"عورتوں
کے لئے تعلیم
کی حد کیا ہے؟؟؟"
ایسے حق گو اور بے لاگ حضرات اب نایاب ہوچکے ہیں، جو شریعت کے مقابلے میں کسی کی ذرّہ برابر رعایت بھی گوارا نہ کریں۔ براہ کرم جواہر الرشید جلد ثالث صفحہ ۸۳، حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جواہر الرشید جلد ثالث صفحہ ۸۳ ملاحظہ فرمائیں۔
فتاوی کے فوائد:
فتاوی در اصل مسلم سماج و معاشرہ کے اقتصادی، معاشی، سیاسی ، اعتقادی اور سماجی مسائل کا آئینہ اور عکاس ہوتے ہیں، ان کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مخصوص زمانے میں، مخصوص معاشرہ و سماج کے لوگوں کے کیا مسائل تھے، وہ کن حالات کے شکار تھے، ان کے زمانے میں سماجی تبدل اور معاشرتی تغیرات نیز افکار و نظریاتی اختلاف کس نوعیت کے تھے، اس معاشرے کے مسائل کا حل اصحاب افتاء نے کس طرح پیش کیا،اور اس کا حل پیش کرنے میں کیا اصول وضوابط ملحوظ رکھے اور کس انداز میں غور و فکر کیا اور ان کی خدمات کا معاشرے پر کیا اثر مرتب ہوا۔ گویا ہر دور کے فتاوی میں اس عہد و زمانہ کا رنگ نظر آئے گا
ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس دور کے فقہاء نے مسائل کے حل کے لیے مختلف مراجع و مصادر سے استفادہ کیا، تو اس میں بہت سے مراجع و مصادر وہ ہوں گے، جن سے ہمیں واقفیت نہ ہوگی ، ان فتاوی کے مطالعہ سے ایسے مصادر و مراجع بھی ہمارے علم میں آئیں گے۔ (ماخوذ از تقریظ و تائید مفتی اقبال صاحب ٹنکاروی دامت برکاتہم بر فتاوی فلاحیہ ج 5 ص 29) ( #ایس_اے_ساگر )
No comments:
Post a Comment