Sunday, 18 January 2026

بونے کو ہے قدآوری کا جنون

 بونے کو ہے قدآوری کا جنون 

بقلم: شکیل منصور القاسمی 

زبان کوئی جامد شے نہیں کہ ایک ہی سانچے میں منجمد ہوکر صدیوں کا بوجھ اٹھاتی پھرے، زبان ایک زندہ، متحرک اور ارتقائی حقیقت ہے جو ہر دور کے تقاضوں، ماحول اور اظہار ذوق کے ساتھ اپنے الفاظ، تراکیب، نحو اور اسالیب میں تبدیلیاں قبول کرتی چلی آئی ہے۔ عربی زبان کی تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ ہر دور نے اس زبان کو ایک نیا قالب عطا کیا ہے؛ نہ صرف الفاظ کے اعتبار سے بلکہ نحو، ترکیب اور اسلوب کے میدان میں بھی یہ تنوع قبول کیا گیا ہے۔

ادب عربی کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے اہل علم کے علم میں یقیناً یہ بات ہوگی کہ قریش کے دور کی زبان، عصرِ جاہلیت کی زبان، صدرِاسلام، اور عباسی ادوار میں عربی کے بیانیہ ،اسلوب اور لسانی قالب میں وہ یکسانیت نہیں تھی جو بعض لوگ آج بھی فرض کرتے ہیں، عصرِ جاہلیت کی زبان اپنی شان میں منفرد تھی، صدرِ اسلام میں اس نے ایک نیا تہذیبی وقار اختیار کیا، اور پھر عباسی ادوار میں اس کے بیان و اظہار میں ایسے تغیرات آئے جو اس سے پہلے معروف نہ تھے؛ یہی وجہ ہے کہ بعد کے اہل علم وادب نے بعض طبقوں کے کلام سے استدلال کو قابلِ قبول نہیں سمجھا اور لسانی لغزشوں کے اندراج کے لئے باقاعدہ کتابیں تصنیف کیں۔ یہ سب اس امر کا بیّن ثبوت ہے کہ زبان کے معیار، اس کی ساخت اور اس کے ذوق میں تبدیلی ایک ناگزیر حقیقت رہی ہے اور یہ ہوتی چلی آئی ہے ۔

زبان کی تاریخ دراصل اس کے مفردات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ترکیبی نظام، اسالیبِ بیان اور فکری سانچوں کا مطالعہ بھی اسی قدر ضروری ہے، یہی حقیقت ہے جس کی طرف اہلِ علم نے ہمیشہ اشارہ کیا اور اسی لئے زبان عربی کے ارتقاء و تغیر کا مطالعہ ایک سنجیدہ علمی موضوع بنا۔  

یہی وجہ تھی کہ قدیم و جدید محققین نے لغت عامیہ، لحنِ عمومی، لحن خصوصی جیسے ناموں سے نحوی وترکیبی غلطیوں کا ریکارڈ مرتب کرنا ضروری سمجھا اور اس علمی روایت کے تحت متعدد کتابیں تدوین پائیں،جن میں شاکر شقیر لبنانی (متوفی 1314ہجری) کی کتاب "لسان غصن لبنان في انتقاد العربية العصرية"اور شیخ ابراہیم یازجی (متوفی 1324ہجری)کی کتاب " لغة الجرائد" ہے ، جن میں  اخباری زبان اور لسانی لغزشوں اور تغیرات کو تفصیل کے ساتھ شامل کتاب کیا گیا ہے ۔

پھر شیخ عبد القادر مغربی ( متوفی 1375ہجری) ( نائب رئيس المجمع العلمي العربي دمشق) نے “الكلمات غير القاموسية" نامی اپنے مبسوط مقالے میں متبدل ومنقول کلمات عربیہ کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے ، اور مختلف بلاد عربیہ کے ۱۹ علماء وادباء کا تفصیلی فتویٰ بھی شامل کیا ہے جنہوں نے مشروط طور پہ عربی میں در آمد کلمات جدیدہ کے استعمال کی اجازت دی ہے ،نیز انہوں نے  "تعريب الأساليب"نامی اپنے مضمون میں بھی عجمی تراکیب کے استعمال کی اجازت  دی ہے ۔

شیخ محمد تقي الدين هلالی (متوفی1407هـ ) کی كتاب "تقويم اللسانين" اور ڈاکٹر ابراهيم سامرائی(1342هـ) کی تحریر "تعابير أوربية في العربية الحديثة” وغیرہ جیسی دیگر کتابوں میں عجمی زبانوں سے عربی میں در آمد اسالیب وتعبیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

1443ہجری میں مشہور ماہر لسانیات وترجمہ نگاری شیخ احمد غامدی کی کتاب “ العرنجية" منظر عام پر آئی، سچی بات یہ ہے کہ کتاب کے نام کے ساتھ مشمولات کتاب بھی عجائب وغرائب کا مجموعہ ہیں ، کتاب عوامی حلقے میں مقبول ہوئی ، اس میں انہوں نے تیرہویں صدی ہجری اور انیسویں صدی عیسوی کی سات دہائیوں میں فرانسیسی وانگریزی زبانوں کا رنگ وآہنگ عربی میں غالب آنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ عوام تو عوام ؛ بڑی شدت وجرأتِ بے جا کے ساتھ انہوں نے مشہور وتسلیم شدہ ادباءِ عرب کی تحریروں کو بھی ان نقائص کا مجموعہ قرار دیا ہے ، ان کی تحریروں کے اقتباسات پیش کرکے یہ بتانے کی سعی لاحاصل کی ہے کہ ان کی عربی تحریرات عجمیت اور فرنگیت کا مظہر تھیں ؛حالانکہ غور کی نظر مطلع صاف کردیتی ہے کہ تعبیرات واسالیب کا تنوع  خطاءِ عربیت نہیں، بلکہ کل وقتی لسانی تبدّلات کی علامت ہیں،  جو عربی زبان کی جڑیں و مراحلِ نمو کی نشاندہی کرتے ہیں، زبان کا طویل سفر صرف الفاظ کی تبدیلی کا داستان نہیں ہوتا، بلکہ نحو، تراکیب، اظہار کے اسالیب کا تنوع وتسلسل ہوتا ہے جس میں لفظ و بیان کے ارتقا کے نشانات پہلو بہ پہلو نمایاں ہوتے ہیں ، ہر زمانہ کے جمہور ادباء نے مشروط طور پہ ان لسانیاتی وتعبیراتی ارتقاءات کو قبول کیا ہے ، جمہور سے ہٹ کر جدت طرازی کی اپنی پگڈنڈی قائم کرنا محفوظ طریق نہیں ہے ۔


ابھی میرے سامنے ایک نو فاضل کی نئی کتاب ( عربی حروف میں فرنگی زبان ، مؤلفہ محمد ہدایت اللہ قاسمی آسامی )کے چند صفحات  ہیں ، جو احمد غامدی کی مذکورہ بالا کتاب “ العرنجیۃ” ، اور  "تقويم اللسانين"، "تعابير أوربية في العربية الحديثة” اور عالم عرب کی اس جیسی دیگر معاصر تحریرات کا اردو قالب ہے ، احمد غامدی نے احمد شوقی جیسے ادباء کی تحریروں میں ضعف عربیت کی نشاندہی کی ہے اور ہدایت اللہ قاسمی صاحب نے یہی کام حضرت الاستاذ مولانا نور عالم صاحب خلیل امینی ، حضرت کیرانوی ، حضرت الامام علی میاں ندوی رحمہم اللہ کی تحریروں کے ساتھ کیا ہے 

یعنی پرانی شراب کو نئی بوتل میں پیش کیا ہے اور اختلاف رائے کے لبادے میں بڑی دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا  ہے 

سچی بات تو یہ ہے کہ یہ کتاب کسی ردّ کا محتاج ہی نہیں ہے، کیونکہ جہاں فہم کا چراغ ہی گل ہو، وہاں فصاحت کے آفتاب پر گفتگو اندھوں کی سرگوشی بن کر رہ جاتی ہے۔

حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ، حضرت مولانا وحید الزماں کیرانوی رحمہم اللہ کی تحریروں پر ضعف یا مسخ عربیت کا بھدا  الزام ایسا ہی ہے جیسے کوئی “کور ذوق” آئینے پر غبار کا مقدمہ قائم کرے، یہ نہ اختلاف رائے ہے، نہ تحقیق؛ بلکہ تاریخ ادب عربی ، لسانی ارتقاءات وتطورات سے ناواقفیت کی عکاسی ، فکری مفلس پن کی آواز ہے جو بلند معیار کو اپنی پست قامت کے پیمانے سے ناپنے کی جسارت کرتا ہے۔

جن اکابر کی عربی تحریریں اہل عرب کے اذہان میں چراغ بنی ہوں، جن کی نثر پر فصاحت سر جھکاتی اور بلاغت مسکراتی ہو، ان پر عربیت کے ضعف ومسخ کا حکم لگانا علمی بے ادبی ہی نہیں، ادبی خودکشی بھی ہے۔ یہ وہی روش ہے جس میں “بونے قد “ میناروں کو قامت ناپنے کا چیلنج دیتے ہیں اور پھر اپنی پستی کو اختلاف رائےکا نام دے دیتے ہیں۔

حضرت الاستاذ شیخ امینی قدس سرہ کی عربیت وہ شمشیر ہے جس کی دھار قواعد سے نہیں، ذوق سے تیز ہوتی ہے؛ اور حضرت مولانا علی میاں ندوی کی نثر وہ سحر ہے جو قاری کے شعور کو مسحور ومسخر کر لے، ان ائمہ ادبِ عربی کے ان اسالیب کو خلاف عربیت کہنا دراصل اس ذوق کی میّت پر نوحہ ہے جو نہ جزالت کی پہچان رکھتا ہے، نہ سلاست کا شعور، اور نہ تاریخ وروایت عربیت کی حرمت سے واقف ہے۔

حیرت ہے حیثیت عرفی رکھنے والے ان قد آور اکابر علماء پر جو ایسی فاسد شراب کو اپنے تقریظاتی کلمات سے “ رحیق مختوم “ بناکر پیش کرنے کی چوک کربیٹھتے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ صاحب کتاب کی فکر ونظر کو اپنی ہدایت (ہدایت اللہ) سے مالا مال فرمائے ؛آمین ! 

شکیل منصور القاسمی 

مركز البحوث الإسلامية العالمي 

(اتوار 28؍ رجب المرجب 1447ھ18؍جنوری2025ء)

( #ایس_اے_ساگر )


No comments:

Post a Comment