Tuesday, 7 February 2017

کیا آپ بھی کوکا کولا کے شوقین ہیں؟

ایس اے ساگر

شمالی ہند میں سردی کا موسم رخصت پذیر ہے. الیکٹرانک میڈیا میں سوفٹ ڈرنکس کے اشتہار شائقین کی توجہ مبذول کرنے لگے ہیں. احادیث میں بھی خوردو نوش کے بعد حمد کی فضیلت وارد ہوئی ہے. سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
"بیشک اللہ تعالیٰ تو اپنے بندے سے اتنی بات پر راضی ہو جاتا ہے کہ وہ کھانا کھائے اور( کھانے کی وجہ سے) اس کی تعریف کر دے یا پانی پئےاور اس پر اس کی حمد و ثناء کر دے۔"
(تخرج: ا؛لصحیحۃ1751۔مسلم2734۔ترمذی1816۔احمد117،100)
اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو لذید ماکولات و مشروبات سے نوازا ہے وہاں ان نعمتوں کی بنا پر بندوں کی طرف سے اپنی تعریف و توصیف اور مدح و ثناء کو بھی بڑا پسند کیا ہے۔اندازہ لگائیں کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کا عطا کیا ہوا،کھا کر یا پی کر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں تو وہ ہم سے راضی ہو جاتا ہے۔کتنا آسان ہے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا۔لیکن پھر بھی اسے راضی کرنے والے بہت قلیل مقدار میں ہیں۔سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
جو آدمی کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھے گا،اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے:
الحمد للہ الذی اطعمنی ہذا و رزقنیہ من غیر حول منی ولا قوۃ۔یعنی تمام تعریف اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے مجھے کھانا کھلایا اور مجھے رزق دیا، مجھ میں طاقت اور قدرت نہ ہونے کے باوجود۔
(ابو داؤد، ترمذی)

لیکن اس کا کیا کیجئے کہ میں کوک پئیوں گا،
مجھے پیپسی چاہئے، اس قسم کے جملے آپ کو اکثر سننے کو ملیں گے۔ حکیم طارق محمود چغتائی رقمطراز ہیں کہ ان مشروبات کی کسی بوتل میں اگر اْکھڑا ہوا دانت یا ناخن ڈال دیا جائے تو دو دن میں گل کر اور دو ہفتے میں اندر حل ہوجائے گا جبکہ یہی دانت، ہڈیاں اور ناخن انسان کے مرنے کے بعد ہزارہا سال تک محفوظ حالت میں مل سکتے ہیں۔ صحت کیلئے حد درجہ خطرناک ہونے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ بچے دیوانہ وار ان مشروبات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس مطالبہ کی وجہ ان کمپنیوں کی طرف سے انتہائی سحرانگیز اور گمراہ کن اشتہار بازی ہے جس میں معصوم بچے مشہور کرکٹرز، فلم اسٹارز اور من پسند ہیروؤں کو انتہائی جذباتی انداز میں یہ مشروب پیتے ہوئے دیکھ کر ان کے انداز میں ان کی نقالی کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ چکاچوند ننھے منے بچوں کو مرعوب کرکے ان مشروب کا عادی بنا ڈالتی ہیں۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ہم آدھا منافع اس بات پر خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں کہ عوام کوئی اور مشروب مانگنے کی بجائے پیپسی یا کوک کا نام لے کر مشروب طلب کریں۔ ظاہر ہے اس اشتہار بازی کا خرچ استعمال کرنے والے ہی کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے۔پیپسی یا کوک کیا ہے؟ یہ مشروب جن چیزوں کا مرکب ہیں شاید انہیں باریک انگریزی میں ڈھکن کے اندر ملاحظہ کرسکیں۔ یہ کیمیائی مادے درج ذیل ہیں:

کاربن ڈائی آکسائیڈ
قدرت اس زہریلی گیس کو جو خون کے ایک فضلے کی مانند ہے سانس کے ذریعے پھپھڑوں سے باہر نکالتی ہے لیکن پیپسی اور کوکاکولا میں پانی میں اس گیس کو گزار کر جذب کیا جاتا ہے جسے ہم منہ کے ذریعے اپنے معدے میں اتار دیتے ہیں اس گیس کو پانی میں گزارنے کے فعل سے کاربالک بنتا ہے اور ان مشروبات کی تیزابیت کا درجہ 3.4 ہوتا ہے یعنی انسانی جسم کی تیزابیت سے تین یا چار درجے تیز۔ اس درجے کی تیزابیت ہڈیوں اور دانتوں کو گھول کر رکھ دیتی ہے۔ انسانی ہڈیاں 30 سال کے بعد بننا بند ہوجاتی ہیں یعنی انسانی ڈھانچہ ہونے کی وجہ سے ہمارے انسانی نظام اور معدے پر دوچند بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ ایک تیزابیت کی وجہ سے اور دوسرا مشروب کے درجہ حرارت کی وجہ سے جو عموماً 0 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے جبکہ جسم کا درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ اس فرق کو ملانے کیلئے معدے کو فاضل کام کرنا پڑتا ہے۔ کھانے کے دوران ان مشروبات کے استعمال سے ہاضمے کے مددگار کیمیائی مادے تحلیل ہوکر معدے پر مزید بوجھ ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے معدہ جلد ہی جواب دے جاتا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر معدے میں گیسیں اور دیگر زہریلے مادے بنتے ہیں جو انتڑیوں میں جذب ہوکر جسم کو وقت سے پہلے بوڑھا کردیتے ہیں۔

فاسفورک ایسڈ
اس کا تیزابی مادہ ہمارے جسم کی ہڈیوں اور دانتوں سے کیلشیم کے مادے کا اخراج کرتا ہے۔ مسلسل استعمال سے ہڈیوں کی شکست وریخت ہونے کی وجہ سے ہڈیوں کا درد‘ کمر کا درد اور بعض اوقات معمولی چوٹ سے ہڈیوں کا ٹوٹ جانا عام علامت ہے۔ اس بیماری کو ہڈیوں کی کمزوری کہا جاتا ہے۔

کیفین
یہ اعصابی نظام کو تحریک دینے والی نشہ آور دوا ہے جس کے استعمال سے آدمی وقتی طور پر بیدار‘ تازہ دم اور خوشی محسوس کرسکتا ہے۔ پانچ چھ گھنٹے میں اس کا اثر ختم ہونے پر کمزوری‘ سستی‘ اضمحال اور بوریت محسوس کرتا ہے۔ کیفین کے زیادہ استعمال سے ہیجان‘ بے چینی‘ رعشہ‘ دل کی تیز دھڑکن کے ساتھ دل کی چال میں تبدیلی آسکتی ہے۔ سردرد کے ساتھ دردوں تک کی نوبت آسکتی ہے۔ کیفین کی مقدار عام بوتل میں 35 سے 50 ملی گرام تک جبکہ ڈیڑھ لیٹر کی بوتل میں 200 ملی گرام تک موجود ہوتی ہے۔

سوڈیم بینزوئیٹ
یہ مضر کیمیائی مادہ مشروبات کو سڑنے سے روکتا ہے لیکن اس کاکثرت سے استعمال ہائی بلڈپریشر کا باعث بنتا ہے۔

ایتھائی لین گلائی کول
یہ مشہور اینٹی فریز ہے جو گاڑیوں میں پانی کو جمنے سے بچانے کیلئے ڈالا جاتا ہے۔ یہ سنکھیا سے ملتا جلتا آہستہ عمل کرنے والا زہر ہے جس کے نتیجے میں اگر ایک گھنٹے میں چار لیٹر کولا مشروب پینے سے موت واقع ہوسکتی ہے۔ دو ڈھائی لیٹر پینے سے بے ہوشی طاری ہوسکتی ہے۔

رنگدار مادے
سرخ امارنتھ اور براؤن بورڈیکس قابل ذکر ہیں۔ جو تحقیقات کے مطابق کینسر کا باعث بنتے ہیں اور انسانی صحت کیلئے مضر اثرات رکھتے ہیں۔

پیپسی اور کولا کے عمومی نقصانات
*ذہنی صحت پر اثر سے بچے کو ضدی بناڈالتے ہیں ماں باپ کو تنگ کرنا اور آپس میں مارکٹائی کارجحان زیادہ ہوجاتا ہے اور ذہانت میں کمی آجاتی ہے۔
* بچوں کی جسمانی صحت پر اثر کرکے پہلی صورت میں بظاہر موٹا بچہ لیکن اندرونی طور پر کمزور اور سست جبکہ دوسری صورت میں بھوک کے مارے جانے سے پیلی رنگت کا لاغر بچہ جس کی آنکھوں کے گرد حلقے اور چہرے پر مردنی ہوگی۔
* ان مشروبات کا کثرت سے استعمال جگر کے امراض کا باعث بنتا ہے جو کہ اس مرض کی الکحل مشروبات کے بعد دوسری بڑی وجہ ہے۔
* لمبے عرصے تک استعمال سے معدے کی جھلی کو نقصان‘ ہائی بلڈپریشر اور شوگر کی بیماری میں زیادتی ہوجاتی ہے۔ شوگر کے مریضوں کیلئے ڈائیٹ کولا بھی حد درجہ مضر اثرات رکھتا ہے۔
* حاملہ عورت میں ان مشروبات کا استعمال بچے کی جسمانی بناوٹ میں خرابی کے علاوہ معذور بچوں کی پیدائش کا سبب بن سکتا ہے جس کی شرح ہمارے معاشرے میں بڑھ رہی ہے۔

متبادل صحت مند مشروبات
دودھ کے مشروبات سادہ یا ذائقہ دار‘ مثلاً الائچی اور بادام پستے کی کترن کے ساتھ مشروبات* ادرک اور شہد کے ساتھ* کھجور کے مرکب کے ساتھ* ملک شیک‘ آم‘ کیلا‘ سیب‘ لسی سادہ یا ذائقہ دار* خشخاش بادام کے ساتھ* ٹھنڈے پانی کے مشروبات* سکنجبین گْڑ‘ لیموں اور نمک کیساتھ* آلو بخارے اور املی کا شربت* تخم ملنگا اور گوند کتیرا* دیگر مشروبات مثلاً شربت الائچی‘ شربت بزوری وغیرہ* تازہ جوسز مثلاً گاجر کا جوس‘ سیب اور گاجر کا جوس‘ انار‘ سبز قہوہ۔
اگر آپ کے بیت الخلا کا نکاس بند ہوجائے تو رات پیپسی یا کوکاکولا کی لیٹر یا ڈیڑھ لیٹر والی بوتل ڈال دیں۔ صبح فلش کریں تو نکاس کھل چکا ہوگا۔

معدے کے تمام امراض کیلئے ایک خاندانی راز

ایک طبی راز جو اس وقت آپ کی نذر ہے جسے میں تفصیل سے بیان کرنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ آپ طبیعت کی متلاہٹ‘ طبیعت کی بے چینی‘ صحت اور تندرستی کے گھمبیر مسائل کا شکار ہیں‘ میری مراد وہ لوگ ہیں جو معدہ‘ گیس‘ تبخیر‘ کھانا کھانے کے بعد بدہضمی اور ایسی دوائیں استعمال نہیں کرسکتے جو بدذائقہ ہوں بلکہ ایسے لوگ جو نازک مزاج لطیف مزاج ہوں ان کیلئے یہ نسخہ مجھے کہاں سے ملا؟ کیسے ملا؟ پہلے اس کی مختصر سی داستان عرض کرتا ہوں۔یہ غالباً 1985ء کی بات ہے ایک بوڑھے بزرگ تھے جو غلہ منڈی میں دکان کے اوپر ایک مکان میں رہتے تھے ان کا بیٹا نافرمان تھا‘ شادی کی‘ بیوی کو چھوڑ کر چلا جاتا تھا وہ بوڑھے بزرگ میرے پاس اْس بیٹے کی اصلاح اور اس کی تبدیلی کیلئے آئے‘ کسی طرح اس کا مزاج‘ اس کی طبیعت بیوی کی طرف‘ گھر کی طرف‘ بچوں کی طرف مائل ہو۔ گھر سے باہر کی بے راہ روی چھوڑ دے‘ اس کی طبیعت اصلاح کی طرف متوجہ ہو۔ میں ان کی بات سن رہا تھا اور وہ مسلسل رو رہے تھے۔ سفید ڈاڑھی‘ پہنا ہوا سفید لباس اور اس پر گرتے ہوئے موتی جیسے آنسو۔ ایک عجیب دردناک منظر پیش کررہے تھے ان کا ایک ہی بیٹا تھا۔ پاکستان بننے سے پہلے وہ دہلی کے قریب ایک گاؤں میں رہتے تھے پاکستان بننے کے بعد آئے انہیں گھربار نہ ملا کسی نے غلہ منڈی میں اپنی دکان کے اوپر جگہ دیدی اور وہ رہنے لگے۔ محنت مزدوری کرکے بچوں کا پیٹ پالا‘ کچھ ہی عرصے کے بعد بیوی ساتھ چھوڑ گئی اورفوت ہوگئی۔ اب چشم و چراغ صرف ایک ہی بیٹا تھا اور اسی سے ساری امیدیں وابستہ تھیں لیکن بیٹا غلط راہوں پر چل پڑا‘ کسی نے مشورہ دیا کہ شادی کردیں اصلاح ہوجائے گی‘ شادی کردی لیکن اْس نے اپنی راہیں نہ چھوڑیں‘ میں نے انہیں تسلی دی کہ اللہ جل شانہ اس کے دل کی دنیا بدل دے گا اور اعمال قرآنی میں ایسی چیزیں جو دل کی دنیا کو واقعی ہی بدل دیتی ہیں۔ اس کیلئے انہیں میں نے بتایا کہ ہر نماز کے بعد انیس دفعہ سورۃ لہب پڑھیں اور سارا دن بیٹے کا تصور کرکے یَامَمِیتْ یَاقَابِضْ یَامَانِعْ یَاصَبْورْ اٹھتے بیٹھتے وضو بے وضو پڑھتے رہیں اور چالیس دن کے بعد پھر میرے پاس آئیں۔ چالیس دن کے بعد پھر تشریف لائے تو وہ مطمئن نظر آرہے تھے میں نے انہیں دیکھتے ہی پوچھا کیا حال ہے فرید کا؟ دراصل فرید ان کے بیٹے کا نام تھا. فرمانے لگے بہت بہتر‘ جو پہلے رات کو تین بجے‘ چار بجے آتا تھا اب دس بجے آنا شروع ہوگیا ہے۔ مار دھاڑ شور شرابہ‘ پٹائی اس نے چھوڑ دی ہے بلکہ اب تو پچھلے دنوں ایک بات کہہ رہا تھا کہ میں کوئی کاروبار‘ کہیں مزدوری یا نوکری کرنا چاہتا ہوں ۔ابا جی آپ بہت بوڑھے ہوگئے ہیں۔ بوڑھے بزرگ فرمانے لگے اْس کے یہ الفاظ میرے لیے حیرت سے کم نہ تھے کہ وہ شخص جو آج تک ان لفظوں سے دور تھا جس نے آج تک مجھے باپ بھی نہیں سمجھا تھا اس نے یہ لفظ کیسے کہہ دئیے۔ فرمانے لگے بیوی کی طرف توجہ کرنے لگ گیا ہے‘ بچوں سے محبت کرتا ہے‘ اب دن کا بھی اکثر حصہ گھر گزارتا ہے میں نے انہیں مزید اس عمل کی تاکید کی‘ اور چالیس دن مزید پڑھنے کو دئیے‘ وہ چلے گئے۔ پھر چالیس دن کے بعد آئے خوشخبری سنائی کہ پہلے سے زیادہ بہتر ہے اور پہلے سے زیادہ اصلاح ہے اور میں نے ان سے عرض کیا کہ اگر سہولت ہو تو اس عمل کو کچھ عرصہ اپنا معمول بنالیں۔ اٹھتے ہوئے بوڑھے بزرگ کہنے لگے حکیم صاحب آپ نے میرا اتنا بڑا کام کردیا ہے میرے پاس ایک خاندانی راز ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ کو دوں۔ جو آج تک میں نے کسی کو نہیں دیا۔ حتیٰ کہ میری سگی ممانی جس نے مجھے ماں کی جگہ پالا تھا ایک دفعہ اس نے پوچھا تو میں نے ٹال دیا اور اس کو نہ دیا۔ آج وہ راز آپ کو دے رہا ہوں‘ وہ راز کیا ہے؟ اْس راز کے سلسلے میں جو فوائد بتائے عبقری کے قارئین کو پہلے وہ فوائد بتاتا ہوں تو وہ بوڑھے بزرگ فرمانے لگے کہ اس کا سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ سینے کی جلن‘ پیاس کی زیادتی‘ گرمی کی شدت‘ کھانا ہضم نہ ہونا یا ہضم ہوئے بغیر نکل جانا‘ دائمی قبض ہونا‘ اجابت کھل کر نہ آنا‘ ذہنی تفکرات‘ ذہنی دباؤ ‘ بچوں کے دست‘ اجابت‘ بچوں کی الٹی‘ بچوں کا موٹا تازہ نہ ہونا‘ بھوک نہ لگنا‘ طلب غذا کی نہ ہونا‘ تھوڑا سا کھا کر چھوڑ دینا اور بڑوں کیلئے ایسے جو قے متلی سے بدحال ہوجاتی ہیں یا کسی چیز کو کھانے کو جی نہیں چاہتا‘ یا ایسے مصروف لوگ جو وقت بے وقت کھانا کھاتے ہیں پھر انہیں صحیح ہضم نہیں ہوتا‘ پیٹ بڑھ رہا ہے‘ جسم میں چربی بھر رہی ہے۔ وہ بزرگ فرمانے لگے کہ میں یہ گزشتہ ستر سال سے استعمال کرارہا ہو۔ یہ نسخہ میں نے جس کو بھی دیا اس نے تعریف لکھی ہے اور مزید مانگ رہا ہے اب تو لوگ مجھ سے لے لے کر اپنے عزیزوں کو بیرون ملک بھیجتے ہیں سچ پوچھیں کہ بیٹے کی نافرمانی کے بعد میرے روزگار کا صرف ایک یہی ٹوٹکہ ہے جس سے میرے گھر کادال دلیہ چل رہا ہے ۔میں نے قلم کاغذ آگے کردیا۔ انہوں نے لکھا چینی باریک ایک پاؤ پسی ہوئی‘ میٹھا سوڈا ایک چھٹانک اور ست پودینہ ایک تولہ‘ یعنی پورا ایک تولہ(12 گرام) چینی اور میٹھا سوڈا آپس میں ملائیں اور پھر ست پودینہ اس میں ملا کر خوب رگڑیں اتنا کہ چینی میٹھا سوڈا اور ست پودینہ آپس میں یکجان ہوجائیں۔ کسی ہوا بند ڈبے میں بوتل میں محفوظ رکھیں۔ زیادہ مقدار میں نہ بنائیں‘ نمی کے موسم میں جم جاتا ہے۔ بناتے رہیں‘ استعمال کرتے رہیں‘ آدھا چمچ کھانے کے بعد‘ دن میں تین دفعہ بھی لے سکتے ہیں‘ اگر طبیعت زیادہ خراب ہو تو بار بار بھی لے سکتے ہیں۔ قارئین! بوڑھے بزرگ نے مجھے یہ نسخہ بتایا اور تشریف لے گئے۔ اس کے بعد کبھی کبھار ان سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ اس دوا کا نام انہوں نے سفید پاوڈر رکھا ہوا تھا۔ قارئین! میں نے اس دوا کو روزے داروں پر بہت آزمایا‘ گرمی کے روزوں میں‘ بندش میں جلن میں پیاس کی زیادتی کو ختم کرتا ہے‘ خاص طور پر افطاری کے بعد جو گھبراہٹ ہوتی ہے اس کے استعمال کرنے سے اس کو فوراً افاقہ ہوتا ہے۔ اگر صبح سحری کے بعد اس کو کھالیا جائے تو سارا دن پیاس‘ بھوک‘ شدت حدت اور نڈھالی سے روزے دار بچا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دوا یعنی سفید پاؤڈر دل کی گھبراہٹ کیلئے دل کے وہ مریض جو بائی پاس کرواچکے ہیں یاکرانے والے ہوں یا دل کے کسی بھی مرض میں مبتلا ہوں ان کیلئے بہت موثر ثابت ہوا ہے۔ دل کی گھبراہٹ کیلئے‘ اعصاب کے کھچاؤ کیلئے‘ طبیعت کی بے چینی اور نڈھالی کیلئے‘ ذہن کی اور طبیعت کی تراوٹ کیلئے بہت زیادہ موثر۔ ایک شخص میرے پاس ایسی حالت میں آئے کہ شاید یہ حالت بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ موصوف کو دو آدمی پکڑ کر لے آئے۔ ٹانگوں اور پاؤں میں خون تھا۔ کوئی چیز کھا نہیں سکتے تھے جو بھی کھاتے قے الٹی ہوجاتی تھی‘ پٹھے اعصاب کھچے ہوئے‘ ہروقت غنودگی‘ معدے کا نظام بالکل متاثر‘ یہ کیفیت ہیضے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ منہ پر ورم‘ جسم پر ورم‘ جسم کمزور‘ گھبراہٹ ایسی کہ کبھی گھر سے باہر نکل جاتے‘ کبھی اندر آجاتے‘ کبھی کس کروٹ‘ کسی پل چین نہیں آتا تھا‘ اس حالت کو دیکھتے ہوئے میں نے سفید پاؤڈر استعمال کرنے کیلئے دیا۔ چند ہی دنوں میں ایسی اچھی حالت ہوئی کہ ایک آدمی کے سہارے سے پھر میرے پاس آئے اور طبیعت میں پہلے سے بہت بہتری پائی۔ میں نے انہیں مزید دو مہینے یہی دوائی یعنی سفید پاؤڈر استعمال کرنے کو دیا انہوں نے استعمال کرنا مزید شروع کیا اور وہ دو مہینے یا شاید ڈھائی مہینے تھے وہ بالکل تندرست ہوگئے۔ میں یہ تحفہ قارئین کی نظر کرنا چاہتا ہوں جو ہاضمے کی ہر دوا کھا کر مایوس ہوچکے ہیں۔ جو دل کی گھبراہٹ سے‘ جو طبیعت کی گھبراہٹ سے جو موسم گرما کی شدت سے گھبراتے ہیں لیکن ایک بات کی وضاحت کردوں یہ دوا ہر موسم میں مفیدہے۔
یہ صرف موسم گرما کیلئے مخصوص نہیں‘ جتنا فائدہ موسم گرما میں دیتی ہے اتنا ہی فائدہ موسم سرما میں دیتی ہے۔ اس کی تاثیر ایسی موثر اور لاجواب ہے کہ یہ ہر موسم میں بہت کارآمد اور بہت مفید ہے۔ قارئین! میں نے اسے ایک بار نہیں باربار اور سالہا سال سے آزمایا یقین جانیے یہ ایک تجارتی راز ہے جو کبھی کوئی نہیں دے گا لیکن اس تجارتی راز کو آج قارئین کیلئے تحفے کے طور پر پیش کررہا ہوں۔ یہ سدا بہار تحفہ ہے آپ بنائیں‘ نہایت آسان‘ لاجواب اور موثر دوا ہے۔ ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے بڑی بڑی دوائیں کھائیں کوئی ایسی چٹکی ہے جس کے کھاتے ہی ایک بہترین ڈکار آئے طبیعت میں فرحت ہو جسم میں راحت ہو۔ میں نے سفید پاؤڈر ایک چٹکی دیا اور بلکہ ان کے منہ میں خود ڈال دیا اور میں نے ان سے کہا کہ چند لمحوں کے بعد دیکھیں۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد کہنے لگے واقعی طبیعت ایک دم کھل گئی اور سارا بوجھ ہلکا ہوگیا۔ جسمانی بیماری محنت کرنے والے‘ اعصابی کھنچاؤ کے شکار اس سے بہت فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ بچوں کے امراض‘ جوانوں کے امراض جن کے پیشاب کے بعد قطرے آتے ہیں‘ مثانے جگر کی گرمی ان کو میں نے بہت دیا ہے اور ایسے نوجوان جو سوتے وقت اکثر ناپاک ہوجاتے ہیں یا ایسی خواتین جن کو لیکوریا نے عاجز کردیا ہے ان میں تو حیرت انگیز اس کے رزلٹ ہیں کچھ عرصہ استعمال کرکے دیکھیں۔ میرے پاس ایسی خواتین آئیں جن کے چہرے پر داغ دھبے جھائیاں تھیں، اور لیکوریا نے انہیں عاجز کردیا تھا انہیں میں نے استعمال کرنے کو دیا اور بہت رزلٹ ملے بہت فائدہ ملا۔

تہجد کے فضائل

فرض کے بعد سب سے افضل

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أفضلُ الصلاة بعد الفريضة: صلاةُ الليل»؛ رواه مسلم.ترجمہ: فرض کے بعد سب سے افضل نماز تہجد ہے۔( مسلم)۔

۲ـ محبوب ترین عمل:

اور اللہ تعالی اسے پسند فرماتا ہے۔ نبی علیہ السلام کا فرمان ہے:

«أحبُّ الصلاةِ إلى الله: صلاةُ الليل»؛ متفق عليه.ترجمہ: اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ترین نماز رات کی نماز ہے۔ بخاری و مسلم۔

۳ـ تقوی کی علامت:

اور اخلاص سے تہجد پڑھنا تقوی کی علامت ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

((إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (15) آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُحْسِنِينَ (16) كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ)) [الذاريات: 15- 17].

ترجمہ: بیشک تقوٰی والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہونگے۔ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا اسے لے رہے ہونگے وہ تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے۔ وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے ۔

۴: گناہوں کی بخشش کا سبب:

اس سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور خطائیں دُھل جاتی ہیں۔

نبی علیہ السلام نےسیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

«ألا أدلُّك على أبوابِ الخير؟ الصومُ جُنَّةٌ، والصدقةُ تُطفِئُ الخطيئَةَ كما يُطفِئُ الماءُ النارَ، وصلاةُ الرجلِ في جوفِ الليل» أي: تُطفِئُ أيضًا الخطيئةً كما يُطفِئُ الماءُ النار؛ رواه الترمذي.

ترجمہ: کیا میں آپ کو خیر کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، اور صدقہ خطاؤں کو بجھادیتا ہے جسطرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور رات کے وقت آدمی کی نماز۔یعنی نماز بھی خطاؤں کو بجھادیتی ہے۔ترمذی۔

۵ـ اللہ کی رحمت کا سبب:

اور یہ بندے کے لئے اللہ کی رحمت کا سبب ہے، فرمانِ نبوی ﷺ ہے:

«رحِمَ الله رجلاً قامَ من الليل فصلَّى»؛ رواه أبو داود.ترجمہ: اللہ اس انسان پر رحم کرے جو رات کو اٹھا اور نماز پڑھی۔ ابوداود۔

۶ـ اللہ کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ:

اور تہجد ان عبادات میں سے ہے جو اللہ کی بھرپور نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ ہمارے پیارے نبیﷺ راتوں کو اتنا قیام کیا کرتے تھے کہ ان کے قدم سُوج جایا کرتے تھے، اور یہ فرمایا کرتے تھے:

«أفلا أحبُّ أن أكون عبدًا شَكورًا؟»؛ رواه البخاري.ترجمہ: کیا میں (تہجد کی صورت میں )اپنےرب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

۷ـ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا وسیلہ:

وأقربُ ما يكونُ الربُّ من العبدِ في جوفِ الليل، قال - عليه الصلاة والسلام -:

ترجمہ: اور بندہ سب سے زیادہ اپنے رب کے قریب رات کی تاریکی میں ہوتا ہے۔

۸ـ قبولیت کا وقت:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«فإن استطعتَ أن تكون ممن يذكُرُ اللهَ في تلك الساعة فكُن»؛ رواه الترمذي.

ترجمہ: اگر آپ اس گھڑی میں اللہ کا ذکر کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو ضرور کیجئے۔

۹ـ فتنوں سے حفاظت:

اور رات کی نماز اللہ کے حکم سے فتنوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔

حدیث میں ہے: قالت أمُّ سلمة - رضي الله عنها -: استيقظَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - ليلةً فزِعًا يقول: «سُبحان الله! ماذا أنزلَ الله من الخزائِن؟ وماذا أُنزِلَ من الفتن؟ من يُوقِظُ صواحِبَ الحُجُرات؟» يُريدُ أزواجَه لكي يُصلِّين «رُبَّ كاسِيةٍ في الدُّنيا عارِيَةٍ في الآخرة»؛ رواه البخاري.

ترجمہ: ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: اللہ کے رسول ﷺ ڈرتے ہوئے اٹھے اور یہ کہہ رہے تھے: سبحان اللہ! اللہ نے کیا خزانے نازل کئے ہیں؟ اور کتنے ہی فتنے بھی نازل ہوئے ہیں؟ ان حجرے والوں کو کون اٹھائے گا؟ یعنی ازواج مطہرات کو کون اٹھائے گا تاکہ وہ تہجد پڑھ لیں۔’’اس دنیا میں بہت سے لوگ جولباس میں ملبوس ہیں آخرت میں بے لباس ہوں گے‘‘۔

۱۰ـ دلوں کی راحت کا باعث:

اس میں شرحِ صدر ہے، آرام ہے اور دل کا سرور ہے۔

امام ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: "في صلاةِ الليل سرٌّ في طِيبِ النفس". ترجمہ: تہجد دلوں کی خوشی کا راز ہے۔

۱۱ـ جنت میں جانے کا سبب:

اور جنت میں جانے کا ایک سبب تہجد بھی ہے:

((تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (16) فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)) [السجدة: 16، 17].

ترجمہ: ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کے خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ خرچ کرتے ہیں۔ کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ کر رکھی ہے جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے ۔

ترمذی کی حدیث ہے:

قال عبدُ بن سلامٍ - رضي الله عنه -: أولُ شيءٍ سمِعتُ النبي - صلى الله عليه وسلم - تكلَّم به حين قدِمَ المدينة: «يا أيها الناس! أفشُوا السلام، وأطعِموا الطعام، وصِلُوا الأرحام، وصلُّوا بالليل والناسُ نِيام؛ تدخُلوا الجنةَ بسلامٍ»؛ رواه الترمذي.

ترجمہ: عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی علیہ السلام مدینہ آئے تو سب سے پہلے میں نے ان سے یہ بات سنی: اے لوگوں! سلام کو عام کریں، کھانا کھلائیں، صلہ رحمی کریں، اور رات کو نماز پڑھیں اگرچہ لوگ سو رہے ہوں تو آپ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائیں گے۔

۱۲ـ جنت میں اعلی مقام کی ضمانت(گارنٹی):

جس نے تہجد پڑھی وہ جنت کے اعلی مقامات میں ہوگا۔

نبی علیہ السلام کا فرمان ہے:

«إن في الجنةِ غُرفًا تُرَى ظهورُها من بُطونِها، وبُطونُها من ظهورِها». فقامَ أعرابيٌّ فقال: لمن هي يا رسول الله؟ قال: «لمن أطابَ الكلامَ، وأطعمَ الطعامَ، وأدامَ الصيامَ، وصلَّى بالليل والناسُ نِيام»؛ رواه أحمد.

ترجمہ: جنت کے کچھ کمرے ایسے بھی ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتاہے۔تو ایک اعرابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ یہ کن کے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: (ان مقامات کا مستحق وہ ہوگا) جو اچھی بات کہے گا، کھانا کھلائے گا، روزوں کا اہتمام کرے گا، اور رات کی نماز پڑھے گااگرچہ لوگ سو رہے ہوں ۔

اور اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تہجد کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کریں تاکہ جنت میں اعلی مقام کا شرف مل سکے۔

اللہ عز وجل نے فرمایا: ((وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا)) [الإسراء: 79].

ترجمہ: رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں، یہ زیادتی آپ کے لئے ہے عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا ۔

تہجد ہر رات کی عبادت

تو اس بنیاد پر نبی علیہ السلام تہجد کو کبھی نہیں چھوڑتے تھے چاہے وہ حضر(اپنے ہی علاقے) میں ہوں یا سفر میں۔

نبی علیہ السلام کا قیام اللیل

اور نبی علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ آدھی رات یا اس سے کچھ زیادہ یا اس سے کچھ کم تہجد میں گزاریں۔

((يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1) قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا (2) نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا (3) أَوْ زِدْ عَلَيْهِ)) [المزمل: 1- 4].

ترجمہ: اے کپڑے میں لپٹنے والے۔ رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہو جاؤ مگر کم ۔ آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرلے۔ یا اس پر بڑھا دے۔

بخاری کی حدیث ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: "وكان لا تشاءُ أن تراهُ من الليل مُصلِّيًا إلا رأيتَه"؛ رواه البخاري.

ترجمہ: اوررسول اللہﷺ کی حالت یہ تھی کہ آپ جب بھی رات کو انہیں دیکھیں تو وہ نماز ہی پڑھ رہے ہوتے تھے۔

خلیفہ ثالث سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کا قیام اللیل

اور ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے:

((أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِDescription: end-icon [الزمر: 9] قال: "ذاك عُثمانُ بن عفَّان".

بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں)گزراتا ہو،آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو۔

اور فرماتے کہ یہ تو عثمان رضی اللہ عنہ کی صفات ہیں۔

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے مزید اس بارے میں یہ فرمایا:

"وذلك لكثرة صلاةِ أميرِ المُؤمنين عُثمان بالليل وقراءتِه، حتى إنه رُبَّما قرأَ القُرآنَ في ركعةٍ".

ترجمہ: یہ فضیلت امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کو تہجد اور تلاوت قرآن کا کثرت سے اہتمام کرنے کی وجہ سے ملی یہاں تک کہ کبھی کبھار تو وہ ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ لیتے۔

اور سب سے محبوب ترین عمل وہ ہے جسے ہمیشگی سے کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو، اور فرض نماز کے علاہ دیگر نمازیں گھر میں زیادہ افضل ہے۔

آپﷺکا فرمانِ مبارک ہے: «خيرُ صلاةِ المرء في بيتِه إلا الصلاة المكتوبة»؛ متفق عليه.

ترجمہ: فرض نماز کے علاوہ آدمی کی نماز گھر میں زیادہ بہتر ہے ۔

تہجد سب کے لئے مسنون ہے

جس طرح قیام اللیل مردوں کے لئے مسنون ہے بالکل اسی طرح خواتین کے لئے بھی مسنون ہے۔

بخاری و مسلم کی حدیث ہے: طرقَ النبي - صلى الله عليه وسلم - ابنتَه فاطمةَ - رضي الله عنها - وزوجَها عليَّ بن أبي طالب - رضي الله عنه - ليلاً، وقال لهما: «ألا تُصلِّيَان؟»؛ متفق عليه.

ترجمہ: نبی علیہ السلام نے ایک رات اپنی پیاری صاحب زادی فاطمہ رضی اللہ عنھا اور انکے زوج محترم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ان سے فرمایا: کیا آپ تہجد نہیں پڑھیں گے؟۔

امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"لولا ما علِمَ النبي - صلى الله عليه وسلم - من عِظَم فضلِ الصلاةِ في الليل ما كان يُزعِجُ ابنتَه وابنَ عمِّه في وقتٍ جعلَه الله لخلقِه سكَنًا، لكنَّه اختارَ لهما إحرازَ تلك الفضيلة على الدَّعَة والسُّكون".

ترجمہ: اگر نبی علیہ السلام کو تہجد کی فضیلت کا علم نہ ہوتا تو اپنی بیٹی اور چچا کے بیٹے کورات کے وقت تکلیف نہ دیتے کیونکہ یہ وقت اللہ نے آرام کے لئے بنایا ہے، درحقیقت نبی ﷺ نے یہ چاہا کہ وہ دونوں بھی کچھ وقت کےسکون و آرام کو چھوڑ کر اس فضیلت کو ذخیرہ کرلیں۔

تہجد گزار کے لئے پیارے نبیﷺ کی دعا

اور نبی علیہ السلام نے اس شخص کے لئے رحمت کی دعا کی ہے جو اپنے گھروالوں کو تہجد کے لئے اٹھاتا ہے۔

فرمانِ رسول ﷺ ہے:

«رحِمَ الله رجلاً قامَ من الليل فصلَّى وأيقظَ امرأتَه»؛ رواه أبو داود.

ترجمہ: اللہ اس آدمی پر رحم کرے جو خود بھی رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی اٹھاتا ہے۔

عمر رضی اللہ عنہ کی تہجد

وكان عمرُ - رضي الله عنه - يُصلِّي من الليل ما شاءَ الله، حتى إذا كان آخرَ الليل أيقظَ أهلَه للصلاةِ ثم يقول لهم: الصلاةَ الصلاةَ، ويتلُو: ((وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا)) [طه: 132].

ترجمہ: اور عمر رضی اللہ عنہ اللہ کی توفیق کے مطابق تہجد پڑھتے رہتے یہاں تک کہ جب رات کا آخری وقت ہوتا تو اپنے اہل خانہ کو بھی نماز کے لئے اٹھا دیتے اور ان سے کہتے کہ نماز، نماز، اور سورت طہ کی یہ آیت پڑھتے:

نیک ہونے کی دلیل

اور قیام اللیل نوجوان کے لئے بلندی کا وسیلہ ہے اور بزرگ کے لئے نور اور وقار ہے۔

جب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نوجوان تھے اس وقت نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا تھا :

«نِعمَ الرجلُ عبد اللهِ لو كان يُصلِّي من الليل»؛ متفق عليه. ترجمہ: عبد اللہ بہت اچھا انسان ہے کاش یہ تہجد پڑھتا ہو۔

ان کے بیٹے سالم فرماتے ہیں:

"فكان عبدُ الله بعد ذلك لا ينامُ من الليل إلا قليلاً".ترجمہ: اس کے بعد عبد اللہ رضی اللہ عنہ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔

امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

"من كان يقومُ الليلَ يُوصَفُ بأنه نِعمَ الرجل". ترجمہ: جو بھی رات کا قیام کرے گا اسے اچھا انسان ہی شمار کیا جائے گا۔

اور نبی علیہ السلام نے جناب عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو قیام اللیل چھوڑنے سے ڈرایا،جبکہ وہ ابھی(نوجوان) لڑکے ہی تھے اور ان سے فرمایا:

«يا عبد الله! لا تكُن مثلَ فلانٍ؛ كان يقومُ الليلَ فتركَ قيامَ الليل»؛ رواه البخاري.

ترجمہ: اے عبداللہ! فلاں کی طرح مت ہوجانا، وہ تو تہجد پڑھتا تھا مگر اس نے چھوڑ دیا۔

اور سلف صالحین چھوٹے عمر سے ہی تہجد پڑھا کرتے تھے۔ ابراھیم بن شماس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"كنتُ أرى أحمدَ بن حنبل يُحيِي الليلَ وهو غلامٌ".

ترجمہ: میں احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو دیکھتا تھا کہ وہ کم عمر ی میں ہی رات کو زندہ(قیام اللیل) کیا کرتے تھے۔

رات کی فضیلت

اور رات کے مقام کی وجہ سے اللہ نے اپنی کتاب بھی رات میں نازل فرمائی۔اور رات میں اس کی تلاوت اللہ کی حفاظت کا سبب ہے،

نبی ﷺ نے فرمایا: «وإذا قامَ صاحبُ القُرآن فقرأَه بالليل والنهارِ ذكرَه، وإذا لم يقُم به نسِيَه»؛ رواه مسلم.

ترجمہ: اگر صاحبِ قرآن رات دن اس کی تلاوت کرے تو اسے یاد رہے گا، ورنہ بھول جائے گا۔

رات میں قرآن مجید کی تلاوت

اور وہ شخص بہت ہی زیادہ قابلِ رشک ہے جو رات کو قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«لا حسَدَ إلا في اثنتَين: رجلٍ آتاه الله القُرآن فهو يقومُ به آناءَ الليل وآناءَ النهار، ورجلٍ آتاه الله مالاً فهو يُنفِقُه آناء الليل وآناءَ النهار»؛ متفق عليه.

ترجمہ: حسد صرف دو چیزوں میں جائز ہے: ایک وہ شخص جسے اللہ نے قرآن کی نعمت سے مالامال کیا ہو اور وہ راتوں کو قیام میں قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہو، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال سے نوازا ہو اور وہ اسے دن رات (اللہ کی رضا کی خاطر) خرچ کرتا ہو۔

اور رات میں قرآن پڑھنے سے اسے سمجھنے اور اس میں غور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

دل جمعی کا باعث

اللہ عز وجل نے فرمایا: ((إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا)) [المزمل: 6].

ترجمہ: بیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لئے انتہائی مناسب ہے اور بات کو بالکل درست کر دینے والا ہے ۔

زیادہ اجر کا سبب

اور رات کے وقت تلاوت کرنے کا زیادہ اجر ہے۔ اور تھوڑی تلاوت کرنے سے بندے کی غفلت دور ہوجاتی ہے، اور درمیانی تلاوت سے قانتین (فرماں بردار لوگوں ) کی صف میں شامل ہوجاتا ہے۔ اور زیادہ تلاوت کرنے سے ثواب کے خزانوں کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

«من قامَ بعشر آياتٍ لم يُكتَب من الغافِلين، ومن قامَ بمائةِ آيةٍ كُتِبَ من القانِتين، ومن قامَ بألفِ آيةٍ كُتِبَ من المُقنطَرين»؛ رواه أبو داود.

ترجمہ: جو شخص (رات کے قیام میں) دس آیتیں پڑھ لے وہ غافلوں کی لسٹ سے نکل جاتا ہے، اور جو سو آیتیں پڑھ لے وہ فرماں بردار لوگوں میں شمار ہوگا، اور جو زیک ہزار آیتیں پڑھے گا اس کا شمار خزانہ سمیٹنے والوں میں ہوگا۔

رات کے وقت دعا کی فضیلت

رات کے وقت دعا کی بھی بڑی فضیلت ہے:

«وفي الليلِ ساعةٌ لا يُوافِقُها عبدٌ مُسلمٌ يسألُ اللهَ خيرًا إلا أعطاه الله إياه»؛ رواه مسلم.

ترجمہ: رات کے وقت ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی بھی مسلمان اس وقت اللہ سے بھلائی مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور نوازدیتا ہے۔

اللہ تعالی کا نزولِ مبارک

اور رات کے آخری تیسرے پہر ہمارا رب آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے(اس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا ، وہ اُسی طرح نزول فرماتا ہے جیسا اُس کی شان کے لائق ہے) اور فرماتا ہے: «من يدعُوني فأستجيبَ له؟ من يسألُني فأُعطِيَه؟ من يستغفِرني فأغفِرَ له؟»؛ متفق عليه.

ترجمہ: کوئی ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ ، کوئی ہے جو مجھ سے مانگےتاکہ میں اسے عطا کروں؟ ، ہے کوئی جومجھ سے مغفرت مانگے تاکہ میں اسے بخش دوں؟ ۔ (بخاری و مسلم)۔

رات کا ذکر اور دعا

اور جو شخص رات کو اُٹھ کر ذکر(رات کو پڑھنے کی مسنون دعا) پڑھے اور دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھے تو وہ بھی قبول کی جاتی ہے۔جیساکہ بخاری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص رات کو اٹھتا ہے اور یہ پڑھتا ہے۔

«لا إله إلا الله وحده لا شريكَ له، له المُلكُ ولهُ الحمدُ، وهو على كل شيء قدير، الحمدُ لله، وسُبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حولَ ولا قوة إلا بالله، ثم قال: اللهم اغفِر لي، أو دعا استُجيبَ له، فإن توضَّأَ وصلَّى قُبِلَت صلاتُه»؛ رواه البخاري.

ترجمہ: اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، اور اللہ ہی کے لئے پاکیزگی ہے، اور اللہ کو سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور اللہ کے حکم کے بغیر نہ گناہ سے رُکنے کی (کسی کو) طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی (کسی کو) توفیق۔ پھر یہ کہتا ہے: یا اللہ! مجھے بخش دے یا کوئی دوسری دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کرکے نماز پڑھ لے تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے۔

رات میں عبادت کا لطف

اور رات کے اخری حصے میں دلوں کا تعلق (اللہ کی ذات کے ساتھ) زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اور رات کی تاریکی میں ہر عیب اور نقص سے اللہ تعالی کی پاکیزگی بیان کرنا تقوی کی علامت ہے۔

رات کی عبادت کا اختتام

اور بہتر یہ ہے کہ رات کی عبادت کا اختتام استغفار پر ہو۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: ((وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ)) [آل عمران: 17]۔ ترجمہ: اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں۔

"ونزلَت توبةُ الذين خُلِّفُوا في الثُّلُث الأخير من الليل"؛ رواه البخاري.

ترجمہ: اور جو لوگ (جہاد سے) پیچھے رہ گئے تھے ان کی توبہ بھی رات کو ہی نازل ہوئی۔

تہجد کا وقت اور رکعتیں

تہجد کا وقت ہر رات عشاء کی نماز کے بعد فجر تک ہوتا ہے، اور کم سے کم ایک رکعت ہے، اور زیادہ کی کوئی حد نہیں، اور افضل وقت رات کا آخری حصہ ہے۔

«صلاةُ آخر الليل مشهودةٌ»؛ رواه مسلم. ترجمہ: رات کے آخری وقت کی نماز بہت اہم ہے۔

اور قیام اللیل کی اہمیت کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر سوتے رہ گئے تو دن میں اسے ادا کرلیں۔

مسلم کی حدیث ہے:

«من نامَ عن حِزبِه أو عن شيءٍ منه فقرأَه فيما بين صلاةِ الفجرِ وصلاةِ الظُّهر كُتِبَ له كأنَّما قرأَه من الليل»؛ رواه مسلم.

ترجمہ: جو شخص بھی تہجدسے سوتا رہ گیا اور فجر سے ظہر کی نماز کت درمیان اسے ادا کرلیا تو اس کا ثواب تہجد کے برابر ہی ہوگا۔

سونے کے وہ اذکار بھی (سنت سے) ثابت ہیں جو رات کو تہجد کے لئے اٹھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، اور (مکمل رات کا) جاگنا قیام اللیل میں رکاوٹ بنتا ہے، اور اگر (پوری رات جاگنے کے باوجود) قیام کر بھی لے توخشوع و خضوع برقرار نہیں رہتا۔اور جو گناہ کرکے سوئے تو قیام کے لئے اس کا اُٹھنا مشکل ہے۔

یہ سب جاننے کے بعد !

عقلمندی کا تقاضہ:

اے مسلمانو!

دنیا کا وقت بہت کم ہے، اور یہاں کچھ عرصہ گزارنا ہے، اور رات کی نماز، تلاوت، دعا، تسبیح اور استغفار کے ذریعہ مسلمان اپنی آخرت بہتر طریقے سے آباد کرسکتا ہے، اور ان عظیم اعمال صالحہ کو ہی اپنے رب سے ملاقات کے لئے ذخیرہ کرسکتا ہے، اور عقلمند وہی ہے جو رات کے آخری حصہ کو اپنے دین و دنیا کی اصلاح کے لئے غنیمت جانتا ہے۔

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم:

ترجمہ: میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے۔

((وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا)) [الإنسان: 25].

ترجمہ: اور اپنے رب کے نام کا صبح شام ذکر کیا کر۔

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم میں برکت عطا فرمائے، اور مجھے اور آپ کو آیات اور حکمت والی نصیحت سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے، میں جو کہہ رہا ہوں وہ آپ سن رہے ہیں، اور اللہ سے سب کے لئے ہر گناہ سے مغفرت مانگتا ہوں، آپ بھی مغفرت مانگیں،بیشک وہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
.....................
http://www.islamfort.com/index.php/articles/item/4452-%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%8C%D9%84-%D8%AA%DB%81%D8%AC%D8%AF-%DA%A9%DB%92-%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84-%D9%88-%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84-%D9%85%DA%A9%D9%85%D9%84-%D8%AA%D8%B1%D8%AC%D9%85%DB%81-%D8%AE%D8%B7%D8%A8%DB%81