Tuesday, 26 December 2017

تین طلاق مخالف قانون؛ وزیر اعظم کو مولانا رابع حسنی ندوی کے خط

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلم خواتین کی حقیقی
نمائندہ تنظیموں سے مشورہ کے بغیر کوئی قانون سازی نہ کی جائے
وزیر اعظم نریندر مودی کے نام مولانا رابع حسنی ندوی کے خط کا متن
لکھنو۔ ۲۶؍دسمبر: ٹرپل طلاق مخالف قانون کو لے کر مسلمانوں میں جو بے چینی پھیلی ہوئی ہے اس کے پیش نظر دو روز قبل لکھنو میں مسلم پرسنل لا بورڈ کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ صورتحال پر غوروخوض کیا گیا. اجلاس میں منظور تجاویز کے پیش نظر مولانا سید رابع حسنی ندوی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا جس کا متن حسب ذیل ہے۔
بخدمت جناب نریندر مودی صاحب
وزیر اعظم ہند
نئی دلی
جناب عالی،
مسلم خواتین (شادی کے حقوق کا تحفظ) بل ۲۰۱۷ کے تعلق سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کے ذریعہ لئے گئے فیصلہ کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں. مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ میں ہونے والی گفتگو اور فیصلوں کا خلا صہ درج ذیل ہے:-
1.آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مذکورہ بل کی مختلف دفعات کا جائزہ لیا اور یہ محسوس کیا گیا کہ:
I.مجوزہ بل کے نتائج بالعموم  مسلم خواتین کے مفاد کے خلاف ہیں اور مطلقہ خواتین اور ان کے خاندان کے لئے  نقصان کا باعث  ہے .یہ شریعت کے اصولوں کے بھی خلاف ہے اور مسلم پرسنل لا میں مداخلت ہے۔
II.بل کی مجوزہ دفعات  دوسرے جاریہ قوانین میں دی گئی قانونی دفعات کے بھی خلاف ہیں لہذا غیر ضروری ہیں . گھریلو تشدد سے متعلق قانون ٢٠٠٥ اورگارجین شپ اینڈ وارڈس ایکٹ  اور مجموعہ ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C) پہلے سے موجود ہیں۔
III. مجوزہ بل میں درج  احکامات  ،مذہبی اکائیوں کو آئین ہند میں فراہم کی گئی ضمانتوں میں بھی مداخلت ہیں۔
IV. یہ  عدالت عظمی کے  ٢٢ اگست ٢٠١٧ کے فیصلہ کی روح کے بھی خلاف ہے۔
2. اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کے لئے ہم بل کی چند قابل اعتراض دفعات  کا ذیل میں حوالہ دیتے  ہیں :
    (a.) دفعہ ٢ میں لفظ  طلاق کی دی  گئی تعریف،  طلاق بدعت  سے تجاوز کرتی ہے جبکہ، عزت مآب عدالت عظمی نے صرف طلاق بدعت کو ہی مسترد کیا تھا ، . مجوزہ تعریف طلاق بائن وغیرہ  کو بھی شامل کر سکتی ہے، جس کو عدالت عظمی نے غیر قانونی قرار نہیں دیا ہے ،مگر،طلاق بائن کوبل کی دفعہ (b)2 میں استعمال کے گئے الفاظ    یا طلاق کی کوئی اور مماثل شکل جس سے فوری اور غیر رجعی طور پر طلاق واقع ہوتی ہو کے معنی میں شامل ماننے سے بل کی دفعہ (b)2.مع دفعہ 3 کا اثر طلاق بائن وغیرہ کو بھی باطل اور غیر قانونی قرار دینا  ہوسکتا ہے۔
(b) طلاق بدعت کے غیر مؤثرعمل کو جسے عدالت عظمی کے ذریعہ غیرقانونی قرار دیدیا گیا ہے اور جو کہ ٢٢ اگست ٢٠١٧ عدالت عظمی کے فیصلہ کے ذریعہ صحیح تسلیم نہیں کیا گیا ہے اس کو بل کی دفعہ ٤ کے ذریعہ سنگین قسم کے تعزیری جرم میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کے لئے ٣  سال تک کی سخت سزائے قید کا دینا عورت اور اس کے بچوں کو نفقہ سے مکمل طور پر محروم کرنے کا سبب بن سکتا ہے. لہذا اس کو کسی بھی طرح عورت اور اس کے بچوں کے مفاد میں نہیں کہا جاسکتا ہے۔
(c) اس طرح کی تمام مطلقہ عورتوں کو نابالغ بچوں کی حضانت )custody) دئے جانے کا قانون میں، بچے کی فلاح وبہبود  کے بنیادی اصول کو مد نظر نہیں رکھا گیا ہے اور اس سلسلہ میں شاہ بانو کے مقدمہ کو بھی ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے۔
(d) مجموعہ ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C) کو نافذ کرتے وقت بدکاری (adultory) کے تعلق سے موجودہ قانون کو مد نظر نہیں رکھا گیا ہے  اور اس طرح کا مقدمہ کسی تیسرے کے اقدام پر متا ثرہ عورت کی مرضی کے خلاف بھی کیا جاسکتا ہے جس کا کہ خود اس عورت پر منفی اثر پڑیگا۔
3. بل کا مسودہ تیار کرتے وقت قانون سازی کے پارلیمانی طریقہ کو بھی نہیں اپنایا گیا ہے. متعلقین / متاثرہ فریقوں /خواتین کی تنظیموں سے، غیر موثر طلاق  کے سلسلہ میں قانون سازوں کے سامنے حقیقی صورتحال اور مجوزہ قانون کے منفی اثرات اور عورتوں اور بچوں کی فلاح وبہبود کو پیش کرنے کے لئے مشورہ نہیں کیا گیا۔
4. مذکورہ امور کے پیش نظر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ،مرکزی حکومت سے اصرار کرتا ہے کہ موجودہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرے اور اگر حکومت اس طرح کا قانون بنانا ضروری سمجھتی ہے تو حکومت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلم خواتین کی حقیقی نمائندہ تنظیموں وغیرہ سے لازمی طور پر مشورہ کرے اور صرف اسی صورت میں، آئینی ضمانتوں اور عدالت عظمی کے فیصلہ  ٢٢.اگست ٢٠١٧  کی روشنی میں بل تیار کیا جائے۔
5. چونکہ مجوزہ قانون تمام مسلمانوں کو متأثر کرے گا، اور اس کا اثر مسلم خواتین اور بچوں پر منفی  پڑے گا اور یہ آئین ہند کی دفعہ 25 میں فراہم کردہ حقوق اور بنیادی حق مساوات میں مداخلت ہے، اس لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس بل کی ہر سطح پر مخالفت کریگا اور عوام میں بیداری پیدا کرے گا۔
لہذا، آپ سے گذارش ہے کہ اس بل کو آگے نہ بڑھائیں بلکہ اس بل  کو واپس لے لیں اور اگر آپ کی حکومت اس سلسلہ میں قانون سازی کو ضروری خیال کرتی ہے تو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ان  مسلم خواتین تنظیموں سے جو مسلم عورتوں کی حقیقی نمائندہ ہیں، لازمی طور پر مشورہ کیا جانا چاہئے۔
شکریہ ۔
بہترین خواہشات کے ساتھ ،
سید محمد رابع حسنی ندوی
صدر
۲۵؍دسمبر،۲۰۱۷

خریدار کی مجبوری سے فائدہ اٹھاکر کم قیمت پر خریداری؟

خریدار کی مجبوری سے فائدہ اٹھاکر کم قیمت پر خریداری؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔
گجرات کے بعض علاقوں میں ایک اصطلاح تجار کے یہاں معروف ہے "اچھالا ہوا سامان" اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی آدمی کو ایک خطیر رقم کی ضرورت ہے وہ رقم کے انتظام کے لیے کوشاں ہے مگر اس کے تعلقات بھی ایسے نہیں ہیں کہ کوئی قرضہ دے نہ ہی سماجی قد ایسا کہ کوئی بھروسہ کرے ۔اب وہ مسکین ایک موبائل کی دوکان پر جاکر دوکان والے قسطوں کے حساب سے ایک موبائل لیتا ہے اور یہ معروف ہی ہے کہ قسطوں پر لی ہوئی چیز نقد یکمشت لی ہوئی چیز کے مقابل کچھ زیادہ دام کی ہوتی ہے اس لیے وہ اٹھارہ ہزار کا موبائل 20 ہزار روپے میں خریدتا ہے اور اپنے قسط مقرر کروا لیتا ہے ۔اب وہ ضرورت مند اس موبائل کو لیکر دوسری موبائل کی دکان پرجاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم مجھ سے ایک نیا موبائل خرید لو جس کی اصل قیمت تو 18 ہزار روپے ہے مگر میں تم کو 15 ہزار روپے میں ہی دیدوں گا ۔۔۔ تم مجھے نقد پیسے دینا یہ دوکان والا بعض دفعہ خوشی سے 15 ہزار دیتا ہے اور کبھی یہ ضرورت مند کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر 12 ہزار ہی میں لینا چاہتا ہے اگر ضرورت سخت ہوتی ہے تو وہ مجبورا 12 ہزار روپے میں ہی دیدیتا ہے
معلوم یہ کرنا ہے کہ دوسرے دوکاندار کا اس طرح کسی ضرورت مند کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر کم قیمت پر موبائل وغیرہ لینا درست ہے یا اس میں کوئی شرعی قباحت ہے؟
یہ معاملہ موبائل فون کے علاوہ بہت سی چیزوں میں ہوتا ہے اور دوکاندار کے علاوہ بہت سے لوگ اس کام میں معروف ہوتے ہیں جو مجبوری کا فائدہ اٹھا کر کم قیمت پر سامان لیتے ہیں اور اچھے نفع کے ساتھ فروخت کرتے ہیں
سائل: عبد الباسط جے پور۔ راجستھان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
ایسے مجبور شخص کو قرض حسنہ کے ذریعہ مدد کرنی چاہئے ۔
لیکن اگر کہیں سے قرض نہ ملے تو  یہ شخص ادھار مہنگی قیمت کے ساتھ خریداری کرسکتا ہے کیونکہ تجار کا عرف ہے کہ نقد میں کم اور ادھار میں زیادہ قیمت لیتے ہیں اور ایسا کرنا شرعا جائز بھی ہے بشرطیکہ مدت ادھار کے اندر اندر ہی قیمت بتا دیجائے ۔
پہر اس مجبور خریدار کا اپنی رضا ورغبت سے اس چیز کو کم قیمت پہ نقد بیچنا جائز ہے۔ لیکن اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے لوگوں کا اس سے موجودہ قیمت سے کم میں موبائل وغیرہ خریدنا خلاف مروت ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے۔۔۔۔بیع شرعا جائز ہے لیکن ورع وتقوی اور مروت انسانی کے خلاف ہونے کے باعث مکروہ ہے۔
قال العلامۃ القاری: (نہی رسول اللہﷺ عن بیع المضطر)… والثانی ان یضطر الی البیع لدین رکبہ او مؤنۃ ترہقہ فیبیع ما فی یدیہ بالوکس للضرورۃ وہذا سبیلہ فی حق الدین والمروأۃ ان لا یبایع علی ہذا الوجہ ولکن یعار ویقرض الی المیسرۃ او یشتری الی المیسرۃ او یشتری السلعۃ بقیمتہا فان عقد البیع مع الضرورۃ علی ہذا الوجہ صح مع کراہۃ اہل العلم لہ۔
(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ۶:۸۰ باب المنہی عنہا من البیوع)
مستفاد : فتاویٰ عالمگیری، امداد الفتاویٰ: ۳، فتاویٰ دار العلوم)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

امراؤ جان: تاریخ یا افسانہ؟

ایس اے ساگر
’امراؤ جان‘ کا’ مقبرہ‘
 دلی کے مہرولی میں قطب مینار کے نزدیک ظفر محل میںواقع دو قبریں بھلے ہی اپنے مکینوں کی منتظر ہوں لیکن وارانسی عرف بنارس میں امراو جان کا مقبرہ نئی سج دھج کے ساتھ منصہ شہود پر آگیا ہے۔ اٹھارہ سو ستاون جنگ آزادی عرف غدر کے ہیرو مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور ان کی بیگم حضرت زینت محل کی قبروں کے بارے میں ’سرد مہری‘ پر روشنی تو بعد میں ڈالیں گے، پہلے یہ سن لیجئے کہ گزشتہ روز مرزا حادی رسوا کے افسانوی کردار’ امراؤ جان‘ میں نئی روح پھونکتے ہوئے سرخ پتھروں سے تعمیرکردہ ’قبر‘ کی تصاویر ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ’ مرحومہ‘ کے کردار میں حقیقی رنگ بھرنے کے لئے نہ صرف اس کی ’برسی‘ کا تعین کیا گیا بلکہ عین ایک روز قبل ’تجدیدکاری‘ کے بعد ’ مقبرہ‘ کی تصویر بھی شائع کردی گئی ہے! ’امراؤ جان‘ کا یہ’ مقبرہ‘ بنارس کے فاطمان قبرستان میں تیار کیا گیا ہے۔ امراؤ جان کی یہ قبر تقسیم وطن کے 80 سال بعد کرہ ارض پر اپنا وجود ظاہر کرنے میں’ کامیاب‘ ہوئی ہے۔ ’دربار‘ کی شان تاریخی شخصیت اب مزید پرکشش ہوگئی ہے۔
’امراؤ جان‘ کا’ مقبرہ‘
 سگرا علاقے کے فاطمان قبرستان میں قبر پر امراؤ جان کی برسی سے محض ایک روز قبل پیر کے دن چنار کے قیمتی سرخ پتھروں کو استعمال کرتے ہوئے ’قبر‘ بن کر تیار ہوگئی۔ اس’تعمیر‘ نے لوگوں میں شک و شبہات پیدا کردئے ہیں۔ یہ عجب اتفاق رہا کہ قبرستان میں ایک طرف شہنائی نواز بھارت رتن بسم اللہ خاں آرام فرما ہیں تو دوسری طرف اپنی اداؤں اور آواز کی کھنک سے لوگوں کے دلوں پر ’حکومت‘ کرنے والی’امراو جان ادا‘ مدفون ہیں۔
کیا عجب ہے کہ مرزا ہادی رسوا کی روح بھی اپنے کردار کی اس بے جا ’رسوائی‘ پر شرمندہ ہو۔ مرزا ہادی رسوا نے اپنے پہلے ناول افشائے راز میں جو 1896 میں طبع ہوا، مرزا رسوا کو ایک ایک کردار کی حیثیت سے متعارف کروایا تھا۔ انھوں نے اس ناول میں قارئین کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ ناول کے واقعات حقیقت پر مبنی ہیں ،مرزا رسوا نے بہم پہنچائے لیکن اس کے بعد کے تمام ناولوں میں مرزا ہادی اس ذمہ داری سے بھی دست کش ہوگئے اور مصنف کی حیثیت سے اپنی بجائے صرف مرزا رسوا کا نام لینے لگے۔ اس طرح وہ اس نئے نام سے معروف ہوئے۔ رسوا کے دوسرے ناولوں کے برخلاف ’امراو جان ادا‘ ایک طوائف کا سیدھا سادا واقعہ ہے جو اس نے خود بیان کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بالی ووڈ نے اس ’رنگین‘ بنادیا۔ ’امراؤ جان‘ کو یکے بعد دیگرے دو مرتبہ بھنانے کی کوشش کی گئی۔ اس میں مظفر علی نے شہریار کے نغموں اور ریکھا کی اداؤں کی بدولت کامیابی حاصل کرلی لیکن بعد میں ایشوریہ رائے اسے ’ہٹ‘ کروانے میں ناکام ثابت ہوئیں۔ ناول میں امراؤ ایک مسلم غریب مگر شریف گھرانے کی لڑکی ہے۔اس کے والد فیض آباد میں جمعدار تھے۔ وہ نہایت سیدھے سادے اور سچے آدمی تھے۔پڑوس میں ایک بدمعاش دلاور خان رہتا تھا، وہ ایک دفعہ گرفتار ہوا۔ جمعدار نے اس کی چال کے بارے میں سچی گواہی دے دی۔ دلاور خان قید ہوگیا تھا ۔یہ الگ بات ہے کہ رہائی کے بعد اس نے جمعدار سے بدلہ لینے پر کمر کس لی۔ چنانچہ ایک دن جمعدار کی آٹھ سال کی لڑکی امیرن کا نہ صرف اغوا کرلیا بلکہ رات میں اسے بیل گاڑی میں ڈال کر نکل گیا تاکہ اس کو مار کر کہیں ٹھکانے لگادے۔ بیل گاڑی پر اس کے ساتھ اس کا دوست پیر بخش بھی تھا، جس نے اسے پٹی پڑھائی کہ امیرن کو لکھنؤ میں کہیں بیچ ڈالا جائے۔ چنانچہ یہ لوگ لکھنؤ پہنچے اور پیر بخش کے بھائی کے گھر امیرن کو اتار دیا گیا۔ لکھنؤ میں ایک مشہور کوٹھے دار خانم کے یہاں فروخت کردیا گیا۔ خانم نے امیرن کا نام بدل کر امراؤ کردیا۔ اس کو موسیقی اور پڑھنے لکھنے کی تعلیم دی۔ اس کی طبیعت موسیقی کی طرف راغب ہوئی۔ اس نے ادبی ذوق بھی پیدا کرلیا ، دوران تعلیم ایک لڑکا مرزا اس کے ساتھ پڑھتا تھا۔ پہلے دونوں لڑتے جھگڑتے تھے، مگر پھر ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے۔ خانم کو خبر ہوئی تو انھوں نے امراؤ جان کو طوائف بنادیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا شمار بھی اعلی طوائفوں میں ہونے لگا۔ امراؤ کے آشناوں میں سب سے نمایاں نام نواب سلطان کا ہے جن کو امراؤ جان دل سے چاہتی تھی۔ پھر ایک فیضو نامی ڈاکو امراؤ جان کو خانم کے گھر سے بھگالے گیا۔ فیضو اور اس کے ساتھی ڈاکو راستہ میں گھیرلئے گئے اور امراؤ بمشکل تمام کانپور پہنچی، جہاں وہ اپنے لئے ایک مکان حاصل کرکے راگ و رنگ کی محفل جمانے لگی اور وہ وہاں بھی بہت جلد مشہور ہوگئی۔ کانپور میں ایک بیگم صاحبہ سے ملاقات ہوئی جو وہی رام دئی تھی جو امراو کے ساتھ بکنے کے لئے لائی گئی تھی۔ اس کے بعد خانم کے یہاں کے لوگ کانپور پہنچ جاتے ہیں اور امراؤ کو مناکر لکھنو واپس لے آتے ہیں۔ جب ’غدر‘ پڑا تو وہ لکھنو کے شاہی دربار سے وابستہ تھی اور جب انگریزوں نے اودھ کے باغیوں پر حملہ کیا تو وہ فیض آباد پہنچ گئی۔ ایک دن اس کے گھر کے قریب مجرے کے لئے بلائی گئی۔ اس کی ماں نے اس کو پہچان لیا اور دونوں مل کر خوب روئیں۔ یہ الگ بات ہے کہ دوسرے دن اس کا بھائی اسے اپنے لئے باعث شرمندگی سمجھ کر بے رخا ہوگیا۔ 
ظفر محل اکبرشاہ ثانی نے تعمیر کرایا تھا
یہاں آکر فلمساز مظفر علی تو ’امراؤ جان‘ کا پردہ گراکر چلے گئے لیکن ناول میں بھائی امراؤ کو قتل کرنے آیا۔ مگر آخر میں امراو کا پورا حال سن کر اسے چھوڑ دیا۔ امراؤ پھر لکھنو چلی آئی اور یہاں پر چمکنے لگی۔ محمود علی خان نے دعوی کیا کہ امراؤ میری منکوحہ ہے۔ اسی وقت اکبر علی خان نامی ایک شخص امراؤ کی مدد کے لئے آگے آئے۔ امراؤ ان کے گھر پر تین سال رہی، ایک دن درگاہ میں اس کی ملاقات رام دئی سے ہوئی جو نواب سلطان کی بیگم نکلی، جنھیں امراؤ نے اپنے زمانے میں دل سے چاہا تھا۔ امراؤ کو اس کی حالت پر رشک آیا اور اپنی قسمت پر افسوس۔ آخر میں ایک دن امراؤ جان اپنی بہت سی سہیلیوں یعنی طوائفوں کے ساتھ نینی تال سیر کرنے گئی تھی اور سب سے الگ سڑک کے کنارے چل رہی تھی کہ اس نے ایک آدمی کو گھاس کاٹتے ہوئے دیکھا۔ وہ ڈر گئی یہ وہی دلاور خان تھا جو اس کو گھر سے اٹھالایا تھا، پولیس کو اطلاع دی گئی۔ دلاور خان پکڑاگیا اور اسے پھانسی ہوگئی۔ یہ ہے امراؤ جان ادا کی زندگی کا پورا خاکہ۔ اس قصے کی تمام دلچسپی نفسیاتی ہے۔ امراؤ جان اردو کا پہلا ناول ہے جو نہایت ’سڈول‘ اور خوبصورت سمجھا جاتا ہے۔ رسوا کے اس ناول میں ایک مخصوص شخص اور امراؤ جان کو لے کر اس کی زندگی کے حالات گذرے ہوئے زمانے کے ساتھ ساتھ اور بدلے ہوئے ماحول سے متعلق دکھائے گئے ہیں۔ امراؤ جان کے قصے میں واقعات اس تناسب کے ساتھ مربوط ہیں کہ پورا ناول ایک شاندار عمارت کا تاثر پیدا کرتا ہے۔ پہلا باب ایک مختصر شاعرہ کے حوالے سے ہے جس میں امراؤ جان آتی ہے اور اپنے ادبی ذوق کا سکہ منوالیتی ہے۔ اس سے متوازن آخری باب ہے ان دونوں ابواب کے درمیان پورا قصہ ہے۔ پورا ناول قاری کے دل ودماغ پر اثر چھوڑتا ہے اور وہ شروع سے آخر تک خود کو بندھا ہوا محسوس کرتا ہے۔ یہ ’قصہ‘ دراصل امراؤ جان کی آپ بیتی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ تکنیک کے لحاظ سے یہ اردو فکشن میں کردار نگاری کی بہترین مثال تسلیم کیا جاتا ہے۔ امراؤ جان کو قارئین ایک غیر معمولی طوائف ضرور سمجھتے ہیں اور اس کی سوانح حیات سننے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ اس کے اس مطلع میں ساری زندگی کا درد پوشیدہ ہے۔
کس کو سنائیں حال دل زار اے ادا
آوارگی میں ہم نے زمانے کی سیر کی
لیکن آج ذرائع ابلاغ کو باور کروایا جارہا ہے کہ اودھ کی شان امراؤ جان کو دنیا والے ایک طوائف کے طور پر زیادہ اور آزادی کی لڑائی لڑنے والے کے طور پر کم جانتے ہیں۔ زندگی میں تمام اتار چڑھاؤ برداشت کرنے کے باوجود امراؤ جان ادا کا آخری سفر ’کاشی‘ میں پایہ تکمیل کو پہنچا اور یہیں اسے دو گز زمین بھی نصیب ہوئی۔ زندگی کی طرح ٹوٹی پھوٹی اور ویران پڑی ہوئی کچی قبر پر امراؤ جان ادا کے ماضی کی پرتوں سے مقبرہ نکل کر سامنے لایا گیا ہے۔اسے ازسر نو تعمیر کرنے کے پس پشت شلپی ارون سنگھ کی کاوشیں کار فرما ہیں۔ جنھوں نے اپنی کاوشوں سے اس مقبرہ کی تعمیر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور 26 دسمبر سے قبل امراو جان کی قبر بن کر تیار ہوگئی۔ فاطمان قبرستان میں ہشت پہلو ستونوں پر مشتمل 6 X 10 فٹ رقبہ پر مشتمل ’قبر‘ کو ’تاریخی اہمیت کی حامل‘ قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے ہشت پہلو چار ستون پر پتھر سے بنی ہوئی خوبصورت چھتری بیشک قابل دید ہے۔ اسلامی روایات سے تال میل قائم کرنے کے لئے’ قبر‘ کو اوپر سے کھلا رکھا گیا ہے۔ قبر کے مغربی کنارے پر امراؤ جان کے’ قبر‘ کے آثار پر جدید کاری کی گئی ہے۔ درحقیقت یہ کس کی قبر ہے، یہ تو پتہ نہیں البتہ ’دورقدیم کی اہمیت کے حامل کتبہ‘ پر امراؤ جان کا نام فٹ کردیا گیا ہے۔ پھر جنوب میں ’امراؤ جان لکھنوی‘ کا نیا پتھر نصب کیا گیا ہے۔ آرٹسٹ ارون سنگھ کے مطابق، چنار کے پتھر کے تقریبا چار مربع فٹ رقبہ پر تقریبا ایک لاکھ روپے خرچ کرنے کے بعد اس’ قبر‘ کو نئی صورت عطا کی گئی ہے۔ اس سے پہلے وہ فن لطیف کی علامت استاد بسم اللہ خاں کا مقبرہ اور بنارسی ثقافت کو اپنے میں سمیٹے ’نندی ستمبھ‘ تعمیر کرچکے ہیں۔
واضح رہے کہ امرا و جان کی ’افسانوی حیثیت' اپنی جگہ مستحکم ہے۔ مرزاد ہادی رسوا کو علم ہو یا نہ ہو کہ امراؤ پر اپنی زندگی کے آخری ایام میں کیا گزری؟ آخر زندگی کا وہ کون سا ’تجربہ‘ تھا جو امراؤ کو اس بستی تک کھینچ لایا۔ اور امراؤ نے اپنی عمر کے آخری ایام اس شہر میں کیوں بسر کئے؟ ہاں اتنا ضرور ہے کہ’ امیرن‘ سے ’امراو‘ بننے والی یہ افسانوی معصوم لڑکی آج ایک مرتبہ پھر تذکرہ کا موضوع بن گئی ہے۔ لوگ حیران ہیں کہ چمک دمک کی زندگی کو چھوڑ کر عمر کے آخری حصہ میں ’امراؤ‘ بنارس کیسے پہنچ گئی؟ اس پر کیا کچھ گزری؟ کیا اس کی تفصیل تاریخ کے صفحات سے ثابت کی جاسکتی ہے؟ آخر محققین اور مزرا بنانے والے امراؤ جان کی قبر تک کیسے پہنچ گئے؟ مظفر علی جیسے فلمسازوں نے تو اسے 70 ایم ایم کے پردہ پر پیش کردیا تھا جسے دیکھ کر لوگوں نے دانتوں تلے انگلیاں دبا لی تھیں، لیکن نوبت مزار تک جا پہنچے گی، اس کا تو خود مرزا ہادی رسوا نے تصور بھی نہ کیا ہوگا!
مہرولی میں قطب مینار کے نزدیک
ظفر محل میں بادشاہ نے
اپنی قبر کی جگہ متعین کی تھی
جبکہ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے ہیرو اور اس کی شریک حیات کی قبر اپنے مکینوں کی آج بھی منتظر ہے۔ ’غد‘ر کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو ان کی بیگم حضرت زینت محل کے ساتھ رنگون بھیج دیا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ بہادر شاہ ظفر نے اپنے پیش رو بادشاہوں کی طرح دلی میں اپنے لئے بھی تدفین کی ایک جگہ منتخب کی تھی۔ مہرولی میں قطب مینار کے نزدیک ظفر محل میں بادشاہ نے اپنی قبر کی جگہ متعین کی تھی۔ دو قبروں کے درمیان وہ جگہ آج بھی خالی پڑی ہے۔ ظفر کی قبر کو رنگون سے دلی منتقل کرنے کا حکومت کا تو کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن حکومت مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ کی اس خواہش کو ’یادگار‘ کی شکل میں تعمیر کرنے پر غور کررہی ہے۔ ظفر محل اکبرشاہ ثانی نے تعمیر کروایا تھا، لیکن ان کے پوتے بہادر شاہ ظفر نے اس محل میں ایک بڑے دروازہ کا اضافہ کیا۔ اس بلند دروازے پرآج بھی ’باب ظفر‘ لکھا ہوا ہے۔مورخین کے مطابق ان کے ہمراہ ان کی ایک بڑی بیگم اور دو بیٹے بھی رنگون گئے تھے۔ رنگون میں انھیں پورے آرام و آسائش سے رکھا گیا۔ ان کی دیکھ بھال کے کے لئے ایک ڈاکٹر بھی تھا۔ ان کے اخراجات کا تخمینہ لگاکر گرانٹ بھی ملتی تھی۔ ان کو ملازم بھی ملے ہوئے تھے۔ لیکن لکھنے پڑھنے کی آزادی نہیں تھی۔ قلم کاغذ انھیں نہ دیا جائے، یہ باقاعدہ حکم تھا۔ انھیں کسی سے ملنے جلنے کی آزادی بھی میسر نہیں تھی۔ بہادر شاہ ظفر ہر برس گرمی کے دنوں میں تین ماہ کے لئے مہرولی کے اس محل میں گزارا کرتے تھے۔ ان کے ہمراہ بیگم زینت محل بھی ہوا کرتی تھیں۔ مؤرخین کے مطابق بادشاہ بہادر شاہ ظفر ایک اچھے انسان، تیر انداز اور شہ سواری میں ماہر اور بہت با صلاحیت شخص تھے۔ وہ ایک بہترین شاعر بھی تھے۔ بہادر شاہ ظفر کی زندگی کے محقق ڈاکٹر اسلم پرویز کہتے ہیں کہ ’بہادر شاہ ظفر جتنے بدنصیب بادشاہ تھے اتنے ہی بدنصیب شاعر بھی تھے۔‘ ظفر کو ہمیشہ ہی اس بات کا احساس تھا کہ وہ ہندوستان کے بادشاہ تو ہیں لیکن صرف نام کے ہیں اور عملی طور پر وہ انگریزوں کے وظیفہ خوار ہیں۔ ظفر نے اپنی اس بے بسی کا اظہار اپنی ایک غزل میں اس طرح کیا ہے:
یا توافسر میرا شاہانہ بنایا ہوتا
یا میرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
زور معمور دنیا میں خرابی ہے ظفر
ایسی بستی سے تو ویرانہ بنایا ہوتا۔
.....
http://www.dw.com/hi/famous-courtesan-umrao-jan-ada-is-being-given-last-respect/a-37086675
....
with courtsey
https://navbharattimes.indiatimes.com/state/uttar-pradesh/varansi/umrao-jaan-grave-gets-maqbara/articleshow/62241922.cms
...................
http://www.bbc.com/urdu/india/story/2007/06/070614_zeenat_1857zafar_rs.shtml

Monday, 25 December 2017

فقير اور مسكين میں کیا فرق ہے؟

سوال: فقير اور مسكين میں کیا فرق ہے؟

جواب: فقیر اور مسکین کے درمیان فرق یہ ہے کہ فقیر وہ شخص ہے جو اپنی ضرورت [کھانا ، کپڑا وغیرہ] پورری کرنے والی چیزوں کا مالک ہی نہ ہو، اور نہ وہ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے کمانے کی طاقت رکھتا ہو۔ اور مسکین وہ ہے جس کی غربت فقیر سے تھوڑی کم ہو، فقیر اور مسکین کے بارے میں علماء کی مختلف آراء میں سے صحیح رائے یہی ہے، اور بعض لوگوں نے مذکورہ بالا فرق برعکس بیان کیا ہے، اور ان دونوں کو اس قدر زکوٰۃ دی جائے گی، جو اس کے لئے کافی ہو، یعنی سال بھر وہ اپنی ضروریات اس سے پورا کرسکے، اور اس کے ذرائع آمدنی کو بھی دیکھا جائے، ضرورت سے زیادہ اس کو نہ دیا جائے، اس لئے کہ وہ اب زکوٰۃ لینے کے بعد خود مالدار ہوگیا ہے، اور ضرویات ہر شہر اور گاؤں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں۔
( جلد کا نمبر 10، صفحہ 22)
وبالله التوفيق۔
وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔
http://alifta.net/Fatawa/FatawaSubjects.aspx?languagename=ur&View=Page&HajjEntryID=0&HajjEntryName=&RamadanEntryID=0&RamadanEntryName=&NodeID=8568&PageID=3434&SectionID=3&SubjectPageTitlesID=33246&MarkIndex=1&0
.......
فقراء اور مساکین کی اصطلاحی تعریف میں جزوی طور پر تھوڑا اختلاف ہے، اور اسی اختلاف سے یہ اختلاف بھی نکلا ہے کہ ان دونوں میں زیادہ ضرورت مند کون ہے؟

(۱)    حنفیہ کے نزدیک فقیر اس کو کہتے ہیں، جس کے پاس نصاب کے بقدر مال نہ ہو، مالک نصاب شخص اصطلاح میں غنی شمار ہوگا، اوراس کے لئے زکوٰة لینا یا اس کو زکوٰة دینا جائز نہ ہوگا ۔ البتہ اگر کسی کے پاس ناقص نصاب ہو مگر اس کی ضروریات بھی اسی کے بقدر ہوں، تو وہ فقیر ہے، اس کے لئے زکوٰة لینا درست ہوگا، اور اگر ضروریات اتنی نہ ہوں تو اگرچہ کہ وہ اصطلاحی فقیر ہے مگر اس کے لئے زکوٰة لینا درست نہ ہوگا۔ (فتح القدیر، ج:۲، ص:۱۵)

* مالکیہ کے نزدیک جس شخص کے پاس ایک سال کے بقدر غذائی اشیاء موجود نہ ہوں وہ فقیر ہے۔

* اور حنفیہ ومالکیہ کے نزدیک مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ اور لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرنے کے لئے مجبور ہو۔ (فتح القدیر۲/۱۵، الدسوقی ۱/۴۹۳)

* شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک فقیر وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی مال نہ ہو اور نہ ضرورت کے موافق کمائی ہو، اور مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی آدھی یا آدھی سے زیادہ ضروریات کی کفالت کرسکتی ہو۔ (حوالہٴ بالا)

دسوقی نے بعض علماء کا قول نقل کیا ہے کہ فقیر ومسکین مصداق کے لحاظ سے ایک ہی ہیں، یعنی جو سال بھر کے لائق غذائی اشیاء کا مالک نہ ہو وہ فقیر ہے، خواہ اس کے پاس تھوڑا بہت مال ہو یا نہ ہو۔ (دسوقی ۱/۴۹۲)

* یہیں سے فقہاء کے درمیان یہ اختلاف بھی پیدا ہوا ہے کہ فقیر اور مسکین میں زیادہ ضرورت مند کون ہے؟

شافعیہ اور حنابلہ کی رائے یہ ہے کہ فقیر زیادہ حاجت مند ہے، جبکہ حنفیہ اور مالکیہ کی رائے میں مسکین زیادہ جات مند ہے، دونوں طبقے کے پاس اپنی اپنی دلیلیں ہیں: مثلاً شافعیہ اورحنابلہ نے سورئہ کہف کی اس آیت سے استدلال کیا ہے:

اما السفینة فکانت لمساکین یعملون فی البحر․ (کہف:۷۹)

ترجمہ: ”بہرحال کشتی چند مسکینوں کی تھی، جو سمندر میں محنت ومزدوری کرتے تھے۔“

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسکین کچھ نہ کچھ مالیت کا مالک ہوتا ہے، علاوہ ازیں لغوی طور پر ”فقیر“ فقر سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ریڑھ کی بعض ہڈیوں کا چٹخ جانا، یعنی فقیر وہ ہے کہ معاشی طور پر جس کی کمر ٹوٹ گئی ہو، جبکہ ”مسکین“ ”سکن“ سے ماخوذ ہے، سکون حالت اطمینان کی علامت ہے۔

حنفیہ اور مالکیہ نے ایک دوسری آیت سے استدلال کیا ہے:

او مسکینًا ذا متربة (سورة البلد:۱۶)

ترجمہ: ”یا خاک آلود مسکین کو“

”خاک آلود“ اس شخص کو کہتے ہیں جو شدت بھوک کی بنا پر زمین پر اوندھے منھ گرپڑا ہو، نیز مسکین ”سکون“ سے ماخوذ ہے، سکون حرکت کی ضد ہے یعنی ”حالت انجماد“ یعنی اس قدر کمزور کہ ہلنے تک کی سکت نہ ہو۔ (المغنی۶/۴۲۰، فتح القدیر۲/۱۵،۱۶، الدسوقی علی الشرح الکبیر ۱/۴۹۲، المحلّی علی المنہاج ۳/۱۹۶، الموسوعة الفقیہ الکویت ۲۳/۳۱۲)

امام فخرالدین رازی (۵۴۴-۶۰۶ھ) نے تفسیر کبیر میں اس پر تفصیلی کلام کیا ہے، اور دونوں فریق کے دلائل کا احاطہ کیاہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر کبیر۸/۶۲تا۶۷ مطبوعہ قاہرہ)

مگر زیر بحث مسئلے میں اس اختلاف سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، اس اختلاف کا اثر زیادہ سے زیادہ وصیت کے باب میں ظاہر ہوسکتا ہے، مثلاً کسی نے فقیر کے لئے دوہزار (۲۰۰۰) روپے کی اور مسکین کے لئے پانچ سو (۵۰۰) روپے کی وصیت کی تو حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نقطہ نظر کے مطابق سب سے زیادہ ضرورت مند شخص کو دوہزار روپے دئیے جائیں گے، اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کم ضرورت والے شخص کو دو ہزار روپے ملیں گے۔ (تفسیر الکبیر۸/۶۳)

* صحت مند فقیر یا مسکین جو محنت مزدوری کرکے کفاف حاصل کرسکتا ہو، وہ فقیر کے زمرہ میں آتا ہے یا نہیں؟

شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک ایسا شخص اس زمرہ میں داخل نہیں ہے اس کو زکوٰة دینا درست نہیں اور نہ اس کے لئے زکوٰة لینا جائز ہے، اگر اس کا حال جانتے ہوئے اس کو دیدیا جائے تو زکوٰة ادا نہ ہوگی۔ (المغنی ۶/۴۲۳، المحلّی علی المنہاج ۳/۱۹۶، المجموع ۶/۱۹۰)

اس لئے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”لاحظ فیہا لغنی ولا لقوی مکتسب“ (ابوداؤد۲/۲۸۵)

ترجمہ: ”زکوٰة میں کسی مالدار اور مضبوط کمانے والے شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے“۔

ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں:

لا تحل الصدقة لغنی ولا لذی مرة سویٍّ (ابن ماجہ ۱/۵۸۹ بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ)

ترجمہ: ”زکوٰة کسی مالدار یا مضبوط طاقتور کے لئے جائز نہیں.“

اس کے بالمقابل حنفیہ اور مالکیہ کی رائے یہ ہے کہ ”جس کو فقیر صورت دیکھو اس کو فقیر گمان کرو“ اس لئے کہ فقر ومسکنت، اورحاجت و ضرورت ایک مخفی چیز ہے۔ اس پر ظاہری حالت ہی کو دلیل بنایا جاسکتا ہے اور ظاہری حالت یہ ہے کہ وہ نصاب کے بقدر مال کا مالک نہیں ہے۔ (فتح القدیر۲/۲۸، الدسوقی ۱/۴۹۴)

ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم زکوٰة کی تقسیم فرمارہے تھے، دو آدمی زکوٰة کا مطالبہ لے کر آئے، جو جسمانی طور پر کافی مضبوط تھے، حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پرایک نگاہ ڈالی اور ارشاد فرمایا:

انہ لاحق لکما فیہ وان شئتما اعطیتکما (ابوداؤد۲/۲۸۱)

ترجمہ: ”تم دونوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہے، پھر بھی چاہتے ہو تو میں تم دونوں کو دے دوں گا۔“

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے شخص کو مانگنے کا تو حق نہیں ہے لیکن اگر زکوٰة دیدی جائے تو اس کی گنجائش ہے، زکوٰة ادا ہوجائے گی۔
http://www.darululoom-deoband.com/urdu/articles/tmp/1428729500%2003-Qurani%20Maddat%20Zakat_MDU_09_September_2007.htm

امانت اور وديعت میں کیا فرق ہے؟

سوال: امانت اور وديعت میں کیا فرق ہے؟

امانت عام ہے جبکہ ودیعت خاص۔دونوں قریب المعنی لفظ ہیں۔
کسی کے پاس کوئی مال حفاظت کے لئے رکھکر اس کی حفاظت کا اسے ذمہ دار بنادیا جائے تو اسے ودیعت کہتے ہیں جبکہ امانت میں یہ قید ضروری نہیں۔ کسی کا بھی کوئی مال لین دین یا لقطہ وغیرہ کے ذریعہ یا ہوا میں اڑکے آپ کے پاس آجائے تو اسے امانت کہتے ہیں۔ اس کی حفاظت امین کی ذمہ داری ہے۔ حفاظت میں زیادتی کے بغیر اگر وہ مال امانت ضائع ہوجائے تو امین پہ اس کا ضمان واجب نہیں۔۔۔۔ تفصیل الفتاوی الھندیہ جلد دوم صفحہ 201  میں دیکھی جاسکتی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
.....
امانت
اَمانَت {اَما + نَت} (عربی)
ا م ن، اَمِین، اَمانَت
عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم، متعلق فعل اور صفت اسعتمال ہوتا ہے اور تحریراً 1700ء کو "من لگن" میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم نکرہ (مؤنث - واحد)
جمع: اَمانَتیں {اَما + نَتیں (ی مجہول)}
جمع غیر ندائی: اَمانَتوں {اَما + نَتوں (و مجہول)}
1. وہ چیز (نقد، جنس یا بات) جو کسی کو (جوں کی توں واپس لینے یا محفوظ رکھنے کے لیے) سونپی جائے، کسی کی حفاظت میں دی ہوئی چیز۔
؎ فکر ہے ان کی امانت میں کہیں داغ آ نہ جائے
اب تو کچھ ان سے بھی دل کا داغ پیارا ہو گیا، 
2. ودیعت الٰہی، خداے تعالٰی کی بخشی ہوئی دولت ایمان وغیرہ (جسے دنیا میں صحیح سالم اس کی بارگاہ میں لے جانے کی پابندی ہے)۔
"ہم نے یہ امانت آسمانوں پر زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کی۔"، 
3. دیانت داری، ایمانداری۔
"اپنی شان اور امانت کا سکہ دوست دشمن سب کے دلوں پر بٹھا دیا۔"، 
4. سلامتی، حفاظت، امان۔
؎ امانت چاہنا پھر لطف ہے یاران دیگر سے
دل اپنا جمع کر دور قمر کے شور اور شر سے، 
5. {بندوبست} پیمائش کا عہدہ یا کام، امین کا منصب۔
"امانت میں جو محنت ہے وہ منصرمی میں کہاں۔"، 
انگریزی ترجمہ
security, safety, freedom from fear; a thing or property committed to the trust and care of a person , trust , charge; a deposit
متعلق فعل
معانی
1. بطور امانت، حق دار کو پہنچانے کے لیے محفوظ۔
؎ وہ جان وفا نہ جانے کس حال میں ہے
لے چل مجھے لکھنؤ امانت لے چل، 
انگریزی ترجمہ
aside, apart, untouched, intact, inviolable
صفت ذاتی 
معانی
1. مامون و محفوظ۔
؎ خدایا سلامت رکھ اس شاہ کوں
پریاں تے امانت رکھ اس شاہ کوں، 
مترادفات
دِیانَت، سَچّائی، تَحْوِیل، سَپُرْدَگی، وَدِیعَت، سُپُرْد،
مرکبات
اَمانَتِ جاری، اَمانَت خانَہ، اَمانَت دار، اَمانَت نامَہ
https://www.google.co.in/url?sa=t&source=web&rct=j&url=http://www.urduencyclopedia.org/urdudictionary/index.php%3Ftitle%3D%25D8%25A7%25D9%2585%25D8%25A7%25D9%2586%25D8%25AA&ved=0ahUKEwi-3PP3yKXYAhULN48KHat2BYIQFgggMAI&usg=AOvVaw0-fRKzKo9rivBBVtRc57Rt
..................
ودیعت
برصغیر پاک و ہند کے اکثر علاقوں میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان جس کے لغات میں پراکرت نیز غیر پراکرت، دیسی لفظوں کے ساتھ ساتھ عربی فارسی ترکی اور کچھ یورپی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں اور جس کی قواعد میں عہد بہ عہد تصرفات اور مقامی اختلافات کے باوجود آریائی اثر غالب ہے۔ (ابتداءً ہندوی یا ہندی کے نام سے متعارف رہی۔
وَدِیعَت {وَدی + عَت} (عربی)

اسم نکرہ (مؤنث - واحد)
جمع: وَدیعَتیں {وَدی + عَتیں (ی مجہول)}
جمع غیر ندائی: وَدِیعَتوں {وَدی + عَتوں (و مجہول)}
انگریزی ترجمہ
a deposit, trust, whatever is committed to anothers charge
مترادفات
اَمانَت، سُپُرْدَگی
https://www.google.co.in/url?sa=t&source=web&rct=j&url=http://www.urduencyclopedia.org/urdudictionary/index.php%3Ftitle%3D%25D9%2588%25D8%25AF%25DB%258C%25D8%25B9%25D8%25AA&ved=0ahUKEwi-3PP3yKXYAhULN48KHat2BYIQFggkMAM&usg=AOvVaw2nyPskLzQ6D46N4Ui0y4rB

اگر شوہر بیوی کو حج فرض سے روکے تو؟

اگر شوہر بیوی کو حج فرض سے روکے تو؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باسمہ تعالٰی
علماء دین ومفتیان کرام
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
سوال
ایک ایسی عورت ہے جس پر حج فرض ہے اور وہ حج کرنے کے لئے جانا بھی چہتی ہے   پر اس کے شوہر منع کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ اگر تم حج کرنے کے لئے جاؤ گی تو تمہیں تین طلاق  اس صورت میں عورت کو کیا کرنا چاہئیے   حج کرے یا اپنی شوہر کے ساتھ راہے
برائے مہربانی اس سوال کا جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
عدنان قاسمی کشنگنجوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مِهْرَانَ أَبِي صَفْوَانَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ
سنن أبي داؤد :   1732
حدیث  مذکور کی وجہ سے حنفیہ کے صحیح قول کے مطابق فی الفور حج کرنا ضروری ہے۔بلا عذر شدید تاخیر مذموم وناپسندیدہ ہے ۔
فی الغنیۃ یجب ( الحج) علی الفور فی اول سنی الوجوب وھو اول سنی الامکان علی القول الاصح عندنا وھو قول ابی یوسف واصح الروایتین عن ابی حنیفۃؒ فیقدم علی الحوائج الاصلیۃکمسکنہ وخادمہ والتزوج وان لم ئجب بھا کما سیأتی اھ (ص۱)وقال محمد والشافعی فرض علی التراخی وفیہ ایضاً ومن لا مسکن لہ ولا خادم وھو محتاج الیھما ولہ مال یکفیہ لقوت عیالہ من ذھابہ الی حین ایابہ ولہ مال یبلغہ فلیس لہ صرفہالیھما ان حضر وقت خروج اھل بلدہ اھ(ص۷)
( من أراد الحج فليتعجل ) : زاد البيهقي " فإن أحدكم لا يدري ما يعرض له من مرض أو حاجة " وفي لفظ " فإنه قد يمرض وتضل الضالة وتعرض الحاجة . وفيه دليل على أن الحج واجب على الفور . وإلى القول بالفور ذهب مالك وأبو حنيفة وبعض أصحاب الشافعي . وقال الشافعي والأوزاعي وأبو يوسف ومحمد : إنه على التراخي واحتجوا بأنه صلى الله عليه وسلم حج سنة عشر وفرض الحج كان سنة ست أو خمس .عون المعبود۔
فرضیت حج کے بعد سال دو سال تاخیر سے صغیرہ گناہ ہوتا ہے اس کے بعد تاخیر پہ اصرار کی وجہ سے گناہ کبیرہ ہوجاتا ہے اگرچہ ادائی حج کے بعد تاخیر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں.
شوہر کی اطاعت بیوی پر جائز امور میں واجب ہے چاہے سخت سے سخت معاملہ ہو پھر بھی اطاعت ضروری ہے۔ لیکن اگر فرضیت حج کی ساری شرائط بیوی میں پائی جاتی ہوں تو اب  حج فرض سے بیوی کو  روکنا جبکہ سطور بالا میں بیان ہوا کہ تاخیر  حج گناہ کبیرہ ہے۔ امر معصیت یے۔ اور امر معصیت میں شوہر کی بات نہیں مانی جائے گی۔
فی الصحیح للامام مسلمؒ رقم الحدیث۱۸۳۹ ج۳ ص۱۴۶۹ (طبع دار احیاء التراث العربی) لا طاعۃ فی معصیۃ اللہ انما الطاعۃ فی المعروف، و فی مصنف ابن ابی شیبۃ رقم الحدیث۳۳۷۱۷ ج۶ ص۵۴۵ (طبع مکتبۃ الرشید ریاض) لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔
اس لئے وہ  بیوی محرم شرعی کے ساتھ حج پہ جاسکتی ہے۔ شوہر کے ساتھ رہنا اور اس کی بات ماننا ضروری نہیں۔بعد عدت کہیں اور نکاح کرلے۔۔۔ مغلظہ بائنہ کے وقوع سے بچنے کے لئے کسی شرعی حیلہ اختیار کرنے پہ شوہر راضی ہو تو ویسا کرلے۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

Sunday, 24 December 2017

شادی اور صحبت کا سنت طریقہ؟

سوال # 156997
کیا شادی کارڈ پر دلہن کا نام لکھنا جائز ہے ؟
Published on: Dec 23, 2017
جواب # 156997
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:344-243/sn=4/1439
عورت چھپانے کی چیز ہے، اس کا تقاضا ہے کہ بلا ضرورت اس کی ذات یا اس کے نام کو ظاہر نہ کیا جائے اور شادی کارڈ پر دلہن کا نام ذکر کرنے کی کچھ ضرورت نہیں ہے؛ لہٰذا شادی کارڈ پر دلہن کا نام لکھنا مناسب نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/156997
سوال: میری جلد ہی شادی ہونے والی ہے، براہ کرم، نکاح اور شادی کا سنت طریقہ بتائیں تاکہ میں اس پر عمل کرسکوں اور شب زفاف کا سنت کا طریقہ بھی بتائیں۔
Published on: Apr 26, 2014
جواب # 52348
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 765-765/M=6/1435-U
نکاح اور شادی کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جب شادی کا ارادہ ہو بلاکسی خاص برات اور بری وغیرہ کے اہتمام کے چند آدمیوں میں ایجاب وقبول کرادے (جس کی تفصیل یہ ہے کہ نکاح کا مسنون خبطہ پڑھنے کے بعد عورت کا نام مع ولدیت لے کر مرد سے کہے ”میں نے فلاں بنت فلاں کا نکاح تمہارے ساتھ بعوض مہر مبلغ اتنے روپئے کیا“ کیا تم نے قبو ل کیا؟ مرد جواب میں کہے ”میں نے اس کو قبول کیا“۔ خود عورت یا اس کے ولی یا اس کے وکیل کی اجازت کے بعد جب دو گواہوں کے سامنے مرد نے قبولیت کے الفاظ ادا کردیے، نکاح ہوگیا) پھر اگر وسعت ہو تو چھوہارے تقسیم کرایے جائیں۔ دلہن کودولہا کے گھر بھیج دیا جائے اور جو کچھ دلہن کو بطور صلہ رحمی دینا منظور ہو بلا کسی شہرت اور نمود کے خواہ اس کے ساتھ یا بعد میں بھیج دیا جائے۔ مہر حسب استطاعت ہو، شرعاً مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم ہے اس سے کم درست نہیں۔ شب زفاف کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ پہلی ملاقات کے وقت پیشانی کے بال پکڑکر یہ دعا پڑھے: 
اللہم إني أسئلک من خیرہا وخیر ما جبلتہا وأعوذ بک من شرہا وشر ما جبلتہا علیہ 
اس کے بعد دو رکعت شکرانہ کی نماز پڑھیں، مرد آگے کھڑا رہے عورت پیچھے، نماز کے بعد خیر وبرکت، مودت ومحبت کے لیے دعا کریں، بوقتِ صحبت قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، سر ڈھانک لے، بالکل برہنہ نہ ہو، بقدر ضرورت ستر کھولے، پردہ کا کامل خیال رکھے، کسی کے سامنے حتی کہ بالکل ناسمجھ بچہ کے سامنے بھی صحبت نہ کرے، جب صحبت کا ارادہ کرے تو اولاً بسم اللہ پڑھے، پھر یہ دعا پڑھے:
”اللہم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا“
انزال کے وقت دل میں دعا پڑھے:
”اللہم لا تجعل للشیطان فیما رزقتنا نصیبا“، 
صحبت سے فراغت کے بعد یہ دعا پڑھے 
”الحمد اللہ الذي خلق من الماء بشرا وجعلہ نسبًا وصہرًا․․ 
مزید تفصیل کے لیے بہشتی زیور باب (۶) اور ”اسلامی شادی“ کتاب کا مطالعہ کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/52348 .......
براہ کرم نکاح کے بعد بیوی سے پہلی ملاقات سے مباشرت تک کے عمل کا سنت طریقہ پوری تفصیل سے آگاہ کریں۔
Published on: Feb 20, 2014 
جواب # 51092
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 433-123/L=4/1435-U
شب زفاف میں پہلی ملاقات کے وقت ابتداءً دو رکعت شکرانہ کی نماز پڑھیں، مرد آگے کھڑا رہے عورت پیچھے، نماز کے بعد خیر وبرکت، مودت ومحبت، آپسی میل ملاپ کی دعا کریں۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ایک باکرہ عورت سے نکاح کیا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے پسند نہ کرے اور دشمن تصور کرے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا محبت اللہ کی طرف سے ہے اور دشمنی شیطان کا فعل ہے، جب عورت تیرے گھر میں آوے تو تو اس سے کہہ کہ تیرے پیچھے کھڑی ہوکر دو رکعت نماز پڑھے، اور تو یہ دعا پڑھ: 
اللھُمَّ بَارِکْ لِي فِي أَھْلِی، وَبَارِکْ لَأہْلِيوٴ فِيَّ، اللھُمَّ ارْزُقْنِي مِنْھُمْ وَارْزُقْھُمْ مِنِّی، اللھُمَّ اجْمَعَ بَیْنَنَا إذَا جَمَعْتَ فِيْ خَیْرٍ وَفَرِّقْ بَیْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَی خَیْرٍ․ 
اس کے بعد بیوی کی پیشانی کے بال پکڑکر یہ دعا پڑھے۔
اللّٰہُمَّ اِنِّيْ أَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِہَا وَخَیْرِ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّہَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ․
شوہر تلطف ومحبت سے پیش آئے، اپنا سکہ اور رعب جمانے کی فکر نہ کرے، اور ہرطرح اس کی دلجوئی کرے کہ عورت کو مکمل سکون اور قلبی راحت حاصل ہو اور ایک دوسرے میں انسیت پیدا ہو۔ جب مباشرت کا ارادہ کرے تو مباشرت سے پہلے عورت کو مانوس کرے، بوس وکنار ملاعبت وغیرہ جس طرح ہوسکے اسے بھی مباشرت کے لیے تیار کرے، اور اس بات کا ہرمباشرت کے وقت خیال رکھے فوراً ہی صحبت شروع نہ کردے اور بوقت صحبت اس بات کا خیال رکھے کہ عورت کی بھی شکم سیری ہوجائے، انزال کے بعد فوراً جدا نہ ہوجائے، اسی حالت پر رہے اور عورت کی خواہش پوری ہونے کا انتظار کرے، ورنہ عورت کی طبیعت پر اس سے بڑا بار پیدا ہوگا اور بسا اوقات اس کا خیال نہ کرنے سے آپس میں نفرت اور دشمنی پیدا ہوجاتی ہے جو کبھی جدائیگی کا سبب بن جاتی ہے۔ غنیة الطالبین میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں:
ویستحب لہا الملاعبة لہا قبل الجماع والانتظار لہا بعد قضاء حاجتہ حتی تقضي حاجتہا فإن ترک ذلک مضرة علیہا ربما أفضی إلی البغضاء والمفارقة (غنیة الطالبین: ۹۸) جب صحبت کرنے کا ارادہ کرے تو اولاً بسم اللہ پڑھے اور یہ دعا پڑھے:
اللَّھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا،
بوقت صحبت قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، سر ڈھانک لے اور جتنا ہوسکے پردے کے ساتھ صحبت کرے کسی کے سامنے حتی کہ بالکل ناسمجھ بچے کے سامنے بھی صحبت نہ کرے اور بوقت صحبت بقدر ضرورت ستر کھولے، انزال کے وقت دل میں یہ دعا پڑھے:
اللَّھُمَّ لَا تَجْعَلْ لِلشَّیْطَانِ فِیمَا رَزَقْتنَا نَصِیبًا۔
صحبت کے بعد یہ دعا پڑھے:
الْحَمْدُ لِلّٰہ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَہ ُ نَسَبًا وَصِھْرًا․
شب زفاف اور صحبت کے سلسلے کی آپس کی جو باتیں پوشیدہ ہوں کسی سے ان کا تذکرہ نہ کرے یہ بے حیائی اور بے مروتی کی بات ہے۔ (مستفاد: فتاوی رحیمیہ: ۴/ ۲۸۶ تا ۲۸۹ بحوالہ غنیة الطالبین مترجم: ۹۷ تا ۱۰۰ فصل فی آداب النکاح)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
........
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/51092
سوال # 177
میاں بیوی کے درمیان اورل سیکس کا کیا حکم ہے؟
کیا میاں بیوی ایک دوسرے کے اعضائے مخصوصہ کو دیکھ سکتے ہیں اور بوسہ دے سکتے ہیں؟
Published on: Feb 1, 2016
جواب # 177
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 184/م=185/م)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے: 
إذا أدخل الرجلُ ذکرَہ فی فم امرأتہ قد قیل یکرہ...... 
یعنی اگر مرد اپنی بیوی کے منھ میں شرمگاہ کو داخل کرلے تو یہ مکروہ ہے۔ (عالمگیری:5/372) 
اس سے معلوم ہوا کہ زوجین کے درمیان اورل سیکس (شرمگاہ کو بوسہ دینا، منھ میں لینا اور زبان لگانا وغیرہ) یہ سب مکروہ فعل اور بے حیائی کی بات ہے۔ 
ہاں میاں بیوی ایک دوسرے کے اعضائے مخصوصہ کو دیکھ سکتے ہیں لیکن نہ دیکھنا اولیٰ ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Halal--Haram/177
......
سوال: ایک عورت کی عادت پانچ دن حیض آنے کی ہے، اور ایک مرتبہ چار دن حیض آکر بند ہوگیا؟ حیض بند ہونے پر کیا اس سے ہمبستر ہونا درست ہے؟ ایک عورت کو حیض آیا عشاء کی نماز کے بعد، ٹھیک پانچ دن بعد عشاء کے ہی بعد اس کا حیض بند ہوا، اور اس کی عادت بھی پانچ ہی دن ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس عورت سے مجامعت بغیر غسل کئے درست ہے؟
Published on: Mar 2, 2017
جواب # 148424
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 581-607/L=6/1438
(۱) اگر عورت معتادہ ہے یعنی ہر مہینے اس کو ۵/ دن خون آتا ہے اگر اس کا خون عادت سے پہلے بند ہوجائے تو اس کی عادت مکمل ہونے تک اس سے صحبت کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ ایام عادت تک خون کے آجانے کا غالب گمان رہتا ہے۔
وإن کان الانقطاع دون عادتہا وعادتہا دون العشر لایحل وطوٴہا وإن اغتسلت حتی تمضی عادتہا؛ لأن عود الدم غالب۔ (مجمع الأنہر)
(۲) اگر عورت کو حیض اس کی عادت کے موافق بند ہوا پھر تو اس سے اس وقت تک مجامعت کرنا درست نہیں جب تک کہ وہ غسل نہ کرلے یا ایک نماز کا وقت گذر جائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
..........
سوال: کیا حیض ختم ہونے کے فوراً بعد غسل کرنے سے پہلے صحبت کرسکتے ہیں؟
Published on: Jul 22, 2010
جواب # 22731
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م):937=937-6/1431
عورت کو ماہواری حیض آنے کی جو عادت مقرر ہے، مثلاً پانچ دن یا سات دن اس عادت کے مطابق خون آکر بند ہوگیا تو جب تک وہ غسل نہ کرلے یا ایک نماز کا وقت نہ گزرجائے اس سے پہلے صحبت کرنا درست نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/22731
......
سوال # 62673
ایک عورت کو ہر مہینہ تین دن کے اندر حیض کا خون آنا بند ہوجاتاہے، ماہواری کے چوتھے دن ایک قطرہ خون بھی نظر نہیں آتاہے تو کیا وہ چوتھے دن اپنے شوہر کے ساتھ مباشرت کرسکتی ہے؟ یا اس کو پانچ یا سات دن تک انتظار کرنا چاہئے؟
Published on: Jan 7, 2016 
جواب # 62673
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 141-141/Sd=3/1437-U
اگر مذکورہ عورت کی عادت تین دن خون آنے کی ہے ، تو تیسرے دن خون بند ہونے کے بعد شوہر کے لیے اُ س وقت مباشرت جائز ہے ، جبکہ وہ عورت خون بند ہونے کے بعد غسل کر لے یا اُ س کے ذمہ ایک نماز قضاء ہوجائے، یعنی: خون بند ہونے کے بعد اُ س پر اتنا وقت گذر جائے کہ وہ غسل کر کے نماز کی تحریمہ کہہ سکے ،تو ایسی صورت میں غسل کے بغیر بھی اس سے مباشرت جائز ہے ، عادت کے مطابق خون بند ہونے کے بعد مباشرت کے لیے مزید پانچ سات دن انتظار کرنا ضروری نہیں ہے۔ 
وان انقطع دمہا قبل أکثر مدة الحیض أو لتمام العادة في المعتادة بأن لم ینقص عن العادة ، فانہ لا یجوز وطوٴہا حتی تغتسل أو تتیمم أو أن تصیر الصلاة دیناً في ذمتہا، وذلک بأن یبقی من الوقت بعد الانقطاع مقدار الغسل والتحریمة ، فانہ یحکم بطہارتہا بمضي ذلک الوقت، ولزوجہا وطوٴہا بعدہ ولو قبل الغسل۔ (الموسوعة الفقہیة، مادة:حیض، رد المحتار:۱/۲۹۴، کتاب الطہارة، باب الحیض) 
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/22731
.....
سوال # 398
حیض کے آخری دن غسل سے قبل کیا میاں بیوی ہم بستر ہوسکتے ہیں؟ کیوں کہ اس کا حیض تو ختم ہوچکا۔ یا یہ ضروری ہے کہ ہم بستر ہونے سے قبل بیوی غسل حیض سے فارغ ہوجائے؟

Published on: May 10, 2007 
جواب # 398
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 496/ج=496/ج)
اگر حیض کا خون پورے دس دن اور دس رات آکر بند ہوا ہے تو ہم بستری جائز ہونے کے لیے عورت کا غسل کرنا ضروری نہیں، غسل سے پہلے بھی ہم بستر ہوسکتے ہیں۔ اور اگر دس دن اور دس رات سے کم اس کی عادت کے مطابق مثلاً چار یا پانچ دن آکر بند ہوا ہے تو جب تک وہ غسل حیض نہ کرلے یا ایک نماز کا وقت نہ گذرجائے یعنی ایک نماز اس کے ذمہ قضاء نہ ہوجائے تب تک ہم بستر ہونا جائز نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Womens-Issues/398
...........
سوال # 63712
(۱) میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں پہلے مشت زنی کرتا تھا، لیکن نماز پڑھنے سے یہ عادت بہت کم ہوگئی ہے، مگر اب بھی کم از کم ایک مہینہ بعد یا دس دن بعد پھر سے شوق آنے لگتاہے اور میں کنٹرول نہیں کرپاتا ہوں اور لڑکیوں کے ننگے فوٹو کو دیکھتا ہوں۔ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ کبھی کبھی چھوٹی لڑکیوں کو دیکھ کر گندے خیالات ذہن میں آجاتے ہیں اور عضوٴ خاص اٹھنے لگتاہے، لیکن میں کنٹرول کرلیتا ہوں، مگر پھر بھی شیطان مجھ پر حاوی رہتاہے، میں کیا کروں ؟ مجھے کوئی حل بتائیں؟
(۲) ایک اورمسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی چھوٹی لڑکی پاس آجاتی ہے یا گود میں بیٹھ جاتی ہے تو غلط خیالات تو ذہن میں نہیں آتے، لیکن عضوٴ خاص خود بخود اٹھنے لگتا ہے، اس سے سخت غصہ آتا ہے کہ کسی غلط خیال کے بغیر عضوٴ خاص آٹھنے لگتا ہے۔ براہ کرم، اس کا کوئی حل بتائیں۔ مہربانی ہوگی آپ کی۔
Published on: Feb 1, 2016
جواب # 63712
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(ل): 1567=1070-10/1432
(۱) آپ مزید ہمت کریں، ان شاء اللہ مشت زنی کی عادت بالکلیہ ختم ہوجائے گی، مشت زنی شرعاً حرام ہے اور شرعی وطبی ہرلحاظ سے مضر ہے، مشت زنی چھوڑنے کے لیے آپ اولاً غلط تصاویر دیکھنا چھوڑدیں اور نیکوں اور اللہ والوں کی صحبت اختیار کریں، اگر شادی نہ ہوئی ہو تو کوشش کرکے شادی کرلیں، اگر یہ ممکن نہ ہو تو روزہ کی کثرت کریں اس سے بھی قوت شہوانیہ مغلوب ہوجاتی ہے اور سوتے وقت بجائے ادھر ادھر کے خیالات لانے کے ہاتھ میں تسبیح لے کر درود شریف پڑھتے رہیں، ان شاء اللہ آپ سے یہ عادت چھوٹ جائے گی۔
(۲) اس کا حل بھی وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا نیز شہوت کے اندیشہ کے وقت آپ چھوٹی بچی کو ہاتھ میں نہ لیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
.http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Halal--Haram/63712
...........
سوال # 270
میں مشت زنی کے متعلق ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ کیا اسلام میں مشت زنی جائز ہے؟ اگر ہاں، تو کن آیات و احادیث سے ثابت ہے؟ اگر نہیں تو کن آیات و احادیث کی رو سے منع ہے؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور معیار، شرط ، ضابطہ یا ضرورت ہے جس کی بنیاد پر مشت زنی کی اجازت ہو؟
Published on: Apr 30, 2007 
جواب # 270
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 379/ب=379/ب)
قرآن پا ک میں ہے 
وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَo اِلاَّ عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ 
اس آیت کے تحت قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر مظہر ی میں لکھا ہے کہ آیت خود دلیل ہے مشت زنی کے حرام ہونے پر۔ پھر ابن جریج کا قول نقل کیا کہ انھوں نے حضرت عطاء سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے مکروہ بتایا اور پھر فرمایا میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے۔ اور میرا خیال ہے کہ اس سے مراد یہی لوگ ہیں۔ اورحضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عذاب دیں گے جو اپنے ذَکر کے ساتھ کھیل کرتے تھے۔ ارو ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ ناکح الید ملعون یعنی مشت زنی کرنے والا ملعون ہے۔ ہاں اگر کوئی زنا میں مبتلا ہوجانے کا قوی اندیشہ رکھتا ہے تو زنا سے بچنے کے لیے مشت زنی کرلے تو امید ہے کہ اس پر کوئی وبال نہ ہوگا۔ (ملاحظہ فرمائیں تفسیر مظہری، ج:5، ص:۳6۵) اور در مختار)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Halal--Haram/270
............
اپنی بیوی سے صحبت(جماع) کے آداب
جس طرح اسلام کے روشن اور پر نور انقلاب نے ایک ہی وار میں جاہلیت کے دور کی تمام بے حیائی اور بے راہ روی کو مٹا دیا اور اُس کی جگہ دنیا میں شرعی نکاح کو پیش کر دیا۔
جس طرح اجتماعی سطح پر نکاح کی پاک سنت ایک طریقہ ٹھہرا۔ اسی طرح نکاح کے بعد ہمبستری یا جماع کے آداب بھی پیش کئے گئے۔ ان آداب کا سیکھنا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے۔
صحبت کے آداب:
1۔ پہلی بار جب دلہن اپنے دلہا کے ساتھ یکجا ہوتی ہے تو مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے شوہر اپنی بیوی کے پیشانی کے بال پکڑے، بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر یہ دعا کریں:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ
("اے اللہ میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس چیز کی بھلائی چاہتا ہوں جس پر تو نے اس کو پیدا کیا , اور تجھ سے اس کی برائی ,اور اس چیز کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں جس پر تو نے اس کو پیدا کیا ")
2۔ دولہا کو چاہئے کہ شب زفاف میں اپنی بیوی کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھے۔ ایسا کرنے سے دونوں کی ازدواجی زندگی ہر نا پسند یدہ چیز سے محفوظ رہے گی .
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ کا بیان ہے کہ" جب تمہاری بیوی تمہارے پاس آئے تو تم اُسے کہو کہ وہ تمہارے پیچھے دو رکعت نماز پڑھے, اور یہ دعا کرو
(اللهم بارك لي في أهلي ,وبارك لهم فِيَّ ,اللهم اجمع بَيننا ما جمعت َبِخير ,وفرِّق بيننا إذا فرَّقت إلي الخير)
" اے اللہ میرے لئے میرے اہل میں برکت عطا فرما . اور ان کے لئے مجھ میں برکت عطا فرما , اے اللہ! جب تک ہمیں اکھٹا رکھے خیر پر اکھٹا رکھ, اورجب ہمارے اندر جدائی ہو تو خیر ہی پر جدائی کر " (طبرانی ,علامع البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس اثرکوحسن کہا ہے )
3۔ مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ ہمبستری کی دعاؤں کا اہتمام کرے , ایسا کرنے سے صحبت سے پیدا ہونے والا بچہ شیطان کے اثر سے محفوظ رہے گا , حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا
( لو أن أحدکم إذا أتی أھلہ قال: بسم الله ,اللهم جنبنا الشيطان , وجنب الشيطان ما رزقتنا , فقضى بينهما ولد , لم يضره الشيطان أبدا )
"اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے جماع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے
( بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ) "
اے اللہ !تو ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ, اور تو ہمیں جو اولاد عطا کر اسے بھی 
شیطان سے بچانا " تو اُن کے یہاں جو بچہ پیدا ہوگا شیطان اُسے کبھی ضرر نہیں پھنچا سکے گا " (صحیح بخاری وصحیح مسلم )
4۔ جماع کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا ضروری ہے۔ اس میں بہت زیادہ برکت ہے۔(اور یا اوپر زکر شدہ دعا)
5۔ جماع کے وقت بالکل ننگا ہونا ممنوع ہے۔ اس سے میاں، بیوی اور بچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ میاں بیوی اپنے اوپر کوئی پردہ وغیرہ ڈال کر صحبت کریں۔ اپنی انسانی کرامت کا خیال رکھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ " جانوروں کی طرح اپنے آپکو برہنہ نہ کرو"
6۔ حیض (عورت کو ماہواری کا خون آنا) اور نفاس (ولادت کا خون) کی حالت میں بیوی کے ساتھ جماع کرنا حرام ہے۔ اسلئے کہ حیض کے معنیٰ پلیدی یا زخم کے ہیں۔ ان دنوں میں حائضہ عورت رحم کا ناپاک خون گراتی ہے جس سے درد اور تکیف بھی ہوتی ہے۔ ان دنوں میں بیوی کے ساتھ جماع مردوں کیلئے بہت سی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ عورت کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔
اسی طرح نفاس اور ولادت کے بعد ناپاک خون نکلتا ہے۔ ایسی حالت میں بھی عورتیں سخت ازیت سے گزرتی ہیں۔ ایسے میں بھی مرد اور عورت کا صحبت کرنا سخت نقصان دہ ہے۔
اس کے علاوہ ایک ساتھ سونا، کھانا کھانا، وغیرہ جیسے امور سب جائز ہیں۔ دورِ جاہلیت کی طرح نہیں کہ جس میں ایامِ حیض و نفاس میں بیوی سے نفرت کی جاتی تھی۔
7۔ اپنی بیوی کے ساتھ پیچھے کی طرف ( پاخانے کی جگہ) صحبت کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔
بہت بڑی بے شرمی کی بات ہے۔ ایسا کام جانور بھی نہیں کرتے۔ اسی گناہ کی وجہ سے قوم لوط ہلاک ہوئی۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ : " وہ شخص لعنتی ہے جو اپنی بیوی سے پیچھے کی طرف جماع کرے" (رواہ ابوداود، احمد)
8۔ اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت ایک راز ہے۔ اس راز کا فاش کرنا بڑا گناہ اور بڑی بے غیرتی اور بے حیائی ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ " قیامت کے دن اللہ کے نزدیک وہ شخص بدترین درجے میں ہوگا جو بیوی سے جماع کرنے کے بعد اس کا راز افشاء کرے" (رواہ مسلم)
نوٹ: اور باتیں بھی ہیں۔ لیکن جو ضروری باتیں تھی وہ یہاں لکھ دیں۔