Monday, 2 February 2026

دو بیویاں ہوں سے نباہ کا طریقہ اور ضروری دستورالعمل

دو بیویاں سے نباہ کا طریقہ اور ضروری دستورالعمل
جس شخص کے دو بیویاں ہوں ان کے نباہ کا طریقہ 
اور ضروری دستورالعمل
(از: اسلامی شامی)
شوہر کے لئے دستورالعمل:
 (۱) ایک بیوی کا راز دوسری سے نہ کہے۔ 
(۲) دونوں کا کھانا اور دونوں کا رہنا الگ الگ رکھے ان کا اجتماع آگ اور بارود کے اجتماع سے کم نہیں۔ 
(۳) ایک بیوی سے دوسری بیوی کی شکایت ہرگز نہ سنے۔
 (۴) ایک کی تعریف دوسری سے نہ کرے۔
 (۵) غرض ایک کا تذکرہ نہ دوسری سے کرے اور نہ دوسری سے سنے، اگر ایک شروع بھی کرے تو فورا روک دے اور کچھ بات کرو۔ 
(٦) اگر ایک دوسرے کی کوئی بات پوچھے تو ہرگز نہ بتلائے لیکن سختی نہ کرے نرمی سے منع کردے۔
 (۷) لینے دینے میں یہ شبہ نہ ہونے دے کہ ایک کو زیادہ دے دیا ہو بلکہ اس کو صاف صاف ظاہر کر دے۔ 
(۸) باہر آنے والی عورتوں کو سختی سے روکے کہ وہ دوسری جگہ کی حکایت یا شکایت بیان نہ کریں ۔ 
(۹) خوشامد میں بھی ایک کیساتھ کم محبتی کا دعوی دوسری کے سامنے نہ رکھے۔ 
(۱۰) اگر موقع ہو تو ایک سے ایسی روایت کردے کہ دوسری تمہاری تعریف کرتی تھی۔
 (۱۱) لطف (نرمی) سے اس کی تدبیر ہوسکے تو مفید ہے کہ ایک دوسرے کے پاس ہدیہ وغیرہ بھی بھیجا کریں۔

پہلی بیوی کے لئے ضروری دستورالعمل:
(۱) جدیدہ (نئی بیوی) پر حسد نہ کرے۔ 
(۲) اس پر طعن و تشنیع نہ کرے۔
(۳) بہ تکلف نئی بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی کا برتاؤ کرے تاکہ اس کے دل میں محبت نہ ہو تو عداوت بھی نہ ہو۔ 
(۴) شوہر سے کوئی ایسی بے تکلف گفتگو نہ کرے کہ شوہر کو اس جدیدہ (نئی) کے سامنے اس کا ہونا اس لئے ناگوار ہو کہ اس کو یہ احتمال ہو کہ یہ جدیدہ بھی ایسی بے تمیزی (ںے ادبی) نہ سیکھ لے۔ 
(۵) شوہر سے نئی کا کوئی عیب بیان نہ کرے کوئی شخص اپنے محبوب کی عیب گوئی خصوصا رقیب کی زبان سے پسند نہیں کرتا (اس میں خود پہلی بیوی ہی کا نقصان ہے)۔ 
(۶) جدیدہ (نئی بیوی) سے ایسا برتاؤ رکھے کہ اس کی زبان قدیمہ (پہلی) کے سامنے ہمیشہ بند ر ہے۔ 
(۷) شوہر کی اطاعت و خدمت و ادب میں پہلے سے زیادتی کردے تاکہ اس کے دل سے نہ اترجائے۔
(۸) اگر شوہر سے ادائے حقوق میں کچھ کمی رہ جائے تو جو کمی حد تکلیف تک نہ پہنچے اس کو زبان پر نہ لائے اور اگر تکلیف ہو تو جس وقت مزاج خوش دیکھے ادب سے عرض کر دے۔ 
(۹) جدیدہ کے رشتہ داروں سے خوش اخلاقی و مدارات اور حسن سلوک کا برتاؤ رکھے کہ جدیدہ کے دل میں جگہ میں ہو۔
 (۱۰) کبھی کبھار اپنا دن (شوہر کے پاس رہنے کی باری) جدیدہ کو دے دیا کرے تا کہ شوہر کے دل میں قدر بڑھے۔
نئی بیوی کے لئے ضروری دستورالعمل:
(۱) قدیمہ ( پہلی بیوی) کے ساتھ ایسا برتاؤ کرے جیسے اپنے بڑوں کے ساتھ کیا کرتے یہیں۔ 
(۲) شوہر پر زیادہ ناز نہ کرے اس گمان سے کہ میں زیادہ محبوب ہوں (بلکہ) خوب سمجھ لے کہ قدیمہ (پہلی) سے جو تعلقات رفاقت ہیں جو کہ دل میں جاگزیں ہو چکے ہیں یہ نفسانی جوش اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
 (۳) شوہر سے خود الگ رہنے سہنے کی درخواست نہ کرے۔
 (۴) اگر شوہر الگ رکھنے لگے تب بھی کبھی کبھی قدیمہ (پہلی) سے ملنے جایا کرے اور قدیمہ کو دعوت وغیرہ کے لئے کبھی کبھی بلایا کرے۔
 (۵) شوہر کو سمجھاتی رہے کہ قدیمہ سے بے پروائی نہ کرے۔ 
(۶) اگر قدیمہ کچھ سختی یا طعن وغیرہ کرے تو اس کو ایک درجہ میں معذور سمجھ کر معاف کر دے اور شوہر سے ہرگز شکایت نہ کرے۔
 (۷) قدیمہ کے رشتہ داروں کی خوب خدمت کرے۔
 (۸) قدیمہ کی اولاد سے بالخصوص ایسا معاملہ رکھے کہ قدیمہ کے دل میں اس کی محبت و قدر ہوجائے۔ 
(۹) ضروری امور میں قدیمہ سے مشورہ کرتی رہے کہ اس کے دل میں قدر بھی ہو اور اس کو تجربہ بھی زیادہ ہے۔
(۱۰) اور اپنے میکہ جائے تو قدیمہ سے خط و کتابت بھی رکھے۔ (اصلاح و انقلاب)
(بقلم: محمد یحیی بن عبدالحفیظ قاسمی) ( #ایس_اے_ساگر )



No comments:

Post a Comment