Sunday, 12 December 2021

جھگڑتے تھے لیکن نہ جھگڑوں میں شر تھا

جھگڑتے تھے لیکن نہ جھگڑوں میں شر تھا 
--------------------------------------
--------------------------------------
مولانا سعد کاندھلوی صاحب  سے پھر کبھی جی بھرکے لڑلیجئے گا، ہم بھی آپ کا ساتھ دیں گے، بحث و مباحثے کے لئے پورا وقت باقی ہے لیکن اِس وقت شخص واحد نہیں، ہمارا متاع گراں مایہ تبلیغی جماعت، یہودی وفسطائی یلغار کی زد میں ہے، دعوت وتبلیغ دین  پہ میلی آنکھیں اٹھ رہی ہیں، ملی غیرت وحمیت کا تقاضہ ہے ان کا ساتھ دیں! نظریاتی اختلاف کی وجہ سے شادیانے بجانے کا نہیں، مکمل ملی ہم آہنگی دکھانے اور بڑے دل کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ خدارا ٹکڑوں میں بٹ کر دشمن کا دست وبازو نہ بنئے! کلمے کی بنیاد پر ایک آواز اور ایک طاقت بنئے!
مولانا سعد سے ہمارا اختلاف اتنا شدید نہیں، جتنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اختلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تھا، (نوعیت اختلاف مختلف تھی) ذرا یاد کیجئے! جب  بادشاہ قیصر نے ان اختلافات سے فائدہ اٹھانا چاہا اور شام کے سرحدی علاقوں پہ لشکرکشی کرنے کا پلان تیار کیا، حضرت معاویہ کو جب اس کا علم ہوا تو انہوں نے قیصرروم کو جو  ردعمل دیا وہی رد عمل آج ہمیں قیصر عرب "ابن سلمان اینڈ کمپنی" کو دینے کی ضرورت ہے.
حضرت معاویہ نے لکھا:
"مجھے اس بات کا علم ہوا ہے کہ تُم سرحد پہ لشکرکشی کرنا چاہتے ہو، یاد رکھو! اگر تم نے ایسا کیا تو میں اپنے ساتھی (حضرت علی) سے صلح کرلوں گا اور ان کا لشکر جو تم سے لڑنے کے لئے روانہ ہوگا اس کے ہراول دستے میں  شامل ہوکر قسطنطینیہ کو تہس نہس کردوں گا."
آج ہمیں یہی جواب یہودی مہرہ ابن سلمان  کو دینا ہے.
فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں 
موج ہے دریا میں، اور بیرون دریا کچھ نہیں 
اگر اختلاف ان میں باہم دگر تھا 
تو بالکل مدار اس کا اخلاص پر تھا 
جھگڑتے تھے لیکن نہ جھگڑوں میں شر تھا 
خلاف آشتی سے خوش آئند تر تھا 
یہ تھی موج پہلی اس آزاد گی کی 
ہرا جس سے ہونے کو تھا باغ گیتی 
 آج ہمیں بھی نظریاتی اختلافات کے وقت اصحاب رسول کی زندگیوں سے اسی طرح روشنی کشید کرنے اور رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے، کسی فردسے اختلاف و ناپسندیدگی کا جذبہ ہمیں اس کی مخالفت و عداوت پہ ہرگز آمادہ نہ کرسکے. وما توفيقي إلا بالله. 
مركز البحوث الإسلامية العالمي .
٦جمادى الأولي ١٤٤٣هج
https://saagartimes.blogspot.com/2021/12/blog-post_12.html


Friday, 10 December 2021

ابن سلمان على خُطا مصطفى كمال أتاتورك!

ابن سلمان على خُطا مصطفى كمال أتاتورك! 
------------------------------------
------------------------------------
   في محاولات شنيعة ماكرة لصناعة الإسلام المعتدل ذي المرونة والنعومة، بدأ الأمير ابن سلمان السعودي منذ سنين سيرًا على خطوات سلفه الراحل مصطفى كمال أتاتورك، حظرَ الجماعات والحركات ذات السمة الإسلاميّة والحَدَّ من نشاطاتها الدينية وأعمالها التوعوية وتهميش مشاريعها الإصلاحية وسط المجتمع، بينما فَسَحَ المجالَ  في أرض المملكة رحبًا واسعًا لليوغا التي هي مجموعة من الطقوس الرياضيّة القديمة الموغلة في أوحال الثقافة الهندوسيّة الوثنيّة المشركة؛ إعلانًا صارخًا منه على مرأى ومسمع من الناس بفتح بوابة المملكة العربيّة السعوديّة لجميع أتباع الديانات والكيانات الوطنيّة ممن أراد الولوج في دارها والنزول في ساحتها، إلا أنه ضَيَّقَ الخناق على جماعة الدعوة والتبليغ التي تمثل جماعةً دعويّةً إسلاميّةً بحتةً، بعيدةً عن الشؤون السياسيّة والحزبيّة والخلافات المذهبيّة، ولا ترمي بتاتًا من وراء أنشطتها الدينية إلا إلى العمل بالكتاب والسنة ونهج السلف الصالح  وجمع أفراد الأمة على أساس لا إله إلا الله وسيرة رسول الله صلى الله عليه وسلم. 
أليس من دواعي الخزي والعار أن تفتح المملكةُ فنادقَ تشهد الاختلاطَ بين الذكور والإناث، والرقصَ والمجونَ، والأغانيَ الخليعة والمسلسلاتِ الهابطة التي تبعث على الفجور والرذيلة؟! 
أليس من الذل والهوان أن تصدر المملكة رخصة قيادة السيارات للفتيات والنساء دون وجل ولا حظر؟! 
      أليس من المنكر أن تشهد المدينة المنورة- على منوِّرها ألف تحية وسلام-  دورَ سينما وصالات الأفلام العربية و الأجنبية؟! وكأنّ المجتمع السعودي بِفِئَتَيْهِ: الفتيان والفتيات يزاحم المناكب ليدفع عجلة التنمية في صحراء الجزيرة العربيّة! 
لقد شهد العالم بعينيه أن أبواب الحرمين الشريفين ظلت مُوصَدَةً أمدًا مديدًا على الزُّوَّار والمعتمرين تحت حجة كورونا الجائحة المهلكة، بينمااسْتُقْدِمَتْ راقصات متبرجات سافرات لإحياء حفلات الرقص والغناء في وقاحة، على أرض الحرمين الشريفين دون الالتزام بالاشتراطات الصحية. و في جانب آخر، تم تأسيس أكاديمية تتولى شرح أحاديث رسول الله صلى الله عليه وسلم على ما يرضاه الضمير الغربيّ،  بُغيةَ محاربة الفكر الإسلاميّ المتشدد، كما ألغى الأمير ابن سلمان مؤسسُ الإسلام المعتدل   نظامَ المطوّع عن آخره، واستبدل، هيئةَ الترفيه العامة بهيئة الأمر بالمعروف والنهى عن المنكر. وعلى كل فإن أرض التوحيد  مُعَرَّضَةٌ لخطر الإلحاد والزندقة من جهاتها الأربعة. 
      مما يستدعي من الخطباء ووعاظ المنابر أن يتناولوا القرار الوزاري الأسود ببيان مخاطره ومعايبه في منصات التواصل الاجتماعي بالإضافة إلى النقد والتحليل في خطبة الجمعة أمام جماهير الشعب المسلم. ويجب على زعماء الأمة الإسلاميّة أن ينهضوا محتجين آمنين، معتصمين أمام سفارة المملكة العربية السعودية في مدينة دهلي إعرابًا عن استيائهم وسخطهم البالغين إزاء التعميم الصادرة من وزارة الشؤون الإسلامية والدعوة والإرشاد للسعودية، ويقوموا بتعليق كلمات التنديد والشجب في مواقع التواصل الاجتماعي. أرى أن القرار الأسود ما جاء إلا تحت خطة مدروسة شاملة؛ ليخدم مصالح الصهيونيّة الماكرة، الذي ربما تستند الحكومة الهنديّة الفاشية الحاقدة إليه في قادم الأيام من أجل حظر جماعة الدعوة والتبليغ وتهوين شأنها داخل بلاد الهند. 
من هنا أرجو الكتاب ورؤساء المنظمات والجمعيات المليّة الإسلاميّة أن يكونوا يدًا واحدةً في تضامن شامل، واعين لخطورة الموقف وعظم المسؤولية قبل فوات الأوان، رافضين لنشرة التعميم رفضًا باتًّا، حتى ترجع الحكومة السعودية عن القرار المجحف الظالم. 
١٠/ ١٢/ ٢٠٢١
سورينام .أمريكا الجنوبية
+5978836887
https://saagartimes.blogspot.com/2021/12/blog-post_91.html
ممکن ہے آپ کو یہ تحریر بھی پسند آئے......

محمد بن سلمان مصطفی کمال اتاتُرک کے نقشِ قدم پر!
---------------------------------------------------------------------------
---------------------------------------------------------------------------

جھوٹا خواب گھڑنے سے متعلق حدیث کی تشریح

جھوٹا 
خواب گھڑنے سے 
متعلق حدیث کی تشریح

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، حضرت! اس حدیث کی تشریح فرمادیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان خواب میں ایسی چیز کو دیکھنے کا دعویٰ کرے، جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو۔ جزاک اللہ (خیرا)
جواب: عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" إن من افرى الفرى ان يري عينيه ما لم تر". (بخاری، حدیث نمبر: 7043)
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان خواب میں ایسی چیز کو دیکھنے کا دعویٰ کرے جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو۔“
حدیث کی تشریح: حدیث کا مطلب یہ ہےکہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں نے خواب دیکھا ہے، حالانکہ اس نے کچھ بھی نہیں دیکھا ہو، تو یہ بڑے جھوٹوں میں سے ایک بڑا جھوٹ ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنا ہے، اس لئے کہ خواب دکھلانے کے لئے اللہ تعالی ہی فرشتے کو بھیجتے ہیں۔
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں طبری کے حوالہ سے لکھا ہے کہ کبھی بیداری میں جھوٹ بولنے کا فساد بہت زیادہ ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود جھوٹے خواب کو بڑا جھوٹ کہا گیا، کیونکہ یہ اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنا ہے اور اللہ تعالی پر جھوٹ مخلوق پر جھوٹ باندھنے سے بڑا گناہ ہے. اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۚ أُولَٰئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَىٰ رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ۔ (سورة ھود آیت نمبر: 18)
ترجمہ: اپنے رب کے سا منے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا۔ سن لو! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔“
اور جھوٹا خواب گھڑنا، اس لئے بھی گناہ ہے کہ خواب نبوت کا ایک جز ہے، جیسے حدیث شریف میں آتا ہے کہ ورؤيا المسلم جزء من ستة واربعين جزءا من النبوة۔ (مسلم حدیث نمبر 2270 )
ترجمہ: مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
جو نبوت کے حصے ہیں، وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہوتے ہیں، تو جھوٹا خواب گھڑنے والا گویا جھوٹا دعوی کرتا ہے کہ اس کو نبوت کے حصوں میں سے ایک حصہ ملا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
لمافی فتح الباری:
وَأَمَّا الْكَذِبُ عَلَى الْمَنَامِ فَقَالَ الطَّبَرِيُّ انما اشْتَدَّ فِيهِ الْوَعيد مَعَ أَنَّ الْكَذِبَ فِي الْيَقَظَةِ قَدْ يَكُونُ أَشَدَّ مَفْسَدَةً مِنْهُ إِذْ قَدْ تَكُونُ شَهَادَةً فِي قَتْلٍ أَوْ حَدٍّ أَوْ أَخْذِ مَالٍ لِأَنَّ الْكَذِبَ فِي الْمَنَامِ كَذِبٌ عَلَى اللَّهِ أَنَّهُ أَرَاهُ مَا لَمْ يَرَهُ وَالْكَذِبُ عَلَى اللَّهِ أَشَدُّ مِنَ الْكَذِبِ عَلَى الْمَخْلُوقِينَ لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ الْآيَةَ وَإِنَّمَا كَانَ الْكَذِبُ فِي الْمَنَامِ كَذِبًا عَلَى اللَّهِ لِحَدِيثِ الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنَ النُّبُوَّةِ وَمَا كَانَ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ فَهُوَ مِنْ قِبَلِ اللَّهِ تَعَالَى انْتَهَى مُلَخَّصًا۔ (ج: 12، ص: 428، ط: دارالمعرفة، ۔بیروت)
وفی المرقاة شرح المشکوة
(الرَّجُلُ عَيْنَيْهِ مَا لَمْ تَرَيَا) أَيْ: شَيْئًا لَمْ تَرَ عَيْنَاهُ فِي النِّهَايَةِ أَيْ يَقُولُ: رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَذَا، وَلَمْ يَكُنْ رَأَى شَيْئًا ; لِأَنَّهُ كَذِبٌ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّهُ هُوَ الَّذِي يُرْسِلُ مَلَكَ الرُّؤْيَا لِيُرِيَهُ الْمَنَامَ، قَالَ الطِّيبِيُّ: الْمُرَادُ بِإِرَاءِ الرَّجُلِ عَيْنَيْهِ وَصْفُهُمَا بِمَا لَيْسَ فِيهِمَا وَنِسْبَةُ الْكِذْبَاتِ إِلَى الْكَذِبِ لِلْمُبَالَغَةِ نَحْوَ قَوْلِهِمْ: لَيْلٌ أَلْيَلُ وَجَدَّ جِدُّهُ قَالَ السُّيُوطِيُّ: الْفِرْيَةُ الْكِذْبَةُ الْعَظِيمَةُ، وَجُعِلَ كَذِبُ الْمَنَامِ أَعْظَمَ مِنْ كَذِبِ الْيَقَظَةِ ; لِأَنَّهُ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَادَّعَى جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ كَذِبًا. (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ): وَفِي الْجَامِعِ: («إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْفِرَى أَنْ يُدْعَى الرَّجُلُ لِغَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ يُرِيَ عَيْنَيْهِ مَا لَمْ تَرَيَا، أَوْ يَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ مَا لَمْ يَقُلْ» ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ وَاثِلَةَ، وَرَوَى أَحْمَدُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِلَفْظِ: " «إِنَّ مِنْ أَفْرَى الْفِرَى أَنْ يُرِيَ الرَّجُلُ عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ تَرَيَا» ".
(ج: 7، ص: 2934، ط:دارالفكر، بيروت)
واللہ تعالی اعلم بالصواب. دارالافتاء الاخلاص، کراچی
https://saagartimes.blogspot.com/2021/12/blog-post_15.html

محمد بن سلمان مصطفی کمال اتاتُرک کے نقشِ قدم پر!

محمد بن سلمان مصطفی کمال اتاتُرک کے نقشِ قدم پر!

---------------------------------

بقلم: مفتی شکیل منصور القاسمی

----------------------------------

معتدل اور لچکدار اسلام کے بانی مبانی محمد بن سلمان مصطفی کمال اتاتُرک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سالوں پہلے سے  دینی روح اور اسلامی جذبہ رکھنے والی تحریکوں کو پابند سلاسل کرنے اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے گھناؤنے کھیل و منصوبے کا آغاز کردیا تھا، جبکہ خالص ہندو کلچر "یوگا" کھیل کو قومی طور پر منظوری دی گئی۔ سعودی عرب کو نئے شہزادے نے ببانگ دہل تمام مذاہب کے پیروکاروں اور دنیا کے ہر فرد کے لئے کھلا رکھنے کا اعلان کردیا؛ لیکن سیاست، فرقہ واریت، مسلکی اختلافات  وتنگ نائیوں سے مکمل عاری و خالی، صرف کلمے کی بنیاد پر دنیا کے تمام مسلمانوں کو سو فیصد اللہ کے احکام اور پیغمبراسلام کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے کی محنت کرنے والی بے لوث تحریک "تبلیغی جماعت" پہ پابندی عائد کردی گئی۔ کس قدر شرمناک امر ہے کہ وہاں ایسے ایسے ریستوران کھل چکے ہیں جہاں عورتیں اور مرد مخلوط طور پر بلا روک ٹوک بیٹھ کے عیاشیاں کرسکتے ہیں۔ وہاں تیز موسیقی بھی بجتی ہے۔ مغربی معاشرے میں پروان چڑھنے والے اور وہاں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس آنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اب سعودی عرب میں بلا روک ٹوک گاڑیاں چلارہے ہیں، مدینہ منورہ میں سینما ہالز بھی کھل چکے ہیں، 'صحرائی ریس' میں عورتیں اور مرد دونوں شریک ہورہے ہیں۔

کرونا کا بہانہ بناکر حرمین شریفین کو تو لمبے عرصے تک بند کردیا گیا؛ لیکن بے حیاء رقاصاؤں کو بلابلاکر، کرونا ایس او پیز کا خیال کئے بغیر، حرمین کی مقدس سرزمین میں رقص وسرود کی محافل منعقد کی گئیں۔ احادیث رسول کی ایسی من مانی اور مغربی آقاؤں کی من پسند تشریح وتوضیح کرنے کی اکیڈمی قائم کی گئی جس سے 'سخت گیر' اور 'اسلام پسند نظریہ' کا 'قلع قمع' کیا جاسکے۔ نہی عن المنکر کے لئے سعودی عرب کی گلیوں میں جو مذہبی پولیس (المطوع) گشت کرتی نظر آتی تھی۔ اس ٹیم کو بھی اب معتدل اسلام کے بانی مبانی شہزادے نے "غار سر من رأی" میں بھیج دیا ہے۔ یعنی امربالمعروف ونہی عن المنکر کے ادارے کو کالعدم کرکے اس کو "جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی" کے گھٹیا ادارے سے بدل دیا گیا ہے۔ ارض توحید پہ الحاد جدید کی چوطرفہ یلغار ہے۔ دین بیزار وزارت مذہبی امور نے امن وآشتی کی داعی تبلیغی جماعت پہ جو حالیہ پابندی عائد کی ہے اس کے اس شرمناک و گھناؤنے کرتوت اور خطرناکیوں کو سوشلستان میں اجاگر کرنے کے ساتھ مساجد کے ائمہ وخطباء جمعہ کے خطبوں میں بیان کریں، ملی ومذہبی قائدین متحد ہوکے سعودی سفارت خانے کے سامنے پرامن مظاہرہ کرکے اپنا احتجاج درج کروائیں، اس شرمناک اقدام کی مذمت کریں، عربی وانگریزی میں مذمتی تحریر وکلپس تیار کرکے سماجی رابطے کی سائیٹس پہ عام کی جائیں۔ یہ سب کچھ صہیونیوں کی منظم سازش کے زیراثر ممکن ہوا ہے، اسے دلیل بناکر اب موقع پرست عناصر بھی اندرون ملک اس پہ شکنجہ کسنے کی تیاری میں ہوگی، وقت کا تقاضہ ہے اصحاب قلم وملی تنظیموں کے قائدین معاملے کی نزاکت وحساسیت کا بروقت ادراک کرتے ہوئے متحد ہوکر اس کے خلاف آواز بلند کریں؛ تاکہ سعودی حکومت کو اس پہ نظرثانی کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔

۵ جمادی الاولی 1443 ہجری 
بروز جمعہ
https://saagartimes.blogspot.com/2021/12/blog-post_10.html
-------

ممکن ہے آپ کو یہ تحریر بھی پسند آئے......


--------------------------------
ابن سلمان على خُطا مصطفى كمال أتاتورك! 
   في محاولات شنيعة ماكرة لصناعة الإسلام المعتدل ذي المرونة والنعومة، بدأ الأمير ابن سلمان السعودي منذ سنين سيرًا على خطوات سلفه الراحل مصطفى كمال أتاتورك، حظرَ الجماعات والحركات ذات السمة الإسلاميّة والحَدَّ من نشاطاتها الدينية وأعمالها التوعوية وتهميش مشاريعها الإصلاحية وسط المجتمع، بينما فَسَحَ المجالَ  في أرض المملكة رحبًا واسعًا لليوغا التي هي مجموعة من الطقوس الرياضيّة القديمة الموغلة في أوحال الثقافة الهندوسيّة الوثنيّة المشركة؛ إعلانًا صارخًا منه على مرأى ومسمع من الناس بفتح بوابة المملكة العربيّة السعوديّة لجميع أتباع الديانات والكيانات الوطنيّة ممن أراد الولوج في دارها والنزول في ساحتها، إلا أنه ضَيَّقَ الخناق على جماعة الدعوة والتبليغ التي تمثل جماعةً دعويّةً إسلاميّةً بحتةً، بعيدةً عن الشؤون السياسيّة والحزبيّة والخلافات المذهبيّة، ولا ترمي بتاتًا من وراء أنشطتها الدينية إلا إلى العمل بالكتاب والسنة ونهج السلف الصالح  وجمع أفراد الأمة على أساس لا إله إلا الله وسيرة رسول الله صلى الله عليه وسلم. 
أليس من دواعي الخزي والعار أن تفتح المملكةُ فنادقَ تشهد الاختلاطَ بين الذكور والإناث، والرقصَ والمجونَ، والأغانيَ الخليعة والمسلسلاتِ الهابطة التي تبعث على الفجور والرذيلة؟! 
أليس من الذل والهوان أن تصدر المملكة رخصة قيادة السيارات للفتيات والنساء دون وجل ولا حظر؟! 
      أليس من المنكر أن تشهد المدينة المنورة- على منوِّرها ألف تحية وسلام-  دورَ سينما وصالات الأفلام العربية و الأجنبية؟! وكأنّ المجتمع السعودي بِفِئَتَيْهِ: الفتيان والفتيات يزاحم المناكب ليدفع عجلة التنمية في صحراء الجزيرة العربيّة! 
لقد شهد العالم بعينيه أن أبواب الحرمين الشريفين ظلت مُوصَدَةً أمدًا مديدًا على الزُّوَّار والمعتمرين تحت حجة كورونا الجائحة المهلكة، بينمااسْتُقْدِمَتْ راقصات متبرجات سافرات لإحياء حفلات الرقص والغناء في وقاحة، على أرض الحرمين الشريفين دون الالتزام بالاشتراطات الصحية. و في جانب آخر، تم تأسيس أكاديمية تتولى شرح أحاديث رسول الله صلى الله عليه وسلم على ما يرضاه الضمير الغربيّ،  بُغيةَ محاربة الفكر الإسلاميّ المتشدد، كما ألغى الأمير ابن سلمان مؤسسُ الإسلام المعتدل   نظامَ المطوّع عن آخره، واستبدل، هيئةَ الترفيه العامة بهيئة الأمر بالمعروف والنهى عن المنكر. وعلى كل فإن أرض التوحيد  مُعَرَّضَةٌ لخطر الإلحاد والزندقة من جهاتها الأربعة. 
      مما يستدعي من الخطباء ووعاظ المنابر أن يتناولوا القرار الوزاري الأسود ببيان مخاطره ومعايبه في منصات التواصل الاجتماعي بالإضافة إلى النقد والتحليل في خطبة الجمعة أمام جماهير الشعب المسلم. ويجب على زعماء الأمة الإسلاميّة أن ينهضوا محتجين آمنين، معتصمين أمام سفارة المملكة العربية السعودية في مدينة دهلي إعرابًا عن استيائهم وسخطهم البالغين  إزاء التعميم الصادرة من وزارة الشؤون الإسلامية والدعوة والإرشاد للسعودية، ويقوموا بتعليق كلمات التنديد والشجب في مواقع التواصل الاجتماعي. أرى أن القرار الأسود ما جاء إلا تحت خطة مدروسة شاملة؛ ليخدم مصالح الصهيونيّة الماكرة، الذي ربما تستند الحكومة الهنديّة الفاشية الحاقدة إليه في قادم الأيام من أجل حظر جماعة الدعوة والتبليغ وتهوين شأنها داخل بلاد الهند. 
من هنا أرجو الكتاب ورؤساء المنظمات والجمعيات المليّة الإسلاميّة أن يكونوا يدًا واحدةً في تضامن شامل، واعين لخطورة الموقف وعظم المسؤولية قبل فوات الأوان، رافضين لنشرة التعميم رفضًا باتًّا، حتى ترجع الحكومة السعودية عن القرار المجحف الظالم. 
١٠/ ١٢/ ٢٠٢١
سورينام .أمريكا الجنوبية
+5978836887

Sunday, 5 December 2021

ماہ جمادی الاولی کے فضائل، مسائل اور رسومات و منکرات

ماہ 
جمادی الاولی کے 
فضائل، مسائل اور رسومات و منکرات

’’جمادی الاولی‘‘ اسلامی سال کا پانچواں قمری مہینہ ہے۔ 
ماہ ِ’’جمادی الاولی‘‘ کی وجہ تسمیہ:
یہ مہینہ عربی زبان کے دو لفظوں ’’جمادی‘‘ اور ’’الاولیٰ‘‘ کا مجموعہ ہے۔ جمادی ’’جمد‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی ’’منجمد ہوجانے، جم جانے‘‘ کے ہیں اور ’’الاولی‘‘ کے معنی ہیں: پہلی، تو جمادی الاولی کے معنی ہوئے ’’پہلی جم جانے والی چیز‘‘
جس زمانے میں اس مہینے کا نام رکھا گیا تھا، عرب میں اُس وقت سردی کا موسم تھا، جس کی وجہ سے پانی جم جاتا تھا، اس وجہ سے اس مہینے کا نام ’’ جمادی الاولی‘‘ (سردی کا پہلا مہینہ) رکھا گیا. (۱)
فائدہ: علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عربی زبان میں "جمادى" کا لفظ مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے، چنانچہ "جمادى الأول" اور "جمادى الأولى" اسی طرح "جمادى الآخر" اور "جمادى الآخرة" دونوں طرح کہنا درست ہے۔ (۲)
ماہ ِ’’جمادی الاولی‘‘ کی فضیلت:
اس مہینے کی فضیلت قرآن و سنت سے کہیں ثابت نہیں ہے۔
ماہ ِ’’جمادی الاولی‘‘ کے اَعمال:
قرآن وسنت کی روشنی میں اس مہینے سے متعلق مخصوص اَعمال کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اس لیے اس ماہ سے متعلق اپنی جانب سے اعمال وعبادات بیان کرنا شریعت میں زیادتی ہے جو کہ ناجائز ہے، لہذ اجو مسنون اعمال دیگر ایام میں کیے جاتے ہیں، وہ اس مہینے میں بھی کیے جائیں، جیسے ایام بیض (قمری مہینے کی تیرہ، چودہ اور پندرہ) مستحب ہیں، ان کا رکھنا فضیلت کا باعث ہے۔
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانَ إِلَی رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ.
ترجمہ: ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنا اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا یہ تمام عمر کے روزوں کے مترادف ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۱۶۲) (۳)
ماہ ِ’’جمادی الاولی‘‘ رسوم و بدعات:
اس مہینے میں ہمارے علاقوں میں کوئی خاص رسم اور بدعت رائج نہیں ہے۔
ماہ ِ’’جمادی الاولی‘‘ کے مخصوص نوافل کا حکم:
بعض لوگ ماہ ِ’’جمادی الاولی‘‘ میں مخصوص نوافل کا اہتمام کرتے ہیں۔ (۴)
واضح رہے کہ اس قسم کی مخصوص نمازوں کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لیے ان نمازوں کا اس طرح سے التزام نہ کیا جائے، جس کو شریعت نے منع کیا ہو، کیونکہ ہر مباح کام کو اپنے اوپر لازم کرلینے سے شرعاً وہ مکروہ ہو جاتا ہے، اور ان نمازوں کے پڑھنے پر مخصوص ثواب کا اعتقاد بھی نہ رکھے۔ (۵)
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے اوقات کی قدر کرنے اور اس میں خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہم سب کو ہر طرح کی بدعات سے محفوظ رکھے اور سچا مومن بنائے۔
آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
(۱)جمادى: سمي بذلك لجمود الماء فيه. قال: وكانت الشهور في حسابهم لا تدور. وفي هذانظر؛ إذ كانت شهورهم منوطة بالأهلة، ولا بد من دورانها، فلعلهم سموه بذلك، أول ما سمي عند جمود الماء في البرد
(تفسیرابن کثیر،ج: ۷،ص: ۱۹۵، ط: مؤسسة قرطبة)
وجمادى من أسماء الشهور معرفة سميت بذلك لجمود الماء فيها عند تسمية الشهور
(لسان العرب، ج:۳،ص:۱۲۹: دارصادر)
ويحكى أن العرب حين وضعت الشهور وافق الوضع الأزمنة فاشتق للشهور معان من تلك الأزمنة ثم كثر حتى استعملوها في الأهلة وإن لم توافق ذلك الزمان فقالوا (رَمَضَانُ) لما أرمضت الأرض من شدة الحرّ و (شَوَّالُ) لما شالت الإبل بأذنابها للطروق و (ذُو القِعْدَةِ) لما ذللوا القعدان للركوب و (ذُو الحِجَّةِ) لمَّا حجوا و (المُحَرَّمُ) لما حرموا القتال أو التجارة و (الصَّفَرُ) لما غزوا فتركوا ديار القوم صفرا و (شَهْرُ رَبِيعٍ) لما أربعت الأرض وأمرعت و (جُمَادَى) لما جمد الماء و (رَجَبُ) لما رجّبوا الشجر و (شَعْبَانُ) لما أشعبوا العود
(المصباح المنير في غريب الشرح الكبير للرافعي،ج:۱، ص: ۱۴۸، ط: المكتبة الامیریہ– بيروت)
(۲) وَقَدْ يُذَكَّر وَيُؤَنَّث فَيُقَال جُمَادَى الْأُولَى وَالْأَوَّل وَجُمَادَى الْآخِر وَالْآخِرَة
(تفسیر ابن کثیر، ج: ۷،ص: ۱۹۶،ط: مؤسسة قرطبة)
(۳) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: أوصانی خلیلی صلی اللہ علیہ وسلم بثلاث: صیام ثلٰثۃ أیام من کل شہر، ورکعتی الضحیٰ، وأن أوتر قبل أن أنام۔
(بخاری شریف، حدیث نمبر: ۱۱۷۸، ج:۲،ص:۵۸،ط:دارطوق النجاۃ)
(کذا فی صحیح مسلم، کتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة أيام من کل شهر،حدیث نمبر: ۱۱۶۲، ص:۴۵۱، ط: بیت الافکارالدولیہ)
(۴) بارہ مہینوں کے فضائل و مسائل، (مؤلف: مفتی محمد فیض احمد اویسی، ص: ۶۵، ط: عطاری پبلشرز، کراچی)
جواہر خمسہ(مؤلف:حضرت شاہ محمد غوث گوالیاری ، ص: ۷۵، ط: دارالاشاعت)
(۵)والحكم في هذين القسمين أن نفس أداء تلك الصلوات المخصوصة بتراكيب مختصة لا يضر ولا يمنع عنه ما لم تشتمل تلك الكيفية على أمر يمنع عنه الشرع ويزجر عنه، فإن وجدت كيفية تخالف الشريعة فلا رخصة في أدائها لأحد من أرباب المشيخة زعما منهم أن هذا ثابت في الطريقة وإن خالف الشريعة لما ذكرنا سابقا أن الطريقة ليست مباينة للشريعة ومن توهم ذلك فهو إما جاهل أو مجنون وإما غافل وإما مفتون لكن يشترط في الأخذ بها لا أن لا يهتم بها أزيد من اهتمام العبادات المروية لا سيما الواجبات والفرائض الشرعية وأن لا يظنها منسوبة إلى صاحب الشريعة ولا يتوهم ثبوت تلك الأحاديث المروية ولا يعتقد نسبتها واستحبابها كاستحباب العبادات الشرعية ولا يلتزمها التزاما زجر عنه الشرع فإن كل مباح أدى إلى التزام ما لم يلزم يكون مكرها في الشرع ولا يعتقد ترتب الثواب المخصوص عليه كترتب الثواب المخصوص على ما نص عليه الرسول ويشترط مع ذلك في كليهما ألا يجر التزامها وأدائها إلى إفساد عقائد الجهلة ولا يقضى إلى المفسدة بأن يظن ما ليس نسبه سنة وما هو سنة بدعة۔۔۔۔۔۔ ولعمري وجود من يشتغل بها مع الشروط التي ذكرناها في زماننا هذا نادر وحكم أدائها بدون هذه الشرائط مما أسلفنا ذكره ظاهر وكعلم من التزم بأنواع العبادات الثابتة بتركها الواردة كفى ذلك له في الدنيا والآخرة من غير حاجة إلى التزام هذه الصلوات المخترعة والعمل بالأحاديث المختلفة فافهم واستقم.
(الآثار المرفوعة فى الأخبار الموضوعة لعبد الحي الكنوي ،ص: ۱۲۲، ط: دارالکتب العلمیۃ)
------------------
آج یعنی مورخہ 5 دسمبر 2021 بروز اتوار کو ماہ ربیع الثانی کی 29 تاریخ ہے۔ ماہ جمادی الاول کا چاند نظر آنے کا امکان ہے۔ مسلمانوں سے اپیل ہے کہ چاند دیکھنے کی کوشش کریں، کسی بھی شہر میں چاند نظر آجائے تو اس کی اطلاع مرکزی رویت ہلال کمیٹی جامع مسجد دہلی کو دیں یا فون نمبر 011-23268344 پر مطلع کریں۔
(مفتی محمد اویس ندوی) مرکزی رویت ہلال کمیٹی. جامع مسجد دہلی. 011-23268344. S_A_Sagar#
--------
https://saagartimes.blogspot.com/2021/12/blog-post_5.html



Friday, 3 December 2021

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دریائے نیل میں راستہ ملا تھا یا بحرقلزم میں؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دریائے نیل میں راستہ ملا تھا یا بحرقلزم میں؟

سوال: وہ کون سا دریا تھا جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ساتھ پار کیا تھا؟ جب آپ علیہ السلام نے بحکم خدا دریا میں اپنا عصا مارا تھا تو دریا معجزاتی طور پر پھٹ گیا تھا اور فرعون اپنے لشکر سمیت اس میں غرق ہوگیا تھا اور بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں مصر کی حدود سے باہر نکل گئے تھے دریائے نیل یا بحراحمر یعنی لال ساگر؟ براہِ کرم مستند ذرائع کتبِ احادیث و تفاسیر سے بتائیں؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کو جس جگہ سمندر میں راستہ بناکر فرعون سے نجات عطا فرمائی تھی وہ  "بحر قلزم"  ہے، جس کا دوسرا نام "بحر احمر"  بھی ہے،  یہ جبلِ طور کے قریب مصر سے مشرقی جانب ہے، اس کا موجودہ نام "خلیج سوئز" ہے۔ روح البيان (3/ 225):

"وَجاوَزْنا بِبَنِي إِسْرائِيلَ الْبَحْرَ فاعل بمعنى فعل يقال جاوز وجاز بمعنى واحد وجاوز الوادي إذا قطعه وجاوز بغيره البحر عبربه فالباء هنا معدية كالهمزة والتشديد فكأنه قال وجزنا ببني إسرائيل البحر اى اجزناهم البحر وجوزناهم بالفارسية [وبگذرانيديم بنى إسرائيل را از دريا بسلامت] والمراد بحر القلزم، و اخطأ من قال: إنه نيل مصر، قال فى القاموس: القلزم كقنفذ بلد بين مصر و مكة قرب جبل الطور و إليه يضاف بحر القلزم؛ لانه على طرفه أو لأنه يبتلع من ركبه لأن القلزمة الابتلاع- روى- أنه عبر بهم موسى عليه السلام يوم عاشوراء فصاموا شكرًا لله تعالى." 

صفوة التفاسير (1/ 434):

"قال تعالى: {وَجَاوَزْنَا ببني إِسْرَآئِيلَ البحر} أي عبرنا ببني إِسرائيل البحر وهو بحر القُلْزم عند خليج السويس الآن."

تفسير القاسمي = محاسن التأويل (5/ 175):

"القول في تأويل قوله تعالى: [سورة الأعراف (7) : آية 138]

{وَجاوَزْنا بِبَنِي إِسْرائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلى قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلى أَصْنامٍ لَهُمْ قالُوا يا مُوسَى اجْعَلْ لَنا إِلهاً كَما لَهُمْ آلِهَةٌ قالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} (138)

وَجاوَزْنا بِبَنِي إِسْرائِيلَ الْبَحْرَ أي الذي أغرق فيه أعداءهم، وهو بحر القلزم ك (قنفذ) ، بلد كان في شرقيّ مصر، قرب جبل الطور، أضيف إليه، لأنه على طرفه، ويعرف البلد الآن ب (السويس) ومن زعم أن البحر هو نيل مصر، فقد أخطأ، كما في (العناية)."

فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر: 144212201184

دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

https://saagartimes.blogspot.com/2021/12/3-225.html



Wednesday, 1 December 2021

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلارہا ﮨﮯ؟

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلارہا ﮨﮯ؟

22 جون سے 22 دسمبر تک روزانہ  80 سیکنڈ کے حساب سے دن چھوٹا ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ دن 10 گھنٹے اور رات 14 گھنٹے کی رہ جاتی ہے۔ اسی طرح 22 دسمبر سے 21 جون تک 45 سیکنڈ کے حساب سے روزانہ دن بڑا اور رات چھوٹی ہوتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ دن 14 گھنٹے اور رات 10 گھنٹے کی ہوجاتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر 23 مارچ اور 23 ستمبر کو دن اور رات بالکل برابر یعنی 12، 12 گھنٹوں کے ہوجاتے ہیں۔ کروڑوں سال سے یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے اور اس میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا۔ ﺳﻮﺭﺝ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺮﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺮ ﭘﭽﮭﻠﮯ 5 ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ 600 ﻣﯿﻞ ﻓﯽ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ، 8 ﺳﯿﺎﺭﮮ، 200 ﭼﺎﻧﺪ ﺍﻭﺭ ﻻﮐﮭﻮﮞ میٹرﺍﺋﭧ ﮐﺎ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺍﺳﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ چل ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ایسا ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭە ﺟﺎﮰ ﯾﺎ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﮨﻮﺟﺎﮰ۔ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍە ﭘﺮ ﺍپنی ﺍپنی ترتیب ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﮈﯾﺰﺍئن ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺫﯾﺰﺍﺋﻨﺮ ﻧﮩﯿﮟ، ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﻧﺎﻓﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻨﭩﺮﻭﻟﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ؟ ﭼﺎﻧﺪ ﺗﯿﻦ ﻻﮐﮫ ﺳﺘﺮ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﮯﺍﺭﺑﻮﮞ کھرﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺪﻭﺟﺰﺭ ﺳﮯ ﮨﻼﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﮯ لئے ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ، ﭘﺎﻧﯽ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻔﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺳﺎﺣﻠﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﻼﻇﺘﯿﮟ ﺑﮩﮧ ﮐﺮ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﯾﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﮨﮯ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺯﯾﺎﺩە ﻧﮧ ﮐﻢ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﺐ ﺁﺑﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺗﯿﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻻﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﺑُﻮ ﻧﮧ ﭘﮭﯿﻠﮯ۔ ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﻄﺢ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮭﺎﺭﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ غیبی ﭘﺮﺩە ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮭﺎﺭﺍ۔ ﺍﺱ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﻋﻘﻞ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ اپنا ﻓﯿﺼﻠﮧ؟ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺐ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ کا ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ صحرﺯﺩە ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ اﺳﮑﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻟﺞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺍُﭨﮫ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ میں ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ: ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ۔ "ﻭﺍﺷﻤﺲ ﻭﺍﻟﻘﻤﺮ ﺑﺤﺴﺒﺎﻥ" (ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ: 5) ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ "ﺑﯿﻨﮭﻤﺎ ﺑﺮﺯﺥ ﻻ ﯾﺒﻐﯿٰﻦ" ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺮﺯﺥ (Barrier) ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ" ۔ (ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ: 20) ﺟﺐ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﭩﮑﮯ ﮨﻮﮰ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ "ﻭﮐﻞ ﻓﯽ ﻓﻠﮏ ﯾﺴﺒﺤﻮﻥ" ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺗﯿﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ. (ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ: 40). ﺟﺐ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﺳﺎﮐﻦ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ: "ﻭﺍﻟﺸﻤﺲ ﺗﺠﺮﯼ ﻟﻤﺴﺘﻘﺮﻟﮭﺎ" ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻘﺮﺭﺷﺪە ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺁﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ (ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ: 38) ﺟﺐ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻣﺪ ﺁﺳﻤﺎﻥ (ﭼﮭﺖ) ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﭘﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ: "ﻭﺍﻧﺎ ﻟﻤﻮﺳﻌﻮﻥ" (ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺬﺭﯾﺎﺕ: 47) ﻭە ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﻮﺍﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﺒﺮﭦ ﺁﺋﻦ ﺳﭩﺎﺋﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ "ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﭨﻞ ﮨﯿﮟ" ﭘﺮ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﺎ ﺑﺎﻧﯽ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ اس  ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ: "ﻣﺎﺗﺮﯼ ﻓﯽ ﺧﻠﻖ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﻣﻦ ﺗﻘٰﻮﺕ" ﺗﻢ ﺭﺣﻤٰﻦ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻭٴﮔﮯ؟ (ﺳﻮﺭە ﺍﻟﻤﻠﮏ: 3) ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﺍﻥ ﻗﺎﺑﻞِ ﻓﺨﺮ ﺩﺭﯾﺎﻓﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺮﺩە ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺲ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ؟ ﮐﺲ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ؟ ﻧﻮﻣﻮﻟﻮﺩ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺒﺬﻭﻝ ﮐﺮوﺍﮰ؟ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺧﻄﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﯿﻨﮧ ﺳﭙﺮ ﮨﻮﮐﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﮰ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﺷﺎہین ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﭘﺮ ﺍﺗﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ؟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺣﯿﻮﺍﻧﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﮑﮭﺎﮰ ﻣﺎﻭٴﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﮯ لئے ﻟﭙﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﻮﻥ ﺳﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ؟ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻮﻧﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻻﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﻧﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﯿﮟ؟ ﯾﮧ ﺁﺩﺍﺏِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ سیکھے؟ ﺷﮩﺪ ﮐﯽ ﻣﮑﮭﯿﺎﮞ ﺩﻭﺭﺩﺭﺍﺯ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﮯ ﺭﺱ ﭼﻮﺱ ﭼﻮﺱ ﮐﺮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﯾﻤﺎﻧﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﻻﮐﺮ ﭼﮭﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮨﺮ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﯽ ہیں ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﭘﮭﻮﻝ ﺯﮨﺮﯾﻠﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎتیں۔ ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺷﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻡ ﮐﻮ ﻋﻠﯿﺤﺪە ﻋﻠﯿﺤﺪە ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﻦ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺘﯽ ہیں۔ ﺟﺐ ﮔﺮﻣﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﮩﺪ ﮐﻮ ﭘﮭﮕﻞ ﮐﺮ ﺑﮩﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ کے لئے ﺍپنے ﭘﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﭘﻨﮑﮭﺎ ﭼﻼﮐﺮ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﯽ ہیں، ﻣﻮﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺗﯽ ہیں ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮍے ﺁﺭﮐﯿﭩﯿﮑﭧ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩە ﮨﯿﮟ۔ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻨﻈﻢ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺜﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺭﺍﮈﺍﺭ ﻧﻈﺎﻡ ﻧﺴﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭە ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ کا ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﺘﯿﮟ۔ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻃﺮﯾﻘﮯ انھیں ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﮰ؟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻋﻘﻞ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ؟ ﻣﮑﮍﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﻟﻌﺎﺏ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺎﻝ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺪﯾﺪ ﭨﯿﮑﺴﭩﺎﺋﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮز ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﻔﯿﺲ ﺩﮬﺎﮔﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﮨﯿﮟ۔ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﭼﯿﻮنٹیاں  (Ant) ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ موسم سرما ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ہیں، ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺗﯽ ہیں، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ تنظیم ﺳﮯ ﺭﮨﺘﯽ ہیں ﺟﮩﺎﮞ مینیجمینٹ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺻﻮﻝ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺣﺪ ﺗﮏ ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎ ﮨﯿﮟ۔ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﭽﮭﻠﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﻭﻃﻦ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﻧﮩﯿﮟ، ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﻘﺎ ﮐﻮ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﯿﮟ؟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮔﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﮰ؟ سوشل مینیجمینٹ  ﮐﮯ ﯾﮧ اصوﻝ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ سکھائے؟ ﮐﯿﺎ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﻟﯿﻞ ﻭ ﻧﮩﺎﺭ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻟﯿﺎ، ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﻮﺭ ﭘﺮ 23.5 ﮈﮔﺮﯼ ﺟﮭﮏ ﮔﺌﯽ ﺗﺎﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ، ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮩﺎﺭ، ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻣﯽ، ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺰﺍﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﮎ ﺳﺒﺰﯾﺎﮞ، ﭘﮭﻞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻣﻠﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ۔ ﺯﻣﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺷﻤﺎﻟًﺎ ﺟﻨﻮﺑًﺎ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺴﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﮨﯽ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻟﯿﺎ؟ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﻠﯿﺎﮞ ﮐﮍﮐﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻮﺍ ﮐﯽﻧﺎﺋﭩﺮﻭﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﺎﺋﭩﺮﺱ ﺁﮐﺴﺎﺋﮉ (Nitrous Oxide) ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﻮﺩﻭﮞ کے لئے  ﻗﺪﺭﺗﯽ ﮐﮭﺎﺩ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮدﯾﮟ، ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯ ﺁﺑﺪﻭﺯ (Submarine) ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺍﻭٴﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻃﯿﺎﺭﮮ ﺍﺱ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺲ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺎﺋﯿﮟ، ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﮩﻠﮏ ﺷﻌﺎﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺴﯿﺖ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﻠﮏ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﮯ. ﺯﻣﯿﻦ، ﺳﻮﺭﺝ، ﮨﻮﺍﻭٴﮞ، پہاﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﺎ ﮐﺮ رکھا ہے تاﮐﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺁﺑﯽ ﺑﺨﺎﺭﺍﺕ ﺍﭨﮭﯿﮟ، ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺵ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﻻﺋﯿﮟ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﯾﮉﯾﺎﺋﯽ ﺫﺭﮮ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﮐﮯ ﻗﻄﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺧﺸﮏ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﮱ ﺑﺮﺳﮯ۔ ﺟﺐ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﻢ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮتی ہے ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﺮﻑ ﮐﮯ ﺫﺧﯿﺮﮮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮجاتا ہے۔ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺯﯾﺎە ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨوتی ہے ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮕﮭﻞ ﮐﺮ ﻧﺪﯼ ﻧﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎﻭٴﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﻭﺍﭘﺲ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ جاتا ہے۔ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻣﺘﻮﺍﺯﻥ ﻧﻈﺎﻡ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ۔ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ؟ ﮨﻤﺎﺭﮮ Pancreas (ﻟﺒﻠﺒﮯ) ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﮔﺮ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ، ﺩﻝ ﮐﺎ ﭘﻤﭗ ﮨﺮ ﻣﻨﭧ ﺳﺘﺮ ﺍﺳﯽ ﺩﻓﻌﮧ منظم باقاعدہ حرکت سے ﺧﻮﻥ ﭘﻤﭗ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ 75ﺳﺎﻟﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻼ ﻣﺮﻣﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒًﺎ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﺏ ﺑﺎﺭ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﺮﺩﮮ (Kidneys) ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻣﺜﻞ ﺍﻭﺭ ﻋﺠﯿﺐ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ہیں ﺟﻮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻢ کے لئے ﺟﻮ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ ﻭە ﺭﮐﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﮯ اور ﻓﻀﻼﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﻌﺪە ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﮐﯿﻤﯿﮑﻞ ﮐﻤﭙﻠﯿﮑﺲ (Chemical Complex) ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺨﺶ ﺍﺟﺰﺍ ﻣﺜﻠًﺎ ﭘﺮﻭﭨﯿﻦ، ﮐﺎﺭﺑﻮﮨﺎﺋﯿﮉﺭیٹس ﻭﻏﯿﺮە ﮐﻮ ﻋﻠﯿﺤﺪە ﮐﺮﮐﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻼﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ، ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺑﮯ ﻣﺜﻞ ﻧﻤﻮﻧﮯ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﺎﮞ، ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﻦ گئے؟ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ؟ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ، ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻋﻘﻞ ﮐﺎ ﺧﺰﺍﻧﮧ، ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﺎ اﺳﭩﻮﺭ، ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ سینٹر، ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ، ﻻﮐﮫ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻦ ﮐﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺮﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ کے ﻋﺸﺮ ﻋﺸﯿﺮ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮭﺮﺑﻮﮞ ﺧﻠﯿﺎﺕ (Cell) ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺗﻨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻠﯿﮧ ﺷﻌﻮﺭ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﻤﻞ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﮯ. ﺍﻥ ﺟﯿﻨﺰ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭘﻮﺭﯼ پروگرامنگ لکھی ہوئی ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ چلتی ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ، ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻘﻞ ﻭ ﺩﺍﻧﺶ، ﻏﺮﺽ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ پروگرامنگ ہے؟ ﺣﯿﻮﻧﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﻘﺸﮧ ﺑﻨﺪ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ ﻧﻘﺸﮧ ﺑﻨﺪﯼ ﮨﮯ؟ ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻦ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﯿﻞ (Cell) ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺗﻮﺍﻧﺎ ﻋﻘﻞ ﻭ ﮨﻮﺵ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﮨﮯ؟ ﮨﻮﻧﭧ، ﺯﺑﺎﻥ، ﺍﻭﺭ ﺗﺎﻟﻮ ﮐﮯ ﺍﺟﺰﺍ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﮐﺖ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ؟ ﺍﻥ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﺳﮯ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﮐﻮﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﻥ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻨﯽ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟ اور تم میری کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟ کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلارہا ﮨﮯ؟ . . . . لا الٰہ الا اللّٰہ . . . . (صححہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/12/blog-post.html