Saturday, 20 March 2021

معراجِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: غم کا مداویٰ و مرتبے کی بلندی

 معراجِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: غم کا مداویٰ و مرتبے کی بلندی

دلائل نبوت: رسالت محمدی برحق ہے، اس پر ایمان لانا اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، جس کو باری تعالیٰ نے بہت ہی عظیم الشان طریقے پر ذکر فرمایا ہے، وَمَا یَنطق عن الہویٰ انْ ہُوَ الاَّ وحی یوحیٰ اور دوسری جگہ ارشاد ہے: ما آتاکم الرّسولُ فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا واتقو اللّٰہ، چنانچہ سیرت کے بہت سے واقعات سیدالمرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی دلیلیں بھی ہیں، اور آپ کے معجزات میں سے بھی ہیں، جیسے معجزہ شق القمر، کنکریوں کا کلمہ پڑھنا وغیرہ۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی معراج یعنی رات کے چند لمحات کے اندر ساتوں آسمان کا سفر کرکے سدرة المنتہیٰ کے پاس تشریف لیجانا، باری تعالیٰ سے ہم کلام ہونا، بار بار کی تخفیف کے بعد امت کیلئے پانچ وقت کی نماز کا تحفہ لے کر چند لمحات میں بیت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے اندر واپس تشریف لانا، ارشاد باری ہے، سُبْحٰنَ الذیْ أَسْریٰ بعَبْدہ لَیْلاً مّنَ المسْجد الحرام الی المسجد الأقصیٰ o الذی بارکنا حولہ لِنریہ من آیاتنا انّہ ہُو السمیع البصیر (سورہ بنی اسرائیل، آیت:۱-۲) ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندہ یعنی محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے ایک قلیل حصہ میں مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا، (جس سے اصل مقصود یہ تھا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں کی سیر کروائیں اور وہاں کی) خاص خاص نشانیاں آپ کو دکھلائیں (جن کا کچھ ذکر سورة النجم میں فرمایا ہے کہ آپ سدرة المنتہیٰ تک تشریف لے گئے اور وہاں جنت و جہنم اور دیگر عجائباتِ قدرت کا مشاہدہ فرمایا) تحقیق کہ اصل سننے والا اور اصل دیکھنے والا حق تعالیٰ ہے۔ (وہی جس کو چاہتا ہے اپنی قدرت کے نشانات دکھلاتا ہے اور پھر وہ بندہ اللہ کی تبصیر سے دیکھتا ہے اور اللہ کے اسماع سے سنتا ہے۔

تبلیغ و دعوت اور رنج و غم کے لمحات:

نبوت ملنے کے بعد حکم ہوا ”یا أیہا الرسول بلغ ما أنزل الیکَ من ربکَ وان لم تفْعَل فما بلغت رسالتہ“ (المائدہ)

ترجمہ: اے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم آپ وہ (پیغام لوگوں تک) پہنچادیجئے جو آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے نازل کیاگیا، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تو (گویا کہ) آپ نے اپنے رب کا پیغام لوگوں تک نہیں پہنچایا۔

چنانچہ بعثت کے بعد تین سال تک آپ  صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ طریقہ پر دین اسلام کی تبلیغ کرتے رہے، اور لوگ آہستہ آہستہ اسلام میں داخل ہوتے رہے، تین سال کے بعد یہ حکم نازل ہوا فَاصْدَعْ بمَا تُوٴمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشرکین (سورہ الحجر)

ترجمہ: جس بات کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، اس کا صاف صاف اعلان کردیجئے، اور مشرکین کی پروا نہ کیجئے۔ 

چنانچہ کوہ صفا پر چڑھ کر آپ نے احکام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا، اور اعلانیہ دعوت کا کام شروع کردیا، اِدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کا کام شروع کیا، اور اُدھر مکہ کے قریش و مشرکین کی ریشہ دوانیوں، منصوبہ بندیوں اور ایذاء رسانیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا مسجد حرام اور خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے کے لئے جاتے تو طرح طرح کی کلفتوں اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کبھی کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکتا، کبھی آوازیں کستا، اور تمسخر و مذاق اڑاتا، اسی طرح راستے میں کبھی آپ کے سرپر اوپر سے کوڑا کرکٹ ڈال دیا جاتا، کبھی اوجھڑی پھینک دی جاتی، اور آپ کیلئے تبلیغ کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی جاتیں۔ یہ سارے حالات ذہنی کلفت و اذیت کا سبب بھی تھے، اور جسمانی مشقت و پریشانی کا باعث بھی۔ وہ بھی کس مپرسی افلاس اور کم مائیگی کے عالم میں، لیکن پھر بھی آپ کی تسلی اور دل کی مضبوطی و اطمینان کیلئے دو سہارے موجود تھے، اول یہ کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی آٹھ سال کی عمر کے وقت آپ کے دادا عبدالمطلب کا انتقال ہوا، آخری وقت میں انھوں نے آپ کے چچا ابوطالب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت اور پرورش کیلئے وصیت کی، پھر باپ سے بڑھ کر انھوں نے شفقت و ہمدردی اور تربیت کاحق ادا کیا اور اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی بیوی حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا جو غار حرا سے واپسی اور نبوت ملنے کے بعد سب سے پہلے آپ پر ایمان لائیں، اور زندگی بھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے سہارا اور قلبی راحت و سکون کا سبب بنی رہیں کہ ساری اذیتوں اور پرخاش ماحول کے بعد جب گھر تشریف لاتے تو آپ کے دل کو قرار اور چین و سکون نصیب ہوجاتا۔ لیکن مرتبے کی بلندی مصائب و ابتلاء سے گھری ہوئی رہتی ہے، چنانچہ ۱۰/ نبوی عام الحزن والملال کے نام مشہور ہوا، کہ چند دن کے اندر دو دو سہارے آپ کی زندگی سے ختم ہوگئے۔ شعب ابی طالب سے نکلنے کے چند ہی روز بعد ماہ رمضان یا شوال ۱۰ نبوی میں ابوطالب کا انتقال ہوا، پھر تین یا پانچ دن بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوگیا۔

سفر طائف سلسلہٴ مشقت کی ایک کڑی:

ابوطالب کے بعد آپ کا کوئی حامی و مددگار نہ رہا اور حضرت خدیجہ کے رخصت ہوجانے سے کوئی تسلی دینے والا غمگسار نہ رہا، اس لئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کی چیرہ دستیوں سے مجبور ہوکر اخیر شوال ۱۰ نبوی میں دعوت کے لئے طائف کا قصد فرمایا کہ شاید یہ لوگ اللہ کی ہدایت کو قبول کریں، اور اس کے دین کے حامی و مددگار ہوں، زید بن حارثہ کو ہمراہ لے کر طائف تشریف لے گئے۔ (سیرت مصطفی، جلد: ۱، ص: ۲۷۴)

پھر طائف میں کیا کچھ ہوا اور وہاں کے شریر بچوں نے آپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور کس طرح زدوکوب کے ساتھ آپ کو خون میں لت پت کیا اس کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کافی ہے۔

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ایک بار عرض کیا: یا رسول اللہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم پر اُحد سے بھی زیادہ سخت دن گذرا ہے، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری قوم سے جو تکلیفیں پہنچیں سو پہنچیں، لیکن سب سے زیادہ سخت دن وہ گذرا کہ جس دن میں نے اپنے آپ کو عبدیالیل کے بیٹے پر پیش کیا، اس نے میری بات کو قبول نہیں کیا، میں وہاں سے غمگین ورنجیدہ واپس ہوا۔“ (ملخص از ترجمہ فتح الباری، ج: ۶، ص: ۲۲۵)

کفار مکہ کی ستم ظریفی:

اور یہ تو سفر کی مختصر سی مدت تھی اگرچہ کلفت و مشقت اور رنج و غم کے اعتبار سے پوری زندگی کے اوقات میں سب سے دشوار معلوم ہوئی، اس کے علاوہ مکہ معظمہ کے قیام میں بھی کیا کم مصائب اور اذیتوں سے دوچار ہونا پڑا، دونوں میں فرق کیلئے بس اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ ایک مرحلہ سانپ کے کاٹنے کی طرح ہے کہ جس سے اچانک انسان جاں بحق ہوجاتا ہے، اور دوسرا بچھو کے ڈنک مارنے کی طرح ہے جس کا زہر لہریں مارتا رہتا ہے۔ چنانچہ ابن ہشام اپنے ماخذ سیرت میں رقمطراز ہیں:

قال ابن اسحاق: ومرّ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ فیما بلغنی۔ بالولید بن المغیرة وأمیة بن خلف، وبأبی جہل ابن ہشام فہمزوہ واستہزووا بہ فغاظہ ذلک فأنزل اللّٰہ تعالیٰ علیہ فی ذلک من أمرہم ”ولقد اسْتہزیَ برسل من قبلکَ فحاق بالذین سخروا منہم ما کانوا بہ یستہزوٴن“ (سیرة ابن ہشام، ج: ۱، ص: ۳۹۵)

ابن اسحاق نے فرمایا: جہاں تک مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ولید بن المغیرہ، امیہ بن خلف اور ابوجہل ابن ہشام پر ہوا، تو ان لوگوں نے آپ پر طعن و تشنیع کیا، اور آپ کا مذاق اڑایا، تو اس کی وجہ سے آپ غصہ ہوئے، جس کی بناء پر قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی۔ ”ولقد استہزی الخ“ تحقیق کہ آپ سے پہلے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا سو جن لوگوں نے استہزا کیا تھا ان پر وہ عذاب نازل ہوگیا جس کا وہ استہزاء کیا کرتے تھے۔

قال ابن اسحق فأقام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی أمر اللّٰہ صابرًا محتسبًا موٴدیاً الی قومہ النصیحة علی ما یلقی عنہم من التکذیب والأذیٰ (والاستہزاء) (سیرة ابن ہشام، ج:۱، ص: ۴۰۸)

ابن اسحاق نے فرمایا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم پر قائم رہے، صبر کرتے ہوئے ثواب کی امید کرتے ہوئے اور اپنی قوم تک نصیحت کی باتیں پہنچاتے ہوئے باوجودیکہ ان کی جانب سے آپ کی شانِ اقدس میں تکذیب و مذاق بازی اور ایذاء رسانی کا سلسلہ جاری تھا۔

اور اسی پر بس نہیں بلکہ فَترتِ وحی کے موقع پر بھی طرح طرح سے کفار مکہ نے آپ کو تمسخر و استہزا کا نشانہ بنایا۔

زخم خوردہ نبی کی تسلی:

اسی طرح جب مسلسل مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے گئے، مشقت و کلفت کی انتہا ہوگئی، تو ارحم الراحمین نے طرح طرح سے مختلف آیتوں کے نزول اور واقعات کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے صبر و تسلی کا سامان مہیا فرمایا، اور قوت و پختگی اور عزم و حوصلہ کے ذریعہ آپ کی مدد فرمائی حتی کہ دو سورتوں یعنی ”والضحیٰ اور ألم نشرح“ کا نزول ہوا، جس میں باری تعالیٰ نے آپ کے رخِ انور کی قسم کھاکر ارشاد فرمایا: ”مَا وَدّعک ربک و ما قلیٰ“ یعنی آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا نہیں اور نہ ہی آپ سے ناراض ہوا، ارشاد ہوا:

ألم نشرح لک صدرک ووضعنا عنک وزرک الذی أنقض ظہرک ورفعنا لک ذکرک (سورة الانشراح)

کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (علم وحلم) سے کشادہ نہیں کردیا اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سے آپ کا وہ بوجھ اتاردیا جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کیا۔ (یعنی اکثر جگہ شریعت میں اللہ کے نام کے ساتھ آپ کا نام مبارک مقرون کیاگیا) کذا فی الدر المنثور، معارف القرآن، ج: ۸

اسلامی فلاسفر اور ادیب مفسرقرآن مولانا عبدالماجد دریابادی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”ہندوستان کے چھوٹے چھوٹے قریوں اور موضعوں، عرب کے ریگستان اور چٹیل میدان اور افریقہ کے صحرا و بیابان سے لے کر لندن اور پیرس اور برلن کے تمدن زاروں تک، ہر روز اور ہر روز میں بھی پانچ پانچ بار کس کے نام کی پکار اللہ کے نام کے ساتھ ساتھ بلند رہتی ہے؟ اپنی ذاتی عقیدت مندی کو الگ رکھئے محض واقعات پر نظر رکھ کر فرمائیے کہ یہ مرتبہ یہ اکرام دنیا کی تاریخِ معلوم سے لیکر آج تک کسی ہادی کسی رہبر کسی مخلوق کو حاصل ہوا ہے؟ جس بے کس اور بے بس سے عین اس وقت جبکہ اسے زور اور قوت والے سردارانِ قریش اپنے خیال میں کچل کر رکھ چکے تھے، اور اس کا نام و نشان تک مٹاچکے تھے، یہ وعدہ ہوا تھا، ”ورفعنا لک ذکرک“ ہم نے تیرے لئے تیرا ذکر بلند کررکھا ہے، اگر آوازہ اس کا بلند نہ ہوگا تو اور کس کا ہوگا؟ (ذکر رسول، ص: ۶۳)

خورشید مبین کی تابانی (معراج رسول):

ابتلا و آزمائش بہت زبردست تھی، صبر آزما مراحل اورمصائب کے پہاڑ تھے، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر کی تلقین کی گئی۔

فاصْبِر کَمَا صَبَر أُوْلُوا العزمِ منَ الرسُلِ وَلاَ تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ (سورہ الاحقاف، آیت: ۳۵)

تو آپ صبر کیجئے جیسا اور ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا تھا اور ان لوگوں کیلئے (انتقام الٰہی کی) جلدی نہ کیجئے۔

باری تعالیٰ نے آپ کی صبر و تسلی کے لئے فرمایا: ”ووضعنا عنکَ وزرک الذی أنقض ظہرک ورفعنا لک ذکرک“ ترجمہ: ہم نے آپ پر سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا جس نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر توڑ رکھی تھی، اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کیا۔ (سورہ الانشراح، آیت:۴)

حزن و ملال کا ہجوم، مصائب و آلام کی یلغار ہی کیا کم تھی کہ مزید برآں اعزاء و اقرباء اور اہل خاندان کی مخالفت کفار و مشرکین اہل مکہ کا دعوت کی راہ میں حائل ہونا وغیرہ جو حوصلہ شکنی کے لئے کافی تھے۔ حتی کہ آپ کی پریشان حالی پر باری تعالیٰ نے آپ کو مخاطب فرمایا: فلعلک باخعٌ نفسک علی آثارہم ان لم یوٴمنوا بہذا الحدیث أسفًا (سورہ الکہف، آیت: ۶) ترجمہ: شاید آپ ان کے پیچھے اگر یہ لوگ اس مضمون پر ایمان نہ لائے تو غم سے اپنی جان دے دیں گے۔

ظاہر ہے جو حبیب و محبوب ہو، آخری رسول ہو، ع ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کا مصداق ہو، تاریکیوں میں چراغ روشن کرنے کا عزم رکھتا ہو، دشوار گذار مراحل، اور خاردار وادیوں کو پار کرتا ہو، حوصلہ شکن حالات کا پامردی سے مقابلہ کرتا ہو، تو اس کو تمغہ بھی اتنا ہی بڑا ملنا چاہئے، اور اس کے بلندیٴ مرتبہ پر دلیل بھی اتنی بڑی قائم ہونی چاہئے کہ جس کے اوپر اور دلیل نہ ہو، اور جس سے زیادہ عظیم الشان کوئی واقعہ اس کرہ ارض پر نہ پیش آیا ہو اور نہ آسکتا ہو، اور وہ اسراء و معراج کا عظیم الشان واقعہ۔ اسراء اور معراج کے بارے میں بہت سے موضوعات زیربحث آتے ہیں۔

(۱) اختلاف اقوال کی روشنی میں اس واقعہ کی تاریخ کا تعین

(۲) یہ واقعہ روحانی ہے یا جسمانی، (یا منامی)

(۳) مکہ معظمہ سے بیت المقدس کا سفر اور امامت انبیاء

(۴) ثمّ دنی فتدلّٰی کی واقعاتی توضیح

(۵) مولیٰ سے ہمکلامی، اور حاصل ہونے والے تحفہ کی تفصیل

(۶) جنت اور جہنم کی سیر اور چند مشاہدات

لیکن یہ سب کچھ اس عظیم الشان واقعاتی تجزئیے سے تعلق رکھنے و الے موضوعات ہیں، لہٰذا، اس کو دوسرے موقع کیلئے محفوظ رکھتے ہوئے، اس سے ماخوذ چند عجائب سفر اور لطائف و معارف کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے، تاہم قرآن پاک کے اجمال اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے، کہ جبرئیل امین علیہ السلام براق کے ساتھ تشریف لائے، اور سرورکائنات جناب محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المومنین حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان سے مسجد حرام، پھر وہاں سے مسجد اقصیٰ، اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی امامت کرنے کے بعد آسمان کی سیر کرواتے ہوئے اور انبیاء سابقین سے ملاقات کرواتے ہوئے ساتوں آسمان کے اوپر لے گئے، پھر وہ مقام آیا کہ جس کے آگے بڑھنے سے جبرئیل امین کے قدم عاجز و قاصر رہے، جیساکہ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر سے ظاہر ہے۔

اگر یک سرِ موئے برتر برم                        

فروغِ تجلی بسوزد پرم

باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ثم دنی فتدلّی فکان قاب قوسین أو أدنی o فأوحیٰ الی عبدہ ما أوحیٰ ما کذب الفوٴادُ ما رأی، أفتمارونہ علی ما یریٰ، ولقد رأٰہ نزلةً أخریٰ عند سدرة المنتہیٰ عندہا جنة الماویٰ اذ یغشی السدرة ما یغشیٰ، مازاغ البصر ومَا طغیٰ، لقد رأیٰ من آیات ربہ الکبریٰ (سورة النجم)

ترجمہ: پھر وہ فرشتہ (آپ کے) نزدیک آیا، (سو قرب کی وجہ سے) دونوں کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا، بلکہ اور بھی کم پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ (محمد  صلی اللہ علیہ وسلم) پر وحی نازل فرمائی، جو کچھ نازل فرمانا تھی۔ (جس کی تعیین بالتخصیص معلوم نہیں) قلب نے دیکھی دیکھی ہوئی چیز میں غلطی نہیں کی، تو کیا ان سے دیکھی ہوئی چیز میں نزاع کرتے ہو، انھوں نے (پیغمبر نے) اس فرشتہ کو اور دفعہ بھی (صورت اصلیہ میں) دیکھا ہے، سدرة المنتہیٰ کے پاس جنت الماویٰ ہے، جب اس سے سدرة المنتہیٰ کو لپٹ رہی تھی جو چیزیں لپٹ رہی تھیں، نگاہ تو نہ ہٹی (بلکہ ان چیزوں کو خوب دیکھا) اور نہ (ان کی طرف دیکھنے کو) بڑھی (یعنی قبل اِذن نہیں دیکھا) پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے بڑے عجائبات دیکھے۔ (معارف القرآن، ج: ۸، ص: ۱۹۲)

پھر آپ کو رب ذوالجلال سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا، پچاس نمازوں کی فرضیت کا تحفہ عطا کیا گیا، جو تخفیف کے بعد پانچ وقت کی صورت میں باقی رہا، اجر و ثواب میں پچاس وقت کی کیفیت کے ساتھ۔

اسی طرح آپ نے اقلام تقدیر کے چلنے کی آوازوں کو سنا، بعد ازاں جنت و جہنم کا مشاہدہ فرمایا، پھر جبرئیل امین علیہ السلام کی معیت میں مسجد اقصیٰ میں نزول فرمایا، اور وہاں سے مسجد حرام واپس ہوکر بیت ام ہانی میں تشریف لائے۔

یہ تھی ایک طائرانہ نظر معراج رسول کے مبارک سفر پر جس میں آپ کے رنج و غم کا مداویٰ بھی تھا اور ذکر کی بلندی بھی، شخصیت کی جلوئ آفرینی بھی، اور ختم نبوت کی دلیل بھی، سارے جہانوں کی سرداری بھی، آپ کی امت اور آپ کے پیغام کے خلود وبقاء کی علامت بھی، نیز ساتھ ہی بے مثال واقعات کے معجزہ نمائی بھی جو سارے فلسفہ و علوم اور اسباب و علل کی دسترس سے باہر ہو سچ ہے:

لا یمکن الثناء کما کان حقہ

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

اب ان خصائص و امتیازات، اور فوائد و ثمرات کو شعور و وجدان کی کیفیت کے ساتھ اخذ کرنے اور گہرائی و گیرائی سے آشنا ہونے کیلئے، ان اسرار و حکم حقائق و معارف اور دروس و عبر کا قلب و ذہن میں پیوست ہونا اور نظر میں آنا ضروری ہے، جو اس بلندی و رفعت کے دلچسپ سفر میں مضمر ہے۔

سفرمعراج کے اسرار و حکم:

واقعہٴ معراج محض ایک مشاہداتی سفر اور قطع مسافت کی پرکیف و عجیب داستان نہیں ہے، سورہ اسراء اور سورہ نجم اوراس سلسلے میں مروی صحیح ومشہور احادیث سے بہت سے اسرار و حکم اور لطائف و معارف سامنے آتے ہیں۔

(۱) خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ دونوں قبلوں کے نبی اور مشرق و مغرب دونوں سمتوں کے امام ہیں۔

(۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیش رو تمام انبیاء کرام کے وارث اور بعد میں آنے والی پوری نسل انسانی کے رہبر و رہنما ہیں۔

(۳) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام، دعوت کی عمومیت و آفاقیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کی ابدیت اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی ہمہ گیری و صلاحیت کی دلیل و علامت ہے۔

(۴) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا صحیح تعارف اور صحیح نشاندہی ہے۔

(۵) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اصل مقام و حیثیتِ عرفی کا تعین ہے۔

(۶) آپ کی نبوت کی محدود، مقامی اور عارضی نوعیت اور ابدی و عالمگیری حیثیت کے درمیان خطّ فاصل ہے۔

(۷) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت و سیادت کا قومی اور سیاسی قیادت پر غلبہ و تفوق اور بالاتری کا ثبوت اور امتیازی حیثیت ہے۔

(۸)  ایسا معجزہ اور کرامت ہے جو آپ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہوا۔

(۹)  عبادت اور تقرب و بندگی کے ذریعہ کو بطور تحفہ آسمان کے اوپر مہمان بناکر عطا کرنا جو رفعِ ذکر کی وقوعی اور خارجی تفسیر ہے۔

(۱۰) نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے انبیاء پر جو فضیلت ہے، ان میں دو باتیں خاص طور پر فضیلت کا باعث ہیں: دنیا میں معراج اور آخرت میں شفاعت۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں دولتیں تواضع کی بدولت حاصل ہوئیں، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ کے ساتھ تواضع کی، تو دولت معراج کی پائی، اور مخلوق کے ساتھ تواضع کی تو دولت شفاعت کی پائی، حق تعالیٰ کے سوال پر شب معراج میں آپ نے فرمایا کہ تمام القاب میں سب سے زیادہ پسندیدہ لقب میرے لئے عبد کا ہے، تیرا بندہ ہونا، یعنی عبدیت کی اساسی صفت جو باری تعالیٰ کو انسانیت کی جانب سے سب سے زیادہ مطلوب اور محبوب ہے۔

(۱۱) رات کی خلوت و تنہائی میں بلانا، مزید تقرب اور اختصاصِ خاص کی دلیل ہے۔

(۱۲) مسجد اقصیٰ کے معاملات کا سارے عالم اسلام سے گہرے ربط و تعلق کا ثبوت، نیز یہ کہ فلسطین، کا دفاع اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت ساری دنیا کے مسلمانوں پر حسب استطاعت واجب ہے، اوراس سے غفلت ایسی کوتاہی ہے جس پر موٴاخذہ بھی ہوسکتا ہے۔

(۱۳) امت مسلمہ کے مرتبے کی بلندی اور عظمت شان اور دنیا کی خواہشات و رغبات سے اس امت کے مستوی اور معیار کی رفعت ہے۔

(۱۴) اس میں اشارہ ہے کہ فضاء کا خلائی سفر اور کرئہ ارضی کے مقناطیسی دائرے سے نکل کر اوپر دوسرے دائرے میں داخل ہونا ممکن ہے، اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی تاریخ میں سب سے پہلے خلا باز مسافر ہیں، اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آسمان سے کرئہ ارضی کی طرف صحیح سالم لوٹ کر آنا ممکن ہے۔

(۱۵) معراج میں نماز کی فرضیت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ روزانہ پانچ مرتبہ اللہ کے حضور سارے مومنین کی روحوں اور دلوں کو پہنچنا چاہئے، تاکہ خواہشات کی سطح سے بلندی نصیب ہو۔

سفر معراج دعوت و تبلیغ کی ایک کڑی:

یہ تھے سفر معراج کے اندر پوشیدہ بلند و بالا مقاصد اور لطائف ومعارف، دروس و عبر، جو آپ کے اوپر پے بہ پے نازل ہونے والے رنج و غم کا مداویٰ ثابت ہوئے، جس کے ذریعہ آپ کے اوپر سے حزن و ملال کے بادل چھٹ گئے، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے لمحات میں ولسَوف یعطیک ربُّک فترضیٰ کا منظر دیکھا، اور خوشی و مسرت کا سانس لیا، اور فرحت و انبساط کے حالات کی طرف عود کر آئے، اور نہ صرف غم و اندوہ کافور ہوئے بلکہ دعوت و تبلیغ کی راہیں ہموار ہوتی گئیں، بلکہ رغبت و لگن اور مولیٰ کی رضا جوئی کے ساتھ قدم بڑھتے رہے، آپ کے عزم و حوصلہ اور پختگی و ثبات قدمی کو مہمیز کرنے والی قوت ملی، کیونکہ اس سفر مبارک میں آپ کے مرتبے کی بلندی بھی تھی۔

سچ ہے جب کفار و مشرکین نے آپ کے نرینہ اولاد کے زندہ نہ رہنے کی وجہ سے آپ کو طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا، اور آپ کو منقطع النسل اور قلیل الخیر ہونے کا طعنہ دیا، تو آپ کے قلب اطہر پر سورة الکوثر نازل کرکے ان دشمنان رسول کا دندان شکن جواب دیاگیا، اور ان کے باطل نظریات پر کاری ضرب لگائی گئی: انا أعطینٰک الکوثر، فصَلّ لربک وانحر، انَّ شَانئک ہُوالأبتر․ اس میں مفسرین کے اقوال کے مطابق کوثر، حوض کوثر کے ساتھ خیر کثیر کے معنی کو بھی شامل ہے، اور آپ کے دشمنوں کے منقطع النسل ہونے کا اعلان ہے، جیسا کہ ”ہو الابتر“ سے ظاہر ہے، اور کسی بھی تحریک اور مشن کو لے کر چلنے والے کے لئے راستہ سے موانع و عوائق کا دور ہوجانا اس کے قلب و ذہن کا غم و اندوہ اور افکار پریشاں سے خالی ہوجانا اور مرتبے کی بلندی کے ذریعے عزم کا پختہ ہونا، حوصلے کا بلند ہونا، فلاح و کامیابی کا پیش خیمہ اور حیرت انگیز پیش قدمی کا ضامن ہوتا ہے۔ چنانچہ اسی عظمت و رفعت کا کرشمہ تھا کہ ایسے ماحول میں جبکہ اہل مکہ بلکہ تمام اہل عرب نہ صرف یہ کہ ضلالت و شقاوت میں ڈوبے ہوئے تھے، بلکہ اسی کے دلدادہ تھے، اور وہی ان کی طبیعت بن گئی تھی، اور جہالت و بہیمیت کی حدود کو پار کرنے میں ایک فرد دوسرے سے پیچھے رہنا گوارہ نہیں کرتا تھا، اور اس کیلئے دنیا کا سارا خسارہ اور آخرت کی محرومی قبول کرلینا سستا سودا سمجھتا تھا۔

آپ نے تنہا دعوتِ عظمیٰ اور رسالت خداوندی کی تمام تر ذمہ داری تیئس (۲۳) سال کی قلیل مدت میں ایسے حیرت انگیز طریقہ پر پوری کی کہ شہنشاہ عالم بونا بارٹ اس کے اعتراف پر مجبور ہوگیا، کہ صدیوں میں پایہٴ تکمیل کو نہ پہنچنے والا پیغام محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تیئس (۲۳) سال کی قلیل مدت میں اس طرح مکمل کردکھایا کہ تاریخ عالم اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔

یتیمے کہ ناکردہ قرآں درست

کتب خانہٴ چند ملت بشست

از: مولانا حفیظ الرحمن اعظمی مدنی استاذ مدرسہ عربیہ منبع العلوم، خیرآباد

https://saagartimes.blogspot.com/2021/03/blog-post.html



Thursday, 11 February 2021

صدقہ سے کیا کیا مصیبتیں ٹلتی ہیں؟

صدقہ سے کیا کیا مصیبتیں ٹلتی ہیں؟

فقیہ ابواللیث سمرقندی

فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ اپنی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک بستی پر سے گزرے۔ وہاں پر ایک دھوبی رہتا تھا۔ بستی والوں نے آپ کے پاس اس کی شکایت کی کہ یہ ہمارے کپڑے پھاڑ دیتا ہے اور اپنے پاس روک بھی رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ یہ اپنی کپڑوں والی گانٹھ سمیت واپس نہ آسکے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ دعاء کردی، اگلے دن دھوبی حسب معمول کپڑے دھونے کے لئے چلاگیا، تین روٹیاں ساتھ تھیں۔ قریب ہی پہاڑوں میں ایک عابد رہتا تھا۔ وہ دھوبی کے پاس آیا اور پوچھا: کیا تیرے پاس کھانے کو روٹی ہے؟ اگر ہے تو ذرا اسے سامنے کردے تاکہ میں اسے دیکھ سکوں یا اس کی بو ہی سونگھ لوں کیوں کہ ایک عرصہ سے کھانا نہیں کھایا۔ دھوبی نے اسے ایک روٹی کھانے کو دے دی۔ عابد نے دعاء دیتے ہوئے کہا کہ: اللہ تیرے گناہ معاف فرمائے اور دل کو پاک کرے۔ دھوبی نے دوسری روٹی بھی دے دی. وہ کہنے لگا: اللہ تعالیٰ تیرے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کردے۔ دھوبی نے تیسری روٹی بھی پیش کردی۔ عابد بولا: اے دھوبی! اللہ تعالیٰ تیرے لئے جنت میں محل بنائے۔ القصہ شام ہوئی تو دھوبی صحیح وسالم واپس آگیا۔ بستی والوں نے حیران ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ دھوبی تو واپس آگیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے دھوبی کو طلب فرمایا اور پوچھا کہ سچ بتا آج تو نے کیا عمل کیا ہے؟ وہ کہنے لگا کہ ان پہاڑوں میں سے ایک عابد میرے پاس آیا، اس کے مانگنے پر میں نے تین روٹیاں اسے دیں اور ہر روٹی کے بدلے اس نے مجھے دعائیں دیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ذرا اپنی کپڑوں والی گانٹھ تو کھول کر دکھا، اسے کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سیاہ سانپ بیٹھا ہے، منہ میں لوہے کی لگام ہے۔ آپ علیہ السلام نے سانپ کو پکارا تو اس نے لبیک (اے اللہ کے نبی میں حاضر ہوں) یا نبی اللہ کہہ کر جواب دیا۔ فرمایا: کیا تجھے اس شخص کی طرف نہیں بھیجا گیا تھا؟ وہ بولا: بے شک! لیکن اس کے پاس ان پہاڑوں میں سے ایک عابد آیا اور اس سے روٹی مانگی۔ اور ہر روٹی کے بدلے اس کو دعائیں دیتا رہا۔ اور ایک فرشتہ پاس کھڑا آمین کہتا رہا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ بھیجا، جس نے مجھے یہ لوہے کی لگام پہنادی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دھوبی سے فرمایا: اس عابد پر صدقہ کرنے کی بدولت تیرے پچھلے گناہ معاف ہوگئے ہیں، اب نئے سرے سے اعمال شروع کردے۔

سالم بن ابی الجعد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک عورت باہر نکلی، گود میں چھوٹا سا بچہ تھا، ایک بھیڑیا آیا اور عورت سے بچہ اُچک کر لے گیا۔ عورت پیچھے ہوئی، راستہ میں ایک سائل ملا، عورت کے پاس ایک روٹی تھی، وہ سائل کو دے دی۔ اتنے میں بھیڑیا ازخود بچے کو واپس لے آیا اور ایک پکارنے والے کی آواز سنائی دی کہ یہ لقمہ اس سائل والے لقمہ کے بدلہ میں واپس ہے۔

جناب معتب بن سمعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک راہب نے ساٹھ سال تک اپنے معبد میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، ایک دن جنگل کی طرف نظر دوڑائی، زمین خوش نما معلوم ہوئی۔ جی میں آیا کہ اترکر زمین کے مناظر سے لطف اندوز ہونا چاہئے۔ چلنا پھرنا چاہئے اتر آیا، ایک روٹی بھی ساتھ تھی۔ ایک عورت سامنے آئی بے قابو ہوکر گناہ میں مبتلا ہوگیا۔اس اثنا میں موت کے حالات طاری ہوگئے، ایک سائل نے آواز دی، راہب نے روٹی اسے دے دی اور خود مرگیا۔ ادھر اس کے ساٹھ سال کے اعمال ترازو کے ایک طرف اور اس کا یہ گناہ دوسری طرف رکھا گیا۔ ساٹھ سال کی عبادت پر یہ گناہ بھاری ثابت ہوا، پھر اس کی وہ روٹی اعمال والے پلڑے میں رکھی گئی، جس سے گناہ کے مقابلہ میں وہ پلڑا بھاری ہوگیا۔

مشہور ہے کہ صدقہ برائی کے ستر دروازے بند کرتا ہے۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ زمین میں جب بھی کوئی صدقہ کیا جاتا ہے تو ستر شیطان اس سے دور کیے جاتے ہیں، جن میں سے ہر ایک اس کے لیے رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے کہ صدقہ گناہ کو یوں ختم کرتا ہے جیسے پانی آگ کو۔

صدقہ کو ناپسند کرنے کا نتیجہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک عورت آئی، اس نے ہاتھ آستین میں چھپا رکھا تھا ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا ہاتھ باہر کیوں نہیں نکالتی؟ اس نے جواب سے گریز کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ضرور بتانا ہوگا۔ تو کہنے لگی: ام الموٴمنین! قصہ یہ ہے کہ میرے والد صاحب صدقہ کا شوق رکھتے تھے اور والدہ اتنا ہی ناپسند سمجھتی تھی اور کبھی دیکھنے میں نہ آیا تھا کہ اس نے چربی کے ٹکڑے کسی پرانے کپڑے کے سوا کچھ صدقہ کیا ہو۔ قضائے الہٰی سے دونوں فوت ہوگئے، میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہے۔ اور میری ماں بھری خلقت میں یوں کھڑی ہے کہ پرانے کپڑے سے پردہ کا بدن چھپایا ہوا ہے۔ اور چرپی کا ٹکڑا ہاتھ میں لیے چاٹ رہی ہے اور ہائے پیاس پکار رہی ہے۔ ادھر میرا والد ایک حوض کے کنارے بیٹھا لوگوں کو پانی پلارہا ہے اور یہی عمل میرے والد کو دنیا میں بھی بہت محبوب تھا۔ میں نے ایک پیالہ پانی کا لے کر اپنی والدہ کو پلایا، اتنے میں اوپر سے آواز آئی، جس نے اسے پانی پلایا ہے اس کا ہاتھ شل ہوجائے۔ چناں چہ میں بیدار ہوئی تو ہاتھ شل تھا۔

مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ کی بیوی کا قصہ:

کہتے ہیں کہ ایک دن مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ بیٹھے ہوئے تھے، ایک سائل نے آکر کچھ مانگا، گھر میں کجھوروں کی ٹوکری پڑی تھی۔ بیوی سے منگواکر نصف سائل کو دے دی اور نصف واپس کردی۔ بیوی کہنے لگی: سبحان اللہ! تیرے جیسے بھی زاہد کہلاتے ہیں؟ کیا ایسا شخص بھی دیکھا ہے جو بادشا ہ کے حضور ناقص ہدیہ بھیجے؟ مالک رحمۃ اللہ علیہ نے سائل کو واپس بلالیا اور بقیہ کھجوریں بھی اس کو دے دیں، پھر بیوی کی طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے: اری! محنت کیاکر اور خوب ہمت سے کام لے، اللہ پاک کا ارشاد ہے:

﴿خُذُوہُ فَغُلُّوہُ ،ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوہُ،ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُہَا سَبْعُونَ ذِرَاعاً فَاسْلُکُوہُ ﴾․ (سورہ الحاقہ، آیت: 32-30)

ترجمہ: اس شخص کو پکڑو اور اس کے طوق پہنادو پھر دوزخ میں اس کو داخل کرو، پھر ایک ایسی زنجیر میں، جس کی پیمائش ستر گز ہو، اس کو جکڑ دو۔

سوال ہوگا یہ سختی کس وجہ سے ہے؟ تو جواب ملے گا۔

﴿إِنَّہُ کَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللَّہِ الْعَظِیْمِ،وَلَا یَحُضُّ عَلَی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ﴾․ (سورہ الحاقہ، آیت: 34-33)

ترجمہ: یہ شخص خدائے بزرگ برتر پر ایمان نہ رکھتا تھا اور غریب آدمیوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا۔

اے اللہ کی بندی! خوب جان لے کہ ہم نے اس وبال کا ایک حصہ تو ایما ن لاکر اپنی گردن سے اتار دیا ہے اور دوسرا حصہ صدقہ خیرات کے ذریعہ اتارنا چاہئے۔

ایک بدوی کا قصہ:

محمد بن افضل رحمۃ اللہ علیہ یہ روایت کرتے ہیں کہ ایک بدوی کے پاس بکریاں تھیں، مگر وہ صدقہ وغیرہ بہت کم کرتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے ایک بکری کا لاغر بچہ صدقہ میں دیا۔ خواب میں دیکھتا ہے کہ اس کی تمام بکریاں جمع ہیں اور اسے سینگ ماررہی ہیں اور وہ لاغر بچہ اس کی مدافعت کررہا ہے۔ یہ بیدار ہوا تو کہنے لگا: بخدا! ہمت ہوئی تو تیرے ساتھی بڑھاؤں گا۔ پھر اس کے بعد خوب صدقہ خیرات کرنے لگا۔

حضرت عدی رضی اللہ عنہ بن حاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص کی اپنے رب سے گفتگو ہوگی۔ اور وہ اپنی دائیں بائیں اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو دیکھے گا اور سامنے نظر کرے گا تو دوزخ دکھائی دے گی۔ لہٰذا آگ سے بچو، اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ سے ہی سہی۔

دس اچھی خصلتیں:

فقیہ فرماتے ہیں کہ دس خصلتیں ایسی ہیں جن سے آدمی اچھے لوگوں میں شامل ہوتا ہے اور درجے پاتا ہے۔ 

1: پہلی صفت صدقہ کی کثرت ہے۔

2: دوسری تلاوتِ قرآن کی کثرت، 

3: تیسری ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنا جو آخرت کی یاد دلائیں اور دنیا سے بے رغبتی سکھائیں۔

4: چوتھی صلہ رحمی کرنا، 

5: پانچویں بیمار کی مزاج پرسی کرنا، 

6: چھٹی ایسے اغنیا سے میل جول نہ رکھنا جو آخرت سے غافل ہوں۔

7: ساتویں آنے والے دن کی فکر میں لگے رہنا۔

8: آٹھویں امیدوں میں کمی اور موت کو بکثرت یاد کرنا۔

9: نویں خاموشی اختیار کرنا اور کلام میں کمی رکھنا اور 

10: دسویں خصلت تواضع ہے اور گھٹیا لباس پہننا۔ فقراء سے محبت کرنا، ان کے ساتھ مل جل کر رہنا، مساکین اور یتیموں کے قریب رہنا اور ان کے سروں پر ہاتھ رکھنا۔

صدقہ کو بڑھانے والی خصلتیں:

کہتے ہیں کہ سات خصلتیں صدقہ کو بڑھاتی ہیں اور اس میں کمال پیدا کرتی ہیں۔ 

1: پہلی یہ کہ حلال مال سے صدقہ کرنا، اللہ کا ارشاد ہے:

﴿أَنفِقُواْ مِن طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ﴾ (سورہ بقرہ، آیت: 267)

ترجمہ: خرچ کرو عمدہ چیز کو اپنی کمائی میں سے۔

2: دوسری یہ کہ قلیل مال سے بھی بقدر ہمت دینا چاہئے۔

3: تیسری جلدی دینا کہ کہیں موقع نہ جاتا رہے۔

4: چوتھی یہ کہ بہترین اور عمدہ مال سے دینا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلاَ تَیَمَّمُواْ الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِیْہِ إِلاَّ أَن تُغْمِضُواْ فِیْہِ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴾ ․(سورہ بقرہ، آیت: 267) ترجمہ: اور ردی چیز کی طرف نیت مت لے جایا کروکہ اس میں سے خرچ کرو، حالاں کہ تم خود کبھی اس کے لینے والے نہیں، ہاں! مگر چشم پوشی کرجاؤ اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں، وہ تعریف کے لائق ہیں۔ یعنی جس طرح تم نے کسی سے قرض لینا ہو تو ردّی مال نہیں لیتے سوائے اس کے کہ چشم پوشی اور درگزر کرجاؤ۔ 

5: پانچویں یہ کہ ریا سے بچتے ہوئے چھپاکر صدقہ کرو۔

6: چھٹی یہ کہ اس پر احسان بھی نہ جتاؤ کہ اجر باطل ہوجائے۔ 

7: ساتویں یہ کہ اس کے بعد تکلیف نہ پہنچاؤ، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لاَتُبْطِلُواْ صَدَقَاتِکُم بِالْمَنِّ وَالأذَی﴾․ (سورہ بقرہ، آیت:264) ترجمہ: تم احسان جتا کر یا ایذا پہنچاکر اپنی خیرات کو برباد مت کرو۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/02/blog-post_11.html



Monday, 8 February 2021

چھ کلموں کی شرعی حیثیت

چھ 
کلموں کی 
شرعی حیثیت

سوال: شش کلموں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور یہ کس حدیث سے ثابت ہیں؟
جواب: واضح رہے کہ چھ کلموں میں سے شروع کے چار کلموں کے الفاظ تو بعینہا احادیث سے ثابت ہیں اور  پانچویں اور چھٹے کلمے کے الفاظ مختلف احادیث میں متفرق موجود ہیں اور ان کے الفاظ کو ان مختلف ادعیہ سے لیا گیا ہے جو کہ احادیث میں موجود ہیں۔ جب عقائد کی تدوین ہوئی تو اس زمانہ میں ان کے نام اور مروجہ ترتیب شروع ہوئی، تاکہ عوام کے عقائد درست ہوں اور اُن کو یاد کرکے ان مواقع میں پڑھنا آسان ہوجائے جن مواقع پر پڑھنے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی اور اس پر جو فضائل بیان کیے ہیں وہ بھی حاصل ہوجائیں۔

پہلا  کلمہ ’’کنز العمال‘‘ اور ’’مستدرک حاکم‘‘ میں، دوسرا کلمہ ’’ابن ماجہ‘‘ اور ’’بخاری‘‘ میں ، تیسرا کلمہ ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ اور ’’ابن ماجہ‘‘ میں، چوتھا کلمہ ’’مصنف عبدالرزاق الصنعانی‘‘، ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘اور ’’ سنن ترمذی‘‘ میں موجود ہے اور بقیہ دو کلموں کے الفاظ متفرق مذکور ہیں، احادیث ملاحظہ ہوں:
پہلا کلمہ کنز العمال میں ہے:
’’لما خلق اللّٰه جنة عدن وهي أول ما خلق اللّٰه قال لهما: تکلمي، قالت: لا إلٰه إلا اللّٰه محمد رسول اللّٰه، قد أفلح المؤمنون، قد أفلح من دخل فيها، و شقی من دخل النار‘‘. (کنز العمال،ج:۱،ص:۵۵، باب في فضل الشهادتین، ط:مؤسسة الرسالة، بیروت)
وفیه أیضاً:
’’مکتوب علی العرش "لا إلٰه إلا اللّٰه محمد رسول اللّٰه" لا أعذب من قالهما‘‘. (کنز العمال، ج:۱،ص:۵۷، باب في فضل الشهادتین، ط:مؤسسة الرسالة، بیروت)
’’المستدرک علی الصحیحین للحاکم‘‘میں ہے:
’’حدثنا علی بن حمشاذ العدل إملاءً ثنا هارون بن العباس الهاشمی، ثنا جندل بن والق، ثنا عمروبن أوس الأنصاري، ثنا سعید بن أبي عروبة عن قتادة، عن سعید بن المسیب عن ابن عباس رضی اللّٰه عنه قال:’’ أوحی اللّٰه إلٰی عیسی علیه السلام یا عیسی! آمن بمحمد وأمر من أدرکه من أمتك أن یؤمنوا به، فلولا محمد ما خلقت آدم، ولولا محمد ما خلقت الجنة ولا النار، ولقد خلقت العرش علی الماء فاضطرب فکتبت علیه لا إلٰه إلا اللّٰه محمد رسول اللّٰه فسکن‘‘. هذا حدیث صحیح الإسناد‘‘. (المستدرك علی الصحیحین للحاکم، ج:۲، ص:۶۷۱، حدیث:۴۲۲۷، دار الکتب العلمیة، بیروت)
دوسرا کلمہ ابن ماجہ میں ہے:
’’حدثنا موسٰی بن عبد الرحمٰن قال: حدثنا الحسین بن علی ویزید بن الحباب ’’ح‘‘ وحدثنا محمد بن یحیٰی قال: حدثنا أبو نعیم قالوا: حدثنا عمرو بن عبد اللّٰه بن وهب أبو سلیمان النخعي، قال حدثنی زید العمي عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من توضأ فأحسن الوضوء، ثم قال ثلاث مرات: أشهد أن لا إلٰه إلا اللّٰه وحده لاشریك له وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله، فتح له ثمانیة أبواب الجنة، من أیها شاء دخل‘‘.   (ابن ماجه ، ج:۱،ص: ۱۵۹، حدیث:۴۶۹، دار إحیاء الکتب العربیة)
بخاری شریف میں ہے:
’’حدثنا مسدد قال: حدثنا یحی عن الأعمش، حدثني شقیق عن عبد اللّٰه، قال: کنا إذا کنا مع النبي ﷺ في الصلاة، قلنا: السلام على اللّٰه من عباده، السلام على فلان وفلان، فقال النبي صلی اللّٰه علیه وسلم: لاتقولوا السلام علی اللّٰه؛ فإن اللّٰه هوالسلام، ولکن قولوا: التحیات للّٰه والصلوات والطیبات، السلام علیك أیها النبي ورحمة اللّٰه وبرکاته، السلام علینا وعلى عباد اللّٰه الصالحین، فإنکم إذا قلتم أصاب کل عبد في السماء أو بین السماء والأرض، أشهد أن لا إله إلا اللّٰه وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله، ثم یتخیر من الدعاء أعجبه إلیه فیدعو‘‘.              
(صحیح البخاري، ج:۱، ص:۱۶۷، حدیث: ۸۳۵، باب ما یتخیر الدعاء بعد التشهد، دار طوق النجاة)
تیسرا کلمہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
’’حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن إبراهيم السکسي عن عبد اللّٰه بن أبي أوفى قال: أتى رجلٌ النبي صلى الله عليه وسلم فذکر أن هلایستطیع أن یأخذ من القرآن وسأله شیئاً یجزئ من القرآن فقال له: ’’قل سبحان اللّٰه والحمد للّٰه ولا إلٰه إلا اللّٰه واللّٰه أکبر ولاحول ولاقوة إلا باللّٰه‘‘. (مصنف ابن أبي شیبة، ج:۶،ص:۵۴،حدیث:۲۹۴۱۹، مکتبة الرشد، ریاض)
سنن ابن ماجہ میں ہے:
’’حدثنا عبدالرحمن بن إبراهيم الدمشقي قال: حدثنا الولید بن مسلم قال: حدثنا الأوزاعي قال: حدثني عمیر بن هانئ قال: حدثني جنادة بن أبي أمية عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول اللّه صلى الله عليه وسلم: ’’من تعار من اللیل فقال حین یتقیظ: لا إلٰه إلا اللّٰه وحده لاشریك له له الملك وله الحمد وهو على کل شيءٍ قدیر، سبحان اللّٰه والحمد للّٰه ولا إلٰه إلا اللّٰه واللّٰه أکبر، ولاحول ولاقوة إلا باللّٰه العلي العظیم، ثم دعا رب اغفرلي! غفر له. قال الولید: أو قال: دعا استجیب له، فإن قام فتوضأ ثم صلی قبلت صلا ته‘‘.      
(سنن ابن ماجه، ج:۲، ص:۱۲۷۶، حدیث:۳۸۷۸، دار إحیاء الکتب العربیة)
چوتھا کلمہ ’’مصنف عبدالرزاق الصنعانی‘‘ میں ہے:
’’عن إسماعیل بن عیاش قال: أخبرني عبد اللّٰه بن عبد الرحمٰن بن أبي حسین ولیث عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمٰن بن غنم عن رسول اللّٰه صلى الله عليه و سلم أنه قال: ’’من قال دبر کل صلاة‘‘ -قال ابن أبي حسین في حدیثه: وهو ثاني رجله- قبل أن یتکلم-: ’’ لا إلٰه إلا اللّٰه وحده لاشریك له، له الملك وله الحمد، یحیي ویمیت بیده الخیر وهو على کل شيءٍ قدیر‘‘ عشر مرات، کتب اللّه له بکل واحدة عشر حسنات، وحط عنه عشر سیئات، ورفع له عشر درجات‘‘. (مصنف عبد الرزاق ،ج:۲،ص:۲۳۴،حدیث: ۳۱۹۲، المکتب الإسلامي، بیروت)
’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ میں ہے:
’’أبوبکر قال: حدثنا وکیع، عن البصیر بن عدي، عن ابن أبي حسین قال: قال رسول اللّٰه صلى الله: ’’أکبر دعائي ودعاء الأنبیاء قبلي بعرفة لا إلٰه إلا اللّٰه وحده لاشریك له، له الملك وله الحمد بیده الخیر یحيي ویمیت، وهو على کل شيءٍ قدیر‘‘. (مصنف ابن أبي شیبة، ج:۳، ص:۳۸۲، حدیث:۱۵۱۳۶، مکتبة الرشد، ریاض)
پانچویں کلمہ کے الفاظ یک جا تو موجود نہیں، البتہ متفرق جگہوں پر مذکور ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے، ’’بخاری شریف‘‘ میں ہے:
’’حدثنا أبو معمر حدثنا عبدالوارث حدثنا الحسین، حدثنا عبداللّٰه بن بریدة قال: حدثني بشیر بن کعب العدوي قال: حدثني شداد بن أوس رضي اللّٰه عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم ’’سید الاستغفار‘‘ أن تقول: أللّٰهم أنت ربي لا إلٰه إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا علی عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء لك بنعمتك علی وأبوء لك بذنبي فاغفرلي، فإنه لایغفر الذنوب إلا أنت". (صحیح البخاري، ج: ۸، ص:۶۷، حدیث: ۶۳۰۶، باب أفضل الاستغفار، دار طوق النجاة)
’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ میں ہے:
’’حدثنا عیسٰی بن یونس، عن الأوزاعی، عن حسان بن عطیة عن شداد بن أوس، أنه قال: احفظوا عني ما أقول: سمعت رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم یقول:’’ إذا کنز الناس الذهب والفضة فاکنزوا هذه الکلمات، أللّٰهم إني أسألك شکر نعمتك وأسألك حسن عبادتك، وأسألك قلبًا سلیمًا وأسألك لسانًا صادقًا، وأسألك من خیر ما تعلم، وأعوذ بك من شر ما تعلم، وأستغفرك لما تعلم، إنك أنت علام الغیوب‘‘. (مصنف ابن أبي شیبة،ج:۶، ص: ۴۶، حدیث: ۲۹۳۵۸، مکتبة الرشد، ریاض) ’’هكذا في الترمذي والنسائي: عن عمران بن حسین … قل: أللّٰهم اغفرلي ما أسررت وما أعلنت وما أخطأت وماتعمدت وما جهلت وما علمت‘‘.    
(۲/۱۲۵۶،حدیث:۳۸۲۴، دار إحیاء الکتب العربیة)
سنن ابن ماجہ میں ہے:
’’حدثنا محمد بن الصباح قال: أنبأنا جریر عن عاصم الأحول، عن أبي عثمان عن أبي موسٰی قال: سمعني النبي صلى الله عليه و سلم وأنا أقول: لاحول ولاقوة إلا باللّٰه، قال: یا عبداللّٰه بن قیس! ألا أدلك علی کلمة من کنوز الجنة؟ قلت: بلى یا رسول اللّٰه! قال: قل: ’’لاحول ولاقوة إلا باللّٰه‘‘.  
(سنن ابن ماجه، ج:۲،ص:۱۲۵۶،حدیث:۳۸۲۴، دارإحیاء الکتب العربیة)
چھٹے  کلمے کے الفاظ  بھی متفرق طور پر احادیث میں موجود ہیں، تفصیل درج ذیل ہے:
’’الادب المفرد‘‘ میں ہے:
’’قال: سمعت معقل بن یسار یقول: انطلقت مع أبي بکر الصدیق إلی النبي صلى الله عليه و سلم فقال: یا أبابکر! الشرك فیکم أخفی من دبیب النمل! فقال أبوبکر: وهل الشرك إلا من جعل مع اللّٰه إلٰهًا آخر! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: والذي نفسي بیده الشرك أخفٰی من دبیب النمل! ألا أدلك علی شيءٍ إذا قلته ذهب عنك قلیله وکثیره! قال: قل:’’اللّٰهم إني أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم وأستغفرك لما لا أعلم‘‘. 
(الأدب المفرد، ج:۱، ص:۲۵۰، باب فضل الدعاء، دارالبشائر الإسلامیة)
’’کنز العمال‘‘ میں ہے: ’’الصدیق رضي اللّٰه عنه عن معقل بن یسار … قل:’’ أللّٰهم إني أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم وأستغفرك لمالا أعلم‘‘. (کنز العمال، ج:۳، ص:۸۱۶، الباب الثاني في الاختلاف المذموم، ط:مکتبة المدینة)
’’الادب المفرد‘‘ میں ہے:
’’قال حدثني عبد الرحمٰن بن أبي بکرة أنه قال لابنه: یا أبت إني أسمعك تدعو کل غداة ’’ اللّٰهم عافني في بدني، اللّٰهم عافني في سمعي … وتقول: ’’اللّٰهم إني أعوذ بك من الکفر والفقر…الخ ‘‘        
(الأدب المفرد، ج:۱، ص:۲۴۴، باب الدعاء عند الکرب، دار البشائر الإسلامیة، بیروت)
’’المعجم الاوسط ‘‘ میں ہے:
’’عن عروة عن عائشة رضي الله عنها أن رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم کان یدعو في الصلاة:’’ أللّٰهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم‘‘، فقالوا: ما أکثر ما تستعیذ من المغرم؟ فقال: إن الرجل إذ غرم حدث فکذب ووعد فأخلف‘‘.   
(المعجم الأوسط،ج:۵، ص:۳۹، باب من اسمه عبد الله، دارالحرمین قاهره)
’’الدعاء للطبرانی‘‘ میں ہے:
’’عن علقمة عن عبد اللّٰه قال: کان رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم إذا صلی أقبل علینا بوجهه کالقمر، فیقول:’’ أللّٰهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والکسل والذل والصغار والفواحش ما ظهر منها وبطن…الخ‘‘ (الدعاء للطبراني، ج:۱،ص:۲۱۰، باب القول عند الأذان، ط: دار الکتب العلمیة، بیروت)
’’المستدرک للحاکم‘‘ میں ہے:
’’عن ابن عباس رضي الله عنه أنه بینما هو جالس عند رسول اللّٰه صلى الله عليه و سلم إذ جاءه علي بن أبي طالب … ثم قل آخر ذلك:’’ أللّٰهم ارحمني أن تکلف مالایعینني وارزقني حسن النظر فیما یرضیك عني…‘‘          
 (المستدرك للحاکم، ج:۱، ص: ۳۱۵، بیرت) 
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر: 144104200089- دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2021/02/blog-post.html

Sunday, 31 January 2021

ہر قسم کی پریشانی کے لئے

ہر قسم کی پریشانی کے لئے

----------------

#ایس_اے_ساگر

----------------

فرمایا نس بندی کا زور چل رہا تھا. مظفرنگر میں جھگڑا ہوا. تین آدمی شہید بھی ہوئے. میری بہت شکایتیں کلکٹر کے پاس پہنچ رہیں تھیں. میرے متعلقین میں سے بعض کی راۓ ہوئی کہ نظام الدین کچھ روز قیام کرلیں مگر حضرت شیخ (حضرت مولانا مفتی افتخارالحسن صاحب کاندھلوی) نوراللہ مرقدہ نے منع فرمایا کہ نہیں یہیں رہو. اس دوران میں نے خواب دیکھا کہ میں تنہا جنگل میں ہوں ایک شیر ببر میرے پیچھے آرہا ہے. میں بھاگتے بھاگتے روضہ اقدس کے اندر پہنچ گیا. یہاں آکر قلبی سکون ملا اور خیال ہوا کہ اب میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا. اس لئے کہ میں بالکل جالی کے اندر ہوں. یہاں شیر نہیں آسکتا اور کوئی بھی نہیں آسکتا. اس خواب کا تذکرہ میں نے حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ سے کیا. حضرت شیخ نوراللہ مرقدہ نے کہا: کیا پڑھے تو؟

میں نے عرض کیا: اس دعاء کے پڑھنے کا معمول ہے. اور میں نے گھر میں بچیوں کو بھی یاد کروارکھی ہے. وہ بھی پڑھتی ہیں-

فرمایا: تو نے مجھے کیوں نہیں بتائی؟

عرض کیا حضرت میں آپ کو کیا بتاتا. یہ تو آپ ہی کا بتایا ہوا نسخہ ہے. حضرت شیخ نے کہا لکھ کر مجھے دو میں بھی یہاں گھروں میں بچیوں کو یاد کروادوں گا. اس کی تو بہت ضرورت ہے.

-------------

ہر قسم کی پریشانی کے لئے

ہر نماز کے بعد گیارہ گیارہ بار پڑھا جائے۔ اول آخر درود شریف تین تین مرتبہ پڑھیں۔

لا إله إلا الله محمد رسول الله صَلّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلّم

سْمِ اللَّهِ عَلَى نَفْسِي وَدِينِي، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى أَهْلِي وَمَالِي وَ وَلدي، 

بِسْمِ اللَّهِ عَلَى مَا أَعْطَانِي الله

الله، الله ربي لا أشرك به شيئاً، 

اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ،

وَاَعَزُّ وَاَجَلُّ وَاَعْظَمُ مِمَّا اَخَافُ وَاَحْذَرُ عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاوٴُکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ،

اللَّهُ أَكْبَرُ،

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شيطان مريد، ومن شر كل جبار عنيد، فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللهُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، اِنَّ وَلِیَّ اللهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ۔

آمین یا رب العالمین.

حضرت مولانا مفتی افتخارالحسن صاحب کاندھلوی۔ کاندھلہ ضلع مظفر نگر(یو پی) انڈیا


-------------

ستمبر 1976 کے دوران نس بندی کے خلاف وزراء اور ڈی ایم وغیرہ کے سامنے کھل کر بولنے کی وجہ سے اس وقت کے آبکاری وزیر ودیا بھوشن اور سنجے گاندھی کے کہنے پر مظفرنگر کے ڈی ایم برج راج یادو نے میرے والد اور مولانا افتخارالحسن کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ خاص مولانا موسی رحمۃ اللہ علیہ پر بھی زندہ یا مردہ 5000 کا انعام رکھا تھا ۔۔۔ اس وقت کے ہندی روز نامہ دینک دیہات کی کٹنگ آج تک میرے پاس محفوظ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ قربان جائیے ان اکابر کے جنہوں نے ہر ظلم برداشت کیا لیکن حق سے روگردانی نہیں کی. والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اس وقت سے آخر عمر تک 'دعائے انس' کا خاص اہتمام کرتے رہے. 18 اکتوبر 1976 کا فساد میں تو کبھی نہیں بھول سکتا. خالد زاہد مظفرنگری 

--------------------------

احادیث مشہورہ کی تحقیق: دعاء انس رضی اللہ عنہ کی تحقیق

یہ دعاء مشہور صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص ہیں، آپ نے دس سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے. دعاء کا واقعہ یہ ہےکہ: ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ حجاج بن یوسف ثقفی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، حجاج نے اپنے اصطبل خانہ کے گھوڑوں کا معاینہ کرواکے تفاخرا ً حضرت انس سے دریافت کیا کہ: کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بھی ایسے گھوڑے تھے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے تو جہاد کے لئے تھے، فخر وغرور ونمائش کے لئے نہیں تھے۔

اس جواب پر حجاج آپ پر غضب ناک ہوگیا۔ اور اس نے کہا کہ: اے انس اگر تو نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نہ کی ہوتی اور امیرالمومنین عبدالملک بن مروان کا خط تمہاری سفارش میں نہ آیا ہوتا کہ اس نے تمہارے ساتھ رعایت کرنے کے بارے میں لکھا ہے، تو میں تمہارے ساتھ وہ کچھ کرتا جو میرا دل چاہتا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم تو ہرگز میرے ساتھ کچھ نہیں کرسکتا، اور میری جانب بری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند کلمات کو سن رکھا ہے، میں ہمیشہ ان کلمات کی پناہ میں رہتا ہوں اور ان کلمات کے طفیل میں کسی بادشاہ کے غلبہ اور شیطان کی برائی سے نہیں ڈرتا۔

حجاج یہ سن کر ہیبت زدہ ہوگیا اور ایک ساعت کے بعد سر اٹھا کر کہا: اے ابوحمزہ! وہ کلمات مجھے سکھادو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: نہیں میں ہرگز وہ کلمات تمہیں نہیں سکھاؤں گا کیوں کہ تم اس کے اہل نہیں ہو.

جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ کے خادم حضرت ابان رضی اللہ عنہ کے استفسار پر آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ کلمات سکھلائے اور کہا کہ انہیں صبح و شام پڑھاکر اللہ تعالیٰ تجھے ہر آفت سے حفاظت میں رکھے گا. دعاء کے کلمات مختلف کتابوں میں کمی بیشی کے ساتھ اس طرح  ہیں:

اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ،

بِسْمِ اللَّهِ عَلَى نَفْسِي وَدِينِي، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى أَهْلِي وَمَالِي، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ أَعْطَانِي رَبِّي،

بِسْمِ اللَّهِ خَيْرِ الْأَسْمَاءِ ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ دَاءٌ،

بِسْمِ اللَّهِ افْتَتَحْتُ، وَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ،

اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي، لَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا،

أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِخَيْرِكَ مِنْ خَيْرِكَ، الَّذِي لَا يُعْطِيهُ أَحَدٌ غَيْرُكَ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ،

اجْعَلْنِي فِي عِيَاذِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ سُلْطَانٍ، وَمِنْ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، وَمِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ،  

إِنَّ وَلِيَّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ، وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ: حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللّٰهم إني أستَجيرُك مِنْ شَرِّ جَمِيعِ كُلِّ ذِي شَرٍّ خَلَقْتَهُ، وَأَحْتَرِزُ بِكَ مِنْهُمْ،

وَأُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيَّ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ}، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَنْ يَمِينِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَنْ يَسَارِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَمِنْ فَوْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَمِنْ تَحْتِي مِثْلَ ذَلِكَ،

وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ.

واقعہ کی تخریج:

عمل اليوم والليلة لابن السني (ص: 307)، الدعاء للطبراني (ص: 323)، الفوائد المنتقاة لابن السماك (ص: 27)، المنتظم في تاريخ الملوك والأمم (6/ 339)، تاريخ دمشق لابن عساكر (52/ 259)، مجموع رسائل الحافظ العلائي (ص: 358) الخصائص الكبرى (2/ 298)، سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد (10/ 228)

واقعہ کی اسانید:

۱۔ أبان بن أبي عياش، عن أنس بن مالك رضي الله عنه.

عمل اليوم والليلة لابن السني (ص: 307)، تاريخ دمشق لابن عساكر (52/ 259) الخصائص الكبرى (2/ 298)، سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد (10/ 228)۔

2۔ مُحَمَّدُ بْنُ سَهْل بن عُمَيرٍ القصَّارُ، عن أبِيهِ ، عَن أَنَس بْنِ مَالِكٍ

(الدعاء للطبراني ص: 323)، مجموع رسائل الحافظ العلائي (ص: 358)، المنتظم في تاريخ الملوك والأمم ( 6/ 339)

3- يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِالْحَمِيدِ بْنِ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

(الثاني من الفوائدالمنتقاة لابن السماك ص: 27)

4- عبدالملك بن خصاف الجزري، عن خصيف بن عبدالرحمن الجزري، عن أنس

شرف المصطفى للخركوشي 5/7

5- علاء بن زيد الثقفي، عن أنس 

مجموع رسائل الحافظ العلائي (ص: 359) بدون سند.

اسانید کا حال:

ابان بن ابی عیاش تو متروک ہے، تو اس کی روایت اگر تفرد ہو توشدید الضعف ہوگی، لیکن بقیہ اسانید کے راویوں کی متابعت کی وجہ سے ضعف میں تخفیف  ہوگی ۔ بقیہ اسانید وطرق سے نا واقفیت کی بناء پر بعض حضرات نے اس روایت کو باطل قرار دیا، جو صحیح نہیں ہے۔ محمد بن سہل بن عمیر قصار کی توثیق مسلمۃ بن قاسم سے زین الدین قاسم بن قطلوبغا نے کتاب (الثقات ۸/۳۲۹) میں نقل کی ہے، البتہ ان کے والد کا حال معلوم نہیں ھے۔

یحیی بن عباد، اس کے باپ دادا کا بھی حال معلوم نہیں ہے، کتابوں میں ترجمہ نہیں ملا، تو سند میں مجاہیل کی وجہ سے ضعیف مانی جائے گی۔

چوتھی سند کا حال ٹھیک ہے، کسی راوی میں جرح شدید نہیں ہے، تو اس کا اعتبار کرسکتے ہیں.

پانچویں سند بھی غیرمعتبر ہے، علاء بن زید متروک منکر الحدیث ہے۔

متن حدیث کے شواہد:

ظالم حاکم سے اندیشہ کے وقت پڑھنے کی جو دعائیں وارد ہیں، ان میں اس طرح کے الفاظ منقول ہیں، جو زیربحث روایت کی تایید کرسکتے ہیں، مثال کے طور پر:

* حديث عبدالله بن مسعود: «إِذَا تَخَوَّفَ أَحَدُكُمُ السُّلْطَانَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ " - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - " وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، وَأَتْبَاعِهِمْ أَنْ يُفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ»

 رواه ابن أبي شيبة، والطبراني في الدعاء 1056، والبخاري في الأدب. 707  وهو شاهد لا بأس به إلا أنه روي مرفوعا وموقوفا.

* حديث ابن عمر: إِذَا خِفْتَ سُلْطَانًا أَوْ غَيْرَهُ، فَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ۔

 رواه ابن السني في عمل اليوم والليلة (345) وهو شاهد ضعيف.

* حديث ابن عباس: إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مَهِيبًا تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ فَقُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ، وَجُنُودِهِ، وَأَتْبَاعِهِ، وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، إِلَهِي كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ (ثَلَاثُ مَرَّاتٍ).

 رواه البخاري في الأدب المفرد 708 وابن أبي شيبة 29177 والطبراني في الدعاء 1060. وهو شاهد لا بأس به، رجاله رجال الصحيح.

اسی طرح  (بِسْمِ اللَّهِ عَلَى نَفْسِي وَدِينِي، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى أَهْلِي وَمَالِي) معرفۃ الصحابہ لأبی نعيم (1/ 438) میں بدر بن عبد اللہ مزنی  رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہیں۔

(بِسْمِ اللَّهِ خَيْرِ الْأَسْمَاءِ) التحیات کی روایات میں حضرت عمر کی روایت سے منقول ہیں، السنن الكبرى للبيهقي (2/ 203)۔

(بِسْمِ اللَّهِ خَيْرِالْأَسْمَاءِ بسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ دَاءٌ) مصنف ابن ابی شيبہ (5/ 138) میں حديث 24500.

خلاصہ: دعاء انس صحیح ہے، اس کے پڑھنے کی اجازت ہے، متن میں کوئی ایسے الفاظ نہیں ہیں جن پر شرعا کوئی گرفت ہو، اس کی اسانید میں اگرچہ ضعف ہے، لیکن تعدد طرق سے ضعف کا  انجبار ہوجائے گا ، اور اس کے الفاظ کے شواہد بھی احادیث میں وارد ہیں۔ ھذا ما تیسر جمعہ وترتیبہ، والعلم عنداللہ 

(#ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/01/blog-post_31.html

Friday, 29 January 2021

حالیہ زرعی قوانین اور اسلامی نقطۂ نظر

 حالیہ زرعی قوانین اور اسلامی نقطۂ نظر

-----------------

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی 

ترجمان وسکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

--------------------------------------

گزشتہ دنوں پارلیامنٹ سے جو زرعی قوانین پاس کئے گئے ہیں، حکومت کو ان قوانین پر اصرار ہے اور وہ قانون کے متن میں استعمال کئے گئے خوبصورت الفاظ کا سہارا لے کر کہتی ہے کہ یہ کسانوں کے حق میں ہے، کسان سراپا احتجاج ہیں کہ یہ قانون ان کے لئے انتہائی نقصاندہ اور ان کے استحصال پر مبنی ہے، تو پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ اس قانون کے کیا اثرات مرتب ہوں گے پھر دیکھنا چاہئے کہ اسلامی تعلیمات اس مسئلہ میں ہماری کیا رہنمائی کرتی ہیں؟

جہاں تک اس قانون کی بات ہے تو اس میں تین باتیں کہی گئی ہیں: اول یہ کہ کسان اس بات پر مجبور نہ ہوں گے کہ وہ سرکاری منڈی میں اور سرکارکی مقرر کی ہوئی ہی قیمت پر اپنی پیداوار فروخت کریں؛ بلکہ وہ براہ راست عوام سے اپنا مال فروخت کر سکیں گے اور اپنی پسندیدہ قیمت متعین کرسکیں گے، یہ یقیناََ بہت خوبصورت الفاظ ہیں، گورنمنٹ کہتی ہے کہ اس طرح کسان کو بااختیار بنایا گیا ہے، کسان کہتے ہیں کہ اگر حکومت کسانوں کی پیداوار نہیں خریدے گی، تو غیرسرکاری کمپنیاں ان کی پیداوار خرید کریں گی اور ہوگا یہ کہ وہ من مانی قیمت مقرر کریں گی، کسانوں میں پھوٹ ڈال کر بعض گروپوں کو اپنی طئے شدہ قیمت پر آمادہ کریں گی اور اس طرح کسان بالخصوص چھوٹے کسان مجبور ہوجائیں گے، بالآخر ان کو وہ قیمت نہیں مل پائے گی، جو سرکار کسانوں سے اناج حاصل کرنے کے لئے مقرر کرتی ہے اور ان کی پیداوار بڑی بڑی کمپنیوں پر منحصر ہوجائے گی، کسانوں کے پاس اپنی پیداوار کو دیر تک محفوظ رکھنے کے وسائل بھی نہیں ہوں گے اور نہ ہر کسان مارکیٹ میں جا کر اپنا مال فروخت کرسکے گا؛ البتہ کمپنیاں بڑے بڑے گودام بنائیں گی، سستے داموں میں پیداوار خریدیں گی اور من چاہی قیمت پر اس کو فروخت کریں گی۔

دوسرے قانون میں یہ بات کہی گئی ہے کہ یہ بات ممکن ہوگی کہ کسان پیداوار آنے سے پہلے ہی اپنی پیداوار کو فروخت کرلیں اور اپنے اختیار سے قیمت طئے کر لیں، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ فصل کو نقصان بھی ہو تب بھی ان کو پوری قیمت ملے گی، وہ کمپنیوں اور بڑے بڑے تاجروں سے تحریری معاہدہ کریں گے اور اگر کوئی اختلاف پیدا ہوا تو عدالتوں سے انہیں رجوع کرنے کا حق ہوگا، کسانوں کا کہنا ہے کہ اس قانون سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کمپنیاں قبل ازوقت بڑے پیمانے پر کسانوں کی پیداوار خرید کرلیں گی اور عملاََ چوں کہ کسان اپنی پیداوار بیچنے پر مجبور ہوگا، کمپنیاں لینے پر مجبور نہیں ہوں گی تو اس طرح قیمت کمپنیوں کے منشاء کے مطابق طئے ہوگی اور اختلاف کی صورت میں بھی کمپنیاں ہی مقدمات جیتیں گی؛ کیوں کہ کسانوں کے پاس تو اتنے پیسے ہیں نہیں کہ وہ مقامی کورٹ سے شروع کرکے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک پہنچیں؛ لیکن بڑی کمپنیوں کے پاس پیسوں کی کمی نہیں ہے، وہ اپنے مالی وسائل کی وجہ سے زیادہ بہتر طور پر مقدمہ لڑسکیں گی، اور اس میں کامیابی حاصل کریں گی۔

تیسرا قانون ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی سے متعلق ہے، ۱۹۵۵ء میں ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لئے ایک قانون بنا تھا، جس کے مطابق ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی جرم ہے اور ضروری اشیاء کی فہرست میں تقریباََ سبھی زرعی پیداوار کو شامل کیا گیا تھا؛ لیکن اب اس میں تبدیلی کر کے دال، تیل، پیاز، آلو وغیرہ جیسی بنیادی ضروریات کو ضروری اشیاء کی فہرست سے باہر کردیا گیا ہے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کمپنیاں کسانوں سے بڑی مقدار میں ان اشیاء کو خرید کرکے ذخیرہ کر لیں گی، خریدیں گی تو کم قیمت پر لیکن ان کو روک کر مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کریں گی، پھر اسے مہنگے داموں فروخت کریں گی، محنت تو کسان کرے گا مگر اس کو خاطر خواہ نفع نہیں ہوگا؛ البتہ سرمایہ داروں کو کثیر نفع حاصل ہوگا اور عوام کو سستی چیزیں مہنگی ملیں گی۔

اب اسلامی نقطۂ نظر سے اس پورے معاملہ پر غور کیجئے تو اصولی بات یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا عمل نہیں کیا جائے، جس سے فرد یا عوام کو نقصان پہنچے، جب کہ اس قانون کا ما حصل یہ ہے کہ محنت تو کسانوں کی ہوگی؛ لیکن سرمایہ کی بدولت ان کی محنت کا ماحصل بڑے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں چلا جائے گا، کسان عملاََ ان کے ہاتھ اپنا مال بیچنے پر مجبور ہوگا اور عوام کے لئے ضروریات زندگی مہنگی ہوجائیں گی، یہ بات شریعت کے دو بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، 

ایک: عدل، 

دوسرے: ضرر سے فرد اور سماج کو بچانا۔

عدل کے معنیٰ انصاف کے ہیں، 

عدل کا تقاضہ یہ ہے کہ محنت کرنے والے کو اس کی پوری اجرت ادا کی جائے، اس کو کم قیمت دے کر مال حاصل کرلینا استحصال ہے، یہ انصاف نہیں ہے؛ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’بیع مضطر‘‘ سے منع فرمایا ہے، (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۳۳۸۲، باب فی بیع المضطر) یعنی کسی شخص کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو کوئی سامان اس کی منصفانہ قیمت سے کم پر بیچنے پر مجبور کردیا جائے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’اکراہ‘‘ سے منع فرمایا ہے، (سنن کبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر: ۱۱۵۴۵) اکراہ کے معنیٰ ہیں دوسرے فریق کو مجبور کردینا کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمت گرادینا، یہ بھی اکراہ ہی کی ایک صورت ہے۔ (عون المعبود شرح سنن ابوداود، حدیث نمبر: ۳۳۸۲)

فقہاء نے اکراہ کا تجزیہ اس طرح کیا ہے کہ اس کی دو قسمیں ہیں، 

ایک: ’’اکراہ ملجئی‘‘ جس میں کسی عمل پر اس طرح مجبور کیا جائے کہ اگر وہ اس پر عمل نہیں کرے تو اس کو قتل کردیا جائے گا، یا اس کا ڈھیر سارا مال برباد کردیا جائے گا، یا اس کے متعلقین کو سخت جانی یا مالی نقصان پہنچایا جائے گا، 

دوسری صورت اکراہ غیرملجئی کی ہے، جس میں قتل وغصب کی دھمکی تو نہیں ہوتی؛ لیکن اخلاقی دباؤ کے ذریعہ کسی عمل پر مجبور کیا جاتا ہے، اسی کی ایک صورت بیع مضطر ہے کہ ایک شخص اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے پیسوں کا سخت ضرورت مند ہو اور قرض لے کر یا اپنا کوئی سامان فروخت کرکے اس ضرورت کو پورا کرنا چاہتا ہو تو اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھاکر اس کی مناسب قیمت سے کافی کم پیسوں میں اس کا سودا کیا جائے، اس قانون کی رو سے بھی یہی ہوگا کہ کسان کو کم قیمت پر اپنا مال بیچنے پر مجبور کردیا جائے گا، یہ یقیناََ ظلم ہے۔

دوسرا پہلو عمومی ضرر کا ہے، ضروری اشیاء کو اگر چند تاجر اپنے ہاتھ میں لے لیں اور پھر اسے روک کر فروخت کریں؛ تاکہ قیمتیں بڑھ جائیں تو یہ جائز نہیں، اس کو عربی زبان میں ’’احتکار‘‘ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ذخیرہ اندوزوں کو خاطی وغلط کار قرار دیا ہے، (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۳۴۴۷) اور ان پر لعنت بھی بھیجی ہے، (المستدرک علی الصحیحین، حدیث نمبر: ۲۱۶۴) ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے کے کچھ اور طریقے بھی اسلام سے پہلے اختیار کئے جاتے تھے، ان میں ایک طریقہ وہ تھا کہ جس کو حدیث ’’تلقی رکبان‘‘ (مسلم، حدیث نمبر: ۱۵۱۵) سے تعبیر فرمایا گیا ہے، اس زمانہ میں موجودہ دور کی طرح بڑی بڑی مارکٹیں نہیں تھیں، وہ اپنی جگہ سے مال لے کر چلتے، مختلف منزلوں میں اپنا مال بیچتے جاتے اور وہاں کی پیداوار خریدتے جاتے، پھر اسے اگلی منزلوں پر فروخت کرتے، یہ تجارتی قافلے مختلف شہروں اور ملکوں کے درمیان تجارت کا ذریعہ تھے، ہوتا یہ تھا کہ جب شہر کے بڑے سرمایہ داروں کو خبر ہوتی کہ فلاں جگہ سے تجارتی سامان لے کر ایک قافلہ آرہا ہے تو وہ شہر سے باہر نکل کر پورا سامان خرید کرلیتے، قافلہ شہر میں داخلہ ہوئے بغیر باہر ہی باہر آگے بڑھ جاتا، اب قیمت ان تاجروں کے ہاتھ میں ہوتی، وہ اپنی من مانی قیمت میں سامان فروخت کرتے، ان کے آگے بڑھ کر قافلہ سے سامان خریدنے کا منشاء یہی ہوتا کہ اگر قافلہ شہر کے اندر آگیا تو قیمتیں گِرجائیں گی؛ کیوں کہ جب طلب کے مقابلہ میں رسد بڑھ جائے تو فطری طور پر قیمتیں کم ہوجاتی ہیں؛ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقہ کو منع فرمایا، فقہاء نے لکھا کہ اگرچہ اس طرح خریدے ہوئے سامان پر خریدار کی ملکیت قائم ہوجائے گی؛ لیکن خریدوفروخت کا یہ معاملہ مکروہ ہوگا۔

مصنوعی گرانی پیدا کرنے کی ایک اور شکل وہ تھی جس کو حدیث میں ’’بیع حاضر للبادی‘‘ کہا گیا ہے، (بخاری، حدیث نمبر: ۲۱۶۲) یعنی دیہات کے لوگ خاص کر کاشتکار اپنا سامان بیچنے کے لئے شہر آتے، شہر کے تاجروں کو خطرہ ہوتا کہ سامان کی وافر مقدار آنے کی وجہ سے شہر میں قیمتیں گِرجائیں گی؛ اس لئے وہ ان دیہاتیوں کو کہتے کہ تم سامان ہمارے حوالہ کردو، ہم اسے بیچ کر تمیں پیسہ ادا کردیں گے، دیہات سے آئے ہوئے لوگ اس پر راضی ہوجاتے؛ کیوں کہ انہیں مناسب قیمت مل جاتی تھی اور اپنے مال کے فروخت کے لئے انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا تھا، شہر کے تاجروں کا یہ فائدہ ہوتا تھا کہ بازار میں قیمت گرتی نہیں تھی اور جو قیمت انھوں نے مقرر کررکھی تھی، وہ قیمت جاری رہتی تھی؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت کو بھی منع فرمادیا۔

خریدوفروخت کی اِن صورتوں کو منع فرمانے کی حکمت یہی تھی کہ عوام کو نقصان سے بچایا جائے، فصل کی پیداوار آنے یا مارکیٹ میں زیادہ سامان آنے کی وجہ سے جو ارزانی پیدا ہوتی، وہ نہ ہونے پائے، اور اس کا عام لوگوں کو نقصان ہوتا، غور کریں تو یہ زرعی قوانین جہاں کسانوں کے لئے نقصان دہ ہیں، وہیں عوام کے لئے بھی پریشان کن ثابت ہوں گے، ان ہی بنیادی ضروریات بھی مہنگے داموں خریدنی پڑیں گی اور غریبوں کے لئے اپنی دال روٹی کا انتظام بھی مشکل ہو جائے گا، الغرض کہ یہ قانون ایک طرف کسانوں کا استحصال کرتا ہے، پھر اس سے ایک اور نقصان یہ ہوگا کہ زرعی پیداوار کے ذریعہ پہلے ہی سے کسانوں کو کم آمدنی حاصل ہو پاتی ہے، بعض دفعہ تو جو خرچ کیا جاتا ہے، وہ بھی نہیں مل پاتا، اس کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں کسان اپنی آبادیوں کو چھوڑ کر محنت ومزدوری کے لئے شہر کے طرف آرہے ہیں اور وہ اپنے بال بچوں کے لئے چاہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس پیشہ سے دور رکھیں، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آہستہ آہستہ زرعی پیداوار کم ہوتی جائے گی، اور بنیادی ضروریات کی قلت پیدا ہوجائے گی، یقیناََ یہ بہت بڑا قومی نقصان ہوگا، اس میں شبہ نہیں کہ حکومت زیادہ قیمت پر کسانوں سے اناج خرید کرتی ہے اور کم قیمت پر عوام کو فروخت کرتی ہے، کسی وزیر کا بیان آیا تھا کہ اس کی وجہ سے حکومت کو ہر سال ایک ہزار کروڑ کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، کتنی عجیب بات ہے کہ سرمایہ دار گھرانوں کا غصب کیا ہوا ہزاروں ہزار کروڑ کا قرض تو معاف کردیا جائے؛ لیکن جو کسان دھوپ، ٹھنڈ اور بارش کی پروا کئے بغیر کھیتی کرتا ہے اور پورے ملک کو ضروریات زندگی فراہم کرتا ہے، اس کے مفاد کے لئے ایک ہزار کروڑ بھی برداشت نہیں کیا جائے! (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/01/blog-post_29.html



Sunday, 24 January 2021

غلطی ہائے مضامین ۔۔۔ ہم جو کہتے ہیں سراسر غلط

غلطی ہائے مضامین ۔۔۔ ہم جو کہتے ہیں سراسر غلط 
زیرنظر کالم کا مستقل عنوان غالبؔ کی ایک غزل کے مشہور شعر سے ماخوذ ہے:۔
غَلَطی ہائے مضامیں مت پوچھ
لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
(یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس شعر میں’’مضامیں‘‘ کو نون غُنّہ کے ساتھ پڑھا جائے گا، کچھ لوگ غلط طور پر ’’ن‘‘ ناطق کے ساتھ پڑھتے ہیں۔)
یوں تو یہ پوری غزل ہی غالبؔ نے خوب باندھی ہے، مگر اس معترضانہ شعر پر کئی اعتراضات ہوئے۔ ایک تو غالب نے پہلی بار کسی شعر میں لفظ ’’غَلَطی‘‘ استعمال کیا۔ اس سے قبل ایسی غلطی کسی نے نہیں کی تھی۔ ’’غلطی‘‘ کے لئے بھی لفظ ’’غلط‘‘ ہی استعمال ہوتا تھا، کہ فارسی میں ایسا ہی ہے۔ میرؔ کا یہ شعر اس کی مثال ہے:۔
غلط اپنا کہ اُس جفا جو کو
سادگی سے ہم آشنا سمجھے
اس شعر میں میرؔ نے اپنی ’’غلطی‘‘ ہی کا اعتراف کیا ہے، یعنی خطا میری ہی تھی۔ مگر اسے ’’اپنی غلطی‘‘ نہیں کہا ’’اپنا غلط‘‘ قرار دیا۔ تاہم غالبؔ کی غلطی سے اردو میں ’’غلطی‘‘ عام ہوگئی۔ مشہور مقولہ ہے غَلَط العام فصیحٌ۔ یعنی جو غلطی عام ہوجائے اور جسے فصحا جائز قرار دیں وہ فصیح سمجھی جائے گی۔ پس اب ’غلطی‘کہنا غلط نہیں رہا۔ البتہ ایسی غلطی جو عام لوگ اپنی ناواقفیت اور جہالت کی وجہ سے کرتے ہوں اور جس کو فصحا صحیح نہ مانتے ہوں (جیسے تابع کی جگہ تابعدار لکھنا اور بولنا) تو ایسی غلطیوں کو غلط العوام کہا جاتا ہے اور قبول نہیں، رَد کردیا جاتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ اس شعر میں ’’نالے کو رسا باندھنا‘‘ غلطی قرار دیا گیا ہے، بلکہ ’’غلطی ہائے مضامیں‘‘۔ اس کے باوجود غالبؔ نے خود بھی جا بجا نالے کو رسا باندھ رکھا ہے۔ مثلاً:۔
دل میں آجائے ہے، ہوتی ہے جو فرصت غش سے
اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں
خیر، اپنا اپنا تجربہ ہے۔ غالبؔ کا تجربہ یہ تھا کہ ان کے نالے (یعنی آواز کے ساتھ رونے دھونے) کی کہیں رسائی نہیں۔ لہٰذا ’’نالے کو رسا باندھنا‘‘ ٹھیک نہیں۔ اپنا تجربہ ذرا مختلف ہے۔ ہمارے ہاں جب سیلابی بارش ہوتی ہے تو راولپنڈی کے نالہ لئی اور کراچی کے لیاری نالے سمیت ہر نالے کی رسائی شہر بھر تک ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد کسی کی، کسی تک رسائی نہیں رہتی۔ سو، پنڈی میں تو ہم نے خود دیکھا ہے کہ لوگ نالے پر رسّا باندھ باندھ کر نالہ پار کے لوگوں تک رسائی کرتے رہتے ہیں۔
لڑکپن میں ہم اپنے ساتھیوں سے ایک سوال کیا کرتے تھے:۔
’’بتائیے وہ کون سا لفظ ہے جسے بڑے بڑے عالم فاضل لوگ بھی غلط لکھتے، غلط پڑھتے اور غلط بولتے ہیں؟‘‘
سوال سنتے ہی سب سوچ میں پڑجاتے۔ جب اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑا دوڑا کر (مع اپنے گھوڑوں کے) تھک جاتے تو ہم انھیں فخر سے بتاتے:
’’وہ لفظ، خود لفظِ ’’غلط‘‘ ہے۔ ’’غلط‘‘ کو اگر غلط نہ لکھا جائے، غلط نہ پڑھا جائے اور غلط نہ بولا جائے تو اور کیا کیا جائے؟‘‘
مگر اب ہمارے ذرائع ابلاغ نے بتادیا ہے کہ ’’اور کیا کیا جائے‘‘۔ اِس ضمن میں انھوں نے یہ طے کیاکہ جب ہم دوسرے الفاظ کے غلط تلفظ عام کررہے ہیں، تو لفظ ’’غلط‘‘ کو کیوں بخشا جائے؟ چناں چہ اب ’’غلط‘‘ کا بھی غلط تلفظ عام کیا جارہا ہے۔ غلط کے ’’ل‘‘ کو جزم کے ساتھ (یعنی لام ساکن) بولا جانے لگا ہے۔ جب کہ ’’غلط‘‘ اور’’غلطی‘‘ میں غین اور لام دونوں پر زَبر ہے۔ رندؔ کہتے ہیں:۔
ہم جو کہتے ہیں سراسر ہے غَلَط
سب بجا آپ جو فرمائیے گا
لُغوی اعتبار سے غلط کا مطلب ہے ’’خطا کرنا‘‘۔ جیسا کہ اوپر میرؔ کے شعر سے ظاہر ہے۔ مگر اب لفظ ’’غلطی‘‘ رائج ہوجانے کی وجہ سے اردو میں غلط کا مطلب نادرست، غیرصحیح، بگڑا ہوا، خلافِ واقعہ اور جھوٹ ہے۔ جب کہ غلطی کا مطلب لغزش، قصور اور خطا ہے۔
عربی اور فارسی کا لفظ ہونے کی وجہ سے غلط کی جمع اغلاط ہے۔ مگر غلطی چوں کہ صرف اردو بولنے والے ہی کرتے ہیں، چناں چہ غلطی کی جمع غلطیاں ہے۔ غلط کا تابع مہمل سَلَط ہے۔ ’’کیسی غلط سلط باتیں کررہے ہو!‘‘ غلط کے ساتھ دوسرے الفاظ نتھی کرکے نئے معانی بنالئے جاتے ہیں۔ مثلاً ’’غلط انداز‘‘۔ اس کا مطلب ہے نشانے پر نہ لگنے والا تیر، یا نشانے تک نہ پہنچنے والی نگاہ۔ فضل احمد کریم فضلیؔ کا شعر ہے:۔
اُس نگاہِ غلط انداز سے بچنا کیسا؟
اور گھایَل ہوا جو دُور نشانے سے رہا
’’رَہا‘‘ پر یاد آیا کہ اس کا ایک مطلب کسی کام سے رُک جانا یا باز رہنا بھی ہے۔ فضلیؔ کی اسی غزل کا مطلع ہے:۔
میں اُنھیں حالِ دلِ زار سنانے سے رہا
آہ کرنے سے رہا، اشک بہانے سے رہا
اگر کوئی بات سمجھنے میں غلطی ہوجائے تو اُسے ’’غلط فہمی‘‘ کہتے ہیں۔ اپنی ناسمجھی یا کسی اور وجہ سے کچھ غلط سمجھ لینے کو (میم پر پیش کے ساتھ) مُغالَطہ ہونا کہا جاتا ہے، اور جان بوجھ کر کسی واقعے میں غلط باتیں بیان کرنا مُغالَطہ پیدا کرنا کہلاتا ہے۔ محاورہ تو سمجھنے یا سمجھانے میں ’’غلطی ہونا‘‘ اور ’’غلطی کرنا‘‘ ہے، مگر ذرائع ابلاغ ہی سے معلوم ہوا کہ بعض لوگوں کو ’’غلطی لگتی‘‘ بھی ہے اور بڑے زوروں سے لگتی ہے۔ پچھلے سنیچر کوایک ٹی وی چینل سے ’’علم و حکمت‘‘ کی باتیں سنتے ہوئے یہ جان کر حد درجہ حیرت ہوئی کہ ہمارے عالم و فاضل برادرِ بزرگ علّامہ جاوید احمد غامدی کو بھی ’’غلطی لگی‘‘ اور اچھی خاصی لگی۔ اس کے باوجود یہ لوگ اپنی غلط اُردو دُرست کرنے کی فکر نہیں کرتے۔ غلط فہمی ہی کی طرح غلط گوئی، غلط بیانی اور غلط بخشی بھی ہے۔ ’’غلط بخشی‘‘ بے موقع سخاوت دکھانے کو کہتے ہیں۔ نہیں معلوم کہ صحیح ہے یا غلط، مگر ایک قصہ مشہور ہے کہ تیمور لنگ ایران فتح کرتے ہوئے جب شیراز پہنچا تو اُس نے حافظؔ شیرازی کو اپنے دربار میں طلب کیا۔ تیمور کو حافظؔ کے بہت سے اشعار زبانی یاد تھے۔ حافظؔ شیرازی خاصے خوش پوش تھے۔ اچھے سے اچھا لباس پہنا کرتے تھے۔ مگر تیمور کے دربار میں گئے تو معمولی کپڑے پہن کر گئے تاکہ بظاہر غریب نظر آئیں۔ جب وہ تیمور کے سامنے جاکر مؤدب کھڑے ہوگئے تو بادشاہ نے تیوریوں پر بل ڈال کر پوچھا: ’’یہ شعر تمھارا ہے؟
اگر آں تُرکِ شیرازی بدست آرد دلِ ما را
بخالِ ہندوش بخشم سمرقند و بخارا را‘‘
(اگر وہ شیرازی تُرک [مُراد ہے محبوب] میرا دل اپنے ہاتھوں میں لے لے تو میں اُس کے سیاہ تل پر سمرقند و بخارا نچھاور کردوں)
تیمور کی زبان سے حافظؔ کو اپنا شعر سن کر خوش گوار حیرت ہوئی اور سر جھکا کر کہا:’’ہاں اے بادشاہ! یہ میرا ہی شعر ہے‘‘۔
بادشاہ نے غصے بھری رعونت سے کہا:۔
’’سمر قند کو ہم نے قیمتی جانیں گنواکر بزورِ شمشیر حاصل کیا ہے۔ پھر دنیا بھر سے نوادرات لاکر اسے مزیّن کیا اور اُس کے حسن وجمال میں چار چاند لگائے۔ اِدھر تم ہو کہ اس عظیم شہر کو مفت میں شیراز کی ایک دوٹکے کی چھوکری کو بخشے دے رہے ہو‘‘۔
بادشاہ کا غیظ و غضب دیکھ کر حافظؔ پہلے تو بہت سٹپٹائے اور گھبرائے کہ آج تو بُرے پھنسے، اس شعر نے تو جان لے لینے میں کوئی کسر ہی نہیں چھوڑی۔ پھر ہمت کرکے اپنے ملبوس کی طرف اشارہ کیا اور کہا:۔
’’اے امیرِ تاتار! انھی غلط بخشیوں نے تو اِس حال کو پہنچایا ہے‘‘۔
’’این جواب بادشاہ را خوش آمد‘‘
یعنی یہ جواب بادشاہ کو پسند آیا اور اُس نے بہت سا انعام و اکرام دے کر حافظؔ کو رخصت کیا۔
https://saagartimes.blogspot.com/2021/01/blog-post_24.html



Saturday, 23 January 2021

سیاست کا کیا مطلب ہے؟

سیاست کا کیا مطلب ہے؟

لغت میں سیاست کے معنیٰ: 

حکومت چلانا اور لوگوں کی امر و نہی کے ذریعہ اصلاح کرنا ہے۔

اصطلاح میں: فن حکومت اور لوگوں کو اصلاح سے قریب اور فساد سے دور رکھنے کو سیاست کہتے ہیں۔

قرآن میں سیاست کے معنی: حاکم کا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرنا، معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دینا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا اور رشوت وغیرہ کو ممنوع قرار دینا ہے' دین اسلام کو اپنی اصل روح میں بھرپور طریقے سے نافذ کرنا۔

حدیث میں سیاست کے معنی: عدل و انصاف و فلاحی معاشرے کا قیام' اور تعلیم و تربیت کے ہیں۔

فلسفہ کی نظر میں: فلسفہ کے نزدیک فن حکومت، اجتماعی زندگی کا سلیقہ، صحیح اخلاق کی ترویج وغیرہ سیاست ہے۔

چوں کہ انسان خود بخود مندرجہ بالا امور سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا،لہٰذا کسی ایسے قانون کی ضرورت ہے جو انسانوں کو بہترین زندگی کا سلیقہ سکھائے، جس کو دین کہتے ہیں۔

اسلام میں سیاست اس فعل اور عمل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگ اصلاح کے قریب اور فساد سے دور ہوجائیں۔ اہل مغرب فنِ حکومت کو سیاست کہتے ہیں۔ امور مملکت کا نظم ونسق برقرار رکھنے والوں کو سیاستدان کہا جاتا ہے۔

اسلام دراصل ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور دین کا مفہوم تقریباً ہی سیاست کے بنتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیتیں موجود ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں، بلکہ قرآن کا بیشتر حصّہ سیاست پر مشتمل ہے، مثلاً عدل و انصاف، امربالمعروف و نہی عن المنکر، مظلوموں سے اظہارِ ہمدردی وحمایت ،ظالم اور ظلم سے نفرت اور اس کے علاوہ انبیا کرام علیہم الصلوۃ والسلام' چوٹی کے آصحاب الرسول' اہل بیت العظام اور اولیأ کرام کا اندازِسیاست بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔

وَ قَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ  اِنَّ اللّٰہَ قَدۡ بَعَثَ لَکُمۡ طَالُوۡتَ مَلِکًا ؕ قَالُوۡۤا  اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہُ الۡمُلۡکُ عَلَیۡنَا وَ نَحۡنُ اَحَقُّ بِالۡمُلۡکِ مِنۡہُ وَ لَمۡ یُؤۡتَ سَعَۃً مِّنَ الۡمَالِ ؕ قَالَ  اِنَّ اللّٰہَ  اصۡطَفٰٮہُ عَلَیۡکُمۡ وَ زَادَہٗ بَسۡطَۃً فِی الۡعِلۡمِ وَ الۡجِسۡمِ ؕ وَ اللّٰہُ یُؤۡتِیۡ مُلۡکَہٗ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ  وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۷﴾ سورہ البقرۃ آیت نمبر 247

ترجمہ: اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ: اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ بناکر بھیجا ہے۔ کہنے لگے: بھلا اس کو ہم پر بادشاہت کرنے کا حق کہاں سے آگیا؟ ہم اس کے مقابلے میں بادشاہت کے زیادہ مستحق ہیں، اور اس کو تو مالی وسعت بھی حاصل نہیں۔ نبی نے کہا: اللہ نے ان کو تم پر فضیلت دے کر چنا ہے اور انہیں علم اور جسم میں (تم سے) زیادہ وسعت عطا کی ہے، اور اللہ اپنا ملک جس کو چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔ آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی

ہُوَ الَّذِیۡۤ  اَرۡسَلَ  رَسُوۡلَہٗ  بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ  لِیُظۡہِرَہٗ  عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ  شَہِیۡدًا ﴿ؕ۲۸﴾ سورہ الفتح آیت نمبر 28

ترجمہ: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے۔ اور (اس کی) گواہی دینے کے لیے اللہ کافی ہے۔  آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی

ان آیات سے ان لوگوں کے سیاسی فلسفہ کی نفی ہوتی ہے جو سیاست کے لئے مال کی فراوانی وغیرہ کو معیار قرار دیتے ہیں ،سیاستدان کے لئے ذاتی طور پر ”دولت مند“ ہونا کافی نہیں ہے بلکہ اسے عالم باعمل اور شجاع (دلیر) ہونا چاہئے۔

جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو

جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

(شاعرِمشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ)

مرادِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم' خلیفۂ الراشد الثانی امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہٗ کا دورِخلافت کرۂ ارض پر عالمِ انسانیت کے لئے ایک بہترین فلاحی اور اصلاحی حکومت کا نمونہ تھا جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ سیاست کو اگر دینِ حق سے جُدا کردیا جائے تو سیاست کا وہی حال ہوتا ہے جو آج کل دُنیائے سیاست کا ہے۔ ۔۔۔!

ایک دفعہ خلیفۂ الثانئ الاسلام' امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی الله تعالٰی عنہٗ مسجد نبوی ﷺ میں منبرِ رسول اللہ ﷺ پر کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ: "اے عمر! ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہیں بتاؤگے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ دُگنا ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا تمہارے حصّے میں ملا تھا وہ اس سے آدھا تھا"۔ تو سیّدنا عمر فاروق رضی الله تعالٰی عنہٗ نے کہا کہ: "کیا اس مجمع میں میرا بیٹا عبدالله ابنِ عمر موجود ہے؟ "۔ چنانچہ سیدنا عبدالله بن عمر رضی الله تعالٰی عنہٗ کھڑے ہوتے ہیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی الله تعالٰی عنہٗ نے پوچھا کہ بیٹا بتاؤ کہ: "تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے؟ ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے میں قیامت تک اس مبارک منبر پر نہیں چڑھوں گا۔" سیدنا عبداللہ ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بتایا  کہ: "بابا کے حِصّہ میں جو کپڑا ملا تھا وہ ناکافی تھا کہ حِصّہ بقدرِجُثّہ آپ کا پورا جسم ڈھانپ سکے جبکہ آپ کے پاس پہلے سے پہنا ہوا جو لباس تھا وہ بھی بہت حد درجہ کا خستہ حال ہوچکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنے حِصّے کا کپڑا اپنے والد گرامی کو دے دیا تاکہ آپ پورا لباس زیب تن کرسکیں."

ابن سعد اپنے طبقات میں یہ واقعہ بھی بیان کرتے ہیں کہ: "لوگ ایک دن امیرالمؤمنین سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کنیز (باندی) کا گزر ہوا۔ اُن لوگوں میں سے بعض کہنے لگے یہ باندی امیرالمؤمنین کی ہے۔ آپ (حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہٗ) نے سنتے ہی یہ فرمایا کہ: "امیرالمؤمنین کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ اللہ جل جلالہٗ کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لئے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے"۔

اپنے دورخلافت میں جب آپ رضی اللہ تعالٰی عنہٗ کسی شخص کو بطورِگورنر یا عاملِ حکومت تقرری کرکے کسی خطے میں بھیجتے تو یہ شرائط بتادیتے کہ:

"1- ترکی گھوڑے پر کبھی سوار نہیں ہونا؛

2۔ عمدہ کھانا کبھی نہ کھانا؛

3۔ باریک یا ریشمی کپڑا کبھی نہ پہننا اور؛

4۔ حاجت مندوں کی داد رسی کرتے رہنا۔"

اگر کسی گورنر یا عمالِ حکومت کو ان شرائط کی پاسداری کرتے نہ پاتے تو احتساب کرتے اور سزائیں دیتے۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/01/blog-post.html