Monday, 3 October 2016

عجب الذنب... دمچی رہے گی باقی

ایس اے ساگر
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ابن آدم جب فوت ہو جاتا ہے تو اس کا جسم تحلیل ہو جاتا ہے سوآئے اس چھوٹی سی ریڑھ کی ہڈی کے جو کہ اس کی پیٹھ کے سب سے نیچے ہوتی ہے۔ تو اہل علم حضرات کے نزدیک جب قیامت قائم ہو گی تو اللہ تعالی زمین پر بارش سے جسموں کو اگائے گا تو جسم اس ہڈی سے اگیں گے اور انسان کی دوبارہ پیدائش ہو گی جس طرح کہ وہ موت سے قبل تھا ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے یوں فرمایا : (دونوں صوروں کی پھونک کے درمیان چالیس کا وقفہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ چالیس دن ؟ انھوں نے کہا، میں اس کا انکار کرتا ہوں. راوی کہتے ہیں کہ، چالیس مہینے ؟ انھوں نے کہا، میں اس کا انکار کرتا ہوں. راوی کہتے ہیں کہ چالیس سال؟ انھوں نے کہا، میں اس کا انکار کرتا ہوں. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا، پھر اللہ تعالی آسمان سے پانی (بارش) نازل فرمآئے گا تو وہ اس طرح اگیں گے جس طرح کہ سبزی اگتی ہے، سوآئے ایک ہڈی کے انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہو جائے گی اور وہ ریڑھ کی ہڈی میں سب سے چھوٹی اور نچلی ہے تو اس سے قیامت کے دن مخلوق کی ترکیب ہوگی). صحیح بخاری، حدیث نمبر (4651) صحیح مسلم حدیث نمبر (2955). امام نووی رحمہ اللہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان :(دونوں صوروں کی پھونک کے درمیان چالیس کا وقفہ ہے شاگرد کہنے لگے، اے ابو ہریرہ چالیس دن ؟ انھوں نے کہا، میں اس کا انکار کرتا ہوں حدیث کے آخر تک). اس کے معنی یہ ہے کہ میں یقینی طور پر کہنے سے انکار کرتا ہوں کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال ہوں گے بلکہ یہ یقینی چیز ہے وہ یہ کہ اس چالیس کو مجمل ہی رہنے دیا جائے اور مسلم کے علاوہ دوسری روایات میں اس کی تفسیر آئی ہے کہ اس سے مراد چالیس سال ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان (عجب الذنب) یہ عین پر فتحہ (زبر) اور جیم پر سکون (جزم ) کے ساتھ ہے یعنی وہ پتلی اور چھوٹی سی ہڈی جو کہ پیٹھ میں سب سے نیچے ہوتی ہے اور وہ دم کی اصل اور اسے ( عجم ) میم کے ساتھ دم کی جڑ کہا جاتا ہے جو کہ انسان میں سب سے پہلے پیدا ہوتی ہے اور یہی باقی رہے گی تا کہ دوبارہ اس کی پیدائش کی جا ۓ ۔ مسلم کی شرح شرح المسلم (18 /92) تو جب اپنی قبر سے نکل کر اکٹھا ہونے کے بعد حساب وکتاب ہو جائے گا تو اسی طرح اس کا جسم باقی رہے گا جس طرح کہ موت سے پہلے تھا تو جب جنتی جنت اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالی ان کی شکلوں اور صورتوں کو بدل دے گا ۔ جہنمیوں کی صفات : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( کافر کے دونوں کندھوں کے درمیان تیز چلنے والے سوار کے تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہو گا ) صحیح بخاری حدیث نمبر (6186) صحیح مسلم حدیث نمبر (2852) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( کافر کی داڑھ – یا کچلی والا دانت) احد پہاڑ کی مانند ہو گا اور اس کے چمڑے کی موٹائی تین کی مسافت ہو گی) صحیح مسلم حدیث نمبر (2851) جنتیوں کی صفات : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (جنت میں سب سے پہلا گروہ اسی شکل میں داخل ہو گا جس طرح کہ چودھویں رات کا چاند ہو، پھر ان کے بعد اس ستارے کی مانند جو کہ آسمان میں سب سے زيادہ چمکدار اور روشن زیادہ ہے وہ نہ تو پیشاب کریں گے اور نہ ہی پاخانہ اور نہ ہی تھوکیں اور نہ ہی انہیں ناک آئے گا ان کی کنگھیاں سونے اور پسینے کی خوشبو مسک کستوری کی اور ان کی انگیٹھیوں میں اگر کی لکڑی ایک خوشبو دار لکڑی جلتی ہو گی اور ان کی بیویاں حور العین ہوں گی ان کی پیدائش ایک آدمی کی پیدائش ان کے باپ کی صورت پر آسمان میں ساٹھ ہاتھ ہو گی) صحیح بخاری حدیث نمبر (3149) صحیح مسلم حدیث نمبر (2834) رشحہم : ان کا پسینہ: مجامرہم : ان کے خوشبو کے دھونی دھان ۔ الالوۃ الالنجوج : یہ ایسی لکڑی ہے کہ جس سے خوشبو دار دھونی لی جائے ۔ النجوج الالوہ کی تفسیر ہے اور عود الطیب تفسیر کی تفسیر ہے فتح الباری میں اسی طرح ہے ۔ (6 / 367) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (جنتی جنت میں ننگے اور بغير داڑھی اور آنکھوں میں سرمہ ڈالا ہوا اور تیس اور تینتیس سال کی عمر کی حالت میں داخل ہوں گے) سنن ترمذی حدیث نمبر (2545) اسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع (8072) میں صحیح کہا ہے ۔ واللہ اعلم . کیا کہتا ہے سائنس؟ ماہرین کے نزدیک قرآن مجید اور جدید سائنس کی ثابت شدہ حقیقتوں میں بے مثال مطابقت پائی جاتی ہے ۔ جو قرآن کے منجانب اللہ ہونے کی بہترین دلیل ہے۔ طارق اقبال سوہدروی رقمطراز ہیں کہ دُمچی کی ہڈی (Coccyx) دُمچی کی ہڈی انسان کی ریڑھ کی ہڈی کے ستون(Column) کی آخری ہڈی ہے۔ متعدد احادیث ِمبارکہ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ انسانی ڈھانچے کی ابتدا دُمچی کی ہڈی سے شروع ہوتی ہے۔ مزید برآں مرنے کے بعد قبر میں انسان کے جسم کو مٹی کھا جاتی ہے مگر دُمچی کی ہڈی سلامت رہے گی اور قیامت کے دن اسی سے آدمی کا ڈھانچہ دوبار کھڑا کیا جائے گا۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ، حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ''دونوں صوروں کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہے لوگوں نے کہا یاا بوھریرہ، چالیس دن کا ؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، میں نہیں کہہ سکتا. پھر انھوں نے دریافت کیا، چالیس مہینوں کا ؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں کچھ نہیں کہہ سکتا، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہو جائے گی مگر دُمچی کی ہڈی باقی رہے گی پھر قیامت کے دن اسی سے آدمی کا ڈھانچہ کھڑا کیا جائے گا.'' (1) دوسری حدیث کے راوی بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی ہیں : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ''اولاد آدم کے جسم میں ایک ہڈی ایسی ہے جسے مٹی نہیں کھائے گی اور وہ دُمچی کی ہڈی ہے '' (2) چنانچہ مندرجہ بالا احادیث سے درج ذیل باتوں کا پتہ چلتاہے: 1۔ انسانی ڈھانچے کی ابتدا دُمچی کی ہڈی سے ہوتی ہے۔ 2۔ دُمچی کی ہڈی کو مٹی نہیں کھائے گی۔ اور 3۔ قیامت والے دن اسی ہڈی سے انسانی ڈھانچے کو ازسرنو زندہ کھڑ ا کر دیا جائے گا۔ جنین کی خلقت کے مراحل میں دُمچی کی ہڈی کا کردار انسانی نطفہ بیضے کو جب بارآور کرتاہے تو زائیگوٹ کے بننے سے جنین کی پیدائش کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔ زائیگوٹ 'دو خلیوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور پھر دو خلیوں سے چار خلیے بن جاتے ہیں اور ان کی تقسیم اسی طرح جاری رہتی ہے تاآنکہ جنین ایک ڈسک کی شکل اختیارکرلیتا ہے جس کی دو تہیں ہوتی ہیں ایک بیرونی اور دوسری اندرونی۔ بیرونی تہہ کو Epiblast کہتے ہیں۔ یہ جنین کو رحم کی دیوار کے ساتھ جمادیتی ہے اور رحم کی دیوار کے غدودوں سے خارج ہونے والے مواد اورخون سے اس کی خوراک کا بندوبست کرتی ہے۔ اندرونی تہہ کو Hypoblast کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جنین کے جسم کی ابتدا اسی تہہ سے کرتے ہیں اور تقریباً 15دن کے بعد جنین کی پشت یعنی پیٹھ پر ابتدائی لکیریں Primitive Streaks بننا شروع ہوجاتی ہیں جن کے سرے نوک دار ہوتے ہیں 'ان کو ابتدائی ابھار یا گلٹی Primitive Node کہا جاتاہے۔ ان ابتدائی لکیروں اورابھاروں سے جنین میں جو مختلف ریشے، بافتیں اورا عضا بنتے ہیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔ جلد کی بیرونی تہہ Ectoderm : اس سے جلد اورمرکزی اعصابی نظام تشکیل پاتا ہے۔ جنین کی درمیانی بافتی تہہ Mesoderm : اس سے نظام ہضم کے پٹھے، انسانی پنجر یا ڈھانچے کے پٹھے، نظام دورانِ خون، دل، جنسی اور پیشاب کے نظام، مثانوں کے علاوہ، زیر جلد پائی جانے والی بافتیں اور بافتوں میں پائے جانے والے بے رنگ مائع کا نظام Lymphatic System، تلی Spleen، اوردماغ کا بیرونی حصہ Cortex تشکیل پاتاہے۔ جنین کی اندرونی تہہ Endoderm : اس حصے میں نظام ہضم کے متعلقہ اعضا؛ مثلاً جگر ، لبلبہ وغیرہ)، نظام تنفس، مثانہ، غدۂ ورقیہ Thyroid Gland، اورکان کی نالی Hearing Canal پر استرکاری Linings ہوتی ہے۔ اس کے بعد ابتدائی لکیریں اور ابھار سوکھ جاتے ہیں اور ریڑھ کی ہڈی کے آخری حصے یعنی مقعد کی ہڈی کی جگہ ٹھہر جاتے ہیں، چنانچہ اسی سے دُمچی کی ہڈی تشکیل پاتی ہے۔ یعنی جنین میں پید ا ہونے والی ابتدائی لکیریں اور ابھار ہی دُمچی کی ہڈی کی شکل اختیا ر کرلیتے ہیں۔ جنین کی بناوٹ وتشکیل میں نقص Malformation جنین کی بناوٹ میں نقص اس بات کا ثبوت ہے کہ دُمچی کی ہڈی میں ماں کے وہ تمام خلیے پائے جاتے ہیں جو ایک انسان کی بافتوں کے لئے ضروری ہیں۔ جنین کی پیدائش اور بناوٹ کے بعد ابتدائی لکیریں اور ابھار پیڑو کے پیچھے کی تکونی ہڈی یعنی مقعد کی ہڈی (دُمچی کی ہڈی) میں ٹھہر جاتے ہیں اور اپنی خصوصیات کو برقرار رکھتے ہیں. اگر کسی وجہ سے یہ پھر متحرک ہوجائیں تو یہ ایک نئے جنین کی طرح بڑھنا شروع ہوجائیں گے اور اس جگہ ایک گومڑ یا بڑا سا ابھار یا گلٹی بننا شروع ہوجائے گی جو ایک بے شکل جنین کی طرح ظاہر ہوگی کہ جس کے کچھ اعضا مثلاً ہاتھوں اور پاؤں کا ناخنوں سمیت بننا واضح ہوگا. چنانچہ یہ بات بالقین کہی جاسکتی ہے کہ دُمچی کی ہڈی میں ماں کے وہ تمام خلیے موجود ہوتے ہیں کہ جن سے ایک نئے انسان کی پیدائش ممکن ہے۔ مختصر یہ کہ دُمچی کی ہڈی اُن بتدائی لکیروں اور ابھاروں پر مشتمل ہوتی ہے کہ جن سے تین اہم حصے یعنی Ectoderm، Mesoderm اور Endoderm تشکیل پاتے ہیں جو جنین کی بناوٹ اور شکل کو مکمل کرتے ہیں۔ دُمچی کی ہڈی کو نقصان نہیں پہنچتا : ماہر ین نے معلو م کیا ہے کہ جنین کے خلیوں کی بناوٹ اور ترتیب ابتدائی لکیروں اور ابھاروں کی بدولت ہی شروع ہوتی ہے اور ان کی بناوٹ سے پہلے خلیوں کی مزید تقسیم نہیں ہوتی۔ ان ماہرین میں سے ایک مشہور شخصیت جرمن سائنس دان "Hans Spemann" کی ہے جس نے مختلف تجربات کے ذریعے اس بات کو ثابت کیا ہے۔ اس نے تجربات کے ذریعے معلوم کیا کہ کسی جنین کی پیدائش اوربناوٹ وترتیب کا سبب ابتدائی لکیریں اور ابھار ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے اس نے ان کو ''ابتدائی ترتیب دینے والا'' The Primary Organizer کا نام دیا۔ اس نے اس کے ایک حصے کو ایک جنین سے کاٹا اور ایک دوسرے مہمان جسم کے اندر ابتدائی مرحلے کے جنین، تیسرے اور چوتھے ہفتے کی عمر والا، کے ساتھ مِلا Implant دیا۔ چنانچہ اس کٹے ہوئے جنین کے حصے نے مہمان جسم کے خلیوں کی بدولت پیدا ہونے والے اثر اور بناوٹ سے متاثر ہو کر ایک دوسرے جنین کی تشکیل شروع کردی۔ اس کے بعد جرمن سائنس دان نے اپنے تجربات کو بیک وقت پانی اور خشکی والے جانوروں پر کیا۔ اس نے ان کے Primary Organizer کو ایک دوسرے جنین کے ساتھ ملا دیا، جہاں وہ مکمل طورپر ایک دوسرے جنین کی بناوٹ اختیار کرگئے۔ 1931ء کے دوران اس نے ایک اور تجربہ کیا۔ اس مرتبہ اس نے اس Primary Organizer کو پانی میں اچھی طرح اُبال کر اسے ایک دوسرے ہم عمر جنین کے ساتھ کاشت کردیا مگر اُبالنے کے باوجود Primary Organizerمتاثر نہ ہوئے تھے اور انھوں نے ایک جنین کی بناوٹ کو تشکیل دے دیا۔ Primary Organizer کی اسی دریافت پر Hans Spemann کو 1935ء میں نوبل پرائز دیا گیا۔ 2001ء (ماہ رمضان 1423ھ)میں اسی طرح کا ایک تجربہ ڈاکٹر عثمان الجیلانی اورشیخ عبدالماجد الزندانی نے یمن کے شہر صنعاء میں کیا۔ شیخ عبدالماجد الزندانی نے اپنے گھر میں دمچی کی پانچ ہڈیوں کو گیس گن Gas Gun کے ذریعے پتھروں کے اوپر 10منٹ تک اس قدرجلایا کہ وہ آگ کا انگارہ بن گئیں اور جب ٹھنڈی ہوئیں تو بالکل سیاہ ہو چکی تھیں۔ انھوں نے ان جل کر کوئلہ بن جانے والی ہڈیوں کو ایک جراثیم سے پاک صندوق کے اندر محفوظ کیا اور صنعاء شہر کی سب سے بہترین لیبارٹری Al Olaki Laboratory میں تجزئیے کے لئے لے گئے۔ ڈاکٹر Al Olaki صنعاء یونیورسٹی میں نسیجوں اور بافتوں کے خوردبینی مطالعہ Histology اور علم تشخیص ِامراض Pathology کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے ان ٹکڑوں کا تجزیہ کرنے کے بعد کہا کہ اس قدر جلنے کے باوجود دُمچی ہڈیوں کی بافتوں کے خلیے بالکل متاثر نہیں ہوئے ہیں اور وہ سلامت ہیں 'صرف چربیلی بافتوں والے پٹھے اور ہڈیوں کا گودا (Bone Marrow) متاثرہوا ہے۔ ( 3 ) پتہ یہ چلا کہ جدید سائنس نے آقائے دوجہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلمکے فرمانِ اقدس پر تصدیق کی مہر ثبت کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی برحق ہونے کا ثبوت فراہم کردیا ہے اوراس میں اہل عقل وخرد کے لئے غوروفکر کا ایک واضح پیغام بھی موجود ہے۔ حواشی ( ١) ۔بخاری شریف، باب تفسیر سورة الزمر (2 ) ۔ایضاً ( 3) ۔ http://www.55a.net

الإعجاز العلمي في أحاديث في عجب الذنب
مقدمة:
خلق الله تعالى الإنسان في أحسن تقويم، وجعل خلقه هذا آية دالة على عظيم قدرته وبديع صنعه، ولهذا نجد الأمر منه سبحانه وتعالى للإنسان بالنظر والتفكر في خلقه، يقول الله تعالى: ﴿فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ [الطارق: 5]؛ وكل هذا لكي يتعرف الإنسان على ربه تعالى ويشهد بأنه الإله الحق.
وقد جاءت نصوص من الكتاب والسنة لترشد الإنسان إلى بعض أسرار خلقه وتعينه على النظر والتفكر، ومن ذلك أحاديث (عجب الذنب) التي أخبر فيها النبي الكريم صلى الله عليه وآله وسلم عن حقائق علمية بالغة الأهمية، وهي أن الإنسان يركب خلقه من عجب الذنب وذلك عند تكون الجنين، وأن هذا العظم لا يبلى، بل يركب الإنسان ويعاد خلقه منه يوم القيامة.
وفي هذا البحث سنتعرض لهذه الأحاديث بشيء من التوضيح، وبيان ما توصل إليه العلم الحديث في هذه المسألة، ومن ثم إظهار وجه الإعجاز فيها بمطابقتها للحقائق العلمية الحديثة.
الأحاديث التي جاء فيها الإخبار عن عجب الذنب:
جاءت بعض الأحاديث مخبرة عن عجب الذنب، فمنها ما جاء عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ»(1).
ومن ذلك أيضاً ما جاء عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَظْمًا لَا تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ أَبَدًا فِيهِ يُرَكَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالُوا: أَيُّ عَظْمٍ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: عَجْبُ الذَّنَبِ»(2).
والعَجْبُ بالسكون: وهو العظمُ الذي في أَسفل الصُّلْب عند العَجُز(3).
يقول النووي: "قوله: (عجب الذنب) هو بفتح العين وإسكان الجيم أي العظم اللطيف الذي في أسفل الصلب، وهو رأس العصعص، ويقال له: (عجم) بالميم، وهو أول ما يخلق من الآدمي، وهو الذي يبقى منه ليعاد تركيب الخلق عليه"(4).
ومن خلال الأحاديث السابقة نجد أنها أشارت إلى ثلاثة أمور:
1- أن الإنسان يبدأ خلقه في مرحلة التكوين من عجب الذنب.
2- أن عجب الذنب لا يبلى ولا تأكله الأرض.
3- منه يعاد خلق الإنسان يوم القيامة.
عجب الذنب (الشريط الأولي) في ضوء علم الأجنة:
أوضح علم الأجنة الحديث أن عجب الذنب هو الشريط الأولي Primitive Streakحيث إن هذا الشريط الأولي هو الذي يتكون إثر ظهوره الجنين بكافة طبقاته وخاصة الجهاز العصبي، ثم يندثر هذا الشريط ولا يبقى منه إلا أثر فيما يسمى عظم العصعصي (عجب الذنب).
تكوين الشريط الأولى:
يبدأ تكون الجنين عندما يصل المنوي القادم من ماء الرجل، فيدخل إلى البويضة ويقوم بتلقيحها، فتتكون النطفة الأمشاج (الزيجوت)، وبعد ذلك تبدأ في عملية الانقسام إلى خليتين وكل خلية تنقسم إلى خليتين وهكذا يستمر الانقسام وتكاثر الخلايا في الجنين، وفي اليوم السابع أو السادس بعد التلقيح تبدأ النطفة الأمشاج في الانغراس في جدار الرحم، وتستمر في عملية الانقسام وتكوين الخلايا حتى تتمايز إلى كتلتين من الخلايا هما:
أولاً: الكتلة الخارجية:
وهي تحتوي على الخلايا الآكلة Cytotrophoblasts التي تقضم جدار الرحم وتثبت الكرة الجرثومية فيه، كما أنـها تسمح بتغذية الكرة الجرثومية مما يتكون حولها من الدماء والإفرازات الموجودة في غدد الرحم.
ثانياً: الكتلة الداخلية:
التي منها يتكون الجنين بإذن الله تعالى، وهذه بدورها تنقسم إلى ورقتين:
1- خارجية وتدعى الإكتودرم Ectoderm
2- داخلية تدعى الإنتودرم Ectoderm
ففي اليوم الثامن من التلقيح تظهر طبقة الإنتوردم الداخلية، ويظهر شق صغير أعلى الطبقة الإكتودرمية الخارجية مكوناً بداية تجويف الأمنيون (السلي)، ويكون سقف تجويف السلي من الخلايا الآكلة بينما قاعدته من خلايا الإكتودرم.
وفي اليوم التاسع يمتد من خلايا الطبقة بخلايا الإنتودرم شريط من الخلايا ويتصل بخلايا الميزودرم الخارجية Extra Embryonic Mesoderm مكوناً كيس المخ الأوليprimary Yolk Sac.
وفي اليوم الثالث عشر تنمو من الخلايا الآكلة الخارجية Cytotrophoblasts نتوءات تعرف بحملات الغشاء المشيمي Chorionic Villi التي تثبت كيس الجنين بالرحم، ثم تتفرع بعد ذلك مثل فروع الشجرة.
كما تنمو خلايا الإنتودرم الداخلية مكونة كيس المخ الثاني والذي يصغر الكيس الأولي بكثير.
وفي نـهاية الأسبوع الثاني يكون الجنين ممثلاً بقرصين متلاحقين:
1- القرص الخارجي (الإكتودرم) ويكون قاع تجويف الأمنيون.
2- القرص الداخلي (الإنتودرم) الذي يكون سقف تجويف كيس المخ.
ويلتصق القرصان في الجزء الأمامي أو ما سيعرف لاحقاً بجهة الرأس Cephalic Portion نتيجة ثخانة خلايا الإنتودرم، وتعرف هذه المنطقة باسم الصفيحة سالفة القلب Prochordal Plate. وكذلك يلتصق القرصان في المنطقة المؤخرية (الذيلية)Caudal Portion مكونة صفيحة Cloacal Plate مستقبلاً.
وفي اليوم الرابع عشر يستطيل القرصان حتى يأخذا الشكل الكمثري فيكون الجزء العريض هو الجزء الأمامي بينما يدق الجزء المؤخري، وتنشط خلايا الإكتودرم في الجزء المؤخري مكونة الشريط الأولي Primitive Streak الذي يظهر لأول مرة في اليوم الخامس عشر منذ بدء التلقيح. ويظهر انقسام سريع ونمو متكاثر في الشريط الأولي وتهاجر الخلايا يمنة ويسرة بين طبقة الإكتودرم الخارجية وطبقة الإنتوردم الداخلية مكونة طبقة جديدة هي الطبقة المتوسطة (الميزودم)Mesoderm(5).
ونتيجة لظهور الشريط الأولي يبدأ تكون الجهاز العصبي والنوتوكورد(سالفة العمود الفقري)، كما تتكون الطبقة المتوسطة(الميزودرم)، ويشهد الجنين بداية تكوين الأعضاء.
أما عند غياب أو عدم تكون الشريط الأولى فإن هذه الأعضاء لا تتكون وبالتالي لا يتحول القرص الجنيني البدائي إلى مرحلة تكون الأعضاء بما فيها الجهاز العصبي.
ولأهمية هذا الشريط الأولي فقد جعلته لجنة وارنك البريطانية (المختصة بالتلقيح الإنساني والأجنة) العلامة الفاصلة بين الوقت الذي يسمح فيه للأطباء والباحثين بإجراء التجارب على الأجنة المبكرة الناتجة عن فائض التلقيح الصناعي في الأنابيب (الأطباق)، فقد سمحت اللجنة بإجراء هذه التجارب قبل ظهور الشريط الأولي ومنعته منعاً باتاً بعد ظهوره على اعتبار أن ظهور هذا الشريط يعقبه البدايات الأولى للجهاز العصبي(6).
وعند ظهور الشريط الأولي ونتيجة نشاطه الجم الغزير يظهر الآتي:
1- النوتوكورد (أو الحبل الظهري أو سالفة العمود الفقري) ويمتد إلى جهة الرأس من العقدة الأولية Primitive node والتي تعرف أيضاً بعقدة هانسن(7).
2- يتحول القرص الجنيني المستدير بظهور الشريط الأولي إلى شكل كمثري، بحيث يمكن تمييز طرفيه، ويدعي الطرف العريض الجهة الرأسية.. والطرف الدقيق الجهة الذيلية أو الذنبية.
3- تظهر بداية الجهاز العصبي من الطبقة الخارجية(الإكتودرم) في نـهاية الأسبوع الثالث(20-21 يوماً) مكونة الصفيحة العصبية Neural Plate التي تمتد من جهة الرأس إلى الشريط الأولي وتستطيل هذه الصفيحة وتنثني مكونة الانثناء أو الالتفاف العصبي Neural Folds، وتكوّن الجهة المنخفضة ما يعرف باسم الميزاب العصبي Neural groove. وسرعان ما يلتف هذا الميزاب ليقفل مكوناً أنبوبة تدعى الأنبوبة العصبية Neural tube، وتكون فتحة هذا الأنبوب في طرفيه الرأسي والذيلي، وتدعى الفتحة الرأسية(الفتحة الأمامية العصبية Anterior Neural Pore أو الفتحة المنقارية (Rostral Neuro Pore.. وتقفل الفتحة العصبية الأمامية في اليوم الخامس والعشرين بينما تقفل الفتحة الخلفية في اليوم السابع والعشرين، وبهذا يقفل الأنبوب العصبي، ويشكل أغلبية الأنبوب الدماغ بينما يشكل الجزء الأخير(الذنبي) النخاع الشوكي.
ويتكون الدماغ في الثلثين العلويين للأنبوب العصبي بينما يتكون النخاع الشوكي في الثلث الأسفل وذلك من مستوي الكتلة (الرابعة - الخامسة). حيث إن الكتل البدنية Somites الأربع الأولى تكون جزءاً من قاع الجمجمة.
4- تتكون طبقة الميزودرم التي تتكثف حول المحور الجنيني مكونة الكتل البدنيةSomites والتي تشكل العمود الفقري والعضلات كما يخرج منها بدايات الأطراف العليا والسفلى.. وهي التي تكون الجهاز الهيكلي والعضلي.
وتنقسم طبقة الميزودرم إلى ثلاثة أقسام:
القسم الأول: الميزودرم بجانب المحور وهو الجزء الملامس لمحور الجنين حيث الحبل الظهري والميزاب العصبي ومنه تتكون الكتل البدنية Somites والتي تكون أبرز ما في الجنين فيما بين الأسبوع الثالث إلى الخامس، ومنها يتكون الجهاز الهيكلي والعضلي كما يبرز من تلك الكتل البدنية الطرف العلوي والطرف السفلي.
القسم الثاني: وهو الجزء المتوسط من هذه الطبقة ويعرف بالميزودرم المتوسطIntermediate Mesoderm، ومنها يخلق الله سبحانه وتعالى الجهاز البولي والتناسلي.
القسم الثالث: وهو الميزودرم الحشوي Lateal Mesoderm وينقسم هذا أيضاً إلى قسمين جداري وحشوي وبينهما تجويف يعرف بالتجويف الجنيني الداخلي Intra Embryonic Ceolom ويخلق الله سبحانه وتعالى منه غشاء البطن الداخلي وغشاء الرئتين وغشاء القلب على التوالي، كما يخلق الله سبحانه وتعالى الأوعية الدموية والقلب وعضلات الجهاز الهضمي من القسم الحشوي.
وهكذا فإن تكون الشريط الأولي علامة هامة على بداية تمايز أنسجة الجنين وتكون الطبقات المختلفة ومنها الأعضاء، والواقع أن ما يعرف بمرحلة تكون الأعضاء Organogenesis لا تبدأ إلا بعد تكون الشريط الأولى والميزاب العصبي والكتل البدنية وتستمر من بداية الأسبوع الرابع إلى نـهاية الأسبوع الثامن، بحيث يكون الجنين في نـهاية هذه الفترة قد استكمل وجود جميع الأجهزة الأساسية فيه، وتكونت أعضاؤه ولم يبق إلا التفصيلات الدقيقة والنمو(8).
مصير الشريط الأولى Primitive Streak:
إن الشريط الأولي كما أسلفنا ذو أهمية بالغة؛ لأن نشاطه الجم يؤدي إلى تكون النوتوكورد(سالفة العمود الفقري)، وإلى تكون الطبقة المتوسطة الداخلية(الميزودرم Mesoderm)، ولا يكاد ينتهي الشريط الأولي من مهمته تلك في الأسبوع الرابع حتى يبدأ في الاندثار ويبقى كامناً في المنطقة العجزية - العصعصية - في الجنين ثم في المولود، ويندثر ما عدا ذلك الأثر الضئيل الذي لا يرى بالعين المجردة(9).
هذا بالنسبة للمسألة الأولى التي ذكرتها الأحاديث النبوية وهي أن الإنسان يبدأ خلقه من عجب الذنب، وننتقل إلى المسألة الثانية التي ذكرت في الأحاديث وهي أن عجب الذنب لا يبلى.
عجب الذنب لا يبلى:
لقد اكتشف العلماء أن الذي يقوم بالتخليق والتنظيم لجميع خلايا الجنين هو الشريط الأولي، وأول من اكتشف ذلك من العلماء هو العالم الألماني الشهير (هانسن سبيمان) حيث قام بدراسات وتجارب على الشريط الأولي والعقدة الأولية وأكتشف أن الخيط الأولي والعقدة الأولية هما اللذان ينظمان خلق الجنين وأطلق عليهما اسم(المنظم الأولي أو المخلق الأولي ¬(Primary Organizer وقام بقطع الشريط الأولي وزرعه في جنين آخر في المراحل الجنينية المبكرة في الأسبوع الثالث والرابع فأدى ذلك إلى نمو جنين ثانوي من هذه القطعة المزروعة في الجنين المضيف؛ حيث تقوم هذه القطعة المزروعة بالتأثير على البيئة التي حولها والمكونة من خلايا الجنين المضيف، بحيث تؤثر عليها وتنظمها ويتخلق منها جنين ثانوي مغروساً في جسد الجنين المضيف.
ثم قام هذا العالم الألماني (سبيمان) عام 1931م بسحق المنظم الأولي وزرعه مرة أخرى فلم يؤثر السحق حيث نما مرة أخرى وكون محوراً جنينياً ثانوياً رغم سحقه ولم تتأثر خلاياه.
وفي عام 1933م قام هذا العالم وعلماء آخرون بغلي المنظم الأولي وزراعته بعد غليه فشاهدوا أنه يؤدي إلى نمو محور جنين ثانوي بعد غليه ولم تتأثر خلاياه بالغليان، ولقد نال العالم الألماني (سبيمان) جائزة نوبل عام 1935م على اكتشافه للمنظم الأولي(10).
وأجريت تجارب أخرى في نفس المجال وتوصلت إلى نفس النتيجة، ومن ذلك ما أثبته مجموعة من علماء الصين في عدد من التجارب المختبرية استحالة إفناء عجب الذنب كيميائياً بالإذابة في أقوى الأحماض، أو فيزيائياً بالحرق، أو بالسحق، أو بالتعريض للأشعة المختلفة(11)، ولقد قام الدكتور عثمان جيلان بالتعاون مع الشيخ عبد المجيد الزنداني في رمضان 1424هـ في منزل الشيح عبد المجيد الزنداني في صنعاء بتجربة على العصعص حيث قاموا وتحت تصوير تلفزيوني بأخذ أحد فقرتين لخمس عصاعص للأغنام وقاموا بإحراقها بمسدس غاز فوق أحجار ولمدة عشرة دقائق حتى احمرت وتأكدوا من إحراقها التام بحيث أصبحت حمراء، وبعد ذلك أصبحت سوداء متفحمة فوضعوا القطع في علب معقمة وأعطوها لأحد أشهر المختبرات في صنعاء (مختبر العولقي).
وقام الدكتور صالح العولقي أستاذ علم الأنسجة والأمراض في جامعة صنعاء بفحصها نسيجياً وكانت النتيجة مبهرة حيث وجد خلايا عظمة العصعص لم تتأثر ولازالت حية وكأنها لم تحرق، أما الذي احترق فهو العضلات والأنسجة الدهنية وخلايا نخاع العظم المصنعة للدم، أما خلايا عظمة العصعص فلم تتأثر(12).
فكل هذه التجارب تؤكد أن عجب الذنب لا يبلى، بل يظل محتفظاً بخصائصه وقدرته على التخليق حتى في أصعب الظروف.
فيه يركب الخلق يوم القيامة:
المسألة الثالثة التي أخبرت بها الأحاديث هي أن الإنسان يركب خلقه يوم القيامة من عجب الذنب، ومما يصلح أن يستدل به على هذه المسألة هو أن عجب الذنب بعد أن يتراجع ويستقر في العصعص فإنه إذا حدث له مؤثر ونما مرة أخرى فإنه ينمو نمواً يشبه نمو الجنين حيث يبدأ في تكوين الطبقات الأولية الثلاث(الإكتودرم والميزودرم والإندودرم) تماماً مثل نمو الجنين، وينمو على صورة ورم مسخي، يشبه الجنين المشوه بحيث تبرز بعض الأعضاء كالقدم واليد-بأصابع وأظافر- والأعضاء الباقية تكون داخل الورمة، وعند فتح الورم بعد استئصاله فإن الجراح يجد باقي الأعضاء كالأسنان والأمعاء والعظام والشعر والغدد. ووجود هذه الخلايا في منطقة العصعص لكي تحفظ البداية البشرية، ويمكن الاستدلال بهذا على أن الإنسان يركب من عجب الذنب يوم القيامة فمنطقة عجب الذنب تحتوى على خلايا الشريط الأولي وهي ذات مقدرة شاملة كلية بحيث لو نمت خلية فإنها تنمو نمواً بحيث تكون جنيناً(13).
___________________
(1) صحيح مسلم 14/ 201، برقم 5254.
(2) صحيح مسلم 14/ 202، برقم 5255.
(3) لسان العرب 1/ 580.
(4) شرح النووي على صحيح مسلم 9/ 343.
(5) الإعجاز الطبي في أحاديث الرسول صلى الله عليه وسلم عن أحاديث عجب الذنب للدكتور محمد علي البار، نقلاً عن موقع: www.nooran.org
(6) الإعجاز الطبي في أحاديث الرسول صلى الله عليه وسلم عن أحاديث عجب الذنب للدكتور محمد علي البار، نقلاً عن موقع: www.nooran.org
(7) نسبة للعالم الألماني هانسن سبيمان الذي اكتشف الشريط الأولي.
(8) الإعجاز الطبي في أحاديث الرسول صلى الله عليه وسلم عن أحاديث عجب الذنب للدكتور محمد علي البار، نقلاً عن موقع: www.nooran.org
(9) المرجع السابق.
(10) عجب الذنب أصل الإنسان الذي لا يبلى للدكتور عثمان جيلان نقلاً عن موقع:www.55a.net
(11) الجسد يبلى ما عدا عجب الذنب للدكتور زغلول النجار، نقلاً عن موقع:www.elnaggarzr.com
(12) عجب الذنب أصل الإنسان الذي لا يبلى للدكتور عثمان جيلان، نقلاً عن موقع:www.55a.net
(13) عجب الذنب أصل الإنسان الذي لا يبلى للدكتور عثمان جيلان نقلاً عن موقع:www.55a.net


The Prophet صلی اللہ علیہ و سلم  foretold a scientific fact that was discovered only a few years ago...
Jzt. Abu Hurayrah رضی اللہ عنہ narrated that Rasool Allah (Prophet muhammad صلی اللہ علیہ و سلم  said:
“The earth would consume every part of the son of Adam (after his death) except for one bone; the coccyx (the bone at the base of the vertebral column) from which he is created and from which his body will be reconstituted on the Day of Resurrection”.
hadith 457 sahih bukari (detailed in hadith 338) chapter 'Prophetic Commentary on the Quran (Tafseer of the Prophet صلی اللہ علیہ و سلم
It has been proven that this preliminary strand decomposes (after man's death) except for a small part (the origin of the coccyx), which remains at the end of the vertebral column (or in the vertebra known as the coccyx) and this is what is meant by "Agbu adh-dhanab" in the hadith.
When man dies, the whole body decomposes except for this part, from which – as mentioned in the hadith – man is recreated, exactly as a plant germinates from a seed. This process takes place, when, at the time of Resurrection, special rain falls from the sky, by the Will of Allah, The Almighty.
Hzt. Abu Huraira said, "Allah's Messenger صلی اللہ علیہ و سلم  said, 'Between the two sounds of the trumpet, there will be forty."
Somebody asked Abu Huraira,
"Forty days?"
But he refused to reply.
Then he asked,
"Forty months?"
He refused to reply. Then he asked, "Forty years?"
Again, he refused to reply. Hzt. Abu Huraira رضی اللہ عنہ added.
"Then (after this period) Allah will send water from the sky and then the dead bodies will grow like vegetation grows, There is nothing of the human body that does not decay except one bone; that is the little bone at the end of the coccyx of which the human body will be recreated on the Day of Resurrection."
(Sahih Al-Bukhari Hadith No. 338)
A group of Chinese scientists proved in some of their laboratory experiments that it is impossible for this part "Agbu adh-Dhanab" (the end part of the coccyx), to totally perish. They tried to dissolve it chemically in the strongest acids, through burning, pounding, and by subjecting it to various types of radiation.
ALLAHU AKBAR..!!!
Above ayya surah Al-Isra related to Tail bone (cossyx)
One big  point is there there is small black dot on coccyx  like seed to grow like plants that black dot is the point for regeneration of human being kafer says how possible after All  body destroy some burnt body but that from Allahsubhanahu cossyx(last part of tail bone )never be burnt or distroy till the  last day of this world  for rebirth of life  for hereafter life! Subhanallah!!!







فجر کی سنتوں کو گھر میں پڑھنا

ایس اے ساگر
شہید الاسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک نماز تو چاہے فرض ہو، چاہے سنت و نفل، سب اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہوتی ہیں، یہ خیال غلط ہے کہ سنتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہیں۔ فرض نماز میں جو کمی (یعنی خشوع و خضوع میں جو کمی) رہ جاتی ہے اس کو پورا کرنے کے لئے سنتیں اور نفل ہیں۔ جس چیز کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثر پابندی فرمائی ہو، اور جس کے ترک کو لائقِ ملامت قرار دیا گیا ہو، وہ سنتِ موٴکدہ ہے، اور جس چیز کی ترغیب دی گئی ہو، مگر اس کے چھوڑنے پر ملامت نہ کی گئی ہو، وہ سنتِ غیرموٴکدہ ہے، اور اسی کو مستحب اور مندوب بھی کہا جاتا ہے۔ خطبات فقیر میں شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی دامت برکاتہم رقمطراز ہیں کہ
فتاوی تاتار خانیہ میں لکھا ہے جو شخص فجر کی سنتیں گھر پڑھ کر مسجد جاتا ہے تو اللہ تعالی اسے تین انعام عطاء فرماتا ہے.
اس کے گھر کے جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں. ( آج دیکھو تو شاید نوے فیصد لوگ کہیں گے کہ
 گھر کی مصیبتیں ہیں ،
 اولاد کی نافرمانی ، 
بیوی کی پریشانی ،
 گھر کےتقاضے پورے نہیں ہوتے ، 
میاں بیوی کے درمیان نہیں بنتی ، 
تو فجر کی سنتیں گھر پڑھنے کا 
پہلا انعام یہ ہوا کہ اللہ تعالی اس کو ان پریشانیوں سے نجات عطاء فرما دیتا ھے.
اللہ تعالی
دوسرا انعام یہ دیتا ہے کہ اس بندے کے رزق میں کشادگی پیدا کر دیتا ھے. 
(یعنی ملازمت اور کاروبار کے مسئلے ختم ، قرضوں کے مسئلے ختم. وغیرہ وغیرہ )
تیسرا انعام جو سب سے بڑا ھے کہ اللہ تعالی موت کے وقت ایمان کی سلامتی کے ساتھ دنیا سے جانے کی توفیق عطاء فرماتا ہے.
 سبحان اللہ!
نوٹ، فجر کی سنتیں گھر پڑھنا ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل سنت ہے ، لہذا سنتیں پڑھنے کا ثواب اور انعام تو الگ ملے گا ،
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کر کے گھر پڑھنے کا اجر الگ. اور سنت سے محبت کرنے والے کے بارے میں 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جس نے میری سنت سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا.
سنتیں گھر پر پڑھنا افضل ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی حدیث شریف میں ہے۔۔
ملاحظہ ہوں
عام حالات میں بھی یہ سنتیں گھر ہی سے پڑھ کر مسجد میں جانا افضل ہے؛ کیوں کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا معمول مبارک یہی تھا۔ 
عن زید بن ثابت رضي اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ علیہ وسلم فی حدیث … فصلوا أیہا الناس في بیوتکم، فإن أفضل الصلاۃ صلاۃ المرء في بیتہ، إلا المکتوبۃ۔ (صحیح البخاري کتاب الأذان / باب صلاۃ اللیل رقم: ۷۳۱، صحیح مسلم صلاۃ المسافر وقصرہا / باب استحباب صلاۃ النافلۃ في بیتہ رقم: ۷۸۱)
وأخرج أبو داؤد في سننہ بلفظ: صلاۃ المرء في بیتہ أفضل من صلاتہ في مسجدی ہٰذا إلا المکتوبۃ۔ (سنن أبي داؤد الصلاۃ/ باب صلاۃ الرجل التطوع في بیتہ رقم: ۱۰۴۴، وسنن الترمذي رقم: ۴۵۰)
والأفضل في النفل غیر التراویح المنزل إلا لخوف شغل عنہا لحدیث الصحیحین: علیکم بالصلاۃ في بیوتکم، فإن خیر صلاۃ المرء في بیتہ إلا المکتوبۃ۔ (شامي۲؍۴۶۴ زکریا )
لاتفاق کلمۃ المشایخ علی أن الأفضل فی السنن حتی سنۃ المغرب المنزل، أي فلا یکرہ الفصل بمسافۃ الطریق۔ (شامي ۲؍۲۴۷کراچی) فقط واﷲ تعالی اعلم
.............
عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا قضى أحدكم الصلاة في مسجده فليجعل لبيته نصيباً من صلاته فإن الله جاعل في بيته من صلاته خيراً " .
رواه مسلم ( 778 ) .
قال المناوي :
" إذا قضى أحدكم الصلاة في مسجده " : يعني : أدى الفرض في محل الجماعة ، وخص المسجد لأن الغالب إقامتها فيه ، " فليجعل لبيته " : أي : محل سكنه ، " نصيبا " : أي : قِسما ، " من صلاته " : أي : فليجعل الفرض في المسجد والنفل في بيته لتعود بركته على البيت وأهله كما قال " فإن الله تعالى جاعل في بيته من صلاته " : أي : من أجلها وبسببها ، " خيراً " : أي كثيراً عظيماً ، لعمارة البيت بذكر الله وطاعته ، وحضور الملائكة ، واستبشارهم ، وما يحصل لأهله من ثواب وبركة .
وفيه : أن النفل في البيت أفضل منه في المسجد ولو بالمسجد الحرام …
" فيض القدير " ( 1 / 418 ) .
والأدلة على ذلك أكثر من هذا ، فصلاته صلى الله عليه وسلم الرواتب ، وقيام الليل ، والضحى كل ذلك كان في بيته صلى الله عليه وسلم ، وقد تركنا ذلك اختصاراً وفيما سبق كفاية ، وقد ذكر بعض العلماء لذلك حِكَماً :
قال ابن قدامة :
والتطوع في البيت أفضل … ولأن الصلاة في البيت أقرب إلى الإخلاص ، وأبعد من الرياء ، وهو من عمل السر ، وفعله في المسجد علانية والسر أفضل .
" المغني " ( 1 / 442 ) .
وفيه أيضاً : تذكير الناسي ، وتعليم الجاهل من أهل البيت أو من يراه .
مراقی الفلاح:
مراقی الفلاح جو فقہ کی مشہورومعروف کتاب ہے اس میں ایک حدیث ہے.
قال النبی ﷺ من صلی رکعتی الفجر ای سنة فی بیت یوسع له فی رزقه ویقل المنازع بینه وبین اهله ویختم له بالایمان.او کما قال النبی ﷺ
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکه 
جو شخص فجر کی دو رکعت سنت اپنے گھر میں پڑهے 
تواسکے رزق میں وسعت کردی جائےگی 
اوراسکے اور اسکے گھر والوں میں منازعات ( جھگڑے ) کم هوجائیں گے
اور اس کا خاتمه ایمان پر هوگا....
اس حديث پر علامہ سخاوی فرماتے ہیں لا اصل لہ


Sunday, 2 October 2016

اَللَّهُمَّ أهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ والإيمان

ایس اے ساگر
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالٰی ہے:
اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ
’’میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے۔‘‘
لہٰذا بندۂ مومن کو ہر لمحہ اپنے رب کو پکارتے رہنا چاہئے اور کبھی بھی اسے فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جو کام بھی کیا جائے اس کی دعا ضرور مانگی جائے تاکہ یادِ اِلٰہی بھی باقی رہے اور کام میں بھی خیر و برکت پیدا ہو لیکن اس کا کیا کیجئے کہ امت میں متعدد نئی نئی چیزیں وجود میں آرہی ہیں. انہی میں نئے سال کی دعا بھی شامل ہے جس کے الفاظ کے قریب قریب دو روایتیں نقل کی جارہی ہیں :
1. عن عثمان بن أبي العاتكة عن شيخ من أشياخهم أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان إذا رأى الهلال قال : اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام والسكينة والعافية والرزق الحسن.
[ضعيف: أخرجه ابن السني في عمل اليوم والليلة رقم (645) ص598، وضعفه الألباني في ضعيف الجامع رقم (4405)].
2. وعن أبي عمر الأزدي عن بشير مولى معاوية - رضي الله عنه - قال: سمعت عشرة من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أحدهم حدير أبو فوزة يقولون إذا رأوا الهلال : اللهم اجعل شهرنا الماضي خير شهر وخير عافية ، وأدخل علينا شهرنا هذا بالسلامة والإسلام والأمن والإيمان والمعافاة والرزق الحسن.
[حديثٌ ضعيف: أخرجه ابن السني في عمل اليوم والليلة رقم (646) ص600، وذكره ابن عبد البر في الاستيعاب في ترجمة فروة الجهني رقم (2079) 3 / 1262، وضعفه الألباني في ضعيف الجامع رقم 4405 ] ۔
یہ دو روایتیں قریب اللفظ ھیں عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ والی روایت کے، ان دونوں میں صرف رویت الھلال کے وقت پڑھنے 
کا ذکر ہے ، سال کا ذکر نہیں ہے ۔
کیا کہتے ہیں اہل علم حضرات ؟
فضیلۃ الشیخ طلحہ بن بلال منیار حفظہ اللہ رقمطراز ہیں کہ نئے سال پر جو دعا بتلائی جارہی ہے، اس کے بارے میں روایات کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوا کہ : 
صرف ایک صحابی یعنی حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ لفظ وارد ہوا ہے ( او السنة ) یعنی سال داخل ہونے کے وقت، ان کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس طرح کی دعا صرف مہینہ کے داخل ہونے پر منقول ہے ، جیسے : 
حضرات طلحہ بن عبيد اللہ ، ابن عمر ، عبادہ بن الصامت ، أنس بن مالک ، رافع بنخديج ، على بن ابى طالب ، عائشہ رضوان اللہ علیہم اجمعین، ان سب حضرات میں سے کسی نے سال کے شروع پر دعا پڑھنا ذکر نہیں کیا ہے۔ تو اس سے پتہ چلا کہ حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی روایت میں سال کا لفظ مدرج ھے ، یعنی کسی بعد والے راوی نے اپنی طرف سے بڑھایا ہے ، اور اس سے بھی سال کے پہلے مہینہ کا چاند دیکھنے کے وقت پڑھنا مراد ہے ، یعنی ( ادخلہ علینا ) سے وہ مہینہ مراد ہے نہ کہ سال ۔ کیونکہ نئے سال کے لئے کوئی دعا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہیں ہے ، ایسا ہوتا تو دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی نقل کرتے۔ اس لئے میری رائے ہے کہ اس دعا پر ( نئے سال کی دعا ) کا عنوان قائم کرنا درست نہیں ہے ، یہ ہر مہینہ کے داخل ہونے پر پڑھنے کی دعا ہے ، صرف ذی الحجہ کے اخیر میں سماجی روابط کی سائٹس کے ذریعہ پھیلانے کے لئے نہیں ہے۔
الدين النصيحة
اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ یقینًا اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے
الحجرات: 1 
نئے سال کی دعا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں!
اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دور نبوی صلی الله علیه وسلم میں نہ ہجری كيلنڈر کی ابتدا ہوئی، نہ ہی محرم سال کا پہلا مہینه تها
عمر رضی الله عنہ کے زمانہ خلافت میں اسلامی کیلنڈر کا اجرا ہوا، اور اسکا پہلا سال ہجرتِ مدینہ والے سال کو مانا گیا اور محرم کو سال کا پہلا مہینه شمار کیا گیا
اس لئے سالِ نو کی مبارکباد کے کسی بهی مسنون الفاظ کا وجود نا ممکن ہے
واللہ اعلم

اغیار کی اندھی تقلید؟ 
سماجی روابط کی ویب سائٹس پر اپنی ایک پوسٹ میں سید حفظ القدر ندوی حیران ہیں کہ یہ نئے سال کی مبارکباد دینا کہاں سے ثابت ہے.....اور نئے سال کی جو دعاء گردش کر رہی ہے وہ کیسی ہے! سوشل میڈیا پر دعوی کیا جارہا ہے کہ...جب نیا سال شروع ہوتا تو بنی کریم صلی اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضوان رضی اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے کو یہ دعاء سکھاتے اور بتاتے........بات دعائیہ کلمات کی نہیں........بلکہ نئے سال کے خاص موقع پر اس حدیث کی ہے .....دعا کے کلمات تو سب جانتے ہیں.........کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس طرح کا کوئی اہتمام کیا.......کیا انھوں نے محرم الحرام کا چاند دیکھ کر ایک دوسرے کو دعاء سکھائی.....اگر سکھائی اورتلقین کی ہے تو پھر نئے سال کی اہمیت اور اس کے جشن کا جواز پیدا ہوتا ہے......لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں ایسا کچھ نہیں ہے........یہ سراسر ہم مسلمانوں کے اس طبقہ کی دین ہے جو اغیار سے مرعوب اور احساس کمتری میں مبتلا ہے........یہ طبقہ جمعہ مبارک.....جمعرات مبارک......پیر مبارک....الوداع جمعہ مبارک.....بی بی فاطمہ کی پیدائش مبارک....علی ڈے مبارک.....قرآن کو نازل ہوئے چودہ سو سال ھوگئے تو مبارک....محرم کا کھچڑا اور شب برات کی شیرنی مبارک.....نیز یہ طبقہ بے شمار مبارکباد دینے میں ایسا الجھا ہوا کہ حقیقت کو خرافات کا رخ دے دیا گیا......نئے سال کی مبارکباد دینا جائز یا ناجائز ہے یہ مسئلہ نہیں ہے.....ایک مباح عمل ہو سکتا ہے.....لیکن اس پر ثواب کی ترغیب دیکر حدیث سے ثابت کرنا سمجھ سے بالاتر ہے!
کیا کہتے ہیں فقہائے کرام؟
اس سلسلہ میں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند سے سوال نمبر 49644 کے تحت استفسار کیا گیا کہ آج کے اس دور میں جب کہ نوجوان دین سے بہت دور ہوتا جارہا ہے اور غیر مسلموں کے طریقوں پر چل رہے ہیں اور عیسائیوں کے نئے سال پر لوگوں کو مبارک باد دے رہا ہے اگر اس نیت سے کوئی اسلامی نیا سال یعنی محرم میں اسلامی نیا سال کی مبارک باد دیں تاکہ لوگ اسلامی سال کو پہچانیں۔ مفتی حضرات اس مسئلہ میں کیا کہتے ہیں کیا یہ بدعت ہوگی یا جائز؟
دارالافتا Fatwa ID: 279-282/N=3/1435-U کا کہنا ہے کہ نئے اسلامی سال کی مبارک بادی دینا جائز ومباح ہے البتہ سنت سے ثابت نہیں، 
کذا فی الموسوعة الفقیہ (۱۴: ۱۰۰)
واللہ تعالیٰ اعلم
چاند دیکھنے کی دعا :
تاہم حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاند دیکھنے کے بعد یہ دعا مانگتے تھے :
اَللَّهُمَّ أهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالسَّلَامِ، وَالتَّوْفِيْقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَی رَبُّنَا وَرَبُّکَ اﷲُ.
هيثمی، موارد الظمآن، 1 : 589، رقم : 2374
’’اے اللہ! ہم پر یہ چاند امن، ایمان، سلامتی، اسلام اور اس توفیق کے ساتھ طلوع فرما جو تجھ کو پسند ہو اور جس پر تو راضی ہو، (اے چاند) ہمارا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔‘‘
أبو أسامة شكيل منصور القاسمی صاحب رقمطراز ہیں،
مايقول إذا رأي الهلال ؟
عن طلحة قال كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا رأي الهلال قال اللهم أهله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام. ربي وربك الله.اخرجه الطبراني في الدعاء برقم 903.
والحديث ضعيف.فيه سليمان بن سفيان وهو ضعيف.قال ابن حجر:حديث حسن.الفتوحات الربانية 329/4...وأخرجه الترمذي باب مايقول عند روية الهلال برقم 3451...والإمام أحمد في المسند 162/1.....والدارمي 4/2...وابن أبي العاصم في سننه برقم 376....قال الترمذي حسن غريب.قال الألباني حديث حسن. وإسناده ضعيف.من أجل سليمان بن سفيان...وأخرجه الحاكم في المستدرك 385/4...ونقل ابن حجر ان الحاكم قال صحيح الإسناد ثم قال وغلط فيه لأن سليمان بن سفيان ضعفوه.
وعن بن عمر ان النبى صلى الله عليه وسلم كان إذا رأي الهلال قال اللهم أهله علينا هلال يمن وبركة.أخرجه الطبراني في الدعاء برقم 904.
وأخرجه إبن السني برقم 649.إسناده ضعيف لأجل هشام بن زياد وهو متروك.
وعن ابي سعيد كان النبى صلى الله عليه وسلم إذا رأي الهلال قال هلال خير ورشد.انت بالذي خلقك ثلاث مرات.ثم يقول الحمد لله الذي جاء بالشهر وأذهب بالشهر.
إسناده ضعيف. قال بن حجر هذا حديث غريب.الفتوحات الربانية 332/4...وابن السني برقم 642...والطبراني في الدعاء برقم 905.
وعن أنس بن مالك كان النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا رأي الهلال قال هلال خير ورشد ثلاث مرات. انت بالذي خلقك.أخرجه الطبراني في الأوسط 20/1.....قال في المجمع 139/19 فيه أحمد بن عيسى اللخمي ولم أعرفه. وأخرجه في الدعاء برقم 906. .
فالذي يثبت عند روية الهلال هو "اللهم أهله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله. 
وأما الزيادة عليه بألفاظ أخرى أمثال "ورضوان من الرحمن وجوار من الشيطان فلاتثبت ولا تحفظ.
ولذالك قال أبو داود ليس في هذا الباب عن النبي صلى الله عليه وسلم حديث مسند صحيح. الأذكار للنووي 
صفحة 160. 
ولهذا الحديث شواهد مرسلة وموصولة يقوي بها .
وفي مسند الدارمي عن بن عمر قال كان النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا رأي الهلال قال الله أكبر اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام والتوفيق لما تحب وترضى ربنا وربك الله.الأذكار صفحه 159. .
وفي الباب عن علي وعبادة بن الصامت ورافع بن خديج وعائشة رضي الله عنهم وعنها.
والله أعلم وعلمه أتم بالصواب. 
أول محرم الحرام سنة 1438 هجرية.
...............
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1287128567995780&id=194131587295489

مستورات کے کام کا جواز

ایس اے ساگر
الحمد للہ حضرت مفتی اعظم کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے لے کر دارالعلوم دیوبند تک ایسی متعدد تائیدیں موجود ہیں جن کی رو سے مستورات کے کام کا جواز ثابت ہوتا.
حضرت مولاناداود صاحب
مولوی داود اٹاڑوی کا خط........رائیونڈ حاجی بشیر احمد صاحب کے نام
مکرم بندہ جناب بھائی الحاج محمد بشیر احمدصاحب   
السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ
امید ہے کہ مزاجِ گرامی بعافیت ہوں گے۔ یہاں پر بھی خیریت ہی ہے. دو سال سے گھٹنوں میں ورم اور درد ہے۔ اور اب دو ہفتے سے ناف کی نیچے رگ میں ایک گلٹی اٹھی ہے جس میں درد رہتا ہے. بولنے سی درد میں اضافہ ہوتا ہے۔ دعاوں کی ضرورت ہے۔ اچھا مستورات کی کام کی ابتداء ۶۲ ،۸۲ء میں بالکل نہیں ہوئی۔ بندہ ۰۴۹۱ء میں مدرسے سے فارغ ہوا۔ ۱۴۹۱ء میں غالباً میں نظام الدّینؒ میں حضرت مولانا شاہ محمد الیاسؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ بندہ مدرسہ سبحانیہ میں پڑھتا تھا۔ حضرت مولانا عبد السبحان صاحبؒ اور آپ کی گھر والی، ہم انھیں امّاں جی کہا کرتے تھے، بہت محبت کرتی تھیں۔ امّاں جی دہلی میں مختلف جگہوں میں کتابیں سنایا کرتی تھیں۔ بندہ ان کی کارگذاری حضرت مولانا شاہ محمد الیاس صاحبؒ کو سناتا تھا، اور حضرت جیؒ کی ہدایات ان کو بتلایا کرتا تھا۔ ایک دن امّاں جی نے کہا کہ حضرت جیؒ سے کہیو کہ حضرت مردوں کی جماعت بھیجتے ہیں تو عورتوں کی جماعت کیوں نہیں بھیجتے۔ میں نے حضرتؒ سے عرض کیا کہ امّاں جی یوں کہتی ہیں کہ حضرت عورتوں کی جماعت کیوں نہیں بھیجتے۔ حضرتؒ یہ سُن کر بہت خوش ہوئے اور بے شمار دعائیں دیں پھر مجھ سے کہا کہ تم ان تینوں سے مشورہ لو کہ مستورات کی جماعت بھیجنا چاہتا ہوں‘ آپ کی کیا را ئے ہے۔ بندہ حضرت مولانا انعام الحسن صاحب مدظلہ العالی کی پاس گیا کہ حضرت مستورات کی جماعت بھیجنا چاہتے ہیں‘ آپ کی کیا رائے ہے۔ حضرت جی مدظلہ العالی کی الفاظ تو مجھے یاد نہیں مطلب یہ تھا کہ ابھی تو مردوں کا نکلنا ہی علماء کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے عورتوں کا نکلنا کیسے مان لیں گے اس لئے میری رائے نہیں ہے۔ یہی قاری داود صاحب مرحوم نے فرمایا. پھر حضرت مولانا شاہ محمد یوسفؒ کی خدمت میں گیا. آپ مسجد کی برابر اوپر کے مکتب میں رہا کرتے تھے۔ جہاں آج کل حافظہ کا مکتب ہے۔ جب میں نے رائے لی تو یوں فرمایا کہ میری تو رائے نہیں ہے۔ بس جیسی ان تینوں نے رائی دی تھی میں نے ویسی ہی حضرت جیؒ سے عرض کردیا کہ فلاں نے یوں فلاں نے یوں فرمایا۔ حضرت شاہ محمد یوسف صاحبؒ کی بات سن کر غصّہ فرمایا اور مجھے فرمایا کہ جو عورتیں جماعت میں جانے کے لئے تیار ہیں تو ان کو دہلی میں جاکر ایک گھر میں جمع کرکے بات شروع کردے اور میں دیکھتا ہوں ان مسلمانوں کو کہ ان کی رائے کیوں نہیں ہے۔ پہاڑ گنج ملتانی ڈھانڈا میں ایک گھر میں جمع کرکے بات شروع کردی۔ظہر کی نماز کی بعد حضرتؒ مولوی نور محمد باجھوٹ کو لے کر پہاڑ گنج پہنچ گئے اور مولوی نور محمد مرحوم نے بیان شروع کیا. دورانِ بیان مولوی صاحب نے فرمایا کہ دین سیکھنے کے لئے عورتوں کا بھی نکلنا ضروری ہے مگر عورتیں بغیر محرم نہیں جاسکتیں۔ بیان کے ختم کے بعد حضرت جیؒ نے مولوی نور محمد صاحب کو ڈانٹا کہ تجھے مفتی کس نے بنایا تھا جو تم نے بغیر محرم نکلنے کو منع کر دیا. یعنی پہلی جماعت ہے ابھی سے مسائل پر زور مت دو۔ خالی نکلنے کی ترغیب دو۔ یہاں تو یہ ہوا اور جب بڑی حضرت جیؒ نے مجھے دہلی بھیج دیا تو لکڑی یعنی اپنی بینت لی کر حضرت مولانا یوسف صاحبؒ کے پاس گئے اور فرمایا کہ تو ہی مسلمان ہے میں مسلمان نہیں ہوں؟ تو نے کیسے کہا کہ عورتوں کو تبلیغ میں نہیں جانا چاہئے۔ یہ عورتیں کہاں نہیں جاتیں۔ یہ شادیوں میں جاتی ہیں، دہلی کی عورتیں مہرولی جاتی ہیں، سیر کرنے کو اوکھلا جاتی ہیں، پھر تم نے کیسے کہا کہ میری رائے نہیں ہے۔ جب حضرت جیؒ محمدیوسفؒ سے خفا ہوکر آئے تو مولانا محمد یوسفؒ میرے اوپر خفا ہوئے کہ داود نے ابّا جی کو کیا کہہ دیا. مغرب کے بعد حضرت مولانا محمد یوسفؒ نے دو لڑکے حوض پر بٹھا دئے کہ جب داود دہلی سے آئے تو میرے پاس پکڑ کر لاو۔ ہم دہلی سے عشاء پڑھ کر آئے۔ گرمیوں کے دن تھے۔ یہ لڑ کے مجھے حضرت مولانا محمد یوسف صاحبؒ کے پاس لے گئے۔حضرت نے فرمایا کہ ابّا جی میرے اوپر کبھی اتنا خفا نہیں ہوئے اور آج صرف اتنی کسر رہی کہ لکڑی سے مارا نہیں ورنہ زبان سے بہت کچھ کہا۔ تو تقریباً آدھا اشکال تو مولانا یوسفؒ کا حضرت کی خفگی سی نکل گیا اور میوات کو بار بار جماعتیں جانی لگیں تو حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب مفتی اعظم ہند کو عورتوں کا نکلنا معلوم ہوا تو بہت خفا ہوئے کہ یہ مولانا محمد الیاس صاحب ؒنے کیا کِیا اور دوسرے حضرات کو جو خطرہ تھا وہ سامنے آگیا۔ تو مفتی صاحب کے خفا ہونے کا کسی نے بڑے حضرتؒ کو آکر کہا تو بڑے حضرتؒ تانگہ لے کر مدرسہ امینیہ تشریف لے گئے اور حضرت مفتی اعظم کی سامنے عورتوں کے نکلنے کے فائدے بتلائے۔ ساتھ ساتھ عورتوں کی نکلنے کا اہتمام پیش کیا کہ جب مستورات کی جماعت نکالی جاتی ہے تو ہر عورت کو محرم کی ساتھ نکالا جاتا ہے۔ اوّل تو خاوند ہو یا بیٹا یا باپ ہو یا بھائی ہو‘ اگر کوئی عورت بغیر محرم آگئی اور کہا کہ میرا محرم کل پرسوں آئے گا تو اس عورت کو واپس کر دیا جاتا ہے اورجہاں جماعت جارہی ہے ان کو پہلے مطلع کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ مکان طے کرکے خالی کروالیں۔ جس مکان میں عورتیں ٹھہرتی ہیں وہ اسی مکان میں رہتی ہیں۔ گاوں والی جماعت کی پاس آتی ہیں۔ گشت عورتوں کے محرم اور مقامی مرد مل کر کرتے ہیں۔ یہ مرد، مردوں سی بات کرتے ہیں کہ اپنی مستورات کو فلاں صاحب کے گھر میں جماعت کی پاس بھیجو۔ یہ جماعت کی عورتیں کہیں نہیں جاتیں۔ پردے کا پورا اہتمام کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ تو حضرت مفتی صاحب ؒ کو پورا اطمینان ہوگیا کہ اگر اتنا اہتمام کرتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ پھر جو جماعت مستورات کی کام کرکے آتی تو حضرت مولانا یوسف صاحبؒ کو کارگذاری دیتی۔ ان تمام باتوں سے حضرت مولانا یوسف صاحبؒ کا اشکال آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔ سب سی پہلی جماعت گھاسیڑہ اور نوح کی قریب آس پاس میں آٹھ یوم لگا کر آئی۔ بندہ جماعت کے ساتھ تھا۔ جب جماعت آٹھ یوم میں واپس ہوئی تو بڑی حضرت خفا ہوئے کہ اتنی جلدی کیوں آگئے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت عورتیں زیادہ کپڑے لی کر نہیں گئی تھیں تو فرمایا کہ تو نوح سے نئے کپڑے بنوا کر دیتا،  پیسے مجھ سی آکر لے لیتا۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت مشورے والوں نے فرما یا تھا کہ یہ پہلی جماعت ہے ان کے جذبات کا خیال رکھنا، اس لئے جلدی آگئے۔ مشورہ کی بات سن کر حضرت بہت خوش ہوئے اور بہت دعائیں دیں۔ جب یہ جماعت مشورہ سے گھاسیڑہ وغیرہ طے ہوئی تو حضرت نے چودھریوں کی نام خط لکھا کہ میں تمھارے یہاں دہلی کی پردہ نشین مستورات بھیج رہا ہوں، تم ان کی خوب نصرت کرنا وغیرہ وغیرہ۔گھاسیڑہ والوں کو جماعت کا انتظار تھا۔ سڑک پر استقبال کے لئے آگئے۔ جب جماعت پہنچی تو گاوں والوں نے استقبال میں بندوقیں چلائیں اور پرُ زور استقبال کیا کہ مستورات کی پہلی جماعت ہمارے گاوں میں آئی ہے اور ہر گاوں میں ایسا ہی استقبال ہوا۔ پھر تھوڑے تھوڑے وقفے سے کئی جماعتیں نکلیں۔ بعدہ میوات سے مستورات کی جماعت کے مطالبے آنے لگے۔مستورات کا کام غالباً ۲۴۹۱ء میں شروع ہوا ہے۔اس سے پہلے نہیں۔ اس لئے کہ بندہ ۱۴۹۱ء میں مرکز آیا تھا۔ مرکز میں آنے کی بعد مستورات کا  کام شروع ہوا ہے۔ اگر حضرتؒ کے انتقال سے دس سال پہلے شروع ہوتا تو ہندوستان کے کئی شہروں میں مستورات کی بے شمار جماعتیں پہنچ جاتیں۔ حضرتؒ کی حیات میں میوات کے علاوہ کہیں یہ جماعتیں نہیں گئیں۔ 
واللہ اعلم۔
والسلام بندہ : 
مولوی داود ۰۱۔۳۔۳۱
عورتوں کا تبلیغی جماعتوں میں جانا کیسا ہے؟
شہید اسلام حضرت مولانا 'آپ کے مسائل اور ان کا حل' کے تحت ایک سوال "عورتوں کا تبلیغی جماعتوں میں جانا کیسا ہے؟"
کے جواب میں رقمطراز ہیں کہ "تبلیغ والوں نے مستورات کے تبلیغ میں جانے کے لئے خاص اُصول و شرائط رکھے ہیں، ان اُصولوں کی پابندی کرتے ہوئے عورتوں کا تبلیغی جماعت میں جانا بہت ہی ضروری ہے، اس سے دِین کی فکر اپنے اندر بھی پیدا ہوگی اور اُمت میں دِین والے اعمال زندہ ہوں گے۔"
علمائے عصر کے دونظریے :
حضرت اقدس مفتئ اعظم گجرات مد ظلہ رقم طراز ہیں؛
عورتوں کو تبلیغی جماعت میں بھیجنے کے سلسلے میں علمائے عصر کے دونظریے اور دو رائے ہیں، بعض علماء و اکابر نے تبلیغی اہمیت اور احساس کے باوجود مفاسد کے غالب ہونے کے پہلوکو مد نظر رکھ کر اجازت نہیں دی، اور بعض دوسرے علمائے کرام نے عصرحاضر کے لوگوں میں دین سے غفلت، اسلامی تہذیب و کلچر سے بعد و دوری، علوم اسلامیہ کی تحصیل و ترویج سے سستی و بیزاری وغیرہ دیگر حقائق نیز تبلیغی جماعت کے فوائدِ کثیرہ من جملہ ان میں سے لوگوں میں اس کے ذریعہ علوم دینیہ کی تحصیل کا شوق و جذبہ، سنت نبوی علیہ الصلاة و السلام سے والہانہ لگاؤ، شریعت ِ اسلامی و تہذیب محمدی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ترویج و اشاعت کا شوق و عزم وغیرہ پہلوؤں کے پیشِ نظر رکھ کر چند اہم و ضروری شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دی ـ
چنانچہ مفتی لدھیانوی شہید رحمة الله تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں؛
 تبلیغ والوں نے مستورات کے تبلیغ میں جانے کے لئے خاص اُصول و شرائط رکھے ہیں، ان اُصولوں کی پابندی کرتے ہوئے عورتوں کا تبلیغی جماعت میں جانا بہت ہی ضروری ہے، اس سے دِین کی فکر اپنے اندر بھی پیدا ہوگی اور اُمت میں دِین والے اعمال زندہ ہوں گے۔
مفتی رشید احمد صاحب طویل بحث کرکے بصیرت فقیہ عنوان قائم کرتے ہوئے رقم طراز ہیں؛
بصیرت فقہیہ:
حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی عبارات مذکورہ سے ثابت ہوا کہ اموروینیہ کے لئے خواتین کے خروج کی ممانعت قرآن وحدیث میں منصوص نہیں بلکہ ان  حضرات نے اپنے زمانے کے حالات اور شیوع فتن و فسادات کی وجہ سے اصول شریعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی آراء وانظار کا اظہار فرمایا ہے  لہٰذا ان حضرات کا  فیصلہ کوئی نص قطعی اور حرف آخر نہیں  بلکہ تغیر زمانہ سے اس میں ترمیم کی گنجائش ہے۔
دور حاضر میں غلبہ جہل اور  دین سے بے اعتنائی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ خواتین کے لئے ضرورات شرعیہ سے خروج کو مطلقاً ممنوع و حرام قرار دینا اور کسی بھی ضرورت شرعیہ کے لئے خروج کی اجا زت نہ دینا اقامت دین کی بجائے ہدم دین ہے چنانچہ اسی کے پیش نظر مجموع النوازل میں مسائل شرعیہ معلوم کرنے کی ضرورت سے خروج کی اجازت دی گئی ہےــ
آخر میں حضرت اقدس سیدی مفتی خانپوری مدظلہ فرماتے ہیں کہ بہر حال یہ مسئلہ دیانت سے تعلق رکھتا ہے، اس کی پوری بنیاد ہی دیانت پر ہے، لہٰذا جو حضرات بھیجنے والے ہیں اور جو بھیج رہے ہیں ان کی بہت بڑی اور بہت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ سب سے پہلے اس بات کا اطمنان حاصل کرلیں کہ جماعت ِ تبلیغ میں بھیجی جانے والی یہ خواتین کس نوع کی ہیں آج تک کے ان کے طرز عمل اور رویہ سے اس بات کا اطمنان ہو کہ یہ عورتیں اس سلسلے میں جو خاص اصول و شرائط تجویز کیے گئے ہیں ان کی مکمل پابندی کریں گی تو بھیجنے کی اجازت و گنجائش ہے ــ
محمود الفتاوی
.
بـسـم اللہ الـر حـمـن الـر حـیـم
کیا عورتیں دعوت و تبلیغ کا کام کر سکتی ہے؟
سوال
جب عورتوں کو مسجد میں نماز ادا کرنے کی غرض سے گھر سے نکلنے کی ممانعت ہے تو مدر سة البنات میں پٍڑھنے پڑھانے کے لئے یا دعوت و تبلیغ کے لئے گھر سے نکلنے کی کیسے اجازت ہو سکتی ہے؟
جــواب
نماز کے لئے گھر سے باہر نکلنے کی بنیاد یہ ہے کہ عورت کے لئے نماز باجماعت میں سرے سے کوئی فضیلت ہی نہیں ہے  بلکہ اسکے حق میں افضل یہ ہے کہ وہ گھر میں پڑھے، زیادہ سے زیادہ جواز تھا اور فتنہ کی وجہ سے اس پر قدغن لگادی، لیکن جو امور اصل میں ہی عورت کے لئے مطلوب اور ماموربہ ہیں اگر انکی غرض سے نکلنا ہو اور حجاب کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھا جائے تو جائز ہے،کیونکہ بضرورت خروج جائز ہے اور ضروریات میں وہ امر بھی داخل ہے جس کی تحصیل مأموربہ اور مطلوب ہے، ان میں سے ایک علم کا حصول ہےـ
    حصول علم ایسی چیز ہے جو عورت کے لئے مأموربہ ہے اگر عورت حجاب کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے حصول علم کے لئے گھر سے نکلے تو جائز ہے بلکہ مأموربہ ہے
    اسی طرح ایک حکم مأموربہ تو نہیں ہے لیکن مطلوب فی الدین ہے جیسے دعوت و تبلیغ، عورتوں پر وہ فریضہ عائد نہیں ہوتا جو مردوں پر ہوتا ہے، عورت کے لئے مأموربہ نہیں ہے لیکن فی نفسہ یہ بات دین میں مطلوب ہے کہ مسلمانوں کو حق کی طرف بلایا جائے، "وتواصوبالحق وتواصوبالصبر" اگر عورت اس غرض کے لئے حجاب کے تمام تقاضوں کےمدنظر رکھتے ہوئے گھر سے باہر نکلے خاص طورپر یہ بات سامنے رکھکر کہ عورتوں میں بےدینی بہت زیادہ پھیل رہی ہے  اور عورتوں کی بےدینی نسلوں کو تباہ کرنے میں زیادہ مؤثر ہورہی ہے، لہٰذا انکو متوجہ کرنے کے لئے اگر خواتین حجاب کا خیال رکھتے ہوئے گھر سے باہر نکلے تو جائز ہے
     دین کے مزاج کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے، جب ہم جنوبی افریقہ گئے تو دیکھا کہ وہاں یہ حالت ہے کہ عورتٰن بازاروں میں بےپردہ پھر رہی ہیں، یہاں تک کہ علماء کہ خواتین کی بھی یہی حالت ہے تو ایسے میں جماعت کے کچھ حضرات نے یہ کوشش کی کہ عورتوں میں دعوت کا کچھ کام کیا جائے، چنانچہ کچھ اجتماعات منعقد کئے، ایک صاحب نے وہاں ایک فتویٰ دیا کہ عورتوں کے لئے جماعت میں جانا جائز نہیں ہے، اس لئے کہ انکا گھر سے خروج جائز نہیں ہے. 
     اب عورتیں بازاروں میں بےپردہ پھررہی ہیں اور اس حالت میں یہ فتویٰ دیا جارہا ہے، جسکا مطلب یہ ہوا کہ بازاروں میں جاؤ، ہوٹلوں اور کلبوں میں جاؤ لیکن جماعت میں نکلکر دعوت کا کام نہ کرو، تو یہ وہ بات ہے جسکو سمجھنے کی ضرورت ہے. 
(بحوالہ: انعام الباری جلد3  صفحہ نمبر  598  کتاب الاذان)
سماجی روابط کی سائٹس پر پیغام :
"ابھی چند روز قبل ہمارے ایک بھائی نے عورتوں کی تبلیغ سے متعلق ازہر ہند دار العلوم دیوبند کا ایک اہم فتوی اپلوڈ کیا تھا جس میں عورتوں کی تبلیغ کو ناجائز اور ناپسند قرار دیا گیا تھا ... ہمارے بھائی نے اس کے متعلق رائے مانگی تھی ..... 
عرض ہے کہ اس فتوے سے تو ہم بھی متفق ہیں مگر اس سے پہلے اصل سوال کو سمجھنا ہوگا تاکہ عورتوں کے جماعت میں جانے کے تعلق سے کوئی اشکال نہ پیدا ہو  ..... اصل غلطی یہ ہو رہی ہے کہ لوگ عورتوں کی جماعت کو عورتوں کا تبلیغ کرنا سمجھتے ہیں جبکہ یہ بالکل غلط ہے ... ہر شخص جانتا ہے کہ عورتیں جماعت میں سیکھنے کے لئے جاتی ہیں، تبلیغ کے لئے نہیں ... نہ وہ گشت کرتی ہیں نہ انفرادی و اجتماعی ملاقات .. بس وہ چند دن پردے کے پورے اہتمام کے ساتھ کسی گھر میں رہتی ہیں، وہاں آپس میں ایک دوسرے سے دین سیکھتی اور سکھاتی ہیں اور مرد حضرات بیانات کرتے ہیں اس کے ذریعہ دین سیکھتی ہیں .. ان تمام اعمال میں عمل تبلیغ نہیں ہے بلکہ تعلم ہے  .... یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بنات ( لڑکیوں)  کے مدرسے ... وہاں بھی لڑکیاں قیام کر کے دین سیکھتی ہیں اور یہاں بھی دین سیکھا جاتا ہے ... بلکہ یہاں تو محرم مرد قریب ہی مسجد میں ہوتا ہے اور مدارس میں تو یہ امکان بھی نہیں .... اگر چند دن کسی گھر میں پردے کے اہتمام کے ساتھ دین سیکھنا غلط ہے تو لڑکیوں کے مدارس بھی اسی فتوے کے زد میں آنے چاہئیں .... علماء اور مشائخ کی مجالس میں جو مستورات کو دعوت دی جاتی ہے اور جہاں وہ بغیر محرم مردوں کے آتی ہیں وہ بھی اسی فتوے کی زد میں ہیں .... لیکن نہیں ہم ایسا نہیں کہتے کیونکہ ہم کو معلوم ہے کہ مستورات کے لئے تبلیغ نہیں ہے لیکن تعلم دین (دین کا سیکھنا) ضروری ہے ... اور یہ سب اسی کا حصہ ہیں .. چاہے عورتوں کی.جماعت ہو یا مدارس بنات یا اصلاحی مجالس ... اور اگر مستورات کی جماعت اس وضاحت کے بعد کہ وہ تبلیغ نہیں بلکہ تعلم ہے غلط ہے تو مدارس بنات اور مستورات کی دینی مجالس بدرجہ اولی غلط ... کیونکہ ان میں پردے کا اور محرم مردوں کی اتنی احتیاط اور شرائط نہیں ہیں جتنی عورتوں کی جماعت میں ہیں .... مگر افسوس، اصل سوال اور پورے نظام کو سمجھے بغیر ہمارے بھولے بھالے بھائی عورتوں کی جماعت کو غلط بلکہ ناجائز تک قرار دے دیتے ہیں  .... اللہ ہم سب کو صحیح فکر اور اخلاص نصیب فرمائے .. 
آمین  .."