Friday, 6 October 2017

"سبوح قدّوس...." کی تحقیق

حدیث میں ’’سبوح قدّوس ربّ الملائکۃ والرّوح‘‘ کی فضیلت ہے اس کی تحقیق

سوال: اس حدیث کی کیا حیثیت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان مرد یا عورت وتر کے بعد دو سجدے اس طرح کرے کہ ہر سجدہ میں پانچ مرتبہ
’’سبوح قدّوس ربّ الملائکۃ والرّوح‘‘
پڑھے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر ایک مرتبہ آیۃ الکرسی پڑھے تو قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم) کی جان ہے، اللہ تعالیٰ اُس شخص کے وہاں سے اٹھنے سے پہلے مغفرت فرمادیں گے اور ایک سو حج اور ایک سو عمروں کا ثواب دیں گے اور اس کی طرف سے اللہ تعالیٰ ایک ہزار فرشتے بھیجیں گے جو اس کے لئے نیکیاں لکھنی شروع کردیں اور اسکو سو غلام آزاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا، اور اس کی دعاء اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گے اور قیامت کے دن ساٹھ اہلِ جہنم کے حق میں اس کی شفاعت قبول ہوگی اور جب مرے گا تو شہادت کی موت مرے گا۔
اس میں فتاوی خانیہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ کیا یہ حدیث ثابت ہے؟

جواب: یہ حدیث فتاوی خانیہ میں نہیں ہے، بلکہ فتاوہ تاتارخانیہ میں بحوالہ’’المضمرات‘‘ ۱/۶۷۸ پر ہے۔ شیخ ابراہیم حلبی حنفی رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:
وأما ماذکرہ فی التاتارخانیۃ عن المضمرات ان النبیاقال لفاطمۃؓ ما من مؤمن ولا مؤمنۃ…الخ۔فحدیث موضوع باطل لا أصل لہ ولا یجوزالعمل بہ ولا نقلہ الا لبیان بطلانہ کما ھوشأن الأحادیث الموضوعۃ، ویدلک علٰی وضعہ رکاکتہ والمبالغۃ الغیرالموافقۃ للشرع والعقل، فان الأجرعلی قدرالمشقۃ شرعًا وعقلاً، وأفضل الأعمال أحمزھا، وانما قصد بعض الملحدین بمثل ھذا الحدیث افساد الدین اضلال الحق واِغرائھم بالفسق و تثبیطھم عن الجد فی العبادۃ فیغتربہ بعض من لیس لہ خبرۃ بعلوم الحدیث وطرقہ ولا ملکۃ یمیز بین صحیحہ وسقیمہ۔
(غنیۃ المتملی في شرح منیۃ المصلی۶۱۷)
خلاصہ: یہ روایت موضوع ہے، ان کلمات کے پڑھنے سے اتنے فضائل کسی حدیث سے ثابت نہیں۔ البتہ ’’سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح‘‘ کا پڑھنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے۔
واللہ اعلم
(فتاوی دارالعلوم زکریا جلد 1)
العبد محمد اسلامپوری

Thursday, 5 October 2017

نماز میں کن اعضاء کا چھپانا فرض ہے؟

نماز میں کن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز میں آزاد عورت کے لئے درج ذیل چوبیس اعضاء بدن کا چھپانا فرض ہے :
(۱) پیشاب کا مقام۔
(۲) پاخانہ کا مقام۔
(۳-۴) دونوں کولہے۔
(۵-۶) دونوں رانیں گھٹنوں سمیت۔
(۷) پیٹ۔
(۸) پیٹھ (دونوں پہلوؤں سمیت)
(۹-۱۰) دونوں پنڈلیاں (ٹخنوں سمیت)
(۱۱-۱۲) دونوں اُبھرے ہوئے پستان۔
(۱۳-۱۴) دونوں کان۔
(۱۵-۱۶) دونوں بازو (کہنیوں سمیت)
(۱۷-۱۸) دونوں کلائیاں (گٹوں سمیت)
(۱۹) سینہ۔
(۲۰) سر۔
(۲۱) سر کے بال۔
(۲۲) گردن۔
(۲۳-۲۴) دونوں مونڈھے۔
عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا أن أسماء بنت أبي بکر دخلت علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وعلیہا ثیاب رقاق، فأعرض عنہا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وقال: یا أسماء إن المرأۃ إذا بلغت المحیض لم یصلح لہا أن یری منہا إلا ہٰذا وہٰذا، وأشار إلی وجہہ وکفیہ۔ (سنن أبي داؤد، کتاب اللباس / باب فیما تبدي المرأۃ من زینتہا ۲؍۵۶۷ رقم: ۴۱۰۴ دار الفکر بیروت)
وفي الأمۃ ثمانیۃ أیضا: الفخذان مع الرکبتین والإلیتان والقبل مع ماحولہ والدبر کذٰلک والبطن والظہر مع ما یلیہما من الجنبین، وفي الحرۃ ہذہ الثمانیۃ ویزاد فیہا ستۃ عشر: الساقان مع الکعبین والثدیان المنکسران والأذنان والعضدان مع المرفقین والذراعان مع الرسغین والصدر والرأس والشعر والعنق وظہر الکفین وینبغي أن یزاد فیہ الکتفان۔ (شامي ۲؍۷۵ بیروت، شامي ۲؍۸۳ زکریا)
وفي التنویر: وللحرۃ جمیع بدنہا خلا الوجہ والکفین والقدمین۔ (التنویر مع الشامي ۲؍۷۱ بیروت، شامي ۲؍۷۸ زکریا)
مرد کو نماز میں ذیل کے آٹھ اعضاء چھپانا ضروری ہیں؛
(۱) پیشاب کا مقام اور اس کے اردگرد۔
(۲) خصیتین اور اس کے ارد گرد۔
(۳) پائخانہ کا مقام اور اس کے آس پاس۔
(۴-۵) دونوں کولہے۔
(۶-۷) دونوں رانیں گھٹنے سمیت۔
(۸) ناف سے لے کر زیر ناف بالوں اور ان کے مقابل میں کوکھ، پیٹ اور پیٹھ کا حصہ۔
عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: مروا أولادکم بالصلاۃ لسبع سنین واضربوہم علیہا لعشر سنین وفرقوا بینہم في المضاجع، وإذا أنکح أحدکم عبدہ أو آجرہ فلا ینظرن إلی شيء من عورتہ فإن ما أسفل من سرتہ إلی رکبتہ من عورتہ۔ (مسند أحمد ۲؍۱۸۷ رقم: ۶۷۵۶)
أعضاء عورۃ الرجل ثمانیۃ: الأول: الذکر وما حولہ۔ الثاني: الأنثیان وما حولہما۔ الثالث: الدبر وما حولہ۔ الرابع والخامس: الإلیتان۔ السادس والسابع: الفخذان مع الرکبتین۔ الثامن: ما بین السرۃ إلی العانۃ مع ما یحاذي ذٰلک من الجنبین والظہر والبطن۔ (شامي ۲؍۷۵ بیروت، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۲۱ رقم: ۱۵۳۸ زکریا، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۵۸، البحر الرائق ۱؍۲۶۹، ہدایۃ ۱؍۱۷۲ کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے

شکر وکفر؛ شکریہ ادا کرنے کا طریقہ؟

شکر وکفر
شکریہ ادا کرنے کا طریقہ؟
الشُّكْرُ: تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل: وهو مقلوب عن الکشر، أي: الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي:
ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه .
والشُّكْرُ ثلاثة أضرب :
شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة .
وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم .
وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه .
وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ،
(ش ک ر) الشکر

کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دابۃ شکور اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کر رہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عین شکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنی ہوں گے منعم کے ذکر سے بھرجانا ۔
شکر تین قسم پر ہے
شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجورح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکافات کرنا ۔ اور آیت کریمہ: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔
كفر (ناشکری)
الكُفْرُ في اللّغة: ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وكُفْرُ النّعمة وكُفْرَانُهَا : سترها بترک أداء شكرها، قال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ، فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] ويقال منهما : كَفَرَ فهو كَافِرٌ. قال في الکفران : لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وقال : وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152]
(ک ف ر) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ کفر یا کفر ان نعمت کی ناشکری کر کے اسے چھپانے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94]
؂ تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے:
۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا ۔ اور فعل کفر فھوا کافر ہر دو معانی کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ معنی کفران کے متعلق فرمایا: ۔
لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تاکہ مجھے آز مائے کر میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوم ۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے ۔ اور جو ناشکری کرتا ہے ۔ تو میرا پروردگار بےپروا اور کرم کر نیوالا ہے۔ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا۔ (مفردات القرآن /امام راغب اصفہانی ۔آیت نمبر 027:040 )
نعمت شناسی کی اس قرآنی حقیقت بیانی کے بعد ارشاد نبوی ملاحظہ فرمائیں:
1955 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ح وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَشْكُرْ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرْ اللَّهَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
سنن الترمذي. كتاب البر والصلة

(جو شخص انسان کا شکریہ ادا نہ کرے وہ اللہ کا بھی شکریہ ادا نہیں کرسکتا)
اس حدیث کی وضاحت میں امام خطابی کا خیال یہ ہے کہ جس شخص کی طبعیت اور مزاج میں انسانوں کی احسان شناسی نہ ہو وہ  لازما اللہ کی نعمتوں کی ناقدری بھی کرے گا۔یا مطلب یہ ہے کہ  اللہ اسی شخص کے شکریہ کو قبول فرماتے ہیں جو انسانوں کا شکریہ ادا کرنے کا عادی ہو۔
قال الخطابي : هذا يتأول على وجهين : أحدهما أن من كان من طبعه وعادته كفران نعمة الناس وترك الشكر لمعروفهم كان من عادته كفران نعمة الله تعالى وترك الشكر له ، والوجه الآخر أن الله سبحانه لا يقبل شكر العبد على إحسانه إليه إذا كان العبد لا يشكر إحسان الناس ويكفر معروفهم لاتصال أحد الأمرين بالآخر انتهى.
شکریہ ادا کرنے کا طریقہ؟
اصل تو یہ ہے کہ انسان جب کسی کے ساتھ فضل وکرم کا معاملہ کرے تو حتی الوسع اس کے اس احسان کی مکافات وجزاء محسوس طور پر ادا کرے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ تھی کہ جب کوئی کچھ ھدیہ پیش فرماتا تو آپ اس کا برتن خالی واپس نہ فرماتے ! یہی محسوس مکافات منعم کی اصل تعریف وثناخوانی ہے ۔
تاہم اگر دست بدست حسی طور پہ بدلہ نہ دیا جاسکتا ہو تو کم از کم  زبان سے ہی  "جزاک اللہ خیرا" کہدینے سے اس کی نعمت کی مکمل مکافات ہوجائے گی ۔اور اسں منعم کی حقیقی تعریف بھی ہوجائے گی۔
بَاب مَا جَاءَ فِي الثَّنَاءِ بِالْمَعْرُوفِ
2035 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَكَّةَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهِ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
سنن الترمذي. كتاب البر والصلة
شکریہ ادا کرنے کا یہی نبوی اور افضل طریقہ ہے۔اس میں اس بات کا  اعتراف بھی ہے کہ میں تو آپ کے احسان کا بدلہ دینے سے عاجز ہوں ۔اللہ تعالی ہی آپ کو بہتر بدلہ عطا فرمائے۔
صرف شکریہ شکریہ جیسے کلمات کہدینا ناقص اور ادھورا طریقہ ہے ۔ اس سے بچتے ہوئے نبوی طریقہ اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔رسم ورواج کے آج کے سونامی لہر کے سامنے "مرغ حرم" کو متاثر نہیں ' "موثر" بننے کی ضرورت ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔
شکیل منصور القاسمی

Tuesday, 3 October 2017

گائے کے پیشاب سے علاج؟

گائے کے پیشاب سے علاج؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سوال کسی نے دریافت کیا ہے:
اونٹ کے پیشاب سے شفایابی کا واقعہ حدیثوں میں مذکور ہے، اگر گائے کے پیشاب سے واقعی کسی مرض سے شفایابی ہو، تو کیا اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے؟ 
کوئی تحقیق مفتی صاحب.. ؟
بندہ خدا
...................................................
الجواب وباللہ التوفیق:
عام حالات میں حرام اور نجس چیز کے ذریعہ خارجی یا داخلی علاج کرنا شرعا ممنوع ہے۔
3874 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً فَتَدَاوَوْا وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ
سنن أبي داؤد. كتاب الطب۔
سخت ضرورت ومجبوری کے وقت نجس چیز کے ذریعہ دوا کرنا عرنیین کے واقعہ سے جائز ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری میں حدیث ہے:
[ص: 2153] بَاب الدَّوَاءِ بِأَلْبَانِ الْإِبِلِ
5361 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا كَانَ بِهِمْ سَقَمٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ آوِنَا وَأَطْعِمْنَا فَلَمَّا صَحُّوا قَالُوا إِنَّ الْمَدِينَةَ وَخِمَةٌ فَأَنْزَلَهُمْ الْحَرَّةَ فِي ذَوْدٍ لَهُ فَقَالَ اشْرَبُوا أَلْبَانَهَا فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا ذَوْدَهُ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ مِنْهُمْ يَكْدِمُ الْأَرْضَ بِلِسَانِهِ حَتَّى يَمُوتَ قَالَ سَلَّامٌ فَبَلَغَنِي أَنَّ الْحَجَّاجَ قَالَ لِأَنَسٍ حَدِّثْنِي بِأَشَدِّ عُقُوبَةٍ عَاقَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ بِهَذَا فَبَلَغَ الْحَسَنَ فَقَالَ وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يُحَدِّثْهُ بِهَذَا
صحيح البخارى۔ کتاب الطب
اس حدیث کی وجہ سے ضرورت کے وقت تداوی بالمحرمات کے بارے میں ائمہ کرام کے اقوال مختلف ہیں؛
1۔۔۔مالکیہ وحنابلہ کے نزدیک تداوی بالمحرمات مطلقا جائز ہے۔ (المغنی ۔کتاب الاطعمہ /83/11۔۔الشرح الکبیر 108/11۔۔۔التاج والاکلیل 233/3۔)۔
2۔۔۔شافعیہ کے نزدیک تداوی بالمحرمات اور تداوی بالنجاسات جائز ہے بشرطیکہ مسکر اور نشہ آور نہ ہو۔ علامہ نووی لکھتے ہیں: مذهبنا جواز التداوي بجميع النجاسات سوى المسكر. المجموع شرح المهذب 92/9.....
3۔۔۔حنفیہ کے یہاں تین قول ہیں:
الف: صاحب مذھب امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے یہاں تداوی بالمحرمات ناجائز ہے۔المبسوط للسرخسي .كتاب الطهارة والغسل 54/1....
ب: ابویوسف کے نزدیک تداوی بالمحرمات مطلقا جائز ہے۔ البحر الرائق 115/1۔
ج: دوسرے مشائخ حنفیہ کے نزدیک تداوی بالمحرمات اس وقت جائز ہے جبکہ طبیب حاذق کو ان کے علاوہ دوسری دوا معلوم نہ ہو۔ البحر الرائق 116/1۔۔۔ بذل المجھود 199/16۔۔۔
اکثر مشائخ حنفیہ نے تیسرے قول پر فتوی دیا ہے۔ البحر الرائق 116/1۔۔۔
لہذا جب ماہر طبیب کی رائے میں گائے کے پیشاب کے علاوہ کسی اور چیز میں دوا نہ بچے تو بقدر ضرورت گائے کے پیشاب سے داخلی یا خارجی دوا کرنے کی گنجائش ہے۔
يجوز للعليل شرب البول والدم والميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاؤه فيه ولم يجد من المباح مايقوم مقامه .رد المحتار كتاب الحظر والاباحة .فصل في البيع 389/6.سعيد.
لیکن اس سلسلے میں مسلم طبیب کا قول معتبر ہوگا، غیر مسلم کا نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

سوال: کیا آپ کا یہ جواب ناظم امارت شرعیہ حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب کے ذیل کے اس بیان سے متصادم نہیں ہے جو انھوں نے بابا رام دیو کے حالیہ متنازع بیان کے رد عمل کے طور پہ دیا ہے؟ ۔فرماتے ہیں:
رام دیو کا بیان ناواقفیت پر مبنی،
اسلام میں
گائے و دیگر جانور وں کا پیشاب ناپاک
اور
اس کا استعمال ناجائز ہے:
امارت شرعیہ
پٹنہ سے جاری خبر کے مطابق بابا رام دیو نے حال ہی میں انڈیا ٹی وی کے پروگرام آپ کی عدالت میں ایک انتہائی متنازع بیان دیا ہے، انھوں نے کہا کہ قرآن کریم میں ذکر ہے کہ گائے کے پیشاب کو علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ، اس لیے مسلمانوں کو بھی گائے کے پیشاب کا استعمال کرنا چاہئے۔
بابا رام دیو کے اس بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مشہور عالم دین اور امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے ناظم مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بابا رام دیو کا یہ بیان نا واقفیت پر مبنی ہے، قرآن کریم میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں ہے کہ گائے کے پیشا ب کو دوا کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، اسلام کے اندر گائے اور دیگر تمام جانوروں کے پیشاب و پاخانے کو نجس اور ناپاک قرار دیا گیا ہے۔ اسلام ناپاک اور حرام چیزو ں سے علاج کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ بابا رام دیو کو اپنی معلومات کی اصلاح کرنی چاہئے اور اپنے بیان کو واپس لینا چاہئے ، اور آئندہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں یا قرآن کریم کے بارے میں کوئی بھی بات کہنے سے پہلے اس کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنی چاہئے، اس طرح متنازع بیان دے کر خواہ مخواہ آپسی بھائی چارے کے ماحول کو خراب کرنا ان جیسے لوگوں کے لیے قطعی زیب نہیں دیتا ہے۔

جواب: بابا رام دیو کا  حالیہ بیان قرآن میں گائے کے پیشاب کے تذکرے سے متعلق ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن میں اس طرح کا کوئی ذکر نہیں ہے. بابا کا  اس طرح کا بیان ناواقفیت اور جہالت پہ مبنی ہے۔ گائے کا پیشاب یقینا ناپاک ہے. عام حالات میں ایسی نجس چیز کے ذریعہ تداوی کی اجازت  اسلام میں نہیں ہے۔ جیساکہ سنن ابی دائود کے حوالہ سے حدیث پیش کردی گئی ہے۔ ناظم امارت شرعیہ کا بیان کا محمل بھی یہی معتدل اور نارمل حالت ہے۔ سخت ضرورت اور مجبوری کے وقت پیشاب اور دیگر نجس چیز کے ذریعہ معالجہ کی گنجائش بعض مجتہدین کے نزدیک  موجود ہے۔ بخاری کی حدیث کے حوالہ سے اس  دلیل جواز کی دلیل پیش کردی گئی ہے۔ جواز کے قائلین کے یہاں بھی گنجائش مطلق اور عام نہیں ہے بلکہ چند شرطوں کے ساتھ مشروط ہے۔ اونٹ یا گائے کے پیشاب سے معالجہ کی ممانعت معتدل حالات میں اسلامی قانون ہے. اضطراری احوال میں اس کی گنجائش اسی طرح ہے جیسے مردار کھانے کی گنجائش۔ اسے عمومی جواز کی دلیل بنانا یقینا جہالت اور احکام شریعت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ ناظم امارت شرعیہ کے بیان سے سو فی صد اتفاق ہے۔ خصوصی پس منظر میں سہولت اور گنجائش کا جو پہلو نکلتا ہے اسے اپنے مورد اور محل تک ہی خاص رکھا جاتا ہے ۔اس میں تعمیم کرنا درست نہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

کفن پر خوشبو لگانا کیسا ہے؟؟

کفن پر خوشبو لگانا کیسا ہے؟؟
---------------------------------------------
سوال........
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته حضرات مفتی صاحب سے اس مسئلے کی وضاحت مطلوب ہے
کہ مردے کی کفن پے عطر یا کوئی خوشبو لگانا کیسا ہے؟ ازراه كرم دلیل کے ساتھ وضاحت فرما دیں
------------------------------------------------

الجواب وباللہ التوفيق:
مردے کے کفن پہ بغیر بھڑکیلا مثلا زعفرانی رنگ وغیرہ خوشبو لگانا مستحب اور پسندیدہ ہے۔بھڑکیلی خوشبو لگانا ممنوع ہے۔
یبسط الثوب الأول علی بساط ثم یذر علیہ الطیب، ثم یبسط علیہ الثوب الثاني، ویجعل علیہ الطیب، ثم الثالث کذلک وکلہن یبسط علی الطول، ثم یجعل علی الآخر الذریرۃ، وہو نوع من الطیب للرجال، وجعلہا في الکفن جہل۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۲۸ رقم: ۳۶۵۲ زکریا)
وصفۃ تکفین الرجل أن یبخر الکفن أولاً بالبخور الطیبۃ ویرش علیہ الحنوط إن وجد، ویبسط اللفافۃ ثم الإزار وہو من القرن إلی القدم، ثم یجعل علیہ الحنوط إن وجد ویطلی بالکافور مساجد۔ (رسائل الأرکان / بیان السنۃ تکفین للرجل ۱۵۴، بحوالہ: فتاویٰ محمودیہ ۱۳؍۷۸ میرٹھ)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

شیعے، خوجے اور بوہرے؛ ایک جائزہ

کچھ دنوں قبل بوہرہ فرقے کے تعلق سے ایک تحریر نظر سے گزری تھی.... اسی وقت سے خیال تھا کہ اس پر کچھ لکھوں گا.... مگر ہجومِ کار نے اجازت نہیں دی.... آج شب عاشور وقت نکال کر چند سطریں تحریر کررہا ہوں... یہ تو اکثر احباب جانتے ہوں گے یہ تشیع کے بطن سے نکلا ہوا ایک فرقہ ہے.... وہی شیعیت جس کا آغاز خلافت عثمانی میں ابن سبا اور اس کے متبعین کے ذریعئے ہوا تھا، ان کے جہاں اور بہت سےغلط عقائد تھے وہیں بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ حضرت علی حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کے بلا فصل جانشین، وصی اور حقیقی وارث ہیں... اگلے کچھ برسوں میں یہی شیعیت اس قدر تقسیم در تقسیم سے دوچار ہوئی ہے کہ اصل کی شناخت مشکل ہوگئی ... مثلا شیعوں کے نزدیک حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد حضرت علی پہلے، حضرت حسن دوسرے، حضرت حسین تیسرے، زین العابدین چوتھے اور امام باقر پانچویں امام ہیں..
اختلاف کا آغاز:
پانچویں امام تک سارے شیعہ متفق نظر آتے ہیں مگر چھٹے امام سے اختلاف شروع ہوتا ہے... اثنا عشری شیعے، بوہرے اور خوجے وغیرہ باقر کے لڑکے جعفر صادق کو امام مانتے ہیں.. مگر ایک طبقہ باقر کے دوسرے لڑکے زید کو امام تسلیم کرتا ہے. یہ زیدی فرقہ کہلاتا ہے. اگرچہ یہ فرقہ اعتقادی اور جذباتی طور پر شیعوں کے مقابلے میں  ہمیشہ اہل سنت سے قریب رہا ہے .. مشہور مصنف قاضی شوکانی اسی فرقے سے تعلق رکھتے تھے ... یمن کے حوثی بھی زیدی ہیں مگر آج کل ایرانی اثرات نے انھیں شیعوں سے زیادہ قریب کردیا ہے....
اگلا اختلاف:
امام جعفر کو چھٹا امام ماننے والے اثنا عشری، بوہرے اور خوجے ساتویں امام میں پھر مختلف ہوگئےہیں. اثنا عشری جعفر صادق کے لڑکے موسی کاظم کو ساتواں امام مانتے ہیں مگر بوہرے، خوجے جعفر صادق کے دوسرے لڑکے اسماعیل کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں.. اس کے بعد بالترتیب امام رضا، علی نقی، علی تقی اور حسن عسکری. اثنا عشریوں کے آٹھویں نویں دسویں آور گیارہویں امام ہیں ..... مگر حسن عسکری کے فرزند بارہویں امام مہدی اثناعشری عقیدے کے مطابق چھ سال کی عمر میں اصلی قران، عصائے موسی، انگشتری سلیماں اور تابوت سکینہ جیسے انبیا کے موروثی تبرکات لے کر سامرّہ (سرّمن راء) کے غار میں غائب ہوگئے ... مبینہ طور پر اس وقت تک غائب رہیں گے جبتک دنیا میں ۳۱۳ پکے اور مخلص شیعہ نہ ہوجائیں .... چنانچہ بارہ صدیاں گزر گئیں ساری دنیا کے شیعوں کی زبانیں .. عجل اللہ فرجہ .. عجل اللہ فرجہ .. کہتے کہتے خشک ہوئی جارہی ہیں مگر غالبا اب تک مطلوبہ مقدار میں مخلص شیعے فراہم نہیں ہوسکے ہیں .. جبکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ حسن عسکری لاولد فوت ہوئے تھے.... اسی فرضی بارہویں امام کو امام زمانہ، امام غائب، مہدی موعود وغیرہ بھی کہتے ہیں .... اسی مہدی موعود نے مسلمانوں کے اندر بابیت، بہائیت، مہدویت، قادیانیت، دینداریت اور شکیل حنیف جیسے گمراہوں کو جنم دیا ہے ....
بارہواں امام:
تو خیر، ذکر شیعوں کے بارہویں امام کا تھا جو کمسنی میں اپنے وزن سے کہیں زیادہ بھاری بھرکم اشیا لے کر پردہ غیب میں "تشریف بری" کرگئے... ابتدا میں موصوف کی غیبت "غیبوبت صغری" تھی، یعنی مخصوص افراد کو ان سے ملنے اور عام شیعوں کے پیغامات عریضے وغیرہ پہنچانے کی اجازت تھی .... انھیں مخصوصین میں یعقوب کلینی بھی تھے ... اسی زمانے میں کلینی نے 'اصول کافی' نامی کتاب مرتب کی جو اثنا عشری شیعوں کے نزدیک صحیح ترین احادیث کا مجموعہ ہے... اس کتاب کو امام غائب کا سرٹیفکٹ بھی حاصل ہے. اسی کتاب میں امام غائب کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں...
"ھذا کافٍ لشیعتنا"..
اسی بنیاد پر اس کتاب کا نام اصول کافی رکھا گیا ہے ..... اس زمانے کی حکومت کو جب پتہ چلا کہ کچھ لوگ کسی غائب کا نمائندہ بن کر خلق خدا کو ٹھگ رہے ہیں تو تحقیقات شروع ہوئیں، نام نہاد نمائندوں کو تلاش کیا جانے لگا تو سارے نمائندے خود بھی انڈر گراونڈ ہوگئے ... اور امام کی غیبت صغری اب "غیبوبت کبری" میں بدل گئی جو ہنوز جاری ہے ..... اس کے بعد سے شیعوں کی درخواستیں اور عریضے امام زمانہ تک پہنچانے کا کام سمندر کے سپرد کردیا گیا ہے ... چنانچہ شعبان کی پندرہویں شب کو شیعے اپنی تمنائیں مرادیں اور ضروریات لکھکر سمندر میں ڈالتے نظر آتے ہیں. جن علاقوں میں سمندر نہیں ہے، وہاں عریضوں کو بہتے پانی دریا نہر وغیرہ میں اس امید کے ساتھ پوسٹ کیا جاتا ہے کہ یہ بالاخر بہتے ہوئے سمندر تک پہنچ جائیں گے......
بوہرے اور خوجے:
پہلے گزر چکا کہ چھٹےامام جعفر تک اثنا عشری، بوہرے اور خوجے متفق تھے، البتہ ساتویں امام شیعہ اثنا عشریوں کے نزدیک موسی کاظم بن جعفر اور بوہروں خوجوں کے نزدیک اسماعیل بن جعفر ہیں.... اب آگے مستنصر باللہ تک بوہرے اور خوجے متفق نظر آتے ہیں جو ان کا اٹھارواں امام ہے ... مستنصر کے دو لڑکے تھے. "مستعلی" جس کو بوہرے انیسواں امام اور "نزار" جس کو خوجے انیسواں امام مانتے ہیں... آج کل کریم آغا خان خوجوں کا انچاسواں امام ہے ... پیرس میں رہتا ہے انتہائی دولت مند ہے. مغربی معاشرت کا عادی ہے ریس کے گھوڑوں کا شوقین ہے ... کسی دوسرے ملک میں جاتا ہے تو وہاں اسےکسی سربراہ مملکت جیسا سرکاری پٹروکول دیا جاتا ہے... خوجے عام طور پر تجارت پیشہ اور متمول ہوتے ہیں. کچھ دنوں قبل تک ہندوستان کی سب سے مالدار شخصیت کہےجانے والے "پریم جی" بھی خوجہ ہیں...
باطنی مذاہب:
یوں تو شیعہ بوہرہ اور خوجہ سارے "باطنی" مذہب ہیں ...جس میں نصوص کے ظاہری معنی جو بھی ہوں مگر امام کی طرف سے ملنے والی سینہ بسینہ تعلیم کی بنیاد پر بتائے جانے والے باطنی معنی ہی معتبر سمجھے جاتے ہیں... چنانچہ نماز روزہ حج زکوۂٰ سے لے کر شیطان فرعون ہامان وغیرہ تک کے حقیقی معنی وہی سمجھے جاتے ہیں جو امام نے خاموشی سے بتائے ہوں.... ان میں سب زیادہ باطنیت کا شکار خوجہ فرقہ نظر آتا ہے... چنانچہ خوجے نہ تو نماز پڑھتے ہیں، نہ روزہ حج زکات سے انھیں کوئی مطلب ہے .... ان کی مسجدیں نہیں ہوتیں.... جہاں ان کی قابل ذکر آبادی ہوتی ہے وہاں پر ایک عمارت 'جماعت خانہ' کے نام سے ضرور ہوتی ہے.. جہاں مختلف موقعوں پر کئی طرح کے پروگرام ہوتے ہیں جن میں مرد وعورتیں مشترکہ طور پر شامل ہوتے ہیں، میوزک وغیرہ بھی ہوتا ہے.... جماعت خانے کے ایک گوشے میں گرجاوں اور مندروں کی طرح موم بتیاں اور ناریل بھی دکھائی دیتے ہیں..... مجموعی طور پر خوجے صلح کلی مزاج رکھنے والے ہوتے ہیں. ان کےسربراہ آغا خاں کی طرف سے ان لوگوں کے لئے ہاوسنگ سوسائیٹاں، کوآپریٹو بنک، مفت علاج ومعالجہ کے لئے شاندار اسپتال وغیرہ کی سہولتیں دی جاتی ہیں... مذہب کے بارے میں عام خوجوں کو خود بھی کوئی معلومات نہیں ہوتی.اور نہ ہی ان مذہبی کتابیں ملتی ہیں ان کے پڑھے لکھے لوگ بھی اپنے مذہب پر کبھی بات نہیں کرتے... ان لوگوں کے درمیان اصلاحی کام کرنے کی شدید ضرورت ہے... کچھ لوگوں نے ان کے درمیان کام کیا ہے، الحمداللہ اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں ایک بڑی تعداد مذہب حق اختیار کرچکی ہے. ان کو سنی خوجہ کہا جاتا ہے.. الحمد اللہ سنی خوجوں کی مسجدیں ہیں قبرستان بھی ہیں..... لیکن افسوس یہ بھی ہے کہ ان کے درمیان اثنا عشریوں نے بھی محنت کی اور ایک تعداد شیعہ خوجہ بن گئی ہے.. ان شیعہ خوجوں کی بھی اپنی مسجدیں اور قبرستان ہیں... ممبئی جیسے شہر میں شیعوں کی سرگرمیوں کے لئے سرمایہ فراہم کرنے والے یہی شیعہ خوجہ ہیں...
بوہرے:
اب آتے ہیں ایک اور باطنی فرقے بوہروں کی طرف.... پہلے گزر چکا کہ اٹھارویں امام کے بعد بوہرے اور خوجے الگ ہوگئے تھے. خوجوں نے نزار اور بوہروں نے مستعلی کو انیسواں امام مانا تھا... آگےبوہروں کا اکیسواں امام "طیب عامر" غائب ہوگیا .... بوہروں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس کے بعد بھی امامت کا سلسلہ جاری رکھتا ہے اور چھبیسویں ویں امام سلیمان کو غائب مانتا ہے یہ سلیمانی بوہرہ کہلاتے ہیں...یہ بوہروں میں ایک چھوٹی سی ناقابل ذکر جماعت ہے...اس لئے ہم آگے اسی بوہرہ جماعت کا ذکر کریں گے جو اکیسویں کو غائب مانتے ہیں یہ داودی بوہرہ ہیں جو تعداد میں بھی زیادہ ہیں...
داعی مطلق:
اکیسویں امام کی غیبت کے بعد داودی بوہروں میں "داعی مطلق " کا سلسلہ شروع ہوتا ہے..... یہ امام کے بعد ان ہی کے نامزد کردہ ان کے نمائندے اور نائب ہوتے ہیں... ہر داعی اپنے بعد کا داعی نامزد کرتا ہے جس کو "نص" کرنا کہتے ہیں.... بوہرے اپنے داعی کو "سیدنا " کا لقب دیتے ہیں.. ان داعیوں کو تمام بوہروں کے جان مال کا مالک اور بڑی حد تک خدائی اختیارات کا حامل بھی سمجھا جانے لگا ہے ...... داعی کی اجازت کے بغیر کوئی بوہرہ نہ تو شادی کرسکتا ہے نہ اپنے بچے کا نام رکھ سکتا ہے... حج وعمرے کے لئے بھی اجازت جس کو "رضا" کہتے ہیں، لینا ضروری ہے ... ہر موقعے پر داعی کی خدمت میں "نذرانہ" دینا لازم ہے .... میت کی تدفین کے لئے بھی داعی کی اجازت درکار ہوتی ہے ..... چنانچہ باغیوں کو ان کے قبرستانوں میں دفن نہیں کیا جاسکتا. غرض بوہرہ داعیوں کی ایک اپنی ریاست ہوتی ہے عرب ممالک میں انھیں "سلطان البواھر" بھی کہا جاتا ہے... بوہرہ داعی ہر علاقے میں عامل مقرر کرتا ہے جس کا کام مقامی بوہروں کے مذہبی امور نکاح وغیرہ انجام دینا اور نذرانوں کو داعی کے دفتر تک پہنچانا ہے ..... چند عاملوں کے اوپر ایک "مکاثر" ہوتا ہے جو عاملین کی کارکردی پر نظر رکھتا ہے ... مکاثر کے اوپر "ماذون" ہوتا ہے .... ماذون کے اختیارات بہت زیادہ ہوتے ہیں ..... داعی کا دفتر ایک سکریٹریٹ کے طور پر کام کرتا ہے. مختلف امور کے الگ الگ نگراں ہوتے ہیں... مثلا اہل سنت اور دیگر اسلامی فرقوں سے تعلقات کے لئے الگ ذمہ دار ہے جو وقت ضرورت مسلمان مشاہیر سے رابطے میں رہتا ہے اور داعی کے حکم کے مطابق مشترکہ مسلم معاملات میں بوہروں کی نمائندگی کرتا ہے.... حکومتی سطح پر وزرا سے رابطے کا الگ ذمہ دار ہے جو آنے والی ہر حکومت تک بوہروں کی ہمدردی پہنچاتا ہے ..... چنانچہ چند سال قبل ممبئی میں ان کے سیفی اسپتال کے افتتاح کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ آئے تھے اور پچھلے دنوں وزیر اعظم مودی نے موجودہ داعی سے اس کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی ..... اس سے قبل کے وزرائے اعظم نہرو، اندرا، راجیو گاندھی وغیرہ سے بھی اس وقت کے داعیوں کے اچھے تعلقات رہے ہیں.... حد تو تب ہوگئی جب موجودہ ترپن ویں داعی مفضل سیف الدین جو اس سال پاکستان میں محرم کی مجلسیں پڑھ رہا ہے، اس سے مشہور مبلغ مولانا طارق جمیل نے بھی اس کی قیام گاہ پر ملاقات کرکے اس کی اڑھائی ہوئی شال قبول کی ..... اس کا ویڈیو شوشل میڈیا پر بھی دیکھا گیا ... اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بوہروں کاشعبہ رابطہ عامہ کتنا مضبوط اور مستعد ہے..... بوہرہ داعی ہر سال الگ الگ ملک میں محرم کی مجلسیں پڑھتا ہے ...جہاں بھی یہ مجلسیں ہوتی ہیں، وہاں بڑی تعداد میں ساری دنیا سے بوہرے پہنچتے ہیں .... ان مجلسوں میں تبرا بھی کیا جاتا ہے مگر چونکہ یہ مجلسیں گجراتی زبان میں ہوتی ہیں، اس لئے عموما مسلمانوں کے سمجھ میں نہیں آتیں.... دراصل غالبا ۱۹۹۰ میں اس وقت کے داعی برہان الدین نے ممبئی میں محرم منایا تھا اور آخری مجلس میں اس نے ام المومنین اور خلفاء ثلاثہ پر تبرا کیا ... چونکہ ممبئی میں گجراتی عام طور پر سمجھی جاتی ہے اس لئے اسی وقت ہنگامہ ہوگیا ...کچھ مسلمان اس کی مجلس میں گھس گئے مار پیٹ ہوئی ... دوسرے دن بڑا احتجاجی جلسہ ہوا. تین دن کے اندر عوامی طور پر معافی کا مطالبہ کیا گیا ... مگر معافی کی بجائے مضحکہ خیز وضاحتی بیان دے کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی .... پھر وہ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا... ہزاروں مسلمانوں نے بوہرہ علاقے کو گھیرلیا ... توڑ پھوڑ ہنگامے ہوئے. دو بوہرے ہلاک بھی ہوئے.... بہرحال بعد از خرابی بسیار برہان الدین نے ٹیلیویزن پر اس وقت کے وزیر اعلی شرد پوار کی موجودگی میں تحریری معافی مانگی .... تب جاکر یہ معاملہ ختم ہوا....
بغیر نص کے دعوت:
پہلے گزر چکا کہ داعی کے لئے انتہائی ضروری یہ ہے کہ اس کو اس سے پہلے کے داعی نے نامزد کیا ہو اسی کو "نص" بھی کہتے ہیں ... مگر بوہرہ تاریخ میں نص سے متعلق بھی ایک تنازعہ موجود ہے ...... کہتے ہیں کہ چھیالیسویں داعی بدرالدین نے کی موت نص کرنے سے پہلے ہی ہوگئی تھی .. اس لئے سینتالیسویں داعی عبد القادر نجم الدین کو شرعی داعی نہیں کہا جاسکتا.... سورت میں بوہروں کا سب سے بڑا مذہبی مدرسہ جامعہ سیفیہ ہے. اس کے ایک سینئر شیخ نے اپنے درس میں یہی بات کہہ دی تھی کہ موجودہ دعوت بغیر نص کے چل رہی ہے ...... نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ دنوں بعد پر اسرار طور پر ان کی موت ہوگئی.... موجودہ داعی مفضل سیف الدین کے بارے میں بھی تنازع ہے... پچھلے داعی برہان الدین کے بھائی حذیفہ نے باقاعدہ عدالت میں دعوی کیا ہے کہ نص میرے بارے میں ہے، اس لئے داعی ہونے کا حق مجھے ہے .... برہان الدین نے حذیفہ کو ماذون بھی بنایا تھا .... مگر عام بوہروں نے اس دعوے کو قبول نہیں کیا... اور پھر حذیفہ کا انتقال بھی ہوگیا ہے .....
بوہرہ باغی گروپ:
اکیاونویں داعی طاہر سیف الدین کے وقت سےجب عام بوہروں پر ان کی زیادتیاں،چیرہ دستیاں اور ناانصافیاں زیادہ ہونے لگیں تو بوہروں کے درمیان اصغرعلی انجینئر، نعمان کنٹراکٹر وغیرہ کی قیادت میں اصلاحی تحریک شروع ہوئی...اس دوران نعمان کی لڑکی کی شادی میں کوئی بوہرہ قاضی نکاح پڑھانے کو تیار نہیں ہوا... اس کے انتقال پر کسی بوہرہ قبرستان میں اسے دفن نہیں کرنے دیا گیاـ ممبئی مرکنٹائل بنک ایک بوہرہ اللہ بخش نے قائم کیاتھا. زین الدین رنگون والا مینجگ ڈائرکٹر بھی  بوہرہ تھے. یہ لوگ بھی بوہرہ سربراہ کے مظالم سے تنگ آکر اصلاحی تحریک کے ساتھ ہوگئے... چنانچہ داعی مطلق نے فرمان جاری کردیا کہ سارے بوہرے اس بنک کا بائیکاٹ کریں اپنا سارا سرمایہ نکال لیں...اس کی ملازمت چھوڑدیں .... تقریبا سارے  بوہروں نے وہاں کے اپنے اکاونٹ بند کردئے ... سرمایہ دوسری بنکوں میں منتقل کردیا... نوکریاں چھوڑدیں .....اس کا دوسرا فائدہ یہ ہواکہ یہ نوکریاں دوسرے مسلم نوجوانوں کو مل گئیں... اس اصلاحی تحریک کو عام مسلمانوں کی ہمدردیاں اور انصاف پسند غیر مسلموں کی حمایت بھی حاصل تھی یہ تحریک اور بھی کامیاب ہوتی مگر بوہرہ داعیوں کی دولت ان کی دادودہش نے بہتوں کو خاموش کردیا نیـز یہ تحریک بوہروں تک محدود رہنے کی بجائے چھاگلہ، حمید دلوائی وغیرہ کے اٹرات کا شکار ہوکر مسلم پرسنل لا اور کامن سول کوڈ وغیرہ کے سلسلے میں عام مسلمانوں کی مخالفت کرنے لگی جس کی وجہ سے مسلمان بھی اس سے دور ہوتے چلے گئے...
بوہرہ کالونی:
اکیاون ویں داعی طاہر سیف الدین کی موت کے بعد اسیے بھنڈی بازارممبئی کے بوہری محلہ میں دفن کیا گیا... پھر اس کی قبر پر عالیشان مقبرہ تعمیر ہوا.... ۱۹۷۸ میں اس کے افتتاح کے لئے صدرجمہوریہ فخرالدین علی احمد، شیخ الازہر ڈاکٹر عبد الحلیم،  قاری باسط مصری، قاری خلیل الحصری، متعدد مسلم ممالک کے وزرا اور سفرا بھی شریک ہوئے... کچھ اور علما کا نام بھی لیا جاتا ہے مگر مجھے اس کی تحقیق نہیں ہے.... پچھلے سال باونویں داعی برہان الدین کو بھی وہیں دفن کیا گیا ہے... اب مقبرے کی آس پاس کی تمام عمارتیں بوہروں نے زبردستی زور دباؤ اور لالچ دے کر خرید لی ہیں... ساری بلڈگیں توڑ کر از سر نو تعمیر کی جارہی ہیں ..... حکومت سے پلان منظور کروالیا گیا ہے .... آس پاس کی مساجد اور مزارات کو بھی ہٹانے کا پروگرام تھا مگر مقامی لوگوں کی مخالفت کے ڈر سے ایسا نہیں ہوپایا ہے ..... وہ دن دور نہیں جب بھنڈی بازار جیسا مسلم اکثریتی علاقہ بوہرہ اکثریتی علاقہ ہوجائے گا...
حرف آخر:
ابتدا میں صرف بوہروں پر ہی لکھنے کا ارادہ تھا مگر لکھتے لکھتے پوری شیعت بیان ہوگئی... شیعوں اور بوہروں کے کچھ اور چھوتے چھوٹے فرقے ہیں جیسے "نصیری" جو حضرت علی کو خدا مانتے ہیں، انھیں علوی بھی کہا جاتا ہے.... شام کا "بشار رجیم" اسی فرقے سے تعلق رکھتا ہے ..... اسی طرح شیعوں کا ایک فرقہ "اخباری" کہلاتا ہے... یہ تقلید کی بجائے ظاہری روایات پر عمل کرتے ہیں..... بوہروں کا ایک فرقہ" دروزی" اور ایک "علوی" بھی ہے ..... یہ سب چھوٹے  فرقے ہیں اور ان کے بارے میں معلومات بھی میسر نہیں ہیں....
مولانا محمود دریابادی
........
ھمارے اسماعیلی مذہب کا نظام اور اسکی حقیقت،، یہ کتاب اس موضوع پر سب سے مستند اور تفصیلی معلومات پر مشتمل ھے زاہد علی خود اسماعیلی بوہرہ شیعہ تھے ان حضرات کے نصاب میں دیگر علوم کے بعد دو علم اور پڑھائے جاتے ھیں علم التأويل اور علم حقیقت زاہد علی نے جامعہ سیفیہ سورت میں آخر تک پڑھا تھا انھوں نے لکھاھے کہ آخری درس میں استاد نے اپنے تمام شاگردوں کو اس امر سے آگاہ کیا تھا کہ موجودہ دعوت نص کے بغیر چل رہی ھے (نص کی بحث کسی اور وقت) اس درس میں ملا برہان الدین بھی تھے جو بعد میں داعی مطلق بنے استاد کا نام غالبا سید سجاد تھا وہ ہر سال آخری درس میں تلامذہ کو علمی اور دینی امانت سمجھ کر انقطاع نص سے آگاہ کیا کرتے تھے، ملا برہان الدین کے داعی مطلق بننے کے بعد سجاد صاحب کراچی منتقل ھوگئے تھے جہاں جماعت خانے میں آتشزدگی کے حادثے میں سجادصاحب زندہ جل گئے تھے (یا جلادئے گئے تھے واللہ اعلم) ترقی پسند بوہرہ جماعت کا تمام تر اختلاف یہی انقطاع نص کا مسئلہ ھے وہ بوہرہ ملا کو نص کے منقطع ھونے کی بناء پر مذہبی سربراہ ماننے سے انکاری ھیں البتہ غاصب منتظم ماننے کے لئے تیار ھیں جو بوہرہ انتظامیہ کو منظور نہیں، زاہد علی صاحب کو یہ کتاب لکھنے کی پاداش میں بڑی سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا یہانتک کہ بیٹی جو ساتھ ہی رہتی تھی وہ جماعتی بائیکاٹ کی وجہ سے باپ کو نہ دوائیں کھلاسکتی تھی نہ کھانا پانی دے سکتی ھے  بوہرہ عالم جنکا مولانا محمود صاحب نے ذکر کیا ھے وہ اتوار کو پرانی کتابوں کی دوکان میں پابندی سے میرا انتظار کیا کرتے تھے مجھ سے گفتگو عربی ہی مین کرتے تھے اپنے عربی اشعار بھی سنایا کرتے تھے میں نے بھی کچھ اشعار عربی میں کہہ رکھے تھے وہ سناتا تو بہت خوش ھوتے، ذی علم آدمی تھے، مَیں نے بوہرہ تاریخ اور مذہبی کتابوں کی فرمائش کی تو بتایا کہ ھمارا سارا ذخیرہ قلمی ھے میں وقت نکال کر مطلوبہ کتابیں لیتا آؤنگا ایک ہوٹل میں لے جاکر گھنٹوں علمی موضوعات پر باتیں کیا کرتے تھے ایک دن میں نے یہ غلطی کردی کہ  مسئلہ امامت کے متعلق شیعہ فرقوں کے اختلافات، پھر اثنا عشری سے اسماعیلیہ کی علحدگی اسکے بعد اسماعیلیوں کی نزاری (خوجے) اور مستعلیہ(بواہر) میں تقسیم پھر بوہرہ کے درمیان داؤدی اور سلیمانی نیز دیگر ذیلی فرقوں کے اختلافات کومع بنائے اختلاف کے بیان کربیٹھا شیخ سب حیرت کے عالم میں بہت غور سے سنتے رہے آخر میں جب میں نے انقطاع نص اور ترقی پسند بولروں کا ذکر کیا تو چونک ایسے گئے اسکے بعد میں نے ان سے دریافت کیا کہ شیخ ایمانداری سے بتائیے کیا علم حقیقت کے آخری درس میں آپکے استاد نے بھی یہ خبر دی تھی کہ نص منقطع ھے موصوف نے اس سوال کے جواب میں صاف لفظوں میں اس کا اقرار تو کیا لیکن ساتھ یہ بھی پوچھ بیٹھے کہ تمھیں یہ سب کیسے معلوم ھوا میں نے عرض کیا میں بھی بہت کچھ پڑھتارہتا ہوں اس وقت تک مجھے زاہد علی صاحب کی کتاب نہیں مل سکی تھی، لہذا موسم بہار کا حوالہ دیا جسکے متعلقہ حصے کو میں دیکھ چکاتھا یہ کتاب اردو رسم الخط اور بوہرہ گجراتی میں ھے اور اسکے غالبا دوسرے حصے میں انقطاع نص کا قصہ تفصیل کے ساتھ منقول ھے اس ملاقات کے بعدھمارا ملناجلنا کم ھوگیا ایک مرتبہ ملے تو میں نے پھر کتابوں کی فرمائش کی تو بتایا کہ میں کراچی منتقل ھوگیا تھا کتابیں سب وہیں رکھی ھیں اسکے بعد ہی وہ بالکل منقطع اللقاء ھوگئے زاہد صاحب کی کتاب ھندوستان میں دستیاب نہیں ھے لیکن پڑوسی ملک میں طبع ھوچکی ھے زاہد صاحب کی دوسری کتاب تاریخ فاطمین مصر جس میں تاریخ کے ساتھ اسماعیلی عقائد کو بھی تفصیل سے لکھاگیاھے یہ کتاب بھی پڑوسی ملک سے چھپ چکی ھے. 
وقت نکال کر کسی وقت تفصیل سے اس موضوع پر ضرور کچھ لکھوں گا فی الحال چند دن تک مشغولیت زیادہ ھے. 
مفتی عزیز الرحمن

عقیقہ؛ نام کب رکھا جائے؟

عقیقہ میں نام کب رکھا جائے؟
کیا نام تبدیل کردینے سے عقیقہ کا اعادہ ضروری ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکرمی مفتی صاحب
السلام عليكم
مشہور ہے کہ جس نام سےعقیقہ ہوا ہے اسی نام سے نکاح بهی ہو،
دوسرے یہ کہ عقیقہ ہونے کے بعد اگر نام بدلنا چاہیں تو پھر عقیقہ کرنا پڑے گا؟
مدلل واضح فرماکر ممنون ہوں
محمد انور داؤدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق؛
نام سے شخصیت کا تعارف، اس کی شناخت اور پہچان ہوتی ہے۔ نام شخصیت کی حقیقت نہیں، اسی لئے نام کی تبدیلی سے مسمی تبدیل نہیں ہوتا۔۔۔۔
بچہ کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرنا اور نام رکھنا مستحب ہے۔ نام رکھنے میں مسنون طریقہ یہ ہے کہ ساتویں دن نام رکھا جائے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسنین کے نام ساتویں دن رکھے تھے۔ پھر ساتویں دن میں بھی افضل اور اولی یہ ہے کہ پہلے نام رکھ دیا جائے پھر عقیقہ کیا جائے۔ ہرچند کہ تاخیر بھی جائز ہے!
لیکن بخاری کی روایت سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدائش کے پہلے دن بھی بعض بچوں کے نام رکھے ہیں۔ اسی طرح روایات میں وارد عمل عقیقہ کی ترتیب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جانور ذبح کرنے کے بعد بھی نام رکھا جاسکتا ہے:
ابن ماجہ وترمذی کی روایت میں تاخیر تسمیہ علی الذبح کی تصریح ہے لیکن شراح  اس ذیل میں لکھتے ہیں کہ تقدیم التسمیہ علی الذبح اگرچہ افضل و بہتر ہے! لیکن  مسنون دونوں طریقے  ہیں:
1522 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ [ص: 86] قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُذْبَحَ عَنْ الْغُلَامِ الْعَقِيقَةُ يَوْمَ السَّابِعِ فَإِنْ لَمْ يَتَهَيَّأْ يَوْمَ السَّابِعِ فَيَوْمَ الرَّابِعَ عَشَرَ فَإِنْ لَمْ يَتَهَيَّأْ عُقَّ عَنْهُ يَوْمَ حَادٍ وَعِشْرِينَ وَقَالُوا لَا يُجْزِئُ فِي الْعَقِيقَةِ مِنْ الشَّاةِ إِلَّا مَا يُجْزِئُ فِي الْأُضْحِيَّةِ
سنن الترمذي
وقد ثبت تسمية المولود يوم يولد. ففي صحيح البخاري عن أبي موسى قال: ولد لي غلام فأتيت به النبي صلى الله عليه وسلم فسماه إبراهيم فحنكه بتمرة الحديث. وفيه عن أبي أسيد أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم بابنه حين ولد فسماه المنذر، وفي صحيح مسلم عن أنس رفعه قال: ولد لي الليلة غلام فسميته باسم أبي إبراهيم الحديث۔۔۔ تحفة الأحوذي
3165 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ [ص: 1057] عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى
سنن إبن ماجة۔

ذبح وتسمیہ کے حوالہ سے الفاظ حدیث کی ظاہری ترتیب یہ بتادینے کے لئے کافی ہے کہ نام رکھنے یا نہ رکھنے یا نام کی تبدیلی سے عقیقہ کی اصلیت پہ کچھ فرق نہیں پڑتا۔۔۔
جس طرح بعد عقیقہ نام رکھنے سے عقیقہ پہ کچھ فرق نہیں پڑتا اسی طرح تقدیم تسمیہ کی صورت میں بعد عقیقہ نام بدل دینے سے  بھی سابقہ عقیقہ پہ کچھ فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔
جس نام سے عقیقہ ہوا ہو اسی نام سے نکاح پڑھایا جانا بھی رسم ورواج کے قبیل سے ہے۔شریعت میں اس قسم کی کوئی تعلیم وہدایت نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مختلف صحابہ وصحابیات کے برے اور غیر مناسب نام وکنیت تبدیل فرمائے ہیں۔
نہ کسی کے عقیقہ کا اعادہ ہوا نہ نکاح کا۔
2139 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ ابْنَةً لِعُمَرَ كَانَتْ يُقَالُ لَهَا عَاصِيَةُ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيلَةَ
صحيح مسلم
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ (نافرمان) تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے اس کو بدل کر جمیلہ (خوبصورت) رکھ دیا۔
[ص: 2289] بَاب تَحْوِيلِ الِاسْمِ إِلَى اسْمٍ أَحْسَنَ مِنْهُ
5838 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ قَالَ أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ فَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ فَاحْتُمِلَ مِنْ فَخِذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفَاقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ الصَّبِيُّ فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ قَلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا اسْمُهُ قَالَ فُلَانٌ قَالَ وَلَكِنْ أَسْمِهِ الْمُنْذِرَ فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ۔
صحيح البخاري. ومسلم برقم 2149.

حضرت سہل بن سعد ص کہتے ہیں جب منذر بن ابی اسید پیدا ہوئے تو ان کو نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ ﷺ نے ان کو اپنی گود میں رکھا اور پوچھا کہ اس (بچے) کا کیا نام ہے۔ بتایا کہ اس کا یہ نام ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں (یہ نام درست نہیں ) بلکہ اس کا نام (آئندہ سے) منذر (ڈرانے والا) ہوگا (جو آدمی دین میں تفقہ حاصل کرکے بنتا ہے)۔
4954 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ عَمِّهِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ أَصْرَمُ كَانَ فِي النَّفَرِ [ص: 289] الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُكَ قَالَ أَنَا أَصْرَمُ قَالَ بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ
سنن أبي داؤد
وَقَالَ (ابوداؤد) وَغَیَّرَ النَّبِیُّ ﷺ اِسْمَ الْعَاصِ وَعَزِیْزٍ وَعَتَلَۃَ وَشَیْطَانٍ وَالْحَکَمِ وَغُرَابٍ وَحُبَابٍ وَشِھَابٍ۔

حضرت اسامہ بن اخدری ص سے روایت ہے کہ ایک شخص جس کا نام اصرم (یعنی کٹا ہوا) تھا ان لوگوں میں تھا جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے (اس شخص سے) پوچھا تمہارا کیا نام ہے۔ اس نے جواب دیا کہ (میرا نام) اصرم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں (اصرم ٹھیک نہیں ہے) بلکہ (میں تمھارا بہتر نام تجویز کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم زرعہ ہو (یعنی کھیتی ہو)۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی