Tuesday, 24 October 2017

مشیت خداوندی اس کی رضا کو مستلزم نہیں

مشیت خداوندی اس کی رضا کو مستلزم نہیں۔
خلق شر برا نہیں، اسے اختیار کرنا براہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ حضرات کی خدمت میں ایک غیرمسلم کا اعتراض پیش کیا جا رہا ہے جس کا مدلل اور مفصل جواب درکار ہے،
سوال یہ ہے کہ؛
سورہ انعام کی آیت 107  ہے:
ولو شاء اللہ ما اشرکنا
یعنی اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔
غیرمسلم کا اعتراض یہ ہے کہ پھر ہمیں عذاب کیوں کر ہوگا؟  اور مسلم ہمیں شرک سے منع کیوں کرتے ہیں جبکہ ہم خدا کی مشیت کے مطابق شرک کرتے ہیں۔
نور الحسن القاسمی پڑتاب گڑھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
بندہ نہ تو فاعل مستقل اور خالق افعال ہے۔ اور نہ ہی شجر و حجر کی طرح مجبور محض۔ کھانٹی علمی اصطلاح میں نہ جبر محض ہے نہ قدر محض۔
ہر شئی کا خالق حقیقی اللہ تعالی ہے۔ وہی قادر مطلق ہے۔ اس نے بندہ کو  بھی اپنی عبادت کرنے کے لئے کچھ قدرت واختیار عطا کئے ہیں۔ اسی لئے بندہ کو "کاسب" کہتے ہیں۔ اور اس خداداد اختیار وقدرت سے بندہ جو کام کرتا ہے اصطلاح شرع میں اسے "کسب" کہتے ہیں۔ خلق اللہ کا عمل اور کسب بندہ کا فعل ہے۔
بھلائی یا برائی کی نسبت بندہ کی طرف یا  بندہ کے ثواب وعذاب کا استحقاق اسی کسب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مدح وذم  کی نسبت خلق کی طرف نہیں ہوگی۔ یعنی برے کام کرنے سے بندہ ہی کو برا کہا جائے گا۔ خالق ہونے کی وجہ سے خدا تعالی کی طرف کوئی برائی منسوب نہیں کی جاسکتی۔
تلوار چلانے والے ہی کو قاتل کہا جاتا ہے۔ تلوار بنانے والے کو کوئی قاتل کہتا اور نہ کوئی برائی اس کی طرف منسوب کی جاسکتی ہے۔ تلوار بنانا تو کمال ہی کمال ہے۔ اگر اس کا استعمال بے محل ہے تو وہ بلاشبہ معیوب ومذموم ہے۔
رنگریز کو اسود یعنی سیاہ نہیں کہا جاسکتا۔ جو کپڑا سیاہ رنگ میں رنگ گیا ہے اس کو سیاہ کہا جائے گا۔
اسی طرح کافر، گمراہ، زانی، قاتل وغیرہ وہی کہلائے گا جو کفر وضلالت زنا وقتل وغیرہ کی سیاہی میں رنگین ہے۔ جس نے کفر وضلالت کی سیاہی پیدا کی اس کی طرف کوئی برائی منسوب نہیں کی جاسکتی۔
اس خلاق اعظم نے  تو کفروایمان، طاعت ومعصیت، نوروظلمت کے ہر قسم کے رنگ پیدا کئے اور رسولوں کے ذریعہ خوب اچھی طرح بتلادیا کہ کون رنگ برا ہے اور کون بھلا!
بھلے برے میں امتیاز کے لئے عقل بھی دی۔ بغیر عقل کے مکلف نہ کیا۔ کرنے اور نہ کرنے کی طاقت وقدرت بھی دی۔ اس پر بھی اگر کوئی ایمان وطاعت کے صاف وشفاف سفید رنگ چھوڑ کے کفر وضلالت کی سیاہی اپنے قلب پر لگالے تو یہ اس کا قصور ہے۔ کیا قادر مطلق نے اسے کفر وضلالت اختیار کرنے پہ مجبور کیا تھا ؟؟؟؟ جان بوجھ کے ممانعت کے باوجود طاعت چھوڑ کے معصیت کرتا ہے تو یہ خود ظالم نہ ہوا ؟؟؟
خلاصہ یہ کہ خلق قبیح 'قبیح نہیں۔ ایجاد شر، شر نہیں۔ اس لئے کہ اس میں حکمت ہے چاہے ہمیں معلوم نہ ہو!! سیاہ خال و بال اگرچہ فی حد ذاتہ برے ہیں۔ مگر چمکدار چہرہ کی خوبصورتی ورعنائی اسی سے تو ہے! معدہ اور آنتیں اگرچہ سرتاپا ناپاک ہیں۔ مگر اسی پہ مدار حیات بھی تو ہے! اگرچہ یہ انفرادا برے ہیں لیکن مجموعہ کے لحاظ سے خیر محض ہیں۔ لہذا خلق قبیح میں کوئی برائی نہیں کہ اس میں بے شمار حکمتیں ہوتی ہیں۔
لیکن 'کسب' شر، شر ہے۔ کیونکہ کسب میں کوئی حکمت نہیں ہوتی۔
اسی لئے وہ مذموم ہے اور اللہ کی ذات کے لئے کسب کا اثبات باطل ہے۔
سیر کی کتابوں میں ہے کہ ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کا عذر یہ کیا کہ میں نے تقدیر کی موافقت کی۔اس میں میرا کیا قصور ہے؟ لہذا مجھے سزا کیوں دے رہے ہیں ؟؟؟
عرض ہوا کہ تجھے کیسے پتہ چلا کہ تیری تقدیر میں کیا ہے ؟؟؟ جو تو نے تقدیر کی موافقت کی؟؟
یہ سب حیلے بہانے ہیں! تو نے شرارت نفس کی وجہ سے انکار سجدہ کیا ہے !!!
اسی طرح جتنے برے افعال ہیں ان کا کسب قبیح ہے۔ ان کا اکتساب موافقت تقدیر کی نیت سے نہیں ہوتا! (کیونکہ تقدیر کا تو کسی کو پتہ ہی نہیں۔ وہ تو سر من اسرار اللہ ہے) بلکہ شرارت نفس اور اس کی بہیمیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تقدیر کی آڑ لینا بالکل غلط اور ڈھونگ ہے۔ اس لئے اکتساب پہ سزا وعتاب ہوگا۔
عالم کے لئے جیسے خیر کی ضرورت ہے ویسے ہی شر کی بھی ضرورت ہے۔ قصر شاہی کا سارا حسن بیکار ہے اگر اس میں بیت الخلا نہ ہو!
یہ دنیا خدا کے جملہ کمالات وصفات کے مظہر ہے۔ اس کے کمالات مختلف ہیں۔ وہ رحیم  وکریم ہے تو ذو عقاب شدید بھی۔ معز ہے تو مذل بھی۔ اس کے صفات کمالیہ کے مظاہر کی  ضرورت ہے تو صفات جلالیہ کے بھی۔ ایمان عالم میں ایمان ضروری ہے تو کفر بھی۔ بوبکر وعمر ضروری ہیں تو ابو جہل وابولہب بھی۔

در کارخانہ عشق از کفر ناگزیر است
دوزخ کرا بسوزد گربولہب نہ باشد ؟

اب یہ اس مالک کا حق ہے کہ جس تختہ کو چاہے شہ نشیں میں لگائے،
اور جس تختہ کو چاہے بیت الخلا کے قدمچہ میں لگائے۔۔۔ جس تختہ سے چاہے قرآن رکھنے کی رحل بنائے
یہ حاکم مطلق کا اختیار یے۔ نہ کوئی ظلم ہے۔ اور نہ کسی کو اس پہ حق اعتراض۔
اس  کے بعد اب سوال کا جواب  سمجھئے کہ اللہ تعالی بحیثیت خالق  اپنے ارادے اور مشیت سے بعض چیزوں کو پیدا کرتا ہے، پھر انسان کو اختیار دیتا ہے کہ وہ چاہیں تو فلاں کام کرلیں مگر ساتھ ہی واضح کردیتا ہے کہ یہ کام برا ہے، اس کی انجام دہی ہماری ناراضگی کا باعث ہوگی، پھر بندہ اپنی مرضی سے وہ کام انجام دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا قانون سامنے آجاتا ہے۔
لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت،
(البقرہ)
جو اس نے اچھا کام کیا وہ اس کے حق میں بہتری کی خوشخبری لائے گا اور جو غلط کیا اس کا وبال اسی پر پڑے گا، اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اچھے برے اعمال کا فی الجملہ اختیار دے رکھا ہے، اگر وہ یہ اختیار نہ دیتا تو انسان جمادات کی طرح مجبور محض ہوتے ، لہذا یہ تاویل قطعی بےبنیاد ہے کہ اگر اللہ کی رضا نہ ہوتی تو ہم یہ کام نہ کر پاتے ، دراصل لوگوں نے اللہ کی مشیت اور رضا کو ایک چیز سمجھ لیا ہے حالانکہ یہ دو مختلف اشیاء ہیں، بعض کام اللہ اپنی مشیت اور ارادے سے کرتا ضرور ہے مگر ان میں اس کی رضا شامل نہیں ہوتی ، جیسے تخلیق ہے، ہر اچھی بری چیز اللہ ہی کی پیدا کردہ ہے۔ مگر وہ بعض چیزوں کو پسند نہیں کرتا ، جیسے سورة زمر میں موجود ہے ، ولا یرضی لعبادہ الکفر، وہ اپنے بندوں سے کفر کو پسند نہیں کرتا، اگرچہ کفر کو بھی اسی نے پیدا کیا ہے اور پھر اس کی توفیق بھی دی ہے، اس کا فیصلہ تو یہ ہے، نولہ ما تولی، جدھر کوئی جانا چاہتا ہے وہ ادھر ہی پھیر دیتا ہے۔ توفیق دے دیتا ہے، تاہم ہر چیز کا خالق وہی ہے،
واللہ خلقکم وما تعملون،
اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی اسی نے پیدا فرمایا ہے۔
یاد رہے کہ کسی شخص کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ غلط کام کرنے پر فورا گرفت کیوں نہیں کرتا، تاکہ لوگ اس سے باز آجائیں، یہ چیز بھی اللہ کی حکمت کے خلاف ہے وہ چاہے تو فورا پکڑ لے یا مہلت دے دے۔ دنیا کی سلطنت کا بھی قانون یہی ہے کہ عام طور پر جرم پر حکومت فورا گرفت ہیں کرتی بلکہ ڈھیل دیتی ہے اور ملزم کی کارگردگی پر نگاہ رکھتی ہے اور بالآخر گرفت کرلیتی ہے، اگر کسی ملزم کو فوری طور پر گرفتار نہ کیا جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدکردار حکومت کی نگاہ میں اچھے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حکومت میں جب کوئی بغاوت اور سرکشی کرتا ہے تو مالک الملک بسا اوقات ڈھیل دیتا ہے۔ جب اس کی شرارت حد سے بڑھ جاتی ہے تو اچانک پکڑ لیتا ہے قرآن پاک میں موجود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ گرفت کرنے پہ آتا تو دنیا میں کوئی چلنے پھرنے والی چیز نظر نہ آتی۔ انسانوں کی طرح جانور اور چرند پرند بھی غلطی کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ سب کو فی الفور سزا دیتا تو سب ہلاک ہوجاتے مگر اس کا قانون ہے
و یوخرکم الی اجل مسمی۔
(سورة نوح)
مقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ گنہگار آدمی اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے، وہ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہے گا پکڑلے گا اور جب چاہے گا سزا دے گا۔ لہذا مشرکین کی اس دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ شرک کے کام اگر غلط ہوتے تو خدا تعالیٰ ان کی توفیق ہی نہ دیتا مشرکین کے مطابق اگر انجام پانے والا ہر فعل درست ہے، تو جب کوئی آدمی زہر استعمال کرلیتا ہے تو پھر وہ تریاق کی تلاش میں کیوں پھرتا ہے، اگر اس نے زہر کا استعمال اللہ کی رضا سے کیا ہے تو پھر اس کا نتیجہ بھی بھتگنا چاہے، اور ہلاکت سے بچنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ، اسی طرح جب کوئی بیمار ہوجاتا ہے تو بیماری میں خدا تعالیٰ کی رضا تلاش کر کے اس پر صبر کرنا چاہئے، نہ کہ ڈاکٹر سے دوائی لینی چاہئے، بہرحال یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور رضا دو مختلف چیزیں ہیں ، انسان ہر کام بیشم اللہ کی توفیق ہی سے کرتا ہے مگر یہ انسان کا فرض ہے کہ وہ دیکھے کہ جو کام میں کر رہا ہوں اس میں اللہ کی رضا شامل ہے یا ناراضگی ، اگر اس بات کی سمجھ آجائے تو کوئی آدمی شرک پر آمادہ نہ ہوگا ، اور نہ وہ اسے خدا کی رضا پر محمول کرے گا۔
علمی دلیل کے طور پہ اللہ تعالی
ارشاد فرماتے ہیں  اے پیغبر ! آپ ان سے کہہ دیں "ھل عندکم من علم ! کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے، یعنی شرک پر اصرار کرنے کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہے ؟ اگر ہے،
"فتخرجوہ لنا"
تو اسے ہمارے سامنے نکال لاؤ، ہم بھی دیکھیں کہ کس بنا پر تم شرک کا ارتکاب کر رہے ہو۔ تم نے یہ جو بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام بنا رکھے ہیں اور انھیں بعض پر حرام اور بعض کے لیے حلال کرتے ہو، اس کے ثبوت کے لئے کوئی چیز تو پیش کرو، کوئی صحیفہ ہو، کوئی کتاب ہو، کسی عقلمند نے، کسی دانشور نے، کسی بڑے فلاسفر نے ان شرکیہ افعال کی تصدیق کی ہو ، لاؤ کیا دلیل ہے تمھارے پاس، قرآن پاک میں جگہ جگہ مطالبہ کیا گیا ہے
ھاتوا برھانکم
لاؤ اپنی دلیل جو تمہارے دعوے کی تصدیق کرے، اور اگر کچھ پیش نہیں کرسکتے تو اس کا مطلب یہ ہے
ان تتبعون الا الظن،
تم صرف گمان کا اتباع کر رہے ہو، جو بات وہم و خیال میں آجاتی ہے اس کے پیچھے بھاگ نکلتے ہو
وان انتم الا تخرصون،
اور تم محض اٹکل دوڑا رہے ہو کہ فلاں شخص نے یہ منت مانی تھی تو اس کی فلاں مراد پوری ہوگئی یا فلاں نے فلاں کام نہیں کیا تھا تو اس کا یہ نقصان ہوگیا۔ فرمایا یہ سب اٹکل پچو باتیں ہیں جن کے پیچھے کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ یہ محض ظن ہے جس کے متعلق فرمایا،
ان الظن لا یغنی من الحق شیئا۔
(النجم)
حق کے مقابلے میں ایسے ظن اور گمان کی کیا حیثیت ہے اور یہ کیا فائدہ دے سکتا ہے ؟
(تفسیر معالم العرفان)
شاہ عبدالقادر صاحب (رحمہ اللہ) تعالیٰ فرماتے ہیں کافروں کا شبہ تھا کہ اگر ہمارے کام اللہ کو پسند نہ ہوتے تو ہم کو کرنے نہ دیتا اس کا جواب فرمایا کہ اگلوں کو گناہ پر کیوں پکڑا معلوم ہوا کہ وہ بھی ایک مدت (تک) ناپسند کام کرتے تھے اور اللہ نہ پکڑتا تھا آخر پکڑا (موضح القرآن)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
سیدپور /بیگوسرائے

تعطیل کی اجرت

ایام تعطیل میں مدرسین کا مدرسہ کا اضافی کام کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدارس اسلامیہ ہندیہ کا عرف عام یہ ہے کہ ایام تعطیلات میں مدرسین مشاہرہ کے مستحق ہوتے ہیں...
بندہ ایک مدرسے سے وابستہ ہے، مدرسے کا قانون یہ ہے کہ تعطیل میں تنخواہ جاری رہے گی، البتہ جو مدرس تعطیل رمضان المبارک میں مدرسے کا چندہ کرے گا وہ فیصدی انعام کا مستحق ہوگا، الگ سے کوئی تنخواہ نہیں دی جائے گی ... بندے کو اس قانون پر اشکال ہے، بندے کے خیال میں یہ صورت اجارہ فاسدہ کی ہے؛ کیونکہ چندے کی اجرت مجہول ہے، صرف فیصدی انعام کو عمل چندہ کی اجرت متعین کیا گیا ہے اور محض انعام اجرت نہیں بن سکتا.
صحت اجارہ کے لئے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ اجرت معلوم ہو اور جو ایک تنخواہ تمام مدرسین کو ایام تعطیل میں دی جاتی ہے وہ چندے کی اجرت نہیں بن سکتی ہے؛ کیونکہ یہ واحد تنخواہ تو گھر بیٹھے بھی مل سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جو اساتذہ رمضان المبارک میں چندہ نہیں کرتے مدرسہ ان کو بھی تنخواہ دیتا ہے؛ جب یہ تنخواہ عمل چندہ کی اجرت بننے سے خارج ہوگئی تو باقی صرف فیصدی انعام رہ جاتا ہے اور انعامِ محض پر چندہ اجارہ فاسد ہے
عدم جواز کی دوسری وجہ یہ ہے کہ "اجیر" اس عمل پر بنفسہ قادر نہیں ہوتا ہے؛ بل کہ قادر بقدرة الغير ہوتا ہے اس کا عمل چندہ دینے والوں کے عمل پر موقوف ہوتا ہے اور قادر بقدرة الغير " عاجز کے حکم میں ہوتا ہے؛ جب کہ صحت اجارہ کے لئے بوقت عقد" اجیر " کا قادر علی العمل ہونا اور مستأجر کا قادر علی تسلیم الأجرة ہونا شرط ہے.
اس سلسلے میں اردو فتاوی میں جو مذکور ہے کہ "تنخواہ دار ملازم کے لئے کمیشن پر چندہ کرنا جائز ہے." (فتاوی قاسمیہ جلد ١١) اس میں تنخواہ دار ملازم سے کونسا ملازم مراد ہے؟
زید کہتا ہے کہ وہ ملازم مراد ہے جو مدرسے کا سال بھر کام کرتا ہے اس مطلب کی رو سے مدرسے کا ملازم صرف انعام (کمیشن) پر چندہ کرسکتا ہے؛ جب کہ عمر کا کہنا یہ ہے کہ تنخواہ دار ملازم سے وہ ملازم مراد ہے جس کی چندے میں تنخواہ متعین ہو غیر ِرمضان میں مدرسے کا ملازم رہا ہو یا نہ رہا ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا... اگر یہ مطلب مراد نہ لیں تو اجرت مجہول رہ جائے گی
بندہ خدا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
ایام تعطیل ایام عمل کے تابع ہیں۔ چونکہ رخصت کے ایام آئندہ کے عمل کے لئے مزید تازہ دم ہونے (استراحت) کے لئے ہوتے ہیں۔اس لئے حقیقت میں یہ بھی ایام عمل ہی ہوئے۔ اسی بنیاد پہ ایام تعطیل کی اجرت کے مستحق حسب ضوابط مدرسہ مدرسین ہوتے ہیں۔ اگر شعبہ تعلیم کے ملازمین ومدرسین اپنے ان ایام رخصت  واستراحت کو مدرسہ کے دوسرے کام مثلا فراہمی چندہ میں صرف کردیں تو دیکھا جائے گا کہ اس طرح کی شرط وقت تقرر ان سے لگائی گئی یا مدرسہ کا اس طرح کا ضابطہ ہے یا نہیں؟ اگر ہاں، تو یہ بھی مدرسین کے فرائض اجارہ کا ایک جزء ہوگا اور اب تعطیل رمضان میں فراہمی چندہ کی صورت میں مزید کسی اضافی تنخواہ کا تعین ضروری نہیں۔ صرف فی صدی انعام پہ انہیں قناعت کرنا پڑے گا۔
مستفاد: إذا استأجر رجلاً لیعمل لہ عملاً الیوم إلی اللیل بدرہم صباغۃ أو خبزًا أو غیر ذٰلک، فالإجارۃ فاسدۃ في قول أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ، وفي قولہما یجوز استحسانًا ویکون العقد علی العمل دون الیوم حتی إذا فرغ منہ نصف النہار فلہ الأجر کاملاً۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، الباب السادس / ومما یتصل بہٰذا الفصل إذا جمع في عقد الإجارۃ بین الوقف والعمل ۴؍۴۲۳)
اور اگر مدرسہ میں اس طرح کا کوئی قانون نہ ہو اور مدرسین پر وصولی چندہ کی بھی  کوئی ذمہ داری وقت تقرر نہیں ڈالی گئی۔انھیں صرف اور صرف تدریس کے لئے رکھا گیا ہو تو پہر اب تعطیل کلاں کی اجرت کا مستحق محض تدریس سے ہوگا۔ اگر ایسے مدرسین تعطیل رمضان میں فراہمی چندہ کا اضافی  عمل کریں تو کام اور مدرسین کی حیثیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے لئے  اضافی تنخواہ کا تعین ضروری ہے۔ اور وہ شرعا اس مطالبہ کے حقدار ہیں۔ محض فی صدی کمیشن وانعام پہ ان سے چندہ وصول کروانا حق تلفی ہے اور جہالت اجر کی وجہ سے فساد عقد کا بھی خطرہ ہے:
وہل یأخذ أیام البطالۃ کعید ورمضان لم أرہ وینبغي إلحاقہ ببطالۃ القاضي، واختلفوا فیہا والأصح أنہ یأخذ؛ لأنہا للاستراحۃ أشباہ من قاعدۃ العادۃ محکمۃ (الدر المختار) وتحتہ في الشامي: فحیث کانت البطالۃ معروفۃ في یوم الثلاثاء والجمعۃ وفي رمضان والعیدین یحل الأخذ۔ (الدر المختار مع الشامي / مطلب في استحقاق القاضي والمدرس الوظیفۃ في یوم البطالۃ ۴؍۳۷۲ بیروت، ۶؍۵۶۷-۵۶۸ زکریا)
کل محبوس لمنفعۃ غیرہ تلزمہ نفقتہ۔ (شامي، کتاب الطلاق / باب النفقۃ، مطلب في نفقۃ المملوک ۴؍۵۷۲ کراچی، ۵؍۳۷۶ زکریا)
فی صدی کمیشن یا انعام کے جواز کے ذیل میں جو "تنخواہ دار" ملازم ہونے کی شرط لگائی جاتی ہے تو اس سے مراد  سفیر اور محصل جیسا تنخواہ دار ہے اور وہ مدرس بھی مراد ہو سکتا ہے جس کی ذمہ داریوں میں تدریس کےساتھ فراہمی مالیہ کی شرط بھی جزو عمل ہو۔
لیکن جسے مدرس محض کے بطور اجیر رکھا گیا ہواور صرف اسی کی تنخواہ وہ پاتاہو اور یہ ایام تعطیل میں اپنی راحتوں کو تج کے فراہمی کا کام کرتا ہو تو اسے تنخواہ دار کہکے فی صدی کمیشن پہ ہی کام چلا لینا شرعا درست نہیں۔ اب عمر کا قول درست ہے۔
اور اس صورت میں نئی تنخواہ طے کئے بغیر صرف کمیشن پہ چندہ کروالینے سے عقد فاسد ہوجائے گا۔
في ’’ الہدایۃ ‘‘ : ولا یصح حتی تکون المنافع معلومۃ والأجرۃ معلومۃ لما روینا ، ولأن الجہالۃ في المعقود علیہ وفي بدلہ تُفضي إلی المنازعۃ کجہالۃ الثمن والمثمن في البیع ۔ (۳/۲۷۷، کتاب الإجارات)
في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : وشرطہا : کون الأجرۃ والمنفعۃ معلومتین لأن جہالتہما تفضي إلی المنازعۃ ۔ (۹/۷ ، کتاب الإجارۃ)
في ’’ المبسوط للسرخسي ‘‘ : ولو دفع الغزل إلی حائک غزلا لینسجہ بالنصف فلہ أجر مثلہ ، وکذا إذا استأجر حمارًا یحمل علیہ طعامًا بقفیز منہ فالإجارۃ فاسدۃ لأنہ جعل الآجر بعض ما یخرج من عملہ فیصیر في معنی قفیز الطحان، وقد نہی النبي ﷺ عنہ وہو أن یستأجر ثورًا لیطحن لہ حنطۃ بقفیز من دقیقۃ ، وہذا أصل کبیر یعرف بہ فساد کبیر من الإجارات لا سیما في دیارنا ۔
(۳/۲۸۹، کتاب الإجارات ، باب الإجارۃ الفاسدۃ ، التنویر وشرحہ مع الشامیۃ :۹/۷۸،۷۹، باب الإجارۃ الفاسدۃ ، مطلب تحریر مہم في عدم جواز الاستئجار علی التلاوۃ والتہلیل ، ط؛ بیروت ، البحر الرائق :۸/۴۱، کتاب الإجارۃ ، باب الإجارۃ الفاسدۃ)

ہذا ماعندی والصواب عند اللہ
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے /سیدپور

مسجد میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگوانا کیسا ہے؟

مسجد میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگوانا کیسا ہے؟
-------------------------------------------
حضرت مفتی شکیل صاحب سے مخاطب ھوں،
کس نوعیت کی مساجد میں سی سی کیمرا لگوایا جاسکتا ھے

--------------------------------------------
الجواب وباللہ التوفيق:
کیمرہ کی تصاویر اتارنا بھی علماء دیوبند کے نزدیک ناجائز ہے۔ لیکن جہاں چوری، خیانت، جان ومال کے تلف وضیاع کے خطرات ہوں تو وہاں حفاظتی نقطہ نظر سے  CCTV CAMERA) نصب کرنے کی دفع مضرت کے اصول کے پیش نظر اجازت ہے۔ ہاں اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ حمام وبیت الخلاوں میں اس کی تنصیب قطعا نہ ہو کہ وہاں اس کی حاجت نہیں۔ اور ان جگہوں پہ تنصیب سے  بنیادی حقوق العباد کے متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔
في ’’ الأصول والقواعد للفقہ الإسلامي ‘‘ : اَلضَّرُوْرَاتُ تُبِیْحُ الْمَحْظُوْرَاتِ ۔
(ص/۱۹۱ ، قاعدۃ : ۱۸۵، الأشباہ والنظائر لإبن نجیم :ص/۳۰۷ ،
قواعد الفقہ :ص/۸۹، قاعدۃ :۱۷۰، القواعد الفقہیۃ :ص/۲۷۰، شرح القواعد : ص/۱۸۵، درر الحکام :۱/۳۷ ، المادۃ :۲۱ ، القواعد الکلیۃ والضوابط الفقہیۃ :ص/۲۱۳)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
سیدپور / بیگوسرائے

حضرت یوسف علیہ السلام کی مدت قید میں اضافہ کی وجہ

حضرت یوسف علیہ السلام کی مدت قید میں اضافہ کی وجہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک صاحب کا کہنا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی جیل سے رہائی میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایک نوجوان سے مدد چاہی اس لئے اللہ تعالیٰ نے مزید سات سال جیل میں ٹھرایا، کیا ایسا کہنا صحیح ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
جو شخصیات اللہ سے جتنی قریب ہوتی ہیں، مواخذہ اور پکڑ بھی ان کے لئے اتنی ہی سخت ہوتی ہے ۔۔۔ حسنات الابرار سیئات المقربین ۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے جیل کے ایک قیدی (ساقی فرعون) سے بطور سبب ظاہری رہائی کی سفارش کی تھی۔ کیونکہ وہ رہا ہوکے فرعون کے پاس جارہا تھا۔ تو آپ نے یاددہانی کے لئے وکیل بنایا۔ جو اگرچہ سبب ظاہری کے اعتبار سے بجا اور درست تھا۔ لیکن خدائے مسبب الاسباب کو انبیاء مقربین کی جانب سے اس ایک لمحہ کے لئے بھی گوارا نہیں کہ ذات باری سے توجہ ہٹے۔چنانچہ قید زنداں کی مدت مزید سات سال بڑھ گئی۔ یہ واقعہ اگرچہ تفسیری روایتوں سے ثابت ہے۔ لیکن عمومی مجالس میں اس کو  سوال میں درج اسلوب (اللہ کو چھوڑکر غیر اللہ سے مدد مانگنا) میں بیان کرنا قطعی غلط اور شان انبیاء کے منافی ہے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا اللہ تبارک و تعالٰی کو چھوڑکر غیر اللہ سے مدد مانگنے کی بات غیر متصور ہے۔
تفسیر بغوی سورہ یوسف آیت نمبر 42 کے ذیل میں مذکور ہے:

(حضرت) ابن عباس (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اور اکثر فمسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ شیطان نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے رب کی یاد بھلا دی جب انھوں نے آزادی کی کوشش کی کہ مخلوق سے مدد طلب کی یہ غفلت یوسف (علیہ السلام) کو شیطان کی طرف سے آئی۔

اکثر مفسرین رحمہم اللہ کے نزدیک اس آیت  (فلبث في السجن بضع سنين) میں بضع سے سات سال مراد ہیں، اس سے پہلے پانچ سال گزر چکے تھے تو کل بارہ سال ہوگئے۔ وھب (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ ایوب (علیہ السلام) پر آزمائش سات سال رہی اور یوسف (علیہ السلام) قید میں سات سال رہے اور بخت نصر کو عذاب دیا گیا، درندوں میں سات سال پھرتا رہا۔
مالک بن دینار نے کہا جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی سے فرمایا کہ اپنے آقا سے میرا تذکرہ کردینا تو کہا گیا یوسف مجھے چھوڑکر تو نے دوسرے کو اپنا وکیل بنایا۔ اب میں ضرور تیری قید طویل کردوں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) رونے لگے اور عرض کیا اے میرے رب مصائب کی کثرت نے میرے دل پر فراموشی طاری کردی اور میں نے ( بے سمجھے) ایک بات کہہ دی آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔
حسن (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ جبرئیل (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے پاس جیل میں آئے، جب یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا تو پہچان لیا اور کہا اے میرے بھائی! کیا ہوگیا کہ میں آپ کو ان گناہ گاروں میں دیکھ رہا ہوں؟ تو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا اے پاکیزہ! لوگوں کے پاس تیرا رب تجھ پر سلام پڑھ رہا ہے اور آپ (علیہ السلام) کو کہا ہے کہ جب آدمیوں سے آپ (علیہ السلام) نے شفاعت طلب کی تو مجھ سے حیاء نہ آئی؟ پس میری عزت اور جلال کی قسم! میں آپ کو جیل میں چند سال ٹھہراؤں گا تو یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ اس پر راضی ہیں؟ انھوں نے کہا ہاں تو یوسف (علیہ السلام) نے کہا پھر مجھے بھی کوئی پروا نہیں ہے۔
کعب کا بیان ہے کہ حضرت جبرائیل نے حضرت یوسف سے کہا: اللہ فرماتا ہے کہ تجھے کس نے پیدا کیا؟ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا: اللہ نے۔ حضرت جبرائل نے کہا ( اللہ فرماتا ہے) تجھے باپ کا چہتا کس نے بنایا ؟ حضرت یوسف نے جواب دیا : اللہ نے۔ حضرت جبرائیل نے کہا ( اللہ فرماتا ہے) تجھے خواب کی تعبیر کس نے سکھلائی؟ حضرت یوسف نے جواب دیا: اللہ نے۔ حضرت جبرائیل نے کہا ( اللہ فرماتا ہے) چھوٹے بڑے گناہ کا رخ کس نے تیری طرف سے پھیر دیا؟ حضرت یوسف نے جواب دیا۔ اللہ نے۔ حضرت جبرائیل نے کہا ( اللہ فرماتا ہے) پھر تو نے اپنے جیسے آدمی سے کیسے سفارش کی درخواست کی؟
(تفسیر بغوی ملخصا ۔سورہ یوسف 42۔) واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

بچیوں کے اسلامی نام

حروف تہجی کے اعتبار سے ٹیبل کی شکل میں دیکھیں؛
آزفہ
آشفتہ
آفروزہ
آفریدہ
آفریں
آمنہ
آمنہ
آویزہ
اثیلہ
اجالا
ادیبہ
اریبہ
اریکہ
ازکی
اساوری
اسماء
اسماء
اسوہ
افشاں
افشیں
افق
اقصٰی
البیلا
الفت
ام کلثوم
امبریں
امّارہ
امیمہ
امینہ
انبیلہ
انجشہ
انجلاء
انفال
انیسہ
انیقہ
انیلا
اکیمہ
ایمن
بابرہ
بارزہ
بازغہ
باسمہ
باطشہ
بتول
بدر الدجٰی
بدیعہ
بدیلہ
بروع
بریدہ
بریعہ
بریقہ
بسالت
بسیسہ
بشرٰی
بطانہ
بلقیس
بلینہ
بنانہ
بھجہ
بھیشہ
بیضاء
تابندہ
تانیہ
تجلی
تحریم
تحسینہ
تسنیم
تشبیب
تشمیم
تقویم
تمثیلہ
تنزیل
تنزیلہ
تنویلہ
تکویر
تہنیت
ثانیہ
ثریا
ثمرہ
ثمرین
ثمینہ
ثوبیہ
ثوبیہ
جائشہ
جاثرہ
جاذبہ
جبیرہ
جبین
جذوہ
جزیلہ
جسرہ
جعونہ
جلیحہ
جلیدہ
جویریہ
جہیرہ
جیفہ
حباب
حبیبہ
حدیقہ
حرا
حرملہ
حریم
حسالہ
حسناء
حسنات
حسنٰی
حسنہ
حسّانہ
حضیرہ
حفالہ
حفصہ
حفیظہ
حلیمہ
حمامہ
حمدیہ
حمراء
حمساء
حمنہ
حمیدہ
حمیرہ
حمیزہ
حمیلہ
حمیمہ
حنا
حولاء
خالدہ
خانم
خاورہ
خدیجہ
خلد بریں
خلیدہ
خلیسہ
خندہ گل
خنساء
خوباں
خوشبو
خوشنودہ
خولہ
خیثمہ
خیرہ
داراب
دانیہ
دجانہ
در فشاں
در مکنون
در ناسفہ
درخشاں
دردانہ
دستینہ
دلربا
دمیدہ
دیبا
ذکیہ
ذہینہ
رائعہ
رابیہ
راجیہ
راشدہ
راضیہ
رافعہ
رباب
ربیبہ
ربیعہ
رجیلہ
رحیلہ
رخسانہ
رخشندہ
رزمیہ
رشیدہ
رشیقہ
رضوانہ
رضیہ
رغیبہ
رفاہت
رفعت
رفیدہ
رفیعہ
رقیقہ
رقیمہ
رقیہ
رمثاء
رمشاء
رملہ
رمنا
رمیشہ
روبین
روبیہ
رکانہ
ریحانہ
ریطہ
زارا
زاھدہ
زبانہ
زبدہ
زبیدہ
زر فشاں
زرقاء
زرگوں
زرینہ
زمھریر
زنجبیل
زنیرہ
زوبیا
زوفا
زویّا
زھراء
زھرہ
زھیرہ
زیبا
زینب
زینب
زینب
زینت
سائرس
سائرہ
ساجدہ
سارہ
ساریہ
ساعدہ
سانیہ
ساوری
سبد گل
سبیتا
سبیعہ
سبیکہ
سجیعہ
سجیلا
سحر
سحرش
سدرہ
سدلیّہ
سطیحہ
سعدٰی
سعدیہ
سعیدہ
سفانہ
سفیرہ
سفینہ
سلامہ
سلطانہ
سلمونیا
سلمٰی
سلوٰی
سلیمہ
سمرہ
سمیعہ
سمیفع
سمیّہ
سمیکہ
سنا
سنبل
سندس
سودہ
سونیا
سویرا
سویلہ
سکیزہ
سکینہ
سکینہ
سھلہ
سھیلہ
سھیمہ
سیدانہ
سینین
شائینہ
شاذمہ
شارقہ
شامین
شبانہ
شبنم
شفا
شفق
شفیعہ
شفیقہ
شقیرہ
شقیقہ
شمائلہ
شمسہ
شمع
شمیلہ
شمیم
شکیبہ
شکیلہ
شگفتہ
شھلا
شھیم
شہنیلا
شیریں
شیلا
شیماء
صائمہ
صابرہ
صاعقہ
صبا
صباح
صباحت
صبیحہ
صخرہ
صدف
صدیقہ
صغیرہ
صفراء
صفیحہ
صفیہ
صمّاء
صنوبر
صوبیہ
صومیہ
ضباعہ
ضحٰی
ضمرہ
ضمیرہ
ضمیمہ
طارفہ
طاھرہ
طبیبہ
طریرہ
طریفہ
طلعت
طلیقہ
طوبٰی
طیبہ
ظریفہ
ظفرین
ظفیرہ
ظھیرہ
عائشہ
عاتقہ
عاتکہ
عارفہ
عاصفہ
عاصمہ
عاقبہ
عاقلہ
عالیہ
عامرہ
عتیقہ
عجلہ
عجیلہ
عدیرہ
عدیلہ
عذرا
عروبہ
عروج
عزوہ
عزیمت
عزیمہ
عشبہ
عشرت
عشوہ
عصماء
عصیمہ
عطیّہ
عظمٰی
عفت
عفراء
عفیرہ
عفیفہ
عقیلہ
علبہ
علیا
علیقہ
عمّارہ
عمیرہ
عمیقہ
عناق
عنب
عنبر
عنبرین
عنبرینہ
عندلیب
عنزہ
عنقودہ
عنم
عیشہ
غادیہ
غاشیہ
غربیلہ
غرنیقہ
غزالہ
غزیلہ
غنوہ
فائزہ
فائقہ
فاخرہ
فاطمہ
فاکھہ
فتیلہ
فراست
فرحانہ
فرحت
فرحین
فرخانہ
فرخندہ
فردا
فردوس
فرزانہ
فروہ
فریحہ
فریدہ
فریضہ
فریعہ
فصیحہ
فضالہ
فضّہ
فضّہ
فضیلت
فقیھہ
فلذہ
فوزیہ
فکیھہ
فھمیدہ
فھیرہ
فھیمہ
فیروزہ
فیضہ
قانعہ
قبا
قبیصہ
قدسیہ
قرہ
قرۃ العین
قطیفہ
قمیرہ
قندیل
قنسرین
قیصرہ
لئیقہ
لائبہ
لبابہ
لبانہ
لبنٰی
لبنیّہ
لبیبہ
لبیدہ
لبیقہ
لطیمہ
لفیفہ
لمعات
لمیس
لوزینہ
لیلٰی
لینہ
مائدہ
مادحہ
مالا
مالیدہ
ماوٰی
ماھا
ماہ مبین
مبارکہ
محسنہ
محمودہ
مخدومہ
مدیحہ
مدیرہ
مرجانہ
مرضیّہ
مرغوبہ
مرینہ
مسرّت
مشاھدہ
مشعل
مشیّدہ
مصباح
مصفوفہ
مصفّات
مصفّی
مطیعہ
معصومہ
معظمہ
مفضالہ
مقدس
مقدسہ
مقصودہ
ملاطفہ
ملیحہ
ممتاز
ممدوحہ
منزہ
منعام
منقبت
منیبہ
منیحہ
مونا
مکتومہ
مھرین
مھناز
مھیرہ
مہر النساء
مہر جبیں
مہوش
مہک
میمونہ
نائلہ
نابغہ
ناجیہ
نادرہ
ناز
نازیہ
ناصرہ
ناصفہ
ناصیہ
ناظرہ
ناظمہ
ناعمہ
ناھیدہ
نبیشہ
نبیلہ
نجوٰی
ندرت
نزھت
نسرین
نسمت
نسیبہ
نصرت
نصوحا
نضرت
نطیسہ
نعماء
نعیمہ
نفحت
نفیسہ
نقرہ
نمرہ
نمیرہ
نمیصہ
نمیقہ
نمیلہ
نورین
نوشاد
نوشیبہ
نوشین
نویدہ
نویرہ
نویلہ
نکہت
نھدیہ
نیلم
نیلوفر
واثلہ
واثلہ
واصلہ
واقدہ
وبرہ
وجیھہ
وحیدہ
وردہ
ورقاء
ورقہ
وسیمہ
وصیدہ
ولیجہ
ولیدہ
ومیزہ
وکیعہ
پاکیزہ
پروین
پشمینہ
کائنات
کاشفہ
کاظمہ
کاملہ
کبشہ
کحیلا
کرن
کشمالہ
کعیبہ
کفیلہ
کنزہ
کنول
کنیزہ
کنیلا
کوثر
کومل
کوکب
گل حنا
گل رخ
گل رعنا
گل شاد
گل فشاں
گل نار
ہاجرہ
ہادیہ
ہانی
ہبیرہ
ہما
ہمیمہ
ہنیدہ
یاسمین
یاقوت
یمینہ



شراب مصنوعات کے تعارف کروانے کی ملازمت؟

شراب ساز کمپنی میں مصنوعات کے تعارف کروانے کی ملازمت ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ایک شخص شراب کی کمپنی میں کام کرتا ہے، اسکا کام یہ ھیکہ وہ دوسری کمپنی میں جاکر اپنا شراب کی تعارف کرواتا ہے کہ یہ بیئر ایسی ہے، یہ شراب ایسی ہے
تو اسکا یہ تعارف کروانا کیسا ہے شریعت کی نظر میں اور اس شخص کو اس شراب کمپنی میں
کام کرکے اجرت لینا درست ہے یا نہیں؟ تفصیل جواب مع دلیل مطلوب ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
شراب کے سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس لوگوں پہ لعنت بھیجی  ہے۔۔ صرف پینے اور بنانے والا ہی ملعون نہیں ہے!
اس لئے فروخت میں ممد ومعاون بننے والا بھی حدیث کی رو سے ملعون ہے۔
عن أنس بن مالک -رضي اﷲ عنہ- قال: لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم في الخمر عشرۃ: عاصرہا، ومعتصرہا، وشاربہا، وحاملہا،والمحمولۃ إلیہ، وساقیہا، وبائعہا، وآکل ثمنہا، والمشتری لہا، والمشتراۃ لہ۔ (ترمذي شریف، باب النہي أن یتخذ الخمر خلا، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۲۴۲، دارالسلام، رقم: ۱۲۹۵، مسند البزار، مکتبۃ العلوم والحکم ۶/ ۲۳۳، رقم: ۲۴۴۶)

لیکن شراب کے معاملہ میں مسلم وکافر کے احکام یکساں نہیں ہیں بلکہ مختلف ہیں۔ اگر شراب بنانے والی کمپنی کا مالک مسلمان ہو تو اس کی کمپنی میں مذکورہ ملازمت ناجائز وحرام ہے۔ اس سے حاصل شدہ آمدنی بھی حرام ہوگی لیکن اگر مالک غیر مسلم ہو تو اب اس میں یہ ملازمت حرام نہیں بلکہ مکروہ تحریمی ہوگی۔ آمدنی حلال ہوگی لیکن خلاف اولی۔۔ تفصیل کے لئے دیکھیں:
فتاوی محمودیہ جلد17.صفحہ 118 ۔) 

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

Monday, 23 October 2017

وضو کے پانی کی شرعی مقدار

وضو کے پانی کی شرعی مقدار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کوئی صحیح حدیث ہے؟ جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ وضو میں کتنا پانی خرچ کرنا چاہئے ؟
ایس اے ساگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
وضو کے پانی میں جہاں اسراف کرنا منع ہے وہیں اتنا کم پانی استعمال کرنا بھی صحیح نہیں کہ اعضا سے تقاطر نہ ہو اور وضو صحیح ہونے میں شک ہونے لگے۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بابت عام معمول یہ تھا کہ آپ ایک مد تقریبا ایک سیر پانی جو عموما ایک لوٹا کے مساوی ہوتا ہے سے وضو فرماتے تھے ۔
صحیحین کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع سے پانچ صاع یعنی ساڑھے چار سیر پانی سے غسل فرماتے تھے،

بَاب الْوُضُوءِ بِالْمُدِّ

198 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ أَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ
صحيح البخارى

325 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ ابْنِ جَبْرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ .صحيح مسلم

حنفیہ کے یہاں وضو کی واجبی اور کفایتی مقدار کے لئے پانی  کی کوئی تحدید نہیں ہے۔صحیحین کی  مذکورہ حدیث میں وضو کے لئے جو ایک مد کی بات آئی ہے وہ کفایت شعاری کو اختیار کرنے اور اسراف سے بچنے کے لئے ہے ۔یعنی استحباب پہ محمول ہے۔۔۔حسب ضرورت ومزاج اس مقدار سے کمی بیشی کی اجازت ہے۔دیگر ائمہ متبوعین مثلا مالکیہ کے یہاں یہ مقدار واجب کے بیان کے لئے ہے۔
وضو کے لئے بیجا پانی کا اسراف بھی ممنوع ہے
عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہ قال: رأی رسول اللّٰہ رجلا یتوضأ فقال: ’’لاتسرف، لا تسرف‘‘۔ (سنن ابن ماجۃ / کتاب الطہارۃ وسننہا حدیث: ۴۲۴)
عن عبد اللّٰہ بن عمرو رضي اللّٰہ عنہما أن رسول اللّٰہ مر بسعد، وہو یتوضأ، فقال: ’’ما ہذا السرف؟‘‘ فقال: أفي الوضوء إسراف؟ قال: ’’نعم، وإن کنت علی نہر جار‘‘۔ (سنن ابن ماجۃ / کتاب الطہارۃ وسننہا حدیث: ۴۲۵)

''حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن اَبی وقاص وضو کر رہے تھے (اور پانی کے استعمال میں فضول خرچی سے کام لے رہے تھے) رسول اللہ ۖ ان کے پاس سے گزرے توآپ نے ان سے فرمایا سعد ! یہ کیسا اسراف ہے ؟ (یعنی پانی بے ضرورت کیوں بہایا جارہا ہے ) انہوں نے عرض کیا حضور ! کیاوضو کے پانی میں بھی اسراف ہوتاہے (یعنی کیا وضو میں پانی زیادہ خرچ کرنا بھی اسراف میں داخل ہے ) آپ نے فرمایا ہاں یہ بھی اسراف میں داخل ہے اگرچہ تم کسی جاری نہر کے کنارے ہی پر کیوں نہ ہو۔

مد ایک پیمانے کا نام ہے جس میں تقریباً ایک سیر اناج آتا ہے اور صاع پیمانہ کا نام ہے جس میں تقریبا چار مد یعنی چار سیر کے قریب اناج آتا ہے۔ یہاں مد اور صاع سے پیمانہ مراد نہیں ہے بلکہ وزن مراد ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً ایک سیر پانی سے وضو فرماتے تھے اور چار سیر اور زیادہ سے زیادہ پانچ سیر غسل پر صرف فرماتے تھے، لہٰذا مناسب یہ ہے کہ تقریباً ایک سیر پانی سے وضو اور تقریباً چار سیر پانی سے غسل کیا جائے لیکن اتنی بات سمجھ لینی چاہئے کہ وضو اور غسل کے لئے پانی کی یہ مقدار اور وزن واجب کے درجہ میں نہیں ہے لیکن یہ سنت ہے کہ وضو اور غسل کے لئے پانی اس مقدار سے کم نہ ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی کی مقدار بعض روایتوں میں دو تہائی مد اور بعض روایتوں میں آدھا مد منقول ہے لہٰذا اس حدیث صحیح البخاری و صحیح مسلم کا محل یہ قرار دیا جائے گا کہ آپ اکثر و بیشتر ایک ہی مد سے وضو فرماتے تھے مگر کبھی کبھی اس سے کم مقدار پانی میں بھی وضو فرما لیتے تھے، جیسا کہ ان بعض روایتوں میں منقول ہے۔۔
(مستفاد مظاہر حق جدید )

في ’’بدائع الصنائع‘‘ : وأما بیان مقدار الماء الذي یغتسل بہ : فقد ذکر في ظاہر الروایۃ وقال : أدنی ما یکفي في الغسل من الماء صاع ، وفي الوضوء مد ، لما روي عن جابر رضي اللہ عنہ : ’’ أن النبي ﷺ کان یتوضأ بالمُدّ ویغتسل بالصّاع ‘‘ فقیل لہ : إن لم یکفنا ؟ فغضب وقال : ’’ لقد کفی من ہو خیر منکم وأکثر شعرًا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ ثم ہذا التقدیر الذي ذکرہ محمد من الصاع والمد في الغسل والوضوء ، لیس بتقدیر لازم ، بحیث لا یجوز النقصان عنہ أو الزیادۃ علیہ ، بل ہو بیان مقدار أدنی الکفایۃ عادۃ ، حتی أن من أسبغ الوضوء والغسل بدون ذلک أجزاہ ، وإن لم یکفہ زاد علیہ ، لأن طباع الناس وأحوالہم تختلف ، والدلیل علیہ ما روي : ’’ أن رسول اللہ ﷺ کان یتوضأ بثلثي مدّ ‘‘ لکن ینبغي أن یزید علیہ بقدر ما لا إسراف فیہ ۔ (۱/۲۷۰ ، ۲۷۱، ۲۷۲، کتاب الطہارۃ ، فصل في أحکام الغسل ، المبسوط للسرخسي :۱/۱۴۹، ۱۵۰، کتاب الطہارۃ ، باب الوضوء والغسل ، الفتاوی الہندیۃ :۱/۱۶، کتاب الطہارۃ ، الباب الثاني في الغسل ، الفصل الثالث في المعاني الموجب للغسل ومما یتصل بذلک مسائل)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے /سیدپور