Saturday, 14 October 2017

صحت اقتداء کیلئے اتصال صفوف شرط ہے؟

صحت اقتداء کیلئے اتصال صفوف شرط ہے؟

سوال ]۲۴۸۱[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ ہمارے یہاں ایک مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے لوگ صفیں بناکر کھڑے ہوتے ہیں، آخری صف کے بعد وضو کرنے کی چھوٹی سی ایک نالی ہے اس کے بعد تقریبًا چھ صفوں کی کھلی جگہ ہے، جن میں شدید دھوپ پڑتی ہے، اس کے بعد سائے دار درخت ہیں،مسجد سے باقی بچے لوگ انہیں درختوں کے نیچے اپنی صفیں بناکر نماز جمعہ ادا کرتے ہیں؛ جبکہ ان لوگوں کے اور مسجد کے درمیان میں تقریبا چھ صفوں کا فاصلہ ہے تو کیا ان لوگوں کی نماز ادا ہوجائے گی؟ (عذر دھوپ کا پیش کرتے ہیں) امید کہ جواب تفصیل سے عنایت فرمائیں گے؟
المستفتی: محمداقبال خان، مدرسہ جامعہ اسلامیہ ککرالہ بدایوں

باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جب وضو کی نالی کے ماوراء اور بعد کا حصہ حدود مسجد سے خارج ہے، تو اس میں کھڑے ہوکر اقتداء صحیح ہونے کے لئے اتصال صفوف شرط ہے اور جب چھ صفوں کی مقدار جگہ چھوڑ کر اقتداء کی جائیگی تو اقتداء صحیح نہ ہوگی؛ لہٰذا درختوں کے نیچے جاکر اقتداء کرنے والوں کی اقتداء درست نہ ہوگی، اگر چہ گرمی کی شدت کیوں نہ ہو۔

ولواقتدیٰ خارج المسجد بإمام في المسجد إن کانت الصفوف متصلۃ جاز وإلافلا لأن ذلک الموضع بحکم اتصال الصفوف یلتحق بالمسجد الخ (بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ، باب تقدم الإمام علی الماموم زکریا ۱/۳۶۲، کراچي۱/۱۴۶)

فقط والله سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۲۸؍ ذی الحجہ ۱۴۱۱ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۲۷؍۲۵۰۴)
..........
وأما تفصيل رأي الحنفية (١): فهو أن اختلاف المكان بين الإمام والمأموم مفسد للاقتداء، سواء اشتبه على المأموم حال إمامه أو لم يشتبه على الصحيح. فلو اقتدى راجل براكب، أو بالعكس، أو راكب براكب دابة أخرى، لم يصح الاقتداء لاختلاف المكان، فلو كانا على دابة واحدة صح الاقتداء لاتحاد المكان.
ومن كان بينه وبين الإمام طريق عام يمر فيه الناس، أو نهر عظيم، أو خلاء (أي فضاء) في الصحراء، أو في مسجد كبير جداً كمسجد القدس يسع صفين فأكثر، أوصف من النساء بلا حائل قدر ذراع أو بغير ارتفاعهن قدر قامة الرجل، لا يصح الاقتداء؛ لأن ذلك يوجب اختلاف المكانين عرفاً، مع اختلافهما حقيقة، فيمنع صحة الاقتداء، لقول عمر رضي الله عنه: «من كان بينه وبين الإمام نهر أو طريق أو صف من النساء، فلا صلاة له».
ومقدار الطريق العام الذي يمنع صحة الاقتداء: هو مقدار ما تمر فيه العجلة (العربة) أو تمر فيه الأحمال على الدواب. والمراد بالنهر: ما يسع زورقاً يمر فيه.
فإن كانت الصفوف متصلة على الطريق، كما يحصل في الحرمين أو في المساجد المزدحمة بالمصلين، جاز الاقتداء؛ لأن اتصال الصفوف أخرجه من أن يكون ممر الناس، فلم يبق طريقاً، بل صار مصلى في حق هذه الصلاة. وكذلك إن كان على النهر جسر وعليه صف متصل.
والحائل كجدار كبير لا يمنع الاقتداء إن لم يشتبه حال إمامه بسماع من الإمام أو مبلِّغ عنه أو رؤية ولو لأحد المقتدين ولو من باب مشبك يمنع الوصول، ولم يختلف المكان حقيقة كمسجد، وبيت، فإن المسجد مكان واحد، إلا إذا كان المسجد كبيراً جداً، وكذا البيت حكمه حكم المسجد في ذلك لاحكم الصحراء.
.....
والخلاصة: إن اختلاف المكان يمنع صحة الاقتداء، سواء اشتبه على المأموم حال إمامه أو لم يشتبه، واتحاد المكان في المسجد أو البيت مع وجود حائل فاصل يمنع الاقتداء إن اشتبه حال الإمام. أما وجود فاصل يسع صفين أو أكثر في الصحراء أو في المسجد الكبير جداً، فيمنع الاقتداء.
....

انوار الفقھاء:
اتصال صفوف اور ان کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان کرام اس مسئلہ کے بارہ میں کہ:
۱…امام مسجد، مسجد کے ہال یا برآمدہ میں تنہا کھڑے ہوکرامامت کرائیں اور مقتدی حضرات علیحدہ برآمدہ یا صحن میں کھڑے ہوں (امام ہال میں اور مقتدی برآمدہ میں یا امام برآمدہ میں اور مقتدی صحن میں ہوں، یا امام محراب میں اور مقتدی ہال میں ہوں) ایسی صورت میں نماز بلاکراہت درست ہے یا نہیں؟مسئلہ کا جواب حوالہ جات کے ساتھ دیا جائے، کیونکہ ہمارے ہاں علماء میں اس مسئلہ میں اختلاف ہے ،اس فتویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے عمل کیا جائے ۔ نیز اتصال صفوف کی بحث بھی مع جزئیات کے واضح فرماویں۔
سائل: محمد شفیق قریشی ٹنڈوآدم
_______________________________
الجواب ومنہ الصدق والصواب

*اتصال صفوف کی بحث نماز کے مسائل میں بہت ہی اہمیت کی حامل ہے، اس کی تفصیلات وجزئیات کے ذکر سے پہلے چند تمہیدی امور کا ذکر مناسب ہوگا*

۱…مسجد قدس: علامہ شامی  نے اس کی تحدید یوں بیان کی ہے:

”وجامع القدس الشریف اعنی ما یشتمل علی المساجد الثلاثة الاقصی والصخرة والبیضاء،، (ج:۱،ص:۵۸۵)

یعنی جس کا مجموعی رقبہ مسجد اقصی، صخرہ اور مسجد بیضاء تینوں مساجد کے مجموعی رقبہ کے برابر ہو۔

۲…جامع قدیم خوارزم: علامہ شامی نے اس کا ذکر ان الفاظ سے کیا ہے:
”فان ربعہ کان علی اربعة آلاف اسطوانة،،۔ (ج:۱،ص:۵۸۵)

یعنی اس کا صرف ربع حصہ چار ہزار ستونوں پر مشتمل ہے۔

۳… صحت اقتداء کے لئے امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ نہیں ہونا چاہئے اوردونوں کا مکان نماز میں حقیقتاَ یا حکماَ متحد ہونا چاہئے۔ حقیقتاَ جیسے عام مساجد، حکماَ جیسے درمیان میں خلا یعنی راستہ یا نہر وغیرہ ہونے کی صورت میں صفوں کے متصل ہوجانے سے مکان متحد ہوجاتا ہے، ان تمہیدی باتوں کے بعد اب اصل مسئلہ کی طرف آتے ہیں۔صحت اقتداء کے لئے ان امور کی رعایت ضروری ہے:

۱:۔صحت اقتداء کے لئے ضروری ہے کہ امام اور مقتدی کے درمیان کوئی راستہ یا شاہراہ وغیرہ نہ ہو بلکہ امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ حقیقتاَ یا حکماَ متحد ہو، چنانچہ ایسا راستہ جس پر بیل گاڑی یابار برداری کے لئے متعین سواریاں جیسے اونٹ، خچر یا موجودہ زمانے کی متعارف ٹیکسیاں، بس اور رکشے گزر سکیں۔ اگر امام اور مقتدی کے درمیان ایسا راستہ حائل ہوگا تو امام کی اقتدا درست نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ اس راستہ پر صفیں ملی ہوئی نہ ہوں اگر صفیں ملی ہوئی ہوں یا راستہ اس سے تنگ ہو یعنی کم چوڑا ہو تو اقتداء درست ہے۔

۲:۔یہ بھی ذہن میں رہے کہ راستہ میں ایک آدمی کے کھڑے ہونے سے بالاتفاق صفیں ملی ہوئی یعنی متصل شمار نہ ہوں گی کیونکہ جماعت میں اکیلا کھڑا ہونا مکروہ ہے، اس لئے اس کا وجود پیچھے والوں کے لئے بمنزلہ عدم کے ہوگا، اور تین آدمیوں کے کھڑے ہونے سے بالاتفاق صفیں متصل سمجھی جائیں گی، دو آدمیوں کے کھڑے ہونے سے صفیں متصل ہونے کے حکم میں اختلاف ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام محمد  کے نزدیک دو آدمیوں سے اتصال ثابت نہیں ہوگا اور یہی قول صحیح ومختار ہے۔

۳:۔یہ ہی حکم پچھلی صفوں کا ہے لہذا اگر پہلی صف امام کے ساتھ ہے اور درمیان میں اتنا راستہ نہیں کہ گاڑی گذر سکے لیکن پہلی اور دوسری صف کے درمیان اتنا راستہ ہے تو پہلی صف کی نماز اور اقتدا صحیح ہو گی اور دوسری صف کی نماز فاسد ہوجائے گی۔

۴:۔اگر امام اکیلا سڑک کے ایک طرف ہے اور سب مقتدی سڑک کی دوسری طرف ہیں،تو امام کی نماز جائز ہے اور مقتدیوں کی نماز فاسد ہے۔

۵:۔ بڑی نہر جس میں کشتیاں چل سکیں چاہے چھوٹی ہی کشتیاں کیوں نہ ہوں اور اس پر بغیر کسی تدبیریعنی پل وکشتی کے عبور ممکن نہ ہو تو ایسی نہر کا حکم عام راستہ کی طرح ہے۔

۶:۔ البتہ اگر نہر اتنی چھوٹی ہے کہ اس میں چھوٹی کشتیاں بھی نہ گزرسکیں تو وہ اقتداء کے لئے مانع نہیں ہے۔
___________________________

اب ان چیزوں کا ذکر کیا جائے گا جو حقیقتاَ مکان واحد شمار ہوتی ہیں یا مکان واحد شمار نہیں ہوتی۔مندرجہ ذیل چیزیں حقیقتاَ مکان واحد کا حکم رکھتی ہیں؛

۱:۔ عام مساجد اگرچہ بڑی ہوں مکان واحد کا حکم رکھتی ہیں اور ان میں خالی جگہ کے فاصلہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے اگرچہ بقدر دو صفوں یا زیادہ کا فاصلہ ہو تو ایسا فاصلہ مانع اقتداء نہیں ہے، پس اگر امام محراب میں اس طرح ہو کہ اس کے پاؤں محراب سے باہر ہوں اور کسی شخص نے مسجد کے کنارے پر کھڑے ہوکر اقتداء کی اور درمیان میں دو صف یا زیادہ فاصلہ خالی رہ گیا تو اقتداء جائز ہے مگر بلاضرورت فاصلہ رکھنا مناسب نہیں ہے۔

۲:۔ عیدگاہ بھی عام مساجد کی طرح مکان واحد کے حکم میں ہے یعنی اس میں دو یا زیادہ صفوں کا فاصلہ مانع اقتداء نہیں ہے اگرچہ وہ عیدگاہ بڑی ہو۔

۳:۔ فنائے مسجد بھی مسجد کے حکم میں ہے اور فنائے مسجد وہ ہے جو مسجد سے متصل ہو اور ان د ونوں کے درمیان راستہ نہ ہو ، یہ بھی مکان واحد کے حکم میں ہے۔

۴:۔چھوٹا مکان (گھر) بھی مسجد کے حکم میں ہے، اس میں بھی صفوں کے اتصال کے بغیر اقتداء صحیح ہے، چھوٹا مکان وہ ہے جو چالیس گز شرعی سے کم ہو، یہ ہی صحیح اور مختار قول ہے۔

۵:۔ جس مکان کی چھت مسجد سے بالکل متصل ہو، اس طرح کے بیچ میں راستہ نہ ہو تو اس چھت پر سے اقتداء درست ہے۔

۶:۔ مسجد کے متصل کوئی دالان ہو اس میں بھی اقتداء درست ہے جبکہ امام کا حال مخفی نہ ہو۔

۷:۔ مسجد کے پڑوس میں رہنے والا اپنے گھر میں سے مسجد کے امام کی اقتداء کر سکتا ہے جبکہ اس کے اور مسجد کے درمیان کوئی عام راستہ نہ ہو۔

۸:۔اگر امام مسجد میں ہو اور مقتدی مسجد کی چھت پر تو بھی اقتداء درست ہے جبکہ امام کا حال مشتبہ نہ ہوتا ہو۔

۹:۔اذان کے مینار پر کھڑے ہوکر امام مسجد کی اقتداء کرے تب بھی جائز ہے بشرطیکہ امام کا حال مشتبہ نہ ہوتا ہو۔

*وہ چیزیں جو حقیقتاََ مکان واحد کے حکم میں نہیں ہیں حسب ذیل ہیں*

۱:۔کوئی بڑا میدان یعنی اگر میدان میں جماعت قائم ہوئی اور امام ومقتدی کے درمیان اتنی جگہ خالی ہے کہ اس میں دو صفیں یا زیادہ صفیں قائم ہوسکتی ہیں تو اقتدا صحیح نہیں ہے، اسی طرح میدان میں امام ومقتدی کی صفوف میں تو کوئی فاصلہ نہیں، البتہ پچھلی صفوں میں اتصال نہیں، مثلاَ: دوسری اور تیسری صفوں کے درمیان دو صفوں یا زیادہ کا فاصلہ ہو تو تیسری صف والوں کا اقتداء کرنا درست نہیں ہوگا۔

۲:۔بہت ہی بڑی مسجد مثلاَ مسجد قدس اور جامع مسجد خوارزم اور ان جیسی مساجد کا بھی و ہی حکم ہے جو میدان کا ہے یعنی دو یا زیادہ صفوں کا فاصلہ مانع اقتداء ہے اگرچہ امام کا حال مشتبہ نہ ہوتا ہو۔

۳:۔بڑا مکان بھی میدان کے حکم میں ہے ، یعنی دو یا زیادہ صفوں کا فاصلہ مانع اقتداء ہے، بڑا مکان وہ ہے جو چالیس گز شرعی یا اس سے زیادہ کا ہو، یہی صحیح اور مختار قول ہے۔

۴:۔جس مکان کی چھت مسجد سے متصل نہ ہو بلکہ بیچ میں راستہ ہو تو اقتداء درست نہیں مگر جب راستہ میں صفیں کھڑی ہوکر مسجد کی صفوں سے متصل ہو جائیں تو اس مکان کی چھت پر سے اقتداء درست ہے۔خلاصہ ان سب کا یہ ہے کہ صحت اقتداء کے لئے امام کا حال بھی مشتبہ نہیں ہونا چاہئے اور مکان بھی حقیقتاَ یا حکماَ متحد ہونا چاہئے۔

الدر المختار میں ہے:
”ویمنع من الاقتداء… طریق تجری فیہ عجلة او نہر تجری فیہ السفن او خلاء فی الصحراء او فی مسجد کبیر جدا کمسجد القدس یسع صفین فاکثر الا اذا اتصلت الصفوف فیصح مطلقا کان قام فی الطریق ثلاثا وکذا اثنان عند الثانی لا واحد اتفاقا لانہ لکراہة صلاتہ صار وجودہ کعدمہ فی حق من خلفہ،،۔

رد المحتار میں ہے:
قولہ او فی مسجد کبیر جدا الخ قال: فی الامداد والفاضل فی مصلی العید لایمنع… والمسجد وان کبر لایمنع الفاصل الا فی الجامع القدیم بخوارزم فان ربعہ کان علی اربعة آلاف اسطوانة وجامع القدس الشریف اعنی ما یشتمل علی المساجد الثلاثة الاقصی والصخرة والبیضاء کذا فی البزازیة الخ ومثلہ فی شرح المنیة… تتمة فی القہستانی: البیت کالصحراء والاصح انہ کالمسجد… ولم یذکر حکم الدار… اختلفوا فیہ… وبعضہم قال ان کانت اربعین ذراعا فہی کبیرة والا فصیغرة ہذا ہو المختار الخ وذکر فی البحر ان فناء المسجد ہو ما اتصل بہ ولیس بینہ وبین طریق…،، (قولہ یسع صفین) نعت لقولہ خلاء والتقبیید بالصفین صرح بہ فی الخلاصة والفیض والمبتغی وفی الواقعات الحسامیة وخزانة الفتاویٰ وبہ یفتی اسمعیل… (قولہ وکذا اثنان عند الثانی) والاصح قولہما کما فی السراج… وحاصلہ انہ اشترط عدم الاشتباہ وعدم اختلاف المکان … فان المسجد مکان واحد ولذا لم یعتبر فیہ الفصل بالخلاء الا اذا کان المسجد کبیراَ جداَ… فقد تحرر بما تقرر ان اختلاف المکان مانع من صحة الاقتداء ولو بلااشتباہ وانہ عند الاشتباہ لایصح الاقتداء وان اتحد المکان ثم رأیت الرحمتی قرر کذلک فاغتنم ذلک،،۔ (فتاوی شامی: ج:۱،ص:۵۸۸۔۵۸۵)

الدرالمختار میں ہے:
”وکرہ… قیام الامام فی المحراب لاسجودہ فیہ وقدماہ خارجة لان العبرة للقدم مطلقا وان لم یشتبہ حال الامام،،۔

رد المحتار میں ہے
”(قولہ مطلقا)… وکذا سواء کان المحراب من المسجد کما ہو العادة المستمرة اولا کما فی البحر … فاختلف المشائخ فی سببہا فقیل کونہ یصیر ممتازا عنہم فی المکان لان المحراب فی معنی بیت آخر وذلک صنیع اہل الکتاب واقتصر علیہ الہدایة واختارہ الامام السرخسی وقال انہ الاوجة،،۔ (فتاوی شامی:ج:۱،ص:۶۴۶۔۶۴۵)

حاشیة الطحاوی میں ہے
”(نہر فیہ العجلة) والمراد ان تکون صالحة لذلک لامرورہا بالفعل والعجلة بالتحریک آلة یجرہا الثور والمراد بالطریق ہو النافذ ذکرہ السید… ولو کان علی الطریق ثلاث جازت صلاة من خلفہم لان الثلاثة صف فی بعض الروایات وعند اتصال الصفوف لایکون الطریق حائلا ولو کان علی الطریق اثنان فعلی قیاس قول ابی یوسف تجوز صلاة من خلفہا، لانہ جعل المثنی کالجمع، وعلی قیاس قول محمد لاتجوز(یسع فیہ صفین) والفرجة بین الصفین… والظاہر ان ہذا یعتبر من محل السجود ومحل قیام الآخرین من کل صف… (علی المفتی بہ)… والفضاء والواسع فی المسجد لایمنع وان وسع صفوفا،لان لہ حکم بقعة واحدة کذا فی الاشباہ من الفن الثانی فلو اقتدی بالامام فی اقصی المسجد والامام فی المحراب جاز کما فی الہندیة۔ قال البزازی: المسجد وان کبر لایمنع الفاصل فیہ الا فی الجامع القدیم بخوارزم فان ربعہ علی اربعة آلاف اسطوانة وجامع القدس الشریف یعنی ما یشتمل علی المساجد الثلاثة الاقصی والصخراء والبیضاء کما فی الحلبی والشرح … ومصلی العید کالمسجد وجعل فی النوازل والخلاصة والخانیة مصلی الجنازة مثل المسجد ایضا۔ وفناء المسجد لہ حکم المسجد یجوز الاقتداء فیہ وان لم تکن الصفوف متصلة… فلو اقتدی من بمنزلة بمن فی المسجد وان انفصل عنہ صح ان لم یوجد مانع من نحو طریق ولم یشتبہ حال الامام، وافاد السید جواز الاقتداء فی بیت بامام فیہ ولو مع وجود فاصل یسع صفین فان البیت فی ہذا کالمسجد،،۔ (باب الامامة:ص:۱۵۹۰۶)

مراقی الفلاح میں ہے:
”والمانع فی الصلاة فاصل یسع فیہ صفین علی المفتی بہ، ویشترط أن لایفصل بینہما حائط کبیر یشتبہ معہ العلم بانتقالات الامام فان لم یشتبہ العلم بانتقالات الامام لسماع او رؤیة لم یمکن الوصول الیہ صح الاقتداء بہ فی الصحیح وہواختیار شمس الائمة الحلوانی…وعلی ہذا الاقتداء فی المساکن المتصلة بالمسجد الحرام وابوابہا من خارجہ صحیح اذا لم یشتبہ حال الامام علیہم لسماع او رؤیة ولم یتخلل الا الجدار کما ذکرہ شمس الائمة فیمن صلی علی سطح بیتہ المتصل بالمسجد او فی منزلہ بجنب المسجد وبینہ وبین المسجد حائط مقتدیا بامام فی المسجد وہو یسمع التکبیر من الامام او من المکبر تجوز صلاتہ کذا فی التجنیس والمزید ویصح اقتداء الواقف علی السطح بمن ہو فی البیت ولایخفی علیہ حالہ،،۔
(حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:ص:۱۶۰)

مذکورہ بالا تمہید وتفصیل کے پیش نظر صورت مسئولہ میں پوری مسجد مکان واحد کے حکم میں ہے، پوری مسجد سے مراد مسجد کا ہال، برآمدہ اور صحن جس میں باقاعدہ نماز ہوتی ہے تو یہ کل مسجد مکان واحد کے حکم میں ہے۔
لہذا اگر امام مسجد، مسجد کے ہال میں کھڑے ہوکر امامت کرائے اور مقتدی برآمدہ سے متصل صحن مسجد میں اقتداء کریں، اسی طرح امام اگر مسجدکے محراب میں کھڑا ہو اور مقتدی مسجد کے ہال میں امام کی اقتدا کرے تو بہر صورت اقتدا بلاکرہت جائز اور درست ہے اور اگر کسی ضرورت اور عذر کی بناء پر امام اور مقتدیوں کے درمیان دو صفوں یا اس سے زائد مقدار کا بھی فاصلہ ہو تو ضرورت کی وجہ سے یہ فاصلہ بھی مانع اقتداء نہیں ہے، بلکہ بلاکراہت اقتداء درست ہے اور عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ امام اگر محراب میں امامت کرائے اور مقتدی ہال میں ہوں یا امام ہال میں ہو مقتدی برآمدہ میں ہوں یا امام برآمدہ میں ہو اور مقتدی صحن میں ہوں تو امام اور مقتدیوں کے درمیان ایک فٹ کے علاوہ زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا، لہذا بلاکراہت ان صورتوں میں اقتدا درست اور صحیح ہے۔
البتہ ان صورتوں میں بھی بلاضرورت امام اور مقتدیوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ رکھا جائے۔ بہرحال یہ مسئلہ اتنا پیچیدہ نہیں کہ اس مسئلہ کو بنیاد بناکر اہل علم آپس میں اختلاف کا شکار ہوں بلکہ آپس میں مل بیٹھ کر شرعی ضابطہ کے مطابق باہمی اتفاق سے اس مسئلہ کو حل کریں۔
فقط

الجواب صحیح
محمد عبد السلام عفا اللہ عنہ،، محمد داؤد

کتبہ میر حارث
متخصص فی الفقہ اسلامی
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
============================
ناقل محمد مصروف مظاہری

حج میں تجارت

سوال: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حج اور عمرہ میں جانے والے حضرات تمباکو اور نشہ آور چیزیں لیجاتے ہیں اور وہاں جاکر بیچتے ہیں، اس طرح لیجاکر وہاں بیچنا شریعت کے اعتبارسے کیسا ہے؟
بحوالہ جواب مطلوب ہے.

جواب: یہ چیزیں وہاں قانونا ممنوع ہیں،
ان کی خرید و فروخت پر بھی پابندی ہے، اس لئے قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوکر اپنے آپ کو پریشانی میں ڈالنا یہ اچھا نہیں ہے.
اور سفر کا مقصد بھی اس میں فوت ہوجاتا ہے کہ سفر تو حج کا تھا لیکن کاروبار کی نیت سے مقصد میں نقص لازم آئیگا.
مفتی محمود صاحب نے یھی لکھا ہیکہ آدمی وہاں سے اگر کوئی غیر قانونی چیز لیکر آتا ہے تو حکومت سعودی عرب کے قانون کی پابندی ضروری ہے.
.......

سوال: قانونا ممنوع اشیاء کے علاوہ کی تجارت کی اجازت کے بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب: بچنا اولی ہے کیونکہ اس میں اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے.

Friday, 13 October 2017

کھانے کے بعد میٹھا کھانا مسنون ہے

کھانے کے بعد میٹھا کھانا مسنون ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔السلام علیکم
کها نے کے بعد میٹھا کهانا سنت ہونے کی جو بات عوام میں مشہور ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
راشد جمال معروفی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
شہد اور میٹھی چیز نوش فرمانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند فرماتے تھے۔ آپ شوق ورغبت سے اسے نوش فرماتے تھے۔
:عن عائشۃ رضی اللہ تعالی عنہا قالت : ’’ کان رسول اللہ ﷺ یحب الحلوٰی والعسل ‘‘۔ (صحیح البخاری : ۲/۸۱۷ ، کتاب الأطعمۃ ، باب الحلوٰی والعسل)
وفی ’’ فتح الباری ‘‘ : ووقع فی کتاب ’’ فقہ اللغۃ للثعالبی ‘‘ : أن حلوی النبی التی کان یحبہا ہی المجیع بالجیم وزن عظیم ، وہو تمر یعجن بلبن ، وفیہ رد علی من زعم أن المراد أنہ کان یشرب کل یوم قدح عسل یمزج بالماء ط وأما الحلوی المصنوعۃ فما کان یعرفہا ، وقیل : المراد بالحلوی الفالوذج لا المعقودۃ علی الفار ۔ (۹/۶۸۹؍۶۹۰، کتاب الأطعمۃ)

یوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں مہینوں چولہا نہیں جلتا تھا۔ دو وقت لگاتار کبھی آپ کو روٹی دستیاب نہ ہوئی۔ جب جو میسر آتا نوش فرمالیتے ۔۔۔۔۔ لیکن ایک موقع سےکھانے کے بعد میٹھی چیز نوش فرمانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔حضرت عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا تناول فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کے آخر میں کھجور تناول فرمائی۔
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانا کے آخر میں میٹھی چیز کھانا مسنون ہے۔بعض روایتوں میں آخر میں نمک استعمال کرنے کی بات بھی مروی ہے۔ ممکن ہے کبھی یہ استعمال فرماتے ہوں اور کبھی وہ۔

بَاب مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الطَّعَامِ
1848 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ أَبُو الْهُذَيْلِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ عَنْ أَبِيهِ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ بَعَثَنِي بَنُو مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِصَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ هَلْ مِنْ طَعَامٍ فَأُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ وَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا فَخَبَطْتُ بِيَدِي مِنْ نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى يَدِي الْيُمْنَى ثُمَّ قَالَ يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ الرُّطَبِ أَوْ مِنْ أَلْوَانِ الرُّطَبِ عُبَيْدُ اللَّهِ شَكَّ قَالَ فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ وَقَالَ يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ ثُمَّ أُتِينَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِبَلَلِ كَفَّيْهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَقَالَ يَا عِكْرَاشُ هَذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْعَلَاءِ بْنِ الْفَضْلِ وَقَدْ تَفَرَّدَ الْعَلَاءُ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَا نَعْرِفُ لِعِكْرَاشٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ
سنن الترمذي. كتاب الأطعمة

3274 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي السَّوِيَّةِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ عَنْ أَبِيهِ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَفْنَةٍ [ص: 1090] كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَدَكِ فَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا فَخَبَطْتُ يَدِي فِي نَوَاحِيهَا فَقَالَ يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنْ الرُّطَبِ فَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ وَقَالَ يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ
سنن إبن ماجة
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

Thursday, 12 October 2017

علمائے کرام کا حسد؟

کیا علماء حسد کی وجہ سے حساب کتاب سے ایک سال قبل ہی جہنم میں جائیں گے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ کچھ لوگ حساب کتاب سے ایک سال پہلے دوزخ میں چلے جائیں گے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم وہ کون لوگ ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا؛
امراء ظلم کی وجہ سے،
عرب عصبیت کی وجہ سے،
دہقان تکبر کی وجہ سے،
تاجر خیانت کی وجہ سے
اور علماء حسد کی وجہ سے۔
کیا یہ حدیث ہے؟ اگر ہاں تو حوالہ؟
محمد زبیر مظاہری 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
اسنادی حیثیت سے اگرچہ حدیث ضعیف ہے لیکن کچھ کمی بیشی کے ساتھ اس مضمون کی حدیث موجود ہے ۔
ستة يدخلون النار قبل الحساب بسنة قيل يا رسول الله من هم ؟ قال الأمراء بالجور والدهاقين بالتكبر والتجار بالخيانة وأهل الرستاق بالجهالة والعلماء بالحسد . .
الراوي: أنس بن مالك و عبدالله بن عمر المحدث: العراقي- المصدر: تخريج الإحياء - الصفحة أو الرقم: 3/232
خلاصة حكم المحدث: إسناده ضعيف
يعذبُ اللهُ يومَ القيامةِ ستةً بستةٍ الأمراءَ بالجورِ والعلماءَ بالحسدِ والعربَ بالعصبيةِ والدهاقينَ بالكبرِ وأهلَ الرساتيقِ بالجهالةِ والتجارَ بالخيانةِ وستةٌ يدخلون الجنةَ بستةٍ الأمراءُ بالعدلِ والعلماءُ بالنصيحةِ والعربُ بالتواضعِ والدهاقين بالألفةِ والتجارُ بالصدقِ وأهلُ الرساتيقِ بالسلامةِ .
الراوي: عثمان بن عفان المحدث: الذهبي - المصدر: تلخيص العلل المتناهية - الصفحة أو الرقم: 365
خلاصة حكم المحدث: باطل

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
................
تعصب ناسور سے بھی بدتر ہے
الحمد للّٰہ رب العٰلمین والصلوة علی سید الثقلین والمرسلین اما بعد!
اس موضوع پر بھی لکھتے ہوئے قلب ودماغ مجتمع نہیں او رقلم بھی کچھ لرزش محسوس کررہا ہے ذہن ماؤف تو انگلیاں بھی ساتھ چھوڑنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن جب قرآنی حکم حبیب خدا صلى الله عليه وسلم کا طریقہٴ عمل اور جہد پیہم اسلاف واکابر صالحین وخدا ترس حضرات کا شیوہ تصور بدیہی کی طرح دیکھتے ہیں تو قلب مضطر کو بے کلی سے اطمینان حاصل ہوتا ہے لیکن آپ سوال کرسکتے ہیں کہ طفل مکتب صاحب کیوں آپ گھبرارہے ہیں اور کیا آپ کو ضرورت محسوس ہوئی کہ اس عموم بلویٰ حاصل کرچکے تعصب پر آپ لکھ رہے ہیں تو بندئہ بے بضاعت یہی جواب دے گا کہ قلم کی لرزش، قلب ودماغ کی گھبراہٹ بے معنی نہیں۔ نا معلوم کتنے حضرات کی دستار اچھلتی نظر آئے گی تقویٰ و تورُع کا بھرم رازِ سربستہ ٹوٹتا پھوٹتا نظر آئے گا، نا جانے کتنی مقدس ہستیاں اس حمام میں عریاں نظر آئیں گی کتنے مقبول و محبوب ومعروف لیڈران کی فلک بوس سیاست زمین بوس ہوتی نظر آئیگی۔ کتنے صاحب تصنیف وتالیف حضرات کی شخصیت مجروح ہوتی نظر آئیگی۔ کتنے جمہوریت کے علمبردار و مساوات کے داعی جھوٹے نظر آئیں گے۔
غرض قلم قاتل تو اہل تقدس مقتول ہوجائیں گے اور یہ ہر ایک پر واضح رہے کہ ان کی نظر میں بیچارہ قلم اور صاحب مضمون ہدفِ ملامت بن جائیگا لیکن لاَ تَخَفْ فِی اللّٰہِ لَوْمَةَ لاَئِم  پر عمل پیرا ہونے کی اللہ تعالیٰ ہر ایک کو توفیق عطا فرمائے (آمین) اور ضرورت اسلئے محسوس ہوئی کہ اسی تعصب کی وجہ سے لاکھوں لوگ بیروزگار تو ہزاروں حضرات جن عہدوں کے لائق ہیں ان سے وہ محروم ہیں۔
برا ہو اس تعصب کا نا جانے کتنے لائق عہدوں پر نااہل براجمان ہیں اور لائق حضرات خاک چھانتے پھر رہے ہیں۔ قرآن واحادیث میں اس تعصب کی بہت برائی بیان کی گئی ہے۔ تعصب کے لغوی واصطلاحی معنی یہ ہیں۔ تَعَصَّبَ․ پٹی باندھنا تعصب سے کام لینا۔ تَعَصَّبَ علیہ مقابلہ کرنا اور عصبیت دکھلانا اَلْعَصَبِیَّةُ دھڑے بندی اَلْعَصَبِی تعصب کی وجہ سے ظلم میں قوم کی مدد کرنے والا۔
التَّعَصُّبُ دلیل ظاہر ہونے کے بعد بھی حق قبول نہ کرنا المنجد/۶۵۶ حق بات کی دلیل ظاہر ہوتے وقت حق قبول نہ کرنا قواعد الفقہ /۲۳۱ وکذا فی رد المحتار ۱/۶۴۲، مشکوٰة/۴۱۸۔
اس منحوس تعصب کی وجہ سے خشکی وتری میں ہفت اقلیم میں عرب وعجم میں ایک فسادِ عظیم برپا ہے کتنے انصاف کے طالب نام نہاد عدالتوں کے چکر کاٹتے کاٹتے لقمہٴ اجل ہوگئے لیکن ان کو انصاف نہ مل سکا، آزادی کی انتظار میں انسانیت سسک رہی ہے ان کو آزادی نصیب نہیں ہوئی اس تعصب کی چنگل میں انسانیت ایسی پھنسی ہوئی ہے کہ سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے لیکن انسانوں کو انسانیت نصیب نہیں ہوئی، اسلام ایک ایسا منفرد ویکتا مذہب حق ہے جس نے تعصب کی مضبوط دیواروں کو ہلادیا اور منظم نظامِ حیات انسانیت کو بخشا اور انسانیت کی بقاء اسلام ہی کی مرہون ہے جس نے انسانیت کو حیوانیت و درندگی، ظلم واستبداد تعصب و عصبیت سے باہر نکال کر جینے کا حق دیا اور صالح معاشرہ فراہم کیا اور حق وباطل ہدایت وگمراہی کے درمیان ایک خلیج قائم کی رب ذوالجلال نے بڑے عمدہ پیرائے میں ایک جامع سبق انسان کو دیا ہے ۔ فرمایا:
یٰاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ (القرآن)
اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت (آدم وحوا) سے بنایا اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا (محض اس لئے کیا) تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے بڑا شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے۔
اس آیت کریمہ میں جن چیزوں کا ذکر ہے ان سے تمام طرح کی عصبیت کی بیخ کنی ہوجاتی ہے۔ تعصب کی کئی شاخیں ہیں، حسبی ونسبی تعصب، قبیلہ پرستی و ذات برادری کی عصبیت، لسانی ووطنی عصبیت ملکی وقومی عصبیت علاقائی وقومی عصبیت۔ مالداری وکثرتِ اولاد کی وجہ سے تفاخر وتعاظم اور غیروں کو حقیر وذلیل سمجھنے کا جذبہ ان ہی تمام عوارضِ قبیحہ کی وجہ سے موٴجزن ہوتا ہے ان تمام تر خرابیوں اور بیماریوں میں سب سے قبیح حسبی و نسبی تعصب ہے اس کے بعد قبیلہ پرستی وذات برادری کا تعصب ہے، حسب ونسب کا تعصب تو اتنا شدید تھا کہ جو لوگ اپنے کو بزعم خود اونچا سمجھتے تھے اور جو برادریاں اپنے کو بہت اونچا وبے نظیر سمجھتی تھیں ان کی نظر میں ان کا غیر انسانیت کے مراتب حاصل کرنے کا حقدار نہیں ہوتا تھا لیکن یہ برادریاں ہندوستان میں برہمنوں و آریوں و آچاریوں کی ہوتی تھیں جن کی عبادت گاہوں میں دوسرے کو داخلہ کی اجازت نہ تھی جبکہ علی الصباح نیچ برادری کے کسی فرد کا گذر اس کے سامنے سے ہوجاتا تھا تو اس کو بدشگونی خیال کرتے تھے اوراس بیچارہ کو غلیظ گالیوں سے نوازا جاتا تھا وہ بیچارہ خاموشی سے گذر جاتا تھا، افسوس یہ بیماریاں مسلمانوں میں بھی داخل ہوئیں کیوں کہ یہ مسلمان بھی تو آباواجداد کے اعتبار سے ہندی ہیں آبائی و اجدادی اثر ختم نہ ہوسکا اور ان مسلمانوں کا ذہنی فاسد مادہ بھی یہی رہا کہ وہ خاندان و برادری کے لوگ جو اونچے حسب ونسب واونچی برادری کے سمجھے جاتے تھے دوسری برادری کے لوگوں کو ان کے پائینتی بیٹھنے کا بھی حق نہ ہوتا تھا یہ ذہنی تباہ کن بیماری یہیں نہیں رُکی بلکہ ان برادریوں سے جو علماء پیدا ہوئے ان کے اندر بھی یہ بیماری بوجوہِ تمام موجود تھی بلکہ تعصب و عصبیت کے یہ حضرات سرغنہ بنے ہوئے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ اس تعصب نے امامت جیسے اہم منصب کو بھی نہیں بخشا چنانچہ آج بھی کتنے شہروں میں محض زبانی وطنی وعلاقائی عصبیت کی بناء پر امام کا انتخاب ہوتا ہے خواہ وہ لیاقت و صلاحیت کے اعتبار سے کچھ بھی ہو اور دوسرا عالم خواہ جید استعداد رکھتا ہو خطابت وموعظت میں مہارت رکھتا ہو تقویٰ و پرہیزگاری میں ممتاز ہو اس کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح کی ایک مثال ملا علی قاری نے بیان کی ہے کہ مثلاً کوئی عالم غریب وتنگ دست ہو اور یونہی کوئی شیخ طریقت لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوتو کوئی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا (ان کا کلام سننے کیلئے تیار نہیں ہوتا) ان کے برخلاف کوئی عالم یا کوئی شیخ مشہور ہو اور جاہ ومنزلت کے اعتبار سے لوگوں میں اس کا تعارف ہوتو اس کی بات قبول کی جاتی ہے اس کے فعل کی اتباع کی جاتی ہے اگرچہ یہ دوسرا اول الذکر سے علم میں کمتر عمل وتقویٰ کے اعتبار سے کمزور ہو اور اللہ تعالیٰ ہی اپنے دین کا محافظ اور نبی کا مددگار ہے۔ مرقاة المفاتیح ۹/۴۲۳ باب فضل الفقر اء وما کان من عیش النبی صلى الله عليه وسلم ملاعلی قاری نے یہ شکوہ آج سے تقریباً چار سو پچیس (۴۲۵) سال قبل کیا ہے اورآج یہ مناظر ہماری بدقسمتی سے خوب پھل پھول رہے ہیں ۔ والی اللّٰہ المشتکی․
مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ان تمام تعصبات خاندانی تفوق حسبی ونسبی تعلی ذات برادری کی اونچ نیچ قومی وعلاقائی عصبیت کو عُبِیَّتِ جاہلیت قرار دیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آیت کریمہ کا شانِ نزول دیکھیں تو اس کی بنیاد بھی یہی ہے۔ شانِ نزول کے بارے میں تین قول ہیں:
(۱) امام زہری فرماتے ہیں حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے بنو بیاضہ قبیلہ والوں سے کہا کہ تم اپنے قبیلہ کی کسی لڑکی سے ابوہند صحابی کا نکاح کردو انھوں نے جواب دیا کہ ہم اپنی لڑکیوں کا نکاح اپنے غلاموں سے کردیں یعنی غلاموں سے نکاح کرنے کو انھوں نے اپنے لئے عار سمجھا اس واقعہ کی وجہ سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ زہری فرماتے ہیں خاص طور سے یہ آیت ابوہند کے بارے میں نازل ہوئی۔ (ابوہند پیشہ کے اعتبار سے حجام تھے) مراسیل ابوداؤد/۱۲، الجامع الاحکام للقرطبی ۸/۶۰۴، الصاوی ۴/۱۴۶
(۲) ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس کے بار ے میں نازل ہوئی۔ یہ قول ابن عباس کا ہے ابن عباس فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس کچھ اونچا سنتے تھے صحابہ کرام حضور صلى الله عليه وسلم کی مجلس میں سبقت کرنے کے باوجود ان کیلئے جگہ دیدیا کرتے تھے تو یہ ثابت حضور صلى الله عليه وسلم کے پہلو کے قریب بیٹھ جاتے تھے تاکہ فرامین نبوی کو سن سکیں ایک دن یہ آئے تو ایک رکعت فجر کی ان سے فوت ہوگئی نماز سے فارغ ہوکر تمام صحابہ نے حضور صلى الله عليه وسلم کے قریب اپنی اپنی نشست پکڑلی اور صحابہ کرام حضور صلى الله عليه وسلم کی مجلس میں اس طرح بیٹھا کرتے تھے کہ درمیان میں کسی کے بیٹھنے کی گنجائش نہ رہتی تھی ثابت بن قیس نماز سے فارغ ہوکر حضور صلى الله عليه وسلم کی طرف آئے لوگوں کی گردن پھلانگتے ہوئے اور جگہ دو جگہ دو کہتے ہوئے، صحابہ نے ان کے لئے گنجائش دی اور یہ حضور صلى الله عليه وسلم کے قریب پہنچ گئے مگر ان کے اور حضور صلى الله عليه وسلم کے درمیان ایک اور صحابی تھے ان آگے کے صحابی سے ثابت نے کہا کہ جگہ دو آگے والے صحابی نے جواب دیا میں اپنی جگہ بیٹھا ہوں تم اپنی جگہ بیٹھو ثابت بن قیس غصہ کی حالت میں ان کے پیچھے بیٹھے اور کسی سے پوچھا یہ کون ہے جواب ملا کہ فلاں ہے ثابت نے ان آگے والے صحابی کو یا بن فلانة کہا جس سے زمانہٴ جاہلیت کی کوئی عار دِلانی مقصود تھی وہ آگے والے صحابی بہت شرمندہ ہوئے۔
حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یا بن فلانہ کہنے والا کون ہے ثابت نے عرض کیا میں یا رسول اللہ حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ان سب کے چہروں کو دیکھو ثابت نے موجود تمام صحابہ کے چہروں کو دیکھا حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ثابت کیا دیکھا عرض کیا کوئی سفید ہے کوئی سرخ ہے کوئی سیاہ ہے حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا دیکھو تم ان سے نہیں بڑھ سکتے مگر تقویٰ کی وجہ سے یعنی تمہارا تقویٰ اور پرہیزگاری ان سے بڑھ کر ہے تو تمہارا مقام عند اللہ اونچا ہوگا یہ دنیوی اونچ نیچ کی وقعت عند اللہ نہیں ہے۔ (الجامع الاحکام للقرطبی ۸/۵۹۲/۶۰۵، الصاوی ۴/۱۴۶)
(۳) ایک قول یہ ہے کہ فتح مکہ کے دن حضور صلى الله عليه وسلم نے حضرت بلال کو اذان پڑھنے کا حکم دیا حضرت بلال نے کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی تو کفار مکہ میں سے عتاب بن اسید بن ابی العاص نے کہا اللہ کا شکر ہے جس نے میرے والد کو یہ برادن دیکھنے سے قبل ہی اٹھالیا۔ حارث بن ہشام نے کہا اس کالے کوے کے سوا محمد کو کوئی موٴذن ہی نہ ملا سہیل بن عمرو نے کہا اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس کو بدل دیں۔ ابوسفیان جوابھی اسلام قبول نہیں کئے تھے انھوں نے کہا میں کچھ نہیں کہتا مجھے خوف ہے کہ اس کی خبر آسمان کا رب محمد صلى الله عليه وسلم کو دیدے۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور کفار مکہ کی یہ شرارت انگیز خبر حضور صلى الله عليه وسلم کو دی آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کو بلایا اور ان سے پوچھا کیا یہ باتیں تم سب نے کہی ہیں ان سب نے اقرار کیا۔ (تفسیر قرطبی ۸/۶۰۵، الصاوی ۴/۱۴۶)
آیت کریمہ کے شانِ نزول میں تینوں اقوال میں کسی ایک کو متعین کرنا تو مشکل ہے البتہ اکابر نے حضرت بلال کے واقعہ کو ترجیح دی ہے شان نزول خواہ کوئی بھی ہو تینوں صورتوں میں مشترکہ طور سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل مکہ میں تعصب کی بنیادیں کتنی مضبوط تھیں محض رنگی وطنی علاقائی امتیاز کو بنیاد بناکر کتنا سخت برا بھلا کہا گیا چنانچہ ابوعبداللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو حسب ونسب کے تفاخر مال ودولت کی کثرت، فقراء وتنگ دست کی حقارت کے جذبہ کی بناء پر زجر و توبیخ کی کہ عظمت و فضیلت تفوق وتعلی بلندی و سرفرازی کا مدار تقویٰ پر ہے چنانچہ آیت کریمہ کے اندر اعلان کردیا آج کے بعد کوئی یہ بات نہ کہے سب کی تخلیق آدم وحواء سے ہوئی اور تمہارے درمیان قومیت وقبیلہ محض ایک دوسرے کی پہچان کیلئے ہیں جیسے بہت سے لوگوں کا نام زاہد ہے تو کیسے معلوم ہو سائل کو کونسا زاہد مطلوب ہے اس کی معرفت خاندان و برادری وقبیلہ سے ہوگی کہ فلاں برادری وقبیلہ کا فلاں کا بیٹا مطلوب ہے۔
تعصب و تفاخر بدبختی ہے
حضرت امام ابوعیسیٰ ترمذی نے ابن عمر کی حدیث روایت کی ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا فرمایا اے لوگو آدمی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ آدمی جو عند اللہ کریم و شریف ہے اور دوسرا آدمی وہ جو فاجر وبدبخت ہو عند اللہ ذلیل وبے وزن اور تمام انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اس کے بعد حضور صلى الله عليه وسلم نے وہ یہی آیت شریفہ یایہا الناس الخ پوری تلاوت فرمائی (ترمذی ۲/۱۶۲، مسند امام احمد بن حنبل ۲/۵۲۴) اور ایک روایت میں واضح طور سے ان تمام تعصبات کی سخت انداز میں بیخ کنی کرتے ہوئے سیدنا محمد عربی صلى الله عليه وسلم نے افضلیت کا مدار بزرگی و برتری کا مناط محض تقویٰ وپرہیزگاری کو قرار دیا۔
عَنْ اَبِی نَضْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِی اَو حَدَّثَنَا مَنْ شَہِدَ خُطَبَ رَسُولِ اللّٰہِ بمِنٰی فِی وَسَطِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ وَہُوَ عَلٰی بَعِیْرٍ فَقَالَ یٰایُّہَا النَّاسُ أَلاَ اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وأنَّ اَبَاکُمْ وَاحِدٌ أَلاَ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیّ عَلٰی عَجَمِیّ وَلاَ عَجَمِیِّ عَلٰی عَرَبِیّ وَلاَ لِأسْوَدَ علٰی اَحْمَرَ وَلاَ لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی أَلاَ ہَلْ بَلَّغْتُ قَالُوْا نَعَمْ قَالَ لِیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِب․
ابونضرة کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا جو مقام منی میں ایامِ تشریف کے درمیان میں حضور صلى الله عليه وسلم کے خطبوں میں حاضر تھا درانحالیکہ آپ اونٹ پر سوار تھے آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا اے لوگو خبردار تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ (آدم) ایک ہے خبردار کسی عربی آدمی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر نہ کسی کالے وسیاہ آدمی کو کسی سرخ پر اور نہ کسی سرخ کو کسی سیاہ آدمی پر کوئی فضیلت ہے ہاں تقویٰ فضیلت کا مدار ہے پھر آپ نے صحابہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا میں نے پیغام الٰہی امت تک پہنچادیا؟ صحابہ نے جواب دیا جی ہاں آپ نے پہنچادیا آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو یہاں موجود ہے وہ اس تک پہنچا دے جو موجود نہیں ہے۔ (روح المعانی ۸/۱۶۴ من روایت البیہقی والمردویہ، تفسیر قرطبی ۸/۶۰۵)
غور کیجئے ہادیٴ امت صلى الله عليه وسلم نے اس مختصر پیغام کو تین مرتبہ کلمہ ألا سے مربوط کیا جو تاکید و تنبیہ کیلئے آتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے سختی کے ساتھ بھیدبھاؤ اونچ نیچ ہر طرح کی عصبیت کو ختم کردیا۔ چنانچہ اسی طرح کی ایک روایت حضرت ابوذر کی ہے آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا اے ابوذر تم کسی سرخ و سیاہ سے بہتر نہیں ہو ہاں تقویٰ و پرہیزگاری کی وجہ سے تم ان سے بڑھ جاؤگے، رواہ احمد مشکوٰة/۴۴۳۔
ظاہری حسن وجمال بھی فضیلت وبرتری کا مدار نہیں ہے
تفسیر قرطبی میں بحوالہ طبری حضرت مالک اشعری سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے حسب ونسب کو نہیں دیکھتے اور نہ تمہارے جسموں ومالوں کو دیکھتے ہیں لیکن تمہارے دلوں (کے حال) کو دیکھتے ہیں پس جس کا دل صالح ونیک ہو اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہوتے ہیں اور بلاشبہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تم میں وہ ہے جو بڑا متقی ہے۔ (قرطبی ۸/۶۰۵ کذا فی مسلم بلفظ غیرہ ۲/۳۱۷)
دورِ جدید نے جہاں انسان کو بہت سی ترقیات سے لطف اندوز کیا وہیں سفلی عادتوں اور جبلی فطرتوں کو خوب برانگیختہ کیا چنانچہ مذہب اسلام نے معاشرہ کو محبت وموٴدت الفت و انسیت کے ذریعہ متحد کیا اور آج انسان بکھرا ہوا منتشر ایک دوسرے سے نالاں شکوہ کناں دیکھا جارہا ہے اور بڑی بڑی خرابی تعصب و عصبیت قومیت و برادری کے بھنور میں ایسا پھنسا ہوا ہے کہ اسے آقاء نامدار محمدعربی صلى الله عليه وسلم نے ملت محمدیہ سے خارج کردیا مگر مسلمان سمجھنے کیلئے تیار نہیں۔
تعصب کرنے والا امت محمدیہ سے خارج ہے
جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو عصبیت کا داعی ہو اور عصبیت کی خاطر قتال وجنگ وجدل کررہا ہو اور جو تعصب کی خاطر قتال کرتا ہوا مرجائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
عن جبیر بن مطعم ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ لَیْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا اِلی عَصَبِیَّةٍ وَلَیْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَصَبِیَّةً وَلَیْسَ مِنَّا مَنْ مَّاتَ عَلٰی عَصَبِیَّةٍ․ رواہ ابوداوٴد، مشکوة/۴۱۸۔
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی دعوت دی اور ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی خاطر قتال کیا اور ہم میں سے نہیں وہ جو عصبیت کی حالت میں مرگیا۔
یعنی جس وقت اس کا آخری وقت تھا اس وقت بھی وہ قوم وبرادری کی ظالم ہونے کے باوجود مدد کرہا تھا اور ظلم وتعدی کو ظلم نہیں سمجھ رہا تھا قومیت و برادری پر فخر کررہا تھا اسی حالت میں مرگیا تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس کیلئے یہ وعید بیان فرمائی ہے۔
متعصب کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی
اگر یوں کہا جاوے کہ تعصب ناسور سے بھی بدتر ہے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کیونکہ ناسور جیسے امراض تو دنیوی زندگی کو تباہ وبرباد کرتے ہیں بلکہ ان امراض میں مبتلا انسانوں کو ایمان والوں کو اخروی ثواب سے نوازا جائے گا اور تعصب وعصبیت سے دنیا بھی برباد اور آخرت بھی، دنیا میں بھی رسوائی اور آخرت میں بھی۔ ایک تو اس وجہ سے کہ لوگ ان کو ذلیل وحقیر سمجھتے ہیں دوسرے حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے ان کو ملت بیضاء سے خارج کردیا تیسرے دنیوی رسوائی اس طرح سے کہ مذکورہ حدیث و دیگر احادیث کے پیش نظر فقہاء نے چار طرح کے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھنے کو ناجائز لکھا ہے حالانکہ یہ تمام مسلمان ہیں: (۱) امام عادل کے خلاف اسلامی حکومت میں بغاوت کرنے والے، (۲) ڈاکو ، (۳) تعصب کی وجہ سے آپس میں لڑنے والے دوگروپ اور اسی حالت میں قتل ہوجائیں، (۴) شہر میں ہتھیار وغیرہ کے ذریعہ کسی بے گناہ کے قتل کے درپے ہونے والا یا مال غصب کرنے والا اور اسی حالت میں قتل ہوجائے۔ ان بدقسمت لوگوں کو نہ غسل دیا جائے گا اور نہ نماز پڑھی جائے گی تاہم یہ حکم اسی وقت ہوگا جب کہ یہ حضرات بغاوت کرتے ہوئے، ڈاکہ ڈالتے ہوئے، تعصب کی خاطر قتال کرتے ہوئے، شہر میں ہتھیار وغیرہ کے ذریعہ کسی بے گناہ کے قتل یا مال لینے کے فراق میں قتل ہوجائیں ورنہ اگر مذکورہ افعال کے صدور سے قبل یا بعد میں موت واقع ہوتو ان کو غسل بھی دیا جائیگا اور نماز بھی پڑھی جائے گی۔ (درمختار علی رد المحتار (شامی) ۱/۶۴۲-۶۴۳)
لیکن یہ حکم چونکہ شہداء کا ہے کہ ان کو غسل نہ دیا جائے تو ان لوگوں کی مشابہت بالشہداء سے احتراز کی وجہ سے ان کو غسل دیا جائے گا اور نماز نہیں پڑھی جائے گی اور اسی پر فتویٰ ہے۔ تاتارخانیہ ۱/۶۰۷، رد المحتار ۱/۶۴۳ ، اور ان کی نماز نہ پڑھنا اس لئے تاکہ لوگوں پر ان کی ذِلت واضح ہوجائے اور سبق حاصل کریں کہ یہ افعال قبیح اور قابل احتراز ہیں۔ شامی ۱/۶۴۲۔
تعصب کی وجہ سے آدمی کی ذلت وہلاکت
ایک حدیث میں اپنی قوم کی ناحق مدد کرنے والے کو اس اونٹ کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو کنویں میں گرجائے اور اس کو دم پکڑ کر کنویں سے نکالا جائے۔ ملا علی قاری نے اس حدیث کے دو معنی بیان کئے ہیں کہ اس ظالم نے اپنی قوم کی ناحق مدد کرکے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالدیا کیونکہ اس کا ارادہ نصرتِ باطلہ سے عزت وسرفرازی رفعت وبلندی تھا پس یہ گناہوں کے کنویں میں گرگیا اور اونٹ کی طرح ہلاک ہوگیا پس یہ ناحق مدد اس کے لئے ایسے ہی غیر نافع ہے جس طرح اونٹ کو کنویں سے دم پکڑ کر نکالنا۔ (۲) دوسرا مطلب یہ ہے کہ سیدنا محمد عربی صلى الله عليه وسلم نے قوم کو ہلاک ہونے والے سے اونٹ کے ساتھ تشبیہ دی کیونکہ جو حق پر نہیں ہوتا وہ تباہ وبرباد ہی ہوجاتا ہے اور اس ناحق مدد کرنے والے کو اونٹ کی پونچھ (دم) کے ساتھ تشبیہ دی کہ جس طرح اس اونٹ کو دم کے بل کھینچ کرنکالنا ہلاکت سے نہیں بچاسکتا اسی طرح اپنی ظالم قوم کی ناحق نصرت کے ذریعہ اس قوم کو ہلاکت کے اس کنویں سے نہیں بچاسکتا جس میں یہ لوگ گرگئے ہیں۔ مرقاة المفاتیح ۹/۱۲۸۔
حدیث شریف ملاحظہ فرمائیں:
عن ابن مسعود عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ نَصَرَ قَوْمَہ عَلٰی غَیْرِ الْحَقِّ کَالْبَعِیْرِ الَّذِیْ رَوٰی فَہُوَ یُنْزَعُ بِذَنْبِہ․ ابوداوٴد ۲/۶۹۸، مشکوة/۴۱۸۔
ابن مسعود نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل فرماتے ہیں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی قوم کی ناحق مدد کرتا ہے وہ اس اونٹ کے مانند ہے جو کنویں میں گرگیا اوراس کی دم پکڑ کر اس کو نکالا جائے۔
 تعصب جسمانی وروحانی بیماریوں کا مخزن ہے
قارئین غور کریں کہ اس وبائی مرض کا منتہی صرف یہی نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ اس کی وجہ سے دوسرے امراض بھی پیدا ہوجاتے ہیں: (۱) حقوق العباد سے آدمی چشم پوشی کرتا ہے بلکہ عمداً ادا نہیں کرتا، (۲) حسد وبغض تجسس و تنافس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، (۳) ظلم وتعدی کا دروازہ کھلتا ہے، (۴) الزام و بہتان تراشی و افتراء پردازی کا بازار گرم ہوجاتا ہے، (۵) ایک دوسرے کو ذلیل و حقیر اور نہایت گھٹیا بناکر پیش کرنے کی کوششیں تیز تر ہوجاتی ہیں، (۶) چھوٹے بڑے کا فرق ختم ہوکر ادب وتعظیم سلام کرجاتے ہیں،اور ظاہر ہے کہ یہ تمام روحانی امراض متعدی ہوکر جسم تک ان کا نقصان پہنچتا ہے اس طرح کہ قتل وغارت گری ظلم و بربریت اپنے عروج تک پہنچتا ہے بسا اوقات نامعلوم کتنی جانیں تلف ہوکر حدیث کے بموجب دنیا و عقبیٰ کا خسران اپنے سر پر لاد کر لے جاتی ہیں۔ اس کی صدہا مثالیں تاریخ میں موجود ہیں کہ کس طرح تعصب و قبیلہ پرستی میں مبتلا اقوام پیوند خاک ہوگئیں اور آج ان کا نام لیوا کوئی نہیں۔ مذکورہ بالا امراض کو قدرے تفصیل سے پیش کرکے مضمون ختم کردیا جائے گا (انشاء اللہ)
حقوق العباد ادا کرنے کی قرآن وحدیث میں بہت زیادہ تاکید بیان کی گئی ہے حتی کہ علماء کرام نے مستقل تصانیف صرف حقوق العباد کے بارے میں لکھی ہیں اس اہتمام سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق العباد ادا نہ کرنا ایسا جرم ہے جس کی بخشش خدا تعالیٰ کی عدالت میں نہیں ہوتی وہاں یا تو حق کو حق والے کو دیدیا جائے گا یا خود حق تعالیٰ معاف فرماکر صاحب حق کو ادا کریں گے مگرحق کی ادائیگی بہرحال ضروری ہوگی اس لئے اے ایمان والو حق کی ادائیگی دنیا میں ہی کرلو تاکہ آخرت میں موٴاخذہ و محاسبہ سے بچ جائیں جہاں چھوٹی سی نیکی بہت بڑی غنیمت ہوگی۔
واعبدواللہ ولا تشرکو بہ شیئا وبالوالدین احسانا وبذی القربیٰ والیتٰمٰی والمساکین وابن السبیل وما ملکت ایمانکم ان اللّٰہ لا یحب من کان مختالا فخورًا․ النساء
اور بندگی کرو اللہ تعالیٰ کی اور شریک نہ کرو اس کا کسی کو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قرابت والوں کے ساتھ اور یتیموں فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور اپنے ہاتھ کے مال یعنی غلام باندیوں کے ساتھ بیشک اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آتا وہ جو اترانے والا اور بڑائی کرنے والا گھمنڈی ہے۔
آیت کریمہ سے خوب واضح ہے کہ حقوق ادا کرنا فرض ہے آیت کریمہ کے علاوہ اور بھی آیات ہیں جن میں حقوق ادا کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے آیت کریمہ کی تفسیر تفصیل کی جائے یہ اس کا مقام نہیں۔ بہرحال توحید باری کے بعد حقوقِ والدین کا تذکرہ ہے اور ان کے بعد رشتہ داروں یتیموں فقیروں، مسکینوں اور پڑوسی قریبی مسلم رشتہ دار پڑوسی غیررشتہ دار غیرمسلم قریبی، پڑوسی مسلم دور کا ہو اور ہمنشیں ہم مجلس مسافر غلام باندیوں ماتحتوں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ پڑوسی تین طرح کے ہوتے ہیں ایک پڑوسی ایسا ہوتا ہے جس کے تین حقوق ہوتے ہیں اور ایک پڑوسی ایسا ہوتا ہے جس کے دو حقوق ہوتے ہیں اور ایک پڑوسی ایسا ہوتا ہے جس کا صرف ایک حق ہوتا ہے وہ پڑوسی جس کے تین حق ہوتے ہیں وہ پڑوسی ہے جو مسلم رشتہ دار ہو اس کیلئے پڑوس کا حق قرابت و رشتہ داری کا حق واسلام کا حق ہوتا ہے اور جس کے دو حق ہوتے ہیں وہ ہے جو پڑوسی اور مسلم ہو اس کیلئے اسلام اور پڑوس کے دو حق ہوتے ہیں اور جس کا ایک حق ہوتا ہے وہ پڑوسی ہے جو کافر ہو اس کو محض پڑوس کا حق ہوتا ہے یعنی پڑوس کی وجہ سے حسن سلوک کا مستحق ہوتا ہے۔
ورُوی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اَنہ قَالَ اَلجِیرَانُ ثَلاثَةٌ فَجَارٌ لَہ ثَلاَثَةُ حُقُوْقٍ وَجَارٌ لَہ حقَّانِ وَجَارٌ لَّہ حَقٌّ وَاحِدٌ فَاَمَّا الْجَارُ الَّذِیْ لَہ ثَلاَثَةُ حُقُوقٍ فَالْجَارُّ الْمُسْلِمُ الْقَرِیْبُ لَہ حَقُّ الْجَوَارِ وَحَقُّ الْقَرَابَةِ وَحَقُّ الاِسْلاَمِ وَالْجَارُّ الَّذِیْ لَہ حَقَّانِ فَہُوَ الْجَارُّ المُسْلِمُ فَلَہ حَقُّ الْاِسْلاَمِ وَحَقُّ الْجَوَارِ وَالْجَارُّ الَّذِیْ لَہ حَقُّ وَّاحِدٌ ہُوَ الْکَافِرُ لَہ حَقُّ الْجَوَارِ․ الجامع لِاحکام القرآن للقرطبی ۳/۱۶۶، الجامع الکبیر ۶/۵۲ کشف الخفاء ۱/۳۲۸ ۔
حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا پڑوسی تین قسم کے ہوتے ہیں ایک پڑوسی ایسا جس کے تین حقوق ہوتے ہیں اور ایک پڑوسی ایسا جس کے دو حق ہوتے ہیں اور ایک پڑوسی ایسا جس کا ایک حق ہوتا ہے بہرحال وہ پڑوسی جس کے تین حقوق ہوتے ہیں تو وہ پڑوسی ہے جو مسلمان قریبی ہو اس کے تین حقوق پڑوس قرابت واسلام کی وجہ سے ہوتے ہیں اور وہ پڑوسی جس کے دو حق ہوتے ہیں تو وہ پڑوسی مسلم ہے اس کے دو حق پڑوس واسلام کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ایک حق والا پڑوسی کافر ہے اس کا ایک حق پڑوس کی وجہ سے ہوتا ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ پڑوسی کون ہوتے ہیں۔ مذکورہ آیت کریمہ وحدیث شریف سے واضح ہوگیا کہ قریبی وبعیدی پڑوسی ہوتے ہیں اس کے علاوہ ہر چہار طرف کے چالیس گھر بھی پڑوسی ہوتے ہیں بلکہ پڑوسی کے اندر عمومیت ہے کہ پورا شہر بھی پڑوسی و پڑوس کہلاتا ہے یہ الگ بات ہے کہ بعض پڑوسی بعض پڑوسیوں سے درجہ میں اونچے وقریب ہوتے ہیں چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص حضور صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں نے ایک قوم کے محلہ میں بود وباش اختیار کی میرا جو سب سے قریب پڑوسی ہے وہ مجھے تکلیف دینے میں سب سے زیادہ سخت ہے حضور صلى الله عليه وسلم نے حضرت ابوبکر وعمر وعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھیجا کہ جاؤ مسجدوں کے دروازوں پر کھڑے ہوکر اعلان کرو کہ چالیس گھر پڑوسی ہوتے ہیں اور جس کا پڑوسی اس کے شرور وفتن ومظالم سے مامون نہ ہو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ قرطبی ۳/۱۶۶۔
(۲) تعصب و عصبیت سے پیدا ہونے والے قبیح امراض میں سے حسد و بعض وغیرہ بھی ہے جس کی قرآن وحدیث میں سخت ممانعت آئی ہے۔
وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ․ اور (پناہ میں آیا میں) بدی سے برا چاہنے والے کی جب وہ لگے ٹوک لگانے (معارف القرآن)
وَلاَ تَجَسَّسُوا (القرآن) اور دوسروں کے عیبوں کو تلاش مت کرو۔
آدمی تجسس تبھی کرتا ہے جب وہ کسی سے حسد کرنے لگے حسد دوسرے کو برباد کرے یا نہ کرے مگر حسد کرنے والا تباہ و برباد ضرور ہوجاتا ہے دنیا میں بھی اورآخرت میں بھی، حسد کہتے ہیں کسی پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر کڑھنا جلنا اور یہ تمنا کرنا یہ نعمت اس سے دور ہوجائے۔
حسد گناہوں میں سب سے پہلا گناہ ہے
حسد ہی سب سے پہلا گناہ ہے جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی گئی آسمان میں سب سے پہلے ابلیس ملعون نے معصیت کی اور دنیا میں سب سے پہلے معصیت حسد کی وجہ سے قابیل نے کی ہابیل سے حسد کرکے حاسد مبغوض ملعون دھتکارا ہوا ہوتا ہے چنانچہ بعض حکماء کا قول ہے حاسد پانچ وجوہات سے خدا تعالیٰ سے مبارزت ومقابلہ کرتا ہے: (۱) حاسد اس نعمت کو ناپسند کرتا ہے جواس کے غیر کو حاصل ہوئی (۲) دوسرے قسمت خداوندی سے ناراض ہوتا ہے گویا کہتا ہے کہ یہ نعمت مجھے حاصل کیوں نہ ہوئی (۳) فعل خداوندی سے بغض وعناد رکھتا ہے (۴) اولیاء اللہ کی رسوائی کا ارادہ کرتا ہے (۵) یہ دشمن خدا ابلیس کی مدد کرتا ہے کیونکہ سب سے پہلے حسد اسی نے کیا تھا۔
بعض حکماء نے یوں کہا- کہ حاسد مجلسوں میں صرف شرمندگی ہی اٹھاتاہے (مثلاً کسی مجلس میں کسی ایسے آدمی کی تعریف و تعظیم کی گئی جس کو یہ ناپسند کرتا ہے منع کرنے کی طاقت رکھتا ہے یا نہیں رکھتا پھر بھی اسے شرمندگی ہی اٹھانی پڑتی ہے اور فرشتوں کی لعنت وبغض اٹھاتا ہے اور خلوت و تنہائی میں محض گھبراہٹ وغم و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور آخرت میں حزن وملال اور آگ کا جلنا ہی نصیب ہوگا اور اللہ تعالیٰ سے غصہ و دوری حاصل کرے گا۔ الصاوی۴/۵۰۳۔
اور ایک حدیث میں ہے کہ تین چیزوں سے کوئی محفوظ نہیں رہتا: بدشگونی، بدگمانی، حسد سے۔ عرض کیاگیا یا رسول اللہ ان سے نکلنے کا راستہ کیا ہے ، فرمایا جب تو بدشگونی کرے دوبارہ مت کر اور جب بدگمانی کرے اس کو ثابت مت کر اور جب حسد کرے تو ظلم مت کر۔ فتح الباری ۱۰/۵۹۱
عن الزہری قال حدثنی انس بن مالک ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا کونوا عبادًا لِلّٰہِ ولا یَحِلُّ لمسلم ان بہجر اخاہ فَوق ثَلٰثَةِ اَیامٍ․ وقال الحافظ بن حجر وزاد عبدالرحمن بن اسحاق عنہ فیہ ولا تنافسوا وکذا وقعت فی روایة لِلْمسلم عن الاعمش وفی روایة للمسلم ولا تقاطعوا․ بخاری ۲/۸۹۶، فتح الباری ۱۰/۵۹۳، مسلم ۲/۳۱۶۔
حضور اکرم صلى الله عليه وسلم فرماتے ہیں آپس میں ایک دوسرے سے بغض مت رکھو اور ایک دوسرے سے حسد مت کرو اور ایک دوسرے سے دشمنی مت کرو اوراللہ کے بندے بھائی بھائی ہوکر رہو اور مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن (تین رات) سے زائد بولنا چھوڑ کر رکھے اور دنیوی سازوسامان میں حرص بازی مت کرو۔
تین دن تین رات سے زائد ترکِ کلام وقطع تعلق جائز نہیں ہے ہاں اگر اس سے گفتگو و تعلق بحال کرنے میں دین میں مفسدہ کا خوف ہو یا خود کی جان مال وغیرہ کا خطرہ ہوتو اس سے ترکِ کلام جائز ہے اور بہت سی قطع تعلقی تکلیف اختلاط وتعلق سے بہترہوتی ہے۔ فتح الباری ۱۰/۶۰۸۔
 تین آدمیوں کی دعا قبول نہیں ہوتی
علماء نے تحریر فرمایا ہے کہ تین قسم کے بدبخت لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ جس کی غذا مال حرام سے ہو جو لوگوں کی غیبت میں بکثرت مبتلا رہتا ہو اور تیسرے وہ جس کے دل میں مسلمان کی خیانت اور حسد ہو۔ تفسیر قرطبی ۱۰/۶۰۳۔
(۶) تعصب و عصبیت کی وجہ سے انسان ایک دوسرے کو ذلیل و گھٹیا سمجھتا ہے حالانکہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے اس کو سخت انداز میں منع فرمایا ہے فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اس کو چاہئے مسلمان بھائی پر ظلم نہ کرے نہ اس کی مدد کرنا چھوڑے اور نہ اس کو حقیر سمجھے اور تقویٰ تو یہاں ہوتا ہے یہ آپ صلى الله عليه وسلم نے تین مرتبہ کہا اور اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کیا مطلب یہ ہے کہ فضیلت کا مدار تو تقویٰ ہے آدمی کے برا ہونے کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ذلیل سمجھے ہر مسلمان کا مسلمان پر حرام ہے اس کا خون بہانا (ناحق) اس کا مال (لینا یا ضائع کرنا) اور اس کی آبرو ریزی کرنا۔ مسلم ۲/۳۱۷۔
(۷) تعصب کی وجہ سے آدمی ایک دوسرے کی عظمت و بزرگی کو نظر انداز کرکے اس کو ذلیل وحقیر سمجھتا ہے اور دوسرے کے سامنے اس کی ہجو کرتا ہے حالانکہ یہ تمام چیزیں معاشرہ کو تباہ و برباد کرتی ہیں۔ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے بڑوں کی تعظیم نہ کرے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو جوان کسی بوڑھے کی اس کی درازیٴ عمر کی وجہ سے اکرام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عمر کے دراز ہونے کے وقت یعنی بوڑھاپے میں ایسا آدمی مقدر کردیتے ہیں جو اس کا اکرام کرے گا۔ ترمذی ۴/۲۲، مشکوٰة/۴۲۲۔
اور حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے اکرام میں سے ہے بوڑھے مسلمان کا اکرام کرنا اور حافظ قرآن کا اکرام کرنا جو قرآن میں غلو نہ کرتا ہو اور نہ قرآن سے دور ہو (یعنی قرآن پر عمل کرتا ہو) اور عادل بادشاہ کا اکرام کرنا۔ مشکوٰة/۴۲۳۔
اپنی قوم سے محبت کرنا مذموم نہیں
یہ بات بھی قابل ملحوظ ہے کہ تعصب وہی مذموم ہے جس میں آدمی اپنی قوم کی محبت میں قوم کے ظالم ہونے کے باوجود اس کی مدد کرتا ہے ورنہ اپنی قوم اور اقرباء سے محبت کرنا ظلم کی ان سے مدافعت کرنا کوئی مذموم شئی نہیں بلکہ قابل تعریف ہے چنانچہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو اپنے اقرباء سے ظلم کی مدافعت و دفاع کرتا ہے ۔ رواہ ابوداؤد، مشکوٰة/۴۱۸۔
اور حضور اکرم صلى الله عليه وسلم سے عرض کیاگیا یا رسول اللہ کیا اپنی قوم سے محبت کرنا بھی تعصب وعصبیت ہی کا حصہ ہے آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: نہیں! (یعنی قوم سے محبت کرنا کوئی برا نہیں اور نہ یہ تعصب کہلاتا ہے بلکہ) عصبیت یہ ہے کہ آدمی اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرے۔ رواہ احمد وابن ماجہ، مشکوٰة/۴۱۸۔
از: مفتی محمد شاہد ، شیرکوٹ بجنور
http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/05-Taassub%20Nasur%20Se%20bhi%20Badtar_MDU_05_May_10.htm
 

Wednesday, 11 October 2017

سرکاری زمین میں قبرستان بنانا؟

سرکاری زمین میں قبرستان بنانا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا سرکاری زمین پر قبرستان بنانا درست ہے؟ اور اس میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں؟ ؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
سرکاری زمین کی دوقسمیں ہیں
ایک وہ زمین ہے جو کسی مخصوص کام کے لئے بحق سرکار مملوک مختص ہو ۔اس میں کسی بھی طرح کا عوامی حق وابستہ نہ ہو
اس قسم کی سرکاری زمین میں سرکار سے صراحتا یا دلالتہ اجازت کے بغیر قبرستان بنانا درست نہیں؛
لا یجوز التصرف في مال غیرہ بلا إذنہ ولا ولایتہ۔ (الدر المختار مع الشامي، کتاب الغصب / مطلب فیما یجوز من التصرف بمال الغیر ۹؍۲۹۱ زکریا، الأشباہ والنظائر / الفن الثاني ۲؍۴۴۴ إدارۃ القرآن کراچی)
سرکاری زمین کی دوسری قسم وہ ہے جس میں عوامی حق ہوتا ہے اور وہ زمین رفاہی کاموں جیسے میدان چراگاہ قبرستان وغیرہ کے لئے ہوتی ہے
ایسی زمین کے حصول کے لئے بھی درخواست دے کے حصول کی کوشش کی جائے لیکن اگر ٹال مٹول ہوتا ہو تو پہر اس قسم کی زمین میں عوامی قبرستان بنانے کی گنجائش نکل سکتی ہے؛
وفی الفقہ الاسلامی(۴۶۰۷/۶): الأراضی نوعان ارض مملوکۃ وارض مباحۃ والمملوکۃ نوعان عامرۃ وخراب والمباحۃ نوعان ایضا نوع ھو من مرافق البلد للاحتطاب ورعی المواشی ونوع لیس من مرافقھا وھو الارض الموات اوما یسمی الآن املاک الدولۃ العامۃ۔
وفیہ ایضاً(۴۶۰۸/۶): ما کان من مرافق أھل بلدۃ تستعمل مرعی للمواشی ومحتطبا لھم أو مقبرۃ لموتاھم أو ملعباً لصغارھم، سواء کانت داخل البلدۃ أم خارجھا فیکون حقالھم لامواتا فلا یجوز للإمام أن یقطعہ لأحد۔
ہذا ماعندی والصواب عند اللہ
شکیل منصور القاسمی

ٹَیلو Tallow کیا ہے؟

 ٹوسٹ پر 'مکھن' کی تہہ چڑھاتے ہوئے کبھی آپ نے غور کیا ہے یہ ٹیلو ہوسکتا ہے جبکہ ٹیلو اگر غیر شرعی طریقے سے ذبح شدہ جانوروں کی چربی سے ماخوذ ہو تو حرام اور ناپاک ہے. اس سلسلہ میں مولانا عبدالرزاق تفصیل فراہم کرتے ہوئے بتلاتے ہیں کہ؛
"٭۔۔۔۔۔۔ خارجی استعمال کی اشیا جیسے صابن، شیمپو اور لوشن وغیرہ میں ٹیلو کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے.
تعارف، استعمال، متبادل: 
سادہ الفاظ میں ٹیلو (Tallow) کا ترجمہ ''جانور کی چربی'' سے کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ خام اور ا صلی چربی نہیں ہوتی بلکہ اسے ایک خاص عمل سے گزار کر حاصل کیا جاتا ہے۔
ویسے تو ''ٹیلو'' کسی بھی جانور کی چربی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ خنزیر اور گھوڑے کی چربی سے تیار شدہ ٹیلو بھی عام دستیاب ہے، لیکن زیادہ تر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ پھر کمرشل ٹیلو میں بعض اوقات دیگر جانوروں کی چربی سے ماخوذ اجزا (جیسے خنزیر کی چربی سے ماخوذ لارڈ) یا پھر بعض پودوں کے اجزا بھی شامل ہوتے ہیں۔ نباتا تی ذرائع جیسے Tallow Tree کے روغن سے تیار شدہ '' ٹیلوـ ــ'' بھی مارکیٹ میں مل جاتا ہے۔ 
ٹیلو کی تیاری کے مراحل:
سب سے پہلے جانور کی خام چربی حاصل کی جاتی ہے جسے Suet کہا جا تاہے۔ پھر اسے ایک خاص طریقے سے صاف کیا جا تا ہے تاکہ اس سے گندے، فاسد اور غیر ضروری مادوں (Impurities) کو نکا ل کر اسے اور اس کی خصوصیات کو زیادہ عرصہ تک برقرار رکھا جا سکے۔ صفائی کے اس عمل کو Rendering کہا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں صاف شدہ چربی ہی کو ''ٹیلو '' کا نام دیا جاتا ہے۔ 
ٹیلو کے مقاصد:
''ٹیلو'' کا استعمال متعدد مصنوعات میں عام ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے FAO کے اعداد و شمار کے مطابق2011ء میں اس کی کل عالمی پیداوار 66 لاکھ 86 ہزار 5 سو 66 ٹن رہی۔ (بحوالہ: faostat.fao)
ذیل میں ان بڑی بڑی مصنوعات کا ذکر کیا جارہا ہے جن میں ''ٹیلو'' نامی جزو ترکیبی استعمال کیا جا تا ہے:
1 ''شارٹننگ'' (Shortening)کی تیاری میں ٹیلو استعمال ہوتا ہے۔ شارٹننگ بھی دراصل چربی کی ایک خاص قسم کا نام ہے جو کھانے پینے کی اشیا میں استعمال کی جاتی ہے۔ نیز کھانا پکا نے کے تیل (کوکنگ آئل) کے طور پر بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے اور مارجرین میں بھی۔
2 صابن، جلد کی حفاظت اور نگہداشت کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات، لپ اسٹک، شیمپو اور میک اپ کا سامان۔
3 جانوروں کی خوراک
4 بائیو ڈیزل
5 موم بتی
6 چمڑے سے بنے ہوئے ملبوسات
7 بعض دوائیں
8 بعض ذائقوں ((Flavorings کی تیاری میں بھی اس کا ستعمال کیا جاتا ہے
ٹیلو سے متعدد دیگر اجزائے ترکیبی بھی تیار کیے جا تے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں: ٹیلو امیڈیزالین (Tallow Imidazoline)، ٹیلو گلیسرائیڈز (Tallow Glycerides)، ٹیلو ایسڈ (Tallow Acid)، سوڈیم ٹیلوایٹ (Sodium Tallowate)، ٹیلو امین (Tallow Amine) اور ٹیلو ایمائیڈ (Tallow Amide ) وغیرہ۔ نیز چند ایسے اجزا ئے ترکیبی بھی موجود ہیں جو ٹیلو کے یقینی حلال اور پاک متبادل کے طور پر استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ ان میں نباتاتی ٹیلو، پیرا فن (Paraffin) اور سیرِسِن (Ceresin) شامل ہیں۔
شرعی رہنمائی:

ٹیلو کا اصولی شرعی حکم یہ ہے کہ اگر یہ حلال اور شرعی طریقے سے ذبح شدہ جانوروں کی چربی یا پودوں سے ماخوذ ہو تو بلا شبہ حلال اور پاک ہے۔ اگر یہ حرام یا حلال لیکن غیر شرعی طریقے سے ذبح شدہ جانوروں کی چربی سے ماخوذ ہو تو حرام اور ناپاک ہے۔ البتہ اگر تبدیلِ ماہیت ثابت ہوجائے تو اس کو بھی حلال اور پاک قرار دیا جائے گا، لیکن چونکہ اس کا ثابت کرنا انتہائی مشکل اور مختلف فیہ ہے اس لیے کھانے پینے کی اشیا میں ایسے ذرائع سے ماخوذ ٹیلو کے استعمال سے اجتناب ہی کا حکم دیا جاتا ہے۔
جن مصنوعات میں ٹیلو استعمال ہوا ہو، اگر ان کے بارے میں کسی مستند ذریعے (مثلا: مستند حلال سرٹیفکیشن باڈی کے حلال لوگو) سے معلوم ہوجائے کہ ان میں استعمال کیا گیا ٹیلو حلال اور پاک ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے اور دیگر اجزا بھی حلال اور پاک ذرائع سے لئے گئے ہیں تو ان مصنوعات کا استعمال بلاجھجک کیا جا سکتا ہے۔ تاہم جس مصنوع (پراڈکٹ) کے بارے میں ایسے کسی مستند ذریعے سے تصدیق نہ ہوسکے وہ اگر غیر مسلم ملک میں تیار شدہ ہواور اس کا تعلق داخلی استعمال (یعنی کھانے پینے) سے ہو تو ایسی مصنوع کے ساتھ حرام مصنوع والا معاملہ کیا جائے گا کیونکہ ہمارے علم کے مطابق غیر مسلم ممالک میں ابھی تک ٹیلو اکثروبیشتر حرام ذرائع ہی سے حاصل کیا جاتا ہے۔
خارجی استعمال کی اشیا (یعنی وہ اشیا جو کھانے پینے میں نہیں آتیں) جیسے صابن، شیمپو اور لوشن وغیرہ میں ٹیلو کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے، خواہ ایسی اشیا مسلمانوں کی تیار کردہ ہوں یا غیر مسلموں کی، کیونکہ ان اشیا میں اکثر انقلابِ ماہیت ہوجاتا ہے۔ اگر تقویٰ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی مشکوک اشیا کے خارجی استعمال سے بھی اجتناب کیا جائے تو یہ بہتر ہے۔ تاہم اگر یقینی طور پر ثابت ہو جائے کہ ان میں ڈالا گیا ٹیلو ناپاک ہے تو یہ مصنوعات بھی ناپاک ہوں گے."

Tallow; HALAL GUIDELINES
Islam is not a mere religion.  It is a way of life with rules and manners governing every facet of life. Since food is an important part of daily life, food laws carry a special significance. Muslims are expected to eat for survival, to maintain good health and not to live for eating. In Islam, eating is considered to be a matter of worship of God like prayer, fasting, alms-giving and other religious activities. A Muslim eats to maintain a strong and healthy physique in order to be able to contribute his knowledge and effort for the welfare of  the society.  Muslims are supposed to make an effort to obtain the best quality nutritionally. It is mentioned in a Hadith that the prayer of a person is rejected by  Allah if his food is haram. Another Hadith states that hell-fire is more deserving of the flesh which has been nourished with haram...
http://www.islamiccouncilwa.com.au/halal-certification/halal-guidelines/

Tuesday, 10 October 2017

دھوکے سے کیسے بچیں؟

میں نے ایک دن
خواجہ صاحب سے عرض کیا،
’’ہم لوگوں کے دھوکے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‘‘
فرمایا ’’یہ کام بہت آسان ہے، آپ لالچ ختم کر دو، دنیا کا کوئی شخص آپ کو دھوکا نہیں دے سکے گا.‘‘
میں نے عرض کیا،
’’جناب ذرا سی وضاحت کردیں‘‘۔
فرمایا،
’’ ہم دوسروں کے ہاتھوں دھوکا نہیں کھاتے، ہمیں ہمارا لالچ دھوکہ دیتا ہے، آپ اگر لالچی اور کنجوس ہیں تو آپ کو ہر روز دھوکہ دیا جائے گا اور آپ روز دھوکہ کھائیں گے بھی‘‘۔
میں نے عرض کیا،
’’ یہ بات لالچ کی حد تک درست ہے کیونکہ لالچی کے طمع کی زبان ہر وقت باہر لٹکتی رہی ہے لیکن کنجوس تو اپنے پیسوں کو ہوا نہیں لگنے دیتا‘ یہ گرہ کھولے گا تو اس کے ساتھ دھوکہ ہو گا ناں‘‘۔ فرمایا،
’’لالچ اور کنجوسی جڑواں بہنیں ہیں، یہ ہمیشہ اکٹھی رہتی ہیں، لالچی کنجوس ہوتا ہے اور کنجوس لالچی، دنیا کے تمام کنجوس دولت چھپانے کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں، یہ ایسے گھونسلے تلاش کرتے رہتے ہیں جہاں یہ اپنے اثاثوں کے انڈے رکھ سکیں، ان کی یہ تلاش انھیں فراڈیوں کے پاس لے جاتی ہے، فراڈیئے انھیں یقین دلا دیتے ہیں‘ ہمارے پاس نہ صرف آپ کا سرمایہ محفوظ رہے گا بلکہ یہ دوگنا اور چار گناہ بھی ہو جائے گا‘ یہ لوگ ان کے ٹریپ میں آتے ہیں اور یوں عمر بھر کے لیے کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں.
چنانچہ آپ اگر دھوکے سے بچنا چاہتے ہیں تو کنجوسی ختم کر دیں‘ لالچ مٹا دیں‘ آپ کو کوئی شخص دھوکہ نہیں دے سکے گا‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’ جناب دولت کا دھوکہ اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا جتنی اذیت ناک دوستی‘ رشتے داری اور تعلق دار کی چیٹنگ ہوتی ہے‘‘ خواجہ صاحب نے قہقہہ لگایا اور فرمایا ’’ دنیا کا جو بھی رشتہ لالچ پر مبنی ہو گا اس کا اختتام تکلیف پر ہو گا‘ آپ رشتوں میں سے لالچ نکال دو‘ بیٹے کوبیٹا رہنے دو‘ بیٹی کو بیٹی‘ ماں کو ماں‘ باپ کو باپ‘ بہن اور بھائی کو بھائی بہن اور دوست کو دوست رہنے دو‘ آپ کو کبھی تکلیف نہیں ہوگی‘ ہم جب بیٹے یا بیٹی کو انشورنس پالیسی بنانے کی کوشش کرتے ہیں یا والد صاحب کو تیل کا کنواں سمجھ بیٹھتے ہیں یا پھر دوستوں کو لاٹری ٹکٹ کی حیثیت دے دیتے ہیں تو ہماری توقعات کے جسم پر کانٹے نکل آتے ہیں اور یہ کانٹے ہمارے تن من کو زخمی کر دیتے ہیں‘ رشتے جب تک رشتوں کے خانوں میں رہتے ہیں یہ دھوکہ نہیں دیتے‘ یہ انسان کو زخمی نہیں کرتے‘ یہ جس دن خواہشوں اور توقعات کے جنگل میں جا گرتے ہیں‘ یہ اس دن ہمیں لہو لہان کر دیتے ہیں‘ یہ یاد رکھو دنیا کی ہر آسائش اور ہر تکلیف اللہ کی طرف سے آتی ہے‘ دنیا کا کوئی شخص ہمیں نواز سکتا ہے اور نہ ہی ہماری تکلیف کا ازالہ کر سکتا ہے‘ ہمیں جو ملتا ہے اللہ کی طرف سے ملتا ہے‘ جو چھن جاتا ہے‘ اللہ کی رضا سے چھینا جاتا ہے‘ ہمارا چھینا ہوا کوئی واپس دلا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی شخص اللہ کی مرضی کے بغیر ہم سے کوئی چیز چھین سکتا ہے اور دنیا کے کسی شخص میں اتنی مجال نہیں وہ ہمیں اللہ کی مرضی کے بغیر نواز سکے‘ جب دیتا بھی وہ ہے اور لیتا بھی وہ ہے تو پھر لوگوں سے توقعات وابستہ کرنے کی کیا ضرورت؟‘‘۔
خواجہ صاحب نے اس کے بعد ایک حکایت سنائی‘ ان کا کہنا تھا‘ کسی محلے میں ایک خاندان آ کر آباد ہوا‘ یہ سادہ سے لوگ تھے‘ ان لوگوں نے ایک دن ہمسائے سے چاول پکانے کے لیے دیگچہ مانگا‘ ہمسایوں نے دیگچہ دے دیا‘ ان لوگوں نے چاول پکائے‘ دیگچہ واپس کیا تو اس کے ساتھ جست کا ایک چھوٹا سا پیالہ بھی تھا‘ ہمسایوں نے کہا ’’ یہ پیالہ ہمارا نہیں‘‘ 
دیگچہ مانگنے والوں نے جواب دیا‘ آپ کے دیگچے نے رات بچہ دیا تھا‘ یہ پیالہ وہ بچہ ہے‘ یہ آپ کا حق ہے‘ ہم آپ کا حق نہیں مار سکتے‘ 
ہمسائے اس عجیب و غریب لاجک پر حیران رہ گئے لیکن انھوں نے نئے آباد ہونے والوں کو بے وقوف سمجھ کر پیالہ رکھ لیا‘ ان لوگوں نے چند دن بعد دیگچی مانگی‘ یہ دیگچی اگلے دن واپس آئی تو اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی پلیٹ تھی‘ یہ پلیٹ اس دیگچی کی بچی تھی‘ ہمسایوں نے ان لوگوں کی بے وقوفی پر قہقہہ لگایا اور یہ پلیٹ بھی رکھ لی‘ اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا‘ ہمسائے کوئی نہ کوئی برتن مانگتے اور واپسی پر اس کا کوئی نہ کوئی بچہ پیدا ہو جاتا‘ ہمسائے یہ بچہ خوشی خوشی قبول کرلیتے‘ ان لوگوں کو ایک دن دیگ کی ضرورت پڑ گئی‘ آج سے تیس سال قبل دیگ بڑی لگژری ہوتی تھی‘ یہ چند لوگوں کے پاس ہوتی تھی اور لوگ انھیں رشک کی نظروں سے دیکھتے تھے‘ لوگ اس زمانے میں اپنی بیٹیوں کو جہیز میں دیگیں بھی دیتے تھے‘ بہوؤں کی دیگوں کی تعداد ان کے میکوں کی خوشحالی کا ثبوت ہوتا تھا.
ان لوگوں نے دیگ مانگی‘ دو دن گزر گئے لیکن دیگ واپس نہ آئی‘ تیسرے دن ہمسائے نے ان کا دروازہ بجایا‘ صاحب خانہ باہر نکلا‘ دیگ کے مالک نے اپنی دیگ کا مطالبہ کیا‘ ہمسائے نے افسوس سے سر جھکایا اور دکھی لہجے میں بولا ’’کل رات آپ کی دیگ انتقال فرما گئی‘ ہم نے اسے قبرستان میں دفن کر دیا‘‘ 
دیگ کے مالک نے خیران ہو کر پوچھا ’’دیگ کیسے مر سکتی ہے‘‘ 
ہمسائے نے جواب دیا ’’جناب جیسے سارے برتن مرتے ہیں‘‘۔ 
دیگ کا مالک معاملے کو پنچایت میں لے گیا‘ پنچایت بیٹھی تو مدعی نے پنچایت کے ارکان سے کہا ’’ یہ شخص کہتا ہے‘ میری دیگ مرگئی‘ کیا دیگ مرسکتی ہے؟‘‘ 
پنچایت نے ملزم کی طرف دیکھا‘ ملزم نے نہایت ادب سے عرض کیا ’’ میں جب بھی اس سے کوئی برتن لیتا تھا‘ وہ برتن میرے گھر میں بچہ دے دیتا تھا‘ میں اس برتن کے ساتھ وہ بچہ بھی اس کے حوالے کر دیتا تھا‘ آپ اس سے پوچھئے کیا میری بات درست ہے؟‘‘ 
پنچایت نے مدعی کی طرف دیکھا‘ مدعی نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ ملزم نے مسکراکر عرض کیا ’’جناب اگر کوئی برتن بچہ دے سکتا ہے تو وہ مر بھی سکتا ہے اور اس کی دیگ کل رات رضائے الٰہی سے انتقال فرما گئی‘‘ 
پنچایت نے قہقہہ لگایا اور کیس ڈس مس کر دیا‘ وہ ہمسایہ بیچارہ اپنے لالچ کے ہاتھوں مارا گیا تھا‘ برتن ادھار لینے والا بنیادی طور پر فراڈیا تھا اور یہ دوسرے فراڈیوں کی طرح ہمسائے کا لالچ بڑھاتا رہا یہاں تک کہ اس نے اپنا ٹارگٹ اچیو کر لیا۔
خواجہ صاحب نے بتایا ’’ دنیا بھر کے فراڈیئے لوگوں کو لالچ دیتے ہیں‘ یہ ہمیشہ چھوٹی سرمایہ کاری کا بڑا ریٹرن دیتے ہیں‘ آپ انھیں کھانا کھلاتے ہیں‘ چائے پلاتے ہیں اور یہ آپ کے بچوں کو پانچ دس ہزار روپے دے جاتے ہیں‘ آپ ان کے گھر چاول کی پلیٹ بھجواتے ہیں اور یہ آپ کے گھر کیک بھجوا دیں گے‘ یہ آپ سے سائیکل ادھار لیں گے اور جواب میں آپ کو نئی نکور گاڑی ادھار دے دیں گے‘ یہ آپ سے دس ہزار روپے قرض لیں گے اور بارہ ہزار واپس کریں گے‘ آپ اضافی دو ہزار روپے کے بارے میں پوچھیں گے تو یہ جواب دیں گے‘ میں نے آپ کے دس ہزار روپے فلاں کاروبار میں لگائے تھے‘ پانچ دن میں پانچ ہزار روپے منافع ہو گیا‘ میں نے تین ہزار روپے خود رکھ لیے‘ دو آپ کا حق ہے‘ آپ کو دے رہا ہوں‘ یوں آپ ان کی ایمانداری کے بھی قائل ہو جائیں گے‘ ان کے اخلاص اور نیکی کے بھی اور اس کاروبار کو بھی کریڈیبل سمجھ لیں گے جو دس ہزار روپے کی سرمایہ کاری پر پانچ دنوں میں پانچ ہزار روپے منافع دے دیتا ہے‘ یوں وہ شخص آپ کے دل میں لالچ کا پہلا بیج بونے میں کامیاب ہو جائے گا‘ وہ اس کے بعد آپ سے ادھار لیتا رہے گا‘ آپ کو منافع دیتا رہے گا یا وقت پر پیسے واپس کرتا رہے گا اور آپ کا اعتبار حاصل کرتا رہے گا یہاں تک کہ آپ اسے سرمایہ کے لیے خود رقم دینا شروع کر دیں گے‘ وہ آپ کی رقم پر آپ کو پورا منافع دے گا.
اور پھر ایک دن بڑی سرمایہ کاری کا موقع آ جائے گا‘ وہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ آپ کے پاس آئے گا اور آپ کو بتائے گا اس کی کمپنی جہاز خرید رہی ہے‘ یہ جہاز آدھی قیمت میں مل رہا ہے‘ کمپنی جہاز خرید لے گی‘ یہ جہاز چار دن میں پی آئی اے خرید لے گی‘ کمپنی کو سو فیصد منافع ہو گا اور یوں ہمارا سرمایہ چار دن میں دگنا ہو جائے گا‘ وہ آپ کو بتائے گا‘ ہم دس لوگ اس سودے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں‘ ہم ایک ایک کروڑ روپے ڈال رہے ہیں‘ یہ کروڑ روپے چار دن میں دو کروڑ روپے ہو جائیں گے اور یوں آپ اس کے اس ٹریپ میں آ جائیں گے جو اس نے مہینوں کی محنت سے آپ کے اردگرد بنا تھا‘ آپ زیورات بیچیں گے‘ گھر نیلام کریں گے‘ گاڑی فروخت کر دیں گے اور جیسے تیسے کروڑ روپے پورے کر کے اس کے حوالے کر دیں گے لیکن چند دن بعد آپ کی دیگ بھی انتقال کر جائے گی‘ وہ شخص آپ کے کروڑ روپے لے کر فرار ہو جائے گا یا پھر آپ کو ایک ہفتے بعد اس جہاز کے کریشن ہونے یا کمپنی کے دیوالیہ ہونے یا پھر گھر یا بینک میں ڈاکہ زنی کی اطلاع ملے گی‘ یہ آپ کی مرحومہ دیگ کی تدفین بھی کر دے گا اور آپ اس وقت کچھ بھی نہیں کر سکیں گے.
یہ دنیا کے تمام فراڈیوں کی تکنیک ہے‘ یہ کبھی سرمایہ کاری کے نام پر لوٹتے ہیں‘ یہ کبھی ڈبل شاہ بن جاتے ہیں‘ یہ کبھی اسلامی سرمایہ کاری یا مضاربہ کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں‘ یہ کبھی بانڈز کا کاروبار کرتے ہیں‘ یہ کبھی جعلی ڈالرز کے ذریعے لوگوں کو ان کے سرمائے سے محروم کر دیتے ہیں‘ کبھی سونے کی دیگ کی خوش خبری سناتے ہیں اور کبھی کسی مرحوم شہزادے کا خزانہ لے کر مارکیٹ میں آ جاتے ہیں اور اپنے اپنے حصے کے لالچی لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں‘ یہ سب لوگ دیگچی کے بچے دے کر آپ کی دیگ کھانے کے ایکسپرٹ ہوتے ہیں‘ یہ لوگ جب بھی آپ کے سامنے آئیں‘ آپ ایک بات ذہن میں رکھ لیں‘ اگر بادام کا کوئی درخت سڑک پر لگا ہو اور یہ درخت باداموں سے لدا ہوا ہو تو آپ جان لیں اس کے تمام بادام کڑوے ہیں کیونکہ بادام کا درخت اور اس کا میٹھا صرف آپ کا انتظار نہیں کرسکتا.
جاوید چودھری