Monday, 6 April 2026

عزت اور بے عزتی

عزت اور بے عزتی کے موضوع پر پروفیسر احمد رفیق اختر کا ایک لیکچر نظر سے گزرا۔۔ میرا پورا نظریہ بدل گیا۔۔ اور میں اب چاہتی ہوں آپ لوگ بھی مستفید ہوں۔ فرماتے ہیں کہ ایک جگہ میں لیکچر کے لئے مدعو تھا۔ لوگوں سے ملتے ملاتے آگے پیچھے ہوگئے۔ عمارت میں داخل  ہونے لگا تو گارڈ نے روک دیا۔ نا صرف روکا بلکہ درشت اور توہین آمیز انداز میں پوچھا کہ میں اس راستے سے آہی کیوں رہا ہوں؟؟ 
کہتے پہلے تو مجھے بڑا صدمہ ہوا کہ مجھ سے یہ کیسے بات کررہا ہے؟؟ جس کے اعزاز میں یہ تقریب رکھی گئی، اس سے؟؟؟
دوسرا دکھ یہ بھی تھا کہ یقینا یہ گارڈ مجھ سے نا واقف تھا۔ اس گارڈ نے ادارے میں لگے کسی پینافلیکس تک کو نہیں دیکھا تھا جہاں میری بڑی بڑی تصویریں خوش آمدید کے ساتھ لگی تھیں۔۔۔
اب اگر جوش میں آجاتا تو کسی ادارتی سرپرست کو بلاکر اس کی وہیں پر کلاس لگوا لیتا لیکن میں نے ایک لمحے کو رک کر سوچا کہ جو مجھے جانتا ہی نہیں اس کے سخت لہجے کو اپنی توہین سمجھنا اور اس سے مقابلہ باندھنا میری ںے وقوفی ہے۔۔۔ جو مجھے جانتے تھے ان کا اور اس گارڈ کا موازنہ کرنا مناسب نہیں تھا۔۔ میں چپ چاپ پیچھے ہٹ گیا۔۔یہاں تک کہ وہ خود مجھے ڈھونڈتے ہوئے لینے آگئے۔۔
آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں نے گارڈ کی جانب فاتحانہ نظروں سے دیکھا ہوگا۔۔۔
نہیں۔۔ ایک گارڈ پر اپنا رعب  جمانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔۔۔ اس کا مطلب بھی تو مقابلہ ہی ہوتا۔۔
۔۔ زندگی میں کئی لوگ  ہمیں ایسے ٹکراتے ہیں۔۔ جو ہماری عزت نفس کو اسی طرح مجروح کرتے ہیں لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آپ نے ان کہ باتوں کو دل سے نہیں لگانا۔۔ ان کے الفاظ ان کی اپنی قدروقیمت بتارہے ہوتے ہیں، آپ کی نہیں ۔۔ کوئی حالات کا ستایا ہوا ۔۔ بدتمیز یا منفیت کا مارا آوارہ مزاج قسم کا  بندہ اٹھ کر آپ کے گلے پڑجائے تو اس سے آپ کی توہین نہیں ہوجاتی ہے ۔۔۔ اگلا اپنی عادت سے مجبور ہے۔۔ اس کا یہی مسئلہ ہے۔۔ وہ بغیر کسی مفاد کے۔۔۔ کسی سے عزت سے بات نہیں کرسکتا۔۔ لہذا لپیٹ میں آپ بھی آگئے۔۔
یہ ایک مثال ہے۔
اب آتے ہیں ہماری اپنی زندگیوں کی طرف۔۔ اکثر خواتین کی مجھے شکایت موصول ہوتی ہے۔۔
آپی شوہر  عزت نہیں کرتا۔ گالیاں دیتا ہے۔۔ مجھے ذلیل کرتا ہے میرے میکے کی توہین کرتا ہے۔۔
اکثر ان کو یہی سمجھاتی ہوں۔ قصوروار نہ آپ ہیں، نہ آپ کا میکہ۔۔۔۔ جس بندے نے اپنے اردگرد یہی ماحول دیکھا ہے، اسی میں پلا بڑھا ہے ۔۔ اس کے مطابق وہ نارمل ہے ۔۔ جو بندہ عزت کا مفہوم نہیں سمجھتا ۔۔۔ ماں، باپ، بہن، بھائیوں کی عزت نہیں کرتا، وہ آپ کی بھی نہیں کرے گا۔۔
بیٹے ہوں یا بیٹیاں۔۔ 
عزت کیسے کرنی چاہئے، یہ چیز یا تو انہیں والدین کی تربیت سکھلاتی ہے یا ماحول۔۔۔۔جو چیز اس نے سیکھی ہی نہیں اس کی توقع رکھنا بیکار ہے۔۔۔
آپ عزت دار ہیں۔۔ اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔۔ معاشرے میں آپ کا نام ہے۔۔ اور شوہر آپ کی توہین کرتا ہے۔۔ یا بیوی ذلیل کرتی ہے۔۔۔ تو اس توہین کو زیادہ دل سے لگانے کی ضرورت نہیں ۔۔ وہ آپ کی بے عزتی نہیں کرسکتے ۔۔۔ صرف اپنی تربیت دکھا رہے ہوتے ہیں۔۔۔
نبیوں، ولیوں کو بھی جاہل ۔۔کافر یا بدتمیز لوگ پریشان کرتے تھے۔۔ اس بدتمیزی سے ان کے رتبے پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔ وہ اعلی ہستیاں ہی رہتی تھیں۔۔ البتہ جاہل اپنی جہالت کی وجہ سے آشکار ہوتے رہتے تھے۔۔ جہالت کو کبھی نہ تو پلٹ کر جواب دینا چاہئے نہ ہی ان سے مقابلہ کرنا چاہئے ۔۔ ان کو نظر انداز کرنا چاہئے ۔۔۔ کیونکہ آپ جو ہیں وہ آپ رہیں گے۔۔آپ کی کریڈیبلٹی اللہ نے کسی جاہل کے ہاتھ میں نہیں رکھی۔۔۔ لوگ آپ کے متعلق رائے، اپنے مزاج کے مطابق بناتے ہیں نہ کہ آپ کی قابلیت کے مطابق۔۔۔
منفی مزاج کے لوگ آپ میں سو خوبیاں چھوڑکر ایک خامی ڈھونڈ نکالیں گے۔۔ 
اور مثبت مزاج کے لوگ آپ کی خوبیوں کو ہی سراہیں گے۔۔ منفیت میں جائیں گے ہی نہیں۔۔۔
رہ گئی بات شریک حیات کی۔۔۔۔۔ 
شوہر بد زبان ہے، بے عزتی کرتا ہے ۔۔  ناراضگی  اور احتجاج  پیش کریں۔۔ مہذب انداز میں بات کریں اور سمجھائیں کہ ایسا رویہ برداشت نہیں کروگی۔۔۔
گوکہ ایسا کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں۔۔۔ عادتیں نہیں بدلتی ہیں۔۔
 ایک حل یہ بھی ہے کہ جب  شوہر غصہ ہے۔ اس وقت خاموشی اختیار کریں۔۔ بعد میں جب غصہ اترے تو طریقے سے سمجھائیں ۔۔۔
لیکن اٹھانوے فی صد کیسز میں اس کا بھی فائدہ نہیں ہوتا۔۔۔ اگلا اگر اس کام کو غلط سمجھتا تو بدزبانی کرتا ہی کیوں؟۔۔۔
اگر دوبدو جواب دیں گی۔۔ تو بہت جلد نوبت ہاتھا پائی تک بھی پہنچ جائے گی ۔۔
ایسے بندے کے ساتھ گزار سکتی ہیں، تو جیسا ہے ویسا ہی رہے گا۔۔ آپ میں قوتِ برداشت ہے تو نظرانداز کریں۔۔ ردعمل پیش نہ کریں، اور  یقین رکھیں اس کے بے عزت کرنے سے آپ یا آپ کا میکہ بے عزت نہیں ہوگا۔۔۔ محبت سے سمجھانا نہ چھوڑیں ۔۔ اس کے باوجود کوئی گارنٹی نہیں کہ سمجھ جائے گا۔۔۔
لیکن آپی یہ اپنے باپ کی۔۔ باس کی۔۔ چچا، تایا کی تو عزت کرتا ہے۔۔ میرے باپ کی کیوں نہیں کرتا؟
میں مسکرائی۔۔ تسلی رکھو ۔۔ ان کی بھی عزت نہیں کرتا۔۔مفادات کی وجہ سے زبان قابو میں رکھتا ہے ۔۔۔جہاں کہیں بد زبانوں کے مفاد وابستہ ہوتے ہیں، وہاں وہ شہد سے بھی میٹھے رہیں گے۔۔ تمہارے باپ سے بیٹی لے لی مفاد ختم۔۔۔ 
آپی اس کا کیا حل ہے پھر؟؟؟
اگر آپ ضرورت سے زیادہ حساس ہیں ۔۔ مسلسل ذلت برداشت نہیں ہوتی ۔ شوہر کا رویہ دل سے لگاکر خود کو بیمار کر بیٹھتی ہیں۔۔۔ یا شوہر کی بدزبانی سے تنگ آکر علیحدگی کا سوچنے لگتی ہیں۔۔۔ تو یاد رکھیں ایسے لوگ جگہ جگہ موجود ہیں۔۔ زندگی آگے بھی آسان نہیں ہوگی۔۔۔اور بے عزت لوگوں سے عزت کی خواہش رکھنا ناممکنات میں شامل کام ہے۔۔
علیحدگی کا سوچنے سے پہلے ایک فہرست تیار کریں۔۔کہ اس بندے میں بدزبانی کے علاوہ  کوئی ایسی خوبی ہے کہ اس کے ساتھ گزارہ ہوسکتا؟؟
مثلا مالی دشواری نہیں۔۔۔اور غصے کے علاوہ باقی وقت وہ ٹھیک ہوتا ہے۔۔ کسی اور برائی میں مبتلا نہیں ہے تو آپ اسی غصے کو نظرانداز کرکے زندگی گزار لیں۔۔۔
لیکن اگر بدزبان ہونے کیساتھ ساتھ مالی مسائل بھی ہیں۔۔ غیر ذمے دار۔۔ بدقماش و بدکردار ہے۔۔ اور ہاتھ بھی اٹھاتا ہے تو بھی زمینی حقائق کے مدنظر فیصلہ کریں۔۔ علیحدگی کا فیصلہ آپ کا اپنا ہونا چاہئے ۔۔۔ ماں،  باپ، بہن، بھائیوں، دوست یا سوشل میڈیا پر ایسا مشورہ نہ مانگیں۔۔ سوچنے سمجھنے کے بعد جو بھی فیصلہ لیں گے۔۔ذاتی فیصلہ ہوگا تو اس پر قائم ضرور رہیں گے۔۔۔ (منقول) ( #ایس_اے_ساگر )