Tuesday, 3 October 2017

چرم قربانی کی رقم میں حیلہ تملیک؟

تعمیر مدرسہ کے لئے چرم قربانی کی رقم میں حیلہ تملیک ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم،
اللہ آپ کی زندگی کو سلامت رکھے، آمین،  سوال. میری بستی میں ایک مدرسہ ہے، تعلیم القرآن. تقریبا چارسال سے بہار بورڈ سے منسلک ہے. مدرسہ کا نہ تو کوئی رسید ہے نہ ہی مطبخ. قربانی کے کھال کی رقم کے سلسلہ میں ہر سال عوام کےدرمیان کشیدگی پیدا ہوتی ہے.  کیا ایسے مدرسے میں دو بچوں کے وظيفہ كا حيلہ بناكر كهال کی رقم یا صدقہ کی رقم لے کر مدرسہ کی تعمیرو توسیع میں لگانا شرعا درست ہے یا نہیں؟ قرآن وحديث كي روشنی میں جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں،
تقی الدین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
قربانی کی کھالیں فروخت سے قبل امیر غریب سب کو ہدیہ کے طور پہ دی جاسکتی ہیں۔ لیکن فروخت کے بعد ان میں غرباء ومساکین کے حقوق وابستہ ہوجاتے ہیں۔ اب قیمت کو غرباء ومساکین پہ صدقہ کرنا واجب اور ضروری ہے۔
عام احوال میں اس رقم کو مدرسہ کی تعمیر میں صرف کرنا جائز نہیں ہے۔ اور نہ ہی بلا ضرورت شدیدہ حیلہ بہانہ کے ذریعہ (تملیک) تعمیر میں صرف کرنا جائز ہے، کیونکہ اس صورت میں صاحب حق کی حق تلفی لازم آئے گی جو شرعا ناجائز ہے۔
ہاں کوئی اقامتی مدرسہ (نہ کہ مکتب وغیرہ ) ہو۔ وہاں واقعتا طلبہ دین تعلیم حاصل کرتے ہوں۔ ان کی درسگاہوں اور اقامتی ہاسٹلوں کا خاطر خواہ کوئی نظم نہ ہو تو اس واقعی شدید ضرورت کے پیش نظر شرعی حیلہ تملیک (مستحق زکات بالغ طلبہ کو زکات یا چرم کی رقم کا مالک اور خود مختار بنادیا جائے اور پھر وہ اپنی رضاء ورغبت سے مکمل رقم یا اس میں سے کچھ پھر مدرسہ کو ہبہ کردیں)
کے ذریعہ تعمیرات میں چرم کی رقم کے استعمال کی گنجائش ہے ۔۔۔ محض شوقیہ تعمیرات کے لئے اس قسم کا حیلہ قطعی ناجائز ہے۔ الضرورة تتقدر بقدرها.
شامی میں ہے:
ویتصدق بجلدہا أو یعمل منہ نحو غربال و قربۃ … فإن بیع اللحم أو الجلد بہ أی بمستہلک أو بدراہم تصدق بثمنہ وتحتہ فی الشامیۃ: لقولہ علیہ السلام لعلیؓ: تصدق بجلالہا و خطامہا ولا تعط أجر الجزار منہا شیئا۔ (در مختار مع الشامی، کتاب الأضحیۃ، زکریا ۹/ ۴۷۵، کراچی ۶/۳۲۸، ہدایہ اشرفی ۴/۴۵۰، مجمع الأنہر، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۴/۱۷۴، مصری قدیم ۲/۵۲۱)
ولا تدفع الزکاۃ لبناء مسجد؛ لأن التملیک شرط فیہا ولم یوجد، وکذا بناء القناطر وإصلاح الطرقات وکری الأنہار والحج والجہاد، وکل ما لا تملیک فیہ، وإن أرید الصرف إلی ہٰذہ الوجوہ صرف إلی فقیر، ثم یأمر بالصرف إلیہا فیثاب المزکی والفقیر۔ (مجمع الأنہر ۱؍۲۲۲ دار إحیاء التراث بیروت)
لا یصرف إلی بناء نحو مسجد کبناء القناطر والسقایات، وإصلاح الطرقات وکری الأنہار، والحج والجہاد، وکل ما لا تملیک فیہ۔ (شامي ۳؍۲۹۱ زکریا)
أما الاحتیال لإبطال حق المسلم فإثم وعدوان ، وقال النسفی فی الکافی عن محمد بن الحسن قال: لیس من أخلاق المؤمنین الفرار من أحکام اللہ بالحیل الموصلۃ إلیٰ إبطال الحق ۔(عمدۃ القاری ، داراحیاء التراث العربي۲۴/۱۰۹، زکریا دیوبند۱۶/۲۳۹، تحت رقم الحدیث: ۶۹۵۳)
وفی التملیک إشارۃ إلیٰ أنہ لا یصرف إلیٰ مجنون وصبی غیر مراہق إلا إذا قبض لہما من یجوز لہ قبضہ کالأب والوصی وغیرہما۔ (شامی، کتاب الزکاۃ، باب المصرف ،کراچی۲/۳۴۴، زکریا۳/۲۹۱)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

پہلی بیوی کی اولاد سے نکاح

بیوی کے پہلے شوہر کی اولاد سے شوہر کی پہلی بیوی کی اولاد کا نکاح جائز ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین  درج ذیل مسئلہ کے متعلق کہ؛
زید اور ہندہ کا اس حال میں باہم نکاح ہوا کہ دونوں کے پاس ایک ایک اولاد ہے ایک لڑکا اور ایک لڑکی بعدہ زوجین کے درمیان بذریعہ طلاق تفریق ہو گئی، اب ان دونوں کے اولاد کا آپس میں نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
دلائل و براہین کی روشنی میں مئسلہ کی تشفی بخش توضیح و تشریح فرماکر عنداللہ ماجور ہوں!!
المستفتی: محمد اقبال حسن جھارکھنڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
جی ہاں دونوں کی آپس میں شادی  اصلا ہوسکتی ہے۔ زوجین میں تفریق نہ ہوتی پھر بھی ان دونوں کا آپس میں مناکحت جائز تھی۔ کیونکہ ان دونوں کے مابین کوئی وجہ حرمت نہیں:
واحل لكم ما وراء ذالكم.  النساء 24.
البحرالرائق میں ہے:
قالوا لابأس أن يتزوج الرجل امرأة أو يتزوج إبنة امها أو "بنتها" لأنه لامانع .وقد تزوج محمد بن الحنفية إمرأة. وزوج إبنه بنتها. البحر الرائق 105/3.كتاب النكاح. فصل في المحرمات....... كذا في فتح القدير: 364/2. فصل في المحرمات .ط دار صادر.بيروت
البحر الرائق کی بین الواوین !
عبارت آپ کے مسئلہ کی فقہی دلیل ہے۔۔۔ (مستفاد آپ کے مسائل اور ان کا حل 167/6)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے /سیدپور

ایک رکعت کے مسبوق پر بھی تشہد واجب ہے

ایک رکعت کے مسبوق پر بھی تشہد واجب ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام عليكم
امید کہ بخیر ہونگے،
عرض یہ ہے کہ ایک شخص مسجد میں اس وقت پہنچا کہ امام ایک رکعت پڑهاچکا تها، کیا قعدہ اولی میں جس کی ایک رکعت چهوٹ گئی تهی وه بهی التحیات پڑهے گا؟ مدلل تحریر فرماکر مشکور ہوں،
محمد انور داؤدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
امام کی متابعت میں اس پر بھی تشہد پڑھنا واجب ہے۔ کیونکہ مقتدی وہ بھی ہے اور مقتدی پہ تشہد پڑھنا واجب ہوتا ہے۔ پھر جب یہ مسبوق سلام کے بعد اپنی بقیہ رکعتیں پوری کرنے کے لئے کھڑا ہوگا تو اس وقت بھی ہر قعدہ پہ تشہد پڑھنا واجب ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے؛
کمن ادرک الامام فی القعدۃ الاولیٰ فقعد معہ فقام الامام قبل شروع المسبوق فی التشہد فانہ یتشہد تبعاً لتشہد امامہ۔
(جلد اول صفحہ 551)
ہکذا فی کتاب الآثار صفحہ 56۔
ہکذا فی الھندیہ  ص۹۱ جلد۱ الفصل السابع فی المسبوق واللاحق)۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

قبرستان میں جوتا چپل پہن کر جانا

قبرستان میں جوتا چپل پہن کر جانا کیسا ہے؟؟؟
-------------------------------------------------
سائل..     محمد جمیل سیدپور بیگوسرائے
---------------------------------------
قبروں کی توہین اور بے حرمتی شرعا ممنوع ہے۔ جہاں قبر نہ ہو اس کے لئے یہ احترام نہیں۔ اس بناء پر قبروں سے بچتے ہوئے  پیادہ پاؤں بھی اور جوتے چپل پہن کے بھی قبرستان میں چلنا جائز ہے ۔۔۔ قبروں پہ پیدل چلنا جائز ہے نہ جوتا چپل کے ساتھ۔
والمشی فی المقابر بنعلین لایکرہ عندنا کذا فی السراج الوہاج۔ (ہندیہ ، الصلوٰۃ ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ، الفصل السادس فی القبر والدفن زکریاقدیم ۱/۱۶۷، جدید۱/۲۲۸)
ولایکرہ المشي فی المقابر بالنعلین عندنا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی ، فصل فی زیارۃ القبور، دارالکتاب دیوبند/۶۲۰)
کرہ وطئہا بالأقدام۔ (حاشیۃ الطحطاوی ، دارالکتاب دیوبند/۶۲۳)

شکیل منصور القاسمی

Monday, 2 October 2017

مندر میں چندہ دینا کیسا ہے؟

مندر میں چندہ دینا کیسا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مندر کی تعمیر میں مسلمان کا تعاون کرنا شرعا کیسا ہے؟ اگر کوئی کردے تو کیا گنہگار ہوگا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
خیر ،نیکی بھلائی اور تقوی کے کاموں میں تعاون کرنے کا اسلامی شریعت نے حکم دیا یے۔ جبکہ شر ،گناہ اور شرکیہ کفریہ امور میں مدد کرنے سے منع کیا ہے۔
ارشاد باری ہے:
قال اللّٰہ تعالیٰ: {تعاونوا على البر والتقوى وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} 
[المائدۃ، جزء آیت: ۲]
ہو عام لکل برٍ وتقویٰ وإثم وعدوانٍ، ہٰکذا قال المفسرون۔ (التفسیرات الأحمدیۃ ۳۳۱ المکتبۃ الحقانیۃ پشاور)
قال الحافظ ابن کثیر رحمہ اللّٰہ: ’’یأمر تعالیٰ عبادہ المؤمنین بالمعاونۃ علی فعل الخیرات وہو البر، وترک المنکرات وہو التقویٰ۔ وینہاہم عن التناصر علی الباطل والتعاون علی المآثم والمحارم۔ (تفسیر ابن کثیر ۲؍۱۰ دار السلام ریاض)
اس لئے کسی بھی کفر وشرک کی عبادت گاہ کی تعمیر وتوسیع میں مسلمان کا چندہ دینا اور تعاون کرنا "اعانت علی المعصیت" کی وجہ سے بنص قرآنی حرام اور امر معصیت ہے۔ اگر کوئی مسلمان ایسا کربیٹھا ہو تو ندامت کے ساتھ توبہ واستغفار کرے۔
اگر کہیں اس طرح کی مجبوری درپیش ہو تو موقع محل کی نزاکتوں کی رعایت کے ساتھ بچ بچائو کی کوئی شکل نکال لے۔ورنہ آخر میں شخصی طور پہ  سامنے موجودکسی کافر یا مشرک کو کچھ ھدیہ کردے وہ اس رقم کو اپنی مرضی سے مندر کی تعمیر میں لگادے۔ تو یہ اس کا  ذاتی عمل  ہوگا اوروہ خود اس کا ذمہ دار اور جواب دہ ہوگا!
عن الإمام القرا في أنہ أفتیٰ بأنہ لا یعاد ما انہدم من الکنائس، وأن من ساعد علی ذلک، فہو راض بالکفر والرضا بالکفرکفر۔ (شامي، فصل في الجزیۃ، مطلب في أحکام الکناس والبیع، زکریا ۶/۳۳۰، کراچي۴/۲۰۵)
ہکذا فی المحمودیہ ۔پاکستانی431/24 )۔(فتاویٰ محمودیہ ۲۹؍۳۶۱ میرٹھ، امداد الفتاویٰ ۳؍۱۳۰)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

Friday, 29 September 2017

خلع کی اجازت کب ہے؟

خلع کی اجازت کب ہے ؟
سوال
۔۔۔۔۔۔۔
ایک شخص شادی کے بارہ سال بعد اچانک چھت سے گرجانے کی وجہ سے لقوہ زدہ ہوگیا ہے. کمر سے نیچے تک جان نہیں ہے. پاخانہ پیشاب بذریعہ پائپ کروایا جاتا ہے. ۸ اور ۵ سال کی دوبیٹیاں بھی ہیں. اس حادثہ کے بعد وہ بیوی سے جنسی تعلقات بنانے سے معذور ہوگیا نیز بیوی بچوں کی کفالت پر بھی قادر نہیں ہے ... اب بیوی اس سے خلع چاہتی ہے. کیا وہ ایسی حالت میں شوہر سے خلع لے سکتی ہے جب کہ اس کا شوہر اپاہج ہوگیا ہو اور بیوی کی جنسی خواہش کی تکمیل نہ ہورہی ہو اور نان و نفقہ بھی ادا نہ کیا جا رہا ہو.
براہ مہربانی جلد جواب عنایت فرمائیں.
ایس اے ساگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
نکاح زندگی بھر ساتھ نبھانے کا مقدس رشتہ ہے۔بلاوجہ اس بندھن کو توڑنا نہ صرف خداودند قدوس کی نظر میں مبغوض ہے بلکہ ایسا کرنے والے پر زبان رسالت سے سخت وعید سنائی گئی ہے۔ایک حدیث میں کہا گیا ہے جو عورت بلا وجہ اپنے شوہروں سے طلاق کا مطالبہ کرے اس پہ جنت کی خوشبو بھی حرام ہے
1187 أَنْبَأَنَا بِذَلِكَ بُنْدَارٌ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ (سنن الترمذي  ۔باب المختلعات)
لیکن جس طرح دینی واخلاقی ومعاشرتی حق تلفی کے وقت طلاق مباح ہے، ٹھیک اسی طرح اگر جنسی جذبات وخواہشات کی تکمیل میں شوہر کی طرف سے رکاوٹیں آرہی ہوں اور عورت ناقابل تحمل مشقتوں کی شکار ہوگئی ہو تو آخری چارہ کار کے طور پر عورت اپنے شوہر سے اپنا مہر دین معاف کرکے یا کچھ لے دے کے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرسکتی یعنی خلع لے سکتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ شوہر بھی اس پہ راضی ہو۔کیونکہ خلع دیگر عقود کی طرح ایک عقد ومعاملہ ہے جس میں فریقین کی رضامندی سے یہ معاملہ منعقد ہوسکتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ جس طرح زوجین میں نباہ نہ ہونے کی صورت میں خلع کی اجازت ہے، اسی طرح اخلاقی، معاشی اور صنفی حقوق کے متاثر ہونے کے وقت بھی اس کی اجازت ہے۔ قرآن کریم نے "حدود" کے لفظ کے ذریعہ بہت بلیغ  وجامع اسلوب میں اس جانب اشارہ کیا ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں بیوی جسمانی اعتبار سے مجبور شوہر سے اس کی رضامندی سے خلع لے سکتی ہے۔
ہاں اتنا ضرور ہے کہ طلاق ہی کی طرح محض لذت اندوزی کے طور پہ خلع کا مطالبہ کرنا بھی ناجائز اور بدبختانہ عمل ہے اور ایسا کرنے والی خاتون اللہ کی نظر میں ملعونہ ہے اور جنت کی خوشبو سونگھنے تک سے محروم رہے گی۔
1186 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا مُزَاحِمُ بْنُ ذَوَّادِ بْنِ عُلْبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ لَيْثٍ عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَرُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ لَمْ تَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ (سنن الترمذي) ۔
4971 حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْبَلْ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ لَا يُتَابَعُ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ .صحيح البخاري .باب الخلع.
فی الملخص والإیضاح: الخلع عقد یفتقر إلی الإیجاب والقبول یثبت الفرقۃ و یستحق علیہا العوض۔ (تاتارخانیۃ زکریا ۵/۵ رقم: ۷۰۷۱)
والخلع جائز عند السلطان وغیرہ لأنہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود وہو بمنزلۃ الطلاق بعوض۔ (المبسوط للسرخسی، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۶/۱۷۳)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے /سیدپور۔
بہار ٨\١\١٤٣٩هجری

Wednesday, 27 September 2017

آٹھ سالہ بچہ کی پرورش کا حق؟

آٹھ سالہ بچہ کی پرورش کا حق ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک آٹھ سالہ بچے کے والد کا انتقال ہوگیا ہے. والد کے گھر والے بچے کو اپنی پرورش میں لینا چاہتے ہیں اور ماں اپنی پرورش میں براہ کرم واضح فرمائیں کے پرورش کا حق کسے حاصل ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
سات سال تک لڑکے کی، اور بالغ ہونے تک لڑکیوں کی پرورش کا حق ماں کو ملتا ہے۔تعلیم وتربیت کے اخراجات باپ یا پھر دادا کے ذمہ ہیں۔
اس کے بعد لڑکے لڑکی اپنی خوشی سے جس رشتہ دار کے پاس رہنا چاہیں، رہ سکتے ہیں۔
ہاں اگر ماں نے بچوں کے غیر محرم کے ساتھ نکاح کرلیا ہو تو اب مذکورہ مدت سے قبل ہی ماں کا حق پرورش ختم ہوجائے گا۔

قال العلامۃ المرغینانی: اذا وقعت الفرقۃ بین الزوجین فالام احق بالولد… فقال علیہ السلام انت احق بہ مالم تتزوجی۔ (ہدایہ ۲:۴۳۸ باب حضانۃ الولد ومن احق بہ)
{۳} (فتاویٰ عالمگیریہ ۱:۵۴۲ الباب السادس عشر فی الحضانۃ)
وفی الدرالمختار (۵۶۲/۳) باب الحضانۃ: ( ثم ) أي بعد الأم بأن ماتت أو لم تقبل أو أسقطت حقهاأوتزوجت بأجنبي (أم الأم)وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور۔۔۔ (ثم) الأخت (لأب) ثم بنت الأخت لأبوين ثم لأم ثم لأب (ثم الخالات كذلك) أي لأبوين ۔
’’ الأم و الجدۃ أحق بالجاریۃ حتی تحیض ‘‘ (الھدایۃ : ۲/۴۳۵)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی