Thursday, 5 January 2017

اللہ کا نام لکھا ہوا جا نماز یا چٹائی پہ نماز پڑھنا

ایس اے ساگر 

اسلامی معاشرے میں جائے نماز یا نماز چٹائی ، جسے عربی میں سجادة سجادہ سجاجيد sajājīd ، یا مسلح ؛ ترکی : . seccade یا namaz ؛ فارسی : جانماز ، اردو : جانماز jānamāz کہتے ہیں، عام طور پر کپڑے کی بنی ہوتی ہے، یہ الگ بات کہ فی زمانہ قالین بافی کے ذریعہ بھی ایک سے ایک عمدہ جانماز بنائی جارہی ہیں. مسلمان انھیں نماز پڑھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ نماز پڑھنے کے لئے صاف ستھری جگہ کا خیال رکھا جاتا ہے ، جائے نماز کو ایک مخصوص سمت خانہ کعبہ کی طرف رخ رکھ کر بچھایا جاتا ہے ۔ ایک مسلمان کا نماز پڑھنے سے پہلے وضو ہونا ضروری ہے ۔ نئے بننے والے جائے نماز فیکٹریوں میں تیار ہوتے ہیں۔زیادہ تر جائے نماز کے ڈیزائن دیہات سے بن کر آتے ہیں پھر انہیں فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور جائے نماز کی شکل دے دیتے ہیں۔ جب نماز پڑھی جاتی ہے تو جائے نماز کے سب سے اوپر ایک نشان بنا ہوتا ہے جو مکہ مکرمہ کی سمت کی اشارہ کرتا ہے اور اسی نشان کے اوپر نمازی سجدہ بھی کرتا ہے ۔ ہر مسلمان کے لئے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ اسکے گھر کی کس سمت میں موجود ہے اور کس طرف انہیں جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنی ہے ۔
خصوصیات اور استعمال;
جائے نماز بہت مضبوط علامتی معنی رکھتا ہے اور روایتی طور پر نہایت مقدس انداز میں اسکی دیکھ بھال کی جاتی ہے ۔ ایک گندی جگہ پر جائے نماز کو بچھانا یا غلط طریقے سے بچھانابے ادبی سمجھی جاتی ہے۔ نماز پڑھنے کے لئے جگہ کا پاک صاف ہونا لازمی ہے۔ روایتی طور پر جائے نماز کے اوپر کے سرے پرجہاں سجدہ کیا جاتا ہے ایک گنبد یا خانہ کعبہ کی ایک شکل بنائی جاتی ہے اور نچلے سرے پر جہاں پاؤں رکھے جاتے ہیں وہ جگہ خالی ہوتی ہے۔ ڈیزائنر جائے نماز کو اس طرح ڈیزائن کرتے ہیں کہ مسلمان آسانی سے اندازا لگا سکیں سجدہ کی جگہ کونسی ہے اور پاؤں رکھنے کی جگہ کونسی ہے۔جائے نماز کی سجاوٹ کا انداز بہت ہی اہم ہے بلکہ اس ڈیزائن میں ایک خاص احساس چھپا ہوتا ہے۔

جائے نمازمیں مسجد کے محراب کی طرح کا ڈیزائن ہوتا ہے۔ بہت سے جائے نماز میں دنیا کی مساجد کے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر مشہور مساجد کے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں جیسا کہ مکہ و مدینہ کی مساجد اور یروشلم کی مساجد وغیرہ ۔سجاوٹ اور ڈیزائنگ صرف منظر کشی میں ہی مدد نہیں کرتی بلکہ نمازی کی یاداشت میں اضافہ بھی کرتی ہے ۔ مثالوں میں سے ایک مثال کنگھی اور پانی کے گھڑے کی ہے جس میں نمازی کو یہ یاد دہانی کروائی جاتی ہے نماز پڑھنے سے پہلے وضو کرو اور سر کا مسح کرو۔ سجاوٹ کی ایک اور اہم مثال یہ ہے کہ جو نئے مسلمان ہوتے ہیں انکے لئے جائے نماز پر ہاتھ کے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے ہاتھ کہاں رکھنے ہیں۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام
مسجد میں بچھی ہوئی صف میں لفظ ' الله ' صاف پڑھا جارہا ہے، کیا اس صورت میں اللہ کے نام کی بے حرمتی نہیں ہوتی؟
ایس اے ساگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب وباللہ التوفیق
جن مصلوں و جانمازوں و فرشوں پر اللہ تعالی کے اسماء مبارکہ یا آیات قرآن مجید و کلمات طیبات وغیرہ لکھے ہوں ان کو بچھانا و استعمال کرنا جائز نہیں کہ اس میں اللہ تعالی کے بابرکت ناموں اور آیات کی بے حرمتی ہے اور ایسے مصلے و فرش و فروش کہ جن پر کوئی بابرکت اسماء و آیات قرآنیہ و احادیث و فقہ کے جملے نہ لکھے ہوں اور ایسی عبارت لکھی ہو جس کی شرع میں کوئی تعظیم و تکریم مطلوب و مقصود نہ ہو خواہ خط نسخ میں خواہ نستعلیق میں لکھے ہوں ان کو بچھا کر ان پر نماز پڑھنا یا مجلسوں میں بطور فرش کے استعمال کرنا کسی حال میں ناجائز و خلاف ادب نہیں۔
’’وفی جمع النسفی :مصلی او بساط فیہ اسماء اللہ تعالی یکرہ بسطہ واستعمالہ فی شئی‘‘
(عالمگیری ص ۱۱۶ ج۱، )
ولا بأس بالصلوۃ علی الفرش والبسط واللبود ‘‘ 
( قاضیخان ص ۱۱۱ج۱ ، )
آج کل جانمازوں پہ خانہ کعبہ ومسجد نبوی کا عکس بھی رہتاہے ۔تو بہتر تو یہ ہے کہ ایسے مصلوں کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے ۔سیدھا سادہ مصلی استعمال کرے۔عموما اسلام دشمن کمپنیوں کی طرف سے مقامات مقدسہ کی تنقیص کے ارادہ سے یہ عکس چھاپے جاتے ہیں۔لہذا احتیاط بہرحال بہتر ہے۔
لیکن اگر کوئی استعمال کرے تو بھی گنجائش ہے کہ نمازی کی نیت توہین یا تنقیص کی نہیں ہوتی ہے۔
نیز یہ منقوش ہوتے ہیں۔مکتوب  نہیں۔
مکتوب و منقوش کے احکام جداگانہ ہوتے ہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
(مفتی) شکیل منصور القاسمی
 .............
جائے نماز پر خانہ کعبہ کا عکس ہو اس پر نماز پڑھنے کا حکم
Ref. No. 1019
السلام علیکم۔ 
میں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ اکثر مسجدوں میں دیکھا جاتا ہے کہ امام کی  اور موذن کی یا گھروں میں استعمال ہونے والی جائے نمازوں پر کعبہ مدینہ کی تصویر بنی ہتی ہے۔ لوگ ان پر نماز پڑھتے  اور ان پر پیر رکھتے اور بے حرمتی کرتے ہیں۔  اگر دین اسلام میں یہ غلط ہے تو اس کی ضاحت کریں حوالہ کے ساتھ۔ ایک فتی بھی میل کردیں اردو میں۔ جس میں یہ بات ظاہر ہوتی ہو کہ ایسی جانماز استعمال کرنا غلط ہے اور خریدنا بھی غلط ہے۔

Ref. No. 972 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب وباللہ التوفیق۔ 
خود خانہ کعبہ کی چھت پر نماز جائز ہے، اگر چہ مکرہ تنزیہی ہے۔ اور تصویر کا حکم اصل کے موافق نہیں ہے، اس لئے جن مصلوں پر خانہہ کعبہ یا روضہ اطہر کی تصویریں ہوں ا ن پر نماز پڑھنا درست ہے۔ البتہ اگر ان تصویروں کی طرف ذہن جانے کی وجہ سے خشوع و خضوع فوت ہوتا ہو اور ذہن نماز سے ہٹتا ہو تو خشوع و خضوع میں خلل سے بچنے کی وجہ سے ایسے مصلوں سے احتراز کیا جانا چاہئے۔ کذا فی البحرالرائق ص28 ج2
                                                                                                          واللہ تعالی اعلم 
                                                                                                              دارالافتاء
                                                                                                  دارالعلوم وقف دیوبند 
.................................
سوال: جس جائے نماز پر خانہ کعبہ یا گنبد خضری کا عکس ہو اس پر نماز پڑھنا
 جائز ہے یا نہیں ؟
کیا اس پر نماز پڑھنا بے ادبی ہے ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب حامدا و مصلیا
 ایسے مصلے کہ جن پر بیت اللہ شریف یا روضہ مبارکہ کی شبیہ ہوں انہیں بچھا کر ان پر نماز پڑھنا درست ہے لیکن عملا مشاہد ہ ہے کہ لوگ ان مقامات مقدسہ کی شبیہ پر بے خیالی میں اور بعض اوقات جان بوجھ کر پاؤں رکھ دیتے ہیں اور ان پر بیٹھ بھی جاتے ہیں جس میں بےا دبی کا شبہ ہے اس لیے ایسے مصلوں کو نماز میں استعمال کرنے سے اگر کوئی شخص بچنا چاہے تو بہتر ہے اور اگر کوئی احتیاط سے استعمال کر سکے تو اس کی بھی گنجائش ہے ۔
===================================
الدر المختار – (1 / 649)
( أو لغير ذي روح لا ) يكره لأنها لا تعبد
===================================
تبيين الحقائق وحاشية الشلبي – (1 / 166)
 قال – رحمه الله – (أو لغير ذي روح) أي أو كانت الصورة غير ذي الروح مثل أن تكون صورة النخل وغيرها من الأشجار ؛ لأنها لا تعبد عادة
===================================
كنز الدقائق – (1 / 174)
إلّا أن تكون صغيرةً أو مقطوعة الرّأس أو لغير ذي روحٍ
===================================
الفقه الإسلامي وأدلته-أ. د. وهبة الزحيلي – (2 / 148)
 ولاصورة شيء غير ذي روح من النبات ونحوه؛ لأن كل هذه المذكورات لا تعبد. وخبر مسلم عن جبريل «إنا لا ندخل بيتاً فيه كلب أو صورة» مخصوص بغير المهانة.
===================================
واللہ تعالی اعلم بالصواب

................
(19) نماز کے مصلوں پر تصویریں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 December 2013 09:54 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا نماز کے مصلوں کے لیے یہ شرط ہے کہ ان پر حرمین شریفین یا دیگر مساجد کی تصویریں بنی ہوں یا ان پر قرآنی آیات لکھی ہوں......؟ ان تصویروں کے بارے میں کیا حکم ہے جو مصلوں پر طول کے بجائے ان کے عرض کی طرف بنی ہوں؟ نیز ان مصلوں پر نماز کے جواز کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے جن پر حیوانات یا پرندوں وغیرہ کی تصویریں بنی ہوں؟
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
نماز کے لیے استعمال کئے جانے والے مصلوں پر آیات قرآنی ہونی چاہئیں نہ حیوانات اور پرندوں کی تصویریں، کیونکہ مصلوں پر آیات قرآنی لکھنے سے قرآن مجید کی بے ادبی و بے حرمتی ہے نیز جان دار اشیاء کی تصویریں جائز نہیں ہیں۔ اسی طرح نماز کے لیے استعمال کیے جانے والے مصلوں کے لیے یہ بھی شرط نہیں ہے کہ ان پر حرمین شریفین یا دیگر مساجد کی تصویرین بنی ہوں بلکہ اس طرح کی تصویرین مکروہ ہیں کیونکہ ان کی طرف دیکھنے سے نماز کے خشوع و خضوع میں فرق آ جاتا ہے اور شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ نماز خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی جائے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿قَد أَفلَحَ المُؤمِنونَ ﴿١﴾ الَّذينَ هُم فى صَلاتِهِم خـشِعونَ ﴿٢﴾... سورة المؤمن

"بے شک ایمان والے فلاح پا گئے، جو اپنی نماز میں عجزو نیاز کرتے ہیں۔"
هذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فتاویٰ اسلامیہ


اللہ کا نام لکھا ہوا جا نماز یا چٹائی پہ نماز پڑھنا

سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام
مسجد میں بچھی ہوئی صف میں لفظ ' الله ' صاف پڑھا جارہا ہے،
کیا اس صورت میں اللہ کے نام کی بے حرمتی نہیں ہوتی؟
ایس ۔ساگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
جن مصلوں و جانمازوں و فرشوں پر اللہ تعالی کے اسماء مبارکہ یا آیات قرآن مجید و کلمات طیبات وغیرہ لکھے ہوں ان کو بچھانا و استعمال کرنا جائز نہیں کہ اس میں اللہ تعالی کے بابرکت ناموں اور آیات کی بے حرمتی ہے اور ایسے مصلے و فرش و فروش کہ جن پر کوئی بابرکت اسماء و آیات قرآنیہ و احادیث و فقہ کے جملے نہ لکھے ہوں اور ایسی عبارت لکھی ہو جس کی شرع میں کوئی تعظیم و تکریم مطلوب و مقصود نہ ہو خواہ خط نسخ میں خواہ نستعلیق میں لکھے ہوں ان کو بچھا کر ان پر نماز پڑھنا یا مجلسوں میں بطور فرش کے استعمال کرنا کسی حال میں ناجائز و خلاف ادب نہیں۔
’’وفی جمع النسفی :مصلی او بساط فیہ اسماء اللہ تعالی یکرہ بسطہ واستعمالہ فی شئی‘‘(عالمگیری ص ۱۱۶ ج۱، )
ولا بأس بالصلوۃ علی الفرش والبسط واللبود ‘‘ ( قاضیخان ص ۱۱۱ج۱ ، )
آج کل جانمازوں پہ خانہ کعبہ ومسجد نبوی کا عکس بھی رہتاہے ۔تو بہتر تو یہ ہے کہ ایسے مصلوں کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے ۔سیدھا سادہ مصلی استعمال کرے۔عموما اسلام دشمن کمپنیوں کی طرف سے مقامات مقدسہ کی تنقیص کے ارادہ سے یہ عکس چھاپے جاتے ہیں۔لہذا احتیاط بہرحال بہتر ہے۔
لیکن اگر کوئی استعمال کرے تو بھی گنجائش ہے کہ نمازی کی نیت توہین یا تنقیص کی نہیں ہوتی ہے۔
نیز یہ منقوش ہوتے ہیں۔مکتوب  نہیں۔
مکتوب و منقوش کے احکام جداگانہ ہوتے ہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

اللہ کا نام لکھا ہوا جا نماز یا چٹائی پہ نماز پڑھنا

سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام
مسجد میں بچھی ہوئی صف میں لفظ ' الله ' صاف پڑھا جارہا ہے،
کیا اس صورت میں اللہ کے نام کی بے حرمتی نہیں ہوتی؟
ایس ۔ساگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
جن مصلوں و جانمازوں و فرشوں پر اللہ تعالی کے اسماء مبارکہ یا آیات قرآن مجید و کلمات طیبات وغیرہ لکھے ہوں ان کو بچھانا و استعمال کرنا جائز نہیں کہ اس میں اللہ تعالی کے بابرکت ناموں اور آیات کی بے حرمتی ہے اور ایسے مصلے و فرش و فروش کہ جن پر کوئی بابرکت اسماء و آیات قرآنیہ و احادیث و فقہ کے جملے نہ لکھے ہوں اور ایسی عبارت لکھی ہو جس کی شرع میں کوئی تعظیم و تکریم مطلوب و مقصود نہ ہو خواہ خط نسخ میں خواہ نستعلیق میں لکھے ہوں ان کو بچھا کر ان پر نماز پڑھنا یا مجلسوں میں بطور فرش کے استعمال کرنا کسی حال میں ناجائز و خلاف ادب نہیں۔
’’وفی جمع النسفی :مصلی او بساط فیہ اسماء اللہ تعالی یکرہ بسطہ واستعمالہ فی شئی‘‘(عالمگیری ص ۱۱۶ ج۱، )
ولا بأس بالصلوۃ علی الفرش والبسط واللبود ‘‘ ( قاضیخان ص ۱۱۱ج۱ ، )
آج کل جانمازوں پہ خانہ کعبہ ومسجد نبوی کا عکس بھی رہتاہے ۔تو بہتر تو یہ ہے کہ ایسے مصلوں کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے ۔سیدھا سادہ مصلی استعمال کرے۔عموما اسلام دشمن کمپنیوں کی طرف سے مقامات مقدسہ کی تنقیص کے ارادہ سے یہ عکس چھاپے جاتے ہیں۔لہذا احتیاط بہرحال بہتر ہے۔
لیکن اگر کوئی استعمال کرے تو بھی گنجائش ہے کہ نمازی کی نیت توہین یا تنقیص کی نہیں ہوتی ہے۔
نیز یہ منقوش ہوتے ہیں۔مکتوب  نہیں۔
مکتوب و منقوش کے احکام جداگانہ ہوتے ہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

اللہ کا نام لکھا ہوا جا نماز یا چٹائی پہ نماز پڑھنا

سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام
مسجد میں بچھی ہوئی صف میں لفظ ' الله ' صاف پڑھا جارہا ہے،
کیا اس صورت میں اللہ کے نام کی بے حرمتی نہیں ہوتی؟
ایس ۔ساگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
جن مصلوں و جانمازوں و فرشوں پر اللہ تعالی کے اسماء مبارکہ یا آیات قرآن مجید و کلمات طیبات وغیرہ لکھے ہوں ان کو بچھانا و استعمال کرنا جائز نہیں کہ اس میں اللہ تعالی کے بابرکت ناموں اور آیات کی بے حرمتی ہے اور ایسے مصلے و فرش و فروش کہ جن پر کوئی بابرکت اسماء و آیات قرآنیہ و احادیث و فقہ کے جملے نہ لکھے ہوں اور ایسی عبارت لکھی ہو جس کی شرع میں کوئی تعظیم و تکریم مطلوب و مقصود نہ ہو خواہ خط نسخ میں خواہ نستعلیق میں لکھے ہوں ان کو بچھا کر ان پر نماز پڑھنا یا مجلسوں میں بطور فرش کے استعمال کرنا کسی حال میں ناجائز و خلاف ادب نہیں۔
’’وفی جمع النسفی :مصلی او بساط فیہ اسماء اللہ تعالی یکرہ بسطہ واستعمالہ فی شئی‘‘(عالمگیری ص ۱۱۶ ج۱، )
ولا بأس بالصلوۃ علی الفرش والبسط واللبود ‘‘ ( قاضیخان ص ۱۱۱ج۱ ، )
آج کل جانمازوں پہ خانہ کعبہ ومسجد نبوی کا عکس بھی رہتاہے ۔تو بہتر تو یہ ہے کہ ایسے مصلوں کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے ۔سیدھا سادہ مصلی استعمال کرے۔عموما اسلام دشمن کمپنیوں کی طرف سے مقامات مقدسہ کی تنقیص کے ارادہ سے یہ عکس چھاپے جاتے ہیں۔لہذا احتیاط بہرحال بہتر ہے۔
لیکن اگر کوئی استعمال کرے تو بھی گنجائش ہے کہ نمازی کی نیت توہین یا تنقیص کی نہیں ہوتی ہے۔
نیز یہ منقوش ہوتے ہیں۔مکتوب  نہیں۔
مکتوب و منقوش کے احکام جداگانہ ہوتے ہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

Wednesday, 4 January 2017

امام جعفر صادق اور ان کا فقہی مذہب

سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام اعلیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
محترم علما دیوبند .
شعیہ مذہب کا امام جو امام جعفر ہے،  اس نے کیوں مذہب نہ  بنایا. مثل ابو حنیفہ شافع حنبل اور مالک. یہ پانچویں مذہب کا کیا افسانہ ہے . وجہ کیا ہے. اور کیا یہ سچ ہے کہ ابو حنیفہ کے والده جعفر کے عقد نکاح میں برای چند مدت تهی .
جناب میں الحمد للہ حنفی مذهب ہوں ادهر ہمارے ساتھی سب شیعہ ہیں  اور ہمارے علما کے پاس صحیح دلیل اور ثبوت نہیں ہیں. پلیز جواب مفصل دیدو .
تھینکس،
دوسری بات یہ کہ ابو حنیفہ کا تعلق یزدگرد ساسانی نزاد سے تھا یا نہیں ؟
ایم اسرار مسعود، اففغانستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق

جعفر نام، ابو عبداللہ کنیت،صادق لقب، آپ امام محمد المقلب بہ باقر کے صاحبزادے اور فرقہ امامیہ کے چھٹے امام ہیں، نسب نامہ یہ ہے جعفر بن محمد بن علی بن ابی طالب، آپ کی ماں فروہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پڑپوتے قاسم بن محمد کی لڑکی تھیں، نانہالی شجرہ یہ ہے ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن عبدالرحمنؓ بن ابی بکرؓ، اس طرح جعفر صادق کی رگوں میں صدیقی خون بھی شامل تھا۔
پیدائش
۸۰ ھ میں مدینہ میں پیدا ہوئے۔ 
(تذکرہ الحفاظ:۱/۱۵۰)
فضل وکمال
آپ اس خانوادہ علم و عمل کے چشم و چراغ تھے جس کے ادنی ادنی خدام مسند علم کے وارث ہوئے آپ کے والد امام باقر اس پایہ کے عالم تھے کہ امام اعظم ابو حنیفہ النعمان جیسے اکابرِ امت ان کے شاگرد تھے، اس لیے جعفر صادق کو علم گویا وراثۃ ملا تھا، فضل وکمال کے لحاظ سے آپ اپنے وقت کے امام تھے حافظ امام ذہبی آپ کو امام اوراحد السادۃ الاعلام لکھتے ہیں، اہلبیت کرام میں علم میں کوئی آپ کا ہمسر نہ تھا، ابن حبان کا بیان ہے کہ فقہ علم اورفضل میں ساداتِ اہل بیت میں تھے (تہذیب :۲/۱۰۴) امام نووی لکھتے ہیں کہ آپ کی امامت ،جلالت اورسیادت پر سب کا اتفاق ہے۔ 
(تہذیب الاسماء:۱۵۰)

حدیث آپ کے جد امجد علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے اقوال ہیں،اس لیے آپ سے زیادہ اس کا کون مستحق تھا؛ چنانچہ آپ مشہور حفاظِ حدیث میں تھے، علامہ ابن سعد لکھتے ہیں:
کان کثیر الحدیث (تہذیب التہذیب :۲/۱۰۴ البوالہ ابن سعد)
حافظ ذہبی آپ کو سادات اوراعلام حفاظ میں لکھتے ہیں (تذکرہ الحفاظ:ا/۱۵۰) حدیث میں اپنے والد بزرگوار حضرت امام باقر، محمد بن منکدر، عبید اللہ بن ابی رافع، عطاء، عروہ، قاسم بن محمد، نافع اور زہری وغیرہ سے فیض پایا تھا، شعبہ، دونوں سفیان، ابن جریح، ابو عاصم، امام مالک، امام ابو حنیفہ وغیرہ آئمہ آپ کے تلامذہ میں تھے۔ 
(تہذیب التہذیب:۲/۱۰۳)
حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اتنا احترام تھا کہ ہمیشہ طہارت کی حالت میں حدیث بیان کرتے تھے۔ 
(ایضاً:۱۰۵)
فقہ میں اتنا کمال حاصل تھا کہ افقہ الفقہاء امام زمن امام ابو حنیفہ فرماتے تھے کہ میں نے جعفر بن محمد سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا۔
(تذکرہ الحفاظ،جلد اول،ص۱۵۰)
شیعہ امامیہ کے نزدیک فقہ میں ان کا پایہ بہت بلند ہے۔ وہ صاحب منہاج مجتہد ہیں ۔ان کے والد امام باقر نے اصول و استنباط کو ضبط کیا اور خود انھوں نے بھی اصول و ضوابط استنباط قلمبند کروائے۔ فقہی مذہب کے اعتبار سے اثنا عشریہ اپنے آپ کو جعفریہ کہتے ہیں۔
فقہی مذہب نہ انھوں نے بنایا نہ ائمہ اربعہ نے۔ نئے پیش آمدہ مسائل میں اخذواستنباط، غور و تدبر سے کام لے کر احکام کی تلاش و جستجو اور تطبیق و تنقیح کا فریضہ شریعت اسلامیہ میں مطلوب یے۔ اس اجتہادی شان میں خلفاء اربعہ، امام جعفر، ائمہ اربعہ سمیت سینکڑوں اجلاء صحابہ، تابعین اور تبع تابعین منہمک رہے ۔ہر ایک نے اجتہاد و استنباط سے کام لیا ہے۔ پر تکوینی طور پر ائمہ اربعہ کے مذاہب ہی باقی رہے باقی دھیرے دھیرے سب ناپید ہوگئے ۔
مذاہب اربعہ ایک دین و شریعت میں سے چار نہیں بنے بلکہ ہزاروں میں سے یہی چار بچے ہیں۔
ائمہ اربعہ کے خلاف رائے اپنانے کے ممنوع ہونے پر اجماع منعقد ہے، اس لئے کہ ان چاروں کے مذاہب ہی مدون ہیں اور عوام وخواص میں مشہور ہیں اور ان کے پیروکاروں کی کثرت ہے۔
اور شیخ عبد الغنی نابلسیؒ اپنے رسالہ ’خلاصۃ التحقیق‘ میں وضاحت کرتے ہیں:
وأما تقلید مذہب من مذاہبہم الاٰن غیر المذاہب الأربعۃ فلا یجوز لا لنقصان فی مذاہبہم ورجحان المذاہب الأربعۃ علیہم لأن فیہم الخلفاء 
اس وقت مذاہب اربعہ کو چھوڑکر دیگر مجتہدین کے مذہب پر عمل کی اجازت نہیں ہے، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ دیگر مجتہدین کے مذہبوں میں کچھ نقصان ہے، اور مذاہب اربعہ ہی راجح ہیں اس لئے کہ ان مجتہدین میں خلفاء راشدین بھی
المفضلین علیٰ جمیع الأمۃ بل لعدم تدوین مذاہبہم وعدم معرفتنا الاٰن بشروطہا وقیودہا وعدم وصول ذٰلک إلینا بطریق التواتر حتیٰ لو وصل إلینا شئ من ذلک کذلک جاز لنا تقلیدہ لکنہ لم یصل کذلک۔
ہیں جو تمام امت پر بھاری ہیں، بلکہ اصل وجہ ان کے مذہب کو اختیار کرنے کی یہ ہے کہ ان کے مذاہب باقاعدہ مرتب و مدون نہیں ہوسکے۔ ہمیں آج ان مذاہب کی شرائط و قیود کا پورا علم نہیں ہے۔ اور وہ مذاہب ہم تک تواتر کے طریقہ پر نہیں پہنچے، اگر وہ اس طریقہ پر ہم تک پہنچتے تو ہمارے لئے ان کی تقلید کرنا جائز ہوتا، مگر ایسا نہیں ہوا۔
آگے چل کر علامہ مناوی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں:
فیمتنع تقلید غیر الأربعۃ فی القضاء والافتاء لأن المذاہب الأربعۃ انتشرت وظہرت حتیٰ ظہر تقیید مطلقہا وتخصیص عامہا بخلاف غیرہم لانقراض اتباعہم۔ (خلاصۃ التحقیق ۳-۴)
لہٰذا قضاء وافتاء میں مذاہب اربعہ کے علاوہ کسی امام کی پیروی ممنوع قرار دی جائے گی، اس لئے کہ مذاہب اربعہ مشہور و معروف ہوچکے ہیں، حتی کہ ان کے مطلق احکامات کی قیدیں اور عام امور کی تخصیص وغیرہ کا علم ہوگیا ہے، ان کے برخلاف دیگر مذہبوں کی اس طرح وضاحت نہیں ہوسکی، کیوںکہ ان کے پیروکار ناپید ہوچکے ہیں۔
ان حوالہ جات سے معلوم ہوگیا کہ مذاہبِ اربعہ پر عمل کا انحصار ایک اجماعی مسئلہ ہے، اور دین کی صحیح شکل وصورت میں حفاظت کا بڑا اور اہم وسیلہ ہے۔
اگر خلفاء اربعہ یا امام جعفر صادق کے مذاہب مدون و محقق ہوتے اور تواتر کے ساتھ امت تک پہنچتےتو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان کا اتباع نہ کریں !

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے والد ثابت کوفہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں حضرت علی سے ملاقات کی اور انھوں نے دعائیں دیں۔ امام ابو حنیفہ خود کوفہ میں  سنہ 80 ھجری میں پیدا ہوئے ۔امام صاحب کا خاندان اصلا فارسی تھا۔امام صاحب کے دادا "زوطی" سب سے پہلے عرب میں آئے ۔صحابہ کرام کا دور تھا۔ مشرف باسلام ہوئے۔اور اسلامی نام نعمان رکھا۔
ان کے خاندان میں کوئی بھی غلام نہیں تھا۔زوطی (نعمان ) نے ایک زمانہ تک کوفہ میں غربت واجنبیت کی زندگی گذاری۔پہر معاشرتی ضرورتوں کی وجہ سے عرب سے تعلقات قائم کئے۔ اس طرح دوستانہ تعلقات قائم کرنے والے کو عربی میں "مولی " (جمع موالی  ) کہتے ہیں۔جبکہ غلام کو بھی مولی کہا جاتا ہے۔
اسی لفظی اشتراک کی وجہ سے امام صاحب کے دادا کو لوگوں نے غلام سمجھ لیا۔ جو سراسر غلط بے بنیاد بلکہ الزام محض ہے۔ ان کے خاندان پہ کبھی غلامی طاری نہ ہوئی
(سیرت النعمان ۔شبلی نعمانی )۔
جعفر صادق کی زوجیت میں امام صاحب کی والدہ کا آنا بھی بے بنیاد اور الزام و اتہام ہے۔ نہ ہی امام صاحب کا خاندانی تعلق یزدگرد ساسانی سے تھا ۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, 1 January 2017

لقطہ یعنی گمشدہ چیز کے احکام

ایس اے ساگر 

ایک شخص کو ایک چیز راستہ میں سے ملی، راستہ بالکل سنسان تھا، اس نے اس چیز کو اپنے گھر میں ایک سال تک رکھا اب فکر لاحق ہوئی اور شرمندہ ہوا اپنے کئے پر کہ بہت بڑی غلطی کردی، پوچھنے والی بات یہ ہے کہ اس چیز کا اب کیا کرے؟
اہل علم حضرات اس سلسلہ میں مشکوۃ شریف، جلد سوم، گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان، حدیث 248 کے حوالہ کے ساتھ مندرجہ ذیل عبارت پیش کرتے ہیں؛ 

لقطہ کے معنی اور اس کا مفہوم:
راوی:
لقطہ لام کے پیش اور قاف کے زیر کے ساتھ یعنی لقطہ بھی منقول ہے اور قاف کے جزم کے ساتھ یعنی لقطہ بھی لکھا اور پڑھا جاتا ہے ۔ محدثین کے ہاں قاف کے زبر کے ساتھ یعنی لقطہ مشہور ہے۔
لقطہ اس چیز کو کہتے ہیں جو کہیں (مثلًا راستہ وغیرہ میں) گری پڑی پائی جائے اور اس کے مالک کا کوئی علم نہ ہو۔ اس بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کہیں کوئی گری پڑی چیز پائی جائے تو اسے (یعنی لقطہ کو) اٹھا لینا مستحب ہے بشرطیکہ اپنے نفس پر یہ اعتماد ہو کہ اس چیز کی تشہیر کرا کر اسے اس کے مالک کے حوالے کر دیا جائے گا اگر اپنے نفس پر یہ اعماد نہ ہو تو پھر اسے وہیں چھوڑ دینا ہی بہتر ہے لیکن اگر یہ خوف ہو کہ اس چیز کو یوں ہی پڑا رہنے دیا گیا تو یہ ضائع ہو جائے گی تو اس صورت میں اسے اٹھا لینا واجب ہوگا اگر دیکھنے والا اسے نہ اٹھائے گا اور وہ چیز ضائع ہو جائے گی تو وہ گنہگار ہوگا یہ لقطہ کا اصولی حکم ہے اب اس کے چند تفصیلی مسائل ملاحظہ کیجئے۔
لقطہ اس شخص کے پاس بطور امانت رہتا ہے جس نے اسے اٹھایا ہے بشرطیکہ وہ اس پر کسی کو گواہ کر لے کہ میں اس چیز کو حفاظت سے رکھنے یا اس کے مالک کے پاس پہنچا دینے کے لئے اٹھاتا ہوں اس صورت میں وہ لقطہ اٹھانے والے کے پاس سے ضائع ہو جائے تو اس پر تاوان واجب نہیں ہوگا اور اگر اٹھانے والے نے کسی کو اس پر گواہ بنایا اور وہ لقطہ اس کے پاس سے تلف ہو گیا تو اس پر تاوان واجب ہوگا بشرطیکہ لقطہ کا مالک یہ انکار کر دے کہ اس نے وہ چیز مجھے دینے کے لئے نہیں اٹھائی تھی۔
تبلیغی مراکز کے لقطہ کا حکم:
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں ڈیرہ غازی خان میں مدنی تبلیغی مرکزی مسجد ہے اور رائیونڈ سے جماعتوں کی آمدورفت کافی ہے، ہوتا یہ ہے کہ بعض ساتھی اپنا سامان بھول کے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم ان کا انتظار کرتے ہیں۔ لیکن وہ نہیں آتے اور جماعتوں سے پوچھتے بھی ہیں کہ بھائی کسی کا کوئی سامان گم ہو تو لقطے کے سامان میں آکر دیکھ لے، پوچھنا یہ ہے کہ اس سامان کو ہم کتنا عرصہ اپنے پاس رکھیں اور کیا اسے اسی طرح جماعت والوں کو جو الله کے راستے میں ہوتے ہیں، ہدیہ مالک کی طرف سے کر دیں یا لقطے کے سامان کو بیچ کر الله کے راستے میں چلنے والوں پر خرچ کرسکتے ہیں یا نہیں؟ برائے کرم آسان حل بیان فرمائیں

جواب…واضح رہے کہ تبلیغی مراکز میں میں بھول کر رہ جانے والا سامان عام طور پر دو طرح کا ہوتا ہے:
1… معمولی قیمت کا سامان… جیسے تکیہ، پلیٹ، کپڑے، ربر کے جوتے وغیرہ۔
2… قیمتی سامان… جیسے نقدی، موبائل، گھڑی، سردیوں کا بستر وغیرہ۔

دونوں قسم کے سامان کی قیمت میں چوں کہ تفاوت واضح ہے، اس لیے دونوں کے حکم لقطہ میں بھی فرق ہو گا۔ لہٰذا جو سامان پہلی قسم ( معمولی قیمت) کا ہوتا ہے چوں کہ عام طور پر جس سے یہ سامان رہ جاتا ہے تو اس کا مالک نہ ہی دوبارہ آکر اپنی گم شدہ چیز کا پوچھتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کے ذمے لگا کر منگواتا ہے۔

لہٰذا اس کا حکم یہ ہے کہ اس سامان کے ملنے کے بعد صرف اتنے دن تک مرکز میں رکھا جائے جتنے دن کے لیے عموماً ایک جماعت کی تشکیل مرکز کے علاقے میں ہوتی ہے اور یہ مدت تقریباً پچیس دن یا ایک ماہ کا عرصہ ہے۔

اسی طرح جو دوسری قسم کا قیمتی سامان ہے چوں کہ یقینی طور پر اس کا مالک اپنی چیز کے گم ہونے پر فکر مند اور پریشان ہوتا ہے اور اکثر خود آکر یا دوسرے کے ذریعے سے اپنی چیز کے بارے میں پوچھتا ہے، لہٰذا اہل مرکز پر لازم ہے کہ اس سامان کو اپنے پاس بحفاظت رکھیں او رحتی الوسع اپنی طرف سے پوری کوشش کرکے اس سامان کو اس کے مالک کا پتہ وغیرہ معلوم کرکے واپس کریں۔

پھر اگر کوشش کے باوجود مالک کا کچھ علم نہ ہو، مثلاً سال گذر جائے اور دل یہ کہے کہ اب مالک بھی اپنی چیز سے مایوس ہو گیا ہو گاتو اب اہل مرکز کو یہ اختیار ہو گا کہ دونوں قسم کے سامان یا اس کو فروخت کرکے اس کی قیمت کو غریب ( مستحق زکوٰة) لوگوں پر سامان کے مالکان کی طرف سے صدقہ کر دیں۔ خواہ وہ الله کے راستے کے مہمان ہی کیوں نہ ہوں۔

لیکن یہ بات واضح رہے کہ دونوں قسم کے سامان کو صدقہ کرنے کے بعداگر اس کے مالک نے آکر اپنی چیز کا مطالبہ کر لیا اور صدقہ کرنے پر راضی نہ ہوا تو اہل مرکز کو اس کی مطلوبہ چیزیا اس کی قیمت دینا ہو گی۔


الشیخ محمد صالح المنجد کے نزدیک

لقطہ یعنی گمشدہ چيز کےاحکام
اگرکسی کوراستے میں مال ملے تو اس کا حکم کیا ہے ، کیا اس کے لیے وہ مال اٹھا لینا جائز ہے ؟
Published Date: 2004-06-07
الحمدللہ

یہ سوال لقطہ یعنی گمشدہ اشیاء کے بارہ میں ہے جوکہ فقہ اسلامی کے ابواب میں شامل ہوتا ہے ۔

لقطہ : مالک سے گمشدہ چيز کولقطہ یا گمشدہ چيزکہا جاتا ہے ۔

اس دین حنیف نے مال ودولت کی دیکھ بھال اورحفاظت کا بھی خیال رکھا ہے اوراس کے بارہ میں احکام بھی بیان کئے ہیں ، اورمسلمان کے مال کی حفاظت اوراس کے احترام کوبھی بیان کیا ، جس میں لقطہ بھی شامل ہے ۔

جب مالک کی کوئي چيز گم ہوجاۓ تو وہ تین حالات سے خالی نہیں ہوسکتی ۔

پہلی حالت :

وہ چیز لوگوں کی توجہ کے قابل اور اہم نہ ہو ، مثلا چھڑی، روٹی، جانور ھانکنے والی چھڑی ، پھل وغیرہ ، لھذا یہ اشیاء اٹھا کراستعمال کی جاسکتی ہیں اوران کے اعلان کی کوئی ضرورت نہیں ۔

جیسا کہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی بیان ہے جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

( رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھڑی ، رسی ، اورکوڑا اٹھانے کی اجازت دی ہے ) سنن ابوداود ۔

دوسری حالت :

وہ چيز چھوٹے درندوں سے اپنے آپ کوبچا سکتی ہو ، یا تواپنی ضخامت کی وجہ سے مثلا اونٹ ، گاۓ ، گھوڑا ، خچر ، یا وہ اڑ کر واپنی حفاظت کرسکتی ہو، مثلا اڑنے والے پرندے ، یا تیزرفتاری کے سبب مثلا ھرن ، یا پھر اپنی کچلیوں سے اپنا دفاع کرسکتی ہو ، مثلا چیتا وغیرہ ۔

تواس قسم کے جانوروں کوپکڑنا حرام ہے اوراعلان کے باوجود اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گمشدہ اونٹ کے بارہ میں فرمایا تھا :

( آپ کواس کا کیا اس کے پاس توپینے کے لیے بھی ہے اورچلنے کی طاقت بھی ، پانی پیۓ اوردرختوں کے پتے کھاۓ گا حتی کہ اس کا مالک اسے حاصل کرلے ) صحیح بخاری و صحیح مسلم ۔

عمر رضي اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :

جس نے بھی گمشدہ چيز اٹھائي وہ غلطی پر ہے ۔ یعنی اس نے صحیح نہیں کیا ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تواس حدیث ميں یہ حکم دیا ہے کہ اسے پکڑا نہ جاۓ بلکہ وہ خود ہی کھاتا پیتا رہے گا حتی کہ اس کا مالک اسے تلاش کرلے ۔

اوراس قسم میں بڑی بڑی اشیاء بھی ملحق کی جاسکتی ہیں مثلا : بڑی دیگ ، اورضخیم لکڑیاں اورلوہا ، اوروہ اشیاء جوخود ہی محفوظ رہتی ہوں اوران کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہیں اورنہ ہی وہ خود اپنی جگہ سے منتقل ہوسکتی ہیں ان کا اٹھانا بھی حرام ہے بلکہ باولی حرام ہے ۔

تیسری حالت :

گمشدہ اشیاء مال ودولت ہو : مثلا پیسے ، سامان ، اوروہ جوچھوٹے درندوں سے اپنی حفاظت نہ کرسکے ، مثلا بکری ، گاۓ وغیرہ کا بچھڑا وغیرہ ، تواس میں حکم یہ ہے کہ اگر پانے والے کواپنے آپ پر بھروسہ ہے تواس کے لیےاٹھانا جائز ہے ۔

اس کی تین اقسام ہیں :

پہلی قسم : کھانے والے جانور ، مثلا مرغی ، بکری ، بکری اورگاۓ کا بچہ وغیرہ ، تواسے اٹھانے والے پر تین امور میں سے کوئی کرنا ضروری ہے :

پہلا : اسے کھالے اوراس حالت میں وہ اس کی قیمت ادا کرے گا ۔

دوسرا : اس کے اوصاف وغیرہ یا د رکھے اوراسے بیچ کراوراس کی قیمت مالک کے لیے محفوظ کرلے ۔

تیسرا : اس کی حفاظت کرے اوراپنے مال سے اس پر خرچ کرے لیکن وہ اس کی ملکیت نہیں بنے گی وہ اس نفقہ سمیت مالک کے آنے پر اسےواپس کی جاۓ گی ۔

اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بکری کے متعلق سوال کیا گیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا :

( اسے پکڑ لو ، اس لیے کہ یا تو وہ آپ کے لیے ہے یا پھر آپ کے بھائي کی یا پھر بھیڑیا کھا جاۓ‌ گا ) صحیح بخاری ، صحیح مسلم ۔

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ : بکری کمزورہے وہ ہلاک ہوجا‌ۓ گی یا تواسے آپ پکڑلیں یا پھر کوئي اور پکڑلے وگرنہ اسے بھیڑیا کھا جاۓ گا ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی اس حدیث پر کلام کرتے ہوۓ کہتے ہیں :

( اس حدیث میں بکری کے پکڑنے کا جواز پایا جاتا ہے ، اگر بکری کا مالک نہ آۓ تووہ پکڑنے والے کی ملکیت ہونے کی بنا پر اسے اختیار ہے کہ وہ اسے فی الحال کھا لے اورقیمت ادا کردے ، یا پھر اسے بیچ کراس کی قیمت محفوظ کرلے ، یا اسے اپنے پاس رکھے اوراپنے مال میں سے اسے چارہ کھلاۓ ، علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کھانے سے پہلے مالک آجاۓ‌ توبکری لے جا سکتا ہے ) ۔

دوسری قسم :

جس کے ضائع ہونے کا خدشہ ہو : مثلا تربوز ، اوردوسرے پھل وغیرہ تواس میں اٹھانے والے کومالک کے لیےبہتر کام کرنا چاہیے کہ اسے کھالے اورمالک کوقیمت ادا کردے ، یا پھر اسے بیچ دے اورمالک کے آنے تک اس کی قیمت محفوظ رکھے ۔

تیسری قسم :

اوپروالی قسموں کے علاوہ باقی سارا مال : مثلا نقدی ، اوربرتن وغیرہ ، اس میں ضروری ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے اوریہ اس پاس امانت رہے گی اوراسے لوگوں کے جمع ہونے والی جگہوں پر اس کا اعلان کرنا ہوگا ۔

- کوئی بھی گری ہوئی چيز اس وقت تک اٹھا سکتا ہے جب اسے اپنے آپ پر بھروسہ ہو کہ وہ اس کا اعلان کرے گا ۔

اس کی دلیل یہ حدیث ہے زيد بن خالد جھنی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اس کا تھیلی اوررسی کی پہچان کرلو اوراس کا ایک برس تک اعلان کرتے رہو اگرمالک نہ آۓ تواسے خرچ کرلو لیکن وہ آپ کے پاس امانت ہے اگراس کا مالک کسی دن تیرے پاس آجاۓ تواسے واپس کردو ) ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :

( اسے پکڑ لو اس لیے کہ یا تو وہ آپ کے لیے ہے یا پھر آپ کے بھائي کے لیے اوریا پھر بھیڑیے کے لیے ) ۔

اورجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارہ میں سوال کیا گیا توآپ نے فرمایا :

( آپ کواس سے کیا ؟ ! اس کے پاس پینے کے لیے بھی ہے اورچلنے کےلیے بھی وہ پانی پر جاۓ گا اوردرختوں کے پتے کھاتا پھرے گا حتی کہ اس کا مالک اسے حاصل کرلے ) صحیح بخاری و صحیح مسلم ۔

- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ( اس کی تھیلی اورتسمہ کی پہچان کرلو ) کا معنی یہ ہے کہ : وہ رسی یا تسمہ جس سے رقم اورپیسے کی تھیلی کوباندھا جاتا ہے ، اورعفاص اس تھیلی کوکہتے ہیں جس میں مال و رقم ہوتی ہے ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ( پھر ایک برس تک اس کا اعلان کرتے رہو ) یعنی لوگوں کےجمع ہونے کی جگہوں بازاروں اورمساجد کے دروازوں کے باہراوردوسری جمع ہونے والی جگہوں وغیرہ میں اس کا اعلان کرتے رہو ۔

( ایک برس ) یعنی پورے ایک سال تک ، چيزملنے کے پہلے ہفتہ میں روزانہ اعلان کرے ، اس لیے کہ پہلے ہفتے میں مالک کےڈھونڈتے ہوۓ آنے کی زيادہ امید ہے ، پھر اس ہفتہ کے بعد وہ لوگوں کی عادت کے مطابق اعلان کرتا رہے ۔

( اوراگریہ طریقہ گزشتہ ادوار میں موجود رہا ہے تواب اسے آج کے دور کے مطابق اعلان کرنا چاہیے اہم یہ ہے کہ مقصد حاصل ہوجاۓ کہ حتی الامکان اس کے مالک تک پہنچا جاسکے ) ۔

- حدیث گمشدہ چيز کے اعلان کے وجوب پر دلالت کرتی ہے ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ( اس کی تھیلی اورتسمہ پہچان لو ) میں اس کی صفات اورنشانیوں کی پہچان کرنے کے وجوب کی دلیل پائی جاتی ہے ، تا کہ جب اس کا مالک آۓ اور اس کے مطابق نشانی بتاۓ تواسے یہ مال واپس کیا جاسکے ، اور اگر اس کی بتائي ہوئی نشانی صحیح نہ ہوتووہ مال اسے دینا جائز نہيں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ( اگر اس کے مالک کونہ پاۓ تواسے استعمال کرلو ) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ چيزاٹھانے والا ایک برس تک اعلان کرنے کے بعد اس کا مالک بنے گا ، لیکن وہ اس کی نشانیوں کی پہچان سے قبل اس میں کسی قسم کا تصرف نہیں کرسکتا :

یعنی اسے اس کی تھیلی ، باندھنے والی رسی ، مال کی مقدار ، اس کی جنس اورکس طرح کا ہے وغیرہ کی پہچان کرلینی چاہیے ، اگر ایک برس کے بعد اس کا مالک آۓ اوراس کے مطابق نشانی بتاۓ تواسے ادا کردے اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( اگر اس کا مالک کسی بھی روز آجاۓ تواسے وہ مال ادا کردو ) ۔

اوپر جوکچھ بیان کیا گيا ہے اس سے لقطہ یا گمشدہ چيز کے بارہ میں چند ایک امور لازم آتے ہیں :

پہلا : اگرکوئی گری ہوئی چيز پاۓ تواس وقت تک نہ اٹھاۓ جب تک کہ اسے اپنے آپ پر بھروسہ اوراس کے اعلان کرنے کی قوت نہ ہو تا کہ اس کے مالک تک وہ چيز پہنچ جاۓ ، اورجسے اپنے آپ پر بھروسہ ہی نہيں اس کے لیے اسے اٹھانا جائز نہیں ، اگر اس کے باوجود وہ اٹھا لے تو وہ غاصب جیسا ہی ہے اس لیے کہ اس نے کسی دوسرے کا مال ناجائز اٹھایا ہے اورپھر اس میں دوسرے کے مال کا ضیاع بھی ہے ۔

دوسرا : اٹھانے سے قبل اس کی تھیلی اورتسمہ اورمال کی جنس اورمقدار وغیرہ کی معرفت و پہچان ضروری ہے ، تھیلی سے مراد وہ کپڑا یا بٹوہ ہے جس میں رقم رکھی گئي ہو ، اور( وکائھا ) سے مراد وہ رسی یا ڈوری ہے جس سے اس تھیلی کوباندھا گیا اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پہچان کاحکم دیا ہے اورامر وجوب کا متقاضی ہے ۔

تیسرا : ایک برس تک مکمل اس کا اعلان کرنا ضروری ہے پہلے ہفتہ میں روزانہ اور اس کے بعد عادت کے مطابق اعلان ہوگا ، اوراعلان میں یہ کہے کہ : جس کسی کی بھی کوئی چيز گم ہوئی ہو یا اس طرح کے کوئي اور الفاظ ، اوریہ اعلان لوگوں کے جمع ہونے والی جگہوں مثلا بازار ، اورنمازوں کے اوقات میں مساجدکے دروازوں پراعلان کرے ۔

گمشدہ چيزکا اعلان مساجد میں نہیں کیا جاۓ گا کیونکہ مساجد اس لیے نہیں بنائي گئيں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے منع فرمایا ہے :

( جوبھی کسی کومسجد میں گمشدہ چيز کا اعلان کرتا ہوا سنے وہ اسے یہ کہے ، اللہ تعالی اس چيز کوتیرے پاس واپس نہ لاۓ ) ۔

چوتھا : جب اس کا مالک تلاش کرتا ہوا آۓ اوراس کے مطابق صفات اورنشانیاں بتاۓ تواسے وہ چيز بغیر کسی قسم اوردلیل کے واپس کرنی واجب ہے اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے ۔

اورپھر وہ صفات و نشانیاں قسم اوردلیل کے قائم مقام ہیں ، بلکہ ہوسکتا ہے کہ اس کی صفات کا بتانا دلیل اورقسم سے بھی سچی اور اظہر ہو ، اوراس کے ساتھ ساتھ اصل چيز کا نفع چاہے وہ متصل ہویا ومنفصل واپس کرنا پڑے گا ۔

لیکن اگر مالک اس کی صفات اورنشانی نہ بتا سکے تو وہ چيز اسے واپس نہیں کرنی چاہيۓ ، اس لیے کہ وہ اس پاس امامنت ہے جسے مالک کے علاوہ کسی اورکودینا جائز نہیں ۔

پانچواں : ایک برس تک اعلان کےبعد بھی اگر مالک نہ آۓ تووہ چيز اٹھانے والے کی ملکیت ہوگی لیکن اس میں تصرف سے قبل اس کی صفات اورنشانیوں کی پہچان ضروری ہے تا کہ اگر کبھی اس کا مالک لینے آۓ تواس کی بتائي ہو‎ئي نشانیوں کی پہچان کرنے کے بعد اگروہ چيز موجود ہوتو واپس کی جاۓ وگرنہ اس کا بدل یا قیمت ادا کردی جاۓ اس لیے کہ مالک کے آنے سے اس کی ملکیت ختم ہوجا‌ۓ گی ۔

تنبیہ :

لقطہ یا گمشدہ چيز کے بارہ میں اسلام کا طریقہ اورھدایت ہے کہ اس کی حفاظت کی جاۓ اورمسلمان کے مال کی حرمت کی بھی حفاظت ہو اوربذات خود اس چيز کی بھی حفاظت ہونی ضروری ہے ۔

اورمجموعی طورپر ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے خیرو بھلائي پر ایک دوسرے کا تعاون کرنے پر ابھارا ہے ، ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہم سب کودین اسلام پر ثابت قدم رکھے اورہمیں اسلام کی حالت میں ہی موت سے ہمکنار کرے ۔ آمین یا رب العالمین ۔ .

کتاب : الملخص الفقھی تالیف الشيخ صالح بن فوزان آل فوزان ص ( 150 )

https://islamqa.info/ur/5049

Saturday, 31 December 2016

ہر کمال را زوال است

اللہ کے رسول حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قیامت کے نشانات بتلاتے ہوئے فرمایا: کہ اونٹوں اور بکریوں کے چرواہے جو برہنہ بدن اور ننگے پاؤں ہوں گے وہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے لمبی لمبی عمارتیں بنائیں گے اور فخر کریں گے۔
(صحیح مسلم 8)
میں ریاض شہر کو دیکھ کر حیران رہ گیا، عمارتوں کایہ مقابلہ آج اپنے عروج پر پہنچ گیا، دبئی میں ’برج خلیفہ‘ کی عمارت دنیا کی سب سے اونچی عمارت بن گئی تو ساتھ ہی شہزادہ ولید بن طلال نے جدہ میں اس سے بھی بڑی عمارت بنانے کا اعلان کر دیا ہے جو دھڑا دھڑ بنتی چلی جا رہی ہے، یعنی مقابلہ اپنی انتہا پر پہنچ چکا ہے کہ عرب دنیا کی عمارتیں سارے جہان سے اونچی ہو چکی ہیں۔ بتلانے کا مقصد صرف یہ کہ میرے پیارے رسول حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جو فرمایا وہ پورا ہو چکا ہے اور پیشگوئی پوری ہو کر اپنے نکتۂ کمال کو پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اصول دنیاوی ’ہر کمال را زوال است‘ کہ ہر کمال کے لئے زوال ہے، زوال کا آغاز بھی ہوچکا ہے کہ گاڑیاں صرف تیل پر نہیں رہیں بلکہ گیس، بیٹری اور سولار انرجی وغیرہ سے بھی چلنا شروع ہو گئیں۔ تیل دیگر ملکوں سے بھی بہت زیادہ نکلنا شروع ہو گیا اور ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ
عرب کا سب سے زیادہ تیل خریداری کرنے والے امریکہ نے صدام کو ختم کرکے  تیل کی دولت سے سیراب ملک عراق پر اپنی کٹھ پتلی شیعہ حکومت بنا کر تیل کے کنوؤں پر قبضہ جما لیا ہے اور لاکھوں بیرل مفت وصول کر رہا ہے تو پھر تیل کی گرتی مانگ نے تیل کی قیمتوں کو نچلی سطح پر پہنچا دیا جس سے عرب ممالک کا سنہرا دور خاتمے کے قریب ہے

۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس زوال کے بعد کیا ہے؟اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک اور حدیث ہے کہ قیامت سے پہلے سر زمین عرب دوبارہ سرسبز ہو جائیگی گا ۔۔۔ صحیح مسلم
کون سوچ سکتا تھا کہ سرزمین عرب کے صحراء اور خشک پہاڑ کہ جسے اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم علیہ و سلم کی زبان سے
’’بِوَادٍ غیر ذی زرعِ‘‘
بے آب و گیاہ وادی قرار دیا۔ وہ سبزے سے لہلا اٹھے گی چنانچہ پوری دنیا میں گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے نقارے بجنے لگے، نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سعودی عرب اور امارات میں بارشیں شروع ہو چکی ہیں۔ اتنی بارشیں اور ہوائیں کہ سیلاب آنا شروع ہو گئے ہیں، مکہ اور جدہ میں سیلاب آ چکے ہیں۔ ایک سیلاب چند دن پہلے آیا ہے جس سے چند افراد لقمہ اجل بھی بن چکے ہیں، اس تبدیلی کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عرب سرزمین جسے پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کو کام میں لا کر سرسبز بنانے کی کوشش کی گئی ہے وہ قدرتی موسم کی وجہ سے بھی سرسبز بننے جا رہی ہے۔ سعودی عرب گندم میں پہلے ہی خودکفیل ہو چکا ہے، اب وہاں خشک پہاڑوں پر بارشوں کی وجہ سے سبزہ اگنا شروع ہو چکا ہے، پہاڑ سرسبز ہونا شروع ہو گئے ہیں۔بارشوں کی وجہ سے آخرکار حکومت کو ڈیم بنانا ہوں گے جس سے پانی کی نہریں نکلیں گی، ہریالی ہو گی، سبزہ مزید ہو گا، فصلیں لہلہائیں گی، یوں یہ پیشگوئی بھی اپنے تکمیلی مراحل سے گزرنے جا رہی ہے اور جو میرے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے جا رہے ہیں

اگر احادیث پر غور کریں تو مشرق وسطٰی کے زوال کا آغاز ملک شام سے شروع ہوا لیکن شاید عرب حکمران یا تو یہودی و نصاری کی چال سمجھ نہ سکے یا بے رخی اختیار کی لیکن وجہ جو بھی ہو یا نہ ہو سرکار صلی اللہ علیہ و سلم  کی بتائی ہوئی علامات کو تو ظاہر ہو نا ہی تھا حدیث کے مطابق

چنانچہ حدیث پاک میں ارشاد ہے
ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺟﺐ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ۔
( ﺳﻨﻦ ﺍﻟﺘﺮﻣﺬﯼ 2192: ،ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﺟﺎﺀ ﻓﯽ ﺍﻟﺸﺎﻡ،ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ )
یاد ﺭﮐﮭﯿﮟ ! ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ِ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﮐﯽ ﺭُﻭ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﻭ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﻣﺖِ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﻭﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﮯ،ﺍﮔﺮ ملک شام ایسے ہی ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨا ﺗﻮ
ﭘﻮﺭﯼ ﺍﻣﺖِ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ۔۔ ویسے تو 90 فیصد برباد ہو چکا

اب جبکہ پانچ سالہ خونریزی میں 8 لاکھ سنی معصوم بچے، بوڑھے، عورتیں شہید اور لا تعداد دوسرے ملک کی سرحدوں پر زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں اور اتنے ہی تعداد میں زخمی یا معذور ہو چکے
لہذا شام مکمل تباہی کے بعد اب ملک نزع کی حالت میں ہے
اس حدیث کے حساب سے عرب ممالک کے سنہرے دور کے خاتمہ کی اہم وجہ ملک شام کے موجودہ حالات ہے گویا نبی ﷺ  کی ایک اور  پیشگوئی  علامت ظاہر ہو رہی ہے یا ہو چکی

یاد رکھیں کہ ملک شام کے متعلق اسرائیل، روس، ایران و امریکہ جو بھی  جھوٹے بہانے بناے لیکن ان سب کا اصل ہدف جزیرہ العرب ہے کیونکہ کفار کا عقیدہ ہے کہ دجال مسیحا ہے اس وجہ سے یہ لوگ دجال کے انتظامات مکمل کر رہے ہیں جس کے لیے عرب ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے کیونکہ ملک شام پر یہودی و نصاری قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور  یہ ہو کر رہیگا حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور سے قبل
چنانچہ کتاب فتن میں ہے کہ
آخری زمانے میں جب مسلمان ہر طرف سے مغلوب ہوجائیں گے، مسلسل جنگیں ہوں گی، شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہوجائے گی،   علماء کرام سے سنا کہ سعودی، مصر،  ترکی بهي باقي نہ رہیگا ہر جگہ کفار کے مظالم بڑھ جائیں گے، امت آپسی خانہ جنگی کا شکار رہے گی
عرب( خلیجی ممالک سعودی عرب وغیرہ )میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہے گی، خیبر ( سعودی عرب کا چھوٹا شہر مدینة المنورة سے 170 ک م فاصلے پر ہے) کے قریب تک یہود و نصاری پہنچ جائیں گے، اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، بچے کھچے مسلمان مدینة المنورة پہنچ جائیں گے، اس وقت حضرت امام مہدی مدینہ منورہ میں ہوں گے،

دوسری طرف دریائے طبریہ بھی تیزی سے خشک ہو رہی ہے جو کہ مہدی علیہ السلام کے ظہور سے قبل خشک ہو گی

اس لئے جب مشرق وسطیٰ کے حالات کو خصوصاً مسلمانوں اور ساری دنیا کے حالات کو دیکھتا ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ دنیا ہولناکیوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔ فرانس میں حالیہ حملوں کے بعد فرانس اور پوپ بھی عالمی جنگ کی بات کر چکے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے اس عالمی جنگ کا مرکز کون سا خطہ ہو گا، واضح نظر آ رہا ہے، مشرق وسطیٰ ہی متوقع ہے

یہاں بھی ہندوستان پاکستان کی رنجشیں کشمکش کے بڑھتے حالات بھی لگتا ہے کہ غزوہ ہند کی طرف رخ کر رہے ہیں کیونکہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
۔’’میری قوم کا ایک لشکر وقتِ آخر کے نزدیک ہند پر چڑھائی کرے گا اور اللہ اس لشکر کو فتح نصیب کرے گا، یہاں تک کہ وہ ہند کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے۔ اللہ اس لشکر کے تمام گناہ معاف کر دے گا۔ پھر وہ لشکر واپس رُخ کرے گا اور شام میں موجود عیسیٰ ابنِ مریمؑ کے ساتھ جا کر مل جائے گا۔‘‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا،
’’اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو میں اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اس لشکر کا حصہ بنوں گا۔ اور پھر جب اللہ ہمیں فتح نصیب کرے گا تو میں ابو ہریرہ (جہنم کی آگ سے) آزاد کہلاؤں گا۔ پھر جب میں شام پہنچوں گا تو عیسیٰؑ ابنِ مریم کو تلاش کر کے انہیں بتاؤں گا کہ میں محمدؓ کا ساتھی رہا ہوں۔‘‘
رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے تبسم فرمایا اور کہا،
’’بہت مشکل، بہت مشکل‘‘۔
کتاب الفتن۔ صفحہ ۴۰۹
آنے والے ادوار بڑے پر فتن نظر آتے ہیں اور اس کے متعلق بھی سرکار ﷺ فرمایا تھا کہ میری امت پر ایک دور ایسے آیگا جس میں فتنے ایسے تیزی سے آئینگے جیسے تسبیح توٹ جانے سے تسبیح کے دانے تیزی سے زمین کی طرف آتے ہیں

لہذا اپنی نسلوں کی ابھی سے تربیت اور ایمان کی فکر فرمایے ورنہ آزمائش کا مقابلہ دشوار ہو گا -
کالم
ندائے وقت خلیل اعظم