Saturday, 4 November 2017

لبرل ازم کی اقسام

لبرل ازم کی اقسام
پر
مولانا طلحہ سیف صاحب
کی
یہ تحریر نہیں پڑھی سمجھو کچھ نہیں پڑھا؛

دس سال کا عرصہ ہوا ’’معروف کالم نگار‘‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا، جس پر ایک’’معروف کالم نگار‘‘ دوست سخت ناراض ہو گئے تھے۔ اس میں ان لوگوں کی علامات لکھی تھیں جنہیں چند کالم لکھ کر’’معروف کالم نگار‘‘ کہلانے کا شوق بلکہ نشہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کا بخار آنے سے پہلے ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے تھے، البتہ اب چونکہ کالم نگاروں کی وہ عزت باقی نہیں رہی اس لئے یہ جنس کم ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا اب ایک اور قوم لایا ہے جو فی الوقت برساتی مینڈکوں سے بھی زیادہ فراواں ہے اور جس طرح سوشل میڈیا کا بخار ترقی کر رہا ہے اسی قدر ان کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ قوم ہیں ’’معروف دانش ور‘‘ حضرات، پہلے کم ہوتے تھے، اب ہر پتھر کے نیچے سے دو تین نکل آتے ہیں بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو پتھر کے اوپر بھی ایک آدھ چپکا ہوا مل جاتا ہے۔
دانش وروں کی یوں تو اتنی اقسام ہیں جتنی خود دانش کی بھی نہیں، البتہ ان میں تین اقسام ہمارے ہاں سب سے زیادہ مشہور ہیں؛

(۱) لبرل دانش ور

(۲) اسلامی دانش ور

(۳) مکسچر دانش ور

پہلے لبرل دانش ور کی بات کرتے ہیں:

یہ وہ شخص ہے جسے مذہب سے شدید بغض ہو گا بشرطیکہ وہ مذہب اسلام ہو۔ باقی مذاہب کی یا تو تعریف کرتا پایا جائے گا یا کم از کم ان کے بارے میں خاموشی اختیار رکھتا ہو گا، البتہ جہاں اسلام کی بات آئے گی آپ اسے زہر اُگلتا اور اس کے اندر سے گٹر اُبلتا دیکھیں گے۔ اسے مذہبی لوگوں سے شدید الرجی ہو گی بشرطیکہ وہ مذہبی لوگ مسلمان ہوں۔ دنیا کی ہر خرابی اسے مسلمانوں میں نظر آئے گی اور جونہی آپ اس خرابی میں مبتلا کسی کافر کی مثال رکھ دیں، یہ لبرل فوراً ترقی کر کے فاشسٹ بھی بن جائے گا اور گالم گلوچ پر اُتر آئے گا۔ البتہ ایک چیز جو آپ کو ان لبرلز میں مشترک نظر آئے گی وہ یہ ہے کہ یہ سارے کے سارے محرم الحرام کے پہلے عشرے میں مکمل مذہبی بن جاتے ہیں۔ البتہ اس وقت بھی جس مذہب کو اپناتے ہیں وہ اسلام نہیں بلکہ ایک ’’سوکالڈ اسلام‘‘ ہے۔ امید ہے سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ یہ لبرل بے چارے بہت مشکل میں رہتے ہیں۔ ان کے نام مسلمانوں والے ہیں، یہ پیدا بھی مسلمانوں کے گھر میں ہوئے اور بچپن میں ان کی مرضی معلوم کئے بغیر ’’وہ اڑی چڑیا‘‘ والی واردات کے ذریعے مسلمانی کی نشانی بھی پکی ان پر نصب کر دی گئی۔ اب انہیں کفار کو یہ یقین دِلائے رکھنے کے لئے کہ ان کے پیدا ہونے سے لے کر چڑیا اڑی تک یہ سارے کام بالکل ان کی مرضی کے بغیر بلکہ مرضی کے خلاف ہوئے ہیں کافی محنت کرنا پڑتی ہے۔ حتی کہ بعض روسیاہوں کو تو یہاں تک کہہ کر گزرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے اپنی ماں کا جنازہ بھی نہیں پڑھا تھا جنازے کے وقت باہر کرسی بچھا کر بیٹھے رہے تھے ۔ ان دانش وروں کی ہر تحریر کا آغاز کچھ اس قسم کے الفاظ سے ہوتا ہے۔

’’مشہور فرانسیسی فلسفی پاں پوں ٹس نے کہا ہے انسان ہونا بہت آسان کام تھا البتہ اس فکر نے اسے مشکل تر بنا دیا کہ انسان خود کو عمل سے بندر کی اولاد ثابت کرے‘‘…

اس کے بعد کافی دیر تک مشکل اور لایعنی جملوں کی بھرمار ہو گی اور پھر تحریر کا رخ اس طرف پھر جائے گا کہ مولوی ٹانگیں نہ کھینچ رہے ہوتے تو ہر انسان مریخ پر ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن جتنی سوسائٹی کا مالک بن چکا ہوتا۔ مصیبت ساری یہ ہے کہ مولوی نہ کسی راکٹ کو پوری قوت سے اڑنے دیتے ہیں اور نہ انہیں زیادہ بلندی پر جانے دیتے ہیں۔

مولوی نہ ہوتے تو ایاز امیر ہوا میں اُڑ چکا ہوتا۔ وجاہت مسعود چاند پر رنگ گورا کرنے کی کریمیں بیچ رہا ہوتا اور ڈاکٹر پرویز ہود بھائی مریخ پر قائداعظم یونیورسٹی بنا کر وہاں بھی طلبہ و طالبات کو بدکاری کرنے کے نئے سائنٹفک طریقے سکھا رہا ہوتا۔ یہ مولوی ہی ہے جس کی وجہ سے یہ تینوں اور ان کے کئی شاگرد ابھی تک زمین پر خجل خوار ہو رہے ہیں۔ دنیا میں کہیں قتل وغارت کا کوئی واقعہ ہو جائے یہ لبرل آپ کو بجھی ہوئی موم بتی والا منہ بنا کر موم بتیاں جلاتے اور ہر ممکنہ طریقے سے مقتولین کا درد بانٹتے نظر آئیں گے بشرطیکہ مقتولین مسلمان نہ ہوں۔ مسلمان قتل ہو رہے ہوں تو یہ اپنی بلوں میں اس طرح گھس جاتے ہیں کہ لکڑی مار کر بھی آپ انہیں باہر نہیں لا سکتے۔ جبکہ کافر قتل ہو تو اس کی جان نکلنے سے پہلے ہی شام غریباں برپا کر دیں گے۔

اصل میں یہ ’’انسانیت‘‘ کے دشمن اور ’’ہیومنزم‘‘ کے محافظ ہیں۔ الحذر، الحذر! ہیومنزم اور انسانیت کو ایک ہرگز نہ سمجھ لیں۔ ’’ہیومن‘‘ کا ترجمہ انسان اور ہیومنزم کا مطلب انسانیت بتانا ان لبرلز کا ایک ڈھونگ ہے۔ ہیومنزم کی اصطلاح کے خالق خود اعتراف کرتے ہیں کہ اس مخلوق کا سترھویں صدی تک دنیا میں کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اس سے پہلے انسان اور انسانیت کے لیئے وہ الفاظ کہے اور اصطلاحات بولی جاتی تھیں جو انسانیت کی اصل یعنی ’’عبدیت‘‘ کے مفہوم پر مشتمل تھیں۔ ’’ہیومن ‘‘ اٹھارویں صدی کی ایجاد ہے جس کا مفہوم ہے وہ انسان جو خود اپنے لئے الوہی صفات کا حامل ہے۔ ایک آزاد خود مختار اور مرضی کا مالک انسان۔ یعنی حقیقی معنوں میں بندر۔ ہر لبرل ’’ہیومنزم‘‘ کا داعی اور ہمدرد ہے اس لئے انہی لوگوں کے لیئے روتا تڑپتا ہے جو خود کو بندر کی نسل سمجھتے ہیں اور عمل سے ثابت کرتے ہیں اس کا انسانیت سے کوئی لینا دینا نہیں، اس لئے انسانوں کے المیات اس پر کوئی اثر نہیں ڈالتے۔ وہ پوری ڈھٹائی سے یا تو ان المیوں کا منکر ہو جاتا ہے یا ان کے اسباب گھڑ کر خود المیے سے دوچار افراد کو ذمہ دار ٹھہرا کر یکسو ہو جاتا ہے۔ اس کے نزدیک امریکی اور اور شامی، فرانسیسی اور افغانی اور اسرائیل اور فلسطینی انسان یکساں نہیں ہو سکتے۔ وہ ایک ہندو پر ہونے والے ظلم اور ایک برمی مسلمان پر ہونے والے ظلم کو کبھی ایک نظر سے نہیں دیکھ سکتا،

ان لبرل دانش وروں کا ایک مظلوم ترین طبقہ وہ ہے جسے بد قسمتی سے مذہبی بیک گراؤنڈ ملا۔ وہ دیندار گھروں میں پیدا ہو گئے۔ ماں باپ نے دین پڑھا دیا۔ کئی ایک ایسے ہیں جو مولوی بھی بن گئے پھر انہیں مولوی یا دیندار کی اولاد ہونے سے بندر کی اولاد ہونا اچھا لگا۔ وہ انسان بنانے کی کوششوں کا شکار ہوئے لیکن انہیں ہیومن بننا پسند آیا۔ ایسے لوگ بڑی مصیبت میں ہیں۔ انہیں ہر روز اپنے آباء و اجدادکو کو سنا پڑتا ہے۔ ان استادوں کی بدگوئی کرنا پڑتی ہے جنہوں نے انہیں انسان بنانے کی تگ و دو کی۔ اس ماحول کو دن رات برا بھلا کہنا پڑتا ہے جس میں انہیں کچھ عرصہ انسان بن کر رہنا پڑا۔ اس پورے نصاب کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا ان کی روزانہ کی ڈیوٹی ہے جو ان کو انسانیت کی راہ سجھاتا رہا ہے۔ اب جب انہیں ہیومن بن کر بندر زادوں کے بیچ رہنا ہے تو دن رات اس مشقت سے گزرنا ہے۔ لبرل کو حمیت سے شدید چڑ، غیرت سے دِلی نفرت، حیا سے بغض ، عبادت سے تنفر، اور ہر اس چیز سے بُعد ہے جس کا تعلق اسلام سے ہو۔ خاص طور پر ’’ناموس رسالت‘‘ کا لفظ تو ان کے لئے وہ اَلاؤ ہے جو ان کے دل کو جلا کر کوئلہ بنا دیتا ہے۔ اور رہی بات ’’جہاد ‘‘ کی تو شاید اس کے نام سے تو عبد اللہ بن اُبی کو بھی اس قدر تکلیف نہ ہوتی ہو گی جتنی انہیں ہوتی ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ وہ اپنی پوری تکلیف کا اظہار نہ کر سکتا تھا انہیں اظہار کی آزادی حاصل ہے۔ البتہ یہ بھی اس قدر مجبور ضرور ہیں کہ مقاماتِ تکلیف کا کھل کر اظہار نہیں کر سکتے۔ لبرل ازم کی ایک ماسٹر کی ( چابی) ہے، وہ ہے لفظ ’’ بے‘‘ ۔ یہ لفظ آپ کسی بھی اچھے لفظ سے پہلے لگا دیں وہ لبرل کی صفت بن جائے گی۔ مثال کے طور پر حیاء، غیرت، عزت، علم ، صلاح، ایمان، درد اور وفاء وغیرہ۔ بس اتنے کافی ہیں ان کے ساتھ لگا لیجئے پوری فرہنگ آصفیہ تو میں لکھنے سے رہا۔اور ہاں ایک بات تو رہ گئی، لبرل کو ہر مذہب کے تہوار بہت پسند ہیں سوائے اسلامی عیدوں کے۔ ان میں چونکہ ’’عبادت‘‘ کا عنصر پایا جاتا ہے اس لئے لبرل کو ان سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔

مذہبی دانش ور:

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہر تھوڑے عرصے بعد یہ خیال آ جاتا ہے کہ دین کی جو تعبیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے سے اَسلاف امت میں آج تک چلی آئی ہے وہ یا تو درست نہیں یا پھر اس زمانے میں قابل عمل نہیں رہی۔ لہٰذا وہ ایک نئی تعبیر لانے پر اپنی دانش کو آزماتے ہیں۔ ہر زمانے میں کچھ نہ کچھ ایسے دماغی مریض موجود رہے ہیں البتہ ہمارا زمانہ اس اعتبار سے قابل رحم ہے کہ اس میں ان کی تعداد ہمیشہ سے بڑھ گئی ہے۔ گذشتہ ادوار میں بھی ان کی کچھ علامات رہی ہوں گی جن سے یہ پہچانے جاتے ہوں گے، ہمارے زمانے میں ان کی سب سے واضح علامات دو ہیں۔ یہ علامات دراصل دو اصطلاحات ہیں جن کا جتنا بے دریغ استعمال یہ طبقہ کر رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ الفاظ خود بھی شرمندہ ہوں گے۔ (۱) بیانیہ (۲) کلاسیکل

آپ کو جو شخص یہ الفاظ بہت کثرت سے استعمال کرتا نظرا ٓئے سمجھ لیں کہ دانشوری کی اس نوع میں ہونے کا شناختی کارڈ دِکھلا رہا ہے۔ یہ لوگ اسلام کے ہر حکم کی تعبیرِ قدیم کو ’’کلاسیکل‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ کلاسیکی فقہ، کلاسیکی تفسیر، کلاسیکی شرح حدیث، فہم کتاب و سنت کا کلاسیکی منہج، کلاسیکی علم کلام وغیرہ وغیرہ۔ اب عوام بے چاری جو اب تک صرف یہ جانتی تھی کہ رنگین کپڑوں میں ملبوس بد شکل قسم کے خان صاحبان پکا پکا کر جو موسیقی سناتے ہیں اسے کلاسیکل کہا جاتا ہے جبکہ اس کے مقابل جو موسیقی سنتے ہوئے شرم اور دیکھتے ہوئے انتہائی بے شرمی آ رہی ہو اسے ’’پاپ‘‘ یعنی اسم بامسمیٰ گناہ کہا جاتا ہے۔ وہ جب یہ اصطلاحات سنتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ فقہ و کلام جیسی چیزوں میں کلاسیکل کا کیا معنی؟۔ لیکن چونکہ اب یہ اس طبقے کا شناختی کارڈ بن چکا ہے اس لئے انہیں اس کے استعمال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بات کہیں اور نکل گئی۔ اسلام کی ہر قدیم تعبیر کو کلاسیکل کا نام دے کر اس کی تضحیک و تغلیط اور اس کے مقابل اپنی ’’پاپ‘‘ تعبیر کو ’’بیانیہ‘‘ کے عنوان سے پیش کرنا یہ اس دانشوری کا اول و آخر ہے۔ اسلام کی کلاسیکل تعبیر میں جہاد ہے، پردہ ہے، حیاء ہے، غیرت ہے، احکام پر عمل کے باب میں کچھ شدت ہے، عزیمت ہے، مزاحمت ہے، موسیقی اور دیگر ملاہی کی ممانعت ہے، سود کی حرمت ہے، کفر و اسلام کے مابین ’’براء‘‘ کا سخت حکم ہے، دیگر مذاہب کا نسخ ہے جبکہ ’’پاپ‘‘ تعبیر میں نہ جہاد ہے نہ مزاحمت بلکہ استعمار کی غلامی کا ایجنڈا ہے۔ کفر و اسلام میں ’’براء ‘‘ کا معاملہ کیا ہوتا فرق ہی نہیں ہے، دیگر مذاہب کا نسخ تو کجا انہیں سنت کے اصلی ماخذ کا درجہ حاصل ہے۔سود زمانہ قدیم کی بات ہے۔ پر دہ منسوخ ہے بلکہ مصافحے بھی حلال ہیں، موسیقی نہ صرف جائز ہے بلکہ ڈراؤنی روحوں کی غذاء ہے، عزیمت داستان ماضی ہے، سارا دین رُخصت ہی رُخصت ہے۔

ایک بڑی علامت اس دانشوری کی استہزاء اور تمسخر کا انداز ہے جو ہمیشہ مولوی، مدرسہ اور دین کے شعائر کے تیئں نظر آئے گا۔ ہمیشہ اس انداز میں بات کرنے کے بعد یہ لوگ آپ کو یہ کہتے نظر آئیں گے کہ ابھی ہم پر ’’فتویٰ‘‘ لگنے والا ہے۔ یہ فتویٰ لگنے کی بات مظلومیت کے سٹنٹ کے طور پرا ستعمال کی جاتی ہے۔ ان میں بعض تو علمی حیثیت کے حامل لوگ ہیں کچھ معروف اہل علم بھی پورے نہ سہی کافی حد تک اس طبقے کے ہمنوا بن چکے ہیں البتہ اکثریت ان لوگوں کی ہے جن پر فتوی تو کیا، کوئی تنقید کرنا بھی گوارہ نہیں کرتا مگر وہ بھی اپنے آپ کو اس قابل سمجھنے لگتے ہیں کہ ان پر فتوی لگا دیا جائے گا۔ فیس بک پرکافی عرصہ قبل ایسے لوگوں کے لئے ایک جملہ لکھا تھا۔ آج پھر دہرا دیتا ہوں کہ ’’فتنہ ہونا بھی ایک منصب ہے جس پر صرف اہل لوگوں کو ہی فائز کیا جاتا ہے ہر ایرے غیر نتھو خیرے کو یہ مقام نہیں دیا جا سکتا‘‘۔ لیکن برا ہو اس سوشل میڈیا کا۔ ہر سوکھی کھال میں لائیک وکمنٹ کی اتنی ہوا بھر دیتا ہے کہ اہل ہوا کو خود اپنے بارے میں بدگمانی ہونے لگتی ہے کہ شاید ہم کوئی بڑی چیز بن گئے ہیں۔ اس لئے وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ انہیں بھی فتنہ ہونے کی عزت بخش کر ان کے خلاف فتوی جاری کر دیا جائے گا۔ اس غلط فہمی کا سبب کچھ اہل حق کی جلد بازی بھی ہے جو ہر ایک بے اصل بے نسل معترض کا جواب لکھنا اپنے اوپر لازم سمجھ لیتے ہیں۔ ان میں سے جو لوگ اپنے نظریات و خیالات سے واقعی فتنہ بن رہے ہیں ان کا رد تو دلیل کے ساتھ لازمی کرنا چاہیے تاکہ احقاق حق کا فرض اداء ہو لیکن اکثر لوگ اس قابل ہیں کہ انہیں گھاس تو کجا باسی ٹکڑے بھی نہ ڈالے جائیں، تو یہی ان کا بہترین جواب ہے تاکہ بے چارے فتوے کے انتظار میں اسے پکار پکار کر خود ہی مایوس ہو جائیں اور یہ کام چھوڑ کر کوئی اور کام کرنے لگیں۔ آج کل اس قسم کے لوگ دینی مدارس سے بکثرت نکل رہے ہیں، جس کی بناء پر بعض مخلصین کو مدارس کے نظام ونصاب میں خرابیاں نظر آنے لگی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر پراڈکشن یونٹ دو چیزیں نکالتا ہے:

(۱)پراڈکٹ (۲)فُضلہ

دینی مدارس کی پراڈکٹ ان سے نکلنے والے ’’فضلاء‘‘ ہیں جبکہ ’’فُضلہ‘‘ یہی دانش ور ہیں۔ پراڈکشن یونٹ سے فضلہ برآمد ہونا اس کی خرابی نہیں، بلکہ ایک فطری عمل ہے۔

تیسری قسم کے دانش وروں کی شناخت پریڈ کی جگہ نہیں رہی،بس آسان سا کلیہ سمجھ لیں۔40 فیصد عادات و اطوار قسم اول اور ساٹھ فیصد قسم دوم کے ملائیں تو قسم سوم کا دانش ور وجود میں آتا ہے۔ یہ قسم آپ کو ریٹائرڈ بیوروکریٹ ازکار رفتہ فوجی حضرات اور قبر میں پاؤں لٹکائے صحافیوں میں بکثرت مل جائے گی۔

٭…٭…٭
سمیع اللہ حامد کی وال سے

Friday, 3 November 2017

امیر المومنین عمر بن خطاب رضی الله عنه

امیر المومنین عمر بن خطاب رضی الله عنه مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ان کے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا- وہ کہہ رہا تھا:
(( ویل لک یا عمر من النار))
" اے عمر! تمہارے لیے جہنم کا ویل ہے."
امیر المومنین نے حاضرین سے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ-
جب وہ آیا تو آپ نے پوچھا: 
تم نے یہ بات کیوں کہی ہے؟
وہ کہنے لگا: 
آپ رضی الله عنه اپنے حکام کو مقرر کرتے وقت ان سے شرائط قبول تو کرواتے ہیں مگر ان کا محاسبہ نہیں کرتے کہ انھوں نے شرائط پوری کی ہیں یا نہیں؟
امیر المومنین رضی الله عنه نے پوچھا: 
بات کیا ہے؟
وہ کہنے لگا: 
مصر میں آپ کا جو حاکم ہے، اس نے آپ کی شرائط کو فرموش کر کے ان باتوں کا ارتکاب کیا ہے جن سے آپ نے منع فرمایا ہے-
یہ شکایات سننے کے بعد امیر المومنین نے قبیلہ انصار کے دو آدمیوں کو بغرض تفتیش مصر روانہ کیا اور ان سے فرمایا: 
تم دونوں مصر جاؤ اور حاکم کے متعلق وہاں کے لوگوں سے استفسار کرو- اگر اس آدمی نے مجھے غلط رپورٹ دی ہو تو آگاہ کرنا، اور اگر اس کی رپورٹ صحیح ہے اور حاکم واقعی اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کرتا ہے تو وقت ضائع کیے بغیر اسے لے کر میری خدمت میں پہنچو-
دونوں انصاری امیرالمومنین کے حکم کی تعمیل میں مصر روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر لوگوں سے حاکم مصر کے متعلق حقیقت جاننی چاہی- انہیں وہان وہی رپوٹ ملی جیسے مذکورہ شخص نے امیرالمومنین سے شکایت کی تھی- چنانچہ ان دونوں نےحاکم کے گھر پر پہنچ کر دروازے پر دستک دی اور اندر آنے کی اجازت طلب کی- دربان نے جواب دیا:
(( انہ لیس علیہ الیوم اذن))
" آج حاکم سے ملنے کی اجازت نہیں ہے."
دونوں انصاریوں نے کہا:
(( لیخر جنّ الینا او لنحرقنّ بابہ))
" حاکم کو ہمارے سامنے ضرور نکلنا پڑے گا ورنہ ہم ابھی اس کا دروازہ پھونک دیں گے..."
اتنے میں ایک انصاری جلدی سے کہیں سے آگ کا شعلہ بھی لے کر آگیا-
دربان اندر داخل ہوا اور حاکم مصر کو اس کی خبر دی- حاکم گھر سے باہر نکلا تو ان دونوں نے کہا: ہم امیرالمومنین کا پیغام لے کر آئے ہیں، تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہوگا-
حاکم نے کہا: 
میری ایک ضرورت ہے، تھوڑی دیر کے لیے مہلت دو تاکہ تیاری کرلوں-
انھوں نے کہا: 
امیرالمومنین نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تمہیں ایک پل کی بھی مہلت نہ دی جائے-
جب وہ دونوں حاکم مصر کو لےکر مدینہ منورہ عمر
رضی الله عنه کی خدمت میں پہنچے تو اس نے سلام کیا مگر امیرالمومنین نے اسے نہیں پہچانا کیونکہ اس کی ہیت پہلے سے بہت بدل چکی تھی- وہ مصر کا حاکم بن کر جانے سے قبل گندمی رنگ کا انسان تھا مگر جب مصر کی سر سبزی و شادابی اس کو راس آئی تو وہ گورا چٹا اور بھاری بھرکم انسان بن چکا تھا، اس لیے امیر المومنین نے تعجب سے پوچھا:
تم کون ہو؟
اس نے عرض کیا: 
میں فلاں آدمی ہوں جس کو آپ نے مصر کا حاکم مقرر کیا تھا-
امیر المومنین نے فرمایا:
((ویحک! رکبت ما نھیت عنہ وترکت ما امرت بہ، واللہ! لا عاقبنک عقو بۃ ابلغ الیک فیھا))
" تیرا ناس ہو! جس بات سے تجھے منع کیا گیا تھا اس کو تونے گلے لگالیا مگر جس بات کا حکم دیا تھا اس کو فراموش کر بیٹھا- اللہ کے قسم! میں تجھے ضرور عبرتناک سزا دوں گا"-
پھر امیرالمونین نے اون کا ایک پھٹا ہوا لباس، ایک لاٹھی، اور صدقے میں آئی ہوئی 300 بکریاں منگوائيں اور اس (حاکم مصر) سے فرمایا: 
یہ لباس زیب تن کرو، میں نے تمہارے باپ کو اس سے بھی ردی لباس پہنے ہوئے دیکھا- یہ لاٹھی اٹھاؤ جو تمہارے باپ کی لاٹھی سے کہیں بہتر ہے اور فلاں چرا گاہ میں جاکر ان بکریوں کو چراؤ- اس وقت سخت گرمی کا زمانہ تھا-
امیر المومنین 
رضی الله عنه نے مزید فرمایا:
(( ولا تمنع السّابلۃ من البانھا شیئا الا آل عمر، فانی لا اعلم احدا من ال عمر اصاب من البان غنم الصدقۃ ولحو مھا شیئا))
" اور تم راہ گزرنے والوں کو ان بکریوں کا دودھ پینے سے مت روکو، صرف عمر کے گھروالوں کو روکنا، کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ عمر کے گھروالوں نے کبھی صدقے کی بکریوں کے دودھ یا گوشت میں سے کچھ استعمال کیا ہو-"
جب وہ آدمی (حاکم مصر) واپس ہوا تو امیر المومنین 
رضی الله عنه نے اسے بلایا اور پوچھا:
جو کچھ میں نے کہا ہے، سمجھے یا نہیں؟ 
وہ فورا زمین پر گرگیا اور کہنے لگا:
(( یا امیرالمومنین! لا استطیع ھذا فان شئت فاصرب عنقی))
" اے امیرالمومنین! یہ کام مجھ سے نہیں ہوسکتا، چاہے آپ میری گردن اڑادیں-"
امیر المومنین نے فرمایا:
(( فان رددتّک فایّ رجل تکون؟))
" اگر میں نے تمہیں گزشتہ منصب پر بحال کردیا تو پھر تم کس طرح کے آدمی ہوگے؟"
وہ کہنے لگا:
(( واللہ! لا یبلغک بعدھا الا ما تحبّ))
" اللہ کی قسم! اب اس کے بعد آپ کو وہی رپورٹ پہنچے گی جو آپ پسند کریں گے-"
پھر امیرالمومنین نے اسے اس کے سابقہ عہدے پر فائز کردیا؛ چنانچہ اس کے بعد وہ آدمی مصر کا ایک مثالی حاکم ہوگیا اور اپنی ذمہ داریاں خوف و تقوای اور اخلاص وللہیت کے ساتھ انجام دینے لگا-
(قصص العرب: 3/16-17، ابن ابی الحدید

وضو کا مسنون اور مستحب طریقہ

جب وضو کرنے کا ارادہ ہو تو وضو کے لئے مٹی کے کسی پاک صاف برتن میں پاک پانی لے کر پاک و صاف اونچی جگہ پر بیٹھے ( اگر تانبہ پیتل کا برتن ہو تب بھی مضائقہ نہیں مگر تانبہ کا پرتن قلعی دار ہے) قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے تو اچھا ہے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تے کچھ حرج نہیں‘ آستیں کہنیوں سے اوپر تک چڑھا لے اور دل میں یہ نیت کرے کہ میں یہ وضو خالص اللہ تعالی کی رضا اور ثواب اور عبادت کے لئے کرتا ہوں محض بدن کا صاف کرنا اور منہ کا دھونا مقصود نہیں ہے‘ نیت زبان سے بھی کہ لے اور یہی ارادہ و نیت ہر عضے کو دھوتے وقت یا مسح کرتے وقت حاضر رہے۔ وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم ط کہے اور دائیں چلو میں پانی لے کر دونوں ہاتھوں کو کلائی تک مل کر دھوئے اور اس طرح تین بار کرے پھر دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لےکر کلی کرے پھر مسواک کرے‘ مسواک نہ ہو تو انگلی سے دانت مل لے‘ پھر دو کلیاں اور کر لے‘ تاکہ پوری تیں ہو جائیں زیادہ نہ کرے‘ اگر روزہ دار نہ ہو تو اسی پانی سے غرارا بھی کرے یعنی کلی میں مبالغہ کرےلے اور اگر روزہ دار ہو تو مبالغہ نہ کرے‘ پھر دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لے کر ناک میں پانی ڈالے‘ اگر روزہ دار نہ ہو تو اس میں مبالغہ کرے یعنی نتھنوں کی جڑوں تک پانی پہچائے‘ اور اگر روزہدار ہو تونرم گوشت سے اوپر پانی نہ چڑھائے‘ بائیں ہاتھ کی چھنگلیا نتھنوں میں پھیرے اور بائیں ہاتھ سے ہی ناک صاف کرے‘ تین بار ناک میں پانی ڈالے اور ہر بار نیا پانی لے‘ پھر دونوں ہاتھ میں پانی لے کر یا ایک چلو میں پانی لے کر پھر دوسرے کا سہارا لگا لے اور دونوں ہاتھوں سے ماتھے کے اوپر سے نیچے کو پانی ڈالے‘ پانی نرمی سے ڈالے تمانچہ سا نہ مارے اور تمام منہ کو مل کر دھوئے‘ پیشانی یعنی سر کے بالوں کی ابتدائ سے ٹھوری کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک سب جگہ پانی پہچ جائے‘ دونوں ابرووں اور مونچھوں کے نیچے بھی پانی پہچ جائے کوئی جگہ بھی بال برابر بھی خشک نہ رہے‘ اگر احرام باندھے ہوئے نہ ہو تو داڑھی کا خلال کرے پہر دو دفعہ اور پانی لے کر منہ کو اسی طرح دھوئے اور داڑھی کا خلال کرے تاکہ تین بار پورا ہے جائے اور اس سے زیدہ نہ دھوئے‘ پھر گیلے ہاتھوں سے دونوں ہاتھوں کی کہنیوں تک ملے‘خصوصاً سردیوں میں اور پھر دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی ہر ایک ہاتھ پر تیں تیں دفعہ پانی ڈالے یعنی پہلے دائیں ہاتھ پر پھر بائیں ہاتھ پر کہنیوں سمیت پانی ڈالے اور مل کر دھوئے کہ بال برابر بھی کوئی جگہ خشک نہ رہنے پائے‘ انگےٹھی‘ چھلا‘ آرسی‘ کنگن اور چوڑی وغیرہ کو حرکت دے اگرچہ ڈھیلی ہوں۔ منہ دھوتے وقت عورت اپنی نتھ کو بہی حرکت دے‘ پھر انگلیوں کا خلال کری اسطرح کہ ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالے اور پانی ٹپکتا ہوا ہو‘ پھر دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لے کر دونوں ہاتھوں کو تر کرے اور ایک مرتبعہ پورے سر کا مسح کرے پھر کانوں کا مسح کرے ‘ کلمہ کی انگلی سے کان کے اندر کی طرف اور انگوٹھے سے باہر کی طرف اور دونوں چھنگلیا دونوں کانوں کے سوراخ میں ڈالے پھر انگلیوں کی پشت کی طرف سے گردن کا مسح کرے لیکن گردن کا مسح نہ کرے‘ مسح صرف ایک دفعہ کرنا چاہئے۔ پھر دونوں پائوں ٹخنوں سمیت تین دفعہ دھوئے اور ہر بار اس کی انگلیوں کا خلال بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے نیچے سے اوپر کو کرے‘ پائوں کی چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور اس کے انگوٹھے پ ختم کرے پھر اسی طرح دائیں ہاتھ سے پانی ڈال کر بائیں ہاتھ سے بایاں پائون ٹخنوں سمیت تین بار دھوئے اور ہر بار اس کی انگلیوں کو بھی ۔اسی طرح خلال اور اس کے انگوٹھے سے شروع کر کے چہنگلیا پر ختم کرے ہر عضے کو دھوتے یا مسح کرتے وقت بسماللہ اور کلمہ شہادت پڑھ کر یہ دعا پڑھے اللھم اجعلنی من التوابین اور سورk القدر اور درود شریف پڑھے اور اس کے بعد اگر نماز کا مکروہ وقت نہ ہو تو دو رکعت نماز تحت الوضو پڑھے
http://www.majzoob.com/1/13/132/1320060.htm

Wednesday, 1 November 2017

بڑے شہروں میں سفر کی حدود

✮محمد عبد اللہ✮ shaikh:
اس زمانہ میں جبکہ آبادی کی حد بہت بڑھ گئ ھے تو مسافر کے گھر سے نکلنے کے بعد قصر نماز کی ابتداء کرنے کے لئے فنائے شہر سے تجاوز کی شرط لگائی جاتی ھے
تو اب پوچھنا یہ ھے کہ شہروں میں آبادی اور فناء سے تجاوز کرنے کی حد کیا ھوگی جہاں سے مسافر قصر نماز پڑھ سکے؟
مدلل جواب دیکر ممنون و مشکور ھوں.
فتاویٰ بزازیہ میں ہے:
ولا یعتبر مجاوزۃ الفناء الا اذاکان بینہ وبین المصر اقل من غلوۃ ولیس بینہما من مزرعۃٍ اوکانت القریٰ متصلاً بربض المصریعتبرحینئذ مجاوزۃ الفناء (مجاوزۃ) القریۃ (بزاز یۃ مع الہندیۃ، ص:۷۱)
(۳) وظاہر کلام المصنف انہ لایشترط مجاوزۃ القریۃ المتصلۃ بربض المصر وفیہ اختلاف وظاہر المجتبی ترجیح عدم الاشتراط وہو الذی یفید کلام اصحاب المتون(البحرالرائق،ج:۱،ص:۱۲۹)
(۴) ویشترط ان یکون قدجاوز ایضاً۔ ما اتصل بہ ای بمقامہٖ الی قولہ وان انفصل الفنابمزرعۃ اوقضاء قدر غلوۃ لا یشترط مجاوزۃ الفناء(مراقی الفلاح مع الطحطاوی،ص:۲۳۰)
(۵) اورالبحرالرائق میں ہے:ویقال لحرم المسجد ربضاً ایضًا (البحرالرائق، ج:۲، ص:۱۲۹)
ان عبارتوں سے معلوم ہوتاہے کہ جن بڑے شہروں میں میلہا میل تک مسلسل محلے اور آبادیاں پھیلی ہوئی ہوں جیسے بمبئی کلکتہ وغیرہ ان شہروں میں جب کوئی شخص موجود ہ کیلومیٹر کے حساب سے سواستہتر کلومیٹر یااس سے بھی زیادہ مسافت تک جانے کی نیت سے اپنے مقام سے چلے تو اس شہر کے تمام محلوںاور آبادیوں کے باہر جانے کے بعد بھی قصر شروع کرنے کا یہ حکم دینا صحیح نہ ہوگا مزاج شرع وشارح علیہ السلام کے خلاف ہوگا بلکہ ایسے شہروں میں حکم شرع ان عبارات فقہیہ کی روسے یہ ہوگا کہ اگر ایسے محلہ اور آبادی سے متصل اس کا فناء یا ربضہ ہوں تواس فناء یا ربضہ سے باہر نکلنے کے بعد مسافر شمار ہوجائے گا۔ اور اگر اس آبادی سے اس کا فناء یاربضہ متصل نہ ہوتو اس محلہ کی آبادی سے باہر نکلتے ہی مسافر شمار ہوکر اس پر قصر فی الصلوٰۃ کا حکم متوجہ ہوجائے گا-------
از نظام الفتاوی
العبد محمد اسلامپوری
............
سوال: (۱) میں تبلیغی جماعت میں گیا اور بمبئی کھار کے علاقہ میں جماعت نے کام شروع کیا، مسئلہ یہ ہے کہ کسی شہر میں پندرہ روز کی نیت سے ٹھہرے تو مقیم ہوجاتا ہے تو پوری نماز پڑھنا ہوگی اور جماعت کے امیر کا کہنا تھا کہ
قصر کرے گا۔ مرکز سے متعین کردیاگیا کہ جماعت جو گیشوری اور ملاڈ کام کریں گی جو گیشوری اور ملاڈ میں بہت سے محلے ہیں یہ محلے قائم مقام گائوں کے ہیں اس لیے قصر کریں گے۔ امر طلب یہ ہے کہ بمبئی جیسے شہر میں جب کہ ایک چلہ کی نیت سے ٹھہرے تو نماز قصر کرنی ہوگی یا پوری پڑھنی ہوگی جب کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ ٹھہرنا ہے۔
جواب: بڑے شہر وں کے بڑے بڑے حصے اپنی وسعت وفاصلہ کی وجہ سے الگ الگ شہر اور قریہ کے حکم میں ہوتے ہیں اس حکم پر مسائل سفر کا مدار ہوگا لہٰذا اگر شہر کے  ایک ہی محلہ میں پورے پندرہ دن اقامت کی نیت ہے تو وہ مقیم شمار ہوگا اور اپنی نمازیں پوری پڑھے گا اور اگر ایک محلہ میں ٹھہرنے کی نیت نہیں ہے بلکہ مختلف محلوں میں قیام کا ارادہ ہے تو اس صورت میں وہ مسافر ہی رہے گا اور قصر کرے گا۔
لایزال علی حکم السفر حتی ینویَ الاقامۃ فی بلدۃ اوقریۃ خمسۃ عشریوما اواکثر وان نویٰ اقل من ذلک قصر (ہدایہ باب صلوٰۃ المسافر )
نظام الفتاوی
......
✮محمد عبد اللہ✮ shaikh:
وطن اصلی کی تعریف میں کہا جاتا ھے کہ جہاں اس کی پیدایش ھوئی ھو یا اس جگہ اس نے نکاح کیا ھو
تو اب پوچھنا یہ ھے کہ وطن اصلی  بننے کے لئے صرف نکاح ھی کافی ھے یا نکاح کے ساتھ ساتھ اس جگہ بیوی بچوں کا ھونا ضروری ھے ؟
باحوالہ جواب دیں،
وفی فتح القدیر وطن اصلی وھومولدالانسان اوموضع تاھل بہ ومن قصدہ التعیش بہ لاالارتحال

والدین کی جانب سے نکاح میں تاخیر

کبھی آپ نے غور کیا کہ جدید معاشرے میں لڑکے اورلڑکیوں کی شادی میں تاخیر کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان کے پس پشت کونسے عوامل کارفرما ہیں؟ کیا یہ ایک لمحۂ فکریہ نہیں ہے؟ جبکہ آج سے تقریباً پندرہ سال قبل معاشرے کا جو رجحان تھا، اس کے مطابق جس لڑکی کی شادی پچیس سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی، تو ایسی شادی کو بروقت گردانا جاتا۔ پچیس کی عمر کا ہندسہ عبور کرنے کا یہ مطلب لیا جاتا کہ لڑکی کے رشتہ میں دیر ہوگئی ہے..... اس سے پہلے کا معلوم نہیں لیکن ہوسکتا ہے کہ دیری کا یہ پیمانہ تین چار سال پہلے تصور کیا جاتا ہو...
پھر سات آٹھ سال پہلے یہ صورتحال ہوئی کہ تیس سال کی عمر سے پہلے پہلے لڑکی کی شادی بروقت قرار دیے جانے لگی۔ یعنی محض سات آٹھ سال میں پانچ سال کا فرق آگیا۔
اب بھی ایسے معاملات ہیں کہ اکثر گھروں میں لڑکیوں کی عمریں تیس سے چالیس کے درمیان ہوچکی ہیں لیکن رشتہ ندارد۔
یہ رشتہ میں دیری کا رجحان ہمارے معاشرے میں ایسی  خاموش دراڑیں ڈال رہا ہے جو معاشرتی ڈھانچے کے زمین بوس ہونے کا پیش خیمہ ہیں۔
لیکن حیف کہ اس کاعملی ادراک معاشرے کے چند لوگوں کو بھی نہیں۔
آئیں! اس دیری کی وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں،،،،
پہلی وجہ:
لڑکوں کا تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جانا اور لڑکیوں کا اس میدان میں آگے نکل جانا ہے،
پچھلے کئی برسوں کے بورڈ امتحانات کے نتائج اس بات کے شاہد ہیں،
اس کی وجہ سے تعلیم کے لحاظ سے ہم پلہ رشتہ ملنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔
شہروں میں کچھ برسوں سے لڑکیوں میں بڑھتے ہوئے پی ایچ ڈی کے رجحان نے اس کو اور مشکل بنا دیا ہے۔
دوسری وجہ:
*اچھی تعلیم حاصل ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کو روزگار کے مواقع نسبتاً آسانی سے مل جاتے ہیں،
اس کے  دو اثرات سامنے آئے ہیں؛؛
▪ ایک▪:
والدین کا ان لڑکیوں پر مالی انحصار کرنا شروع ہوجانا،،،
▪ دو▪:
نوکریوں کے لحاظ سے ہم پلہ رشتے نہ ملنا
۔
 تیسری وجہ
بعض والدین کا اس معاملہ میں بالکل ہل جل نہ کرنا ہے،
لڑکیوں کی عمریں اٹھائیس اٹھائیس سال ہوجاتی ہیں لیکن انھیں کم عمر ہی تصور کیا جاتا ہے۔
♧♧ ایک زمانہ تھا کہ اٹھارہ بیس کی عمر میں مائیں رشتوں کی تلاش میں سرگرداں ہوجایا کرتی تھیں۔
♦ چوتھی وجہ♦
جس لڑکی کی عمر تیس سال سے اوپر ہوجاتی ہے اس کے لئے عمر کے لحاظ سے رشتے مشکل ہوجاتے ہیں کیونکہ اکثر لڑکے والے کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے ہیں،
 پانچویں وجہ
لڑکے والوں کے از حد نخرے ہیں،
اول تو کوئی لڑکی، لڑکے کی ماں بہن کوبھاتی نہیں،فقط کھانے پینے سے لطف اندوز ہونا ہی شایدمقصد ہوتا ہے۔
اگر کوئی لڑکی پسند آبھی جائے تو پھر  فرمائشوں اور رسوم و رواج کے نام پر لڑکی والوں کا مکمل استحصال کیا جاتا ہے۔
ہمارے ایک ایسے دوست ہیں جن کے گھر والوں نے بیاسی جگہ ان کا رشتہ دیکھا،پھر ایک جگہ ہاں کی،
کچھ عرصہ بعد وہاں سے رشتہ توڑنے لگے تو ان دوست نے انکار کردیا کہ میں مزید تماشا نہیں دیکھ سکتا..
 چھٹی وجہ 
شہروں میں ایک عجیب وجہ سامنے آئی ہے؛
لڑکی کے والدین لڑکے میں وہ تمام کامیابیاں دیکھنا چاہتے ہیں جو پچاس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہیں۔
مکان اپنا ہو، گاڑی پاس ہو، تنخواہ کم از کم اتنی ہو، وغیرہ وغیرہ۔
میں اپنے ایک انجینئر دوست کا رشتہ کروانے کی کوشش میں تھا، لڑکا لائق فائق، خوش شکل، نوکری اچھی،
لڑکی کی ماں کو بہت پسند تھا، لڑکے والے بھی راضی تھے لیکن اچانک لڑکی کے والدین نے انکار کردیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ لڑکے کے پاس اپنامکان نہیں، وہ کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔
اب ایسے رویوں کا کیا کیا جائے؟ کیا یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف نہیں؟
 ساتویں وجہ 
خاندانوں کے اندر ایک عجیب و غریب وجہ دیکھنے میں آرہی ہے۔ ہر ماں اپنی بیٹی کا رشتہ خاندان میں بخوشی کرنے پر راضی ہے لیکن جب اپنے بیٹے کا معاملہ آتا ہے تو خاندان کی سب لڑکیوں پر ناک بھوں چڑھا لیا جاتا ہے اور بڑے طمطراق اور فخر سے خاندان سے باہر کی لڑکی لائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ مزید وجوہات بھی ہونگی۔
وجوہات جو بھی ہوں لیکن یاد رہے کہ اس سے *ہمارا معاشرتی نظام درہم برہم ہورہا ہے اورہماری نوجوان نسل بروقت شادی نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا کی پھیلائی ہوئی بے حیائی کا بآسانی شکار ہورہی ہے۔ اور جو محفوظ ہے وہ اپنے ساتھ ایک خاموش نفسیاتی جنگ کا شکار ہے۔
مغرب تو اس طرز سے اپنے آپ کوبرباد کرچکا اور ان کی آبادی اب ریورس گیئر میں چل رہی ہے لیکن ہم جانتے بوجھتے خود اس گڑھے میں گر رہے ہیں اور وہ بھی ہنستے مسکراتے۔
اور ہم سب اس اجتماعی خرابی اور زوال کے ذمہ دار ہیں.

ہیلووین؛ روشنی سے اندھیرے کی طرف

اکتیس اکتوبر کو مغربی دنیا میں منایا جانے والا تہوار "ہیلووین" Halloween کیا ہے؟ یہ شیطان، چڑیلوں اور کئی خداؤں کی عبادت کرنے والے قدیم مذہب کا ایک تہوار ہے جن کا ماننا تھا کہ ہیلوین کی رات مرے ہوئے لوگ بھوت اور چڑیلیں بن کر ان کے درمیان اترتے ہیں۔ اس لئے وہ خود کو ان سے بچانے کے لئے ان جیسا روپ دھار کر، جانوروں کی کھالیں اور ان کے سر پہن کر آگ کے گرد ناچنے تھے، اس آگ پر  قربانیاں پیش کرتے تھے اور پھر وہی آگ گھروں میں لے جاکر جلاتے تھے، یہ مانتے ہوئے کہ یہ آگ ان کی حفاظت کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ ان مرے ہوئے لوگوں کی بدروحوں کے لئے کھانے کا سامان بھی گھر سے باہر رکھتے تھے تاکہ بدروحیں انھیں تنگ نہ کریں۰ جب عیسائیت آئی اور  ان قبائل تک پھیلی تو عیسائیت نے اپنے مُردوں کو یاد کرنے کے دن کو اس دن کے ساتھ ملا لیا تاکہ ان غیر عیسائی قبیلوں کو اپنے اندر سمونے میں آسانی ہو۰ غریب عیسائی امیروں کے در کھٹکھٹاتے کہ وہ انہیں کچھ کھانے کو دیں گے اور غرباء اس کے بدلے ان کے مُردوں کے لیے دعا کریں گے لیکن تب سے آج تک بنیاد پرست عیسائی اس تہوار کو ناپسند کرتے ہیں اور یہودیوں کے ہاں بھی یہ دن نہیں منایا جاتا البتہ یہودی ساری مغربی دنیا میں اس دن کی مناسبت سے ڈراؤنے لباس فروخت کرکے پیسہ کمانے میں پیچھے نہیں رہتے۰
1966 میں شیطانیت نے خود کو دوبارہ ایک مذہب کے طور پر عوام الناس کے سامنے رکھا اور چرچ آف اسیٹن (شیطان کا گرجا) نام کی تنظیم منظر عام پر آئی۔ مذہب شیطانیت میں تین اہم تہوار ہیں اور دو کم اہم۔ ان تین اہم تہواروں میں پہلا ہر شیطان (اس تنظیم کے رکن) کی سالگرہ ہے جسے یہ اس لئے مناتے ہیں کہ اپنی ذات کو یہ اپنا خدا مانتے ہیں  اور خوشی مناتے ہیں کہ اس دن شیطان ( ان کا اپنا آپ)  دنیا میں آیا۔ دوسرا اہم ترین تہوار ان کے لئے یہی ہیلیوئین ہے۰ ان کا ماننا ہے کہ اس دن  یہ تہوار منانے والا ہر انسان ان شیطانوں جیسا ہو جاتا ہے اور اپنے وجود میں سے ان شیطانی جبلتوں کو کھنگھالتا ہے جسے یہ عام دنوں میں محسوس نہیں کرنا چاہتا۔ مذہب شیطانیت کا کہنا ہے کہ سارا سال جو لوگ ان پر ہنستے ہیں، ہیلووین کے دن شیطان ان پر ہنستے ہیں کہ آج تم بھی ہم جیسے ہو۔ یہ تمام باتیں افسانے نہیں حقائق ہیں۔ مذہب شیطانیت کی آفیشل ویب سائیٹ پر یہ تمام حقائق موجود ہیں۔
ان تمام حقائق کو جاننے کے بعد یہ سوال اہم ہے کہ برصغیر ہند،پاک کے ایسے پرائیوٹ اسکولوں میں جنھیں ابتدائی تعلیم میں اعلی معیار تصور کیا جانے لگا ہے،  بچوں پر ایسے شیطانی تہوار کا اہتمام لازم کیوں کیا جارہا ہے؟ والدین کو کئی روز پہلے ہدایات بھیج دی جاتی ہیں کہ بچوں کو اس تہوار کی مناسبت سے لباس پہناکر بھیجیں. عجیب بات تو یہ ہے کہ والدین پوچھتے تک نہیں کہ آخر ایسی کون سی تربیت یا ایسی کون سی معاشرتی اور سائنسی ترقی ہے جو بچوں کو ہیلووین منوائے بغیر نہیں ہوسکتی؟ اگر یہ ناسمجھی ہے تو کیا ایسے بے عقل لوگ بچوں کی تعلیم کے ٹھیکیدار بن کے بیٹھے رہنے کے قابل ہیں جنھیں خود شعور کی پہلی جماعت میں زیر تعلیم ہونا چاہئے؟ اگر یہ ناسمجھی نہیں تو سوچ سمجھ کر کیا جارہا ہے؟ کیا یہ دجالیت کی ایک سوچی سمجھی تدبیر ہے جس کے تحت شیطانیت کو اس طرح غیر محسوس طریقے سے روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنایا جا رہا ہے کہ برصغیر کے لوگوں کے لئے یہ زندگی کا حصہ بن جائے؟ یہ وہی خطہ ہے جو منقسم ہوا اور جہاں ہر سال مغربی سروے رپورٹس یہ جاننے کی کوشش کرتی ہیں کہ کتنے فیصد لوگ اسلامی نظام زندگی چاہتے ہیں۰
حیرت  ہے کہ اندھی تقلید کرنے والے لوگ مغرب کی محبت میں اس قدر بے شعور اور  کھوکھلے ہوچکے ہیں کہ یہ اپنی اولادوں کو کالے انگریز بنانے کے لئے کوئی بھی قیمت دینے کو تیار ہیں۰ اپنا مذہب، اپنی تہذیبی شناخت سے لے کر بھاری مالی معاوضوں تک، کوئی بھی قیمت۰ ان کے خالی پن میں صرف زمینی آقاؤں کی آواز گونجتی ہے، ایسے آقا جن کے لئے ان کی اہمیت بے، روح غلاموں سے زیادہ کچھ نہیں۰ شاید فکری غلامی، اندھی تقلید اور احساس کمتری کی اس سے بدتر مثال کہیں آس پاس نہ ملتی ہو لیکن پھر بھی یہ بے نظریہ طبقہ بضد ہے کہ تہذیب کا معیار یہی ہیں۰
یہ یاد رہے کہ اسلام اور شیطانیت ایک دل میں اکٹھے نہیں رہ سکتے کہ یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۰ جہاں اللہ کی روشنی نہ رہے، اس دل کا نصیب لا متناہی اندھیرا ہے۔ ہم کیسے اپنی اور اپنے بچوں کی روشنی کی حفاظت نہ کریں کہ ہم اپنی قبروں کے منور ہونے کی دعا کرتے ہیں اور ہم وہ لوگ نہیں جن کے مردے بدروح کی شکل میں خوف پھیلانے اترتے ہیں۰ ہمارے لئے سال میں خوف اور بدروحوں کی رات نہیں ہوا کرتی بلکہ ایسی رات اترتی ہے جو طلوع صبح تک سلامتی ہے۰
تحریر: عائشہ غازی

What is Halloween?
Well, Halloween or Hallowe'en (a contraction of All Hallows' Evening), or Allhalloween, All Hallows' Eve, or All Saints' Eve, also known as Allhalloween, All Hallows' Eve, or All Saints' Eve, is a spooky celebration observed every year in a number of countries on October 31 - the eve of the Western Christian feast of All Hallows' Day, also known as All Saints' Day. In 2017, Halloween falls on a Tuesday.
According to reports, the Americanised (Americanized?) Halloween that we experience today actually originated in the Celtic fringes of Britain, and was adapted over the decades by Christian traditions, immigrants' conventions and an insatiable desire for sweets.
What is the history behind Halloween?
The origin of the festival is disputed, and there are both pagan and Christian practices that have evolved into what Halloween is like today.
Some believe it originates from the Celtic pagan festival of Samhain, meaning 'Summer's End' which celebrated the end of harvest season.
Gaels believed that it was a time when the walls between our world and the next became thin and porous, allowing spirits to pass through, come back to life on the day and damage their crops. Places were set at the dinner table to appease and welcome the spirits. Gaels would also offer food and drink, and light bonfires to ward off the evil spirits.
The origins of trick or treating and dressing up were in the 16th century in Ireland, Scotland and Wales where people went door-to-door in costume asking for food in exchange for a poem or song. Many dressed up as souls of the dead and were understood to be protecting themselves from the spirits by impersonating them. More about that below.
The Christian origin of the holiday is that it falls on the days before the feast of All Hallows, which was set in the eighth century to attempt to stamp out pagan celebrations. Christians would honour saints and pray for souls who have not yet reached heaven.
What has Halloween got to do with dressing up?
Celts dressed up in white with blackened faces during the festival of Samhain to trick the evil spirits that they believed would be roaming the earth before All Saints' Day on November 1st.
By the 11th century, this had been adapted by the Church into a tradition called 'souling', which is seen as being the origin of trick-or-treating. Children go door-to-door, asking for soul cakes in exchange for praying for the souls of friends and relatives. They went dressed up as angels, demons or saints. The soul cakes were sweet, with a cross marked on top and when eaten they represented a soul being freed from purgatory.
Nicholas Rogers, a historian at York University says that when people prayed for the dead at Hallow Mass, they dressed up. When praying for fertile marriages, "the boy choristers in the churches dressed up as virgins. So there was a certain degree of cross dressing in the actual ceremony of All Hallow’s Eve.”
In the 19th century, souling gave way to guising or mumming, when children would offer songs, poetry and jokes - instead of prayer - in exchange for fruit or money.
Halloween trick-or-treating
The phrase trick-or-treat was first used in America in 1927, with the traditions brought over to America by immigrants. Guising gave way to threatening pranks in exchange for sweets.
After a brief lull during the sugar rations in World War Two, Halloween became a widespread holiday that revolved around children, with newly built suburbs providing a safe place for children to roam free.
Costumes became more adventurous - in Victorian ages, they were influenced by gothic themes in literature, and dressed as bats and ghosts or what seemed exotic, such as an Egyptian pharoah. Later, costumes became influenced by pop culture, and became more sexualised in the 1970s.
Many of us have fallen victim to a scary Halloween prank, or even played the nasty trickster ourselves. From jumping out of bushes dressed as zombies or spooking people in their sleep as ghosts - the terrifying list of possibilities is endless.
Why do we carve pumpkins?
The carving of pumpkins originates from the Samhain festival, when Gaels would carve turnips to ward off spirits and stop fairies from settling in houses.
A theory that explains the Americanised name Jack O'Lantern came from the folkloric story of Stingy Jack, who fooled the devil into buying him a drink. He was not let into heaven or hell - and when he died, the devil threw him a burning ember which he kept in a turnip.
The influx of Irish immigrants in the 1840s to North America could not find any turnips to carve, as was tradition, so they used the more readily available pumpkin into which they carved scary faces.
By the 1920s pumpkin carving was widespread across America, and Halloween was a big holiday with dressing up and trick-or-treating.
Six peculiar Halloween traditions
In Czech culture, chairs for deceased family members are placed by the fire on Halloween night alongside chairs for each living one.
In Austria some people leave bread, water and a lighted lamp on the table before going to bed. It is believed that this will welcome dead souls back to Earth.
Meanwhile in Germany, people hide their knives to make sure none of the returning spirits are harmed – or seek to harm them!
Barnbrack, a fruitcake, is used as part of a fortune telling game in Ireland. Muslin-wrapped treats are baked inside. If a ring is found, it means that the person will soon be wed; a piece of straw means a prosperous year is on its way; a pea means the person will not marry that year; a stick means an unhappy marriage or dispute; a coin represents good fortune.
The city of Kawasaki in Japan holds an annual Halloween costume parade. More than 100,000 watch it and 2,500 people take part.
In Manila, capital of the Philippines, pets get in on the action too. An annual costume contest aims to raise funds for animal welfare groups.
How is Google celebrating it?
Google is celebrating Halloween with a video of Jinx, the lonely ghost, who embarks on a mission to find the perfect costume - and a place to belong.
"Last year, Momo successfully defended Magic Cat Academy from the clutches of a mischievous ghost invasion," Google said. "This year, Jinx desperately wants to join Momo and the other trick-or-treaters outside. Not wanting to scare anyone, the lonely ghost agonizes over a costume to blend in with the trick-or-treaters, wreaking havoc in the process. In the end, Jinx finds wearing a disguise is no match for being yourself."
With courtesy:
https://www.google.co.in/amp/www.telegraph.co.uk/news/0/halloween-2017-reasons-celebrate-today-children-trick-or-treat/amp/

اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ (اے اللہ مجھے جہنم سے بچالے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
جب تم صبح کی نماز سے فارغ ہوجاؤ تو سات بار یہ دعا پڑھو؛
اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ
اگر تم نے  یہ دعا پڑھ لی اور اس دن تمھاری وفات ہوگئی تو تمھارے لئے جہنّم کی آگ سے آزادی لکھ دی جائےگی،
اور جب تم  مغرب کی نماز سے فارغ ہوجاؤ تب بھی سات بار یہ  ہی دعا پڑھ لیا کرو 
اگر تم نے  یہ دعا پڑھ لی اور اس رات تمھاری وفات ہوگئی تو تمھارے لئے جہنّم کی آگ سے آزادی لکھ دی جائےگی.
حافظ ابن حجر في  نتائج الأفكار ١/١٦٢ - حسن
المعجم الكبير للطبراني١٦٤٢٥ حسن
.........
5079- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْفِلَسْطِينِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهِ فَقَالَ: <إِذَا انْصَرَفْتَ مِنْ صَلاةِ الْمَغْرِبِ فَقُلِ: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ، سَبْعَ مَرَّاتٍ؛ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ ثُمَّ مِتَّ فِي لَيْلَتِكَ كُتِبَ لَكَ جِوَارٌ مِنْهَا، وَإِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَقُلْ كَذَلِكَ، فَإِنَّكَ إِنْ مِتَّ فِي يَوْمِكَ كُتِبَ لَكَ جِوَارٌ مِنْهَا> أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ عَنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ قَالَ: أَسَرَّهَا إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَنَحْنُ نَخُصُّ بِهَا إِخْوَانَنَا۔
تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۸۱) (ضعیف)
(الحارث بن مسلم (صحابی کے لڑکے) مجہول ہیں)
۵۰۷۹- مسلم بن حارث تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے چپکے سے ان سے کہا:
جب تم مغرب سے فارغ ہوجاؤ تو سات مرتبہ کہو؛
''اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ''
(اے اللہ مجھے جہنم سے بچالے) اگر تم نے یہ دعا پڑھ لی اور اسی رات میں تمھارا انتقال ہوگیا، تو تمھارے لئے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی، اور جب تم فجر پڑھ کر فارغ ہو اور ایسے ہی (یعنی سات مر تبہ ''اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ'') کہو اور پھر اسی دن میں تمھارا انتقال ہوجائے تو تمھارے لئے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی۔
محمد بن شعیب کہتے ہیں کہ مجھے ابو سعید نے بتا یا وہ حارث سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے یہ بات مجھے چپکے سے بتلائی ہے، اس لئے ہم اسے اپنے خاص بھائیوں ہی سے بیان کرتے ہیں (ہر شخص سے نہیں کہتے، یا ہم اس دعا کو اپنے خاندان والوں کے لئے خاص سمجھتے ہیں)۔

Bismillahirrahmanirrahim
✦ Jahannam ki aag se aazadi dilane wali dua
------------------
✦ Harith bin Muslim Al - Tamimi Radi Allahu Anhu apne walid se se rivayat karte haiin ki
Rasool-Allah Sal-Allahu Alaihi Wasallam ne farmaya Jab tum subah ki namaz se farig ho jao to *7 baar* ye dua padho
اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ
*Allahumma Ajirni Minan Naar*
Eh  Allah mujhe Jahanam ki aag se bacha
Agar tumne  ye dua padh li aur us din tumhari wafat ho gayee to tumhare liye Jahannam ki aag se aazadi likh di jayegi  aur jab *magrib* ki namaz se farig ho jao tab bhi *7 baar* ye hi dua padh liya karo , agar tumne  ye dua padh li aur raat mein tumhari wafat ho gayee to tumhare liye
jahannam ki aag se aazadi likh di jayegi
Al-Mu'jam Al-Kabeer, Tabrani, 16425, Hasan
Nata'ij Al-Afkar ,1/162, Hafiz Ibn hajar -Hasan
------------
✦ रसूल-अल्लाह सल-अल्लाहू अलैही वसल्लम  ने फरमाया जब तुम सुबह की नमाज़ से फारिग हो जाओ तो 7 बार ये दुआ पढ़ो
اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ
अल्लहुम्मा अजिरनी  मिनन नार
एह  अल्लाह मुझे जहन्नम की आग से बचा
अगर तुमने  ये दुआ पढ़ ली और उस दिन तुम्हारी वफात हो गयी तो तुम्हारे लिए जहन्नम की आग से आज़ादी लिख दी जाएगी
और जब मगरिब की नमाज़ से फारिग हो जाओ तब भी 7 बार ये ही दुआ पढ़ लिया करो , अगर तुमने  ये दुआ पढ़ ली और रात में तुम्हारी वफात हो गयी तो तुम्हारे लिए जहन्नम की आग से आज़ादी लिख दी जाएगी
अल-मुअजम अल-कबीर, तब्रानी, 16425, हसन
नताइज अल-अफक़ार  ,1/162, हाफ़िज़ इब्न हज़र -हसन
S. A. Sagar