Saturday, 28 October 2023

تشخیص، کا طریقہ کار اور مزاج کی پہچان



✍🏻از ۔۔۔حکیم مفتی ساجد حسین اشرف قاسمی 

تشخیص، کا طریقہ کار اور مزاج کی پہچان
، بہت ہی اہم معلومات

تشخیص
طب میں سب سے زیادہ تشخیص کا انحصار مزاج پر ہے یہ اس لئے کہ تمام اعضائے بدن کی ساختوں کا اپنا اپنا ایک مزاج ہے اور وہ تمام ساختیں اپنا اپنا حصہ خون سے الگ الگ وصول کرتی ہیں اور خون تین اخلاط کا مرکب ہے اس میں جس خلط کی زیادتی ہو گی اسی کے اثرات اس کی ساخت حتیٰ کہ عضو رئیس تک نمایاں ہوں گے یہ اخلاط چونکہ تین ہیں اس لئے تین ہی طرح کے مزاج ہوں گے
1 بلغمی
2 سوداوی
3 صفراوی
بلغمی مزاج
تمام اشیاء جن کے اندر بالکیفیت بالہئیت اور بالتاثیر رطوبت ومائیت زیادہ ہو گی انہیں بلغمی اور قانون مفرد اعضاء کی اصطلاح میں اعصابی کہا جاتا ہے کیونکہ ایسی چیزوں میں زاتی طور پر رطوبت زیادہ ہوتی ہے اور یہی خون میں تاثیر زیادہ پیدا کرتی ہیں جہاں کہیں بلغمی یا اعصابی کا لفظ آئے تو وہاں بلغمی رطوبات مراد ہیں جسم میں ان کی پیدائش کا مرکز دماغ و اعصاب ہیں جب دماغ و اعصاب کا فعل تیز ہوتا ہے تو بلغم اور رطوبت زیادہ بنتی ہے اور جب بدن کو رطوبت زیادہ ملتی ہے تو دماغ و اعصاب کا فعل تیز ہو جاتا ہے
سوداوی مزاج
وہ تمام اشیاء جو بالکیفیت بالہئیت بالتاثیر خشک ہوں انہیں سوداوی یا عضلاتی کہتے ہیں کیونکہ ایسی تمام چیزیں زاتی طور پر خشک کیفیات رکھتی ہیں اور جسم میں یہی اثرات بڑھاتی ہیں جہاں کہیں سوداوی یا عضلاتی کا لفظ آئے تو وہاں پر سردی خشکی مراد ہے جسم میں ان کی پیدائش کا مرکز قلب و عضلات ہیں جب ان کا فعل تیز ہوتا ہے تو خشکی اور سردی کا غلبہ ہو جاتا ہے یا جب جسم کو زیادہ خشک سرد اشیاء دی جائیں تو قلب و عضلات کا فعل تیز ہوجاتا ہے
صفراوی مزاج
وہ تمام اشیاء جو بالکیفیت بالہئیت یا بالتاثیر گرم ہوں انہیں صفراوی قانون مفرد اعضاء کی اصطلاح میں غدی کہا جاتا ہے ایسی چیزیں گرم کیفیات کی حامل ہوتی ہیں اور یہی اثرات خون میں پیدا کرتی ہیں جہاں کہیں صفراوی یا غدی کا لفظ آئے تو وہاں جگر میں پیدا ہونے والی رطوبت صفراء مراد ہیں یہی جگر ہی اس کی پیدائش کا مرکز ہے جب جگر کا فعل تیز ہوتا ہے تو صفراء زیادہ بنتا ہے اور جب جسم کو صفراء زیادہ مقدار میں پیدا کرنے والی اشیاء دیتے ہیں تو جگر وغدد کا فعل لازمی تیز ہوتا ہے
اب ان تینوں کی الگ الگ پہچان یہ ہے
بلغمی مزاج کی پہچان
1 عموماً سفید رنگ والے بلفمی مزاج ہوتے ہیں
2 جسم کے تمام اعضاء ڈھیلے نرم اور سرد ہوتے ہیں
3 تھوک کثرت سے آتا ہے
4 پیاس کم لگتی ہے
5 نیند زیادہ آتی ہے اور پانی والے خواب آتے ہیں
6 جسم چربی والہ فربہ ہوتا ہے
7 جسم سست اور کاہلی والا ہوتا ہے
8 طبعی عمر سے پہلے بال سفید ہو جاتے ہیں
9 جسم ڈرپوک اور خوف زیادہ محسوس ہوتا ہے
10 مردوں کو جنسی ہیجان نہی رہتا
11 عورتوں کو حیض نہی آتا
12 عورتوں کو سیلان ہو جاتا ہے
13 مردوں کو جریان ہو جاتا ہے
14 ناک سے سفید مواد آتا ہے
15 پانی جیسے اسہال آتے ہیں
16 سردی زیادہ لگتی ہے اور اعضاء ٹھٹھر جاتے ہیں
17 فشار الدم ضعیف رہتا ہے
18 منہ کھلا رہتا ہے
19 گفتگو بڑے آرام سے ڈھیلی ڈھیلی کرتے ہیں
20 غصہ دلانے سے بھی جلدی غصہ نہی آتا
21 بھوک کم لگنا اور کھاری ڈکاریں آنا
22 بلغمی کھانسی یا دمہ کا ہو جانا
23 زیابیطیس حقیقی کا ہو جانا
24 سلسل البول کا عارضہ ہو جاتا ہے
25 البول فی الفراش بستر میں پیشاب ہونا
26 عورتوں کو دودھ زیادہ آنا
27 فضلات کا اخراج زیادہ ہونا اور ان کی رنگت سفید ہونا
28 جسم پر نیلے دھبے ہونا
29 منہ سے رال بہنا
30 صبح اٹھنے کو دل نا چاہنا
تشخیص 
سوداوی مزاج کی پہچان
1 عموماً گندمی اور سیاہی مائل رنگت والے سوداوی مزاج ہوتے ہیں
2 چہرے پر سیاہیاں کیل مہاسے اور سیاہ داغ نظر آتے ہیں
3 آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ہوتے ہیں
4 جلد پر سرخ دھبے دکھائی دیتے ہیں
5 جلد پر خارش خشک اور جلدی نا پکنے والے دانے پھنسیاں پھوڑے ہوتے ہیں
6 سارا جسم دبلا اور پیٹ مشک کی طرح باہر بڑھا ہوا ہوتا ہے
7 سر پر بال کثرت سے ہونا لیکن آہستہ آہستہ درمیان سے گنج ہو جانا
8 اکثر سوچ وبچار کرتے رہنا نیند کی کمی اور ڈراؤنے خواب جن میں سیاہ چیزیں دکھائی دینا
9 قبض شدید رہنا قضائے حاجت کے وقت کافی دیر لگانا یہ بواسیر ہونے کی علامت ہے یا پھر صفائی نہ ہونے کی کا وہم لاحق ہو چکا ہوتا ہے
10 انتشار کی زیادتی اور مادہ منویہ کم ہونا
11 ترش ڈکاریں آنا
12 معدے میں جلن ہونا
13 مقعد میں درد جلن اور خون آنا
14 ظاہر جلد پر موہکے مسے اور تل کے نشان ہونا
15 پیٹ سے ہوا باآواز خارج ہونا
16 ظاہر جلد پر چنبل دھدر فنگس خارش اور کنگرین کے نشان ہونا
17 احتلام کی کثرت ہونا
18 کولیسٹرول بڑھنے کا رجہان ہونا اور سانس پھولنا
19 یورک ایسڈ بڑھنے کا رجہان اور جوڑوں میں سوجن اور شدید درد ہونا
20 گنٹھیا
21 تپ دق
22 ضیق النفس یابس
23 مالیخولیا
24 جنون
25 نمونیہ
26 منہ سے خون آنا
27 لقوہ یا رعشہ ہونا
28 پڑبال
29 سبل
30 بواسیر الانف یا بواسیر الشفت
31 دبیلہ
32 جوع الکلب
33 ہیپاٹائٹس بی وسی
34 کینسر

صفراوی مزاج کی پہچان
1 عموماً پھیکے زرد چہرے صفراوی مزاج ہوتے ہیں
2 منہ کا زائقہ چرپرایا نمکین رہنا
3 پیاس زیادہ لگنا
4 جسم میں چبھن گھبراہٹ اور چنگاریاں محسوس ہونا
5 رقت وسرعت کی شکایت ہونا
6 بات چیت صاف اور تیز تیز کرنا
7 غصہ جلدی آنا
8 عورتوں کو حیض تکلیف سے آنا
9 عورتوں کو سیلان پیلے رنگ کا آنا اور جلن ہونا
10 خفقان قلب کا عارضہ ہونا
11 طبعیت کا بوجھل رہنا
12 جلد پر چھپاکی ظاہر ہونا
13 نزلہ حار کی شکائت ہونا
14 دائمی پیچش ہونا
15 صداع حار یا درد شقیقہ ہونا
16 تپ محرکہ معویہ ہونا
17 زکاوت حس ہو جانا
18 ضیق النفس کلوی ہونا
19 آماس
20 ہاتھ پاؤں اور پیشاب میں جلن
21 آشوب چشم
22 نیند کی بے چینی غنودگی اور خواب میں آگ دیکھنا
23 اجابت بے قائدہ رہنا
24 فشارالدم قوی رہنا
25 پٹھوں کی کمزوری ہونا

اہم علامات سے تشخیص
طبی اصطلاح میں علامات تکالیف کی ان کیفیات کو کہتے ہیں جو مرض کے ساتھ جسم کے مختلف مقامات پر ظاہر ہوا کرتی ہیں یہ علامات اکثر امراض کو سمجھنے ان کے فروق اور تشخیص کے لئے دلائل بنائے جاتے ہیں اور انہی کی رہنمائی میں امراض کی ماہیت ونام اور امراض اور تقسیم امراض کیے جاتے ہیں چونکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مرض اس حالت کا نام ہے جب اعضاء کے افعال میں اعتدال نہ ہو یعنی ان میں افراط وتفریط اور ضعف پایا جاتا ہے اس لئے اعضاء کے افعال کی خرابیوں کو جاننے کے لئے ان علامات کو دیکھیں گے جو ان پر دلالت کرتی ہیں
اگر ان علامات کا تعلق مفرد اعضاء سے سمجھ لیا جائے تو وہ ایک ہی مرض کی بیشتر علامات ایک نام کے تحت آجائیں گی ورنہ صرف علامات کو امراض کا نام نہی دیا جا سکتا اور یہ علامات بنیادی ہیں جو کسی عضو میں بار بار پیدا ہوتی ہیں اور کم پڑھے لوگ انہیں الگ الگ امرض سمجھ بیٹھتے ہیں وہ اہم علامات یہ ہیں
تحریک
جب کسی عضو میں غذا دوا یا زہر کے استعمال سے تحریک پیدا ہوتی ہے تو وہاں پر سکیڑ پیدا ہو جاتا ہے وہاں کی رطوبات کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور وہاں پر آہستہ آہستہ گرمی بڑھنا شروع ہوجاتی ہے یہی تحریک جب شدت اختیار کرلیتی ہے تو اس عضو میں سوزش ہو جاتی ہے لیکن تحریک سے سوزش تک اس عضو کو ان علامات سے گزرنا پڑتا ہے
1 لذت
جب متحرک عضو کے مقام پر دوران خون بڑھتا ہے تو ابتدائی صورت میں لذت پیدا ہوتی ہے جیسے گدگدی کرنے سے لذت پیدا ہوتی ہے یہ لذت اور لطف کی اصل حقیقت ہے
2 بے چینی
جب لذت میں شہوت پیدا ہوجائے تو وہاں پر لطف کی بجائے بے چینی بڑھ جاتی ہے
3 حبس
اس حالت کو کہتے ہیں جہاں رطوبات کی پیدائش بند ہو حائے اور خشکی بڑھنا شروع ہو جائے
4 قبض
قبض اس حالت کو کہتے ہیں جہاں پر رطوبات کا اخراج رک جائے
5 خارش
جب بے چینی کے بعد حبس وقبض پیدا ہوجائے تو وہاں خارش شروع ہو جاتی ہے
6 جوش خون
خارش میں جب شدت پیدا ہوجائے تو وہاں پر جوش خون پیدا ہوتا ہے
تو اس کے دباؤ سے عضو کی وسعت میں درد پیدا ہوجاتا ہے
8 سوزش
جب یہ تمام علامات وارد ہو جائیں تب سوزش ہوتی ہے سوزش کے معنی جلن کے ہیں کیونکہ سوزش کی حالت میں اس مقام پر خون شدت سے آنا شروع ہو جاتا ہے اور جلن ہونے لگتی ہے اور کیفیاتی نفسیاتی اور مادی تحریکات سے جسم کے کسی بھی مفرد عضو میں پیدا ہو جاتی ہے ہر قسم کی سوزش میں جلن حرارت سرخی رطوبات کا ترشح اور تغیر افعال لازمی پائے جاتے ہیں جب کس زندہ ساخت پر کوئی مہیج(خراش کنندہ) اثر انداز ہو تو اس کے خلاف جسم کی ایک منظم مدافعانہ تدبیر کے نتیجے میں جو علامت ظاہر ہوتی ہے اس کو سوزش کہا جاتا ہے قوت مدبرہ کی یہ تدبیر اس لئے ہوتی ہے کہ اس مہیج کے مضر اثرات کو مقامی طور پر ہی ختم کیا جائے اور اسے پورے بدن میں پھیلنے سے روکا جائے سوزش کی شدت اس مہیج کی قوت مضرت کے مطابق ہوتی ہے کوئی زہریلا سوزشی مادہ جتنا زیادہ تیز اثر ہو گا اتنی ہی شدید سوزش ظاہر ہوتی ہے سوزش کے نتیجے میں درجہ بدرجہ پانچ علامات پائی جاتی ہیں
1 جلن
جلن تکلیف کے اس احساس کا نام ہے جو سوزش مادہ کے اثر سے کسی عضو میں پیدا ہوتا ہے
2 حرارت
جب کسی مقامات پر سوزشی مادہ اثر انداز ہوتا ہے تو اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے خون تیزی سے وہاں جمع ہوتا جاتا ہے خون کی تیزی اور اجتماع سے عضو میں گرمی پیدا ہوتی ہے اور وہ چھونے سے گرم محسوس ہوتا ہے
3 سرخی مقام سوزش پر چونکہ خون جمع ہوتا ہے جو سرخ رنگ کا ہے اس لئے اس مقام کا سرخ ہو جانا لازمی امر ہے
4 رطوبات کا ترشح
جب کس جسم یا مجرٰی میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے تو اس کو رفع کرنے کے لئے ردعمل کے طور پر وہاں پر ترشح رطوبات ہوتا ہے سوزش سے حفاظت کے لئے یہ بھی قوت مدبرہ البدن کی ایک تدبیر ہے ہر عضو کی سوزش میں جو رطوبات اخراج پاتی ہیں ان کی کیمیاوی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں اعصاب کی سوزش میں جو رطوبات اخراج پاتی ہے اس میں ہر غدد کا اپنا کیمیاوی تغیر شامل ہوتا ہے اسی طرح جو سوزش کسی عضو میں ہوتی ہے اس کی رطوبات میں لحمی اجزاء اور تیزابی مادے زیادہ ہوتے ہیں
5 تغیر افعال
اس کی بھی تین صورتیں ہیں
 تحریکA
جب جسم کے کسی عضو میں سوزش پیدا ہوتی ہے تو اس کے عضوی وکیمیائی افعال میں تغیر پیدا ہوجاتا ہے وہ تغیر اس طرح ہوتا ہے کہ مقام سوزش پر پہلے انقباض اور خشکی پیدا ہوتی ہے حرارت کی کمی اور برودت کی زیادتی ہو جاتی ہے اس طرح آکسیجن کی کمی اور کاربن کی زیادتی ہو جاتی ہے رطوبات کی کمی بلکہ بندش ہو جاتی ہے جس سے تناؤ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اس کو تحریک کہا جاتا ہے
  تسکینB
جب کسی عضو میں سوزش پیدا ہوتی ہے تو اس میں بندش رطوبت جاتی ہے لیکن اس سوزش کو رفع کرنے کے لئے ردعمل کے طور پر خون سے رطوبات کا ترشح زیادہ ہو جاتا ہے جس کو تحریک والا عضو اپنی انقباض کی وجہ سے قبول نہی کرتا تو وہ دوران خون کے مطابق اس سے بعد والے عضو میں جمع ہو جاتی ہیں وہاں پر حالت تسکین پیدا ہوجاتی ہے عضو میں اس رطوبت کے اجتماع سے کیمیاوی تبدیلی واقع ہوجاتی ہے اور وہ عضو فعلاً سست ہوجاتا ہے یہی تسکین بڑھ کر تخدیر بن جاتی ہے کثرت رطوبات سے وہ عضو پھول جاتا ہے
 تحلیلC
جب کسی عضو میں تحریک پیدا ہو جاتی ہے تو وہاں پر سردی کی کثرت ہو جاتی ہے اور عضو سکڑ جاتا ہے اور اس میں خون کا اجتماع ہوجاتا ہے اس کے نتیجے میں وہ عضو جہاں سے خون تیزی سے گذر کر متاثرہ عضو میں جمع ہو رہا ہوتا ہے گرم ہو جاتا ہے اور خون کے طبعی بہاؤ کے مطابق اپنی گرم رطوبت اسی خون کے زریعے اس عضو میں بھیجتا رہتا ہے تاکہ متاثرہ
مقام کی سردی کو گرمی پہنچا کر ختم کیا جا سکے اور وہاں پر موجود انقباض اور سکیڑ کو حرارت سے پھیلایا جاسکے اور دوران خون چلایا جاسکے لہٰذا اس سے پہلے والے عضو میں تحلیل ہو جاتی ہے

نوٹ
پہلے بلغمی سوداوی اور صفراوی یہ تینوں حالتیں مفرد زکر کی گئی ہیں اب انہیں مرکب کر کے بیان کیا جا رہا ہے کیونکہ مفرد حالتیں صرف سمجھنے کے لئے تحریر کی گئی ہیں اس لئے مزاج کی بھی چھ اقسام بنتی ہیں وہ یہ ہیں
1 اعصابی عضلاتی تر سرد
2 عضلاتی اعصابی خشک سرد
3 عضلاتی غدی خشک گرم
4 غدی عضلاتی گرم خشک
5 غدی اعصابی گرم تر
6 اعصابی غدی تر گرم ان اصطلاحات میں ہر پہلا لفط فاعل کیفیت ظاہر کرتا ہے اور دوسرا مفعول جبسے اعصابی عضلاتی میں تری زیادہ ہے اور سردی کم انسانی افعال واعمال کا دارومدار اسی کیفیت فاعلہ پر ہے جو اس کے جسم میں غالب ہو گی اسی کی صفات ظاہر ہوں گی۔
اللہ عزوجل ہم سب کو آباد رکھے دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ 
6ے6دعاؤں کا طالب
حکیم مفتی ساجد حسین اشرف قاسمی میرٹھ

خلاصے کے طور پر احباب کی آسانی کیلئے آیک آسان اصول ذہن نشیں کرلیں 
جو مزاج پہچاننے کا سب سے آسان طریقہ ھے
 اگر زبان کا ذائقہ پھیکا ھے تو اعصابی یعنی بلغمی۔سرد مزاج ھے
اگر ترش ھے تو عضلاتی یعنی خشک  مزاج ھے
اگر کڑوا ھے تو غدی یعنی گرم  مزاج ھے۔
نوٹ۔۔یاد رہے موسم۔ وغیرہ  کے اعتبار سے مزاج میں تبدیلی واقع ہوتی رہتی ھے
دعاؤں میں یاد رکھیں 
حکیم مفتی ساجد حسین اشرف قاسمی میرٹھ 
رابطہ نمبر 9259403698

Wednesday, 18 October 2023

خیالوں میں کسی کے اس طرح آیا نہیں کرتے

خیالوں میں کسی کے اس طرح آیا نہیں کرتے
کسی کو بیوفا آ آکے تڑپایا نہیں کرتے
دلوں کو روند کر دل اپنا بہلایا نہیں کرتے
جو ٹھکرائے گئے ہوں ان کو ٹھکرایا نہیں کرتے
ہنسی پھولوں کی دو دن چاندنی بھی چار دن کی ہے
ملی ہو چاند سی صورت تو اترایا نہیں کرتے 
جنھیں مٹنا ہو وہ مٹنے سے ڈر جایا نہیں کرتے
محبت کرنے والے غم سے گھبرایا نہیں کرتے 
محبت کا سبق سیکھو یہ جاکر جلنے والوں سے
کہ دل کی بات بھی لب تک کبھی لایا نہیں کرتے
(ساحر لدھیانوی) ( #ایس_اے_ساگر )
http://saagartimes.blogspot.com/2023/10/blog-post.html?m=1

Monday, 18 September 2023

وراثت کی تقسیم میں خواتین کے حصہ کو یقینی بنانے کے لئے تحریک چلائے گا

"وراثت

کی تقسیم میں خواتین 

کے حصہ کو یقینی بنانے کے لئے تحریک چلائے گا"

(بورڈ کی مجلس عاملہ کے کئی اہم فیصلے)

نئی دہلی، 18 ستمبر 2023. آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کی ایک اہم نشست نیورائزن اسکول نزد ہمایوں کا مقبرہ حضرت نظام الدین نئی دہلی میں منعقد ہوئی جس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے ان ہی میں ایک اہم فیصلہ یہ لیا گیا کہ اصلاح معاشرہ کی تحریک کے ذریعہ پورے ملک میں وراثت کی تقسیم میں خواتین کے حصہ کو یقینی بنانے کے لئے ایک منظم تحریک چلائی جائے گی- کئی شرکا ء کا یہ احساس سامنے آیا کہ اس کے باوجود کہ قانون شریعت میں باپ کی وراثت میں بیٹی کو ایک متعین حصہ دیا گیا ہے تاہم بہت سارے معاملوں میں بہنوں اور بیٹیوں کو یہ حصہ نہیں مل پاتا ۔ اسی طرح بیٹے کی جائیداد سے ماں کو اور شوہر کی جائیداد سے اس کی بیوہ کو محروم رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح بھائی کی جائیداد میں بہن کا جو حصہ ہوتا ہے اس سے بھی بہن کو محروم رکھا جاتا ہے۔ بورڈ نے فیصلہ کیا کہ وہ وراثت میں خواتین کے حصہ کو یقینی بنانے کے لئے ملک گیر تحریک چلائے گا۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے عاملہ کے فیصلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بور ڈ میں یہ احساس بھی سامنے آیا کہ ملک میں خواتین کو متعدد قسم کے سماجی اور عائلی مسائل کا سامنا ہے، مثلاً رحم مادر میں بچیوں کا قتل، جہیز کی لعنت، تاخیر سے شادی کا مسئلہ، ان کی عفت و عصمت پر ہورہے حملے، ملازمتوں کے دوران ان کا استحصال، ان پر ہونے والا گھریلو تشدد وغیرہ۔ ان باتون کا بورڈ نے سختی سے نوٹس لیا اور طے کیا کہ بورڈ کی اصلاح معاشرہ تحریک کے ذریعہ ترجیحی طور پر ان چیزوں کی اصلاح پرخصوصی توجہ دی جا ئے گی۔ اس سلسلہ میں پورے ملک کو تین حصوں میں تقسیم کرکے تین سیکریٹر یز مولانا سید احمد فیصل رحمانی، مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی اور مولانا یسین علی عثمانی بدایونی کو اس کا ذمہ دار بنایا گیا۔ اس کے علاوہ اس پورے کام کا منصوبہ اور نقشہ ترتیب دینے کے لئے درج ذیل افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔ مولانا سید احمد فیصل رحمانی، مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی اور ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس۔ اسی طرح تفہیم شریعت کمیٹی کی ذمہ داری بورڈ کے سکریٹری مولانا سید بلال عبدالحی حسنی کو دی گئی۔

شرکائے اجلاس نے یونیفارم سول کو ڈ کے تعلق سے بورڈ کی جانب سے کی گئی کوششوں کی تحسین کی، بالخصوص مختلف مذہبی وسماجی رہنماؤں کی راؤنڈ ٹیبل میٹنگ و پریس کانفرنس ۔ لا کمیشن کے مطالبہ اور بورڈ کی تحریک پر تقریبا 63 لاکھ افراد کی جانب سے جواب کا دیا جانا اور صدر بورڈ کی قیادت میں لا کمیشن سے بورڈ کے وفد کی ملاقات و گفتگو ۔طے پایا کہ اس سلسلہ کی دیگر کوششوں کو جاری رکھا جائے گا۔

مجلس عاملہ نے اوقاف کی جائیدادوں کے تعلق سے حکومت کی چیرہ دستیوں ، وقف بورڈوں کی مجرمانہ غفلت اور ملک کے مختلف    ہائی کورٹس میں وقف قانون کے خلاف دائر ہونے والے مقدمات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ طے پایا کہ اس سلسلہ میں وقف کی شرعی حیثیت، درپیش خطرات اور تدارک کی ممکنہ تدابیر پر ملک کے پانچ بڑے شہروں میں وقف کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔

شرکائے اجلاس نے نئے میڈئیشن ایکٹ کے مختلف پہلوؤں کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ طے کیا گیا گہ جنرل سیکرٹری بورڈ کی قیادت میں بورڈ میں موجود ماہرین قانون پر مشتمل ایک کمیٹی اس کے تمام پہلوؤں کا تفصیل سے جائزہ لے کربورڈ کو بتائے گی کہ کس طرح اس سے دارالقضاء مسلمانوں کے سماجی مسائل و دیگر معاملات میں استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

اجلاس کی صدارت صدر بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی فرمائی اور اجلاس کی کاروائی جنرل سکریٹری بورڈ مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب نے چلائی۔ درج ذیل ارکان عاملہ و مدعوئین خصوصی نے شرکت فرمائی۔ نائب صدور مولانا سید ارشد مدنی، پروفیسر ڈاکٹر سید علی محمد نقوی صاحب، جناب سید سعادت اللہ حسینی ، جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی، خازن جناب پروفیسر ریاض عمر، سکریٹری مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی، مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی، سینئر ایڈوکیٹ یوسف حاتم مچھالہ، مولانا اصغر علی امام مہدی، مولانا عبداللہ مغیثی، مولانا پروفیسر سعود عالم قاسمی، مولانا انیس الرحمٰن قاسمی، جناب کمال فاروقی، ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد، ایڈوکیٹ طاہر ایم حکیم، ایڈوکیٹ فضیل احمد ایوبی، مولانا نیاز احمد فاروقی، پروفیسر مونسہ بشری عابدی، ایڈوکیٹ نبیلہ جمیل اور ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، ان کے علاوہ مدعوئین خصوصی میں جناب حامد ولی فہد رحمانی، ایڈوکیٹ وجیہ شفیق، ایڈوکیٹ عبدالقادر عباسی، مولانا وقار الدین لطیفی، مولانا رضوان احمد ندوی وغیرہ ۔

جاری کردہ

ڈاکٹر محمد وقار الدین لطیفی

آفس سکریٹری


---------------------------------------------------------------------------------------------------------------

The All India Muslim Personnel Board will launch a campaign to ensure that women must get their share in inheritance-


 


New Delhi, 18, September 2023


All India Muslim Personal Law Boards Working Committee decided to launch a systematic movement throughout the country to ensure that women must get their share in the property of their father. It was felt by many participants that although Sharia law gives the daughter a fixed share in father's inheritance but in many cases daughters didn't not get this share, similarly, the mother from the son's property and the widow from husbands property were also some times deprived of their share.


Further highlighting the decisions of working committee, Dr. S. Q. R. Ilyas, spokesperson of the board, said that the board has also realized that women's of counyry are facing many social problems such as  female foeticid, dowry, the problem of late marriage, attacks on their dignity & chastity, exploitation at working places, domestic violence, etc. The Board took strict notice of these matters and decided that special attention would be given to reform the society from within. For the purpose of social reform,  the whole country was divided into three parts and three secretaries namely Maulana S. Ahmad Faisal Rahmani, Maulana Md. Umrain Mahfooz Rahmani and Maulana Yasin Ali Usmani were made responsible for it. Apart from this, a committee consisting of the following persons was formed to prepare the plan and map of the  entire work, Maulana S. Ahmad Faisal Rahmani, Maulana Md. Umrain Mahfooz Rahmani and Dr. S. Q. R. Ilyas. Similarly, Maulana Syed Bilal Abdul Hai Hasani Nadvi, the Secretary of the Board, was given the responsibility of Tafheem e Shariat Committee.


The participants of the meeting appreciated the efforts made by the Board regarding the Uniform Civil Code, especially the R ound table meeting and press conference of various religious and social leaders. On board’s initiative about 6.3 million Muslims responded to the Law Commission on UCC, and the meeting and discussion of the delegation of the Board with the Law Commission under the leadership of the President of the Board. It was decided that the board will continue its efforts against UCC.


Working Committee expressed deep concern over government's crackdown Wakf  properties, criminal negligence of Wakf boards and cases filed against Wakf  Act in various high courts of the country. It was decided that, Waqf conferences will be organised in five major cities of the country on the Shariah status of the Wakf, the threats to the Wakf properties and possible remedial measures.


Working Committee reviewed the various aspects of the new Mediation Act in detail. It has been decided that a committee consisting of legal experts of the board under the leadership of the general secretary will examine all the aspects and tell the board how it can be used in resolving the matrimonial and other social problems.


The meeting was presided over by Maulana Khalid Saifullah Rahmani, President of the Board, and the proceedings of the meeting were conducted by Maulana Mohammed Fazlur  Rahim Mujaddidi, Gen. Secretary of the Board. Following members and special invitees were present, Vice Presidents, Maulana Syed Arshad Madani, Prof. Dr. Syed Ali Mohammad Naqvi, Mr. Syed Saadatullah Hussaini, Gen. Secretary Maulana Mohammed Fazal Rahim Mujjaddidi, Treasurer Mr. Riaz Umar, Secretaries; Maulana Md. Umrain  Mahfooz Rahmani, Maulana S. Ahmad Faisal Rahmani, Senior Adv. Yusuf Hatim Machhala, Maulana Asghar Ali Imam Mehdi Salafi, Maulana Abdullah Mughaisi, Prof. Saud Alam Qasmi, Maulana Aneesur Rahman Qasmi, Mr. Kamal Farooqui, Adv.  M.R. Shamshad, Adv. Tahir M. Hakeem, Adv.  Fuzail Ahmad Ayoobi, Maulana Niaz Ahmad Farooqi, Prof. Monisa Bushra Abidi, Adv. Nabeela Jamil and Dr. S. Q. R. Ilyas, special invitees were Mr. Hamid Wali Fahad Rahmani, Adv. Wjeeh  Shafiq, Adv. Abdul Qadir Abbasi, Dr. Vaquar Uddin Latifi, Maulana Rizwan Ahmad Nadvi etc.


Released


Dr. Mohd. Vaquar Uddin Latifi


Office Secretary


--

ALL INDIA MUSLIM PERSONAL LAW BOARD

76 A/1, Main Market, Okhla Village, Jamia Nagar

New Delhi - 110025 (India)

Mob.: +91-9910519871

Ph: +91-11-26322991, 26314784

E-mail: aimplboard@gmail.com

Website: www.aimplboard.in

-----

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کی میٹنگ نیو ہورائزن اسکول، نئی دہلی میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی صدارت میں جاری ہے معزز عہدیداران و ارکان عاملہ شریک ہے اس میٹنگ میں یونیفارم سول کوڈ سمیت اہم مسائل پر گفتگو کی جارہی یے. ( #ایس_اے_ساگر )



Sunday, 17 September 2023

ناچ گانا اور بلاضرورت تصویر کشی سے حاصل شدہ آمدنی ناجائز، اجتماعی قربانی جائز

ناچ گانا اور بلاضرورت تصویر کشی سے حاصل شدہ آمدنی ناجائز، اجتماعی قربانی جائز

ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند کے اٹھارہویں فقہی اجتماع میں دو سو مفتیان کرام نے متفقہ طو ر پر دو اہم تجاویز منظور کیں
فقہ اسلامی میں کوئی جمود و تعطل نہیں اور نہ اس کی بنیاد شخصی آراء پر ہے: مولانا محمود اسعد مدنی صد رجمعیۃ علماء ہ
ند
اجتماع دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی کی دعاء پر اختتام پذیر
نئی دہلی 17/ ستمبر: ادارہ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند کا سہ ر وزہ فقہی اجتماع بمقام ادارہ فیض القران ضلع اتر دیناج پور مغربی بنگال منعقد ہوا، جس کی الگ الگ نشستوں کی صدارت بالترتیب حضرت مولانا رحمت اللہ میر رکن شوری دارالعلوم دیوبند، حضرت مفتی راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی شیخ الحدیث ومہتمم دارالعلوم دیوبند نے کی۔اجتماع میں دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلما لکھنو، مظاہر علوم سہارن پور سمیت ملک بھر سے تقریبا دو سومفتیان کرام نے شرکت کی، جنھوں نے دو موضوعات اور ان کے ذیلی عنوانات پر تفصیل سے مناقشہ کیا اور فقہ اور اصول فقہ کی روشنی میں اپنے مقالات اور مناقشے پیش کئے، آخر میں مقرر کردہ ایک کمیٹی نے غور و خوض کے بعد بالاتفاق تجاویز منظور کیں۔
پہلے دن اپنے خطبہئ افتتاحیہ میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے شریعت و سنت کے متبعین پر اعتراض کرنے والوں کو واضح طور پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ فقہ اسلامی میں کوئی جمود و تعطل نہیں بلکہ ہر دور میں رہ نمائی کی صلاحیت موجود ہے،اور نہ اس کی بنیاد کسی شخصی رائے پر ہے بلکہ قرآن و سنت اور اجتماعی و شورائی فیصلوں پر ہے۔ مولانا مدنی نے ایک دوسرے موقع پر اپنے خطاب میں مفتیان کرام کو متوجہ کیا کہ بر صغیر کی تقسیم ملک سے زیادہ مسلمانوں کی تقسیم ہے، انھوں نے اعتراف کیا کہ مسلمانا ن ہند نے اسلام کی سربلندی اور اس وطن کی عظمت کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں، لیکن دنیا تک ہم اپنے پیغام کو پہنچانے سے قاصر رہے ہیں، ہمیں اس پر توجہ دینی چاہیے اور ہندستان کے علماء کو عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
اجلاس میں جن دو موضوعات پر تفصیلی مناقشہ ہوا،ان میں مال حرام سے متعلق چند غور طلب امور بالخصوص موجودہ دور میں کاروبار کی جدید رائج صورتوں اورناجائز ملازمتوں او رپیشوں کی شریعت کی روشنی میں درجہ بندی اور دوسرا مو ضوع اجتماعی قربانی سے متعلق بعض تحقیق طلب مسائل تھا۔اس سلسلے میں دو الگ الگ تجویز یں منظور ہوئی ہیں، ان کا خلاصہ اس طرح ہے:
تجویز (۱)مال حرام سے متعلق چند غور طلب امور
شریعت میں طیب اور حلال مال کو اختیار کرنے اور حرام مال سے اجتناب کرنے کی بڑی اہمیت ہے؛ لیکن عصر حاضر میں مال حرام سے متعلق مختلف شکلیں وجود میں آرہی ہیں، جن کا فقہی اور شرعی حل پیش کرنا اہل علم کا فریضہ ہے؛ چناں چہ اس سلسلے میں بحث وتمحیص کے بعد باتفاق رائے مندرجہ ذیل تجاویز منظور کی گئیں:
(۱)  سود، غصب، رشوت، چوری، جوا، سٹہ اور عقد باطل کے ذریعہ حاصل شدہ مال قطعی حرام ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ اس کو اصل مالک کو لوٹانا ممکن نہ ہو تو دفع وبال کی نیت سے غرباء میں تقسیم واجب ہے، اور اس طرح کا مال اگر وراثت میں حاصل ہوا ہو اور اس کا مالک معلوم ہو، نیز واپس کرنا ممکن ہو تو مالک تک اس مال کا پہنچانا ضروری ہے۔ اور اگر مالک معلوم نہ ہو یا معلوم تو ہو؛ لیکن اس تک پہنچانا ممکن نہ ہو تو ایسے مال کو بھی فقراء پر تقسیم کرنا واجب ہے۔(۲)  شریعت میں جو اُمور ناجائز ہیں، مثلاً: نوحہ کرنا، ناچ گانا اور بلاضرورت تصویر کشی وغیرہ کو ذریعہ معاش بنانا جائز نہیں ہے۔ اور ان سے حاصل شدہ آمدنی بھی ناجائز ہے۔(۳)  جو امور فی نفسہ جائزہیں؛ لیکن وہ گناہ اور معصیت کا سبب بنتے ہیں، تو ان کو حتی الامکان ذریعہ آمدنی نہیں بنانا چاہئے؛ تاہم ان کی آمدنی حرام نہ ہوگی۔(۴)  خریدار پر حلال مال سے ہی واجب الاداء ثمن کو اداء کرنا لازم ہے؛ لیکن اگر کسی وجہ سے حرام مال سے ادائیگی کردی تو اس سے خریدے ہوئے سامان کے منافع اس کے لئے حرام نہ ہوں گے؛ البتہ خریداری میں صرف کردہ حرام مال کے بقدر اصل مالک تک پہنچانا ورنہ فقراء پر خرچ کرنا ضروری ہوگا۔(۵)  فروخت شدہ سامان کی قیمت، گاڑی یا مکان کا کرایہ، اسکول یا مدرسہ کی فیس وغیرہ ایسے شخص سے وصول کرنا جائز ہے جس کا ذریعہ آمدنی بظاہر حرام ہو۔(۶)  اگر کسی شخص کے پاس حلال اور حرام مال الگ الگ ہوں اور یہ معلوم ہو کہ وہ حلال مال میں سے ہی خرچ کررہا ہے تو اس کی دعوت قبول کرنا اور اس سے ہدیہ وغیرہ لینا جائز ہے۔ اور اگر متعین طور پر معلوم ہوجائے کہ وہ حرام مال پیش کررہا ہے تو اُسے لینا جائز نہ ہوگا۔ اور اگر حلال اور حرام مال مخلوط ہو تو جو وہ اپنے حلال حصہ کے بقدر مال میں سے پیش کرے تو قبول کرنا درست ہے۔ اور اگر اس کا علم نہ ہو؛ لیکن حرام مال غالب ہو تو اس کے یہاں دعوت کھانا اور ہدیہ وغیرہ قبول کرنا جائز نہیں ہے۔(۷)  کسی ایسے محلہ میں دوکان کھولنا جہاں اکثر لوگ ناجائز کاروبار میں ملوث ہوں فی نفسہ جائز ہے؛ البتہ احتیاط یہ ہے کہ ایسی جگہوں پر دوکان کھولنے سے پرہیز کیا جائے۔
تجویز (۲)جتماعی قربانی سے متعلق بعض تحقیق طلب مسائل
قربانی دین اسلام کا اہم شعار ہے، جس طرح قربانی کرنا عبادت ہے، اسی طرح اس کی ادائیگی میں تعاون کرنا بھی کار ثواب ہے۔ آج کل بدلتی ہوئی صورتِ حال میں اِجتماعی قربانی کی ضرورت پیش آتی ہے؛ لہٰذا دوسروں کی طرف سے قربانی کا نظم کرنے والے اَفراد اور اِداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس عمل کو عبادت سمجھ کر پوری امانت ودیانت کے ساتھ انجام دیں، کیوں کہ یہ معاملہ اپنے اندر مختلف جہتیں رکھتا ہے، اس لئے اس موضوع پر غور وفکر کے بعد مندرجہ ذیل تجاویز منظور کی گئیں:
(۱)  مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی قربانی انفرادی طور پر خود کرنے کی کوشش کریں، یہ زیادہ موجب ثواب ہے؛ تاہم معتبر اجتماعی نظام کے تحت بھی قربانی کرانا جائز ہے۔ (۲)  اجتماعی قربانی کے نظام میں مجموعی حصہ داروں کی نیت سے بھی جانوروں کی بلاتعیین قربانی درست ہوجائے گی۔(۳)  اگر تمام شرکاء جانور میں سے اپنے اپنے حصہ کا پورا گوشت لینا چاہتے ہوں تو وزن کے ساتھ تقسیم کیا جانا یا کم از کم ہر حصے کے ساتھ گوشت کے علاوہ دوسرے اعضاء (مثلاً: سری، پائے، چربی، گردہ اور دل) کے ٹکڑے رکھ دینا ضروری ہے۔
(۴)  الف:-  قربانی کا نظم وانتظام کرنے والے ادارے اگر جانوروں کی قیمت کا تخمینی اندازہ لگاکر فی حصہ متعین رقم کا اعلان کردیں اور اس کے مطابق رقومات وصول کریں اور رقم کم پڑنے کی صورت میں مزید مطالبہ کرنے کی صراحت بھی کریں یا یہی طریقہئ کار ادارہ میں معروف ہو تو قبل از تعیین جانور کے ہلا ک ہونے یا عیب دار ہونے کی ذمہ داری ادارے کی ہوگی، اور تعیین کے بعد اگر ہلاکت ہو یا عیب پایا جائے تو یہ حصہ دار کا نقصان شمار ہوگا۔ب:-  اگر ادارہ متعینہ رقم لے کر قربانی کرنے کی پوری ذمہ داری لیتا ہے اور رقم کم پڑنے یا زیادہ ہونے پر حصہ دار سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا تو اس طریقہ پر شرعی اُصول وضوابط کے مطابق قربانی کرنے کی اجازت ہے۔ ایسی صورت میں قربانی کرانے والے ہر قسم کے نفع ونقصان سے برئ الذمہ ہوں گے۔  
(۵)  قربانی کی رقم وصول کرنے والوں کے اخراجات کو بھی (عرف کے مطابق) دیگر اخراجات میں شامل کرکے حصہ داروں سے وصول کرنے کی گنجائش ہے۔(۶)  مدرسہ کے مال سے قربانی کے جانوروں کی حتی الامکان خریداری نہ کی جائے، اہل مدارس کو چاہئے کہ جانور فراہم کرنے والے لوگوں سے ادھار خریداری کا معاملہ کریں اور حصص کی رقومات حاصل ہونے کے بعد واجب الاداء رقم ان کے حوالے کردیں۔
اس اجتماع میں جو اہم شخصیات شریک ہوئیں ہو، ان میں مولانا محمد سلمان بجنوری نائب صدر جمعیۃ علماء ہند، نائب امیر الہند مفتی محمد سلمان منصور پوری استاذ دار العلوم دیوبند، مولانا عتیق احمد قاسمی بستوی استاد دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنو،مولانا امیر حسن صاحب حیدرآباد،، مفتی محمد شبیر قاسمی شیخ الحدیث جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد، مفتی محمد خالد نیموی، مفتی نذیر باندی پورہ کشمیر، مفتی محمد صالح الزماں اڑیسہ، مفتی محمد عثمان گرینی، مفتی اختر امام عادل، مفتی منصف امروہہ، مفتی انعام اللہ حیدرآباد، مفتی زین الاسلام،دارالعلوم دیوبند، مفتی جنید پالن پور، مفتی زید مظاہری استاذ دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنو، مفتی عبدالرشید کانپور، مفتی حبان، مفتی ضیاء الدین، الہ آباد، مفتی اسد اللہ، معین مفتی دارالعلوم دیوبند، مفتی صالح الزماں اڑیسہ،، مفتی رشید احمد کانپور، مفتی وقاص احمد دارالعلوم دیوبند، مفتی محمد صالح مظاہر العلوم وغیرہ سمیت دو سو مفتیان کرام شریک تھے۔ اخیر میں اس اجتماع کے میزبان مولانا ممتاز صاحب مہتمم ادارہ فیض القران ٹھیکری باری ضلع اتر دیناج پور نے سب کا شکریہ ادا کیا۔حضرت مہتمم صاحب دارالعلوم دیوبند مفتی ابولقاسم صاحب نعمانی کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔  ادارۃ المباحث الفقہیہ کے معتمد مولانا عبدالملک رسول پوری نے پروگرام کے کو آرڈینیشن میں کردار ادا کیا۔ ( #ایس_اے_ساگر )


Saturday, 9 September 2023

ظاہر اور باطن کو پاک کرنے کی دعا

ظاہر اور باطن کو پاک کرنے کی دعا:
ظاہر و باطن دونوں کو درست رکھنا چاہئے: انسان کو اپنا ظاہر بھی ٹھیک کرنا چاہئے اور اپنا باطن بھی درست رکھنا چاہئے کیونکہ  اللّٰہ  تعالیٰ اس کے ہر ظاہری، باطنی قول اور فعل سے باخبر ہے، جیسا کہ ہمارے ظاہری اور پوشیدہ اعمال کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا سورہ الانعام آیت نمبر 3 میں ارشاد وارد ہے:
یَعۡلَمُ سِرَّکُمۡ وَ جَہۡرَکُمۡ وَ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۳﴾
ترجمہ: وہ تمہارے چھپے ہوئے بھید بھی جانتا ہے اور کھلے ہوئے حالات بھی، اور جو کچھ کمائی تم کر رہے ہو، اس سے بھی واقف ہے.
نیز سورہ الانبیآء آیت نمبر 110 میں ارشاد وارد ہے:
اِنَّہٗ  یَعۡلَمُ  الۡجَہۡرَ  مِنَ الۡقَوۡلِ وَ یَعۡلَمُ مَا تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾
ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو بلند آواز سے کہی جاتی ہیں، اور وہ باتیں بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو.
اور سورہ فصلت آیت نمبر 40 میں ارشاد وارد ہے:
اِنَّ  الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ  اٰیٰتِنَا لَا یَخۡفَوۡنَ عَلَیۡنَا ؕ اَفَمَنۡ یُّلۡقٰی فِی النَّارِ خَیۡرٌ  اَمۡ مَّنۡ یَّاۡتِیۡۤ  اٰمِنًا یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ ۙ اِنَّہٗ  بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۴۰﴾
ترجمہ: جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں ٹیڑھا راستہ اختیار کرتے ہیں (17) وہ ہم سے چھپ نہیں سکتے۔ بھلا بتاؤ کہ جس شخص کو آگ میں ڈال دیا جائے، وہ بہتر ہے، یا وہ شخص جو قیامت کے دن بےخوف و خطر آئے گا (اچھا) جو چاہو کرلو یقین جانو کہ وہ تمہارے ہر کام کو خوب دیکھ رہا ہے
تفسیر: 17: ٹیڑھا راستہ اختیار کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان آیتوں کو ماننے سے انکار کیا جائے، اور یہ بھی کہ انہیں غلط سلط معنی پہنائے جائیں۔ آیت کی وعید دونوں صورتوں کو شامل ہے۔
اورحضرت عبداللّٰہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس نے اپنے اور  اللّٰہ  تعالیٰ کے مابین معاملے کو اچھا کرلیا تو  اللّٰہ تعالیٰ اسے اس کے اور لوگوں  کے  درمیان معاملے کو کافی ہوگا اور جس نے اپنے باطن کی اصلاح کرلی تو اللّٰہ  تعالیٰ اس کے ظاہر کو درست کر دے گا۔  (جامع صغیر، حرف المیم، ص ۵۰۸ ، الحدیث:  ۸۳۳۹ ) 
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے باطن کو سنوارنے کی بھر پور کوشش کرے اور اس کے لئے یہ دعا بھی مانگا کرے،  چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا سکھلائی:
’’اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ سَرِیْرَتِیْ خَیْرًا مِّنْ عَلَانِیَتِیْ وَاجْعَلْ عَلَانِیَتِیْ صَالِحَۃً، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ مِنْ صَالِحِ مَا تُؤْتِی النَّاسَ مِنَ الْمَالِ وَالْاَہْلِ وَالْوَلَدِ غَیْرِ الضَّآلِّ وَلَا الْمُضِلِّ‘‘ 
اے  اللّٰہ! میرا باطن میرے ظاہر سے اچھاکردے اور میرے ظاہر کو نیک و صالح بنادے. اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، میں تجھ سے وہ اچھا گھر بار، مال اولاد، جو نہ گمراہ ہو اور نہ گمراہ گر ہو مانگتا ہوں جو تو لوگوں کو دیتا ہے۔ (ترمذی، احادیث شتی،  ۱۲۳ - باب،  ۵  /  ۳۳۹، الحدیث: ۳۵۹۷)
 

Saturday, 19 August 2023

معاشرہ کو سنوارنے اور نئی نسل کو تعلیم سے آراستہ کرنے میں خواتین کا نمایاں کردار

بسم اللہ الرحمن الرحیم


معاشرہ کو سنوارنے اور نئی نسل کو تعلیم سے آراستہ کرنے میں خواتین کا نمایاں کردار
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی 
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور جامعہ عائشہ نسواں کے اشتراک سے تین روزہ ورکشاپ اختتام پذیر
--------------------------------
معاشرہ کو سنوارنے اور نئی نسل کو تعلیم سے آراستہ کرنے میں خواتین کا نمایاں حصہ ہے؛ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عورتوں کی خصوصیت بیان فرمائی کہ بعض کمزوریوں کے باوجود اُن کے اندر قوی الارادہ مردوں کی سوچ پر حاوی ہو جانے کی صلاحیت ہے، خواتین کی خصوصیت شب وروز سامنے آتی رہتی ہے؛ اس لئے لڑکیوں کی دینی تعلیم وتربیت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ان کو مستقبل میں امت کی ضرورت کے مطابق مختلف میدانوں میں کام کے لئے تیار کیا جائے، حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا وصدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے لڑکیوں کے مدارس کے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا، یہ سہ روزہ ورکشاپ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا (دہلی) اور جامعہ عائشہ نسوان (حیدرآباد) کے اشتراک سے جامعہ عائشہ کے احاطہ میں منعقد ہوا، جس میں تقریباََ ایک سو معلمات نے شرکت کی، ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس میں پروفیسر عبدالمجید نظامی نے کہا کہ تعلیم کے لئے ضروری ہے کہ اللہ کے نام وصفات سے اس کا رشتہ قائم ہو، تب ہی وہ علم انسانیت کے لئے مفید ہو سکتا ہے، حیدرآباد کے مشہور عالم مولانا عبدالقوی صاحب نے اس طرح کے ورکشاپ کو وقت کی ضرورت قرار دیا، اور اس قدم کو بہت سراہا، مولانا حافظ خواجہ نذیر الدین سبیلی ناظم جامعہ عائشہ نسوان نے جامعہ عائشہ کے لئے اس کو نہایت مبارک شروعات قرار دیا، مولانا محمد انس سبیلی نے مہمانوں کا استقبال کیا، اکیڈمی کے شعبۂ علمی کے رفیق اور رابطہ عامہ کے انچارج مفتی امتیاز احمد قاسمی نے کہا کہ اب تک اکیڈمی نے ۱۰۰؍ فکری وتربیتی ورکشاپ اور سمپوزیم رکھے ہیں، ۲۴؍سیمیناروں اور تربیتی پروگراموں میں خواتین کے مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے، جن میں سے بعض سیمینار تو پورے خواتین کے مسائل سے متعلق تھے، انھوں نے اس موقع سے اکیڈمی اور حیدرآباد کے خصوصی ربط پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی کے چار سالانہ فقہی سمینار اور ان کے علاوہ ۱۷؍تربیتی پروگرام اور محاضرات حیدرآباد میں رکھے جا چکے ہیں، مؤرخہ: ۱۵؍ اگست ۲۰۲۳ء کو بعد نماز مغرب اکیڈمی کی علمی نشستیں شروع ہوئیں، مولانا عبید الرحمن اطہر ندوی نے پہلی نشست کی صدارت کی، اس میں لڑکیوں کے لئے طریقۂ  تدریس کے موضوع پر ، مولانا محمد عمر عابدین قاسمی مدنی (نائب ناظم المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد) نے تفصیلی اور پُر اثر محاضرہ دیا، 
مولانا سید احمد ومیض ندوی استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد نے خواتین اور عوامی درس قرآن کا طریقہ اور مفتی تجمل حسین قاسمی نے خواتین اور عوامی درس قرآن پر تجزیاتی خطبہ پیش کیا، اور اس کے لئے مفید معاون کتابوں کی رہنمائی کی، صفا بیت المال کے صدر اور بانی مولانا غیاث احمد رشادی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ خدمت خلق اور سماجی کاموں میں شرعی حدود میں رہتے ہوئے خواتین کس طرح کام کر سکتی ہیں۔
۱۶؍ اگست کی صبح ورکشاپ کی تیسری نہایت اہم نشست منعقد ہوئیں، تیسری نشست کی صدارت پروفیسر قدوسہ سلطانہ صاحبہ نے کی، اس نشست میں حفصہ عابدین نے لڑکیوں کے مدرسہ میں انگریزی زبان کی تعلیم وضرورت اور طریقۂ کار پر روشنی ڈالی، جلیسہ سلطانہ ایڈوکیٹ نے مسلم پرسنل لا سے متعلق اعتراضات پر تفصیل سے گفتگو کی،محترمہ ذکیہ کوثر صاحبہ نے فارغات مدارس اور شرعی مسائل میں رہنمائی کے موضوع پر اپنا محاضرہ پیش کیا، محترمہ رحیم النساء صاحبہ نے مدارس بنات میں حساب، جغرافیہ، تاریخ اور جنرل سائنس کی تعلیم سے متعلق گفتگو کی اور محترمہ ڈاکٹر نائلہ سعید صاحبہ نے فرسٹ اور نسوانی مسائل پر اپنا محاضرہ پیش کیا۔
ورکشاپ کی چوتھی نشست بعد نماز مغرب پروفیسر راشد نسیم ندوی کے زیر صدارت منعقد ہوئی، جس میں انھوں نے تعلیم نسواں کے معیار کو بلند کرنے اور خواتین اساتذہ کی تدریسی تربیت پر زور دیا، اس نشست میں مولانا احمد نور عینی نے مدارس بنات میں نحو، صرف، انشاء اور بلاغت کی تعلیم کے موضوع پر ، مفتی جمال الدین قاسمی نے مدارس بنات کا نصاب تعلیم اور اسلام علوم -- ایک جائزہ، مفتی شوکت ثنا قاسمی نے مدارس بنات میں مدت تعلیم-- تعلیم اور جائزہ، مفتی عارف باللہ قاسمی نے مدارس بنات میں تخصصات کے شعبے-- جائزہ اور تجاویز مولانا انصار اللہ قاسمی نے مدارس بنات اور ارتدادی فتنوں کا مقابلہ کے عنوان سے اور مفتی محمد ابو بکر جابر قاسمی نے طالبات کی فکری، اخلاقی، دعوتی اور معاشرتی تربیت پر  اپنے اپنے محاضرات پیش کئے۔
مؤرخہ ۱۷؍ اگست کو صبح دس بجے ورکشاپ کی آخری نشست ناظم جامعہ عائشہ مولانا حافظ خواجہ نذیر الدین سبیلی کے زیر صدارت منعقد ہوا، جس سے مفتی عبدالودود مظاہری اور مولانا ڈاکٹر فہیم اختر ندوی نے خطاب کیا، مولانا حافظ خواجہ نذیر الدین نے اپنے صدارتی کلمات میں اکیڈمی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ، حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ اس و قت اسلاموفوبیا کا سب سے بڑا نشانہ عورتوں کو اسلام سے بدظن کرنا اور عورتوں کا نام لے کر اسلام کو بدنام کرنا ہے، ان حالات میں عالمات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کی بھر پور سعی کریں اور اپنے آپ کو اس اہم کام کے لئے تیار کریں، آپ نے کہا کہ اکیڈمی جس طرح لڑکے کے مدارس کے لئے تربیتی پروگرام رکھتی ہے، ان شاء اللہ مستقبل میں لڑکیوں کے مدارس کے طالبات اور وہاں کی فارغات کے لئے بھی اسی طرح کے مفید اور مؤثر پروگرام رکھے گی، آخر میں مفتی عبدالودود صاحب مظاہری کی دعاء پر ورکشاپ کا اختتام عمل میں آیا۔

Wednesday, 16 August 2023

کیا ہیڈفون لگانے پر زیادہ خرچ ہوتی ہے بیٹری؟

کیا ہیڈفون لگانے پر زیادہ خرچ ہوتی ہے بیٹری؟

 کا اسپیکر کرتا ہے جلدی فون ڈسچارج؟ 90 فیصد لوگ نہیں جانتے حقیقت

نئی دہلی،ٹھیک سے استعمال کرنے کے بعد بھی اگر آپ کی فون کی بیٹری جلد ختم ہوجارہی ہے تو اس کی وجہ کافی انوکھی ہوسکتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہیڈ فون لگانے کی وجہ سے بھی بیٹری جلد ختم ہوجاتی ہے۔بیٹری اسمارٹ فون کیلئے دل کی طرح کام کرتی ہے۔ اگر بیٹری ختم ہوجائے تو مطلب فون ڈیڈ ، اس لئے ہرکوئی فوج کی بیٹری کا خاص خیال رکھتا ہے۔ فون بند نہ ہو اس لئے کچھ لوگ ہر مرتبہ فون کو چارجنگ پر لگا دیتے ہیں۔ بیٹری جلد ختم نہ ہو، اس کیلئے بھی کئی تدابیر کی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ایک انوکھی بات جو لوگوں کو نہیں معلوم ہے وہ یہ کہ کیا فون کا اسپیکر اور ہیڈ فون بھی بیٹری کو ڈسچارج کرتا ہے۔

واضح رہے کہ آج کل زیادہ تر لوگ بلیوٹوتھ والے ایئرفون کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسپیکر یا ہیڈ فون کونسی سرگرمی فون کی بیٹری زیادہ خرچ کرتی ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ ایئرفون بیٹری کو زیادہ خرچ کرتے ہیں خاص طور پر اگر آپ بلیو ٹوتھ ایئرفون کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ ایئرفون لگاتار بلیوٹوتھ کنیکشن کو سرچ کررہے ہوتے ہیں جو بہت زیادہ بیٹری کا استعمال کرسکتا ہے۔ اگر آپ اپنے ایئرفون کا استعمال نہیں کررہے ہیں اور وہ چالو ہے تو بیٹری بچانے کیلئے انہیں بند کرنے میں ہی دانشمندی ہے۔

اب بلیو ٹوتھ اور وائرڈ ہیڈ فون کے درمیان بیٹری کے خرچ ہونے کی بات آتی ہے تو کوئی صحیح جواب نہیں مل پاتا ہے۔ یہ دراصل الگ الگ ماڈل اور اس کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے اس پر انحصار کرتا ہے۔

حالانکہ آئی فون کو لے کر کچھ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آپ کے اسپیکر کا استعمال کرنے سے آپ کی بیٹری ختم ہوسکتی ہے۔ اسپیکر آپ کے آئی فون سے آنے والی آواز کو بڑھانے کیلئے پاور کا استعمال کرتا ہے ، جس سے بیٹری تیزی سے ختم ہوجائے گی۔اگر آپ طویل عرصہ تک اپنے اسپیکر کا استعمال کررہے ہیں تو اپنے آئی فون کو کسی پاور سورس سے پلگ ان کرکے رکھنا ہی اچھا ہے، کیونکہ اس سے آپ کی بیٹری کی بچت ہوسکے گی۔