حرارتِ غریزی کیا ہوتی ہے؟
حرارتِ غریزی کے متعلق اگر حکماء متقدمین اور متاخرین میں اختلافات ہیں لیکن وہ سب اس امر پر متفق ہیں کہ حرارتِ غریزی ایک ایسی حرارت ہے جو قیامِ نطفہ کے وقت مرد اور عورت کے مادہ تولید کے ملنے کے ساتھ پیدا ہوتی ہے اور اسی پر زندگی قائم ہے اور جب وہ ختم ہوجاتی ہے تو موت واقع ہوجاتی ہے، اس لئے اس کو حرارتِ اصلیہ بھی کہتے ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق حرارت غریزی بڑھائی نہیں جاسکتی۔
اس کے برعکس فرنگی سائنس اس امر کو تسلیم کرتی ہے کہ حرارتِ غریزی کوئی حرارتِ اصلیہ نہیں ہے بلکہ جسمِ انسان میں پیداشدہ حرارت کا نام ہے، اس کو جس قدر بھی چاہے انسان بڑھاسکتا ہے۔ ان دونوں مقدمات میں جو مغالطہ ہے وہ اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ روح کو شعلہ تسلیم کرلیا جائے اور حرارتِ غریزی کو جلنے والا مادہ (بتی) تو حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ شعلہ پھر روشن نہیں کیا جاسکتا، اگرچہ حرارتِ غریزی کو زیادہ سے زیادہ جس قدر بھی بڑھایا جائے، اس سے دو مقدمات واضح ہوجاتے ہیں کہ انسان حرارتِ غریزی کے ساتھ زندہ ہے اور حرارتِ غریزی بڑھائی بھی جاسکتی ہے اور اگر شعلہ کو روشن رکھا جائے تو اس طرح انسان ایک لمبی عمرتک زندہ رہ سکتا ہے۔ دلیل کے طور پر ہم چند شواہد بھی پیش کرسکتے ہیں۔ مثلاً پیدائش کے بعد تندرست بچہ کا مرجانا یا تندرست نوجوان کا دم گھٹ جانا یا ڈوب جانا، بلند مقام سے گرکر مرجانا اور بہت خون خارج ہوجانے کے بعد موت کا واقع ہوجانا۔ ان سب حقائق سے صاف ظاہر ہے کہ حرارتِ غریزی تو جسم میں قائم تھی مگر روح کا شعلہ بجھ گیا ہے اور اسی پر زندگی کا دارومدار ہے۔ کچھ اسی طرح کا علم قرآنِ حکیم سے روح کے متعلق حاصل ہوتا ہے۔ حضرت رسولِ کریم ﷺ سے روح کے متعلق سوال کیا جاتا ہے۔
یسلونک من روح
روح کے متعلق وہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں۔
قل الروح من امر ربی۔ (بنی اسرائیل)
کہہ دو کہ روح میرے رب کا امر ہے۔
رب کو ہم نے شعلہ اور نور سے تشبیہ دی ہے اور امر وہ عمل ہے جو رب کی طرف سے صادر ہوتا ہے۔ اس سےصاف ظاہر ہے کہ روح ایک شعلہ ، نور اور روشنی ہے جو ضرورت کے وقت رب العالمین کے حکم سے اپنا امر پورا کرتی ہے۔ حکماء نے جسمِ انسان میں ایک طبی روح تسلیم کی ہے جس کو مذہبی روح سے ایک الگ ہستی قرار دیا ہے۔ اس روحِ طبی کے متعلق اس طرح کہا گیا ہے کہ
الروح
اس سے صاف ظاہرہے کہ طبی روح ایک لطیف گیس ہے جو جلتی ہے اور شعلہ قبول کرتی ہے۔ فرنگی سائنس نے اس کو آکسیجن سے تشبیہ دی ہے۔ اس کو حرارتِ غریزی کہہ لیاجائےیاحرارتِ غریزی کے ممدومعاون کرنے والا مادہ۔اس توضیح سے ہم زندگی کے بہت قریب پہنچ جاتے ہیں یعنی ہم حرارتِ غریزی (جلنے والی بتی) پیداکرسکتے ہیں۔ البتہ اس میں شعلہ کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے اگرہم موجودہ دورکےان سائنسدانوں کے تجربات کی طرف غورکریں کہ انہوں نے بعض چھوٹے چھوٹے جانوروں کوماردینے کےکئی گھنٹوں بعد زندہ کیاہے یا ایسے انسانوں کو دوبارہ زندگی بخشی ہے جوڈوب کر مرگئے تھے یا بجلی کے شاک سے مرگئے تھے یاآکسیجن کے ٹینٹ میں مرنے والوں کو زندہ رکھ کران کو موت سے باہر گھسیٹ لیا تو تسلیم کرناپڑے گا کہ آئندہ بہت جلد انسان اس امرپر قابوپالے گا کہ وہ روح کا شعلہ پھر روشن کردے۔ تجربہ صرف یہ کرنا ہے کہ حرارتِ غریزی کو کس گیس سے روشن کیا جاسکتا ہے۔ اس میں مذہب کے خلاف کوئی بات پیدانہیں ہوتی وہ بھی امرِ ربی ہی ہوگا بلکہ یوں خیال کرنا چاہیے کہ خداوندِ حکیم نے ہمیں خود زندگی کے طریق سے آگاہ کردیاہے۔
رطوبتِ غریزی
حرارتِ غریزی کی طرح حکماء متقدمین و متاخرین رطوبتِ غریزی کوبھی رطوبتِ اصلیہ کہتے ہیں جو بوقتِ نطفہ قائم ہوتی ہے اور مدت تک قائم رہتی ہے۔ اس میں کمی بیشی نہیں کی جاسکتی اس لئے جوانی واپس نہیں آسکتی اور موت کا علاج ممکن نہیں ہے۔جس کے لئے دلیل یہ دی جاتی ہےکہ انسان کے اعضائے اصلیہ جو رطوبتِ غریزی یا رطوبتِ اصلیہ سے تیارہوتے ہیں اگران میں نقصان واقع ہوجائے تو وہ دوبارہ نہیں بن سکتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں بھی حرارتِ غریزی کی طرح وہی مغالطہ ہےکیونکہ جب حرارتِ غریزی کی پیدائش ممکن ہے جوایک آفاقی شے ہے۔ جیساکہ ہم پہلے ثابت کرچکے ہیں۔ تو رطوبتِ غریزی کی پیدائش کیوں ممکن نہیں جوخالص ارضی شے ہے۔ جہاں تک اعضاء اصلیہ کا تعلق ہے وہ صرف ایک بوند سے تمام جسم ِ انسانی کو کیسے تکمیل کرسکتے ہیں۔ جب مادہ تولیدمرداورعورت کا مل کرنطفہ قرار پاتا ہے تو وہ تین حصوں میں تقسیم ہوجاتاہے۔(1)۔ بنیادی اعضاء ۔ (2)۔ حیاتی اعضاء۔ (3)۔ خون۔بنیادی اعضاء میں ہڈی و رباط اور اوتار بنتے ہیں۔ اس کی اصل الحاقی مادہ (Connective Tissues) سے ہوتی ہے۔ حیاتی اعضاء سےاعصاب جن کا مرکزدماغ، عضلات جن کا مرکز دل اور غدد جن کا مرکز جگرہے۔ دل ودماغ جگریہی تینوں اعضاء رئیسہ ہیں جو عضلاتی ، اعصابی اورایپی تھل سے تیار ہوتے ہیں۔جن کی بافتیں (ٹشوز) بنے کے بعد اعضاء تیار ہوتے ہیں۔ خون جو مرکب عناصر اور حامل روح طبی اور حرارت ہے جس سے ہمیشہ بنیادی اور حیاتی اعضاء کوغذاملتی رہتی ہے۔جس طرح ہڈی کے ٹوٹ جانے کےبعد اس کے خلیے پھر بڑھ کر آپس میں جڑ جاتے ہیں بالکل اسی طرح گوشت اور غدد کے خلیے بھی بڑھ کر آپس میں جڑ جاتےہیں کمی صرف یہ رہ جاتی ہے کہ ان کے درمیان ایک گرہ سی پڑ جاتی ہےجس سے ان میں فرق پڑجاتا ہے اس وجہ سے ان میں بجلی کی روپورے طورپرگزر نہیں سکتی۔دوسرے طبیعت جو تمام جسم کی پرورش کی ذمہ دار ہے کسی خاص عضو کی طرف انتہائی طورپر متوجہ نہیں ہوسکتی اس لئے اعضاء کی دوبارہ نشووارتقاء ذرا مشکل ہوجاتی ہے ورنہ اعضاء اصلیہ بھی دوبارہ بن جاتے ہیں جس کی مثال دانت ہیں یعنی اگرجسم میں ان کا مادہ کافی مقدار میں ہے تووہ پھر بھی نکل آتے ہیں۔ ناخن اور بال ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں لیکن جب ان کامادہ خراب ہوجاتا ہے تو ان میں خرابی واقع ہوجاتی ہے۔ مجھے ایک لڑکی کو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس کے پاؤں میں الحاقی مادہ کی کثرت سے پاؤں کے تلوؤں میں انگلی انگلی موٹے کانٹے پیداہوجاتے تھے اس بیچاری کا چلنا پھرنا انتہائی مشکل ہوجاتاتھا، جب وہ کٹوا دئیے جاتے تو دوبارہ نکل آتے تھے ۔ ان حقائقق سے ثابت ہے کہ رطوبتِ غریزی ہمیشہ تیارر ہوتی رہتی ہےاور جسم ِانسان میں خرچ ہوتی رہتی ہے۔ یہ رطوبتِ غریزی وہی رطوبتِ اصلیہ نہیں ہے جو نطفہ کے ساتھ قائم ہوئی تھی اور موت تک قائم رہتی ہے۔ البتہ یہ تسلیم کرنا پڑے گاکہ رطوبتِ غریزی یا رطوبتِ اصلیہ اس رطوبت کانام ہے جو چوتھے ہضم کے بعد جسم انسان میں جذب ہوجاتی ہے اور اعضاء بننے یا حرارتِ غریزی کی غذا بننے کے لئے تیار ہوجاتی ہےاور اعضاء بننے یا حرارتِ غریزی کی غذابننے کے لئے تیار ہوجاتی ہے اور کم و بیش یہ ہمیشہ تیار ہوتی رہتی ہے۔اسی رطوبت پر زندگی و جوانی اور صحت و خوبصورتی کا دارومدار ہے۔ جب اس میں کمی بیشی و خرابی اور فساد واقع ہوجاتا ہے تو مرض وبڑھاپا اور بدصورتی کے اثرات ہوجاتے ہیں ۔ بس اس کی صحیح پیدائش اور حفاظت ہی زندگی ہے۔
رطوبتِ غریزی کی پیدائش
رطوبتِ غریزی جس کو ہم ثابت کرچکے ہیں کہ یہی رطوبتِ اصلیہ ہے جو نطفہ حمل کے وقت مادہ تولید میں منتقل ہوجاتی ہے۔ یہی اس پر زبردست دلیل بھی ہے کیونکہ مادہ تولید ہمیشہ رطوبتِ غریزی سے پیدا ہوتا رہتاہے جس کو خصیے اور دیگر عناصرتیار کرتے رہتے ہیں۔ رطوبتِ غریزی چوتھے ہضم کے بعد پیداہوتی ہے جیسا کہ اوپرذکر کیاگیاہے۔ پہلاہضم اس وقت شروع ہوتا ہے جب غذامعدہ میں جاتی ہے اور وہ رطوبتِ معدی کے ملنے سےآش جو کی صورت میں محلول ہوجاتی ہے اس کو کیلوس اور فرنگی طب میں کیموس کہتے ہیں۔ اس کا لطیف حصہ جوزیادہ تر نشاستہ پرمشتمل ہوتا ہے مجریٰ صدر کے ذریعے دل میں چلاجاتا ہے اس کا ثقیل حصہ اثنا عشری آنت کے راستےامعاء میں اترجاتا ہے جہاں دوسرا ہضم شروع ہوتا ہے۔ اس ہضم میں امعائی رطوبات کے علاوہ جگر سے صفراء اور لبلبہ کی رطوبات شامل ہوتی ہیں۔ اس ہضم کا لطیف حصہ عروقِ ماساریقا کے راستےجگر میں جذب ہوجاتا ہے جہاں پر تیسرا ہضم شروع ہوتا ہے۔ جگر میں کیموس حرارت سے پکتا ہے اور باقی اخلاط کے ساتھ خون کی سرخ رنگت اختیارکرلیتا ہے پھراوردہ کے ذریعے دل میں پہنچ کرشش کے ذریعے سے صاف ہوکر شریانوں کے ذریعے عروقِ شعریہ کےراستے غدد کی وساطت جسم پر شبنم کی طرح ترشح پاتا ہے جس کو رطوبتِ طلیہ(Lymph) کہتے ہیں۔یہ چوتھا ہضم ہے جہاں یہ جذب ہوکرکیسوں(Cell) میں چلی جاتی ہے اور یہی رطوبتِ غریزی یا رطوبتِ اصلیہ ہے۔ ہم نے ہضم غذاکی اس حالت کوکہا ہے جب غذاکسی حصہ جسم میں تحلیل ہوکر اپنی شکل بدل دے اور قابلِ جذب بن جائے۔ بعض حکماء اور اطباء نے ہضم اس صورت کا لکھاہے جب غذاایک حصۂ جسم سے دوسرے حصۂ جسم میں جذب ہوجائے۔ یہ مغالطہ ان کو اس لئے پیداہواہے کہ انہوں نے ہضم میں چارقوتوں کو تسلیم کیاہے()قوتِ جاذبہ(2)قوتِ ماسکہ(3)قوتِ ہاضمہ(4)قوتِ دافعہ۔ یعنی ان کے بغیر ہضم نہیں ہوگی وہ مکمل ہضم نہیں کہلا سکتی۔ بہرحال دونوں صورتوں میں کوئی خاص فرق پیدانہیں ہوتا۔ بہرصورت رطوبتِ غریزی یا رطوبتِ اصلیہ اس طرح تیار ہوتی ہے۔
مقامِ رطوبتِ غریزی
رطوبت غریزی کا مقام وہ کیسے(Cells) ہیں جن سے جسمِ انسان تیارہوتا ہےجیساکہ ہم اوپر تشریح کرچکے ہیں۔ یہ چار قسم کے ہوتے ہیں۔
(1)عصبی کیسے (Neural Cells)۔
(2) عضلاتی کیسے (Muscular Cells)۔
(3) غدی کیسے (Epithelial Cells)۔
(4) الحاقی کیسے (Connective Cells) جن کے آپس میں ملنے سے بافتیں اور ساختیں (Tissues) تیار ہوتے ہیں۔
اور انہی چار اقسام کی بافتوں اور ساختوں سے مکمل انسانی جسم تیار ہوتا ہے جیساکہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔ جاننا چاہئے کہ اگر چاروں ہضم درست رہیں گے تو رطوبتِ غریزی صحیح تیار پر ہوگی۔ جس سےصحت و جوانی اور خوبصورتی قائم رہے گی اور اگر یہ رطوبتِ غریزی صحیح طور پر تیار نہ ہوئی یعنی اس میں کمی بیشی و خرابی اور فساد واقع ہوا تو مرض اسی مقام پر ہوگا۔ یعنی اگر پہلے ہضم میں خرابی ہوئی تو امراض نظامِ غذائیہ میں پیدا ہوں گے جن کا تعلق عضلات سے ہے جن کا مرکز دل ہے۔ اس نظام کا فضلہ براز ہے۔ اگر خرابی دوسرے ہضم میں پیدا ہوگی تو امراضِ نظامِ بولیہ میں پیدا ہوں گے۔ جن کا تعلق غدد کے ساتھ ہے، جن کا مرکز جگر ہے اس نظام کا فضلہ بول ہے۔ اگر خرابی تیسرے ہضم میں پیدا ہوگی تو امراضِ دمویہ پیداہوں گے جن کا تعلق اعصاب سے ہے جن کا مرکز دماغ ہے اس کا فضلہ پسینہ ہے۔ اگر خرابی چوتھے ہضم میں ہوگی تو امراض ہوائیہ پیداہوں گے جن کا تعلق روح طبعی کے ساتھ ہے۔ اس کا محرک نفس ہے۔ اس کا فضلہ دخان (Carbonic Acids Gas) ہے انہی فضلات سے ایک طرف جسمِ انسان کی صفائی ہوتی ہے اور دوسری طرف یہی فضلات جن راستوں سے گزرتے ہیں وہاں پر تحریک اور تقویت کا باعث ہوتے ہیں۔ مثلاً دخان (کاربانک ایسڈ گیس—————–قلب وشش جنسی اعضاء اور ذہن میں تحریک اور تیزی پیدا کرتی ہے۔ ان نظاموں کی تفصیل میری کتاب "مبادیاتِ طب" ملاحظہ فرمائیں۔
طبی روح، حرارتِ غریزی اور رطوبتِ غریزی کی حیاتِ خلیہ سے مطابقت:
زندگی کو سمجھ لینے کے بعد اس امرپر غورکریں کہ حرارتِ غریزی زندگی کے لئے ایک مرکزِ حیات (نیوکلیس) ہے۔ مادہ حیات رطوبتِ غریزی کے قائم مقام ہے اور روح ِطبی تسنیم کے فعل انجام دیتی ہے، یعنی حرارتِ غریزی اگر زندگی و قوت اور تولید و پرورش قائم رکھتی ہے تو رطوبتِ غریزی اور روحِ طبی اس کو نہ صرف تغذیہ بہم پہنچاتے ہیں بلکہ نئی حرارت ِ غریزی بھی پیدا کرتی رہتی ہیں اس حرارت ِ غری ی کی مثال چراغ سے دی گئی ہے اور رطوبتِ غریزی کی مثال تیل سے دی گئی ہے اور روحِ طبی کی مثال وہ مادہ جو بھک کرکے چلتا ہے جس کو شعلہ (روح) جلادیتی ہے۔ شعلہ روحِ طبی سے ایک جدا شے ہے ہم اس کو شعلہ مذہبی روح کا نام دیتے ہیں یعنی (امرِ ربی) اس طرح زندگی قائم ہے۔
حرارتِ غریزی کی پیدائش:
حرارتِ غریزی کی پیدائش جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں کہ وہ غذاکاچوتھاہضم ہے اور ہماری غذا کیساتھ ساتھ پیدا ہوتی رہتی ہے۔ یہاں پراس امر کو ذہن نشین کرلیں کہ حرارتِ غریزی ہمیشہ رطوبتِ غریزی سے پیدا ہوتی رہتی ہے۔ جس کی تین صورتیں ہیں:
(1) گرم اغذیہ جو کھائی جاتی ہیں ان کی حرارت خون میں محفوظ ہوکررطوبتِ غریزی میں پہنچتی رہتی ہے۔
(2) جسم کے اعضاء خصوصاً عضلات جن کا مرکز قلب ہے وہ اپنے مشینی اثر سے حرارت پیدا کرتے رہتے ہیں اور یہ بھی خون میں محفوظ ہوکر رطوبتِ غریزی میں پہنچ جاتی ہے۔
(3) گردشِ خون کیساتھ ساتھ جب ذراتِ خون حرکت کرتے ہیں تو ان کی رگڑ اور تیز رفتاری سے خون میں حرارت اور بجلی پیداہوتی رہتی ہے جو اعصاب کے ذریعے (جن کی مثال بجلی کی تاروں کی طرح ہے) رطوبتِ غریزی میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح اندرونی دیگر کیمیائی اعمال سے بھی حرارت کی پیدائش عمل میں آتی رہتی ہے ان تمام صورتوں سے جو حرارت پیداہوتی ہے وہ جب رطوبت غریزی میں جمع ہوتی رہتی ہے تو وہاں کے کیمیائی اعمال سے مل کر حرارتِ غریزی میں منتقل ہوجاتی ہے۔ جیسے موٹر اور ریل گاڑی کی بیٹری میں بجلی محفوظ ہوتی رہتی ہے اور ضرورت کے وقت اس سے انرجی (طاقت) کا کام لیا جاتا ہے۔ یعنی بتیاں جلائی جاتی ہیں، پنکھے چلائے جاتے ہیں۔ انجن کو رواں (Start) کیا جاتا ہے۔ انسانی زندگی کی مشین بھی اسی سے رواں رہتی ہے۔
رطوبتِ غریزی و حرارتِ غریزی اور شعلہ:
بالکلانرجی و فورس اور پاور کی طرح جو پانی و ہوا اور آگ کے مظاہرہیں رطوبتِ غریزی و حرارتِ غریزی اور شعلہ جسم میں پیداہوتے ہیں جو زندگی کو قائم رکھتے ہیں یعنی رطوبتِ غریزی ہی سے حرارتِ غریزی پیدا ہوتی رہتی ہے جو شعلہ سے چلتی ہے۔ جہاں پر ان کی پیدائش اور افعال میں خرابی واقع ہوتی ہے، امراض پیدا ہوجاتے ہیں، جہاں فساد پیدا ہوتا ہے، بڑھاپا نمودار ہوجاتا ہے اور جب ان میں روک پیدا ہوجاتی ہے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔
رطوبتِ غریزی کا اعتدال:
سوال پیدا ہوتا ہے کہ رطوبتِ غریزی کو کس طرح اعتدال پر قائم رکھا جاسکتا ہے؟ اس کا آسان جواب تو یہ ہے کہ نزلہ زکام سے جسم کو محفوظ رکھا جائے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اعضائے رئیسہ دل، دماغ اور جگر افعال کو سمجھ کر ان کو اعتدال پر رکھا جائے، تیسرا جواب یہ ہے کہ اپنی زندگی میں اعتدال قائم رکھا جائے جس سے ایک طرف اعضائے رئیسہ اعتدال پر قائم رہیں گے اور دوسری طرف نزلہ زکام سے جسم محفوظ رہے گا۔ (از: حکیم وڈاکٹر دوست محمد صابر ملتانی صاحب) ( #ایس_اے_ساگر )
No comments:
Post a Comment