Monday, 4 December 2017

دلی؛ یادوں کے دریچہ سے

زینب حمیرا زنیرا
کیاکبھی آپ نے شاہجہاں آبادعرف دہلی کی شاہی جامع مسجد کے مشرقی دروازے کے باہر کا منظرکا منظر دیکھا ہے؟آپ کو جوجو شکل نظر آئی، تصویر نظر آئی کیا وہایک دن میں قائم ہوگئی؟انگریزی زبان کی مشہور کہاوت یا دکیجئے کہ ’روم ایک دن میں نہیں بنا‘؛ یہی مقولہ دلّی پر بھی صادق آتا ہے۔ عہد پارینہ سے لے کر عہدمغلیہ تک،مبالغہ آرائی سے خداحفاظت فرمائے،تاریخ شاہد ہے کہ دلّی نے سینکڑوں انقلابات دیکھے ہیں۔ماضی پر نگاہ رکھنے والے بتاتے ہیں کہ وقت کے بہاو ¿ پررواں دواں یہ قدیم شہر ہر آنے والی تہذیب کو گلے لگاتا رہا اور ایک نیا روپ دھارتا رہا۔ وقت کے ساتھ نہ صرف اس کا نام اور تہذیب بدلی بلکہ ذائقے بھی بدلتے رہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سن 1639 کے دوران مغل بادشاہ شاہجہاں نے شاہجہاں آباد کی بنیاد رکھی وہ سب سے زیادہ بابرکت ثابت ہوئی۔ اسے مغل شہنشاہ شاہجہاں نے تعمیر کیا جو 1656میں مکمل ہوئی۔ یہ ملک کی بڑی اور معروف ترین مساجد میں سے ایک ہے۔دلی وہ دیار ہے جو مغلوں کی شان و شوکت کامرکز ثابت ہوا، شعرو شاعری کا مرکز رہا، پیسے کی ریل پیل تھی، شاہجہاں آباد کی رونق کا مرکز چوک تھا۔اس کے بازار ہنگاموں اور رونق سے پر تھے۔ چھلکارہ کٹورہ بجاتا چلا آ رہا ہے، ’میاں آب حیات ہے شربت نہیں۔‘ ککڑیاں سجائے خوانچے والا آواز لگاتا:
 ’لے لو بھائی لے لو، لیلی کی انگلیاں، مجنوں کی پسلیاں۔‘ گرما گرم پکوان خوانچوں میں دھرے ہیں۔ لونگ چڑے، قلمی بڑے، تئی کے کباب، کلیجی کی سیخیں۔ گاہک پر گاہک ٹوٹا پڑتا ہے۔ واہ کیا سماں ہے۔
خواہ کھائے یا نہ کھائے لیکن طبیعت خوشبو سے سیر ہو جائے۔سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ فرماتی ہیں کہ اگر نہاری 12 مصالحے کی چاٹ تھی تو حلیم تین ہانڈی کا پکوان۔ شاہی حلوائی بہت نفاست سے ادرک گاجر کے حلوے بنانے کے لئے بیٹھے کہ انگور ایسے کہ اصل کا گمان ہو۔ بریانی زردے کی دیگیں کھلیں اور گاہک ٹوٹ پڑے۔ یہ تھا سماں دلّی چوک کا۔
لیکن اس کا کیا کیجئے کہ ایک دن مغلیہ سلطنت پرایسا زوال آیا کہ شاہی باورچی خانوں کے چولھے ٹھنڈے پڑ گئے۔ کباب اور بریانی کی خوشبو ہوا میں گم ہو گئی۔ چاندنی چوک کی دکانیں ویران اور خوانچے فروشوں کی آوازیں کہیں کھو گئیں، تام سراور تال غائب ہو گئے۔
ملک کی اذیت ناک تقسیم نے دلّی کو تندور سے آشنا کیا، سانجھا چولہا سلگنے لگا اور گرما گرم روٹیاں سکنے لگیں۔ موتی محل جیسے ریستوراں شہر کی رونق بنے۔ تندوری مرغ، مکھنی چوزہ، دال مکھنی، بھٹی کا مرغ جیسے پکوان انھی کے مرہون منت ہیں۔
وقت نے کروٹ لی،مسلمانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے، غیر مسلموں کے ہاں بھی عمدہ اور لذیذ کھانے پکنے لگے۔ اپنی غذائی عادات و اطور کے سبب کائستھوں کو، آدھا مسلمان‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ترکاری کے ساتھ گوشت کا استعمال خوب کرتے تھے۔ کہتے ہیں شب دیگ کی روایت انھی پر ختم ہو گئی ہے اور مسور کی دال کا کیا کہنا، مچھلی کے کوفتے، خستہ بھنڈی، کریلے ایسے مہکتے کہ تازے کا گمان ہو۔
دوسری جانب تاجر یشہ مارواڑی گوشت مچھلی سے پرہیز کرنے والے پنیر، پالک، اروی اور بیسن کے ایسے عمدہ پکوان بناتے کہ جی چاہے کھاتے جاو ¿۔ یہ لہسن اور پیاز کے کھانے نہ صرف صحت مند بلکہ لذت سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔ چاٹ کے خوانچے والے گھر گھر آواز لگانے لگے۔
 وقت گزرتا رہا، بہتے زخموں پرماہ و سال نے مرہم رکھا اور زندگی ذرا پرسکون ہوئی تو قلعہ معلی کے کھانوں سے دلّی کی ویران گلیاں پھر سے آباد ہوئیں۔ بھٹیارے سرائے چھوڑ کر شہر کی گلیوں میں آبسے اور اپنے چولھے روشن کئے۔ آج بھی ان کی روٹی انھی پرانے کھانوں کی روایات کا حصہ ہیں لیکن وہ نزاکت اور نفاست کہاں؟ نہ وہ روپے رہے اور نہ وہ لگن۔ زندگی کی تیز دھوپ میں سب کچھ جھلس کر رہ گیا۔
عصر حاضر نے ایک بار پھر کوشش کی ہے کہ دہلی کے ذائقوں کو پھر سے مروج کریں اور پرانی لذتوں سے لوگوں کو آشنا کریں۔ دلّی دراصل ایک ایسی دیگ ہے جس میں ہر مذہب و ملت کے ذائقے موجود ہیں۔
خدا کرے کہ ہو جائے یہ چمن پھر آباد
مثال گل ہوں باشندے یاں کے خرم وشاد
بھلااس حقیقت سے کون انکار کرے گا کہ مغل حکمرانوں نے فن آشیزی یعنی کھانا پکانے کے فن کو آگے بڑھایا اور ہندوستان کے سادہ کھانوں کو ایک فن کی شکل دی۔دسویں اور گیارھویں صدی میں مسلمانوں کے عہد حکومت میں آشیزی نے غیر ملکی اثرات قبول کئے۔ ایرانی، ترکی، ہندوستانی اور مشرق وسطی کے دوسرے ممالک کے ذائقوں کے تال میل نے اس فن کو ایسے اعلی مقام پر پہنچایا کہ صدیوں بعد بھی مغلوں کی یہ میراث ہمارے درمیان زندہ و جاوید ہے۔ظہیرالدین محمد بابر اور بادشاہ ہمایوں کے عہدِ حکومت میں شاہی باورچی خانے نے قابل ذکر ترقی نہیں کی جس کی وجہ بابر کی قلیل مدت حکمرانی اور ہمایوں کی جلاوطنی تھی۔ لیکن اکبر کے دور حکومت میں شاہی باورچی خانے کا ذکر بہت باریک بینی اور جزیات کے ساتھ ملتا ہے۔
اکبر کے نورتن ابوالفضل کی تصنیف ’آئین اکبری کے اندرجات شاہد ہیں کہ اکبر بادشاہ کی بیشتر غذا گندم، چاول اور دالوں پر مشتمل تھی یعنی عہد اکبری کا کھانا تین اقسام کا تھا۔ صوفیانہ وہ کھانا جس میں گوشت شامل نہیں ہوتا تھا، چند کھانے اناج اور گوشت کو ساتھ ملا کر پکائے جاتے تھے اور کچھ کھانوں کو گھی، دہی اور مصالحہ جات کے ساتھ پکایا جاتا تھا۔ حلیم، دوپیازہ، زرد برنج، اور شیر برنج اسی دور کے پکوان (خوان) ہیں جو آج بھی ہم بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ ترکی، افغانی اور ایرانی کھانوں کے ساتھ اب ہندوستانی کھانے بھی شاہی دسترخوان کی زینت بننے لگے تھے۔
جہانگیر ایک عاشق مزاج بادشاہ کی حیثیت سے بھی معروف ہے اور ان کے جمالیاتی ذوق کو بہت سراہا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے ان کی فرصت کا بیشتر وقت کشمیر کی حسین وادیوں میں گزرا۔ وہ شکار کے شوقین تھے اور چڑیوں کا بھی شکار کرتے تھے۔ان کے دربار کے باورچیوں نے بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی جستجو میں چڑیوں کے انواع و اقسام کے خوان شاہی دسترخوان پر پیش کئے۔ تیتر، بٹیر، مرغابی، بطخ وغیر کے کباب اور سالن بادشاہ کو مرغوب تھے۔ نورجہاں نے اپنی جدت پسندی سے کھانوں کو مزید رونق بخشی۔ تاریخ میں تاثر دیا گیا ہے کہ مغل حکمراں طبعاً گوشت خور واقع ہوئے تھے جس کی اہم وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس جگہ کی آب و ہوا تھی جہاں سے ان کا تعلق تھا۔ گوشت کا تعلق طاقت اور بہادری سے تھا اور ایک بادشاہ میں ان صفات کا ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا۔
شاہی باورچی خانے میں روزانہ بے شمار کھانے تیار کئے جاتے تھے۔ کچھ پختہ اور کچھ نیم پختہ اور بادشاہ کا اشارہ پاتے ہی خاصہ لگ جاتا تھا۔ چاول کے آٹے کو عرق گلاب اور مصری کے ساتھ ابال کر ٹھنڈا ہونے کے بعد طشتریوں میں پیش کیا جاتا تھا۔ شاید یہ دور حاضر کی کھیر کا آغاز تھا۔چاول کے آٹے کو بادام اور مرغ کی بوٹیوں کے ساتھ کوٹ کر عرق گلاب اور عنبر کی آمیزش کے ساتھ ملا کر شیرینی بنائی جاتی تھی۔ یہ شاہی دسترخوان کی محبوب شیرینی تھی۔ ہر طرح کے اچار، مربے، چٹنیاں، تازہ ادرک کے لچھے، رسیلے لیموں، سبز دھنیے اور پودینے مختلف تھیلیوں میں مہر بند کئے جاتے تھے۔ دہی بھری طشتریاں بھی خاصہ کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔ اچار مربے شاہی حکیم کی نگرانی میں تیار کئے جاتے تھے۔ پھلوں سے بنائے جانے والے شربت اور مربے اشتہا انگیز، زود ہاضم اور کئی بیماریوں کا علاج تھے۔
شاہی ضیافتوں کے علاوہ بادشاہ حرم میں خاصہ تناول فرماتے اور کسی بھی غیر شخص کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ بادشاہ کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھ لے۔ پان مغل تہذیب کا اہم حصہ تھا۔ پان کے پتوں کو عرق گلاب اور کافور سے ملا جاتا تھا۔ سپاری (ڈلی) عرق صندل میں ابالی جاتی تھی۔ چونا زعفران اور عرق گلاب کی آمیزش سے تیار کیا جاتا تھا۔ گیارہ پانوں کا ایک بیڑا تیار کیا جاتا اور چاندی کے خاص دان میں پیش کیا جاتا تھا۔
پان کھانے کے بے شمار فوائد بیان کئے گئے ہیں۔ اس کے چبانے سے زبان ملائم، منھ خوشبودار اور پیٹ غیر ضروری گیس سے محفوظ رہتا ہے۔ سپاری قبض آور ہے اور چونا منھ سے کڑوی اور میٹھی رطوبت کو دور کرتا ہے۔ مغلوں کا دارالحکومت بادشاہ کے ساتھ منتقل ہوتا رہتا تھا۔ مغربی سیاح برنیئر لکھتے ہیں: 
"جیسے ہی کوچ کا اعلان ہوتا شاہی باورچی خانہ اپنے تمام عملے کے ساتھ مع ساز و سامان آگے چل پڑتا۔"
اطالوی سیاح منوچی نے لکھا ہے کہ: 
"شاہی باورچی خانہ رات کے دس بجے کوچ کرتا تاکہ بادشاہ کو صبح کا ناشتہ فراہم کرواسکے۔"
"باورچی خانے کا قافلہ 50 اونٹ مع اشیا خوردنی، 50 تندرست فربہ مویشی دودھ کے لئے، 200 حمال دسترخوان پر پیش ہونے والے برتنوں کے ساتھ، بڑی تعداد میں باورچیوں کا ٹولہ (ایک خوان کے لئے ایک باورچی)، مصالحہ جات مخمل کے ٹکڑوں میں مہربند، آبدار خانے کا عملہ، مشک بردار، مشعل بردار، اور صفائی کرنے والے سپاہیوں کی نگرانی میں سفر کرتا۔"
مغل بادشاہوں کے شاہی باورچی خانے کے قلمی دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ کھانوں میں مصالحوں کا استعمال بے حد کم تھا۔ زیرہ، دھنیا، ادرک، کالی مرچ، دار چینی، لونگ، سونف جیسے مصالحوں سے کھانے تیار کئے جاتے تھے۔
خشک میوے اور زعفران کھانوں کو مرغن اور لذیذ بنانے کے لئے تھے جبکہ بید مشک، عنبر، عرق گلاب اور کیوڑہ کھانے کو معطر بناتے تھے۔ عمدہ، لذیذ اور خوشبودار کھانے بادشاہوں کے شوق اور کمزوری تھے۔پرتگالیوں کی آمد کے ساتھ مغل عہد کے آخری دور میں آلو اور مرچ کا اضافہ ہوا اور نت نئے پکوان دسترخوان کی زینت بنے۔ بہادر شاہ کا دسترخوان بے حد وسیع تھا جو ترکی، افغانی، ایرانی اور ہندوستانی کھانوں سے مزین رہتا تھا۔
قورمہ، قلیہ، پلاؤ، نان، کباب کے ساتھ پوری کچوری، کھانڈوی دال، ہندوستانی مٹھائیاں اور حلوے تجربہ کار باورچیوں کے ہنرمند ہاتھوں کی داد دینے لگے۔ کھانوں کی تفصیل اس بات کی شاہد ہے کہ مغل حکمرانوں نے کس طرح فن آشیزی کو اس کی نفاست اور غذائیت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے آگے بڑھایا اور اسے نئی بلندیاں عطا کیں جو صدیوں بعد آج بھی زندہ وجاوید ہے۔یہ حکمراں نہ صرف تاج محل اور لال قلعے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں بلکہ ان کے عہد کے کھانوں نے بھی انھیں زندہ و جاوید کر دیا ۔
سلمیٰ حسین مزید رقمطراز ہیں کہ: ہندوستان کے راجہ مہا راجہ اور نوابوں کے دسترخوان پربہار ہوا کرتے تھے۔ ہر ایک کے دسترخوان کا الگ مزاج تھا۔ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب ہر چھوٹا بڑا راجہ اور نواب اپنے دسترخوان پر فخر کرتا نظر آتا تھا۔ ہر ایک کے دسترخوان کی دو تین چیزیں اپنی مثال آپ ہوتی تھیں جن کے لئے وہ دسترخوان مشہور ہوتا تھا۔دسترخوان کی یہ خصوصیت پشت در پشت برقرار رکھی جاتی۔ ان کے مطبخ کا ہر باورچی نئے نئے پہلو نکال کر انواع و اقسام کے کھانے تیار کرتا تھا۔راجاوں اور نوابوں کی سرپرستی اور قدر دانی کی بدولت بہترین باورچی پیدا ہوتے رہتے تھے لیکن کچھ ہی مدت بعد زمانہ ایسا بدلا کہ نہ وہ راجواڑے رہے اور نہ اب ہنرمند باورچیوں کا نشان باقی ہے۔’ڈائن ود رائلٹی‘ کی بانی سونل سکسینہ کی ان تھک محنت نے ہندوستان کے ہر حصے سے چھوٹے بڑے تقریباً دو درجن شاہی خاندانوں کو حال ہی میں دہلی میں یکجا کیا کہ وہ اپنے روایتی کھانوں کو ان لوگوں تک پہنچائیں جو نفیس اور لذیذ کھانوں کا ذوق رکھتے ہیں۔مرکزی دارالحکومت دہلی میں بیلجیئم کے سفارت خانے کے وسیع لان میں ہر شاہی خاندان کے لئے الگ الگ خیمے لگوائے گئے جن کی سجاوٹ انہی کے ذوق کے مطابق عمل میں آئی۔ ہر خیمے کے متصل باورچی خانے کا انتظام تھا جہاں شاہی خاندان کے موجودہ باورچیوں نے اپنی ہنرمندی کے نمونے پیش کئے۔شاہی دعوت کے آغاز سے پہلے شاہی خاندان کے افراد نے پیش کئے جانے والے اپنے کھانوں کا مفصل ذکر کیا جن میں کھانوں کی تاریخی روایات، جغرافیائی محل وقوع، خارجی اثرات وغیرہ کا ذکر شامل تھا۔ بعض ایسے بھی گمنام شاہی خاندان تھے جن کے بارے میں جان کر ہمیں دلی مسرت ہوئی۔ ہندوستان کی وسیع و عریض مملکت ہے اور اس کے ہر گوشے و کنار میں کئی شاہی ریاستیں سالہا سال سے وجود رکھتی تھیں جو وقت کے ساتھ اب گمنام ہوچکی ہیں۔ چار روزہ جشن کا لب لباب یہ رہا کہ اگلے وقتوں کے باورچی خانے وسیع ہوا کرتے تھے۔ شاہی دعوتوں کا سلسلہ شب و روز جاری رہتا تھا۔ باورچیوں کی تعداد کثیر ہوا کرتی تھی۔ باورچی خانہ کئی محکموں میں منقسم ہوا کرتا تھا۔ ان کا نگراں ایک تجربہ کار شخص ہوتا تھا جو داروغہ باورچی کہلاتا۔ ہر باورچی اپنے فن میں ماہر ہوتا تھا کیونکہ نفیس غذاؤں کے ساتھ اچھا پکانے کے ہرنے واقفیت کا ہونا ضروری تھا۔ صفائی اور پاکیزگی کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔سفارت خانے کے وسیع و عریض لان میں ہندوستان کے راجہ اپنی اپنی رانیوں، شاہزادوں اور شہزادیوں کے ہمراہ براجمان تھے اور آزاد ہند کی تاریخ میں یہ نادر موقع تھا۔ جشن صرف کھانے کے متعلق بات چیت اور مہمان نوازی پر مشتمل نہیں تھا بلکہ موسیقی اور جام نے محفل کو اپنے رنگ میں شرابور کر رکھا تھا۔
سونل کی اس کوشش سے نہ صرف بہت سی ریاستیں ایک بار پھر سے روشنی میں آئیں بلکہ ان کے خاندانی باورچیوں کی ہمت افزائی بھی ہوئی جنھوں نے اپنی میراث کو آگے بڑھانے میں حصہ بھی لیا۔
ان کی کوششوں سے شاید علاقائی روایتی کھانے ناپید ہونے سے بچ جائیں۔ بیلجیئم کے سفیر جون لولک اور ان کی اہلیہ بیگم راکا سنگھ نے مہمانوں کا پرجوش استقبال کیا اور جشن میں شرکت کی۔ اس موقعے پر یہ بات سامنے آئی کہ علاقائی کھانوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ اکثر ہم شمالی ہند کے ذائقوں کا لطف اٹھاتے ہیں اور ملک کے بقیہ حصے نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی تقریبات معلومات کے وہ خزانے پیش کرتے ہیں جن سے ہم عام طور پر نابلد رہتے ہیں۔
............
سلمیٰ حسین رقمطراز ہیں کہ میں جب نئی نئی بمبئی سے دہلی پہنچی تھی تو راج پتھ پر کھڑی رئیس جمہور کی کشادہ اور وسیع عمارت کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ میں رہی کھانے پینے کی شوقین، بس یہی سوال ذہن میں ابھرا کہ اس وسیع عمارت کا باورچی خانہ کس قدر بڑا ہوگا۔ کتنے باورچی اور خدمت گار یہاں کام کرتے ہوں گے اور سارے کھانے کون کون کھاتے ہوں گے۔
سال بھر پہلے قسمت نے یاوری کی اور اپنے تخیل کو عملی جامہ پہنانے کا اس وقت موقع ملا جب مجھے اور لز (یعنی الزبتھ کولنگھم) کو ’راؤنڈ انڈیاز فرسٹ ٹیبل‘ نامی ایک کتاب لکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 138 صفحات پر مشتمل اس کتاب کا لکھنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ لیکن یہ ایک دلچسپ اور معلوماتی سفر تھا۔
سن 1912 سے اب تک اس موضوع پر کوئی کتاب نہیں لکھی گئی تھی، نہ ہی ان تبدیلیوں کا کہیں ذکر ہوا تھا جو اس عمارت میں وقوع پذیر ہوئی تھیں۔
سن 1912 میں جب انگریزوں نے اپنا دارالحکومت کلکتہ سے دہلی منتقل کیا تو وہاں کا ساز و سامان مع باورچیوں اور خدمت گاروں کے اس وسیع اور کشادہ عمارت میں منتقل ہوگیا اور اس عالیشان عمارت میں زندگی کے آثار پیدا ہوئے۔
انگریز وائس رائے اور اس کے عملے نے یہاں کے انتظام میں لندن کے بکنگھم پیلس کی نقل کی۔ تقریبا 500 خدمت گاروں کا عملہ وائس رائے کے خاندان اور ذاتی مہمانوں کی خدمت کے لئے مامور تھا۔
اس وسیع عمارت کا باورچی خانہ عمارت کی نچلی منزل میں تھا، جہاں ایک وسیع کمرے چولھے دہکتے تھے۔ ایک طرف بیکری تو دوسری طرف شراب کا ذخیرہ تھا، ساتھ کے کمروں میں رسد رکھنے کا انتظام تھا۔
کھانا لمبی لمبی بھٹیوں پر پکایا جاتا۔ کیک، پیسٹری اور پائی بنانے کے لئے ایک ٹھنڈا کمرہ تھا جس کا درجہ حرارت کیک اور پیسٹری بنانے کے لئے موزوں تھا۔
کھانا نہ ہندوستانی تھا نہ انگریزی بلکہ نئے حکمراں فرانسیسی کھانوں کے شوقین تھے اور ان کے ساتھ آنے والے باورچی اس فن کے استاد تھے۔ لارڈ ریڈنگ نے لارڈ ارون کو بطور خاص ہدایت کی تھی کہ ہندوستان میں انگریز خدمت گاروں کی تعداد بے حد کم رکھی جائے۔
وقت تیزی سے آگے بڑھتا گیا اور رفتہ رفتہ اس وسیع عمارت کے انتظام میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد یہ عمارت رئیس جمہور کی رسمی عمارت بن گئی اور ہر رئیس جمہور کے تقرر کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔
ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل راج گوپال آچاریہ ایک سیدھے سادے انسان تھے اور انھوں نے سب سے پہلے اپنا ذاتی باورچی خانہ شروع کیا، جہاں انھیں باورچی اور خدمت گار تو میسر تھے لیکن کھانا بالکل ہندوستانی تھا جو ان کا اپنا باورچی بنایا کرتا تھا۔
یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ ہر رئیس جمہور کا ذاتی باورچی ہوتا ہے جو ان کے ذوق اور مزاج کے مطابق کھانا بناتا اور پیش کرتا ہے۔ یوں انگریز اور فرانسیسی کھانے رسمی ضیافتوں تک محدود ہو کر رہ گئے۔ لیکن یہ سلسلہ بھی ایک عرصے کے بعد ختم ہو گیا۔
انگریز بہادر کے عہد کا مفصل حال دریافت کرنا بے حد مشکل کام تھا اور قلمی دستاویز یا کسی کتاب کی عدم موجودگی میں یہ بہت مشکل امر تھا لیکن پرانے باورچی اور بٹلر کی مدد سے کام قدرے آسان ہوگیا اور دلچسپ تفصیلات اور مواد ہاتھ آہی گیا۔
کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے۔ رسمی ضیافتیں، وائسرائے کا دسترخوان، جنگ آزادی اور اس کا اثر، رئیس جمہور کی رسمی دعوتیں، ہندوستان کے اپنے ذائقے۔
رسمی ضیافتوں کا انتظام ایک مشکل مرحلہ ہے جہاں نہ صرف دسترخوان کی اہمیت بلکہ ہندوستان کی عظمت بھی شامل حال ہے۔ ضیافتی کمرہ ایک وسیع کمرہ ہے جہاں رئیس جمہور بیرون سے آنے والے مہمانوں کی پذیرائی کرتے ہیں اور انھیں ہندوستان کی تہذیب اور ذائقوں سے آشنا کرتے ہیں۔
آزادی کے بعد رسمی ضیافتوں کا دسترخوان ہندوستان کے لذت سے بھرپور کھانوں سے سجنے لگا اور صدر عبدالکلام نے مہمانوں کی سہولت کے لئے یہ ہدایات جاری کیں کہ رسمی ضیافت میں مہمان کے اپنے ملک کے دو پکوانوں کا اضافہ کیا جائے۔
اس کے علاوہ رئیس جمہور کے اپنے منطقے اور علاقے کے ذائقے بھی شامل کئے جائیں۔ آہستہ آہستہ ہندوستان کے ہر علاقے کے ذائقے رسمی ضیافتوں کا حصہ بن گئے۔
رسمی ضیافتوں میں خدمت گار کا کام مہمانوں کی دیکھ بھال، کھانوں کی پیشکش، کمرے کی سجاوٹ، موسیقی، شمعدانوں اور گلدانوں کا انتخاب، سرخ اور سبز بتیوں کا انتخاب وغیرہ شامل ہیں۔
کھانا سوپ یا شوربے سے شروع ہوکر شیرینی پر ختم ہوتا ہے۔ ساتھ ہی قہوہ یا کافی کا دور بھی چلتا رہتا ہے۔ کھانا مختلف کورسز میں پیش کیا جاتا ہے۔ پہلے سوپ، پھر کباب یا اسی طرح کی کوئی چیز۔ اس معاملے میں خدمت گار کی مدد کے لئے دروازے پر لگی سرخ اور سبز بتیوں کا استعمال ہوتا ہے۔ سبز پر کھانا شروع اور سرخ پر ختم۔
یہ رسمی ضیافتیں سیاست کا ایک اہم حصہ ہیں، جہاں رئیس جمہور سے ملاقاتیں ہلکی پھلکی باتوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ سیاست کے داؤ پیچ کا یہاں گزر نہیں۔ یہ رسمی دعوتیں صرف دو ممالک کے درمیان دوستی کا پیغام ہیں اور ہندوستان کی تہذیب سے آشنائی ہے۔ رسمی ضیافت کے مہمان ملک کے ہر شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہندوستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
جب کبھی ہندوستان کے شاہی باورچی خانوں اور ان میں تیار کئے گئے شاہی پکوانوں کا ذکر ہوتا ہے تو لکھنؤ، حیدرآباد اور رام پور ہی اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ ہندوستان کے جنوبی حصوں کے شاہی باورچی خانوں کا ذکر شاذ و نادر ہی سننے یا پڑھنے میں آتا ہے۔
جنوبی ہند کے راجا مہاراجہ بھی شمالی ہند کے نوابوں کی طرح ہی ذائقہ دار کھانوں کے دلدادہ تھے اور ان کے شاہی باورچی خانے بھی لذیذ اور متنوع کھانوں کی تیاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ شاہی سرپرستی اور بے تہاشا مالی وسائل نے باورچیوں کے ہنر اور مہارت کو آگے بڑھایا۔ میسور، ارکاٹ، ٹراونکور اور تنجور کے شاہی باورچی خانوں کی کہانیاں بڑی دلچسپ اور مزیدار ہیں۔
حکایت ہے کہ میسور کے شاہی محل کے خزانچی نے ایک شاندار ضیافت کا اہتمام کیا۔ باورجی سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی کام میں مصروف ہوگئے۔ کھانا شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل خزانچی نے باورچی کھانے کا دورہ کیا۔ اس نے دیکھا ایک بڑی سی ٹوکری میں سبزیوں کے تراشے کچھ حصے باورچی کھانے کے ایک کونے میں رکھے ہیں۔ پوچھنے پر پتہ لگا کہ سبزیوں کے یہ حصے استعمال سے خارج ہیں اور کسی مصرف کے نہیں ہیں۔ خزانچی باورچی سے کہا میاں عقل دوڑاو اور ان کے استعمال کی کوئی انوکھی ترکیب نکالو۔
باورچی نے بڑے غور و فکر کے بعد ناریل کے تراشے اور دہی کے امتزاج سے گاڑھا شوربا بنایا۔ سبزیوں کے قابل استعمال حصوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں کاٹ کر ہلکے مسالے میں ملا کر ناریل کے شوربے میں ڈال دیا۔ مرکب ہلکی آنچ پر پکنے دیا اور شام کے وقت ضیافت میں ایک نئے پکوان ک طور پر پیش کیا۔
ضیافت میں موجود مہمانوں نے بڑے شوق سے نئے پکوان کا لطف اٹھایا اور نام دریافت کیا۔ باورچی نے بلا تامل کہا 'ایول'۔ اسی دن سے ایول شاہی دسترخوان کی زینت بنا اور آج تک جنوبی ہند کے لذیذ پکوانوں میں اس کا شمار ہوتاہے۔ ایک ہنر مند اور عقل مند باورچی کا انوکھا تجربہ۔
ٹراونکور جنوبی ہند کی مشہور ریاست ہے۔ دولت کی ریل پیل اورشوقین مزاج راجا مہاراجاوں کی سرپرستی نے اس کے شاہی باورچی خانے کو بھی بڑی شہرت کا مالک بنا دیا۔ ٹراونکور کے شاہی پکوان مہارانی سیتو پاروتی بائی کے شوق اور لگن کا نتیجہ تھے۔
مہارانی سیتو پاورتی بائی راجا پال رام ورما کی والدہ تھیں۔ مہارانی نہ صرف عمدہ کھانوں کی شوقین تھیں بلکہ ان کی نگرانی میں پکائے گئے پکوان ہر خاص و عام سے داد و تحسین حاصل کرتے تھے۔ مہارانی کے کھانوں سے بہت سی پرانی حکایتیں بھی وابستہ تھیں اور شاہی محل کو لوگ اس سے بڑا لطف اٹھاتے تھے۔ ’وا اماں‘ مہارانی کے نام سے مشہور تھیں۔
اماں مہارانی بذات خود باورچیوں کو ہدایات دیتی تھیں اور شاہی باورچی خانے میں تیار ہونے والے ہر پکوان کی نگرانی کرتی تھیں۔ دودھ سے بنی ہر چیز شاہی باورچی خانے میں تیار ہوتی تھی۔ ان کی نگرانی میں جمائے گئے دہی کا مزا ہی کچھ اور تھا۔ ان کی مہمان نوازی بھی بے مثال تھی۔
بیسویں صدی کے موسیقار، مصور، سائنسدان، مختلف صوبوں کے سربراہ الغرض کوئی فرد ایسا نہ تھا جس نے اماں مہارانی کی ضیافتوں کا لطف نہ اٹھایا ہو۔ جس نے ان کے زیر نگرانی میں بنے کھانوں کو کھایا، اس نے بار بار اسے کھانے کی تمنا کی۔ ہر مہمان کے ساتھ ان کا رویہ یکساں ہوتا تھا چاہے اس کا تعلق دنیا کے کسی بھی حصے سے ہو۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اماں مہارانی خود سبزی خور تھیں، گوشت، مچھلی اور مرغ سے اجتناب تھا لیکن ضیافت کی میز متنوع کھانوں سے سجی رہتی تھی۔ گوشت، مرغ اور مچھلی کے پکوان ایک الگ باورچی کھانے میں تیار ہوتے تھے۔ مہمانوں کی خاطر مدارت بہترین قسم کی شراب سے کی جاتی تھی۔ بلور کے بیش قیمت جاموں میں چھلکتی شراب، قابوں میں سجے خوشبودار پکوان ٹراونکور کی ضیافتوں کی جان تھے۔
شاہی خاندان کے لوگ سبزی خور تھے اور شراب کے بجائے صرف پانی پر اکتفا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ پرانی روایتوں کے مد نظر اور اماں مہارانی کے بنائے اصولوں کے مطابق ٹراونکور میں آج بھی دو قسم کے باورچی خانے موجود ہیں۔ ایک میں جنوبی ہند کے روایتی سبزیوں کے پکوان اور دوسرے باورچی خانے میں مغربی طرز پر گوشت مچھلی اور مرغ کے پکوان تیار کئے جاتے ہیں۔
گاجر کو بیچ سے چاک کرلیں اور تازہ تراشے ناریل سے بھردیں۔ گاجر کے اوپر کے حصے کو بریڈ کرمب سے بند کر دیں۔ تیل میں فرائی کرکے میز پر پیش کریں۔ سادہ آسان اور مزیدار۔

مدرسہ کی رقم بطور قرض؟

حضرت مفتی صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک دینی مدرسہ کا خازن بوقت ضرورت مدرسہ کی رقم بطور قرض اپنے ذاتی استعمال میں لاسکتا ہے یا نہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق: 
خازن کی حیثیت امین کی ہے اور اس کے پاس رکھی ہوئی رقم بمنزلہ امانت ہے۔ بغیر انتظامیہ کی اجازت کے خازن کا اس سے قرض لینا یا اپنی کسی ضرورت میں صرف کرنا جائز نہیں ہے۔
رجل جمع مالا من الناس لینفقہ في عمارۃ المسجد، فأنفق من تلک الدراہم في حاجتہ، ثم رد بد لہا في نفقۃ المسجد لایسعہ أن یفعل ذلک۔ (الفتاوی التاتار خانیۃ، کتاب الوقف، الفصل الرابع العشرون: في الأوقاف التي یستغني عنہا الخ، مکتبہ زکریا دیوبند ۸/۱۹۸، رقم: ۱۱۶۲۹)
المحیط البرہاني، کتاب الوقف، الفصل الرابع والعشرون: صرف غلۃ الأوقاف إلی وجوہ أخر، المجلس العلمي ۹/۱۵۳، رقم: ۱۱۴۵۰) 
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
11 ربیع الال 1439 ہجری
.......
مدرسے کی رقم قرض كے طور پر دينے كا حكم

سوال: محترم مفتی صاحب ان مسائل ميں شرعی راہنمائی فرمائيں.
1. مہتمم مدرسہ کی رقم واجبات یا عطیات میں سے کسی کو قرض دے سکتا ہے جبکہ رقم مدرسہ کی وقتی ضرورت سے زائد ہو اور قرض دینے میں ادارہ کا کوئی حرج بھی نہ ہو؟
2. مذکورہ صورت مسئلہ ہی میں ادارہ کے کسی مدرس یا ملازم کو قرض دینا کیسا ھوگا؟
جواب: مهتمم مدرسے کی رقم صِرف مدرسے كے مصالح ميں لگانے كا پابندهے، اس لئے موقوفہ مال بطور قرض دینے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ مدرسہ کے اساتذہ اور ملازمین جو مدرسہ کے مصالح اور خدمت میں مصروف ہوں انھیں پیشگی تنخواہ کی مد میں بطور قرض رقم دی جاسکتی ہے جو ان کی تنخواہ سے منہا کی جائے، بشرطیکہ اساتذہ یا ملازمین کودی جانے والی رقم خطیر نہ ہوجس کی وصولیابی تنخواہ سے مشکل یا ناممکن ہو۔
فقط واللہ اعلم
جامعہ بنوریہ کراچی
http://www.banuri.edu.pk/readquestion/madarsai-ki-rqam-qarz-k-tor-per-dainai-ka-hukm/2014-02-08
......................

مدارس میں زکوٰة کی فراہمی اور طریقہٴ استعمال

             جب اسلامی حکومت تھی تو مدارس، مکاتب، مساجد اور خانقاہوں کے جملہ اخراجات کی کفالت حکومت کرتی تھی، ہندوستان میں مغلیہ حکومت کے زوال کے بعد دین اور علمِ دین کی حفاظت کے لیے حضرت نانوتوی اور ان کے رفقاء نے آزاد مدارس کی بنیاد ڈالی اور حضرت حاجی محمد عابد صاحب دیوبندی نے کس مپرسی کے عالم میں اپنے رومال میں تین روپے ڈال کر عوام کے چندے سے مدرسہ چلانے کی طرح ڈال دی؛ لیکن بات آگے بڑھی تو اس میں بے اعتدالی آگئی، اب دین کی حفاظت کے لیے کم لوگ ہی مدارس کھولتے ہیں، اکثر اپنی اقتصادی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے مدارس کھولنے لگے ہیں، مدات میں لاپروائی سے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے؛ جب قبلہ ہی بدل گیا تو نماز کیسے صحیح ہوگی؟ عملاً ایسا سمجھا جانے لگا کہ دینی علم حاصل کرنے کے لیے زکوٰة سے استفادہ ضروری ہے، بہت سے اہلِ ثروت اسی تصور سے اپنی اولاد کو علمِ دین نہیں پڑھاتے، دوسری طرف اس طرح بے اعتدالی ہورہی ہے کہ غیرمستحق طلبہ بھی اِمداد پر پلنے لگے، ایسی صورتِ حال کے پیشِ نظر زکوٰة کی وصولی کے لیے مدارس کے کسی وصف کو متعین کیسے کیا جاسکتا ہے؟ بس اتنا کہنا ہی بہتر سمجھ میں آتا ہے کہ اگر فقیر ونادار طلبہ تک زکوٰة پہنچ سکتی ہوتو وہاں زکوٰة دینا جائز ہے اور اہلِ مدارس اگر مستحق تک زکوٰة پہنچاسکتے ہوں تو لیں ورنہ احتراز کریں، دین وملت کی خدمت کے بہانے اپنے اعمال کو خراب نہ کریں۔
             اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْعَامِلِیْنَ عَلَیْہَا وَالْمُؤَلَّفَة قُلُوْبُہُمْ وَفِیْ الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاِبْنِ السَّبِیْلِ․ (توبہ:۶۰)
             ترجمہ: صدقات (زکوٰة) تو صرف غریبوں اور محتاجوں کے لیے ہیں اور زکوٰة کے کام پر جانے والوں کے لیے اور جن کی دل جوئی کرنا منظور ہے، اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں (زکوٰة صرف کی جائے) اور قرض داروں کے قرض ادا کرنے میں اور اللہ کے راستے (جہاد) میں اور مسافر (کی امداد) میں۔
             مدارس کے طلبہ اگر غریب اور محتاج ہیں تب تو ان پر زکوٰة صرف کرنے میں مضائقہ نہیں، اور اگر طلبہ کو ”فی سبیل اللہ“ میں داخل مانا جائے تب بھی فقر وحاجت مندی کی شرط ملحوظ رہے گی، مال دار اور صاحبِ نصاب طلبہ پر زکوٰة کا مال صرف کرنے سے زکوٰة ادا نہیں ہوگی (معارف القرآن ۴/۴۰۶، ۴۰۷)
دینی کاموں میں مصروف علماء اور طلبہ
             مدارس کے طلبہ اور علماء جو دینی خدمات میں مصروف ہیں، چاہے وہ درس و تدریس میں ہوں؛ یا تصنیف و تالیف میں یا دعوت و تبلیغ میں؛ وہ اگر فقر وفاقہ سے دوچار ہیں (صاحبِ نصاب نہیں ہیں) تو اُن کو تعاون کے طور پر زکوٰة دی جاسکتی ہے، ان کو کسی خدمت کے معاوضے یا تنخواہ کے طور پر زکوٰة دینا جائز نہیں ہے۔
             ”فی سبیل اللہ“ میں مال دار، صاحبِ نصاب طلبہ اور علماء شامل نہیں ہیں، بعض فقہی عبارتوں سے لوگوں کو شبہ ہوتا ہے؛اس لیے ان کو جاننا چاہیے کہ فقہائے کرام نے فقر ومحتاجگی کی قید لگائی ہے، معارف القرآن (۴/۴۰۷) میں حضرت مفتی محمد شفیع دیوبندی نے اس کی صراحت نقل کی ہے، علامہ شامی نے بھی فقر کی قید کو اَوْجَہْ (زیادہ مدلل) بتایا ہے۔
             أمّا قولُہ تعالٰی: ”وفي سبیلِ اللّٰہ“ عبارةٌ عن جمیعِ القُرَبِ فَیَدْخُلُ فیہ کلُ مَنْ سَعیٰ في طاعةِ اللّٰہ تعالیٰ، وسبیلِ الخیراتِ اذا کان محتاجًا․ (بدائع ۲/۱۵۴)
        قلت: وہو کذلک، والأوْجَہُ تقییدُہ بالفقیر الخ (رد المحتار ۳/۲۸۶ زکریا)
             ترجمہ: بہرحال اللہ تعالیٰ کا قول: ”وفی سبیل اللہ“ یہ سارے نیک کام کی تعبیر ہے؛ اس لیے اس میں ہر وہ شخص داخل ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اچھے کاموں میں کوشاں ہو؛ جب کہ وہ محتاج ہو۔
             میں (علامہ شامی) کہتا ہوں: وہ اسی طرح ہے اور فقیر ہونے کی قید زیادہ مدلل ہے۔
زکوٰة میں تملیک
             زکوٰة کے جو بھی مصارف قرآنِ پاک میں بیان کیے گئے ہیں، ان میں مستحق کو مالِ زکوٰة کا مالک بنانا شرط ہے، مالک بنائے بغیر زکوٰة ادا نہیں ہوتی، اس پر ائمہ اربعہ اور جمہور فقہائے امت متفق ہیں۔ اسی وجہ سے تعمیر میں زکوٰة کی رقم خرچ کرنا جائز نہیں ہے خواہ وہ مسجد کی تعمیر ہو یا مدرسہ کی، یا کسی اور رفاہی ادارہ کی۔
             قرآن مجید کی آیت: انَّما الصَّدَقَاتُ للفقراء الخ میں ․․․․․
             قرآن نے چار مصارف کو ”لام“ اور چار کو ”فی“ کے ذریعہ بیان کیا ہے، لام تملیک لیے ہے اور ”فی“ ظرفیت کے لیے استعمال کیا ہے، ظرفیت سے زیادہ استحقاق کی طرف اشارہ ہے، اِن میں بھی تملیک کی صراحت مفسرین نے فرمائی ہے۔ (تفصیل معارف القرآن میں دیکھیں ۴/۴۰۴، ۴۰۷)
             غرض یہ کہ اگر زکوٰة مدارس کے مستحق طلبہ کو دی جارہی ہے تو ان کو بھی مالک بنانا ضروری ہے۔
             ویُشْتَرَطُ أنْ یَکُوْنَ الصَّرْفُ تَمْلِیْکاً لَا ابَاحَةً (در مختار) فَلَا یَکْفِيْ فِیْہا الْاطْعَامُ الاّ بِطَرِیْقِ التَّمْلِیْکِ․ (رد المحتار ۳/۲۹۱ زکریا دیوبند)
             ترجمہ: اور زکوٰة میں مالک بنانے کی شرط لگائی جاتی ہے، اباحت (استفادہ کی اجازت دینا) کافی نہیں ہے؛ لہٰذا ادائے زکوٰة میں کھلا دینا کافی نہیں ہے؛ البتہ بطور تملیک کھلانے سے (زکوٰة ادا ہوجائے گی)
تملیک کے قائم مقام صورتیں
             اگر کوئی صاحبِ نصاب آدمی مستحق کی پرورش کررہا ہے اور مستحق پر زکوٰة کی رقم خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس کی چند صورتیں ہوسکتی ہیں:
             (الف) اس کی واضح صورت یہ ہے کہ زکوٰة کی رقم اس کے حوالے کردے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مصرف میں خرچ کرے، اس صورت میں تو کوئی شبہ نہیں ہے کہ تملیک ہوگئی اور زکوٰة ادا ہوگئی۔
             (ب) دوسری صورت یہ ہے کہ زکوٰة کی رقم سے کوئی چیز خرید کر لائے اور مستحق کے حوالے کردے، مثلاً: کپڑا، دوا وغیرہ اس میں بھی تملیک پائی جاتی ہے؛ اس لیے جائز ہے۔
             (ج) تیسری صورت یہ ہے کہ مستحق کو کھانا دے، اس کی دو شکلیں ہوسکتی ہیں: ایک یہ کہ کھانا اپنے ہاتھ سے دے دے، اس صورت میں بھی زکوٰة ادا ہوجائے گی کہ دینا پالیاگیا۔
             دوسری شکل یہ ہے کہ مستحق کو کھانا ساتھ میں کھلائے، اس آخری شکل میں زکوٰة ادا نہیں ہوگی۔
             اذَا کَانَ یَعُوْلُ یَتِیْمًا وَیَجْعَلُ مَا یَکْسُوْہُ وَیُطْعِمُہ مِنْ زکوٰةِ مالہ فَفي الکسوةِ لاشکَّ في الجوازِ لِوُجودِ الرُّکْنِ وَہُوَ التَّملیکُ، وأمّا الطعامُ فَمَا یَدفعہ الیہ بِیَدِہ یَجوزُ أیضاً لِما قُلنا بِخلافِ مَا یأکُلہ بِلا دفعٍ الیہ․ (ردالمحتار ۳/۱۷۲ زکریا)
             ترجمہ: جب کسی یتیم کی پرورش کررہا ہو اور اس کو اپنی زکوٰة کے مال سے کپڑے اور کھانے دے رہا ہو تو کپڑے کے جواز میں تو شبہ نہیں؛ رکن (تملیک) کے پائے جانے کی وجہ سے، رہا کھانا تو جو کھانا اپنے ہاتھ سے اُسے دے دیتا ہے تو (زکوٰة کی ادائیگی میں) یہ (صورت) بھی جائز ہے، اس دلیل کی وجہ سے جو ہم نے بیان کردی ہے، بخلاف اس کھانے کے جو بلادیے وہ (ساتھ میں) کھاتا ہے (اس سے زکوٰة ادا نہ ہوگی)
مدارس کے مہتمم کی شرعی حیثیت
             مدارس کے مہتمم ایک طرف تو چندہ دہندہ کے وکیل ہوتے ہیں، اس طرح کہ چندہ دینے والے اگر مصرف متعین کرکے دیں تو مہتمم صاحب اسی مصرف میں خرچ کرنے کے پابند ہیں، مثال کے طور پر چندہ (غیرزکوٰة) دینے والے نے مدرسہ کی عمارت میں خرچ کرنے کی قید لگائی تو مہتمم صاحب اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے مصرف میں خرچ نہیں کرسکتے۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ۱۴/۱۲۵ تلخیص)
             حضرت مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ ”ظاہراً مہتمم وکیل مُعطِی کا ہے“ (امداد الفتاویٰ ۳/۳۱۶)
             مدارس کے مہتمم دوسری طرف طلبہ کے قَیِّم اور نائب ہوتے ہیں؛ اس لیے ان کا قبضہ طلبہ کا قبضہ کہلائے گا، چندہ دیتے ہی چندہ دہندگان کی ملکیت سے چندہ خارج ہوجاتا ہے، اوراس پر طلبہ کی ملکیت ہوجاتی ہے، مدارس بیت المال کی طرح ہیں اور مہتمم صاحب نگراں کی طرح؛ اس میں طلبہ کا معلوم و متعین ہونا بھی ضروری نہیں ہے جس طرح بیت المال کے مستحقین معلوم ومتعین نہیں ہوتے (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ۱۴/۱۲۵ تلخیص)
مستحق طلبہ پر صدقاتِ واجبہ کے خرچ کی صورتیں
             مدارس میں آئی ہوئی زکوٰة کی رقم کا مستحق تک پہنچنا مہتمم صاحب کے لیے لازم وضروری ہے، اس کے بغیر مہتمم صاحب اپنی ذمہ داری سے سبک دوش نہیں ہوں گے، اس کی درج ذیل صورتیں ہیں:
             ۱- اگر نقد وظیفہ کے طور پر زکوٰة کی رقم مستحق طلبہ کے حوالے کرتے ہیں تو اس میں تو کوئی اشکال نہیں۔
             ۲- اور کھانا اگر فرداً فرداً تقسیم کرکے دیا جاتا ہے تو یہ بھی تملیکِ ہے، ان دونوں صورتوں کی دلیل اوپر گزرچکی۔
             ۳- مہتمم صاحب کو طلبہ کا وکیل ماننے کی صورت میں تملیک طعام ضروری نہیں، اباحت یعنی طلبہ کو بٹھاکر کھلانا بھی جائز ہے۔ (فتاویٰ دارالعلوم ۴/۱۲۷ حضرت مفتی سعید احمدپالن پوری)
             ۴- طلبہ کو لباس اور علاج کے لیے زکوٰة کی رقم دینے سے بھی زکوٰة ادا ہوجاتی ہے، اس میں بھی پہلی صورت کی طرح تملیک واضح ہے۔
             ۵- دواخانہ میں شریک مستحق طلبہ کے علاج کا بِل ادا کرنے سے بھی زکوٰة ادا ہوجاتی ہے۔
             ۶- کوئی چیز خریدکر طلبہ کو دے دینے سے زکوٰة ادا ہوجائے گی۔
             ۷- پانی اور بجلی بھی چوں کہ طلبہ پر خرچ ہونے والی چیزیں ہیں؛ اس لیے ان کا بِل ادا کرنے سے بھی زکوٰة ادا ہوجائے گی؛ البتہ ان میں مستحق اور غیرمستحق کے تناسب کا لحاظ ضروری ہے، غیرمستحق کو حساب میں مستثنیٰ کرنا ضروری ہوگا، جس طرح مطبخ میں پکائے جانے والے کھانے میں حساب کیا جاتا ہے۔
             ۸-اگر مدرسہ کرایہ کی عمارت میں چل رہا ہے تو زکوٰة کی رقم سے کرایہ ادا کرنے سے بھی زکوٰة ادا ہوجائے گی؛ اس لیے کہ مہتمم کو طلبہ کا وکیل مانا گیا ہے اور مکان میں رہائش طلبہ نے اختیار کی ہے اور کرایہ بدلِ رہائش ہے۔
             ۹- بعض وہ چیزیں جن سے طلبہ بالواسطہ فائدہ اٹھاتے ہیں یا وہ ان چیزوں سے سارا فائدہ نہیں اٹھالیتے، جیسے: درس گاہ کی تپائیاں، مدرسہ کی عمارت اور مستعار دی گئی کتابیں وغیرہ؛ ان میں براہِ راست زکوٰة اور صدقاتِ واجبہ کی رقم خرچ نہیں کی جاسکتی، ان کے لیے تملیک ضروری ہے۔ اسی طرح مدارس کے دیگر مصارف، مثلاً: تنخواہ، مہمان نوازی، اجرائے رسائل، دارُالاقامہ اور دعوت وتبلیغ کے جملہ اخراجات میں مہتمم صاحب براہِ راست زکوٰة کی رقم خرچ نہیں کرسکتے، ان میں بھی تملیک ضروری ہے۔
حیلہٴ تملیک
             کسی مستحقِ زکوٰة سے پہلے مدرسہ کی ضروریات بتادی جائیں، جس کو مدرسہ سے ہمدردی ہو اور اجر وثواب کے حصول کا مخلصانہ جذبہ بھی ہو، اور وہ اپنی ملکیت کی چیز کو مدرسہ کی ضروریات میں خرچ کرنے پر راضی ہو، اس کو زکوٰة کی رقم دی جائے کہ وہ اپنی مرضی سے مدرسہ کو دے دے اور مفت میں صدقہ کا ثواب حاصل کرلے، اس کے اوپر کوئی دباؤ نہ ہو، اگر خدانخواستہ وہ لے کر اپنی ضرورت میں صرف کرلے اور مدرسہ کو نہ دے تو مدرسہ والے اس کے خلاف کسی دباؤ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو حیلہٴ تملیک کی گنجائش ہے، حضرت بریرہ والی حدیث: لَکِ صَدَقَةٌ وَلَنَا ہَدِیَّة (بخاری ۱/۲۰۲، مسلم ۱/۳۴۵) اس کی اصل ہے۔
             وَالْحِیْلَةُ لَہ أن یَتَصَدَّقَ بِمِقْدَارِ زکاتِہ عَلیٰ فَقِیْرٍ ثُمَّ یأمرہ بعدَ ذلک بالصرف الٰی ہٰذہ الوُجوہِ، فیکونُ لِلْمُتَصَدِّقِ ثوابُ الصدَقَةِ ولذَلِکَ الْفقیرِ ثوابُ بناءِ المسجدِ والقنطرةِ․ (ہندیة ۶/۳۹۲، رد المحتار ۳/۱۹۱ زکریا دیوبند)
             ترجمہ: اور اس کا حیلہ یہ ہے کہ زکوٰة کی مقدار کسی فقیر پر صرف کرے، پھر اسے اِن وجوہ پر خرچ کرنے کو کہے، اس طرح صدقہ کرنے والے کو صدقہ کا ثواب اور اس فقیر کو تعمیرِ مسجد اور تعمیرِ پُل کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔
مدارس کا حال
             حیلہٴ تملیک کے بعد بھی وہ رقم مدرسہ میں ہی خرچ ہوگی، ذمہ دارانِ مدرسہ اپنی ضرورتوں میں خرچ کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے، اکثر مدارس کا حال ناگفتہ بہ ہے، ذمہ دارانِ مدرسہ اپنی تنخواہ متعین نہیں کرتے، وہ کفاف کے نام پر اپنی ذات اور اپنے اہل وعیال پر بے تحاشا خرچ کرتے ہیں، ان کو اللہ ربُّ العالمین، مالکِ یوم الدین سے خوف کھانا چاہیے، وہاں کوئی حیلہ کام نہ آئے گا۔ انھیں خیرالقرون کے محتاط بزرگوں اور امیروں کو نمونہ بنانا چاہیے!
داخلہ فارم میں توکیل نامہ
             چند سال پہلے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ فارم میں ایک ”توکیل نامہ“ شامل کیاگیا، دوسرے مدارس نے بھی تقلید کی، اس کی عبارت یہ تھی:
             ”میں حضرت مہتمم صاحب یا ان کے قائم مقام کو اپنی طرف سے زکوٰة وصول کرنے کا بھی وکیل بناتا ہوں، اور اپنی ضروریات میں خرچ کرنے کا بھی وکیل بناتا ہوں“ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ۱۴/۱۲۶)
             اس میں طلبہ کی ”ضروریات“ کی قید ہے؛ اس لیے مہتمم صاحب اپنے اور اپنے اہل وعیال کے تعیشات میں خرچ کرنے کے مجاز نہیں ہوسکتے۔
             طلبہ کی ضروریات کا مطلب بھی محدود ہے، جن چیزوں سے طلبہ براہِ راست فائدہ اٹھاتے ہیں وہی مراد ہوں گی، بقیہ چیزوں کے لیے پھر بھی تملیک کی ضرورت باقی رہے گی۔
             اگر ”توکیل نامہ“ ایسا تیار ہو، جس میں طلبہ اور مدرسہ کی جملہ ضروریات کی جزوی صراحت ہو تو بات بے غبار ہوسکتی ہے۔
بعض مدارس میں تملیک کی عمدہ صورت
             بعض مدارس میں زکوٰة اور صدقاتِ واجبہ میں تملیک کی یہ صورت رائج ہے کہ مدرسہ کے جملہ اخراجات کا ماہانہ حساب کیا جاتا ہے، اس میں مطبخ، تعلیم، تنخواہِ مدرسین و ملازمین، بجلی، پانی، وغیرہ مصارف شامل ہوتے ہیں، جملہ اخراجات کو طلبہ کی تعداد پر تقسیم کرکے ہر ایک کے حصے میں آنے والی رقم بہ طورِ فیس مقرر کردی جاتی ہے، اور مدِزکوٰة سے ہر مہینہ فیس کے بہ قدر رقم طلبہ کو وظیفہ میں دی جاتی ہے، پھر طلبہ سے مذکورہ فیس میں وصول کرلی جاتی ہے۔
             یہ صورت بہت عمدہ اور بے غبار ہے، چھوٹے مدارس میں تو عمل کرنا مشکل نہیں، بڑے مدارس میں بھی ایسا کیا جانا ممکن ہے؛ جس طرح ماہانہ وظیفہ بانٹنے کا نظم ہوتا ہے، اسی طرح زکوٰة بھی دی جاسکتی ہے، اور طلبہ کے لیے بھاگنے کا اندیشہ تو ہے؛ مگر اس کی بھی پیش بندی کی کوئی صورت اپنائی جاسکتی ہے۔ فتاویٰ رحیمیہ (۵/۱۵۰) وغیرہ میں یہ صورت لکھی ہے، بڑے مدارس میں ضابطہ بنانا اور اس پر عمل کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔
اگر کوئی مستحقِ زکوٰة قرض لے کر مدرسہ کی ضرورت میں
صرف کردے تو زکوٰة سے اس کے قرض کی ادائیگی
             بعض مدارس میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی مستحقِ زکوٰة سے کہا جاتا ہے کہ تم اپنے طور پر فلاں شخص سے قرض لے کر مدرسہ میں دے دو، یا مدرسہ کی فلاں ضرورت میں خرچ کردو، پھر مدرسہ والے زکوٰة کی رقم میں سے اس کو دیتے ہیں؛ تاکہ وہ اپنا قرض ادا کرلے، یہ صورت بھی جائز ہے؛ اس لیے کہ زکوٰة مستحق تک پہنچ گئی۔
کسی مال دار سے مدرسہ کی عمارت بنواکر، زکوٰة سے ادائیگی
             اگر کسی مدرسہ میں عمارت کی ضرورت ہو اور مدرسہ کا ذمہ دار کسی مال دار صاحبِ نصاب کو مدرسہ کی عمارت بنانے کے لیے کہے یا کسی کمیٹی سے مدرسہ کی تعمیر کرائے اور تعمیر کے بعد ادائیگی زکوٰة کی رقم سے کرے تو یہ درست نہیں؛ اس لیے کہ مال دار شخص یا کمیٹی مستحقِ زکوٰة نہیں ہیں اور غیرمستحق کو زکوٰة دینے سے زکوٰة ادا نہیں ہوتی ہے۔
مدارس کے علاوہ دیگر دینی یا ملی اداروں کے لیے زکوٰة کی وصولی
             ہر دینی وملی کام کے لیے زکوٰة ہی استعمال ہو، بنیادی طور پر یہ تصور غلط ہے، مسلم قوم امداد اور عطیات بھی دیتی ہے؛ اس لیے ملی خدمات کے لیے امداد کی رقم ہی جمع کرنی چاہیے، اگر زکوٰة کی رقم جمع کی جائے تو بڑی احتیاط سے مستحقین تک پہنچانا لازم ہوگا۔ غیرمصرف میں خرچ کرنے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی ادارہ غیرمصرف میں خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے ذمہ داروں کو جواب دینا پڑے گا، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائیں!
از: مفتی اشتیاق احمد قاسمی‏، مدرس دارالعلوم دیوبند
http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/03-Madaris%20Me%20Zakah%20Ki_MDU_07_July_14.htm

Sunday, 3 December 2017

علماء ہند کے نام مصر کی جیل سے ایک خط

مردِ حق آگاہ کا پیغام، علماء ہند کے نام
مصر کی جیل سے مشہور عالم ڈاکٹر صلاح سلطان کی ایمان افروزتحریر
(یہ پیغام اسلامی فقہ اکیڈمی کے حالیہ چھبیسویں سیمینار کے لئے ۲۰؍ فروری۲۰۱۷ء کو لکھا گیا، اس خط میں فقہ اکیڈمی کے سلسلے میں نیک جذبات، اعلی خواہشات اور مفید مشورے بھی شامل تھے، جنھیں طوالت سے بچنے اور پیغام کی عمومیت برقرار رکھنے کی خاطر حذف کردیا گیا ہے: مترجم)
جیل کی تاریک کوٹھری سے میرا یہ پیغام سرزمین ہند کے ہر بزرگ او ر ہر نوجوان عالم کے نام ہے۔ جیل کا ذکر قرآن مجید میں دس مرتبہ ہوا ہے، اور ہر مرتبہ صرف اور صرف مصر کی جیل کا تذکرہ ہوا ہے۔ اور جب بھی ہوا ہے کھلے ہوئے ظلم کی علامت کے طور پر ہوا ہے۔ یہ درست ہے کہ جیل کے اندر میں اور میرے ساتھی ہولناک ترین اذیتوں سے گزر رہے ہیں۔ یہ بھی صحیح ہے کہ ہماری تصویر مسخ کرنے کی ساری کوششیں کی جارہی ہیں، یہاں تک کہ میرے بارے میں ان لوگوں نے یہ بھی پھیلادیا کہ میں ان دس لوگوں میں ہوں جنہیں دنیا ہی میں جہنمی ہونے کا پروانہ مل چکا ہے، (اللہ کی پناہ)۔ پر خدا ئے ذوالجلال کی قسم، جس سے مجھے اتنی محبت ہے کہ میری زندگی اور زندگی کی ساری امنگیں اس کی محبت سے معمور ہیں، اس وقت میں اپنے پیارے رب کی مدد سے خود کو دنیا کی ساری طاقتوں اور سارے مجرموں سے زیادہ طاقتور پاتا ہوں۔ جب میری پیٹھ پر کوڑے برستے ہیں تو مجھے یہ پڑھتے ہوئے لطف آتا ہے؛
وَلَاتَھِنُوا وَلَا تَحزَنُوا وَ أَنتُمُ الأَعلَونَ اِن کُنتُم مّْومِنِینَ 
’’اور پست ہمت نہ ہو اور غم نہ کرو، اور اگر تم مومن ہو تو غالب رہوگے.‘‘
میرے خلاف پھانسی کی سزا کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے، سالہا سال سے مجھے تاریک کوٹھری میں رکھا گیا ہے: 
وَمَا نَقَمْوا مِنھُم اِلَّا أَن یُؤمِنُوا بِاللہِ العَزِیزِ الحَمِیدِ۔
"اور انھوں نے ان پر محض اس وجہ سے ستم ڈھائے کہ وہ خدائے عزیز وحمید پر ایمان لائے.‘‘
مگر اس سب کے باوجود میری اپنے مہربان رب سے قربت، علم کے سمندرمیں غواصی، خودی کی بلندیوںمیں پرواز اور اللہ کی رضا اور جنت کی طرف اڑان میں اضافہ ہی ہوا، امت کو قرآن وسنت کے پرچم تلے جمع کرنے، انسانوں اور دیسوں کو غیر اللہ کی بندگی سے پاک کرنے، صہیونی غاصبوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے سارے اسلام دشمنوں سے مسجد اقصی، قدس اور فلسطین کو آزاد کرانے کی سمت قدم ہیں کہ بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ میرے دل میں گہرا یقین ہے کہ اللہ ہم سے کیا ہوا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔
فَانْتَقَمنَا مِنَ الَّذِینَ اَجرَمُوا وَ کَانَ حَقًّا عَلَینَا نَصرُ المُؤمِنِینَ۔
’’تو ہم نے ان لوگوں کو سزا دی جنھوں نے جرم کیا، اور اہل ایمان کی نصرت ہم پر لازم ہے.‘‘
میں اس وقت آپ لوگوں کے نام یہ پیغام لکھ رہا ہوں، جبکہ مجھے صرف چالیس سینٹی میٹر کی جگہ ملی ہوئی ہے، سخت ٹھنڈک سے میرا جسم تھرتھر کانپ رہا ہے، میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس سے کچھ بھی گرمی کا احساس مل سکے، تاہم میرے پاس اللہ کی محبت ہے، اور اللہ واسطے کی آپ لوگوں سے محبت ہے، قلب اور روح کی گرمی کے لئے یہ کافی ہے۔سرزمین ہند کے میرے عزیز ترین اور پروقار علماء کرام، میں تین بار اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس روئے زمین پر غزہ کے میرے بھائیوں کے بعد اگر کسی سرزمین کے لوگوں سے مجھے ملنے کاشدید اشتیاق رہتا ہے تو وہ آپ لوگ ہیں، یہاں کے بزرگ اور نوجوان علماء کی صحبت میں سعادت کا جو احساس ملتا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ میرے پاس اس تعلق خاطر کے بہت سے ثبوت ہیں، میں دو ثبوت پیش کروں گا۔
پہلا ثبوت: آخری دفعہ جب اپنی عزیز فقہ اکیڈمی کے مدراس میں ہونے والے پروگرام میں شرکت کرکے واپس لوٹا تو میرے ایک عزیز نے فون کرکے پوچھا،
کیا ڈاکٹر صلاح ہندوستان سے واپس آگئے ہیں؟
میری اہلیہ نے جواب دیا،
ابھی مسجد نماز کے لئے گئے ہوئے ہیں، تھوڑی دیر بعد ان سے بات ہوسکے گی، ویسے وہ ہندوستان سے واپس آئے نہیں ہیں، ان کا دل ابھی وہیں پر ہے، وہ صرف جسم کے ساتھ آئے ہیں، ان سے ملاقات کے وقت ان کی اس کیفیت کا خیال رکھنا۔
دوسرا ثبوت: سب سے پہلی بار جب اپنی عزیزفقہ اکیڈمی کے پروگرام میں ہندوستان جانا ہوا، تو چالیس گھنٹوں کا سفر کرکے واشنگٹن سے دہلی پہنچا تھا، موسم کی خرابی کی وجہ سے سفر کی طوالت بھی بڑھ گئی تھی، اورتکان بھی۔ لیکن جب میں وہاں پہنچا اور علماء اور نوجوانوں کے ذوق وشوق کو دیکھا، تو ساری تکان دور ہوگئی، اور جب میں اسٹیج پر پہنچا تو میرا جسم میرا دماغ اور میرا دل سب تازہ دم تھے، غرض ایسی بہت سی قیمتی یادیں ہیں، دلی، دار العلوم دیوبند، دار العلوم ندوۃ العلماء سے کیرلا تک جو دل کو بہت لطف دیتی ہیں۔سرزمین ہند کے میرے پیارے بزرگ اور نوجوان علماء کرام، مجھے اجازت دیں کہ میں ان فکروں اوران امنگوں میں آپ کو شریک کرسکوں، جنہوں نے مجھے بے چین اور بے تاب کررکھا ہے، ان سب کو سمیٹنا چاہوں تو سارا مدعا اس میں سمٹ آتا ہے، کہ:
"من أنصاری الی اللہ"
"کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا دست وبازو بنے."
اور انہیں پھیلاؤں تو تفصیل اس طرح ہے:
پہلی فکر: انفرادی سطح پر ہر ایک عالم کے لئے
ہم چاہتے ہیں کہ ہماری راتیں تہجد اور ہمارے دن حصول علم کی جدوجہد سے آباد رہیں، ذکر وشکر، گریہ وزاری، دعا واستغفار، اور خوف ورجا کی کیفیت سے ہمارے شب وروز رنگین رہیں:
"إِنَّ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْعِلْمَ مِن قَبْلِہِ إِذَا یُتْلَی عَلَیْہِمْ یَخِرُّونَ لِلأَذْقَانِ سُجَّداً۔ وَیَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولاً۔ وَیَخِرُّونَ لِلأَذْقَانِ یَبْکُونَ وَیَزِیْدُہُمْ خُشُوعا۔"
’’وہ لوگ جنہیں اس کے پہلے سے علم ملا ہوا ہے جب یہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا پروردگار، بے شک ہمارے پروردگار کا وعدہ شدنی تھا۔ اور وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے گرتے ہیں اور یہ ان کے خشوع میں اضافہ کرتا ہے.‘‘
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس اللہ سے لو لگانے والا دل ہو، اللہ کا ذکر کرنے والی زبان ہو، جدت وتخلیقیت والا دماغ ہو، ہمارے اخلاق محسنین والے ہوں، ہمارے جسم مجاہدین والے ہوں، ہماری خاموشی غوروفکر والی ہو، ہمارے پاس دیدہ عبرت نگاہ ہو، اور ہماری گفتگو ذکر سے عبارت ہو، ہم چاہتے ہیں کہ ہم مقربین کے مقام پر فائز ہونے کے لئے کوشاں رہیں، تاکہ ہماری زندگی ان مسلمانوں کے لئے نمونہ بن جائے جو اصحاب الیمین کے زمرے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم ان لوگوں میں شامل ہوجائیں جن کے لئے رب کریم نے یہ الفاظ چنے ہیں: 
"وَقَالَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِیْمَان۔ کونوا ربانیین۔ رحمۃ وعلما، حکما وعلما۔"
ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے ہم بے نیاز ہوجائیں، اور اس کا حق ادا کرنے کی فکر کریں جو رب دوجہاں نے ہمیں عطا کیا ہے۔
"یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ۔"
’’اللہ ان لوگوں کے، جو تم میں سے اہل ایمان ہیں اور جن کو علم عطا ہوا ہے، مدارج بلند کرے گا.‘‘
ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری سیرت وشخصیت میں قرآنی اخلاق اور رسول پاک کی سیرت کا پرتو دیکھیں، ہم ان کے لیے قابل تقلید نمونہ بن جائیں۔
"وَجَعَلْنَا لَہُ نُوراً یَمْشِیْ بِہِ فِیْ النَّاسِ۔"
’’اور ہم نے اسے ایک روشنی بخشی جسے لے کر وہ لوگوں میں چلتا ہے‘‘۔
ہم بے سمت اور بے ہدف مطالعات کی بجائے منظم سنجیدہ اور بامقصد مطالعہ کو اپنا شعار بنائیں، چھلکوں سے سرسری واقفیت تک محدود رہ جانے کے بجائے جڑوں کا گہرا علم حاصل کریں۔ تاکہ ہم:
"وَالرَّاسِخُونَ فِیْ الْعِلْمِ" 
کا مصداق ہوجائیں۔ہم اس مقام پر پہنچ جائیں جس کا ذکر اس ارشاد رسول میں ہے کہ:
"مثل ما بعثني اللہ بہ من الھدی والعلم کمثل غیث أصاب أرضا فکان منھا نقیۃ قبلت الماء فأنبتت الکلأ والعشب الکثیر۔"
’’اللہ نے مجھے جس ہدایت اور علم کے ساتھ مبعوث کیا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے زمین پر موسلا دھار بارش ہوئی ہو، اس زمین کا ایک حصہ زرخیز پانی قبول کرلے اور وہاں خوب خوب چارہ اگ جائے.‘‘
اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو وحی کو قبول کرلیتا ہے، اور دماغ کی جولانیوں کو وحی کی رفعتوں کے ساتھ ہم آہنگ کردیتا ہے، تو پھر حکمت ومعرفت کے درخت نشونما پاتے ہیں، پھول کھلتے ہیں اور پھل آتے ہیں۔ تجدیدی کوششیں ہوں یا تخلیقی کاوشیں ہوں ان کی اصل بنیاد وحی الٰہی کو ہونا چاہئے، جس طرح زندگی کی اساس پانی ہے۔
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء  کُلَّ شَیْْء ٍ حَيٍّ۔
دوسری فکر، خاندان کی سطح پر
ہم بھرپور کوشش کریں کہ ہم میں سے ہر عالم دین اس ارشاد رسالت کا پیکر بن جائے، کہ:
’’تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور تم سب سے زیادہ اپنے گھر والوں کے لیے بہترین میں ہوں.‘‘
ہر لحاظ سے بہترین رویہ اختیار کریں، دل کی محبت ہو، ذہن کی ہم آہنگی ہو، یا جسم کی قربت ہو، ضروری ہے کہ ہم سب سے بہتر رہیں۔ ہم آگے آئیںعورتوں کو انصاف دلانے کے لئے اور انھیں عزت ورفعت والا مقام دلانے کے لیے نہ کہ محض زیادہ طاقت و قوت والا مقام کہ سیکولرزم کے علم بردار اور اقوام متحدہ کے ادارے جس کے داعی اور علم بردار ہیں۔ ہم سب لوگوں سے زیادہ کوشش کریں اس بات کی کہ عورتوں کو ان کے مادی، معنوی اور علمی تقاضوں اور ان کی جسمانی صحت کے لحاظ سے ایک سازگار اور باعزت زندگی گزارنے کا حق حاصل رہے۔ ہم اس دل دہلا دینے والی شرمناک صورت حال کو بدلنے کے لیے آگے آئیں، جس کا اعتراف پندرہ دسمبر۲۰۰۶ء کو ملک کے وزیر برائے امور اطفال ونسواں نے کیا تھا کہ گزشتہ بیس سال کے درمیان ایک کروڑ لڑکیاں اپنے والدین کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتاری جاچکی ہیں۔ ہندوستان کے علماء کو چاہئے کہ وہ سب سے آگے بڑھ کر لڑکی کو پیدائش سے پہلے ہی زندہ درگور کرنے کے ظالمانہ رجحان کے خلاف آہنی دیوار بنیں، وہ جہیز کی غلط رسم کو ختم کرنے کا تہیہ کریں، کیونکہ اس کی کوکھ سے بہت سے خطرناک قسم کے خلاف شرع امور جنم لیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم سب سے آگے بڑھ کر آواز بلند کریں کہ عورتوں کو بحیثیت انسان کے سارے حقوق حاصل ہوں، یہ ملحوظ رکھتے ہوئے کہ مرد کا مقام بھی مجروح نہ ہو، مرد بحیثیت قوام شورائیت کے ماحول میں اپنی ہر ذمہ داری ادا کرے، نہ تو کوئی کسی پر بوجھ بنے اور نہ کوئی کسی پر اپنی برتری اور خدائی جتائے۔
تیسری فکر، سماجی سطح پر:
ہمارے سماج میں ایک دوسرے سے قربت بڑھے، اور سماج کا شیرازہ مضبوط ہو، اس کے لئے جدوجہد کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمارے تعلقات اپنے عزیزوں رشتے داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ نمونہ کی حد تک مضبوط ہوجائیں۔ غیر مسلموں کے ساتھ ہمارے تعلقات کے لئے یہ ارشاد باری سدا ہمارے سامنے رہے،
"لَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْْہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔"
’’اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنھوں نے دین کے معاملے میں نہ تم سے جنگ کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالاہے۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے.‘‘
یاد رہے کہ کائنات کا نظام تین بنیادوں پر چل رہا ہے،
1. ایک دوسرے کو سہارا دینا،
2. ایک دوسرے کو صلہ دینا اور
3. ایک دوسرے کی حفاظت کرنا۔

زمین کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، اور سورج یہ ضرورت بلا معاوضہ پوری کرتا ہے، اس میں سبق ہے کہ اسی طرح مالدار لوگ محتاجوں کی کفالت کریں، دوسری طرف پودوں اور انسانوں میں سامان زندگی کا تبادلہ ہوتا ہے، انسان کا جسم ان سے آکسیجن لیتا ہے تو بدلے میں انہیں ڈائی آکسائڈ کاربن دیتا ہے، ہمارے درمیان بھی لین دین کی بنا عدل پر ہونی چاہئے۔
یہ بھی تو سوچئے کبھی تنہائی میں ذرا
دنیا سے ہم نے کیا لیا دنیا کو کیا دیا
پھر ہم یہ بھی دیکھیں کہ اس کائنات میں تمام زندہ اشیاء ضرر رساں چیزوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے کا کام بھی کرتی ہیں، تو ہم پر بھی واجب ہوتا ہے کہ ہم ہر ظالم کا ہاتھ پکڑیں، اور ہر سرکش کا راستہ روکیں:
"إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِیْتَاء  ذِیْ الْقُرْبَی وَیَنْہَی عَنِ الْفَحْشَاء  وَالْمُنکَرِ وَالْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُون۔"
’’بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل کا، احسان کا اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کااور روکتا ہے بے حیائی ، برائی اور سرکشی سے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو.‘‘
1. تکافل،
2. تبادل اور
3. تدافع۔

ان تینوں بنیادوں کے بنا معاشرے کی عمارت استوار نہیں ہوسکتی ہے۔
چوتھی فکر، وطن اور ریاست کی سطح پر
لازم ہے کہ ملک کی تعمیر میں ہمارا رول سیکولر دھاراؤں اور پارٹیوں سے بھی زیادہ نمایاں ہو، وہ وطن دوستی اور اس کے تقاضوں کی تجارت کرتے ہیں، اور انھیں بازار سیاست میں نیلام کرتے ہیں، ہم اپنی جدوجہد اور اپنی اپروچ سے ایک زندہ ثبوت پیش کریں کہ ہم دین اسلام کے بھی وفادار ہیں، اور جس وطن میں ہم جیتے ہیں، اس کے بھی سب لوگوں سے زیادہ وفادار ہیں، ہم پوری قوت کے ساتھ پنچایت سے لے کر پارلیمانی انتخابات تک اور سرکاری عہدوں اور مناصب کے ہر مقابلے میں پوری قوت اور سنجیدگی کے ساتھ شریک ہوں، اوراس پوری جدوجہد میں ہمارے پیش نظر مسلمانوں سے پہلے ملک کے تمام لوگوں کا فائدہ رہے۔ ہم پانچ اصولوں کو مضبوطی سے تھام لیں اور انہیں اپنا شعار بنالیں:
1. عبادت صرف اللہ کی،
2. خبرگیری سارے انسانوں کی،
3. تعمیر پوری زمین کی،
4. قانون کی بھر پور پابندی اور
5. حکومت کے ساتھ پورا تعاون (ان تمام امور میں جو کتاب وسنت کے خلاف نہ ہوں)۔

علماء کی ذمہ داری ہے کہ فکروشعور اور دعوت وتحریک میں پوری امت کے آگے آگے چلیں، تاکہ امت کی راہ روشن رہے، اسے اکثریتی دھارے میں ضم ہوجانے سے بچایا جاسکے، اور شہادت حق کی عظیم ذمہ داری ادا کرنے کی طرف اسے آگے بڑھایا جائے۔ میں اسے اشد ضروری سمجھتا ہوں کہ مسلمان ایک ٹھوس منصوبہ بنائیں جس کے مطابق جلد وہ دن آئے جب ہندوستانی مسلمانوں میںناخواندگی کے بالکلیہ ختم ہوجانے کا جشن منایا جائے۔ یہ وہ نشانہ ہے جسے حاصل کرنے کے لئے بہت بہت محنت کی ضرورت ہے، اس کے لئے کمربستہ ہوکر اٹھ کھڑے ہوں، جب تک تکلیفوں اور مشقتوں سے گزر نہیں ہوگا، علم نہیں آئے گا، اور جب تک علم کی قوت ودولت حاصل نہیں ہوگی، دنیا کی امامت نہیں ملے گی، یہ اللہ کا قانون ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ اکیسویں صدی میں اَن پڑھ ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ آدمی لکھنا پڑھنا نہیں جانتا ہے، بلکہ کمپیوٹر سے ناواقفیت بھی ناخواندگی شمار ہوتی ہے، کمپیوٹر اس دور کی زبان ہے ۔ مکمل طور سے ناخواندگی مٹانے کی اس مہم کو ہماری ترجیحات میں سب سے اول مقام ملنا چاہیے، ہماری اپروچ یہ ہو کہ اللہ نے جس بات سے پہل کی ہے ہم بھی اسی سے پہل کریں گے، اللہ پاک نے پوری وحی کا آغاز اس سے کیا ہے، 
"اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۔ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَم۔عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ۔"
اس حقیقت کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یوں بیان کیا کہ اللہ نے علم کو عمل سے پہلے رکھا ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اسی حقیقت کو ایک باب کا عنوان بنایا ہے۔
پانچویں فکر، امت مسلمہ اور پوری دنیا کی سطح پر
ہم قرآن وسنت کی صراحت کے مطابق ایک امت ہیں،
"وکونوا عباد اللہ اخوانا."
’’اور اللہ کے بندے بن کر بھائی بھائی بن جاؤ.‘‘
اسے یقینی بنانا ضروری ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا رشتہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی اسلامی امت سے قائم اور مضبوط رہے، اسلام کی حیثیت مسلمانوں کے درمیان ایک رشتے کی ہے، جس سے سارے مسلمان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم بچپن سے یہ اشعار دوہراتے رہے ہیں:
یا أخي فی الھند أو فی المغرب          
أنا منک أنت مني أنت بي
لا تسل عن عنصري عن نسبي     
انہ الاسلام أمي وأبي
’’میرے بھائی، تم ہندوستان کے ہو یا مراکش کے، میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو۔میری نسل اور میرے نسب کے بارے میں مت پوچھو، میں اسلام کا بیٹا ہوں، وہ میری ماں اور میرا باپ ہے.‘‘
اچھی طرح سمجھ لیں، کہ امت کے مسائل کا اصل محور جس کے گرد سارے مسائل گھوم رہے ہیں، وہ مسجد اقصی، قدس اور فلسطین کا ایشو ہے، اس ایشو پر جھوٹ کی دھول تہہ در تہہ بٹھائی جارہی ہے، تاکہ حقیقت پروپیگنڈے کے شور میں گم ہوجائے، اس دھول کو ہٹانے کے لئے سوچا سمجھا علمی رویہ اور اپروچ اختیار کرنا لازم ہے، امت کی قوت ادراک سن ہوگئی ہے، اسے بیدار کرنا ضروری ہے، دل کے اندر ایمانی بنیادوں کو تازہ کرتے رہنا بھی ضروری ہے کیونکہ اللہ کی مدد صرف اہل ایمان کے لئے آتی ہے، ہمدردوں اور مددگاروں کو اکٹھا کرنا اور ان کی تعداد بڑھانا بھی مطلوب ہے، 
"ھو الذي أیدک بنصرہ وبالمؤمنین۔"
’’وہی ہے جس نے اپنی نصرت سے اور مومنین کے ذریعے سے تمہاری مدد کی.‘‘ میڈیا کی طرف بھی بھرپور توجہ دی جائے، تاکہ ہم ہر اس مسلمان بلکہ ہر اس انسان تک پہنچ جائیں جو حق اور انصاف کی خاطر اٹھنے کے لیے آمادہ ہو، ارض مقدس کی بازیابی کے لئے، جہاں سے ساٹھ لاکھ فلسطینی باشندوں کو ملک بدرکردیا گیا، مسجد اقصی کی حفاظت کے لئے جو قبلہ اول اور حرم ثالث ہے، اس مقصد کے لئے سیاسی محاذوں پر بھی اپنی موجودگی کو بڑھایا جائے، تاکہ اس قضیہ کو بین الاقوامی سطح کے ہر فورم میں اٹھایا جاسکے۔ اس سب کے ساتھ جہاد وشہادت کے مقامات بلند پر پہنچنے کے لئے بھی خود کو تیاررکھیں، کیونکہ بیت المقدس کی آزادی کا ایک ہی راستہ ہے، وہی راستہ جسے صلاح الدین ایوبی، سیف الدین قطز اور سلطان العلماء العز بن عبدالسلام نے اختیار کیا تھا۔ میں آپ سے خدا واسطے التجا کرتا ہوں کہ مسجد اقصی اور اس کی آزادی کا ایشو ہر تقریر ہر کانفرنس ہر گفتگو اور ہر محاضرے میں شامل رکھیں۔ ہر مجلہ، ہر اخبار اور ہر چینل پہ اس پر چرچا ہو، تاکہ مسجد اقصی کی آزادی کے متوالوں سے اور ان کی گونج سے ساری دنیا بھرجائے، اس کام کے لیے آگے بڑھنا ایک عظیم شرف ہے، جس کے لئے اللہ اپنے خاص بندوں کا انتخاب فرماتا ہے، پس ہندوستان کے عوام اور ہندوستان کے علماء سب آگے بڑھیں اور بیت المقدس کے بچوں اور عورتوں کی پکار، غزہ اور رام اللہ کے مردوں کی ندا اور قید میں اسیر مسجد اقصی کی صدا پر سب سے آگے بڑھ کر لبیک کہیں۔
چھٹی فکر، علمی اکیڈمیوں اور تحقیقی اداروں کی سطح پر
میری تمنا ہے کہ ہندوستان میں اسلامی فقہ اکیڈمی اور اس جیسے دیگر علمی اور تحقیقی ادارے درج ذیل محاذوں پر خاص توجہ دیں:
نمبر ایک: 
اسکولوں کے بچوں سے لے کر کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات تک ہر جگہ اعلی صلاحیت کے دماغوں کو تیار کیا جائے کہ وہ ان اداروں کی صورت میں ان ربانی اور نورانی سلسلوںکے سچے امین بنیں، جن کے آغاز کی توفیق اللہ نے ان کے خوش نصیب بانیوںکوعطا کی۔ شاعر کی زبان میں:
اذا سید منا خلا قام سید
قؤول لما قال الکرام فعول
’’ہمارے درمیان سے ایک سردار کی جگہ خالی ہوتی ہے، تو دوسرا سردار آجاتا ہے، عظیم لوگوں جیسی باتیں اور ان کے جیسے کارنامے انجام دینے والا.‘‘
آنے والی نئی نسلیں اپنی بزرگ نسلوں کے علم وفضل سے اچھی طرح فیض یاب ہوں، شرعی نصوص کا فہم، زمانے اور حالات سے آگاہی، شرعی نصوص سے اپنے حالات میں رہنمائی لینے والا شعور وتفقہ، خاص احکام کے خاص دلائل اور شریعت کے عام مقاصد واہداف کے درمیان ہم آہنگی کی جستجو، حال کو دیکھنے اور مستقبل کو بھانپ لینے کی صلاحیت، ترجیحات کا شعور اور نفس انسانی سے واقفیت، اور پھر جدید ترین اور تیز ترین وسائل سے آگاہی کہ جن کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پیغام کی رسائی ہوسکے۔
"کُنتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّہِ۔"
’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے سامنے تیار کی گئی ہے، معروف کا حکم دیتے ہو، منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو.‘‘
نمبر دو: اسلامی فقہ، اس کے اصول، اس کے قواعد اور اس کے مقاصد کو ان کے اصل مقام یعنی ایمان واخلاق کی آغوش میں لوٹانا ہے، ایسا لگے کہ گویا یہ سب چھوٹی بڑی کشتیاں ہیں جو اللہ کی محبت، اس کی خشیت، اس کے احکام کی تعظیم، اور اس کے مقام کی تقدیس کی ندیوں دریاؤں اور سمندروں پر رواں دواں ہیں۔مکمل جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ پورے دین میں کوئی ایک بھی فقہی حکم ایسا نہیں ہے جو ایمان کی گرمی اور اعلی اخلاق کی خوشبو سے خالی رکھا گیا ہو۔ کسی چیز میں اختصاص کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے باقی سب سے کاٹ کر بالکل الگ تھلگ کردیا جائے، ایک طبیب کسی عضو کا علاج اسے جسم سے بالکل الگ کرکے نہیں کرتا ہے، بلکہ وہ عضو اپنی ساری رگوں کے ساتھ جسم سے جڑا رہتا ہے، بالکل اسی طرح فقہ کا ایمان واخلاق سے رابطہ اور اتصال پوری طرح برقرار رہنا چاہئے۔ اور اسی بنا پر فقہ کے اصول، اس کے قواعد اور اس کے مقاصد کے میدان میں بھی وسعت لانا ضروری ہوجاتا ہے، تاکہ اس علم کے تحت صرف فقہی احکام والی نصوص ہی نہ رہیں بلکہ دین وشریعت کی ساری نصوص اس میں شامل ہوجائیں۔ اصول فقہ کے مناہج ہی ا ن شدید ضربوں سے امت کی حفاظت کرسکتے ہیں، جنہوں نے امت کو ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے، اور ہمیں ایسا بنادیا ہے کہ ہمارا سارا زور آپس ہی میں ایک دوسرے پر چلتا ہے۔ میں نے جیل کی زندگی میں ہی اس سلسلے میں کچھ علمی کام کرلیے ہیں، میری ایک تازہ کتاب ہے سورہ یوسف کی اصولی اور مقاصدی تفسیر، اور دوسری کتاب ہے حضرت کعب کی حدیث کی اصولی اور مقاصدی تشریح۔
نمبر تین: ضروری ہے کہ فقہ وفکر، اصول ومقاصد اور تحریک ودعوت کے تمام مکاتب ومشارب کے درمیان علمی رابطے کو مضبوط کیا جائے، 
"لِّیَتَفَقَّہُواْ فِیْ الدِّیْنِ وَلِیُنذِرُواْ قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَیْْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُون."
’’تاکہ دین میں بصیرت حاصل کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کرتے ، جبکہ وہ ان کی طرف لوٹتے کہ وہ بھی احتیاط کرنے والے بنتے.‘‘ 
کے مقاصد میں یہ بھی شامل ہے، ہمارے علمی اور تحقیقی ادارے اس بات کے داعی بن جائیں کہ معرفت کے دائرے کو وسیع کیا جائے، اتنا کہ فقہ وفکر کے تمام مسالک اور تحریکی ودعوتی حلقوں سے وابستہ تمام بڑے علماء کی اجتہادی کوششوں کی صحیح قدر ہوسکے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی، شیخ ندوی اور شیخ قاسمی کے علمی کارناموں کے ساتھ ساتھ اہل علم وتحقیق کے سامنے علامہ شاطبی، شیخ طاہر بن عاشور، شیخ قرضاوی، شیخ غزالی، شیخ علوانی، شیخ ریسونی، شیخ شنقیطی، شیخ بن باز اور شیخ زرقا کی کوششیں بھی رہیں، اور شیخ افغانی، شیخ محمد عبدہ، شیخ حسن البنا، شیخ سید قطب، شیخ مالک بن نبی، اور شیخ مودودی کی کاوشیں بھی رہیں۔ غرض ہر مکتب فکر اور ہر فکری جہت کے اہل علم کی علمی تحقیقات سے ہم بھر پورطرح سے فیض حاصل کریں۔ اس وقت اسلام کے خلاف شدید قسم کی معرکہ آرائی کے لیے مشرق ومغرب کے سارے طائفے یک جٹ ہوگئے ہیں، ایسے میں اور زیادہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ہماری ایک وحدت ہو، اور ہم فکری اور تحریکی ہر دو سطح پر ایک دوسرے سے قریب سے قریب تر ہوجائیں، یہ ایک شرعی فریضہ تو ہے ہی، حالات کا ضروری تقاضا بھی ہوگیا ہے، اس سلسلے میں اللہ کے سامنے سب سے پہلے ان ارباب قیادت کو جواب دینا ہوگا جن کے ہاتھوں میں امت اسلامیہ کی علمی فکری اور تحریکی باگ ڈور ہے۔
"وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِیْن۔"
’’اور آپس میں تفرقہ نہ کرو، کہ تم ناکام ہوجاؤ اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے اور ثابت قدم رہو۔ بے شک اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے.‘‘
میرے بہت عزیز اور بہت عظیم علماء کرام، میں معافی چاہوں گا، اگربات طویل ہوگئی ہو، واقعہ یہ ہے کہ جب شوق کے جذبات امنڈ کر آتے ہیں، تو ہزاروں صفحات کم پڑجاتے ہیں، اور تکلیفیں جتنی بڑھتی ہیں امیدیں بھی اتنی ہی کروٹیں لیتی ہیں۔
جتنی جتنی ستم یار سے کھاتا ہے شکست
دل جواں اور جواں اور جواں ہوتا ہے
میرے اور آپ کے درمیان کئی طویل برسوں سے دوریاں حائل ہیں، لیکن مجھے قوی امید ہے کہ جلد ہی اللہ کے حکم سے ظلم کی زنجیریں ٹوٹیں گی اور زنداں کے دروازے کھلیں گے۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ کسی قریبی سیمینار یا مجلس میں ہماری ملاقات ہوگی، اس وقت میری گفتگو کا ایجنڈا وہ دو موضوعات ہوں گے جو مجھے دن رات مشغول اور بے چین رکھتے ہیں۔
اول: اصول اور مقاصد کے علم کی تجدید، اور اس کے لئے پہلے تطبیقی کاوشیں اور آخر میں نظریہ سازی کے ذریعہ اس علم کی تکمیل۔
دوم: فلسطین، القدس، مسجد اقصی اور سارے قیدیوں کی رہائی، ان مردان کار کے ذریعہ جن کے بارے میں کہا گیا ہے: 
"رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ۔"
’’وہ مرد جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کردکھایا‘‘،
شاعر کے الفاظ میں:
قالوا نزال فکنت أول نازل
وعلام أرکبہ اذا لم أنزل
’’انبوں نے پکارا، اترو میدان میں، تو سب سے پہلے اترنے والا میں تھا، اور اگرمیدان میں اترنے کا جذبہ نہیں ہوتا تو گھوڑے پر سوار ہی کیوں ہوتا.‘‘
اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ سب کو اپنی امان میں رکھے،اس کی امان میں کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی، اور آپ سے التماس کرتا ہوں کہ زمین وآسمان کے رب کے حضور بہترین دعائیں اور پاکیزہ تمنائیں کرتے رہیں، کہ وہ تنگی کے بعد آسانی پیدا کرے، قید وبند کا خاتمہ ہو اور خوشیوں کا دور چلے، امت پر سے کمزوری اورمحکومی کا موسم خزاں رخصت ہو اور شوکت واقتدارکی بہاریں لوٹ آئیں، غاصبوں کے تسلط کی سیاہ رات ہر جگہ سے ختم ہو، اور عزت وسربلندی کی صبح طلوع ہو۔۔ اور ہم سب اللہ کے وعدے کے سزاوار ہوجائیں۔
"وَعَدَ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُم فِیْ الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِیْ ارْتَضَی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُم مِّن بَعْدِ خَوْفِہِمْ أَمْناً یَعْبُدُونَنِیْ لَا یُشْرِکُونَ بِیْ شَیْئاً۔"
’’اللہ کا وعدہ ہے تم لوگوں سے ، جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے، کہ ان کو ملک میں اقتدار بخشے گا، جیسا کہ ان لوگوں کو اقتدار بخشا جو ان سے پہلے گزرے، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو متمکن کردے گا جس کو ان کے لیے پسند کیا‘‘۔ْ
"وَیَقُولُونَ مَتَی ہُوَ قُلْ عَسَی أَن یَکُونَ قَرِیْبا۔"
’’اور وہ کہتے ہیں کہ یہ کب ہوگا؟ کہہ دو کہ عجب نہیں کہ اس کا وقت قریب ہی آپہنچا ہو.‘‘
والسلام
آپ سب سے اللہ کی خاطر محبت کرنے والا
صلاح الدین سلطان
ترجمہ: محی الدین غازی
Link: http://azaan.world/2017/11/11/1036
..................
http://zindgienau.com/Issues/2017/July2017/images/unicode_files/heading9.htm



رسالة الدكتور صلاح الدين سلطان عضو مجلس امناء الاتحاد العالمي لعلماء المسلمين فك الله اسره بالذكرى الثالثة لاعتقاله بسجون النظام الانقلابي في مصر وجاء في الرساله:
بسم الله الرحمن الرحيم
" وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّـهِ ۚ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ ﴿١٢٧﴾ إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ ﴿١٢٨﴾"
إلى كل إنسان صدق في حب الرحمن، وعشق تحرير الإنسان والأوطان.
إلى أمة المليار وسبعمائة مليون كالأيتام على مأدبة اللئام.
إلى زوجتي الطاهرة، وأولادي فلذات أكبادي، وأساتذتي وطلابي وإخواني وأخواتي الأوفياء الأتقياء الأنقياء.
إلى الأحرار الأبرار الأخيار في أرض القدس وفلسطين المرابطين في مواجهة الصهاينة والمتصهينين.
السلام عليكم جميعاً ورحمة الله وبركاته، وبعد
فإني أكتب إليكم من سجن الليمان المشدد بوادي النطرون في صحراء مصر، عنبر (12) شديد الخطورة لأهتف من أعماق قلبي أنشودة الأشواق ولن تحول بيننا الأشواك أن أقول: إني أحبكم في الله تعالى، وشأني معكم كما قال الشاعر:
لغة الكلام على فمي خجلى كما رأيت، ولولا الحب لم أتكلم
أكتب لكم اليوم 21/12/1437- 23/9/2016 في الذكرى الثالثة لسجني ظلماً وعدواناً، عشت بين الجدران والقضبان وقسوة السجان، ومرت علينا أهوال من التعذيب والتجويع، والتهديد والترويع ولازلنا – بفضل الرحمن – نتحدى كل بغي وعدوان، وظلم وطغيان، ونعلن "فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِي هَـٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا " والسبب " إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا" ولازلنا نردد في عزة وإباء، وشموخ ومضاء قول الشاعر:
أَنا لَستُ أَدْري هَلْ سَتُذْكَرُ قِصَّتي أَمْ سَوْفَ يَعْرُوها دُجَى النِّسْيانِ؟
أمْ أنَّني سَأَكونُ في تارِيخِنا مُتآمِراً أَمْ هَادِمَ الأَوْثانِ؟
كُلُّ الَّذي أَدْرِيهِ أَنَّ تَجَرُّعي كَأْسَ الْمَذَلَّةِ لَيْسَ في إِمْكاني
لَوْ لَمْ أَكُنْ في ثَوْرَتي مُتَطَلِّباً غَيْرَ الضِّياءِ لأُمَّتي لَكَفاني
أَهْوَى الْحَياةَ كَريمَةً لا قَيْدَ لا إِرْهابَ لا اْسْتِخْفافَ بِالإنْسانِ
فَإذا سَقَطْتُ سَقَطْتُ أَحْمِلُ عِزَّتي يَغْلي دَمُ الأَحْرارِ في شِرياني
لقد حكموا علي بالإعدام، ألقوني في أضيق مكان، بلا كهرباء ولا غطاء، ولا حمام ولا ماء – إلا زجاجة لا تكفي لوضوء أو سقاء، فما انحنيت لخطب، ولا رجوت إلا ربي القوي العزيز الواحد القهار، وظل عنوان محنتنا "إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ" ودعاؤنا "أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ" فأفاض علينا الرحمن بأنهار من العطاء منها ما يلي:
أولاً: أكبر المنح الربانية روحياً: هنا عرفت ربي الرحيم الودود، وذقت بحق حلاوة حبه وقربه، وشعرت بالسكينة والطمأنينة تملأ نفسي، وتشرح صدري، وتنير قلبي، وتريح عقلي، ولم يعد يشغلني متى ولا كيف أخرج مخرج صدق، فقد بعت نفسي لربي، ووكلت أمري كله لربي، فلم أعد أبالي إلا: كيف أرضيك ربي، وأحظى بالنظر إلى وجهك الكريم مع أحبتي فيك ربي، وركزت همي في السير إلى ربي، واللحاق بركب النبيين والشهداء والصالحين وحسن أولائك رفيقاً.
ثانياً: أعظم المنح الربانية أخلاقياً: زادتنا المحنة – بفضل ربي- قوة ورسوخاً في المبادئ والقيم الإيمانية والأخلاقية "كعودٍ زاده الإحراق طيبا" فلم تداهمنا خطرة، ولم تساورنا فكرة أن نتراجع أو نهين، أو نضعف أو نستكين، وظل شعارنا "إِنَّا إِلَى اللَّـهِ رَاغِبُونَ"، ونحمد الله أن واتتنا الفرصة الإلهية كي نقدم التضحيات رخيصة في سبيل الله وأن نتحمل برجولة كل ألوان الحرمان، وأن نؤثر على أنفسنا ولو كان بنا خصاصة فذقنا حلاوة السمو الأخلاقي في الإستغناء عن عرض الدنيا، فزادنا ربنا ذلة للمؤمنين وعزة على الطغاة الظالمين، فلم ننكسر ويقيننا أننا بإذن الله سننتصر.
ثالثاً: أعمق المنح الربانية علمياً: حلقت – بفضل الرحمن – بكل همة بجناحي التعلم والتعبد في أوسع الآفاق في مقام " فَفِرُّوا إِلَى اللَّـهِ" وإذا بفيض من "وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا " في أكثر من ألف صفحة في التفسير الأصولي والمنهجي وأخرى في المقاصد والشرح الأصولي للأحاديث النبوية، وتأليف قصص قصيرة منها: قطر الندى، والحُب قبل الحَب، وحفيدتي في السجن، وصورة ابنتي، والعنكبوت الصامد، وكان أبوهما صالحاً، .. وذاكرت للماجستير في القانون الدولي لولا منعي قسراً من دخول الامتحانات وقاربت على الإنتهاء من دكتوراة جديدة في التفسير، وتوسعت في القراءات الأدبية والسياسية والإدارية.
رابعاً: أوسع المنح الربانية أسرياً: ظفرنا – برحمة من الله تعالى – بشهيد إلى أعلى الجنات بإذن الله، قتله الظالمون بعد تعذيبه، وجاءتني التهنئة من أسرتي الصامدة "مبروك عليك الشفاعة، لقد ارتقى زوج أختك إلى الفردوس الأعلى" وهو أرقى وأنقي عائلتنا خلقاً وديناً، فسجدت في سجني شكراً لربي ودعوته أن يُلحقني وأسرتي وأحبتي به شهداء على أبواب الأقصى عند تحريره، وزادنا ربنا فضلا فتحسنت صحة زوجتي حبيبتي من مرض السرطان، وأخرج الله ولدي محمدا من السجون المصرية بعد أن شارف على الموت أمام عيني مراراً من رحلة الإضراب عن الطعام وصمود عالمي زاد على الستمائة يوم، وتفوق أبنائي في أعمالهم ودراساتهم ودعوتهم، ورُزقنا بحفيد وحفيدة جديدين بجوار الحفيد الأـول، وتزوج وأنجب عدد من أبناء إخوتي الذين ضربوا المثل في الوفاء والمروءة النادرة في الأثواب الطاهرة، وتوطدت علاقتي بكل أسرتي الصابرة المحتسبة، ورزقني الله من وفاء الأهل والأبناء من صلبي وقلبي ما قرّت به عيني.
خامساً: أوثق المنح الربانية دعوياً: لقد ضل من ظن أن يحبس فكرة أو دعوة، ففي السجن أكرمني الله بهداية عدد من عتاة المجرمين الجنائيين حتى صاروا يسابقونني في الصيام والقيام والذكر والقرآن، وهم عندي أغلى من الدنيا وما عليها، وفي الخارج منَّ الله عليَّ بأوسع عطاء فاصطفى لي من الأنقياء الأذكياء النبلاء من سخروا حياتهم لقراءة كتبي، ونشر رسالتي، واسترجاع مواقفي، وسماع برامجي وخطبي، وزادني ربي في العطاء، فانتُخبت من كرام العلماء – وأنا في الإعدام – عضوا في مجلس الأمناء للاتحاد العالمي لعلماء المسلمين، وظني في ربي "أنا عند حسن ظن عبدي بي" أن يختار لي من نبغاء الشباب والفتيات، الرجال والنساء، الربانيين والربانيات من يسد ثغرتي، ويملأ فراغي وينشر رسالتي في العالمين.
ومن الصدق والواقعية أن أذكركم أنني كإنسان أضيق بقسوة الجدران والقضبان والسجان، وأعيش مرارة الحرمان من عمارة بيوت الله، والتجول بدعوة الله في العالم كله، والحرمان من نعيم الحياة في ظلال زوجتي وجنة قلبي، وأولادي فلذات أكبادي، وأبنائي وبناتي من طلاب العلم، وفرسان الدعوة، والحرمان من متعة السير في قريتي بين الخضرة اليانعة والشمس الساطعة، والسباحة في الماء، والسياحة في الأرض، ومسح رأس اليتيم، ورؤية ابتسامة الفقير والمسكين، ومع هذا كله لم أندم مرة واحدة على خير قدمته محتسباً لربي الودود عندما تركت حدائق كولمبس وقصور الخليج وعدت مختاراً إلى أحضان مصر حبيبتي مشاركاً في ثورة 25 يناير، وخطيب الجمعة في ميدان التحرير 11/2/2011م. وعدت أستاذا للشريعة الإسلامية في كليتي العريقة دا رالعلوم –جامعة القاهرة، وأميناً عاماً للمجلس الأعلى للشئون الإسلامية (بدون راتب إلا أجري على الله) ومعتزاً بمشاركتي في رابعة والنهضة والفتح دفاعا عن الصوت الانتخابي في مواجهة السوط الانقلابي، ولازلت لا يحرِّق قلبي ويؤرق مضجعي سجن ولا سجان، بل صرخات بناتي اللاتي هتك الفاجرون أعراضهن في مصر وسوريا وغيرها، واعتداءات الصهاينة بمباركة عملائهم على الأقصى والقدس وغزة وفلسطين، يؤرقني ما أراه دوماً من آثار التعذيب البشع على أجساد إخواني وأبنائي، يؤسفني استجداء أمتي الغذاء والكساء والدواء من ألد الأعداء، وتسويغ من انتسبوا زوراً إلى العلم والعلماء لجرائم الطغاة الظالمين، يحزنني صمت جموع الصالحين، ومعاناة قليل من الصادقين، وخلافات دعاة مصلحين، والإبطاء عن تقييم ما سبق ورؤية للخروج من المأزق، وخطة للعمل المستقبلي، وتلك هي الحالقة.
أملي ورجائي من أحبتي:
1- ألا نكون سهماً في فتنة، ولا ننسى – وفاء – فضل السابقين، لكن دعوتنا أحب إلينا من أنفسنا، فنراجع في رفق أخطاءنا –فلسنا معصومين، ونعترف بشجاعة عن أخطائنا، ونعدِّل في ثقة مسارنا نحو الأرضى لربنا والأصلح لديننا ودعوتنا وأمتنا وأوطاننا وقدسنا "والشجاع من انتصف من نفسه".
2- صدق التحمل والأداء لرسالة الإسلام وتبليغها في جميع الأرجاء، بلا وهن أو إبطاء، وملء فراغنا لهذه الأعداد الغفيرة في السجون، في ثغرات الدعوة والتربية والتدريب لصناعة جيل النصر المنشود لتحرير الإنسان والأوطان والأقصى وفلسطين والتمكين للإسلام والمسلمين.
3- صفاء اليقين أن رب العزة منجز لنا ما وعدنا "فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا ۖ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ" و "سَيَجْعَلُ اللَّـهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا".
4- خالص الدعاء"وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ " وإلى لقاء في ساحات الدعوة وتحرير الإنسان والأوطان وفلسطين.
والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته
#صلاح_الدين_سلطان

خصی جانور کی قربانی

خصی جانور کی قربانی کرنا نہ صرف جائز بلکہ افضل وبہتر ہے، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہے، 
عن جابر رضي اللہ عنہ قال: ذبح النبي صلی اللہ علیہ وسلم یوم الذبح کبشین أملحین موجوئین (مشکاة) وفيالہدایة: ویجوز أن یضحی بالجماء والخصي لأن لحمہا أطیب) 
خصی جانور نہ ہونے پر مادہ جانور کی قربانی افضل ہے، افضلیت حاصل کرنے کے لیے قربانی کے موقع پر جانور کو خصی نہ کرنا چاہیے کیوں کہ خصی جانور کی قربانی افضل وبہتر اس لیے ہے کہ وہ فربہ اور اس کا گوشت عمدہ ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں اس وقت حاصل ہوسکتی ہیں جب کہ جانور کو پہلے سے ہی خصی کردیا جائے، بعض لوگوں کا خصی کرنے کو جانور پر مطلقا ظلم قرار دینا درست نہیں، خصی کرنا جانور پر اس وقت ظلم ہوگا جب کہ عمل خصاء سے مقصد لہو ولعب ہو، فقہاء نے اس کو ناجائز لکھا ہے، لیکن اگر جانور کو خصی کرنے سے مقصد منفعت ہو تو یہ جائز ہے اور جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے خصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہوگیا تو اب ایک موٴمن کو اس میں کیا تردد ہونا چاہیے۔
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Qurbani-Slaughtering/42727
.....
مذکورہ جانور کی قربانی درست ہے ۔ اگر دونوں خصیتین نہ ہوں یا نکال کر جانور کو خصی کردیا جائے تب بھی قربانی جائز ہے۔
فقط واللہ اعلم
http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D8%AE%D8%B5%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%DA%A9%D9%85/2016-05-18

.....
”جانور کو خصی بنانا منع ہے“
          ”عن ابن عباس أن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نھی عن صبر ذی الروح وعن اخصاء البھائم نھیا شدیدًا۔“
          ترجمہ:… ”حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی رُوح کو باندھ کر تیراندازی کرنے سے منع فرمایا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو خصی بنانے سے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے۔“
          اس حدیث کو بزاز نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ”صحیح بخاری“ یا ”صحیح مسلم“ کے راوی ہیں۔
(مجمع الزوائد جز:۵ ص:۲۶۵، اس حدیث کی سند صحیح ہے، نیل الاوطار جز:۸ ص:۷۳)
          برائے مہربانی مسئولہ صورتِ حال کی وضاحت سندِ صحاحِ ستہ سے فرماکر ثوابِ دارین حاصل کریں۔
ج… متعدّد احادیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خصی مینڈھوں کی قربانی کی، ان احادیث کا حوالہ مندرجہ ذیل ہے:
          ۱:… حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ۔ (ابوداوٴد ج:۲ ص:۳۰، مجمع الزوائد ج:۴ ص:۲۲)
          ۲:… حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا۔                 (ابنِ ماجہ ص:۲۲۵)
          ۳:… حدیثِ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ۔                         (ابنِ ماجہ)
          ۴:… حدیثِ ابی رافع رضی اللہ عنہ۔
(مسندِ احمد ج:۶ ص:۸، مجمع الزوائد ج:۴ ص:۲۱)
          ۵:… حدیثِ ابی الدرداء رضی اللہ عنہ۔  (مسندِ احمد ج:۶ ص:۱۹۶)
          ان احادیث کی بنا پر تمام ائمہ اس پر متفق ہیں کہ خصی جانور کی قربانی دُرست ہے، حافظ موفق الدین ابنِ قدامہ المقدسی الحنبلی (متوفی ۶۳۰ھ) ”المغنی“ میں لکھتے ہیں:
          ”ویجزی الخصی لأن النبی صلی الله علیہ وسلم ضحی بکبشین موجوئین ․․․․ ولأن الخصاء ذھاب عضو غیر مستطاب یطیب اللحم بذھابہ ویکثر ویسمن، قال الشعبی: ما زاد فی لحمہ وشحمہ أکثر مما ذھب منہ، وبھٰذا قال الحسن وعطاء والشعبی والنخعی ومالک والشافعی وأبو ثور وأصحاب الرأی ولا نعلم فیہ مخالفًا۔“ (المغنی مع الشرح الکبیر ج:۱۱ ص:۱۰۲)
          ترجمہ:… ”اور خصی جانور کی قربانی جائز ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصی مینڈھوں کی قربانی کی تھی، اور جانور کے خصی ہونے سے ناپسندیدہ عضو جاتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے گوشت عمدہ ہوجاتا ہے اور جانور موٹا اور فربہ ہوجاتا ہے۔ امام شعبی فرماتے: خصی جانور کا جو عضو جاتا رہا اس سے زیادہ اس کے گوشت اور چربی میں اضافہ ہوگیا۔ امام حسن بصری، عطاء، شعبی، مالک، شافعی، ابوثور اور اصحاب الرائے بھی اسی کے قائل ہیں، اور اس مسئلے پر ہمیں کسی مخالف کا علم نہیں۔“
          جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خصی جانور کی قربانی ثابت ہے اور تمام ائمہٴ دین اس پر متفق ہیں، کسی کا اس میں اختلاف نہیں، تو معلوم ہوا کہ حلال جانور کا خصی کرنا بھی جائز ہے۔ سوال میں جو حدیث ذکر کی گئی ہے وہ ان جانوروں کے بارے میں ہوگی جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا اور جن کی قربانی نہیں کی جاتی، ان کے خصی کرنے میں کوئی منفعت نہیں۔
http://shaheedeislam.com/ap-kay-masail-vol-04-kin-janwaron-ki-qurbani-karna-jaiz-hy-kin-ki-nahe/

Saturday, 2 December 2017

بھیک مانگنے کا پیشہ

سوال: بھیک مانگنے کا پیشہ دن بدن عام ہوتا جا رہا ہے۔ ضعیف و نوجوان مرد و خواتین سب اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں جن میں اکثریت ایسے افراد کی ہوتی ہے جو محنت و مشقت کی طاقت رکھتے ہیں اس کے باوجود مانگنے کے نت نئے طریقے ایجاد کئے جا رہے ہیں۔ بازاروں اور مختلف مقامات پر یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ وہ کبھی مسافر ہونے کا بہانہ بناتے ہیں تو کبھی بیمار ہونے کا اور کبھی دوسرے بہانے بناتے ہیں۔ شریعت میں کیسے شخص کیلئے مانگنا جائزہے ۔ اور کس لئے ناجائز ہے؟ براہ کرم بیان فرمائیں۔
جواب: جس شخص کے پاس ایک دن کی غذا موجود ہو اس کا دست سوال دراز کرنا اور بھیک مانگنا شریعت اسلامیہ میں جائز نہیں ہے۔ فتاوی عالمگیری ج 5 ص 349 میں ہے:
’’و من کان لہ قوت یومہ لا یحل لہ السوال‘‘ 
مالدار اور جس کے اعضاء صحیح و سالم ہوں اس کیلئے مانگنا حلال نہیں ہے البتہ کوئی انتہائی فقر و فاقہ کی حالت میں ہے یا واقعی مقروض ہے تو اس کیلئے بقدر حاجت مانگنے کی اجازت ہے۔ مشکوۃ المصابیح باب من لا تحل لہ المسئلۃ ص 163میں حدیث شریف ہے۔
عن حبشی بن جنادۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان المسئلۃ لا تحل لغنی ولا لذی مرۃ سوی الا لذی فقر مدقع او غرم مفظع و من سأل الناس لیثری بہ مالہ کان خموشا فی وجہہ یوم القیامۃ و رضفا یاکلہ من جھنم فمن شاء فیلقل و من شاء فلیکثر.‘‘
ترمذی ج 1 ص 83 حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ تعالی سے روایت ہے کہ مالدار اور سلیم الاعضاء کیلئے مانگنا حلال نہیں ہے سوائے خاک نشین تنگدست کے یا شدید حاجت مند کے اور جو لوگوں سے مال میں اضافہ کیلئے سوال کرے تو یہ (سوال کرنا) اس کیلئے بروز قیامت اس کے چہرے پر کھروچے اور خراش کی صورت میں ہوگا اور دوزخ کے انگارے کی شکل میں نمودار ہوگا جسے وہ کھائے گا توجس کا جی چاہے وہ اپنے لئے یہ عذاب کم کرے یا بڑھائے۔ مانگنا صرف تین لوگوں کیلئے جائز ہے ان کے علاوہ کیلئے حرام ہے۔ مشکوۃ شریف 162 میں حدیث شریف ہے.
’’قال یا قبیصۃ ان المسئلۃ لا تحل الا لاحد ثلثۃ رجل تحمل حمالۃ فحلت لہ المسئلۃ حتی یصیبھا ثم یمسک و رجل اصابتہ جائحۃ اجتاحت مالہ فحلت لہ المسئلۃ حتی یصیب قواما من عیش واو قال سدادا من عیش و رجل اصابتہ فاقۃ حتی یقوم ثلثۃ من ذوی الحجی من قومہ لقد اصابت فلانا فاقۃ فحلت لہ المسئلۃ حتی یصیب قواماً من عیش او قال سدادا من عیش فما سواھن من المسئلۃ یا قبیصۃ سحت یاکلھا صاحبھا سحتا.‘‘ 
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین شخصوں کے سوا کسی کیلئے مانگنا جائز نہیں ہے:
(1) ایک وہ شخص جوکسی قرض کا ضامن ہوگیا تو اس کیلئے مانگنا جائز ہے یہاں تک بقدر قرض پالے پھر باز رہے۔
(2) وہ شخص جس پر ایسی آفت آجائے جو اس کا مال برباد کردے تو اس کے لئے سوال کرنا روا ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی خوش حالی پائے یا فرمایا زندگی کی درستی پائے
(3) اور وہ شخص جسے فقر وفاقہ لاحق ہوجائے یہاں تک اس کی قوم کے تین صاحب عقل و فہم آدمی اٹھیں اور گواہی دیں کہ فلاں کو فقر و فاقہ لاحق ہوا ہے تو اس کیلئے مانگنا جائز ہے۔ تاکہ وہ زندگی برقرار رکھ سکے اور اپنی ضروری حاجت پوری کرسکے ۔اے قبیصہ ان تین ضرورتوں کے ماسوا مانگنا حرام ہے۔ اور اس طرح مانگ کر کھانے والا حرام کھانے والا ہے۔ لوگوں کی جانب سے دھتکارے جانے اور انکی ذلت و رسوائی کو براشت کرنے اور دربدر بھٹکنے سے بہتر ہے کہ محنت و مشقت کی قوت و طاقت رکھنے والے حضرات اپنے سے کوئی پیشہ تلاش کریں۔ مشکوۃ المصابیح ص 162 میں حدیث شریف ہے:
’’عن الزبیر بن العوام قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لان یاخذ احدکم حبلہ فیاتی بحزمۃ حطب علی ظہرہ فیبیعھا فیکف اللہ بھا وجہہ خیر لہ من ان یسال الناس اعطوہ او امنعوہ.‘‘
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کسی کا اپنی رسی لے کرپشت پر لکڑیوں کا گٹھا لادنا اور اسے بیچنا جس سے اللہ تعالی اس کی عزت و آبرو محفوظ رکھے، یہ اس سے کہیں بہتر ہیکہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرے، لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔ سب سے بہترین رزق وہ ہے جس کو انسان حلال طریقہ سے محنت و مشقت کے ذریعہ کماتا ہے۔ سنن سنائی جلد 2ص 210میں ہے کہ:
’’عن عائشہ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم ان اطیب اکل الرجل من کسبہ.‘‘
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی کی سب سے بہترین غذا وہ ہے جو اسکی کمائی سے حاصل ہوتی ہے آدمی خود کسب کرکے اپنے مال سے صدقہ وخیرات کرے تو یہ اس کیلئے باعث ثواب ہے اور بہتر ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’الیدالعلیا خیر من الیدالسفلی.‘‘
مشکوۃ المصابیح ص162۔ اونچا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہے- مانگنے کو اپنا پیشہ بنا نے والوں کیلئے انتہائی سخت وعید یں ہے اور جو مانگنے سے پرہیز کرتے ہیں ان کے لئے جنت کی ضمانت دی گئی ہے۔
وعن عبد اللہ بن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مایزال الرجل یسال الناس حتی یاتی یوم القیامۃ لیس فی وجھہ مزغۃ لحم متفق علیہ
(مشکوۃ المصابیح ص 162)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی مسلسل بھیک مانگنے کا پیشہ اختیار کئے رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔
وعن ثوبان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من یک
وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔ 
وعن ثوبان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من یکفل لی ان لا یسال الناس شیا فاتکفل لہ بالجنۃ مشکوۃ المصابیح ص 163
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مجھ کو اس بات کی ضمانت دیگا کہ وہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے تو میں اس کیلئے جنت کا ضامن ہوں ۔
واللہ اعلم بالصواب