Sunday, 8 October 2017

نکاح میں مہر دین طے کرنا بھول جائے؟

اگر مجلس نکاح میں مہر دین طے کرنا بھول جائے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح پڑھانے میں دین مہر بتانا بھول گئے مولانا صاحب
کیا نکاح دوبارہ پڑھا نا پڑیگا یا کیا صورت ہوگی۔۔۔
ایس اے ساگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
1۔۔۔۔اگر نکاح کے وقت مہر کا تعین کسی وجہ سے نہ ہوا ہو ۔
2۔۔۔یا شوہر کی طرف سے مہر دین ادا نہ کرنے کی شرط پہ نکاح ہوا ہو۔
3۔۔۔۔یا غیر متقوم چیز مثلا شراب وخنزیر کو  مہر میں متعین کیا گیا ہو۔
4۔۔۔۔یا کسی ایسی چیز کو مہر بنایا گیا ہو جس کی جنس مجہول ہو مثلا کپڑا دوں گا۔یا جانور دوں گا۔ لیکن یہ نہ بتایا ہو کہ کونسا کپڑا یا کونسا جانور ؟
تو ان تمام صورتوں میں نکاح  صحیح ہے اور عورت کے لئے مہر مثل واجب ہوتا ہے۔
یعنی لڑکی کے باپ کے طرف کی رشتہ دار خواتین جیسے لڑکی کی بہنیں،  پھوپھی، چچازاد اور پھوپھی زاد بہنوں وغیرہ کا جتنا مہر دین مقرر ہوا اتنا ہی مہر دین اس عورت کے لئے واجب ہوگا بشرطیکہ؛
مال، جمال، دین، عمر، عقل، زمانہ، شہر بکارت، ثیبوبت میں دونوں برابر ہوں۔
پھر جب شوہر بیوی سے ہمبستر ہوجائے
یا دونوں ایسی جگہ اکٹھا ہوجائیں جہاں وطی سے کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے۔
یا میاں بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہوجائے،
تو ان تینوں صورتوں میں سے کوئی بھی ایک صورت پیش آنے سے واجب ہونے والے مہر مثل  کی ادائی لازم ہوجاتی ہے۔
فی الدر المختار (۱۰۸/۳): (وكذا يجب) مهر المثل (فيما إذا لم يسم) مهرا۔
وفی الرد تحتہ: قوله ( فيما إذا لم يسم مهرا ) أي لم يسمه تسمية صحيحة أو سكت عنه نهر ۔
وفی الدرالمختار (۱۳۷/۳): (و) الحرة (مهر مثلها) الشرعي (مهر مثلها) اللغوي أي مهر امرأة تماثلها (من قوم أبيها) لا أمها إن لم تكن من قومه كبنت عمه وفي الخلاصة ويعتبر بأخواتها وعماتها فإن لم يكن فبنت الشقيقة وبنت العم انتهى ۔۔۔وتعتبر المماثلة في الأوصاف (وقت العقد سنّاوجمالا ومالا وبلدا وعصرا وعقلا ودينا وبكارة وثيوبة وعفة وعلما وأدبا وكمال خلق) وعدم ولد ۔
وفی بدائع الصنائع (۴۸۴/۳): ويجوز النكاح بدون المهر حتى أن من تزوج امرأة ولم يسم لها مهرا بأن سكت عن ذكر المهر أو تزوجها على أن لا مهر لها ورضيت المرأة بذلك يجب مهر المثل بنفس العقد عندنا حتى يثبت لها ولاية المطالبة بالتسليم ولو ماتت المرأة قبل الدخول يؤخذ مهر المثل من الزوج ولو مات الزوج قبل الدخول تستحق مهر المثل من تركته۔
وفیہ أیضاً(۵۲۰/۳): فصل وأما بيان ما يتأكد به المهر فالمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط شيء منه بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق۔

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

خواب میں زیارت نبوی کا ایک مجرب عمل

فائدة عظيمة يقال ان من اتى بها ليلة الجمعة فقد ادى الله عنه حقوق والديه✨✨✨
✨يامليك ياقدير يامن لا شريك له ولا وزير صل على محمد النبي واغفر لي ولوالدي ولجميع المسلمين . قال تعالى: (فلله الحمد رب السموات ورب الأرض رب العالمين وله الكبرياء في السموات والأرض وهو العزيز الحكيم) ليلة الجمعة وتهدي ثوابها لوالديك.
✨من قال: اللهم صل على سيدنا محمد الفاتح لما اغلق والخاتم لما سبق ناصر الحق بالحق والهادي الى صراطك المستقيم و على آله وصحبه حق قدره ومقداره العظيم مئه مره ليله الجمعه رآه في المنام.  ومن صلى على النبي صل الله عليه وسلم ليله الجمعه ألف مره بهذه الصيغه وهي: الصلاه والسلام عليك يا سيدي يا رسول الله خذ بيدي قلت حيلتي ادركني.  ويداوم عليها كل ليله الى الجمعه الاخرى نال مطلوبه وادرك مراده بواسطه النبي صل الله عليه وسلم فهو سر من الاسرار العجيبه لقضاء الحوائج ويرى النبي في منامه لكن مع صدق النيه والاعتقاد. 
كتاب الفوائد الالهيه✨
✨من قرا سورة الدخان في ليلة الجمعة بات وتستغفر له سبعين الف ملك  فلا تحرمو انفسكم واكثرو من الصلاة على الحبيب محمدصل الله عليه وسلم✨
✨فائده
قال:سيدنا اﻻمام علي بن حسن العطاس نفع الله به مما فتح الله به علينا هدا الدعاء وهو من اعظم واكرم وانفع ما يدعى به وارجوا انه  مما ينفع المسلمين،لأنه من الدعاء المستجاب وهو ان تقول كل ليلة جمعة ويومها (الف مره) 《اللهم صل على سيدنا محمد اللهم صل عليه وسلم واذهب حزني قلبي في الدنيا واﻵخره》✨
✨  وكان الحبيب عبدالله عطاس الحبشي  يقرأ ليلة الجمعة اللهم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد كما تحب ويحب واجعلنا في الدارين في عافيه مع من نحب في خواص من تحب ويحب.
10 مرات
مما علمه اياه والده الحبيب عطاس الحبشي
رحمهم  الله رحمة الابرار ووالدينا وجميع موتى المسلمين
مروی ہے کہ جو ذیل کی دعا شب جمعہ میں پڑھ کےوالدین کو ایصال ثواب کردے تو اس کے ذمہ سے والدین کے حقوق ادا ہوجائیں گے۔
يامليك ياقدير يامن لا شريك له ولا وزير صل على محمد النبي واغفر لي ولوالدي ولجميع المسلمين . قال تعالى (اے قدرت والے اور اے وہ ذات جس کا کوئی شریک ہے نہ وزیر۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود وسلام نازل فرما۔ اور مجھے ، میرے والدین اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما ) ، : (فلله الحمد رب السموات ورب الأرض رب العالمين وله الكبرياء في السموات والأرض وهو العزيز الحكيم:  
سو تمام تعریفیں اللہ ہی کو سزاوار ہیں جو آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا رب ہے (اور) تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی بڑائی ہے اور وہ غالب (اور) دانا ہے)
جو شخص ذیل میں مذکور درود شریف شب جمعہ سو مرتبہ پڑھے گا اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں  زیارت نصیب ہوگی۔
✨ اللهم صل على سيدنا محمد الفاتح لما اغلق والخاتم لما سبق ناصر الحق بالحق والهادي الى صراطك المستقيم و على آله وصحبه حق قدره ومقداره العظيم ۔: اے اللہ درود وسلام نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ جنہوں نے دین حق کی پیغام حق کے ذریعہ مدد فرمائی۔ جنہوں نے آپ کی سیدھی راہ کی طرف انسانیت کی رہنمائی کی۔ آپ کی اولاد اور آپ کے اصحاب پر بھی ۔اس مقدار میں جس کے یہ مستحق ہیں۔ )
جو شخص ایک ہزار مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہ ذیل کے الفاظ میں درود پڑھے شب جمعہ کو  پہر اگلے جمعہ تک ہر رات میں پابندی کے ساتھ اسے پڑھتا رہے تو حضور کے توسط سے وہ اپنی مراد پالیگا کیونکہ یہ درود ضروریات کی تکمیل کے لئے  اللہ کا عجیب وغریب راز ہے ۔لیکن شرط یہ ہے کہ پڑھتے ہوئے نیت صادق ہو اور اللہ سے ہی ہونے کا یقین کامل ہو۔
"الصلاة والسلام عليك يا سيدي يا رسول الله خذ بيدي قلت حيلتي ادركني." 
: آپ پر درود وسلام نازل ہو اے میرے سردار اے اللہ کے رسول ! میری دستگیری فرما میرے اسباب وذرائع کم ہوگئے مجھے سہارا عطا فرما )

كتاب الفوائد الالهيه✨

شب جمعہ سورہ دخان پڑھ کے سونے والے شخص کے لئے ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں ۔لہذا اتنے بڑے خیر سے خود کو محروم نہ کرو۔اورزیادہ سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود بھیجو ۔
✨فائده
امام علی بن حسن العطاس کا کہنا ہے کہ اللہ نے انہیں یہ جامع مستجاب اور نافع ترین دعا القاء فرمایا ہے۔ اس کا پڑھنا مسلمانوں کو نفع پہنچائے گا:
شب جمعہ اور دن میں  ایک ہزار مرتبہ پڑھی جائے۔
اللهم صل على سيدنا محمد اللهم صل عليه وسلم واذهب حزن قلبي في الدنيا واﻵخره》✨
حبیب عبد اللہ عطاس حبشی ہر شب جمعہ دس مرتبہ یہ درود پڑھتے تھے۔یہ دعا ان کے والد حبیب عطاس حبشی نے انہیں سکھائی تھی :
✨  اللهم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد كما تحب ويحب واجعلنا في الدارين في عافيه مع من نحب في خواص من تحب ويحب.
اے اللہ میرے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد واصحاب پہ آپ کی اور ان کی مرضی کے مطابق درود وسلام نازل فرما۔اور دنیا وآخرت میں میرے اور آپ اپنے محبوب وخواص کے زمرے میں عافیت کے ساتھ رہنے والا ہمیں بنا۔
آمین۔
یہ کسی کا ذاتی عمل ہوسکتا ہے،
تجربات کی روشنی میں اس کے فوائد و نتائج اگر محسوس کئے گئے ہوں تو اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن ان الفاظ میں یہ عمل کسی بھی قسم کی حدیث سے ثابت نہیں ۔۔۔۔۔ اکابر کا معمول سمجھ کے کوئی پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب 
شکیل منصور القاسمی

Friday, 6 October 2017

"سبوح قدّوس...." کی تحقیق

حدیث میں ’’سبوح قدّوس ربّ الملائکۃ والرّوح‘‘ کی فضیلت ہے اس کی تحقیق

سوال: اس حدیث کی کیا حیثیت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان مرد یا عورت وتر کے بعد دو سجدے اس طرح کرے کہ ہر سجدہ میں پانچ مرتبہ
’’سبوح قدّوس ربّ الملائکۃ والرّوح‘‘
پڑھے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر ایک مرتبہ آیۃ الکرسی پڑھے تو قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم) کی جان ہے، اللہ تعالیٰ اُس شخص کے وہاں سے اٹھنے سے پہلے مغفرت فرمادیں گے اور ایک سو حج اور ایک سو عمروں کا ثواب دیں گے اور اس کی طرف سے اللہ تعالیٰ ایک ہزار فرشتے بھیجیں گے جو اس کے لئے نیکیاں لکھنی شروع کردیں اور اسکو سو غلام آزاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا، اور اس کی دعاء اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گے اور قیامت کے دن ساٹھ اہلِ جہنم کے حق میں اس کی شفاعت قبول ہوگی اور جب مرے گا تو شہادت کی موت مرے گا۔
اس میں فتاوی خانیہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ کیا یہ حدیث ثابت ہے؟

جواب: یہ حدیث فتاوی خانیہ میں نہیں ہے، بلکہ فتاوہ تاتارخانیہ میں بحوالہ’’المضمرات‘‘ ۱/۶۷۸ پر ہے۔ شیخ ابراہیم حلبی حنفی رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:
وأما ماذکرہ فی التاتارخانیۃ عن المضمرات ان النبیاقال لفاطمۃؓ ما من مؤمن ولا مؤمنۃ…الخ۔فحدیث موضوع باطل لا أصل لہ ولا یجوزالعمل بہ ولا نقلہ الا لبیان بطلانہ کما ھوشأن الأحادیث الموضوعۃ، ویدلک علٰی وضعہ رکاکتہ والمبالغۃ الغیرالموافقۃ للشرع والعقل، فان الأجرعلی قدرالمشقۃ شرعًا وعقلاً، وأفضل الأعمال أحمزھا، وانما قصد بعض الملحدین بمثل ھذا الحدیث افساد الدین اضلال الحق واِغرائھم بالفسق و تثبیطھم عن الجد فی العبادۃ فیغتربہ بعض من لیس لہ خبرۃ بعلوم الحدیث وطرقہ ولا ملکۃ یمیز بین صحیحہ وسقیمہ۔
(غنیۃ المتملی في شرح منیۃ المصلی۶۱۷)
خلاصہ: یہ روایت موضوع ہے، ان کلمات کے پڑھنے سے اتنے فضائل کسی حدیث سے ثابت نہیں۔ البتہ ’’سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح‘‘ کا پڑھنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے۔
واللہ اعلم
(فتاوی دارالعلوم زکریا جلد 1)
العبد محمد اسلامپوری

Thursday, 5 October 2017

نماز میں کن اعضاء کا چھپانا فرض ہے؟

نماز میں کن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز میں آزاد عورت کے لئے درج ذیل چوبیس اعضاء بدن کا چھپانا فرض ہے :
(۱) پیشاب کا مقام۔
(۲) پاخانہ کا مقام۔
(۳-۴) دونوں کولہے۔
(۵-۶) دونوں رانیں گھٹنوں سمیت۔
(۷) پیٹ۔
(۸) پیٹھ (دونوں پہلوؤں سمیت)
(۹-۱۰) دونوں پنڈلیاں (ٹخنوں سمیت)
(۱۱-۱۲) دونوں اُبھرے ہوئے پستان۔
(۱۳-۱۴) دونوں کان۔
(۱۵-۱۶) دونوں بازو (کہنیوں سمیت)
(۱۷-۱۸) دونوں کلائیاں (گٹوں سمیت)
(۱۹) سینہ۔
(۲۰) سر۔
(۲۱) سر کے بال۔
(۲۲) گردن۔
(۲۳-۲۴) دونوں مونڈھے۔
عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا أن أسماء بنت أبي بکر دخلت علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وعلیہا ثیاب رقاق، فأعرض عنہا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وقال: یا أسماء إن المرأۃ إذا بلغت المحیض لم یصلح لہا أن یری منہا إلا ہٰذا وہٰذا، وأشار إلی وجہہ وکفیہ۔ (سنن أبي داؤد، کتاب اللباس / باب فیما تبدي المرأۃ من زینتہا ۲؍۵۶۷ رقم: ۴۱۰۴ دار الفکر بیروت)
وفي الأمۃ ثمانیۃ أیضا: الفخذان مع الرکبتین والإلیتان والقبل مع ماحولہ والدبر کذٰلک والبطن والظہر مع ما یلیہما من الجنبین، وفي الحرۃ ہذہ الثمانیۃ ویزاد فیہا ستۃ عشر: الساقان مع الکعبین والثدیان المنکسران والأذنان والعضدان مع المرفقین والذراعان مع الرسغین والصدر والرأس والشعر والعنق وظہر الکفین وینبغي أن یزاد فیہ الکتفان۔ (شامي ۲؍۷۵ بیروت، شامي ۲؍۸۳ زکریا)
وفي التنویر: وللحرۃ جمیع بدنہا خلا الوجہ والکفین والقدمین۔ (التنویر مع الشامي ۲؍۷۱ بیروت، شامي ۲؍۷۸ زکریا)
مرد کو نماز میں ذیل کے آٹھ اعضاء چھپانا ضروری ہیں؛
(۱) پیشاب کا مقام اور اس کے اردگرد۔
(۲) خصیتین اور اس کے ارد گرد۔
(۳) پائخانہ کا مقام اور اس کے آس پاس۔
(۴-۵) دونوں کولہے۔
(۶-۷) دونوں رانیں گھٹنے سمیت۔
(۸) ناف سے لے کر زیر ناف بالوں اور ان کے مقابل میں کوکھ، پیٹ اور پیٹھ کا حصہ۔
عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: مروا أولادکم بالصلاۃ لسبع سنین واضربوہم علیہا لعشر سنین وفرقوا بینہم في المضاجع، وإذا أنکح أحدکم عبدہ أو آجرہ فلا ینظرن إلی شيء من عورتہ فإن ما أسفل من سرتہ إلی رکبتہ من عورتہ۔ (مسند أحمد ۲؍۱۸۷ رقم: ۶۷۵۶)
أعضاء عورۃ الرجل ثمانیۃ: الأول: الذکر وما حولہ۔ الثاني: الأنثیان وما حولہما۔ الثالث: الدبر وما حولہ۔ الرابع والخامس: الإلیتان۔ السادس والسابع: الفخذان مع الرکبتین۔ الثامن: ما بین السرۃ إلی العانۃ مع ما یحاذي ذٰلک من الجنبین والظہر والبطن۔ (شامي ۲؍۷۵ بیروت، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۲۱ رقم: ۱۵۳۸ زکریا، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۵۸، البحر الرائق ۱؍۲۶۹، ہدایۃ ۱؍۱۷۲ کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے

شکر وکفر؛ شکریہ ادا کرنے کا طریقہ؟

شکر وکفر
شکریہ ادا کرنے کا طریقہ؟
الشُّكْرُ: تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل: وهو مقلوب عن الکشر، أي: الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي:
ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه .
والشُّكْرُ ثلاثة أضرب :
شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة .
وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم .
وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه .
وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ،
(ش ک ر) الشکر

کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دابۃ شکور اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کر رہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عین شکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنی ہوں گے منعم کے ذکر سے بھرجانا ۔
شکر تین قسم پر ہے
شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجورح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکافات کرنا ۔ اور آیت کریمہ: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔
كفر (ناشکری)
الكُفْرُ في اللّغة: ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وكُفْرُ النّعمة وكُفْرَانُهَا : سترها بترک أداء شكرها، قال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ، فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] ويقال منهما : كَفَرَ فهو كَافِرٌ. قال في الکفران : لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وقال : وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152]
(ک ف ر) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ کفر یا کفر ان نعمت کی ناشکری کر کے اسے چھپانے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94]
؂ تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے:
۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا ۔ اور فعل کفر فھوا کافر ہر دو معانی کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ معنی کفران کے متعلق فرمایا: ۔
لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تاکہ مجھے آز مائے کر میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوم ۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے ۔ اور جو ناشکری کرتا ہے ۔ تو میرا پروردگار بےپروا اور کرم کر نیوالا ہے۔ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا۔ (مفردات القرآن /امام راغب اصفہانی ۔آیت نمبر 027:040 )
نعمت شناسی کی اس قرآنی حقیقت بیانی کے بعد ارشاد نبوی ملاحظہ فرمائیں:
1955 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ح وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَشْكُرْ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرْ اللَّهَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
سنن الترمذي. كتاب البر والصلة

(جو شخص انسان کا شکریہ ادا نہ کرے وہ اللہ کا بھی شکریہ ادا نہیں کرسکتا)
اس حدیث کی وضاحت میں امام خطابی کا خیال یہ ہے کہ جس شخص کی طبعیت اور مزاج میں انسانوں کی احسان شناسی نہ ہو وہ  لازما اللہ کی نعمتوں کی ناقدری بھی کرے گا۔یا مطلب یہ ہے کہ  اللہ اسی شخص کے شکریہ کو قبول فرماتے ہیں جو انسانوں کا شکریہ ادا کرنے کا عادی ہو۔
قال الخطابي : هذا يتأول على وجهين : أحدهما أن من كان من طبعه وعادته كفران نعمة الناس وترك الشكر لمعروفهم كان من عادته كفران نعمة الله تعالى وترك الشكر له ، والوجه الآخر أن الله سبحانه لا يقبل شكر العبد على إحسانه إليه إذا كان العبد لا يشكر إحسان الناس ويكفر معروفهم لاتصال أحد الأمرين بالآخر انتهى.
شکریہ ادا کرنے کا طریقہ؟
اصل تو یہ ہے کہ انسان جب کسی کے ساتھ فضل وکرم کا معاملہ کرے تو حتی الوسع اس کے اس احسان کی مکافات وجزاء محسوس طور پر ادا کرے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ تھی کہ جب کوئی کچھ ھدیہ پیش فرماتا تو آپ اس کا برتن خالی واپس نہ فرماتے ! یہی محسوس مکافات منعم کی اصل تعریف وثناخوانی ہے ۔
تاہم اگر دست بدست حسی طور پہ بدلہ نہ دیا جاسکتا ہو تو کم از کم  زبان سے ہی  "جزاک اللہ خیرا" کہدینے سے اس کی نعمت کی مکمل مکافات ہوجائے گی ۔اور اسں منعم کی حقیقی تعریف بھی ہوجائے گی۔
بَاب مَا جَاءَ فِي الثَّنَاءِ بِالْمَعْرُوفِ
2035 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَكَّةَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهِ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
سنن الترمذي. كتاب البر والصلة
شکریہ ادا کرنے کا یہی نبوی اور افضل طریقہ ہے۔اس میں اس بات کا  اعتراف بھی ہے کہ میں تو آپ کے احسان کا بدلہ دینے سے عاجز ہوں ۔اللہ تعالی ہی آپ کو بہتر بدلہ عطا فرمائے۔
صرف شکریہ شکریہ جیسے کلمات کہدینا ناقص اور ادھورا طریقہ ہے ۔ اس سے بچتے ہوئے نبوی طریقہ اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔رسم ورواج کے آج کے سونامی لہر کے سامنے "مرغ حرم" کو متاثر نہیں ' "موثر" بننے کی ضرورت ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔
شکیل منصور القاسمی

Tuesday, 3 October 2017

گائے کے پیشاب سے علاج؟

گائے کے پیشاب سے علاج؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سوال کسی نے دریافت کیا ہے:
اونٹ کے پیشاب سے شفایابی کا واقعہ حدیثوں میں مذکور ہے، اگر گائے کے پیشاب سے واقعی کسی مرض سے شفایابی ہو، تو کیا اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے؟ 
کوئی تحقیق مفتی صاحب.. ؟
بندہ خدا
...................................................
الجواب وباللہ التوفیق:
عام حالات میں حرام اور نجس چیز کے ذریعہ خارجی یا داخلی علاج کرنا شرعا ممنوع ہے۔
3874 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً فَتَدَاوَوْا وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ
سنن أبي داؤد. كتاب الطب۔
سخت ضرورت ومجبوری کے وقت نجس چیز کے ذریعہ دوا کرنا عرنیین کے واقعہ سے جائز ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری میں حدیث ہے:
[ص: 2153] بَاب الدَّوَاءِ بِأَلْبَانِ الْإِبِلِ
5361 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا كَانَ بِهِمْ سَقَمٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ آوِنَا وَأَطْعِمْنَا فَلَمَّا صَحُّوا قَالُوا إِنَّ الْمَدِينَةَ وَخِمَةٌ فَأَنْزَلَهُمْ الْحَرَّةَ فِي ذَوْدٍ لَهُ فَقَالَ اشْرَبُوا أَلْبَانَهَا فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا ذَوْدَهُ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ مِنْهُمْ يَكْدِمُ الْأَرْضَ بِلِسَانِهِ حَتَّى يَمُوتَ قَالَ سَلَّامٌ فَبَلَغَنِي أَنَّ الْحَجَّاجَ قَالَ لِأَنَسٍ حَدِّثْنِي بِأَشَدِّ عُقُوبَةٍ عَاقَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ بِهَذَا فَبَلَغَ الْحَسَنَ فَقَالَ وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يُحَدِّثْهُ بِهَذَا
صحيح البخارى۔ کتاب الطب
اس حدیث کی وجہ سے ضرورت کے وقت تداوی بالمحرمات کے بارے میں ائمہ کرام کے اقوال مختلف ہیں؛
1۔۔۔مالکیہ وحنابلہ کے نزدیک تداوی بالمحرمات مطلقا جائز ہے۔ (المغنی ۔کتاب الاطعمہ /83/11۔۔الشرح الکبیر 108/11۔۔۔التاج والاکلیل 233/3۔)۔
2۔۔۔شافعیہ کے نزدیک تداوی بالمحرمات اور تداوی بالنجاسات جائز ہے بشرطیکہ مسکر اور نشہ آور نہ ہو۔ علامہ نووی لکھتے ہیں: مذهبنا جواز التداوي بجميع النجاسات سوى المسكر. المجموع شرح المهذب 92/9.....
3۔۔۔حنفیہ کے یہاں تین قول ہیں:
الف: صاحب مذھب امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے یہاں تداوی بالمحرمات ناجائز ہے۔المبسوط للسرخسي .كتاب الطهارة والغسل 54/1....
ب: ابویوسف کے نزدیک تداوی بالمحرمات مطلقا جائز ہے۔ البحر الرائق 115/1۔
ج: دوسرے مشائخ حنفیہ کے نزدیک تداوی بالمحرمات اس وقت جائز ہے جبکہ طبیب حاذق کو ان کے علاوہ دوسری دوا معلوم نہ ہو۔ البحر الرائق 116/1۔۔۔ بذل المجھود 199/16۔۔۔
اکثر مشائخ حنفیہ نے تیسرے قول پر فتوی دیا ہے۔ البحر الرائق 116/1۔۔۔
لہذا جب ماہر طبیب کی رائے میں گائے کے پیشاب کے علاوہ کسی اور چیز میں دوا نہ بچے تو بقدر ضرورت گائے کے پیشاب سے داخلی یا خارجی دوا کرنے کی گنجائش ہے۔
يجوز للعليل شرب البول والدم والميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاؤه فيه ولم يجد من المباح مايقوم مقامه .رد المحتار كتاب الحظر والاباحة .فصل في البيع 389/6.سعيد.
لیکن اس سلسلے میں مسلم طبیب کا قول معتبر ہوگا، غیر مسلم کا نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

سوال: کیا آپ کا یہ جواب ناظم امارت شرعیہ حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب کے ذیل کے اس بیان سے متصادم نہیں ہے جو انھوں نے بابا رام دیو کے حالیہ متنازع بیان کے رد عمل کے طور پہ دیا ہے؟ ۔فرماتے ہیں:
رام دیو کا بیان ناواقفیت پر مبنی،
اسلام میں
گائے و دیگر جانور وں کا پیشاب ناپاک
اور
اس کا استعمال ناجائز ہے:
امارت شرعیہ
پٹنہ سے جاری خبر کے مطابق بابا رام دیو نے حال ہی میں انڈیا ٹی وی کے پروگرام آپ کی عدالت میں ایک انتہائی متنازع بیان دیا ہے، انھوں نے کہا کہ قرآن کریم میں ذکر ہے کہ گائے کے پیشاب کو علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ، اس لیے مسلمانوں کو بھی گائے کے پیشاب کا استعمال کرنا چاہئے۔
بابا رام دیو کے اس بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مشہور عالم دین اور امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے ناظم مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بابا رام دیو کا یہ بیان نا واقفیت پر مبنی ہے، قرآن کریم میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں ہے کہ گائے کے پیشا ب کو دوا کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، اسلام کے اندر گائے اور دیگر تمام جانوروں کے پیشاب و پاخانے کو نجس اور ناپاک قرار دیا گیا ہے۔ اسلام ناپاک اور حرام چیزو ں سے علاج کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ بابا رام دیو کو اپنی معلومات کی اصلاح کرنی چاہئے اور اپنے بیان کو واپس لینا چاہئے ، اور آئندہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں یا قرآن کریم کے بارے میں کوئی بھی بات کہنے سے پہلے اس کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنی چاہئے، اس طرح متنازع بیان دے کر خواہ مخواہ آپسی بھائی چارے کے ماحول کو خراب کرنا ان جیسے لوگوں کے لیے قطعی زیب نہیں دیتا ہے۔

جواب: بابا رام دیو کا  حالیہ بیان قرآن میں گائے کے پیشاب کے تذکرے سے متعلق ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن میں اس طرح کا کوئی ذکر نہیں ہے. بابا کا  اس طرح کا بیان ناواقفیت اور جہالت پہ مبنی ہے۔ گائے کا پیشاب یقینا ناپاک ہے. عام حالات میں ایسی نجس چیز کے ذریعہ تداوی کی اجازت  اسلام میں نہیں ہے۔ جیساکہ سنن ابی دائود کے حوالہ سے حدیث پیش کردی گئی ہے۔ ناظم امارت شرعیہ کا بیان کا محمل بھی یہی معتدل اور نارمل حالت ہے۔ سخت ضرورت اور مجبوری کے وقت پیشاب اور دیگر نجس چیز کے ذریعہ معالجہ کی گنجائش بعض مجتہدین کے نزدیک  موجود ہے۔ بخاری کی حدیث کے حوالہ سے اس  دلیل جواز کی دلیل پیش کردی گئی ہے۔ جواز کے قائلین کے یہاں بھی گنجائش مطلق اور عام نہیں ہے بلکہ چند شرطوں کے ساتھ مشروط ہے۔ اونٹ یا گائے کے پیشاب سے معالجہ کی ممانعت معتدل حالات میں اسلامی قانون ہے. اضطراری احوال میں اس کی گنجائش اسی طرح ہے جیسے مردار کھانے کی گنجائش۔ اسے عمومی جواز کی دلیل بنانا یقینا جہالت اور احکام شریعت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ ناظم امارت شرعیہ کے بیان سے سو فی صد اتفاق ہے۔ خصوصی پس منظر میں سہولت اور گنجائش کا جو پہلو نکلتا ہے اسے اپنے مورد اور محل تک ہی خاص رکھا جاتا ہے ۔اس میں تعمیم کرنا درست نہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

کفن پر خوشبو لگانا کیسا ہے؟؟

کفن پر خوشبو لگانا کیسا ہے؟؟
---------------------------------------------
سوال........
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته حضرات مفتی صاحب سے اس مسئلے کی وضاحت مطلوب ہے
کہ مردے کی کفن پے عطر یا کوئی خوشبو لگانا کیسا ہے؟ ازراه كرم دلیل کے ساتھ وضاحت فرما دیں
------------------------------------------------

الجواب وباللہ التوفيق:
مردے کے کفن پہ بغیر بھڑکیلا مثلا زعفرانی رنگ وغیرہ خوشبو لگانا مستحب اور پسندیدہ ہے۔بھڑکیلی خوشبو لگانا ممنوع ہے۔
یبسط الثوب الأول علی بساط ثم یذر علیہ الطیب، ثم یبسط علیہ الثوب الثاني، ویجعل علیہ الطیب، ثم الثالث کذلک وکلہن یبسط علی الطول، ثم یجعل علی الآخر الذریرۃ، وہو نوع من الطیب للرجال، وجعلہا في الکفن جہل۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۲۸ رقم: ۳۶۵۲ زکریا)
وصفۃ تکفین الرجل أن یبخر الکفن أولاً بالبخور الطیبۃ ویرش علیہ الحنوط إن وجد، ویبسط اللفافۃ ثم الإزار وہو من القرن إلی القدم، ثم یجعل علیہ الحنوط إن وجد ویطلی بالکافور مساجد۔ (رسائل الأرکان / بیان السنۃ تکفین للرجل ۱۵۴، بحوالہ: فتاویٰ محمودیہ ۱۳؍۷۸ میرٹھ)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی