Wednesday, 22 April 2015

QARI TAYYAB SAHIB RH SABIQ MOHATMIM DARUL ULOOM DEOBAND

QARI TAYYAB SAHIB RAHMATULLAH ALAIH SABIQ MOHATMIM DARUL ULOOM DEOBAND KI EK NAYAB TASWEER.

Tuesday, 21 April 2015

کیسے حاصل کریں مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ

مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے کا طریقہ کاراورسہولیات:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختصر تعارف:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ اسلامیہ ایک سرکاری سعودی یونیورسٹی ہےجو مملکت سعودی عرب کی وزارت اعلی تعلیم کے ماتحت ہے، اس کا قیام سن 1381ہجری میں عمل میں آیا، اور یہ اپنے مقصد کے لحاظ سے ایک اسلامی عالمی اور ذمہ داری کے اعتبار سے عربی اور سعودی ادارہ ہے.
اس وقت جامعہ میں پانچ فیکلٹیز (کالجز) ہیں جو یہ ہیں:
1- شریعہ فیکلٹی .
اس کا مقصد اسلامی فقہ اور اس کے اصول پر توجہ دینا اور شرعی علوم نیز دیگر معاون علوم سے واقف کرانا ہے، اس فیکلٹی میں مندرجہ ذیل شعبے ہیں:
ا – شعبہء فقہ.
ب- شعبہء اصول فقہ.
ج- شعبہء قضاء وشرعی سیاست.
یہ فیکلٹی شرعی علوم میں گریجویشن ، قضاء وشرعی سیاست ميں اعلى ڈپلومہ اور تمام خصوصی مضامین میں ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی سندیں عطا کرتی ہے .
2- دعوت واصول دین فیکلٹی .
اس کا مقصد اسلامی عقیدے پر توجہ دینا اور شرعی علوم نیز دیگر معاون علوم سے واقف کرانا ہے، اس فیکلٹی میں مندرجہ ذیل شعبے ہیں:
ا – شعبہء عقیدہ.
ب- شعبہء دعوت.
ج- شعبہء اسلامی تاریخ.
د-شعبہء تربیت.
یہ فیکلٹی دعوت واصول دین میں گریجویشن ، دعوت ميں اعلى ڈپلومہ اور تمام خصوصی مضامین میں ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی سندیں عطا کرتی ہے .
3- قرآن کریم اور اسلامی علوم فیکلٹی .
اس کا مقصد قرآن مجید کے حفظ وتفسیر اور علوم قرآن مجید پر توجہ دینا اور شرعی علوم نیز دیگر معاون علوم سے واقف کرانا ہے، اس فیکلٹی میں مندرجہ ذیل شعبے ہیں: .
ا – شعبہء قراءات.
ب- شعبہء تفسیر.
یہ فیکلٹی قرآن کریم اور اسلامی علوم میں گریجویشن اور تمام خصوصی مضامین میں ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی سندیں عطا کرتی ہے .
4- حدیث شریف اور اسلامی علوم فیکلٹی .
اس کا مقصد سنت نبوی اور اس کے علوم پر توجہ دینا، ان کی خدمت کرنا اور شرعی علوم نیز دیگر معاون علوم سے واقف کرانا ہے، اس فیکلٹی میں مندرجہ ذیل شعبے ہیں:
ا – شعبہء فقہ.
ب- شعبہء فقہ ومصادر سنت.
ج- شعبہء علوم الحدیث.
یہ فیکلٹی حدیث شریف اور اسلامی علوم میں گریجویشن اور تمام خصوصی مضامین میں ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی سندیں عطا کرتی ہے.
5- عربی زبان كی فیکلٹی.
اس کا مقصد عربی زبان کے علوم وآداب پر توجہ دینا اور شرعی علوم نیز دیگر معاون علوم سے واقف کرانا ہے، اس فیکلٹی میں مندرجہ ذیل شعبے ہیں:
ا – شعبہء لغویات.
ب- شعبہء بلاغت وادب.
یہ فیکلٹی عربی زبان میں گریجویشن اور تمام خصوصی مضامین میں ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی سندیں عطا کرتی ہے.
ان فیکلٹیز کے علاوہ جامعہ میں یہ ادارے ہیں:ادارہء تدریس عربی زبان برائے غیر عرب طلبہ، سکنڈری اسکول،مڈل اسکول،دار الحدیث مکیہ اور دار الحدیث مدنیہ.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(وظیفہ یاب طلبہ کو دی جانے والی خصوصی سہولیات)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1. متعین قواعد کے مطابق طالب علم کے داخلے کے وقت اور ہر تعلیمی سال کے آخر میں سفر کے ٹکٹ کا انتظام(تقریبا ہر سال 2ماہ چھٹیاں ہوتی ہیں)۔
2. ماہانہ وظیفہ
3. ممتازطلبہ کے لئے نمایاں کارکردگی کا وظیفہ
4. فرنشڈ رہائش کا انتظام
5. علامتی فیس کے بدلے جامعہ کے ڈائننگ ہال میں کہانے کا انتظام
6. جامعہ کے دواخانے ( ہسپتال) میں طبی نگہداشت کا انتظام
7. متعین نظام الاوقات کے مطابق جامعہ سے مسجد نبوی تک نمازوں کے لئے آمد ورفت اور عمرے کے سفر میں بسوں کا انتظام
8. جامعہ کے ثقافتی ، تربیتی اور ورزشی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا اختیار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داخلے کی شرطیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تعليمى وظيفے کے امیدوار کا ان شرطوں پر پورا اترنا ضروری ہے:
1- طالبعلم مسلمان اور اچھی سیرت وکردار کا مالک ہو
2- مملکت سعودی عرب یا بیرون مملکت سے عام سکنڈری اسکول(ایف اے) یا اس کٍے مساوی سند(ثانویہ خاصہ) کاحامل ہو۔یاد رہے مساوی سند صرف مدینہ یونیورسٹی کے الحاق شدہ ادروں کی قبول ہو گی۔
4- سند حاصل کئے ہوے پانچ سال سے زیادہ کا عرصہ نہ گذرا ہو۔
5- جامعہ کے قواعد وضوابط کی پابندی کا عہد کرے۔
6- طبی لحاظ سےصحیح (تندرست) ہو۔
7- تعليمى وظيفے کے امیدوار کی عمر پچیس سال سے زیادہ نہ ہو۔
8- قرآن کریم کی فیکلٹی میں داخلے کا خواہش مند پورے قرآن کریم کا حافظ ہو۔
9- متعلقہ ادارے کی طرف سے ہونے والے امتحان یا انٹرویو میں کامیاب ہو۔
10- ہر اس شرط پر پورا اترے جو جامعہ کی مجلس لگائے۔
11- تعلیم کے لئے لازماً مکمل طور پر اپنے آپ کو فارغ رکھے۔
12- اگر سکنڈری کی سند مملکت سعودی عرب کی ہے تو قدرات عامہ کے امتحان کی سند بھی حاصل کرچکا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہم هدايات:
1- جامعہ میں داخلے کی درخواستیں قبول کرنے کے لئے دنیا بھر میں کہیں بھی جامعہ کا کوئی دفتر یا نمائندہ نہیں ہے، اسی طرح جامعہ اپنے ہاں داخلے کی درخواست دینے کی کوئی فیس بھی نہیں لیتا ہے۔
2- طالب علم کو چاہیے کہ وہ بذات خود درخواست پیش کرے، اور درخواست پیش کرنے کی کاروائی مکمل ہونے کے بعد دیے جانے والے نمبر کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود اٹھائے۔
3- جامعہ ایک علمی اور ثقافتی ادارہ ہے اس کا مقصد دعوت، گریجویشن اور اعلی (پوسٹ گریجویشن ) تعلیم ، علمی تحقیقی تالیفات کی تیاری ترجموں اور اشاعت، اور اسلامی میراث کی دیکھ بھال کے ذریعے اسلام کے پیغام کو پہنچانا ہے ۔
4- جامعہ میں تعلیم عربی زبان میں ہوتی ہے۔
5- جامعہ میں داخلے کی صرف درخواست پیش کرنے سے طالب علم کے داخلے کے بارے میں جامعہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی جب تک طالب علم کو داخلے کی اطلاع نہ دی جائے۔
6- داخلے کی درخواست میں درج معلومات پر اسی وقت بھروسہ کیا جا ئےگا جب ان کے ثبوت کے طور پر متعلقہ دستاویز بھی پیش کئے جائیں(اوریجنل ڈاکومنٹس)۔
7- جعلی دستاویز پیش کرنے والا سزا کا مستحق ہوگا اور اس کا داخلہ ختم کردیا جائے گا۔
8- جامعہ کے قوانین کی رو سے طالب علم کے پہنچنے کے بعد جامعہ اس کی تعلیمی سمت ( مرحلہ اور فیکلٹی وغیرہ ) متعین کرے گا۔
9- داخلہ شدہ طالب علم کو جامعہ کے ویب سائٹ سے، پھر متعلقہ ائیر لائنز سے رجوع کرنے پر ٹکٹ نمبر دیا جائے گا۔
10- جامعہ کے تعلیمی نظام اور متعلقہ قوانین سے واقفیت اور مسلسل باخبری منظور شدہ طالب علم کی ذمہ داری ہوگی۔
11- کاغذی اقرار ناموں، وعدوں اور تنبیہات کی طرع طالب علم اس کی الیکٹرانک فائل میں موجود تمام الیکٹرانک اقرار ناموں، وعدوں اور تنبیہات کا بھی پابند ہوگا اور استعمال کرنے والے کے
نام(user name) اور طالب علم کے خاص نمبر (pass word)کے ذریعے وقفے وقفے سے اس الیکٹرانک فائل سے رجوع کرتے رہنا بھی طالب علم کی ذمہ داری ہوگی، اسی طرح ان تمام الیکٹرانک معاملات کا بھی وہی حکم ہوگا جو طالب علم کے خاص استعمال کرنے والے کے نام سے کئے جائیں گے
12- وہ تمام اقرار نامے ، وعدے اور شرطیں جن سے طالب علم اس درخواست کے ذریعے واقف اور پابند ہورہا ہے وہ عربی زبان میں اس کی فائل میں رکھےجائیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مطلوبہ کاغذات یہ ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• سکنڈری کی تعلیمی سند(ایف اے)
• سکنڈری کے درجات ( مارکس شیٹ)
• حسن سیرت وکردار کی سند(پولیس سرٹیفیکٹ)
• پیدائش کی سند(برتھ سرٹیفیکٹ
• پاسپورٹ
• شناختی کارڈ
• (6*4) سائز کی ایک صاف اور تازہ فوٹو
• فوٹو لازماً کھلے سر، بغیر چشمے،اور سفید پس منظر کے ساتھ ہو
• کسی قابل اعتماد طبی مرکز سے دی گئی تازہ طبی رپورٹ، جو اعضاء اور حواس کے صحیح سالم ہونے اور متعدی بیماریوں میں مبتلا نہ ہونے کی وضاحت کرے۔
• جس ملک میں طالب علم رہ رہا ہو اس کے کسی اسلامی ادارے یا جامعہ کی جانی پہچانی دو اسلامی شخصیات کے طرف سےدیے ہوے تعارفی خط جن میں طالب علم کے حالات ، نمازوں کے اہتمام اور اسلامی آداب کی پابندی کا بیان ہو
• (جو پیدائشی مسلمان نہ ہو اس کے لئے) اسلام میں داخل ہونے کی سند
-کاغذات کی فوٹوز منسلک کئے بغیر درخواست بھیجنا ممکن نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درخواست پیش کرنے کے طریقہ کی توضیح مندرجہ ذیل لنک میں ہے
http://admission.iu.edu.sa/HowToApplay.aspx

کون ہیں یاجوج ماجوج....

یاجوج و ماجوج

یاجوج و ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ انسانی نسل کے دو بڑے وحشی قبیلے گزر چکے ہیں جو اپنے اِرد گرد رہنے والوں پر بہت ظلم اور زیادتیاں کرتے اور انسانی بستیاں تک تاراج کر دیتے تھے۔ قرآن مجید کی آیات، توریت کے مطالب اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ شمال مشرقی ایشیا میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے وحشیانہ حملوں کے نتیجہ میں ایشیا کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں مصیبت برپا کرتے تھے۔ بعض تاریخ دانوں نے ان کے رہائشی علاقے کو ماسکو اور توبل سیک کے آس پاس بتلایا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ یاجوج و ماجوج کے شہر تبت اور چین سے بحرمنجمد شمالی تک اور مغرب میں ترکستان تک پھیلے ہوئے تھے۔

حضرت ذوالقرنین کے زمانے میں یاجوج و ماجوج کے حملے وبال جان بن گئے تھے، ان کی روک تھام کیلئے ذوالقرنین نے پہاڑوں کے مابین اونچی اور مضبوط سد (دیوار) تعمیر فرمائی۔ ذوالقرنین اور سدِ ذوالقرنین کا ذکر قرآن کریم کی سورة الکہف میں موجود ہے۔

جس ذوالقرنین کا قرآن میں ذکر ہے، تاریخی طور پر وہ کون شخص ہے، تاریخ کی مشہور شخصیتوں میں یہ داستان کس پر منطبق ہوتی ہے، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ تاریخ کی کتابوں کے مطالعے کے بعد لوگوں نے ذوالقرنین کی شخصیت اور سدِ ذوالقرنین سے متعلق مختلف اندازے لگائے ہیں۔ بہت سے قدیم علماء اور مفکر سکندرِ اعظم کو ہی ذوالقرنین مانتے ہیں مگر بعض اس کا انکار کرکے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ذوالقرنین دراصل حضرت سلیمان علیہ السلام کا خطاب تھا۔ جدید زمانے کے کچھ مفسر و مفکر ذوالقرنین کو قدیم ایرانی بادشاہ سائرس اعظم (کورش اعظم)کا دوسرا نام قرار دیتے ہیں اور یہ نسبتاً زیادہ قرین قیاس ہے، مگر بہرحال ابھی تک یقین کے ساتھ کسی شخصیت کو اس کا مصداق نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

ذوالقرنین کی بابت قرآن نے صراحت کی ہے کہ وہ ایسا حکمران تھا جس کو اللہ نے اسباب و وسائل کی فروانی سے نوازا تھا۔ وہ مشرقی اور مغربی ممالک کو فتح کرتا ہوا ایک ایسے پہاڑی درّے پر پہنچا جس کی دوسری طرف یاجوج اور ماجوج تھے۔ قرآن کریم کی سورة کہف میں بحوالہ یاجوج ماجوج ذوالقرنین کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جب وہ اپنی شمالی مہم کے دوران سو دیواروں (پہاڑوں) کے درمیان پہنچا تو وہاں اسے ایسی قوم ملی جس کی زبان ناقابل فہم تھی تاہم جب ترجمان کے ذریعے گفتگو ہوئی تو انہوں نے عرض کیا کہ یاجوج ماجوج اس سرزمین پر فساد پھیلاتے ہیں لہٰذا تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک سد (دیوار) تعمیر کر دے۔ چنانچہ پھر یہ تفصیل ہے۔

کس طرح ذوالقرنین نے اُس قوم کو یاجوج ماجوج کی یلغار سے بچانے کیلئے دیوار بنائی اور جو دیوار بنائی گئی وہ کوئی خیالی اور معنوی نہیں بلکہ حقیقی اور حسی ہے جو کہ لوہے اور پگھلے ہوئے تانبے سے بنائی گئی تھی جس سے وقتی طور پر یاجوج ماجوج کا فتنہ دب گیا۔ جب یہ دیوار تعمیر ہو گئی تو ذوالقرنین نے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے یہ دیوار بنانے اور لوگوں کو آئے دن کی پریشانیوں سے نجات دلانے کی توفیق بخشی مگر ساتھ ہی لوگوں کو یہ بھی بتا دیا کہ یہ دیوار اگرچہ بہت مضبوط اور مستحکم ہے مگر یہ لازوال نہیں جو چیز بھی بنی ہے بالآخر فنا ہونے والی ہے اور جب میرے رب کے وعدے کا وقت قریب آئیگا تو وہ اس کو پیوندخاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ رہی یہ بات کہ سدِ ذوالقرنین کہاں واقع ہے؟

تو اس میں بھی اختلافات ہیں کیونکہ آج تک ایسی پانچ دیواریں معلوم ہو چکی ہیں جو مختلف بادشاہوں نے مختلف علاقوں میں مختلف ادوار میں جنگجو قوموں کے حملوں سے بچائو کی خاطر بنوائی تھیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ مشہور دیوارِ چین ہے جس کی لمبائی کا اندازہ بارہ سو میل سے لے کر پندرہ سو میل تک کیا گیا ہے اور اب تک موجود ہے لیکن واضح رہے کہ دیوارِ چین لوہے اور تابنے سے بنی ہوئی نہیں ہے اور نہ وہ کسی چھوٹے کوہستانی درّے میں ہے ، وہ ایک عام مصالحے سے بنی ہوئی دیوار ہے۔ بعض کا اصرار ہے کہ یہ وہی دیوار ”مارب” ہے کہ جو یمن میں ہے، یہ ٹھیک ہے کہ دیوارِ مارب ایک کوہستانی درے میں بنائی گئی ہے لیکن وہ سیلاب کو روکنے کیلئے اور پانی ذخیرہ کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ہے۔

ویسے بھی وہ لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی نہیں ہے جبکہ علماء و محققین کی گواہی کے مطابق سرزمین ”قفقاز” میں دریائے خزر اور دریائے سیاہ کے درمیان پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے کہ جو ایک دیوار کی طرح شمال اور جنوب کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ اس میں ایک دیوار کی طرح کا درّہ بھی موجود ہے جو مشہور درّہ ”داریال” ہے۔ یہاں اب تک ایک قدیم تاریخی لوہے کی دیوار نظر آتی ہے، اسی بناء پر بہت سے لوگوں کا نظریہ ہے کہ دیوارِ ذوالقرنین یہی ہے۔ اگرچہ سدِ ذوالقرنین بڑی مضبوط بنا ئی گئی ہے جس کے اوپر چڑھ کر یا اس میں سوراخ کرکے یاجوج ماجوج کا اِدھر آنا ممکن نہیں لیکن جب اللہ کا وعدہ پورا ہوگا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کرکے زمین کے برابر کر دے گا، اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کا ظہور ہے۔

صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضور نبی کریمﷺنے اس دیوار میں تھوڑے سے سوراخ کو فتنے کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ یاجوج ماجوج ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کیلئے چھوڑ دیتے ہیں لیکن جب اللہ کی مشیات ان کے خروج کی ہوگی تو پھر وہ کہیں گے کل اِن شاء اللہ اس کو کھودیں گے اور پھر دوسرے دن وہ اس سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور زمین میں فساد پھیلائیں گے یعنی انسانوں کو بھی کھانے سے گریز نہیں کرینگے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوگا کہ وہ مسلمانوں کو طور کی طرف جمع کرلے کیونکہ یاجوج ماجوج کا مقابلہ کسی کے بس میں نہ ہوگا۔

حضرت عیسیٰ اور ان کے ساتھی اس وقت ایسی جگہ کھڑے ہوں گے جہاں غذا کی سخت قلت ہوگی پھر لوگوں کی درخواست پر حضرت عیسیٰ یاجوج ماجوج کیلئے بددعا فرمائیں گے پس اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں اور کانوں میں کیڑا پیدا کر دے گا جو بعد میں پھوڑا بن جائے گاجس کے پھٹنے سے یہ ہلاک ہونا شروع ہو جائیں گے ۔ سب سے سب مر جائیں گے ، ان کی لاشوں سے ایک بالشت زمین بھی خالی نہ ہوگی اور ہر طرف ان کی لاشوں کی گندی بو پھیل جائے گی ، پھر عیسیٰ ابن مریم دعا کریں گے تو اللہ جل و شانہ اونٹ کی گردن برابر پرندے بھیجیں گے جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جانے کہاں پھینک دینگے ، پھر ایک بارش ہوگی جس سے کل زمین صاف شفاف ہو جائے گی اور ہر طرف ہریالی و خوشحالی ہوگی۔

صحیح مسلم میں نواس بن سمعان کی روایت میں صراحت ہے کہ یاجوج ماجوج کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ان کی موجودگی میں ہوگا، جس سے ان مفسرین کی تردید ہو جاتی ہے، جو کہتے ہیں کہ تاتاریوں کا مسلمانوں پر حملہ یا منگول ترک جن میں سے چنگیز بھی تھا یا روسی اور چینی قومیں یہی یاجوج و ماجوج ہیں، جن کا ظہور ہو چکا یا مغربی قومیں ان کا مصداق ہیں کہ پوری دنیا میں ان کا غلبہ و تسلط ہے۔ یہ سب باتیں غلط ہیں، کیونکہ یاجوج و ماجوج کے غلبے سے سیاسی غلبہ مراد نہیں ہے بلکہ قتل و غارت گری اور شر و فساد کا وہ عارضی غلبہ ہے جس کا مقابلہ کرنے کی طاقت مسلمانوں میں نہیں ہوگی، تاہم پھر وبائی مرض سے سب کے سب آن واحد میں لقمہ اجل بن جائیں گے۔

Monday, 20 April 2015

Rajab; Muattabar Riwayaat

Arabic Month "Rajab" Shuru Ho Chuka Hai, Rajab Ke Month Me Hone Wali Bidato Se Pehle Aayye Ham Ye Bata Dein Ke Quran O  Hadees Me Rajab Ke Talluq Se Kya Cheez Saabit Hai

Quran Me Allah Ne Months Ki Taadaad 12 Bataai Hai,Aur 12 Me Se 4 Months Ko Hurmat Wale Maheene Kaha Hai
(Al-Quran, Surah At-Taubah 9, Ayat 36)

(Hurmat Wale Months Yaani Izzat Aur Ehtaraam Wale Months)
Hurmat Wale Ye 4 Months Kon Se Hain ? Is Ki Wazahat Quran Me Nahi Hai,Balki Is Ki Wazahat Hadees Me Hai K Ye 4 Months Ye Hain :

1-Zul-Qada, 2-Zul-Hijja , 3-Muharram, 4-Rajab
(Sahih Al Bukhari Hadees 3197)
(Sahih Al Muslim Hadees 1679)

Rajab Ke Talluq Se Quran Aur Sahih Hadees Se Sirf Aur Sirf Itna Hi Pata Chalta Hai K Ye Izzat, Ehtaraam Aur Hurmat Wale 4 Maheeno Me Se Ek Maheena Hai.Is Ke Alawa Rajab Ki Kisi Khaas Fazeela Nahi Hai.

Ab Aayye Dekhein K Ilm Ki Kami Ki Waja Se Is Month Me Musalmano Ne Kin Kin Biddato Par Amal Karna Shuru Kar Diya

1- Salat Ul Raghaaib
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Rajab Ke First Friday Ya Thursday Ko Maghrib Aur Esha Ke Darmiyaan Kuch Log "Salatul Raghaaib" Ke Naam Se Ek Namaz Padhte Hain,Jis Me 12 Rakat Padhte Hain.

Khayaal Rahe K Kisi Bhi Sahi Hadees Se Rajab Ke Month Me "Salat Ul Raghaaib" Naam Se Koi Namaz Saabit Nahi...Lihaaza Hame Is Se Bachna Chahiye.

2- Rajab Ke Koonde
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Is Month Me Kuch Musalman Jafar Sadiq Ke Naam Se Koonde Bhi Banate Hain,Us Par Niyaz Dilwate Hain Aur Ye Aqeeda Rakhte Hain K Koonde Bharne Ke Baad Ham Jo Muraad Mangenge Wo Poori Hogi...Ye Bhi Bidat Hai,Is Talluq Se Jafar Sadiq Aur Ek : Lakkad-Haare Ka Jo Qissa Bayaan Kiya Jaata Hai Wo Man-Ghadat Hai.

Doosri Baat Ye K Jafar Sadiq Hon Ya Koi Aur Insaan, Walii Peer,Kisi Ko Bhi Shariyat Banane Ka Haq Haasil Nahi...Shariyat Wahi Hai Jis Ka Hukum Allah Aur Rasool Ne Diya Hai...(But Khayaal Rahe K Jafar Sadiq Ki Taraf Mansoob Qissa Bhi Man-Ghadat Hai).Lihaaza Is Month Me Koonde Ki Bidat Se Bhi Hame Bachna Chahiye

BALKI HAQIQAT YE HAI KI RAFIZION (SHIYA) KE YAHAN 22 RAJAB KO KAATIB HZ AMIR MUAWIYA (RA) KI TAREEKH-E-WAFAAT PAR KHUSIYAAN MANAYI JAATI HAI

JISSE GHAFIL HONE KI WAJAH SE BAHUT SE MUSALMAAN RAFIZION (SHION) KE SAATH KISI NA KISI TARAH TYOHAR ME SHAREEQ HO JAATE HAIN,

ISS KHURAFAAT KE ELAWA 27 RAJAB KO BAHUT SE MUSALMAAN ISRA AUR MERAZ-E RASOOL(SAW) KI TAREEKH MUTAIYYAN MAAN KAR BAHUT SE BIDAT AUR KHURAFAAT ANJAM DETE HAIN, JABKI TAREEKH-E-ISRA WA MERAJ ME BADA IKHTELAAF HAI AUR YAQEEN KE SAATH KUCH NAHI KAHA JAA SAKTA HAI, KAM SE KAM MUSALMAN MERAJ KE TAFSILAAT PAR GAUR KAR LEN TO BAHUT SE KABEERA GUNAAHON SE BACH JAANE KA IMKAAN HAI

3- Jashn E Meraaj
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Kuch Musalman 27 Rajab Ko Rasool Sallallau Alaihi Wasallam Ka "Jashn E Meraaj" Manate Hain,Ye Bhi Bidat Hai,Kyo K Pehli Baat To Ye K Ye Cheez Hi Saabit Nahi K Rasool Sallallahu Alaihi Wasallam Ko Jo Meraaj Hua Tha Wo Rajab Ke Month Me Hua Tha.

Meraj Hua Ye Quran O Hadees Se Saabit Hai,Lekin Kis Month Me Hua Ye Kisi Sahi Hadees Se Saabit Nahi.

Lihaaza Is Tarah Ka Jashn Manane Se Bhi Hame Bachna Chahiye.

(Isii Tarah Khaas Rajab Ke Month Me Kuch Dino Ko Khaas Kar Ke Roza Rakhne Ki Bhi Koi Daleel Nahi Hai)

Deeni Aitabar Se Har Woh Kaam Bidat Hoga Jiska Saboot Quran Aur Hadees Main Nahin Milta

Koi Bhi Kaam Neki Samaj Kar Sawaab Ki Niyyat Se Kiya Jaye,
Jiske Karne Ka Hukm, Na Allah Ke Kalaam Yani Quran-E-Kareem Me Maujood Ho, Aur Nahi Nabi Kareem Sallallahu Alaihi Wasallam Ki Sunnat Yani Hadees-E- Mubaraka Me Maujood Ho Aur Nahi Sahaba (Ra) Ke Tarikhe Me Maujood Ho, Usko Biddat Kehte Hai.

(Jo log Biddat ko taqseem krk Gumrahi pahlarahe hai jaise Bidat e Sayya, Biddat e Hasna un askaas k liye ye Hadees se behtareen aur koyi islaah nahi)

► Abdullah Ibn Umar farmate hain,

Tamam Biddatein gumrahi hai agarche “Ba-Zaahir woh, logon ko acchi lagein

(SUNAN KUBRA BAIHAQI (HADITH138).

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی احادیث میں پیشن گوئی

حدیث مبارک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک پیشنگوئی فرمائی ہے اور ائمہ محدثین نے اس کا  مصداق امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو قرار دیا ہے۔  چنانچہ صحیح بخاری (حدیث نمبر4897) میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ ہے:
وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ•
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا:  اگر ”ایمان“ ثریا ستارے کے قریب بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے بعض لوگ اس کو حاصل کر لیں گے۔
اور صحیح مسلم (حدیث نمبر2546)  میں یہ الفاظ ہیں:
لو كان الدين عند الثريا لذهب به رجل من فارس•
ترجمہ: اگر ”دین“ ثریا ستارے کے پاس بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے ایک شخص اس  کو حاصل کرلے گا۔
حلیۃ الاولیاء(ج6 ص64) میں ہے:
لو كان العلم منوطا بالثريا لتناوله رجال من أبناء فارس•
ترجمہ: اگر ”علم“ثریا ستارے کے پاس بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے ایک شخص اس  کو ضرور حاصل کر کے رہے گا۔
حدیث مذکور جو بالاتفاق صحیح ہے، اس  کا مصداق   محدثین و محققین نے حضرات نے امام اعظم ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ کو قرار دیا ہے۔ حوالہ جات پیش خدمت ہیں:
حوالہ نمبر۱:
امام جلال الدین  سیوطی رحمہ اللہ   لکھتے ہیں:
اقول: قد بشرالنبی صلی اللہ  علیہ وسلم  بالامام  ابی  حنیفۃ  فی الحدیث الذی اخرجہ  ابو نعیم  فی الحلیۃ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ•
(تبییض الصحیفۃ ص 59، 60)
ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے بارے میں اس حدیث میں بشارت دی ہے جسے امام ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
حوالہ نمبر۲:
علامہ  ابن حجر مکی رحمہ اللہ    فرماتے ہیں:
قال الحافظ  المحقق الجلال السیوطی : ھذا اصل صحیح یعتمد  علیہ فی  البشارۃ بابی  حنفیۃ رحمہ اللہ  وفی  الفضیلۃ التامۃ•
ترجمہ: حافظ و محقق جلال الدین  سیوطی فرماتے ہیں کہ یہ احادیث امام صاحب کی بشارت و فضیلت کے بارے میں ایسی صریح ہیں کہ ان پر مکمل اعتماد کیا جاتا ہے۔
چند سطور بعد لکھتے  ہیں:
قال  بعض  تلامذہ  الجلال  وما جزم  بہ  شیخنا من ان  الامام  ابا حنیفۃ ھواالمراد  من ھذا الحدیث ظاہرلاشک  فیہ لانہ  لم  یبلغ احدٌ ای فی  زمنہ  من ابناء فارس فی العلم  مبلغہ  ولا مبلغ  اصحابہ  ۔وفیہ معجزہ ظاہرۃ للنبی  صلی اللہ  علیہ وسلم  حیث اخبر بما سیقع•
(الخیرات الحسان: ص 24)
ترجمہ: شیخ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ کے بعض تلامذہ نے فرمایا اور جس پر ہمارے شیخ نے بھی اعتماد کیا ہے کہ ان احادیث کی مراد بلاشبہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں اس لئے کہ اہل فارس میں ان کے معاصرین میں سے کوئی بھی علم کے اس درجہ کو نہیں پہنچا جس پر امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ فائز تھے۔  اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا معجزہ بھی ظاہر ہے کہ جس بات کی آپ نے خبر دی وہ ہو کر رہی۔
حوالہ نمبر۳:
شاہ ولی  اللہ محدث  دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
امام ابو حنیفہ  رحمہ   دریں حکم داخل است•
(کلمات طیبات: ص168)
ترجمہ: امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اس حکم میں داخل ہیں۔
حوالہ نمبر۴:
نواب صدیق حسن  خان
صواب  آنست  کہ ہم امام  ابو حنیفہ  دراں داخل است……  باءشارۃ النص•
(اتحاف النبلاء :ص 424)
ترجمہ: صحیح بات یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اس حکم میں باشارۃ النص  داخل ہیں۔

फर्जी साइटों से सावधान॥So-called Islamic websites!

* यहूदियों ने इस्लाम को बदनाम करने के लिये इंटरनेट पर कुछ फर्जी वेबसाइट्स विकसित किया है,
* जहाँ कुरान और हदीस के नाम पर गलत जानकारियां प्रसार कर मुस्लिम और गैर मुस्लिम लोगों को गुमराह करने की कोशिश चल रही है,
* और सबके दिलों में इस्लाम के खिलाफ नफरत फैलाने कि ॥साजिश॥ चल रही है।
* इनमें से ये कुछ फर्जी वेबसाइट॥
www.answering-i slam.org
www.aboutislam.com
www.thequran.co m
www.Allah_assur ance.com
ये कुछ उदाहरण है।
क्योंकि धर्म के नाम पर ऐसे और लाखों साइट्स है।
* गौरतलब है कि अब तक मजहब के नाम पर इंटरनेट पर "4 लाख वेबसाइट्स" है
पर आपको ये जानकर हैरानी होगी कि,
* इन "4 लाख वेबसाइट्स" में से
"2लाख वेबसाइट्स" सिर्फ इन ईसाई और यहुदीयों के है जो,
* मुसलमानों के नाम पर
* कुरान के नाम पर
* बुखारी के नाम पर
* हदीस के नाम पर
* तर्जुमा के नाम पर
* फिकह के नाम पर
"2 लाख वेबसाइट्स" खोल रखे हैं,
* जिसके जरिए से लोगों को गलत जानकारी देकर गुमराह किया जा रहा है,
* और कुरआन की आयतों का गलत तर्जुमा बता कर उनके जेहनों को तबाह व बर्बाद किया जा रहा है।
*** इसलिए बेहतर होगा कि, हम लोग "उलमा" से जुड़े रहे !!
** इस्लाम को जानने और समझने के लिए मुसलमानों को ना देखें और
** इन "फेक मजहबी वेबसाइट्स" से दूर रहें, और ज्यादा से ज्यादा मजहबी किताबें पढ़े।
** हुन्दुस्तान भर के सभी मुसलमान और
गैरमुसलमानों को इस्लाम के बारे में गलत जानकारियां मिलने से
** "सऊदी अरब में इन वेबसाइट्स को ब्लोक (Block) किया जा चुका है।"

Muslims Please Beware Of These So-called Islamic websites!


Salam brothers and sisters in faith.

Please beware of sites listed below. The sites have been de eloped by enemies of Islam to spread wrong information about Islam, Quran, Hadith.

Endeavor to check the authenticity and source of any purported Islamic websites before reading through


Below are some of anti-Islamic websites


List of anti Islaamic sites and Exposé of 3 sites posting false convert stories 

Exposé of three sites posting false convert stories 

1. http://www.islamreview.com

This site has posted fake stories of how Muslims converted to Christianity. How do I know? Read the following excerpt from one of the stories:

First the 'convert' says: (emphasis added)
In the end, I managed to convince my mother, as it was for Allah and I joined the Islamic College. Having graduated as an ustaz, I was soon posted to my neighbourhood…

And then:
My trip to Mecca for the Haj (pilgrimage) was tiring but eventful. I did not have the rare opportunity to see inside the holy Kabah and the holy idols inside, which Prophet Muhammud had helped to place, as explained in Bukhari’s Hadith

An Ustaz (scholar) in Islaamic Studies is saying that there are idols inside the Kabah and that too placed by Muhammad (saw) himself!?!?!

This clearly shows that the author is deliberately trying to spread misinformation about Islaam and wants to convey to possible reverts to Islaam that it is religion of idol worship.

In fact most of the Christian sites use this tactic of false convert stories but it's not always possible to prove it


2. http://www.faithfreedom.org/

AlhamduliLlaah I was able to catch another site posting fake stories of Muslims leaving Islaam. See the false information imparted here. That the attempt is deliberate is known through the claim that the 'convert' has done detailed study about the topic.
For Islamic Education, I had to study about marriage in detail to do well. So, I learnt all the stuff and got the highest grade anyone can get for Islamic Education. And guess what? Because I know it so well, I know that there is a lot of discrimination against women in Islam. Things like a father and grandfather can marry a girl/woman to whomever they want even if the girl/woman doesn’t want to marry that person… In addition, I learned things like women couldn’t be witnesses in Syariah Courts and things like that

The first point here is a total lie whereas the second is a distorted version of the truth.


3. http://www.answering-islam.org/Testimonies/younathan.html

Here's yet another extract from a false convert story aimed at spreading misinformation about Islaam.

As I started thinking about my life and the Quran, I realized all Muslims, even the prophet Muhammad, would go to Hell for certain sins they committed in their lifetime.

This is a common ploy of the Christian Missionaries. They first inform gullible victims that Jesus (God) is Love and just by believing in the Crucifixion, you will be assured of Paradise. Whereas the concept of God in Islaam is so harsh that no one will be spared from Hell and that even Prophet Muhammad (saw) was not sure of where he would end up. For this purpose they quote an ayat of the Qur'aan out of context. Here there have gone a step further by saying that even our beloved Prophet (saw) would have to go through hell. Nothing could be further from the truth.

Anti Islaamic Sites under misleading names

4. http://www.muslimhope.com/

5. http://www.islameyat.com/

6. http://www.islamreview.com

7. http://www.muhammadanism.com/

8. http://thespiritofislam.com/index.html

9. http://www.abrahamic-faith.com/

10. http://www.gnfcw.com/

11. http://www.knowislam.info/drupal/mno

12. http://www.homa.org/

13. http://www.thequran.com

14. http://www.Allahassurance.com

15. http://www.mosque.com

16. http://thespiritofislam.com/index.html

17. http://www.newislam.org/

Anti Islaamic Sites apparent even by name

18. http://www.islam-exposed.org/

19. http://answering-islam.org.uk/

20. http://www.answeringinfidels.com

21. http://www.islamundressed.com/

22. http://www.studytoanswer.net/myths_ch1.html 

23. http://www.challenging-islam.org/submissions/shariah.htm

24. www.answering-islam.org

25. http://www.islamundressed.com

26. http://www.exmuslim.com/

27. http://www.answeringinfidels.com

28. http://www.gnfcw.com/

29. http://www.dhimmi.com/

30. http://www.chick.com/information/religions/islam/

31. http://www.acage.org/

32. http://www.apostatesofislam.com/

33. http://www.secularislam.org/

34. http://www.muslim-refusenik.com/

35. http://www.icapi.org/

36. http://www.hesetsfree.org/

37. http://www.letusreason.org/Islamdir.htm

38. http://www.kafirnation.com/

39. http://www.jihadwatch.org

40. http://www.anti-cair-net.org/

41. http://apostatesofislam.com/

42. http://challenging-islam.org/


http://www.bilalphilips.com/content_display.php?c=318&p=

http://www.nairaland.com/149788/muslims-please-beware-these-so-called