچ ذراع
حساب ہوگا 100=5✘20
➖فٹ اور میٹر میں بھی وہی حکم جو مربع کا ہے ..
🌹➖اور اگر وہ حوض...
مثلث👈🏻🔼👉🏻یعنی وہ تین خطوط مستقیم سے گھری ہوئی سطح....(Triangl)
➖تو اسکا ہر ضلع(سمت)
5 .15
ذراع ہونامعتبر ہے ..حساب ہوگا 
15.5✘3=46.5👈🏻

➖اور فٹ کے اعتبار سے
23.25✘3=69.75
➖اور میٹر کے اعتبار سے
23.25 میٹر
🌹➖اور اگر حوض ..
مدوّر..........گول👈🏻⚫👉🏻ہو (Round)
➖تو اس کا محیط (گھیراؤ) بقول صاحب محیط احتیاطا
48 ذراع ہونا معتبر ہے...
فتاوی رحمیہ ج.۴ ص.۳۸
اور فٹ کے اعتبار سے...
اسکا قُرط98 .16فٹ
اور میٹر کے اعتبار سے...
اسکا قُرط   16. 5 میٹر
🌹➖قُرط(Diameter)وہ سیدھی لکیر (خط مستقیم) جو کسی دائرے کے مرکز سے ہو کر محیط کی ایک جانب سے دوسری جانب مل جاتی ہے      
(امداد الوزان)
آسان لفظوں میں  یہ کہ گول حوض کے بالکل وسط میں ایک لکیر کھینچی جائے اور اسکی پیمائش فٹ اور میٹر کے اعتبار سے دیکھی جائے
🌹➖رہی بات گہرائی کی..
حوض میں کم از کم اتنی گہرائی ہونا ضروری ہے
کہ چلو سے پانی لیا جائے تو
زمین نظر نہ آئے
(فتوی رحیمیہ ج.۴ ص.۳۸)
(مفتی) عمار احمد آبادی
فقہی سمینار 
آج کا سوال نمبر ۱۳۷
۲۱ذی الحجہ ١٤٣٦ھ  مطابق ۶ اکتوبر 
٢٠١٥ع    بروز سہ شنبہ
--------------------------------------
سوال: (۱) سوال یہ ہے کہ میل کی مسافت شرعی اعتبار سے کتنی ہوتی ہے؟
(۲) اورایک ماشا کتنے وزن کو کہتے ہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
(۱) ایک میل شرعی کی مسافت دو ہزار گز کے برابر بتائی گئی ہے۔ اور آج کے نئے پیمانے سے ۱۸۲۸/ میٹر ۸۰/ سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ اور ایک میل انگریزی کی مسافت ۱۷۶۰/ گز ہوتی ہے یعنی ۱۶۰۹/ میٹر ۳۴/ سینٹی میٹر ۴/ ملی میٹر ہوتی ہے۔
(۲) اور ایک ماشہ ۸/ رتی کا ہوتا ہے۔ یعنی ۹۷۲/ ملی گرام کا ہوتا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
---------------------------------------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/09/blog-post_41.html


کھانا کھانے کا سنت طریقہ

کھانا کھانے کا سنت طریقہ

سوال: کھانا کھانے کا سنت طریقہ کیا ہے اور اس میں کیا حکمت ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
کھانے کی چند اہم سنتیں یہ ہیں اور ان کی حکمت واضح ہے:
(۱) کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا۔ عن سلمان رضی اللّٰہ عنہ قال: قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: برکة الطعام الوضوء قبلہ والوضوء بعدہ۔ (شمائل ترمذی ۱۲، سنن وآداب ۷۵)
(۲) اجتماعی طور پر کھانا۔ عن حرب عن أبیہ عن جدہ أن أصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قالوا: یا رسول اللّٰہ! إنا نأکل ولا نشبع، قال: فلعلکم تفترقون؟ قالوا: نعم! قال: فاجتمعوا علی طعامکم واذکروا اسم اللّٰہ علیہ یُبارک لکم فیہ۔ (سنن أبی داوٴد، کتاب الأطعمة / باب فی الاجتماع علی الطعام ۲/۵۲۸رقم: ۳۷۶۴دار الفکر بیروت) 
(۳) دستر خوان بچھانا۔ عن أنس رضی اللّٰہ عنہ قال: ما علمت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم أکل علی سُکُرُّجةٍ قطُّ، ولا خُبزَ لہ مُرققٌ قطُّ، ولا أکل علی خِوانٍ قطُّ، فقیل لقتادة: فعلی ما کانوا یأکلون؟ قال: علی السفر۔ (صحیح البخاری، کتاب الأطعمة / باب الخبز المرقق والأکل علی الخوان والسفرة ۲/۸۱۱رقم: ۵۳۸۶دار الفکر بیروت) 
(۴) جوتے چپل اُتارکر کھانا۔ عن أنس رضی اللّٰہ عنہ قال: قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إذا أکلتم الطعام فاخلعوا نعالکم؛ فإنہ أروح لأقدامکم۔ (مجمع الزوائد، کتاب الأطعمة / باب خلع النعال عند الأکل ۵/۲۳رقم: ۷۹۱۲د) 
(۵) بسم اللہ پڑھ کر کھانا۔
(۶) دائیں ہاتھ سے کھانا۔ عن أبی سلمة رضی اللّٰہ عنہ یقول: کنت غلامًا فی حجر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وکانت یدی تطیشُ فی الصحفة، فقال لی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: یا غلامُ! سم اللّٰہ، وکل بیمینک، وکل مما یلیک، فما زالت تلک طعمتی بعدُ۔ (صحیح البخاری، کتاب الأطعمة / باب التسمیة علی الطعام والأکل بالیمین ۲/۸۰۹رقم: ۵۳۷۶دار الفکر بیروت) 
(۷) کھانے میں عیب نہ نکالنا۔ عن أبی ہریرة رضی اللّٰہ عنہ قال: ما عاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم طعامًا قطُّ، إنِ اشتہاہ أکلہ وإن کرہہ ترکہ۔ (صحیح البخاری، کتاب الأطعمة / باب ما عاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم طعامًا قط ۲/۸۱۴رقم: ۵۳۷۶دار الفکر بیروت، صحیح مسلم ۲/۱۸۷رقم: ۲۰۶۴بیت الأفکار الدولیة ) 
(۸) تین انگلیوں سے کھانا۔ إن عبد الرحمن بن کعب بن مالک أو عبد اللّٰہ بن کعب عن أبیہ رضی اللّٰہ عنہ أنہ حدثہم أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یأکل بثلاث أصابع، فإذا فرغ لعقہا۔ (صحیح مسلم، کتاب الأشربة / باب استحباب لعق الأصابع واقصعة وأکل اللقمة الساقطة الخ ۲/۱۷۵رقم: ۲۰۳۲بیت الأفکار الدولیة، شمائل ترمذی ص: ۶۱رقم: ۱۴۱المکتبة الإسلامیة داکا بنغلادیش)
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
-------------------------------------------------------
شریعتِ اسلامیہ میں کھانے پینے کہ آداب مختلف اقسام میں ہیں:
اول: کھانے سے پہلے کے آداب:
1- کھانے سے قبل دونوں ہاتھوں کو دھونا: کھانے سے پہلےدونوں ہاتھوں کو دھونا چاہئے، تا کہ دونوں ہاتھ کھانے کے دوران صاف ستھرے ہوں، کہیں پہلے سے موجود ہاتھوں پر میل کچیل کی وجہ سے نقصان نہ ہو۔
2- جب انسان کھانے پر کسی کی طرف سے مدعو ہو، اور کھانے کے بارے میں نہ جانتاہوتو میزبان سے کھانے کی نوعیت کے بارے میں پوچھ سکتا ہے، خاص طور پر جب اسے پیش کئے جانے والے کھانے کے بارے میں دلی اطمینان نہ ہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس وقت تک کھانا تناول نہیں فرماتے تھے جب تک آپکو کھانے کا نام نہ بتلادیا جاتا، اس بارے میں صحیح بخاری میں ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے -آپ رضی اللہ عنہا ان کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ لگتی ہیں- ان کے پاس بھنا ہوا سانڈا دیکھا، جو اِن کی بہن حفیدہ بنت حارث نجد سے لے کر آئی تھیں، میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سانڈا پیش کیا اور بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ آپ اپنا ہاتھ کسی کھانے کی طرف بڑھاتے یہاں تک کہ آپکو کھانے کے بارے میں بتلا دیا جاتاکہ یہ کیا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سانڈے کی طرف بڑھایا، تو جو خواتین آپ کے پاس موجود تھیں ،ان میں سے ایک نے آپ کو بتایا کہ جو آپ کی بیویوں نے پیش کیا ہے یہ تو سانڈا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سانڈے سے کھینچ لیا، تو خالد بن ولید نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا سانڈا حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) لیکن میری قوم کے علاقے میں یہ نہیں پایا جاتا اور میری طبیعت اسکو ناپسند کرتی ہے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا اور اس کو کھایا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طر ف دیکھ رہے تھے۔ بخاری ( 5391 ) اورمسلم ( 1946 )
ابن تین کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے پوچھا کرتے تھے کہ عرب کسی چیز کو کھانے میں کراہت محسوس نہیں کرتے تھے، کیونکہ انکے پاس کھانے پینے کی قلت رہتی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ چیزوں سے کراہت محسوس کرتے تھے، اس لئے آپ پوچھ لیا کرتے تھے، اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ شریعت میں کچھ حیوانات حلال ہیں اور کچھ حرام ، اور عرب کسی جانور کو حرام نہیں جانتے تھے، تو جو چیز بُھون کر یا پکا کر پیش کی جارہی ہے اس کے بارے میں پوچھ کر ہی معلوم کیا جاسکتا تھا اس لئے آپ پوچھتے تھے۔
" فتح الباری " ( 9 / 534 )
3- میزبان کی طرف سے جب کھانا پیش کردیا جائے تو جلدی سے کھانا شروع کردیں، اس لئے کہ مہمان کی عزت افزائی اسی میں ہے کہ جلدی سے اسکے لئے کھانا پیش کردیا جائے، اور میزبان کے سخی ہونے کی علامت ہے کہ وہ جلدی سے کھانے کو قبول کرے، اس لئے کہ اُن کے ہاں اگر کوئی مہمان کھانا نہ کھائے تو اسکے بارے برا گمان کرتے تھے، چنانچہ مہمان پر لازمی ہے کہ وہ میزبان کے دل کو جلدی سے کھانا شروع کرتے ہوئے مطمئن کردے۔
4- کھانے سے قبل بسم اللہ پڑھنا: کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا واجب ہے، اور بسم اللہ سے مراد کھانے کی ابتدا میں صرف "بسم اللہ" ہی ہے، چنانچہ ام کلثوم عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اللہ کا نام لے، اور اگر اللہ تعالی کا نام لینا ابتدا میں بھول جائے تو کہے: "بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ"اول و آخر اللہ کے نام سے ) ترمذی ( 1858 ) ابو داود ( 3767 ) وابن ماجه ( 3264 ) ، البانی رحمہ اللہ نے اسے " صحيح سنن ابو داود " ( 3202 ) میں صحیح کہا ہے۔
اسی طرح عمر بن ابو سلمہ سے روایت ہے کہ میں جب چھوٹا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بیٹھا تھااور میرا ہاتھ پوری تھالی میں گھوم رہا تھا، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لڑکے! اللہ کا نام لو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور جو تمہارے سامنے ہے اس میں سے کھاؤ) بخاری ( 3576 ) ومسلم (2022)
دوم: کھانے کے دوران کے آداب:
1- دائیں ہاتھ سے کھانا: مسلمان پر دائیں ہاتھ سے کھانا واجب ہے، بائیں ہاتھ سے کھانا منع ہے، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم میں سے کوئی بھی بائیں ہاتھ سے نہ کھائےپیئے، اس لئے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے) مسلم ( 2020 )
یہ اس شکل میں ہے جب کوئی عذر نہ ہو، لہذا اگر کوئی عذر ہو جسکی وجہ سے دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ممکن نہ ہو، جیسے بیماری، یا زخم وغیرہ ہے تو بائیں ہاتھ سے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
نیز اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان اُن تمام کاموں سے پرہیز کرے جو شیطانی کاموں سے مشابہت رکھتے ہوں۔
2- اپنے سامنے موجود کھانے میں سے کھانا:انسان کیلئے مسنون ہے کہ اپنے سامنے موجود کھانے میں سے کھائے، اور دوسروں کے سامنے سے ہاتھ بڑھا کر نہ اٹھائے، اور نہ ہی کھانے کے درمیان میں سے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن ابو سلمہ سے فرمایا تھا: (لڑکے! اللہ کا نام لو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور جو تمہارے سامنے ہے اس میں سے کھاؤ) بخاری ( 3576 ) ومسلم ( 2022 )
ویسے بھی کھانے کے دوران اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے افراد کے سامنے سے کھانا کھانا بری عادت ہے، اور مُروَّت کے خلاف ہے، اور اگر سالن وغیرہ ہوتو ساتھ بیٹھنے والا زیادہ کوفت محسوس کریگا، اسکی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے، اس لئے کھانے کے کنارے سے کھاؤ درمیان سے مت کھاؤ"
ترمذی (1805) اور ابن ماجہ (3277) نے اسے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحيح الجامع" (829) میں صحیح قرار دیا ہے۔
لیکن اگر کھانے کی اشیاء کھجوریں اور دیگر اسی قسم کی دوسری اشیاء ہوں تو علماء کے نزدیک تھالی وغیرہ سے ہاتھ کے ذریعے مختلف کھانے کی اشیاء لی جاسکتی ہیں۔
3- کھانے کے بعد ہاتھ دھونا: کھانے کے بعد صرف پانی سے ہاتھ دھونے پر سنت ادا ہو جائے گی ، چنانچہ ابن رسلان کہتے ہیں: اشنان-ایک جڑی بوٹی- یا صابن سے وغیرہ سے دھونا بہتر ہے۔ دیکھیں: " تحفة الأحوذی " ( 5 / 485 )
کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا مستحب ہے چاہے انسان باوضو ہی کیوں نہ ہو۔
4- کھانے کے بعد کلی کرنا: کھانے سے فراغت کے بعد کلی کرنا مستحب ہے، جیسے کہ بشیر بن یسار سوید بن نعمان سے بیان کرتے ہیں کہ وہ صہباء نامی جگہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے -جو خیبر سے کچھ فاصلے پر ہے- تو نماز کا وقت ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کیلئے کچھ طلب کیا، لیکن سوائے ستو کے کچھ نہ ملا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی کھا لیا، ہم نے بھی ستو کھایا، پھر آپ نے پانی منگوایا اور کلی کی، اور پھر دوبارہ وضو کئے بغیر نماز پڑھی اور ہم نے بھی نماز ادا کی ۔ بخاری (5390)
5- میزبان کیلئے دعا: اس کے بارے میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ کی طرف آئے تو انہوں نے آپ کیلئے روٹی اور زیتون کا تیل پیش کیا، آپ نے وہ تناول فرمایا اور پھر دعا دی: "أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمْ الْمَلائِكَةُ " تمہارے پاس روزہ دار افطاری کرتے رہیں، اور تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں، اور فرشتے تمہارئے لئے رحمت کی دعائیں کریں۔ ابو داود (3854) نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے "صحيح سنن ابو داود" (3263) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
6- تین انگلیوں سے کھانا کھانا: سنت یہ ہے کہ تین انگلیوں سے کھانا کھایا جائے، قاضی عیاض کہتےہیں: تین سے زیادہ انگلیاں کھانے کیلئے استعمال کرنا بری عادت ہے، اور ویسے بھی لقمہ پکڑنے کیلئے تین اطراف سے پکڑنا کافی ہے، اور اگر کھانے کی نوعیت ایسی ہو کہ تین سے زیادہ انگلیاں استعمال کرنی پڑیں تو چوتھی اور پانچویں انگلی بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ دیکھیں: " فتح الباری " ( 9 / 578 )
انگلیوں کا استعمال تو اسی وقت ہوگا جب ہاتھ سے کھائے، اور اگر چمچ کا استعمال کرے تو کوئی حرج نہیں ہے، جیسے کہ اسکی تفصیل آگے آئے گی۔
7- گرے ہوئے لقمے کو کھانا: اگر کھانا کھاتے ہوئے لقمہ گر جائے تو لقمہ اٹھا کر اس پر لگی ہوئی مٹی وغیرہ صاف کرکے اسے کھا لے اور شیطان کیلئے مت چھوڑے، کیونکہ یہ کسی کو نہیں پتہ کہ برکت کھانے کے کس حصے میں ہے، اس لئے یہ ممکن ہے کہ اسی لقمے میں برکت ہو جو گر گیا تھا، چنانچہ اگر لقمے کو چھوڑ دیا تو ہوسکتا ہے کہ اس سے کھانے کی برکت چلی جائے، اسکی دلیل انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے، اور آپ نے ایک بار فرمایا: (اگر تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اس سے صاف کرکے کھا لے، شیطان کیلئے اسے مت چھوڑے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ پلیٹ کو انگلی سے چاٹ لیں، اور فرمایا: (تمہیں نہیں معلوم کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے) مسلم (2034)
8- کھانا کھاتے ہوئے ٹیک مت لگائے: اسکی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا) بخاری (5399)، ٹیک لگانے کی کیفیت میں اختلاف ہے ۔
چنانچہ ابن حجر کہتےہیں: "ٹیک لگانے کی کیفیت میں اختلاف کیا گیا ہے، کچھ کہتے ہیں: کھانے کیلئے کسی بھی طرح سے زمین پر پسر جانا اس میں شامل ہے، اور کچھ کہتے ہیں کہ: کسی ایک طرف ٹیک لگاکر بیٹھنا، اور یہ بھی کہا گیا ہےکہ : بائیں ہاتھ کو زمین پر رکھ کر اس پر ٹیک لگا کر بیٹھنا۔۔۔، ابن عدی نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے دوران بائیں ہاتھ پر ٹیک لگاکر بیٹھنے سے ڈانٹ پلائی ہے۔ امام مالک کہتے ہیں کہ یہ ٹیک لگانے کی ایک شکل ہے، میں –ابن حجر-کہتا ہوں کہ: امام مالک کی اس بات میں اشارہ موجود ہے کہ جو بھی شکل ٹیک لگانے میں شامل ہوگی وہ مکروہ ہے، چنانچہ اسکے لئے کوئی خاص کیفیت نہیں ہے" انتہی از "فتح الباری" ( 9 / 541 )
9- کھانا کھاتے ہوئے بلا ضرورت نہ تھوکے۔
10- یہ بھی کھانے کے آداب میں شامل ہے کہ :
• سب مل کر کھانا کھائیں
• کھانے کے دوران اچھی گفتگو کریں
• چھوٹے بچوں اور بیویوں کو اپنے ہاتھ سے کھلائیں
• اپنے لئے کوئی کھانا خاص نہ کرے، ہاں اگر کوئی عذر ہوتو کیا جاسکتا ہے، جیسے کہ دوا کے طور پر، بلکہ بوٹی، نرم گرم روٹی وغیرہ دوسروں کو پیش کرکے اُنہیں اپنے آپ پر ترجیح دے
• مہمان کھانے سے ہاتھ ہٹانے لگے تو میزبان کے کہنے پر دوبارہ کھانا شروع کردے یہاں تک کہ اچھی طرح سیر ہوجائے، اور تین بار سے زیادہ ایسے نہ کرے
• دانتوں میں جو کھانا پھنس جائے اسے تنکے وغیرہ سے نکال دے، اور پھر اسے تھوک دے نِگلے مت۔
سوم: آداب برائے بعد از فراغت:
کھانے سے فراغت کے بعد الحمد للہ، اور دعا پڑھنا مسنون ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے اور دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو فرماتے:
(الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلا مُوَدَّعٍ وَلا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا)
ترجمہ: بہت زیادہ ، پاکیزہ اور برکتوں والی تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، لیکن یہ حمدوثناء اللہ کے لیے کافی نہیں ، نہ اللہ کو چھوڑا جاسکتا ہے اور نہ اس سے کوئی بے نیاز ہوسکتا ہے۔ اے ہمارے رب۔ بخاری (5458)
• نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دودھ کے علاوہ کچھ لیتے تو فرماتے:
"اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ"
ترجمہ: "یا اللہ !ہمارے لئے اس میں برکت ڈال دے، اور ہمیں اسے بھی بہتر کھانا کھلا"
• اور جب آپ دودھ نوش فرماتے تو کہتے:
"اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَزِدْنَا مِنْهُ"
ترجمہ: "یا اللہ! ہمارے لئے اس میں مزید برکت ڈال دے، اور ہمیں اس سے بھی زیادہ عنائت فرما"
ترمذی نے اسے روایت کیا ہے(3377) اور البانی نے اسے"صحيح الجامع" (381) میں حسن قراردیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جسے اللہ تعالی کھانا کھلائے تو کہے: "اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ"
یا اللہ !ہمارے لئے اس میں برکت ڈال دے، اور ہمیں اسے بھی بہتر کھانا کھلا، (اور جسے اللہ تعالی دودھ پلائے تو کہے: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ ، وَزِدْنَا مِنْهُ "یا اللہ! ہمارے لئے اس میں مزید برکت ڈال دے، اور ہمیں اس سے بھی زیادہ عنائت فرما)
ترمذی (3455) نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے صحيح سنن ترمذی (2749) میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
چہارم: کھانے عمومی آداب:
1- کھانے کے عیب نہ نکالے جائیں، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کھانے کے عیب نہیں نکالے، اگر اچھا لگا تو کھالیا، اور پسند نہ آیا تو آپ چھوڑ دیتے تھے۔ بخاری (3370) اورمسلم (2046)
یہاں کھانے سے مراد ایسا کھانا ہے جسکو کھانا جائز ہے، جبکہ حرام کھانے کے بارے میں اسکی مذمت فرماتے، اور اس سے روکتے بھی تھے۔
نووی کہتے ہیں:
"کھانے کے آداب میں سے ضروری یہ ہے کہ کھانے کے بارے میں یہ نہ کہاجائے: "نمک زیادہ ہے"، "کھٹا ہے"، "نمک کم ہے"، "گاڑھا ہے"، "پتلا ہے"، "کچا ہے"، وغیرہ وغیرہ۔
ابن بطال کہتےہیں:
یہ بہت اچھے آداب میں سے ہے، اس لئے کہ انسان کو کوئی چیز اچھی نہیں لگتی لیکن دوسروں کو پسند ہوتی ہے، جبکہ دونوں ہی شریعت میں جائز ہیں، کسی پر بھی شریعت کی طرف سے کوئی عیب نہیں ہے" "شرح مسلم" (14 / 26)
2- میانہ روی سے کھانا کھانا اور مکمل طور پر پیٹ نہ بھرنا بھی کھانے کے آداب میں شامل ہے، اس کے لئے ایک مسلمان کو اپنے پیٹ کے تین حصے کرنے چاہئیں، ایک تہائی کھانے کیلئے، ایک تہائی پانی کیلئے اور ایک تہائی سانس لینے کیلئے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے: "کسی انسان نے اپنے پیٹ سے بُرا برتن کبھی نہیں بھرا ابن آدم کے لیے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو تہائی پیٹ کھانے کے لیے، تہائی پینے کے لیے اور تہائی سانس کے لیے مختص کر دے" ترمذی (2380) ابن ماجہ (3349) البانی نے اسے صحيح ترمذی ( 1939 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
جسم کو ہلکا پھلکا اور معتدل رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے، کیونکہ زیادہ کھانے سے بدن بھاری ہوجاتا ہے، جس سے عبادت اور کام کرنے میں سستی آتی ہے، اور "تہائی" سے کھانے کی وہ مقدار مراد ہے جس سے انسان مکمل پیٹ بھر لے اسکا تیسرا حصہ ۔
"الموسوعة الفقہیہ الکویتیہ" (25 / 332)
3- کھانے پینے کیلئے سونے اور چاندی کے برتن استعمال نہ کرے ، کیونکہ یہ حرام ہے، اسکی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: (موٹی اور باریک ریشم مت پہنو، اور نہ ہی سونے چاندی کے برتنوں میں پئو، اور نہ ہی اسکی بنی ہوئی پلیٹوں میں کھاؤ، اس لئے یہ کفار کیلئے دنیا میں ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہیں) بخاری (5426) ومسلم (2067)
و اللہ اعلم۔
4- کھانے سے فراغت کے بعد اللہ کی تعریف کرنا: اسکی بہت بڑی فضیلت ہے، چنانچہ انس بن مالک سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک اللہ تعالی اپنے بندے سے راضی ہوتا ہے جب وہ ایک لقمہ کھائے تو اللہ کی تعریف کرے، یا پانی کا گھونٹ بھی پئے تو اللہ کی تعریف کرے" مسلم (2734)
اس کیلئے متعدد الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں:
1- بخاری نے ابو امامہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دستر خوان اٹھایا جاتا تو فرماتے: "الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا" اسے بخاری (5458) نے روایت کیا ہے۔
ابن حجر کہتے ہیں "غَيْرَ مَكْفِيٍّ" کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: وہ ذات اپنے بندوں میں سے کسی کی محتاج نہیں ہے وہی اپنے بندوں کو کھلاتا ہے، اور اپنے بندوں کیلئے کافی ہے، اور "وَلَا مُوَدَّعٍ" کا مطلب ہے کہ اُسے چھوڑا نہیں جاسکتا۔
2- معاذ بن انس اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص کھانا کھائے اور پھر کہے:
"الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ"
تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا، اور مجھے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے رزق سے نوازا۔اسکے سابقہ سارے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔
ترمذی (3458) وابن ماجہ (3285) ، البانی نے اسے "صحيح ترمذی" (3348) میں حسن قرار دیا ہے۔
3- ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کچھ کھاتے یا پیتے تو فرماتے:
(الحمدُ لله الذي أطعَمَ وسَقَى وسَوَّغهُ وجَعَلَ له مَخْرَجَاً)
تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے کھلایا اور پلایا اور اسے خوش ذائقہ بنایا، اور پھر اسکے لئے خارج ہونے کا راستہ بنایا۔ ابو داود نے اسے روایت کیا ہے (3851) اور اسے البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔
4- عبد الرحمن بن جبیر کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آٹھ سال تک خدمت کرنے والے خادم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کھانا پیش کیاجاتا تھا آپ کہتے تھے: "بسم اللہ" اور جب فارغ ہوتے تو کہتے: "اللَّهُمَّ أَطْعَمْتَ وَأَسقَيْتَ، وَهَدَيْتَ، وَأَحْيَيْتَ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ"
ترجمہ: یا اللہ! توں نے ہی کھلایا، پلایا، ہدایت دی، اور زندہ رکھا، چنانچہ تیری ان عنائتوں پر تیرے لئے ہی تعریفیں ہیں ۔
مسند احمد (16159) اور البانی نے "السلسلة الصحيحة" (1 / 111) میں اسے صحیح کہا ہے۔
فائدہ: مذکورہ بالا حمدِ باری تعالی کے تمام الفاظ کو باری باری کہنا مستحب ہے، ایک بار ایک انداز سے اور دوسری بار دوسرے الفاظ سے اللہ کی تعریف کی جائے، اس سے ایک تو تمام الفاظ یاد رہیں گے، اور سب الفاظ کی برکت حاصل کر پائیں گے، اور اسکے ساتھ ساتھ ان الفاظ میں موجود معنی بھی ذہن میں رہے گا، کیونکہ جب انسان ایک ہی چیز کو عادت بنا لے تو اسکے معانی زیادہ تر ذہن میں نہیں آتے۔
ماخوذاز کتاب: "الآداب" مؤلف: شہلوب (155)  .
---------------------------------------------------------------
دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ہے
حضرت مولانا سید اصغر حسین رحمت اللہ علیہ جو "حضرت میاں صاحب" کے نام سے مشہور تھے ' بڑے عجیب و غریب بزرگ تھے.. ان کی باتیں سن کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے زمانے کی یاد تازہ ہوجاتی.. حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمت اللہ علیہ فرماتے ھیں کہ ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں گیا.. انہوں نے فرمایا.. "کھانے کا وقت ھے آؤ کھانا کھالو.."
میں ان کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا.. جب کھانے سے فارغ ہوئے تو میں نے دسترخوان کو لپیٹنا شروع کیا تاکہ میں جاکر دسترخوان جھاڑوں تو حضرت میاں صاحب نے میرا ہاتھ پکڑلیا اور فرمایا.. "کیا کررہے ہو..؟ "
میں نے کہا.. " حضرت دسترخوان جھاڑنے جارہا ہوں.."
حضرت میاں صاحب نے پوچھا.. "دسترخوان جھاڑنا آتا ہے..؟ "
میں نے کہا.. "حضرت ! دسترخوان جھاڑنا کون سا فن یا علم ہے جس کے لئے باقاعدہ تعلیم کی ضرورت ہو.. باہر جاکر جھاڑدوں گا.. "
حضرت میاں صاحب نے فرمایا.. "اسی لئے تو میں نے تم سے پوچھا تھا کہ دسترخوان جھاڑنا آتا ھے یا نہیں..؟ معلوم ہوا کہ تمھیں دسترخوان جھاڑنا نہیں آتا..! "
میں نے کہا.. "پھر آپ سکھا دیں.."
فرمایا.. " ہاں..! دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ھے.. "
پھر آپ نے اس دسترخوان کو دوبارہ کھولا اور اس پر جو بوٹیاں یا بوٹیوں کے ذرات تھے ' ان کو ایک طرف کیا.. اور ہڈیوں کو جن پر کچھ گوشت وغیرہ لگا ھوا تھا اُن کو ایک طرف کیا.. اور روٹی کے جو چھوٹے چھوٹے ذرّات تھے اُن کو ایک طرف جمع کیا.. پھر مجھ سے فرمایا..
"دیکھو ! یہ چار چیزیں ھیں.. اور میرے یہاں ان چاروں کی علیحدہ علیحدہ جگہ مقرر ہے.. یہ جو بوٹیاں ہیں، ان کی فلاں جگہ ھے.. بلی کو معلوم ہے کھانے کے بعد اس جگہ بوٹیاں رکھی جاتی ھیں وہ آکر ان کو کھالیتی ھے..
اور ان ہڈیوں کے لئے فلاں جگہ مقرر ہے.. محلے کے کتوں کو وہ جگہ معلوم ہے وہ آکر ان کو کھالیتے ہیں..
اور جو روٹیوں کے ٹکڑے ھیں.. اُن کو میں اس دیوار پر رکھتا ھوں.. یہاں پرندے، چیل کوّے آتے ھیں اور وہ اِن کو اٹھاکر کھالیتے ہیں..
اور یہ جو روٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرات ھیں.. تو میرے گھر میں چیونٹیوں کا بل ہے اِن کو اُس بل میں رکھ دیتا ھوں.. وہ چیونٹیاں اس کو کھالیتی ھیں.. "
پھر فرمایا.. "یہ سب اللہ جل شانہ کا رزق ھے.. اس کا کوئی حصہ ضائع نہیں جانا چاہئے.. "
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے تھے کہ اس دن ہمیں معلوم ہوا کہ دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ھے.. اور اُس کو بھی سیکھنے کی ضرورت ہے ....
---------------------------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/09/blog-post_76.html?m=1


ہر مرض سے شفا

ہر مرض سے شفا
سوال: مجھے برص (جلد میں سفید داغ) کی بیماری ہے بہت دنوں سے۔
براہ کرم اس کے لیے کوئی قرآنی دعا یا وظیفہ بتادیں۔ جزاکم اللہ خیرا
الجواب وباللہ التوفیق:
حدیث شریف میں ایک دعا آتی ہے آپ اسے روزانہ سات دفعہ پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھ پر دم کرکے پورے جسم پر ہاتھ پھیر لیں وہ دعا یہ ہے: أَسْأَلُ اللہَ الْعَظِیمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، أَنْ یَشْفِیَ اور 'یا سلام' روزانہ کثرت سے پڑھتے رہیں یہ دونوں دعائیں بہت مجرب ہیں، خوب اخلاص کے ساتھ پڑھتے رہیں، اللہ تعالی آپ کو شفاء کامل عطا فرمائے۔ آمین
---------------------------------------------------------
سوال: اچھی صحت کے لیے دعاؤں پر مشتمل کچھ قرآنی آیات اور احادیث بیان کر دیجیے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
صحت و بیماری کے حوالے سے بعض قرآنی اور ماثور دعائیں درج ذیل ہیں۔ تاہم دعا کے متعلق یہ اصولی بات سمجھ لیں کہ بندہ جب خدا کو قدر مطلق سمجھ کر، پورے اعتماد اور بھروسے کے ساتھ دعا مانگتا ہے چاہے وہ کسی بھی زبان میں رب کو پکارے، تو اللہ تعالیٰ اس کی پکار ضرور سنتا ہے۔ دعا کا نتیجہ چاہے ہماری مرضی کے مطابق نکلے یا نہیں وہ ہمارے حق میں ضرور نکلتا ہے۔ دنیا اور آخرت کی کوئی نہ کوئی بہتری ہمیں لازماً ملتی ہے اور کسی نہ کسی برائی سے ہم بچالیے جاتے ہیں۔ اصل چیز اللہ کو اپنا رب سمجھ کر، معبودِ برحق جان کر، واحد کارساز سمجھ کر اور پوری تڑ پ کے ساتھ پکارنا ہے۔ اس کا نتیجہ لازمی نکلتا ہے۔ بہرحال صحت و بیماری سے متعلق قرآن میں آنے والی (پہلی دو) اور (باقی) احادیث میں بیان کردہ بعض دعائیں حسب ذیل ہیں:
رَبِّ إِنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَ
اے میرے رب، میں سخت تکلیف میں مبتلا ہوں اور تو سب سے بڑ ھ کر رحم کرنے والا ہے۔
رَبِّ إِنِّيْ مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَاب
اے میرے رب، شیطان نے مجھے سخت دکھ اور آزار میں مبتلا کر رکھا ہے ۔
اَللّٰهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ بَدَنِيْ، اَللّٰهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ سَمْعِيْ، اَللّٰهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ بَصَرِيْ، لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ
اے اللہ! تومجھے جسمانی صحت وعافیت عطا فرما، اے اللہ!تومیری قوتِ سماعت میں عافیت وسلامتی عطافرما، اے اللہ! تو میری قوتِ بینائی میں عافیت وسلامتی عطا فرماتیرے سواکوئی معبودنہیں ہے۔
اَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اِشْفِ وَ اَنْتَ الشَّافِيْ، لَا شِفَاءَ اِلَّا شِفَاءُکَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَماً
دورکر دے تکلیف کواے لوگوں کے پروردگار، شفادے دے کہ توہی شفادینے والا ہے، تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں۔ ایسی شفا دے جو بیماری کا ہر اثر دورکر دے۔
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ وَقُدْرَتِهٖ مِنْ شَرِّمَآ اَجِدُ وَاُحَاذِرُ
میں اللہ اوراس کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں، اس تکلیف کے شرسے جومجھے ہورہی ہے اورجس سے میں ڈر رہا ہوں۔
اللَّهُمَّ مَتِّعْنَا بِاَسْمَاعِنَا وَ اَبْصَارِنَا وَقُوَّاتِنَا اَبَدًا مَا اَبْقَيْتَنَا
اے اللہ، ہمیں ہماری سماعت، بینائی اور قوتوں سے تاحیات فائدہ پہنچا۔
---------------------------------------------
سوال: ان دعاوَں کا ترجمہ بتائیں:
(۱) اللھُمَّ أَنْتَ رَبِّی وَأَنَا عَبْدُکَ، ظَلَمْتُ نَفْسِی، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِی، وَلَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، أَیْ رَبِّ فَاغْفِرْ لِی ذنبی .
(۲) اللَّھُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْھِبَ البَاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی، لاَ شَافِیَ إِلَّا أَنْتَ، شِفَاءً لاَ یُغَادِرُ سَقَمًا .
(۳) رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَفِی الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ․
(۴) یا قاضیَ الحاجات ویَا کافیَ المہمات یا دافعَ البلیّاتِ یا حلّ المشکلات یا رافعَ الدرجات، یَا شافیَ الأمراض یا مجیب الدعوات یا أرحم الراحمین..
(۵) أَسْأَلُ اللَّہَ الْعَظِیمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ أَنْ یَشْفِیَنی․
الجواب وباللہ التوفیق:
مذکور فی السوال دعاوٴں کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
(۱) اے اللہ! تو میرا رب ہے، اور میں تیرا بندہ ہو، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا، مجھے اپنی غلطی کا اعتراف ہے، گناہوں کو تو ہی بخشتا ہے، اے میرے رب! تو میرے گناہ بخش دے۔
(۲) اے اللہ، لوگوں کا پالن ہار، پریشانی کو دور کرنے والا، تو شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے، ایسی شفا جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے۔
(۳) اے ہمارے رب! تو دنیا میں ہمیں بہتری عنایت کر اور آخرت میں بھی۔
(۴) اے ضروریات کو پوری کرنے والا، اے مشکلات میں کافی ہونے والا، اے مصیبتوں کو دفع کرنے والا، اے پریشانیوں کو حل کرنے والا، اے درجات کو بلند کرنے والا، اے بیماریوں کو شفا دینے والا، اے دعائیں قبول کرنے والا، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والا۔
(۵) اللہ جو عظیم عرش کے مالک ہیں، ان میں آخری لفظ ”أن یشفینی“ کی بجائے ”أن یشفِیَکَ“ ہے، ایسی صورت میں اس کا ترجمہ یہ ہوگا: اللہ تعالی جو عرش عظیم کے مالک ہیں، ان سے میں آپ کی شفا کی درخواست کرتا ہوں۔ 
حدیث کا پورا مضمون یہ ہے کہ جو شخص بیمار پرسی کے لیے جائے اور ”مریض“ کے پاس یہ دعا سات مرتبہ پڑھے، تو اللہ تعالی اس بیماری سے مریض کو شفا عنایت کرے گا۔ (ابوداوٴد، ۳۱۰۶)
-------------------------------------------------------

شیطان کے نجی حالات

شیطان کے نجی حالات

شیطان کا اصلی نام کیا تھا؟
رحمت الہٰی سے ملعون ہونے سے پہلے شیطان کا نام عزازیل تھا ۔ آدم کو سجدہ نہ کرنے اور حکم الہٰی کی خلاف ورزی کی پاداش میں اس کا نام ابلیس تجویز کردیا گیا۔ شیطان بھی اسی ابلیس کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے آگ کے شعلوں سے ایک جن کو پیدا کیا تھا ۔ اس کے بعد اس کے لئے ایک بیوی پیدا کی، اسی جوڑے سے تمام جنات کی نسل دنیا میں پھیلی۔
حدیث میں ہے کہ جب اللہ نے ابلیس کی نسل اور اس کی زوجہ پیدا کرنا چاہی تو شیطان پر غصہ کا القا کیا ۔ غصہ کی وجہ سے آگ کی ایک چنگاری پیدا کی، اس چنگاری سے حق تعالٰی نے ابلیس کی بیوی پیدا کردی۔
جتنے انسان پیدا ہوتے ہیں اتنے ہی جنات بھی پیدا ہوتے ہیں 
===============
روایت ہے کہ حق تعالٰی نے ابلیس سے فرمایا تھا کہ جتنی اولاد آدم کی پیدا کروں گا، اتنی ہی اولاد تیری بھی پیدا کروں گا ۔ چنانچہ دوسری حدیث میں مذکور ہے کہ ہر انسان کے ساتھ حق تعالٰی جن بھی پیدا کرتا ہے جو اس کو بُرائی پر اُکساتا رہتا ہے۔
جنات مذکر بھی ہوتے ہیں اور مونث بھی
=============
جنات کی ایک قسم انسان جیسی ہے۔ وہ انسانوں کی طرح مذکر اور موءنث ہوتے ہیں ۔ آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں ۔ اور ان کے اولاد بھی پیدا ہوتی ہے۔
شیطان ہر روز دس انڈے دیتا ہے
============
حیٰوۃ الحیوان میں شیطان کی افزائش نسل کے بارے میں مذکور ہے:
"اللہ تعالٰی نے ابلیس کی داہنی ران میں مرد کی شرمگاہ اور بائیں میں عورت کی شرمگاہ پیدا کی ہے جس سے ہر روز دس انڈے نکلتے ہیں اور ہر انڈے سے شیطان اور شیطانیاں پیدا ہوتی ہیں ۔
شیطان کی بیوی اور بچوں کے نام
====================
شیطان نے اپنی بعض اولاد کو بعض مخصوص کاموں پرلگا رکھا ہے۔ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق ان کے نام اور کام یہ ہیں:
طرطبہ: شیطان کی بیوی کا نام طرطبہ ہے۔
لاقیس و لہان: یہ دونوں وضو اور نماز پر مامور ہیں، لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔
ہفاف: یہ لڑکا صحرا پر مامور ہے، صحرا میں شیطینیت پھیلاتا ہے۔
زلنبور: یہ بازاروں پر مامور ہے، جھوٹی تعریف اور جھوٹی قَسموں پر لوگوں کو اُکساتا ہے۔ ناپ تول میں کمی اور دوسری بُرائیوں میں لوگوں کو مبتلا کرتا ہے۔
بثر: مصیبت زدہ لوگوں کو جہالت کے کام نوحہ، ماتم، گریبان چاک کرنا، چہرے کو نوچنے، منہ پر چانٹے مارنے کی ترغیب دیتا ہے۔
ابیض: یہ انبیاء علیھم السلام کے دلوں میں وسوسہ ڈالنے پر مامور ہے۔
اعور: یہ شیطان زنا پر مامور ہے۔ زنا کے وقت مرد و عورت کی شرم گاہوں پر سوار رہتا ہے۔ لوگوں کو زنا کی ترغیب دے کر زنا میں مبتلا کرتا ہے۔
واسم: اس شیطان کی ڈیوٹی یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں بغیر سلام کئے یا بغیر اللہ کا نام لئے داخل ہوتا ہے، تو وہ گھر والوں میں فساد کروانے کا سبب بنتا ہے۔ گھروالوں میں پھوٹ ڈلواکر ایک کو دوسرے کا دشمن بنادے۔
مطوس: یہ شیطان غلط اور بے بنیاد افواہیں لوگوں میں پھیلاتا ہے۔
بھوت پریت کیڑے مکوڑے جنات شیطان کے انڈوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ ایک بار شیطان نے 30 انڈے دیئے تھے۔ دس مشرق میں، دس مغرب میں اور دس وسط ارض میں۔ ان انڈوں سے دنیا میں شیاطین کی مختلف قسمیں بھوت پریت کیڑے مکوڑے وغیرہ پیدا ہوکر دنیا میں پھیل گئے۔
محمد بن کعب القرظی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جن اور شیاطین اصل کے اعتبار سے ایک ہیں، مگر ایماندار 'جن' کے نام سے اور کفار شیاطین کے نام سے موسوم ہیں۔
جنات سانپ کی شکل میں گھروں میں بھی رہتے ہیں 
================
بخاری مسلم اور ابوداود میں ابو لبابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے، مگر جس سانپ کی پشت پر دو سفید خط ہوں، یا وہ سانپ جس کی دُم بہت چھوٹی ہو، اس کو فورََا مار ڈالنا چاہیئے ۔ یہ دونوں قسم کے سانپ بہت ہی خطرناک ہیں۔
دل میں داخل ہونے کے چور دروازے، جن سے شیطان کے لشکر اولاد آدم پر حملہ آور ہوتا ہے۔
انسان کو گمراہ اور اغوا کرنے کی تاک میں 
==============
شیطان کے لشکر چونکہ 24 گھنٹے انسان کو گمراہ اور اغوا کرنے کی تاک میں لگے رہتے ہیں۔ اس لئے شیاطین کی مدافعت سے ایک آن بھی غفلت انتہائی مضر ہے۔ پھر چونکہ شیطان کا حملہ انسان پر ظاہری دشمن کی طرح کھلم کھلا نہیں ہوتا، اس لئے سب سے پہلے ان دروازوں اور راستوں سے واقفیت ضروری ہے جہاں سے وہ حملہ اور ہوکر کائنات قلب کو تاخت وتاراج کردیتا ہے۔ 
یوں تو انسان کے دل میں شیطان کے لئے بہت سے دروازے ہیں، پھر بھی ان میں چند بڑوں بڑوں کا ذکر حسب ذیل ہے:
حسد اور حرص
=========
حسد اور حرص میں انسان اندھا اور بہرا ہوجاتا ہے ۔ شیطان جب ان دونوں میں سے کسی ایک یا دونوں کا احساس کسی قلب میں پاتا ہے تو اس کو دل کو تباہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے - اور وہ انسان کے دل کو گناہوں کے میدان میں لڑھکاتا پھرتا ہے۔ جس وقت نوح علیہ السلام کشتی میں سوار ہوئے تو شیطان ان کے پاس آئے اور کہا کہ دنیا میں لوگ پانچ باتوں سے ہلاک ہوئے ہیں میں تین باتیں اپ کو بتائے دیتا ہوں۔ فورََا وحی آئی کہ شیطان سے دو باتیں تو پوچھ لو، باقی تین باتیں آپ سے غیر متعلق ہیں۔ شیطان نے کہا: ان میں سے ایک تو حسد ہے، حسد کی وجہ سے میں بارگاہ الہٰی سے مردود و ملعون ہوا، اور دوسری چیز حرص ہے، اگر آدم [علیہ السلام] جنت میں ہمیشہ رہنے کی حرص نہ کرتے تو ان کو جنت سے نہ نکالا جاتا۔
غضب اور شہوت
==========
یہ دونوں چیزیں بھی قلب بنی آدم سے شیطان کے داخلے کے اہم دروازے ہیں ۔ غضب اور غصہ کی وجہ سے انسان کی عقل کمزور ہوجاتی ہے ۔ شیطان نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہا کہ جب انسان غصہ ہوتا ہے تو میں اس کے جسم میں دوڑا دوڑا پھرتا ہوں۔
بسیار خوری
=======
شکم سیر ہوکر کھانا بھی شیطانی آفتوں میں سے ایک آفت ہے۔ کیونکہ شکم سیری سے شہوت پہدا ہوتی ہے، شہوت شیطان کا ایک خاص ہتھیار ہے۔ ابلیس یحیٰی علیہ السلام کے پاس متشکل ہوکر آیا اور اس نے بیان کیا، کہ میں شہوت کے ذریعہ سے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کیا کرتا ہوں ۔ 
علماء باطن نے بسیار خوری کے نقصانات تحریر کئے ہیں 
[1] دل سے خدا کا خوف نکل جاتا ہے 
[2] دل میں مخلوق پر رحمت نہیں رہتی کیونکہ وہ دوسروں کو اپنی طرح شکم سیر سمجھنے لگتا ہے 
[3] شکم سیری سے نماز و عبادت گراں محسوس ہوتی ہے 
[4] حکمت کا کلام سُن کر دل پر رقّت طاری نہیں ہوتی 
[5] ایسی حالت میں اگر وہ کسی کو نصیحت کرتا ہے تو لوگوں کے دلوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا 
[6] بسیار خوری سے جسمانی امراض پیدا ہوتے ہیں۔
سامان زیب و زینت
===========
اگر شیطان کسی کے دل میں مکان لباس اور گھر کے سازوسامان کی محبت دیکھتا ہے تو وہ انسان کے دل میں ان چیزوں کی محبت کے انڈے دے دیتا ہے، ان انڈوں سے جب بچے نکل آتے ہیں تو مکان کی تعمیر کرنے مکان کی آرائش کی دھن میں لگ جاتا ہے، یہاں تک کہ اس حالت میں اسے موت آکر پکڑ لیتی ہے ۔
شیطان کا دل پر تسلط اور اس کا دفعیہ
وسوسہ اور الہام کا فرق
========
انسان سے نیک یا بد اعمال کی صدور نوعیت یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کے دل میں ایک خیال پیدا ہوتا ہے۔ خیال کے بعد اس کام کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ رغبت عزم اور ہمت کو کام میں لاتی ہے۔ آخر نیت اعضاء کو حرکت میں لا کر اس فعل کا وقوع عمل میں لاتی ہے۔ پھر جس طرح اعمال خیر اور شر کی نوعیت مختلف ہے، اسی طرح انسان کے دل میں کسی کام کا خیال جو اولََا پیدا ہوتا ہے، وہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہے۔ اگر وہ خیال کسی اچھے کام کا ہے تو اصطلاح شرح میں اس کا نام 'الہام' ہے ۔ اور اگر وہ بُرے کام سے متعلق ہے، تو اس کو 'وسوسہ' کہا جاتا ہے۔
الہام یا وسوسہ کا باعث کیا ہے؟
===========
انسان کے دل میں شروع شروع میں جو خطرات یا خیالات پیدا ہوتے ہیں، ان کے محرک قدرت نے جدا جدا پیدا کئے ہیں، حدیث شریف میں ہے__:
"دل میں دو قسم کے وسوسہ پائے جاتے ہیں فرشتوں کی طرف سے بھی اور شیطان کی طرف سے بھی ۔ فرشتے کے وسوسہ سے خیر کی رغبت ہوتی ہے اور شیطان کے وسوسہ سے بُرائی کی ۔ پس جس وقت شیطانی وسوسہ محسوس ہو تو اعوذ بااللہ من الشیطان الرجیم پڑھنا چاہیئے"۔
چونکہ دونوں قوتیں مساوی حیثیت سے قلب انسانی پر اثرانداز رہتی ہیں، اس لئے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کی انسان قدرتی طور پر اسی کھینچاتانی میں مبتلا ہے ۔ حدیث شریف میں اسی کھینچاتانی کی طرف اشارہ ہے:
"مومن کا دل اللہ تعالٰی کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان رہتا ہے"۔
پیدائشی طور پر چونکہ قلب انسانی میں آثار روحانی و شیطانی قبول کرنے کی صلاحیت و استعداد مساوی طور پر ہے، کسی ایک جانب کو دوسرے پر ترجیح نہیں۔ اس لئے اتباع شہوات یا مخالفت کے اعتبار سے ہی ایک جہت کو غالب یا مغلوب کہا جاسکتا ہے ۔ پس اگر کوئی غضب و شہوت کے اقتضا سے کسی کام کا مرتکب ہوگا، تو شیطان خواہش نفسانی کی راہ سے انسان پر غالب آجائے گا ۔ اس صورت میں قلب شیطان کا ملجا و مسکن بن جائے گا ۔ اور اگر شہوت کو مغلوب کرکے فرشتوں کے اخلاق اختیار کرےگا، تو اس صورت میں انسان کا دل فرشتوں کی منزل اور مستقر ہوگا ۔ مگر قلب میں چونکہ صفات بشریہ [یعنی شہوت، غضب، حرص، طمع وغیرہ جو خواہش نفسانی کی فروعات میں سے ہیں] موجود ہیں اس لئے ضروری اور لازمی طور پر قلب شیطانی وسوسہ کی گزرگاہ ضرور بنے گا ۔ حضور سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے__:
"ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے" ۔ عرض کیا گیا، حضور کے ساتھ بھی ہے؟ فرمایا: "ہاں لیکن وہ خدا کی مدد سے مقہور ہے وہ ہمیشہ اچھی بات کی ترغیب دیتا ہے"۔
شیطان اسی وقت دل میں وسوسہ ڈالتا ہے، جب وہ ذکر الٰہی سے غافل ہو ۔ اگر قلب ذکر اللہ کی طرف راغب ہے، تو شیطان کو وسوسہ ڈالنے کا موقع نہیں ملتا وہاں سے چل دیتا ہے۔ اس وقت فرشتہ مداخلت کرتا ہے ۔ غرض شیاطین اور فرشتوں کے لشکروں میں ہر وقت کش مکش رہتی ہے ۔ قلب بہرصورت کسی نہ کسی ایک کا مطیع و منقاد ہوجاتا ہے ۔ یا تو فرشتے ہی اس کو مفتوح و مسخّر کر لیتے ہیں، یا شیاطین ہی اس کے مالک بن بیٹھتے ہیں۔ جن لوگوں کے دلوں کا مالک شیطان بن جاتا ہے، ایسے لوگوں کے دل ہر وقت وسوسوں سے پُر رہتے ہیں، اس قسم کے لوگ ہمیشہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب تک شیطان کے زور کو گھٹایا نہ جائے، قلب کی اصلاح دُشوار ہے ۔ البتہ جو لوگ شہوات کو اپنے اُوپر غالب نہیں آنے دیتے بلکہ اس کو مغلوب کرکے رکھتے ہیں، ان لوگوں پر شیطان کا داو چلنا دُشوار ہے ۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ایسے ہی بندوں کے متعلق ہے:
"جو میرے بندے ہیں، ان پر تیرا کوئی زور نہیں"
وسوسہ دور کرنے کا طریقہ
=========
ظاہر ہے کہ دل میں شیطانی وسوسہ ہر وقت آتا رہتا ہے ۔ جب اس وسوسہ کے سوا دل میں کوئی دوسری بات نہ ہو، کیونکہ جب ایک بات کا گزر دل میں ہوتا ہے، تو اس سے پہلے کی بات دل سے نکل جایا کرتی ہے، اسی لئے شیطانی وسوسہ دور کرنے کی ایک تدبیر یہ ہے کہ جب کسی شخص کے دل میں کسی بُری بات کا گزر ہو، تو وہ دل کو کسی دوسری طرف متوجہ کرے، یہ ترکیب اگرچہ دفعیہ وسوسہ کے لئے سہل ہے مگر بھر بھی یہ اندیشہ ہے کہ اس دوسری بات کا بھی وہی انجام نہ ہو جو پہلی بات کا ہوا ہے ۔ اس لئے یہ صورت دفعیہ وسوسہ کے لئے سو فیصد کامیاب نہیں، البتہ ذکر الہٰی ایک چیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے شیطان کی مجال نہیں کہ دل کے قریب قدم رکھ سکے ۔ خدا تعالٰی نے بھی دفعیہ وسوسہ کی یہی تدبیر بتائی ہے:
"خدا سے ڈرنے والے لوگوں کو اگر شیطان مس کرلیتا ہے تو وہ خدا کا ذکر کرتے ہی صاحب بصیرت بن جاتے ہیں"۔
شیطان انسان کے دل پر چاروں طرف سے چھایا رہتا ہے، جب قلب ذکر الہٰی کرتا ہے تو شیطان سکڑ کر دبک جاتا ہے۔ ذکر اللہ اور وسوسہ میں دن اور رات یا روشنی اور اندھیرے کا سا تضاد ہے ۔ ذکر الہٰی کے سامنے شیطان ٹک نہیں سکتا ۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت عمرو بن العاص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ شیطان نماز اور قراءت قران میں وسوسہ ڈالتا ہے مجھ میں اور میری نماز میں حائل ہوجاتا ہے، توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو خنزب کہتے ہیں جب وہ تجھے معلوم ہو، تو اعوذ با اللہ من الشیطان الرجیم پڑھ، اور اپنی بائیں طرف 3 دفعہ تھوک دے ۔ حضرت عمر بن عاص کہتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمودہ ہدایت پر عمل کیا تو وہ بات جاتی رہی۔
حدیث میں وارد ہے "وضو میں بہکانے والا بھی ایک شیطان ہے، اس کا نام ولہان ہے، اس سے خدا تعالٰی کی پناہ چاہو"٫
خطرات قلب
======
انسان کے قلب پر جو خطرات گزرچکے ہیں وہ 3 قسم کے ہوتے ہیں 
[1] ایک وہ جو انسان کو نیکی پر آمادہ کرے۔ ایسے خطرات یقینََا الہام من جانب الہٰی ہوتے ہیں۔ 
[2] دوسرے وہ جو انسان کو بُرائی پر اُکسائیں، ایسے خطرات یقینََا وساوس شیطانی ہوتے ہیں ۔
[3] تیسری قسم وہ خطرات ہیں جن کے متعلق یہ معلوم نہ ہوسکے کہ وہ فرشتہ کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے۔ ایسے خطرات میں انسان کو بڑا دھوکہ ہوتا ہے ۔ ان خطرات میں نیک و بد کی تمیز دشوار ہے، اس لئے کہ نیک بندوں کو تو صاف طور پر شیطان ورغلا نہیں سکتا البتہ شر کو خیر کی صورت میں لاکر ان کے سامنے کردیتا ہے۔ اور یہ شیطان کا بہت بڑا فریب ہے جس سے اکثر لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں۔
مثلََا شیطان کسی عالم کو عوام کی غفلت و جہالت کا حال سُنا کر وعظ گوئی پر آمادہ کرتا ہے پھر اس کے دل میں ڈالتا ہے کہ اگر عمدہ کپڑے پہن کر اور خاص لب و لہجہ بنا کر تقریر نہ کروگے تو عوام تمہاری تقریر سے متاثر نہ ہوں گے ۔ چنانچہ عالم انہی باتوں میں پھنس کر رہ جاتا ہے ۔ ان باتوں میں مبتلا ہونے کے بعد اس کو اپنی تعظیم کا شوق، خدام اور معتقدین کی کثرت اور اپنے علم و مرتبہ پر غرور، اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کا مرض پیدا ہوجاتا ہے۔ عالم صاحب کی تمام کری کرائی محنت ریا و نمود و تکبر کی نذر ہوجاتی ہے۔ غرض علماء عباد زہاد کو فریب میں مبتلا کرنے کے شیطان کے دھنگ اور ہی ہیں۔
شیطان کے دفعیہ کی تدبیر کیا ہے؟
==========
شیطان کے شر سے دل کو بچانے کی ترکیب یہی ہے کہ دل میں شیطان کے داخلہ کے تمام دروازے بند کردیئے جائیں۔ اور دل کو تمام مذموم صفات سے پاک کرلیا جائے، اس مختصر میں اتنی گنجائش نہیں کہ ان کا تذکرہ پیش کیا جائے ، بہرحال اس موقع پر اتنا جاننا ضروری ہے کہ جب دل ان تمام مذموم صفات سے پاک و صاف ہو جائے گا تو پھر شیطان دل میں جم کر نہیں بیٹھ سکے گا ۔ چونکہ اللہ کا ذکر شیطان کو قریب آنے سے روکتا ہے، اس لئے شیطان ہیرا پھیری کرتا ہی نظر آئے گا ۔ 
بہرحال جہاں شیطان کا دفعیہ لاحول ولا قوۃ الا با اللہ العلی العظیم - یا- اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم سے ہوجاتا ہے وہاں اور بھی دعائیں اس بارے میں مذکور ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ ایک شیطان حضور سرورعالم کے سامنے نماز کی حالت میں آگ کی مشعل لے کر کھڑا ہوا کرتا تھا، اور قراءت و استغفار سے نہ جاتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا، آپ یہ دعا پڑہیئے:
اعوذ بکلمات اللہ التامات التی لا یجاوز ھن یرو لا فا جو من من شر ما یلج فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا و من فتن الیل و النھار و من طروق الیل والنھار الا طارق یطرق بخیر یا رحمٰن۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دُعا کو پڑھا، اس مردُود کی شمع گُل ہوگئی اور وہ اوندھے منہ گِر پڑا۔
شیطان کے مکرو فریب کے جال
========
قرآن پاک میں اللہ تعالٰی نے ابلیس کا قول نقل کیا ہے:
فبما اغویتنی لا قعدون لهم صراطك المستقيم ثم لا تلينهم من بين ايديهم و من خلفهم وعن شمائلهم ولا تجدو اكثرهم شاكرين۔
"تو جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بیٹھوں گا ان کی ناک میں تیری سیدھی راہ پر، پھر ان پر آوں گا آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے اور نہ پائے گا تو ان میں سے اکثر کو شکرگزار"۔
اس آیت میں "من بین ایدھم" کی تفسیر میں مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس سے عرض یہ ہے کہ میں ایسی طرف سے آوں گا جہاں سے لوگ اسے دیکھ نہ سکیں۔
اور "من خلفھم" سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی کی تفسیر کے مطابق شیطان کی غرض یہ ہے کہ، میں دنیا کو آراستہ پیراستہ کرکے ان کے سامنے پیش کرکے ان کو رغبت دلاوں گا۔ مزید فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ، میں آخرت کے بارے میں ان کے دلوں میں شک ڈالوں گا اور ان کو آخرت سے دُور کردوں گا۔
اور "عن ایمانھم" کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ، شیطان کی غرض یہ ہے کہ، ان پر ان کا دین مشتبہ کردوں گا، اور ابو صالح کے قول کے مطابق حق بات میں ان کو شک میں ڈالوں گا۔
اور "عن شمائلھم" کے معنی یہ ہیں کہ باطل کی ترغیب دے کر ان میں باطل کو رائج کردوں گا ۔ زمخشری کہتے ہیں کہ شیطان کی غرض یہ ہے کہ، میں سب طرف سے آکر تم کو فریب دوں گا۔
[] شیطان کا ایک مکر یہ ہے کہ وہ انسان کو ایسی جگہ لاکھڑا کردیتا ہے جن میں انہیں سمجھادیتا ہے کہ تیرا نفع انہی میں ہے، پھر انجام کار ایسے ٹھکانوں پر پہنچا دیتا ہے، جہاں اس کی تباہی ہو، اور آپ اس سے کنارہ کش ہوجاتا ہے اور اس کو پھنسا کر کھڑا ان کے رنج سے خوش ہوتا ہے۔ اور ان سے تمسخر کرتا ہے، مثلََا ان کو چوری، زنا، قتل کا حکم دیتا ہے، پھر ان کو رُسوا کرتا ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے:
"اور جس وقت سنوارنے لگا شیطان ان کی نظر میں ان کے کام، اور بولا کوئی غالب نہ ہوگا تم پر آج کے دن، اور میں رفیق ہوں تمہارا، پھر جب سامنے ہوئیں تو دونوں جماعتیں الٹا پھرا اپنی ایڑیوں پر، اور بولا میں تمہارے ساتھ نہیں، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں ڈرتا ہوں اللہ سے، اور اللہ کا عذاب سخت ہے"۔
[] شیطان کا مکر یہ ہے کہ وہ انسان پر اس قسم کا جادو کردیتا ہے کہ اس کو سب سے بڑی مضر چیز نافع ترین نظر آنے لگتی ہے ۔ شیطان امر باطل کو اس طرح چکنا چپڑا کرکے خوبصورت شکل میں پیدا کرتا ہے کہ، حق بات خلاف واقعہ نظر آنے لگتی ہے ۔ عقلوں کو اس درجہ مسخ کردیتا ہے کہ، حق بات سمجھائی نہیں دیتی ہے۔ 
اسی ابلیس نے آدم وحوا کو جنت سے نکلوایا، اور قابیل کے ہاتھوں ہابیل کو قتل کروایا، حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کو غرق کرایا، قوم عاد کو تیز آندھی سے تباہ کرایا، حضرت صالح علیہ السلام کی قوم چیخ سے ہلاک ہوئی، حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو زمین میں دھنسادیا، اور ان پر سنگباری کرائی، فرعون اور اس کی قوم کو غرق کروادیا۔ یہی ملعون سب کا ساتھی تھا اور غزوہ بدر میں مشرکین کا یار تھا۔
[] ایک مکر شیطان کا یہ ہے، کہ وہ انسان کے خون میں داخل ہوکر نفس کے ساتھ مل جاتا ہے اور جس چیز کی رغبت اور محبت نفس میں پاتا ہے اس کو معلوم کرکے اسی راہ سے داخل ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ آدم و حوا علیھم السلام کی یہ خواہش تو نہ تھی کہ جنت میں فرشتہ بن کر رہیں، لیکن یہ خواہش ضرور تھی کی ان کو بادشاہی عطا ہوجائے، شیطان ان دونوں کے پاس اسی راستہ سے اکر ان کو جنت سے نکلوانے میں کامیاب ہوا تھا ۔ شیطان نے ان سے کہا تھا، "کیا میں تم کو بتادوں درخت ہمیشہ زندہ رہنے کا، اور بادشاہی کا جو پرانی نہ ہو"۔ شیطان کے اس فعل سے اس کے پیرو کاروں نے یہ سیکھا ہے کہ انہوں نے بعض حرام چیزوں کے ایسے نام تجویز کئے ہیں جن کے معانی نفس کو بہت ہی خوشنما معلوم ہوتے ہیں ۔ مثلََا شراب کا نام 'ام الافراح' [خوشیوں کی جڑ]، سُود کا نام 'معاملہ'، محصول کا نام 'حقوق شاہی'، فسق کی مجلسوں کانام 'مجلس نشاط' وغیرہ۔
[] شیطان کا ایک عجیب مکر یہ ہے کہ وہ نفس کی قوتوں میں پیش قدمی اور بلند ہمتی غالب دیکھتا ہے، تو جس چیز کا حکم الہٰی ہوتا ہے، اس کو اس کی اہمیت کے سامنے حقیر اور قلیل کردیتا ہے، اور آدمی کو یہ وہم دلاتا ہے کہ اس قدر کافی نہیں ہے ، اس میں کچھ زیادتی ہونی چاہئے۔ اور اگر نفس پر سرکشی غالب دیکھتا ہے، تو ہمت کو مقدور مامور سے کاہل اور سست کردیتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو وہ اس کو بالکل ہی چھوڑ بیٹھتا ہے، یا اس میں کوتاہی کرنے لگتا ہے۔
یعنی کبھی شیطان کسی قوم کو اس درجہ تسفل میں گرادیتا ہے کہ وہ پیغمبر کو قتل کردینا معمولی بات خیال کرتے ہیں اور کبھی اس قدر اونچا کردیتا ہے کہ وہ خدا تعالٰی کی بجائے انبیاء کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ 
یہودیوں کو ابلیس نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں اس درجہ گرایا کہ انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو جھٹلایا اور ان کی والدہ پر تہمت لگائی۔ اور نصاریٰ کو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں اس درجہ بڑھایا کہ انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو [نعوذباللہ] خدا کا درجہ دے دیا ہے۔
[] کبھی شیطان ایسا کرتا ہے کہ لوگون کے دلوں میں نکمے خیالات ڈال دیتا ہے۔ وہ خدا کی باتوں کو تو یقین کا درجہ نہیں دیتے، خدا کے احکام کے مقابلہ میں امور عقلی اور حکمت کو زیادہ یقینی سمجھتے ہیں ۔ 'فانوسِ قرآن' سے روشنی حاصل کرنے کی بجائے منطق و فلسفہ یونانی کی روشنی حاصل کرنے کی طرف لوگوں کو لگادیتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ، وہ دین و ایمان سے اس طرح عاری ہوجاتے ہیں جس طرح گندھے ہوئے آٹے میں بال صاف نکل اتا ہے۔
[] ایک مکر شیطان کا یہ بھی ہے کہ، شیطان آدمی کو ایسے لوگوں سے خوش خلقی، خندہ روئی، اور خوش گفتاری کو کہتا ہے جن کی بدی سے بچنا بجز ترش روئی اور روگردانی کے ممکن نہیں۔ اس خوش خلقی اور خندہ روئی کے بعد آدمی کو ان کی بدی سے بچنا مشکل ہوجاتا ہے۔
[] ایک مکر شیطان کا یہ بھی ہے کہ شیطان انسان کو اپنے نفس کی عزت وحفاظت کا حکم دیتا ہے، جہاں پروردگار کی خوشی نفس کی ذلت و اہانت میں ہے۔ مثلََا کفار یا منافقوں سے جنگ، یا بدکاروں اور ظالموں کو امربالمعروف و نہی عن المنکر ہیں، شیطان یہ خیال پیدا کرتا ہے کہ ان باتوں سے تو اپنے نفس کو ذلت میں ڈال کر دشمنوں کو اپنے اوپر غالب کرنا چاہتاہے، ان کے طعنے اپنے اوپر لینا چاہتا ہے، اس کا انجام یہ ہوگا کہ تیری عزت جاتی رہے گی، اس کے بعد نہ کوئی تیری بات مانے گا نہ تیری سُنے گا۔
اور جس جگہ نفس کی بہتری عزت و حفاظت میں ہوتی ہے، وہاں اپنے نفس کو ذلیل و خوار کرنے کو کہتا ہے۔ مثلََا آدمی کو کہتا ہےکہ رئیسوں کے سامنے ذلیل بنا رہ، اور دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ اس امر کے اختیار کرنے سے تیرے نفس کی عزت ہوگی۔
[] شیطان کا ایک مکر یہ بھی ہے کہ اس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے پانسے مقرر کئے ہیں۔ شریعت اسلام کی رو سے پانسے پھینکنا حرام ہے۔
[] شیطان کے مکرو فریب میں سے وہ حیلے اور فریب بھی ہیں جو خدا تعالٰی کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرنے یا فرضوں کو ساقط کرنے اور امرونہی کے خلاف کرنے پر شامل ہیں ۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو حیلے مسلمان کے حق کو باطل کرتے ہوں، ان میں سے کوئی بھی درست نہیں۔
[] قرآن مجید میں اصحاب سبت کا حال مذکور ہے۔ یہودیوں کو ہفتہ کے دن شکار کھیلنے کی ممانعت تھی۔ انہوں نے اللہ کے حرام کی ہوئی چیز کو حیلہ کی راہ سے مباح کرلیا۔ وہ ہفتہ کے روز جال لگا کر چھوڑ دیتے تھے ۔ جو مچھلیاں جال میں پھنس جاتی تھیں ان کو اتوار کےدن صبح کو پکڑ لیتے ۔ اس جرم کی پاداش میں حق تعالٰی نے ان کو بندر بنادیا۔ اور کچھ عرصہ عذاب میں رہنے کے بعد سب کے سب مرگئے۔
[] شیطان نے ہی آتش پرستی، بت پرستی کو رواج دیا ۔ اپنے مکر اور حیلوں بہانوں کے ذریعہ لوگوں کو سیدھے راستے سے بھٹکا دیا ۔
[] ایک سبب بت پرستی کا یہ بھی ہے کہ شیطان بتوں کے پیٹ میں گھس کر لوگوں سے گفتگو کرتا ہے، غیب یا آئندہ کے حالات جھوٹی سچی اطلاع دیتا ہے ، عوام سمجھتے ہیں کہ بت بات چیت کرتے ہیں ۔ سمجھدار بت پرست اس قسم کی باتوں کو اجرام علویہ کی روحانیات بتاتے ہیں۔ [اللہ داسی خبائث نه زمونگه حفاظت اُوفرمائیلے کی]
اسی طرح شیطٰن نے بعض مشرکین کو پانی پر پرستش پر لگادیا ہے۔ جبکہ بعض مشرکین کو گائے اور دوسرے جانورں کی پُوجا پر لگا رکھا ہے۔ شیطان مشرکوں سے درختوں کی پُوجا کرواتا ہے، جنات کی بھی پُوجا کرواتا ہے۔ طلوع وغروب اور استواء کے وقت آفتاب کو مشرکین سے سجدہ کرواتا ہے، چونکہ ان اوقات میں شیطان سورج سے ملا ہوا ہوتا ہے، اس لئے وہ سجدہ درحقیقت شیطان ہی کو ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حضور سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
[] ایک مکر شیطان کا یہ ہے کہ وہ لوگوں کو عشق مجازی میں مبتلا کرکے خدا تعالٰی کے عشق حقیقی سے محروم کردیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے دل معشوق مجازی کی محبت میں مبتلا ہوکر معشوق حقیقی سے محروم ہوجاتے ہیں۔
[حق تبارک و تعالٰی نےقرآن مجید میں فرمایا ہے: "شیطان تمہارا دشمن ہے اس کو دشمن ہی سمجھو شیطان کی جماعت تمہیں اپنی طرف لا کر تم کو دوزخی بنانا چاہتی ہے".
شیطان کے مکرو فریب کے جال اتنے وسیع ہیں کہ اس مختصر سی جگہ میں ان کا بیان کردینا مشکل ہے، آگاہی کے لئے نمونہ کے طور پر مندرجہ بالا پوری تفصیل کا لب لباب آپ کی خدمت میں پیش کردیا ۔ اب تو آپ پر روشن ہوگیا ہوگا کہ ابلیس بنی نوع آدم کا بد ترین دشمن ہے. امید ہے آپ اپنی دعاوں میں ضرور یاد فرمائیں گے اور شیطان کی مضرتوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالٰی کے ہاں ہمارے لئے بھی پناہ مانگ لیجئے۔ شکریہ!
(بکھرےموتی)


Saturday, 31 August 2019

ظالم دشمن سے حفاظت کے لئے کیا کرے؟

ظالم دشمن سے حفاظت کے لئے کیا کرے؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دشمنوں کے حملوں کا اندیشہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: 
اَللّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِيْ نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُ بِک مِنْ شُرُوْرِهِمْ ​
(ابو داؤد ، کتاب فضائل القرآن، باب ما یقول الرجل إذا خاف قوما، الرقم: ۱۵۳۷)​
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے کوئی اندیشہ ہوتا تو اس طرح دعا کرتے «اللہم إنا نجعلک فی نحورہم ، ونعوذ بک من شرورہم» ”اے اللہ! ہم تجھے ان کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔“
بَاب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا خَافَ قَوْمًا
1537صحيححَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ
تشریح: دشمنوں اور بدطینت لوگوں کے شرور سے بچنے کے لئے مشروع مادی اسباب اختیار کرنا بھی توکل کا لازمی حصہ ہے۔ اور اللہ کی رحمت کا سائل رہنا مسلمان کا فریضہ اور اس کا شعار ہے۔
ایک آدمی ہے تو «اللہم إنا نجعلک فی نحورہم ، ونعوذ بک من شرورہم» کے بعد
"بحق الّا تعلوا علیّ وأتونی مسلمین" کئی آدمی ہیں تو "بحق لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" پوری فوج ہے تو "بحق لا حال ولا قوّۃ الا باللہ" بڑھائیں. 

یہ دعا پڑھ کے پھونک دو
-----------------------------------
سوال: میری خالہ خواب میں ہندؤں کو دیکھتی ہیں اور اس کے بعد ان کو گھبراہٹ ہوتی ہے اور بے چینی رہتی ہے اور بخار آجاتا ہے۔ اس کے لئے کوئی دعا بتادیں۔
الجواب وباللہ التوفیق:
ہرنماز کے بعد اللهم إنا نجعلک فی نحورھم ونعوذ بک من شرورھم سات مرتبہ اور اول وآخر درود شریف سات سات دفعہ پڑھ کر ہاتھوں پر دم کرکے جسم پر پھیرلیا کریں، یہی عمل رات کو سوتے وقت کرلیا کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
--------------------------------------------
سوال: میں نے خواب میں تین بار (ایک ہفتہ کے اندر) سانپ کو اس طرح دیکھا کہ بہت سارے تندرست جوان سانپ (جو کالا رنگ کا نہیں ہے ) پھن اٹھائے ہوئے مجھے دیکھ رہے ہیں، اور یہ سب سانپ میرے بہت قریب ہیں۔ میں ان سب پر لکڑی پھینک کر وار کرتا ہوں پر سانپ کو کچھ نقصان نہیں ہوتا اور وہ سب مجھ سے بے خوف ہیں۔اس حالت کو دیکھ میں تھوڑا حیرت میں ہوں۔
الجواب وباللہ التوفیق:
خواب اچھا ہے، ان شآء اللہ آپ کے دشمن کو غلبہ نہیں ملے گا، ہر نماز میں گیارہ گیارہ بار ”اللہم إنا نجعلک فی نحورہم ونعوذ بک من شرورہم“ پڑھ کر دعا کیا کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
--------------------------------------------------------------
سوال: جب ظالم کا ظلم ناقابلِ برداشت ہوجائے اور وہ گھر کی عزت خاک میں ملانا چاہتا ہو تو اس صورت حال میں کیا دعا، وظیفہ یا ورد کریں؟
الجواب وباللہ التوفیق: 
آپ فرض نماز باجماعت، تلاوتِ قرآن اور استغفار کی کثرت کا اہتمام کریں، گھر والوں کو بھی اس کی تاکید کریں اور درج ذیل اعمال بھی کریں، ان شآءاللہ  اللہ کوئی آپ کا اور گھر والوں کا بال بیکا نہیں کرسکے گا: 
1- شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے "منزل" کے نام مختلف قرآنی دعاؤں پر مشتمل مختصر سا رسالہ مرتب کیا ہے، جو بازار میں عام ملتا ہے، روزانہ ایک بار ان آیات کا پڑھ لیں اور اسے اپنی زندگی کا معمول بنالیں. 
2- یہ دو دعائیں کثرت سے پڑھیں: حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلْ نِعْمَ المَوْلیٰ وَنِعْمَ النَّصِیْر اور اللھم اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وآمِنْ رَوْعَاتِنَا.
فتوی نمبر: 143711200028 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
---------------------------------------------------------
دعاء انس رضی اللہ عنہ کی تحقیق
یہ دعا مشہور صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص ہیں، آپ نے دس سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے۔
دعا کا واقعہ یہ ہےکہ: ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ حجاج بن یوسف ثقفی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، حجاج نے اپنے اصطبل خانہ کے گھوڑوں کا معائنہ کرواکے تفاخرا ً حضرت انس سے دریافت کیا کہ: کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بھی ایسے گھوڑے تھے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے تو جہاد کے لئے تھے، فخر وغرور ونمائش کے لئے نہیں تھے۔
 اس جواب پر حجاج آپ پر غضب ناک ہوگیا۔ اور اس نے کہا کہ: اے انس (رضی اللہ عنہ) اگر تو نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نہ کی ہوتی اور امیر المومنین عبدالملک بن مروان کا خط تمہاری سفارش میں نہ آیا ہوتا کہ اس نے تمہارے ساتھ رعایت کرنے کے بارے میں لکھا ہے، تو میں تمہارے ساتھ وہ کچھ کرتا جو میرا دل چاہتا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم تو ہرگز میرے ساتھ کچھ نہیں کرسکتا ،اور میری جانب بری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ بلاشبہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے چند کلمات کو سن رکھا ہے، میں ہمیشہ ان کلمات کی پناہ میں رہتا ہوں اور ان کلمات کے طفیل میں کسی بادشاہ کے غلبہ اور شیطان کی برائی سے نہیں ڈرتا۔
حجاج یہ سن کر ہیبت زدہ ہوگیا اور ایک ساعت کے بعد سر اٹھاکر کہا: اے ابو حمزہ وہ کلمات مجھے سکھا دو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: نہیں میں ہرگز وہ کلمات تمہیں نہیں سکھاؤں گا کیوں کہ تم اس کے اہل نہیں ہو۔
جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ کے خادم حضرت ابان رضی اللہ عنہ کے استفسار پر آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ کلمات سکھائے۔ اور کہا کہ انہیں صبح و شام پڑھاکر اللہ تعالیٰ تجھے ہر آفت سے حفاظت میں رکھے گا۔
دعاء کے کلمات مختلف کتابوں میں کمی بیشی کے ساتھ اس طرح  ہیں:
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ،
بِسْمِ اللَّهِ عَلَى نَفْسِي وَدِينِي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى أَهْلِي وَمَالِي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ أَعْطَانِي رَبِّي،
بِسْمِ اللَّهِ خَيْرِ الْأَسْمَاءِ ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ دَاءٌ،
بِسْمِ اللَّهِ افْتَتَحْتُ، وَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ،
اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي، لَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا،
أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِخَيْرِكَ مِنْ خَيْرِكَ، الَّذِي لَا يُعْطِيهُ أَحَدٌ غَيْرُكَ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ،
اجْعَلْنِي فِي عِيَاذِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ سُلْطَانٍ، وَمِنْ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ، وَمِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ،  
إِنَّ وَلِيَّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ، وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ: حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
اللّٰهم إني أستَجيرُك مِنْ شَرِّ جَمِيعِ كُلِّ ذِي شَرٍّ خَلَقْتَهُ، وَأَحْتَرِزُ بِكَ مِنْهُمْ،
وَأُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيَّ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ}، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَنْ يَمِينِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَنْ يَسَارِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَمِنْ فَوْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَمِنْ تَحْتِي مِثْلَ ذَلِكَ،
وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ.
واقعہ کی تخریج:
عمل اليوم والليلة لابن السني (ص: 307)، الدعاء للطبراني (ص: 323)، الفوائد المنتقاة لابن السماك (ص: 27)،المنتظم في تاريخ الملوك والأمم (6/ 339)، تاريخ دمشق لابن عساكر (52/ 259) ، مجموع رسائل الحافظ العلائي (ص: 358) الخصائص الكبرى (2/ 298) ، سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد (10/ 228)
واقعہ کی اسانید:
۱۔ أبان بن أبي عياش، عن أنس بن مالك رضي الله عنه۔
عمل اليوم والليلة لابن السني (ص: 307)، تاريخ دمشق لابن عساكر (52/ 259) الخصائص الكبرى (2/ 298) ، سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد (10/ 228)۔
2۔ مُحَمَّدُ بْنُ سَهْل بن عُمَيرٍ القصَّارُ، عن أبِيهِ ، عَن أَنَس بْنِ مَالِكٍ
(الدعاء للطبراني ص: 323)، مجموع رسائل الحافظ العلائي (ص: 358)، المنتظم في تاريخ الملوك والأمم (6/ 339)
3- يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(الثاني من الفوائد المنتقاة لابن السماك ص: 27)
4- عبد الملك بن خصاف الجزري ، عن خصيف بن عبد الرحمن الجزري ، عن أنس
شرف المصطفى للخركوشي 5/7
5- علاء بن زيد الثقفي ، عن أنس 
مجموع رسائل الحافظ العلائي (ص: 359) بدون سند.
اسانید کا حال:
ابان بن ابی عیاش تو متروک ہے، تو اس کی روایت اگر تفرد ہو توشدید الضعف ہوگی، لیکن بقیہ اسانید کے راویوں کی متابعت کی وجہ سے ضعف میں تخفیف  ہوگی۔ بقیہ اسانید وطرق سے ناواقفیت کی بناء پر بعض حضرات نے اس روایت کو باطل قرار دیا، جو صحیح نہیں ہے۔
محمد بن سہل بن عمیر قصار کی توثیق مسلمۃ بن قاسم سے زین الدین قاسم بن قطلوبغا نے کتاب (الثقات ۸/۳۲۹) میں نقل کی ہے، البتہ ان کے والد کا حال معلوم نہیں ھے۔
یحیی بن عباد، اس کے باپ دادا کا بھی حال معلوم نہیں ہے، کتابوں میں ترجمہ نہیں ملا، تو سند میں مجاہیل کی وجہ سے ضعیف مانی جائے گی۔
چوتھی سند کا حال ٹھیک ہے، کسی راوی میں جرح شدید نہیں ہے، تو اس کا اعتبار کرسکتے ہیں۔
پانچویں سند بھی غیرمعتبر ہے، علاء بن زید متروک منکرالحدیث ہے۔
متن حدیث کے شواہد:
ظالم حاکم سے اندیشہ کے وقت پڑھنے کی جو دعائیں وارد ہیں، ان میں اس طرح کے الفاظ منقول ہیں، جو زیر بحث روایت کی تایید کرسکتے ہیں، مثال کے طور پر:
* حديث عبد الله بن مسعود: «إِذَا تَخَوَّفَ أَحَدُكُمُ السُّلْطَانَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ " - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - " وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، وَأَتْبَاعِهِمْ أَنْ يُفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ»
رواه ابن أبي شيبة، والطبراني في الدعاء 1056، والبخاري في الأدب. 707  وهو شاهد لا بأس به إلا أنه روي مرفوعا وموقوفا.
* حديث ابن عمر: إِذَا خِفْتَ سُلْطَانًا أَوْ غَيْرَهُ، فَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ۔
 رواه ابن السني في عمل اليوم والليلة (345) وهو شاهد ضعيف.
* حديث ابن عباس: إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مَهِيبًا تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ فَقُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ، وَجُنُودِهِ، وَأَتْبَاعِهِ، وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، إِلَهِي كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ (ثَلَاثُ مَرَّاتٍ).
 رواه البخاري في الأدب المفرد 708 وابن أبي شيبة 29177 والطبراني في الدعاء 1060. وهو شاهد لا بأس به، رجاله رجال الصحيح.
اسی طرح  (بِسْمِ اللَّهِ عَلَى نَفْسِي وَدِينِي، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى أَهْلِي وَمَالِي) معرفۃ الصحابہ لأبی نعيم (1/ 438) میں بدر بن عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہیں۔
(بِسْمِ اللَّهِ خَيْرِ الْأَسْمَاءِ) التحیات کی روایات میں حضرت عمر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ کی روایت سے منقول ہیں، السنن الكبرى للبيهقي (2/ 203)۔
(بِسْمِ اللَّهِ خَيْرِ الْأَسْمَاءِ بسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ دَاءٌ) مصنف ابن ابی شيبہ (5/ 138) میں حديث 24500.
خلاصہ:
دعاء انس صحیح ہے، اس کے پڑھنے کی اجازت ہے، متن میں کوئی ایسے الفاظ نہیں ہیں جن پر شرعا کوئی گرفت ہو، اس کی اسانید میں اگرچہ ضعف ہے، لیکن تعدد طرق سے ضعف کا  انجبار ہوجائے گا، اور اس کے الفاظ کے شواہد بھی احادیث میں وارد ہیں۔
ھذا ما تیسر جمعہ وترتیبہ، والعلم عند اللہ