Tuesday, 2 January 2018

مقتدی سلام کب پھیرے؟

مقتدی سلام کب پھیرے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بعض مصلیان امام کے پہلے سلام پر ایک سلام پھیر دیتے ہیں، پھر امام کے دوسرے سلام پر دوسرا سلام پھیرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہی سلام پھیرنے کا صحیح طریقہ ہے، کچھ مصلیان امام کے دوسرے سلام کا انتظار کرتے ہیں، پھر سلام پھیرتے ہیں، شرعی حکم کیا ہے؟
ایس اے ساگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
مسئلہ مذکور میں علامہ عینی شارح بخاری کے بقول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے دو روایت ہے۔
پہلی یہ ہے کہ امام کے ساتھ ہی مقتدی بھی سلام پھیرے۔ یعنی مقارنت ومعیت کی روایت۔
دوسری روایت یہ ہے کہ امام کے دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد مقتدی سلام پھیرے۔
دوسری روایت کے مطابق ہی صاحبین اور ائمہ ثلاثہ کے مذاہب بھی ہیں۔ یعنی مقارنت نہیں بلکہ معاقبہ کرے۔
امام کے ساتھ ساتھ مقتدی کے سلام پھیرنے کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے:
[ص: 288] بَاب يُسَلِّمُ حِينَ يُسَلِّمُ الْإِمَامُ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْتَحِبُّ إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ أَنْ يُسَلِّمَ مَنْ خَلْفَهُ
803 حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ
صحیح البخاري

ترجمہ: حضرت عتبان بن مالک  فرما تے ہیں:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور آپ کے سلام کے ساتھ سلام پھیرا کرتے تھے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا میلان بھی امام کے ساتھ ساتھ سلام پھیرنے کی طرف ہی ہے۔ اس لئے اس کی تائید میں انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا  اسے مستحب سمجھنے کا اثر نقل کیا ہے۔
طحطاوی علی المراقی میں مقارنت ہی کو سنت قرار دیا گیا ہے:
ويسن مقارنته أي سلام المقتدي لسلام الإمام. عند الإمام موافقة له.وبعد تسليمه عندهما الخ....صفحة 276. ط ديوبند
امام قاضی خاں کے یہاں مختار یہ ہے کہ امام کے ساتھ دائیں طرف مقتدی  سلام  پھیرے۔ لیکن مقتدی دائیں طرف والے سلام کو تھوڑا لمبا کھینچے۔ پھر جب امام بائیں طرف والے سلام سے فارغ ہوجائے تب مقتدی اسے شروع کرے۔۔۔۔اس طرح مقارنت ومعاقبہ دونوں روایتوں پہ عمل ہوجائے گا۔ صرف اتنا خیال رکھے کہ مقتدی امام سے قبل سلام نہ پھیرے۔ اگر مقتدی امام سے قبل سلام پھیرا ہے دراں حالیکہ بقدر تشہد بیٹھ چکا یا اسے پڑھ چکا تھا تو اس کا ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے لیکن مفسد صلوة نہیں۔ بر بنائے احتیاط نماز لوٹالے تو الگ بات ہے!
ھندیہ میں ہے:
المختار أن ينتظر إذا سلم الإمام عن يمينه يسلم المقتدي عن يمينه .واذا فرغ الإمام عن يساره يسلم المقتدي عن يساره.الخانية على الهندية.  الفصل الثالث في سنن الصلوة. المجلد الأول. ق صفحہ 77 ۔۔۔۔عمدة القاری شرح صحیح البخاري ۔کتاب الاذن ۔باب نمبر 154 ۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

تکیہ، عطر اور دودھ کا ہدیہ

تکیہ، عطر اور دودھ کا ہدیہ
سوال (۲۳۰):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہم نے سنا ہے کہ تکیہ، عطر اور دودھ کا ہدیہ اگر کسی کو پیش کیا جائے تو اُسے قبول کرلینا چاہئے، رد کرنا منع ہے، اس کی کیا حقیقت ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:
حدیث شریف میں آتا ہے کہ تین چیزیں: تکیہ، تیل اور دودھ۔ (اور ایک روایت میں خوشبو کا ذکر ہے) اِن چیزوں کا اگر کوئی شخص ہدیہ پیش کرے، تو اُسے انکار نہیں کرنا چاہئے؛ کیوںکہ عموماً اِن چیزوں کے لینے دینے میں گرانی محسوس نہیں ہوتی۔
عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ثلاث لا ترد: الوسائد والدہن والطیب واللبن۔ (شمائل ترمذي / باب ما جاء في تعطر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۱۴ رقم: ۲۱۸) 

فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۵؍۳؍۱۴۳۷ھ
...........
سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین چیزوں کو واپس نہ کیا جائے:
1. تکیہ،
2. تیل (خوشبو) اور
3. دودھ۔‘‘
(جامع الترمذی: 2791)
...........
حدثنا قتيبة حدثنا ابن أبي فديك عن عبد الله بن مسلم عن أبيه عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث لا ترد الوسائد والدهن واللبن الدهن يعني به الطيب قال أبو عيسى هذا حديث غريب وعبد الله هو ابن مسلم بن جندب وهو مدني
الحاشية رقم: 1
قوله: (عن عبد الله بن مسلم) بن جندب الهذلي ، المدني المقري ، لا بأس به من الثامنة (عن أبيه) هو مسلم بن جندب القاص ، ثقة فصيح قارئ من الثالثة .
قوله : (ثلاث لا ترد) أي لا ينبغي أن ترد لقلة منتها وتأذي المهدي إياها ( الوسائد ) جمع وسادة بالكسر المخدة (والدهن واللبن) قال الطيبي: يريد أن يكرم الضيف بالوسادة والطيب واللبن، وهي هدية قليلة المنة ، فلا ينبغي أن ترد . انتهى .
قوله : ( هذا حديث غريب ) قال المناوي: إسناده حسن.
باب ما لا يرد من الهدية

..........
2443 حدثنا أبو معمر حدثنا عبد الوارث حدثنا عزرة بن ثابت الأنصاري قال حدثني ثمامة بن عبد الله قال دخلت عليه فناولني طيبا قال كان أنس رضي الله عنه لا يرد الطيب قال وزعم أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يرد الطيب
الحاشية رقم: 1
قوله : ( باب ما لا يرد من الهدية ) كأنه أشار إلى ما رواه الترمذي من حديث ابن عمر مرفوعا " ثلاث لا ترد: الوسائد والدهن واللبن " قال الترمذي: يعني بالدهن الطيب ، وإسناده حسن إلا أنه ليس على شرط البخاري فأشار إليه واكتفى بحديث أنس " أنه - صلى الله عليه وسلم - كان لا يرد الطيب " قال ابن [ ص: 248 ] بطال : إنما كان لا يرد الطيب من أجل أنه ملازم لمناجاة الملائكة ولذلك كان لا يأكل الثوم ونحوه . قلت : لو كان هذا هـو السبب في ذلك لكان من خصائصه ، وليس كذلك فإن أنسا اقتدى به في ذلك .
وقد ورد النهي عن رده مقرونا ببيان الحكمة في ذلك في حديث صحيح رواه أبو داود والنسائي وأبو عوانة من طريق عبيد الله بن أبي جعفر عن الأعرج عن أبي هريرة مرفوعا من عرض عليه طيب فلا يرده فإنه خفيف الحمل طيب الرائحة وأخرجه مسلم من هذا الوجه لكن قال: "ريحان" بدل طيب ، ورواية الجماعة أثبت ، فإن أحمد وسبعة أنفس معه رووه عن عبد الله بن يزيد المقبري عن سعيد بن أبي أيوب بلفظ " الطيب " ووافقه ابن وهب عن سعيد عند ابن حبان، والعدد الكثير أولى بالحفظ من الواحد ، وقد قال الترمذي عقب حديث أنس وابن عمر: " وفي الباب عن أبي هريرة " فأشار إلى هذا الحديث.
قوله: (عزرة) هو بفتح المهملة وسكون الزاي بعدها راء.
قوله: (حدثني ثمامة بن عبد الله قال : دخلت عليه فناولني طيبا قال : كان أنس لا يرد الطيب) فاعل قال هو عزرة والضمير لثمامة ، وزعم بعض الشراح أن الضمير لأنس ، وليس كذلك فقد أخرجه أبو نعيم من طريق بشر بن معاذ عن عبد الوارث عن عزرة بن ثابت قال : " دخلت على ثمامة فناولني طيبا ، قلت قد تطيبت ، فقال : كان أنس لا يرد الطيب " .
قوله : ( وزعم ) أي قال ، والزعم يطلق على القول كثيرا .
فتح الباري شرح صحيح البخاري
أحمد بن علي بن حجر العسقلاني
نقلہ العبد محمد اسلامپوری

تدفین کے بعد قبر کے پاس کتنی دیر ٹھہرنا چاہئے؟

سوال: آج کل ایک حدیث بہت گردش میں ہے کہ اگر کسی کا رشتہ دار فوت ہو جائے تو میت کا حق ہے کہ دفنانے کے بعد اتنی دیر تک قبر پر بیٹھا جائے جتنی دیر میں ایک اونٹ ذبح کرکے گوشت تقسیم نہ کردیا جائے۔ براہ کرم اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ حدیث کتنی صحیح ہے۔
شکریہ۔

جواب: بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 1007-975/N=9/1438
فقہاء نے فرمایا:
مستحب یہ ہے کہ تدفین سے فارغ ہوکر قبر کے پاس ( کم از کم) اتنی دیر ٹھہرا جائے کہ ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے اور اس دوران میت کے لئے منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں ثبات قدمی اور مغفرت کی دعا کرنی چاہئے اور قرآن پاک پڑھنا چاہیے، جیسے: میت کے سرہانے سور بقرہ کی ابتدائی آیتیں اور پائینتی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھنی چاہئے۔ اور اس کا ثبوت درج ذیل احادیث سے ہے:
(۱): حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میت کی تدفین کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے اور فرماتے:
اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت کرو اور اللہ تعالی سے اس کے لئے (منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں) ثبات قدمی کا سوال کرو؛ کیوں کہ اب اس سے سوال کیا جائے گا (سنن ابو داود بہ حوالہ مشکوة شریف، ص ۲۶، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)۔
(۲): حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو اسے روک کر مت رکھو اور جلد از جلد اسے اس کی قبر تک پہنچاوٴ اور (دفن کے بعد) اس کے سرہانے سورہ بقرہ کی ابتدائی آیتیں (شروع سے ھم المفلحونتک) اور پائینتی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیتیں (آمن الرسول سے آخر تک) پڑھی جائیں اور بیہقی نے فرمایا: صحیح یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔ ( شعب الایمان ، بہ حوالہ: مشکوة شریف، ص ۱۴۹)۔
(۳): حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ نے سکرات کی حالت میں اپنے بیٹے سے فرمایا: جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے جنازے کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی نہ جائے اور نہ آگ، اور جب تم لوگ مجھے دفن کرچکو تو مجھ پر تھوڑی تھوڑی مٹی ڈالنا، اس کے بعد میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر ٹھہرو کہ ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے تاکہ تمہاری وجہ سے مجھے انس رہے اور میں جان سکوں کہ میں اپنے پروردگار کے فرشتوں کو کیا جواب دے رہا ہوں؟ (مسلم شریف، بہ حوالہ مشکوة شریف، ص ۱۴۹)۔
عن عثمان رضي الله عنه قال: کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم إذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال: ”استغفروا لأخیکم ثم سلوا لہ بالتثبیت فإنہ الآن یسأل“، رواہ أبو داود (مشکاة المصابیح، کتاب الإیمان، باب إثبات عذاب القبر، الفصل الثاني، ص ۲۶، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، وعن عبد اللہ بن عمررضي الله عنه قال: سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ”إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ وأسرعوا بہ إلی قبرہ ولیقرأ عند رأسہ فاتحة البقرة وعند رجلیہ بخاتمة البقرة“، رواہ البیھقي فیٴ شعب الإیمان وقال: والصحیح أنہ موقوف (المصدر السابق، کتاب الجنائز، باب دفن المیت، الفصل الثالث، ص ۱۴۹، وانظر مرقاة المفاتیح أیضاً)، وعن عمرو بن العاص رضي الله عنه قال لابنہ وھو في سیاق الموت: إذا أنا مت فلا تصحبني نائحة ولا نار فإذا دفنتموني فشنوا علی التراب شناً ثم أقیموا حول قبري قدر ما ینحر جزور ویقسم لحمھا حتی أستأنس بکم وأعلم ماذا أراجع بہ رسل ربي؟ رواہ مسلم (المصدر السابق)، ویستحب ……بعد دفنہ لدعاء وقراء ة بقدر ما ینحر الجزور ویفرق لحمہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳: ۱۴۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وانظر رد المحتار أیضاً۔
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Hadith--Sunnah/151926
......
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ کی وصیت
راوی:
وعن عمرو بن العاص قال لأبنه وهو في سياق الموت: إذا أنا مت فلا تصحبني نائحة ولا نار فإذا دفنتموني فشنوا علي التراب شنا ثم أقيموا حول قبري قدر ما ينحر جزور ويقسم لحمها حتى أستأنس بكم وأعلم ماذا أراجع به رسل ربي.

رواه مسلم
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں مروی ہے کہ انھوں نے اس وقت جب کہ وہ حالت نزع میں تھے اپنے صاحبزادے (حضرت عبداللہ) کو یہ وصیت کی کہ جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے جنازہ کے ہمراہ نہ تو کوئی نوحہ کرنے والی ہو اور نہ آگ ہو اور جب مجھے دفن کرنے لگو تو میرے اوپر مٹی آہستہ آہستہ (یعنی تھوڑی تھوڑی کرکے) ڈالنا پھر دفن کردینے کے بعد میری قبر کے پاس دعائے استقامت و مغفرت اور ایصال ثواب کے لئے اتنی دیر تک کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ کو ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے یہاں تک کہ میں تمہاری وجہ سے آرام پا جاؤں اور بغیر کسی وحشت و گھبراہٹ کے جان لوں کہ میں اپنے پروردگار کے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔ (مسلم)
تشریح:
زمانہ جاہلیت میں یہ طریقہ تھا کہ فخر و بڑائی اور ریا کے طور پر میت کے ساتھ آگ لے کر چلتے تھے تاکہ اس کے ذریعہ خوشبو وغیرہ جلاسکیں یا کسی اور کام میں لاسکیں شریعت اسلام نے اس سے منع فرمایا اس لئے حضرت عمرو بن عاص نے یہ وصیت کی کہ میرے جنازہ کے ساتھ نہ تو نوحہ کرنے والی ہو کہ یہ خالص غیر اسلامی طریقہ اور نہ آگ ہو کہ یہ بھی زمانہ جاہلیت کی ایک نشانی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر دان میں اگر بتی جلا کر بلا ضرورت مشعلیں و پنچ و شاخ وغیرہ روشن کر کے جنازہ کے ساتھ لے کر چلنا یا جنازہ کے ہمراہ ککڑ والوں کا آگ لے کر چلنا ممنوع ہے۔
"یہاں تک کہ میں آرام پا جاؤں، کا مطلب یہ ہے کہ قبر پر تمہاری دعائے استقامت و مغفرت، ذکر و قرأت قرآن کریم اور استغفار و ایصال ثواب کی وجہ سے سوال و جواب کے مرحلہ سے میں باآسانی گزرجاؤں اور قبر میں اللہ کی رحمتوں سے ہمکنا ہو جاؤں۔ چنانچہ ابوداؤد کی ایک روایت میں منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مردہ کی تدفین سے فارغ ہوجاتے تو اس کی قبر پر کھڑے ہو جاتے اور صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے کہ اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے دعائے استقامت و اثبات مانگو کیونکہ اس وقت قبر میں اس سے سوال و جواب ہو رہا ہے۔
مشکوۃ شریف۔ جلد دوم۔ مردہ کو دفن کرنے کا بیان ۔ حدیث 200
http://www.hadithurdu.com/09/9-2-200/

Monday, 1 January 2018

حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سماع موتیٰ کے منکر کی امامت

حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سماع موتیٰ کے منکر کی امامت
سوال: مفتی صاحب جوامام حیات النبی ﷺ اور سماع موتہ کا منکر ہو اس امام کے پیچھے نماز ہو گی یا نہیں؟ اگر نہیں ہوگی لیکن جو پڑھ لیں اس کا اعادہ ہو گا، براہ کرم جلد بتادیں۔
جواب: اگرآپ کے امام صاحب واقعۃً عقیدہ حیات النبی ﷺ کے منکر ہیں تو ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ البتہ اب تک جو نمازیں پڑھی ہیں وہ ادا ہوچکی ہیں ان کے لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ باقی جہاں تک عام مردوں کے سماع وعدم سماع کاتعلق ہے، یہ صحابہ کرام علیھم الرضوان کے زمانے سے مختلف فیہ چلا آرہا ہے. یہ راجح مرجوح کا مسئلہ ہے. اگر کوئی امام صرف سماع موتیٰ کا انکار کرتاہو اور اس کے پیچھے کوئی اور فاسد عقیدہ نہ ہو تو اس کی امامت میں نماز پڑھنا درست ہے۔ لیکن بعض لوگ سماع موتیٰ کے انکارکی آڑ میں برزخی زندگی کے انکار کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں، اسی انکار کی وجہ سے حیات النبی ﷺ کے انکار کی نوبت بھی آتی ہے اس لئے یہ وضاحت بھی ملحوظ رہے گی کہ اگر کوئی امام برزخی زندگی کے انکار کے لئے عدم سماع موتیٰ کا سہارا لیتا ہوتو ایسا امام فاسد عقیدے کاحامل ہونے کی وجہ سے مبتدعہ کے حکم میں ہوگا. اس کی اقتداء میں نمازپڑھنا مکروہ تحریمی ہوگا۔
فقط واللہ اعلم
http://www.banuri.edu.pk/readquestion/hayatu-nabi-or-sima-e-mota-ke-munkir-ke-imamt/-0001-11-30
.........
عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر امام مسجد کا حکم

عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام اہل السنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے۔ کچھ لوگ خود کو اہلسنت دیوبندی کہلاتے ہیں لیکن اس عقیدہ کو نہیں مانتے۔ جب ان سے اس بارے میں بات کی جائے تو روافض کی طرح تقیہ کرنے لگتے ہیں حالانکہ علماء اہلسنت علماء دیوبند کی متفقہ دستاویز المہند علی المفند میں اس عقیدہ کی صراحت موجود ہے۔  گذشتہ دنوں سرگودھا کے نواحی علاقہ میں ایک امام مسجد کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اس عقیدہ کا منکر ہے تو اہل علاقہ اس کو ساتھ لے کر تبلیغی مرکز رائیونڈ چلے گئے۔ مرکز کے امام مولانا جمیل صاحب نے جامعہ اشرفیہ لاہور کے دارالافتاء فون کرکے مفتی شیر محمد علوی دامت برکاتہم سے اس مسئلہ کی وضاحت چاہی۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور ایسی نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ احناف میڈیا سروس کی طرف سے اس گفتگو کی ریکارڈنگ آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔
http://ahnaafmediaservice.blogspot.in/2012/07/blog-post_7324.html?m=1
........
مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اہل السنہ والجماعہ کا اجماعی عقیدہ جو چودہ صدیوں سے امت میں متوارث ہے، جسے علماء دیوبند رحمہم اللہ تعالیٰ نے اختیار کیا ہے، ترجمانِ دار العلوم دیوبند و سابق مہتمم دار العلوم دیوبند حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ کے الفاظ میں۔ وہ یہ ہے: مسئلہ زیرِ بحث حیات النبیﷺ میں جہاں تک اپنے بزرگوں کی کتابوں، فتاویٰ ،مقالات اور متوارث ذوق کا تعلق ہے، دیوبندیت تو یہی ہے کہ برزخ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حیاتِ دنیوی کے ساتھ زندہ مانا جائے۔ خیر الفتاویٰ:1187 لہٰذا منکر حیات النبی قطع نظر اس کے وہ کسی جماعت سے نسبت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو اہل السنہ والجماعہ سے خارج ، مبتدع اور اہل ہویٰ میں سے ہے، دیوبندیت سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں ، ایسے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ باقی علماء دیوبند کو برا بھلا کہنا۔ یہاں تک کہ کافر بتلانا، انتہائی خطرہ کی بات ہے، ایک عام مسلمان کو کافر سمجھنا یا کافر کہنا باعثِ سلب ایمان ہے چہ جائے کہ ان برگزیدہ ہستیوں اور اولیاء اللہ کے حق میں اس طرح کی گستاخی کا ارتکاب کیا جائے، مذکورہ صاحب کو اپنے ایمان کی خبر لینی چائیہے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ اور حضر ت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ اور حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے نیک اور برگزیدہ بندے تھے ،اور حقیقت میں مسلک دیوبند کے ترجمان تھے، ان اکابر کی عبارات کو توڑ مروڑ کر اس سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گستاخی جیسے امور ثابت کرنا، ان پاکیزہ ہستیوں پر بہتان ہے، الحمد للہ ہمارے بزرگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ادب و احترام میں ان پر الزام تراشی کرنے والوں سے بہت آگے ہیں۔
فقط واللہ اعلم
http://www.banuri.edu.pk/readquestion/munkir-e-hayat-un-nabi-ahl-e-sunnat-wal-jamat-say-kharij-hay/-0001-11-30

..........

قاری طیب صاحب کا عزم واستقلال اور مسلم پرسنل لا بورڈ

حکیم الاسلام قاری طیب صاحب کا عزم واستقلال اور مسلم پرسنل لا بورڈ
تاریخی واقعات سے مجھے ہمیشہ ہی سے دلچسپی رہی ہے اور اگر ان واقعات کا رشتہ دیوبند سے ہو تو میں کتابوں سے زیادہ ان شخصیات پر اعتماد کرتا ہوں جو ان واقعات کا حصہ رہی ہیں، آلا یہ کہ وہ کتابیں بھی انھی شخصیات نے لکھی ہوں۔
آج میں اپنے نانا حضرت مولانا قاری عبداللہ سلیم صاحب کی خدمت میں بیٹھا تھا، طلاق ثلاثہ بل پر گفتگو شروع ہوئی تو مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تاریخ کی طرف مڑ گئی۔ فرمانے لگے کہ بورڈ کی پہلی آفیشل میٹنگ دیوبند میں منعقد ہوئی تھی، اس زمانے میں دارالعلوم کی لائبریری کی عمارت بن کر تیار ہوئی تھی، یہ وہ عمارت ہے جو اس وقت دفتر تنظیم وترقی کے اوپر ہے، بورڈ کی پہلی میٹنگ وہیں ہوئی تھی، جس میں یہ طے پایا تھا کہ ایک وسیع تر بین المسالک میٹنگ دہلی میں ہو۔ تاریخ کا تعین ہوگیا اور دیوبند سے حضرت حکیم الاسلام کی معیت میں جمعہ کے دن قافلہ چلا، پروگرام یہ تھا کہ جمعہ کی نماز میرٹھ میں ادا کی جائے گی اور پھر کچھ دیر وہیں آرام کرکے آگے بڑھا جائے گا۔ پروگرام کے مطابق قافلہ نے میرٹھ میں پڑاؤ کیا، وہاں کے میزبان نے حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ کے لیے الگ سے کمرے کا انتظام کیا تھا، حضرت اس میں آرام کے لیے چلے گئے۔ ابھی دس منٹ ہی گزرے تھے کہ حضرت مولانا سالم قاسمی صاحب کے بڑے داماد جناب اعجاز صاحب وہاں پہنچے، تو مولانا قاری عبداللہ سلیم صاحب نے دریافت کیا کہ: یہاں کیسے؟ کہنے لگے کہ اباجی (قاری طیب صاحب) سے ضروری ملنا ہے، ان کو بتایا گیا کہ وہ ابھی ابھی لیٹے ہیں لیکن انھوں نے اصرار کیا، بالآخر حضرت مولانا سالم قاسمی صاحب اندر تشریف لے گئے اور حضرت قاری صاحب کے پیروں پر ہاتھ رکھا تو حضرت بیدار ہوگئے، مولانا سالم صاحب نے عرض کیا کہ اعجاز آئے ہیں، کچھ ضروری بات کرنی ہے، حضرت اٹھ کر بیٹھ گئے، ٹوپی اور چشمہ برابر میں ہی رکھے رہے، اعجاز صاحب نے کہا کہ میں دہلی سے آرہا ہوں وہاں وزارت داخلہ میں یہ پلاننگ چل رہی ہے کہ دہلی کی میٹنگ کو روکا جائے اور شرکت کرنے والوں کو گرفتار کرلیا جائے۔ اندرا گاندھی کا دور تھا، ایمرجنسی سے کچھ پہلے کا وقت ہے، اس لیے بہت ممکن تھا کہ حکومت کے یہ ارادے ہوں، حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: 
"اب جب اس کام کا ارادہ کرلیا تو اس راستے کی مشکلات سے کیا گھبرانا." 
اور یہ کہہ کر دوبارہ لیٹ گئے۔ حضرت کے اس جملے سے تمام رفقائے سفر کی جان میں جان آئی، دہلی میں میٹنگ بھی ہوئی اور پہلے عوامی اجلاس کے لیے ممبئی کا انتخاب کیا گیا۔
حضرت مولانا قاری عبداللہ سلیم صاحب (جو حضرت مدنی رحمہ اللہ کے آخری تلامذہ میں سے ہیں اور حضرت حکیم الاسلام قاری طیب صاحب رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز ہیں) فرماتے ہیں کہ: 
"حضرت مدنی کے عزم واستقلال کا مشاہدہ بھی تھا اور بارہا سنا بھی تھا، لیکن حضرت قاری طیب صاحب کے عزم واستقلال کا مشاہدہ پہلی بار ہوا."
یہ ان مخلصین کی جدو جہد کا ہی نتیجہ تھا کہ ممبئی اجلاس کے اگلے ہی روز، اندرا گاندھی حکومت نے یہ بیان دیا تھا کہ حکومت کا کوئی ارادہ مسلم پرسنل لا میں مداخلت کا نہیں ہے، مسلمان اپنے عائلی مسائل اپنی شریعت کی روشنی میں طے کرنے کے مجاز ہیں۔
اس واقعے میں ایک نہیں انیک سبق ہیں، بورڈ انھی جیسے بہت سے اکابر اور علمائے کرام کی امانت ہے جو آج ایک طوفان میں گھرا ہوا ہے، یہ جہاز اگر ڈوبا تو ملی مسائل پر مسلکی اتحاد کی آخری شمع گل ہوجائے گی، یہ درست ہے کہ حکومت کے ایوانوں میں آج غنڈہ گردی کا راج ہے اور غنڈوں کا ٹولہ جو چاہتا ہے وہی ہورہا ہے، لیکن امت کے اس اتحاد کو پارہ پارہ کردینا ان کا سب سے بڑا خواب ہے، انھیں طلاق پر قانون سازی کرنی ہے وہ کریں، تعدد ازواج پر پابندی عائد کرنی ہے کریں، ملک کے دستور کا مذاق اڑانا ہے اڑائیں، اقلیتوں کے خون سے ہولی کھیلنی ہے، سو کھیلیں، لیکن ہمارے اتحاد پر نقب زنی اور ہمارے عزم واستقلال کو متزلزل کردینا اس وقت تک ان کے بس میں نہیں ہے، جب تک ہم خود اس کی چوکھٹ پر پہرا دیتے رہیں گے۔
یاسر ندیم الواجدی

ناداں کہہ رہے ہیں نیاسال مبارک

ناداں کہہ رہے ہیں نیاسال مبارک!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت' نظام کائنات کا ایک اہم  حصہ ہے۔ لمحہ، سیکنڈ، منٹ، گھنٹہ، شب وروز، شام وسحر، ہفتہ اور ماہ وسال "حیات انسانی" کے اجزاء ہیں۔ بلکہ امام حسن بصری رحمہ اللہ کے بقول 'انسان خود بھی وقت وزمانے کا ایک جزو ہے۔۔۔
(”الإنسان بعض الزمن“ انسان زمانے کا جز ہے)
وقت اپنی پوری رفتار کے ساتھ رواں دواں ہے۔یہ افراد ،اشخاص ،اقوام وملل کی زندگیوں میں دوررس نتائج مرتب کرتا ہے۔۔۔اس کی اہمیت کے پیش نظر خداوند قدوس نے قرآن پاک میں مختلف مواقع پہ اسے ذکر کرنے کے ساتھ اس کی قسم بھی کھائی ہے۔
﴿وَسَخَّر لَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَیْنَ وَسَخَّرَ لَکُمُ اللَّیْْلَ وَالنَّہَارَ، وَآتَاکُم مِّن کُلِّ مَا سَأَلْتُمُوہُ وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَتَ اللّہِ لاَ تُحْصُوہَا إِنَّ الإِنسَانَ لَظَلُومٌ کَفَّار﴾․(ابراہیم:34-33)
﴿وَجَعَلْنَا اللَّیْْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْْنِ فَمَحَوْنَا آیَةَ اللَّیْْلِ وَجَعَلْنَا آیَةَ النَّہَارِ مُبْصِرَة…﴾․
(الاسراء:12)
﴿ولہ ما سکن فی اللیل والنہار…﴾․
﴿وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ وَّالشفْعِ وَالْوَتْرِ وَالَّيْلِ اِذَا يَسْرِ﴾
’’فجر کی قسم اور دس راتوں کی قسم اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب جانے لگے ‘‘۔
﴿وَالْعَصْر،إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ،إِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴾․(العصر)
قسم ہے زمانے کی، بے شک انسان خسارے میں ہے ، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ پر ایمان لائے، نیک عمل کئے اور اپنے مسلمان ساتھیوں کو حق اور صبر پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی تو وہ کام یاب ہیں۔
وقت کا ایک ایک منٹ' قوم وملت کی زندگی میں تاریخ رقم کرتا ہے۔ وقت کی اہمیت سے انحراف کرنے والے صفحات تاریخ میں نشان عبرت بن جاتے ہیں۔
لمحوں نے خطا کی ہے صدیوں نے سزا پائی۔
امن کی امیدوں اور خوشحالی کی تمنائوں (آس ورجاء) کے ساتھ جس عیسوی سال 2017 کا آغاز لوگوں نے کیا تھا۔ آج ہم اپنے دل میں ہزاروں غم چھپائے اس سال کے آخری دن کی دہلیز پہ "یاس وناامیدی" کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسلامی سال کا آغاز ہوئے تین ماہ سے زائد ہوچکے ہیں۔ آج شب بارہ بجے کے بعد دنیا بھر کے عیسائی  لوگ اور اسلامی "اقدار وروایات" سے ناواقف 'مغرب زدہ مسلمان' عیسوی نئے سال کا زور دار  استقبال کریں گے۔
آسمان پہ رنگ ونور کی برسات ہوگی۔ آتش بازی میں سبقت لے جانے کی کوسش ہوگی۔ منچلے سڑکوں پہ نکل کے رقص کناں ہونگے۔ مرد وخواتین کاروں، موٹر سائیکلوں اور  پیادہ پاؤں سڑکوں پہ نکل آئیں گے۔ جشن کا ماحول ہوگا۔ سال نو کی آمد پہ پورا شہر  'ہیپی نیو ائیر' کے نعروں، پیغامات، پٹاخوں اور ہوائی فائرنگ کی آواز سے دہل جائے گا۔کان پڑے آواز سنائی نہیں دیگی۔
لیکن مجھے  نہیں معلوم کہ جگمگاتی روشنیوں، قمقموں اور فلک شگاف پٹاخوں کے ذریعہ 'بہشت احمقاں' میں رہنے والے یہ لوگ اپنے غموں پہ ہستے ہیں یا اپنی کامیابیوں اور حصولیابیوں پہ خوشیاں مناتے ہیں؟؟؟
کیونکہ نئے سال  کی نئی صبح میں خوشیاں منانے والے اور خوشحالیوں کے خواب دیکھنے والے کا خواب دسمبر کی آخری تاریخ تک بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا!۔
آخر لوگ اس کا ادراک کیوں نہیں کرتے؟ کہ  رات ودن کے بدلنے سے، ستاروں اور سیاروں کے اپنے محور کے گرد چکر لگانے سے، ماہ وسال کے بدلنے، کسی کے گذرنے یا کسی کے آنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
فرق پڑتا ہے تو اس سے پڑتا ہے کہ گذرنے والا سال ہمیں کیا دے جارہا ہے؟ اور آنے والا سال ہمارے لئے کیا لارہا ہے؟؟؟ ۔۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ گذرنے والے سال میں انسانوں کی سوچ اور اپروج میں کیا تبدیلی آئی؟  اور آنے والے سال میں ان کے زاویہ نگاہ میں تبدیلی کے کیا اور کتنے امکانات ہیں ؟؟     
سال 2017  میں ملت اسلامیہ کے چہرے پہ بیشمار غم' سیاہ کالک کی طرح  مل دیئے گئے ہیں۔
اس سال سے ملنے والی سوغاتوں میں ہمیں واضح طور پہ نظر آتا ہے کہ اس سال میں دنیا پہلے سے کہیں بڑھکر بدامنی کا شکار ہوئی۔ بالخصوص عالم اسلام پہلے سے کہیں بڑھ کر قتل، غارت، انتشار وخلفشار کی آماجگاہ بن گیا۔ عالمی امن کے اجارہ داروں نے عالمی سیاست اور عالمی غلبہ کے حصول کے لئے جگہ جگہ جو الاؤ روشن کئے تھے۔ انتشار وخلفشار کی جو آگ لگائی تھی یہ سوچ کر کہ اس کی آنچ اور حدت ان تک نہ پہنچے گی! مگر وہ آنچ 2017 میں مغربی ممالک میں دہشت گردی کی واردات کی شکل میں زور وقوت کے ساتھ پہنچی! اور پوری شدت وحدت کے ساتھ پہنچی۔
جبر، دھونس اور ڈالر کی قوت کے بل بوتے امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو غاصب اسرائیل کا دار الحکومت قرار دے کر پورے عالم اسلام کے سینے میں چھرا گھونپنے کے ساتھ ساتھ دنیا کو تیسری جنگ عظیم میں دھکیل دینے کی کوشش کی ہے۔
روہنگیائی  لاکھوں معصوم بچوں، خواتین اور نہتے نوجوانوں کا جو سفاکانہ قتل عام ہوا ہے شاید چنگیز وہلاکو کی روحیں بھی اس کے سامنے شرمندہ ہوجائیں۔
برما کے مسلمانوں کو 2017 میں جس طرح چن چن کے سفاکانہ اور پوری درندگی کے ساتھ قتل کیا گیا وہ امن کے ٹھیکیداروں اور بالخصوص عالم اسلام کے عیش کوش حکمرانوں کے لئے  سوہان روح ہے۔ دوسال قبل ترکی میں ایک روسی سفارتکار کے قتل پہ سیخ پا ہوجانے اور مذمتی بیان جاری کردینے والے حکمرانوں کی زبانیں برما  کے مسلمانوں کی نسل کشی پہ   کنگ ہو گئیں! یہ بے غیرتی  اور ایسا شرمناک دوہرا معیار 2017 کا انتہائی گھناؤنا رول رہا۔
2017 کی دلخراش سوغاتوں کی فہرست میں سعودی عرب کی سماجی ومعاشرتی ڈرامائی تبدیلی ہے۔
سعودی عرب ملینوں ریال کے صرفہ سے دنیا کے اکثر ممالک میں 'سعودی برانڈ اسلام' (سلفیت) کو فروغ دیتا رہا۔ اچانک اس مذہبی روایات (انتہا پسندانہ نظریات) کے خاتمہ کا اعلان ہوا۔ یعنی اب وہاں معتدل وروشن خیال اسلام کی لہر چل پڑی یے۔ 24 اکتوبر 2017 کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 38 کروڑ پاؤنڈ کی مالیت سے بڑے اقتصادی زون کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔جس میں ایسے ریستوران کھل چکے ہیں جہاں عورتیں اور مرد مخلوط طور پر بلا روک ٹوک بیٹھ کے عیاشیاں کرسکتے ہیں ۔ وہاں تیز موسیقی بھی بجتی ہے۔مغربی معاشرے میں پروان چڑھنے والے اور وہاں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس آنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اب سعودی عرب میں ایک ایسے ماحول کے منتظر ہیں جہاں عورتیں گاڑیاں چلاسکیں، سینما کھلے ہوں اور صحرائی ریس میں عورتیں اور مرد دونوں شریک ہوسکیں۔ یہاں اب خالص ہندو کلچر "یوگا" کھیل کو قومی طور پر منظوری مل چکی ہے۔ سعودی عرب کو نئے شہزادے نے ببانگ دہل تمام مذاہب کے پیروکاروں اور دنیا کے ہر فرد کے لئے کھلا رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ ساتھ ہی احادیث رسول کی ایسی من مانی اور مغربی آقاؤں کی من پسند تشریح وتوضیح کرنے کی اکیڈمی قائم کردینے کی تجویز  سامنے آئی ہے جس سے سخت گیر اور اسلام پسند نظریہ کا قلع قمع کیا جاسکے۔ نہی عن المنکر کے لئے سعودی عرب کی گلیوں میں جو مذہبی پولیس (المطوع) گشت کرتی نظر آتی تھی۔ اس ٹیم کو بھی اب معتدل اسلام کے بانی مبانی شہزادے نے "غار سر من رآی" میں بھیج دیا ہے۔
2017 کا یہ اتنا کاری زخم ہے جس سے صدیوں لہو رستا رہے گا۔۔۔۔
2017 کے دوران خوف و دہشت کے عالمی منظر نامہ میں مادر وطن ہندوستان میں مودی اینڈ برانڈ  کی طرف سے طلاق ثلاثہ مخالف بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا اور وہاں سے اس بل کا منظور ہوجانا بابری مسجد کی شہادت کے بعد سب سے سیاہ ترین دن ہے۔
اس خلاف آئین، خلاف حقوق نسواں بل کے پس پردہ اسلامی شریعت کو فرسودہ اور ازکار رفتہ قرار دے کر ہندوستان میں مسلم تشخص کو پامال کرنا اور دستور ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کو عددی طاقت کے بل بوتے چھیننے کی پلاننگ ہے۔اس سیاہ بل سے ہندوستان کے تیس کروڑ مسلمانوں کی مذہبی دل آزاری ہوئی ہے۔۔
مودی حکومت کے اس شاطرانہ و ظالمانہ قانون کی زد میں براہ راست لاکھوں مسلم گھرانہ آئیں گے۔اور مسلم مردوں سے جیلوں کو بھر دینے کا مکروہ پلان تیار ہوا ہے۔ ایوان کے اندر اور باہر مدلل انداز میں اس سیاہ بل کی پرزور مخالفت بھی ہوئی 'لیکن کبر ونخوت  ،طاقت وحکومت کے نشہ میں چور "مغل اعظم " کو کچھ بھی احساس نہیں ہوا ۔اور انتہائی عجلت سے شاطرانہ انداز میں اسے پارلیمنٹ سے منظور کرلیا گیا۔
لو جہاد کے نام پر اور کبھی گئو رکشک کے نام پہ مشتعل بھگوائی ہجوم کے ذریعہ بے گناہ مسلم نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کی واردات میں اس سال مزید اضافہ ہوا ۔سینکڑوں بے گناہ  انسانی جانوں کا نذرانہ بھگوائیوں نے وصول لیا۔۔۔۔جو آزاد جمہوری ہندوستان کے چہرے پہ بد نما دھبہ ہے۔افسوس ہے کہ حکومت اس کے سامنے عاجز وبے بس ہی نہیں ،بلکہ یک گونہ پشت پناہی کا تاثر ملتاہے۔
اس کے ساتھ ہی  پورے عالم میں چاروں طرف پہیلی بداعمالیاں ،بے ایمانیاں، وحشتناک بدامنی، دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری، بھوک مڑی، ناپ تول میں کمی، احکام خداوندی سے کھلی بغاوت، دین وشریعت سے دوری، والدین اور شوہروں کی نافرمانی جیسے ناسور ہمارے معاشرے میں ہنوز باقی ہی نہیں، بلکہ ان خرابیوں کا شرح نمو روز افزوں ہے۔ ان کا مداوی کرنے والا کوئی دور دور تک نظر نہیں آرہا ہے۔اتنے سارے زخموں کے ہوتے ہوئے ہمیں خوشیاں منانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا۔
اب دیکھنا ہے کہ 2018 کا  نیا منظر نامہ کتنا مہیب اور بھیانک ہوتا ہے!
اگر ہم آنے والا سال امن کا پیامبر ہوتا!
اگر آنے والے سال میں مسلمانان عالم اپنی اثاث کو پہچان کر، باہمی گلے شکوے بھول کر، احکام شریعت کے نام پہ بھائی بھائی بن کر، انسانیت اور آدمیت کے نام پہ اتحاد کرلیں، اور آنے والے سال کو ظلم وبربریت اور کفر وطغیان کے خاتمے اور دعوت اسلامی کے فروغ کا سال ہونے کا عہد کریں تو پہر میں بھی آپ کو اس کے آغاز پہ دعائیں دے سکتا ہوں۔ لیکن یہاں حال یہ ہے کہ:
نتیجہ پھر وہی ہوگا سنا ہے سال بدلے گا
پرندے پھر وہی ہونگے شکاری جال بدلے گا
بدلنا ہے تو دن بدلو بدلتے کیوں ہو ہندسے کو
مہینے پھر وہی ہونگے سنا ہے سال بدلے گا
وہی حاکم وہی غربت وہی قاتل وہی ظالم
بتاؤ کتنے سالوں میں ہمارا حال بدلے گا ؟؟؟
موقع کی مناسبت سے عامر حسنی کی یہ دعا بھی لیتے جائیں:
نیا سال برکت سے بھرپور ہو
خدا کے ترحم سے معمور ہو
کوئی دل کسی سے نہ رنجور ہو
ملاحت محبت میں مخمور ہو
کبھی تیرگی سے نہ دوچار ہوں
ہوں راہیں منور نہ پر خار ہوں
مری یہ دعا ہے کہ بچھڑے ملیں
دلوں میں کدورت نہ کینے پھلیں
محبت کے پیغام قائم رہیں
بہن بھائی محبوب دائم رہیں
جو بیمار ہو تو شفا ہو نصیب
کبھی تم پہ راتیں نہ آویں مہیب
سفر میں حوادث سے محفوظ ہو
تو رعنائیوں سے بھی محظوظ ہو
کبھی کو ئی لمحہ اگر ہو غریب
مددگار ہر آن پاؤ قریب
سبھی پر ہوں ماں باپ دل سے فدا
نہ کر پائے کوئی بھی رنجش جدا
سبھی بیٹیاں پائیں سندر نصیب
رہیں اپنے آنگن میں سب کو حبیب
وطن کو مرے ایسے حاکم ملیں
کہ سب ہم وطن جلد پھولیں پھلیں
عزیزوں پہ رحمت بنے سائباں
غریبوں پہ آئے نہ اب امتحاں
پیاروں کے لمحے بنیں یوں گلاب
حسیں دل ہمیشہ رہیں ہم رکاب
یوں عامرؔ کو ہردم محبت ملے
رفاقت قرابت اخوت ملے
عامر حسنی
فقط۔
والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔
شکیل منصور القاسمی
29 دسمبر 2017۔ یکشنبہ

آج کچھ درد سوا لگتا ہے

آج کچھ درد سوا لگتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ روز واٹس ایپ کے ذریعہ طلاق کے تعلق سے حکمراں طبقہ کی طرف سے بل پیش ہونے کی جب اطلاع ملی تو دل دھک سے رہ گیا، فوری طور پر چند جملے تحریر کئے تاکہ دل کا بوجھ کسی قدر ہلکا ہو، ذہن کو کچھ سکون مل جائے لیکن ایسا نہیں ہوا، پورا دن ذہن و دماغ پر طرح طرح کے تشویش چھائی رہی، دریں اثنا حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی کا ایک بیاں فیس بک پر اس تعلیق کے ساتھ کہ :طلاق ثلاثہ بل پر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا حوصلہ افزا بیان، باصر نواز ہوا، میں نےاسے لوڈ کرکے اس ارادے سناکہ شاید غموں کا ہجوم کسی دوسری طرف چھٹ جائے ۔لیکن سننے کے بعد پتہ چلا کہ چند روز قبل کا بیان ہے اور تسلی طفلاں سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے،
۲۔ میں اسی شش و پنج میں مبتلا تھا۔ کہ ۲۸ دسمبر کا یہ سیاہ دن سخت کہرے میں چہرہ چھپائے ہوئے  خراماخرام سرکتا چلا گیا اور آہستہ آہستہ تاریکی شب نے ہندوستان کی جمہوریت ،گنگا جمنی تہذیب اور مذہبی آزادی پر کالک پوت کر اس بات کا اعلان کردیا کہ مسلمانوں تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں۔
۳۔ عشاء کی نماز کےبعد واٹس ایپ پر احباب اور ارباب علم و دانش کے آراء و افکار سے اپنے ہموم و کروب کو تسکین فراہم کرنا چاہا ،لیکن واٹس ایپ والا فائل موبائل کے آپشن میں کسی کمی کے باعث کھل نہیں سکا، پھر پارلیمانیٹ میں مذکورہ سیاہ بل کے بارے میں ہوئی کارروائی کو جاننے کے لیے یوٹوب کو الٹ پلٹ کرنے لگا، تو مرد جواں جناب اویسی صاحب ایوان کفر میں نعرہ حق بلند کرتے ہوئے نظر آئے ۔کسی قدر حوصلہ بندھا کہ نہیں۔  ابھی باقی ہے رمق ایمانی مرد مومن کے سینے میں، لیکن اس کے بعد ہی ایک ابن الوقت،رمز قرآن و سنت سے نابلد،اورنام نہاد مسلم لیڈر ایم جی اکبر کی تملق و چاپلوسی سے ہم آہنگ بیان پردہ سماعت سے ٹکڑا کر دل و جگر کو پاش پاش کرنے لگا، اور اس کی زبان سے نکلنے والا ہر ہر جملہ ملت اسلامیہ کو اسلام دشمن عناصر کے قہقہوں اور ٹھٹھوں کے ساتھ زہر آلود تیر و نشتر سے بھی زیادہ کاری زخم لگاتا چلا گیا،
پھر کیا تھا میرا پورا بدن زخموں کے ٹیس سے مضطرب ہوگیا۔ شدت کرب نے میری نیند چھین لیا، میری ہمت جواب دے گئی،حوصلے پژمردہ ہوگئے اور میراعزم و ارادہ اضمحلال کا شکار ہوگیا ۔ رہ رہ کر میں اپنے آپ کو قابو میں رکھنے اور بے چینی کو کم کرنے کے لئے مختلف تسبیحات کا ورد کرنے لگتا اور چاہ رہا تھا کسی طرح آنکھ لگ جائے تھوڑی دیر سولوں مگر نید تھی کے دور دور تک اس کا سراغ نہیں مل رہا تھا ۔سوچ رہا تھا کہ وقت سحر اپنے روٹھے ہوئے رب کو منا نے کی کوشش کروں گا تاکہ سکون و راحت کا سامان مہیا ہوسکے ۔لیکن افکار و خیالات کے جھمیلوں میں شب کرب و بلا کے رخت سفر باندھنے کا پتا اس وقت چلا جب موذن کی صدائے اللہ اکبر بلند ہوئی، یوں میرا  زخم دل ہرا ہی رہ گیا،
۴۔ بعد نماز فجر پھر کوشش کی واٹس ایپ سے مربوط ہونے کی، تو اپڈیٹ کا آپشن آنے لگا، اپ ڈیٹ کے بعد احباب و ارباب بصیرت کے بہت سے اقوال و آرا سے استفادے کا موقع مل سکا ۔انشاء اللہ ان آرا کی روشنی میں جمعہ یا مغرب بعد کچھ کہنے کی جسارت کروں گا ۔ممکن ہے جمعہ سے قبل حق سبحانہ تعالی سے تسکین قلب مانگنے میں کامیاب ہو سکوں۔
 خدایا!  باب رحمت  کھول دے، ہاں کھول دے۔ ساقی کھڑا میں کھٹکھٹا رہا ہوں در میخانہ برسوں سے ۔
پرسنل لا بورڈ کے تعلق سے کچھ صاف صاف باتیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ طلاق سے متعلق بل کا پاس ہوجانا درحقیقت کوئی بہت بڑی بات نہیں تھی، عملا پہلے ہی سے یہ کسی نہ کسی شکل میں نافذ ہے، نکاح، طلاق اور وراثت وغیرہ کے تعلق سے مسلم پرسنل لا بورڈ /شریعت اسلامیہ کےمخالف حکومت کا اپنا قانون پہلے سے موجود ہے،  عائلی مسائل کو لیکر جو مسلمان ملکی عدالت میں جاتے ہیں عموما وہ اسی قانون کے مطابق اپنا فیصلہ کرواتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کے طلاق کے بعد بہت سے مسلم گھرانے ڈوری ایکٹ اور منٹنس کے نام پر اس بل کے پاس ہونے سے پہلے ہی سے سزا بھگت رہے ہیں، اس بل کے بعد ایک دم سے کوئی بڑا نیا طوفان کھڑا ہونے والا نہیں تھا، کہ اس کے لئے اس قدر واویلا مچایاگیا،
۳۔ عائلی مسائل جن کو حل کرنے کے اختیارات مسلم پرسنل لا بورڈ کو ہے، اس سلسلے میں عرض ہے کہ پرسنل لا بورڈ کے تحت قائم دارالقضاوں کا نظام عام طور پر بہت ہی ناقص ہے، بہت سے دار القضاء ایسے ہیں جہاں عہدہ قضاء پر فائز قضاة اس عظیم ترین عہدہ کے ابجدی صلاحیت سے بھی عاری ہیں   یہی وجہ ہے کہ بہت سے مسلم فیملی کے افراد ان دارالقضاوں کے بجائےحکومتی عدالتوں میں پہنچتے ہیں اور آج کے اس سیاہ ترین موقع کا درپیش ہونےکا من جملہ اسباب میں سے ایک اہم سبب یہ بھی ہے،
۳۔ (الف) جن بزرگوں نے اس آزاد ہندوستان یعنی کفر ستان میں مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں لایا یقینا انھوں نے تحفظ دین و شریعت کے لئے بہت ہی عظیم کارنامہ انجام دیا لیکن پرسنل بورڈ کو اب تک جس قدر فعال اورمستحکم ہونا جاناچاہئے تھا ۔نہیں ہوسکا جو بہت بڑا المیہ اور لمحہ فکریہ ہے۔
(ب) ہندوستان میں موجود مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو بورڈ نے ایک لڑی میں پیرونے کی کوشش کی جو بہت ہی خوش آیند اور قابل صد تحسین و آفرین اقدام تھا لیکن اس اقدام کا استحکام سے ہم آہنگ ہونا اس بات کا متقاضی تھا کہ وہ غیرمنصوص و مجتہد فیہ مسائل جو ان مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کے مابین مختلف فیہ ہیں ان پر مل بیٹھ کر ایک متفقہ موقف قائم کرلیا جاتا، اگر ایسا کر لیا جاتا تو طلاق والے مسئلے پر اس سیاہ دن کے دیکھنے کا امکان بچند وجوہ شاید کم ہوجاتا ۔
(ج) بورڈ کے نظام کو مستحکم بنانے اور اس کی افادیت کو عام و تام کرنے کے لئے بورڈ کی طرف سے نمائندے ہونا چاہئے تھا جو گاہے بگاہے مسلم علاقوں کا دورہ کرکے ان کے دینی مسائل اور دینی احوال و کوائف کا جائزہ لیکر ان کے درپیش مسائل کا مناسب حل پیش کرتے۔ کاش ایسا کرلیا جاتا تو سائرہ بانو جیسی عورت سے بورڈ کو اس قدر نقصان اور طعن کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
۔۔۔۔۔ بورڈ کی نمائندگی کے طور پر ہی غالبا امارت شریعہ بہار سے علمائے کی ٹیم کبھی کبھار بہار کے مختلف علاقوں کا بلاشبہ دورے کرلیتی ہے لیکن ان کا اصل ہدف چندے بٹورنا ہوتا ہے۔ جس سے بورڈ کے اہداف کے لئے کام کرنے کی خاص امید نہیں کی جاسکتی،
۴۔ چلئے ٹھیک ہے اسلامی غیرکت اور دینی حمیت کے نام پر یہ واویلا تھا، اچھی بات ہے، لیکن واویلا سے پہلے اپنے دم خم کا اندازہ اور اس کے انجام پر مدبرانہ نگاہ ڈالنا چاہئے تھا، اگر ایسا کرلیا جاتا تو  اسلام بلکہ علماء دشمن عناصر کو اس طرح کی جگ ہنسائی کا موقع نہ ملتا، بس بل پاس ہونا تھا پاس ہوجاتا۔
شاید علماء ایکشن نہ لیتے توخود ان نام نہاد بہی خواہان خواتین اسلام کو بھی اس قدر اس میں دلچسپی نہ ہوتی،
اس لئے کہ ان کو مسلمان عورتوں سے کوئی ہمدردی ہے اور نہ ہی مسئلہ طلاق سے  کچھ لینا دینا  ہے، ان کا مقصد صرف اور صرف اسلامی تعلیمات کو دنیا کے سامنے نیچا دیکھانا، علمائے اسلام کا استہزاء کرنا اور مسلمانوں کو ذہنی طور پر زک پہنچانا ہے، افسوس ہماری سادگی اور غیروں کی عیاری سے ان کا یہ مقصدپایہ تکمیل کو پہنچ گیا،
۵۔ اگر بورڈ کا طریقہ کار یہی رہنا ہے تو اس کے رہنے سے نہ رہنا ہی بہتر ہے۔ کیونکہ۔
جس کھیت سےدہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم  کو  جلادو۔
۶۔ (الف) جب ایک چھوٹا منھ سے اتنی ساری بات کہہ دی گئی تو مزید اور بھی ہو ہی جائے ۔تو واضح رہے کہ ہمارے ملک ہندوستاں کی مٹی میں نہ جانے کیا تاثیر ہے۔ یہاں کے ہر فردپر ڈیڑھ انچ کی مسجد بناکر اپنی قیادت کو چمکانے کا بھوت سوار ہے ۔اور حال یہ ہے۔
کل حزب بمالدیہم فرحون۔
(  ب ) علی العموم قیادت میں اخلاص کا فقدان ہے، قومی مفاد کے مقابلے میں ذاتی مفاد کو لائق ترجیح قرار دیا جاتا ہے ۔جس کی جھلک کل کے پارلیمانی نششت میں حاضری و خاموشی سے عیاں ہے۔
( ج) وقت کی پکار ہے۔ کاغذی کارروائی کے بجائے عملی طور پر میدان میں آنے کی۔برساتی کیڑوں کی طرح پھیلے ہوئے تنظیموں کو تحلیل کرکے ایک مضبوط اور منظم و مستحکم تنظیم بنانے کی اور اس تنظیم کی فعالیت و قوامیت کے لئے ضرورت ہے۔ مخلص۔ بے لوث، متحرک، بے باک، دور اندیش، قرآن و سنت کے رمز شناس متصلب فی الدین قائد کی۔
فقط واللہ اعلم
شمشیر حیدر قاسمی ارریاوی
۲۹۔دسمبر ۱۷ ء