Thursday, 31 March 2016

دارالعلوم وقف کا گفتار چل دیا

ایس اے ساگر

گزشتہ روز مشفق استاذ و معروف بزرگ عالم دین، امام المنطق، علامہ سیدحسن باندوی استاذ دارالعلوم وقف دیوبند نے داعی اجل کو لبیک کہا. بدھ 31 مارچ 2016 کو ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں مزار قاسمی  میں آپ سپرد خاک ہوئے جبکہ احاطہ مولسیری دارالعلوم دیوبند میں بعد نماز ظہر دارالعلوم وقف دیوبندی کے مہتم مولانا محمد سفیان قاسمی نے آپ کی نماز جنازہ پڑ ھائی. مولانا کے جنازہ میں طلبہ اور اساتذہ کے علاوہ ہزاروں اہالیان شہر نے شرکت کی. پسماندگان میں تین صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں اور اہلیہ ہیں. اللہ تعالیٰ مولانامرحوم کوغریق رحمت کہ آپ نے نہایت سادگی اور انکساری کی مثال قائم کر دی. آپ علمائے دیوبند کی آخری نشانی تھے. ایسے ماحول میں جبکہ کوٹھیوں میں سفر کرنے والے اور ائیر کنڈیشنڈ کاروں میں سفر کرنے والے علمائے کرام کی کمی نہیں ہے، آپ کی پوری زندگی کرائے کے مکان میں گزر گئی.
فیضان احمد معروفی رقمطراز ہیں،

دارالعلوم وقف کا گفتار چل دیا

انسانیت کے درد کا افکار چل دیا

پیاسہ علوم دین کا اک اژدھام تھا

میخانہ خالی چھوڑ کے میخوار چل دیا

تیری کمی رلائے گی علامہ باندوی

افسوس آج علم کا انبار چل دیا

تاریکیوں میں علم کا اک آفتاب تھا

لو آج ہم کو چھوڑ کے انوار چل دیا

طلبہ ہزاروں ہوتے رہے تجھ سے مستفید

سناٹا ہے کہ رونق بازار چل دیا

فیضان اشک پوچھ کے اقلام بند کر

مہمان بن کے رب کا ' وہ بیزار چل دیا

رمضان المبارک کی اطلاع پر مغفرت!

سوشل میڈیا پر رمضان کی فضیلت کے بارے میں
یہ بات گشت کررہی ہے کہ جو شخص رمضان کی خبر سب سے پہلے دے گا اس پر جہنم حرام ہوجائے گی۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ اس جملہ کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کی جاتی ہے جبکہ اہل علم کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے، یعنی یہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان نہیں ہے۔ نیز اگر اس جملہ کو صحیح تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم کیلنڈر میں دیکھ کر اس کی خبر لوگوں کو دیدیں اور اس فضیلت کے مستحق بن جائیں بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ چاند دیکھنے کے بعد اس کی خبر دینے والا اس فضیلت کا مستحق ہوگا۔ لیکن صحیح بات یہی ہے کہ یہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان نہیں ہے، لہٰذا اس طرح کے دینی پیغام کو تحقیق کے بغیرسوشل میڈیا پر ارسال نہ کریں۔

Nowadays,
it is being circulated through the social media,
that whosoever informs about Ramadan first of all, the Hell will become Haram for him. Attributing this to the Prophet Muhammad Sallallahu Alaihi Wa Sallam is not correct as it is not his saying. If we accept it as correct, it does not mean that we see the beginning of Ramadan in the calendar and inform others to get this virtue, but it means seeing the crescent of Ramadan. The correct thing is that it is not one of the sayings of the prophet Muhammad Sallallahu Alaihi Wa Sallam, so do not circulate any such unauthentic religious information through social media.

Wednesday, 30 March 2016

Victims Of Saffron Terrorism!

Delhi Police arrest five for allegedly assaulting madrasa students who refused to say 'Jai Mata Ki'. According to reports,  three Muslim youth- Dilkash, Mohammad Ajmal and Naeem-- were allegedly beaten up by unidentified men at a park in outer Delhi’s Begampur area, as they refused to chant pro-religious and national slogans such as ‘Jai Mata Ki’ and ‘Bharat Mata Ki Jai’.“We had gone to a nearby park. Some men came and slapped one of my friends. They asked us to say 'Jai Mata Ki’ and ‘Bharat Mata Ki’ and threatened to kill us.  I don’t know them, but I can recognise them. We called up Hafiz and then the police came and we were being taken to the Sanjay Gandhi Hospital,” said Dilkash, one of the victims. Another victim Mohammad Ajmal said they were not given a chance to say anything, adding that their skull caps were thrown and crushed with feet. “They asked us to say ‘Jai Mata Ki’. Suddenly one of them came and thrashed me with a bamboo stick. They all started beating us. We then called up our teacher. He came and called up the police,” he added. The victims called up their teacher Hafiz, who then called up the police.They were rushed to the Sanjay Gandhi Hospital for immediate treatment.A case has been registered and further probe is on.

http://www.newindianexpress.com/nation/Three-Muslim-Youth-Thrashed-for-Not-Saying-Jai-Mata-Ki/2016/03/30/article3354213.ece

'Feed him pork': Video of Muslim man being thrashed, forced to chant 'Jai Sri Ram' goes viral -

http://english.pradesh18.com/news/feed-him-pork-video-of-muslim-man-being-thrashed-forced-to-chant-jai-sri-ram-goes-viral-882312.html

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1024212447636348&id=120477478009854

Tuesday, 29 March 2016

اپنے آپ کو اہل السنةوالجماعة کہلانے کا مطلب

...............بسم اللہ الرحمٰن الرحیم................
↘↘↘کیا آپ جانتے ہیں؟ ↙↙↙
        ہمارا اپنے آپ کو
⬅...... اہل السنةوالجماعة حنفی کہنا
⬅...... اہل السنةوالجماعة مالکی کہنا
⬅..... اہل السنةوالجماعة شافعی کہنا
                   یا
⬅..... اہل السنةوالجماعة حنبلی کہنا
👇ایسے اہل قرآن اور ایسے اہل حدیث ہونے کی👇
                 مکمل نشاندہی کرتا ہے.
                     👇👇👇👇
                        👇👇👇
                            👇👇
                                👇
                                👇
👈جو کتاب و سنت کےمنصوص وغیر معارض مسائل میں کتاب و سنت کی ہر آیت و روایت پر عمل کرنے کا قائل ہو.
👈کتاب و سنت کے جو مسائل منصوص و متعارض لیکن معلوم التقدیم والتاخیر ہوں...ان میں ناسخ پر عمل کرنے کا قائل ہو.
👈کتاب و سنت کےجو مسائل منصوص بظاہر متعارض لیکن غیر معلوم التقدم والتاخیر ہوں اور ان میں سےکسی ایک پہلو پر صحابہ متفق ہوں ...... تو⬅ اجتہاد و اتحاد کے نام پرغیر مقلدین کی طرح انتشار برپا کرکےاور صحابہ کے اجماع کی مخالفت کرکے وأصحابی کے دائرے سے خارج ہونے کے بجائے ............⬅صحابہ کے إجماع سے مجتمع اور ان کے اتفاق سے متفق ہو کر چلتا ہو.
👈کتاب و سنت کے وہ مسائل جو منصوص متعارض غیر معلوم التقدیم والتاخیرغیر اجماعی ہیں..ان میں غیر مقلدین کی طرح اہل کے سلیکشن کو چهوڑ ، نا اہل ہو کر خود اجتہاد کرکے لو کنا نسمع او نعقل اور اذا وسد الأمر إلى غیر اهلہ کا مصداق بننے کے بجائے کسی اہل (جیسے امام ابو حنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی ، امام حنبل رحمہم اللہ یا دیگر ائمہء مجتہدین) کی ترجیح دی ہوئی کتاب و سنت کی آیات و روایات پر عمل کرتا ہو.
👈جوکتاب و سنت کے درج بالا مسائل یعنی "منصوص متعارض غیر معلوم التقدیم والتاخیرغیر اجماعی " میں غیر مقلدین کی طرح اپنے اختیار کردہ موقف کی تبلیغ اور دوسرے کے اختیار کردہ موقف کی تردید کر کے امت مسلمہ کی صف میں انتشار پیدا کرنے کے بجائے  ترجیحی بنیاد پر اپنے موقف عامل ہوتے ہوئے دوسرے موقف کے اختیار کرنے والے کو بهی حق پر عامل سمجهتا ہو.
👈کتاب و سنت کی آیات روایات کی تہہ میں پوشیدہ وہ  مسائل جن پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ نےاستنباط کے بعد اتفاق کر لیا ہو اور مسئلےکا اجماعی حل دیا ہو .....اس میں نا اہل بد فہم غیر مقلدین کی طرح ٹانگ اڑانے کے بجائے صحابہ و ائمہ کے اجماع سے مجتمع اور ان کے اتفاق سے متفق ہو کر چلتا ہو.
👈کتاب و سنت کی آیات روایات کی تہہ میں پوشیدہ وہ  مسائل جو غیر اجماعی ہیں ان میں غیر مقلدین کی طرح نا اہل ہو کر کچھ بھی سمجھ لینے یا ترک تقلید کے نام پر اپنے نا اہل علماء کی اندھی تقلید کر لینے کے بجائے .......یا ایها الذین امنوا اطیعوا اللہ وطیعواالرسول⬅ واولی الامر منکم ....پر عمل پیرا ہوکرکسی اہل(جیسے امام ابو حنیفہ امام مالک امام شافعی امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ و دیگر ائمہ مجتہدین)کے استنباط کو تقلیداً مان لیتا ہو.
👈کتاب و سنت کے غیر منصوص مسائل میں غیر مقلدین کی طرح نا اہل ہو کر کچھ بھی سمجھنے یا ترک تقلید کے نام پر اپنے نا اہل علماء کی اندھی تقلید کر کے ....اپنی یا اپنے نااہل علماء کی بات پر خدا و رسول یا قرآن وحديث کا لیبل اور نام لگاکر اور اس بنیاد پر خود کو محمدی کہلواکر... اپنے نا اہل علماء کو نبی کا درجہ دےکراتخذوا احبار هم ورہبانہم. ......کا مصداق بننے کے بجائے......ائمہ مجتہدین کے استنباط کو مان کر .......مسئلہ بتانے کی بنیاد پر ..مسئلہ کو ..... اور مسئلہ مان لینے کی بنیاد پر خود کو ......مسئلہ بتانے والے کی طرف منسوب کرکے حنفی مالکی شافعی حنبلی کہلوا کرحقیقت کا اظہار کرتا ہو.
👈 اپنے نا اہل علماء کے شاذ متروک اور خلاف کتاب و سنت مسئلے پر غیر مقلدین کی طرح اڑیل ٹٹو بن کر چمٹ جانے کے بجائے اصحاب ترجیح کی معاونت سے ائمہ مجتہدین کے صرف أقرب إلى الکتاب والسنة  مسائل پر عامل ہوکر غیر مفتی بہ أقوال سے دوری اختیار کرتا ہو.

....منجانب: جمعیةاہل السنةوالجماعة، مالیگاؤں الہند....

تین ادارے، تین مقاصد

ہندوستان میں تین اہم اور مؤثر ادارے ہیں اورتینوں کے مقاصد الگ الگ- یہ تینوں اپنی عظمت و عبقریت اور عہد سازی کی بنا پر بین الاقوامی شہرت رکھتےہیں-ان میں سے
ایک دارالعلوم دیوبند ہے،
دوسرا دارالعلوم ندوہ اور
تیسرا مسلم یونیورسٹی علی گڑھ -
دارالعلوم دیوبند مسلمانوں کی اٹھارہ سو ستاون کی خوف ناک اور "زہرہ گداز "ناکامیوں کے نتیجے میں "منصۂ شہود پر آیا، یہ انگریزی تسلط کے آفتابِ نصف النہار کا دور تھا- ہرطرف اہل ایمان سر بکف نظر آرہے تھے-خاکِ وطن کلمہ خوانوں کے خون سے لالہ زار بنی ہوئی تھی-تحریکِ آزادی جو پیشتر سے میدان جنگ میں فرنگیوں سے دوبدوجاری تھی، اب برنگِ دگر جاری رہی-ملک سے دینی شعائر وآثار مٹانے کی سعئ پلید اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کیساتھ عروج پر تھی- دارالعلوم ایسی دہشت انگیز فضا میں جلوہ آراے روزگار ہوا- اس کا مقصد اصلی اگر ایک طرف فرنگی استبداد و قبضہ کا خاتمہ تھا، تو دوسری طرف مسلمانوں کی تہذیبِ حجازی کا مضبوط تحفظ بھی - دارالعلوم اٹھارہ سو چھیاسٹھ میں قائم ہوا- مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے بھی سفید فام بہادروں کے عہد نافرجام میں آنکھیں کھولیں- اس کا مقصد فرنگی روسیاہوں کی تقلیدِ کامل تھی- سید احمد خاں نے اس کا منشور اس اعلان کیساتھ تیار کیا،
"میں ایسی جماعت تیارکرناچاہتاہوں، جو رنگ ونسل میں تو ہندوستانی ہو اور تہذیب وتمدن میں کامل انگریز "-
چناں چہ اس نے اپنی ابتداےآفرینش سے فرنگی مسلمان تیار کئے، جو اپنے بانی اور فاؤنڈر کا حلیہ بھی نہ اپناسکے- ان دونوں کے بعد بیرونی تسلط کے ہی دور میں ندوہ تحریک شروع ہوئی، جو بعد میں تحریکیت کھوکر ایک دینی درسگاہ کی شکل میں متشکل ہوکررہی- اس کا ایک ہی نعرہ رہا
"خذ ما صفا دع ماکدر "
یعنی قدیم صالح اور جدید نافع- تینوں ادارے اپنی نفع رسانیوں کے باوصف تین علی حدہ نقاط کےحامل ہیں- دارالعلوم کا مقصد تحریک آزادی کیساتھ چوں کہ برصغیر میں ارتقاےاسلام تھا، اس لئے اس کا نصاب تعلیم نظامی منتخب ہوا- یہ نصاب ملا نظام الدین سہالوی میرٹھی ثم بارہ بنکوی ثم فرنگی محلی کا تیار کردہ ہے، اسےانہوں نے حضرت اورنگ زیب عالم گیر رحمہ اللہ کے ایما پر مرتب کیاتھا، بعض لوگ اس کا بانی مرزا فتح اللہ کو گردانتےہیں- اس نصاب میں کئی مفید علوم داخل تھے، جو سمٹ کر چند علوم میں محدود ہوکررہ گئے، تاہم دارالعلوم نے اپنے اسی نصاب سے چوٹی کے مفسرین، نابغۂ عصر محدثین، سربفلک مصنفین اور سرآمد روزگار ماہرینِ شرع پیدا کئے اور اب بھی دارالعلوم اسی ڈگرپر جاری ہے- دارالعلوم ماہرین شرع کی کھیپ مسلسل تیار کررہا ہے- یہاں پڑھنے والے یہی سوچ کر پڑھتےہیں کہ انہیں دینی خدمت سے کچھ کم منظور نہیں ،چاہے انہیں فاقہ مستی کی دشوارگزار گھاٹیوں سے گزرنا پڑے- دینی علوم کیساتھ اگر دنیوی علوم بھی اس کے ہاتھ لگ گئے، تو یہ ان کیلئے اضافی نعمت ہے- دارالعلوم کا مقصد دنیا کمانےوالے افراد تیار کرنا ہے ہی نہیں-اس کے علی الرغم علی گڑھ استعماری  تہذیب اور استحکام معیشت  کی بنیادوں پرکھڑاہوا ،اس لئے فرنگیت اس کے ابنا کا شعار بنی رہی- یہی ہوتارہا کہ اسلام بیزاروں اور دنیا پرستوں "کی فوج درفوج یہاں سے نکلتی رہی، اب بھی اس میں کوئی کمی نہیں ہے-ندوہ کا مقصد مسلمانوں میں نزاعِ باہم کو دور کرنا اور مفید تر نصاب تیارکرنا تھا، تاکہ یہاں کے فضلا علوم دینیہ میں وسیع گہرائی کے ساتھ علوم عصریہ کےبھی ماہر نبض شناس ہوں-ندوہ اپنےمقاصد میں کماحقہ کامیاب نہ ہوسکا-صورت حال یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند خاموشی سے ناخداے اسلام کا عظیم فرض منصبی اداکررہاہے- علی گڑھ بھی اپنے مقررکردہ خطوط پرجادہ پیما ہے ،مگر ندوہ نصاب نصاب کی ہزار گردان کے باوجود اپنےاہداف نہ پاسکا- یہی وجہ ہے کہ ابناے ندوہ باربار تبدیلئ نصاب کا علم بلند کئےجارہےہیں جبکہ دارالعلوم اپنے خطوط پر تسلسل کیساتھ رواں دواں ہے- علی گڑھ بھی اپنا کام بخوبی انجام دےرہا ہے- علوم اسلامیہ اگرچہ وہاں بھی پڑھائےجارہےہیں ، مگروہ ذیلی اورضمنی ہوکر- اسی لئے اسلامی رنگ اورمحمدی نقوش ڈھونڈنےسےنہیں ملتے-کاش کہ وہ یہ جرات کرلیتا تو امت کو ماہرین علوم عصریہ کی شکل میں مردانِ خداآگاہ کےخوبصورت نظارےبھی دیکھنےکوملتے-اس لئےتبدیلئ نصاب کا مشورہ علی گڑھ اور دیگر مسلم یونیورسٹیوں کو دیا جانا زیادہ مفید رہےگا- جولوگ نصاب کی تبدیلی کا مشورہ دارالعلوم کودےرہے ہیں، وہ دراصل دارالعلوم کے مطمحِ نظر سےناآشناہیں-
فضیل احمد ناصری القاسمی

آخری نبی کا پہلا خلیفہ ؛سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

جب سے دنیا بنی ہے کائنات میں اتنی بڑی آزمائش نہیں آئی جتنی نبی الانبیا، امام الانبیاء ، فخر الانبیاء ، سید الانبیاء ، خاتم الانبیاء کی وفات کے دن پیش آئی ۔ ارض و فلک دم بخود ، آفتاب و ماہتاب اشکبار، حجر و شجر ساکت ، جن و انس مضطرب ، مدینہ طیبہ کے درو دیوار سے حزن و ملال کی آہیں ، اہل اسلام کا وہ کون سا فرد ہے جو حسرت و یاس کے عالم میں معطل حواس کیسا رنجیدہ خاطر نہ ہو کہ کائنات کے ہادی اعظم اورمحسن اعظم نے پردہ فرما لیا، یعنی اللہ کے آخری نبی ، رسول اور پیغامبر رفاقت اعلی کے عہد کی پاسداری کیلئے لبیک کہہ کراس جہان سے کوچ فرما گئے ۔ اللہ کے آخری نمائندے نے اپنے پہلے نمائندے کو اپنا اثاثہ ،اپنا سرمایہ اور اپنی امت سپرد کر دی ۔ بیت اللہ کو بسانے والے نبی کے اہل بیت جاں بلب ہیں ،صحابہ کرام رنج و گریہ کے عالم میں جدائی محبوب سے زمین میں گڑے جا رہے ہیں ،سوگوار فضاء میں اسلام ، اہل اسلام ، اسلامی ریاست اور حالات کو سنبھالتے ہوئے افضل البشر بعد الانبیاء کی ایمان افروز ، تسلی بخش اور مبنی بر حقیقت صدا گونجی:لا یذیقک اللہ الموتتین ابدا آپ پر جو ایک موت آنی تھی سو وہ آگئی۔ اب دوبارہ )قبر میں(آپ کو کبھی موت نہیں آئے گی ۔ بلکہ حیات ہی حیات حاصل رہے گی ۔گویا ان الفاظ سے امت کو یہ تسلی دی کہ ہمارا اور نبوت کا رشتہ بالکلیہ ختم نہیں ہوا بلکہ آپ کی رحمت اور گناہگاروں کے لیے استغفاراور دعاوالاسلسلہ جوں کا توں قیامت تک باقی رہے گا ۔
اور اس کے بعدمحبوب کل جہاں کے رخ حسین تر ؛کی پیشانی مبارک سے حق و صداقت کے اعلان و اظہار کے لیے اپنے لبوں سے خیرات حاصل کی۔ پرنم بوجھل پلکوں اورفراق یار سے معموربوجھل سینے سے امت کی رہنمائی کے بوجھ کو اٹھانے کا عہد کیا ۔یہ عہد کرنے والے رسول اللہ کے پہلے خلیفہ ، امیر المومنین سیدنا ابو بکر صدیق ہیں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو جس مقام پر چھوڑ کر گئے تھے اس مقام سے آپ رضی اللہ عنہ نے آگے کا سفر شروع کیا ۔ آپ کی زندگی حیات نبوت کی پرتو تھی ،علم و عمل ، تقویٰ وللہیت ،طور طریقے ، عادات و اخلاق، سلوک و احسان ، ماہ وسال ، سفر و حضر،نشیب وفراز ، مدو جزر ،مصائب وآسائش، جنگ و امن ،الغرض ہر شعبہ زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرصع نگاری کے انمول شاہکار اور کمالات نبوت کے آئینہ دارتھے ۔

ولادت :

آپ کی ولادت واقعہ فیل سے تین سال بعد 573ء میں ہوئی ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ دو سال چند ماہ چھوٹے ہیں ۔

نام مبارک اورنسب:

امام زرقانی نے شرح المواہب میں لکھا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبد رب الکعبہ تھا ۔ امام قرطبی کے بقول حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام عبداللہ تجویز فرمایا۔
تاریخ کی کتب میں مذکور ہے کہ آپ کے والد ماجد ابوقحافہ کانام "عثمان" تھا ،جن کا تعلق بنوتیم قبیلہ سے تھا اور نسب مبارک اس طرح ہے ۔ ابوقحافہ عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر القرشی التیمی۔جبکہ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام "ام الخیر سلمی" تھا ، ان کا نسب مبار ک اس طرح ہے ۔ سلمیٰ بنت صخر بن عمر وبن کعب بن سعد بن تیم ۔

کنیت:

کنیت ابوبکر ہے ۔ جس کے معنی سبقت کرنے ،پہل کرنے والے کے ہوتے ہیں چنانچہ آپ ہر خیر کے کام میں سبقت فرمایا کرتے ۔ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول فرمایا ، دین اسلام کی اشاعت میں سب سے پہلے اپنا مال خرچ کرنے کی سعادت حاصل کی۔

عتیق و صدیق:

یہ دو آپ کے القاب ہیں۔ امام ترمذی نے اپنی سنن میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کی ایک روایت ذکر کی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں حاضر ہوئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم من جانب اللہ جہنم کی آگ سے آزاد (محفوظ) ہو اسی دن سے آپ کو عتیق کہا جانے لگا ۔
مستدرک میں امام حاکم میں ایک روایت نقل فرماتے ہیں کہ شب معراج کے اگلے دن مشرکین مکہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا ، اپنے صاحب کی اب بھی تصدیق کروگے ؟ ، انہوں نے دعوٰی کیا ہے "راتوں رات بیت المقدس کی سیر کرآتے ہیں"ابوبکر صدیق نے کہا:"بیشک آپ نے سچ فرمایا ہے ، میں تو صبح وشام اس سے بھی اہم امور کی تصدیق کرتا ہوں"۔ اس واقعہ سے آپ کا لقب صدیق مشہور ہوگیا۔
حلیہ مبارک :
تاریخ کی کتب میں آپ رضی اللہ عنہ کے حلیہ مبارک کچھ اس طرح منظر کشی کی گئی ہے کہ آپ کا رنگ سفید ، رخسار ہلکے ہلکے ، چہرہ باریک اور پتلا ، پیشانی بلند ۔

بچپن :

ارشاد الساری اور مرقاۃمیں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرماتھے تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے بچپن کا واقعہ سناتے ہوئے فرمانے لگے کہ یارسول اللہ ! میرے والدزمانہ جاہلیت میں مجھے صنم کدے لے گئے اور بتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے کہا یہ تمہارے خدا ہیں انہیں سجدہ کر۔ وہ تو یہ کہہ کر باہر چلے گئے ۔ تو میں نے نے بتوں کو عاجز ثابت کرنے کے لیے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے ۔وہ کچھ نہ بولا ۔فرمایا :میں ننگا ہوں مجھے کپڑا پہنا ۔وہ کچھ نہ بولا ۔صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پتھر ہاتھ میں لیکر فرمایا میں تجھ پر پتھر مارتا ہوں اگر تو خدا ہے تو اپنے آپ کو بچا ۔وہ پھر بھی کچھ نہ بولا تو آخر کار میں پوری قوت سے اس کو پتھر مارا تو وہ منہ کے بل گر پڑا ۔ عین اسی وقت میرے والد واپس آئے ۔یہ ماجرا دیکھ کر فرمایا کہ یہ کیا کیا؟ میں نے کہا وہی جو آپ نے دیکھا ۔ وہ مجھے میری والدہ کے پاس لیکر آئے اور سارا واقعہ ان سے بیان کیا ۔انہوں نے فرمایا اس بچے سے کچھ نہ کہو کہ جس رات یہ پیدا ہوئے میرے پاس کوئی نہ تھا میں نے ایک آواز سنی کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا: اے اللہ کی بندی! تجھے خوشخبری ہو اس آزاد بچے کی جس کا نام آسمانوں میں صدیق ہے اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دوست ہے ۔
آپ کے بچپن سے متعلق تاریخ الخلفاء میں ہے کہ ایک بار صحابہ کرام میں سے کسی نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے جاہلیت میں شراب پی ہے ۔آپ نے فرمایا خدا کی پناہ میں نے کبھی شراب نہیں پی ۔لوگوں نے کہا کیوں؟فرمایا میں اپنی عزت و آبرو کو بچاتا تھا اور مروت کی حفاظت کرتا تھا ۔اس لئے کہ جو شخص شراب پیتا ہے اس کی عزت و ناموس اور مروت جاتی رہتی ہے ۔جب اس بات کی خبر حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے دو بار فرمایا سچ کہا ابو بکر نے سچ کہا ۔

مبارک خواب :

سیرت حلبیہ میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ بغرض تجارت شام تشریف لے گئے وہاں آپ کی ملاقات بحیرا راہب سے بھی ہوئی وہ خوابوں کی تعبیر بتلایا کرتے تھے ۔ ان سے اپنا خواب ذکر کیا کہ میں نے خواب دیکھا کہ مکہ میں کعبۃ اللہ کی چھت پر چاند اترا ہے اور اس کی روشنی سارے گھروں میں پھیل گئی ہے پھر وہ روشنی میری گود میں آگئی ہے ۔ تو بحیرا راہب نے تعبیر دیتے ہوئے کہا کہ تو اس نبی کی تابعداری کرے گا جس کی اس زمانے میں انتظار کی جا رہی ہے اور اس کے ظہور کا زمانہ بہت قریب آچکا ہے تو اس نبی کے قرب کی وجہ سے لوگوں میں سب سعادت مند ہوگا ۔
نوٹ : امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ خود بھی خواب کی تعبیر دینے میں اپنی مثال نہیں رکھتے تھے اور اسی طرح علم الانساب میں بھی آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔

ایمان :

خصائص الکبریٰ اور ریاض النضرہ میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے شام میں خواب دیکھا ۔اس کی تعبیر بحیرا راہب سے پوچھی تو اس نے کہا کہ تیری قوم میں ایک نبی مبعوث ہوگا تو اس کی زندگی میں اس کا وزیر ہوگا اور اس کی وفات کے بعد اس کا خلیفہ ہوگا ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس بات کو اپنے دل میں چھپائے رکھا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی سے اس پر دلیل مانگی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اس کی دلیل وہ خواب ہے جو آپ نے شام میں دیکھا تھا ۔چنانچہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر بوسہ دیا۔

مقام نگاہ نبوت میں :

آپ کا مقام نگاہ نبوت میں بہت بلند تھاحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی چیز ایسی اللہ تعالی نے میرے سینہ میں نہیں ڈالی جس کو میں نے ابو بکر کے سینہ میں نہ ڈال دیا ہو۔
صحیح مسلم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا ”وہ کون شخص ہے جس نے آج روزہ رکھ کر صبح کی ہو ؟ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا میں نے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا وہ کون ہے جو آج جنازہ کے ساتھ گیا ہو ؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیامیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا !وہ کون ہے جس نے آج مسکین کو کھا نا کھلا کر تسکین دی ہو ؟ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میں نے !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا ، وہ کون آدمی ہے جس نے آج کسی بیمار کی خبر گیری کی ہو ؟ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا ، میں نے !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ، یہ کام اُسی آدمی میں جمع ہوتے ہیں جو جنت میں جائے گا۔
نوٹ :آپ کے مقام و مرتبہ پر کافی آیات و احادیث موجود ہیں ۔

صحبت و معیت:

قبول اسلام سے پہلے بھی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت عمدہ تعلقات تھے اور قبول اسلام کے بعد تو ساری زندگی آپ سے لمحہ بھر کے لیے جدا نہ ہوئے ۔ یہاں تک کہ آج تک روضہ مبارکہ میں آپ کے پہلو میں ساتھ نبھا رہے ہیں ۔

ہجرت :

سیرت کی تمام معتبر کتابوں میں ہجرت کا واقعہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے مختصرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اللہ کے دین کی دعوت دیتے رہے بعض خوش نصیب افراد نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور اسلام قبول کر لیا لیکن اکثر اپنی سرکشیوں کی وجہ سے آپ کو اور آپ کے رفقاء کار کو طرح طرح کی تکالیف دیتے چنانچہ اللہ کی طرف سے ہجرت کا حکم نازل ہوا ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خطر سفر میں اپنے رفیق سفر کا جب انتخاب فرماتے ہیں تو آپ کی نگاہ سیدنا صدیق اکبر پر جا کر ٹھہرتی ہے ۔ اسی سفر میں وہ واقعہ بھی پیش آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے کندھوں پر سوار ہو گئے اور چنانچہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر غار ثور تک پہنچے ۔ غار کی صفائی کی، آپ تین دن تک وہاں رہے ۔ آپ کی بیٹی روزانہ لوگوں کی نظروں سے بچ بچا کر آپ کے لیے کھانا پہنچاتیں۔ دشمن آپ کی تلاش میں پیچھے پیچھے غار تک پہنچ گیا ۔ یہاں تک کے اس کے قدم بھی دکھائے دینے لگے ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم کے بارے میں خوف ہوا تو تسلی کے لیے قرآن کی آیات نازل ہوئیں مزید سیدنا صدیق اکبر کی صحابیت کا اعزاز بھی اپنے سینے پر تاقیامت نقش کردیا ۔اس غار میں وہ سانپ کے ڈسنے والا واقعہ بھی پیش آیا۔ جس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن سیدنا صدیق اکبر کی ایڑھی پر لگایا ۔

خلافت :

سیرت حلبیہ اور دیگر کتب سیرت میں موجود ہے کہ امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اس لیے اتفاق کر لیا تھا کہ اس آسمان کے نیچے ابو بکر سے بہتر اور کوئی شخص نہیں تھا۔
امام شاہ ولی اللہ محد ث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی معروف کتا ب ”ازالۃ الخفاء ” میں خلافت کے مفہوم پرنہایت ہی عمدہ اور لطیف بحث کی ہے ۔جس کا خلاصہ یہ ہے :” حضرت سرور ِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام تھی اور آپ تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے واسطے مبعوث ہو ئے تھے بعد بعثت آپ نے جن امور کا اہتمام کوشش بلیغ کے ساتھ فرمایا…تمام کوششوں کا مرجع اقامت دین تھی … علوم دین کا احیاء (قائم رکھنا اور رائج کرنا ) علوم ِ دین سے مراد ہے قرآن و سنت کی تعلیم اور وعظ و نصیحت ، ارکانِ اسلام نماز ، روزہ ، حج وغیرہ کا قیام و استحکام ، لشکر کا تقرر غزوات کا اہتمام ، مقد مات کا انفصال ، قاضیوں کا تقرر ، امر با لمعروف ( عمدہ افعال و اوصاف کا حکم دینا اور ان کو رائج کر نا ) و نہی عن المنکر ( بری باتوں کو روکنا اور ان کا انسداد کر نا ) جو حکام ِ نائب مقرر ہوں ان کی نگرانی کہ پا بند ِ حکم رہیں اور خلاف ورزی احکام نہ کریں ان جملہ امور کا اہتمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ نفس ِ نفیس فر ما یا اور ان کے انصرام کے واسطے نا ئب بھی مقرر ہوئے وعظ و نصیحت فر مائی ، صحابہ کو ممالک میں وعظ و نصیحت کے واسطے بھیجا ،جمعہ و عیدین و پنج وقتہ نماز کی امامت خود فر مائی ، دوسرے مقامات کے واسطے امام مقرر کیے ، وصول زکوٰۃ کے واسطے عامل ما مور کیے ، وصول شدہ اموال کو مصارف مقررہ میں صرف کیا ،رویت ہلال کی شہادت آپ کے حضور میں پیش ہوئی اور بعد ثبوت روزہ رکھنے یا عید کرنے کا حکم صادر ہو تا ، حج کا اہتمام بعض اوقات خود فر مایا بعض اوقات نائب مقرر کیے جس طرح 9ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق کو امیر حج مقرر کر کے بھیجا ، غزوات کی سپہ سا لاری خود کی نیز اُمراء نائب سے یہ کام لیا گیا مقد مات و معاملات کے فیصلے کیے گئے قاضیوں کا تقرر عمل میں آیا۔وغیرہ گویا خدائی احکامات کو نبوی منہج کے مطابق نافذ کرنے کا نام خلافت ہے ۔

خاندان نبی کا خیال :

خلیفہ منتخب ہونے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا بہت زیادہ خیال فرمایا ۔ ان کی تمام معاشی و معاشرتی ضروریات کو پورا کیا ۔یہ ایسی عظیم الشان حقیقت ہے کہ تاریخ اسلام پر لکھی جانے والی تمام معتبر کتب اس بات پر گواہ ہیں ۔

خلافت کے بعد ابتدائی خطبہ:

امام ابن سعد نے طبقات اور امام ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین و تدفین سے فارغ ہونے کے بعد دوسرے دن سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت عام ہوئی ۔ اس موقع پر آپ رضی اللہ عنہ نے ایک شاندار فقید المثال خطبہ دیا :حمد وثنا کے بعد فرمایا: لوگو!میں آپ لوگوں پر ولی منتخب کیا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہترین نہیں ہوں ۔ اگر میں اچھی بات کروں تو تم میرا ساتھ دینا اگر میں خطا کروں تو میری غلطی درست کرا دینا۔ سچائی ایک امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ تم میں جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے میں اس کا حق ضرور دلوائوں گا۔ اور جو تم میں سے قوی ہے میرے ہاں کمزور ہے میں اس سے پورا حق وصول کر وں گا۔ جو قوم بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ترک کر دیتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ ذلت و رسوائی ڈال دیتے ہیں اور جو قوم علانیہ برائیوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اللہ تعالی ان پر مصائب و تکالیف مسلط کر دیتے ہیں ۔ جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کروں تم میری بات ماننا اور جب میں خدا اور رسول کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں اللہ تم پر رحم فرمائے اب نماز کا وقت ہو گیا ہے ۔

ریاستی ذمہ داریاں:

تمام تاریخ نویسوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد ریاستی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ۔امن و آشتی ، عدل و انصاف ،خوشحالی و ترقی گھر گھر تک پہنچائیں،معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے اور مدینہ منورہ کے ریاستی انتظامات جیسے عہد نبوی میں چلے آ رہے تھے ان کو بحال رکھا۔

نمایاں کارنامے :

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بے شمار کارنامے ایسے ہیں جن پر دنیا رہتی دنیا تک ناز کرے گی ۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مختلف ایسے فتنے رونما ہوئے جو اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپنی توانیاں صرف کر رہے تھے ۔ ان میں مدعیان نبوت کا فتنہ سر فہرست ہے ۔یمن میں اسود عنسی ، یمامہ میں مسیلمہ کذاب ، جزیرہ میں سجاح دختر حارث ، بنو اسد و بنو طی میں طُلیحہ اسدی نے نبوت کے دعویٰ داغ دیے ۔ختم نبوت کوئی معمولی مسئلہ نہ تھا کہ جس کے لیے مصلحت اختیار کر لی جاتی ۔ بلکہ یہ تو اسلام کے اساسی و بنیادی عقائد میں شامل ہے ۔ اس لیے اس فتنے کے خلاف سیدنا صدیق اکبر نے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور لشکر اسلامی کو بھیج کر ان کا قلعہ قمع کیا۔
فتنہ مانعین زکوٰۃ نے سر اٹھایا اور کہا کہ ہم سے زکوٰۃ وصول کرنے کا اختیار صرف رسول پاک تو تھا آپ کو نہیں ۔ آپ نے اس فتنے کا پوری قوت اور جوانمردی سے مقابلہ کیا اور برملا فرمایا کہ جو عہد نبوی میں زکوٰۃ دیتا تھا اور اب اگر اس کے حصے میں اونٹ کی ایک رسی بھی زکوٰۃ کی بنتی ہے وہ نہیں دیتا تو میں اس سے قتال کروں گا۔
اس کے بعد ہر سو کفار کی طرف سے جنگوں کی ابتداء ہوئی ۔ عراق میں آپ نے سیدنا خالد بن ولید کے تحت لشکر روانہ کیا ۔ عراق کے بہت سے مضافات آپ نے فتح کیے ۔ خورنق ، سدیر اور نجف کے لوگوں سے مقابلہ ہوا ۔ بوازیج ، کلواذی کے باشندوں نے مغلوبانہ صلح کی ۔ اہل انبار سے کامیاب معرکہ لڑا گیا ، عین التمر میں اسلام کو غلبہ ملا ، دومۃ الجندل میں اہل اسلام کامیاب ہوئے ، اس کے بعد حمید، فضیع اور فراض پر اسلامی لشکر فتح و نصرت کے پھریرے لہراتے گئے ۔لشکر صدیقی نے شام میں رومیوں کو ناکوں چنے چبوائے ۔
جمع قرآن کی خدمت بھی آپ کے مبارک دور کی یادگار ہے ۔ قیامت کی صبح تک آنے والے ہرشخص پر آپ رضی اللہ عنہ کا احسان موجود ہے جتنے بھی لوگ قرآن پڑھتے رہے پڑھ رہے ہیں یا آئندہ پڑھیں گے ان کے ثواب میں سیدنا صدیق اکبر برابر کے شریک ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ تصوف یعنی سلوک و احسان کے سلسلہ نقشبندیہ میں آپ کی حیثیت بہت قابل قدر ہے ۔آپ کی علمی خدمات بھی موجود ہیں چنانچہ ایک قول کے مطابق ایک سوبیا لیس حدیثیں بہ روایت حضرت ابو بکر صدیق مر وی ہیں۔ جن کو امام جلال الدین سیو طی نے ”تاریخ الخلفاء ” میں ایک جگہ جمع کر دیا ہے ،اُمت کو فقہی معاملات میں جو مشکلات در پیش تھیں آپ نے اُ ن کا حل تجویز کیا مثلاََمیراث جدہ، میراث جد ، تفسیر ِ کلالہ ، حد شرب خمر۔وغیرہ ۔

وفات :

بالآخر وہ وعدہ وفا ہونے کا وقت آ پہنچا کہ ہر ذی روح موت کا پیالہ ضرور پیے گا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پہلا جانثار و فادار صحابی اور پہلا خلیفہ13 ہجری جمادی الثانی کے ساتویں دن بیمار ہوئے اور 15 دن علیل رہ کر 22 جمادی الثانی مغرب اور عشاء کی درمیان فراق یار کے خیر باد کہہ کر وصال یار کے لیے عازم سفر ہوئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

وصیت اور تدفین:

الشریعہ میں امام آجری اورتفسیر کبیر میں امام رازی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ جب میں فوت ہوجائوں تو مجھے روضہ رسول کے سامنے رکھ دینا اور عرض کرنا کہ آپ کا غلام آیا ہے اگر اجازت مل جائے تو وہاں دفن کرنا ورنہ مجھے عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردینا ۔ وصیت کے مطابق آپ کی میت کو روضہ رسول کے سامنے رکھا گیا اور یوں عرض کی گئی : یارسول اللہ آپ کاغلام ابو بکر سامنے حاضر ہے ۔ چنانچہ قبر مبارک سے آواز آئی محب کو محبوب تک پہنچا دو ۔ چنانچہ آپ کو روضہ رسول میں ہی دفن کیا گیا ۔
(بشکریہ بصیرت فیچرس )
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن صاحب
دامت برکاتہم